◊ دباوکے ذرائع، اقسام اور فطرت، زندگی کے چیلنجوں کے روپ میں کیسے سامنے آتی ہے، یہ سمجھ سکیں گے۔
راج اپنے سالانہ امتحان کے لیے پڑھائی کررہا ہے۔ وہ رات کو ایک بجے تک پڑھتا رہا اور پھر اپنی توجہ یکجا نہ کرپانے کی وجہ سے صبح 6؍بجے کا الارم لگاکر سونے گیا۔ چوں کہ وہ دباو میں تھا اس لیے بستر میں کروٹیں بدلتا رہا۔ ذہن میں لگاتار یہ خیال آتا رہا کہ وہ امتحان میں بہتر نہیں کرپائے گا اور اپنی مرضی کے مضامین اختیار کرنے کے لیے ضروری نمبر حاصل نہیں کرپائے گا ۔ اس نے خود کو مورد الزام بھی ٹھہرایا کہ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں وقت برباد کیا اور امتحان کے لیے ڈھنگ سے پڑھائی نہیں کی۔ اس طرح کے تناؤکی وجہ سے وہ صبح اٹھا تو اس کا سر بھاری تھا۔ اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا اور پھر بھی بمشکل تمام وقت پر اسکول پہنچ پایا۔ سوال نامہ کھولتے ہی اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، ہتھیلیاں پسینہ سے بھیگ گئیں اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا دماغ ایک دم خالی ہے۔
آپ میں سے کئی لوگوں کو بالکل راج جیسا تجربہ ہوا ہوگا۔ امتحان کا چیلنج سبھی طلباکے لیے یکساں ہوتا ہے۔ آپ میں سے کئی لوگ ہوسکتا ہے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ کیا ہوگا اگر آپ کی پسند کا پیشہ حاصل نہ ہوپائے؟ کیا آپ تھک جائیں گے اور ہمت ہار جائیں گے؟ زندگی ہر مقام پر ایک چیلنج پیش کرتی ہے۔ ایسے بچے کا تصور کیجیے جو بچپن میں ہی اپنے والدین کو کھوچکا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، ایسی نوجوان عورت کا تصورکیجیے جو کارحادثہ میں اپنے شوہر کو کھوبیٹھی ہو، ایسے والدین جن کا بچہ جسمانی یا دماغی طور پر معذور ہو، وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں جو اپنی راتیں کال سنٹرز میں کام کرتے ہوئے گذارتے ہیں اور دن میں اپنی نیند پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال اپنے چاروں طرف دیکھیے تو آپ پائیں گے کہ زندگی خود ایک بڑاچیلنج ہے۔ ان چیلنجوں سے ہم میں سے ہر ایک اپنے انداز سے نمٹتا ہے۔ ہم میں سے کچھ کامیاب ہوجاتے ہیں جب کہ کچھ ان چیلنجوں کی وجہ سے زندگی کے دباو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ چیلنج ہمیشہ ہی دباو بناتے رہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس چیلنج کو کس انداز سے دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کرکٹ ٹیم کا گیارھویں نمبر کا کھلاڑی تیز گیند باز کی گیند کو پہلے نمبر کے کھلاڑی کے مقابلے بالکل مختلف انداز سے سامنا کرے گا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ بہترین کارکردگی ہمیشہ چیلنج کے جواب میں ہی سامنے آتی ہے۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح زندگی کے کچھ عام حالات ایک مسئلہ بن جاتے ہیں اور دباو کی وجہ بھی بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ لوگ کس طرح زندگی کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور کس طرح سے دباو و تناو والی حالتوں سے عہدہ برآہوتے ہیں۔
دباو کی فطرت، اقسام اور وجوہات
ہوسکتا ہے پیر کی صبح جب آپ سڑک پار کررہے ہوں تو وقتی طور پر آپ دباؤ میں ہوں لیکن چوں کہ آپ ہوشیار اور چوکنا ہیں اس لیے بخیریت سڑک پار کرلیتے ہیں۔ کسی بھی مسئلے کے سامنے آتے ہی ہم اپنی اضافی کوششوں اور تمام ذرائع کو اس مسئلے کے حل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سب ہی طرح کے چیلنج ، مسائل اور مشکل حالات ہم پر دباو کٔی کیفیت بناتے ہیں۔ اس طرح اگر سلیقہ اور سمجھداری سے کام لیا جائے تو یہ دباؤ زندگی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ دباؤ ایک بجلی کی طرح ہے جو ہمیں توانائی عطا کرتاہے، انسان کو بیدار کرتا ہے اور کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن جس طرح بجلی کا کرنٹ ضرورت سے بہت زیادہ ہوتو بلب یا قمقمہ ٹوٹ جاتا ہے یا گھریلو استعمال کی اشیا خراب ہوجاتی ہیں اسی طرح بہت زیادہ دباو بھی مضراثرات مرتب کرتا ہے اور ہماری کارکردگی کو بدتر بنا دیتا ہے، اس کے برعکس بہت ہی کم دباو انسان کو کاہل اور آرام پسند بنا دیتا ہے جس سے ہماری کارکردگی کی رفتار اور خوبی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دباؤ ہمیشہ ہی برا اور تباہ کن نہیں ہوتا۔ صحت مند دباو (Eustress) وہ اصطلاح ہے جو اس دباو کو بیان کرتی ہے جو آپ کے لیے بہتر ہے اور جو بلندیاں چھونے کے لیے کسی بھی انسان کا سب سے بہتر ذریعہ ہے نیز اس کے ذریعہ زندگی کے چھوٹے موٹے مسائل کو بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ صحت مند دباؤ سخت رنج اور تکلیف میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے ،دباؤ کی یہ حالت ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس طرح دباؤ دراصل ردعمل کا وہ نمونہ یا طریقہ ہے جو عضویہ کو ، کسی بھی واقعہ کے دوران، اتنا اکساتی ہے کہ توازن کی حالت بگڑجاتی ہے اور نتیجے میں فرد کی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
دباؤ کی فطرت"Stress"اصطلاح کا ماخذ لاطینی زبان ہے جس میں اس کا مطلب ہے ’’تنگ‘‘ بہ معنی دباؤ یا تناؤ یہ مشتق الفاظ ہیں جو عضلات کے تناؤ اور کھینچاؤکے دوران محسوس کی جانے والی نسوں کی سختی اور سانس لینے میں پریشانی کے عکاس ہیں۔ دباؤ اکثر ماحول کی ان کیفیات کو کہا جاتا ہے جو فرد کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ وہ واقعات اور حالات جو ہمارے جسم پر دباؤ کی کیفیت پیدا کرتے ہیں انھیںدباؤ کار (stressor) کہا جاتا ہے۔ یہ واقعات شوروغل، بھیڑ بھاڑ، کوئی خراب رشتہ یا پھر روزانہ اسکول یا دفتر کی آمد ورفت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بیرونی دباؤ کارکے رد عمل کو بار یابوجھ کہتے ہیں۔ (دیکھیے شکل 3.1)
دباؤ ہمیشہ وجوہات ، اثرات کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ تاہم دبائو کا یہ پہلو کچھ الجھن پیدا کرسکتا ہے۔ Hans Selye ، جودباؤ سے متعلق ہونے والی تحقیق کے مو جدہیں، نے ’’دباؤ‘‘ کی تعریف ’’کسی بھی خواہش کے تئیں جسم کا عام ردِ عمل‘‘ کے طور پر کی ہے جس کا مطلب ہے کہ خدشے کی و جہ کوئی بھی ہو لیکن فرد رد عمل کے اسی نفسیاتی اندازمیں تاثر کا اظہار کرتا ہے۔لیکن اس تعریف سے بہت سے محققین اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دباؤ کا ردِ عمل اتنا عام نہیں ہے جیساکہ Selye کا کہنا ہے۔ مختلف دبائو مختلف طرح کا رد عمل پیدا کرتے ہیں اور مختلف افراد میں ردِ عمل کی یہ خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ یاد کیجیے، سبق کے شروع میں آپ کو کرکٹ کے اوپننگ بلے بازکی مثال دی گئی تھی۔ ہم میں سے ہر ایک حالات کا ملاحظہ اپنے طریقے سے کرے گا اور یہ ہماری خواہشات سے نمٹنے کا ہمارا اپنا انداز ہوگا اور اپنی صلاحیت ہوگی جو یہ طے کرے گی کہ ہم دباؤ کا شکار ہیں کہ نہیں۔
دبائو ان عوامل میں سے نہیں ہے جو فرد یا ماحول میں موجود ہوتا ہے۔ بلکہ یہ ایک لگاتار عمل میں پوشیدہ ہے جس کے ذریعہ افراد اپنے سماجی اور تہذیبی ماحول سے رابطہ رکھتے ہیں، ان مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور زندگی میں سراٹھانے والے سوالوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ دباؤ خالی الذھنی یا وقوفی کیفیت ہے۔ یہ بعض توازن کو بگاڑتی ہے اور پھر یہی غیر متوازن کیفیت ان حالات کے لیے سازگار ماحول بناتی ہے جس سے دوبارہ توازن حاصل کیا جاسکے یا مسائل کا حل ہوسکے۔
نتیجہ (دباو کارد عمل) اندرونی حالت و جہ
قابو پانے یا بیماری ؍تناؤ کا چیلنج قابو پانے یا بیماری ؍تناؤ کا چیلنج باہری یا اندرونی دباؤکار

شکل 3.1 دباؤ کے نفسیاتی معنی
