Skip to content
Nafsiat-001


1

نفسیاتی صفات میں تغایُر



اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ :

◊ ان نفسیاتی صفات کو سمجھ سکیں جن کی بنیاد پرلوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ،

◊ مختلف طریقۂ کارکے بارے میں جان لیں گے جن کا استعمال نفسیاتی صفات کے جائزے کے لیے کیاجاتا ہے ،

◊ ذہین کردار کی تشکیل کی وضاحت کرسکیں،

◊ یہ جان سکیں گے کہ ماہرین نفسیات ذہنی طور پرکمزور اور قابل افراد کی تشخیص کے لیے ذہانت کا تعین کیسے کرتے ہیں ،

◊ یہ سمجھ سکیں گے کہ مختلف ثقافتوں میں ذہانت کے مفہوم کس طرح بدل جاتے ہیں ،ذہانت اورصلاحیت کے مابین فرق کو سمجھ لیں گے،

مشمولات

تعارف

انسانی تفاعل میں انفرادی فرق

نفسیاتی صفات کا جائزہ 

ذہانت 

ذہانت کے نظریات

       ذہانت کا تعددی نظریہ 

         ذہانت کا سہ رخی نظریہ

         منصوبہ بندی،توجہ،بیداری اور ذہا نت کا ہمہ وقتی ،تواتری ماڈل

ذہانت میں انفرادی فرق

          ذہانت کے تغیرات

          ذہانتی آزمائشوں کے غلط استعمال (باکس 1.1)

ثقافت اور ذہانت 

جذباتی ذہانت

       جذباتی طور پرذہین اشخاص کی خصوصیات(باکس 1.2)

مخصوص قابلیتیں

   استعداد:نوعیت اور پیمائش 

تخلیقیت


کلیدی اصطلاحات

خلاصہ

 اعادہ کے سوالات 

پروجکٹ کی تجاویز 

ویب لنکس


تعلیماتی اشارات

تعارف 

اگر آپ اپنے دوستوں، ہم درجہ ساتھیوں یارشتہ داروں کا مشاہدہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ کس طرح اپنے ادراک ،آموزش اورتفکیر کے طور طریقہ میں ،اس کے ساتھ ہی ساتھ مختلف مفوضہ کاموں پر اپنی کارگذاری میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں ۔اس طرح کے انفرادی فرق زندگی کے ہر شعبہ میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔یہ تو واضح ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔گیارھویں کلاس میں آپ ان نفسیاتی اصولوں کے بارے میں جو انسانی کردار کی تفہیم میں نافذ ہوتے ہیں ۔آموزش کر چکے ہیں ۔ہمیں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوتے ہیں ۔ان میں یہ فرق کن وجوہات سے آتا ہے اور ان تفرقات کا جائزہ کیسے لیا  جاسکتا ہے ۔آپ محسوس کریں گے کہ گالٹن کے وقت سے ہی انسانی تفرق کے مطالعہ سے جدید نفسیات کا ایک خاص تعلق رہا ہے ۔اس باب میں انسانی تفرق کی کچھ بنیادی باتوں سے آپ کا تعارف کرایا جائے گا ۔

ذہانت سب سے زیادہ مقبول اور عمومی نفسیاتی صفات میں سے ایک صفت ہے جس میں ماہرین نفسیات کی دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے ۔پیچیدہ تصورات کی تفہیم کی قابلیت ،ماحول کے ساتھ تطابق ،تجربہ سے آموزش ،مختلف اقسام کے استدلال میں مشغول ہونے اور رکاوٹوںکو دور کرنے کے معاملے میں افراد ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ اس باب میں آپ ذہانت کی نوعیت ،ذہانت کی تبدیل ہورہی تعریفیں ،ذہانت میں ثقافتی اختلافات ،افراد کی دانش ورانہ اہلیتوں میں تغیرات مخصوص قابلیتوں یا استعدادوں کا مطالعہ کریں گے ۔

انسانی تفاعل میں انفرادی فرق 

انفرادی تغائر تمام انواع میں مشترکہ ہوتے ہیں ۔تغائر سے کائنات میں حسن اور رنگ آتا ہے ۔ایک لمحہ کے لئے پنے ارد گرد ایسے ماحول کا تصور کیجیے جہاں ہر ایک شئے ایک ہی رنگ جیسے لال ،نیلی یا ہری رنگ کی ہی ہو۔ایسا ماحول آپ کو کیسا لگے گا؟ یقینا خوبصورت نہیں لگے گا ۔کیا آپ ایسے ماحول میں رہنا پسند کریں گے ؟ زیادہ امکان یہ ہے کہ آپ کاجواب ’نہیں‘ میں ہوگا۔ اشیاکی طرح لوگوں کے اندر بھی مختلف امتیازی اوصاف کے مجموعے ہوتے ہیں ۔
غیر یکسانیت کائنات کی ایک حقیقت ہے ،اور افراد بھی اس سے الگ نہیں ہیں ۔وہ جسمانی خصوصیات جیسے ،قد ،وزن ،طاقت، بالوں کے رنگ وغیرہ کے معاملے میں انحراف کرتے ہیں ۔وہ نفسیاتی ابعاد میں بھی انحراف کرتے ہیں ۔و ہ یا تو ذہین ہو سکتے ہیں یا کند ذہن ،غالب ہو سکتے ہیں یامطیع ،تخلیقی ہو سکتے ہیں یا تخلیقی نہیں ہو سکتے ہیں ، سبقت لینے والے ہوسکتے ہیں یا کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہو سکتے ہیں ،وغیرہ وغیرہ ،متغیرات کی یہ فہرست لامحدود ہو سکتی ہے ۔کسی فرد کے اندر مختلف خصائص الگ الگ مقدار میں موجود ہو تی ہیں ۔اس طرح ہم میں سے ہر ایک شخص منفرد ہے کیونکہ وہ مختلف خصائص کا ایک مخصوص مجموعہ ہوتا ہے ۔یہاں آپ یہ سوال اٹھانا پسند  کر یں گی کہ لوگ کیوں اور کیسے مختلف ہوتے ہیں ۔ در حقیقت یہی ،انفرادی فرق کے مطالعہ کا موضوع ہے ۔ ماہرین نفسیات کے لیے انفرادی فرق سے مراد لوگوں کی خصوصیات اور طرز کردار کے مابین فرق اور امتیاز کرنا ہوتا ہے ۔
کچھ ماہرین نفسیات اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ہمارے کردار ہماری شخصی خصوصیات سے متاثر ہوتے ہیں ۔جب کہ دیگر ماہر نفسیات اس نظریہ کے حامل ہیں کہ موقفی عوامل یعنی موقف اور حادثات جن کا سامنا جوشخص کرتا ہے ، اس کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں ،کوئی شخص جوعام طور پر جارحانہ رویہ کا حامل ہوتا ہے اعلیٰ حاکم کی موجودگی میں اطاعتی انداز میں برتاؤ کرنے لگتاہے ۔کبھی کبھی موقفی اثرات اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ الگ الگ شخصیتی خاصّہ والے افراد بھی تقریباً یکساں طور پر رد عمل کرتے ہیں ۔موقفی تناظری نظریات انسانی کردارکو نسبتاً زیادہ تر خارجی عوامل کے نتیجے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

نفسیاتی صفات کاجائزہ 

نفسیاتی صفات آسان اور سہل مظاہر جیسی مہیج کے ردِ عمل میں لیا گیا وقت یعنی وقفہ رد عمل اور اعلیٰ کائناتی تصور، جیسے خوشی میں شامل ہوتے ہیں۔نفسیاتی صفات جن کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ،ان کاشمار اورتصریح مشکل ہے ۔ کسی بھی نفسیاتی صفت کی تفہیم میں اس کا جائزہ لیاجانا اولین مرحلہ ہوتا ہے ۔ جائزہ لینے سے مراد افراد کی نفسیاتی صفات کی پیمائش اور ان کے اندازہ قدر سے ہے جس کے تحت پیدائش کے لیے مخصوص معیاروں کے ضمن میں تعددی طریقوں کا اکثر استعمال کیا جاتا ہے ۔کسی شخص کے اندر کوئی صفت موجود ہے یہ اس وقت کہا جاسکتا ہے جب اس کی پیمائش سائنٹفک طریقوں کے ذریعہ کی جاسکے۔ مثال کے طور پر جب ہم کہتے ہیں کہ ہریش غالب ہے تو اس سے ہمارا مطلب ہریش کے غلبہ کے درجہ سے ہے ۔یہ بیان اس کے ’’غالب‘‘ ہونے کے میں بارے میں ہمارے اپنے جائزہ پرمبنی ہے ۔ہمارا جائزہ باضابطہ ہوسکتا ہے ۔ یا پھربے ضابطہ ،رسمی یا باضابطہ جائزہ معروضی ،معیار بند اورمنظم ہوتا ہے ،جب کہ دوسری جانب الگ الگ معاملوں میں اورمختلف تشخیص کنندگان کے ذریعہ لیے جانے والے غیررسمی جائزے میں کافی فرق پایا جاتا ہے اور اس لیے یہ موضوعی وضاحتوں کے لیے کھلا ہوتا ہے ۔ ماہرین نفسیات نفسیاتی صفات کا رسمی جائزہ لینے کی تربیت حاصل کرتے ہیں ۔
ایک بار جائزہ لے لینے کے بعد ہم اس سے حاصل معلومات کا استعمال ا س بات کی پیشین گوئی کرنے کے لیے کر سکتے ہیں کہ ہریش کا کردار مستقبل میں کیا ہوگا ۔ہم یہ پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ اگرہریش کو کسی جماعت (ٹیم ) کی رہبری کرنے کا موقع دیا جائے تو قوی امید ہے کہ وہ ایک کامیاب قائد ہوگا ۔ اگر پیشین گوئی کے بعد کا نتیجہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں تو ہمیں جائزے کی غرض سے ہریش کے کردار میں تبدیلی لانے کے لیے مداخلت کرنی ہوگی ۔
جائزے کے لیے انتخاب کی جانے والی صفت کا انحصار ہمارے مقصد پر ہوتا ہے ۔ایک کمزور طالب علم کی امتحانات میں کارکردگی کو بہتربنانے کے خیال سے ہمیں اس کی ذہنی خوبیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر کوئی شخص اپنے کنبہ اور پڑوس کے ساتھ سازگار زندگی گذارنے میں ناکام رہتا ہے تو ہم اس کی شخصیتی خصوصیات کا جائزہ لینے کے بارے میں غور کر سکتے ہیں۔ایک ایسے شخص کے لیے جسے کم ترغیب یا تحریک ملی ہو،ہم اس کی دلچسپیوں اور ترجیحات کا جائزہ لے سکتے ہیں ۔نفسیاتی جائزہ میں قابلیتوں ، کرداروں اور افراد کی شخصی کیفیتوں کی پیمائش قدر کے لیےبا ضابطہ آزمائشی طریقۂ کار کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

نفسیاتی صفات کے کچھ میدان 

نفسیاتی اوصاف خطی یا یک بعدی نہیں ہوتے۔ وہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان کا اظہار ابعاد کے طورپر کیا جاتا ہے ۔ایک خط محض بہت سے نقطوں کا ایک مجموعہ ہے ۔ایک نقطہ جگہ نہیں گھیرتا ۔لیکن ایک صندوق کے بارے میں غور کیجیے ۔ یہ جگہ گھیرتا ہے ۔اس کی وضاحت تین ابعاد یعنی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی سے کی جاسکتی ہے ۔ اسی سے مماثل نفسیاتی اوصاف بھی ہوتے ہیں ۔وہ عام طور پر کثیرالابعاد ہوتے ہیں،اگر آپ کسی شخص کا مکمل جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ تو مختلف میدانوں جیسے وقوفی ،جذباتی ،سماجی وغیرہ میں اس کے تفاعل کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہوگی۔
اس باب میں ہم چند اہم اوصاف پر گفتگوکریں گے جن میں ماہرین نفسیات نے دلچسپی لی۔ ان اوصاف کو نفسیاتی ادب میں استعمال کی گئی مختلف آزمائشوں کی اقسام کی بنیاد پر زمرہ بند کیا گیا ہے ۔
1.   ذہانت : ذہانت دنیا کی تفہیم حاصل کرنے ،استدلالی تفکیر کرنے اور چیلنج سامنے آنے پر دستیاب وسائل کے موثر استعمال کرنے کی عالمگیری استعداد ہے ۔نفسیاتی آزمائش کسی شخص کی عمومی وقوفی اہلیت بشمول اسکول کی تعلیم سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت کی ایک مجموعی پیمائش مہیاکراتی ہیں۔ عام طور پر کم ذہانت والے طالب علم اسکول کے امتحانات میں بہتر نتائج لانے میں ناکام ہوتی ہیں ،لیکن زندگی میں ان کی کامیابی کا تعلق صرف ان کی ذہانت کی آزمائش کی پیمائش کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔ 
2.   استعداد:سے مراد کسی فرد کے اندر مہارتوں سے اکتساب کی قابلیت ہے ۔استعداد آزمائشوں کا استعمال یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو مناسب ماحول اور تربیت دی جائے تو وہ کیاکچھ کرنے کے قابل ہوگا۔ کوئی شخص جس کے اندر اعلیٰ میکانیکی استعداد ہے، مناسب تربیت سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور ایک اچھا انجینئر بن سکتا ہے ۔ اسی طرح سے ایک شخص کوجس کے اندر اعلیٰ لسانی استعداد ہے، ایک عمدہ مصنف بننے کے لیے تربیت دی جاسکتی ہے ۔
3.  دلچسپی :دیگرسرگرمیوں کی نسبت ایک یا زیادہ مخصوص سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے کسی فرد کی ترجیح ہے ۔طلبہ کی دلچسپیوں کا جائزہ یہ طے کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے کہ وہ کون سے مضامین یا کورسز کا انتخاب کرسکتے ہیں جن کا مطالعہ ان کے لیے خوشگوار اور تسکین بخش ہوگا ۔ دلچسپیوں کی تفہیم اس طرح کے انتخاب کرنے میں جن سے زندگی میں آسودگی اور کاموں کی کارکردگی کو تقویت ملے مدد کرتی ہے ۔
4.   شخصیت: سے مراد کسی شخص کی نسبتاً مستقل خصوصیات،جو کہ اسے دوسروں سے علیحدہ کرتی ہیں ،شخصیتی آزمائشوں میں کسی فرد کی منفرد خصوصیات جیسے کیا کوئی شخص غالب ہے یامطیع،سرگرم ہے یا پسپائی اختیار کرنے والا، موڈی ہے یا جذباتی طور پر مستحکم ،وغیرہ کاجائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔شخصیت کا جائزہ کسی فرد کے کردار اور مستقبل میں اس کے کردار کی پیشین گوئی کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔
5.   اقدار کردار کے ایک مثالی طرز کے بارے میں پائیدارعقیدے ہیں۔ ایک قدر رکھنے والا شخص زندگی میں اپنے افعال کی رہنمائی اور دوسروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کے لیے ایک معیار ترتیب دیتا ہے ۔قدر کے جائزہ میں ہم کسی شخص کی غالب قدروں (مثلاً سیاسی ، مذہبی ،سماجی ،اقتصادی ) کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

