Skip to content
Nafsiat-002


4

نفسیاتی انتشار 


اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
◊ خلاف معمول طرز عمل کے بنیادی مسائل کو اور ایسے عمل کی پہچان کے لیے استعمال کیے جانے والے اصولوں کو سمجھ سکیں گے۔
◊ خلاف معمول طرز عملکی وجوہات کے عناصر کو سمجھ سکیں گے۔
◊ خلاف معمول طرز عمل کی مختلف شکلوں کی وضاحت اوراہم نفسیاتی امراض کوبیان کر سکیں گے۔

مشمولات

تعارف

بے اعتدالی اورنفسیاتی خلل کے تصورات
نفسیاتی خلل کی درجہ بندی
خلاف معمول برتائو کے اساسی عوامل
نفسیاتی عمل 
    تشویشی خلل
وہمی اور اس سے متعلق خلل 
چوٹ اور دباؤ دینے والے اور اس سے متعلق خلل
تشویشی علامت اور اس سے متعلق خلل
الگ تھلگ پڑجانے کا خلل 
تشویشی علامت کی اہم خصوصیات اور اس سے متعلق خلل (باکس4.1)
افسردگی خلل
دو قطبی اور اس کے متعلق خلل 
دھندلی تصاویر نظر آیا اور دیگر 
نفسیاتی خلل 
اعصابی نظام سے متعلق خلل یا انتشاری نفس ٹوٹ پھوٹ، بیچینی پر قابو پانے سے متعلق خلل کھانے اور پینے میں خلل
کیمیاوی مادے اور اس کے عادی ہونے کے خلل
الکحل کے اثرات: کچھ حقائق (باکس4.2)
عام طور پر نقصان دہ کیمیاوی مادے (باکس4.3)

کلیدی اصطلاحات

خلاصہ 
اعادہ کے سوالات
پروجیکٹ کی تجاویز
ویب لنکس
تعلیماتی اشارات


تعارف

آپ ایسے لوگوں سے ضرور ملے ہوں گے جو ناخوش‘ پریشان اورغیر مطمئن رہتے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں‘ دکھ ‘ بے چینی اورکشیدگی بھری رہتی ہے اور انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ زندگی کو ایک تکلیف دہ اورمشکل چیزسمجھتے ہیں اور کبھی کبھی جینا بیکار  سمجھتے ہیں۔ تجزیاتی نفسیات کے مشہورماہر ’کارل جُنگ‘ نے بہت عمدہ بات کہی ہے۔ ’’بغیرمصیبت وپریشانی میں مبتلا ہوئے مستحکم کیسے بن سکتا ہوں؟ میر ے اندھیر ے پہلو کا بھی ہونا ضروری ہے۔ اگرمیں مکمل  ہوتا اور اپنے تاریک پہلو سے بھی آگاہ رہتا تو بھی مجھے یہ یاد رکھنا ہے کہ میں دوسروں ہی کی طرح ایک انسان ہوں‘‘۔   آپ میں سے کچھ لوگ امتحان سے قبل گھبراہٹ یا تناؤ محسوس کرتے ہیں اور مستقبل کے کیریر کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں یا  اپنے کسی قریبی شخص کے بیمار ہونے پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک انسان زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر بڑے بڑے مسائل کا سامنا کرتا ہے۔  کچھ لوگ  زندگی کے مسائل اور دباؤ میں شدید قسم کا رد عمل کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ جب لوگ نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسا کیاغلط ہوجاتا ہے۔ غیر معمولی  عمل کے کون کون سے اسبابی اجزا ، مختلف علامات اور آثارہیں جو مختلف قسم کے نفسیاتی خلل سے متعلق ہیں۔ 

نفسیاتی بیماریوں کے مطالعہ نے پچھلے  2500 برسوں ست تقریباً سبھی تہذ یبوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ نفسیاتی انتشار یا دماغی خلل (جیساکہ عام طور سے کہا جاتا ہے) دوسری کسی غیر معمولی چیزکی طرح ہمیں تکلیف اور خوف میں مبتلا کرتا ہے۔ ناخوشی‘ تکلیف‘ اندیشہ  اور لاشعوری قوت  وغیرہ پوری دنیا میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ ناکامی زندگی میں، خاص طور پربدلتی ہوئی زندگی میں، طبقات میں ناکامی کی وجہ بن جاتی ہے۔ آپ نے پچھلے ابواب میں یہ ضرور پڑھا ہوگا کہ تطابق سے مراد بدلتے ماحول کی ضرورت کے مطابق اپنے  طرز عمل کو بدلنے کی صلاحیت ہے جب حالات کی ضرورت کے  مطابق طرز عمل(برتاؤ) میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے تو اسے نقص مطابقت کہا جاتا ہے۔غیرطبعی نفسیات، نفسیات کا وہ میدان ہے جونقص مطابقت والے طرز عمل اس کے اسباب، نتائج اور اصلاح پر زور دیتا ہے۔

