Skip to content
Nafsiat-002

2

خودی اور شخصیت

•  اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ:
•  خودی کے تصور کوبیان کر سکیں گے اور اپنے رویے کو خود ہی ضابطے میں رکھنے کے طریقے سمجھ لیں،
شخصیت کے تصور کو سمجھ لیں،
•  شخصیت کے تجزیے کے مختلف طریقوں کو سمجھ لیں،
•  ایک اچھی شخصیت کی تعمیر کے لیے اپنا نظریہ بنا لیں،
•  شخصیت کو سمجھنے کے لیے اپنائے گئے مختلف طریقوں میں فرق سمجھ لیں۔

تعارف
خودی اور شخصیت
خودی کا تصور
خودی کے وقوفی اور کرداری پہلو
خود پسندی ‘ خود فراموشی اور خود ضابطگی
ثقافت اور خودی
شخصیت کا تصور 
 شخصیت سے متعلق اصطلاحات(باکس2.1)
شخصیت کے مطالعے کے لیے اہم طرز فکر
نوعی طرز فکر
خاصہّ یا امتیازی وصف کا طرز فکر
شخصیت کا پانچ نکاتی نمونہ(باکس2.2)
نفسی حرکیات کا نظریہ
کردار کا نظریہ
تہذیبی طرز فکر
انسانی طرز فکر
ایک صحت مند شخص کون ہے؟ (باکس 2.3)
شخصیت کا تجزیہ
خود اپنی رپورٹ کرنا
اظلالی تکنیکیں
کرداری تجزیہ

کلیدی الفاظ
ؒخلاصہ
اعادہ کے سوالات
پروجیکٹ کی تجاویز
ویب لنکس
تعلیماتی اشارات

تعارف

اکثر اوقات آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ خود بخود اپنا اور دوسروں کے رویہ کا مواخذہ کرنے لگتے ہیں۔ آپ نے اس پر بھی غور کیا ہو گا کہ کس طرح ایک ہی طرح کے حالات میں آپ کا رویہ دوسروں کے رویہ سے مختلف ہوتا ہے؟  اکثر آپ کے ذہن میں اپنے رشتوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے ہوں گے۔ ان سب ہی سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے ماہرین علم نفسیات نے ’’خودی‘‘ بمعنی خود اپنی ذات کا تصور یا احساس کا استعمال کیا… اسی طرح جب ہم اس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہوتے ہیں‘ ایک ہی طرح کے واقعات کے مختلف لوگ مختلف معنی کیسے نکال لیتے ہیں اور کیوں وہ ایک جیسے حالات میں مختلف طرح سے محسوس کرتے ہیں اور ان سوالات کے حل تلاش کرتے ہوئے شخصیت کا تصور نمایاں ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہی تصور‘ خودی (ذات) اور شخصیت آپس میں گہرے طور پر مربوط ہیں۔ ذات دراصل شخصیت کا مرکز ہے۔
شخصیت اور خودی کا مطالعہ نہ صرف ہمیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے بلکہ ہمیں ہماری خصوصیات اور دوسروں سے یکسانیت سے بھی متعارف کراتا ہے۔ اس مطالعے سے ہم مختلف حالات میں اپنے اور دوسروں کے رویوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس مطالعے کے کئی مراحل اور ہیئت تیار کیے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے پاس خودی اور شخصیت کے مطالعے کے لیے بہت سے نظریات موجود ہیں۔ یہ باب آپ کو خودی و شخصیت کے بنیادی پہلوؤں سے روشناس کرائے گا۔ اس بارے میں کچھ نظریات بھی آپ پڑھیں گے اور شخصیاتی جائزے کے کچھ طریقے بھی سیکھیں گے۔

خودی اور شخصیت

خودی اور شخصیت کے تصوارت ہمیں ان مخصوص مراکز کی طرف لے جاتے ہیں جہاں ہم اپنی موجودگی یا اپنے ہونے کی تعریف ڈھونڈتے ہیں۔ یہ ان طریقوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جہاں ہمارے تجربات منظم ہو کر ہمارے برتاؤ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ عام مشاہدہ کی بنیاد پر ہم جانتے ہیں کہ مختلف لوگ اپنے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ یہ رائے یا نظریہ ہی انسان کی’’خودی‘‘ کے تصور کو بیان کرتا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایک  ہی طرح کے حالات میں مختلف لوگ مختلف طرح سے برتاؤ کرتے ہیں جب کہ ایک ہی انسان کا رویہ مختلف حالات میں تقریباً ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ انسان کی طبیعت کا یہ مستحکم رویہ ہی اس کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی لیے مختلف لوگوں کی شخصیت بھی مختلف ہوتی ہے اور ان کی شخصیت کا یہ پہلو ہی ان کے برتاؤ یا رویہ میں جھلکتا ہے۔

خودی کا تصور

اپنے بچپن سے اب تک آپ لوگوں نے کافی وقت یہ سوچنے میں گزارا ہوگا کہ ’’آپ کون ہیں اور کیسے دوسروں سے الگ ہیں؟‘‘ اب تک آپ نے خود اپنے بارے میں کچھ رائے ضرور قائم کی ہوگی خواہ آپ ابھی اس سے واقف نہ ہوں۔ کیوں نہ ہم پہلے خود اپنے بارے میں کچھ بنیادی باتیں جان لیں (مثلاً: ہم کون ہیں؟) اور اس کے لیے ہمیں سرگرمی2.1 مکمل کرنی ہوگی۔

سرگرمی2.1

خودی کی سمجھ

مندرجہ ذیل جملوں کو ’’میں‘‘ سے شروع کرتے ہوئے مکمل کیجیے

وقت (آغاز)…

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت (اختتام)…

آپ کے لیے ان جملوں کو مکمل کرنا کتنا آسان تھا؟ آپ نے اسے مکمل کرنے میں کتنا وقت لگایا؟ ہو سکتا ہے شروع میں آپ نے اسے جتنا آسان سوچا ہو اتنا آسان نہ لگا ہو۔ جب آپ ان جملوں کو مکمل کررہے تھے تو آپ اپنے بارے میں‘ اپنے خود کے بارے میں بیان کر رہے تھے۔ اپنے بارے میں آپ اسی طرح جانتے ہیں جس طرح آپ انپے آس پاس ماحول کے بارے میں جانتے ہیں جیسے کہ کمرے میں رکھی ہوئی میز اور کرسی وغیرہ۔ ایک نوزائدہ بچہ اپنی ذات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اس کے ذہن میں خود اپنے بارے میں جاننے کی جستجو شروع ہوجاتی ہے اور ’’اپنی ذات‘‘ کا تصور جڑ پکڑتا ہے۔ والدین‘ اساتذہ‘ دوست احباب اور دوسرے لوگ بچے کے ذہن کی اس جستجو کو مطمئن کرنے میں بڑا اہم رول ادا ہوتے ہیں۔ خودی یا ذات کا یہ ڈھانچہ یا اس کی ساخت سدھر سکتی ہے ہمارے اپنے تجربات کی روشنی میں اور دوسروں کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس بات کو کھلے طور پر محسوس کریں گے اگر آپ مندرجہ بالاسرگرمی2.1 کو اپنے دوستوں کے ساتھ تبدیل کر کے دیکھیں گے۔

غور کیجیے کہ انھوں نے کیا کیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے ان خصوصیات کی فہرست تیار کی ہے جن کو وہ اپنی طبیعت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ خصوصیات جو وہ خود اپنے آپ میں محسوس کرتے ہیں‘ یہ ہی ہمیں ان لوگوں کی ذاتی‘ سماجی اور تہذیبی شناخت کراتی ہیں۔ ذاتی شناخت ان خصوصیات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اس کو دوسروں سے الگ یا منفرد کرتی ہیں۔ جب ایک شخص اپنے آپ کو اپنے نام کے ذریعہ بیان کرتا ہے (جیسے میں کریم ہوں/میں رادھا ہوں) یا اپنی خصوصیات بیان کرتا ہے (جیسے میں ایماندار یامحنتی ہوں) یا پھر اپنی صلاحیت کو بیان کرتا ہے (جیسے میں ایک گلوکار ہوں) یا اپنے عقیدے کو بیا ن کرتا ہے (جیسے میں خدا اور قسمت پر یقین کرتا ہوں)‘ تو وہ اپنی ذاتی شخصیت کا اظہارکر رہا ہوتا ہے۔ سماجی شخصیت ان پہلوؤں کے متعلق ہوتی ہے جو اسے کسی سماجی یا تہذیبی گروہ سے منسلک کرتے ہیں یا پھر ان سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی کہے کہ وہ ہندو ‘ مسلمان‘ برہمن یا آدی واسی یا پھر جنوبی ہند کا باشندہ ہے یا شمالی ہند وستان کا رہنے والا ہے یا پھر اسی طرح کا کوئی اور جملہ ،تو وہ اپنی سماجی شناخت کو بیان کرتا ہے۔ یہ تمام بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ لوگ اپنے ذہن میں خود اپنی نمائندگی کیسے کرتے ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ’’خودی یا ذات کے ذی ہوش تجربات‘ خیالات ‘ فکر اور احساس کا مرکب ہے جو وہ خود اپنے بارے میں کرتا ہے۔ یہ تجربات و خیالات کسی بھی فرد کی ذاتی اور سماجی سطح پر موجودگی پر مہر لگاتے ہیں۔

خودی بطور فاعل اور مفعول

گر آپ سرگرمی2.1 میں دیے گئے اپنے دوستوں کے بیانات کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ انھوں نے خود کو ایک ہستی یا وجود کے طور پر بیان کیا ہے جو کچھ کرتا ہے (مثلاً میں ایک رقاص ہوں) یا پھر ایسی ہستی کے طور پر بیان کیا ہے جس پر کوئی عمل کیا گیا ہے مثلاً مجھے بہ آسانی صدمہ پہنچایا جا سکتا ہے بمعنی میں بہت حساس ہوں‘ پہلے کیس میں خود کو ’’فاعل‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جب کہ دوسرے میں خود کو ’’مفعول‘‘ بنا کر پیش کیا ہے مطلب کہ اس پر کسی عمل کو آزمایا گیاہے۔

اس کا مطلب ہے کہ خودی یا ذات فاعل اور مفعول دونوں طریقوں سے سمجھی اور پرکھی جا سکتی ہے۔ جب آپ کہتے ہیں ’’مجھے معلوم ہے کہ میں کون ہوں‘‘ تو آپ خود کو جانکار کے طور پر بیان کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس جملے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایسی چیز ہیں‘ ایسی ہستی ہیں جس کو جانا جا سکتا ہے۔ بطور فاعل(عامل) فرد اپنے آپ کوجاننے کے عمل میں مصروف ہے۔ جب کہ بطور مفعول کسی اور کے ذریعے جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ خودی کا یہ دورخی رتبہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔

خودی کی اقسام

خودی کی مختلف اقسام ہیں۔ یہ ہمارے طبعیاتی ،سماجی اور تہذیبی ماحول کے آپسی تعلق سے وجود میں آتی ہیں۔ خود ی کا سب سے پہلا عنصر اس وقت محسوس کیا جا سکتا ہے جب ایک نوزائدہ بچہ بھوک کے وقت دودھ کے لیے چلاتا ہے۔ حالانکہ یہ چیخ و پکار ابتدائی طور پر اضطراری ہوتی ہے لیکن بعد میں یہی ایک آگہی بن جاتی ہے کہ ’’میں بھوکا ہوں‘‘ خود کی یہ حیاتیاتی شناخت بچے کے سماجی و تہذیبی ماحول کے پس منظر میں پروان چڑھتی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو ایک چاکلیٹ کے لیے بھوک لگ رہی ہو لیکن ایک اسکیمو ایسا محسوس نہیں کرتا۔

ذاتی اور سماجی خودی کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ خودی کا ذاتی تصور وہ ہے جس میں انسان صرف اپنے بارے میں محسوس کرتا ہے۔ ابھی ہم نے اوپر پڑھا ہے کہ کس طرح ہماری حیاتیاتی ضروریات ہماری حیاتیاتی ہستی کی نشو و نما کرتی ہیں لیکن جلدی ہی بچے کی نفسیاتی اور سماجی ضروریات اس کے ماحولیاتی پس منظر میں اس کی ہستی کے دوسرے پہلوؤں کو بھی اجاگر کرنے لگتی ہیں۔ زندگی کے ان پہلوؤں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جو خود اس فرد سے متعلق ہوتے ہیں جیسے ذاتی آزادی‘ ذاتی ذمہ داری‘ ذاتی حصول اور اس کے ذاتی عیش و آرام۔ خودی کے سماجی پہلو پر دوسری چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں جیسے تعاون‘ اتحاد‘ الحاق‘ قربانی اور تائید وغیرہ۔ ذات کا یہ پہلو خاندان اور سماجی رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے یہ خاندانی یا نسبتی پہلو بھی کہا جا سکتاہے۔

خودی کے وقوفی اور کرداری پہلو 

دنیا کے تمام حصوں میں ماہرین علم نفسیات نے خودی یا ذات کے مطالعے میں دل چسپی دکھائی ہے۔ ان مطالعوں سے ہمارے رویوں اور کردار کے بہت سے ایسے رخ سامنے آئے ہیں جو ہماری ذات سے منسلک ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیاجا چکا ہے کہ ہمارے اندر اپنی شناخت کا احساس ہوتا ہے اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم دوسروں سے الگ کیسے ہیں۔ ہم اپنی ذات کی فردی اور سماجی شناخت سے چمٹے رہتے ہیں اور یہ سوچ کر محفوظ تصور کرتے ہیں کہ ہماری شناخت کا یہ پہلو مستحکم ہے اور تا زندگی رہے گا۔

جس طرح ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کا ادراک ہوتا ہے اس تصور کو ہی خود کا یا ذات کا تصور کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ نظریہ کلّی ہے خواہ مثبت ہو یا منفی۔ لیکن کسی مخصوص سطح پر یہ تصور بھی مخصوص ہوتا ہے جیسے ایک فرد اپنی کھیل کود صلاحیتوں کے بارے میں مثبت نظریہ رکھتا ہے لیکن اپنی تعلیمی صلاحیتوں پر اس کا نظریہ منفی ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی فرد اچھا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن ریاضی کی مہارت اسے حاصل نہیں ہوتی۔ کسی بھی فرد کا اس کی ذات کے تجزیہ کے بارے میں علم آسان کام نہیں ہے۔ اس کام میں سب سے زیادہ مستعمل طریقہ،خود اس فرد سے اس کے بارے میں جان کاری حاصل کرناہے ۔

خودپسندی یا نفس پرستی

خودپسندی ہماری ذات(خودشناسی) کا ایک اہم پہلو ہے۔ فرد کے طور پر ہم ہمیشہ اپنی قدر و منزلت کا فیصلہ کرتے رہتے ہیں۔ خود اپنے بارے میں اپنی قدر کا فیصلہ کرنا ہی خودپسندی کہلاتا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ جذبہ زیادہ ہوتا ہے اور کچھ میں کم۔ کسی بھی فرد کا جذبہ خودپسندی جانچنے کے لیے ہم اس کے سامنے مختلف بیانات رکھتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ ان بیانات میں خود اس کی ذات سے متعلق کتنی سچائی ہے‘ وہ بتائے۔ مثال کے طور پر ہم ایک بچے سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ اس سوال کا جواب دے ’’میں ہوم ورک اچھی طرح کرتا ہوں‘‘ یا ’’میں اکثر کھیل کے لیے منتخب کیا جاتا ہوں‘‘۔ یا ’’میں اپنے ساتھیوں میں بہت مقبول ہوں‘‘۔ اگر ان سوالوں کاجواب بچہ ’’ہاں‘‘ میں دیتا ہے تو وہ انتہائی خودپسند ہے بہ نسبت اس بچے کے جس کے جواب ’’نہ‘‘ میں ہوں ۔

مطالعوںسے پتہ چلا ہے کہ6 تا 7 سال کی عمر تک بچوں میں کم سے کم چار پہلوؤں پر خودپسندی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے‘ وہ ہیں تعلیمی مسابقت‘ سماجی اہلیت‘ جسمانی و کسرتی اہلیت اور ظاہری جسمانی ساخت۔ اور یہی چاروں پہلو عمر کے ساتھ ساتھ مزید پنپتے ہیں۔ ہماری اپنے طبعی میلان کو پرکھنے کی صلاحیت ہی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو پرکھ کر اپنا ایک عام نفسیاتی عکس تعمیر کر سکیں۔ خود پسندی کے ایک عمومی مفہوم کے طورپراسے جاناجاتا ہے۔

