Skip to content
Asrialamisiyasat-001

با ب 7

دور حاضر میں سلامتی اور تحفظ

اجمالی نظر

جب ہم دنیاکی سیاست کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ’سلامتی یا قومی سلامتی‘ جیسے الفاظ اکثر ہماری نظر سے گزرتے ہیں۔ہم ان اصطلاحات کا مطلب کیا سمجھتے ہیں؟عام طور سے یہ کسی مباحثہ اور مذاکرہ کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ فلاں مسئلہ سلامتی کا مسئلہ ہے جو ملک کی بہتری کے لیے بہت اہم ہے۔مفہوم یہ ہے کہ یہ اتنا اہم اور خفیہ معاملہ ہے کہ اس پر برسرعام بحث یا گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ ہم فلموں میں دیکھتے ہیں کہ ’قومی سلامتی‘ سے متعلق ہر چیز بہت خفیہ اور خطرناک ہے۔ ایسا لگتاہے کہ سلامتی کے مسئلہ سے ایک عام شہری کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن ایک جمہوری نظام میں یہ ناممکن ہے۔ ایک جمہوریت کے شہری ہونے کے ناطے ہمیں ’سلامتی‘ کی اصطلاح کے بارے میں مزید علم ہونا چاہیے۔ یہ دراصل کیا ہے؟ اور ہندوستان کی سلامتی کی تشویشیں کیا ہیں؟ اس باب میں ان ہی سوالات سے بحث کی گئی ہے۔ اور سلامتی کے مسئلے کو دو مختلف طریقوں سے دیکھنے کے لئے پیش کیا گیاہے اور یہ سلامتی کے بارے میں کوئی نقطئہ نظر بنانے میں مختلف حالات کی اہمیت کے پس منظر کو اجاگر کرتاہے۔

1
1994 میں UNDPکی ’’انسانی ترقی کی رپورٹ‘‘ میں انسانی سلامتی کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ’’ایک طویل مدت سے سلامتی کے تصور کی غلط ترجمانی کی جارہی ہے۔ اس کو عوام کا مسئلہ بنانے کے بجائے قومی ریاستوں کا مسئلہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ عام لوگوں کے ان جائز اندیشوں اور خدشات کو بھلادیا گیا تھا جنھیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی تحفظ کی ضرورت پڑتی ہے‘‘اوپر کی تصویروں میں سلامتی کو درپیش مختلف قسم کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

2

میری سلامتی کا فیصلہ کون کرتاہے؟ کچھ لیڈر اور ماہرین؟ کیا میں یہ فیصلہ خود نہیں کرسکتی کہ میری سلامتی کس میں ہے؟

’سلامتی‘ کیا ہے؟

بنیادی طور سے سلامتی کا مطلب ہے خطرات سے آزادی۔ کسی ملک کی زندگی اور انسانی وجود دونوں ہی خطرات سے گھری ہوئی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر خطرہ، سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ جب بھی کوئی انسان اپنے گھر سے باہر قدم نکالتاہے تو اس کی زندگی اور طرز زندگی کو کسی نہ کسی درجے کا خطرہ ضرور لاحق ہوتاہے۔ اگر ہم خطروں کے اندیشے کو اتنا وسیع کردیں تو ہماری زندگی صرف خطرے کے مسئلوں ہی میں ڈوب کر رہ جائے گی۔
لہٰذا سلامتی کامطالعہ کرنے والے جو لوگ عام طور پر یہ کہتے ہیںکہ وہ چیزیں جو بنیادی قدروں کے لیے خطرہ ہیں سلامتی کے بحث و مباحثہ میں دلچسپی کا باعث ہوسکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس کی بنیادی قدریں؟ کیا کسی پورے ملک کی بنیادی قدریں؟ یا سڑک پر چلتے ہوئے ایک عام مرد اور عورت کی بنیادی قدریں؟ اور کیا حکومتیں جو عام آدمی کی نمائندگی کرتی ہیں،بنیادی قدروں کے بارے میں وہی رائے رکھتی ہیں جو کہ عام شہری رکھتاہے۔

3

امن کا پالنا
کیا آپ نے فوج برائے قیام امن (Peacekeeping force) کا نام سنا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں یہ دوغلی اصطلاح ہے؟

اس کے علاوہ جب ہم بنیادی قدروں پر خطرے کی بات کرتے ہیں تو وہ خطرہ کتنا بڑا یا بھاری ہونا چاہیے۔ یقینا ہر وہ قدر جو ہمیں عزیز ہے کسی نہ کسی بڑے یا چھوٹے خطرے سے دوچار ہے۔ کیا ان سارے خطروں کو سلامتی کے لیے خطرہ سمجھناچاہیے۔ جب بھی ایک ملک کوئی کام کرتاہے یا کام کرنے میں ناکام ہوتاہے تو اس سے ایک دوسرے ملک کی ’’بنیادی قدروں‘‘ کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ جب بھی کوئی شخص گلیوں میں لوٹا جاتاہے تو ایک عام آدمی کی روزانہ کی زندگی کی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان سب حقائق کے باوجود اگر ہم نے سلامتی کا اتنا وسیع تصور کیا تو ہم بے دست و پا ہوکر رہ جائیں گے کیونکہ جدھر دیکھیے یہ دنیا خطروں سے بھری ہوئی ہے۔
بہر حال ہم ایک نتیجے پرپہنچتی ہیں کہ سلامتی کا تعلق بہت بڑے اوربھاری خطروں سیہے۔ ایسے خطرے جن کی گرفت اگر وقت پر نہیں کی گئی تو وہ ہماری بنیادی قدروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
اتنا سب کچھ کہنے کے بعد یہ بھی صحیح ہے کہ ’سلامتی‘ ابھی تک ایک ناقابل گرفت تصور ہے۔ مثال کے طور پر کیا سماج میں ہمیشہ سے سلامتی کا یہی تصور رہاہے؟ اگر ایساہے تویہ عجیب و غریب بات ہوگی کیونکہ دنیا میں زیادہ تر چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ کیا کسی بھی ایک زمانہ میں دنیا کے تمام سماجوں کا سلامتی کا ایک ہی تصور تھا؟ اور یہ بھی عجیب و غریب بات ہوگی اگر 200 ملکوں میں رہنے والے چھ سو پچاس کروڑ لوگ سلامتی کا ایک ہی تصور رکھتے ہوں۔ تو سب سے پہلے ہم سلامتی کے متعلق مختلف تصورات اور نظریات کو دو حصوں میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ اوّل روایتی اور دوسرے غیر روایتی تصورات۔

روایتی تصوّرات : خارجی

جب بھی ہم سلامتی کے متعلق پڑھتے اور سنتے ہیں تو اکثر اوقات اس سے ہمارا مطلب سلامتی کے روایتی تصور سے ہوتا ہے یعنی سلامتی کا تصور ۔سلامتی کے روایتی تصور میں کسی بھی ملک کو سب سے بڑا خطرہ فوج سے ہوتاہے۔ اور اس خطرے کا اصل سرچشمہ کوئی دوسرا ملک ہوتاہے جو اپنے فوجی اقدام کی دھمکیوں سے ایک ملک کے اقتدار اعلا، خود مختاری اور حدود ارضی کے استحکام کی بنیادی قدروں کو خطرے میں ڈال دیتاہے۔ فوجی اقدام میں شہریوں کی جان کو بھی خطرہ رہتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی بھی جنگ میں صرف فوجی ہی زخمی ہوں گے یا مریں گے۔ اکثر یہ بھی ہواہے کہ عام عورتیں اور مرد جنگ کا نشانہ بنے ہیں تاکہ جنگ کے لیے ان کی حمایت کو ختم کیاجاسکے۔
جنگ کے اندیشے کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کسی بھی حکومت کے پاس تین راستے ہوتے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔ یا پھر دوسرے ملک کو حملے سے روکنے کے لیے جنگ کے نقصانات یا اخراجات ایک ناقابل قبول سطح تک بلند کردے۔ یا پھر اپنے دفاع میں جنگ چھڑ جانے پر ثابت قدم رہے تاکہ حملہ آور ملک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے اور واپس چلاجائے یا پھر یہ کہ حملہ آور طاقتوں کو مکمل شکست دی جائے۔ حکومتیں ، جنگ کی صورت حال میں، شاید ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیں لیکن وہ اس کی تشہیر ملک کی پالیسی کی حیثیت سے نہیں کریں گی۔ لہٰذا سلامتی کی پالیسی کا تعلق دراصل جنگ کو ٹالنے سے ہے جس کو ’مزاحمت‘ کہا جاتا ہے اور جنگ کو محدود اور ختم کرنے سے ہے جس کو دفاع کہا جاتاہے۔

