باب 9
عالم گیریت
اجمالی نظر
کتاب کے اس آخری باب میں ہم عالم گیریت پر نظر ڈالیں گے حالانکہ اس کتاب کے دیگر ابواب میں اور دوسری کئی درسی کتابوں میں اس کا ذکر پہلے بھی آچکاہے۔ سب سے پہلے تو ہم عالم گیریت کے تصور کا تجزیہ کریں گے اور پھر اس کے بعداس کے اسباب کو پرکھیں گے۔ پھر ہم تفصیل سے عالم گیریت کے سیاسی ، معاشی اور ثقافتی نتائج سے بحث کریں گے۔ ہماری دلچسپی یہ جاننے میں بھی ہوگی کہ عالم گیریت کے اثرات ہندوستان پر کیاہیں اور یہ کہ ہندوستان عالم گیریت پر کیا اثر ڈال رہا ہے۔ آخر میں ہم اپنی توجہ عالم گیریت کے خلاف مزاحمت پر مرکوز کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ ہندوستان کی سماجی تحریکیں کس طرح اس مزاحمت کی حصے دار بن رہی ہیں۔
اکثر نیپالی مزدور کام کرنے کے لیے ہندوستان آتے ہیں۔ کیا یہ عالم گیریت ہے؟
عالم گیریت کا تصور
جناردھن ایک کال سنٹر (Call centre) میں کام کرتا ہے۔ وہ شام کو کافی دیر میں کام کے لیے نکلتا ہے۔ جیسے ہی آفس میں داخل ہوتاہے۔ جان (John) بن جاتا ہے۔ ایک نیالہجہ اختیار کرلیتاہے اور ایک مختلف زبان (جو اس کی گھر کی زبان سے الگ ہے) اپنے گاہکوں سے، جو اس سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں، رابطہ قائم کرنے کے لیے بولتا ہے۔ وہ ساری رات کام کرتا ہے جو کہ درحقیقت اس کے سمندر پار گاہکوں کے لیے دن کا وقت ہے۔ جناردھن اپنی خدمات ایک ایسے شخص کو دے رہاہے جس سے اس کے آمنے سامنے ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ یہ اس کا روزانہ کا معمول ہے۔اس کی چھٹیاں بھی ہندوستانی کیلنڈر کے مطابق نہیں ہوتیں بلکہ اپنے گاہکوں کے موافق ہوتی ہیں جو یونائیٹڈ اسٹیٹس میں ہیں۔
رام دھاری اپنی نو سالہ لڑکی کی سالگرہ کے لیے ایک تحفہ خریدنے کے لیے بازارگیاہے۔ اس نے اپنی لڑکی سے ایک چھوٹی سائیکل کا وعدہ کیا ہے۔ وہ ایک ایسی سائیکل کی تلاش میں ہے جس کی قیمت جیب پر بوجھ نہ ہو اور وہ معقول کوالٹی کی بھی ہو۔ بالآخر وہ ایک سائیکل خرید لیتاہے جو چین کی بنی ہوئی ہے لیکن ہندوستان میں فروخت ہو رہی ہے۔ سائیکل رام دھاری کی دونوں شرطوں یعنی معقول کوالٹی اور کم قیمت پر پوری اترتی ہے۔ اور وہ اس کو خریدتا ہے۔ پچھلے سال رام دھاری نے اپنی بیٹی کے اصرار پر اس کے لیے ایک ’باربی‘ گڑیا خریدی تھی جو کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس میں بنی تھی۔ مگر ہندوستان میں بک رہی تھی۔
آئیے اسے کریں
پچھلے ایک ہفتہ کے اخباروں سے عالم گیریت کے متعلق ہر خبر کے تراشے جمع کیجیے۔
ساریکا اپنی برادری کی پہلی پیڑھی میں سے ہے جس نے سخت محنت کی بدولت اسکول اور کالج میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اب اس کو موقع ملاہے کہ وہ کوئی کام کرے اور اپناایک الگ اور آزاد کیریر شروع کرے جس کا خواب اس کی برادری کی کسی عورت نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ حالانکہ ا س کے خاندان کے کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی لیکن آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ اس کی نسل کو جو نئے مواقع میسر ہوئے ہیں ان سے فائدہ اٹھایاجائے۔
اوپر کی تین مثالیں عالم گیریت کے مختلف پہلوئوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پہلی مثال میں جناردھن ’خدمات‘کی عالم گیریت میں حصہ لے رہا ہے۔ سالگرہ کے موقعہ پر رام دھاری کی خریداری ، ہمیں دنیا میں تجارتی ساز و سامان کی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں لانے اور لے جانے کے متعلق واقفیت بہم پہنچاتی ہے۔ ساریکا روایت کی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے جس کا ماخذ وہ نئے مواقع ہیں جو اس سے پہلے عورتوں کو حاصل نہیں تھے لیکن جو آج کے حقائق کا ایک حصہ ہیں جنھیں عام مقبولیت حاصل ہے۔
اگر ہم اصل زندگی میں ’عالم گیریت‘ کی اصطلاح کے استعمال کی مثالوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ کئی حوالوں سے استعمال کی جاتی ہیں۔ ہم کچھ اور مثالوں کو دیکھتے ہیں جو اوپر دی ہوئی مثالوں سے الگ ہیں۔
◊ کچھ کسانوں نے اس لیے خود کشی کرلی کہ ان کی فصل تباہ ہوگئی تھی۔انھوںنے ایک بین الاقوامی کمپنی (MNC) سے بہت مہنگے داموں میں بیج خریدے تھے۔
◊ ایک ہندستانی کمپنی یوروپ میں قائم ایک حریف کمپنی کو خریدتی ہے حالانکہ موجودہ مالکان احتجاج کرتے رہے۔