خودپسندی ہمارے روز مرہ کے رویوں سے گہرے طور پر منسلک ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرجن بچوں میں تعلیمی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں وہ نسبتاً کم صلاحیت والے بچوں کے مقابلے اپنے اسکولوں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب کہ جن بچوں میں سماج میں مقبول ہونے کی صلاحیت رہتی ہے وہ اپنے ساتھیوں میں دوسروں کے مقابلے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف کم صلاحیت والے بچے (جو ہر پہلو پر ناکام ہوتے ہیں)  ایک قسم کی تشویش اور افسردگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور دھیرے دھیرے ان کا رویہ سماج مخالف ہو جاتا ہے۔ مطالعوںسے پتہ چلا ہے کہ والدین کا پرجوش اور مثبت رویہ بچوں میں خودپسندی کا جذبہ پروان چڑھاتا ہے کیوں کہ اس طرح بچے سمجھتے ہیں کہ ان کو قابل اور با مصرف شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ بچے جن کے والدین ایسے وقت میں بھی فیصلے لینے میں ان کی مدد کرتے ہیں جب انھیں اس مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ان بچوں میں خود پسندی کا فقدان ہوتا ہے۔

قوت ارادی 

ہماری ذات کا یہ ایک اور اہم پہلو ہے۔ انسانوں کے عقیدے میں اس مسئلے پر اختلاف ہے کہ آیا وہ خود اپنی زندگی کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں یا زندگی میں پیش آنے والے مختلف مراحل قسمت کا کھیل یا مقدر ہوتے ہیں یا کوئی دیگرمحل وقوعی عناصر جیسے کہ کسی امتحان میں کامیاب ہونا۔ کسی بھی انسان کا یہ یقین کہ وہ کسی بھی قسم کے حالات کو قابو میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی قوت ارادی کو ظاہر کرتا ہے۔

مؤثر شخصیت کا یہ تصوربندورا کی سماجی آموزش کے نظریے پر مبنی ہے۔ بندورا کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بچے اور بڑے دوسرے لوگوں کے رویوں کو دیکھ کر اور ان کی نقل میں اپنا ایک ذاتی رویہ اپناتے ہیں۔ لوگوں کی قابلیت ،اہلیت یا حصولیابی کی توقعات اور اپنی خود کی اثر پذیری کے بارے میں ان کی حتمی رائے بھی ان کے برتائو کو طے کرتی ہے جن میں وہ مشغول ہوتے ہیں،جو علم کی مقدارمؤثرشخصیت ہونے کا ایک زبردست احساس انسان کے اندر اپنے حالات کو متاثر کرنے اور ان حالات کی تعمیر کرنے کا موقع دیتا ہے جن لوگوں میں ارادے کا یہ احساس مضبوط ہوتا ہے وہ ڈرپوک نہیں ہوتے ہیں۔

یہ احساس انسان میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مؤثر شخصیت اورقوت ارادی رکھنے والے لوگ جس لمحے یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ اب سگریٹ نوشی نہیں کریں گے،اسی وقت ان کی یہ عادت ترک ہو جاتی ہے۔ ہمارا سماج،ہمارے والدین اور خود ہمارے مثبت تجربات ہمارے اندر ایک مضبوط قوت ارادی پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں اگر بچوں کی زندگی کے تشکیلی دور میں ان کے سامنے مثبت نمونے رکھے جائیں۔

خودضابطگی

خودضابطگی ہمارے برتاؤ کو پرکھنے اور ضابطہ بند کرنے کی ہماری اہلیت کی عکاسی کرتی ہے۔ جو لوگ بیرونی ماحول کے تقاضوں کے مطابق اپنے رویّے کو ڈھال سکتے ہیں وہ اپنے آپ کو بہتر طریقے سے پرکھ سکتے ہیں۔

زندگی میں بہت سے مقام ایسے آتے ہیں جب ہمیں اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر حالات کے دباو سے مزاحمت کرنی پڑتی ہے۔ عام طور پر یہ ہماری ’’قوت ارادی ‘‘ کہلاتا ہے۔ بطور انسان ہم اپنا رویہ جیسے ہم چاہیں کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ہم اکثر اپنی کچھ ضرورتوں کی تکمیل کو ملتوی کرتے ہیں۔ اپنی ضرورتوں کو موقوف کرنے کی صلاحیت ہی قوت ضبط نفس کہلاتی ہے۔ ضبط نفس ہمارے بہت سے دیرینہ خوابوں کی تکمیل میں اہم رول اداکرتا ہے۔ ہندوستانی ثقافتی روایات ہمیں کئی ایسے طریقوں سے روشناس کراتی ہیں (جیسے ’’ورت یا روزہ‘‘ اور مادی چیزوں سے لگائوؤہ رکھنا وغیرہ) جن سے ضبط نفس کی قوت مستحکم ہوتی ہے۔

ضبط نفس کے لیے کئی نفسیاتی تکنیک بھی اپنائی جا سکتی ہیں۔ خود اپنے کردار کو پرکھنے کی تکنیک  ان میں سے ایک ہے۔ یہ طریقہ ہمیں ایسی معلومات بہم پہنچاتا ہے جس کو ہم اپنے آپ کو سدھارنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ خود آموزی ایک دوسرا طریقہ ہے۔ ہم اکثر خود اپنے کو حکم دیتے ہیں کہ کیسے رویہ اپنائیں اور پھر اپنے من چاہے طریقے سے ہی برتائو کرتے ہیں۔ خود آموذی کے یہ احکامات ضبط نفس کے لیے بہت کارگر ہوتے ہیں۔ خودکی تقویت تیسری تکنیک ہے۔ اس میں ہمارے ایسے اطمینان بخش رویّے شامل ہیں جن کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے تو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے جا سکتے ہیں۔خودضابطگی یا ضبط نفس کے لیے یہ تمام ترکیبیں کافی آزمودہ اور کارگرپائی گئی ہیں۔

ثقافت اورخودی

 انسان کی ذات کے بہت سے پہلو اس کی تہذیب و تمدن سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے ثقافتی تناظر میں خود اپنا محاسبہ بہت سی ایسی خصوصیات سامنے لاتا ہے جو مغربی تہذیب کے تناظر میں نہیں ملتیں۔

ہندوستانی اور دیگر مغربی خیالات میں سب سے اہم تفریق وہ حد ہے جو انسان خود اپنی ذات اور دیگر لوگوں کے درمیان کھینچ لیتا ہے۔ مغربی فکر میں یہ ’’حد‘‘ مقرر ہوچکی ہے جب کہ ہندوستانی زاویہ نظر میں انسان کی ذات پر کھینچی گئی یہ حد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے ہم ایک طرف تو کائنات میں گھلنے ملنے کا تصور رکھتے ہیں لیکن اگلے ہی پل ایک دم اس سے الگ ہوکر صرف اپنی ذات ( یعنی اپنی ذاتی ضروریات اور مقاصد) پر مرکوز ہو جاتے ہیں مغربی طرز فکر خود انسان کی اپنی ذات اور دیگر لوگوں کے درمیان صاف طور پر ایک دوگانہ تقسیم کرتی ہے۔ یہ ہی تقسیم ’انسان اور قدرت‘ ،’موضوع اور معروض‘ کی سطح پر بھی ہے۔ ہندوستانی فکر اس طرح کی صاف تقسیم نہیں رکھتی۔

شکل 2.1میں اس تعلق کو خاکہ کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔

شکل  2.1 ہندوستانی و مغربی ثقافتی تناظر میں فرد اورگروہ کی حدبندی

2
مغربی تہذیب میں انسان اور انسانوں کا گروہ دو الگ الگ موجودات کے طور پر نظر آتے ہیںجس میں دونوں کی مقررہ حدود ہیں۔ کسی بھی گروہ کے ممبران ذاتی طور پر اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں۔ ہندوستانی تہذیب میں ’’خود‘‘ کو گروہ سے الگ نہیں کیا جاتا بلکہ یہ دونوں ہم آہنگ ہم وجودیت کی سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ مغر بی تہذیب میں یہ ایک دوسرے سے فاصلے پر رہتے ہیں۔ اسی لیے بہت سی مغربی تہذیبیں فردیت پسند کہلاتی ہیں جب کہ ایشیائی تہذیبوں کو اجتماعیت پسند کہا جاتا ہے۔

ِشخصیت کا تصور

’’شخصیت‘‘ کی اصطلاح اکثر ہمارے روز مرہ کے مباحثوں میں سامنے آتی ہے۔ ’’شخصیت‘‘ کے معنی دراصل لاطینی لفظ ''Persona" سے ماخوذہے۔ یہ ایک قسم کانقاب یانقلی چہرہ ہوتا تھا جو رومن تھیٹر میں کام کرنے والے کردار اپنے چہرے کے میک اپ کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ناظرین یہ امید کرتے تھے کہ ماسک پہننے کے بعد انسان ایک مخصوص طریقے سے کھیل کھیلے گا۔ بلاشبہ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انسان جو کردار نبھا رہا ہو اس کی تمام خوبیاں اس میں ہونی چاہئیں۔
عام انسان کے لیے شخصیت کا مطلب ہے کسی بھی فرد کی ظاہری جسمانی ہیئت۔ مثلاً اگر ہم کسی خوبرو انسان کو دیکھتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ وہ ساحرانہ شخصیت کا مالک ہوگا۔ شخصیت کا یہ تصور ایک سطحی مفروضہ ہے جو ضروری نہیں ہے کہ صحیح ہو۔
نفسیات کی اصطلاح میں’’شخصیت‘‘ عام لوگوں اور حالات کے جوابی عمل کے طریقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لوگ آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کے حالات میں کس طرح عمل کرتے ہیں۔ کچھ مخصوص اصطلاحات (جیسے شرمیلے، حسّاس، خاموش،پرجوش، وابستہ وغیرہ) اکثر و بیشتر شخصیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ تمام الفاظ شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح ’’شخصیت‘‘ انسان کی ان قدرے مستحکم اور مخصوص صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے جو انسان کچھ خاص عرصے میں اور مختلف حالات میں استعمال کرتا ہے۔ 
اگر آپ باریکی سے معائنہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ لوگوں کا رویہ مختلف النوع ہوتا ہے۔ ایک شخص ہمیشہ ہی خبردار یا اضطرابی کیفیت میں نہیں ہوتا یا سدا ہی شرمیلا یا دوستانہ بھی نہیں رہتا۔ شخصیت انسان کو اس کے مختلف حالات میں اعمال سے اجاگر کرتی ہے۔ مختلف اوقات اور مختلف حالات میں انسان کے کردار، سوچ اور جذبات کا استحکام ہی اس کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مثلاً ایک ایماندار انسان ہر حالت میں اور ہر وقت ایماندار ہی رہے گا۔ انسان کے کردار میں حالات کی و جہ سے کچھ تبدیلیاں آتی ہیں جو اس کے ماحول کی دین ہوتی ہیں۔
مختصراً شخصیت درج ذیل خصوصیات کی بنا پر جانچی جاتی ہے
1۔  اس میں نفسیاتی اور جسمانی دونوں عنصر ہوتے ہیں۔
2۔  ہر فرد کے کردار کا اظہار ایک الگ مخصوص ڈھنگ سے ہوتا ہے۔
3۔  شخصیت کے خصائص وقت کے ساتھ بہ آسانی تبدیل نہیں ہوتے۔
4۔  یہ زبردست محرک ہے کیوں کہ اس کی کچھ خصوصیات اندرونی یا بیرونی حالات کے پیش نظر تبدیل ہوجاتی ہیں۔
جب ہم ایک بار کسی کی شخصیت کا تعین کر لیتے ہیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کن حالات میں کس طرح سے عمل کرے گا۔ کسی کی بھی شخصیت کے بارے میں معلومات ہمیں اس سے حقیقی اور قابل تسلیم طریقوں سے بات کرنیسے حاصل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو ایسا کوئی بچہ ملے جو کسی بھی حکم کی تعمیل نہ کرتا ہو، تو اس سے رابطہ بنانے کا بہترین طریقہ ہوگا اس کو احکامات نہ دیے جائیں بلکہ اس کے سامنے ایسے قابل تسلیم ترجیحات رکھی جائیںجن میں سے بچہ خود اپنا طریقۂ کار منتخب کر سکے۔ اسی طرح ایک بچہ جس کے اندر احساس کم تری ہو، اس کو کسی دوسرے بچے (جو پوری طرح خود اعتماد ہے) کے مقابلے دوسری طرح سے سلوک کیا جائے گا۔
انسان کے کردار کی خصوصیات کو بیان کرنے کے لیے اور بھی بہت سی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ اکثر و بیشتر یہ ترکیبیں شخصیت کے مترادف ہوتی ہیں۔ باکس 2.1 میں اسی طرح کی کچھ اصطلاحات اپنی شناختی خصوصیات کے ساتھ دی گئی ہیں۔ آپ ان کو توجہ سے پڑھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح شخصیت کے تصور سے مختلف ہیں۔

شخصیت کے مطالعے کے لیے مختلف طرز فکر

 شخصیت کے مطالعے میں مصروف ماہرین نفسیات ان مطالعوں کے ذریعہ ہی انسان یا فرد واحد کی شخصیت میں ہونے والی تبدیلیوں کے جواب یا وجوہات تلاش کرتی ہیں۔ آپ نے یہ دیکھا ہوگا کہ ایک ہی خاندان کے دو بچے کس طرح ڈرامائی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ وہ صرف جسمانی طور سے ہی مختلف نہیں ہوتے بلکہ وہ دونوں مختلف حالات میں بالکل الگ انداز سے عمل کرتے ہیں۔ یہ مشاہدات ہمیں کچھ سوالات کرنے پر مجبور کرتے ہیں’’ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک ہی طرح کے حالات میں مختلف لوگ مختلف  رد عمل کا اظہار کرتے ہیں؟ اور وہ دوسروں سے مختلف کیوں ہوتا ہے؟‘‘ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جوکھم بھرے کاموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جب کہ کچھ دوسرے لوگ پڑھنے (مطالعہ) ،ٹیلی ویژن دیکھنے اور کارڈ کھیلنے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کیا یہ اختلافات کسی انسان کی زندگی میں ہمیشہ قائم رہتے ہیں یا پھر یہ وقتی اور حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں؟‘‘
انسانوں میں کردار کے اختلافات کو سمجھنے کے لیے بہت سے نظریات اور طرز فکرموجود ہیں۔ اسی طرح ایک خاص فرد کے رویّے میں پیدا ہونے والے توافقی عنصر کو سمجھنے کے لیے بھی مختلف طرز فکرہیں۔ یہ تمام نظریات انسانی رویوں کے  مختلف طرزوں پر منحصر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کچھ خصوصیات پر روشنی ڈالتا ہے لیکن شخصیت کی تمام پرتوں کو نہیں کھولتا۔

شخصیت سے متعلق اصطلاحات

افتاد مزاج: ردِّعمل کا حیاتیات پر مبنی وصف
خاصہ:کردار کا مستحکم‘ مستقل وصف
میلان طبع:کچھ خاص حالات میں انسان کے ردِ عمل کا رجحان
سیرت:کردار کا اجتماعی یا کلی طریقہ
عادت:انسان کے برتائو میں آزمودہ طریقے
اقدار:وہ مقاصد اور نصب العین جن کو حاصل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے

                                                                                        باکس 2.1

ماہرینِ نفسیات ’’شخصیت‘‘ کے نظریات میں اقسام اور خصوصیات کو الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ اقسام بتانے والے نظریات انسانی شخصیت کو سمجھنے کے لیے افراد کی کرداری خصوصیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہر ایک نمونہ ایک ایسی قسم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ایک طرح کی خصوصیات کے حامل افراد ایک ہی طرح کے حالات میں کس طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس خصوصیات کا مطالعہ کچھ مخصوص نفسیاتی صفات پر مرکوز ہوتا ہے جن میں فرد مستقل اور مستحکم طریقے سے اختلاف رائے رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ زیادہ شرمیلے ہوتے ہیں اور کچھ کم، کوئی فرد زیادہ دوستانہ طبیعت کا ہوتا ہے اور کوئی بالکل دوستانہ نہیں ہوتا۔ یہاں ’’شرم‘‘ اور ’’دوستی‘‘ انسان کی شخصیت کے اس خاص وصف کو ظاہر کرتے ہیں جس کے ذریعے فرد کردار کی اس خصوصیت کی موجودگی اور عدم موجودگی،دونوں طرح کے حالات میں پرکھا جا سکتا ہے۔ آپسی رابطہ (بین علمی)کا نظریہ کہتا ہے کہ حالات ہمارے برتاؤ کو متعین کرنے میں ایک بڑا رول ادا کرتے ہیں۔ لوگ آزادانہ یا تابع رویہ اپنی ذاتی وصف کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ ان کو کچھ مخصوص حالات میں ملنے والے انعام و اکرام یا دھمکیاں ان کے اس کردار کو طے کرتے ہیں۔ انسانی طبیعت کے خاصے کا یہ توافق حالات کے تانے بانے میں کافی الجھا ہوا ہے ۔ حالات کا دباؤ یا اثر لوگوں کے رویوں پر بازار میں،کچہری میں یا عبادت گاہ میں،کہیں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