4

5
جنگ کا مطلب تباہی ،موت اور عدم استحکام ہے۔ آخر جنگ کس طرح سے کسی کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

سلامتی کی روایتی پالیسی میں ایک تیسرا عنصر بھی کام کرتاہے جس کو ’طاقت کا توازن‘ کہتے ہیں۔ جب ملک اپنے گردوپیش کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ کچھ دوسرے ممالک بڑے اور طاقت ور ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہوسکتاہے کہ مستقبل میں کون خطرہ بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پڑوسی ملک یہ نہیں کہے گا کہ وہ حملہ کی تیاری کررہا ہے۔ اور بظاہر حملے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ حقیقت کہ یہ ملک بہت طاقت ور ہے اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی وقت وہ جارحیت پر اترسکتاہے۔ اسی لیے حکومتیں اپنے اور دوسرے ملکوں کے درمیان طاقت کے توازن کے سوال پر کافی حساس ہیں۔ اور وہ ایک مناسب حال طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے سخت محنت کرتی ہیں خصوصاً ان ممالک کے ساتھ جو ان کے پڑوس میں ہوں، یا وہ جن کے ساتھ ان کے اختلافات ہوں یا وہ جن سے ماضی میں تعلقات ناخوشگوار رہ چکے ہوں۔ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ فوجی قوت میں اضافہ ہے اگرچہ ٹیکنالوجی اور معاشی قوت کو بھی فروغ دینا ضروری ہے کیونکہ آخرکار ’فوجی قوت‘ کی بنیاد ان ہی پررکھی جاتی ہے۔

6
جب نئے ملک نیوکلیائی درجہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو بڑی طاقتوں کا کیا ردّ عمل ہوتا ہے؟ ہم کس بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیوکلیائی صلاحیتوں والے کچھ ملکوں پر بھروسہ کیا جاسکتاہے اور کچھ پر نہیں؟

سلامتی کی روایتی پالیسی کا چوتھا عنصر اتحاد سازی ہے۔ اتحاد سے مراد کچھ ریاستوں کاایسامجموعہ ہے جو جنگ کی صورت حال میں مزاحمت اور دفاع کی کاروائیوں میں آپس میں ربط قائم رکھتے ہیں۔ زیادہ تر ’اتحاد‘ رسمی طور سے لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں یہ وضاحت بھی موجود ہوتی ہے کہ اصل خطرہ کس کی طرف سے ہے۔ ریاستیں یا ملک یہ اتحاد اس لیے بناتے ہیں تاکہ دوسرے ملک کے مقابلے میں اپنی طاقت کو موثر بناسکیں۔ ’اتحاد‘ قومی مفاد کے پس منظر میں بنائے جاتے ہیں اور قومی مفاد کے ساتھ ساتھ اتحاد بھی بدلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اسّی کی دہائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے افغانستان میںسوویت یونین کے مقابلے میں اسلامی مجاہدین کی مدد کی تھی لیکن بعد میں ان ہی پر حملہ کیا جب القاعدہ، اسامہ بن لادن کی قیادت میں اسلامی جنگجوئوںنے ایک گروپ نے گیارہ ستمبر2001کو امریکہ کے خلاف دہشت گردانہ حملہ کیے۔
سلامتی کے روایتی تصور میں کسی بھی ملک کی سلامتی کو اکثر خطرے اس کی سرحدوں کے باہر سے ہوتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ بین الاقوامی نظام بڑی حد تک ایسا بہیمانہ اکھاڑہ ہے جہاں کوئی مرکزی طاقت موجود نہیں ہوتی جو طرز عمل کو کنٹرول کرسکے۔ ملک کے اندر کے تشدد کو ایک منظور شدہ طاقت ، یعنی حکومت قابو میں لاسکتی ہے۔ لیکن بین الاقوامی سیاست میں کوئی ایسی تسلیم شدہ طاقت نہیں ہے جو دوسروں سے بلند ہو۔ دل یہ قبول کرنے کے لیے اکساتا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ایسی تنظیم ہے یا یہ کہ ایسی تنظیم بن سکتی ہے لیکن اپنی موجودہ ساخت کے اعتبار سے اپنے ممبروں ہی کی تخلیق ہے اور اس کے اختیار و وسائل اس کے ممبروں کی مرضی تک محدود ہیں۔ تو پھر عالمی سیاست میں ہر ملک اپنی سلامتی کا خود ذمے دار ہے۔

روایتی تصورات: اندرونی

اب تک آپ خود سے یہ سوال کررہے ہوں گے کہ کیا سلامتی کا انحصار داخلی امن و امان اور نظم و نسق پر ہے؟ کوئی سماج اس وقت تک کیسے محفوظ رہ سکتاہے اگر خود اس کی سرحدوں کے اندر تشدد یا تشدد کا خطرہ موجود ہو؟ اور اگر یہ اپنی سرحدوں کے اندر محفوظ نہیں ہے تو یہ بیرونی تشدد کا سامنا کس طرح کرسکتاہے؟
لہٰذا روایتی سلامتی کو اندرونی سلامتی سے تعلق اور واسطہرکھنا چاہیے۔ اندرونی سلامتی کو شاید اس لیے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کے طاقت ور ملکوں کی اندرونی سلامتی کم و بیش محفوظ تھی۔ ہم یہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ واقعات کے تسلسل اور موقع و محل کی مناسبت پر نظر رکھنا بہت اہم ہوتاہے۔ تاریخی اعتبار سے اندرونی تحفظ حکومتوں کاکام رہاہے لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد واقعات کیتسلسل اور صورت حال نے کچھ ایسا رخ بدلا کہ اندرونی سلامتی ماضی کی طرح اتنی اہم نہ رہی۔ 1945 کے بعد  ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین بظاہر متحد تھے اور دونوں کی سرحدوں کے اندر امن و امان کے قیام کی امید کی جاسکتی تھی۔ یوروپ کے ممالک کو، خاص طور سے مغربی یوروپ کے طاقت ور ممالک کو، اپنی سرحدوں میں رہنے والے گروپ اور فرقوںسے کوئی خطرے نہیں تھا۔ لہٰذا ان تمام ممالک نے اپنی توجہ باہر سے آنے والے خطرہ کی جانب مبذول رکھی۔
لیکن وہ کون سے بیرونی خطرات تھے جن کااندیشہ ان طاقت ور ملکوں کو تھا؟ ایک بار پھر ہم واقعاتی تسلسل اور موقع و محل کی مناسبت کی طرف جاتے ہیں۔ ہم کو علم ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کا زمانہ سرد جنگ کا زمانہ تھا جس میں امریکی قیادت کے تحت مغربی اتحاد کا سامنا سوویت قیادت کے تحت کمیونسٹ اتحاد سے تھا۔ دونوں ہی اتحاد، ایک دوسرے کے فوجی حملے سے خوف زدہ تھے۔ کچھ مغربی ممالک اپنے نوآبادیاتی ملکوں میں تشدد سے پریشان تھے جن کے باشندے آزادی کے خواہاں تھے۔ اس بارے میں ہم فرانس اور برطانیہ کی مثال لے سکتے ہیں جو بالترتیب پچاس کی دہائی میں ویت نام میں، اور پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کینیا میں مصروف پیکار تھے۔