بے اعتدالی اور نفسیاتی خلل کے تصورات

اگرچہ بے اعتدالی کی متعدد تعریف سالوں سے بیان کی جا رہی ہیں‘ لیکن ان میں سے کسی کو بھی ہمہ گیر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ پھر بھی بہت سی تعریفوں کی کچھ باتیں عام ہیں جنھیں اکثر ’چارڈی (four Ds)‘کہا جاتا ہے: Deviance (انحراف) Distress ،(رنج) Dysfunction (فعل نقص) اور Danger (خطرہ) یعنی نفسیاتی خلل یا عوارض ہیں انحراف (اختلاف، انتہا،استثنائی،قائم بدہیئت)،رنج (ناخوشگوار اور فرد کو اور دوسروںکو مضطرب کردینے والے فعل)،نقص (تعمیری اندازمیں روزمرہ کی سرگرمیوںکو انجام دینے کی اہلیت میں خلل اندازی) اور ممکنہ طورپر خطرناک (فرداور دوسروں کے لیے)
یہ تعریف ایک اچھی شروعات فراہم کرتی ہے جس سے ہم نفسیاتی بے اعتدالی کی تلاش کر سکتے ہیں۔ جب کہ خلاف معمول لفظ کا ترجمہ ’’معمول‘‘ سے دور ہونا ہے لیکن اس کا مطلب کچھ معین معیار یا اقدار سے انحراف ہے۔ نفسیات میں ہمارے پاس نہ کوئی مثالی ماڈل ہوتاہے اور نہ ہی انسانی کردار کا کوئی معیاری نمونہ ہوتاہے جس کا استعمال موازنے کی بنیاد کے طور پر کیا جائے۔ اعتدالی اور بے اعتدالی برتاؤ کے بیچ فرق ظاہر کرنے کے کئی نظریے ہیں۔ ان نظریات سے دو بنیادی ومتضاد رائیں سامنے آتی ہیں:
پہلے نظریہ کے مطابق بے اعتدال کردار ایک ایسا عمل ہے جو سماجی معیار سے ہٹ کر(منحرف) ہوتا ہے۔ بہت سارے ماہر ین نفسیات کا کہنا ہے کہ بے اعتدالی برتاؤمحض ایک لیبل ہے جو ایسے طرز عمل کو دیا جاتا ہے جو سماجی امیدوں کے خلاف ہوتا ہے۔ بے اعتدال یا خلاف معمول برتاؤ، فکر اور جذبات وہ ہیں جو صحیح ڈھنگ سے کام کاج کرنے کے سماجی خیالات سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہر سماج کا ایک معیار ہوتا ہے جس میں رابطہ کے تحت کام کاج کرنے کے واسطے کچھ واضح اور کچھ غیر واضح قواعد ہوتے ہیں۔جو طرز عمل ،فکر اور جذبات سماج کے معیار کے برعکس ہوتے ہیں ا نھیں خلاف معمول کہا جاتا ہے۔ کسی سماج کا معیار اس کی اپنی مخصوص تہذیب میں ہی فروغ پاتا ہے جو اس کی تاریخ، اقدار، ادارہ، عادتیں نیز مہارتوں سے منسلک ہوتا ہے۔اس طرح وہ سماج جس کی ثقافتی قدریں مسابقت اور ادعائیت کو ترجیح دیتی ہیں جارحانہ طرز عمل کو قبول کر سکتی ہیں جب کہ و ہ سماج جہاں تعاون اور خاندانی اقدار پر زور دیا جاتا ہے (جیسا کہ ہندوستان میں) ان کے لیے جارحانہ برتاؤ نہ صرف نا قابل قبول ہوتا ہے بلکہ خلاف معمول ہوتا ہے۔ کسی سماج کے اقدار وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں جس کے سبب ان کا  نفسیاتی طورپر بے اعتدالی نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔ اس تعریف کے بارے میں کچھ سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں یہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ سماجی طور پر قبولیت والے برتاؤ بے اعتدال نہیں ہوتے اور یہ کہ نارمل ہونا سماجی معیار کی تقلید سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ 
دوسرا نظریہ بے اعتدال برتاؤ کو نقص مطابقت مانتا ہے۔ بہت سے ماہر ین نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ طرز عمل کی معمولیت اس بات سے طے نہیں ہوتی ہے کہ سماج اس عمل کو قبول کرتا ہے یا نہیں بلکہ وہ عمل اس گروپ جس میں وہ رہتا ہے اس گروپ کی بہبودی میں اضافہ کرتا ہے یا نہیں۔ بہبودی کا مطلب صرف گزر بسراوربقا نہیں ہوتا بلکہ اس میںفروغ اور تکمیل بھی شامل ہے یعنی اپنی قوت کی تکمیل جو آپ نے Maslow's need heirarchy theory میں پڑھا ہوگا۔ اس کسوٹی کے مطابق تقلیدی برتاؤ کو بے اعتدال برتاؤ کہا جا سکتا ہے اگر یہ نقص مطابقت ہوا تو یعنی اگر یہ نسب افعال اور نمو میں خلل اندازہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کلاس کا ایک طالب علم اپنے ذہن میں سوالات پیدا ہونے کے باوجود بھی خاموش رہناپسندکرتا ہے۔ اس طرز عمل کو اگر غیر مطابقتی کہا جائے تو اس کا مطلب مسئلہ کی موجودگی: اس سے فرد کی ناتوانی کا بھی پتہ چلتا ہے زندگی میں زیادہ دباؤ کا سامنا کرنے کی و جہ سے بھی یہ ہو سکتا ہے۔
اگر آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بات کریں گے تو دیکھیں گے کہ یہ نفسیاتی خلل کے بارے میں ابہام کے شکار ہیں جن کی خاصیت وہم،لاعلمی اورخوف دیکھنے کو ملے گی۔ ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ نفسیاتی خلل کچھ ایسی چیزہے جس پر شرمندہ ہواجاتا ہے۔ ذہنی بیماری سے وابستہ اس کلنک کا مطلب ہے کہ لوگ ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رابطہ قائم کرنے میں گریز کرتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے مسائل پر خود شرم محسوس ہوتی ہے۔ دراصل نفسیاتی خلل جو مطابقت میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے اسے دیگر بیماریو ں کی طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ 

سرگرمی  1.4

 تین لوگوں سے بات کیجیے:   ایک اپنے دوست،ایک اپنے والدین کے دوست اورایک پڑوسی سے۔ ان سے پوچھیں کہ کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو ذہنی طور پر بیمار ہے یا ذہنی مسائل میں مبتلا ہے آپ جاننے کی کوشش کریں کہ کیوں وہ لوگ اسے خلاف معمول برتاؤ مانتے ہیں ۔اس شخص نے کون کون سی علامتیں دیکھیں،اس طرز عمل کی وجہ کیا ہے کیا اس شخص کی مدد ہو سکتی ہے ۔

آپ کلاس میں اخذ معلومات میں شریک ہوں اور یہ دیکھیں کہ آیا کچھ ایسی عام خصوصیات ہیں جس سے ہم دوسروں کو بیاعتدال یا ابنارمل ہونے کا لیبل لگائیں۔