نوعی طرزفکر

جیسا ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ شخصیت کی اقسام فرد کے یکساں برتاوکی نمائندگی کرتی ہیں۔ لوگوں کو شخصیت کی اقسام کی بنیاد پر درجہ بند کرنے کی کوششیں زمانۂ قدیم سے چلی آرہی ہیں۔ یونانی طبیب ’ہیوکرات ‘نے شخصیت کی ایک وضعی شکل پیش کی تھی جو مزاج کی بنیاد پر تھی۔ اس نے افراد کی تقسیم چارطرح سے کی تھی (عنی،دصوی،بلغمی، مالی خولیائی‘ اورصفراوی) یعنی تند خو،ان میں سے ہر ایک کچھ مخصوص خصائل کا حامل ہے۔
ہندوستان میں بھی آیوروید کی مخصوص کتاب ’’چرک سمہتا‘‘ میں افراد کی تقسیم وٹا،پٹا اور کافا کے ناموں سے کی گئی ہے جو انسانی مزاج کے تین عناصر پر مبنی ہے ۔ اس سہ عناصر تقسیم کو ’’تری دوشا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک انسان کی اس افتاد مزاج کی عکاسی کرتا ہے جس کو انسان کی بنیادی فطرت (پرکرتی)کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ شخصیت کی ایک وضع ’’تری گن‘‘ پر منحصر ہے جیسے کہ ستوؔ،راجسؔ،اور تمسؔ۔ستوگنُ میں انسان کے کردار کی پاکیزگی،سچائی،ذمہ داریوں کے تئیں سنجیدگی،بے تعلقی کا احساس اور باضابطگی جیسے خصائل شمار کیے جاتے ہیں۔ راج گُن میں انسان کے مزاج کی شدت پسندی، تسکین حس کی خواہش، غیر اطمینانی حالت، حسد اور مادیت پسند ذہنیت شمار کی جاتی ہیں۔ تمس گُن فرد کے مزاج میں غصہ، تکبّر، افسردگی، سستی، کاہلی اور محرومیت کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تنیوں ہی گن ہر انسان کے مزاج میں موجود ہوتے ہیں ہا ںان کے درجات مختلف ہو سکتے ہیں۔ انسان کے مزاج میں کسی بھی ایک گن کا غلبہ اس کے مزاج کی وضع طے کرتا ہے۔
علم نفسیات میں شیلڈن کا نظریۂ شخصیت خاصا اہم مانا جاتاہے۔ جسم کی وضع قطع اور مزاج کو بنیاد ما ن کر شیلڈن نے فربہ شکم،قوی اندام اور لاغر اندام اقسام پیش کی ہیں۔ فربہ شکم موٹے،اور گول ہوتے ہیں۔ مزاجاً وہ آرام پسند اور صحبت پسند ہوتے ہیں۔ قوی اندام افراد قوی اعصاب کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کا جسم مضبوط کاٹھی کا اور لمبا ہوتا ہے۔ وہ محنتی اور با ہمت ہوتے ہیں۔ لاغر اندام لوگ جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے دبلے،لمبے اور نازک ہوتے ہیں۔ مزاجاً وہ لوگ ذہین ، فن کے ماہر اور درون بین ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ یادرکھنا چاہیے کہ یہ جسمانی وضعیت بالکل سیدھی ہیں اور انسان کے رویہ یا مزاج کے بارے میں کوئی رائے اپنانے میں ان کا رول ایک حد تک ہی ہوتا ہے۔ یہ صرف سبوکات کا درجہ رکھتی ہیں۔
یونگ نے ایک الگ خاکہ پیش کیا ہے جس میں لوگوں کی درجہ بندی درون بین اور بیرون بین اقسام میں کی گئی ہے۔ اس خاکے کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے مطابق درون بین وہ لوگ ہیں جوتنہا رہنا چاہتے ہیں،دوسروں کو نظرانداز کرتے ہیں،جذباتی تصادم میں خود کو الگ کر لیتے ہیں،  شرمیلے ہوتے ہیں۔ بیرون بین افراد اس کے برعکس صحبت پسند اور متصرف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے اوپر ہونے والے دباؤ کے رد عمل کے طور پر سماج اور افراد میں اپنے کوگم کردیتے ہیں۔
حال ہی میں فرائڈ مین اور روزن مین نے افراد کی شخصیت کی تقسیم ٹائپ۔ اے اور ٹائپ ۔ بی کے طور پر کی ہے۔ یہ دونوں ماہرین انسانی نفسیات میں جوکھم اٹھانے کے عنصر کی تحقیق کر رہے تھے جب انھیں شخصیت کی ان اقسام کا علم ہوا۔ جو لوگ اے ٹائپ کی شحصیت میں شمار ہوتے ہیں وہ زبردست تحریک کے حامی ہوتے ہیں،ان میں صبر کا فقدان ہوتا ہے،وقت کو ہمیشہ مختصر سمجھتے ہیں اور جلدی میں رہتے ہیں اور ہمیشہ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ وہ کام کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے آرام کرنا یا دھیمی رفتار سے کام کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا اثر بہت جلدی قبول کر لیتے ہیں۔ ٹائپ اے کے لوگوں میں ہائی بلڈ پریشر سے کہیں زیادہ دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے بہ نسبت سگریٹ نوشی اور بڑھے ہوئے کولسٹرال کی سطح سے۔ ٹائپ بی قسم اس کے بالکل برعکس ہے جس کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان افراد میں ٹائپ اے والا کوئی بھی وصف نہیں ہوتا۔ اس خاکے کو Morris نے وسعت بخشی اور ایک ’ٹائپ سی‘قسم کی شخصیت پیش کی ہے جو کینسر (سرطان) جیسی مہلک بیماری کے لیے بے حد حساس ہوتی ہے۔ اس قسم کے افراد معاون اور صابر ہوتے ہیں ا ور کسی قسم کا دعوی کرنا ان کا مسلک نہیں ہوتا۔ وہ اپنے منفی جذبات جیسے غصہ وغیرہ کو دبا دیتے ہیں اور حاکم کے تئیں تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تازہ ترین تحقیق میں ایک اور قسم ’ٹائپ ڈی‘شخصیت بھی سامنے آئی ہے۔ اس قسم کے افراد خصوصاً افسردگی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
شخصیت کے بارے میں بنائے گئے یہ خاکے عموماً دلچسپ اور بہت آسان ہیں۔ انسان کا مزاج یا رویہ خاصا پیچیدہ اور غیر یکساں ہے۔ اس لیے افراد کو ایک خاص قسم کی شخصیت کے خانے میں رکھ دینا مشکل ہے۔ افراد اتنی آسانی سے ان اقسام میں فٹ نہیں ہوتے ہیں۔

خاصہ امتیازی وصف کا طرزِ فکر

یہ نظریہ شخصیت کے بنیادی اجزاکی خصوصیات پر مشتمل ہے۔ اس طرز فکرمیں ماہرین شخصیت کی گروہ بند تعمیر کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ انسان کی نفسیاتی خصوصیات میں تغیر اور انحراف ہوتا ہے۔ لیکن ان کو شخصیت کے چھوٹے چھوٹے مخصوص زمروں میں یکجا کرنا ممکن ہے۔ انسان کے خصائل کا مطالعہ ہماری روز مرہ کی زندگی کے تجربات کے مماثل ہے۔ مثال کے طور پر جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص صحبت پسند ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ نہ صرف معاون‘ مددگار اور دوست ہوگا بلکہ اس کے رویّے میں دوسرے سماجی افراد بھی موجود ہوں گے۔ اس طرح خصائل کا مطالعہ افراد کی بنیادی خصوصیات کی شناخت کرتا ہے۔ خصلت یا خصوصیت انسا ن کے کردار کا وہ جز ہوتی ہے جس کی و جہ سے افراد ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان خصائل میں وہ رویّے شامل ہوتے ہیں جو مختلف حالات کی مانگ ہوتے ہیں۔
مختصر طور پر اے  خصائل عموماً مستحکم ہوتے ہیں۔ بی اکثر ہر طرح کے حالات میں یکساں رہتے ہیں،اور  سی ان خصائل کی قوت اور ان کے مرکبات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
بہت سے ماہر نفسیات نے شخصیت کے بارے میں اپنا طرز فکر وضع کرنے کے لیے ’’خصائل کے مطالعے ‘‘ کا سہارا لیا ہے۔ اب ہم کچھ اہم نظریات پر بحث کریں گے۔

آل پورٹ (All Port) کا نظریہ خصائل سیرت

All Port کو اس طرز فکرکا موجد مانا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ فرد کی طبیعت اور مزاج میں بہت سے وصف یا خصائل ہوتے ہیں جو متحرک ہوتے ہیں۔ وہ انسان کے رویّے پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ ایک فرد مختلف حالات میں بھی ایک ہی طرح کا رد عمل کرتا ہے۔ یہ خصائل متفرق اور مختلف نظر آنے والے اعمال کو یکجا کر دیتے ہیں۔ All Port کی دلیل ہے کہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسروں کو بیان کرنے یا ظاہر کرنے کے لیے جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں،وہی الفاظ اس کی شخصیت کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ انھوں نے انگریزی زبان کے ان الفاظ کا تجزیہ کیا جو انسانی خصلت اورسیرت کو بیان کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر  All Port نے ان خصائل اورخصائص کو بنیادی ،مرکزی،اور ثانوی اقسام میں بانٹاہے۔
بنیادی وصف دراصل انسان کا طبعی میلان ہے۔ یہ ان مقاصد کو بیان کرتا ہے جن کے اطراف انسان کی پوری زندگی گھومتی ہے۔ مہاتما گاندھی کا ’’ عدم تشدد‘‘ اور ہٹلر کا ’’ ناز ازم‘‘ اسی قسم کے وصف کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی خصوصیات کسی انسان کے نام کے ساتھ اتنی مضبوطی سے جڑ جاتی ہیں کہ ان اوصاف کی شناخت ان ناموں سے ہونے لگتی ہے جیسے گاندھیائی یا ہٹلرانہ وصف۔ کم سرایت کرنے والے یا کم اثر کرنے والے رحجانات مرکزی وصف کہلاتے ہیں۔ یہ اوصاف (جیسے پرجوش مستعد اور پرخلوص ہونا) اکثر اس وقت استعمال کیے جاتے ہیں جب کسی کو کوئی سرٹیفکٹ دینا ہو یا اس کو کسی نوکری کے لیے نام زد کرنا ہو سب سے کم تعلیمی خصوصیات کو ثانوی اوصاف کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایسے رحجانات جیسے آم پسند کرنا،کچھ مخصوص لباس استعمال کرنا وغیرہ ثانوی اوصاف کی مثالیں ہیں۔ جب کہ All Port   نے بھی مانا ہے کہ انسان کے حالات کا اس کے رویوں پر اثر پڑتا ہے۔ پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ایک فرد کچھ مخصوص حالات میں عمل کرتا ہے، وہ اس کے کردار کی خصوصیتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ حالاں کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک جیسی خصوصیات کے حامل افراد اپنے اپنے طور پر اپنے حالات میں ان اوصاف کو مختلف طرح سے ظاہر کریں۔ All Port نے انسان کی طبیعت یا مزاج کے ان اوصاف کو داخلی غیر یکساں عنصر کے طور پر مانا ہے جو کوئی بھی فرد اچانک درپیش حالات میں رد عمل کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان خصائل میں کوئی بھی تبدیلی ایک ہی جیسے حالات میں فرد کے مختلف النوع کو ظاہر کرے گی۔

Cattell: شخصیت کے عوامل

Raymond Cattell کا ماننا ہے کہ افراد عام طور سے اپنی ہیئت کے اعتبار پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اور یہ ہیئت تجرباتی طور پرمتعین کی جا سکتی ہے۔ Raymond Cattell  لغوی خصوصیات (وہ خصوصیات جو لسانی طور سے زبان کا حصہ ہوتی ہیں) میں سے کچھ بنیادی اوصاف کا انتخاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے عوامل کے تجزیے کی ایک تکنیک استعمال کی ہے جوایک شماریاتی طریقۂ کار ہے۔ اس طریقے سے Raymond Cattell نے بنیادی ہیئت کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مطالعے کے مطابق 16بنیادی خصائص ہیں۔ بنیادی وصف مستحکم ہوتے ہیں اور شخصیت کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے وصف ہوتے ہیں جو اوپری سطح پر کام کرتے ہیں۔ یہ اوصاف بنیادی اوصاف کے آپس میں رابطے سے وجود میں آتے ہیں۔Raymond Cattell نے بنیادی اوصاف کو برعکس رحجانات کی روشنی میں سمجھایا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ایک آزمائش کی جس کو 16پی ایف کہا جاتا ہے۔ اس میں شخصیت سے متعلق 16سوال ہیں جن کے جوابات کے ذریعہ کسی فرد کی شخصیت کی شناخت کی جا سکتی ہے ۔ یہ 16 پی ایف نام کا آزمائشی فارمولہ تقریباً تمام ماہرین نفسیات استعمال کرتے ہیں۔

Eysenck کا نظریہ

H. J. Eysenck کا کہنا ہے کہ شخصیت کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ حیاتیاتی اور جینیاتی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے۔ ہر پہلو یا پرت میں بہت سے خاص وصف ہوتے ہیں۔ شخصیت کی تقسیم کے یہ پہلو یاسطحیں مندرجہ ذیل ہیں:

1۔   اعصابی بہ نسبت جذباتی استحکام: یہ عنصر انسان کی شخصیت کے اس پہلو پر روشنی ڈالتا ہے جس میں انسان کے اندر اپنے جذبات کو قابو کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ ایک طرف توہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو اعصابی مریض ہیں۔ ایسے لوگ بہت زیادہ موڈی، پرتشویش، حساس اور بے چین ہوتے ہیں اور بہت جلدی اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے۔ دوسری طرف ایسے افراد ہیں جو پرسکون اور بھروسے کے لائق ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہر حالت میں اپنے اوپر قابو رکھتے ہیں۔
2۔  بیرون بینی بہ نسبت درون بینی: یہ شخصیت کے اس پہلو کا مطالعہ ہے جو افراد سماج میں میل جول رکھتے ہیں جو چست ہیں، مضطرب رہتے ہیں،گروہ پسند ہیں اور ہمیشہ سنسنی خیز کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایسے افراد ہیں جومست ہیں،خاموش اور خبردار ہیں، اور بہت درون بین فطرت کے مالک ہیں۔
بعد میں Eysenck نے ایک تیسرا پہلو بھی پیش کیا جس کو جنونیت بمقابلہ سماجیت (سماج پسندی) کا نام دیا ہے۔ یہ پہلو ابتدائی دونوں عوامل کے آپسی ربط میں کام کرتا ہے۔ ایسا فرد جو جنونی فطرت کا حامل ہوتا ہے وہ بہت زیادہ خود پسند اور سماج مخالف ہوتا ہے۔ Eysenck کا ’’شخصیت کا سوال نامہ فرد کی شخصیت کے ان پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شخصیت کی پہچان کے لیے اوصاف یا خاصے کا نظر یۂ فکر سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں بہت سی نئی تحقیق بھی ہو رہی ہے۔ یہ تمام تحقیقات آپ کی اس موجودہ تعلیم کے دائرے سے کافی آگے ہیں۔ ایک نیا فارمولا دریافت کیا گیا ہے جس کے مطابق انسان کے کردار کے وصف کی بالکل انوکھے انداز میں گروہ بندی کی جا سکتی ہے۔ یہ نیا فارمولہ باکس 2.2 میں دیا گیا ہے۔