جائزہ کے طریقے

نفسیاتی جائزہ کے لئے بہت سے طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ ان میں سے کچھ طریقوں کے بارے میں آپ گیارھویں جماعت میں پڑھ چکے ہیں ۔ آئیے ہم ان کی کلیدی خصوصیات کی بازیافت کریں ۔
◊ نفسیاتی آزمائش کسی فرد کی ذہنی یاکرداری خصوصیات کی ایک معروضی اور معیار بند پیمائش ہے ۔معروضی آزمائشوں کی تکمیل نفسیاتی صفات کے تمام ابعاد (مثلاً ذہانت ،استعداد وغیرہ ) جن کی وضاحت اوپر دی گئی ہے ،کی پیمائش کے لیے کی گئی ہے ۔ان آزمائشوں کا استعمال کلینکی تشخیص ،رہنمائی ،عملہ کاانتخاب ،امداد ملازمت ،اور تربیت کے مقاصد سے وسیع پیمانہ پر کیا گیا ہے ۔معروضی آزمائشوں کے علاوہ ماہرین نفسیات نے کچھ اظلالی آزمائش بھی تیار کی ہیں جو مخصوص طور پر شخصیت کے جائزہ کے لییاستعمال کی جاتی ہیں ۔باب 2میں آپ ان کے بارے میں پڑھیں گے ۔
◊ انٹرویوکے ذریعہ کسی شخص سے آمنے سامنے کی بنیاد پر معلومات حاصل کی جاتی ہیں ۔آپ اسے اس وقت دیکھ سکتے ہیں جب کوئی صلاح کار کسی گاہک (client) کے ساتھ تعامل کرتا ہے ،کوئی سیلز مین گھر جاکر اپنے مخصوص پروڈکٹ کی افادیت کے بارے میں سروے کرتا ہے ،کوئی آجر اپنی تنظیم کے لیے ملازمین کا انتخاب کرتا ہے ،یا کوئی صحافی کسی اہم قومی یا بین الاقوامی مسئلہ پر اہم شخصیتوں کا انٹرویو لیتا ہے ۔
◊ کیس مطالعہ فرد کے نفسیاتی اور طبیعی ماحول کے سیاق میں اس کے نفسیاتی اوصاف خاص اورنفسیاتی تاریخ کے سلسلہ میں عمیق مطالعہ ہے۔ کیس مطالعات (مطالعہ معاملات) کا استعمال کلینکی ماہرین نفسیات کے ذریعہ وسیع پیمانہ پر کیا جاتا ہے ۔عظیم شخصیات کی زندگیوں کاکیس تجزیہ ان لوگوں کے لیے بہت سود مند ہو سکتا ہے جو ان کی زندگی کے تجربات سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں ۔کیس مطالعہ مختلف طریقوں جیسے انٹرویو، مشاہدہ ،سوالنامہ ،نفسیاتی آزمائشیں وغیرہ سے جمع شدہ معلومات  پر مبنی ہوتاہے ۔
◊ مشاہدہ باضابطہ ، منظم اور معروضی طریقۂ کار کے ذریعے فطری طور پر حقیقی معنوں میں واقع ہونے والے کرداری مظاہر ریکارڈ کرنے کو کہتے ہیں۔ کچھ خاص چیزیں جیسے ماں اور بچے کے بیچ کے معاملات کو مشاہدہ کے ذریعہ بآسانی زیر مطالعہ لایا جاسکتا ہے۔ اس طرز مطالعہ میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ اس میں مشاہد کا حالات پر بہت کم اختیار ہوتا ہے نتیجتاً رپورٹ مشاہد کی غلط فہمی کا شکار ہو سکتی ہے۔
◊ خود رپورٹ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں کوئی شخص خود اپنے بارے میں یا اپنی رائے اورعقیدہ کے بارے میں حقیقی معلومات فراہم کرتا ہے ،اس طرح کی معلومات انٹرویو شیڈول یا سوالنامہ ،نفسیاتی آزمائش ،یا ذاتی ڈائری کے استعمال کے ذریعہ فراہم کی جاسکتی ہیں۔

ذہانت Intelligence

ذہانت ایک کلیدی تصورہے جس کا استعمال یہ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے کہ افراد کیسے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔یہ اس بات کی فہم بھی فراہم کرتا ہے کہ لوگ کس طرح سے اپنے ماحول کے مطابق اپنے کردارکو ڈھالتے ہیں۔اس صیغہ میں ذہانت اور اس کی مختلف شکلوں کے بارے میں آپ مطالعہ کریں گے ۔
ذہانت کا نفسیاتی تصور ذہانت کے عام مفہوم کے تصور سے بالکل مختلف ہے ۔اگر آپ کسی ذہین شخص کو دیکھیں تو اس کے اندر آپ ذہنی مستعدی ، حاضر جوابی ،تیز آموزش ، تعلقات کو سمجھنے کی قابلیت جیسی صفات پائیں گے۔ آکسفورڈ لغت نے ذہانت کی وضاحت اِدراک کرنے ،آموزش کرنے ،فہم حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے کی طاقت کے طور پر کیا ہے ۔ذہانت کے اولین نظریات میں بھی ان صفات کا استعمال ذہانت کی تعریف میں کیا گیا ہے۔ الفریڈ بینے ان اولین ماہرین نفسیات میں سے ایک ہیں جنھوں نے ذہانت پر کام کیا ہے ۔انھوں نے ذہانت کی تعریف عمدہ فیصلہ ،عمدہ فہم اور عمدہ استدلال کی قابلیت کی شکل میں کیا ہے ۔ویکشلر جن کی ذہنی آزمائشیں بہت وسیع پیمانہ پر استعمال کی جاتی ہیں ، نے ذہانت کو اس کی تفاعلیت یعنی ماحول کے ساتھ ڈھل جانے کی صلاحیت کے طورپر واضح کیا ہے ۔انھوں نے اس کی تعریف استدلالی طور پر تفکیر کرنے ،بامقصد فعل انجام دینے ،اور اپنے ماحول کے ساتھ موثر طریقہ سے برتاؤ کرنے کی عالمگیری اور مجموعی استعداد کے طور پر کیا ہے ۔دیگر ماہرین نفسیات جیسے گارڈنر اور اسٹرن برگ کا ماننا ہے کہ ذہین فرد خودکوصرف ماحول کے مطابق ہی نہیں بناتا ہے بلکہ عملی طور پر اس میں ترمیم کرتا ہے یا اس کو ایک شکل بھی دیتاہے ۔آپ ذہانت کے تصور اوراس کے ارتقاکو سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے جب ہم ذہانت کے کچھ اہم نظریات کی تشریح کریں گے ۔

ذہین اشخاص کی صفات کی دریافت 

 سرگرمی 1.1

   1.  آپ کے ہم جماعت ساتھیوں میں سب سے زیادہ ذہین کون ہے ؟ اس کے بارے میں آپ اپنے دل میں سوچیے۔ اور اس شخص کی تعریف چند الفاظ یا جملوں میں تحریر کیجیے ۔
   2.  اپنے قریبی ماحول میں ان تین دیگر اشخاص کے بارے میں سوچیے جنہیں آپ ذہین سمجھتے ہیں اور ہر ایک کی صفت پر چند الفاظ یاجملے تحریر کیجیے۔
   3.  جو کچھ آپ نے اندراج نمبر1میں لکھا ہے ،اس کے حوالہ سے نئے اضافہ کے بارے میں فیصلہ کیجیے۔
   4.  ان جملہ صفات کی جنہیں آپ ذہین کرداروں کا اظہارکرنے والا مانتے ہیں ،ایک فہرست تیار کیجیے۔ ان صفات کا استعمال کرتے ہوئے ایک تعریف وضع کرنے کی کوشش کیجیے۔
   5.  اپنی رپورٹ پر اپنے ہم جماعت طلبا اور اساتذہ کے ساتھ بحث کیجیے۔
    6.  محققین نے ذہانت کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کا موازنہ اس کے ساتھ کیجیے۔

ذہانت کے نظریات 

ماہرین نفسیات نے ذہانت کے بہت سے نظریات تجویز کیے ہیں۔ ان نظریات کو وسیع طور پر یا تو پیمائشی نفسیات یا ساختی طرز نظر کی نمائندگی کرنے والے یا ایک ترتیب معلومات طرز نظرمیں زمرہ بند کیا گیا ہے ۔
پیمائشی نفسیات کا نظریہ ذہانت کو قابلیتوں کے ایک مجموعہ کے طور پر سمجھتا ہے ۔ یہ فرد کی کارگذاری کو وقوفی قابلیتوں کے واحد اشاریہ کے معنی میں وضاحت کرتا ہے ۔ دوسری جانب ترتیب معلومات نظریہ ان عملوں کی وضاحت کرتا ہے جن کا استعمال لوگ دانشورانہ استدلال اور مسائل کے حل میں کرتے ہیں ۔ اس طرز نظرکا خاص زوراس بات پر ہے کہ ذہین شخص کیسے فعل انجام دیتا ہے۔ ذہانت کی ساخت یا اس میں پائے جانے والے ابعاد پر مرکوز ہونے کے بجائے ترتیب معلومات اورطرز فکر ذہین کردار میں ملنے والے وقوفی وظائف کے مطالعہ پر زور دیتا ہے ۔ ان طرز فکر کے چند نمائندہ نظریات کی تشریح کریں گے ۔
ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ الفریڈ بینے پہلے ماہر نفسیات تھے جنھوں نے ذہانت کے تصور کو ذہنی عملیات کے معنوں میں باضابطہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس سے قبل ذہانت کے بارے میں خیال کی وضاحت مختلف ثقافتی روایات میں دستیاب فلسفیانہ مقولوں میں عمومی طریقہ پر کی گئی ہے ۔ بینے کا ذہانت کا نظریہ قدرے آسان تھا کیونکہ یہ ذہین اور کم ذہین افراد کے مابین تفریق کرنے میں ان کی دلچسپی کی و جہ سے ظہور میں آیا ہے ۔ اس لیے انھوں نے ذہانت کا نظریہ ذہانت کا واحد یا ایک عامل نظریہ کہلایا۔ اس نظریہ پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب ماہرین نفسیات نے بینے کی آزمائش کا استعمال کرتے ہوئے جمع کیے گئے افراد سے حاصل معلومات کا تجزیہ شروع کیا ۔
1927میں چارلس اسپیرمین نے ذہانت کا دوعامل نظریہ ،شماریات کا ایک طریقہ جسے عامل تجزیہ کہتے ہیں کا استعمال کرتے ہوئے دیا ۔ انھوں نے واضح کیاکہ ذہانت ایک عام عامل (جی ۔عامل) اور چند مخصوص عوامل (ایس عوامل ) پر مشتمل ہوتی ہے ۔جی عامل میں ذہنی کارکردگیاں جو کہ بنیادی ہوتی ہیں اور جملہ کارگزاریوں میں مشترکہ ہوتی ہیں ،شامل ہوتی ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ جی ۔عامل کے علاوہ بہت سی مخصوص قابلیتیں بھی ہوتی ہیں ۔یہ سب ان کے ذریعہ بتائے گئے ایس۔عامل میں ہوتی ہیں ۔بہت عمدہ گلوکار ، آرکٹیکٹس ،سائنسدان اور کھلاڑی جی ۔عامل پراعلیٰ درجے کے ہو سکتے ہیں،لیکن اس کے علاوہ ان کے اندر مخصوص قابلتیں بھی ہوتی ہیں جو انھیں ان کے اپنے میدانوں میں اعلیٰ اور برتر بناتی ہیں ۔اسپیر مین کے نظریہ کے بعد لوئس تھرسٹن نے اپنا نظریہ پیش کیا ۔ انھوں نے ابتدائی ذہنی قابلیتوں کا نظریہ تجویز کیا ۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ ذہانت سات ابتدائی قابلیتوں پر مشتمل ہوتی ہے ،  ان میں سے ہر ایک دوسری کی بہ نسبت دوسرے سے جدا ہوتی ہے ۔یہ ابتدائی قابلتیں (i)لفظی قوت فہم (الفاظ، تصورات اور خیالات کے معنی سمجھنا ) 
(ii) حسابی قابلیت عددی اور حسابی مہارتوں میں صحت اور رفتار ) (iii) مکانی تعلقات (اشکال اور وضع کی ذہن میں تصویر بنانا) (iv) ادراکی رفتار ( تفصیلات کے ادراک میں تیزرفتاری) (v) روانی الفاظ (تیزی اور لچک سے الفاظ کا استعمال ) (vi) حافظہ (معلومات کی بازیافت میں صحت)  اور استقرائی استدلال (دیے گئے حقائق سے عام قاعدوں کو اخذ کرنا) 
آرتھر جینسن نے ذہانت کا ایک مراتبی (مراتب کے لحاظ سے) ماڈل تجویز کیا جس میں قابلیتیں دو سطحوں پر عمل پذیر ہوتی ہیں جنھیں سطح اول اور سطح دوئم کہا جاتا ہے ۔سطح اول اتیلافی آموزش ہے جس میں ماحصل کم وبیش مادخل کے مماثل ہے (مثلاً رٹی گئی آموزش اور حافظہ ) سطح دوئم جو ادراکی اہلیت کہلاتی ہے میں اعلی درجہ کی مہارتیں شامل ہوتی ہیں کیونکہ وہ مادخل کو تبدیل کردیتی ہیں جس سے موثر ماحصل پیدا ہو ۔
جے ۔پی۔گلفورڈ نے ذہانت کاساخت ماڈل تجویز کیا جو دانش ورانہ خواص کو تین ابعاد :عملیہ، مواد اور پیداوار میں اصناف بند کرتا ہے ۔جوابی عمل کرنے والا جو بھی کرتا ہے وہی عملیہ ہے ان میں وقوف،حافظہ درج کرنا،حافظہ کی برقراری قوت منحرف پیداوار،منعطف پیداوار اور پیمائش قدر شامل ہے۔مواد سے مراد مواد یا معلومات کی وہ فطرت ہے جس پر ذہنی عمل انجام دیاگیاہے ان میں بصارتی ،سماعتی ،اشارتی ، (مثلاً حروف اور اعداد ) معنیاتی (جیسے الفاظ) اور کرداری (جیسے لوگوں کے کردار ،رویوں ،ضروریات وغیرہ کے بارے میں معلومات) شامل ہیں ۔پیداوار سے مراد وہ شکل ہے جس میں معلومات پر جوابی عمل کرنے والے شخص کے ذریعہ عمل کیا جاتاہے۔پیداوار کی اصناف بندی اکائیوں ،درجات ،تعلقات ،نظام، قلب ماہیت ،اور دلالت میں کی گئی ہے ۔چونکہ اس درجہ بندی (گلفورڈ1988) میں 6×5×6 زمرے شامل ہیں ۔ اس لیے ماڈل میں 180 خانے شامل ہیں ۔ ہر ایک خانہ میں کم از کم ایک عامل یا اہلیت ہونے کی توقع کی گئی ہے ،کچھ خانوں میں ایک سے زیادہ عامل ہو سکتے ہیں ۔ہر ایک عامل کی وضاحت جملہ تینوں ابعاد کی اصطلاح میں کی گئی ہے ۔
اوپر مذکور نظریات ذہین کردار کی تفہیم کے پیمائشی نفسیات کی طرز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں ۔