تاریخی پس منظر 

نفسیاتی خلل کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی تاریخ کوجاننا ہوگا کہ کس طرح مختلف زمانہ میں لوگ ان عوارض کو دیکھا کرتے تھے۔ جب ہم غیرطبعی نفسیات Abnormal Psychology)  (کی تاریخ پڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کچھ نظریات بار بار ہمارے سامنے پیش ہوئے ہیں۔
 ایک قدیم نظریہ جو اب بھی سامنے آتا ہے وہ یہ کہ خلاف معمول برتائوکی وضاحت روحانی اور جادوئی قوتوں جیسے شیطان، بھوت پریت وغیرہ کے کاموںکی بنیادپرکی جاتی ہے۔ شیطان جو انسان کے اندر رہتا ہے  اس کی جھاڑپھونک (دفعِ آسیب عمل) یا دعا تعویز سے بھگانے کا کام ابھی بھی عام طور سے کیا جاتا ہے۔ بہت سے سماج میں شمن یا اوجھا  بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے اندر روحانی طاقت (مافوق الفطرت) ہے اور وہ روح اور انسان کے درمیان ذریعہ کا کام کرتے ہیں۔ شمن کے ذریعہ ایک ناتواں انسان بھی یہ جان سکتا ہے کہ اس کے مسائل کے لیے کون ذمہ دار ہے اور انھیں خوش کرنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ 
غیرطبعی نفسیات کی تاریخ میں بار بار آنے والا مرکزی خیال یہ عقیدہ ہے کہ انسان کا طرز عمل اس لیے خلاف معمول ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم اور دماغ صحیح طریقہ سے کام نہیں کرتے۔ یہ حیاتیاتی یا عضوی نظریہ ہے۔ دور جدید میں اس بات کے ثبوت ملتے ہیں کہ جسمانی اور دماغی عمل کا تعلق بہت سارے غیر طبقاتی طرز عمل سے ہے۔ کچھ خاص قسم کے انتشار میں ان خلاف معمول برتاؤ میں بہتری پیداکرکے کام کاج میں سدھار لایا جا سکتا ہے۔
ایک دوسراطرز فکر نفسیاتی نظریہ ہے۔ اس نظریہ کے مطابق نفسیاتی مسائل کی و جہ انسان کی سوچ، احساسات یادنیاکے تدارک میں کسی طرح کے نقائص کا پایاجانا ہے۔ ان تینوں تناظرمیں روحانی، حیاتیاتی، عضوی اور نفسیاتی یہ مغربی تہذیب کی تاریخ میں ہمیشہ سے رہی ہیں۔ قدیم مغربی دنیا میں قدیم یونان کے فلسفی طبیب جیسے بقراط،سقراط خاص طور سے پلیٹو وہ تھے جنھوں نے عضویاتی یا نامیاتی نظریے کو فروغ دیااورخلل انداز برتاؤ کی و جہ جذبات اورسبب کے درمیان تصادم بتایا۔ گیلن نے ذاتی کردار اور افتاد مزاج کے رول کی توضیح پیش کی۔ ان کے  مطابق اس مادی دنیا کے چار عناصرہیں یعنی زمین، ہوا،آگ اور پانی جو مل کر چار ضروری جسمانی سیال بناتے ہیں۔ یعنی خون، کالا پت،پیلا پت اور  بلغم۔ ان میں سے ہر ایک رقیق مختلف افتادمزاج کے لیے ذمہ دار ہے ۔ ان مزاج میں توازن کی کمی کی و جہ سے مختلف انتشار ہوا کرتے ہیں۔ یہ اس ہندوستانی نظریہ کی طرح ہے جووت (Vata) پت (Pitta) کف (Kapha) تین دوش(doshes) کو مانتی ہیں ان کا ذکر اتھروید اور  آیروید میں ہے۔ آپ دوسرے باب میں ان کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔
عہد وسطیٰ میں عفریتیات (demonology) اور اوہام پرستی کو بے اعتدال برتاؤ کی توضیح میں پھر سے اہمیت دی جانے لگی۔ عفریتیات کا تعلق اس عقیدہ سے ہے جس کے مطابق ذہنی مسائل میں مبتلا لوگ بھوت اور شیطان ہیں، اور اس دور میں جادوگرنیوں کی تلاش اور ایذادہی کے کئی واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔ ابتدائی عہدوسطیٰ میں حیرات کا عیسائی انداز طرزرائج تھا اورسینٹ آگسٹائین نے احساسات،ذہنی عذات اور تصادم کے بارے میں جامع طورپر لکھا،اس سے خلاف معمول برتاؤ کی جدید نفسی حرکیات کے لیے بنیاد پڑی۔ Johann Weyer نے زور دے کرکہا کہ نفسیاتی تصادم اورآپسی تعلقات میں خلل نفسیاتی انتشار کی اہم و جہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جادوگر کا ذہن درہم برہم ہوتا ہے اور انھیں طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ مذہبی علم کی۔
سترھویں اور اٹھارھویں صدی کوعقلی اور روشن خیالی کے دور کے نام سے جانا جاتا ہے کیوں کہ سائنسی طریقۂ کارنے خلاف معمول برتاؤ کو سمجھنے کے عقیدے اوراذعان کا انداز بدل دیا۔ نفسیاتی انتشار سے متعلق سائنسی نظریے کا فروغ چونکہ اٹھارھویں صدی میں ہوا اس لیے اس سے اصلاحی تحریک میں مددملی اور انتشار میں مبتلا لوگوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہوا۔ یورپ اور امریکہ دونوں ہی جگہ کے پاگل خانوں میں سدھار کا کام شروع کیا گیا۔ اصلاحی تحریک کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انتشار میں مبتلا لوگوں کو کسی ادارہ سے باہر لانا اورا نھیں عام لوگوں کی دیکھ ریکھ میں رکھنے پر زور دیاگیاتھا۔
حال کے سالوں میں ان خیالات کا میلان ہوا ہے جس کے نتیجہ میں بین عملی یا نفسی سماجی خیالات وجود میں آئے ۔ اس نظریہ سے سبھی تین اجزا (عوامل)یعنی حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی نفسیاتی عوامل انتشار کے اظہار و نتائج کو متاثر کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

نفسیاتی خلل کی درجہ بندی

نفسیاتی انتشار کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کی درجہ بندی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح کے انتشار کی درجہ بندی میں مخصوص قسم کے زمرے کی نفسیاتی انتشار کی ایک فہرست ہوتی ہے جس کی مختلف درجہ میں عام خصوصیات کی بنیاد پر گروہ بندی کی جاتی ہے۔ درجہ بندی کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ اس کا استعمال ماہر نفسیات،نفسیاتی امراض معالج اور سماجی کارندے انتشار کییا خلل کے بارے میںایک دوسرے کے ساتھ ترسیل کرنے میں کرتے ہیں اور نفسیاتی انتشار کی وجوہات ، اس کے بڑھنے اور دیکھ بھال میں شامل عملیات کو سمجھنے میں بھی مدد لیتے ہیں۔
امریکن سایکٹرک ایسوسی ایشن نے ایک باضابطہ مینول کی اشاعت کی  جس میں مختلف قسم کے نفسیاتی انتشار کی درجہ بندی کے بارے میں بیان کیا گیا۔ اس کی جدید اشاعت Diagnostic and statistical manual of mental disorders - Edition IV (DSM-IV) ہے۔ذہنی انتشار کے ایک وسیع پہلو کی بہ نسبت پانچ محور یا جہات کی بنیادپر مریض کی تشخیص کرتا ہے۔ یہ جہات حیاتیاتی،نفسیاتی،سماجی اور دیگرپہلوؤں سے متعلق ہیں۔
درجہ بندی کی اسکیم جو ہندوستان اور دیگر جگہوں پر استعمال کی جاتی ہے وہ  International Classification of Diseases کی دسویں کی نظرثانی ہے اور اسے کرداری اور ذہنی انتشارکی ICD—10 کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تیار کیا ہے۔ اس میں ہر ایک قسم کے انتشار کے لیے اہم طبی خصوصیات یا علامتیں اور دیگر متعلقہ خصوصیات جس میں تشخیص رہنمائی شامل ہے ان کے لیے بھی تجاویز فراہم کی گئی ہیں۔

سرگرمی4.2

مخصوص برتا ؤ جیسے ریت کھانے کوبے اعتدالی قرار دیا جاتا ہے ۔لیکن اس وقت نہیں جب کسی ہوائی حادثہ میں سمندر کے کنارے پھنس جائیں۔ ذیل میں خلاف معمول برتاؤ کی فہرست دی گئی ہے جس کے ساتھ کچھ حالات کا بھی ذکر ہے جس میں وہ عمل نارمل بھی ہو سکتے ہیں ۔

(i)  اپنے آپ سے بات کرنا ۔جب آپ دعائیں مانگتے ہوں

(ii) سڑک کے بیچ کھڑے ہو کر اپنا ہاتھ اٹھانا اگرآپ ایک ٹریفک  پولیس  ہوں اس کے بارے میں غور کریں اور اسی طرح کی مثالوں کی فہرست تیار کریں۔