آیئےاسے کریں

ایک ہفتہ کے اخبارات کی ورق گردانی کیجیے اور ان بیرونی اور اندرونی تنازعات کی فہرست تیار کیجیے جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔

چالیس کی دہائی کے آخری سالوں سے جوں جوں کالونیوں کو آزادی ملتی گئی ان کی سلامتی کے مسائل بھی یوروپین ملکوں کی طرح ہوگئے۔ ان میں سے کچھ ملک، یوروپی ملکوں کی طرح ہوگئے۔ ان میں سے کچھ ملک، یوروپی ملکوں کی دیکھا دیکھی، سرد جنگ کے کسی ایک گروپ کے ممبر ہوگئے۔ تو ان کی بھی پریشانی یہ ہوگئی کہ کہیں سرد جنگ اسلحے کی جنگ میں نہ بدل جائے اور پھر شاید ان کو اپنے پڑوسی کے خلاف جس نے کہ سرد جنگ کا دوسرا گروپ جوائن کررکھا ہو، یا اتحادوں کے لیڈروں کے خلاف (ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین) یا پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کے کسی اور حلیف یا دوست کے ساتھ لڑائی نہ لڑنی پڑے۔ درحقیقت دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان سرد جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والی لڑائیوں میں، تقریباً ایک تہائی لڑائیوں کی ذمے دار تھی۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں تیسری دنیا میں لڑی گئی تھیں۔ جس طرح سے یوروپی طاقتیں اپنی کالونیز میں شورشوں سے ہراساں تھے، بالکل اسی طرح سے آزادی پانے کے بعد کالونیوں میں بھی یہی خوف پیدا ہوا کہ کہیں ان کے سابق یوروپی حکمراں ان پر حملہ نہ کردیں۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ سامراجی جنگ کے خلاف دفاع میں وہ خود کو تیار کریں۔
نئے افریقی اور ایشیائی ممالک کو سلامتی و تحفظ کے جن چیلنج کا سامنا تھا وہ دو طریقوں سے ان چیلنجوں سے مختلف تھا جن کا سامنا یوروپی ممالک کو تھا۔ اوّل تو ان نئے آزاد شدہ ممالک کو اپنے پڑوسیوں سے فوجی تنازعہ میں ملوث ہونے کا خطرہ تھا۔ دوسرے ان کو اندرونی فوجی اختلافات اور جھگڑوں کا بھی اندیشہ تھا۔ ان ملکوں کو نہ صرف بیرونی خطرہ تھا خاص طور سے اپنے پڑوسیوں سے بلکہ اندر سے بھی غیر محفوظ تھے۔اکثر نئے آزاد شدہ ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، سوویت یونین، یا اپنے پرانے آقائوں کے مقابلے میں اپنے پڑوسیوں سے زیادہ خائف تھے۔ وہ سرحدوں ، خطۂ زمین، لوگوں پر کنٹرول اور آبادی کے اوپر ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے۔ کبھی مسئلہ صرف ایک ہوتا ، کبھی سارے مسائل پر ایک ساتھ جھگڑا ہوتا۔

7
8
وہ لوگ جو اپنے ہی ملک کے خلاف لڑتے ہیں وہ یقینا کسی نہ کسی چیز کے لیے بہت دُکھی ہوتے ہوں گے۔ شاید یہ ان کی بے اطمینانی ہے جو ملک کے لیے عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے۔

اندرونی طور سے نئے ملکوں کو علاحدگی پسند تحریکوں کی جانب سے تشویش تھی جو کہ نئے خود مختارملک بنانا چاہتی تھیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیرونی اور اندرونی خطرے دونوں یکجا ہوجاتے ہیں۔ ایک پڑوسی ملک اندرونی علاحدگی پسند تحریکوں کی مدد کرسکتا ہے یا ان کی حوصلہ افزائی کرتاہے جس سے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ خانہ جنگی یا اندرونی لڑائیاں دنیا بھر میں کہیں بھی ہوئی ہوں تمام جنگوں کا  95 فی صدحصہ ہیں۔ 1946 اور 1991 کے درمیان خانہ جنگیوں کی تعداد میں بارہ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ دوسو سال میں سب سے لمبی چھلانگ ہے۔ اس طرح نئے ممالک کے لیے خانہ جنگی اور پڑوسیوں سے بیرونی نوعیت کی جنگوں نے سلامتی کا ایک سنگین چیلنج کھڑا کردیا۔

روایتی سلامتی اور تعاون

سلامتی کے روایتی تصور میں یہ مانا جاتا ہے کہ شورش اور تشدد کو محدود کرنے میں باہمی تعاون ممکن ہے۔ یہ حدود جنگ کے مقاصد اور اس کے ذرائع دونوں سے متعلق ہیں۔ اور اب یہ ایک کائناتی حقیقت بن چکی ہے کہ ملکوں کو جنگ صرف معقول وجوہات پر کرنا چاہیے یعنی یا تو اپنے دفاع کے لیے یا دوسرے لوگوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے۔ جنگ کو اپنے ذرائع کے استعمال میں بھی محدود رہنا چاہیے۔ فوجی کو غیر جنگجوئوں کے قتل اور نقصان پہنچانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بلکہ غیرمسلح جنگجو اور ہتھیار ڈالتے ہوئے جنگجوئوں پر بھی وار نہیں کرنا چاہیے۔ فوج کو غیر ضروری جارحیت کے مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
آخری بات یہ کہ طاقت کاصر ف اسی وقت استعمال کرنا چاہیے جب مسئلے کے حل کی اور تمام کوششیں اور متبادل ناکام ہوجائیں۔
سلامتی کے روایتی تصور میں باہمی تعاون کی دوسری صورتوں کو بھی یکسر خارج نہیں کردیا گیاہے۔ ان صورتوں میں تین اہم ہیں۔ اوّل تو غیر مسلح ہونا، دوسرے تخفیف اسلحہ اور اعتماد کی بحالی۔ غیر مسلح ہونے کا مطلب ہے کہ تمام ریاستیں ہتھیاروں کی کچھ اقسام کو ختم کردیں، مثال کے طور پر 1972 میں منعقد ہونے والی بائی یولوجیکل ویپن کنونشنBiological Weapon Convention (BWC) اور 1992 کی کیمیکل ویپن کنونشن نے ان ہتھیاروں کا رکھنا اور بنانا ممنوع قرار دے دیا۔ 155 ریاستوں نے (BWC) کے خیال سے اتفاق کیا اور اس کی ممبربنیں جب کہ 181 ملکوں نے (CWC) میں شمولیت اختیار کی۔ دونوں اجلاس میں تمام عظیم طاقتوں نے شرکت کی تھی۔ لیکن ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین عام تباہ کاری کے ہتھیاروں کو دوسرے الفاظ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے تو انھوںنے تخفیف اسلحہ کو ترجیح دی۔
تخفیف اسلحہ دراصل اسلحہ کے حصول اور اس کے فروغ پرنظر رکھتا ہے۔ 1972 میں کی گئی Anti- ballistic Missile Treaty (ABM) نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین دونوں کو ایک نیوکلیائی حملے کی صورت میں بالسٹک میزائل کو ایک دفاعی ڈھال کی طرح استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ اگرچہ اس میثاق نے ان دونوں کو یہ دفاعی ہتھیار ایک محدود تعداد میں استعمال کرنے کی اجازت دی لیکن ان کو بڑی تعداد میں بنانے سے روک دیا۔ 

10

9
اس میں کہا گیا ہے:’’خواہ اوپر سے یا نیچے سے حملہ ہورہا ہو، وطن کے تحفظ کا محکمہ ’’دہشت کی پیمائش کا آلہ‘‘ ہمارے ملک میں دہشت کی سطح کے بارے میں باخبر رہنے کی غیر یقینیت کو ختم کردیتاہے۔ دہشت دکھانے والی سوئی کو موجودہ خطرے کی سطح پر لے جائیے، جو اس کے مساوی ہے کہ امریکی لوگ دہشت گردانہ حملوں کے خطرے سے کتنے دہشت زدہ ہیں۔ دہشت گردی ہمارے چاروں طرف موجود ہے اور کسی وقت بھی مار کر سکتی ہے۔ دہشت کے آلے کا شکریہ کہ آپ کو کبھی یہ جاننے کی ضرورت نہ ہوگی کہ آپ کو کتنا خوف زدہ ہونا چاہیے۔ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیے۔
11

کتنی عجیب بات ہے! پہلے تو وہ قیمتی اور تباہ کن ہتھیار بناتے ہیں ۔ اس کے بعد پھر وہ پیچیدہ معاہدہ تیار کرتے ہیں تاکہ خود کو ان ہتھیاروں سے محفوظ رکھیں۔ اور پھر اس کو تحفظ کہتے ہیں!