دباؤ کا نظریہ فرد کے واقعات کے تئیں وقوفی تشخیص پر مبنی ہے اور یہ ان ذرائع پر بھی انحصار کرتا ہے جن کے ذریعہ فرد ان واقعات کو سنبھالتا ہے۔ دباؤ کا یہ عمل لیزارس اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ بتائی گئی تناؤ یا دباؤ کے وقوفی نظریہ پر منحصر ہے۔ یہ نظریہشکل 3.2 میں بیان کیا گیاہے۔ ایک دباؤ والی کیفیت کے تئیں فرد کارد عمل زیادہ تر اس بات پر منحصرہوتا ہے کہ اس فرد نے ان واقعات کو کس نقطۂ نظر سے دیکھا ہے۔ لیزارس نے دو طرح کی وقوفی جانچ کا ذکر کیا ہے (1) بنیادی(2) ثانوی۔ بنیادی تشخیص سے مرادبدلے ہوئے اور انپے ماحول کے مثبت ، غیر جانبدار یا منفی نتائج کا ادراک ہے۔ منفی واقعات کی جانچ ان کے ممکنہ نقصان، خدشہ یا چیلنج کے لیے کی جاتی ہے۔ نقصان ،تباہی کا وہ تخمینہ ہے جو کسی واقعے کے ذریعے ہوچکا ہے۔ خدشہ مستقبل کی کسی ممکنہ تباہی کا اندازہ ہے جو کسی واقعے کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ چیلنج یا چنوتی کی جانچ، دباؤ بھرے واقعہ کو سنبھالنے اور نمٹانے کی صلاحیت کی پر یقین توقع سے متعلق ہوتی ہے۔ اس صلاحیت میں اس واقعہ یا کیفیت سے ابھرنا اور اس سے فائدہ حاصل کرنا بھی شامل ہیں۔ جب ہم کسی واقعے کو دباؤ والے واقعہ کے طور پر دیکھتے ہیں تو ممکنہ طور پر ہم ثانوی جانچ کررہے ہوتے ہیں۔ یہ فرد کی مشکلات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیتوں اور اس کے ذرائع کا جائزہ ہے کہ وہ آیانقصان، خدشہ اور چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے کافی ہیں۔ یہ ذرائع ذہنی، جسمانی، ذاتی اور سماجی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ مصائب سے نمٹنے کے لیے مثبت رویّے، صحت ، مہارت، اور سماجی حمایت کا حامل ہے تو وہ دباؤ کو کم محسوس کرے گا۔ جانچ کا یہ دوسطحی عمل نہ صرف ہمارے وقوفی اور کرداری کے رد عمل کو بلکہ باہری واقعات کے تئیں جذباتی اور جسمانی ردِ عمل کو بھی طے کرتا ہے۔
دباؤ ڈالنے والے عناصر
اقسام
ماحولیاتی
نفسیاتی
سماجی
ابعاد
شدت
مدت
پیچیدگی
احتمالیت
فرد کی خصوصیات
عضویاتی
جسمانی صحت
جسمانی ساخت یا کیفیت
ضرر پذیری
نفسیاتی
ذہنی صحت
افتادِ مزاج
خود خیالی
ثقافتی
ثقافتی تعریف اور منفی
توقعاتی رد عمل کا طریقہ
ذرائع
طبعی
زر
طبی دیکھ بھال وغیرہ
ذاتی
مہارت
مقابلے کا طریقہ
سماجی
امدادی نٹ ورک
پیشہ ورانہ مدد
وقوفی رد عمل جذباتی رد عمل کرداری رد عمل عضویاتی رد عمل
شکل 3.2 دبائو کے عمل کا ایک عام نمونہ
یہ تمام تشخیص انتہائی داخلی قسم کی ہوتی ہیں اور بہت سے عوامل پر منحصرہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک عامل ماضی کے تجربات ہیں۔ یعنی ماضی میں اسی قسم کے حالات سے کس طرح نبرد آزما ہوئے تھے۔ اگر کسی فرد نے ماضی میں اسی طرح کے حالات کا مقابلہ کامیابی سے کیا تھا تو تازہ حالات اس کے لیے کم خدشے والے ہوں گے۔ایک دوسرا عامل یہ ہے کہ کیا دباؤ والے واقعات اورحالات کو فرد قابو میں کرنے کے لائق مانتا ہے، مطلب یہ کہ فرد کے پاس اس قسم کے حالات کو قابو میں کرنے کی مہارت ہے۔ ایک شخص جس کو یقین ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے منفی حالات کو سنبھال سکتا ہے یا ان واقعات کے برے نتائج سے نمٹ سکتا ہے تووہ کم دباؤ محسوس کرے گا بہ نسبت اس شخص کے جس کو ذاتی طور سے اس طرح کا کوئی تجربہ نہ ہو۔ مثال کے طور پر خود اعتمادی کا احساس اور نتائج کو اپنے مطابق بنالینے کافن ہی یہ طے کرتا ہے کہ فرد کسی بھی دباؤ والی کیفیت کو کس طرح جانچتا ہے، خدشے کے طور پر یا بطور چیلنج ۔ اس طرح تجربہ اور دباؤ کی کیفیت کا نتیجہ ہر فرد میں مختلف ہوتاہے۔ دبائو میں وہ تمام ماحولیاتی اور ذاتی واقعات شامل ہوتے ہیں جو انسان کی بہبودکو یا تو چیلنج کرتے ہیں یا اس کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔ دباؤ کے یہ عوامل بیرونی بھی ہوسکتے ہیں جیسے ماحولیاتی (شوروغل، ہواکی آلودگی) ، سماجی (دوست سے کشیدگی ، تنہائی) یا نفسیاتی (تصادم، احساس نامرادی) وغیرہ ۔ یہ تمام دباؤ فرد کے اندر ہی کام کرتے ہیں لیکن ان کا مزاج بیرونی ہوتا ہے۔
اکثر ان دباؤ (صحت مند دبائو والے عوامل) پر ردِعمل مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ عضو یاتی، کرداری، جذباتی یا وقوفی کوئی بھی ہوسکتاہے۔ (دیکھیے شکل 3.2)۔ عضویاتی سطح پر بیداری دباؤ سے متعلق برتاؤ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ انسان کے دماغ کا نچلا حصہ دو سطحوں پر عمل شروع کرتاہے۔ پہلا اعصابی نظام خو داختیاری ہے۔ اس سطح پر ایڈرینل غدودبہت زیادہ تعداد میں ہارمون خارج کرتا ہے جو خون میں مل جاتے ہیں یہ اثرات ہمیں عضویاتی سطح پر دکھائی دیتے ہیں جیسے لڑویا بھاگ جائو والی کیفیت ۔ دوسری سطح پٹو ٹری یا نخامی غدود سے متعلق ہے۔ یہ غدود قشری نام کا ہارمون خارج کرتاہے جو ہمیں طاقت اور توانائی دیتا ہے۔ دباؤ کے تئیں جذباتی ردِ عمل میں منفی جذبات جیسے ڈر، تشویش، حیرانی، غصہ، افسردگی اور انکار وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ کرداری ردِ عمل اصل میں لامحدود ہوتے ہیں اور یہ واقعہ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ دباؤ کے عامل(لڑنا)کے خلاف مقابلہ کرنے عمل یا خطرے کے ڈر سے میدان چھوڑ دینا، کرداری ردِ عمل کی دو قسمیں ہیں۔وقوفی رد عمل میں کسی بھی واقعہ سے خطرہ یا نقصان ہونے کا یقین یا پھر اس کے اسباب جان لینے یا قابو پالینے کی صلاحیت پر ہوتاہے۔ اس قسم کے عوامل میں یکسوئی نہ کرپانا ، بیجا مداخلت کرنا، تکراری اور فاسد خیالات شامل ہیں۔
جیساکہ شکل 3.2 میں دکھایا گیا ہے کہ افراد کے ذریعہ محسوس کیے جانے والے دباؤ بھی مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔یہ تفریق شدت (کم بمقابلہ زیادہ)، مدت (مختصر بمقابلہ طویل)، پیچیدگی (کم یا زیادہ) اور محمولیت (غیر متوقع بمقابل قابل پیشگوئی )کی سطح پر ہوتی ہے۔ دباؤ کا نتیجہ ان تمام عوامل سے نیز کسی مخصوص دباؤ والے تجربے پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پرزیادہ شدید، طویل اور پرانا، پیچیدہ اور ناقابل پیش بندی دباؤ زیادہ منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بہ نسبت ان واقعات کے جو کم شدت والے، مختصر سیدھے اور قابل پیش بند ہوتے ہیں۔ فرد کے دباؤ کا تجربہ اس کی عضویاتی طاقت پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی لیے کمزور صحت اور کمزور نظام والے افراد اس معاملے میں زیادہ نفسیاتی خصوصیات، جیسے ذہنی صحت ، مزاج اور خودی کا تصور بھی دباؤکے تجربے سے جڑے ہوئے ہیں جس ثقافتی پس منظر میں ہم رہتے ہیں وہ کسی بھی واقعہ کے معنی طے کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے نیز اس رد عمل کو بھی طے کرتا ہے جو اس واقعے کے جواب میں سامنے آئے گا۔ یہ طے ہے کہ دباؤ کا تجربہ فرد کے ذرائع کی بنیاد پر ہوگا جیسا کہ دولت، مہارت ، مقابلے کا طریقہ اور امدادی نیٹ ورک وغیرہ، یہ تمام عوامل مل کر دباؤ یا تناؤ والے واقعے کی جانچ کرتے ہیں۔
دباؤ کے آثار یا ا علامات
جس طرح سے ہم کسی دباؤ والے واقعہ کے تئیں ردِ عمل کرتے ہیں وہ ہماری شخصیت پر منحصر ہوتا ہے اور یہ ہماری تربیت اور تجربات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ اسی لیے ردِ عمل کے طریقے ہر فرد کے ساتھ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آثار و علامات اور ان واقعات کی شدت بھی تبدیل ہوتی ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دباؤ کے واقعات سے نمٹنے کے اپنے طریقوں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور ہم اپنے کردار میں آنے والی تبدیلیوں اور علامات سے اس واقعہ کی یاد یادباؤ کی شدت ونوعیت بھی پہچان لیتے ہیں۔ دبائو کے یہ آثار جسمانی، جذباتی اور کرداری کوئی بھی ہوسکتے ہیں۔ ان علامات میں سے کوئی بھی ایک دباؤ کی شدت کا عکاس ہوتا ہے۔ اور اس دباؤ والے مسئلے کو حل کیے بغیرچھوڑ دیا جائے تو یہ سنجیدہ اثرات مرتب کرتا ہے۔
دباؤکے مندرجہ ذیل آثار کے بارے میں پڑھیے:
یکسوئی کی کمی، یاد داشت کی خرابی، کمزورفیصلہ سازی، غیر یکسانیت، حاضری اور پابندی اوقات میں بے ضابطگی ، نفس پرستی کا فقدان، کمزور طویل مدتی منصوبہ بندی، توانائی کو غیض و غضب یا دیوانگی میں ضائع کرنا، انتہائی متلون مزاجی ، جذبات میں ہیجان ، پریشانی ، تشویش، خوف، افسردگی، سونے اورکھانے میں مشکلات ، دواؤں کا غلط استعمال ، جسمانی بیماریاں جیسے پیٹ کی خرابی ، سردرد اور کمر درد وغیرہ۔
ان میں سے جو آپ پرلاگو ہوتے ہوں ، ان پرنشان لگائیے اور کلاس میں طلباکے گروہ میں ان پر بحث کیجیے ۔ کیا آپ ان میں کوئی کمی کرسکتے ہیں؟ بحث کیجیے کہ کیسے؟ اس بارے میں اپنے استاد سے بات کیجیے۔
تناؤ کی اقسام
دباؤ کی تین اہم اقسام ہیں۔ طبعی اور ماحولیاتی، نفسیاتی اور سماجی جو شکل 3.2 میں بھی دکھائی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ تینوں آپس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
طبیعی یا ماحولیاتی دباؤ
جسمانی دباؤ وہ کیفیات ہیں جو ہماری جسمانی حالت کو تبدیل کرتی ہیں۔ جب ہم بہت زیادہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو ہم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح متوازن غذا کی کمی ،چوٹ لگ جانے سے یا نیند پوری نہ ہونے سے بھی ہم جسمانی طور پر تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ ماحولیاتی دباؤ ہمارے آس پاس کی وہ کیفیات ہیں جو اکثر ناگزیر ہوتی ہیں جیسے ہوا کی آلودگی، بھیڑ بھاڑ ، شور و غل، گرمی کے موسم میں گرمی اورموسم سرما میں سردی وغیرہ۔ماحولیاتی دباؤ کے دیگر دوسرے گروپ آفت ناگہانی یا آگ ، زلزلہ ، سیلاب وغیرہ ہیں۔