خلاف معمول برتاؤ کے اساسی عوامل

خلاف عمل برتاؤ کی طرح کسی پیچیدہ چیز کو سمجھنے کے لیے ماہر ین نفسیات مختلف طرز فکرکا استعمال کرتے ہیں ہر ایک نظریہ جو آج استعمال میں ہے انسانی   طرز عمل کی مختلف پہلو پر زور دیتا ہے اوربے اعتدالی کی وضاحت اور علاج اس نظریہ سے کرتا ہے۔ یہ نظریہ مختلف عوامل جیسے حیاتیاتی ،نفسیاتی بین شخصی اور سماجی ثقافتی عوامل پر زور دیتا ہے۔ ہم ان میں سے کچھ نظریے جو آج استعمال میں ہیں ان کی جانچ خلاف معمول برتاؤ کی وضاحت میں کریں گے۔
حیاتیاتی عوامل ہمارے طرز عمل کے سبھی پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں۔ حیاتیاتی عوامل کی ایک وسیع رینج جیسے ناقص جین،انڈوکرینی،عدم توازن، ناقص تغذیہ،زخم اوردیگرصورت حال عام طورپر انسانی نشوونما اور جسمانی کام کاج کو متاثر کر سکتے ہیں عوامل خلاف معمول برتاؤ کے امکانی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ہم حیاتیاتی نمونہ کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔اس نمونہ کے مطابق خلاف معمول برتاؤ کی حیاتیاتی،کیمیائی یا عضویاتی بنیاد ہو سکتی ہے۔ حیاتیاتی محققین نے یہ دیکھا کہ نفسیاتی انتشار کا زیادہ تر تعلق ایک اعصابیہ سے دوسرے اعصابیہ تک پیغامات کی ترسیل سے ہوتا ہے۔ آپ نے گیارھویں جماعت میں پڑھا ہوگا کہ ایک چھوٹی جگہ جسے ایصالیہ(عصبی) کہا جاتا ہے ایک اعصابیہ کو دوسرے سے علیحدہ کرتا ہے اور تمام پیغامات کو اس جگہ سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے جو کوئی الیکٹرک اضطراری تحریک اعصابیہ کے سرے پر پہنچتی ہے تو وہاں سے ایک کیمیکل خارج ہوتا ہے جسے عصبی ترسیل کار (neuro transmitter) کہا جاتا ہے۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ خاص نیوروٹرانس میٹر کی و جہسے بے اعتدال سرگرمی نفسیاتی انتشار کو پیدا کرتی ہے۔ تشویش کے انتشار کوعصبی ترسیل کارگاما امینوبٹیرک ایسڈ (GABA) کی سرگرمی کو کم کرنے اور ذہنی انتشار کو ڈو پامائین کی سرگرمی کو زیادہ کرنے اورافسردگی کو serotonin کی سرگرمی کم کرنے سے جوڑ کردیکھا گیا ہے۔
نشائی عوامل کا تعلق ذہنی انتشار ،ابطائے ذہنی اور دیگر نفسیاتی انتشار بتایا گیا ہے ۔ بہر حال محققین ان کے لیے مخصوص نسلوں کی پہچان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ زیادہ ترمعاملات میں کوئی ایک نسل کسی خاص طرز عمل یا نفسیاتی انتشار کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ دراصل بہت سے نسلی عوامل اس میں مل کر ہمارے مختلف کردار ،  جذباتی رد عمل تفاعل اور فعل ناقص کو شکل دینے میں مدد کرتے ہیں۔ گرچہ اس بات پر اعتماد کرنے کے واضح ثبوت ہیں کہ نسلی حیاتی کیمیائی عوامل ذہنی انتشار میں ٹھیک اسی طرح سے شامل ہیں جس طرح سے یہ ابطائے ذہنی اداسی اور اندیشہ وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں اورحیاتیات اکیلے زیادہ تر ذہنی انتشارکے لیے ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔
کئی ایسے نفسیاتی نمونے ہیں جو ذہنی انتشار کی نفسیاتی وضاحت کرتے ہیں۔ان نمونوں کے مطابق نفسیاتی اوربین شخصی عوامل خلاف معمول برتاؤ میں ایک اہم رول اداکرتے ہیں۔ان عوامل میں (ماں سے علیحدگی و محرومیت، ابتدائی زندگی کے سالوں میں جوش و جذبہ میں کمی) والدین وبچے کے نامعقول تعلقات (جھڑکنا،دھتکارنا،بے جا تحفظ،ضرورت سے زیادہ آزادخیالی، ناقص ڈسپلن) سے نقص مطابقت خاندانی ساخت یا درہم برہم فیملی اور شدید دباؤ شامل ہیں۔
نفسیاتی نمونہ میں نفسی حرکی،کرداری ،وقوفی و انسانی وجودی ،نمونے شامل ہوتے ہیں۔ نفسی حرکی نمونہ جدید نفسیاتی نمونہ کا سب سے پرانا اور مشہور نمونہ ہے۔ آپ نمونے کے بارے میں باب 2 میں خودی و شخصیت میں پڑھ چکے ہیں۔ نفس حرکی نظریے کے حامی اس بات پہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ طرز عمل چاہے خلاف معمول ہو یا غیرنارمل اس کا تعین انسان کے اندر موجود نفسیاتی قوت کے ذریعہ ہوتا ہے جس کا شعور ہمیں ہوتاہے۔ ان اندرونی قوتوں کو حرکی مانا جاتا ہے۔یعنی یہ ایک دوسرے کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور ان کی بین عملی (تعامل) طرز عمل، فکر و جذبات کو شکل دیتے ہیں اس نمونہ کو سب سے پہلے فرائڈ نے پیش کیا جن کے عقیدہ کے مطابق کسی شخصیت کو تین مرکزی قوت مل کرشکل دیتی ہے۔جن میں جبلی ضروریات،محرکات اور اضطراری تحریک ،عقلی فکر (انا) اوراخلاقی معیارات (فوق انا) شامل ہیں ۔فرائڈ نے کہا کہ خلاف معمول برتاؤ لاشعوری ذہنی تصادم کی ایک علامتی ترجمانی ہے جسے شروع کے دور یا بچپن میں ہی عام طورسے جان لیا جاتا ہے۔
دوسرا نمونہ کرداری نمونہ ہے جو نفسیاتی اجزا کے رول پر زور دیتا ہے اس نظریہ کے مطابق معمولی اور غیر معمولی طرز عمل سیکھے جاتے ہیں اور نفسیاتی انتشاربرتاؤ کا غیر مناسب طریقہ سیکھ لینے کی و جہ سے ہوتا ہے۔ یہ نمونہ اس طرح کے عمل پر توجہ دیتا ہے جسے التزام کے ذریعہ سیکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ تجویز بھی پیش کرتا ہے کہ سیکھی گئی چیزوں کو بھلایا بھی جا سکتا ہے۔ سیکھنا کلاسیکی التزام کے ذریعے (زمانی اتلاف جس میں دو واقعات باربارساتھ ساتھ واقع ہوتے ہیں) عاملی التزام کے ذریعہ (طرز عمل کے بعد انعام ملنے پر) اور  سماجی سیکھ(دوسروں کے برتاؤ کی تقلید کریں) کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ تینوںطرح کے التزام مطابق یا ناقص مطابق دونوں طرح کے طرز عمل کے لیے ذمہ دار ہوتے 
ہیں۔
وقوفی نمونے نے بھی نفسیاتی عوامل پر زور دیا ہے اس نمونے کے مطابق بے اعتدال عمل وقوفی مسائل کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ اپنے بارے میں جو خیالات یا رائے قائم کرتے ہیں وہ غلط اورغیرمنطقی ہوسکتے ہیں۔ لوگ باربارغیرمنطقی نظریے سے سوچ سکتے ہیں اور غلط اندازہ کرسکتے ہیں جس کی و جہ سے وہ کسی ایک غیر اہم صورتحال کی بنیاد پر وسیع منفی نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔
دوسرا نفسیاتی نمونہ انسان کامرکز وجودی نمونہ ہے جو انسان کے وجود کے ایک بڑے پہلو پرزور دیتاہے۔ معتقدمسلک انسانیات کا ماننا ہے کہ فطری طور پر انسانوں میں دوسروں کے لیے ہمدردی ،باہمی تعاون اور تعمیری صلاحیت پائی جاتی ہے جو اسے خود یافتگی یا خود تحقق کی طرف لے جاتی ہے یعنی انھیں فلاح وبہبود اورنموکے لیے اِن امکانی قوتوں کا استعمال کرناہوتاہے۔  وجودیت کے حامیوں کا یہ ماننا ہے کہ پیدائش سے ہی ہمیں اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ ہم اپنے وجود کو معنی خیز بنائیں یا ان ذمہ داریوں سے بچیں۔ جو لوگ ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خالی بے معنی اور ناکام زندگی گزارتے ہیں۔
حیاتیاتی اور نفسیاتی عوامل کے علاوہ سماجی تہذیبی عوامل جیسے جنگ ، تشدد گروہی تعصب ، امتیاز، اقتصادی ، روزگار کے مسائل اور تیزی سے ہو رہی سماجی تبدیلی ہم میں سے زیادہ تر لوگوں پر دباؤ بناتی ہے جس کی و جہ سے بھی کچھ لوگ نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سماجی تہذیبی نمونہ کے مطابق بے اعتدال برتاؤ کو سماجی اور تہذیبی طاقتیں جو فرد کو متاثر کرتی رہتی ہیں، ان کی روشنی میں سب سے بہتر ڈھنگ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ چونکہ سماجی طاقتیں ہمارے طرز عمل کی تشکیل کرتی ہیں،خاندانی بناوٹ، ترسیل،سماجی جال،سماجی حالات ، سماجی نام اور کردار جیسی عوامل ہمارے لیے بہت اہمیت والے ہو جاتے ہیں۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں میں بے اعتدال کام کاج کا ڈھنگ ان کے خاندانی نظام کی و جہ سے بھی آیا ہے۔ کچھ خاندانوں کی الجھی ہوئی شکل ہوتی ہے جس میں لوگ ضرورت سے زیادہ ایک دوسرے کے کاموں،افکار اوراحساسات میں دخل دیتے ہیں اس طرح کے خاندان کے بچوں کو خودکفیل ہونے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک وسیع سماجی ماحول میں جس میں لوگ ہوتے ہیں لوگوں کے درمیان سماجی اور پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ الگ تھلگ ہوتے ہیں اور ان میں سماجی تعاون کی کمی ہوتی ہے یعنی ان کی زندگیوں میں مضبوط آپسی تعلقات کی کمی ہوتی ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ اداس اور معصوم پائے جاتے ہیں جنھوں نے اچھے تعلقات بنائے اور اسے قائم رکھا۔ سماجی اور تہذیبی نظریات کے حامیوں کایہ بھی مانناہے کہ بے اعتدالی کام کاج سماجی لیبل سے بھی متاثر ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو دیے جانے والے کام کا اثر بھی ان پر پڑتا ہے۔ جب لوگ اپنے سماج کے معیار کو توڑتے ہیں تو انھیں منحرف یا ذہنی بیمار کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے لیبل اسی طرح چپکنے کی طرف مائل ہوتے ہیں کہ فرد کو ایک سودائی (Crazy) سمجھاجاسکتا ہے۔
ان نمونوں کے علاوہ ایک اور نمونہ جوخلاف معمول برتائو کی سب سے مقبول وضاحت پیش کرتا ہے اسے فطری میلان (ارثی میلان) دباؤ ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس نمونے کے مطابق نفسیاتی انتشار کی افزائش اس وقت ہوتی ہے جب فطری میلان (انتشار سے متعلق نفسیاتی میلان) کسی مشکل حالات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس نمونے کے تین عناصر ہیں۔ پہلاجزفطری میلان ہے جو حیاتیاتی نوعیت کا اور موروثی ہوتا ہے۔ دوسرے جز کا استعمال نفسیاتی انتشارکو فروغ دینے میں کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب کسی شخص میں انتشار کے پیدا ہو نے کاجورجحان یا میلان موجودہے۔تیسرا مرض پیدا کرنے تکالیف دینے والی چیزوں کی موجودگی ہے یعنی وہ اسباب جو نفسی امراض پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر اس طرح کے جوکھم والے شخص کو تکالیف دینے والی شے کے سامنے لایا جاتا ہے تو اس میں حقیقت میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے ۔ اس نمونہ کو کئی  طرح کے انتشار جیسے اندیشہ، اداسی اور انتشارنفسی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اہم نفسیاتی خلل 