جیساکہ ہم نے پہلے باب میں دیکھا تھا ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین نے تخفیف اسلحہ سے متعلق کئی اور معاہدوں پر بھی دستخط کیے ہیں،مثال کے طور پر Stratagic Arms Limitations Treaty II یعنی SALT II اور Stratagic Arms Reduction Treaty (START) نیوکلیائی وسعت کی پابندی پر معاہدہ (Non-Proliferation  Treaty, NPT) جو 1968 میں وجود میں آیا، تخفیف اسلحہ کی جانب اہم قدم تھا اس لیے کہ اس نے نیوکلیائی ہتھیار کے حصول کے لیے کچھ ضوابط مقرر کیے۔ وہ ممالک جنھوںنے 1967 سے پہلے نیوکلیائی ہتھیار بنا لیے تھے وہ اسے رکھنے کے مجاز ٹھہرائے گئے۔ اور جو ممالک اس زمرے میں نہیں آتے تھے ان کو نیوکلیائی ہتھیار رکھنے کے حق سے ہاتھ دھونا پڑا۔ NPT نے نیوکلیائی ہتھیاروں کو ختم تو نہیں کیا، البتہ صرف ان ملکوں کی تعداد کو محدود کردیا جنھیں ان کو رکھنے کی اجازت تھی۔
روایتی سلامتی تصور میں اعتماد کی نمود اور بحالی کو بھی تشدد کی راہ سے ہٹنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔اعتماد کی نشوو نما دراصل ایک ایسا طریقئہ کار ہے جس میں حریف ممالک ایک دوسرے سے نظریات و اطلاعات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو اپنے فوجی مقاصد اور بہت حد تک اپنے فوجی پروگرام سے باخبر کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی یقین دہانی ہے کہ وہ کوئی اچانک حملہ نہیں کرنے والے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کواپنی طاقت یا فوجی صلاحیتوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں اور ساتھ میں یہ اطلاع بھی دیتے ہیں کہ یہ فوجی صلاحتیں یا طاقتیں کہاں کہاں نصب ہیں۔ مختصراً یہ کہ اعتماد بحالی وہ عمل ہے جس کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ حریف ممالک کسی آپسی غلط فہمی کی و جہ سے ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنے لگیں۔
غرض یہ کہ سلامتی کے روایتی تصورات دراصل فوجی طاقت کے استعمال یا اس کے استعمال کے اندیشوں اور دھمکیوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس سلامتی کے روایتی تصور میں فوجی طاقت سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ سلامتی کو برقرار رکھنے کا یہ سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔

12
اب ہم بات کررہے ہیں۔ اور میں اس کو ایک حقیقی انسان کے لیے ایک حقیقی سلامتی کہتا ہوں۔

13

غیر روایتی تصورات

سلامتی کے غیر روایتی تصورات فوجی خطروں سے آگے بھی دیکھتے ہیں اور ان خطروں کو بھی شامل کرتے ہیں جن سے خود انسانی وجود کو خطرہ ہے۔ غیر روایتی تصورات بھی سلامتی کے متعلقات کے بارے میں سوال کرنے سے آغاز کرتے ہیں۔ ایسا کرنے میں وہ سلامتی کے بقیہ تین عناصر کے متعلق بھی پوچھتے ہیں۔ یعنی یہ کہ کس کی سلامتی درکار ہے؟ اور کون سے خطرات کا اندیشہ ہے؟ اور یہ کہ سلامتی کے اندیشوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب ہوتاہے کہ کس کا تحفظ اور کس کی سلامتی؟ سلامتی کے روایتی تصور میں ریاست ، حکومت، خطۂ ارض اور حکومتی اداروں سے مراد ہوتی ہے لیکن یہی سوال یعنی کہ کس کی سلامتی۔ جب سلامتی کے غیر روایتی تصور کے تناظر میں پوچھا جاتاہے تو اس کا جواب صرف ریاست نہیں ہوتا، بلکہ اس میں افراد ، کمیونٹی اور پورا عالم انسانیت شامل ہوتا ہے۔ سلامتی کے غیر روایتی تصور کو انسانی سلامتی یا عالم گیر سلامتی بھی کہا جاتاہے۔
انسانی سلامتی کا تعلق ریاستوں کی حفاظت سے زیادہ عوام کی حفاظت سے ہے۔ انسانی سلامتی اور ریاستی سلامتی کو ایک ہی چیز ہونا چاہیے۔ اور ایسا ہے بھی۔ لیکن محفوظ ریاستوں کا مطلب ہمیشہ محفوظ عوام نہیں ہوتا۔ شہریوں کو باہری حملے سے بچانا انفرادی سلامتی کی لازمی شرط ہے لیکن یقینا یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پچھلے سو سال میں باہر کی فوجوں سے کہیں زیادہ لوگ اپنی ہی حکومتوں کے ذریعے مارے گئے۔
انسانی سلامتی کے تمام محرّکات یہ کہتے ہیں کہ اس کا بنیادی مقصد فرد کی حفاظت ہے۔ لیکن اختلاف اس میں ہے کہ وہ کون سے خطرے ہیں جن سے بے کم و کاست ایک فرد کو بچانا ہے۔ انسانی سلامتی کے ’تنگ نظر‘ محرکین کا کہنا ہے توجہ افراد کے خلاف تشدد پر رکھنی چاہیے، اور جیسا کہ اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا’افراد اور کمیونٹی کی داخلی تشدد سے حفاظت‘‘۔ دوسری طرف، وسیع انسانی سلامتی کے محرکین کی دلیل یہ ہے کہ خطرات کی فہرست میں بھوک ، بیماری اور قدرتی تباہ کاریوں کو بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ ان کی بدولت مرنے والوں کی تعداد ، مشترکہ طور سے نسل کشی، جنگ اور دہشت گردی سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا ان کا خیال ہے کہ انسانی سلامتی پالیسی میں جس طرح تشدد سے حفاظت شامل ہے اسی طرح خطروں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ وسیع تر انسانی سلامتی کے پروگرام میں تو معاشی تحفظ اور ’انسانی عظمت و وقار‘ کا دفاع بھی شامل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وسیع تر انسانی سلامتی پالیسی میں وہ پروگرام بھی شامل ہیں جن کو اصطلاحاً ’محرومی سے نجات‘ اور ’خوف سے نجات‘ کہا جاتا ہے۔

14
عالم گیر سلامتی کا تصور ّنوے کی دہائی میں ابھر کر سامنے آیا جب خطروں کی نوعیت بھی عالمی ہونے لگی جیسے عالم گیری درجۂ حرارت میں اضافہ، بین الاقوامی دہشت گردی، وبائیں جیسے ایڈز (AIDS) اور برڈ فلو وغیرہ وغیرہ۔ ان مسائل کا حل کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور ایسا بھی ہوسکتاہے کہ کسی ماحولی تبدیلی یا بگاڑ کا سارا نقصان ایک ہی ملک کو اٹھانا پڑجائے۔ مثال کے طور پر عالم گیری درجۂ حرارت میں اضافہ کی و جہ سے سطح سمندر میں ڈیڑھ سے دومیٹر تک کا اضافہ ہوگا۔ نتیجے کے طور پر بیس فیصد بنگلہ دیش سیلاب کی زد میں آجائے گا، مالدیپ کا زیادہ تر حصہ زیر آب ہوجائے گااور تھائی لینڈ کی آدھی آبادی کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ان مسائل کی نوعیت عالمی ہے۔ اس لیے بین الاقوامی باہمی تعاون بہت اہم ہے۔ اگرچہ اس تعاون کا حصول بہت مشکل کام ہے۔