ذہانت تعددی کانظریہ 

ہووارڈ گارڈنر نے تعددی ذہانتوں کا نظریہ تجویز کیا ۔ان کے مطابق ذہانت ایک واحد ہستی نہیں ہے ۔بلکہ ذہانتوں کی مختلف اقسام کا وجودہے۔ ان میں سے ہرذہانت ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں ایک قسم کی ذہانت دیکھنے کو ملتی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس میں دوسری اقسام کی ذہانتیں زیادہ یا کم ہوں۔ گارڈنر نے یہ بھی بتایا کہ مختلف اقسام کی ذہانتیں کسی مسئلہ کے حل کے لیے ایک ساتھ مل کر تعامل اور کام کرتی ہیں ۔گارڈنر نے انتہائی ذہین اشخاص کا مطالعہ کیا جنھوں نے اپنے اپنے میدانوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا ۔ اور آٹھ اقسام کی ذہانت کی وضاحت کی تھی۔
لسانی :(زبان کے استعمال اور تخلیق میں شامل مہارتیں ) یہ اپنی تفکیر اور دوسروں کی تفہیم کے اظہار میں زبان کی روانی اور لچک کے ساتھ استعمال کی صلاحیت ہے ۔ اس ذہانت پر اعلیٰ اشخاص ،لفظ ۔ اسمارٹ ہیں ،یعنی وہ الفاظ کے معنوں کے سمجھنے میں حساس ،واضح ترسیل کرنے والے ہیں اور اپنے دماغ میں لسانی مثال کی تخلیق کر سکتے ہیں ۔شاعر اور مصنف ذہانت کے اس جز میں بہت مضبوط ہوتے ہیں ۔
منطقی ۔ریاضی :(سائنسی تفکیر اور مسئلہ کے حل کرنے میں مہارتیں) اس قسم کی ذہانت میں اعلیٰ اشخاص منطقی طور پر اور ناقدانہ انداز میں تفکیرکر سکتے ہیں ۔وہ مجرد استدلال میں مشغول رہتے ہیں اور ریاضی مسائل کے حل کے لیے علامتوں میں جوڑ توڑ کر سکتے ہیں ۔سائنسداں اور نوبل پرائز حاصل کرنے والے اس جزمیں مضبوط ہوسکتے ہیں ۔
مکانی:(بصارتی تمثال اور وضع تشکیل کرنے کی مہارتیں) ان سے مراد ان قابلیتوں سے ہے جو ذہنی تمثالات کی تشکیل کرنے ،استعمال کرنے ، اور قلب ماہیت کرنے میں شامل قابلیتیں ہیں ۔اس ذہانت میں اعلیٰ شخص اپنے ذہن میں مکانی دنیاکی بآسانی نمائندگی کر سکتے ہیں ۔پائلٹ ،ملاح ، مجسمہ ساز ،پینٹر ،معماراور سرجن کے اندر مکانی ذہانت اعلیٰ پیمانہ پر ہونے کی امید کی جاتی ہے ۔
موسیقی(موسیقی کے اتارچڑھاؤ،یا تال وسراور اندازکیلیے حساسیت): یہ موسیقی کے اندازوضع کرنے ،تخلیق کرنے اور اسے خوش اسلوبی سے انجام دینے کی صلاحیت ہے۔اس ذہانت پراعلیٰ شخص آوازوں اور ارتعاشات یاجھنکار اور آوازوں کی نئی وضع کی تخلیق میں بہت حساس ہوتے ہیں۔
جسمانی ،حس حرکتی :(پورے جسم یا اس کے کچھ حصوں کو لچکیلے اور تخلیقی طور پر استعمال کرنا) اس میں پورے جسم یا اس کے حصوں کو نمائش کرنے یا اشیاکی ساخت اور مسئلہ کے حل کے لییاستعمال شامل ہے ۔کھیل کود میں حصہ لینے والے ،رقّاص، ایکٹر، کھلاڑی، جمناسٹک کے ماہراورسرجن کے اندر اس قسم کی ذہانت زیادہ ہونے کی امید کی جاتی ہے ۔
بین شخصی:تحریکوں اور بین شخصی (دوسروں کے کرداروں کے نازک پہلوؤں کی حساسیت) دوسرے لوگوں کی تحریکات، احساسات اور کرداروں کی تفہیم کی مہارت ہے تاکہ دوسروں کے ساتھ آرام سے تعلقات قائم ہوں۔ ماہرین نفسیات ،صلاح کار، سیاستداں ،سماجی کارکنان اور مذہبی رہنماؤں کے اندر بین شخصی ذہانت اعلی پیمانہ پر ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔
درون شخصی:(اپنے خود کے احساسات ،محرکات اور خواہشات کی آگہی) اس سے مراد خود کی اندرونی قوتوں اور حدود کا علم ہوتا ہے اور اس علم کا دوسروں کے واسطہ سے موثر طور پر استعمال ہے ۔ ایسے اشخاص جن کے اندر یہ قابلیت زیادہ ہوتی ہے ۔ اپنے تشخص ،انسانی وجود اور زندگی کے معنی کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں ۔فلسفی اور روحانی رہنما اس قسم کی ذہانت کی مثالیں ہیں ۔
فطرتیت:(فطری عالم کی خصوصیات کی حساسیت) اس میں فطری عالم کے ساتھ ہمارے تعلقات کی مکمل آگہی شامل ہے۔ یہ قدرت کے مختلف انواع کے حس کی شناخت کرنے میں اور فطری عالم میں نازک اور لطیف تفریق کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔شکاریوں ،کسانوں، سیاحوں، علم نباتات کے ماہرین، علم حیوانات کے ماہرین اور پرندوں کے مشاہدہ کرنے والے فطرتیت کی ذہانت ہوتی ہے ۔

ذہانت کا سہ رخی نظریہ 

رابرٹ اسٹرن برگ (1985) نے ذہانت کا سہ رخی نظریہ پیش کیا۔ اسٹرن برگ نے ذہانت کو ماحول کو منتخب کرنے ،ترتیب دینے اور تطابق کرنے کی قابلیت جس سے کہ اپنے مقاصد اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے سماج اور ثقافت کی تکمیل ہوسکے ،کے طور پر پیش کیاہے ۔ اس نظریہ کے مطابق ذہانت کے تین بنیادی اقسام ہیں : جزویاتی ،تجرباتی اور سیاقیت، ذہانت کے سہ رخی نظریہ کے عناصر شکل1.1میں دکھائے گئے ہیں ۔

مابعد اجزا
ادراکی عمل میں کنٹرول 
مانیٹر اور پیمائش قدر

کارگذاری اجزا 
مابعد اجزاکے ذریعہ جمع ہوئی 
حکمت عملیوں کو عمل میں لانا

علم دستیابی اجزا
معلومات کو انکوڈ،
یکجا اور موازنہ کرنا

سیاقت ذیلی نظریہ
وہ کردار جو کسی ایک مخصوص ثقافت میں نہیں سمجھے جاتے ہیں کی تشریح کرتا ہے ۔

اختباری ذیلی نظریہ 
کس طرح سے تجربات ذہانت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ذہانت کیسے ایک شخص کے تجربات پر اثر ڈالتی ہے کی تشریح کرتا ہے 

جزویاتی ذیلی نظریہ 
وقوفی عمل جس کے اندر جملہ ذہین کردار آتے ہیں ان کی تشریح کرتا ہے ۔

شکل1.1ذہانت کے سہ رخی نظریہ کے عناصر

1.1 ذہانت کے سہ رخی نظریہ کے عناصر

جزویاتی ذہانت:جزویاتی یا تجزیاتی ذہانت مسائل کے حل کرنے کے لیے معلومات کا تجزیہ ہے ۔ اس قابلیت والے اعلیٰ اشخاص تجزیاتی اور ناقدانہ تفکیر کرتے ہیں اور اسکولوں میں کامیاب رہتے ہیں ۔ اس ذہانت میں تین جز ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک الگ الگ کام انجام دیتے ہیں ۔ اول جز  علم کے اکتساب ہونے کا جز ہے جوکہ کاموں کو انجام دینے کے طریقوں کی آموزش اور اکتساب کے لیے ذمہ دار ہے ۔ دوئم مابعد ایک ایک اعلیٰ سطحی جزو ہے جس میں کیا کرنا ہے اور کیسے کیا کرنا ہے کے متعلق منصوبہ بندی شامل ہے۔ سوئم کارگذاری جزہے ،جو حقیقی معنوں میں کاموں کو انجام دینے سے متعلق ہے۔ 
تجرباتی ذہانت:تجرباتی یا تخلیقی ذہانت میں نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے سابقہ تجربات کا تخلیقی طور پر استعمال کیا جاتاہے ۔ یہ تخلیقی کارگزاری میں منعکس ہوتی ہے ۔ اس ذہانت میں اعلیٰ اشخاص نئی ایجادات اور دریافتوں کو ممکن بنانے کے لیے مختلف تجربات کو ایک طبع زاد طور پرتقسیم کرتے ہیں ۔ وہ فوراً پتہ لگالیتے ہیں کہ دیے گئے حالات میں کون سی معلومات اہم ہیں۔

عملی راہ پر

1.2 سرگرمی

آپ کو ابھی حال ہی میں اسکول کالج میں داخلہ ملا ہے۔  پورے سال میں آپ کو تین امتحانات دینے ہیں ۔ آپ امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ درج ذیل افعال میں سے آپ کس فعل میں مشغول ہونا زیادہ پسند کریں گے ؟فعل کے درج ذیل سلسلہ کے مقام کا تعین کیجیے۔ اپنے جواب کااپنے ہم جماعت ساتھیوں سے موازنہ کیجیے۔

 ◊ درجہ میں پابندی سے حاضرہونا۔

 ◊  ہفتہ وار مباحثہ کے لیے اپنے دوستوں کیساتھ مل کرمطالعہ گروپ بنانا۔

 ◊ درجہ میں تفصیلی نوٹ لکھ لینا ۔

 ◊ ٹیوٹوریل/کوچنگ سنٹر جوائن کرنا ۔

 ◊ ہر ایک باب کے لیے تحریری نوٹ تیار کرنا ۔

 ◊ نصابی کتب کے ابواب کا مکمل مطالعہ کرنا ۔

 ◊ پچھلے تین سالوں کے سوالات حل کرنا ۔

 ◊  کلاس ختم ہوجانے کے

 بعد اپنے استاد سے بات چیت  کیجیے۔


سیاقی ذہانت:سیاقی ذہانت یا عملی ذہانت کا تعلق روز مرہ کے پیش آنے والے ماحولیاتی تقاضوں کے ساتھ برتاؤ کرنے کی قابلیت سے ہوتا ہے ۔ اسے اسٹریٹ اسمارٹنیس ،یا بزنس سنس،کہا جاسکتا ہے ۔ یہ قابلیت اعلیٰ پیمانہ پر رکھنے والے اشخاص اپنے موجودہ ماحول کے ساتھ بہ آسانی رچ بس جاتے ہیں یا موجودہ ماحول کے بجائے زیادہ موافق یا مناسب ماحول کو منتخب کر لیتے ہیں، یا ماحول میں ایسی تبدیلی لے آتے ہیں جو ان کی ضروریات کے لیے موزوں ہو، اس لیے وہ زندگی میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
اسٹرن برگ کا سہ رخی ذہانتی نظریہ ذہانت کی تفہیم کے لیے ترتیب معلومات طرز نظر کی نمائندگی کرتا ہے ۔

منصوبہ بندی ،توجہ ،بیداری ،اورذہانت ہمہ وقتی تواتری ماڈل (پی اے ایس ایس) 

جے ۔پی ۔ داس ،جیک نیلگیری ،اور کیربی (1994) نے اس ماڈل کوتیار کیا۔ اس ماڈل کے مطابق دانشورانہ کارکردگی کے اندر تین عصباتی نظاموں کاایک دوسرے پر منحصر تفاعل شامل ہوتا ہے ،جنھیں دماغ کی تفاعلی اکائیاں کہا جاتا ہے ۔یہ اکائیاں بیداری ،توجہ ،کوڈنگ یا عمل کرنے ،اور منصوبہ بندی کے لیے علی الترتیب ذمہ دار ہوتی ہیں ۔
بیداری توجہ : بیداری کی حالت کسی بھی کردار کی بنیاد ہے کیونکہ یہ مہیج پر توجہ مبذول کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے ۔ بیداری اور توجہ سے ہی کوئی شخص اس قابل ہوتا ہے کہ معلومات کو پروسس کرے۔ بیداری کی ایک مناسب سطح ہماری توجہ کو کسی مسئلہ کے متعلقہ پہلوؤں پر منعکس کراتی ہے۔ بہت زیادہ یا بہت کم بیداری توجہ میں خلل ڈال سکتی ہے ۔مثال کے طور پر جب آپ کے استاذ نے آپ کو اس آزمائش (جانچ)کے بارے میں بتایا جس کے اہتمام کا وہ منصوبہ بنارہے ہیں،تو یہ آپ کو مخصوص ابواب پرتوجہ دینے کے لیے بیدار کرے گی ۔ بیداری آپ کو مجبور کرے گی کہ آپ اپنی توجہ ابواب کے مواد کے مطالعہ،آموزش اور نظر ثانی پر دیں ۔
بیک وقتی متوالی عمل: معلومات کو آپ اپنے عملی نظام میں یاتو ہمہ وقتی طور پر یا پھرکامیابی طور پر منقسم کر سکتے ہیں ۔ ہمہ وقتی عمل اس وقت واقع ہوتا ہے جب آپ مختلف تصورات کے مابین تعلقات کا ادراک کرتے ہیں اور فہم کے لیے انھیں ایک بامعنی وضع میں منقسم کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر ،ریوین کی پروگریسسومیٹرکس (آر ۔پی ۔ایم) آزمائش میں ایک ڈیزائن دی جاتی ہے جس کا کوئی حصہ ہٹادیا جاتا ہے۔ دیے ہوئے چھ اختیاری انتخابات میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو ڈیزائن کو عمدہ طور پر مکمل کر ے۔ ہمہ وقتی عمل دی گئی مجرد شکلوں کے مابین تعلق اور معنی سمجھنے میں ہماری مددکرتے ہیں ۔متوالی عمل اس وقت واقع ہوتا ہے جب آپ تمام معلومات کو سلسلہ واریاد کرتے ہیں جس میں ایک بازیافت دوسرے بازیافت کی جانب لے جاتی ہے۔ہندسوں، حروف اور پہاڑہ وغیرہ کی آموزش متوالی عمل کی عمدہ مثالیں ہیں۔
منصوبہ بندی : یہ ذہانت کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔جب معلومات  جمع ہوجاتی ہے اور اس پر عمل کاری بھی ہوجاتی ہے ،تب منصوبہ بندی فعال ہوتی ہے ۔ یہ ہم کو اجازت دیتی ہے کہ ہم فعل کے ممکن طریقوں کی تفکیر کریں ، ان کو عملی جامہ پہنادیں تاکہ ہدف تک پہنچ جائیں اور ان کی اثر انگیزی کی پیمائش کی قدر کریں ۔ اگرکوئی منصوبہ بند کام نہیں کرتا ہے تو متوقع یا مفروضہ کام کی ضرورتوں کے مطابق اس میں ترمیم کرتے ہیں۔مثلاً اپنے استاذ کے آزمائش ضمیمہ کو لیجیے۔ آپ کو مقاصد طے کرنے ہوں گے، مطالعہ کے اوقات کا منصوبہ بنانا ہوگا مسائل کی صورت میں وضاحت کرنی ہوگی اور اگر آپ آزمائش کے لیے دیے گئے ابواب کو یاد نہیں کر پاتے ہیں تو دیگر طریقوں (جیسے زیادہ وقت دینا، کسی دوست کے ساتھ مطالعہ کرنا ،وغیرہ) کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔
یہ سب پی اے ایس ایس عمل علم بنیاد پرکام کرتے ہیں جن کی  یا تو ماحول سے رسمی طور پر (مطالعہ،تحریر،اور اختبار کرنے کے ذریعہ) یا پھر غیر رسمی طور پر نشوونما ہوتی ہے۔ یہ عمل نوعیت میں تعاملی اور فعال ہوتے ہیں ،تاہم ان میں سے ہر ایک کے اپنے مخصوص تفاعل ہوتے ہیں ۔ داس اور نیلگیری نے آزمائشوں کا ایک مجموعہ بنایا، جسے وقوفی جائزہ نظام (سی اے ایس) کہتے ہیں۔اس میں لفظی اور غیر لفظی دونوں طرح کے کام شامل ہیں جو بنیادی وقوفی تفاعل کو جن کے بارے میں تصور کیاگیا ہے یہ اسکول کی تعلیم سے مبرا ہوتے ہیں، کی پیمائش کرتے ہیں۔ آزمائشوں کا مجموعہ 5 سے 18 سال کی عمر تک کے لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں ۔جائزہ کے نتائج کا استعمال آموزش مسائل کے ساتھ بچوں کی وقوفی کمی کی  اصلاح کے لیے کیا جاسکتا ہے ۔یہ نمونہ ذہانت کے معلوماتی طریقہ کار کی نمائندگی کرتا ہے۔