نفسیاتی دباؤ
یہ وہ تناؤ ہے جو ہم اپنے ذہن میں خود ہی پیدا کرتے ہیں۔ یہ فرد کے تجربے کے مطابق مخصوص اور ذاتی ہوتا ہے اور یہ پورے طور سے اندرونی اسباب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم مسائل کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں ،تشویش کا شکار ہوتے ہیں یا افسردگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ صرف تناؤ کے آثار ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تمام عوامل ہمارے لیے مزید تنائو بھی پیدا کرتے ہیں۔ نفسیاتی دباؤ کے کچھ اہم اسباب ہیں احساسِ نامرادی، تصادم، اندرونی اور سماجی اثرات وغیرہ۔
احساسِ نامرادی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہمارے مقاصد اور ہماری ضروتوں کو کسی اور و جہ سے روک دیا جاتا ہے یا جب ہم کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں تو اس میں کوئی اور فرد رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس احساس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جیسے کہ سماجی تفریق ، اسکول میں کم نمبر آنا، آپسی دشمنی یا دل شکنی وغیرہ۔ تصادم کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دوبرعکس ضروریات یا محرکات مل جاتے ہیں جیسے ڈانس سیکھنا ہے یا نفسیات کا مطالعہ کرنا۔ آپ کوئی نوکری کرنا چاہتے ہیں یا پھر پڑھائی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ پر آپ کی قدروں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے لیے زور ڈالا جائے تو بھی تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اندرونی دباؤ ہماری اپنی طے کی گئی امیدوں کی و جہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جبہم خود اپنے آپ سے بہت اونچی امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔ جیسے ’’میں ہر کام کو بالکل بخیروخوبی کمال کے ساتھ پورا کروں گا ‘‘۔ یہ امیدیں صرف مایوسی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے غیر حقیقت پسندانہ اونچے معیارات قائم کرتے ہیں اور خود کو بری طرح اس میں جھونک دیتی ہیں۔ سماجی دباؤ ان افراد کے ذریعہ جنم لیتا ہے جو ہم سے بے جا خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اگر ہم ایسے افراد کے ساتھ کام کررہے ہوں تو یہ دباؤ اور بھی زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے ہم ذاتی کشاکش میں الجھ جاتے ہیں اسے شخصیتوں کا تصادم بھی کہہ سکتے ہیں۔
سماجی دباؤ
یہ باہری اسباب پر مبنی ہوتا ہے اور ہمارے دوسروں سے رابطے کی و جہ سے وجود میں آتا ہے۔ سماجی حادثات جیسے خاندان میں کسی کی بیماری یا موت، خراب تعلقات، پڑوسیوں کے ساتھ مسائل ، سماجی دباؤ کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ بھی ہر فرد کے ساتھ الگ الگ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر پارٹیوں میں شامل ہونا کسی فرد کے لیے ناگوار ثابت ہوسکتا ہے (جو گھر میں سکون سے شام گزارنا چاہتا ہے) جب کہ ایک دوسرا فرد گھر پر رہنے سے ہی تناؤ محسوس کرتا ہے۔
باکس 1.3
واقعات زندگی میں تناؤ کی پیمائش
Holmes اور Rahe نے زندگی میں تناؤ کی پیمائش کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس طرح ہونے والی پیمائش کوواقعات زندگی میں احتمالی تناؤ کا پیمانہ (PresumptiveStress ful life Events scale) کہا جاتا ہے ۔ اسی بنیاد پر ہندوستانی آبادی کے لیے جو طریقہ ایجاد کیا گیا اس کے موجد سنگھ ہیں ، کوراینڈ کور۔ یہ ایک خود نمبر دینے والا سوال نامہ ہے جس میں زندگی ایسی اکیاون تبدیلیاں درج ہیں جو روز مرہ زندگی سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ زندگی کے واقعہ قدر تفویض کی گئی ہے ۔جو اس واقعے کے مزاج اور شدت پر مبنی ہے۔مثال کے طور پر زوجین میں سے کسی ایک کی موت کو 95 نمبر دیے گئے ، اپنی بیماری یا چوٹ کو 56 نمبر، امتحان میں ناکامی کو 43 نمبر، کسی امتحان یا انٹرویو میں شریک ہونے کو 43 نمبر، نیند کی عادتوں میں تبدیلی کو 33 نمبراو سط تناؤ اسکو ر کے طور پر دیے گئے۔ اس میں مثبت اور منفی دونوں طرح کے واقعات کو شامل کیا گیا ہے اس لیے کہ ایسا یقین کیا جاتا ہے کہ دونوں ہی طرح کے واقعات تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو اب دینے والے کے جوابات کے نمبروں کوجوڑ کر اس فرد کی زندگی میں پچھلے سال میں ہونے والے واقعات اور اس کے تناؤ کا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔
واقعاتِ زندگی تناؤ کی پیمائش
خاندان میں کسی قریبی فرد کی موت 66
اچانک حادثہ یا صدمہ 53
خاندان کے کسی فرد کی بیماری 52
دوست کے ساتھ کشیدگی 47
امتحان میں شرکت 43
کھانے کی عادات میں تبدیلی 27
ایک سال میں پیش آنے والے واقعات کے نمبروں کے جوڑ کا اوسط تقریباً 2 ہوگا حالانکہ زندگی کے واقعات اور کسی بیماری کا شکار ہونے کے واقعہ میں تعلق کم ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ زندگی کے واقعات اور تناؤ میں بھی آپسی ربط نہیں ہے۔ یہاں یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ کیا زندگی کی تبدیلیوں نے تناؤ سے متعلق کوئی بیماری پیدا کی ہے یا تناؤ کی وجہ سے کچھ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں یا کوئی بیماری وجود میں آئی ہے۔ زندگی کے واقعات کا اثر بھی ہر فرد پر یکساں نہیں ہوگا۔ بہت سے عوامل جیسے عمر (جس وقت وہ واقعہ پیش آیا)، وقوع پذیر ہونے کی تعداد ، اس واقعہ کی مدت اور اس ضمن میں ملنے والی سماجی حمایت کو بھی اس نتیجہ کے لیے ملاحظہ کرنا چاہیے تب ہی زندگی میں تناؤ والے واقعات اور اس سے متعلق بیماریوں کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔
تناؤ کے اسباب
بہت سے واقعات اورحالات تناؤ کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی پر دیر پا اثر ڈالتے ہیں جیسے کسی اپنے کی موت، اپنے کو چوٹ لگ جانا، روز مرہ زندگی کے تکلیف دہ حالات اور ہماری زندگی میں پیش آنے والے صدمات اور حادثات۔
زندگی کے واقعات
تبدیلیاں خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی، ہماری زندگی کے پہلے دن سے ہی ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کبھی اچانک اور کبھی دھیرے دھیرے زندگی کی روز مرہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو جھیلنا تو ہمیں بہ آسانی آجاتا ہے لیکن بڑی اور اچانک تبدیلیاں ہمارے لیے تناؤ کا سبب بن جاتی ہیں کیوں کہ وہ ہمیں پریشان کرتی ہیں اور ہماری روز مرہ کی زندگی کو تتربتر کردیتی ہیں۔ اگر چہ ان میں سے کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو منصوبہ بند ہوتی ہیں۔ (جیسے کہ نئے گھر میں منتقل ہونا) اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں پتہ ہوتا۔ (جیسے کہ کسی رشتہ کا ٹوٹنا) اور یہ اچانک بھی ہوتی ہیں اسی لیے ہم ان کا مقابلہ بہ آسانی نہیں کرپاتے اور تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
تکرار
یہ وہ ذاتی دباؤ ہے جو ہم فرد ہونے کے ناطے برداشت کرتے ہیں،ہماری روز مرہ زندگی کے واقعات جیسے آس پاس کا شور، مسافرت، جھگڑا لو پڑوسی، بجلی اور پانی کی قلت، ٹریفک کی بدنظمی وغیرہ وغیرہ اس زمرے میںآتے ہیں۔ ایک خاتون خانہ کے لیے تکرار کی و جہ ہوسکتی ہے ،روز مرہ کی ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کرنا۔ کچھ نوکریاں ایسی ہیں جن میں روز انہ کی تکرارمعمول کی بات ہوتی ہے یہ تکرارکبھی کبھی اس فرد کے اوپر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے جو تنہاہی ان سے نمٹ رہا ہو کیوں کہ ہوسکتا ہے دوسرے لوگ اس سے واقف ہی نہ ہوں کیو نکہ وہ باہری ہوتے ہیں۔ جتنا لوگ زیادہ ان جھگڑوں میں ملوث ہوتے ہیں اتنی ہی ان کی نفسیاتی صحت کمزور ہوتی ہے۔
صدماتی واقعات
یہ وہ واقعات ہیں جن میں شدت ہوتی ہے جیسے آگ، ریل گاڑی یا سڑک حادثہ، ڈکیتی، زلزلہ، سیلاب وغیرہ۔ ان واقعات کے اثرات تھوڑی دیر کے بعد اپنا اثر دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی تشویش ، خواب، ماضی کی یادیں یا اندرونی خیالات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ گہرا صدمہ بھی تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس طرح کی کیفیت میں پیشہ ورانہ مشورے کی ضرورت ہوتی ہے خاص طور سے اس وقت جب یہ تاثرات واقعہ کے بہت عرصے بعد تک جاری رہی ہیں.