خطروں کے نئے سرچشمے

15
16
جب ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کرتے ہیں تو ہمیشہ باہر ہی کیوں دیکھتے ہیں۔ کیا اس کی مثالیں ہمارے اپنے ملک میں موجود نہیں ہیں؟

17

سلامتی کے غیر روایتی تصور۔ خواہ و انسانی سلامتی ہو یا عالم گیرسلامتی۔ دونوں میں خطرات کی بدلتی ہوئی نوعیت پر زور دیا جاتاہے۔ ان میں سے کچھ پر ہم ذیل میں بحث کریں گے۔
دہشت گردی دراصل وہ سیاسی تشدد ہے جس کے نشانے پر ارادتاً اور بغیر کسی امتیاز کے، شہری ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی دہشت گردی میں ایک سے زیادہ ملک کے شہری ملوث ہوتے ہیں۔ دہشت گرد گروپ کسی ایسے نظام یا صورت حال کو جو ان کے لیے ناپسندیدہ ہو یا قابل قبول نہ ہو ، طاقت یا طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے بدلنا چاہتا ہے، شہری ٹھکانوںکو اس لیے نشانہ بنایاجاتاہے تاکہ عوام دہشت زدہ ہوجائیں اور ان کی ناراضگی کو حکومت کے خلاف ایک ہتھیار کی صورت میں استعمال کیا جائے۔ یا ان دوسرے گروپوں کے خلاف استعمال کیا جائے جو تنازعہ میں ملوث ہوں۔
دہشت گردی کے مستند طریقۂ کار میں ہوائی جہاز کا اغوا، ریل گاڑی ، قہوہ خانے، مارکیٹ اور بھیڑ کی دوسری جگہوں میں بم نصب کرنا ہے۔ اور اگرچہ دہشت گردی نیا مسئلہ نہیں ہے لیکن 11 ؍ستمبر 2001 سے، جب دہشت گردوں نے امریکا میں عالمی تجارتی مرکز پر حملہ کیا، تو عوام اور دوسری حکومتوں نے بھی اس مسئلے پر زیادہ توجہ دی۔ ماضی میں زیادہ تر دہشت گردی کے حملے مشرق وسطیٰ ، یوروپ، لاطینی امریکا اور جنوبی ایشیا میں ہوتے تھے۔
انسانی حقوق کو تین قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پہلی قسم میں سیاسی حقوق آتے ہیں، جیسے بولنے اور جمع ہونے یا جماعتیں بنانے کی آزادی۔ دوسری قسم معاشی اور سماجی حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔ تیسری قسم میں نوآبادیوں کی رعایا، اور نسلی اور مقامی اقلیتیں ہیں۔ اس وسیع تر درجہ بندی پر ایک عام اتفاق ہے۔ لیکن اس پر اتفاق نہیں ہے کہ ان میں سے کس قسم کو عالمی انسانی حقوق کا درجہ دیا جائے اور نہ ہی اس پر اتفاق ہے کہ ان حقوق کی خلاف ورزی کے موقعہ پر بین الاقوامی کمیونٹی کو کیا قدم اٹھانا چاہیے۔
1990 کی دہائی سے کچھ ایسے واقعات ظہور میں آئے جس نے اس بحث کے لیے گنجائش پیدا کردی کہ آیا اقوام متحدہ انسانی حقوق کی پامالی کے دفاع میں مداخلت کرے یا نہ کرے۔ ان واقعات میں عراق کا کویت پر حملہ، روانڈا میں نسل کشی اور ایسٹ تیمور میں عوام کے خلاف انڈونیشیائی فوج کی بربریت شامل ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ خود اقوام متحدہ کے منشور میں  بین الاقوامی کمیونٹی کو انسانی حقوق کے دفاع میں مسلح اقدام کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دوسروں کا خیال ہے کہ طاقت ور ریاستوں کا قومی مفاد انسانی حقوق کی پامالی کی ان مثالوں کی نشاندہی کرے گا جہاں اقوام متحدہ کچھ کارگزاری دکھا سکتی ہے۔

18

آیئے اسے کریں

افریقہ کے نقشہ پر لوگوں کی سلامتی کے خطرات سے دوچار ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کیجیے۔

عالمی ناداری  عدم تحفظ کا ایک اور سرچشمہ ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی چھ سو پچاس کروڑ ہے جو بڑھتے بڑھتے پچیس سال کے اندر اندر سات سو آٹھ سو کروڑ تک پہنچ جائے گی اور اسی طرح سے نوسو سے ایک ہزار کروڑ کی سطح تک چلی جائے گی۔ فی الوقت، دنیا میں آبادی کے اضافے کا آدھا حصہ صرف چھ ملکوں ہی میں ہوجاتا ہے یعنی ہندوستان ، چین، پاکستان، نائجیریا  بنگلہ دیش اور انڈونیشیا۔ اگلے پچاس سالوں میں دنیا کے غریب ترین ملکوں کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے برخلاف دنیا کے کچھ امیر ملکوں میں اسی دوران آبادی خاصی سکڑ جائے گی۔ انفرادی آمدنی میں اضافے اور آبادی میں کمی کے باعث امیر ریاستیں یا امیر سماجی گروپ مزید دولت مند بن جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس کم آمدنی اور آبادی میں تیزی سے اضافہ، دونوں عناصر، غریب ریاستوں اور غریب سماجی گروپوں کو اور زیادہ غریب بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ 
عالمی سطح پر یہ عدم مساوات دنیا کے شمالی اور جنوبی ملکوں کے درمیان خلیج کو بڑھاتی ہے۔ خود جنوبی ملکوں کے درمیان آپس میں بھی غیر برابری اور فرق ابھر آیاہے کیونکہ کچھ ملکوں نے اپنی آبادی کے اضافے پر کنٹرول کرلیاہے اور باقی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پراس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مسلح تنازعات افریقہ میں صحرائے اعظم کے جنوب (Sub Saharan Region) میں ہورہے ہیں جو کہ دنیا کاغریب ترین علاقہ بھی ہے۔ اکیسویں صدی کے آتے آتے اس علاقے کی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد ، بقیہ دنیا میں اس وقت کے ہورہے جھگڑوں اور لڑائیوں میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ تھی۔

وسیع پناہ گزین آبادیوں کا ظہور۔ یکم جنوری 2006 (دس بڑے گروپ)

ماخذ
پناہ دینے والے خاص خاص ملک
میزان
افغانستان
پاکستان، ایران، جرمنی، نیدرلینڈ اور برطانیہ
1,908,100
سوڈان
چاڈ، یوگنڈا، کینیا، ایتھوپیا، وسطی افریقہ، عوامی جمہوریہ
639,300
برونڈی
تنزانیہ، ڈی آر کانگو، روانڈا، جنوبی افریقہ، زیمبیا
438,700
ڈی آرکانگو
تنزانیہ، زیمبیا، کانگو، روانڈا، یوگنڈا
430,600
صومالیہ
کینیا، یمن، برطانیہ، یونائیٹڈ اسٹیٹس ایتھوپیا
394,800
ویت نام
چین، جرمنی، یونائیٹڈ اسٹیٹس ، فرانس، سوئزر لینڈ
358,200
فلسطین
سعودی عربیہ، مصر، عراق، لیبیا، الجیریا
349,700
عراق
ایران، جرمنی، نیدرلینڈ، شام، برطانیہ
262,100
آذر بائیجان
آرمینیا، جرمنی، اونائیٹڈ اسٹیٹس، نیدر لینڈ، فرانس
233,700
لائبیریا
سیوالیون، گنی، آئیوری کوسٹ، گھانا، یونائیٹڈ اسٹیٹس
231,100
بشکریہ:www. unhcr. org.
 