باکس 2.2        

  شخصیت کا پانچ نکاتی نمونہ

حال کے دنوں میں بنیادی اوصاف کی بحث نے ایک دلچسپ موڑ لیا ہے Paul CostaاورRobert McCrae نے شخصیت کے تمام اوصاف کا مطالعہ کیا۔  اس کے نتیجے میں پانچ عوامل سامنے آئے۔ ان کو اکثر اوقات پانچ بڑے عوامل کہا جاتا ہے۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔  تجربات کے تئیں کھلاپن: ایسے افراد میں تجسس ہوتا ہے۔ وہ تصورات کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں، نئے خیالات کا کھلے دل سے مطالعہ کرتے ہیں اور تہذیبی سرگرمیوں میں دل چسپی لیتے ہیں۔ اس کے بر عکس جو لوگ اس معیار پر پورے نہیں اترتے ان میں سختی اور درشتی ہوتی ہے۔

2۔  بیرون بینی: یہ ایسا وصف ہے جو افرا د کی سماجی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ لوگ سماج میں گھلے ملے ہوتے ہیں، باتونی ہوتے ہیں اور ہنسی مذاق کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جو شرمیلے ہوتے ہیں۔

3۔  مطابقت رکھنے کا وصف: یہ ایسے افراد کی خصوصیت جو معاون ، مددگار اور دوست ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ایسے افراد ہیں جو خود پسند اور غصیلے ہوتے ہیں۔ 

4۔  جنونیت: یہ عنصر اس وصف کو ظاہر کرتا ہے جس کی و جہ سے فرد میں جذباتی استحکام نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ پریشان ، پرتشویش،ڈرپوک،بے چین اور ہمیشہ تناو میں رہتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جو پرسکون رہتے ہیں اور حالات کے حساب سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔

5۔  فرض شناسی: شخصیت کا یہ پہلو فرد کے کردار کا وہ وصف ہے جس کی و جہ سے افراد اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ لوگ قابل بھروسہ،ذمہ دار، مصلحت پسند، محنتی اور خود پر قابو رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ وہ ہیں جو بے چینی اور اعصابی تناو کا شکار ہوتے ہیں۔یہ پانچ نکاتی فارمولہ شخصیت کی شناخت کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسی پر انحصار کر کے مختلف اقوام میں افراد کی شخصیت کو پہچانا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ عوام لغوی اوصاف (جو الفاظ شخصیت کی خوبیاں یا اوصاف پہنچاننے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) سے متفق ہیں اس لیے مختلف طریقۂ کار سے شخصیت کی شناخت کی کوششوں میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے فی الحال یہ سب سے زیادہ تجرباتی نظریۂ فکر ہے جس سے شخصیت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

نفسی حرکیات کا نظریہ

شخصیت کے مطالعہ میں یہ ایک پسندیدہ نظریہ ہے۔ یہ سگمنڈ فرائڈ کے نظریے پر مبنی ہے۔ وہ ایک طبیب تھا اور اس نے یہ نظریہ اپنے مطب کے تجربات کی روشنی میں دریافت کیا تھا۔ اپنے ابتدائی دور میں وہ اپنے مریضوں کی جسمانی اور جذباتی مشکلات کو حل کرنے کے لیے تنویم کا طریقہ استعمال کرتا تھا۔ وہ جانتاتھاکہ اس کے بہت سے مریض اپنی مشکلات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں بات چیت کے بعد ان کو کافی بہتر محسوس ہوتا ہے۔ فرائڈ نے آزادانہ اتیلاف کا طریقہ اپنایا (ایسا طریقہ جس میں انسان آزادانہ طور سے اپنے خیالات ،محسوسات اور سوچ کو بیان کر سکے) اس کے علاوہ خوابوں کا تجزیہ اور غلطیوں کا تجزیہ کر کے فرائڈ نے انسان کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔
شعور کی سطحیں
فرائڈ کا نظریہ ان ذرائع اور حالات کا مطالعہ کرتاہے جن کی بناپر افراد اپنے جذباتی تصادم کو قابو میں رکھتے ہیں۔ اس نظریہ میں انسان کے ذہن کو شعور کی تین سطحوں پر،پرکھا گیا ہے۔ پہلی سطح شعور کی ہے۔ اس کو ہم ضمیر کہہ سکتے ہیں۔ اس میں انسان کی سوچ، محسوسات اور وہ اعمال شمار کیے جاتے ہیں جن سے دوسرے لوگ واقف ہوتے ہیں۔ دوسری سطح  قبل شعوری ہے۔ اس میں انسان کے دماغ کی وہ حرکات شمار ہوتی ہیں جن سے افراد اس وقت واقف ہوتے ہیں جب وہ اس کو قریب سے محسوس کرتے ہیں۔ تیسری سطح بے شعوری ہے۔ اس سے عموماً لوگ واقف نہیں ہوتے ہیں۔
فرائڈ کے مطابق بے شعوری حرکات حیوانی اور جبلّی محرکات کا ذخیرہ ہیں۔ ان میں انسان کے وہ تمام خیالات اورخواہشات بھی شامل ہوتی ہیں جن سے وہ شعوری طور پر باخبر ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے یہ نفسیاتی تصادم کی طرف لے جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جنسی خواہشات کی و جہ سے پیدا ہوتی ہیں جن کو کھلے طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا،اسی لیے اکثر یہ دبا دی جاتی ہیں۔ لوگ مستقل اپنے بے شعوری محرکات کو سماجی طور پر تسلیم کروانے کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیںاور اس طرح کے ذرائع ڈھونڈتے وقت وہ خود کو ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے۔ تصادم کا یہ ناکام انجام ان کے غیر معمولی رویوں پر منتخب ہوتا ہے۔
بھول جانے کی عادت،غلط تلفظ،ہنسی مذاق والے لطائف اور خواب و خواہشات ہمیں انسا ن کی بے شعوری سطح کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ فرائڈ نے ایک مصلحاتی طریقہ ایجاد کیا جس کو تحلیل نفسی کہتے ہیں۔
اس طریقے کا بنیادی مقصد دبے ہوئے غیر شعوری خواہشات کو شعور کی سطح پر لانا ہے۔ اس طرح یہ افراد کو ایک خود شناس اور سلجھے ہوئے ماحول میں رہنے میں مدد گار ہوگی۔

سرگرمی 2.2

اگر آپ سے کہا جائے کہ آپ اپنی شخصیت کا ایک پہلو تبدیل کریں تو آپ کون سا پہلو بدلنا پسند کریں گے اور کیوں؟ اور اگر نہیں توکیوں؟ آپ کی شخصیت کا کون سا پہلو ایسا ہے جسے آپ کبھی تبدیل کرنا پسند نہیں کریں گے ؟ایک اقتباس لکھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے؟

شخصیت کا ڈھانچہ

فرائڈکے نظریہ کے مطابق شخصیت کے بنیادی عناصر تین ہیںاور وہ ہیں:(i) فرد کی جبلّی حرکت ارادی(ii) انا اور(iii) فوق انا۔ یہ تینوں عناصر  غیر شعوری سطح پر کارفرما ہوتے ہیں اور افراد کے برتاو سے ان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ (شکل 2.2)۔ یہا ں یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ یہ تینوں عناصر صرف نظریات ہیں یہ حقیقی طبعی ڈھانچے نہیں ہیں۔ ہم ان سب معلومات پر تفصیل سے بحث کریں گے۔

جبلّی حرکت ارادی

جبلّی حرکت ارادی: یہ فرد کی جبلّی طاقت کاسرچشمہ ہوتی ہے۔ یہ فرد کی بنیادی خواہشات کی خودی تسکین سے تعلق رکھتی ہے جیسے جنسی خواہشات ،جارحانہ اضطراب کی فوری تسکین ہیں۔ یہ خوشی اور مسرت کے ان اصولوں پرکارفرما ہوتی ہے جس کے مطابق لوگ صرف خوشی حاصل کرتے ہیں اور تکلیف کو نظر انداز کرتے ہیں۔ فرائڈ کے مطابق انسان کی جبلّت اکثر و بیشتر جنسی رحجان کی حامل ہوتی ہے اور بقیہ قوتیں جارحانہ ہوتی ہیں۔ انسان کی یہ خواہش یا جبلت اخلاقی اقدار،سماج اور دوسرے افراد کی پرواہ نہیں کرتی ہیں۔
انا:یہ عنصر بھی فرد کی شخصیت میں اس کی بنیادی جبلت کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔ اور یہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل حقیقی طور پر ڈھونڈتا ہے۔ اسی لیے یہ حقیقی اصولوں پر منحصر ہوتا ہے اور اکثر فرد کی جبلّی حرکتوں کو مناسب طریقۂ کار کی طرف موڑ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک لڑکا جو آئس کریم کھانا چاہتا ہے تو اس کا جبلّی ارادہ اس کو یہ مشورہ دے گا کہ آئس کریم کو جھپٹ کر کھاجائے۔ لیکن اس کی انا اس کو اس حرکت سے باز رکھے گی اور اس کی سمجھ میں آئے گا کہ اگر اس نے آئس کریم چھین کر کھائی تو اسے سزا ملے گی۔ حقیقی اصولوں کی بنا پر اس کی سمجھ میں آئے گا کہ اس کی اس خواہش کی تسکین کا بہتر ذریعہ یہ ہے کہ وہ اسے کھانے کی اجازت مانگے۔ اس طرح جبلّت فرد کو غیر حقیقی اور متقاضی خواہشات کے لیے اکساتی ہے اور صرف ان خواہشات کی تسکین کرنا چاہتی ہے جب کہ انا انسان کو صبر کرنا اور عقل سے کام لینا سکھاتی ہے۔
4

شکل2.2 فرائڈ کے نظریہ کے مطابق شخصیت کا ڈھانچہ

فوق انا: اس عنصر کو بیان کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کو ذہنی عمل کی اخلاقی شاخ سمجھا جائے۔ یہ عنصر انسان کی جبلت اور انا کی تسکین کے طریقوں کو اخلاقی سطح پر پرکھ کر انسان کو یہ سمجھا تا ہے کہ کیا اس کا طریقۂ کار اخلاقی ہے۔ یہ فرد کی جبلی حرکتوں کو قابو میں رکھتا ہے اور اس کے لیے سماج اور والدین کے رول کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً اگر لڑکا آئس کریم کھانا چاہتا ہے تو وہ اپنی ماں سے اس کی اجازت مانگے گا۔ یہاں فوق انا اس کو بتا رہی ہے کہ وہ صحیح اور اخلاقی حرکت کر رہا ہے۔ آئس کریم حاصل کرنے کا یہ طریقہ اس کے ذہن میں ڈر، تشویش اور جرم کے احساس کو جگہ نہیں دے گا۔
اس طرح فرائڈ کے خیال میں انفرادی عمل شعوری طورپر تینوں قوتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں میں جبلت زیادہ کار فرما ہوتی ہے اور کچھ میں انا۔ بہر حال ان تینوں عناصر کی اجتماعی قوت بھی فرد کے رویّے میں استحکام پیدا کرتی ہے۔ فرائڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرد کی جبلت دو بنیادی عناصر پر منحصر ہوتی ہے جن کو زندگی اور موت دو سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ فرائڈ نے موت کو نظر اندازکر کے زیادہ توجہ زندگی سے یا جنس سے متعلق حقائق پر مرکوز کی ہے۔ اس قسم کی جبلت کو جنسی طلب یا حیاتی طلب کی اصطلاح دی گئی ہے۔ یہ خوشی حاصل کرنے کے اصول پر مبنی ہے اور فرد کی یہ طلب فوری تسکین کی خواہاں ہوتی ہے۔

اناکی دفاع کے طریقے

فرائڈ کے مطابق انسانی رویہ زیادہ تر یہ دکھاتاہے کہ وہ خطرے یا تشویش سے بھاگنا چاہتا ہے۔ اس لیے جس انداز سے لوگ برتاو کرتے ہیں، وہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ان کی انا تشویش یا خطرے کے وقت کس طرح عمل کرتی ہے۔ فرائڈ کا ماننا ہے کہ لوگ تشویش سے بچنے کے لیے دفاعی تدبیر اختیار کرتے ہیں اور یہ تدبیریں انا کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی ہیں اور بنیادی ضروریات کو علم میں رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اس طرح یہ حفاظتی تدبیریں تشویش کو کم کرتی ہیں اور اس کام میں حقیقت کو مسخ کر دیتی ہیں لیکن کچھ حد تک یہ طریقہ نارمل بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ اس طریقے کا استعمال حقیقت سے دور رہ  کر کرتے ہیں ان کے کردار میں بہت زیادہ بدنظمی پیدا ہو جاتی ہے۔
اس حفاظتی طریقہ کی بھی فرائڈ نے کئی اقسام بیان کی ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم احتباس ہے۔ اس قسم کے رویّے کو شعوری سطح پر بالکل نہیں تسلیم کیا جاتا۔ جب افراد اپنی کسی خواہش کو دبا تے ہیں تو وہ اس کی طرف سے پوری طرح بے خبر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’مجھے نہیں معلوم میں نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ تو اس جملے میں اس کی شخصیت کا یہ عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
دوسرے اہم حفاظتی طریقے اظلال، انکار،ردِّ عمل اورتکویل(تاویلی) ہیں اظلال طریقۂ کار میں افراد اپنی خصوصیات کو دوسرے افراد کے سر منڈھ دیتے ہیں۔ اس لیے ایسا فرد جس میں جارحانہ رحجانات زیادہ ہوں، وہ دوسرے افراد کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسرے افراد بھی اس سے جارحانہ انداز سے بات کرتے ہیں۔ انکار کے طریقے میں فرد حقیقت کو ماننے سے یکسر انکار کر دیتا ہے۔ مثلاً ایک ایچ آی وی ایڈس کا مریض اس امر سے بالکل انکار کر دیتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہے۔ ردِّعمل فرد کے ایسے رویوں کو منتخب کرنے میں مدد کرتا ہے جو اس کو فکر اور پریشانی سے بچائیں۔ ایسے میں انسان اپنی حقیقی حیات کو پوشیدہ رکھتا ہے۔ ایسا شخص جو شدید جنسی خواہشات رکھتا ہو،لیکن خود کو مذہبی کاموں میں غرق کرلے، اس قسم کے رد عمل کی مثال ہے۔ تکویلی طریقے میں انسان اپنے ناجائز یا بے کار محسوسات کو کار آمد اور قابل تسلیم بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم امتحانات میں خراب کام کرنے کے بعد کچھ قلم خریدے اور اپنے اس عمل کو صحیح محسوس کرانے کے لیے یہ کہی کہ ’’میں ان نئے قلموں کے ذریعہ اچھا کام کر سکتا ہوں‘‘۔
لوگ جب اپنی انا کے تحفظ کے لیے ان طریقوں کو آزماتے ہیں تودراصل وہ اس حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں کہ وہ ایساکررہے ہیں۔ یہ تمام طریقے انسان کی انا کو درپیش فکر، پریشانی اور تشویش جیسے محسوسات میں گھر کر بھی صحیح رویہ رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ فرائڈ کے اس نظریے پر بہت سے مفکرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً فرائڈ کا یہ دعویٰ کہ ’’اظلالی طریقے سے انسان کے اوپر پڑنے والا دباو اور فکر کم ہو جاتی ہے‘‘ کو زیادہ تقویت نہیں ملی ہے۔

شخصیت کی نشو و نما کے مراحل

فرائڈ کے نظریے کے مطابق شخصیت کا مرکزی پہلو ابتدائی مراحل میں ہی طے ہو جاتا ہے۔ یہ تا زندگی قائم رہتا ہے اور اگراسے تبدیل کرنا چاہیں تو بہت مشکل سے تبدیل ہوتا ہے۔ انھوں نے بھی شخصیت کی نشو و نما کی ایک اسکیم وضع کی ہے جو پانچ مراحل پر منحصر ہے اس کو ’’نفسی جنسیاتی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نشو و نما کے کسی بھی مرحلے پر کوئی رکاوٹ شخصیت کی نشو و نما پر غلط اثر ڈالتی ہے اور شخصیت پر اس کے اثرات بہت دیرپا ہوتے ہیں۔ ان تمام مراحل کا یہاں پر مختصر تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