تشویشی خلل

ایک دن جب دیو گھر آرہے تھے انھیں احساس ہوا کہ دل کی دھڑکن کافی بڑھ گئی ہے انھیں کثرت سے پسینہ آنے لگا اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ وہ اتنا گھبرائے کہ ا نھوں نے اپنی گاڑی روکی اور باہر نکل گئے۔ اگلے کچھ مہینوں میں اس طرح کے دورے میں اضافہ ہوا اور اب اس ڈر سے گاڑی چلانے میں ہچکچانے لگے کہ کہیں دورہ پڑجانے کے دوران ٹریفک میں نہ پھنس جائیں ان کو احساس ہونے لگا کہ کہیں پاگل سے نہ ہوجائیں اور پھرمر نہ جائیں ۔ جلدہی وہ گھر کے اندر رہنے لگے اور گھر سے باہرنکلنا بندکردیا۔
ہمیں اندیشے یا تشویش کا احساس ہوتا ہے جب ہم اپنے امتحان کاانتظار کرتے ہیں یا کسی دانت کے ڈاکٹر کے یہاں جاتے ہیں۔ یا تنہا گیت گانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ تشویش حسب معمول یا متوقع ہوتی ہے اور یہاں تک کہ یہ ہمیں بہتر ڈھنگ سے کام کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے۔ دوسری طرف شدید اندیشہ جو تکلیف دہ ہوتا ہے اور معقول موثرعمل میں خلل اندازہوتاہے جس سے اندیشہ یا تشویش کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے جو نفسیاتی انتشار کی سب سے عام قسم ہے ہر انسان میں خوف اور تشویش پائی جاتی ہے۔ لفظ اندیشہ کی تعریف عام طور سے ایک غیر واضح ‘ ختم نہ ہونے والے خوف کے ایک ناخوشگوار احساس کے طورپر ہوتی ہے ۔ اندیشہ زدہ لوگوں میں مندرجہ ذیل ملی جلی علامتیں دیکھنے کو ملتی ہیں،دل کا تیزی سے دھڑکنا،سانسوں کا چھوٹا ہونا، پیچش ہونا،بھوک میںکمی، بیہوشی،نیند نہ آنا،جلدی جلدی ضروریات سے فارغ ہونا،کانپنا وغیرہ اندیشہ کے انتشار کی کئی قسمیں ہیں (ٹیبل 4.1 دیکھیں) اس میں تعمیمی تشویشی خلل شامل ہے جو طویل غیرواضح اور  شدید خوف جو کسی خاص مقصد سے منسلک نہیں ہوتے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس میں تشویش مستقل سے متعلق فکرواندیشے شامل ہوتے ہیںجس میں لگاتار خطرناک ماحول کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ اس میں جسمانی کھنچاؤ پایا جاتا ہے جس کی و جہ سے کو ئی شخص آرام نہیں کر سکتا اور وہ بے چین اور گھبرایا ہوا رہتا ہے۔ اندیشے کے انتشار کی ایک دوسری شکل دہشت خلل کی ہوتی ہے جس میں بار بار تشویش کا دورہ سا پڑتا ہے اور انسان دہشت محسوس کرتا ہے۔ دہشت کے دورے میں اچانک شدیدتشویش ہوتی ہے جو اس وقت اونچائی پر پہنچ جاتا ہے ،کسی خاص مہیج کی فکر اور سوچ انسان کے سامنے موجودہوتی ہے۔ 
اس طرح کی فکر اچانک ہوتی ہے جس کے بارے میں پہلے سے اندازہ نہیں لگایاجاسکتاہے۔اس کی  کلینکی خصوصیات میں سانس کا چھوٹا ہونا، چکرانا،کانپنا،اختلاج ،الٹی آنا،سینہ میں درد، بے حال ہونے کا خوف ،قابونہ ہونے یا مرنے کا خوف وغیرہ شامل ہے۔ 
آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہوگا یا ان کے بارے میں سنا ہوگا جو لفٹ میں سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یا دس منزل کی عمارت میں اوپر جانے سے گھبراتے ہیں یا اس کمرہ میں نہیں جا تے جہاں کسی چھپکلی کو دیکھ لیتے ہیں۔  آ پ نے خود بھی ایسا محسوس کیا ہوگا یا اپنے دوست کو دیکھا ہوگا کہ کسی محفل میں یاد کی ہوئی چیزوں کا ایک لفظ بھی بول نہیں پاتے۔ اس طرح کے خوف کو وحشت (Phobia) کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں میں خوف ہوتا ہے ان میں کسی خاص شے یا حالات سے متعلق غیر منطقی خوف پایا جاتا ہے۔ یہ اکثر آہستہ آہستہ بڑھتاہے اوراس کی  شروعات ایک ’’تعمیمی تشویشی خلل‘‘ سے ہوتی ہے۔ خوف یا وحشت کو تین اہم قسموں میں درجہ بند کرسکتے ہیں ۔مخصوص خوف،سماجی خوف اورخوف کشادگی۔
مخصوص خوف سب سے عام خوف ہے۔ اس طرح کے گروپ میں غیر منطقی خوف جیسے کسی جانور سے شدید خوف یا کسی کا کسی بند جگہ پر رہنے کا خوف، شدید و بیکار کر دینے والا خوف اور اس وقت ہونے والی پریشانی جب کسی دوسرے شخص سے بات چیت کرتے ہیں اس طرح کے خوفکو سماجی خوف   کہتے ہیں۔ خوف کشادگی اسے کہتے ہیں جب لوگ کسی انجان جگہ یا حالات پر جانے میں ڈرتے ہیں۔ بعض اوقات خوف کشادگی میں اپنے گھر کو چھوڑنے پر ڈر لگتا ہے۔ اس لیے ان کی روز مرّہ کے کام کاج کی صلاحیت بہت متاثر اور محدود ہوتی ہے۔