◊ اکثر چھوٹے دکانداروں کو یہ خوف ہے کہ اگر بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی چھوٹی دکانوں کا سلسلہ قائم کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنا روزگار کھو بیٹھیں گے۔
◊ ممبئی کے ایک فلم پر وڈیوسر پر یہ الزام لگایا گیاکہ اس نے اپنی فلم کی کہانی ہالی وڈ میں بنی ہوئی ایک فلم سے چرائی ہے۔
◊ ایک جنگجو گروپ نے کالج کی طالبات کے خلاف ایک بیان میں دھمکی دی ہے جو مغربی لباس پہنتی ہیں۔
اوپر کی مثالوں سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ یہ ضروری نہیں کہ عالم گیریت ہمیشہ مثبت ہو۔ یہ منفی بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی اس کے اثرات نقصان دہ بھی ہوسکتے ہیں۔ بلکہ اکثر کا یہ خیال ہے کہ عالم گیریت کے منفی نتائج اس کے فائدے مند نتائج سے زیادہ ہیں۔ یہ مثالیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ عالم گیریت ہمیشہ معاشی مسائل کے گرد ہی نہیں گھومتی اور نہ ہی اس کے اثرات کی لہر ہمیشہ دولت مند ممالک سے غریب ممالک کی جانب ہی بہتی ہے۔
چوںکہ بہت سی اصطلاحات و الفاظ کا استعمال جامع طور پر نہیں ہوپاتا ہے اس لیے یہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ پہلے ہم واضح طور پر یہ سمجھ لیں کہ ’عالم گیریت‘ کیا ہے؟ ایک نظریہ اور تصور کے اعتبار سے عالم گیریت کا تعلق دھارائوں (Flows) سے ہے۔ یہ دھارائیں کئی قسم کی ہوسکتی ہیںمثال کے طور پر دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر نظر یات و خیالات کاآنا جانا، سرمایے کی ایک جگہ سے دو تین جگہوں پر منتقلی ، سامانِ تجارت کا سرحدوں سے اِدھر اُدھر جانا اور بہتر روزگار کے لیے لوگوں کا دنیاکے دوسرے علاقوں میں جانا وغیرہ وغیرہ۔ عالم گیریت کااصل عنصر یاجز عالمی سطح پر ایک دوسرے سے مستقل میل جول اور اس میل جول کی ان دھارائوں کی برقراری ہے۔
اس باب میںتصاویرکا ایک سلسلہ ہے جو عالم گیرت کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی پہلوئوں کی ترجمانی کرتا ہے۔یہ تصویریں دنیا کے مختلف علاقوں سے لی گئی ہیں۔
ہندوستان میں چین کا سامان زیادہ تر اسمگلنگ کے ذریعے آتا ہے۔تو کیا عالم گیر یت اسمگلنگ کا راستہ دکھاتی ہے۔
کیا عالم گیریت سامراجی نظام کا دوسرا نام نہیں ہے؟ پھر ہمیں دوسرے نام کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
عالم گیریت ایک کثیر جہتی تصور یا نظریہ ہے۔ اس کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی الگ الگ مظاہر ہیں اور ان کے آپس کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ فرض کرلینا غلط ہے کہ عالم گیریت کا تعلق محض معاشیات سے ہے، بالکل اسی طرح یہ سمجھنا کہ یہ صرف تمدن اور ثقافت سے متعلق ہے صحیح نہیں ہے۔ عالم گیریت کے اثرات ہر سماج، یا سماج کے ہر حصے پر برابر نہیں ہیں۔ کچھ سماج، یا سماج کے کچھ حصے اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عالم گیریت کے اثرات کے بارے میں ایک عام نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور ہر اثر یا نتیجہ کو اس کے مخصوص حالات کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔
عالم گیریت کے اسباب
عالم گیریت کے اسباب کیاہیں؟ اگر یہ سب نظریات کی آمد و رفت سرمایہ ، سامانِ تجارت اور لوگوں سے متعلق ہے تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر اس میں نئی بات کیا ہے؟ اگر ان چار دھارائوں کے حوالے سے بات کریں تو ’عالم گیریت ‘ انسانی تاریخ میں بہت پہلے جنم لے چکی ہے۔بہر حال وہ لوگ جو عصری عالم گیریت کے امتیاز کے قائل ہیں یہ دلیل دیتے ہیں کہ دراصل رفتار اور وسعت دو ایسے عناصر ہیں جو عصری عالم گیریت کو منفرد اور ممتاز کرتے ہیں۔ عالم گیریت کی ایک ٹھوس تاریخی بنیاد ہے اور یہ ضروری ہے کہ عصری دھارائوں کو اسیپس منظر میں دیکھا جائے۔
اگرچہ عالم گیریت کی تشکیل کا ذمے دار کوئی ایک عنصر نہیں ہے۔ لیکن اس کا سب سے اہم جز ٹیکنالوجی ہی ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ ماضی قریب میں ٹیلیگراف، ٹیلیفون اور مائیکروچپ (microchip) کی ایجادات نے دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کے درمیان مواصلات (Communication) میں ایک انقلاب پیدا کردیا ہے۔ جب طباعت وجود میں آئی تو اس نے قومیت کے ظہور کے لیے راہ ہموار کی۔ تو ہمیں یہ توقع رکھنی چاہیے کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ٹیکنالوجی اسی طرح متاثر کرے گی جیسا ہم سوچتے ہیں۔