غربت کی و جہ سے جنوب میں ترکِ وطن اور ہجرت کی حوصلہ افزائی ہوئی اور بڑے پیمانے پر لوگوں نے بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں شمال کی جانبہجرت کی۔ اس نے بین الاقوامی سیاسی کشمکش اور کشیدگی بھی پیدا کی۔ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے درمیان ایک امتیاز قائم کرتے ہیں۔ تارکین وطن وہ لوگ ہیں جو اپنی خوشی اور سہولت کے مطابق اپنا وطن چھوڑتے ہیں اور پناہ گزیں وہ لوگ ہیں جو اپنے وطن کو جنگ، قدرتی تباہ کاری یا سیاسی جبر کی و جہ سے چھوڑتے ہیں۔ عام طور سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ریاستیں پناہ گزینوں کو قبول کریں گی لیکن ان پر تارکین وطن کو قبول کرنے کی کوئی ذمے داری نہیں ہے۔ پناہ گزین تو اپنا وطن چھوڑ دیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا گھر بار مجبوراً چھوڑتے ہیں لیکن اپنی قومی سرحدوں ہی میں رہتے ہیں۔ ان کو ’داخلی طور سے اجڑے ہوئے لوگ‘ کہیں گے۔ وہ کشمیری پنڈت جنھیںنوّے کی ابتدائی دہائی میں تشدد کی وجہ سے وادی کشمیر کو چھوڑنا پڑا تھا اس ’داخلی طور سے اجڑے ہوئے، کی مثال ہیں۔
دنیا کے پناہ گزینوں کا نقشہ اور دنیا کے مسلح تنازعات کا نقشہ باہم ایک دوسرے سے بالکل ملتے جلتے ہیں کیونکہ جنوب میں واقع ہونے والی جنگوں اور مسلح تنازعات نے لاکھوں لوگوں کو ’محفوظ جنتوں کی (Safe heavens) تلاش میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ 1990 سے 1995 تک ستّر ریاستیں 93 جنگوں میں ملوث تھیں جن میں تقریباً 55 لاکھ لوگ مارے گئے۔ اس طرح سے بودوباش کے ماحول، شناخت اور روزگار کی تباہی یا تشدد کے پھیلتے ہوئے خوف کی و جہ سے افراد ، خاندان اور کبھی کبھی پوری کمیونٹی یا بستی کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ پناہ گزینوں کی ہجرت اورجنگوں میں اگر موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ 90 کی دہائی میں تین کے علاوہ پناہ گزینوں کی سبھی 60 دھارائیں، مسلح اندرونی خلفشار یا خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ ہی ہوئی ہیں۔
فوجی کارروائیوں ، تجارت، سیاحت اور ہجرت کی وجہ سے خطرناک بیماریاں اور وبائیں جیسے ایڈس (HIV-AIDS) برڈ فلو، سانس کی گھٹن (SARS) ایک ملک سے دوسرے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیل گئی ہیں۔ ان بیماریوں پر قابو پانے میں ایک ملک کی ناکامی دوسرے ملک میں اس کے جراثیم پھیلنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2003 میں دنیا بھر میں چار کروڑ لوگ HIV-AIDS کے شکار تھے۔ ان میں سے دو تہائی افریقہ میں تھے اور بقیہ کے آدھے جنوبی ایشیا میں تھے۔ 90 کی دہائی کے آخر میں نئی دوائوں کے ذریعے علاج نے شمالی امریکا اور دوسرے صنعتی ممالک میں HIV-AIDS سے مرنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز طور سے کمی آئی۔لیکن یہ علاج اتنے مہنگے تھے کہ افریقہ جیسے غریب علاقوں کے لیے فائدے مند نہیں ثابت ہوسکتے تھے جب کہ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ اس علاقے کو اور زیادہ غریبی کے گڑھے میں دھکیلنے میں اس بیماری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

19
کیشو: دی ہندو
اس کارٹون میں جو مسائل دکھائے گئے ہیں ان سے دنیا کیسے نمٹ سکتی ہے؟

اس کے علاوہ ایبولاوائرس (ebola virus) ہنتاوائرس (huntavirus) اور ہیپیٹائٹس سی  (hepatitis C) جیسی نئی اور کم سمجھ میں آنے والی بیماریاں ہیں۔ جب کہ پرانی بیماری جیسے تپ دق، ملیریا، ڈینگو بخار اور ہیضہ وغیرہ دوائوں کی مزاحمت کرنے والی بیماریوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور ان کا علاج مشکل ہے۔ جانوروں میں جو وبائیں پھیلتی ہیں ان کے بھی مضر اثرات معیشت پر پڑتے ہیں۔ 90 کی دہائی کے آخر سے اب تک ’دیوانی۔گائے‘ کی بیماری کی و جہ سے برطانیہ نے کروڑوں ڈالر کی آمدنی سے ہاتھ دھوئے ہیں اور برڈ فلو کی و جہ سے اکثر ایشیائی ممالک کے مرغی خانوں کی برآمدات بند ہوگئیں۔ اس قسم کی بیماریاں ریاستوں کے ایک دوسرے پر بڑھتے ہوئے انحصار کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ سرحدوں کی غیر معنویت اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔

20

سلامتی کے تصور کو وسعت دینے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم ہر بیماری اور تکلیف کو تحفظ و سلامتی کا مسئلہ بنالیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو سلامتی کا تصور اپنی وضاحت کھوبیٹھے گا اور ہر چھوٹی بڑی بات سلامتی کا مسئلہ بن جائے گی۔ لہٰذا سلامتی کا مسئلہ بننے کے لیے کم سے کم ایک مشترکہ معیار ہونا چاہیے یعنی یہ کہ وہ مسئلہ کسی فرقہ، ریاست یا گروہ کے وجود کو خطرہ بن جائے۔ اگرچہ اس خطرے کی شکل الگ الگ ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالدیپ کے وجود کو عالم گیری درجۂ حرارت میں اضافہ سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ اس کی و جہ سے سطح سمندر اور اونچی ہوجائے گی اور مالدیپ کا ایک بڑا حصہ    زیرِ آب ہوجائے گا۔ جب کہ جنوبی افریقہ کے ممالک کے وجود کے لیے HIV-AIDS سب سے بڑا خطرہ ہے جہاں ہر چھٹا بالغ مرد یا عورت AIDS کا شکار ہے۔ Botswana میں حالت سب سے بدتر ہے یہاں ہر تیسرا آدمی اس بیماری سے متاثر ہے۔ 1994 میں روانڈا کے ٹٹسی قبیلہ کو بھی اپنے وجود کی سلامتی کا خطرہ تھا۔ جب کہ صرف چند ہفتوں میں حریف قبیلے’ ہُوتو‘ نے اس کے تقریباً پانچ لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ سلامتی کے روایتی تصور کی طرح، غیر روایتی تصور بھی زمان و مکان کے اعتبار سے بدلتا رہتاہے ۔

21
مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب میں سنتا ہوں کہ میرے ملک کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہیں۔ مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ یہ مجھے یا میرے خاندان کو مزید محفوظ کیسے بناسکتے ہیں۔

باہمی تعاون کی سلامتی

ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ سلامتی کے ان غیر روایتی خطروں سے مقابلے کے لیے آپس میں تعاون اور میل جول کی ضرورت ہے نہ کہ فوجی مڈبھیڑ کی۔ دہشت گردی وغیرہ سے نمٹنے کے لیے فوج کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے یا انسانی حقوق کی برقراری میں (لیکن یہاں بھی فوج کی کامیابی محدود ہی رہے گی) ۔ یہ دیکھنا بہر حال مشکل کام ہیکہ غریبی ہٹانے میں، تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے کُوچ اورقیام میں یا وبائوں کو قابو کرنے میں فوج کہاں تک مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال بہت سی جگہ حالات کو اور بدتر بنادے گا۔
سب سے بہتر یہ ہوگا کہ ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جن کو بین الاقوامی تعاون حاصل ہو۔ یہ تعاون صرف دو ملکوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور اس کی نوعیت عالم گیر اور علاقائی بھی ہوسکتی ہے۔ ان سب کا انحصار متاثرہ ملکوں کے خطرے سے نمٹنے کے ارادے اور صلاحیت پر ہے۔ میل جول کی سلامتی میں کچھ دوسرے قومی اور    بین الاقوامی عناصر بھی مدد کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر بین الاقوامی تنظیموں میں اقوام متحدہ، عالمی تنظیم صحت، عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ وغیرہ وغیرہ۔ اسی سطح پر غیرسرکاری تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹر نیشنل، ریڈکراس (Red Cross)، خیرات اور امدادی کاموں کی پرائیویٹ تنظیمیں، چرچ اور مذہبی تنظیمیں، ٹریڈ یونین اور جماعتیں ، سماجی اور ترقیاتی تنظیمیں بھی مدد گار ہوسکتی ہیں، اس کے علاوہ بڑے بڑے تجارتی گھرانے اور ادارے بھی۔ عظیم شخصیتیں جیسے کہ نیلسن منڈیلا اور مدر ٹریساجیسے لوگ بھی اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
میل جو ل کی سلامتی میں طاقت کا استعمال صرف آخری حربے کے طور پر ہی کیا جاسکتاہے۔ بین الاقوامی برادری ان حکومتوں کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی اجازت دے گی جو اپنے ہی شہریوں کو قتل کرنے میں مصروف ہوں یا اپنے عوام کی زبوں حالی کو یکسر نظر انداز کررہی ہوں جو غریبی ، بیماری اور دوسرے مصائب میں مبتلا ہوں۔ بین الاقوامی برادری کو بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کو پناہ دینے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے اتفاق کرنا ہوگا۔ سلامتی کے غیر روایتی تصور کی برتری طاقت کے استعمال کے وقت ظاہر ہوتی ہیجب کہ بین الاقوامی برادری کی منظوری کے بعد یہ طاقت اجتماعی طور سے استعمال کی جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ ایک اکیلا ملک اپنے بل بوتے پر فوجی کارروائی کرے۔

ہندوستان کی سلامتی حکمت عملی

ہندوستان روایتی (فوجی) اور غیر روایتی دونوں ہی طرح کی سلامتی کے خطرات کا مقابلہ کرچکا ہے جو کہ بیرونی بھی تھے اور اندرونی بھی۔ ہندوستان کی سلامتی حکمت عملی کے چار ترکیبی عناصر ہیں جو مختلف اوقات میں بدلتے ہوئے جوڑوں کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔
سب سے پہلا عنصر فوجی صلاحیتوں کا استحکام اور مضبوطی ہے۔ کیوں کہ ہندوستان اپنے پڑوسیوں سے جنگ میں الجھ چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ 1947-48 ، 1965 ، 1971 اور 1999 میں، اور چین کے ساتھ 1962 میں۔ چوںکہ جنوبی ایشیا میں ہندوستان چاروں طرف سے نیوکلیائی طور سے مسلح ممالک سیگھرا ہواہے، ہندوستانی حکومت نے اسی بنیاد پر 1998 میں اپنے نیوکلیائی تجربے کو، جو قومی سلامتی کی خاطر کیا گیا تھا، صحیح اور جائز ٹھہرایا۔ ہندوستان نے سب سے پہلا نیوکلیائی تجربہ 1974 میں کیا تھا۔
ہندوستان کی سلامتی کی حکمت عملی کا دوسرا ترکیبی عنصر ان بین الاقوامی اصول و ضوابط اور اداروں کو استحکام بخشنا ہے جو اس کی سلامتی کے مفاد کے لیے مددگار ہوں۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ایشیائی اتحاد کے نصب العین، نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، تخفیف اسلحہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی حمایت کی جہاں سارے بین الاقوامی جھگڑے سلجھ سکیں۔ ہندوستان نے ایک غیر توسیع پسند اور غیر امتیازی عالمی حکومت کی جانب پیش رفت بھی کی جس میں تمام ممالک کو بڑے پیمانے کی تباہ کاری والے ہتھیار(Weapons of Mass Destruction) کے متعلق یکساں حقوق و فرائض حاصل ہوں گے۔ اس نے ایک مساویانہ جدید بین الاقوامی معاشی نظام (NIEO) کے حق میں رائے دی۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان نے ناوابستہ تحریک کے ذریعے دو عظیم طاقتوںکی سیاسی چپقلش سے الگ امن کا علاقہ نکالا۔ ہندوستان ان 160 ملکوں میں سے ایک ہے جنھوںنے 1997 میں کیوٹو میثاق(Kyoto Protocol) پر دستخط کیے اور اس کی توثیق کی جو ایک ایسے راستے کی نشاندہی کرتا ہے جو گرین ہائوس سے نکلنے والی گیس میں کمی واقع کرتا ہے اور نتیجتاً عالمی درجۂ حرارت میں اضافے پرروک لگاتا ہے۔ باہمی سلامتی کے اقدامات کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے قیام امن کے مشن کے تحت ہندوستانی افواج کو باہر بھی بھیجا گیا ہے۔

آیئے اسے کریں

روایتی سلامتی اور غیر روایتی سلامتی پر ہندوستانی حکومت کے اخراجات کا موازنہ کرو۔
ہندوستان کی سلامتی حکمت عملی کے تیسرے ترکیبی عنصر کا رخ اندرونی خطرات سے ہے جو ملک کے اندر موجود ہیں۔ ناگالینڈ، میزورم، پنجاب، کشمیر اور کچھ دوسرے علاقوں میں ایسے جنگجو گروپ موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً ہندوستان سے علاحدگی اختیار کرنے کے لیے سرابھارتے رہتے ہیں۔ ہندوستان نے قومی یکجہتی اور اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے ایک جمہوری سیاسی نظام کو اپنایا ہے جہاں مختلف فرقوں اور لوگوں کے گروہوں کو اپنی رائے اور شکایتوں کے اظہار، اورساتھ ہی سیاسی طاقت میں شامل ہونے کا اختیار ہے۔
ہندوستان میں شروع سے یہ کوششکی گئی ہے کہ  معیشت کو اس ڈھنگ سے فروغ دیا جائے کہ عوام اور شہریوں کا بڑاحصہ غربت اور افلاس کے درجے سے اوپر اٹھ سکے اور معاشی عدم مساوات کی بڑی بڑی خلیجیں پاٹی جاسکیں۔ اس کوشش کو زیادہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے اس لیے اب بھی ہندوستان ایک بہت غریب ملک ہے جہاں غیر برابری موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود جمہوری سیاست میں یہ گنجائش موجود ہے کہ غریب اور محروم شہریوں کی آواز سنی جاسکے۔ جمہوری عمل کے ذریعے منتخب حکومتوں پر دبائو ہے کہ انھیں معاشی ترقی کو انسانی فروغ سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ لہٰذا جمہوریت محض ایک سیاسی نظریہ ہی نہیں ہے بلکہ جمہوری حکومت بہتر سلامتی اور تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں آپ اپنی ہندوستانی سیاسیات پر کسیدرسی کتاب ’آزادی کے بعد ہندوستانی سیاست‘ میں مزید پڑھیں گے۔