سرگرمی 3.2
زندگی میں جو تناؤ بھرے واقعات گزرے ہوں، انھیں یاد کیجیے۔ ان کی ایک فہرست بنائیے اور پھر ان کو 1-5 تک نمبر دیجیے (جن واقعات نے آپ کی زندگی پر منفی اثر ڈالا ہو)۔ پھر آپ تینوں کی نمبر والی فہرست میں جو مماثل ہوں ان واقعات کو چن لیجیے۔ پتہ لگائیے کہ ان میں سے ہر ایک واقعہ کا سامنا کرنے کے لیے آپ اور آپ کے ساتھیوں میں کتنی صلاحیت اور مہارت تھی نیز آپ لوگوں کو کتنی خاندانی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
اس ضمن میں حاصل کیے گئے نتائج اپنے استاد کو بتائیے۔
نفسیاتی عمل اور صحت پر تناؤ کے اثرات
تناؤ کے اثرات کیا ہیں؟ بہت سے اثرات فطرتاًعضویاتی ہوتے ہیں جب کہ ایک ایسے فرد میں اور بھی بہت سی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ تناؤ کے چار خاص اثرات ہیں جو تناؤ کی حالت یا قسم سے متعلق ہیں۔ جیسے جذباتی ، عضویاتی، وقوفی اور کرداری۔
جذباتی اثرات: جو لوگ تناؤ کو جھیل رہے ہوں وہ مزاج کی تبدیلی کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں چڑ چڑاپن ان کو خاندان سے اور احباب سے الگ کردیتا ہے۔ کبھی کبھی اس و جہ سے ایک ایسا برا ماحول یا تاثر بن جاتا ہے جو عدمِ اعتماد سے پر ہوتا ہے اور یہ کیفیت انجام کے طور پر سنجیدہ جذباتی مسائل کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کی کچھ مثالیں تشویش اور افسردگی کا احساس، بڑھاہوا نفسیاتی تناؤ اور مزاج کی تبدیلیاں ہیں۔ باکس 3.2 میں آپ امتحان کے خوف یا تشویش کی مثال دیکھیں گے۔
عضویاتی اثرات: جب انسانی جسم جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کے تحت ہوتا ہے تو جسم میں کچھ مخصوص ہارمون زیادہ تعداد میں خارج ہوتے ہیں (جیسے ایڈرینائل اور کارٹیسول) یہ ہارمون دل کی دھڑکن، خون کے دباؤ، استحالہ اور جسمانی عمل پر حیرت انگیز اثر ڈالتے ہیں ۔ حالاں کہ یہ جسمانی رد عمل ہمیں زیادہ بہتر کارکردگی میں مدد کرتا ہے لیکن صرف جب ہم مختصر مدت کے لیے دباؤ کے زیر اثر ہوں۔ طویل عرصے تک رہنے والے دباؤ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ عضویاتی اثرات کی مثالیں اپی نفرین ہارمون کی زیادتی اورکمی، ہاضمہ کی خرابی ، پھیپھڑوں میں ہوا بھرجانا، دل کی دھڑکن بڑھ جانا اور خون کی نسوں کا سکڑجاناہیں۔
وقوفی اثرات: اگر تناؤ کے ذریعہ پڑنے والا دباؤ جاری رہتا ہے تو فرد ذہنی بوجھ کا شکار ہوسکتا ہے ۔ تناؤ سے پڑنے والے اس اثر کی وجہ سے فرد اپنی فیصلہ کرنے کی قوت کھودیتا ہے۔ گھر، پیشہ یا نوکری سے متعلق کیے گئے غلط فیصلے ، تکرار ، ناکامی، مالی نقصان یا نوکری کے نقصان کی شکل میں منتج ہوتے ہیں۔ تناؤ کے وقوفی اثرات توجہ کی کمی، اور قوت حافظہ کی کمزوری ہیں۔
کرداری اثرات: تناؤ ہمارے برتاؤ پر بھی اثر ڈالتا ہے جیسے غیر متوازن غذا لینا، کافی وغیرہ کا زیادہ استعمال کرنا، سگریٹ نوشی، شراب نوشی یا دیگر نشیلی دوائیں کثرت سے استعمال کرنا وغیرہ۔ نشیلی دوائیں انسان کو اپنا عادی بنالیتی ہیں اور ان کے منفی اثرات جیسے توجہ میں کمی، عدم ارتباط اور سستی و کاہلی کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ کرداری اثرات کی کچھ مخصوص مثالیں نیند کی بے ربطگی ، غیر حاضر باشی، اور کام کرنے میں سستی بھی ہے۔
باکس 3.2
امتحان کی تشویش
امتحان کی تشویش ایک بہت عام تصور ہے جس میں بے چینی یا تناؤ کی کیفیت ہوتی ہے جو امتحان سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔ بہت سے لوگ امتحانات کے آس پاس تشویش محسوس کرتے ہیں اور یہ ان کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے کیوں کہ اس کی و جہ سے وہ پوری توجہ اور زور شور سے اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ امتحان کی تشویش ، پریشانی اور ناکامی کا خوف ذہین طلبامیں بھی رہتا ہے، لیکن کچھ طلبامیں امتحان کے لیے اتنا زیادہ خوف بالکل برعکس کیفیت پیداکرتا ہے اوروہ اتنی صلاحیت بھی نہیں دکھاپاتے جتنی وہ اپنی جماعت میں دکھاتے تھے۔ امتحان کے تناؤ کو ’’جانچے جانے کا خوف‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ کمزور کرداری ، وقوفی اور عضویاتی اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ کسی بھی طرح دباؤ عامل سے پیدا ہوئے تناؤ سے کم نہیں ہوتا۔ تناؤ کی شدت طالب علم کی تیاری، توجہ اور کارکردگی میں دخل اندازی کرتی ہے اور نتیجتاً یہ امتحان کی کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے۔ زیادہ دباؤ کے زیر اثر رہنے والے لوگ ان حالات کو اپنی شخصیت کے تئیں ایک خطرہ ماننے لگتے ہیں۔ امتحان کے دوران وہ اکثر نروس ، پریشان اور جذباتی ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود بینی کے منفی اثرات ان کی توجہ بانٹتے ہیں اور امتحان کے دوران ان کی صلاحیت پر منفی اثر پیداکرتے ہیں۔ جو بچے زیادہ شدید دباؤ کے زیر اثر ہوتے ہیں وہ امتحان کے دوران شدید جذباتی رد عمل ، خود کے بارے میں منفی خیالات، نامناسب حالات کا احساس، مدد کی کمی اور اپنا وقار اور مرتبہ کھودینے کا ڈر ان کی کارکردگی پر اثر ڈالتا ہے۔ اکثر ایسے حالات میں طالب علم کام پر توجہ دینے کے بجائے اپنے اوپر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے اور یا تو اپنی معلومات کو نظر انداز کرتا ہے یا غلط طریقے سے سمجھتا ہے۔ جب امتحانات کی تیاری کرنا ہو تو زیادہ وقت مطالعہ کرنے میں اور اپنی کمزوریوں اور صلاحیتوں پر نظر ڈالنے میں ، استاد اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنی مشکلات پربحث و مباحثے میں، نظر ثانی کے ساتھ ٹائم ٹیبل کی منصوبہ بندی، نوٹ کا خلاصہ بنانے ، اعادہ کے لیے وقفہ دے کر مرتب کر ے اور امتحان کے دن پرسکون رہنا بہت ضروری ہے۔
تناؤ اور صحت
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بہت سے آپ کے دوست (اور ہوسکتا ہے آپ خود بھی) امتحان کے دوران بیمار پڑجاتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہاضمہ کی خرابی، بدن کا درد، متلی ہونا، دست آنا اور بخار جیسی شکایات ہوجاتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ جو لوگ اپنی ذاتی زندگی میں ناخوش رہتے ہیں وہ زیادہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، بہ نسبت خوش رہنے والے لوگوں کے۔ روزانہ کا تناؤ فرد کو اپنی دیکھ بھال کرنے سے روک لیتا ہے، اور جب یہ تناؤ دیرپا ہوتو یہ جسمانی صحت اور نفسیاتی عمل پر اثر ڈالتا ہے۔ جب ماحول سازگار نہ ملے اور ماحولیاتی عناصر کی و جہ سے دباؤ بہت زیادہ ہو اور خاندان و احباب کی طرف سے حمایت بھی حاصل نہ ہو تو افراد کا مزاج تند اور چڑچڑا ہوجاتاہے اور وہ تکان کا احساس زیادہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ تکان مستقل کمزوری اور کم توانائی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ذہنی تکان ،چڑچڑا پن، تشویش، ناامیدی اور مدد کی کمی کے احساس کے طور پر سامنے آتی ہے۔ جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی تھکن کی یہ کیفیت جسمانی یا جذباتی تھکاوٹ کی کیفیت کہلاتی ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ تناؤ انسان کے مدافعتی نظام میں بھی تبدیلیاں لاتا ہے اور بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تناؤ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور نفسیاتی بدنظمی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔نفسی جسمانی بیماریاں جیسے السر، دمہ، الرجی اور سردرد بھی اسی ضمن کی بیماریاں ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تناوتمام جسمانی بیماریوں (50سے 70 فی صد تک) کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔ مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تقریباً 60 % حالات میں تناؤ کے آثار و علامتوں کے علاج کے لیے لوگ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔
عام توافقی علامت
اگر تناؤ بہت دیرپا ہوجائے تو جسم پر کیا گزرتی ہے۔ سیلے نے اس پر خاصا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے جانوروں کو مختلف طرح کے دباؤ عوامل کے زیراثر رکھا جیسے تیز درجۂ حرارت، ایکس رے اور انسولین کے انجکشن وغیرہ۔ اس نے ان مریضوں کا بھی مطالعہ کیا جو چوٹ لگنے کی و جہ سے یا بیماری کی و جہ سے اسپتال میں تھے ۔ سیلے کے مطابق اس رحجان میں تین مراحل ہیں۔ اس رجحان کو عام توافقی علامات کا نام دیا گیا۔
1 ۔ پریشان کن ردِ عمل مرحلہ، 2۔مرحلۂ مزاحمت اور 3۔کمزوری یا ناتوانی۔ (دیکھیے شکل 3.3)
عام مزاحمتی سطح
پریشان کن رد عمل مزاحمتی مرحلہ
ناتوانی وکمزوری کا مرحلہ
شکل 3.3عام توافقی علامت
شکل 3.3 عام توافقی علامت
1۔ پریشان کن رد عمل مرحلہ: ناموزوں ،مہیج کی موجودگی ہمارے ہارمون سسٹم کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایسے ہارمون خارج کرتا ہے جو تناؤ کے تئیں ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں اور اس وقت انسان اس تناؤ سے نمٹنے کے لیے یا اسے چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
2۔ مرحلہ مزاحمت: اگر تناؤ دیرپا ہو تو مزاحمت شروع ہوجاتی ہے۔ اعصابی نظام خود کارجسمانی ذرائع کو زیادہ احتیاط سے استعمال کرنے کی آگاہی دیتا ہے۔ جسمانی اعضا خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