نظریات ،سرمایہ، سامان تجارت اور لوگوں کے آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے میں ٹیکنالوجی کی ترقی کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن ان دھارائوں کی رفتار الگ الگ ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر سامان تجارت اور سرمایہ کاایک سے دوسری جگہ تبادلہ غالباً لوگوں کے مختلف مقامات میں آنے جانے کے مقابلے زیادہ تیز رفتار اور وسیع ہوگا۔
لیکن عالم گیریت کا ظہور صرف ترقی یافتہ ذرائع مواصلات کا مرہون منت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ اس باہمی تعلق کی حقیقت کو سمجھیں گے ۔ اب ہم یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ دنیامیں ایک مقام پر ہونے والے واقعات دوسرے مقام پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں، سونامی اور برڈ فلو (Bird Flu) کسی ایک قوم تک محدود نہیں ہیں۔ ملکی سرحدیں ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ اسی طرح سے جب بھی کوئی معاشی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے اثرات مقامی، ملکی اور علاقائی حدود سے باہر عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
سیاسی نتائج
عالم گیریت کے عصری عمل کے دوران جو بحث و مباحثے ہورہے ہیں ان میںسب سے گرما گرم موضوع اس کے موجودہ سیاسی اثر سے متعلق ہے۔ عالم گیریت کس طرح سے ریاست کے اقتدار اعلا کے روایتی تصور پر اثر انداز ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے سلسلے میں ہم کو کم سے کم تین پہلوئوں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
سادہ اور آسان ترین سطح پر عالم گیریت کسی ملک کی حقیقت کی استعداد کو کمزور کردیتی ہے۔ یعنی حکومت کی وہ اہلیت جس کے مطابق وہ جو کرنا چاہتی ہے کرسکے۔
دنیا بھر میں اب پرانی ’فلاحی ریاستیں‘ نئی سادہ یا ابتدائی درجے کی ریاستوں کے لیے جگہ چھوڑ رہی ہیں جو صرف چند بنیادی کام انجام دیتی ہیں جیسے کہ نظم و ضبط کو قائم رکھنا، امن و امان کا استحکام اور شہریوں کی حفاظت۔ اور انھوں نے پہلے کیے گئے فلاحی کاموں سے جن کا رخ معاشی اور سماجی بہتری کے لیے ہوتا تھا، ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ فلاحی ریاست کے بجائے اب معاشی اور سماجی ترجیحات کو مارکیٹ طے کرتی ہے۔ دنیا میں کثیر الملکی کمپنیوں کے ظہور اور پھر ان کے بڑھتے ہوئے اثرات و کردار نے حکومتوں کے فیصلہ کرنے کی طاقت کو کافی حد تک کمزور کردیاہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ، عالم گیریت ہمیشہ ریاست کی طاقت کو کم نہیں کرتی۔ ریاست اب بھی سیاسی برادری کی مضبوط بنیاد کے لیے ، بغیر کسی مد مقابل کے سرفہرست ہے۔ عالمی سیاست میں پرانی کشمکشوں ، اور رقابتوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ ریاست اپنے بنیادی فرائض (قومی تحفظ اور قانونی نظام) ادا کررہی ہے لیکن شعوری طور سے کچھ میدانوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ بہر حال ، ریاست کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ وہ قائم ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ریاست کی صلاحیت کے کچھ پہلوئوں کو عالم گیریت سے فروغ ملاہے خاص طور سے ٹیکنالوجی میں برھتی ہوئی مہارت کی و جہ سے شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں ریاست کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اطلاعات کے ساتھ ریاست کی حکمرانی کی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے کمزور نہیں۔ یعنی نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ریاست پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوئی ہے۔
معاشی نتائج
اگرچہ عالم گیریت کے معاشی اور اقتصادی حقائق کے بارے میں ہر بات کا علم نہیں ہے لیکن عالم گیریت کے بارے میں عصری بحث و مباحثے میں اس مخصوص جہت کا بہت بڑا حصہ ہے۔