ذہانت میں انفرادی فرق 

کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ ذہین کیوں ہوتے ہیں؟ یہ ان کے موروثیت کی و جہ سے ہوتا ہے ،یا یہ ماحولیاتی عوامل کے اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے ؟ ان عوامل کے اثرات کے متعلق گیارھویں جماعت میں افراد کے نشوونما کے باب میں آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔

ذہانت: فطرت اورتربیت کا باہمی عمل 

ذہانت پر توارثی اثرات کا ثبوت زیادہ تر جڑواں اورمتبنیٰ بچوں کے مطالعہ سے ملتا ہے ایک ساتھ پرورش پائے ہوئے مماثل جڑواں کی ذہانت میں ربط تقریباً 0.90 ہوتا ہے ۔ایسے جڑواں جنھیں بچپن کی ابتدا ہی میں الگ کردیاگیا تھا ان کی ذہانت،شخصیت اور کردارکی خصوصیات میں بھی قابل ذکر مماثلت دیکھنے کو ملی ۔الگ الگ ماحول میں پرورش یافتہ مماثل جڑواں کی ذہانت میں ربط 0.72 ملا،تو ان جڑواں بھائیوں کی ذہانت میں ربط تقریباً 0.60، اور ان بھائیوں اور بہنوں میں ،جن کی ایک ساتھ پرورش ہوئی تھی ربط تقریباً 0.50 تھا ۔ جب کہ سگے بھائی بہن جن کی پرورش الگ الگ ہوئی تھی ان میں ربط 0.25 ملا۔ دوسرے قسم کاثبوت متبنی بچوں کے مطالعوں سے ملتا ہے، جو یہ بتاتے ہیں کہ بچوں کی ذہانت اپنے متبنی والدین کے مقابلہ میں طبعی یا دینے کے لیے بیدار کرے گی ۔ بیداری آپ کو مجبور کرے گی کہ آپ اپنی توجہ ابواب کے مواد کے مطالعہ،آموزش اور نظر ثانی پر دیں ۔
بیک وقتی متوالی عمل: معلومات کو آپ اپنے عملی نظام میں یاتو ہمہ وقتی طور پر یا پھرکامیابی طور پر منقسم کر سکتے ہیں ۔ ہمہ وقتی عمل اس وقت واقع ہوتا ہے جب آپ مختلف تصورات کے مابین تعلقات کا ادراک کرتے ہیں اور فہم کے لییانھیں ایک بامعنی وضع میں منقسم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ،ریوین کی پروگریسسومیٹرکس (آر ۔پی ۔ایم) آزمائش میں ایک ڈیزائن دی جاتی ہے جس کا کوئی حصہ ہٹادیا جاتا ہے۔ دیے ہوئے چھ اختیاری انتخابات میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو ڈیزائن کو عمدہ طور پر مکمل کر ے۔ ہمہ وقتی عمل دی گئی مجرد شکلوں کے مابین تعلق اور معنی سمجھنے میں ہماری مددکرتے ہیں ۔متوالی عمل اس وقت واقع ہوتا ہے جب آپ تمام معلومات کو سلسلہ واریاد کرتے ہیں جس میں ایک بازیافت دوسرے بازیافت کی جانب لے جاتی ہے۔ ہندسوں، حروف اور پہاڑہ وغیرہ کی آموزش متوالی عمل کی عمدہ مثالیں ہیں۔
منصوبہ بندی : یہ ذہانت کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ جب معلومات  جمع ہوجاتی ہے اور اس پر عمل کاری بھی ہوجاتی ہے ،تب منصوبہ بندی فعال ہوتی ہے۔  یہ ہم کو اجازت دیتی ہے کہ ہم فعل کے ممکن طریقوں کی تفکیر کریں ، ان کو عملی جامہ پہنادیں تاکہ ہدف تک پہنچ جائیں اور ان کی اثر انگیزی کی پیمائش کی قدر کریں۔ اگرکوئی منصوبہ بند کام نہیں کرتا ہے تو متوقع یا مفروضہ کام کی ضرورتوں کے مطابق اس میں ترمیم کرتے ہیں۔مثلاً اپنے استاذ کے آزمائش ضمیمہ کو لیجیے۔ آپ کو مقاصد طے کرنے ہوں گے، مطالعہ کے اوقات کا منصوبہ بنانا ہوگا مسائل کی صورت میں وضاحت کرنی ہوگی اور اگر آپ آزمائش کے لیے دیے گئے ابواب کو یاد نہیں کرپاتے ہیں تو دیگر طریقوں (جیسے زیادہ وقت دینا، کسی دوست کے ساتھ مطالعہ کرنا ،وغیرہ) کے بارے میں غور کرناہوگا۔
یہ سب پی اے ایس ایس عمل علم بنیاد پرکام کرتے ہیں جن کی  یا تو ماحول سے رسمی طور پر (مطالعہ،تحریر،اور اختبار کرنے کے ذریعہ) یا پھر غیر رسمی طور پر نشوونما ہوتی ہے۔ یہ عمل نوعیت میں تعاملی اور فعال ہوتے ہیں ،تاہم ان میں سے ہر ایک کے اپنے مخصوص تفاعل ہوتے ہیں۔ داس اور نیلگیری نے آزمائشوں کا ایک مجموعہ بنایا، جسے وقوفی جائزہ نظام (سی اے ایس) کہتے ہیں۔ اس میں لفظی اور غیر لفظی دونوں طرح کے کام شامل ہیں جو بنیادی وقوفی تفاعل کو جن کے بارے میں تصور کیاگیا ہے یہ اسکول کی تعلیم سیمبرا ہوتے ہیں، کی پیمائش کرتے ہیں۔ آزمائشوں کا مجموعہ 5 سے 18 سال کی عمر تک کے لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں ۔جائزہ کے نتائج کا استعمال آموزش مسائل کے ساتھ بچوں کی وقوفی کمی کی  اصلاح کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ یہ نمونہ ذہانت کے معلوماتی طریقہ کار کی نمائندگی کرتا ہے۔

ذہانت: فطرت اورتربیت کا باہمی عمل 

ذہانت پر توارثی اثرات کا ثبوت زیادہ تر جڑواں اورمتبنیٰ بچوں کے مطالعہ سے ملتا ہے ایک ساتھ پرورش پائے ہوئے مماثل جڑواں کی ذہانت میں ربط تقریباً 0.90 ہوتا ہے۔ ایسے جڑواں جنھیں بچپن کی ابتدا ہی میں الگ کردیاگیا تھا ان کی ذہانت،شخصیت اور کردارکی خصوصیات میں بھی قابل ذکر مماثلت دیکھنے کو ملی۔ الگ الگ ماحول میں پرورش یافتہ مماثل جڑواں کی ذہانت میں ربط 0.72 ملا،تو ان جڑواں بھائیوں کی ذہانت میں ربط تقریباً 0.60، اور ان بھائیوں اور بہنوں میں ،جن کی ایک ساتھ پرورش ہوئی تھی ربط تقریباً 0.50 تھا۔ جب کہ سگے بھائی بہن جن کی پرورش الگ الگ ہوئی تھی ان میں ربط 0.25 ملا۔ دوسرے قسم کاثبوت متبنی بچوں کے مطالعوں سے ملتا ہے، جو یہ بتاتے ہیں کہ بچوں کی ذہانت اپنے متبنی والدین کے مقابلہ میں طبعی یا حیاتیاتی والدین سے زیادہ مماثل ہوتی ہے ۔
جہاں تک ماحول کے کردارکا تعلق ہے ،مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ جیسے جیسے بچوں کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے ان کی ذہانت ان کے متبنی والدین کے زیادہ قریب ہوتی جاتی ہے ۔ناموافق صورت حال گھروں کے بچے جب ایسے کنبوں کے ذریعہ متنبی بنالیے جاتے ہیں جن کی سماجی اور اقتصادی حیثیت اونچی ہوتی ہے تو ان کی ذہانت کی سطح میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی محرومی ذہانت کو کم کرتی ہے جب کہ بھرپور تغذیہ ،اچھے کنبہ کا پس منظراور عمدہ اسکولی تعلیم ذہانت میں اضافہ کرتی ہے۔ ماہرین نفسیات عام طور پر اس بات سے متفق ہیں کہ ذہانت توارث (فطرت) اور ماحول(تربیت) کے ایک پیچیدہ تعامل کا نتیجہ ہے ۔توارث کے بارے میں سب سے عمدہ نقطۂ نظریہ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ ایسی شے ہے جوکہ ایک حیطہ تیار کرتی ہے جس کے اندر کسی فرد کی نشونما ماحول سے ملی پشت پناہی اور مواقع کے ذریعہ حقیقی معنوں میں متشکل ہوتی ہے ۔

ذہانت کا جائزہ 

1905 میں الفریڈ بینے اور تھیوڈور سائمن نے ذہانت کی رسمی طور پر پیمائش کی اولین کامیاب کوشش کی۔ 1908 میں جب پیمانہ کی نظر ثانی ہوئی تو انھوں نے ذہنی عمر کا تصور پیش کیا جو اس عمر کے گروپ کے لوگوں کیتناسب میںکسی شخص کی ذہانتی نشوونما کی ایک پیمائش ہوتی ہے ۔ 5 برس کی ذہنی عمرکا مطلب ایک ذہانت آزمائش میں کسی بچے کی کارگذاری 5 سال کے گروہ کی اوسط کارگذاری کے مساوی ہوتی ہے۔طبعی عمر پیدائش سے لے کر حیاتیاتی عمرہے۔ ایک ذہین بچے کی ذہنی عمر اس کی حقیقی عمر سے زیادہ ہوتی ہے ۔کند ذہن یا غبی کے لیے ذہنی عمر سے کم ہوتی ہے ۔بینے اور سائمن نے پسماندگی کی تعریف ذہنی عمر کے حقیقی عمرسے دو سال کم ہونے کے طور پر کی ہے ۔
1912 میں ولیم اسٹرن نے جو ایک جرمن ماہر نفسیات تھے ، قدر ذہانت کا تصور پیش کیا ۔آئی کیویا قدر ذہانت سے مراد ذہنی عمر کو حقیقی عمر سے تقسیم کرنے کے بعد 100 سے ضرب کرنے پر حاصل شدہ عددسے ہوتاہے۔
    ذہنی عمر
قدر ذہانت= 100× 
  حقیقی عمر
اعشاریہ کے نقطہ کو ختم کرنے کے لیے عدد 100 کا استعمال مضروب دہندہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب ذہنی عمر حقیقی عمر کے مساوی ہوتی ہے تو قدر ذہانت 100کے مساوی ہوتی ہے۔ اگر ذہنی عمر حقیقی عمر سے زیادہ ہوتی ہے تو قدر ذہانت 100 سے زیادہ ہوتی ہے،قدر ذہانت 100 سے کم اس وقت ہوتی ہے جب ذہنی عمر حقیقی عمر سے کم ہو۔ مثلاً ایک دس سال کی عمر کے بچہ کی قدر ذہانت جس کی ذ ہنی عمر12 سال ہو 120 (100×12/10) ہوگی ،جب کہ اسی بچہ کی قدرذہانت اگر اس کی ذہنی عمر 7سال ہو تو 70  (100×7/10) ہوگی۔عمر سے قطع نظر لوگوں کی اوسط قدرذہانت 100 ہوتی ہے ۔
’ذہین‘اعداد
(قدرذہانت کا شمارکرنا)
ایک 14سال کی عمر کے بچے کی قدر ذہانت معلوم کیجیے ،جس کی ذہنی عمر 16سال ہے ۔
ایک 12سال کے بچے کی ذہنی عمر معلوم کیجیے جس کی قدر ذہانت 90ہے۔

3
آبادی میں قدر ذہانت کے شمار کی اس طرح سے تقسیم ہوتی ہے کہ زیادہ تر لوگوں کے شمارات تقسیم کے حیطہ کے وسط میں آتے ہیں ۔صرف چند لوگوں کے شمارات ہی یا تو بہت زیادہ ہوتے ہیں یا بہت کم ۔قدر ذہانت شمارات کے لیے تکریری استغراق ایک گھنٹی کی شکل کے منحنی سے ملتا جلتا ہوتا ہے جسے نارمل تقسیم خط کہتے ہیں۔ اس طرح کا استغراق اپنے مرکزی قدر جسے اوشوا کہتے ہیں،کے گرد ہم آہنگ ہوتا ہے ۔نارمل خط تقسیم کی شکل میں قدر ذہانت شمارات کا استغراق شکل 1.2 میں دکھایا گیاہے ۔
4

شکل1.2 اوسط قدر ذہا نت

آبادی میں اوسط قدر ذہانت 100 ہوتی ہے ۔110-90 کے حیطہ میں قدر ذہانت شمارات والے لوگوں کی ذہانت نارمل ہوتی ہے ۔70 سے کم قدر ذہانت کے لوگوں کو ابطائے ذہنی ہونے کا شبیہ کہاجاتا ہے جب کہ 130 سے زیادہ قدر  ذہانت والے اشخاص مستثنیٰ لیاقت رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں،کسی شخص کی قدر ذہانت اسکور کی تشریح جدول 1.1 کے حوالہ سے کی جاتی ہے ۔