ٹیبل 4.1 : اہم اندیشہ کے انتشار اور انکی علامتیں

.1 تعمیمی تشویشی خلل(Generalised Anxiety Disorder) :طویل عرصہ، غیر وضاحتی و شدیدخوف جس کے پیچھے کوئی سبب نہیں اور جس میں انتہائی درجے کی چوکسی وحرکی تنائو کھینچائو شامل ہے۔

.2 خلل وحشت میں(Panic Disorder) : بار بارتشویش کا حملہ ہوتا ہے جس کی خصوصیتمیں شدید دہشت وہراساںہونے کا احساس:جسمانی علامات جیسے سانس میں تکلیف، گھبراہٹ، چکر ، قابونہ ہونے یہاں تک کہ مرجانے کے احساس کے ساتھ ناقابل بیان خوف اوروحشت کے دورے ہوتے ہیں۔

.3 خوف:(Phobias) غیر منطقی خوف کسی خاص شے سے متعلق، کسی سے ملنے جلنے میں،انجان جگہ و حالات کا خوف وغیرہ ۔

.4 مسلط اجباری خلل(Obsessive-compulsive Disorder): ہر وقت کسی ایسی خاص فکر میں مبتلارہناجو اسے پریشانی لگے یا شرمسار کرے اور باربار ہونے والی کارگزاری جیسے دھونا، گنتی کرنا، چیکنگ کرنا وغیرہ پر قابو نہ رکھ پانا۔

.5 بعدصدمہ اختلاج Post-traumatic Stress Disorder (PTSD)اضطراری تحریک پر بار بار خواب بازگشت، ارتکا زمیں کمی، کسی حادثے کے بعدبے حس ہونا وغیرہ۔

کیا آپ نے دیکھا ہے کہ کسی چیز کو چھو لینے پر لوگ اپنا ہاتھ بار بار دھوتے ہیں یا پیسہ جیسی چیز کو بھی دھوتے ہیں یا ایک خاص انداز سے سیڑھیوں اور سڑکوں پر چلتے ہیں؟مسلط اجباری خلل (obsessive compulsive disorder) میں مبتلا لوگوں کا اختیار اپنے کسی خاص خیالات پر نہیں ہوتا ہے یا خود کو کسی خاص کام کو بار بار کرنے سے روک نہیں پاتے یا اس طرح کے کاموں کے کرنے کو بھی نہیں روک پاتے جو ان کے  روز مرّہ کے کام کاج کو متاثر کرتا ہو۔

سرگرمی 4.3 

یاد کیجیے آپ کو اپنے دسویں کلاس کے  بورڈ کے امتحان سے قبل کیسا محسوس ہو رہا تھا۔کیسالگتا تھاجب امتحان قریب آتا تھا (امتحان سے ایک مہینہ قبل، ایک ہفتہ قبل، امتحان سے ایک روز قبل، امتحان کے دن اور جب امتحان دینے کے لیے داخل ہورہے تھے) اسے بھی یاد کرنے کی کوشش کریں جب آپ اپنے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔ اپنے ان تجربات کو جسمانی کیفیت کے اعتبار سے لکھیں (مثلا پیٹ میں چوہا دوڑنا‘چپچپے ہاتھ، شدت کا اختلاج وغیرہ) ساتھ ہی ساتھ اپنے ذہنی تجربے کو بھی بیان کریں (جیسے کھنچا ؤ، دہشت‘ دبا ؤ وغیرہ) اپنی کیفیت کا موازنہ اپنے دوستوں سے کریں اور اسے ہلکا،معتدل اورشدید میں درجہ بند کریں۔

کسی خاص تصور کے بارے میں اسی سوچ پر قابو نہ پانا ہی وہمی طرز عمل ہے۔ اس میں مبتلا شخص ایسی فکر کوشرمناک اور ناخوشگوار مانتے ہیں۔ کسی طرز عمل کو بار بار کرنے کی ضرورت ہی جبری طرز عمل ہے،یہ ساری مجبوریاں گنتی ، چیکنگ، چھونے، دھونے سے متعلق ہوتی ہیں۔ اکثر جو لوگ قدرتی قہر میں پھنستے ہیں (جیسے سنامی) یا دہشت گردوں کے بم دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں یا کسی شدید حادثہ یا جنگ کی حالت میں پڑتے ہیں ان میں بعد صدمہ اختلاج (Post Traumatic Stress Disorder) کا احساس ہوتا
ہےPTSD کی مختلف علامتیں ہوتی ہیں لیکن بار بار خواب، ارتکاز میں کمی، بازگشت اوربے حسی وغیرہ اس میں شامل ہیں۔

جسدی انتشار

یہ وہ حالات ہیں جن میں جسمانی بیماری کی غیر موجودگی میں جسمانی علامتیں ظاہرہوتی ہیں۔ عضوی انتشار میں کسی شخص کو جسمانی علامتوں سے متعلق نفسیاتی پریشانیاں و شکایت ہوا کرتی ہیں جس کاسبب حیاتیاتی نہیں ہوتا۔ جسدی انتشار میں درد کا انتشار کسی جسدپذیری تحویلی انتشار اور وہم علامت شامل ہیں۔
                                 ٹیبل 4.1 : اہم اندیشہ کے انتشار اور انکی علامتیں

جسدی اور افتراقی خلل کی نمایاں خصوصیات

افتراقی خلل

افتراقی نسیان(Dissociative amnesia) اس میں مزید اپنے اہم معلومات جس کا تعلق تکلیف دہ حالات سے ہویاد نہیں رکھ پاتا۔