مسئلے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ خود معاشی عالم گیریت کی تعریف کی جائے۔ معاشی عالم گیریت کا لفظ سنتے ہی ہمارا ذہن WTO اور IMF جیسے بین الاقوامی اداروں اور دنیا میں معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں اُن کے کردار کی جانب منتقل ہوجاتاہے۔ اس کے باوجود بھی عالم گیریت کو اتنی تنگ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ معاشی عالم گیریت میں ان بین الاقوامی اداروں کے علاوہ دیگر کردار بھی شامل ہیں۔ معاشی عالم گیریت کو سمجھنے کے لیے ایک زیادہ وسیع طریقہ یہ ہے کہ اسے منافع کی تقسیم کے اعتبار سے دیکھا جائے ۔ یعنی یہ کہ اس عالم گیریت کی بدولت کس نے سب سے زیادہ پایا اور کس نے کم پایا اور یہ کہ کون نقصان میں رہا۔
اکثر جسے معاشی عالم گیریت کا نام دیتے ہیں وہ عام طور سے دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان جاری اقتصادی لین دین پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کچھ رضاکارانہ طور پرہیں اور کچھ دنیا کے طاقت ورملکوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے تھوپے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اس باب کے شروع کی مثالوںمیں دیکھا یہ دھارائیں مختلف روپ اختیار کرتی ہیں۔ جیسے سامان تجارت، سرمایہ، لوگ اور نظریات۔ عالم گیریت میں سامان کی سب سے زیادہ تجارت ہوتی ہے۔ کچھ ملکوں نے درآمدات پر جو پابندیاں عائد کررکھی تھیں ان کو ہلکا کردیا ہے۔ اسی طرح سے سرمایے کی منتقلی پر لگی ہوئی پابندیاں بھی کم کی گئی ہیں۔ عملی طور سے اس کا مطلب ہے کہ دولت مند ملکوں کے سرمایہ کار اب اپنے ملکوں کے علاوہ بھی دوسرے ملکوں میں بھی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں جن میں ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں جہاں پر وہ زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔ عالم گیریت نے نظریات و خیالات کے بہائو کو بھی قومی سرحدوں سے باہر نکلنے کا موقعہ دیا ہے۔ انٹرنیٹ اور کمپوٹر سے جڑی ہوئی خدمات اس کی واضح مثال ہیں۔ لیکن عالم گیریت نے لوگوں کے دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیاہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی سرحدوں کی حفاظت ویزا پالیسیوں سے کی ہے اور اس بات کو سختی سے مد نظر رکھا ہے کہ دوسرے ملکوں سے آنے والے لوگ ان کے عوام کا روزگار نہ چھین لیں۔
عالم گیریت کے نتائج پر غور کرتے وقت اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایک پالیسی کانتیجہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا۔ عالم گیریت کے سلسلے میں دنیاکی اکثر حکومتوں نے ملتی جلتی اقتصادی پالیسیوں کو اپنایا لیکن ان کے نتائج ہر جگہ الگ الگ رہے۔ ایک بار پھر اس بات کی اہمیت کو واضح کردینا چاہیے کہ اس بارے میں ایک عام اصول یا ضابطے کی توقع نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہر جگہ کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
جب ہم ’سیفٹی نیٹ‘ کی بات کرتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ عالم گیریت سے کچھ تو نیچے کریں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟
معاشی عالم گیریت نے دنیاکے اندر زبردست اختلاف آرا پیدا کردیا ہے۔ جو لوگ سماجی انصاف کے حامی ہیں وہ معاشی عالم گیریت کے عمل میں، مختلف پروجکٹ سے ریاست کے ہاتھ کھینچ لینے کی و جہ سے فکر مند ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے صرف آبادی کا ایک چھوٹا حصہ بہرہ مند ہوگا لیکن جو لوگ اپنی فلاح اور بہتری کے لیے حکومت پر انحصار کرتے تھے ان کو مزید غربت میں مبتلا کردے گا (جیسے تعلیم، صحت صفائی وغیرہ)۔ ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اقتصادی طور سے پس ماندہ لوگوں کے لیے عالم گیریت کے منفی اور نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی جال بنائے جائیں اور ادارتی تحفظ کی یقین دہانی کی جائے۔ دنیا کی بہت سی تحریکیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ ’حفاظتی جال‘ناکافی ہیں یاکام کرنے کے لائق نہیںہیں۔ ان تحریکوں نے جبری معاشی عالم گیریت پر روک لگانے کا مطالبہ کیاہے کیونکہ اس کا نتیجہ غریب ممالک کی تباہی کی صورت میں نکلے گا، خصوصاً غریب ملکوں کے غریب طبقوں کے لیے۔ کیچھ ماہرین معاشیات نے معاشی عالم گیریت کو دنیا کی نئے سرے سے استعماریت یا نوآبادکاری (recolonisation) سے تعبیر کیاہے۔
آئیے اسے کریں
ملٹی نیشنل کمپنیوں (MNCs) کی بنائی ہوئی ان چیزوں کے نام لکھیے جن کو آپ اور آپ کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔
معاشی عالم گیریت کے حامیوں کی دلیل یہ ہے کہ اس سے معاشی فروغ میں تیزی آتی ہے اور نامساعدحالات میں دنیا کی آبادی کے بڑے حصے کے لیے فلاح اور راحت کا سبب بنتی ہے۔ ملکوں کے درمیان زیادہ تجارت ہونے کی و جہ سے ہر ملک اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتاہے۔ اس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ معاشی عالم گیریت ناگزیر ہے اور تاریخ کے ارتقا کو روکنا غیر دانش مندی ہے۔ عالم گیریت کے اعتدال پسند حامیوں کا خیال ہے کہ عالم گیریت ایک چیلنج فراہم کرتی ہے جس کا جواب ذہانت کے ساتھ اسے بلا تنقید قبول نہ کرناچاہیے۔ بہرحال جس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ عالم گیریت کے نتیجے میں آئی ہوئی حکومتوں، کا روباروں اور دنیا کے مختلف علاقوں کے عوام کے درمیان ایک دوسرے سے یکجہتی اور باہمی انحصار کی بڑھتی ہوئی رفتارہے۔
ثقافتی نتائج
عالم گیریت کے اثرات صرف سیاست اور معاشیات تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ہمیں ہمارے گھروں میں بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ ہمارے کھانے، پینے، لباس اور اندازِ فکر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اور یہ ہماری ترجیحات کی تشکیل بھی کرتی ہے۔ عالم گیریت کے ثقافتی اثرات سے یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ دنیاکی ثقافتوں کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ اور یہ صحیح بھی ہے کیونکہ عالم گیریت ایک رنگی ثقافت کی جانب لے جاتی ہے۔ یک رنگی ثقافت کا فروغ عالمی ثقافت کا ظہور نہیں ہے۔ جس کو ہم عالمی ثقافت کہتے ہیں وہ دراصل مغربی تہذیب کا جبراً نفاذ ہے۔ ہم اس پہلو کا مطالعہ تیسرے باب میں یونائیٹڈ اسٹیٹس کی سرداری کی نرم طاقت کے عنوان کے تحت کرچکے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ برگر اور نیلی جینز کی مقبولیت امریکن طرز زندگی کے اثرات میں موثّر کردار اداکرتی ہے۔ لہٰذا سیاسی اور معاشی طور سے ایک مضبوط سماج، کمزور سماج پر اپنے نقوش چھوڑتاہے۔ اور یہ دنیا اسی رنگ میں رنگتی جاتی ہے جس رنگ میں بڑی طاقت اس کو دیکھنا چاہتی ہے۔ اس طرز فکر کے حامی اکثر دنیا کے میکڈونلڈ ائزیشن (McDonaldisation) ہونے کی جانب توجہ دلاتے ہیں جہاں تہذیبیں اور ثقافتیں غالب امریکی خواب کو پورا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ یہ صرف غریب ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ پوری دنیا کی دوسری مالا مال اور پرانے ثقافتی ورثوں کو رفتہ رفتہ ختم کررہاہے۔
ساتھ ہی ساتھ یہ فرض کرلینا بھی مناسب نہ ہوگا کہ عالم گیریت کے ثقافتی اثرات صرف نقصان دہ ہیں۔ تہذیبیں جامد نہیں ہوتیں۔ ہر تہذیب اور ثقافت ہر دور میں باہر کے اثرات قبول کرتی ہے۔ کچھ باہری اثرات اس لیے منفی ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے انتخاب کے دائرے کو کم دیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی یہ ہمارے دائرۂ انتخاب کو بڑھاتے ہیں اور کبھی کبھی یہ روایتوں سے چھیڑ چھاڑ کئے بغیر ہماری تہذیب میں تبدیلی لے آتے ہیں۔ برگر مسالہ دوسہ کا متبادل نہیں ہے لہٰذا یہ کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ دوسری طرف نیلی جینز گھر کے بنے ہوئے کھادی کرتے کے ساتھ چل سکتی ہے۔ یہاں باہر کے اثر کا نتیجہ ایک منفرد انداز میں ظاہر ہورہاہے۔ یعنی کھادی کرتے اور جینز کا ملاپ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جوڑی پھر اسی ملک کو واپس بھیج دی گئی جس نے ہم کو نیلی جینز دی تھی۔ لہٰذا اب نوجوان امریکن کرتے اور جینز پہنے نظر آتے ہیں۔
ہم مغربی تہذیب سے اتنا خوف زدہ کیوں ہیں؟ کیا ہمیں اپنی تہذیب پر بھروسہ نہیں ہے؟
آئیے اسے کریں
اپنی زبان کے جانے پہچانے ’لہجوں‘ یا بولیوں کی فہرست بنائیے۔ اس بارے میں اپنے دادا کی نسل کے لوگوں سے مشورہ کیجیے۔ آج کے زمانے میں یہ ’بولیاں‘ کتنے لوگ بولتے ہیں؟
حالانکہ تہذیبی یک رنگی عالم گیریت کا ایک پہلو ہے لیکن یہی عمل اس کے بالکل مخالف اثرات بھی چھوڑتا ہے۔ یہ ہر تہذیب کو زیادہ مختلف اور ممتاز کردیتا ہے اور اس عمل کو تہذیبی رنگا رنگی کہا جاتاہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ تہذیبوں کے تال میل میں بھی طاقت کا اختلاف باقی رہتاہے بلکہ یہ بھی کہ تہذیبی تبادلہ یک طرفہ ہوتا ہے۔
یاخدا؟ پھر ایک ہندوستانی!