 جدول 1.1:  قدر ذہانت کی بنیاد پر لوگوں کی زمرہ بندی 

آبادی میں فی صد تشریحی لیبل قدر ذہانت حیطہ 2.2 بہت اعلی درجہ 130سے اوپر 6.7 اعلیٰ درجہ 120 سے 130 16.1 اعلیٰ اوسط 119-110 5.1 اوسط 109-90 16.1 ادنیٰ اوسط 89-80 6.7 حد فاصل 79-70 2.2 ذہنی چیلنچ شدہ؍ابطائے ذہنی  70سے کم

سبھی لوگوں میں دانشورانہ استعدادیکساں نہیں ہوتی ہے یا کچھ لوگ استثنائی طور پربہت تیز ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اوسط سے کم ہوتے ہیں۔ ذہانت آزمائش کا ایک عملی استعمال ان اشخاص کی شناخت کرنے سے متعلق ہوتا ہے جو دانش ورانہ تفاعل کی انتہا پر ہوتے ہیں۔ اگر آپ جدول 1.1 کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ تقریباً 2 فی صدآبادی کی قدر ذہانت 130 سے زیادہ ہوتی ہے اور اتنے ہی فی صدلوگوں کی قدر ذہانت 70 سے کم ہوتی ہے ۔ پہلے گروہ کے اشخاص دانش ورانہ طور پر قابل کہلاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو دوسرے گروہ میں آتے ہیں ذہنی طور پر چیلنج شدہ یا ابطائے ذہنی کہلاتے ہیں ۔ یہ دونوں گروہ نارمل آبادی سے اپنی وقوفی ،جذباتی اور متحرکی خصوصیات میں بہت زیادہ انحراف کرتے ہیں ۔

ذہانت کے تغیرات

دانش ورانہ کمی 

ایک طر ف تو غیر معمولی طورپرذہین اور تخلیقی اشخاص ہیں جن کے بارے میں ہم مختصراً ذکر کر چکے ہیں ۔جب کہ دوسری جانب وہ بچے ہیں جنھیں بہت زیادہ سہل مہارتوں کی آموزش میں بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جو دانش ورانہ کمی ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں ، ذہنی طور پر چیلنج شدہ یا ابطائے ذہنی کہلاتے ہیں۔ ایک گروہ کی حیثیت سے ذہنی کمی یا ابطائے ذہنی میں وسیع تغیر پایا جاتا ہے۔ امریکن ایسوسی ایشن نے ذہنی کمی کو نمایاں طور پر ذیلی،اوسط اور عام دانش ورانہ تفاعل جو تطبیقی کردار میں کمی کے ساتھ بیک وقت موجود ہوتا ہے اور نشوونمائی میعادوں میں ظاہر ہوتاہے ،کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ تعریف تین بنیادی خصوصیتوں کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔اول، ذہنی طور پر پسماندہ یا ابطائے ذہنی کے بارے میں فیصلہ اس بنیادپر کیاجاتا ہے کہ کوئی شخص خاص طور پر ذیلی اوسط دانش ورانہ تفاعل دکھائے ،ایسے اشخاص جن کی قدر ذہانت 70 سے کم ہوتی ہے کو ذیلی۔ اوسط ذہانت رکھنے والا بتایا جاتا ہے۔ دوئم کا تعلق تطبیقی کردار میں کمی سے ہوتا ہے ۔تطبیقی کردار سے مراد کسی شخص کی استعداد کا خود مختار ہونا ،اور اپنے ماحول سے متاثرہوکر برتاؤ کرنا ہے۔سوئم خصوصیت یہ ہے کہ کمی کا مشاہدہ نشوونما ئی میعاد کے اندر بھی ضروری ہے جو کہ 0 سے 18 سال کے درمیان کی عمرمیں ہوتی ہے ۔
ایسے افراد جن کی زمرہ بندی ابطائے ذہنی رکھنے والوں کے طور پر کی گئی ہے ،اپنی قابلیتوں میں اہم اور معنی خیز تغیر دکھاتے ہیں ،جس کا حیطہ ان لوگوں سے جنھیں مخصوص توجہ دے کر تفاعل اور کام سکھایا جاسکتا ہے ،سے لے کران لوگوں تک جن کی تربیت نہیں کی جا سکتی ہے اور جنھیں اداریاتی دیکھ بھال کی تاعمر ضرورت ہوتی ہے ،تک پھیلاہوتاہے ۔آپ یہ پہلے بھی جان چکے ہیں کہ آبادی میں اوسط قدر ذہانت 100 ہوتی ہے ۔ان شمارات کا استعمال ذہنی طور پر پسماندہ زمرہ کوسمجھنے کے لیے کیا جاتاہے۔پسماندگی کی مختلف سطحیں درج ذیل ہیں۔ہلکی پسماندگی (قدر ذہانت 55 تا 69) ،اعتدال پسندانہ پسماندگی (قدر ذہانت25 تا 39)،شدیدپسماندگی (قدر ذہانت 39-25) بہت زیادہ پسماندگی(قدر ذہانت 25سے کم) گرچہ ہلکی پسماندگی والے لوگوں کی نشوونما ان کے ہم عمر ساتھیوں کے مقابلہ میں بطورخاص دھیمی ہوتی ہے پھر بھی وہ لوگ آزادانہ طور پر تفاعل کر سکتے ہیں ،اپنے کاموں کو انجام دے سکتے ہیں اور کنبہ کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے پسماندگی کی سطح میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،ویسے ویسے مشکلات بھی زیادہ نمایاں ہوتی جاتی ہیں۔ ہلکی پسماندگی والے لوگ اپنے ہمجولیوں یا ساتھیوں سے لسانی اور حرکی مہارتوں میں پیچھے رہتے ہیں۔ انھیں خوددیکھ ریکھ کرنے کی مہارتوں سہل سماجی اور ترسیل مہارتوں میں تربیت دی جاسکتی ہے۔ انھیں روزمرہ کے کاموں کو انجام دینے کے لیے معتدل درجہ کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بہت زیادہ اور شدید پسماندگی والے افراد میں اپنی زندگی کو منظم کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی ہے اور انھیں تا عمر مستقل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ذہنی طور پر پسماندہ چیلنچ شدہ لوگوں کی خصوصیات کے بارے میں آپ باب 4 میں مزید مطالعہ کریں گے ۔

دانش ورانہ فطینیت (Intellectual Giftedness) 

دانش ورانہ طور پر فطین افراد میں ان کی نمایاں صلاحیتوں کی وجہ سے اعلیٰ کارگذاری پائی جاتی ہے فطین افراد کا مطالعہ 1925 میں شروع ہوا۔ جب لیوس ٹرمین نے 1500بچے جن کی قدر ذہانت 130یا اس سے زیادہ تھی کی زندگیوں کامطالعہ کیا اور اس بات کا بغور مشاہدہ کیا کہ کس طرح سے ذہانت پیشہ ورانہ کامیابی اور زندگی کی سازگاری (توافق) سے متعلق ہوتی ہے۔ اگر چہ ’لیاقت‘اور فطینیت کی اصطلاحات کا استعمال اکثر ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر ہوتا ہے ،لیکن ان سے بالکل الگ الگ چیزیں مراد ہوتی ہیں۔ فطینیت مستثنیٰ طورپر عمومی قابلیت ہے جس کا مظاہرہ وسیع قسم کے میدانوں اور اعلیٰ کارگذاری میں ہوتاہے ۔لیاقت اس کے مقابلے میں ایک تنگ اصطلاح ہے اور اس سے مراد مخصوص میدانوں (جیسے روحانی ،سماجی اورجسمانی کھیل کود وغیرہ ) میں نمایاں قابلیت ہوتی ہے اعلیٰ قابلیت کے لوگوں کو کبھی کبھی نجیب الکمال بھی کہا جاتاہے ماہرین نفسیات نے یہ واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے نقطۂ نظر سے فطینیت اعلیٰ قابلیت ، اعلیٰ تخلیقیت اور اعلیٰ پیمان سے وابستگی پر منحصر ہوتی ہے ۔
فطین بچے دانش ورانہ علامت کا ابتدائی مظاہرہ کرتے ہیں۔ طفولیت اور ابتدائی بچپن میں بھی وہ وسعت توجہ ،عمدہ شناخت،حافظہ ،نئی اور انوکھی چیزوں کی ترجیح، ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے حساسیت ،اور لسانی مہارتوں کا قبل از وقت مظاہرہ کرتے ہیں ۔شاندار کارگذاری کے ساتھ فطنیت کو مساوی درجہ دینا صحیح نہیں ہے ۔کھلاڑی جو بر تر نفسی کی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ بھی فطین ہوتے ہیں ہر فطین طالب علم کی شخصیت ، خصوصیت اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔فطین بچوں کی کچھ اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔
◊ ترقی یافتہ منطقی تفکیر ،سوالات کرنا اور مسائل حل کرنے والاکردار 
◊ معلومات کے عمل میں تیز رفتار 
◊ برترتعلیم اور امتیاز کی قابلیت 
◊ اچھوتی اور تخلیقی تفکیر کی ترقی یافتہ سطح 
◊ ذاتی تحریک اور عزت نفس کی اعلیٰ سطح 
◊ آزادانہ اور غیر تقلیدی تفکیر 
◊ لمبے عرصہ تک کے لیے یگانہ اکادمی کیرئیر کے لیے ترجیح 
فطین لوگوں کی شناخت کا طریقہ صرف ذہانت کی آزمائش یاکارگزاری کی پیمائش نہیں ہے ۔معلومات کے دیگر بہت سے ذرائع ،جیسے اساتذہ کے فیصلے ،مکتبی تحصیل ریکارڈ ،والدین کے انٹرویو ،ہمجولیوں کی اور خود احتسابی وغیرہ کا بھی استعمال دانش ورانہ جائزہ کے ساتھ ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ اپنی  بھر پورامکانی قوت تک پہنچنے کے لیے فطین بچوں کو مخصوص توجہ اور مختلف تعلیمی پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے یہ باضابطہ درجات میں عام بچوں کو دی جانے والی توجہ اور پروگراموں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ ان میں زندگی کو بہتربنانے کے پروگرام شامل ہو سکتے ہیں جو تخلیقی تفکیر ،منصوبہ بندی ،فیصلہ لینے اور ترسیل میں بچوں کی مہارتوں کو او ر تیز کر سکتی ہیں ۔

ذہانتی آزمائشوں کی اقسام 

ذہانتی آزمائش مختلف قسم کی ہوتی ہیں ۔ اپنے انتظام کی طریقۂ کار کی بنا پر انھیں انفرادی اور اجتماعی آزمائشوں میں زمرہ بند کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی درجہ بندی استعمال ہوئے مدات کی بنیاد پر یا تو لفظی یا پھر کارگذاری آزمائشوں کے طور پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔کوئی ذہانتی آزمائش کس حد تک ایک ثقافت کے مقابلہ میں دوسری ثقافت کی پاسداری کرتی ہے اس کی بنیاد پر انھیں ثقافتی منصفانہ اور ثقافتی جانبدار کہا جا سکتا ہے۔آپ کسی آزمائش کا انتخاب اپنے استعمال کے مقصد کی بنیاد پر کرسکتے ہیں۔

انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں

 انفرادی آزمائش ایسی آزمائش ہوتی ہے جو ایک وقت میں ایک ہی فرد پر آزمائی جا سکتی ہے جبکہ اجتماعی آزمائش کا استعمال ہمہ وقت بہت سے اشخاص پر کیا جا سکتا ہے۔ انفرادی آزمائشوں میں منتظم آزمائش کو معمول کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور آزمائشی مدت کے دوران ان کے احساسات، کیفیت مزاج اور اظہارات کے لیے حساس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اجتماعی آزمائشوں میں اس کا موقع نہیں مل پاتا ہے کہ معمول کے احساسات سے واقف ہوسکیں۔ انفرادی آزمائشیں لوگوں کو یہ اجازت دیتی ہیں کہ جوابات زبانی طور پر ،یا تحریری شکل میں ،یاآزمائش کرنے والے کی ہدایات کے مطابق اشیامیں جوڑ توڑ کر کے دیں۔
اجتماعی آزمائشوں میں عام طور پر تحریری جوابات تعددی انتخاب کی شکل میں دے جاتے ہیں ۔

لفظی ،غیر لفظی یا کارگذاری آزمائشیں

ایک ذہانتی آزمائش مکمل طور پر لفظی ،مکمل طور پر غیر لفظی یا مکمل طور پر کارگذاری پر مبنی ہوسکتی ہے ،یا یہ ہر ایک زمرہ سے مدات کا مرکب ہوسکتی ہے۔ لفظی آزمائشوں میں معمول کو یا تو زبانی طور پر یا پھر تحریری شکل میں لفظی جوابی عمل کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس لیے لفظی آزمائشوں کو صرف خواندہ لوگوں پر ہی منظم کیا جاسکتا ہے ۔غیر لفظی آزمائشوں میں تصاویر یا تمثیلوں کا استعمال آزمائشی مدات کے طور پر کیا جاتا ہے ۔ ریوین کا پروگریسیو میٹریسنر آزمائش غیر لفظی آزمائش کی ایک مثال ہے ۔ اس آزمائش میں جس کی آزمائش ہوتی ہے وہ ایک نامکمل وضع کا معائنہ کرتا ہے اور متبادل سے ایک شکل کا انتخاب کرتا ہے جو وضع کو مکمل کردے۔ریوین پروگریسیو میٹریسز(آرپی ایم)سے ایک نمونہ ذیل کی شکل 1.3میں دیا گیا ہے ۔
6

شکل1.3: ریوین پروگریسیو میٹریسنر سے ایک مد

کارگذاری آزمائشوں میں اشیا اوردیگرسامان کو کسی کام کے لیے جوڑ توڑ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔مدات کاجواب دینے کے لیے تحریری زبان ضروری نہیں ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر کو(ہ ز) بلاک ڈیزائن آزمائش میں لکڑی کے بہت سے بلاک ہوتے ہیں۔ جس کی آزمائش ہوتی ہے اسے ایک ڈیزائن کو ایک مقررہ مدت کے اندر بنانے کے لیے بلاکوں کو ترتیب دینے کے لیے کہاجاتا ہے ۔کارگذاری آزمائشوں کا ایک مخصوص فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اشخاص پر بآسانی کی جاسکتی ہے۔

ثقافت۔ غیر جانبداریا منصفانہ اورثقافت۔جانبدار آزمائشیں

ذہانتی آزمائشیں ثقافت منصفانہ یا ثقافت جانبدار ہو سکتی ہیں ۔ بہت سی ذہانتی آزمائشیں اس ثقافت کے لیے جس میں ان کی نشوونما ہوئی ہے ،ایک جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ امریکا اوریوروپ میں تیارکردہ آزمائشیں ایک شہری،اوسط درجہ کے ثقافتی آداب ورسوم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ا س لیے تعلیم یافتہ اوسط درجہ سے تعلق رکھنے والے گورے عامل کی کارگذاری ان آزمائشوں پر عام طور سے عمدہ ہوتی ہے ۔ ان آزمائشوں کے مدات ایشیا اور افریقہ کے ثقافتی تناظر کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں ۔ان آزمائشوں کے معیارات بھی مغربی ثقافتی گروہوں کے لیے کیے گئے ہیں۔آپ معیارات کے تصورسے جن کی تشریح گیارھویں جماعت میں کی گئی ہے ، پہلے ہی سے واقف ہوں گے۔