3 ۔ ناتوانی کی حالت: تناؤ کے مستقل اور لگاتار اثر کی و جہ سے جسم کی توانائی ختم ہوجاتی ہے اور یہ تھکاوٹ کی تیسری حالت کی طرف آنے لگتا ہے۔ پریشان کن رد عمل اور مزاحمت میں شامل جسمانی نظام بیکار ہوجاتا ہے اور فرد تناؤ کا شکار ہوکر ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔سیلے کے اس ماڈل کی اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ اس نے نفسیاتی عوامل کو بہت کم اہمیت دی ہے۔ ماہرین کی رائے میں دباؤ یا تناؤ کی کیفیت کو طے کرنے میں نفسیاتی عوامل کا مطالعہ بہت اہم ہے ۔ افراد کس طرح تناؤ کے تئیں ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں یہ بڑی حد تک ان کے نظریے ، شخصیت اور حیاتیاتی نظم پر منحصر ہوتاہے۔
تناؤ اور قوتِ مدافعت
تناؤ فرد کی قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے اور اس طرح بیماری کا سبب بنتا ہے۔ مدافعتی نظام جسم کو باہری اور اندرونی دونوں قسم کے بیماری کے حملوں سے بچاتا ہے۔ نفسی اعصابی مدافعتی نظام فرد کے ذہن، دماغ اور مدافعتی نظام کے مابین رشتے پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ مدافعتی نظام پر ہونے والے تناؤ کے اثرات کا مطالعہ کرتا ہے۔ انسان کا مدافعتی نظام کس طرح کام کرتا ہے؟ خون میں موجود سفید خلیات (Leucocytes) جراثیم جیسے وائرس کو پہچان کر ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ان جراثیم کو اینٹی جن (بیرونی مادہ جو ضد جسمیہ کا سبب بنتا ہے)بھی کہا جاتاہے۔ یہ انسدادی ضد جسمیہ پیدا کرتا ہے۔ مامونیت کے نظام میں متعدد قسم کے سفید خون کے خلیات ہوتے ہیں جن میں T خلیات ، B خلیات اور قدرتی طور پر ہلاک کرنے والے خلیات ہوتے ہیں۔یہ سفید خلیات خون میں بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ T خلیات ، B خلیات اور قدرتی طور پر بیماری کو ختم کرنے والے خلیات کی افزائش کرتے ہیں۔ ان میں T خلیے حملوں کو بیکار کرتے ہیں اور ان کی مدد کرنے والے خلیے مدافعتی عمل کو بڑھاتے ہیں۔ ایڈز کی بیماری میں یہی مددگار خلیے HIV جرثومے کے ذریعہ متاثر ہوتے ہیں۔ B خلیات بیماری سے لڑنے کی طاقت پیدا کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر بیماری کو مارنے والے خلیے بیماری کے جراثیم اور رسولی وغیرہ جیسی بیماریوں کو بھگانے میں مدد کرتے ہیں۔
تناؤ ان ہی قدرتی خلیات کو متاثر کرتا ہے خصوصاً خلیوں کے لیے مضر ) (cytotoxicity کو جو کینسر اور دوسرے مہلک امراض سے مدافعت کے لیے بے حد اہم ہے۔ تناؤ کے شکار افراد میں جیسے امتحان کی تیاری کررہے طالب علم، صدمہ سے پریشان لوگ اور افسردہ و غمگین افراد میں اس خلیے کی بے حد کمی پائی گئی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مدافعتی عمل ان اشخاص میں بہتر کام کرتا ہے جن کو سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اور جن لوگوں کا یہ نظام کمزور ہوتا ہے ان پر تبدیلیوں کا اثر بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے اور ان کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ شکل 3.4 اس ترتیب کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں منفی جذبات اور تناؤ بھرے ہارمون کا اخراج (جو مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے اور ذہنی و جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے) شامل ہے۔
نفسیاتی دباؤ کے نتیجے میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اسی قسم کے رویّے بھی مزاج میں درآتے ہیں جیسے افسردگی، بغاوت، غصہ اور جارحیت وغیرہ۔ صحت پر تناؤ کے اثرات کے مطالعے میں منفی جذبات کا مطالعہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ نفسیاتی بدنظمی کے واقعات جیسے گھبراہٹ کے دورے یا وہم میں گرفتار رہنے کا عمل تناؤ کے دیر پا ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ پریشانیاں اس حد تک بڑھ سکتی ہیں کہ وہ خوفزدہ، تکلیف دہ احسا س میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور ان کو دل کے دورے کی شکل میں سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو لوگ زیادہ تر دباؤ کے زیر اثر رہتے ہیں ان کے مزاج میں بے جاخوف ، ڈر اور بدمزاجی شامل ہوجاتی ہے اور ان پر افسردگی کے دورے، غصہ اور چڑچڑاپن حاوی ہوجاتاہے۔ یہ منفی جذبات مدافعتی نظام کے عمل سے متعلق ہوتے ہیں۔ ہماری دنیا کو سمجھنے اورجاننے کی صلاحیت اور اس جان کاری کو ہمارے ذاتی جذبات پر لاگو کرنا بھی جسم پر سیدھا اثر کرتا ہے۔ منفی موڈ بھی خراب صحت کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ ناامیدی کا احساس بیماری کو خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے اور چوٹ لگنے کا یا موت کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
ڈر ،غصہ
بغاوت
غصہ کا بھڑکنا
فضیحت کرنا ؍کنارہ کشی کرنا ؍ناامیدی
تنائو پیدا کرنے والے ہارمون
شکل3.4تنائو اور بیماری کے درمیان تعلق
شکل3.4 تناؤ اور بیماری کے درمیان تعلق
طرزِزندگی
تناؤ ایک غیر صحت مند طریقۂ زندگی یا صحت کو برباد کرنے والے برتاؤ کی طرف راغب کرتا ہے۔ طریقِ زندگی دراصل وہ فیصلے اور رویّے ہیں جو کسی فرد کی صحت اور زندگی کو طے کرتے ہیں۔ پریشانی اور تناؤ میں گھرے ہوئے لوگ جلد ہی مرض آفریں عوامل کا شکار ہوجاتے ہیں (وہ عوامل جو جسمانی بیماریوں کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں)۔ ایسے لوگ کم سوتے ہیں ، کھانے پینے کی عادات ٹھیک نہیں ہوتیں اور اکثر یہ لوگ صحت برباد کرنے والی حرکتوں جیسے سگریٹ یا شراب نوشی کی لت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ صحت تباہ کرنے والارویہ دھیرے دھیرے پنپتا ہے ،یہ وقتی خوشی کا سبب بھی بنتا ہے اسی لیے ہم ان کے دور رس خراب اثرات کونظر انداز کردیتے ہیں اور اس خطرے کو بھی نہیں سمجھ پاتے جو یہ عادتیں ہماری زندگی کے لیے کھڑا کردیتی ہیں۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ صحت بخش رویے جیسے متوازن غذا، روزانہ کسرت، خاندان کی حمایت وغیرہ اچھی صحت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ایسے طریق زندگی کو اپنا لینا جس میں متوازن کم چکنائی والا کھانا، روزانہ کسرت اور مثبت سوچ شامل ہوں، صحت مندی اور دراز عمر کا ضامن ہے۔ جدید طریق زندگی جیسے زیادہ کھانا پینا اور تیز رفتار زندگی ہماری صحت کے بہت سے اصولوں کو پامال کرتا ہے جیسے کہ ہم کیا کھاتے ہیں، کیا سوچتے ہیں اور زندگی کے تئیں ہمارا نظریہ اورعمل کیا ہے۔
تناؤ سے مقابلہ کرنا
حالیہ برسوں میں یہ سوچ زیادہ حاوی ہوگئی ہے کہ ہم تناؤ سے کس طرح نبرد آزما ہوں نہ کہ تناؤ جسے کوئی محسوس کرتا ہے اور جس کا اثرہماری نفسیاتی صحت، سماجی کارکردگی اور صحت پر پڑتا ہے۔تناؤ سے عہدہ برآ ہونا ایک ایسی حیرت انگیز مخصوص کیفیت ہے جو تناؤ کا رد عمل ہوتی ہے۔ یہ تناؤ بھری صور ت حال یا اس کے تئیں ایک بھر پور رد عمل ہوتا ہے جو مسائل کو حل کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ہم جس طرح تناؤ سے نبرد آزما ہوتے ہیں وہ طریقہ بہت کچھ ہمارے ذہن میں پختہ جڑ جمائے ہوئے یقین اور ہمارے تجربات پر مبنی ہوتا ہے جیسے کہ جب ہم کہیں ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں تو ہمیں غصہ آتاہے کیوں کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ٹریفک تیزی سے چلنا چاہیے۔ تناؤ سے نمٹنے کے لیے اکثر ہمیں اپنے سوچنے کے ڈھنگ پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے اور اس طرح ہم ان طریقوں کا پتہ لگاتے ہیں جن سے تناؤ کم ہوتا ہے جو لوگ تناؤ کا سامنا کمزوری کے ساتھ کرتے ہیں ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور بیماری کو مارنے والے خلیات کی کارکردگی بھی کمزور ہوتی ہے۔ افراد میں تناؤ بھرے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں فرق پایا جاتاہے۔ ان میں ظاہری اور باطنی دونوں عمل شامل ہیں Endler اور Parker نے تناؤ سے عہدہ برآ ہونے کے تین طریقے بتائے ہیں۔
کار رخ حکمت عملی : اس طریقے میں تناؤ والے واقعات کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہے اس سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جاتاہے اور اس کے ممکنہ نتیجے کے بارے میں سوچاجاتاہے۔ ہم ان واقعات سے نمٹنے کے لیے اپنے تقدم کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اور پھر عمل شروع کرتے ہیں۔ مثلاً اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا یا یہ سوچنا کہ میں نے ان ہی حالات و مسائل کو پہلے کیسے سلجھایا تھا۔
جذبات پر مبنی حکمت عملی: اس میں وہ کوششیں شامل ہیں جو فرد کے جذبات کو قابو میں رکھتی ہیں اور امید قائم کرتی ہیں۔ اس میں غصہ اور احساس نامرادی کا اظہار بھی شامل ہے یا پھر یہ سوچ لینا کہ حالات کو سدھارنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا مثلاً خود کو یہ باور کرانا کہ میرے ساتھ درحقیقت ایسا نہیں ہورہا ہے یا اس بارے میں پریشان ہونا کہ اب میں کیا کروں گا ۔
احتراز کرنے کی حکمت عملی: اس طریقہ میں واقعہ سے یا تو انکار کیا جاتا ہے یا اس کی سنجیدگی کو کم کرکے دیکھا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں شعوری طور پر تناؤ بھرے واقعات کے بارے میں خیالات کو دبادیتے ہیں اور اس کی جگہ خود کی حفاظت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس کی مثالیں ٹی وی دیکھنا، کسی دوست سے فون پر باتیں کرنا یا دوسرے افراد کے ساتھ رہنا شامل ہیں۔
سر گرمی 3.3
درجِ ذیل واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔ ایک پانچ نکاتی پیمانے پر جس میں =5 ہمیشہ =1 کبھی نہیں کے اصول پر بنایاگیاہے، دیجیے۔
میں اپنے جذبا ت کا ا ظہا ر کھلے ا ور سید ھے طور پر کرتا ہوں۔
میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کام کرتا ہوں۔
میں ان حالات کو اپنا لیتا ہوں جن کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