افتراقی دورہ خودفراموشی:(Dissociative fugue)اس میں مبتلا فرد میںایک عجیب انتشار پایا جاتا ہے جس میں تکلیف دہ ماحول سے دور سفر کرنے کے ساتھ نسیان ہوتاہے۔

افتراقی شناخت(تعددی شخصیت):Dissociative identity (multiple personality)اس میں فرد دو یا دوسے زیادہ الگ الگ اورجسمانی چھیڑخانی کی تاریخ کے ساتھ وابستہ متضاد شخصیتوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جسدی انتشار

وہم علالت:(Hypochondriasis)اس میں انسان اپنی غیر اہم علامتوں کی ترجمانی شدید بیماری کی شکل کے طور پر کرتا ہے جبکہ باربارکی طبی جانچ کسی بھی طرح کے مرض کی نشاندہی نہیں کرتی۔

جسدپذیری:(Somatisation) اس میں انسان غیر واضح اور بار بارہونے والی جسمانی علامتوںجیسے اور،تیزابیت کا مظاہرہ وغیرہ بغیرکسی نامیاتی وجہ کے کرتا ہے۔

تعلیس(Conversion)اس میں مبتلا انسان میں حرکی یا حسی عمل کی کمزوری یا کمی پائی جاتی ہے(جیسے فالج، اندھاپن وغیرہ) جس کا کوئی جسمانی سبب نہیں ہوتا لیکن دبائو و نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے۔


درد کا انتشار

کردینے والا درد یا تو بغیر کسی ناقابل شناخت حیاتیاتی علامتوں کے یا شدت کی و جہ سے متوقع حیاتاتی علامات کے شامل ہونے کی شکایت پائی جاتی ہے۔ جس طرح سے لوگ اپنی تکلیف کی ترجمانی کرتے ہیں اس کا اثر ان کے تطابق پر پڑتا ہے۔ تکلیف میں مبتلا کچھ لوگ اس سے نبٹنا سیکھ لیتے ہیں یعنی اپنی تکلیف کو نظرانداز کرکے کام کاج میں لگے رہنا۔ دوسری طرف کچھ لوگ اس سے نبٹنے میں سستی دکھاتے ہیں جس کی و جہ سے ان میں سماجی علاحدگی اور کارگزاری میں کمی پائی جاتی ہے۔
کسی خاص عضو کے(جسد پذیری)انتشار میں مبتلا مریضوں میں مختلف اور بار بار ہونی والی جسمانی شکایتیں پائی جاتی ہیں۔ ان شکایتوں کی موجودگی کی وضاحت ڈرامائی انداز میں بڑھا چڑھا کر کی جاتی ہے۔ ان میں سر درد،تھکان،دل کی دھڑکن،بے ہوشی، الٹی اور الرجی جیسی شکائتیں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس مرض میں مبتلا مریض کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ بیمار ہے یہ اپنی بیماری سے متعلق لمبی تفصیل فراہم کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر دوائیاں لیتے ہیں ۔ 
تحویلی انتشار کی علامتوں میں پورے جسم یا جسم کے کسی حصہ کے کام کاج میں کمی،فالج،اندھاپن،بہراپن اورچلنے پھرنے میں دشواری جیسی شکایتیں عام طور سے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ علامتیں اکثرخلفشار کے تجربے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہیں اور بالکل اچانک بھی ہوتی ہیں۔
وہم علالت کی اس وقت پہچان ہوتی ہے جب کسی شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ شدید بیمار ہے باوجود طبی یقین دہانی،جسمانی جانچ ،بیماری کی غیرموجودگی کے اس شخص میں ایسا یقین دیکھنے کو ملتا ہے۔وہم علالت میں بھرپور وہم اور اپنے جسمانی عضو کی فکرا ور اپنی صحت کی ہمیشہ فکر ہوتی ہے۔
افتراقی کو خیالات و جذبات کے درمیان تعلق کی شدت کے اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے۔افتراق میں غیر حقیقی احساس ،اجنبیت محرومی ذات (اپنی شخصیت کو بھول جانا) اور کبھی کبھی اپنی پہچان کھونے کی علامتیں شامل ہوتی ہیں۔ اچانک شعور میں عارضی تبدیلی جو ہمارے تکلیف دہ تجربات کو کمزور کردیتی ہے۔ افتراقی انتشار کی نمایاں خصوصیات کو متعین کرتی ہیں۔ اس گروپ میں چار طرح کے التزام شامل ہوتے ہیں ۔ افتراقی نسیان،افتراقی دورہ خود فراموشی،افتراقی شناخت انتشار،محرومی ذات،جسدی انتشار اور افتراقی خلل کی نمایاں خصوصیات باکس4.1 میں دی گئی ہیں۔
افتراقی نسیان کی پہچان کسی خاص حافظے میں بڑے پیمانے پر کمی ہوتی ہے جس کاکوئی ظاہری سبب نہیں ہے(جیسے سرکا زخم، کچھ لوگ اپنے ماضی کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں رکھ پاتے ہیں، کچھ لوگ کسی خاص واقعہ،جگہ،لوگ یا اشیا کو زیادہ دن تک یاد نہیں رکھ پاتے جب کہ ان کے حافظے میں دیگرواقعات پوری طرح محفوظ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے انتشار کا تعلق اکثر ایک زوردار دبائو سے ہوتا ہے۔
افتراقی دورہ خود فراموشی کی امتیازی خصوصیات میں گھر یا دفترسے دورایک غیرمتوقع سفر، ایک نئی پہچان کا تصور اور پچھلی پہچان کو یاد نہ کرپانا شامل ہیں۔دورہ خود فراموشی اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب اچانک انسان نئے واقعہ کی یاد کے ساتھ جاگتا ہے جو اسے دورۂ خود فراموشی کی حالت میں ہوا تھا۔
افتراقی شناخت انتشار جسے اکثرتعددی شخصیت کہا جاتا ہے افتراقی انتشار کا سب سے ڈرامائی انداز ہوتا ہے۔ اس کا اکثر تعلق بچپن کے درد ناک تجربات  سے ہوتا ہے ۔ اس طرح کے انتشار میں انسان متبادل شخصیت کا تصور کرتا ہے جس کے بارے میں کبھی اسے علم ہوتا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتاہے۔
محرومی ذات میں خواب کی حالت ہوتی ہے جس میں انسان کو خود حقیقت سے علاحدگی کا احساس ہوتاہے۔اس میں خودکے ادراک حقیقت کے احساس میں عارضی طور پر تبدیلی کی جاتی ہے ۔