باکس 1.1

ذہانتی آزمائشوں کے کچھ غلط استعمال 

اب تک یہ آموزش کر چکے ہوں گے کہ ذہانتی آزمائشیں بہت سے کارآمد مقاصد جیسے انتخاب،مشورہ، رہنمائی، تجزیہ ذات اورتشخیص میں مددکرتی ہیں۔ جب تک کہ یہ ایک تربیت یافتہ تفتیش کار کے ذریعہ استعمال نہ کی جائیں ۔ اس وقت تک ان کا استعمال ارادتاً یا غیر ارادتاً غلط بھی ہوسکتا ہے ۔غیر تربیت یافتہ سادہ لوح آزمائش کرنے والوں کے ذریعہ ذہانت کی آزمائش کرنے کے کچھ غلط اثرات درج ذیل ہیں۔

◊ کسی آزمائش پرخراب کارگذاری بچوں کے لیے بدنامی کا داغ ہوسکتی ہے جو ان کی کارگزاری اور خودداری پر مخالف اثرڈال سکتی ہے ۔

◊ آزمائشیں سماج میں والدین اساتذہ اور بزرگوں سے امتیازی عمل کی دعوت دے سکتی ہیں۔

◊ طبقہ وسط اورطبقہ اعلیٰ کی آبادی کے حق میں جانبدارانہ آزمائش کے اہتمام کے ذریعہ سے ان بچوں کی قدر ذہانت کا غلط اندازہ لگایاجاسکتاہے ،جو سماج کی ناموافق صورتحال والے طبقوں سےآتے ہیں۔ 

◊ ذہانتی آزمائشیں ،تخلیقی امکانی قوتوں اور ذہانت کے عملی رخ کو اپنی گرفت میں نہیں لیتی ہیں اور زندگی میں کامیابی کے ساتھ ان کا زیادہ تعلق بھی نہیں پایا گیا 

ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ذہانت ایک امکانی قوت کا عامل ہو سکتا ہے ۔

یہ بہتر ہے کہ ذہانت قدرسے متعلق آزمائشوں کے ساتھ وابستہ غلط عمل سے محتاط رہنا چاہیے اورکسی فرد کی طاقت اور کمزوریوں کے تجزیہ میں تربیت یافتہ ماہرین نفسیات کی مدد لی جانی چاہیے۔

کسی ایسی آزمائش کوبنانا تقریباً ناممکن ہے جو تمام ثقافتوں میں مساوی طور پر بامعنی انداز میں نافذ کی جاسکتی ہے ۔ ماہرین نفسیات نے ایسی آزمائشیں بنانے کی کوششکی جو ثقافت منصفانہ یا ثقافتی طور پر مناسب ہوں، یعنی جو مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تفریق نہ کرتی ہوں، اس طرح کی آزمائشوں میں مدات کی تشکیل اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ تمام ثقافتوں میں مشترکہ تجربات کا جائزہ لیں یا اس طرح کے سوالات حل کرنے ہوتے ہیں جن میں زبان کا استعمال نہ ہو۔غیر لفظی اور کارگذاری آزمائشیں ثقافتی جانبداری جو کہ لفظی آزمائشوں کے ساتھ عموماً مختلف اوربرعکس ہوتی ہیں،  کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ہندوستان میں ذہانتی آزمائش 

1930میں ایس ۔ایم۔محسن نے ہندی میں ذہانتی آزمائش کی ساخت وضع کرنے کی اولین کوشش کی۔ سی ایچ رائس سے بینے کی آزمائش کواردو اور پنجابی میں معیار بند کیا۔اسی وقت مہالینوبس نے بینے کی آزمائش کو بنگلہ میں معیار بندکیا۔ ہندوستانی محققین نے کچھ مغربی آزمائشوں بشمول ریوین پروگریسیسو میٹریسنر(آرپی ایم) ،ویکشلر کا بلوغ ذہانت پیمانہ (ڈبلو اے آئی ایس)، الگزنڈر کا پاس الانگ ، کیوبکامنسٹرکشن ،اور کوہ زبلاک ڈیزائن کے لیے ہندوستانی معیارات کی نشوونما کی لانگ اور مہتہ نے ایک ذہنی پیمائش کتابچہ تیار کیا جس میں مختلف زبانوں میں دستیاب ہندوستان میں103 ذہانت کی آزمائشوں کا ذکر ہے۔ اس وقت سے آزمائشوں کی ایک بڑی تعداد کی یا تو نشوونما کی گئی ہے یا مغربی ثقافتوں کے مطابق تیار کی گئیں۔تعلیمی اور نفسیاتی آزمائشوں کا قومی کتب خانہ (این ایل ای  پی ٹی) جو کہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) میں واقع ہے ،نے ہندوستانی آزمائشوں کو دستاویز بند کیا ہے ۔ ہندوستانی آزمائشوں کی ناقدانہ نظر ثانی کتابچوں کی شکل میں شائع ہو چکی ہے ۔ نفسیاتی آزمائشوں کے قومی کتب خانہ (این ایل ای پی ٹی) نے ذہانت، استعداد، شخصیت ،اور شوق یا دلچسپی کے میدان میں کتابچے شائع کیے ہیں ۔ جدول 1.2 میں ہندوستان میں بنائی گئی کچھ آزمائشوں کی فہرست دی گئی ہے ان سب کارگذاری آزمائشوں میں بھاٹیہ کی بیٹری سب سے زیادہ مقبول ہے۔

جدول1.2 ہندوستان میں تیارکردہ کچھ آزمائشیں


کارگذاری
لفظی
   ذہانت کی سی آئی ای اجتماعی آزمائش
 �     ادے شنکر کی ذہانت کی سی آئی ای لفظی اجتماعی آزمائش 
  کارگذاری آزمائشوں کی بھاٹیہ کی بیٹری ایس جلوٹا کی عمومی ذہنی قابلیت کی اجتماعی آزمائش
پرمیلا پاٹھک کی ڈرا۔اے۔مین آزمائش
 پریاگ مہتہ کی ذہانت کی اجتماعی آزمائش
رام گنگا سوامی کے ذریعہ ویکشلر بلوغ
 ایس۔ایم۔محسن کی ذہانت کی دی بہار آزمائش
کارگزاری ذہانت پیمانہ کا تطابق   بیورو آف سائیکولوجی ،الہ آباد کی ذہانت کی اجتماعی آزمائش 
کلشر بسٹھ کے ذریعہ اسٹین فورڈ۔بینے آزمائش کا ہندوستانی تطابق
 ایم ۔سی۔ جوشی کی ہندی میں عمومی ذہنی قابلیت کی آزمائش

ثقافت اور ذہانت

ذہانت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ افراد کو اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ثقافتی ماحول ذہانت کی نشوونما کے لیے ایک سیاق مہیاکرتاہے ۔وائی گوٹسکی نے،جو ایک روسی ماہر نفسیات ہے، یہ دلیل پیش کی ہے کہ ثقافت ایک سماجی سیاق یا پس منظرمہیا کرتا ہے جس کے اندر لوگ رہتے ہیں ،نمو پاتے ہیں اور اپنے ارد گردکی دنیا کو سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر ،تکنیکی طور پر کم نشوونما پائے سماجوں میں لوگوں کو ایک دوسرے سے متعلق کرنے میں سماجی اور جذباتی مہارتوں کی قدر کی جاتی ہے، فیصلہ اور استدلال کی قابلیتوں پر مبنی شخصی تحصیل کو ذہانت کانمائندہ تصور کیا جاتا ہے ۔
اس سے پہلے آپ پڑھ چکے ہیں کہ ثقافت رسم ورواج عقائد ،رویوں ، ادب اور آرٹ میں تحصیل کا ایک اجتماعی نظام ہے ۔کسی شخص کی ذہانت ان ثقافتی حدود کے ذریعہ تبدیل ہوتی ہے ۔نظریہ پیش کرنے والے بہت سے لوگوں نے ذہانت کو ثقافتی پس منظر کا خیال کیے بغیر فرد کی صفت مخصوص کے طور پر مانا ہے ۔ثقافت کی منفرد خصوصیات نے اب ذہانت کے نظریات میں کچھ مقام حاصل کیاہے ۔ اسٹرن برگ کے سیاقی یا عملی ذہانت کے خیال سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ذہانت ثقافت کی ایک پیداوار ہے ۔ وائی گوٹسکی بھی یہ مانتے ہیں کہ ثقافت کی بھی افراد کی طرح ،اپنی ایک خود کی زندگی ہوتی ہے، ان میں نمو ہوتا ہے اور تبدیلی بھی ہوتی ہے ،اور عمل کاری میں تصریح ہوتی ہے کہ کامیاب دانش ورانہ نشوونما کا آخری نتیجہ کیا ہوگا۔ ان کے مطابق ،ابتدائی ذہنی تفاعل (جیسے ،چلانا، ماں کی آواز پر توجہ دینا، بو کے لیے حساسیت ،چلنا اور دوڑنا) عالمی ہیں ۔لیکن وہ اسلوب جس میں اعلیٰ ذہنی تفاعل جیسے مسئلہ کوحل کرنا اور سوچنا کام کرتے ہیں زیادہ ترثقافت کی پیداوار ہوتے ہیں۔
تکنیکی طور پر ترقی یافتہ سماجوں میں بچوں کی پرورش کے ایسے طریقے اپنائے جاتے ہیں جوبچوں میں تعمیم اور تجرید کی مہارتوں ،رفتار،کم سے کم حرکات،ا ورذہنی جوڑ توڑ کو افزائش کرنے والی ہوتی ہیں۔ یہ سماج ایک قسم کے کردار کو تقویت دیتے ہیں جسے ہم تکنیکی ذہانت کہہ سکتے ہیں۔ ان سماجوں میں اشخاص توجہ ،مشاہدہ ،تجزیہ ،کارگذاری ،رفتار اور تحصیل شناخت رخ میں اچھی طرح سے ماہر ہوتے ہیں ۔مغربی ثقافتوں میں نشوونما پائے ذہانتی آزمائشوں میں کسی فر د میں پائی جانے والے ان مہارتوں کا خیال بخوبی رکھا گیا ہے ۔
بہت سے ایشیائی اور افریقی سماجوں میں تکنیکی ذہانت کی قدر اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہے ۔غیر مغربی ثقافتوں میں ذہین افعال خیال کی جانے والی کیفیتیں اور مہارتیں بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ اگر چہ یہ حدود مغربی ثقافتوں کے اثر سے دھیرے دھیرے ختم ہورہی ہیں۔ غیر مغربی تقاضوں میں سماج میں دوسروں سے تعلق بنانے کی مہارتیں بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ کچھ غیر مغربی تقاضوں میں انعکاس ذات اور اجتماعی شناخت رخ کو شخصی تحصیل اور انفرادی شناخت رخ کے مقابلہ میں زیادہ قدر دی جاتی ہے ۔

ہندوستانی روایت میں ذہانت 

تکنیکی ذہانت کے برعکس ہندوستانی ثقافت میں ذہانت کوکلی ذہانت کہا جاتا ہے جس میں سماجی اور عالمی ماحول کے ساتھ رابطہ پر زوردیا جاتا ہے۔ ہندوستانی مفکروں نے ذہانت کو کلی تناظر میں دیکھا جہاں وقوفی اور غیر وقوفی عمل کاریوں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کے ارتباط پر مساوی توجہ دی گئی ہے۔
سنسکرت لفظ ’بدّھی‘ جس کا استعمال اکثر ذہانت کی نمائندگی کے لیے  کیا جاتا ہے ذہانت کی مغربی تصور کے مقابلہ میں بہت زیادہ سادی ہے ۔ جے پی داس کے مطابق بدّھی میں وقوفی اہلیت جیسے،علم ،امتیاز اور تفہیم کے ساتھ ساتھ اس طرح کی مہارتیں جیسے ذہنی جدوجہد، تعین شدہ فعل، احساسات اور رائے شامل ہوتی ہیں۔ دیگر امور میں بدّھی ضمیر پر مبنی اپنی خود کی ذات کا عمل ، ارادہ اور خواہش ہے۔ اس طرح سے بدّھی کے خیال کے اندر ایک مضبوط وقوفی جز کے علاوہ ایک تاثراتی اور محرکی جز بھی شامل ہوتا ہے ۔ مغربی نقطۂ نظر جو بنیاد ی طور پر وقوفی پیرامیٹر پر مرکوز ہے،اس سے الگ مندرجہ ذیل اہلیتوں کی شناخت ہندوستانی روایت میں ذہانت کے رخوں کے طور پر کی گئی ہے ۔
 وقوفی استعداد (سیاق،تفہیم، امتیاز ،حل مسئلہ،اور تاثراتی ترسیل کی حساسیت) 
 سماجی اہلیت (سماجی نظم کے لیے احترام ،بزرگوں ،چھوٹوں اور ضرورت مندوں کے لیے ذمہ دارہونا،دوسروں کے بارے میں تشویش، دوسروں کے تناظر کی شناخت کرنا) 
 جذباتی اہلیت (انضباط نفس اور جذبات کی خود نگرانی ،ایمانداری شائستگی، عمدہ برتاؤ اور تعین ذات) 
◊ تجارتی اہلیت(ذمہ داری ،مستقل مزاجی، صبر،سخت محنت،چوکسی اور مقصودی کردار)

جذباتی ذہانت

جذباتی ذہانت کے خیال نے ذہانت کے تصور کو دانش ورانہ دائرہ کار کی دسترس سے باہر کر کے اور وسیع کردیا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ ذہانت میں جذبات بھی شامل ہوتے ہیں ۔آپ یہ نوٹ کر سکتے ہیں کہ یہ ہندوستانی روایت میں ذہانت کے تصور پر مبنی ہے ۔ جذباتی ذہانت مہارتوں کا ایک مجموعہ ہے جس کی بنیاد میں صحیح صحیح اندازہ ٔاظہار اور جذبات کا انضباط ہوتا ہے۔ یہ ذہانت کا احساسی رخ ہے ۔زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف اعلیٰ قدر ذہانت اور متعلمانہ ریکارڈ ہی کافی نہیں ہیں۔ آپ ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو علمی طور پر بہت ذہین ہوتے ہیں لیکن اپنی ذاتی زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ انھیں اپنے کنبوں میں، کام کرنے کے مقام پر اور آپسی تعلقات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں کیا کمی ہوتی ہے؟ کچھ ماہرین نفسیات کا یقین ہے کہ ان کی پریشانیوں کا منبع جذباتی ذہانت کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس تصور کو سب سے پہلے سیلووی اور میٹر نے دیا جنھوں نے جذباتی ذہانت کو اپنے خود کے جذبات کی نگرانی کرنے ،ان کے مابین امتیاز کرنے ،اپنی تفکیر اور افعال کی رہنمائی کی معلومات کواستعمال کرنے کی قابلیت کے طور پر سمجھا ہے۔ جذباتی قدر(آی کیو) کا استعمال جذباتی ذہانت کے اظہار کے لیے اس طرح کیا جاتا ہے جیسے قدر ذہانت (آئی  کیو)کا استعمال ذہانت کے استعمال کے لیے کیا جاتا ہے ۔
آسان اصطلاح میں،جذباتی ذہانت سے مراد جذباتی اطلاعات کی عمل کاری صحیح طور پر اور کارگر انداز میں کرناہے۔ ایسے اشخاص کی خصوصیات کو جاننے کے لیے جو جذباتی ذہانت کے معاملے میں بلند ہوتے ہیں ۔باکس 1.2 کا مطالعہ کیجیے۔
ماہرین تعلیمات کی توجہ جذباتی ذہانت پر خارجی دنیا کے چیلنجوں اور دباؤں سے متاثر طلباکے ساتھ برتاؤ کرنے کے لیے بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے پروگراموں سے جن کا مقصد طلباکی جذباتی ذہانت کی افزائش کرنا ہوتا ہے ، ان کے علمی تحصیل پر فائدہ مند اثرات ملے ہیں۔ ان سے امداد باہمی کرداروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سماج دشمن کارکردگی میں کمی ہوئی ہے ۔ یہ پروگرام طلباکو کلاس روم سے باہر کی دنیا کے چیلنجوں کاسامنا کرنے کے لیے تیار کرنے میں زیادہ کارگرثابت ہوتے ہیں ۔