کال سنٹر۔ اندر سے دیکھنے والے کی نظر میں
کسی کال سنٹر میں کام کرنا اپنے طورسے معلوماتی ہوسکتا ہے۔ جب تم امریکیوںکی کال کا جواب دیتے ہو توتمھیں امریکن کلچر کے اندر جھانکنے کا موقعہ ملتاہے۔ ایک اوسط درجہ کاامریکی ہمارے تصور کے برخلاف زیادہ ایماندار اور زندہ دل ہوتاہے۔
بہر حال ساری کالیں اور مکالمے خوش گوار نہیں ہوتے۔ تم جھنجھلائے ہوئے اور بدزبان کال بھی وصول کرسکتے ہو۔ کبھی کبھی کال کرنے والے کے لہجے میں، یہ جان کر کہ اس کی کال ہندوستان پہنچادی گئی ہے، اتنی نفرت ظاہر ہوتی ہے جو بہت گراں گزرتی ہے۔ امریکی ہر ہندوستانی کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس نے ہمارا روزگار چھین لیاہے۔
کبھی کبھی ایسی کال بھی آتی ہے جو اس طرح شروع ہوتی ہے ’کچھ منٹ پہلے میں نے ایک جنوبی افریقی سے بات کی تھی اور اب میں ایک ہندوستانی سے بات کررہا ہوں‘۔ یا ’’اوہ خدا، پھر وہی ہندوستانی! برائے مہربانی میرا رابطہ کسی امریکی سے کرائو‘‘۔ ایسی حالت میں کسی مناسب جواب کا دینا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
(ماخذ: رنجیتا ارس کی رپورٹ۔ ’دی ہندو‘ 10 جنوری 2005)
ہندوستان اور عالم گیریت
ہم اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے مختلف علاقوں میں عالم گیریت کا عمل واقع ہوا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں سرمایہ ، سامانِ تجارت، نظریات اور عوام کا ایک جگہ سے دوسری جگہ آمد و رفت کئی صدیوں پہلے پائے جاتے تھے۔
نوآبادیاتی دور میں برطانیہ کی سامراجی امنگوں کے نتیجے میں ہندوستان بنیادی سامان اور خام مال برآمد کرنے لگا اور تیار کئے ہوئے سامان کا صارف بن گیا۔ برطانیہ سے اس تجزیے کی و جہ سے آزادی کے بعد دوسروں پر انحصار کرنے کے ہم نے چیزیں خود بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے درآمدات بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ ہمارے لوگ خود سامان بنانا سیکھ جائیں۔ اس ’’تحفظ‘‘ نے اپنے مسائل کھڑے کردیے۔ کچھ شعبوں میں کافی ترقی ہوئی لیکن صحت،رہائشی مکانات اور بنیادی تعلیم کے محکموں کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ ہندوستان کی معیشت کی رفتار بھی ڈھیلی ڈھالی رہی۔
1991 میں مالی بحران اور بہتر معاشی فروغ کی خواہش کے پیش نظر ہندوستان میں بھی ایک معاشی اصلاحات کا پروگرام نافذ کیا گیا جس کے تحت بہت سی تجارتی پابندیاں اٹھالی گئیں جس میں باہری سرمایہ کاری قابل ذکر ہے۔ شاید یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان اصلاحات سے ہندوستان کو کہاں تک فائدہ پہنچا ۔حتمی جانچ کا پیمانہ فروغ کی تیز رفتاری نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فروغ کے فائدے تقسیم ہوں، ہر ایک کو اس کا حصہ ملے اور لوگ زیادہ خوش حال ہوجائیں۔
عالم گیریت کی مزاحمت
یہ بات ہم پہلے نوٹ کرچکے ہیں کہ عالم گیریت ایک مرکزی اورحساس موضوع ہے اور بحث و مباحثے میں دنیا بھر میں اسی پر شدید تنقید ہوئی ہے۔ عالم گیریت کے مخالفین کئی قسم کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ بائیں بازو والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالم گیریت دراصل عالمی سرمایہ داری کے ایک خاص پہلو کی نمائندگی کرتی ہے جس کے ذریعے سے امیر اور زیادہ امیر( اور تعداد میں کم) ہورہے ہیں۔ اور غریب لوگ غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ریاست کی کمزوری کی و جہ سے اس کی اپنے غریب عوام کے مفادات کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ دائیں بازو والے مخالفین کو عالم گیریت کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی نتائج سے اندیشے ہیں۔ یعنی سیاسی طور سے وہ بھی ریاست کی کمزوری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ ایک معاشی خود کفالت اور تحفظ چاہتے ہیں۔ کم سے کم معاشیات کے کچھ میدانوں میں۔ ثقافت کے محاذ پر ان کو خطرہ ہے کہ قدیم تہذیب کو نقصان پہنچے گا اور لوگ اپنی پرانی روایتیں اور قدریں کھو بیٹھیں گے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالم گیریت کے مخالف تحریکیں بھی عالم گیریت کے جال میں حصہ لیتی ہیں اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں اپنے ہم خیالوں سے اسی کے ذریعے رابطے قائم کرتی ہیں۔ اکثر عالم گیریت مخالف تحریکیں دراصل بذات خود عالم گیریت کی مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ عالم گیریت کے کچھ مخصوص پروگراموں کی مخالف ہیں جو ان کے خیال میں سامراج کی ایک شکل ہیں۔
1991 میں WTO کے وزارتی جلسہ میں (Ministerial Meeting) جو سیٹل (Seattle) میں ہوا معاشی طور سے مضبوط ریاستوں کی بدعنوانیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ الزام لگایا گیا کہ بڑھتے ہوئے معاشی نظام میں ترقی پذیر دنیا کے مفادات پر خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ کبھی مجھے نئے گانے اچھے لگتے ہیں۔ کیا ہم سب کو تھوڑا ناچنا اچھا نہیں لگتا؟ پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ مغربی موسیقی سے متاثر ہے؟
ورلڈ سوشل فورم (WSF) ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں حقوق انسانی، ماحولیات، مزدور، حقوق نسواں اور نئی نسل کے سرگرم کارکن ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں اور یہ تنظیم بھی جدید غیر محدود عالم گیریت کی مخالف ہے۔ پہلی WSF میٹنگ برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں 2001 میں منعقد ہوئی۔ چوتھی WSF میٹنگ ممبئی میں 2004 میں اور ساتویں نیروبی ، کینیا میں جنوری 2007 میں ہوئی۔
آئیے مل جل کر کریں
اس عمل سے طلباکو معلوم ہوگا کہ عالم گیریت ہماری زندگی میں کہاں تک داخل ہوچکی ہے۔ اور عالم گیریت کی ہمہ گیری نے ایک فرد، برادری اور قوم کی زندگی کو کہاں تک اپنے دائرۂ اثر میں لیاہے۔
اقدام
◊ طالب علم کھانے کی چیزوں ، آسائش و آرام کی چیزوں اورنمائش کی چیزوں کی فہرست بنائیں جن سے وہ اچھی طرح سے واقف ہوں۔
◊ طالب علم اپنے پسندیدہ ٹی۔ وی پروگراموں کے نام لکھیں۔
◊ استاد ان فہرستوں کو جمع کریں۔
◊ کلاس کو سہل گروپوں میں تقسیم کیجیے اور ہر گروپ کو کچھ چیزوں کے نام اور ٹی وی پروگرام کے نام تفویض کردیجیے۔
◊ طالب علم یہ معلوم کریں کہ ان کے روز مرّہ کے استعمال میں آنے والی چیزوں کو کون بناتا ہے اور ان کے پسندیدہ ٹی وی پروگرام تیار کرنے والے کون ہیں۔
◊ جو نام طلبانے لکھے تھے، استاد ان کو تین حصوں میں تقسیم کرے گا بنانے والے اور Sponsorsکرنے والوں کے اعتبار سے۔ وہ تین طبقے یہ ہیں۔ خالص بیرونی کمپنیاں ، خالص ہندوستانی کمپنیاں اور ایک دوسرے کی ساجھے دار کمپنیاں۔
استاد کے لیے ہدایات
◊ استاد طلباکو اشارے دے گا کہ عالم گیریت ہماری زندگی میں کیسے داخل ہورہی ہے۔
◊ طلباکی توجہ عالم گیریت کے مختلف پہلوئوں کی جانب مبذول کرانی چاہیے۔ جتنا زیادہ بیرونی سامان ہم استعمال کرتے ہیں اس سے ہماری چھوٹے پیمانے پر مبنی صنعت کو نقصان پہنچتا ہے ۔ کیونکہ اس کے صارفین کم ہوجاتے ہیں۔ انجام کار وہ بند ہوجاتی ہیں۔
◊ اس سرگرمی کا اختتام اس پر کیاجاسکتاہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں عالم گیریت کے اثرات پر جاری بحث کے بارے میں طلباکو روشناس کیا جائے۔
ہندوستان اور عالم گیریت کی مزاحمت
عالم گیریت کی مزاحمت میں ہندوستان کا تجربہ کیسارہا؟ سماجی تحریکیں اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے اور تکلیف دہ چیزوں سے نمٹنے کے راستے سمجھانے میں لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ ہندوستان میں عالم گیریت کی مخالفت کئی الگ الگ اطراف سے ہوئی ہے۔ معاشی رواداری کے خلاف بائیں بازو کی طرف سے سیاسی پارٹیوں اور انڈین سوشل فورم کے ذریعہ سے احتجاج ہوئے ہیں۔ کثیر ملکی کمپنیوں(MNCs)کی آمد کے خلاف ٹریڈ یونینوں اور کسانوں کے مفاد سے متعلق انجمنوں نے بھی احتجاج کیے۔ امریکی اور یوروپی کمپنیوں کا کچھ جڑی بوٹیوں کا اپنے نام سے مخصوص کرالینا، جیسے کہ نیم، نے بھی مخالفت کا سامنا کیا۔