میں اپنی پریشانیاں اپنے دوستوں کے ساتھ بانٹتا ہوں۔
ضروری نہیں کہ مجھے ہر چیز ابھی مل جائے۔
اپنے جوابات پر کلاس میں اپنے دوستوں اوراستاد کے ساتھ بحث کیجیے۔ آپ کا اسکور جتنا زیادہ ہے اتنا ہی تناؤ سے لڑنے کی آپ کی صلاحیتیں بہتر ہیں۔
Lazarus اور Folkman نے تناؤ سے عہد برآ ہونے کے عمل کو ایک انفرادی وصف کے بجائے ایک حرکی عمل قرار دیا ہے۔ یہ لگاتار تبدیل ہونے والی وقوفی اورکرداری کوششیں ہیں جوان بیرونی اوراندرونی خواہشات کو پورا کرنے، کم کرنے یا برداشت کرنے کے لیے ہوتی ہیں، جو تناؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ عمل فرد کے کسی مسئلے کو حل اور اس مسئلے کے تئیں جذباتی رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان دونوں ماہرین کی رائے میں یا نمٹنے کا طریقہ دو طرح کے ردِ عمل میں بانٹا جاسکتا ہے۔ 1 ۔ مسئلہ سے متعلق اور 2 ۔ جذبات پر مرکوز ۔ مسائل پر مرکوز حکمت عملی میں خود مسئلہ پر حملہ کیا جاتاہے اور اس برتاؤ کے تحت ہوتا ہے جو تناؤ والے واقعہ کو تبدیل کرنے اور اس بارے میں عقدو پیمان کو تبدیل کرنے کے لیے اپنا یا جاتا ہے۔ اس طریق عمل میں فرد کی معلومات میں اضافہ کیا جاتاہے اور اس کے کرداری اور وقوفی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا جاتاہے اس و جہ سے واقعہ کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’میں نے ایک منصوبہ بنایا اور پھر اس پر عمل کیا۔‘‘ جذبات پر مرکوز طریقہ ان نفسیاتی تبدیلیوں کو طے کرتا ہے جو بنیادی طور سے کسی واقعہ کے ذریعہ ہونے والی جذباتی تباہی کو کم کرتی ہیں۔ یہ تھوڑی سی کوشش سے اس واقعہ کو ہی تبدیل کردیتے ہیں۔ مثال کے طورپر میں نے اپنے سسٹم سے باہر آنے کے لیے تھوڑی کوشش کی‘‘ ۔ تناؤ سے نبرد آزما ہونے کے لیے دونوں ہی طرح کے طریقے کی ضرورت ہے پھر بھی ماہرین نے ریسرچ کرکے بتایا ہے کہ افراد عموماً تناؤ پر مرکوز طریقے زیادہ اپناتے ہیں۔
تناؤ کو باضابطہ بنانے کے طریقے: تناؤ ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ جسمانی بیماریوں کے لیے بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ خون کا زیادہ دباؤ ، دل کی بیماریاں ، السر، ذیابیطس اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں تناؤ سے ہی جڑی ہوئی ہیں۔ طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کی وجہ سے تناؤ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اسکول ، دیگرادارے ،دفاتر اور مختلف تنظیمیں تناؤ سے نمٹنے کے طریقے جاننے پر زیادہ دھیان دے رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ طریقے اس طرح ہیں۔
استرخائی طریقے: یہ ایک عملی مہارت ہے جو تناؤ کے آثار کم کرتی ہے اور متعلقہ بیماریوں کا خدشہ بھی کم کرتی ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں وغیرہ ۔ اکثر استرخاجسم کے نچلے حصوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر چہرے کے اعصاب تک اس طرح پہنچتا ہے کہ پورا جسم آرام محسوس کرتا ہے۔ ذہن اور جسم کو سکون و آرام پہنچانے کے لیے گہری سانسیں لی جاتی ہیں۔
دھیان لگانے کا طریقہ:جوگیوں کے ذریعہ استعمال ہونے والا دھیان کا طریقہ توجہ بانٹنے کی ایک سلسلہ وار تکنیک ہے جو شعور میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ دھیان گیان کے ذریعہ فرد واقعہ کو بھول جاتا ہے ۔ کسی بھی باہری دباؤ کو فراموش کردیتا ہے۔
حیاتیاتی بازرسانی: یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں تناؤ کے عضویاتی پہلو کو پرکھا اور کم کیا جاتاہے اور اس کے لیے موجودہ عضویاتی عمل کے لیے بازرسانی کا طریقہ اپنایا جاتا ہے جو اکثر استرخائی تربیت پر منحصر ہوتا ہے۔ حیاتیاتی بازرسانی میں تین سطحیں شامل ہیں۔ ایک مخصوص عضویاتی ردِ عمل کی معلومات کو فروغ دینا جیسے دل کی دھڑکن، اس عضو یاتی ردِ عمل کو مخصوص حالات میں قابو کرنے کے طریقے سیکھنا اور پھر ان معلومات کو روز مرہ زندگی کے حالات پر لاگو کرنا۔
سرگرمی 4.3
درجِ ذیل میں کون سا کردار مسئلہ پرمرکوز ہے اور کیوں؟
◊ اپنے مسئلے کو کسی دوست کے ساتھ بانٹنا۔
◊ امتحان میں ناکامی پر شرمندہ ہونا۔
◊ ٹسٹ میں خراب نمبر آنے پر کلاس کے ساتھیوں کو الزام دینا۔
◊ والدین سے امتحان کے نتا ئج پوشیدہ رکھنا۔
◊ اپنی بری عادتوں کے لیے دوستوں کو الزام دینا۔
◊ سالانہ امتحان کے لیے ضروری کتب کا مطالعہ کرنا۔
◊ کسی نقصان کے بعد اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا۔
◊ کام پورا نہ ہونے کی صورت میں اسکول سے ناغہ کرنا۔
اپنے جوابات پر اپنے استاد ا ور ساتھیوں کے ساتھ بحث کیجیے۔
تخلیقی بصیرت: یہ تناؤ سے نمٹنے کی ایک بہتر تکنیک ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو تصور کا استعمال کرتا ہے۔ جائزے سے قبل فرد کو چاہیے کہ وہ اپنا نصب العین متعین کرلے کیوں کہ اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اگر ذہن پر سکون، جسم آرام کی حالت میں اور آنکھیں بند ہوں گی تو انسان بہ آسانی تصور کرسکتا ہے۔ یہ غیر ضروری خیالات کی دخل اندازی کو روکتا ہے اور تخلیقی توانائی مہیا کرتا ہے جو ایک تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
وقوفی کرداری تکنیک: یہ تکنیک لوگوں کو تنائو سے بچانے کے لیے ہے۔ اس عمل کو Meichenbaum نے ایجاد کیا تھا۔ اس تکنیک میں منفی اورغیر ضروری خیالات کو مثبت اور ضروری خیالات سے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اس میں تین بنیادی حالتیں ہیں۔ اندازہ لگانا، تناؤ کو کم کرنے کی تکنیک ، اور اس تکنیک کو لاگو کرنا نیز اس پر عمل کرنا۔ مسئلے کو فرد کے نظریے سے پرکھ کر اس کی فطرت کا پتہ لگانا،مسئلہ کا جائزہ کہلاتا ہے۔ تناؤ کو کم کرنے کی تکنیک جیسے کہ آرام کرنا اور خود کو ہدایات دینا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔
ورزش: تناؤ کے زیر اثر پیدا ہونے والے عضو یاتی دباؤ کو کم کرنے میں ورزش ایک بہتر ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔ روزانہ پابندی سے ورزش کرنے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور دل کی کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ ورزش سے پھیپھڑوں کی کارکردگی پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ورزش دوران خون کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے، خون میں چربی کی مقدار کو گھٹاتی ہے اور جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتی ہے۔ تیراکی، چہل قدمی، دوڑ، سائیکل چلانا، رسی کودنا وغیرہ ایسی ورزشیں ہیں جو تناؤ کو دور کرتی ہیں۔ ہمیں ہفتہ میں کم سے کم چار بار اور ایک بار میں 30 منٹ تک ان میں سے کسی ورزش کو کرنا چاہیے۔ ۔ ہر بار کی ورزش میں جسم کو گرم کرنا، ورزش اور پھر جسم کو نارمل حالت میں آنے کے لیے وقت دینا چاہیے۔
مثبت صحت اورفلاح و بہبود کی حوصلہ افزائی
ایسا ناممکن ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کبھی کسی قسم کے تنائو یا رسہ کشی کا تجربہ نہ کریں۔ بہت سے لوگ اپنی زندگی کی گاڑی بہت سہل انداز سے رواں دواں رکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوسکتا ہے کہ ان کا رویہ تعمیری ہو اور انھیں ہر طرح کی سماجی و جذباتی حمایت بھی حاصل ہو۔ جب ہم تناؤ کو باضابطہ کرنے یا قابو میں کرنے کے طریقوں کی کھوج کرتے ہیں اور اس سلسلے میں حالات سے کچھ مثبت کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تب ہم صحت مند طریقے سے زندگی گزارنے کی سیکھ حاصل کرتے ہیں اور یہ توانائی اورمعلومات ہمیں مستقبل میں سامنے آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کی تربیت دیتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے کہ ہم غیر صحت مند تناؤ کے مقابلے میں مدافعتی نظام تیار کرتے ہیں۔
تناؤ کا مقابلہ کرنے والی شخصیت: Kobasa کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جن کے تناؤ کی سطح اونچی لیکن بیماریوں کی سطح نیچی ہوتی ہے، وہ آپس میں تین خصوصیات مشترک رکھتے ہیں۔ ان مشترکہ خصوصیات کو دشواریاں برداشت کرنے کے شخصی اوصاف کہا جاتا ہے۔ اس میں تین عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
1۔ عہد 2۔ قابو اور 3 ۔ چیلنج۔ دشواریوں سے نمٹنے کا وصف انسان کے اپنے اوپر یقین ، دنیا پر بھروسہ ،اپنے اوردنیا کے تعلق پر بھروسے کے بارے میں محسوسات ہیں۔آپ کیا کررہے ہیں؟ یہ ایک طرح سے ذاتی عہد و پیمان کی شکل ہے، اپنی زندگی پر آپ کے کنٹرول کا احساس ہے اور ایک چیلنج ہے۔ تناؤ کا مقابلہ کرنے کی اہل شخصیات زندگی کی سمت اورمقصد پر قابو رکھتی ہیں۔ اپنے کام کے تئیں وعدے کی پابندی ، اپنے شوق، اپنے خاندان اورسماجی زندگی کے تئیں ذمہ دار اور زندگی میں درپیش چیلنج پر بھی ان کا کنٹرول رہتا ہے۔ وہ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو نارمل اور مثبت نظریے سے دیکھتے ہیں نہ کہ انھیں ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔
ہر فرد اس قسم کی خصوصیات کا حامل نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے بہت سے افراد کو زندگی جینے کے کچھ اصول و ضوابط سیکھنے پڑتے ہیں جیسے معقول سوچ اورروز مرہ کی زندگی کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے خود کو بہتر طور پر لیس کرنے میں ادعائی وغیرہ۔
زندگی کی ہنر مندیاں:
یہ وہ تطبیقی و مثبت صلاحیتیں ہیں جو انسان کو روز مرہ زندگی کے چیلنج اورخواہشات سے نمٹنے کی تربیت دیتی ہیں۔ ہماری تناؤ کو جھیلنے کی صلاحیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ہم روزانہ کی ضروریات کو کس طرح برداشت کرتے ہیں اور کس طرح اپنی زندگی میں توازن قائم رکھتے ہیں۔ زندگی کے یہ ضوابط سیکھے بھی جاسکتے ہیں اور ان کو بہتر بھی بنایا جاسکتا ہے ۔ادعائیت، وقت کا صحیح استعمال، صحیح سوچ، بہتر تعلقات ، خود کی دیکھ بھال اور غیر مددگار عادتوں (جیسے نظریہ تکمیلیت اور ٹال مٹول کرنے کی عادت) پر قابو پانا۔ یہ کچھ ایسی عادتیں یا طریقے ہیں جن کے ذریعہ ہم زندگی میں درپیش مسائل کو بہتر طریقے سے نمٹاسکتے ہیں۔
ادعائیت: یہ ایک ایسا رویہ ہے جو ہمارے محسوسات، ضروریات، خواہشات اور خیالات کو بہتر طریقے سے، صاف طور پر اور کھلے طورپر بتاتا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جس میں ’نہ‘ کہنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اپنی رائے کو بناخود کو ترجیح دیے بیان کرنے کا وصف اور اپنے جذبات جیسے پیار، غصہ وغیرہ کا کھلے طور پر اظہار کرنے کا وصف ہے۔ اگر آپ کے اندر خود اعتمادی ہے تو آپ کو خود پر بھروسہ ہوگا۔ آپ اپنی شخصیت کا ٹھوس احساس کرسکیں گے اور آپ کا خود پسندی کا نظریہ بھی اونچا ہوگا۔
وقت کو صحیح استعمال کرنا: آپ جس طرح اپنا وقت گزارتے ہیں وہ آپ کی زندگی کی کیفیت کو عیاں کرتا ہے۔وقت کا استعمال کس طرح کیا جائے؟ یہ تعلیم بھی تناوکو دور کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وقت سے متعلق تناؤ کو دور کرنے کا سب سے بہتر طریقہ وقت کے تئیں نظریے میں تبدیلی لانا ہے۔ اس کامرکزی اصول یہ ہے کہ وقت کو ان کاموں کے کرنے میں صرف کریں جو آپ کے نزدیک زیادہ ضروری ہیں یا جن کاموں کے کرنے سے آپ اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی معلومات کتنی صحیح اورحقیقی ہیں اور آپ کسی کام کو ایک مخصوص مدت میں مکمل کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ کی معلومات اور کام کرنے کے طریقے میں توازن ہی زندگی کی ترتیب ہے۔
استدلالی فکر: تناؤ سے متعلق بہت سے مسائل غلط سوچ کی پیداوار ہوتے ہیں۔ آپ کیا سوچتے ہیں اور کیا محسوس کرتے ہیں، ان دونوں عملیات میں گہرا تعلق ہے۔ جب ہم تناؤ میں ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک مخصوص منفی سوچ ابھر آتی ہے اور ہم ماضی کے منفی تجربات کو یاد کرنے لگتے ہیں جو ہمارے مستقبل اور حال کے نظریے کو متاثر کرتی ہے۔ استدلالی فکر کے کچھ اصول ہیں،پریشان خیالات اور غیر عقلی عقائد، تشویش پیدا کرنے والے خیالات کو خاطر میں نہ لانا اور مثبت بیانات دینا وغیرہ۔
بہتر تعلقات: بہتر تعلق کے لیے بنیادی اصول ہے رابطہ ۔ اس میں تین ضروری عوامل ہیں۔ 1۔ دوسرے کی بات کو دھیان سے سننا-2-اپنے محسوسات کو صحیح طریقے سے پیش کرنا اور 3۔ دوسرے کی رائے اورمحسوسات کو عزت دینا خواہ وہ آپ کی رائے سے مختلف ہوں۔ یہاں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم حسد اورچڑچڑے پن سے دور رہیں۔
خود اپنی دیکھ بھال: اگر ہم خود کو صحت مند رکھتے ہیں، چاق و چوبند اور پرسکون رہتے ہیں تو ہم روزانہ زندگی میں درپیش کسی بھی تناؤ بھرے واقعہ کو جھیلنے کے لیے جسمانی اورجذباتی طور پر زیادہ بہتر طریقے سے تیار رہیں گے۔ ہمارے سانس لینے کے طریقے ہماری ذہنی حالت کے عکاس ہوتے ہیں۔ جب ہم تناؤ یا تشویش کا شکار ہوتے ہیں تو ہماری سانس تیز چلتی ہے اور سینے کی گہرائی سے سانس نکلتی ہے نیز ساتھ میں مسلسل آہ یا کراہٹ بھی شامل ہوتی ہے۔پر سکون تنفس ہلکا ہوتا ہے اور پیٹ سے سانس خارج ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تناؤ جیسے شور، آلودگی، خلا، روشنی، رنگ وغیرہ ہمارے مزاجپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ہماری ان صلاحیتوں کو بھرپور انداز سے متاثر کرتے ہیں جن کے ذریعہ ہم تناؤ سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور یہ ہماری بہبود کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
غیر امدادی عادتوں پر قابو پانا: ایسی عادتیں جیسے نظریہ تکمیلیت،نظرانداز کرنے کی عادت اور ٹال مٹول کرنے کی عادت وغیرہ ظاہری طور پر تھوڑے وقفے کے لیے تناؤ کم کردیتی ہیں لیکن یہ انسان کو تناؤ کے تئیں زیادہ نازک بنادیتی ہیں۔ تکمیلیت کا نظریہ رکھنے والے لوگ وہ افراد ہیں جو ہر چیز کو آسان اور درست چاہتے ہیں۔ ان کو بدلتے ہوئے معیار کے ساتھ مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ بہت سے عوامل جیسے وقت کی مناسبت ، کام کو روک سکنے کی صلاحیت کے فقدان اور اس کے اثرات اور کوششوں کے ساتھ تال میل نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں اور پر سکون نہیں رہ پاتے۔ اکثر خود دوسرے افراد کے تئیں تنقیدی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ کسی چیلنج کا مقابلہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ نظرانداز کرنے یا کترانے کی عادت فی الوقت کسی مسئلے کو پوشیدہ کردیتی ہے اور اس کا سامنا کرنے سے انکار کی کیفیت کو بقا دیتی ہے۔ ٹال مٹول کرنے کا مطلب ہے کہ ہم جس کام کو انجام دینے کے بارے میں جانتے ہیں اس کو ٹالتے رہنا۔ ہم سب ہی اس جملے کے ملزم ہیں کہ ’’میں اس کام کو بعد میں کروں گا ‘‘۔ جو لوگ اس عادت میں گرفتار ہوتے ہیں وہ جان بوجھ کر ناکامی اور ترک کردینے کی کیفیت کا سامنا نہیں کرپاتے۔
بہت سے عوامل ایسے ہیں جن کے ذریعہ مثبت صحت حاصل کی جاسکتی ہے۔ صحت ایک مکمل جسمانی، ذہنی، سماجی اور روحانی صحت مندی کی کیفیت ہے۔ یہ صرف بیماری کی غیر حاضری کا نام نہیں ہے۔ مثبت صحت میں درج ذیل عوامل ہوتے ہیں۔
ایک صحت مند جسم، رشتوں میں استحکام ، زندگی میں مقصد کا احساس، عزت نفس، کام کرنے کی مہارت اور صدمہ، تناؤ اور تبدیلی کے تئیں لچک وغیرہ۔ باکس 3.3 میں صحت اور لچک دار رویہ کے درمیان رشتے کو دکھایا گیا ہے۔ خصوصاً وہ عناصر جو تناؤ کے لیے فاضل بنیادکا کام کرتے ہیں جیسے خوراک ، ورزش، مثبت رویے، صحیح سوچ اور سماجی حمایت۔
باکس 2.3
صحت اور لچک دار رویہ
حالیہ برسوں میں بہت زیادہ تحقیق اس بات پر کی گئی کہ بچوں اوربڑوں میں لچک دار رویہ کس حد تک ہوتا ہے۔ لچک ایک ایسی حیرت انگیز کیفیت یا عمل ہے جو زندگی میں چیلنج والے حالات کو نبھانے کا طریقہ بتاتا ہے۔ یہ تناؤ اور مخالفت کے منھ پر طمانچہ مارنے والی صلاحیت کہلاتی ہے۔ اس میں خود اعتمادی اور خود شناسی، آزادی اور اپنی ذات پر انحصار، مثبت ماڈل تلاش کرنا، پراعتماد اور معلومات سے پرمہارت حاصل کرنا جیسے مسائل کا حل، تخلیقی قوتیں، وسائل کی موجودگی ، اور لچک نیز یہ یقین کہ زندگی کا ایک مقصد ہے۔ لچکدار رویے کے حامل افراد صدمے، دباؤ اور مخالفت کے اثرات سے جلدی ہی باہر آجاتے ہیں اور یہ لوگ اپنی زندگی نفسیاتی طور پر صحت مند اور بامعنی گزارتے ہیں۔
’’لچک‘‘ کو حال ہی میں تین ذرائع کے طور پر متعارف کیا گیا ہے (1)میرے پاس سماجی اور بین ذاتی قوت کا ہونامطلب یہ کہ ’’میں اپنے آس پاس کے لوگوں پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ مجھے پیار کرتے ہیں۔‘‘(2)میں ہوں۔ (اندرونی طاقت) مطلب خود اپنی اور دوسروں کی عزت کرنا۔ اور (3) میں کرسکتا ہوں۔ (افراد کے مابین مسائل کو سلجھانے کی صلاحیت) مطلب یہ کہ وہ راستے ڈھونڈنا جن سے مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک بچے میں لچک پیدا کرنے کے لیے اس کے مزاج میں ان میں سے کوئی ایک خوبی ضرور ہونی چاہیے۔ مثال کے طورپر بچوں کے اندر بہت زیادہ انا ہوسکتی ہے یا اس میں اندرونی طاقت ہوسکتی ہے لیکن ہوسکتاہے ان کے پاس کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کو وہ حمایت کے لیے طلب کرسکیں (میرے پاس ہے) اور اس لیے وہ مسئلہ کو حل کرنے کی صلاحیت بھی نہ رکھتے ہوں تو ایسے رویے کو لچک والا رویہ نہیں کہیں گے بچوں پر کیے گئے مطالعوں سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بے حد نزاکتوں کے باوجود ،غریبی اوردوسری سماجی کیفیات کے تحت رہنے کے باوجود ، بہت سے بچے باصلاحیت اور پروقار بالغ کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
خوراک: ایک متوازن غذا فرد کے مزاج کو خوش گوار بناسکتی ہے، زیادہ توانائی بخشتی ہے، خون کا دوران بہتر بناتی ہے، بیماریوں کو روکتی ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور فرد کو تناؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ اچھی طرزِ زندگی کا راز یہ ہے کہ ایک دن میں تین بار کھانا کھانا چاہیے اور ہر بار مختلف اور متوازن غذا کھانی چاہیے۔ ایک شخص کو کتنا تغذیہ چاہیے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس شخص کے کام کیا ہیں، اس کا جنسیاتی ڈھانچہ کیاہے، وہ کس طرح کی آب و ہوا کا عادی ہے اور اس کی صحت کی تاریخ کیا ہے۔ لوگ کیا کھاتے ہیں اور ان کا وزن کتنا ہے، یہ ان کے کرداری عمل پر اثر ڈالتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی غذا اور وزن میں تال میل بنا لیتے ہیں جب کہ کچھ لوگ موٹے ہوجاتے ہیں۔ جب ہم تناؤ میں ہوتے ہیں تو ہم آرام دینے والی خوراک پسند کرتے ہیں جو میٹھی، نمکین اور زیادہ چکنائی والی ہوتی ہیں۔
ورزش: تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جسمانی ورزش اور صحت کے مابین گہرا تعلق ہے۔ ایک فرد صحت کو بہتر بنانے کے لیے جتنی کوششیں کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ تسلیم شدہ اور مقبول عام طریقہ ورزش ہے۔ پابندی کے ساتھ ورزش،وزن اور تناؤ کو قابو میں رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اس سے تناؤ ، تشویش اور افسردگی کو کم کرنے میں مد دملتی ہے۔ جو جسمانی کسرتیں صحت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں ، آسن اور ایروبک ورزشیں جیسے دوڑنا، تیراکی ، سائیکلنگ وغیرہ ۔ جب کہ دوسری ورزشیںجسم کو سکون دینے والی ہیں۔ صحت کے لیے یہ ورزشیں تناؤ کی ڈھال کے طور پرکام کرتی ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صحت مندی فرد کی عام دماغی اورجسمانی کیفیات کو بہتر بناتی ہے اور وہ زندگی کی بالکل منفی حالتوں میں بھی صحت مندرہتا ہے۔
مثبت رویہ: ایک مثبت رویے کے ذریعے بھی صحت مندی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مثبت رویے کو بنانے والے کچھ عوامل ہیں: حقیقت کا صحیحجائزہ، زندگی کا مقصد اور اس مقصد کا احساس اور ذمہ داری، دوسروں کے نظریات کو تسلیم کرنا اور برداشت کرنا، کامیابی و ناکامی دونوں حالتوں کی ذمہ داری قبول کرنا وغیرہ۔ آخر میں نئے خیالات کے تئیں وسیع النظری، خود پر ہنسنے کی اہلیت جو ہمیں اپنے مقصد پر مرکوز رکھتی ہے اور واقعات کو ایک صحیح تناظر میں دیکھنا بھی مثبت رویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔
صحیح سوچ: صحیح سوچنے کی صلاحیت تناؤ کو کم کرنے یا ختم کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رجائیت، جو زندگی کے موافق نتائج کی توقع رکھنے کا میلان ہے، نفسیاتی اور جسمانی فلاح سے متعلق ہے۔ تناؤ سے مقابلہ کرنے کے سلسلے میں افراد کارویہ الگ الگ ہوتاہے۔ مثال کے طور پر ایک خوش بین (امید پرست )شخص کا نظریہ ہوگا کہ مخالفت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا جاسکتا ہے جب کہ ایک بدبین قنوطی آدمی ہمیشہ تباہی اورپریشانی کی بابت سوچے گا۔خوش بین شخص ہمیشہ مسائل کے حل تلاش کرنے کے طریقوں کا استعمال کرے گا اور اس ضمن میں دوسروں سے مدد اور مشورہ بھی لے گا۔ ناامیدفرد تناؤ کے سبب کو نظر انداز کرکے دوسری طرح کے طریقے استعمال کرے گا جیسے ہمت ہاردینا یا اس مقصد کو ہی چھوڑ دینا جس کی و جہ سے تناؤ پیدا ہو رہا ہو یا پھر سرے سے تناؤ کو ہی نظر انداز کردے گا۔
سماجی حمایت: سماجی حمایت دراصل ان لوگوں کی موجودگی ہے جن پر ہم بھروسہ کرسکتے ہیں، جو لوگ ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اور انھیں ہماری پروا ہ ہے ،وہ ہمیں پیار کرتے ہیں۔جس فرد کو یہ بھروسہ ہوکہ وہ ایک سماجی نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے جس میں آپسی روابط اور باہمی ذمہ داریاں شامل ہیں، تو اس فرد کو سماجی حمایت حاصل ہے۔ یعنی سماجی حمایت کی حیثیت سیدھے طور سے صحت و فلاح سے جڑی ہوئی ہے جب کہ سوشلنیٹ ورک یعنی سماجی حمایت کی مقدارفلاح سے متعلق نہیں ہے کیوں کہ یہ بہت زیادہ وقت لیتی ہے اور ایک بڑے سماجی نیٹ ورک کی ضرورت پڑتی ہے۔ مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ جو خواتین زندگی میں تناؤ کے واقعات سے دوچار ہوتی ہیں اور ان کا کوئی بھی قریبی دوست ہوتا ہے ، وہ کم پریشان ہوتی ہیں اور ان کو دورانِ حمل بھی کم طبی پیچیدگیاں پیش آتی ہیں۔ سماجی حمایت تناؤ سے حفاظت کرتی ہے۔ جن افراد کو خاندان اور احباب کی حمایت حاصل ہوتی ہے ان لوگوں میں تناؤ کم ہوتا ہے اور وہ اس سے زیادہ کامیابی کے ساتھ نمٹتے ہیں۔
سماجی حمایت مشکلوں میں بھی ہوسکتی ہے جیسے مالی مدد،اشیاکی فراہمی یا خدمات وغیرہ مثال کے طور پر کوئی بچہ اپنے دوست کو اس لیے نوٹس فراہم کردیتا ہے کہ اس کا دوست بیماری کی و جہ سے اسکول سے غیر حاضر تھا۔خاندان اور دوست بھی اطلاعاتی حمایت مہیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم جس کو کسی تناو بھرے واقعہ کا تجربہ ہورہاہو جیسے بورڈ کے مشکل امتحانات اور اس کو کسی ایسے ساتھی سے جو پہلے اس قسم کے تجربے سے گزرچکا ہو، اس بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں تو بے شک یہ اطلاع نہ صرف اس کو مشکلات کو پہچاننے میں مدد کرے گی بلکہ امتحان کو کامیابی کے ساتھ پاس کرنے میں بھی مدد کرے گی۔ تناؤ کے وقت فرد کو اداسی، تشویش اور خود پرسے بھروسے کی کمی کا احساس ہوسکتا ہے۔ اس کے دوست اور خاندان کے افرا د اس کو جذباتی حمایت بھی مہیا کرتے ہیں اور اس کو اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ وہ اسے پیار کرتے ہیں نیز وہ ان کے لیے عزیز ہے۔ تحقیقات کے مطابق سماجی حمایت نفسیاتی پریشانیوں جیسے کہ افسردگی اور تشویش کو کم کرتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سماجی حمایت نفسیاتی صحت سے متعلق ہے۔ عام طور سے سماجی حمایت ذہنی صحت کے فوائد کو اجاگر کرتی ہے اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ دونوں افراد (حمایت دینے والا اور حمایت لینے والا) کی صحت کو مثبت طریقے سے متاثر کرتی ہے۔
سرگرمی 3.5
اپنے پڑوس میں سے ایک بچے کا انتخاب کیجیے جس کی زندگی میں انتہا ئی تنا ؤ بھرے واقعات پیش آئے ہوں جیسے کوئی بڑا حادثہ یا پھر اس کے ساتھ کوئی صدماتی تجربہ پیش آیا ہو جیسے ڈکیتی یا آگ لگنا وغیرہ اس بچے اور اس کے خاندان سے بات کیجیے ۔ کیا آپ کچھ ایسے عوامل کی نشان دہی کرسکتے ہیں جن کی وجہ سے اس کو اس تنا ؤ سے مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہو؟ کیا آپ کی اپنی زندگی میں ایسے کچھ عوامل موجود ہیں؟ اپنے استاد سے اس پر بحث کیجیے۔
کلیدی اصطلاحات
پریشان کن کا رد عمل، جانچ پرکھ، عہدہ برآ ہونا، خستگی، عام توافقی، طاقت (مشکلات کو سہنے کی)، بازتوازن، زندگی کی مہارتیں، خوش بینی، رجائیت، مثبت صحت، نفسی اعصابی مدافعت، لچک، سماجی حمایت، دباؤ، دباؤ کے اسباب (Stressors)
خلاصہ
◊ تناؤ زندگی کا حصہ ہے یہ نہ تو مہیج ہے اور نہ رد عمل بلکہ ایک لگاتار اور روابطی عمل ہے جو ماحول اور فرد کے مابین ہوتا ہے۔
◊ تناؤکی تین خاص اقسام ہیں۔ جسمانی ، ماحولیاتی، نفسیاتی اور سماجی۔ تناؤکے اسباب زندگی کے واقعات، روز مرہ کی کشاکش، صدماتی واقعات ہیں۔ تناؤ کا ردِ عمل جذباتی ، عضویاتی، وقوفی اور کرداری ہوتا ہے۔
◊ تناؤ سے نمٹنا ایک متحرک حرکت ہے نیز فرد کا تناؤ کے تئیں ردِ عمل ہے۔ اس عمل کی تین اقسام ہیں۔ کام سے متعلق ، جذبات سے متعلق اور نظر انداز کرنے کی تکنیک ۔ یہ ردِ عمل مسئلے پر مرکوز ہوسکتے ہیں یا جذبات پر بھی مرکوز ہوسکتے ہیں۔ مسئلے پر مرکوز ہونے والے ردِ عمل ماحول کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور واقعہ میں دھمکی کے تاثر کو زائل کرتے ہیں۔ جذبات پرمرکوز رد عمل جذبات میں تبدیلی لاتے ہیں اور تناؤ سے ہونے والے جذباتی نقصان کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
◊ ہمارے طریقۂ زندگی کا صحت مند ہونا ضروری کہ تناؤ کا صحیح طریقے سے مقابلہ کیا جاسکے۔ ادعائیت، وقت کا صحیح استعمال، صحیح سوچ (عقلی سوچ)، بہتر تعلقات، خود اپنی دیکھ بھال اور غیر امدادی عادتوں پر قابو وہ تکنیک ہیں جن کے ذریعہ ہم زندگی میں درپیش چیلنج کا مقابلہ کرتے ہیں۔
◊ مثبت صحت اور فلاح متوازن غذا، ورزش، مثبت رویوں ، خوش بین سوچ اور سماجی حمایت سے حاصل ہوتی ہے۔ سماج میں ایک ہم آہنگ تاثر کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ہمیں غیر صحت مند طریقوں سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے (جیسے سگریٹ نوشی، شراب نوشی، نشیلی دواؤں کا استعمال اور دوسرے نقصان دہ رویوں ) بچنا چاہیے۔
اعادہ کے سوالات
1۔ تناؤ کے تصور کو بیان کیجیے؟ روز مرہ زندگی سے مثالیں دیجیے۔
2۔ تناؤ کے آثار اور اسباب بتائیے؟
3۔ GAS نمونے کے بارے میں بتائیے۔ ایک مثال کے ذریعہ اس ماڈل کی اہمیت بتائیے؟
4۔ تناؤ سے نمٹنے کے مختلف طریقے بتائیے؟
5۔ نفسیاتی عمل پر تنائوؤے اثرات کو بیان کیجیے؟
6۔ بتائیے کس طرح زندگی کی مہارتیں زندگی میں درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتی ہیں؟
7۔ ان عوامل پر بحث کیجیے جو مثبت صحت اور فلاح کی سمت لے جاتے ہیں؟
8۔ تناؤ کس طرح مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے؟
9۔ زندگی کے کسی واقعہ سے مثال دیجیے جو تناؤ بھرا ہو۔ وجوہات بتائیے کہ یہ فرد خاص کے لیے کس طرح مختلف طریقوں سے تناؤ پیدا کرتا ہے؟
10۔ آپ کو تناؤ سے نمٹنے کے جو طریقے بتائے گئے ہیں اس کی روشنی میں آپ اپنے دوستوں کو ان کی روز مرہ زندگی میں درپیش تناؤ سے مقابلہ کرنے کے لیے کیا مشورے دیں گے؟
11۔ ان ماحولیاتی عوامل کی عکاسی کیجیے جو (1) مثبت اثر چھوڑتے ہوں اور (2) جو منفی اثر رکھتے ہوں؟
12۔ ہم جانتے ہیں کہ طرزِ زندگی کے کچھ عوامل تناؤ پیدا کرتے ہیں ،کینسراوردل کی بیما ریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔ پھر بھی ہم اپنا برتاؤ تبدیل کرنے سے قاصر ہیں، بتائیے کیوں؟
پروجیکٹ کی تجاویز
1۔ پانچ سے دس نو عمر بچوں کی زندگی میں تناؤ کو ریکارڈ کیجیے۔ کیا لڑکیوں اور لڑکوں میں یہ الگ الگ ہیں؟ ان طریقوں کا پتہ لگائیے جن سے وہ بچے ان واقعات سے ابھرنے میں کامیاب ہوئے۔
2۔ اپنے والدین اور دادا۔ دادی سے پوچھیے کہ ان کی زندگی میں کون سے مخصوص دباؤ عوامل سامنے آئے اور انھوں نے کس طرح ان کا مقابلہ کیا؟

ویب لنکس
http://www,nlm.nich.gov/medlineplus/stress.html
http://www.teachhealth.com
http://www.lifepositive.com/stress.html
تعلیماتی اشارات:
1۔ طالب علم کا یہ جاننا ضروری ہے کہ تناؤ زندگی کا ایک ناگزیر پہلو ہے۔ خود اپنے اور دوسروں میں تناؤ کے آثار کو پہچاننے میں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
2۔ طلباکے دماغ میں یہ بات واضح کردینی چاہیے کہ وہ مختلف طرح کے دباؤ عوامل کو مختلف طریقوں سے دور کرسکتے ہیں۔
3۔ طلباکی زندگی سے مثالیں لے کر انھیں تناؤ کے جسمانی اور ذہنی صحت پر مضراثرات کے بارے میں بتائیں۔
4۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اخبارات ، میگزین اور انٹر نیٹ سے اس قسم کا ادب جمع کریں جس میں تناؤ سے نبرد آزما ہونے کے طریقے بتائے گئے ہوں۔ ان پر کلاس میں بحث بھی کی جاسکتی ہے۔