مخصوص قابلیتیں

استعداد: نوعیت اور پیمائش

اب تک آپ لوگ ذہانت کے بارے میں کافی معلومات حاصل کرچکے ہیں۔ آپ یہ بازیافت کر سکتے ہیںکہ ذہانتی آزمائشیں عمومی ذہنی قابلیتوں کا جائزہ لیتی ہیں ۔استعداد سے مراد کارکردگی کے کسی مخصوص میدان میں مخصوص قابلیتیں ہوتی ہیں۔ یہ ان خصوصیات کا ایک مجموعہ ہوتی ہیں جو کسی فرد کی تربیت کے بعد کچھ مخصوص معلومات یا مہارت حاصل کرنے کی صلاحیت کو بتاتی ہیں ۔ہم کچھ منتخب شدہ آزمائشوں کی مددسے استعداد کا جائزہ لیتے ہیں۔


جذباتی طور پر ذہین اشخاص کی خصوصیات
اپنے احساسات اور جذبات کا ادراک کرنا اور حساس ہونا 
دوسروں میں جذبات کی مختلف اقسام کو ان کی زبانِ جسم ،آواز اور لہجہ ،اور چہرہ کے اظہارات کو دیکھ کر ادراک کرنا اور حساس ہونا ۔
اپنے جذبات کا اپنے خیالات سے تعلق قائم کرنا جس سے کہ آپ مسائل کے حل اور فیصلہ لینے میں ان پر بھی غور کریں اوران کی مددلیں۔
اپنے جذبات کی نوعیت اور شدت کے طاقتور اثر کو سمجھنا۔
ہم آہنگی اور امن وسکون حاصل کرنے کے لیے خوداور دوسروں کے ساتھ برتائو کے وقت اپنے جذبات اور ان کے اظہارات کو کنٹرول کرنا۔


استعداد کا علم کسی فرد کی مستقبل کی کارگذاری کی پیشین گوئی کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے ۔
ذہانت کے جائزہ کے وقت ماہرین نفسیات نے دیکھاکہ یکساں ذہانت والے لوگ بھی مخصوص معلومات یا مہارت کو حاصل کرنے میں وسیع پیمانے پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ آپ اپنی کلاس میں مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کچھ ایسے مخصوص میدان ہیں جن میں ذہین طالب علم اچھا نہیں کرپاتے ہیں۔ ریاضی میں آپ کو ایک پریشانی ہے،آپ مدد کیلیے امن کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، اور ادب میں اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے پر آپ زید سے مشورہ لیتے ہیں ۔ آپ شبنم سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ سالانہ فنکشن میں وہ گانا گائے ،اور اپنی موٹر سائیکل میں کوئی خرابی آنے پر آپ جان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ یہی مخصوص مہارتیں اور قابلیتیں ہی استعداد کہلاتی ہیں ۔مناسب تربیت کے ساتھ اس استعداد میں قابل ذکر طور پر  اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کسی مخصوص میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک شخص میں استعداد اور دلچسپی دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ دلچسپی کسی مخصوص کارکردگی کے لیے ایک ترجیح ہے ،استعداد کارکردگی کو انجام دینے کی امکانی قوت ہے کسی شخص کو کسی مخصوص کام یا کارکردگی میں دلچسپی ہوسکتی ہے ،جب کہ اس کے اندر اس کے لئے استعداد نہ ہو۔ اسی طرح سے ایک شخص کے اندرکسی کام کو انجام دینے کے لیے امکانی قوت ہو سکتی ہے ۔لیکن اسے کرنے میں اس کی دلچسپی نہ ہو۔ ان دونوں حالات میں نتیجہ تسلی بخش نہیں ہوگا۔ ایک طالب علم جس کے اندر میکنیکل استعداد بہت زیادہ ہے اور اسے انجینئرنگ میں بہت زیادہ دلچسپی بھی ہے ، وہ ایک کامیاب میکنیکل انجینئر بن سکتا ہے ۔
استعداد آزمائش دو شکلوں میں دستیاب ہیں : جداگانہ (متخصص ) استعداد آزمائشیں اور تعددی (تعمیمی) استعداد آزمائشیں ۔کلرکی استعداد ، میکینکل استعداد ،عددی تفوق استعداد اور ٹائپنگ استعداد،جداگانہ استعداد آزمائشیں ہیں ۔تعددی استعداد آزمائشیں مجموعوں (بیٹری) کی شکل میں ہوتی ہیں جو بہت سے علیحدہ لیکن متجانس میدانوں میں استعداد کی پیمائش کرتی ہیں ۔تفرقی استعداد آزمائش مجموعہ (ڈی اے ٹی) اور عام استعداد آزمائش مجموعہ(جی۔اے۔ٹی۔بی) اور فوجی خدمات پیشہ ورانہ آزمائش مجموعہ  (اے ایس وی اے بی) کافی مشہور استعداد آزمائش مجموعے ہیں۔ ان میں سے ڈی اے ٹی تعلمی پس منظر میں سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔  یہ 8 جداگانہ ذیلی آزمائشوں پر مشتمل ہے ۔(i) لفظی استدلال ،(ii) عددی استدلال ،(iii) مجرد استدلال(iv) کلر کی رفتار اور صحت (v)میکنیکی استدلال، (vi) امکانی تعلق،(vii) ہجے اور(viii) لسانی استعمال ،جے ایم اوجھانے   ڈی اے ٹی کو ہندوستانی زبان میں ڈھالنے کاکام کیا۔سائنٹفک ،متعلمانہ ،تدریسی استعدادوں کی پیمائش کے لیے دیگر بہت سی استعداد آزمائشوں کی نشوونما ہندوستان میں ہوچکی ہے۔

تخلیقیت

گذشتہ ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ نفسیاتی صفات جیسے ذہانت، استعداد،شخصیت وغیرہ وغیرہ میں تغیرات ہوتے ہیں۔ یہاں آپ یہ دیکھیں گے کہ افراد کے اندر تخلیقیت کے لیے امکانی قوت ،اور طریقہ جس میں تخلیقیت ظہور پذیر ہوتی ہے ،کے ضمن میں اختلافات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بہت اعلیٰ طور پر تخلیقی ہوتے ہیں جب کہ دوسرے اتنے تخلیقی نہیں ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تخلیقیت کا اظہار تحریروں میں جب کہ دیگر افراد رقص، موسیقی،نظم گوئی سائنس وغیر ہ میں کرتے ہیں۔ تخلیقیت کے مظاہر کا مشاہدہ کسی مسئلہ کے انوکھے حل، کسی نظم کے لکھنے کی اختراع ،پینٹنگ ،نئے کیمیائی عمل کاری ،قانون کی ایک تبدیلی ،کسی بیماری کی روک تھام میں ملی کامیابی وغیرہ میں کر سکتے ہیں ۔ اختلاف کے باوجو د ان سب میں ایک مشترکہ جزو یہ ہے کہ کسی نئی یا انوکھی چیز کی تخلیق ہوتی ہے ۔ہم عام طور سے تخلیقیت کے متعلق تخلیقی اشخاص جیسے ٹیگور،آئنسٹائن ، سی وی رمن اور راما انوجن وغیرہ جنھوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ان کی اصطلاح میں سوچتے ہیں ۔ حال کے سالوں میں تخلیقیت کے بارے میں ہماری تفہیم وسیع ہوئی ہے۔تخلیقیت صرف چند منتخب لوگ۔ آرٹسٹ ،سائنسداں ،شاعر اور موجد تک محدود نہیں ہے۔ ایک عام فرد بھی تخلیقی ہوسکتا ہے جو کہ آسان پیشوں جیسے برتن بنانے ،بڑھئی گیری کرنے ،کھانا بنانے وغیرہ میں مشغول رہتا ہے تاہم جیسا کہ یہ بتایا جاچکا ہے کہ وہ لوگ تخلیق کی اس سطح پرکام نہیں کررہے ہیں جس پر ایک مشہور سائنسداں یا مصنف کام کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ افراد سطح اور میدان جس میں وہ تخلیقیت کا اظہار کرتے ہیں،اس کی اصطلاح میں یکساں نہیں ہوتے ہیں اور یہ کہ وہ سب یکساں سطح پر کام نہیں کرتے ہیں ۔ آئنسٹائن کا اصول اضافیت تخلیقیت کی سب سے اعلیٰ سطح کی ایک مثال ہے جس میں نئے خیالات ،حقائق ،نظریہ یا ایک شئے کویکجا کیاگیا ہے۔ تخلیقیت کی ایک دوسری سطح وہ ہے جس میں پہلے سے ہی استوار چیزوں میں ترمیم کرنا،نئے تناظر میں چیزوں کو لکھنا ،یا نئے استعمال دریافت کرنا شامل ہے۔
تخصیصی مضامین بتاتے ہیں کہ بچے اپنی تخیل کی نشوونما اپنے بچپن کے ابتدائی سالوں سے ہی شروع کردیتے ہیں لیکن تخلیقیت کا اظہار زیادہ تر جسمانی کارکردگی اور غیر لفظی طریقوں سے کرتے ہیں۔ جب لسانی اور دانش ورانہ تفاعل مکمل طور پر نشوونما پاچکے ہوتے ہیں اور علم کا ذخیرہ بھی مناسب طور پر دستیاب رہتا ہے تب تخلیقیت کا اظہار لفظی طور پر بھی ہونے لگتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی تخلیقیت میں ممتاز ہوتے ہیں،وہ اس جہت کے بارے میں جس میں ان کی تخلیقیت ہوتی ہے اپنی خود کی منتخب شدہ کارکردگیوں کے ذریعہ ایک اشارہ دے سکتے ہیں۔ تاہم کچھ صورتوں میں انھیں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقیت کی پوشیدہ امکانی قوتوں کا اظہار کرسکیں ۔
تخلیقیت کے لئے امکانی قوت میں تغیرات کی تشریح ہم کیسے کرسکتے ہیں ؟دیگر ذہنی اور جسمانی خصوصیات کی طرح ان تغیرات کو بھی توارث اور ماحول کے پیچیدہ تعامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے ۔ اس پر سبھی لوگوں کا اتفاق ہے کہ تخلیقیت توارث اور ماحول دونوں کے ذریعہ متعین ہوتی ہے ۔تخلیقی امکانی قوت کی حدیں توارث کے ذریعہ مقرر کی جاتی ہیں۔ ماحولیاتی عوامل تخلیقیت کی نشوونما کو ہیچ کرتے ہیں ۔تخلیقی امکانی قوت کتنی، کب اور کس مخصوص شکل اور جہت میں حاصل کی جا سکتی ہے اس کا تعین زیادہ تر ماحولیاتی عوامل جیسے تحریکات، ہیجان وابستگی ،فیمیلی سپورٹ ،ہمجولیوں کے اثرات ، ترتیب کے مواقع وغیرہ کے ذریعہ ہوتاہے ۔حالانکہ تربیت کی کوئی بھی مقدار کسی اوسط شخص کو ٹیگور اورشیکسپیروغیرہ کی سطح تک نہیں بدل سکتی ہے ۔لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر ایک فرد اپنی تخلیقی امکانی قوت کو اس کی موجودہ سطح سے آگے بڑھا سکتا ہے ۔اس سیاق میں آپ پہلے ہی درجہ 11 میں تخلیقیت میں اضافہ کرنے کی حکمت عملیوں کے بارے میں مطالعہ کرچکے ہیں۔ 

تخلیقیت اور ذہانت 

تخلیقیت میں تغیرات کی تفہیم حاصل کرنے میں ایک اہم بحث کا موضوع ذہانت کے ساتھ تخلیقت کا تعلق رہا ہے ۔
ہم ایک درجہ میں دو طلباکی مثال لیتے ہیں۔ سنیتا کو اس کے اساتذہ ایک بہت عمدہ طالب علم سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے کام وقت پر انجام دیتی ہے۔ اپنے درجہ میں سب سے اعلیٰ گریڈ حاصل کرتی ہے لکچر کو بغور سنتی ہے، جلدی اور بآسانی سمجھ لیتی ہے ،صحیح بتادیتی ہے ،لیکن ایسے خیالات کا اظہار بہت کم کرتی ہے جو اس کے اپنے ذاتی ہوں۔ ریتا ایک دوسری طالب علم ہے جو اپنے مطالعوں میں بالکل اوسط ہے اور مستقل طور پر اس نے اعلیٰ گریڈ حاصل نہیں کیے ہیں۔ وہ اپنے طور پر آموزش کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ اپنے گھر پر والدہ کی مدد کرنے کے نئے طریقے ایجاد کرتی ہے اور اپنے کام اور تفویضوں (سائنس) کو انجام دینے کے لیے نئے نئے طریقوں کو اختیار کرتی ہے۔ سنیتا کو ہم زیادہ نہیں سمجھ سکتے ہیں جب کہ ریتا کو زیادہ تخلیقی مان سکتے ہیں ۔اس طرح سے کوئی شخص جس کے اندر آموزش کی قابلیت تیز ہو اور اسے بالکل صحیح طور پر پیدا کرسکے ،اسے تخلیقی ہونے کے مقابلہ میں ذہین سمجھا جاسکتا ہے جب تک وہ آموزش کرنے اور کاموں کو انجام دینے کے نئے طریقوں کی اختراع نہ کرے ۔
1920 میں ٹرمین نے پایا کہ اعلیٰ قدر ذہانت کے لوگ ضروری نہیں ہے کہ تخلیقی بھی ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھا کہ تخلیقی خیالات ایسے اشخاص سے بھی آسکتے ہیں جو قدر ذہانت پر بہت اعلیٰ نہ ہوں ۔ دیگر محققین نے یہ دکھایا کہ یہاں تک کہ ان لوگوں نے بھی جن کی شناخت فطین کے طور پر کی گئی تھی اور اپنی پوری بلوغی زندگی میں اس کا اتباع کیا ،کسی میدان میں تخلیقیت کے لیے مشہور نہیں ہو سکے۔ محققین نے یہ بھی دیکھاکہ بہت زیادہ ذہین بچے اور اوسط ذہانت والے بچوں میں تخلیقیت ،اعلیٰ اور ادنی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے۔ اس طرح سے ایک ہی شخص ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی ذہین شخص رسمی معنوں میں تخلیقی بھی ضرور ہو۔ اس لیے ذہانت خود کی ذات سے تخلیقیت کی ضمانت نہیں دیتی ہے ۔
محققین نے تخلیقیت اور ذہانت کے مابین مثبت ربط یا تعلق پایا ہے۔ تمام طرح کے تخلیقی افعا ل کے اندر معلومات کو حاصل کرنے،کچھ قابلیت، چیزوں کو سمجھنے،اسے برقرار رکھنے اور وقت ضرورت اسے بازیافت کرنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پرتخلیقی مصنف کوزبان کے ساتھ حسن سلوک کے لیے پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آرٹسٹ کو اس اثر کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو پینٹنگ کی مخصوص تکنیک کے استعمال سے پیداہوگی ، اسی طرح ایک سائنسداں کو سبب کو سمجھنے کے قابل ہونا چاہیے،وغیرہ وغیرہ ۔ اس لیے تخلیقیت کے لیے ذہانت کی ایک مخصوص سطح کا ہونا ضروری ہے ،لیکن اس سب کے بعد ذہانت کا تخلیقیت کے ساتھ عمدہ ربط نہیں ہوتا ہے ۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتاہے کہ تخلیقیت کی بہت سی شکلیں اور امتزاج ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے اندر دانش ورانہ صفات زیادہ ہو سکتی ہیں۔ دوسروں کے اندر تخلیقیت سے وابستہ صفات زیادہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن کسی تخلیقی شخص کی صفات کیا ہوتی ہیں؟ آپ شاید ان صفات پر جو ہر قسم کے تخلیقی اشخاص میں مشترکہ طور پر ہوتی ہیں ۔ بحث کرنا پسند کریں گے۔
تخلیقیت آزمائشیں ذہانت کے برعکس تخلیقیت کے لیے امکانی قوت کی اصطلاح میں تغیرات کاجائزہ لینے کے لیے وجو د میں آئیں۔
زیادہ تر تخلیقیت آزمائشوں کی ایک عمومی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کھلے اختتام والی ہوتی ہیں۔ وہ آزمائش دینے والے شخص کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ سوالات یا مسائل کے مختلف جوابات کو اپنے تجربات کی اصطلاح میں سوچے۔ اس سے فردکو مختلف جہتوں میں جانے میں مدد ملتی ہے ۔تخلیقیت آزمائشوں میں سوالات یا مسائل کے مخصوص یا تصریح شدہ جوابات نہیں ہوتے ہیں ۔ اس لییاپنے تخیل کو استعمال کرنے اور طبع زاد طور پر ظاہر کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔تخلیقی آزمائشوں میں کثیر جہت فکر شامل ہوتی ہے اور اس طرح کی قابلیتوں جیسے مختلف قسم کے خیالات پیداکرنے کی قابلیت، یعنی خیالات عام سوچ سے الگ ہوں،ظاہری طور پر غیر متعلقہ اشیا میں نئے تعلقات کو دیکھنے کی قابلیت ،اسباب اور نتائج کا اندازہ لگانے کی قابلیت ، کسی نئے سیاق میں اشیاکو رکھنے کی قابلیت وغیرہ کاجائزہ لیتی ہیں۔ یہ ذہانتی آزمائشوں کے برعکس ہے کیوں کہ اس میں زیادہ تر یکجہتی شامل ہوتی ہے ۔ ذہانت کی آزمائش میں شخص کو مسئلہ کا صحیح حل نکالنے کی فکر ہوتی ہے اور قابلیتیں جیسے حافظہ ،استدلال ،درستگی ،ادراکی قابلیت ،واضح تفکیر کے جائزہ پر توجہ دی جاتی ہے۔ بے ساختگی ،ایچ اور تخیل کے مواقع کم ہوتے ہیں۔
چونکہ تخلیقیت کے اظہارات مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے آزمائشوں کی نشوونما بھی مختلف ہیجان جیسے الفاظ،اشکال،فعل اور آوازوں کا استعمال کرکے  کی گئی ہے۔    یہ آزمائشیں کچھ عمومی تخلیقی تفکیر کی قابلیتیں جیسے کسی دیے گئے موضوع یاموقف پر مختلف قسم کے خیالات کی تفکیر کی قابلیت ،اشیامسائل یا موقعوں کو دیکھنے کے متبادل طریقے ،اسباب اور نتائج کا اندازہ یا تخمینہ ،عام اشیاکے استعمال اور اصلاح یا بہتری کے غیر معمولی خیالات، غیر معمولی سوالات پوچھنا ،وغیرہ،کی پیمائش کرتی ہیں۔ کچھ تفتیش کاروں نے مختلف میدان جیسیادبی تخلیقیت،سائنسی تخلیقیت،ریاضی تخلیقیت وغیرہ میں تخلیقیت کی آزمائشوں کی نشوونما کی ہے جن میں گلفورڈ ،ٹورس،کھیتنا، ویلائیں گان پرمیش،باقر مہدی اور پاسی کے نام آتے ہیں۔ ہرا یک آزمائش اس ایک معیار بند طریقۂ کار مینوئل کا ایک مکمل سیٹ ، تشریح اور رہنمائی شامل ہوتی ہے ۔ان کا استعمال نظم ونسق اور آزمائشی کی تشریح میں جامع تربیت کے بعد ہی کیا جاسکتاہے۔

کلیدی اصطلاحات

استعداد،استعداد آزمائشیں،مطالعہ، معاملہ، وقوفی جائزہ نظام ،جزویاتی ذہانت، سیاقی ذہانت، تخلیقیت ،جذباتی ذہانت، ثقافت منصفانہ آزمائش ،تجرباتی ذہانت،جی عامل ،انفرادی تفرق، دانش ورانہ فطینت، ذہانتی آزمائشیں، قدر ذہانت (آئی کیو) ،دلچسپی، انٹرویو،ذہنی عمر (ایم اے) ابطائے ذہنی، مشاہداتی طریقہ، منصوبہ بندی،نفسیاتی آزمائشیں، ہمہ وقتی عمل کاری، موقفیت، متوالی عمل کاری،اقدار

خلاصہ

◊ اپنی جسمانی اور نفسیاتی خصوصیات میں افراد مختلف ہوتے ہیں۔ انفرادی تفریق سے مراد لوگوں کی خصوصیات اور کردار کی وضع میں تغیرات اور امتیازات ہے ۔
◊ شخصی صفات کی بہت سی اقسام جیسے ذہانت ،استعداد،دلچسپیاں،شخصیت ،اور اقدار کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نفسیات ان صفات کا جائزہ ،انٹرویو، مطالعہ معاملہ، مشاہدات، خود کی رپورٹ کے ذریعہ لیتے ہیں۔
◊ اصطلاح ذہانت سے مراد کسی فرد کی دنیا کی تفہیم کی صلاحیت ،عقلی طور پر فکر کرنے ،اور زندگی کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے وسائل کے موثر استعمال سے ہے ۔ دانش ورانہ نشوونما توارثی عمل (فطرت) اور ماحولیاتی (تربیت) کے پیچیدہ باہمی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے ۔
◊ ذہانت کا پیمائشی نفسیات طرز نظریات کو قابلیتوں کے مجموعہ کے طور پر جن کا اظہار مقداری اصطلاح جیسے قدر ذہانت میں کیا جائے، مطالعہ کرنے پرزور دیتا ہے ۔ تربیت معلومات طرز نظر کی نمائندگی کرنے والے حال کے نظریات جیسے اسٹرن برگ کا سہ رخی نظریہ اور داس کاد پی اے ایس ایس (یاس) ماڈل ذہین کردار میں موجود عمل کاریوں کی تشریح کرتے ہیں ۔ ہووارڈ گارڈنر یہ بتاتا ہے کہ ذہانت کی آٹھ مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔
◊ ذہانت کا جائزہ خاص طور پر ڈیزائن کی گئی آزمائشوں کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ ذہانتی آزمائشیں لفظی یا کارگزاری قسم کی ہو سکتی ہیں؛نظم ونسق انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر کیا جاسکتا ہے؛اور ثقافتی طور پر جانبداریا ثقافتی طور پر منصفانہ ہو سکتی ہیں ۔ذہانت کے دو انتہائی سروں پردانش ورانہ کمی والے افراد اور دانش ورانہ طور پر فطین ہوسکتے ہیں ۔
◊ ثقافت دانش ورانہ نشوونما کے لیے ایک سیاق مہیاکرتی ہے ۔مغربی ثقافت میں تجزیہ ،کارگزاری رفتار، اور تحصیل شناخت رخ پر مبنی ،تکنیکی ذہانت ،کو تقویت دیتی ہے ،اس کے برعکس غیر مغربی ثقافت میں انعکاس ذات ،سماجی اور جذباتی اہلیت ذہین کردار کی علامت کے طور پر اہمیت دیتی ہیں۔ ہندوستانی ثقافت مکمل ذہانت کوتقویت دیتی ہے ،جو لوگوں کے ساتھ اور وسیع سماجی دنیا کےساتھ مربوط ہونے پر زور دیتی ہے ۔
◊ جذباتی ذہانت میں ادراک کرنے اور اپنے ودوسروں کے احساسات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی قابلیت، خود کو متحرک کرنے اور اپنی اضطراری تحریکوں کو روکنے اور بین شخصی تعلقات کو موثر انداز میں نمٹنے کی قابلیت شامل ہیں۔
◊ استعداد سے مراد کسی فرد کی کچھ مخصوص مہارتوں کوحاصل کرنے کے لیے امکانی قوت ہوتی ہے۔ استعداد آزمائشیں پیشین گوئی کرتی ہیں کہ اگر مناسب تربیت اور ماحول دیاجائے تو کوئی فرد کیاکرنے کے قابل ہوگا۔
◊ تخلیقیت ،خیالات، اشیا، یا نئے ،مناسب اور کار آمد مسائل کے حل کی تخلیق کی قابلیت ہے۔تخلیقیت میں ذہانت کی ایک مقررہ سطح کا ہونا ضروری ہے، لیکن ذہانت کی ایک اعلیٰ سطح اس بات کی ضامن نہیں ہوتی ہے کہ کوئی شخص یقینی طور پر تخلیقی ہوگا۔

اعادہ کے سوالات

1۔  ماہرین نفسیات نے ذہانت کی تعریف اور خاصیت کیسے کی ہے ؟
2۔  ہماری ذہانت کسی حد تک وراثت(فطرت) اور ماحول (تربیت) کا نتیجہ ہے ؟بحث کیجیے۔
3۔  گارڈنر کے ذریعہ شناخت کی گئی تعددی ذہانتوں کی تشریح مختصر طور پر کیجیے۔
4۔  سہ رخی نظریہ کسی طرح سے ذہانت کی تفہیم میں مدد کرتا ہے ؟
5۔  ’’کسی دانش ورانہ کارکردگی میں تین عصباتی نظاموں کا آزادانہ تفاعل شامل ہوتاہے ‘‘ پاس (پی اے ایس ایس) ماڈل کے حوالہ سے اس کی تشریح کیجیے۔
6۔  کیا ذہانت کی تصور گری میں ثقافتی اختلافات ہیں؟
7۔  قدر ذہانت کیا ہے ؟ ماہرین نفسیات نے لوگوں کو ان کی قدر ذہانت شماروں کی بنیاد پر زمرہ بند کیسے کیا ہے ؟
8۔  ذہانت کی لفظی اور کارگزاری آزمائشوں کے مابین آپ کس طرح تفریق کر سکتے ہیں؟ 
9۔  سبھی افراد یکساں دانش ورانہ صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ۔ افراد اپنی دانش ورانہ قابلیت میں کس طرح مختلف ہوتے ہیں؟ تشریح کیجیے۔
10۔  قدر ذہانت (آئی کیو) اور قدر جذباتی (ای کیو) دونوں میں سے کس کا تعلق آپ کے خیال میں زندگی میں کامیابی سے زیادہ ہے اور کیوں؟
11۔  استعداد ،دلچسپی اور ذہانت سے مختلف کیسے ہے ؟ استعداد کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے ؟ 
12۔  تخلیقیت کا تعلق ذہانت سے کیسے ہے ؟

پروجیکٹ کی تجاویز

1.  اپنے پڑوس میں 5اشخاص کا مشاہدہ اور انٹرویو یہ دیکھنے کے لیے کیجیے کہ مخصوص نفسیاتی صفات کی اصطلاح میں وہ کیسے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ سبھی پانچوں میدانوں پر مشتمل ہو۔ ہر ایک شخص کا نفسیاتی نقشہ شخصیت تیارکیجیے اور موازنہ کیجیے۔

2.  پانچ پیشوں کا انتخاب کیجیے اور ان پیشوں میں لوگوں کے ذریعہ کیے گئے کاموں کی نوعیت کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔ کامیاب کارگزاری کے لئے ضروری نفسیاتی صفات کے قسموں کی اصطلاح میں ان پیشوں کا تجزیہ بھی کیجیے۔ ایک رپورٹ لکھیے 

9

  ویب لنکس

http://www.indiana.edu/~intell/anastasi.shtml
http://www.chiron.valdosta.edu/whuitt/col/cogsys/intell.html
http://www.humandimensions.org/emotion.htm
http://www.emotionaliq.com/Gdefault.htm
http://edweb.gsn.org/edref.mi.intro.html
http://www.talentsmart.com
http://www.kent.ac.uk/career/psychotests.com

تعلیماتی اشارات

1.  موضوع کے تعارف کے لیے استاذ نفسیاتی تصورجیسے ذہانت ،شخصیت، استعداد، اقدار وغیر ہ پر ایک بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس سے ان تصوروں کی کسی ایک واحد ،کلی تشریح کر پانے میں ہوئی دقت کا پتہ چل جائے گا۔ 
2.  باب میں مذکور مختلف نفسیاتی صفات کو متعارف کرنے میں استاذ کو چاہیے کہ طلباکے تجربات سے استفادہ حاصل کرے ۔
3.  مختلف آزمائشوں کے کچھ نمونے (جو استاذ کے ذریعہ جمع کیے گئے ہوں )  طلباکے اندر دلچسپی پیدا کرنے کے لیے دیے جا سکتے ہیں۔
4.  کارکردگیوں کو مکمل کرنے اور کارکردگیوں کو خود سے یا تو انفرادی طور پر یا گروہوں میں ڈیزائن کرنے کے لیے طلباکی حوصلہ افزائی کریں۔ کارکردگیوںکی تکمیل ہو جانے پر طلباکے ذریعہ کیے گئے مشاہدوں پر کلاس میں بحث کا آغاز کریں ۔
5.  طلباکی حوصلہ افزائی تصوروں کو اپنی حقیقی زندگی کے تجربات سے متعلق کرنے پر کی جانی چاہیے ۔