مزاجی خلل

مزاجی انتشار کی پہچان مزاج میں یاطویل جذباتی کیفیت میں خلل ہے۔ افسردگی مزاجی انتشار کی سب سے عام قسم ہے جس میں مختلف قسم کے منفی مزاج اور طرز عمل میں تبدیلی پائی جاتی ہے ۔ افسردگی کو ایک علامت یاانتشار بھی کہا جا سکتا ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں اداسی کو کسی چیز کے کھونے کے بعد ایک عام احساس کے طورپر سمجھا جاتا ہے جیسے کسی رشتہ کا منقطع ہونایا کسی مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہنا۔ افسردگی،خبط،دوقطبی انتشار۔ مزاجی انتشار کی اہم اقسام ہیں اہم مزاجی انتشار کی تعریف مزاج افسردگی کی مدت یا دلچسپی میں کمی یا زیادہ تر کارکردگی میں خوش رہنے کے ساتھ ساتھ دیگر علامتیں جس میں جسمانی درد میں کمی، نیند سے متعلق پریشانی، تھکان صحیح سوچ میں ناکامی ، طرز عمل میں سستی ، موت اور خودکشی کے خیالات شامل ہوتے ہیں۔ دیگر علامتوں میں احساس جرم اور ناکارکردگی کا احساس شامل ہے۔
افسردگی کے تئیں فطری میلانی عوامل: نسلی سدھار ،وراثت اداسی اوردو قطبی انتشار کے اہم خطراتی عوامل ہیں۔ عمربھی ایک خطرے سے پر عامل ہے مثال کے طور پرعورتیں بطورخاص بلوغت کے زمانے میں خطرے کی زد میں رہتی ہیں جب کہ  آدمیوں میں یہ خطرات درمیانی عمر میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس طرح جنس بھی اس طرح کے تفرقی خطرات میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر عورتوں میں مردوں سے زیادہ اداسی انتشار پایا جاتا ہے۔ دیگر خطراتی عوامل میں زندگی سے متعلق منفی سوچ اور سماجی سہارے میں کمی وغیرہ ہیں۔
خبط (mania) ایک دوسرا مزاجی انتشار ہے جو اتنا عام نہیں ہے۔ جو لوگ مانیا میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں بہت زیادہ باتیں کرتے میں اور بہت جلد ان کا دھیان بٹ جاتا ہے۔ جنونی کیفیت کبھی کبھی خود بخود ہوجاتی ہے۔ عام طور سے یہ اداسی کا متبادل ہوتاہے۔ اس طرح کے انتشارجنون جس میں جنون اور افسردگی دونوں متبادل طور پر سامنے آتے ہیں کبھی کبھی معمول مزاج کی کیفیت سے متاثر ہو جاتے ہیں۔اسے دوقطبی مزاجی انتشارکہا جاتا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھاکہ مزاجی انتشار میں پوری زندگی خودکشی کرنے کا خطرہ ہوتا ہے خاص طور سے دوقطبی مزاجی انتشار کی حالت میں کسی شخص کی ذہنی صحت کے علاوہ کئی خطرناک اجزا ان کے خودکشی کرنے کی امیدوں کے بارے میں پیشن گوئی کرتے ہیں۔ ان میں عمر، جنس، ذات اور زندگی میں کسی واقعہ کا بار بار ہونا شامل ہے۔ کم عمر اور نوجوان لوگوں میں خودکشی کا خطرہ ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جن کی عمر70 سال سے زیادہ کی ہوتی ہے۔ جنس کا بھی اس میں ہاتھ ہوتا ہے جیسے مردوں میں خودکشی سے متعلق سوچ عورتوں سے زیادہ رہتی ہے۔ خود کشی کو متاثر کرنے والے دوسرے اجزا میں خودکشی کی جانب ثقافتی رویہ ہے۔ مثال کے طورپرجاپان میں احساس شرم سے نبٹنے کے لیے خودکشی ایک مناسب طریقہ ہے۔ منفی توقع، ناامیدی،یا بے چارگی غیرحقیقی اعلیٰ معیار اورخود کی قدرشناسی اپنی نکتہ چینی کچھ ایسے اسبابی حالات ہیں جس میں خودکشی کی گنجائش دیکھنے کو ملتی ہے۔
کچھ علامتوں کو دھیان میں رکھ کر ان کی جانب چوکنّا رہ کر خودکشی سے بچا جا سکتا ہے جن میں 
•  کھانا کھانے اور سونے کی عادتوں میں تبدیلی۔
•  دوستوں، رشتہ داروں اور روز مرہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہنا۔
•  جارحانہ کام، بغاوتی طرز عمل اور دور بھاگنا۔
•  شراب ، منشیات اور دوائیوں کی لت۔
•  شخصیت میں علامتی تبدیلی۔
•  لگاتارتکان۔
•  کسی چیز کی جانب متوجہ ہونے میں دشوراری۔
•  جسمانی علامتوں سے متعلق شکایت ۔
•  پر مسرت سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی شامل ہے۔
بہر حال کسی پیشوا مشیر کار یاماہر نفسیات سے مدد لے کر ان کے خودکشی کے امکانات سے بچا جاسکتا  ہے۔

سرگرمی 4.4 

 آپ کو اپنے کمبہ میں کوئی بری خبر ملی ہوگی  (جیسے کسی نزدیکی رشتہ دار کی موت یا کسی پسندیدہ ہیرو کو فلم میں مرتے دیکھا گیا ہوگا یا امید سے کم نمبر ملے ہوں گے۔ یا کسی پالتوجانور کو کھویا  ہوگا۔ اس کی وجہ سے آپ اداس اور افسردہ  ہوئے ہوں گے اور مستقبل کے بارے میں نا امید ہوں گے۔ اپنی  زندگی کے ایسے تجربوں کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ان حالات کی فہرست بنائیں جن میں ایسی صورت پیدا ہوئی ہواورایسی صورت حال اورردعمل کا موازنہ اپنے کلاس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ کریں۔

 انتشارنفس

انتشار کا تعلق نفسیاتی انتشار کے اس گروپ سے ہے جس میں ذاتی،سماجی اورپیشہ سے متعلق کام کاج میں گراوٹ آتی ہے جو خیالات میں خلل نئے اجوبے ادراک، غیر معمولی جذباتی حالات اور جسمانی غیر معقولیت کی و جہ سے ہوتا ہے۔ یہ کمزور کر دینے والے انتشار ہوتے ہیں۔ اس مرض کاسماجی و نفسیاتی بوجھ مریض کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان اور سماج پر بہت زیادہ پڑتا ہے۔

انتشار نفس کی علامتیں

انتشارنفس کی علامتوں کو تین درجوں میں بانٹا جا سکتا ہے یعنی مثبت علامتیں (جذبات،خیالات اور برتاؤ کی شدت)،منفی علامتیں، جذبات، فکر و طرز عمل میں کمی ،نفسی حرکی علامتیں۔
مثبت علامتیں بیماری میں اضافہ یا کسی شخص کے برتاؤ وغیرہ میں ہوتی ہیں۔واہمہ، فکر و بیان میں بے ترتیبی،زبردست غلط فہمی،وہم ادراک اور ناموزوں اثر انتشارنفس میں عام طور سے پائی جاتی ہیں۔
بہت سے انتشارنفس کے شکار لوگوں میں واہمہ پایاجاتاہے۔ واہمہ ایک غلط عقیدہ ہے جو بلاو جہ مضبوطی سے قائم رہتا ہے۔ منطقی بحث و مباحثہ کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔تعذیب واہمہ انتشارنفسی میں عام طور سے پایا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا لوگوں کا ایسا یقین ہوتا ہے کہ ان کے خلاف جاسوسی،تہمت،حملہ یا چوٹ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے لوگوں کوحوالہ واہمہ احساس ہوتا ہے جس کے تحت وہ دوسرے لوگوں کی کارکردگی اوردیگر شے اور حالات کا ایک خاص مطلب اخذکرتے ہیں۔ عظمت کے واہمہ میں لوگوں کو اپنے بارے میں عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ایک طاقتور انسان ہیں اور    واہمہ کنٹرول میں انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ ان کی فکر و کارگزاری دوسروں کے اختیار میں ہے۔
انتشارنفس کی لوگوں کی سوچ غیر منطقی اور بات چیت خاص قسم کی ہوتی ہے ