باب8
ماحولیات اور قدرتی وسائل
اجمالی نظر
یہ باب عالمی سیاست میں ماحول کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور وسائل کے مسائل کا جائز ہ لے گا۔اور کچھ ماحولیاتی تحریکوں کا تقابلی زاویۂ نظرسے بھی تجزیہ کرے گا جو 1960 کے عشرے کے بعد سے ماحولیات کے پس منظر میں سامنے آئیں ۔ وسائل کی مشترک ملکیت کے خیالات اور عالم گیر پیمانے کے مشترکہ وسائل بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ ہم مختصر طور سے حال ہی میں ماحولیات پر ہوئی بحثوں میں ہندوستان کے موقف کا تذکرہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد وسائل کی دوڑ میں جغرافیائی سیاست کا ذکر ہوگا۔ اس باب کا خاتمہ ہم سرسری طور پر معاصر سیاست کے نظریے سے مقامی لوگوں کے اندیشوں اور اٹھتی ہوئی آوازوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کریں گے۔
1992 میں ہوئی Earth Summit کی و جہ سے ماحولیاتی مسائل نے عالمی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اوپر کی تصویروں میں بارانی جنگلات اور چمرنگ کے علاقے دکھائے گئے ہیں۔
جنگلات میں سیاست! پانی میں سیاست! ماحولیات میں سیاست! پھر آخر غیر سیاسی کیا ہے؟
عالم گیر سیاست میں ماحولیاتی تشویشیں
اس کتاب میں ہم نے عالمی سیاست پر بحث کی ہے لیکن اس کو جنگوں، معاہدوں، ریاستی قوت کا عروج و تنزل، بین الاقوامی میدان میں عوام کی منتخب شدہ حکومتوں کے تعلقات اور بین الحکومتی تنظیموں کے کردار تک محدود رکھا ہے۔ ساتویں باب میں ہم نے موضوع کو کچھ اور وسعت دی اور وبائوں اور غربت کے تذکرے کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ اور یہ ایسا مشکل کام بھی نہیں تھا کیونکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ حکومتوں کا کام ان پر قابو پانا ہے۔آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ عصری سیاست کے زمرے میں آتے ہیں؟ لیکن آئیے اب کچھ اور مسائل پر نظر ڈالیں۔ کیا آپ کے خیال میں ان کو عصری سیاست میں جگہ مل سکتی ہے؟
◊ دنیا بھر میں قابلِ کاشت زمین میں اضافہ نہیںہورہاہے اور موجودہ زرعی زمین کا ایک اچھا خاصا حصہ اپنی زرخیزی سے بھی محروم ہوتا جارہا ہے۔ گھاس کے میدانوں سے ان کی پیداوار سے زیادہ وصولا جارہا ہے اور زیادہ سے زیادہ مچھلیاں پکڑی جارہی ہیں۔ پانی کے ذخائر میںکمی اور آلودگی کی و جہ سے غذائی پیداوار کافی محدود ہوگئی ہے۔
◊UNDPکی’فروغ انسانی رپور ٹ 2006‘ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً 1.2 بیلین لوگوں کی صاف پانی تک رسائی نہیں ہے اور 2.6 بیلین لوگ صفائی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جس کی و جہ سے ہر سال تیس لاکھ بچوں کی موت واقع ہوتی ہے۔
◊ قدرتی جنگلوں کو کاٹا جارہاہے اور لوگ اپنی بستیوں سے ہٹائے جارہے ہیں۔ حالانکہ یہ جنگل آب و ہوا میں یکسانیت اور پانی کی فراہمی میں اعتدال قائم رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اس زمین پر پائی جانے والی مختلف النوع جانداروں کی اکثریت کو پناہ دیتے ہیں لیکن ان کا نقصان ہنوز جاری ہے کیونکہ جہاں یہ اقسام زیادہ پائی جاتی ہیں وہاں ان کی رہائش گاہوں اور مسکنوں کو تباہ کیاجارہاہے۔
◊زمین کی فضائے متغیّرہ میں (جس کو عام طور سے ozone hole کہا جاتا ہے) ozone کی کل مقدار میں آہستہ لیکن مسلسل کمی کے باعث ماحولیاتی نظام اور انسانی صحت کے لیے زبردست خطرہ پیدا ہوگیاہے۔
◊ اس کے علاوہ ساحلی آلودگی بھی عالمی پیمانے پر بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ کھلے سمندر مقابلتاً صاف ہیں لیکن زمین پر ہونے والی سرگرمیوں کے باعث ساحلی علاقے زیادہ سے زیادہ آلودہ ہوتے جارہے ہیں۔ اور اگر انھیں روکا نہیں گیا تو دنیا بھر میں ساحلی علاقوں میں پھیلی ہوئی یہ وسیع انسانی بستیاں سمندر کے ماحول کے معیار میں اور زیادہ گراوٹ کا سبب بن سکتی ہیں۔
آپ یہاں یہ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا ہم قدرتی مظاہر کے بارے میں گفتگو نہیں کررہے ہیں؟ جسے سیاست کے بجائے جغرافیہ میں پڑھایا جانا چاہیے، لیکن اس پر ایک بار پھر غور کیجیے۔ اگر مختلف حکومتیں اس ماحولیاتی تنزل کو جو اس باب میں گنائے گئے ہیں، روکنے کی کوشش کرتی ہیںتو اس کے نتائج بہر حال سیاسی ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان میں زیادہ تر مسائل ایسے ہیں کہ محض ایک اکیلی حکومت ان پر توجہ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا ان کا عصری سیاست کا حصہ بننالازمی ہے۔ اگر مزید غور و فکر کیا جائے تو ماحولیات اور قدرتی وسائل کے مسائل حقیقت میںسیاسی ہی نظر آتے ہیں۔ ماحولیاتی تنزل کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کی قیمت کون چکاتا ہے؟ اس کی اصلاح کا ذمہ دار کون ہے؟ زمین کے قدرتی وسائل پر کس کو کتنا اختیار ہے؟ یہ سب مل کر یہی سوال اٹھاتے ہیں کہ اصل میں کون کتنا طاقت ور ہے اور یہ سب اہم سیاسی سوالات ہیں۔
حالانکہ ماحولیاتی تشویشوں کی تاریخ کافی طویل ہے۔ لیکن معاشی فروغ کے ماحولیاتی نتائج کے بارے میں بیداری1960کے بعد ہی سے آنی شروع ہوئی۔ 1972 میں ’دی کلب آف روم (The Club of Rome) ’انجمن دانشوراں‘ نے ایک کتاب ’فروغ کی حدود‘ (Limits to Growth) شائع کی جس میں زمین کے گھٹتے اور معدوم ہوتے ہوئے وسائل کی دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں بڑی ڈرامائی تصویر کشی کی ۔ بین الاقوامی تنظیموں نے جن میں اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام‘(United Nsations Environment Programme) بھی شامل ہے۔ کانفرنسیں منعقد کرنا شروع کیں۔ اور اس تفصیلی تحقیق میں لگ گئیں کہ ماحولیاتی مسائل کا مربوط اور عملی سامنا کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت سے ’ماحول‘ عصری سیاست کا ایک اہم جز بن کر ابھرا ہے۔
(کارٹون) عالم گیر درجۂ حرارت میں اضافہ © Ares, Cagle Cartoons Inc.
آپ کے خیال میں انگلیوں کو چمنیوں کی طرح اور دنیا کو لائٹر کیوں بنایا گیا ہے۔
آیئے اسے کریں
ان خبروں کے تراشے جمع کیجیے جنھیں آپ کے اپنے علاقے میں سیاست اور ماحولیات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیاہو۔
ماحولیاتی مسائل پر عالمی سیاست میں برھتی ہوئی توجہ اس وقت اور مستحکم ہوگئی جب 1992 میں برازیل کے شہرRio de Janeiro میں اقوام متحدہ کی کانفرنس ماحولیات اور فروغ (Environment & Development) منعقد ہوئی۔ اسی کو Earth Summit بھی کہتے ہیں۔ اس چوٹی کی کانفرنس میں 170 ملکوں، ہزاروں NGOs یعنی غیر سرکاری تنظیموں اور کئی کثیر الاقوامی کارپوریشن نے شرکت کی تھی۔ پانچ سال پہلے 1987 کی برنٹ لینڈ رپورٹ ’ہمارا مشترکہ مستقبل(Our Common Future) نے یہ تنبیہہ کی تھی کہ معاشی ترقی کے روایتی انداز طویل عرصے تک شانہ بہ شانہ نہ چل سکیں گے، خاص طور سے ’جنوب‘ کی جانب سے مزید صنعتی ترقی کے مطالبے کے پیشِ نظر۔ ریوڈی جیفرو کی چوٹی کانفرنس میں یہ بات بہت واضح طور پر سامنے آئی کہ دولت مند اور ترقی یافتہ پہلی دنیاکے ممالک ، جن کو عام طور سے ’عالم گیری شمال‘ (Global North) کہا جاتاہے، غریب اور ترقی پذیر تیسری دنیا کے ممالک، جنھیںعام طور سے ’عالم گیر جنوب ‘(Global South)کہا جاتا ہے، سے الگ ماحولیاتی پروگرام پر عمل کررہے ہیں۔ شمالی ممالکozoneکی مقدار میں کمی اور آفاقی درجۂ حرارت میں اضافے کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اس کے برعکس جنوبی ریاستیں فکر مند تھیں کہ ماحولیاتی نظم و نسق اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق پر غور کیا جائے۔
اگر آپ سیّارے کو بچانا چاہتے ہیں تو اپنا ہاتھ اٹھائیں (کارٹون)
کیا خطہ ارض کے تحفظ کے لیے غریب اور دولت مند ملکوں کے الگ الگ نظریات ہیں؟
ریوڈی جنیرو کی چوٹی کانفرنس کے نتیجے میں آب و ہوا میں تبدیلی ، جنگلات اور مختلف انواع کی حیاتیات پرمجلس منعقد ہوئی اور ترقی کے عمل کی ایک فہرست کی سفارش کی گئی جس کو ’ایجنڈا 21‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن اس نے اکثر مشکلات اور اختلافات کو بغیر کسی فیصلے کے چھوڑ دیا۔بہر حال اس بات پر اتفاق رائے ہوگیا کہ معاشی ترقی کو ماحولیات سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ترقی کی جانب اس رجحان کو عام طور سے پائیدار فروغ (Sustainable Development) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ آخر اس کو کس طرح سے حاصل کیا جائے۔ کچھ تنقید نگاروں کا خیال ہے کہ ایجنڈا 21 ماحولیاتی تحفظ کے بجائے معاشی ترقی کے حق میں ہے۔ آئیے ہم ماحولیات کی عالمی سیاست کے کچھ متنازع فیہہ مسائل پر نظر ڈالتے ہیں۔
نقشہ قطب جنوبی
انٹارکٹیکاANTARCTICA
انٹارکٹیک براعظم کا رقبہ 14 ملین مربع کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے غیر آباد علاقے کا 26% حصہ ہے۔ خطہ ارض کے 90% برف کی اور70% تازہ پانی کی نمائندگی کرتا ہے۔ قطب جنوبی میں مزید 36 ملین مربع کلومیٹر سمندر بھی شامل ہے۔ اس میں زمینی زندگی کم ہے لیکن سمندری ماحولیاتی نظام بہت زرخیز ہے جس میں چند قسم کے پودوں، دودھ پلانے والے سمندری جانور، مچھلیوں اور پرندوں کے غول در غول جنھوںنے اپنے کو مشکل حالات کا عادی بنالیا ہے۔ اس کے علاوہ کیرل (Krill) ہے جس کی سمندری غذا کے سلسلے میں مرکزی حیثیت ہے اور جس پر اور دوسرے جانور انحصار کرتے ہیں۔ قطب جنوبی موسمیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا رکرتا ہے۔ برف کی گہری تہیں گرین ہائوس (green house) گیس کے ارتکاز اور ہزاروں سال پہلے کے ماحولیاتی درجۂ حرارت کے بارے میں مفید معلومات کا ذریعہ ہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ سرد، سب سے زیادہ دور اور سب سے زیادہ طوفان خیز براعظم کا مالک کون ہے۔ اس سلسلے میں دو دعوے دار ہیں۔ کچھ ملک جیسے کہ برطانیہ ، ارجنٹائنا، چلی ، ناروے، فرانس ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے یہاں کی سرزمین پر قانونی دعووؤںسے اقتدار اعلی یا خود مختاری تک کے وعدے کیے ہیں۔ دوسری ریاستوں میں سے اکثر نے متضاد نقطئہ نظر پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں قطب جنوبی ’عالم گیر مشترکات‘ میں سے ہے اور کسی ایک ریاست کے دائرہ اقتدار میں نہیں آسکتا۔ ان اختلافات نے بہر حال ان کوششوں پر روک نہیں لگائی جو قطب جنوبی کے ماحول اور ماحولیاتی نظام کے دفاع کے لیے کی جارہی تھیں۔ ان کوششوں میں وہ اصول و ضوابط بھی شامل ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے نئی خصوصیات کے حامل اور دور رس ہیں۔ قطب جنوبی اور قطبی (Arctic) علاقے، ماحولیاتی تحفظ کے خصوصی علاقائی قوانین کے پابند ہیں۔ 1959 کے بعد سے یہاں پر ہونے والی سرگرمیوں کو ’سائنسی تحقیق‘ مچھلیوں کی تجارت اور سیاحت تک محدود کردیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے باوجود بھی علاقے کے بعض حصوں کو اس آلودگی سے نہیں بچایا جاسکا جو تیل کے فضول بہنے کی و جہ سے وہا ں ہے۔
عالم گیر مشترکات کی حفاظت:
مشترکات (Commons) دراصل وہ وسائل ہیں جن کا مالک کوئی ایک نہیں ہوتا بلکہ پوری کمیونیٹی اس کی حصے دار ہوتی ہے۔ یہ ایک ’کامن روم‘ یا ’کمیونٹی سنٹر‘یا پارک یا دریابھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سے دنیا کے کچھ علاقے بھی ایسے ہیں جو کسی بھی ریاست کے دائرہ اقتدار سے باہر ہیں اور اس لیے بین الاقوامی برادری کو مشترکہ طور پر اس کا انتظام و انصرام کرنا ہے۔یہ علاقے عالم گیر مشترکات (global commons) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان میں خطّۂ ارض کا ماحول، قطب جنوبی، (دیکھیے Box) سمندر کی تہہ اور خلاشامل ہیں۔
بہت جلد چاند کی ماحولیاتی خستہ حالی واقع ہوجائے گی۔
براعظم افریقہ میں 1970کی دہائی میں یہ سب سے بڑی تباہی تھی۔ جس نے پانچ ملکوں کی بہترین زرعی زمین کو سخت پتھریلی بنجر زمین میں تبدیل کردیا۔ درحقیقت ’’ماحولیاتی پناہ گزین ‘‘(Environmental Regfugees) کی اصطلاح اسی تباہی کے بعد عام ہوئی۔ اکثر لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا کیونکہ زراعت ناممکن ہوگئی تھی۔
ماخذ: www.gobartimes.org
عالم گیر مشترکات کے سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون آسان نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں کئی معاہدے ہوئے ہیں جیسے1959کا انٹارکٹیکا معاہدہ (Antarctic Treaty) ،1987کی منٹریل پروٹوکول (Montreal Protocol) اور 1991 کی انٹارکٹیکا ماحولیاتی پروٹوکول (Antartic Environmental Protocol) تمام ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ایک خاص پریشانی یہ ہے کہ ایک مشترکہ ماحولیاتی پروگرام پر اتفاق نہیں ہوسکتا کیونکہ سائنسی معلومات اور اوقات کا معمول اس سلسلہ میں مبہم اور غیر واضح ہے۔ اس ضمن میں 1980 کی دھائی میں ozone hole کی دریافت نے ان مواقع اور ساتھ ہی ساتھ ان خطرات کابھی انکشاف کیا جو عالم گیر ماحولیاتی مسائل کے حل کرنے کے ساتھ منسلک ہیں۔
بالکل اسی طرح ’عالمگیر مشترکات‘ کی حیثیت سے باہری خلا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان علاقوں کا نظم و نسق بھی جنوب اور شمال کی عدم مساوات یا نابرابری سے متاثرہے۔ جہاں تک زمینی فضا اور سمندر کی تہوں کا سوال ہے تو یہاں اہم مسئلہ ٹکنالوجی اور صنعتی ترقی کا ہے۔یہ اہم اس لیے ہے کہ باہری خلامیں تحقیقی سرگرمیوں کے فوائد، موجودہ نسل یا مستقبل کی نسل کے لیے ، برابری سے کہیں آگے ہیں۔
آئیے اسے کریں
Kyoto Protocol کے بارے میں اور معلومات جمع کیجیے۔ وہ کون سے اہم ممالک تھے جنھوں نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے اور کیوں؟
مشترک لیکن ممتاز ذمہ داری
ہم نے اوپر دیکھا کہ شمال اور جنوب کے ملکوں میں ماحول کے مسئلے پر کتنی تفریق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک چاہتے ہیںکہ ماحولیاتی مسئلے پر بحث وہیں سے شروع ہونی چاہیے۔ جیسا وہ اس وقت ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے معاملے میں ہر ایک کو برابر کا شریک ہونا چاہیے۔جنوب کے ترقی پذیر ممالک کا یہ کہنا ہے کہ ماحولیات میں انحطاط اور فساد کا زیادہ ترذمے دار وہ صنعتی فروغ ہے جو ترقی یافتہ ممالک کی دین ہے۔ اگر وہ زیادہ انحطاط کے ذمے دار ہیں تو اس کی تلافی کا بڑا ذمہ بھی ان کو ہی اٹھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک ابھی صنعت کاری کے عمل کے دور سے گزر رہے ہیں لہٰذا ان کو ان پابندیوں میں نہیں باندھنا چاہیے جو ترقی یافتہ ملکوں پر عائد ہوتی ہیں۔ لہٰدا بین الاقوامی ماحولیاتی قانون سازی ، اس کے نفاذ، فروغ اور ترجمانی میں ترقی پذیر ممالک کی خاص خاص ضرورتوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ ریوڈی جنیرو کی 1992 کی چوٹی کانفرنس میں اس دلیل کو مان لیا گیاتھا اور اس اصول کو ’مشترک لیکن ممتاز ذمہ داریوں ، کا نام دیاگیا۔
ریوڈی جنیرو کے اعلانیہ کے متعلقہ حصہ میں یہ کہا گیاہے کہ ’’ریاستیں ایک دوسرے سے ساجھے داری کے جذبہ کے ساتھ زمین کے ماحولیاتی نظام کی سا لمیت اور صحت کو برقرار رکھنے حفاظت کرنے اور جمع کرنے میں تعاون کریں گی۔
عالم گیرماحولیاتی انحطاط میں کم اورزیادہ حصّے داری کے پیشِ نظر ریاستوں کی مشترکہ لیکن علاحدہ علاحدہ ذمے داریاں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو ان ذمے داریوں کا پورا احساس ہے جو ’پائیدار فروغ‘ کے حصول کی تلاش میں ‘ اور ان دبائوں کے پیش نظر جوان کے سماج‘عالم گیر ماحولیات ، اور مالی اور ٹیکنالوجیکل وسائل جو ان کے تصرف میںہیں، ان پر عائد ہوتی ہیں‘‘۔
1992 میں منعقدہ United Nations Framework Convention on Climate Change (UNFCCC) یعنی اقوام متحدہ کے آب و ہوا کی تبدیلی کے خاکے کے اجلاس میں بھی یہی اعلان کیا گیا کہ تمام فریق برابری کی بنیاد پر اور مشترکہ لیکن ممتاز ذمہ داری اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ‘‘ آب و ہوا اورموسمیات کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔ اس کنونشن میں موجود تمام فریق اسی نکتے پر بھی متفق ہوئے کہ تاریخی اور موجودہ عالم گیر زہریلی گیسوں کا سب سے زیادہ اخراج ترقی یافتہ ممالک سے شروع ہوا۔اس بات کو بھی مانا گیا کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ اخراج اب بھی فی کس کے تناسب سے مقابلتاً کم ہے۔ لہٰذا چین، ہندوستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کو کیوٹو پروٹوکول (Kyoto Protocol) کے مطالبات سے مستثنیٰ قرار دیاگیا۔ کیوٹوپروٹوکول دراصل ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس نے صنعتی طور سے ترقی یافتہ ممالک کے لیے گرین ہائوس (زیریلی) گیس کے اخراج کے بارے میں حدود متعین کی ہیں۔ کچھ اور گیسیں جیسے کاربن ڈائی اکسائڈ، میتھین، ہائیڈرو۔ فلوروکاربن وغیرہ کو بھی عالم گیری درجۂ حرارت میں اضافے کے لیے کچھ حد تک ذمے دار سمجھا جاتاہے۔ عالم گیردرجۂ حرارت میں اضافہ زمین کے اوپر کی زندگی کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث ہوسکتاہے۔ اس پروٹوکول پر جاپان کے شہر ٹوکیو میں 1997 میں دستخط ہوئے اور اس کی بنیاد UNFCCC کے پیش کردہ اصولوں پر تھی۔
یہ بھی ایک اچھا اصول ہے۔ جیسے کہ ہمارے ملک کی ریزرویشن پالیسی! ہے نا؟
مشترکہ ملکیت والے وسائل
مشترکہ ملکیت سے مراد کسی گروپ یا کمیونٹی کی ملکیت ہے۔ ایک مانا ہوا اصول اس سلسلے میں یہہے کہ کمیونٹی یاگروپ کے اراکین کو کسی خاص وسیلہ یا وسائل کے استعمال کی حد، نوعیت اور اس کی دیکھ بھال کے متعلق تمام حقوق و فرائض حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں صدیوں کے رواج اور مفاہمت کے ذریعے بہت سی دیہی برادریوں نے ان حقوق و فرائض کو واضح کردیا ہے۔ کئی اسباب کی بناپر جن میں ذاتی ملکیت بنانے کے رجحان، زراعت پر زور، آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی انحطاط شامل ہیں، مشترکہ ملکیت کو دنیا بھر میں سائز اور معیار کے اعتبار سے نقصان پہنچاہے اور یہ غریبوں کی پہنچ سے بھی دور ہوگئی ہیں۔ مشترکہ ملکیت کے واضح تصور کے لیے سرکاری جنگلات میںموجود مقدس درختوں یا درختوں کے جھنڈ کی دیکھ بھال کے لیے جو ادارتی نظام بنایا گیاہے کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جنوبی ہندوستان کی جنگلات کی پٹی میںواقع مقدس درختوں کے جھنڈ روایتی طور سے گائوں کی برادری ہی کے زیر انتظام رہے ہیں۔
میں نے سنا ہے کہ لاطینی امریکا میں کچھ دریائوں کو بیچا جارہا ہے؟ کیا مشترکہ ملکیت کو بیچا جاسکتا ہے؟
ہندوستان میں قابل احترام جنگلات
روایتی سماجوں میں مذہبی اسباب کی بناپر قدرت یا فطرت کی حفاظت ایک قدیمی دستور رہاہے۔ اس کی مثال ہندوستان کے مقدس یا قابل احترام جنگلو ں(کچھ دیوی، دیوتائوں کے نام، یا اجداد کی ارواح سے وابستہ کیے ہوئے جنگلی نباتات یا درختوں کے جھنڈ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ برادری کی ذمے داری پر مبنی وسائل کے نظم و نسق کے نمونے کے طور پر ان قابل احترام جنگلوں کو پچھلے چند سالوں سے جنگلاتی تحفظ کے لٹریچر (Literature) میں جگہ ملنے لگی ہے۔ یہ مقدس جنگل ایسے نظام کی طرح ہیں جو غیر رسمی طور سے روایتی برادریوں پر یہ دبائو ڈالتا ہے کہ وہ ایک ماحولیاتی سلیقہ کے مطابق قدرتی وسائل کی کٹائی چھنٹائی کرے۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ ان میں نہ صرف مختلف النوع جانداروں اور ماحولیاتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے بلکہ تمدنی سرگرمیوں کو بھی۔
مقدس جنگلات ، جنگلاتی تحفظ کے طریقوں کو ایک ٹھوس مجموعے کی شکل دیتے ہیں اور وہ مشترکہ ملکیت والے وسائل کے نظام کی خصوصیات میں برابر کے شریک ہیں۔ ان کا رقبہ کبھی درختوں کا چھوٹا سا جھنڈ ہوتاہے اور کبھی سینکڑوں ایکٹر پر پھیلے ہوئے جنگل۔ روایتی طور سے قابل احترام جنگلوں کی قدرو قیمت اپنی روحانی اور تمدنی خصوصیات کی و جہ سے ہے۔ ہندو عام طور سے قدرتی اشیاکی پوجا کرتے ہیںجن میں درخت اور جنگل شامل ہیں۔ بہت سے مندروں کا اصل ماخذ یہی قابل احترام جنگل ہیں۔ ان جنگلوں کو محفوظ رکھنے کے پیچھے ، قدرت کے ساتھ گہری مذہبی عقیدت کارفرما ہے نہ کہ وسائل کی قلت۔ پچھلے چند سالوں میں انسانی بستیوں اور ان کی توسیع نے ان جنگلوں کے کچھ حصوں کو ہتھیالیاہے۔
بہت سی جگہوں پر ان روایتی جنگلوں کی مرو جہ شناخت، جنگلوں کے بارے میںحکومت کی نئی پالیسیوں کی و جہ سے دھندلی ہوتی جارہی ہے۔ قابل احترام جنگلوں کی دیکھ بھال اور خدمت میں اس وقت دشواری پیش آتی ہے جب قانونی ملکیت اور عملی انتظام دوا لگ الگ ہستیوں کے ہاتھ میں ہوا اور یہ دونو ںہستیاں ، یعنی حکومت اور کمیونٹی یا برادری ، قابل اترام جنگلوں کے استعمال کے بارے میں الگ الگ مقاصد اور لائحہ عمل رکھتے ہوں۔
ماحولیاتی مسائل پر ہندوستان کا موقف
1997 کے کیوٹو پروٹوکول پر ہندوستان نے اگست 2002 میں دستخط کیے اور پھر اس کی توثیق کی۔ ہندوستان، چین اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کو کیوٹو پروٹوکول کے مطالبات سے مستثنیٰ کردیا گیا تھا کیونکہ گرین ہائوس گیس کا اخراج ( جو کہ آج کل کے دور میں عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ اور آب و ہوا میں تبدیلی کا ذمے دار سمجھا جاتاہے) ان ممالک کے صنعت کاری کے دور میںنسبتاً بہت کم تھا۔ لیکن کیوٹو پروٹوکول کے ناقدین کا کہناہے کہ جلدی یا دیرمیں، چین اور ہندوستان بھی دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ گرین ہائوس گیس کے اخراج میں بڑے حصے دار ہوجائیں گے۔ جون 2005 میں G-8 کی میٹنگ میں ہندوستان نے اس نکتے پر زور دیا کہ آبادی کے فی کس تناسب کے لحاظ سے ترقی پذیر ممالک میں گیس کے اخراج کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں ایک قطرہ جیسی ہے۔ مشترکہ لیکن ممتاز ذمہ داری کے اصول کے مطابق ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس اخراج کی روک تھام کی بڑی ذمے داری ترقی یافتہ ممالک پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے یہ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میں سمجھ گیا! پہلے انھوں نے زمین کو برباد کیا اور اب ہماری باری ہے وہی کرنے کی! کیا یہی ہمارا موقف ہے؟
ہندوستان کی گفت و شنید کا دارومدار زیادہ تر تاریخی ذمہ داری کے اصول پر ہے جیساکہ UNFCCC میں موجود ہے۔ اس میں یہ مانا گیا ہے کہ گرین ہائوس (زیریلی) گیس کے اخراج ، خواہ وہ پہلے کی ہوں یا موجودہ، کے معاملہ میں ترقی یافتہ ممالک زیادہ ذمے دار ہیں۔ مزید یہ کہ، معاشی اور سماجی فروغ ترقی پذیر فریقوں کی اوّلین کوشش ہونی چاہیے۔ اس لیے ہندوستان ان بحث و مباحثہ سے فکر مند ہے جو ابھی حال ہی میں UNFCCCمیں ہوئے جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ممالک (جیسے برازیل، چین اور ہندوستان) کو ان کے ابتدائی وعدوں سے متعارف کرانا چاہتے ہیں اور ان کی زہریلی گیس کے اخراج کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ہندوستان کا خیال ہے کہ یہ رائے UNFCCC کی روح کو مجروح کرتی ہیں۔ نہ ہی یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان پر کوئی پابندی لگائی جائے جب کہ 2030 تک ملک کا فی کس کاربن کا اخراج دنیا کی 2000 تک کی 3.8 ٹن کی آدھی سے کم کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں 2000 میں گیس کے اخراج میں اضافہ 0.9 ٹن فی کس کے حساب سے 2030 میں 1.6ٹن فی کستک پہنچ جائے گا۔
ہندوستانی حکومت پہلے ہی سے اکثر پروگراموں کے ذریعے عالمی کوششوں میں شرکت کررہی ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کی’خود کار ایندھن پالیسی‘ گاڑیوں کو زیادہ صاف ستھرے ایندھن کی فراہمی کرنا ضروری قرار دیتی ہے۔ 2001 کے منظور شدہ توانائی کو بچانے کے قانون (The Energy Conservation Act) میں ان اقدامات کا خاکہ دیاگیاہے جو توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آزمائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح سے 2003 کا Electricty Act قابل تجدید توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ قدرتی گیس کی درآمد اورکوئلے کی شفافیت کی ٹکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کا حالیہ رجحان یہ ظاہر کرتاہے کہ ہندوستان اس معاملے میں سنجیدہ کوشش کررہا ہے۔ حکومت ایک حیاتیاتی ڈیزل کا قومی مشن (National Mission on Biodiesal) کو شروع کرنے کے بارے میں بھی غور کررہی ہے۔ 2011-2012 تک تقریباً گیارہ ملین ایکٹر زمین بائیوڈیزل (Biodiesal) کی پیداوار کے لیے استعمال کرے گی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے پاس دنیا کے قابل تجدید توانائی کے سب سے بڑے پروگرام ہیں۔
ریومیںارضی چوٹی کانفرنس میںجومعاہدہ ہوا تھا ہندوستان نے 1997 میں اس کے نفاذ کا ایک جائزہ لیا۔ ایک قابل ذکر نتیجہ یہ سامنے آیاکہ نئے اور اضافی مالی و سائل اور رعایتی شرطوں پر ماحولیاتی اعتبار سے بہتر ٹیکنالوجی کے ترقی پذیر ممالک کو منتقلی کے پروگرام میں کوئی بامعنی اور خاطر خواہ اقدام نہیں کییگئے ہیں۔ ہندوستان کے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل اور شفاف ٹیکنالوجی جلد سے جلد مہیا کریں تاکہ وہ UNFCCC سے کییگئے وعدوں کو نباہ سکیں۔ ہندوستان کا یہ بھی خیال ہے کہ SAARCممالک عالم گیر ماحولیاتی مسائل کے مقابلے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ اس علاقے کی آواز میں زیادہ وزن پیداہو۔
ماحولیاتی تحریکات: ایک یا کئی؟
اب تک ہم نے دیکھا کہ بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی انحطاط کی مشکل پر حکومتوں کا کیا رد عمل رہاہے۔ لیکن ماحولیاتی انحطاط یا تنزل کے چیلنج کا تشفی بخش جواب حکومتوں کی جانب سے نہیں بلکہ ان رضا کار گروہوںکی طرف سے آیا جو دنیا کے مختلف گوشوں میں کام کررہے ہیں اور ماحولیاتی شعور رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں لیکن زیادہ تر مقامی سطح پر کام کرتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی تحریکات اس وقت دنیا کی سب سبے زیادہ فعال، متحرک اور متنوع سماجی تحریکوں میں سے ہیں۔ آج کل سماجی تحریکوں کے اندر ہی سیاسی عمل کی نئی صورتیں پیدا ہوتی ہیں یا ایجاد کی جاتی ہیں۔ یہ تحریکیں نئے نظریات اور طویل المدت تصورات کو جنم دیتی ہیں کہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میںکیا کرناچاہیے اور کیانہیںکرنا چاہیے۔ یہاں چند مثالوں سے واضح ہوجائے گا کہ تنوع ہی دراصل عصری ماحولیاتی تحریکوں کا طرّۂ امتیاز ہے۔
کیا جنگل ’’بیابان‘‘ ہوتے ہیں؟
جنوب کی جنگلاتی تحریکیں شمال سے اس طرح مختلف ہیں کہ اول الذکر کے جنگلات میں اب بھی انسانی آبادی موجود ہے، جب کہ آخرالذکر کے جنگلات قریب قریب انسانی آبادی سے مبرا ہیں، یا کم از کم ایسا سمجھا جاتا ہے ۔ ایک حد تک یہ شمال کے بیابان کے عام خیال کی وضاحت کرتاہے کہ بیابان کے معنی ’’جنگلی مقام‘‘ کے ہیں، جہاں لوگ نہیں رہتے۔ اِس زاویۂ نظر کے مطابق انسان کو قدرت کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔بالفاظ دیگر ’’ماحول‘‘ کو ایک دور دراز مقام کے طور پر دیکھاجاتا ہے، جسے پارک اور پناہ گاہیں بناکر محفوظ کردینا چاہیے۔ دوسری جانب جنوب کے ممالک میں زیادہ تر ماحولیاتی مسائل اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ جنگلوں میں لوگ رہتے ہیں۔
بیابان کے نظریات آسٹریلیا، اسکینڈی نیوی ممالک، شمالی امریکہ اور نیوزی لینڈ میں نمایاں رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ابھی تک نسبتاً کم ترقی یافتہ بیابانوں کے بڑے بڑے قطعات موجود ہیں۔ یہ صورت حال یوروپ کے اکثر ملکوں کے برعکس ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جنوب کے ملکوں میں بیابن کی تحریکوں کاکوئی وجود ہی نہیںہے۔ فیلپائنز میں سبز تنظیمیں چیل اور دوسرے شکار کرنے والے پرندوں کو ناپیدگی سے بچانے کی لڑائی لڑرہی ہیں۔ ہندوستان میں بنگال کے شیر کی خطرناک طور پر کم تعداد کے تحفظ کی لڑائی لڑی جارہی ہے۔ افریقہ میں ہاتھی دانت کی تجارت اور ہاتھیوں کے وحشیانہ ذبیحہ کے خلاف ایک لمبی مہم چھیڑی گئی ہے۔ بیابان کی جدوجہد کی کچھ مشہور ترین لڑائیاں برازیل اور انڈونیشیا اور ان بیابانی بستیوں کے تحفظ پر ہوئی ہیں جو ان متنوع جنگلاتی زندگیوں کا سہارا ہیں۔ حال میں بہت سے بیابانی مسائل کا نام بدل کرحیاتیاتی تنوع کے مسائل رکھ دیا گیاہے۔ کیونکہ بیابانی کے تصور کو جنوبی ممالک میں مقبول بنانا مشکل ثابت ہواہے۔ ان میں سے بہت سی مہمات اور تحریکوں کی ابتدااور ان کے لیے روپیے پیسے کا انتظام غیر سرکاری تنظیموں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کیا ہے جیسے کہ عالمی بیابانی فنڈ (World wide wilderness Fund W.W.F)
جنوب کے حصے میں جنگلاتی تحریکیں سخت دبائو کا سامنا کررہی ہیں۔ ان میں میکسیکو، چلی، برازیل ملیشیا ، انڈونیشیا، براعظم افریقہ اور ہندوستان (چند مثالوں کے طور پر) شامل ہیں۔ تیسری دنیا میں جنگلوں کی صفائی یا کٹائی کا کام ایک تشویشناک رفتار سے جاری ہے۔ اورماحولیاتی سرگرمیوں کے تیس سال گزرنے پر بھی یہ عمل سست نہیں ہواہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے آخری بچے ہوئے بڑے جنگلات کی تباہی و بربادی کا کام پچھلی دہائی سے اور بڑھ گیاہے۔
آیئے اسے کریں
آئیے ’چپکو تحریک ‘ کے متعلق جانکاری حاصل کریں۔
زمین پر موجود صنعتوں میں معدنیاتی صنعت سب سے زیادہ طاقت ور ہے۔ عالمی معیشت میں فراخ دلی اور آزادی کے ذریعے جنوب کی اکثر معیشتیں پھر سے کثیر اقوامی کمپنیوں (MNCs) کے لیے اپنے دروازے کھول رہی ہیں۔کان کنی یا معدنیاتی صنعت سے منسلک زمین سے خام مال کی برآمدگی،اس کی کیمیاوی اجزاکا استعمال ، اس کی و جہ سے پانی کے راستوں اور زمین کی آلودگی، مقامی نباتات کی کٹائی، بستیوں اور برداریوں کا خانماں بربادہونا، وہ اسباب ہیں جو عالمی سطح پر اس کے خلاف نکتہ چینی اور تنقید کو دعوت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں فلپائن کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ جہاں ایک آسٹریلیائی کثیر الاقوامی کمپنی ، مغربی معدنیاتی کارپوریشن،Western Mining Corporation (WMC) کے خلاف مختلف تنظیموں کے گروپ نے احتجاج کیا ، خود اپنے ملک آسٹریلیا میں اس کمپنی کی مخالفت آسٹریلیاکے مقامی باشندوں کے حقوق کی وکالت کے جذبات اور نیوکلیائی مخالف جذبات پر مبنی ہے۔
بنگلہ دیش کے شمال مغربی ضلع دیناج پور کے قصبہ پھول باڑی میں کوئلے کی کان کو پھر سے جاری کرنے کے منصوبے کے خلاف پوری برادری احتجاج پر اتر آئی ہے۔ یہاں کئی درجن عورتیں 2006 کے کوئلہ کان کے منصوبے کے خلاف نعرے بازی کررہی ہیں۔ ان میں سے ایک اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ ہے۔
ان تحریکوں میں ایک گروپ پانی کے بڑے بڑے باندھوں کے خلاف جدوجہد میںمصروف ہے۔ جس کسی بھی ملک میں کوئی عظیم باندھ بنایا جارہاہے وہاں کوئی نہ کوئی ماحولیاتی گروپ اس کی مخالفت کرتا نظر آئے گا۔ دراصل یہ ’باندھ مخالف‘ تحریکیں ’دریا۔ موافق‘ تحریکیں ہیں جو دریائوں اور وادیوں کے نظام کا پائیدار اور مساویانہ نظم و نسق چاہتی ہیں۔ ’شمال‘ میں سب سے پہلی ’باندھ مخالف تحریک‘ آسٹریلیا میں دریائے فرینکلن اور گردوپیش کے جنگل کو بچانے کے لئے1980 کی ابتدامیں شروع ہوئی۔ یہ ایک بیابانی، جنگلاتی اور ’باندھ مخالف‘ تحریک تھی۔ حال میں ’جنوب‘ کے ممالک میں بڑے بڑے باندھ تعمیر کرنے کا ایک ریلا آگیاہے اور ترکی، تھائی لینڈ اور جنوبی افریقہ سے لے کر انڈونیشیا اور چین تک یہ عمل جاری ہے۔ ہندوستان میںکچھ اہم ’باندھ مخالف‘ اور دریاموافق‘ تحریکیں چل چکی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ معروف ’نرمدا بچائو اندولن‘ ہے۔ ان ’باندھ مخالف‘ اور ہندوستان کی دوسری ماحولیاتی تحریکوں میں سب سے اہم مشترکہ تصور اہنسا یعنی عدم تشدد (Non-Violence) کاہے۔
وسائل کی جغرافیائی سیاست
وسائل کی جغرافیائی سیاست اس بارے میں ہے کہ کون، کب، کہاں، کیا اور کیسے حاصل کرتا ہے۔ وسائل ہی نے عالمی سطح پر یورپی طاقت کی توسیع کو اہم مقاصد اور ذرائع مہیا کیے ہیں۔ وسائل ہی بین الملکی حریفانہ کشمکش میں توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ وسائل کے بارے میں مغربی جغرافیائی سیاست کی سوچ پر تجارت ، جنگ اور طاقت کا تعلق قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور جن کا اصل حصہ نوآبادیاتی وسائل اور بحری جہاز رانی تھے۔ کیونکہ بحری طاقت کا دارومدار لکڑی تک رسائی پر تھا توسترھویں صدی کے بعد یوروپ کی بڑی طاقتوں نے بحری کام کے لیے لکڑی کے حصول کو اوّلیت دی۔ کارآمد وسائل کی اٹوٹ سپلائی، خصوصاً تیل کی اہمیت پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیان اچھی طرح واضح ہوچکی تھی۔
سرد جنگ کے پورے عرصے میں شمال کے ترقی یافتہ ممالک نے ایسے کئی ذرائع استعمال کیے کہ وسائل کی آمد کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔ ان میں وسائل کے محل وقوع کے نزدیک اور ذرائع ابلاغ کے بحری راستوں کے نزدیک فوجی اڈے قائم کرنے کے علاوہ وسائل پیدا کرنے والے ملکوں میں دوستانہ حکومتوں کے قیام کی کوشش ، کثیر الملکی کمپنیوں کی پشت پناہی اور مناسب حال بین الاقوامی معاہدوں کی حمایت شامل تھے۔ مغربی روایتی طرز فکر وسائل تک رسائی کے بارے میں تشویش ہی میں مبتلا رہا جس کے لیے سوویت یونین سب سے بڑا خطرہ تھا۔ ایک بڑی تشویش خلیج کے تیل کے وسائل پر اور جنوبی اور وسطی افریقہ کے خاص خاص معدنی وسائل پر اختیارا ت کی تھی۔
سوویت یونین کے انتشار اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی سپلائی کی برقراری کا تحفظ اور معدنیات کے متعلق تجارتی فیصلے، خاص طور سے ریڈیو ایکٹیو سازو سامان (Radioactive materials) کے متعلق حکومتوں کو پریشان کیے رہتے ہیں۔ بہر حال موجودہ عالمی حکمت عملی میں تیل سب سے اہم وسیلہ ہے۔
بیسوی صدی کے زیادہ حصہ میں عالمی معیشت کا دار و مدار تیل پر رہاجو ایک ناگزیر اور بہ آسانی لے جا سکنے والا ایندھن تھا۔ تیل سے جو بے پناہ دولت وابستہ ہے اس کی و جہ سے اس پر اختیار رکھنے کے لیے سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے اور پٹرولیم کی تاریخ ایک طرح سے جنگ اور جدوجہد کی داستان بھی ہے۔ مغربی اور وسط ایشیا سے بہتر یہ بات اور کہیں نہیں صادق آتی۔ وسط ایشیا، خاص طور سے خلیج کے علاقے میں جہاں دنیا کا تیس فی صدتیل نکلتا ہے۔ لیکن اس علاقے میں زمین کے تقریباً 64 فیصد تیل کے ذخیرے موجود ہیں جس کی و جہ سے یہ واحد علاقہ ہے جو دنیا کے کسی بھی قابلِ ذکر تیل کے مطالبے کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
سعودی عربیہ کے پاس دنیا کے ذخیروں کا چوتھا حصہ ہے اور تیل کی پیداوار میں وہ پہلے نمبر پر آتا ہے۔ عراق کے معلوم شدہ ذخیرے سعودی عربیہ کے بعد دوسرے مقام پر آتے ہیں ۔ اور چوںکہ مزید تیل کے ذخیروں کی تلاش جارہی ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ عراق کے تیل کے اصل ذخیرے موجودہ معروف ذخیروں سے کہیں زیادہ ہوں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یوروپ جاپان اور ہندوستان اورچین جو اس پٹرولیم کے صارفین ہیں، تیل کے محل وقوع سے بہت دور ہیں۔
ہر کھلاڑی اپنی جگہ خوب ہے
’’ہماری زندگی میں پٹرولیم پر مبنی بنی ہوئی چیزوں کی تعداد لامتناہی ہے، ٹوتھ برش، پیس میکر، پینٹ۔۔۔ دنیا کے نقل و حمل کے ذرائع میں تیل 95 فی صد توانائی مہیا کرتا ہے۔ پوری صنعتی ترقی یافتہ دنیا تیل پر زندہ ہے۔ ہم اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے استعمال کے لیے تیل کے اربوں بیرل زمین کے اندر موجود ہیں۔ لیکن ملکوں میں پھر بھی اختلاف ہے۔ مشکلوں میں سے ایک یہ بھی ہے‘‘
میرا تعلق کالے سونے کی سلطنت کے شاہی خاندان سے ہے۔ میں وہ ہوں جسے لوگ غلیظ دولت مند کہتے ہیں۔ جب سے میری سلطنت میں کالا سونا دریافت ہوا ہے حالات پھر ویسے نہیں رہے ہیں مسٹربگ آئل اور ان کی حکومت ایک دن تیل تلاش کرتے ہوئے آئے۔ ہم نے تیل دریافت کیا اور ایک معاہدہ بھی کیا۔ انھوں نے مجھ کو اتنا مسلح کردیاکہ تکلیف ہونے لگی جب میں کھسیانی ہنسی ہنستا ہوں میری رعایا مجھ کو خوف سے دیکھتی ہے۔ اس کے بدلے میں بگ آئل اور ان کی اولاد میراتیل خریدتی ہے اور وفاداری بھی۔ میں اور وہ دونوں دولت مند اور خوش ہیں، میں نے اس سرزمین پر ان کی فوجوں کی موجودگی سے آنکھیں بند کرلی ہیں، مجھے قیمتی اشیاپسند ہیں۔ بگ آئل کا کہناہے کہ ان کے صدر کی نظر میں آزادی اور جمہوریت کی بڑی وقعت ہے ۔ لہٰذا میں نے ان دونوں کو اپنی سرزمین میں محفوظ طریقے سے تالے اور کنجی میں بند کررکھاہے۔
شیخ پٹروڈولاّہ کالے سونے کی زمین کے بادشاہ
مشورے کے مطابق میں نے خود سے سوال کیاکہ میں اپنے ملک کے لیے کیا کرسکتاہوں۔ میرے ملک کو تیل کی بے پناہ بھوک ہے۔ تو ۔۔۔ اپنے ملک کے لیے تیل مہیا کرو۔ میں آزادانہ تجارت کے نظام پر یقین رکھتا ہوں۔ دور دراز ملکوں میں تیل کھودنے کی آزادی، مٹی کے مادھو جیسے سلطان اور حکمران تیار کرنے کی آزادی تاکہ وہ مقامی آبادی کو دور رکھ سکیں، اور ماحولیات کو تباہ کرنے کی آزادی۔
ہم کوئی سیاست نہیں کھیلتے۔ ان کی انتخابی مہم میں پیسہ دیتے ہیں اور ان سے اپنی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کراتے ہیں۔ اس طرح سے ہمیں احمقوں کی طرح ٹی وی کیمرہ کے سامنے مسکرانا اور ہاتھ ہلانا نہیں پڑتا۔
مسٹر بگوئل،بگو ئل اینڈ سنز کے CEO
ہمارے گیرج کے باہر ایک حسینہ پارک کی ہوئی کھڑی ہے۔ خوبصورت ! ہے نا۔۔۔؟ ملائم کروم فینش، پاور اسٹیرنگ ، بہترین پک اپ اور پٹرول میں کم خرچ، آلودگی بھی کم اور تم جانتے ہو ماحول کے لیے بھی خوش گوار، عالم گیری گرمی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور اب ہمیں جلدی ہے اور ہم اس کے ساتھ بھاگنا چاہتے ہیں۔ ایک بہتر زندگی کے لیے۔ خدا ہر ایک کو محفوظ رکھے۔ دھوم م م م
ٹوپلٹن آزادی اور جمہوریت کا دفاع کرتاہے۔ اس لیے وہ توپوں اور میزائیلوں کے سلسلہ میں کافی سخی ہیں۔ جو اس نے ہمیں حملہ آور بدمعاشوںکے خلاف لڑنے کے لیے دی تھیں۔ بلکہ اس نے تو ہمیں ٹریننگ بھی دی تھی۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ دراصل وہ تیل کے چکر میں تھا۔ بگ آئل ہمیشہ ہماری خوشامد میں لگا رہتا ہے۔ لیکن ہم جنگی کھیلوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں اب ہمارے اپنے قانون ہیں۔
ٹوپلٹن کی حکومت کھیل کے قانون بدلتی رہتی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم میں سے کچھ اب ٹوپلٹن سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی حکومت سے بھی اور اس کے عوام سے بھی۔ یقینا ان کی دی ہوئی گولیاں اور میزائل اس وقت بہت کار آمد ثابت ہوتے ہیں جب ہم ان کو ان ہی کے کھیل میں مات دینا چاہتے ہیں۔ غلطی نہ کرنا۔ ہم خطاکار ہیں۔
خطا کار، بے قابو توپ کے گولے
عالمی سیاست سے وابستہ ایک اور اہم اور نازک وسیلہ پانی ہے۔ علاقائی تبدیلیوں اور دنیا کے کچھ علاقوں میں پانی کی مستقل کمی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اکیسویں صدی کے اہم تنازعات میں سے مشترکہ تازہ پانی کے وسائل پر جھگڑا اور اختلاف بھی اہم ہوگا۔ عالمی سیاست کے کچھ مبصرین نے زندگی بخشنے والے اس وسیلہ پر ہونے والے پُر تشدد اختلاف کو ’پانی کی جنگ’ کا نام دیا ہے۔ مشترکہ دریائوں والے ممالک کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف ہوسکتاہے۔ مثال کے طور پر نشیب والی ریاستیں (جس طرف دریاکا رُخ ہے) بلندی والی ریاستوں (جس طرف سے دریا آرہاہے) پر آلودگی ، حد سے زیادہ آبپاشی، ڈیم کی تعمیر وغیرہ کا الزام عائد کرتی ہیں جو ان کے خیال میں اُن کے حصے میں آئے ہوئے پانی کی افادیت یا کوالٹی کو کم کردیتی ہے۔ ریاستوں نے پانی کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے یا ان کو محفوظ رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا ہے۔ طاقت کے استعمال کی بہت واضح مثال 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں اسرائیل، شام اور اُردن کے درمیان ہونے والی فوجی چپقلشیں تھیں جو دریائے اردن اور دریائے یرموک کے پانی کے استعمال پر ہوئی یا ماضی قریب میں دریائے فرات کے اوپر ڈیم کی تعمیر کے سلسلہ میں عراق، شام اور ترکی میں جو فوجی کارروائیاں ہوئیں۔ ایک مطالعے سے یہ پتہ چلتاہے کہ وہ ممالک جن کے دریا مشترک ہیں، اور اکثر ممالک کے دریا مشترک ہیں، وہ ایک دوسرے سے فوجی تنازعہ میں الجھے ہوئے ہیں۔
دنیاکا زیادہ تر حصہ پانی ہے لیکن اس کے باوجود کارٹونسٹ نے یہاں زیادہ حصہ زمین کا دکھانے کا فیصلہ کیاہے۔ یہ تصویر کس طرح پانی کی کمیابی کو پیش کرتی ہے۔یہ پانی کے اوپر جھگڑے خود ہمارے ملک میں ہونے والے پانی کے اوپر اختلافات سے کیا الگ ہیں؟
ہمارے اپنے ملک میں پانی کے جھگڑوں سے یہ جھگڑے کس طرح مختلف ہیں؟
اصل قدیمی باشندے اور ان کے حقوق
دیسی باشندوں کا مسئلہ ماحولیات ، وسائل اور سیاست کو بھی ساتھ میں جوڑتا ہے۔ اقوام متحدہ قدیمی باشندوں کی تعریف یا پہچان اس طرح سے کرتی ہے کہ یہ ان لوگوں کی اولاد ہیں جو کسی مخصوص علاقہ میں اس وقت آباد تھے جب کہ ایک دوسری نسل اور تمدن کے لوگوں نے دنیا کے دوسرے علاقوں سے وہاں آکر بستیاں بسائیں اور ان پر حاکم ہوگئے۔ اصل مقامی باشندے اب بھی اپنی پرانی تہذیب معیشت اور ریت رواج اور رسوم کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں بجائے اس ملک کے حاوی و غالب تمدن کے جس میں وہ رہتے ہیں۔
عالمی سیاست کے تناظر میں آخر ان تیس کروڑ قدیمی باشندوں کے جو بشمول ہندوستان دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں مشترکہ مفادات کیاہے؟ فلپائن کے کورڈیلیرا (Cordillera)علاقے میں بیس لاکھ قدیمی باشندے، چِلی میں دس لاکھ ماپُوچے لوگ، بنگلہ دیش کی چٹکانگ پہاڑیوں کے سلسلے میں چھ لاکھ قبائلی ، شمالی امریکہ میں پینتیس لاکھ اصل اور قدیم باشندے (Native) نہرپناما کے مشرق میں پچاس ہزار کُنا(Kuna) اور شمالی سوویت میں دس لاکھ اسمال(small) لوگ بستے ہیں۔ دوسری سماجی تحریکوں کی طرح قدیمی باشندے بھی اپنی جد جہد ، پروگرام اور حقوق کی بات کرتے ہیں۔
ہم قدیم باشدوں اور ان کی تحریکوں کے متعلق زیادہ کیوں نہیں جانتے؟کیا میڈیا ان کے خلاف تعصب برتتا ہے؟
قدیمی باشندوں کا اوّلین مطالبہ ہے کہ ان کو بھی عالمی برادری میں برابری کا درجہ دیاجائے۔ قدیمی باشندے وسطی اور جنوبی امریکا، افریقہ، ہندوستان (جہاں وہ قبائلیوں کے نام سے جانے جاتے ہیں) اور جنوب مشرقی ایشیا میں رہتے ہیں۔ بحرالکاہل کے اکثر جزائری ممالک (نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی شمولیت کے ساتھ) اب سے ہزاروں برس پہلے سے پولینیشین (Polynesion) ، مالی نیشنین (Malanesion) اور مائی کرونیشین (Micronesion) لوگ آباد تھے۔ یہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے وجود کو اپنی ایک الگ شناخت کے ساتھ تسلیم کرے۔ ’’بہت قدیم زمانے سے، یا ناقابل یادداشت عہد وہ اصطلاح ہے جو قدیمی باشندے اپنی اصل زمین پر قبضہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قدیمی باشندوں کے مختلف سماجوں میں، ان کے جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر، زمین اور نظام زندگی کے بارے میں ان کے تصورات میں غضب کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ زمین کے چھن جانے کا مطلب ایک اہم معاشی وسیلے کا ختم ہوجانا ہے اور یہ قدیمی باشندوں کی بقا کے لیے واضح خطرہ ہے۔ کیا بغیر جسمانی بقاکے سیاسی آزادی کا لطف اٹھایا جاسکتاہے؟
ماحول کا ایک نوالہ
کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں کہ ایک ترقی یافتہ شہری باشندہ فطرت کے بارے میں زیادہ لالچی ہوتا ہے۔
ہندوستان میں قدیمی باشندے‘ کی اصطلاح کا اطلاق عام طور سے شیڈولڈ قبائل پر ہوتا ہے جو ملک کی آبادی کا کم و بیش آٹھ فی صدحصہ ہیں۔ شکاریوں اور چیزیں چگنے والوں کی کچھ چھوٹی برادریوں کو چھوڑ کر، ہندوستان کے قدیمی باشندوں کی اکثر تعداد زندگی گزارنے کے لیے کاشت کاری پر انحصار کرتی ہے۔ اگر ہزاروں سال سے نہیں تو سینکڑوں سال سے تو یقینا ان کو زمین پر اپنی مرضی کے مطابق یا اپنی دسترس اور قوت کے مطابق کاشت کرنے کی آزادی تھی۔ لیکن برطانوی حکومت کے آنے کے بعد شیڈولڈ قبائل کے علاقے باہری طاقتوں کے زیر اثر آگئے۔ اور اگرچہ ان کو دستوری تحفظ حاصل ہے لیکن ملک کی ترقی کے فائدوں میں سے ان کو کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوسکا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد جتنے بھی ترقیاتی پروجیکٹ تیار کیے گئے اور ان کی بدولت لوگ گھرسے بے گھر ہوئے، قدیمی باشندوں کا گروپ ان میں سب سے بڑا ہے۔
قدیمی مقامی باشندوں کے حقوق سے متعلق مسائل کو اندرونی اور بین الاقوامی سیاست میں ایک طویل عرصے سے نظر انداز کیاجارہاہے۔1970کی دہائی کے دوران، قدیمی مقامی باشندوں کے دنیا بھر کے رہنمائوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے ان کو ایک مشترکہ مفاد کا شعور بخشا اور تجربے کاساجھی دار بھی۔ 1975 میں قدیمی مقامی باشندوں کی عالمی کونسل (The World Council of Indigenous Peoples) کا قیام عمل میں آیا۔ کچھ دنوں بعد اس کونسل کو اقوام متحدہ میں گیارہ قدیمی غیر سرکاری (NGOs) تنظیموں میں صلاح کار کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا۔ آگے نویں باب میں عالم گیریت (globalisation) کے خلاف تحریکوں پر جو بحث کی گئی ہے ان میں سے اکثر کا مرکزی خیال مقامی قدیمی باشندوں کے حقوق پر ہے۔
آئیے ،مل جل کر کریں
اقدام
◊ ہر طالب علم کو دس ایسی چیزوں کی فہرست بنانے کو کہا جائے جو وہ روزانہ استعمال کرتاہے۔ (اس فہرست میں کاغذ، قلم،ربر، کمپیوٹر اور پانی وغیرہ شامل کیے جاسکتے ہیں)
◊ ہر طالب علم یہ معلو م کرے کہ ان چیزوں کے بنانے میں قدرتی وسائل کا استعمال کتنا ہوا ہے (بنائی ہوئی چیزوں جیسے قلم، کمپوٹر پر طالب علم وسائل کی مقدار کا اندازہ لگائے گا لیکن پانی وغیرہ جیسی چیزوں پر وہ اس کی پمپنگ اور صفائی پر خرچ ہوئی بجلی کا اندازہ لگا سکتاہے) ہر طالب علم مقدار کا اندازہ لگائے گا اور مناسب تخمینہ تک پہنچے گا۔
استاد کے لیے ہدایات
* تمام فہرستوں کو اکٹھا کرکے، ان وسائل کو جمع کیجیے۔ جو اس کلاس کے طلبانے مجموعی طور سے صرف کیے ہیں (طالب علم یہ کام خود کریں، استاد صرف رابطے کاکام کرے)
* کلاس کے مجموعی خرچ کا موازنہ اسکول کی دوسری کلاسوں سے کیجیے، پھر اسکول کے مجموعی خرچ کا موازنہ ملک کے دوسرے اسکولوں سے کیجیے اور یہ موازنہ دنیا کے دوسرے ملکوں سے بھی کیا جاسکتاہے۔ (استاد کو دوسرے ملکوں میں طلباکے ذریعے استعمال ہونے والے وسائل کا علم ہوناچاہیے۔ ملکوں کے انتخاب میں استاد کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں حصوں میں سے ہونے چاہئیں)
* طلباسے کہیے کہ وہ ان وسائل کی مقدار کا تصور کریں جو ہم استعمال کررہے ہیں اور مستقبل کے خرچ کے بارے میں اندازہ لگائیں۔
مشقیں
1- مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان ماحول کے بارے میں بڑھتے ہوئے اندیشوں کو بہتر طریقے سے بیان کرتاہے؟
(a) ترقی یافتہ ممالک ’قدرت‘ کو محفوظ رکھنے کے بارے میںفکر مند ہے۔
(b) فطری مسکنوں اور قدیمی باشندوں کے لیے ماحول کا تحفظ لازمی ہے۔
(c) انسانی سرگرمیوں کے باعث ماحولیاتی انحطاط ایک جاری رہنے والی چیز بن گئی ہے اور یہ خرابی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
(d) اوپر میں سے کوئی بھی نہیں۔
2- ہر بیان کے آگے جو ’زمین کی چوٹی کانفرنس‘ سے متعلق ہے، صحیح یاغلط کا نشان لگائیں :
(a) اس میں 170 ملکوں ، ہزاروں NGOs اور اکثر MNCs نے شرکت کی تھی۔
(b) یہ چوٹی کانفرنس اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہوئی تھی۔
(c) پہلی بار عالم گیر ماحولیاتی مسائل کو سیاسی سطح پر ٹھوس شکل دی گئی۔
(d) یہ ایک چوٹی کانفرنس تھی۔
3- ’عالم گیر مشترکات‘ کے بارے میں کون سے بیان صحیح ہیں؟
(a) زمین کا ماحول، قطب جنوبی ، سمندر کی تہہ اور خلاکو عالم گیرمشترکات سمجھا جاتاہے۔
(b) ’عالم گیرمشترکات‘ کسی بھی اقتدار اعلا کی حدود سے باہرہیں۔
(c) ’عالم گیرمشترکات‘ کے انتظام کے سلسلہ میں ’شمال اور جنوب‘ کی کشمکش ظاہر ہوگئی ہے۔
(d) شمال کے ملک ’عالم گیر مشترکات‘ کے تحفظ کے لیے جنوب کے ممالک سے زیادہ فکر مند ہیں۔
4- ریوڈی جنیرو کانفرنس کے کیا نتائج تھے؟
5 ’عالم گیر مشترکات‘ کے کیا معنی ہیں۔ اور ان کو کیسے استحصال اور آلودہ کیا جاتاہے؟
6- ’مشترک لیکن ممتاز ذمہ داری ‘ کے کیا معنی ہیں۔ہم اس نظریہ کو کیسے عمل میں لاسکتے ہیں؟
7- کن وجوہات کی بناپر 1990 کے بعد سے عالمی ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مسائل ملکوں کی فوری توجہ کے مستحق ہوگئے؟
8- ’’سمجھوتہ اور موافقت دو ایسی پالیسیاں ہیں جو کرہ ارض کو بچانے کے لیے ملکوں سے متوقع ہیں۔‘‘ ماحولیاتی مسائل پر شمال اور جنوب کے درمیان ہورہی گفتگو کی روشنی میں اس بیان کو اور مضبوط کیجیے۔
9- ریاستوں کے سامنے سب سے مشکل چیلنج یہ ہے کہ معاشی فروغ کو بغیر کسی مزید عالمی ماحولیاتی نقصان کے جاری رکھا جائے۔ ہم یہ مقصد کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ کچھ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