عالم گیریت کی مخالفت دائیں بازو والی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بھی ہوئی۔ اس کا زیادہ تر تعلق ثقافتی پہلو سے ہے۔ مخالفت اور مزاحمت کے اس دائرے میں باہر کے ٹی۔ وی چینل جو کیبل کے ذریعہ آتے ہیں، ویلنٹائن ڈے (Valentine Day) کی تقریب اور اسکول اور کالجوں میں طالبات کا مغربی طرز کے لباس کا ذوق وغیرہ آتے ہیں۔
مشقیں
1- عالم گیریت کے متعلق کون سے بیانات درست ہیں؟
(a) عالم گیریت ایک خالص معاشی نظریہ ہے۔
(b) عالم گیریت 1991 میں شروع ہوئی۔
(c) عالم گیریت اور مغربیت ایک ہی چیز ہیں۔
(d) عالم گیریت ایک کثیر جہتی نظریہ ہے۔
2- عالم گیریت کے اثرات کے بارے میں کون سے بیانات درست ہیں؟
(a) سماج اور ریاست پر عالم گیریت کے اثرات مساوی نہیں رہے ہیں۔
(b) سماج اور ریاست پر عالم گیریت کے اثرات بالکل یکساں رہے ہیں۔
(c) عالم گیریت کے اثرات صرف سیاسی دائرے تک محدود رہے ہیں۔
(d) بالآخر عالم گیریت کا اثر یک رنگی ثقافت کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔
3- عالم گیریت کے اسباب کے بارے میں کون سے بیانات درست ہیں؟
(a) عالم گیریت کا اہم سبب ٹیکنالوجی ہے۔
(b) عالم گیریت کوعوام کی ایک خاص کمیونٹی نے شروع کیا ہے۔
(c) عالم گیریت امریکہ میں شروع ہوئی۔
(d) معاشی طور سے ایک دوسرے پر انحصار ہی عالم گیریت کا واحد سبب ہے۔
4- عالم گیریت کے متعلق کون سے بیانات درست ہیں؟
(a) عالم گیریت صرف اشیاکی نقل و حمل ہے۔
(b) عالم گیریت کا روایتوں اور قدروں کے تصادم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
(c) ’خدمات‘ عالم گیریت کا ایک غیر اہم حصہ ہیں۔
(d) عالم گیریت کا تعلق عالمی سطح پر باہمی رشتوں سے ہے۔
5- عالم گیریت کے متعلق کون سے بیانات غلط ہیں؟
(a) عالم گیریت کے حامی کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کو فروغ ہوگا۔
(b) عالم گیریت کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوگا۔
(c) عالم گیریت کے حامی کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں یک رنگی تمدن ظاہر ہوگا۔
(d) عالم گیریت کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں یک رنگی تمدن ظاہر ہوگا۔
6- عالمی سطح پر ایک دوسرے پر انحصار کے کیا معنی ہیں؟ اس کے اجزاکیا ہیں؟
7- عالم گیریت کے اندر ٹیکنالوجی کا کیا حصہ ہے؟
8 - عا لم گیریت کے باعث ترقی پذیر ممالک میں ریاست کے کردار کے اندر آئی ہوئی تبدیلی کے اثرات کاتنقیدی جائزہ لیجیے۔
9- عالم گیریت کے معاشی نتائج کیاہیں؟ اور اس میدان میں عالم گیریت نے ہندوستان کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
10- کیا آپ اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ عالم گیریت ایک رنگا رنگ ثقافت کو جنم دیتی ہے؟
11- عالم گیریت کے ہندوستان پر کیااثرات ہوئے اور ہندوستان نے عالم گیریت کو کتنا متاثر کیا؟
ہندوستانی اور اس کے پڑوسی نقشہ بنانے والوں کی روایت یہ ہے کہ وہ شمال کو اوپر کی جانب اور جنوب کو نیچے کی جانب دکھاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کا یہ علامتی الٹا نقشہ ہمیں دعوت دیتاہے کہ ہم اس علاقے کے ذہنی نقشہ کو بدلیں۔ اس نقشہ میں نہ تو سرحدوں کو بدلا گیا ہے اور نہ ہی مقامات اور آبادی میں، جنوبی ایشیا کے حوالے سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ لیکن یہ دونوں کو نئے معنی ضرور دیتاہے۔ جب آپ اس نقشے کو دیکھتے ہیں تو آپ کے ذہن میں جنوبی ایشیا کے بارے میں کیا خاص تاثر پیدا ہوتا ہے؟کیا اس نقشے میں آپ کو جنوبی ایشیا کے علاقے میں بحر ہند کی اہمیت کا کچھ سراغ ملتا ہے؟
یہ دلچسپ ہے نا؟اگر ہم یہ جنوبی ایشیا کے نقشے کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے نقشہ کے ساتھ ایساکریں تو کیسا رہے گا؟