آیئے مل جل کر کریں

اقدام

نیچے دی گئی چار گائوں کی ایک خیالی کہانی ہے جو ایک ہی دریا کے کنارے بستے تھے۔ اس کو بیان کیجیے ۔
’’کوٹاباغ، گیوالی، کنڈالی اور گوپا، چار گائوں ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ملے ایک ہی دریا کے کنارے بستے ہیں۔ کوٹا باغ کے رہنے والے دریا کے کنارے بسنے والوں میں سب سے پہلے تھے۔ وہ اس علاقے میں موجود وسیع اور بے پناہ قدرتی وسائل پر بلاروک ٹوک رسائی رکھتے تھے۔ رفتہ رفتہ ، پانی اور قدرتی وسائل کی موجودگی کی و جہ سے اور علاقوں سے بھی لوگ یہاں آکر بسنے لگے۔ اب یہاں چار گاؤں ہیں۔ وقت کے ساتھ ان گائوں کی آبادی بڑھ گئی۔ لیکن قدرتی وسائل میں اضافہ نہیں ہوا۔ ہر گائوں قدرتی وسائل پر اپنا دعویٰ کرنے لگا اور ساتھ میں گائوں کی سرحدوں پر بھی۔ کوٹا باغ کے رہنے والوں نے قدرتی وسائل کے بڑے حصے پر اپنا دعویٰ کیا کیونکہ وہ یہاں بسنے والوں میں پہلے تھے۔ گیوالی اور کنڈالی اپنی بڑی آبادی کی و جہ سے وسائل کے بڑے حصے پر اپنا حق جتاتے تھے۔ گوپا کے لوگوں کا خیال تھا کہ اگرچہ ان کی آبادی زیادہ نہیں ہے لیکن وہ ایک آرام دہ زندگی کے عادی ہیں۔ لہٰذا وسائل پر ان کا حق اور حصہ زیادہ ہونا چاہیے۔ یہ چاروں ایک دوسرے کے مطالبات سے راضی نہیں ہوئے اور وسائل کے استعمال میں من مانی کرتے رہے۔ اس کی وجہ سے گائوں والوں میں اکثر جھڑپیں بھی ہونے لگیں۔ آخر کار لوگ اس صورت حال سے تنگ آگئے اور ذہنی سکون کھو بیٹھے۔ اب ان کی آرزو ہے کہ وہ جیسے پہلے رہتے تھے ویسے رہیں۔ لیکن انھیںمعلوم نہیںکہ وہ اس ’’سنہرے زمانے‘ کی طرف کیسے واپس جائیں گے‘‘۔
ہر گائوں کی خصوصیات کے بارے میں نوٹ بنائیے۔ ان خصوصیات کو آج کل کی ریاستوں کی نوعیت کے مطابق لکھیے۔
کلاس کو چار حصوں میں تقسیم کیجیے۔ ہر گروپ ایک گائوں کی نمائندگی کرے گا۔ گائوں سے متعلق نوٹس متعلقہ گروپ کو دے دیجیے۔
سنہری زمانہ میں واپس کس طرح جایا جاسکتا ہے کے موضوع پر گروپ ڈسکشن کے لیے استادپندرہ منٹ کا وقت دے۔
ہر گروپ اپنی حکمت عملی کو فروغ دے گا۔ ہر گروپ آپس میں بیس منٹ تک کھل کر ڈسکشن کرے گا تاکہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔ ہر گروپ اپنے دلائل اور جوابی دلائل پیش کرے گا۔ نتیجہ دو صورتوں میں ظاہر ہونا چاہیے۔ اوّل تو ایک دوستانہ معاہدہ جس میں ہر فریق کے مطالبات مان لیے جائیں اور ایسا شاذ ہی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ پھر مکمل مباحثہ جو کسی سمجھوتے پر آئے بغیر ختم ہوجائے۔

استاد کے لیے ہدایات:

* گائوں کو ریاستوں سے تشبیہہ دیں اور اس کے مسائل کو سلامتی کے مسئلے سے جوڑیں (جیسے جغرافیائی سالمیت کو خطرہ ، قدرتی وسائل تک رسائی، بغاوت وغیرہ وغیرہ)
* گفت و شنید کے درمیان جو چیزیں نوٹس کی ہوں ان کے متعلق بولیں اور سمجھائیں کہ ایسے مسائل کو سلجھاتے وقت قومیں بھی کس ردّ عمل کا اظہار کرتی ہیں۔
* یہ بحث و مباحثہ یا سرگرمی آخر میں قوموں کے درمیان اور ان کے اندر موجودہ سلامتی کے مسائل کے حوالے سے ختم کیاجاسکتاہے۔

مشقیس

1- اصطلاحات کو ان کے معنی سے ملائیے:
i- اعتمادسازی کے اقدامات (CBMs)
ii- اسلحہ پر قابو
iii- اتحاد
iv- تخفیف اسلحہ
a- مخصوص قسم کے ہتھیاروں کو ترک کردینا۔
b- قوموں کے درمیان مستقل طور پر دفاعی معاملات میں اطلاعات کے لین دین کا عمل ۔
c- چند قوموں کا مجموعہ جن کا مقصد فوجی حملے کے وقت ایک دوسرے سے مزاحمت و مدافعت ۔
d- ہتھیاروں کی دستیابی اور فروغ پرپابندی لگانا۔
2- مندرجہ ذیل میں آپ کس کو روایتی سلامتی ،یا غیر روایتی سلامتی سے متعلق خیال کرتے ہیں لیکن خطرہ نہیں۔
a- ڈینگو بخار یا چکن گنیا کا پھیلنا۔
b- پڑوسی ملک سے کام ڈھونڈنے والوں کا بڑی تعداد میں ملک میں آنا۔
-b پڑوسی ملک سے کام ڈھونڈنے والوں کا بڑی تعداد میں ملک میںآنا۔
c- علاقائی خود مختاری یا آزادی کا مطالبہ کرنے والے کسی گروپ کا ظہور۔
d-علاقے کو الگ ملک کا مطالبہ کرنے والے کسی گروپ کا ظہور۔
e-  ایک ایسا اخبار جو ملکی فوج کا نکتہ چیں ہو۔
3- روایتی اور غیر روایتی سلامتی میں کیا فرق ہے؟ اتحادوں کا بننا اور قائم رہنا کس قسم سے تعلق رکھتا ہے؟
4- پہلی دنیا اور تیسری دنیا کے عوام جن خطروں کا سامنا کررہے ہیں ان میں کیا فرق ہیں؟
5- دہشت گردی سلامتی کے لیے ایک روایتی خطرہ ہے یا غیر روایتی؟
6- سلامتی کے روایتی تصور کے تناظر میں جب ایک ریاست کی سلامتی خطرے میں ہو تو اس کے سامنے کون سے راستے کھلے رہ جاتے ہیں۔
7- ’توازنِ قوت ‘ کیاہے اور ایک ریاست اس کو کس طرح حاصل کرسکتی ہے؟
8- فوجی اتحادوں کے کیا مقاصد ہوتے ہیں؟ کسی ایک برسرکار اتحاد کی اس کے مخصوص مقاصد کے ساتھ مثال دیجیے۔
9- تیز رفتار ماحولیاتی گراوٹ سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہے۔ کیاآپ اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنے دلائل کو ٹھوس انداز میں بیان کیجیے۔
10- نیوکلیائی ہتھیار، خواہ وہ مزاحمتی طریقئہ کار کے لیے ہوں یا دفاعی طریقۂ کار کے لیے، ریاستوں کو لاحق عصری خطرات کے  پیش نظر ان کا استعمال بہت محدود ہوگیا ہے۔ اس بیان کی تشریح کیجیے۔
11- سلامتی کے روایتی یا غیر روایتی تصور میں سے ہندوستانی تناظر میں کس کو ترجیح دی گئی ہے؟ اپنے بیان کی موافقت میں آپ کیا دلائل پیش کرسکتے ہیں؟
12- نیچے دیے ہوئے کارٹون کا مطالعہ کیجیے ۔جنگ اور دہشت گردی کے آپسی رابطہ جس کو اس کارٹون میں اجاگر کیا ہے، کی موافقت یا مخالفت میں مختصر نوٹ تحریر کیجیے۔

22