زبانی منزل

ایک نو مولود بچے کی بنیادی جبلت اس کے منہ تک محدود ہوتی ہے۔ یہ ہی اس کی تسکین اور مسرت کا مرکز ہوتا ہے۔ وہ اپنے منہ کے ذریعہ ہی غذا حاصل کرتا ہے جس سے اس کی بھوک کی تسکین ہوتی ہے۔ بچے کو انگوٹھا چوسنے، دودھ پینے اور کاٹنے سے ذہنی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ عمر کے ان ابتدائی مہینوں میں ہی جب دنیا کے بارے میں انسان کی بنیادی حسیات بنتی ہیں۔ اس لیے اگر فرائڈ کا نظریہ مانیں تو ایک ایسا فرد جو دنیا کو ایک تلخ جگہ سمجھتا ہے، اس کی زندگی کا ابتدائی دور پریشانیوں اور مشکلات بھرا رہا ہوگا۔

مبرزی منزل

ایسا دیکھا گیا ہے کہ دوبرس سے تین برس کی عمر میں بچہ سماج کی کچھ ذمہ داریوں کے جواب میں کارروائی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ والدین کی طرف سے سب سے بنیادی مانگ یہ ہوتی ہے کہ اب بچہ اپنے پیشاب وغیرہ جیسے جسمانی ضرورتوں کو اپنے طور پر قابو کرنا سیکھے۔ اکثر بچے اس عمر میں اپنی آنتوں میں ہونے والی ہلچل کو محسوس کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ مبرزی منزل دراصل کچھ ایسے ہی محسوسات کا مرکز ہے۔ انسان کی فطری جبلت اور اس کی انا میں اسی مرحلے پر فرق ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسی مرحلے پر بچے اور بڑے لوگوں کے مطالبات میں فرق واضح ہوتا ہے او ران کا اپنے مزاج پر قابو ہوتا ہے۔

ذکری منزل

یہ مطالعہ تناسلی اعضاپر مبنی ہے۔ چار سے پانچ سال کی عمر کے بچے مونث اور مذکر میں تفریق کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے درمیان جنسی رشتے سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اسی مرحلے پر ایک بچہ (لڑکا) فہم و ادراک کی الجھن کو محسوس کرتا ہے جس میں وہ ماں کے لیے پیار اور باپ کے لیے جارحیت محسوس کرتا ہے لیکن سزا کے ڈر اور باپ کی ڈانٹ اور غصے کا بھی اسے علم ہوتا ہے۔(بطور ردِعمل) (اوڈیپس ایک یونانی راجہ تھا جس نے انجانے میں اپنے باپ کو مار ڈالا تھا اور پھر اپنی ماں سے شادی کر لی تھی) اس منزل کا ایک خاص مرحلہ اسی او ڈیپس الجھن کا حل ہے۔ اور یہ حل تب نکلتا ہے جب بچہ اپنے باپ ماں سے تعلق اور رشتہ پہچان لیتا ہے اور پھر اپنے والد کے برتاو کو نمونے کے طور پر اپنے رویّے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ لڑکیوں میں یہ  او ڈیپس الجھن الیکٹرا الجھن کہلاتا ہے (الیکٹرا ایک یونانی کردار تھا جس نے اپنے بھائی کو راغب کیا تھا کہ وہ ماں کو مار ڈالے) لیکن لڑکیوں میں یہ مرحلہ کچھ مختلف طریقے سے شروع ہوتا ہے۔ اپنے باپ کے ساتھ عشق یا پیار جتانے کے لیے عموماً لڑکیاں علامتی طور سے اپنے باپ سے شادی کر کے خاندان بناتی ہیں ۔ جب بچیوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ناممکن بات ہے تو وہ خود کو اپنی ماں کے ساتھ مشابہ کرنے لگتی ہیں اور باپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ماں کے جیسے رویے اپناتی ہیں۔ او ڈیپس الجھن کے حل کا تنقیدی پہلویہ ہے کہ بچہ والدین میں سے اپنی ہی جنس کے فرد کے ساتھ شناخت ڈھونڈ لیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں لڑکے ماں کے لیے اپنی جنسی خواہشات کو ترک کر کے والد کو ایک نمونے کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں بجائے اس کو اپنا دشمن سمجھنے کے اور لڑکیاں اپنے والد کے تئیں جنسی خواہش ترک کر کے اپنے آپ کو ماں کے ساتھ مشابہ کر لیتی ہیں۔

خوابیدہ جنس کا دور

انسان کی زندگی کا یہ مرحلہ تقریباً سات سال کی عمر سے سنِ بلوغ تک رہتا ہے۔ اس دوران بچہ جسمانی طور پر بڑھتا جاتا ہے لیکن اس کی جنسی خواہشات نسبتاً سست ہوتی ہیں۔اسی دوران بچے کی تمام تر قوتیں اس کے مقاصد کے حصول میں صرف ہوتی ہیں۔

تناسلی دور

عمر کے اس دور میں انسان بلوغت تک پہنچتا ہے اور اس کی نفسیاتی جنسی نشو و نما ہوتی ہے۔ جنسی حس، خوف اور عمر کے ابتدائی ادوار میں دبائی گئی خواہشات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ افراد جنسِ مخالف سے زیادہ پختہ اور صحیح انداز میں بات کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر عمر کے اس مرحلے تک کا سفر زیادہ تر مخالفتوں اور رکاوٹوں سے پُر رہا ہے تو نشوو نما کی ایک سیڑھی پہلے ہی پار کرلیتا ہے۔
فرائڈ کا کہنا ہے کہ بچے جیسے جیسے نشو و نما کی سیڑھیاں طے کرتے ہیں ان کا دنیا کے تئیں نظریہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ایک منزل میں بچے کی ناکامی اس کی نشو و نما کو منجمد کر دیتی ہے۔ اس طرح بچے کی نشو و نما رک جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بچہ جو اپنی عمر کے ذکری دور سے صحیح طرح نہیں گزرا ہے یا اس دور میں الجھا رہا ہے تو وہ اگلے مرحلے کی اوڈیپل الجھنوں کو نہیں سمجھ پائے گا اور نتیجتاً والدین میں سے اپنی ہی جنس (ماں یا باپ) کے تئیں درشت اور خونخوار رویہ اس کے ذہن میں پنپ جائے گا۔ اس طرح کی ناکامی بچے کی زندگی کو بڑی حد تک متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے لڑکے یہ سوچ سکتے ہیں کہ مرد عموماً جارح اورظالم ہوتے ہیں اور وہ چاہیں گے کہ لڑکیاں ان کے اوپر انحصار کریں۔ مراجعت اسی طرح کے حالات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ انسان کو ایک دور پہلے گھسیٹ لے جاتی ہے۔ مزاج میں رجعت پسندی تب پیدا ہوتی ہے جب  نشو و نما کی کسی بھی ایک منزل کے مسائل مناسب طور سے حل نہ ہو سکے ہوں ، اس حالت میں افراد غیر پختہ رویہ اپنا لیتے ہیں۔

فرائڈ کے بعد کے نظریات

فرائڈ کے بعد بہت سے مفکرین نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے۔ کچھ نے فرائڈ کے مطابق کام کیا اور پھر اپنی طرز فکر ایجاد کی اور اس تحقیق کو تحلیل جنس کا نظریہ قرار دیا۔ ان مفکرین کو بھی اسی مناسبت سے Neo-analytic کا نام دیا گیا یا ما بعد رائڈ۔ ان تمام تحقیقات کی خصوصیت یہ ہے کہ سب ہی نے جنسی اور جارحانہ جبلت اور انسان کی اناکو فرائڈ کی طرح اہمیت نہیں دیبلکہ ان میں انسان کی تخلیقی قوتیں، مقابلہ کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی اہلیت پر زور دیاگیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو یہاں پر مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔

کارل جُنگ: مقصد اور آرزو

جُنگنے اپنے ابتدائی دور میں فرائڈ کے ساتھ کام کیا لیکن بعد میں وہ فرائڈ سے الگ ہو گیا۔ جُنگ کے مطابق انسان زیادہ تر اپنی خواہشات اور مقاصد کی رہنمائی میں کام کرتا ہے نہ کہ جنسی اور جارحانہ قوتوں کے زیر سایہ۔ جُنگ نے اپنا الگ نظریہ پیش کیاجس کو تحلیل نفس کانظریہ کہاجاتاہے۔ اس نظریہکا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ شخصیت اور فرد میں مقابلہ کرنے والی قوتوں اور ڈھانچوں سے مل کر تیا رہوتی ہے (جس کو متوازن ہونا چاہیے) بجائے اس کے کہ وہ سماج کی ضرورتوں اور فرد کے درمیان یا پھر فرد اور حقیقت کے درمیان پروان چڑھتی رہے۔
جُنگ کا کہنا ہے کہ ایک اجتماعی غیر شعوری کیفیت ہوتی ہے اولین یا ابتدائی دور ہوتا ہے۔ فرد اس کیفیت کو دیکھ کر اپناتا نہیں ہے بلکہ یہ کیفیات اسے وراثت میں ملتی ہیں۔ خدااور قدرت اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ یہ اساطیری کہانیوں، خوابوں اور انسان کے فن پاروں میں جھلکتا ہے۔ جُنگ کا کہنا ہے کہ انسان بذات خود اتحاد کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ یہ بھی ایک صورت اولیٰ ہے جس کا اظہار مختلف طرح سے کیا گیا ہے۔ جُنگ نے اپنے مطالعہ کا زیادہ تر حصہ اس طرح کے اظہار کو ڈھونڈنے میں صرف کیا ہے۔ اس کے مطابق اتحاد اور کلی ہیئت حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی ذاتی اور اجتماعی اہلیت (لاشعوری سطح پر) کا اندازہ ہونا چاہیے اور انسان کو اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر رہنا چاہیے۔

کارن ہارنی :رجائیت یاپراُمیدی

ہارنی بھی فرائڈ کا شاگرد تھا ،اس نے اپنانظریہ فرائڈ کے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر پیش کیا۔ ہارنی نے زندگی کا ایک رجائی نظریہ پیش کیا۔ اس نے انسانی نمو اور فرد کی بازیافت پر زور دیا۔
ہارنی کے نظریے کی سب سے بڑی دین اس کا فرائڈ کے اس نظریے کو چیلنج کرنا ہے جس میں فرائڈ نے عورت کو کمتر درجہ دیا ہے۔ ہارنی کے مطابق ہر صنف کی کچھ اپنی خصوصیات ہوتی ہیں اور مخالف صنف کو ان کا اعتراف کرنا چاہیے،کوئی بھی صنف کم تر یا برترنہیں ہوتی۔ اس کا کہنا ہے کہ عورت حیاتیاتی عوامل کی نسبت سماجی اور تہذیبی عوامل سے زیادہ متأثر ہوتی ہے۔ ہارنی کی دلیل ہے کہ نفسیاتی بدنظمی مختل( بے چین) آپسی رشتوں کی و جہ سے ہوتی ہے جس کا تجربہ انسان کو بچپن میں ہی ہو جاتا ہے۔ جب کسی بچے کے تئیں والدین کا رویہ لا تعلقی، پست ہمتی والا اور محبوط ہوتا ہے تو بچہ خود کوغیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ایک حس ابھرتی ہے جس کو بنیادی تشویش کہا جاتا ہے۔ والدین کے تئیں گہرا رنج اور بنیادی جارحیت اسی حس کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ والدین بہت زیادہ لا تعلقی دکھا کر یا بچوں کو مغلوب کر کے یا پھر بچے کی ہر بات مان کر یا ہر بات نہ مان کر بچوں میں علیحدگی اور عدم معاونت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہیں جو ان کی صحت مند نشو و نما میں رکاوٹ بنتا ہے۔ 

الفریڈ ایڈلر: طرززندگی اور سماجی دلچسپیاں

 ایڈلر کا نظریہ انفرادی نفسیات کا نظریہ ماناجاتاہے۔ ان کا بنیادی مفروضہ ہے کہ انسان کا برتاو ہمیشہ کسی مقصد کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ طلب مقصد فرد کے رویے کو طے کرتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک میں یہ صلاحیت موجود ہے ہم منتخب کر سکیں یا تخلیق کر سکیں۔ ہمارے ذاتی مقاصد ہمارے محرکات ہوتے ہیں۔ وہ مقصد جو ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ہماری غیر مناسب حیات کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، ہماری شخصیت کی نمو میں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق ہر فرد کو تاہی اور جرم کے احساس سے گزرتا ہے۔ یہی احساس کم تری ہے جوبچپن کے ایام میں پیدا ہو تا ہے۔ شخصیت کی صحیح نشو و نما کے لیے اس احساس پر غالب آنا بہت ضروری ہے۔ 

ایرک فرام: انسانی سروکار

فرائڈ کی حیاتیاتی تحقیق کے برعکس فرام نے اپنی تحقیق سماج سے شروع کی۔ اس کے مطابق افراد بنیادی طور پر سماجی ہستی ہے جس کو اس کے آپسی رشتوں کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ فرام کی دلیل ہے کہ نفسیاتی خصوصیات جیسے نمو اور اپنی صلاحیتوں کا اعتراف، انسان کے اندر آزادی کی خواہش،سچائی اورانصاف کے لیے اس کی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
فرام کا کہنا ہے کہ ہماری کرداری خصوصیات دوسرے افراد کے ساتھ ہمارے تجربات پر مبنی ہوتی ہیں۔ تہذیب یا ثقافت تو ایک مخصوص سماج میں زندگی کے طریقوں سے بنتی ہے لیکن افراد کے کردار میں پیدا ہونے والے ثقافتی خصائل سماج اور تہذیب کو بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ فرام کے نظریہ کے مطابق مثبت خصوصیات جیسے ملائمت اور پیار کا شخصیت کی نشو و نما میں اہم رول ہے۔

ایرک ایرکسن: شخصیت کی تلاش

ایرکسن کا نظریہ شخصیت کی نشو و نما میں حقیقی اور شعوری انا پر زور دیتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق نشو و نما ایکپوری زندگی چلنے والا عمل ہے۔ اور انا کی شناخت اس عمل میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے نظریہ ’انفرادی شناخت کا مسئلہ‘ کو خاصی مقبولیت ملی ہے۔ ایرکسن کی دلیل ہے کہ نوجوان لوگوں کو اپنا ایک نظریہ اور سمت متعین کر لینی چاہیے جو ان کو ایک با معنی مقصد اور متحد ہونے کا احساس دے سکے۔
نفسی حرکیات کی تحقیق کو تقریباً سب ہی حلقوں سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ اہم تنقیدیں درج ذیل ہیں۔
1۔  یہ تمام تحقیق کسی خاص کیس سے متعلق ہیں اور ان میں سائنٹفک بنیاد کی کمی ہے۔
2۔  انھوں نے چھوٹے اور مخصوص قسم کے افراد کا مطالعہ کر کے عام افراد کے بارے میں رائے قائم کی ہے۔
3۔  تمام تصورات پوری طرح نہیں بتائے گئے اس لیے ان کو کسی بھی قسم کے سائنٹفک امتحان میں ڈالنا مشکل ہے۔
4۔  فرائڈ نے مردوں کو تمام انسانوں کی شخصیاتی نمو کے لیے نمونے کے طور پر استعمال کیا۔ اس نے عورتوں کے تجربات و نظریات کو نظرانداز کر دیاہے۔

کردار کا نظریہ

 یہ طرزفکر کردار کے اندرونی محرکات کو اہمیت نہیں دیتی ۔ ماہرین اعداد و شمار میں یقین رکھتے ہیں جن کو بہ آسانی سمجھا ، پرکھا اور ناپا جا سکتا ہے۔ یہ مشاہدات مہیج جوابی سلسلوں پر مرکوز ہوتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق شخصیت کو اگر فرد اور اس کے ماحول کے تئیں جواب کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہ آسانی سمجھ میں  آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق شخصیت کی نشو و نما جوابی خصوصیات میں تبدیلیوں پر مبنی ہوتی ہے جب ایک شخص نئے ماحول میں جا کر نئے طریقے سیکھتا ہے۔اس طرز فکر کے بیشتر ماہرین کی نظر میں جواب یا رد عمل انسان کی شخصیت کا ڈھانچہ ہے۔ ہر جواب ایک رویہ ہے جو ایک مخصوص ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عمل میں آتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ ہم کھانا کھاتے ہیں کیوں کہ ہم بھوکے ہوتے ہیں لیکن ہم اپنی غذا کے انتخاب میں بہت مشکل پسند ہوتے ہیں۔ مثلاً بچے بہت سی سبزیوں کو کھانا پسندنہیں کرتے جیسے پالک، لوکی یاکریلا وغیرہ لیکن دھیرے دھیرے وہ ان کو کھانے لگتے ہیں۔ کرداری نظریے کے مطابق بچوں کو ان سبزیوں کو کھانا سکھایا جا سکتا ہے اگر ان کے والدین کو پسند ہیں بلکہ تب تک ان بچوں کو ان سبزیوں کے ذائقے کا اندازہ ہو جائے گا اور وہ ان کو پسند کرنے لگیں گے۔ اس طرح پتہ چلتا ہے کہ رویوں کوصف بند کرنے والا بنیادی رحجان حیاتیاتی اور سماجی ضروریات میں کمی ہے اور یہ تقویت بخش رویوں یا جوابات سے حاصل کیا جاتا ہے۔
آپ نے گیارھویں جماعت میں پڑھا ہوگا کہ سیکھنے کے بہت سے اصول ہیں جن میں جوابی، تہویجی اورتقویت بخشنے والے ذرائع شامل ہیں۔ پاولوکی کلاسیکی التزام کا نظریہ اسکنر/وسیلتی التزام کا نظریہ اور بندورا کا مشاہداتی مطالعے کا نظریہ آپ لوگوں نے پڑھا۔ یہ تمام نظریات سیکھنے اور رویوں کی دیکھ بھال کے طریقے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ان تمام طرزفکر کے اصول شخصیت کے بارے میں تحقیق کرتے وقت استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشاہداتی مطالعہ کا نظریہ سماج کے مطالعے پر زور دیتاہے۔ (یہ دوسروں کی نقل اور مشاہدے پر مبنی ہوتاہے) ۔ یہ طرز فکر خود ضابطگی پر زور دیتاہے جب کہ یہ دوسرے نظریوں میں نہیں ہے۔

سرگرمی 2.3 

اپنے اور اپنے دوستوں کے برتاؤ کی ان خصوصیات کا پتا لگاؤ اور درج کرو جو مشہور نوجوانوں کی شخصیت سے متاثر ہوں۔

تہذیبی طرزفکر

یہ طرزفکر شخصیت کو تہذیبی اور ماحولیاتی عوامل کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرز فکر کے مطابق ایک گروہ کا معاشیاتی دیکھ ریکھ کا نظام اس گروہ کے افراد کے تہذیبی اور کرداری شناخت کو بنانے میں مرکزی رول ادا کرتا ہے۔ آب و ہوا، قدرتی ماحول، غذا، پھول پتے اور مویشی صرف افراد کے معاشی اعمال ہی پر روشنی نہیں ڈالتے بلکہ ان کے سماجی ڈھانچے ، رہنے سہنے کے ڈھنگ، محنت اور کام کی تقسیم اور بچوں کی تربیت کے طریقوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ اگر یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ تمام عناصر بچے کا کلی یا اجتماعی علمی ماحول بناتے ہیں۔ لوگوں کی مہارت،اہلیت،کرداری طریقے اور اقدار کی فوقیت بہت مضبوطی سے ان تمام عناصر سے منسلک ہوتی ہے۔ مذہبی طور طریقے، رسم و رواج، فنون لطیفہ، تفریحی ذرائع اور کھیل ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ افراد کی شخصیت اظلال پذیر ہوتی ہے۔ افراد میں بہت سی ایسی خصوصیات پروان چڑھتی ہیں جو وہ اپنے گروہ کے ماحولیاتی اور تہذیبی عوامل سے حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح تہذیبی طرزفکر میں شخصیت کو فرد کے اپنے گروپ کی خواہشات کی تہذیبی عوامل سے حاصل کرتے ہیں۔
ہم اس کو ایک ٹھوس مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ آج بھی جنگلوں اورپہاڑوں میں رہتا ہے۔ شکار کرنا اور سامان زندگی جمع کرنا ان کی گزر بسر کا ذریعہ ہیں۔ جھارکھنڈ کے برہور قبیلہ کے لوگ ایسی ہی آبادی کی مثال ہیں۔ ان میں سے بیشتر بنجاروں جیسی زندگی گزارتے ہیں اور ایک جنگل سے دوسرے جنگل چھوٹے چھوٹے گروہ بنا کر منتقل ہوتے رہتے ہیں اور لگاتار کھیلوں اور جنگلاتی سامان (جیسے کہ پھل، شہد، جڑیں، مشروم وغیرہ) کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس قبیلے میں بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی جنگلوں میں جانے اور شکار کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ اسی گروہ میں بچوں کو آزاد انسان (بغیر بڑوں کے بہت سے کام نپٹا لینے کی ٹریننگ)، خود مختار (بہت سے فیصلے خود لینے کے آزادی) اور مقصد کے حصول کے لیے (شکار کرنے کے دوران آنے والے خطرات سے مقابلے) کوشاں رہنا بالکل ابتدائی عمر سے ہی سکھایا جاتا ہے۔
ایک کاشتکار سماج میں بچوں کو بڑوں کے تئیں تابعداری، چھوٹوں کے تئیں شفقت اور اپنے فرائض کے لیے ذمہ دار رہنا سکھایا جاتا ہے۔ چوں کہ کردار کی یہ خوبیاں اس قسم کے سماج میں لوگوں کو زیادہ فعال بناتی ہیں اس لیے یہ خصوصیات ان لوگوں کی شخصیت میں نمایاں رول ادا کرتی ہیں۔ بہ نسبت آزاد، خود مختار اور حصول مقصد کے لیے کوشاں رہنے جیسی خصوصیات کے جو شکار کرنے والے سماج میں زیادہ قدر و منزلت رکھتی ہیں۔ مختلف معاشی تلاش اور تہذیبی مانگ ان دونوں اقسام کے سماج میں پلنے والے بچوں کی شخصیت میں مختلف طرح کے عوامل پیدا کرتی ہیں۔

انسانی طرز فکر

تمام انسانی نظریۂ فکر عموماً فرائڈ کے نظریہکے جواب میںہیں۔ ابراہام ماسلواور کارل راجرس اسی قسم کی فکر کے حامل ہیں۔ ہم مختصر طور پر ان نظریات کو سمجھیں گے۔ 
کارل راجرس کا سب سے اہم نظریہ پوری طرح سے باعمل شخص کا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ شخصیت کے ارتقا کے لیے تسکین کا ہونا ایک بڑھا وادینے والی طاقت ہے لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ حتی الامکان اپنی صلاحیتوں، طاقتوں اور استطاعت کا بھر پور اظہار کریں، لوگوں کے اندر یہ پیدائشی رجحان ہوتا ہے جو لوگوں کی موروثی فطرت کو حقیقت میں تبدیل کر تاہے۔
راجرس نے انسان کے برتاو سے متعلق دو بنیادی مفروضے قائم کیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ رویہ مقصد کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ افراد ہمیشہ مطابقت رکھنے والا رویہ ہی منتخب کرتے ہیں۔
راجرس نے بھی اپنے مطب میں آنے والے مریضوں کی باتیں سن کر یہ نظریہ تیار کیا تھا۔ اس نے جانا کہ اس کے مؤکلوں کے تجربات میں خود ان کی اپنی ذات ایک اہم عنصر تھی۔ اس لیے یہ طرز فکر ذات کے ارد گرد بنائی گئی ہے۔ اس کے مطابق یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ لوگ لگاتار اپنا اصل (اصل ذات) ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
راجرس نے یہ بھی بتایا کہ ہر شخص اپنا ایک مثالی نصب العین(مثالی خودی) تلاش کرتا ہے۔ یہ وہ مثالی تصور ہے جو فرد بننا چاہتا ہے۔ جب فرد کی مثالی خودی (ذات) اور حقیقی ذات کے درمیان رابطہ ہوتا ہے تو عموماً انسان خوش رہتا ہے۔ لیکن ان دو حالات میں دوری اکثر بے اطمینانی اور ناراضگی پیدا کرتی ہے۔ راجرس کے مطابق لوگوں میں خود اپنی ذات کو تلاش کرنے اور محاسبہ کرنے کا عام رحجان ہوتا ہے۔ اس عمل میں فرد کی ذات نمو پاتی ہے’ بڑھتی اورپھیلتی ہے اور زیادہ سماجی بن جاتی ہے۔
5

شکل 2.3: سازگاری اور تصور نفس کے نمونے

راجرس کے مطابق شخصیت کی نشو و نما ایک لگاتار عمل ہے۔ اس میں خود اپنا محاسبہ کرنے کا علم اور خودتحقیق کا طریقہ اوراس کی واقفیت، دونوں چیزیں شامل ہیں۔ راجرس نے ’’خود‘‘ کے تصور کی نشو و نما میں سماجی اثرات کو بھی تسلیم کیا ہے۔ جب سماجی حالات مثبت ہوتے ہیں تو فرد کا تصورنفس (خودی) اور ضمیر بھی بلندی پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب حالات منفی ہوتے ہیں تو تصور نفس اور ضمیر بھی پست ہو جاتا ہے۔ بلند ضمیر لوگ عموماً لچیلے مزاج کے ہوتے ہیں اور نئے تجربات کے تئیں ان کا رویہ مثبت ہوتا ہے تاکہ وہ نمو پا سکیں اور خود اپنی تحقیق کر سکیں۔
یہ حالت وارننگ دیتی ہے کہ ایک بلا شرط مثبت حالت تیار کی جانی چاہیے اگر تصور نفس کی نشو و نما کرنی ہے۔ راجرس کا ’’موکلوں پر مرکوز علاج‘‘ کا نظریہ اسی قسم کا ماحول تیار کرنے کی کوشش کرتاہے۔
آپ گیارھویں جماعت میں محرکات کے مطالعے میں پڑھ چکے ہیں کہ ماسلو نے کس طرح ضروریات کی درجہ بندی کی تھی۔ ماسلو نے نفسیاتی طور پر صحت مند افراد کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے اور ان کی خود تحقیق کے طریقوں پر بھی بحث کی ہے۔ ماسلو کے مطابق یہ وہ حالت ہے جب فرد اپنی بلندی پر پہنچ جاتا ہے۔ ماسلو کے کہنے کے مطابق ایسا فرد قدر و منزلت کے قابل ہے جس کے اندر پیار ،محبت، خوشی اور تخلیقی کام کی اہلیت موجود ہو۔ بنی نوع انسان خود تحقیق کرنے اور اپنی زندگی کو من مانی سمت دینے کے لیے آزاد ہے۔ خود تحقیق ان محرکات کے مطالعے سے ممکن ہے جو ہماری زندگی پر محیط ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حیاتیاتی حفاظت (تحفظ) اور احساس تعلق کی ضرورتیں (زندگی کی ضروریات) عام طور سے حیوان اور انسان دونوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس طرح ان ضروریات کی تکمیل کا انفرادی نظریہ اس کو حیوانیت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انسانی زندگی کا اصل سفر خودکی تحقیق اور خود کی شناخت کی ضروریات سے شروع ہوتا ہے۔ انسانی نظریۂ فکر زندگی کے مثبت پہلوؤں پر زور دیتا ہے۔دیکھیے باکس 2.3۔

باکس 3.2             

  ایک صحت مند شخص کو ن ہے؟

مسلک انسانیت کے مفکر ین نے مانا ہے کہ صحت مند شخصیت صرف سماج کے ساتھ سازگاری میں نہیں ہے۔بلکہ یہ خود کی پہچان کی تڑپ میں پنہاں ہے اور فرد کے خود اپنے بارے میں سچے احساسات بھی اس میں موجود ہیں۔ ان مفکرین کے مطابق صحت مند افراد درج ذیل خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔

1۔  وہ خود سے آگاہ ہوتے ہیں۔اپنے محسوسات اوراپنی حدوں کو پہچانتے ہیں،خود کو تسلیم کرنے میں،اپنی زندگی کے لیے خود ذمہ دار ہوتے ہیں اورکچھ بن جانے کی ہمت رکھتے ہیں۔

2۔  وہ ’’یہاں اور ابھی‘‘ کے تصور کو تسلیم کرتے ہیں اور اس میں الجھتے نہیں ہیں۔

3۔  وہ ماضی کا رونا نہیں روتے اور نہ ہی امیدوں کی دنیا میں مستقبل ڈھونڈتے ہیں۔

شخصیت کا تجزیہ

افراد کو جاننا ،سمجھنا اور بیان کرنا ایک ایسا کام ہے جس میں روز مرہ کی زندگی میں ہر فرد الجھا ہوا ہے۔ جب ہم نئے افراد سے ملتے ہیں توانھیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر ان کے ساتھ رابطے سے پہلے ہی یہ پیشن گوئی کر دیتے ہیں کہ ان کا برتاو کیسا ہوگا۔ اپنی ذاتی زندگی میں ہم اپنے ماضی کے تجربات پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسرے افراد سے ملنے والی اطلاعات، مشاہدات اور بات چیت پربھی ہمارا انحصار ہوتا ہے۔ دوسروں کو سمجھنے کا یہ نظریہ بہت سے عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے جو ہمارے فیصلوں کو دھندلا کر سکتے ہیں اور مصروفیت کو کم کر دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی کاوشوں کو زیادہ رسمی ڈھنگ سے صف بند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم شخصیت کا تجزیہ کر سکیں۔ کسی بھی فرد کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے کی جانے والی کوشش کو ’’شخصیت کے تجزیے‘‘ کی اصطلاح دی جاتی ہے۔
اس تجزیے میں وہ طریقے شمار کیے جاتے ہیں جو افراد کو ان کی خصوصیات کی بنا پر تقسیم کرتے ہیں۔ تجزیے کا مقصد فرد کے برتاو کو کم سے کم غلطی اور زیادہ سے زیادہ درستگی کے ساتھ سمجھنا ہے۔ اس میں ہم مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک فرد عام طور سے کیاکرتا ہے اور ایک مخصوص حالت میں اس کا برتاو کیسا ہوتا ہے۔ ہماری سمجھ بوجھ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ تجزیاتی طریقۂ تشخیص، ٹریننگ، امداد ملازمت،صلاح و مشورہ اور دوسرے مقاصد کے لیے بھی کا ر آمد ہے۔
ماہرین نفسیات نے شخصیت کا تجزیہ بہت سے طریقوں سے کیا ہے۔ سب سے زیادہ مستعمل طریقے ہیں پیمائش نفسیات آزمائش، خود رپورتاژ طریقہ، اظلالی تکنیک اور کرداری تجزیہ۔ یہ تمام طریقے مختلف نظریات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے یہ شخصیت کی مختلف تہوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ نے پچھلے باب میں پیمائش نفسیات کے بارے میں پڑھا ہے۔ یہاں ہم دوسرے طریقوں پر بحث کریں گے۔

خود اپنی رپورٹ کرنا

 آلپورٹ کا ماننا تھا کہ کسی فرد کو پر کھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود اس سے، اس کے بارے میں سوالات کیے جائیں۔ اسی و جہ سے خود رپورٹ کرنے کا  طریقہ وجود میں آیا۔ یہ بہتر طور پر تیار کیا گیا ڈھانچہ ہے جو اکثر نظریات پر مشتمل ہوتا ہے۔ فرد مخصوص پیمانے کا استعمال کرتے ہوئے خود اپنے بارے میں زبانی جوابات دیتا ہے۔ اس طریقے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ فرد مختلف نکات پر اپنے محسوسات کے بارے میں صحیح رپورٹ کرے۔ یہ تمام جوابات جوں کے توں تسلیم کر لیے جاتے ہیں۔ ان کو شمار کیا جاتا ہے اور اس آزمائش کے لیے جو اصول وضع کیے گئے تھے ان کی بنیاد پر انھیں پرکھا جاتا ہے۔ اس قسم کے کچھ طریقے ذیل میں مختصراً بیان کیے گئے ہیں۔

Minnesota کا شخصی سوال نامہ (MMPI)

یہ سوال نامہ شخصیاتی تجزیے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ہیتھ وے اور میکنلے نے اسی سوال نامے کو نفسیاتی تشخیص کے لیے تیار کیا تھا لیکن یہ ذہنی مریضوں کی قسموں کی شناخت کے لیے بھی بہت سود مند ثابت ہوا ہے۔ اس کا سدھرا ہوا روپ MMPI-2 ہے جس میں 567 بیانات شامل ہیں۔ اس میں فرد کو ہر بیان کے جواب میں ’’سچ‘‘ اور ’’جھوٹ‘‘ بتا کر اپنے بارے میں بتانا ہے۔ یہ سوال نامہ دس تحتی سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور یہ دہم علالت، پریشانی، ہسٹریا، مرض نفسی، مذکر و مونث، صنف نفسی عمل، انتشارنفس،  ضبط اور سماجی درون بینی وغیرہ موضوعات کی تشخیص کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں مالک اور جوشی نے انہی رحجانات و نکات کی بنا پر جودھپور سوال نامہ تیارکیا ہے جس کو  JMPI کی  اصطلاح دی گئی ہے۔

آئی سینک شخصی سوال نامہ (EPQ)

آئی  سینک کے ذریعہ تیار کیا گیا یہ سوال نامہ شخصیت کے دو پہلو ؤں کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ دو پہلو ہیں درون بینی ،بیرون بینی جذباتی استحکام۔ جذباتی عدم استحکام۔ یہ تمام پہلو شخصی اوصاف کی 32 خصوصیات پر مبنی ہیں۔ بعد میں آئی سینک نے اس میں ایک تیسرا پہلو بھی شامل کر لیا ہے جس کو جنونیت کی اصطلاح دی۔ یہ نفسیات مرض سے متعلق ہے جس میں فرد دوسرے کی پروا ہ نہیں کرتا اور دوسروں سے مشکل انداز میں بات کرتا ہے اور اس میں سماجی بندھنوں کو تحفظ دینے کا رحجان ہوتا ہے۔ جو فرد اس نکتہ پر زیادہ نمبر حاصل کرے گا وہ درشت،  انا پرست اور سماج مخالف ہوگا۔ اس سوال نامے کو بھی اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔

سولہ شخصی عوامل کا سوال نامہ (16 PF)

یہ سوال نامہ کیٹل نے تیار کیا تھا۔ اس مطالعے کی بنیاد پر اس نے شخصیت کو بیان کرنے والے بہت سے نکات کی تشخیص کی جن کے ذریعہ بنیادی ڈھانچے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ اعداد و شمار کی اس تکنیک کے بارے میں بعد میں پڑھیں گے۔ اس سوال نامے میں فرد دیے گئے جوابات میں سے ایک منتخب کرتا ہے۔ یہ اعلانیہ بیانات پر مشتمل ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ سوال نامہ ہائی اسکول کے طلبااور بالغ افراد، دونوں پر یکساں طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نوکری کے لیے رہنمائی،فنی اور پیشہ ورانہ مہارت کو پرکھنے کے لیے یہ طریقہ نہایت موزوں ہے۔
خود اپنی رپورٹ پیش کرنے کے کچھ مشہور طریقوں ( جو اوپر بیان کیے گئے) کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں جو شخصیت کا تجزیہ کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ (جیسے تحکم پسندی، کنٹرول اور رجائیت) ۔ آپ جیسے جیسے نفسیات کا مزید مطالعہ کریں گے، ان تمام طریقوں کے بارے میں علم حاصل کریں گے۔
خود رپورتاژ کے یہ طریقے بہت سی مشکلوں کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ سماجی خواہشات ان میں سے ایک ہے۔ جواب دینے والے فرد کا یہ رحجان ہوتا ہے کہ وہ اپنے جوابات سماجی ترجیحات کی بنا پر دیتا ہے۔ ایک دوسرا رجحان یہ ہے کہ فرد سب ہی سوالات کے ساتھ مطابقت دکھاتا ہے خواہ سوال کیسا بھی ہو۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ تر جوابات ’’ہاں‘‘ میں آتے ہیں۔ یہ اسی رحجان کی نشان دہی ہے۔ اس قسم کے رحجانات شخصیت کے تجزیے کو قابل بھروسہ نہیں رہنے دیتے ہیں۔
اس موقعے پر خبردار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نفسیاتی سوال نامے اور شخصیت کا اس بنیاد پر تجزیہ دونوں میںبڑی مہارت کی ضرورت ہے۔ جب تک آپ کسی ماہر کی سر پرستی میں کام نہ کررہے ہوں تب تک اس طرح کے سوال نامے استعمال کرکے اپنے ان دوستوں کی شخصیت کا اندازہ مت لگائیے جن کو نفسیات کا علم نہیں ہے۔

اظلالی تکنیکیں

شخصیاتی تجزیے کے لیے ابھی تک جو طریقے بتائے گئے وہ براہ راست طریقے ہیں کیوں کہ وہ اس اطلاع  پر انحصار کرتے ہیں جو خود اس فرد سے حاصل ہوتی ہے جس کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوالات اس کی شخصیت کے تجزیے کے لیے ہیں۔ ان حالات میں لوگ عام طور سے شعوری طور سے باخبر ہو جاتے ہیں اور اپنے ذاتی محسوسات کو بتانے میں ہچکچاتے ہیں۔ اورایسا وہ سماجی ترجیحات کی بنا پر کرتے ہیں۔
تحلیل نفسی کا نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی رویے کا ایک بڑا حصہ ہمارے لاشعوری محرکات کی بدولت وجود میں آتا ہے۔ شخصیت کے تجزیے کا سیدھا طریقہ ہمارے رویے کا لاشعوری کو نہیں سمجھ سکتا اس لیے یہ طریقے ہمیں کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں صحیح رائے نہیں دیتے۔ یہ مسائل اظلالی تکنیک کو استعمال کر کے حل کیے جا سکتے ہیں۔ اظلالی طریقے با لواسطہ تکنیک کے تحت آتے ہیں۔
اظلالی تکنیک کے ذریعہ لاشعوری احساسات اور محرکات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہ اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ غیر متعین حالات فرد کو اس کے احساسات، خواہشات اور ضروریات کے بارے میں بات کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اظلال کے یہ طریقے بھی ماہرین کی سرپرستی میں ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بہت سی اظلالی تکنیک وضع کی گئی ہیں جو شخصیت کے تجزیے کے مختلف حالات کو استعمال کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ماننا ہے کہ رپورٹ کرنے کا طریقہ پہچان خیز ہونا چاہیے،کچھ کا خیال ہے کہ تصاویر کی مدد سے کہانی بنا کر رپورٹ کرنا چاہیے، کچھ ادھورے جملوں کو پورا کرا کر شخصیت کا جائزہ لیناچاہتے ہیں، کچھ مختلف طرح کی ڈرائنگ بنواکر اور کچھ بہت سے پہچان خیزنکات میں سے کچھ منتخب کر کے اپنا کام انجام دیتے ہیں۔
حالانکہ پہچان خیزنکات اور جوابات میں بہت زیادہ اختلاف ہوتا ہے لیکن وہ سب ہی درج ذیل عوامل میں ایک دوسرے سے مشترک ہوتے ہیں۔
(1) پہچان نکات پوری طرح غیر متعین ہوتے ہیں اور ان کی کوئی تعریف نہیں کی جاسکتی۔
(2) جن افرا د کا تجزیہ کیا جا رہا ہوتا ہے انھیں اس کے مقاصد کا علم نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو اپنے نمبروں کا یا ان کی تعبیر کا اندازہ ہوتا ہے۔
(3) فرد کو صحیح اور غلط جواب کے بارے میں علم ہوتا ہے۔
(4)       ہر جواب شخصیت کا ایک اہم پہلو تلاش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
(5)       جوابات اور ان کی تعبیر بہت طویل ہوتے ہیں اور اکثر موضوعاتی ہوتے ہیں۔
اظلالی تکنیک پیمائش نفسی طریقوں سے بہت مختلف ہے پیمائشی طریقے کسی خاص موضوع سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ اکثر خصوصیات سے متعلق ہوتے ہیں جن کو پرکھنے کے لیے مہارا ت اور ٹریننگ کی ضرورت ہے۔
یہاں کچھ اظلالی تکنیک مختصر طور پر دی گئی ہیں۔

Hermann Rorschach کا سیاہی والا ٹسٹ

یہ ٹسٹ Hermann Rorschach نے  تیار کیا تھا۔ اس ٹسٹ میں دس سیاہی کے دھبے لگائے جاتے ہیں۔ ان میں سے پانچ سیاہ و سفید ہیں، دو میں کچھ لال سیاہی اور باقی کے تین ہلکے رنگوں میں ہیں۔ یہ دھبے ایک مخصوص شکل میں ہوتے ہیں۔ اور ہر دھبہ ایک سفید گتے کے’’7×10‘‘ انچ سائز کے ٹکڑے پر بنا ہوتا ہے۔ ان دھبوں کو بنانے کے لیے کاغذ پر سیاہی گراکر اس کاغذ کو درمیان سے موڑ دیتے ہیں۔ (اسی مناسبت سے ان کو سیاہی کے دھبے کہا جاتا ہے) ۔ اب ان کارڈوں کو دو طرح سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں لگنے والے کارڈوں کو ’’کارگزاری‘‘ مرحلے کا نام دیا گیا ہے۔ افراد کو یہ کارڈ دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ ’’انھوں نے ہر کارڈ میں کیا دیکھا‘‘ دوسرا مرحلہ پوچھ تاچھ کا مرحلہ ہے۔ اس میں جوابات کی ایک تفصیلی رپورٹ بنانی ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں بھی افراد سے پوچھا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا ہر جواب کیوں، کیسے اور کن وجوہات کی بنا پر دیا۔ افراد کے جوابات کو ایک با معنی تناظر میں رکھنے کے لیے صحیح تصدیق ضروری ہے۔ اور اس قسم کے ٹسٹ لینے والوں کو پوری طرح اپنے موضوع پرمہارت ہونی چاہیے۔ اعداد و شمار کے تجزیے کے لیے اب تو کمپیوٹر کی تکنیک بھی وجود میں آگئی ہے Hermann Rorschach کے ٹسٹ کی مثال شکل 2.4 میں دیکھی جا سکتی ہے

6

شکل 2.4’’رس چاک کا روشنائی کے دھبے کی ایک مثال

موضوعی تعقل جانچ (TAT)

یہ Murray اور Morgan نے ایجاد کیا۔ یہ سیاہی کے دھبوں والے ٹسٹ کے مقابلے نسبتاً زیادہ قوی ہیئت کا حامل ہے۔ اس ٹسٹ میں 30 سیاہ اور سفید تصویروں والے کارڈہوتے ہیں اور ایک خالی کارڈ ہوتا ہے۔ تصویر والے ہر کارڈ میں ایک یا زیادہ لوگ مختلف حالات میں دکھائے جاتے ہیں۔ ہر کارڈ پر ایک تصویر ہوتی ہے۔ کچھ کارڈ … بالغ عورتوں اور مردوں کے استعمال کے لیے دیے جاتے ہیں اور کچھ لڑکے اور لڑکیوں کو اور کچھ کارڈدونوں ہی طرح کے افراد کو دیے جاتے ہیں۔ ایک شخص کے لیے20 کارڈ مناسب تعداد مانی جاتی ہے حالانکہ کم سیکم تعداد میں (صرف پانچ) بھی کارڈوں کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک وقت میں ایک ہی کارڈ پیش کیا جاتا ہے۔ زیر امتحان فرد کو کارڈ میں دکھائی گئی تصویر کے بارے میں ایک کہانی بتانے کو کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ ان نکات پر مبنی ہونی چاہیے: ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے۔ کارڈ کی تصویر میں اس لمحہ کیا ہورہا ہے۔مستقبل میں کیا ہوگا اور کردار (کہانی کے) کیا سوچ رہے ہیں اور کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اس ٹسٹ کے جوابات پر نمبر دینے کے لیے ایک باقاعدہ معیار طے ہے۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے اس ٹسٹ میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اما چودھری نے اس کا ہندوستانی خاکہ تیار کیا ہے ۔ TAT کارڈ کی ایک مثالی شکل2.5 میں دی گئی ہے۔
7

شکل 2.5 : ایک تصویر جو TAT کارڈ کی ڈرائنگ پیش کر رہی ہے

Rosenzweig کا نامرادی کا تصویری مطالعہ (آزمائش)

یہ آزمائش Rosenzweig نے تیار کی تھی۔ اس کا مقصد افراد کے رویے میں در آنے والی نامرادی کے سبب پیدا ہونے والے جارحانہ رحجان کو پرکھنا تھا۔ اس ٹسٹ میں کارٹون کی طرح کی تصاویر کی مدد سے حالات کا ایسا سلسلہ پیش کیا جاتا ہے جن میں ایک فرد دوسرے کو پریشان و مضطرب کرتا ہے یا دوسرے فرد کی توجہ اس قسم کے حالات کی طرف مبذول کرتا ہے۔ زیر آزمائش فرد سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ تصویری سلسلے میں دوسرا فرد کیا جواب دے گا۔ ان جوابات کا تجزیہ جارحانہ رحجان کے درجے اور سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ یہ دیکھنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ اس آزمائش میں زیادہ زور کس بات پر دیا گیا، نامرادی کے احساس سے گھرے شخص کی حفاظت کی طرف یا پھر جو موضوع اسے پریشان کر رہا ہے اس پر زیادہ توجہ دی گئی۔ یا پھر مسئلے کے حل کی طرف دھیا ن مرکوز کیا گیا۔ طبیعت کا جارحانہ رحجان ماحول کے تئیں بھی ہو سکتا ہے اورخود اپنے تئیں بھی۔ یا پھر اس قسم کے رحجان کو قطعاً ختم کیا جا سکتا ہے یا تو حالات یکسر تبدیل کر کے یا پھر ان کو پوشیدہ کرکے۔ Pareek نے اس آزمائش کو ہندوستانی لوگوں پر آزمایاتھا ۔

جملوں کی تکمیل کا ٹسٹ

اس آزمائش میں بہت سے نا مکمل جملے استعما ل کیے جاتے ہیں۔ جملے کا ابتدائی حصہ سامنے رکھا جاتا ہے اور آزمائش میں بیٹھنے والے افراد سے اسے مکمل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ایسا تسلیم کیا گیا ہے کہ افراد کے ذریعہ مکمل ہونے والے جملوں کی اقسام ان افراد کے رویّے ، محرکات اور تصادم کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس آزمائش میں افراد کو ایسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے پوشیدہ محرکات کا اظہار کریں۔ اس طرح کے جملوں کے کچھ نمونے درج ذیل ہیں:

1   میرے والد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2   میرا سب سے بڑا خوف یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3   میری والدہ کے بارے میں سب سے بہتر بات۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4   مجھے فخر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک شخص کی تصویر بنانے کی آزمائش

یہ بہت سہل آزمائش ہے جس میں فرد کو کہا جاتا ہے کہ وہ کاغذ پر ایک انسان کی تصویر بنائے۔ اس کی آسانی کے لیے پنسل اور ربرکا انتظام بھی کر دیا جاتا ہے۔ ڈرائنگ مکمل ہو جانے کے بعد عموماً اس شخص سے کہا جاتا ہے کہ وہ مخالف صنف کے انسان کی ایک ڈرائنگ بھی بنائے۔ آخر میں ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس شخص کے بارے میں ایک کہانی لکھو جس میں اس کو ناول یا کہانی کے کردار کی شکل میں دکھاو۔ اس آزمائش میں سامنے آنے والی کچھ توضیحات اس طرح ہیں۔

1۔  چہرے کے خدو خال کو ڈھنگ سے نہ بنانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ تصادم والے رشتے سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔

2۔  گردن پر ترسیمی دباو یہ بتاتا ہے کہ ایسا شخص اپنے اضطرار پر قابو نہیں رکھ سکتا۔

3۔  سر کو نسبتاً بڑا بنانا اس امر کا مظہر ہے کہ اس شخص کو دماغ کے امراض کی شکایت ہے اور یہ بیشتر اوقات سر درد میں مبتلا رہتا ہے۔
شخصیت کے جائزے کے اظلالی طریقے کافی دل چسپ ہیں۔ یہ ہمارے غیرشعوری مقاصد، ہمارے ذہن میں گہری جمی ہوئی الجھن، کشاکش اور جذباتی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی جوابات کو پرکھنے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے ، عمل شماری سے متعلق بہت سی پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں لیکن بہر حال ماہرین نفسیات نے اس طریقے کو کافی کار آمد پایاہے۔

کرداری تجزیہ

کسی بھی فرد کا مختلف حالات میں مسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت اور طریقۂ کار اس کی شخصیت کو عیاں کرتا ہے۔ فرد کے برتاو کے مشا ہدات اس طرزفکر کی بنیاد ہیں۔ ان مشاہدات میں انٹرویو، ملاحظات،میزانِ عوارض، نامزدگیاں اور جا بہ جا ہونے والی آزمائشی تعین شامل ہیں۔ ان سارے نکات کو ہم ذرا تفصیل سے بیان  کر یں گے۔

انٹرویو

باضابطہ ملاقات شخصیت کو شناخت کرنے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ ہے۔ اس طریقہ میں سوالات پوچھے جاتے ہیں اور جوابات کی روشنی میں اس شخصیت کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ سوالات باقاعدہ سوچے سمجھے ڈھنگ سے بھی تیار کیے جا سکتے ہیں اور اچانک ذہن میں آنے والے سوالات کو بھی اس مشاہدے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
جو سوالات اچانک تیار ہوتے ہیں یا جو غیر ہیئتی ہوتے ہیں ان میں سوال کرنے والا اپنے سامنے والے فرد سے بہت سے سوال پوچھ کر اس کے بارے میں ایک تأثر قائم کرتا ہے۔ جس انداز سے جواب دیے جاتے ہیں وہ انداز انسان کی شخصیت کے بہت سے پہلو اجاگر کر دیتا ہے۔ باقاعدہ سوال نامہ کی بنیادی ہیئت ہوتی ہے اور اس میں بہت مخصوص سوال ہوتے ہیں۔ یہ اکثر افراد کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں جوابات  کے نمبر دینا (میزان عوارض) بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔

ملاحظات و مشاہدات

کردار کا مشاہدہ ایک اور ایسی تکنیک ہے جس سے شخصیت کی پرتیں کھلتی ہیں۔ ہم لوگ اکثر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں لیکن فرد کے کردار کا مشا ہدہ ایک ایسا کام ہے جو صرف نفسیات کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ اس میں نہ صرف مشاہدہ کرنے والا ماہر اور قابل ہونا چاہیے بلکہ ایک تفصیلی ہدایت نامہ بھی ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک ماہر نفسیات اپنے مطب میں آنے والے مریض کے اپنے افراد خانہ اور ملنے جلنے والوں سے رابطے کا مشاہدہ کرنا ضروری سمجھے گا۔ سمجھداری سے کیے گئے اس مطالعہ سے وہ اپنے مریض کی شخصیت کے بارے میں کافی کچھ معلومات حاصل کرسکتا ہے۔
یہ دونوں ہی طریقے حالا نکہ کافی مقبول اور مستعمل ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں بہت سی خامیاں بھی موجودہیں۔ جو درج ذیل ہیں:
1.  اس طریقے میںانٹرویو لینے والے یا مشاہدہ کرنے والے کا اپنے علم کا ماہر ہونا از حد ضروری ہے۔ اور یہ ٹریننگ کافی وقت لے سکتی ہے مطلب یہ کہ اتنی مہارت بہت عرصے کے مطالعے کی بعد حاصل ہوتی ہے۔
2.  ماہر نفسیات کے رویے کی پختگی اس طریقے کی دوسری بڑی ضرورت ہے۔
3.  مشاہدہ کرنے والے آدمی کی موجودگی اس مشاہدے کے نتائج کو بگاڑ سکتی ہے۔ اجنبی ہونے کی و جہ سے سوالات کرنے والا اپنے موضوع کو متاثر کرتا ہے  اور اس طرح صحیح اعداد و شمار حاصل نہیں ہوپاتے ہیں۔
کردار کی شرح بندی:اس قسم کی تکنیک تعلیمی اور صنعت و حرفت سے متعلق اداروں میں زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ کردار کا میزان یا شرح بندی عموماً ایسے لوگوں کے درمیان کی جاتی ہے جن کو محقق بہت اچھی طرح ،بہت عرصے سے جانتا اور پہچانتا ہو اور اس کو ان لوگوں کا مشاہدہ کرنے کا کافی تجربہ رہا ہو۔ اس طریقے میں افراد کو ان کے کردار کے اوصاف کی بنیاد پر مختلف اقسام میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یہ اقسام بیانیہ اصطلاحات پر منحصر ہوتی ہیں۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ عام بیانیہ اوصاف کے کردار کی شرح بندی میں استعمال بیشتر اوقات الجھن پیدا کردیتا ہے۔ اس شرح کو استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کردار کے وصف کھلے طور پر بیا ن کیے جائیں۔ شرح بندی کے اس طریقے میں درج ذیل خامیاں بھی ہیں۔
(1)  نمبر دینے والے اکثر اپنا رویہ غیرجانبدار نہیں رکھ پاتے جس سے ان کے فیصلے صاف ستھرے نہیں رہتے۔ مثلاً ہم میں سے ہر کوئی کسی بھی واحد وصف کی موافقت میں یا مخالفت میں سوچنےلگتا ہے اور یہ سوچ ہی پورے مشاہدے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ یہ رحجان بالائی تأثر کہلاتا ہے۔
(2)  نمبر دینے والے افراد میں ایک رحجان یہ بھی ہے کہ وہ زیر آزمائش افراد کو یا تو اپنے معیار کے درمیان رکھتے ہیں ( جس کو وسطی میلان کہہ سکتے ہیں) اوراس طرح اس فرد کے کردار کو انتہائی حدوں تک فراموش کر دیتے ہیں یا پھر صرف انتہائی حالات کو مد نظر رکھتے ہیں اور وسطی میلان کو چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ دونوں ہی خامیاں فنی تجربے اور مہارت سے ختم کی جا سکتی ہیں یا پھر ایسے معیار مرتب کیے جائیں جن میں جوابات کا رحجان قدرے مختصر ہو۔
نامزدگیاں:یہ طریقہ اکثر اوقات اپنے ساتھیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو ان لوگوں پر صحیح طور سے استعمال کیا جا سکتا ہے جو عرصۂ دراز سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہوں اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہوں۔ اس طریقے کے تحت ہر شخص کو اپنے گروپ کے ایک یا زیادہ افراد کو منتخب کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کے ساتھ اسے کام کرنا، پڑھنا، کھیلنا اور دوسرے کاموں میں شریک ہونا ہوگا۔ اس شخص سے اس انتخاب کی وجہ بھی پوچھی جاتی ہے۔ اس طرح کی نام زدگیاں وصول کرنے کے بعد اس فرد کی شخصیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بہت زیادہ قابل بھروسہ ہے حالانکہ اس میں بھی جانبداری کا احتمال ہے۔

موقفی جانچ

شخصیت کی شناخت کے لیے بہت سے ایسے موقفی جانچ کے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا موقفی دباو کی آزمائش ہے۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فرد کیسے تناو یا دباو والے حالات میں کام کرتا ہے یا اس کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ اس آزمائش کے تحت انسان کو کوئی کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون نہ کریں اور جا بہ جا مداخلت کرتے رہیں۔ اس آزمائش میں ایک طرح سے کردار نبھائے جاتے ہیں۔ فرد کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ایسا کردار نبھائے جس کے لیے اس پر مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ اس کے کام کے بارے میں ایک مبانی رپورٹ بھی مانگی جاتی ہے۔ یہ موقف اصلی بھی ہو سکتا ہے یا پھر ایک ویڈیو ڈرامے کے ذریعہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

کلیدی اصطلاحات

مبرزی حالت،صورت اولیٰ،بنیادی وصف،مرکزی وصف،معمول مرکز علاج ،اجتماعی بے شعوری، دفاعی میکانیہ، انا، بیرون بینی، انسانی نقطۂ نظر، فکر، جبلّت،مثالی نفس، احساس کمتری، درون بینی، عرصۂ خوابیدگی جنس،مابعد ضروریات، اوڈیپس الجھن، شخصی شناخت،ذکری منزل، اظلالی تکنیک، نفسی حرکیات، اظلال، عقلیت، ردِ عمل، مراجعت، احتباس، خود پسندی، خود ضابطگی، سماجی شناخت، فوقِ انا، نظریۂ اقسام، بے شعوری۔

خلاصہ

نفس اور شخصیت کا مطالعہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ ایک فرد کی ذات دوسروں کے ساتھ رابطے سے عیاں ہوتی اور نمو پاتی ہے:
•  نفس (ذات) کی مختلف قسمیں ہیں جیسے ذاتی نفس، سماجی نفس، اور رشتہ جاتی نفس، خود پسندی اور خود فراموشی فرد کے کردار کے دو اہم پہلو ہیں ۔ جو ہماری زندگی میں دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔
•  ضابطہ ٔ نفس کی نفسیاتی تکنیک میں فرد کے رویے کی منظم معلومات اور خود آموزی شامل ہیں۔
•  شخصیت انسان کی نفسیات کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرتی ہے جو تمام حالات میں مستحکم رہتے ہیں اور یہ ہی اوصاف فرد کو مخصوص بناتے ہیں۔ چوں کہ شخصیت ہمیں ہماری زندگی میں مختلف حالات کا سامنا کرنے کا اہل بناتی ہے اس لیے یہ باہری یا اندرونی قوتوں کے ذریعہ متأ ثر بھی ہوتی ہے۔
•  شخصیت کا مطالعہ کرنے کے لیے بہت سے نظریۂ فکر ہیں۔ ان میں اہم وضعی، نفسی حرکیات، کرداری، تہذیبی، اور انسان مرکزی ہیں۔
•  وضعی نقطۂ نظر شخصیت کو مختلف وضعوں سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو بہت سے اوصاف سے مزین ہیں۔ Allport' Eysenck' Cattell  نے اوصاف کو بنیاد بنا کر ایک طرز فکر پیش کیا جو انسان کی ایک اجتماعی شکل پیش کرتا ہے۔
•  فرائڈ نے نفسی محرکات کا نظریہ پیش کیا اور شخصیت کو ہماری اندرونی قوتوں جیسے جبلت، انا، اور فوق انا، میں تصادم کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش کی۔ فرائڈ کے نظریے کے مطابق بے شعوری الجھن ہمارے نفسی جنسی نشو و نما میں پوشیدہ ہیں جو مختلف ادوار میں سامنے آتی ہیں۔
•  فرائڈ کے بعد کے ماہرین نے فرد کی زندگی کے موجودہ حالات کو مطالعے کی بنیاد بنایا۔ Jung, Fromm, Adler, Horney اورEriksonنے شخصیت کو انسان کے ماحول کے تئیں رد عمل کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ فرد کے جوابات کو وہ شخصیت کا ڈھانچہ تصور کرتے ہیں۔
•  تہذیبی نقطۂ نظر شخصیت کے مطالعے کے لیے ان خواہشات کو بنیاد بناتا ہے جن سے انسان اپنے معاشی نظام کی وجہ سے بندھ جاتا ہے اور دھیرے دھیرے یہ پورے تہذیبی گروہ کا اثاثہ بن جاتی ہیں۔
•  انسان مرکزی طرزِ فکر خود فرد کو موضوع بناتا ہے۔ راجرس نے حقیقی نفس اور مثالی نفس کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ماسلو نے شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروریات کے اس تانے بانے کوسمجھا جو انسان کی محرک ہوتی ہیں۔ ضروریات کی درجہ بند بھی کی جا سکتی ہے۔
•   شخصیت کے جائزے کا مطلب ہے افراد کی نفسیاتی خصوصیات کا مشاہدہ اور تجزیہ کرنا۔ اس کا مقصد کسی بھی فرد کے رویہ کا بالکل صحیح اندازہ لگانا ہے۔
•   کسی فرد کی شخصیت کا اندازہ مشاہدہ کی رپورٹ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اظلالی تکنیک، خود اپنی رپورٹ تیار کرنے کے طریقے ، مشاہدات جیسے انٹرویو، شرح بندی، اور موقفی جانچ وغیرہ بھی اسی طریقہ میں شامل ہیں۔ راجرس نے سیاہی کے داغوں والی آزمائش اور تعقل کا آزمائش  بہت زیادہ مقبو ل طریقے ہیں۔ خود رپورٹ کرنے والے طریقے بھی منظم اور مضبوط ہیں۔

اعادہ کے سوالات

1۔  نفس یا ذات کیا ہے؟ ہندوستانی نظریہ مغربی طرز فکر سے کس طرح مختلف ہے؟
2۔  تسکین مسرت سے کیا مرادہے اور بلوغ کی نشو و نما میں اس کا کیا رول ہے؟
3۔  آپ شخصیت کی تعریف کس طرح کریں گے؟ اقسام کے نقطۂ نظر سے بیان کیجیے؟
4۔  فرائڈ کا نظریہ شخصیت کیا ہے؟
5۔  ’’شخصیت کے اوصاف‘‘ کا نقطۂ نظر کیا ہے اور یہ کس طرح وضعی نقطۂ نظر سے مختلف ہے؟
6۔  Alfred Adler اور Horney کے بیانات کی روشنی میں ’’افسردگی‘‘ کے معنی بیان کیجیے؟
7۔  شخصیت کے بارے میں انسانی مرکزی طرز فکر کی کیا پیش کش ہے ۔ ماسلو کے خود تحقیق کے نظریے سے کیا مراد ہے؟
8۔  شخصیت کے جائزے کے لیے استعمال ہونے والے مشاہداتی طریقوں پر بحث کیجیے اور یہ بھی بتائیے کہ ان کو استعمال کرتے ہوئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
9۔  ہیئتی شخصی آزمائش سے کیا مراد ہے؟ اس قسم کی دو اہم آمازئشیں کون سی ہیں؟
10۔  بیان کیجیے کس طرح اظلالی تکنیک شخصیت کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ماہر نفسیات کون سی اہم اظلالی آزمائشیں استعمال کرتے ہیں؟
11۔ ’’حامد ایک گلوکار بننا چاہتا ہے جب کہ وہ ڈاکٹروں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ حالانکہ اس کے گھر والے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان سب کا لاڈلا ہے لیکن وہ سب اس کی اس خواہش کو رد کرتے ہیں۔ راجرس کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے حامدکے خاندان کے رویّے کا جائزہ لیجیے؟

پروجیکٹ کی تجاویز

(1)  ہم سب کے ذہن میں اپنے مثالی نفس کا کوئی نہ کوئی خیال ہوتا ہے جیسے ’ہم کیا بننا چاہتے ہیں‘؟ کچھ وقت نکال کر یہ تصور کیجیے کہ آپ نے اپنا مثالی نفس حاصل کرلیا ہے۔ اس خیال کے تحت ان اداروں کے تئیں اپنا رویہ بیان کیجیے : (اسکول، دوست احباب، خاندان، دولت)۔ ان سب پر اپنے رویّے کے بارے میں ایک ایک پیرا گراف لکھیے ۔ اس کے بعدان تمام اقسام کو چار الگ الگ کاغذوں پر لکھ کر اپنے دو دوستوں اور دو خاندان کے افراد سے کہیے کہ وہ ان پر ان اقسام کے تحت آپ کا وہ رویہ درج کریں جو وہ چاہتے ہیں۔ یہ چاروں لوگ آپ کا حقیقی نفس (ذات) بیان کریں گے جیسے وہ آپ کو دیکھتے ہیں۔ اپنے لکھے گئے مثالی بیان کو ان کے تحقیق بیان سے ملائیے۔ وہ آپس میں ملتے جلتے ہیں یا نہیں، اس پر ایک رپورٹ تیار کیجیے ۔

(2)   پانچ لوگوں کا انتخاب کیجیے جن کو آپ پسند کرتے ہوں خواہ اپنی حالیہ زندگی سے خواہ تاریخ سے۔ ان کی اپنے اپنے میدانِ عمل میں پر معلومات اکٹھا کیجیے اور ان کی شخصیت کی ان خصوصیات کو پہچانیے جو آپ کو متاثر کرتی ہیں۔ کیا ان میں آپ کوئی مطابقت پاتے ہیں؟ رپورٹ تیار کیجیے ۔


Captureaa

www.ship.edu/~cgboeree/pers contents.html;
en.wikipedia.org/wiki/projective-test

تعلیماتی اشارات

1  طلبہ کو خودی کا تصور سمجھانے کے لیے بہت سے عمل کیے جاسکتے ہیں جیسے کہ کسی بھی ایک طالب علم سے خود اپنے بارے میں کچھ بولنے کو کہا جائے۔
2  اس تصور کو فلو چارٹ یا ڈائی گرام کی مدد سے بھی سمجھایا جاسکتا ہے۔ طلبہ کی اس سلسلے میں مدد کریں۔
3  زندگی کے مختلف مراحل میں شخصیت کے تجزیے کی اقسام یا تکنیک کی اہمیت پر زور دیجیے۔
4  طلبامیں موضوع کے تئیں دل چسپی جگانے کے لیے کچھ آزمائشی نمونے دکھائے جا سکتے ہیں۔طلبہ سے کہیے کہ وہ ان آزمائشوں کے نکات کا مقابلہ کریں جو شخصیت کے جائزے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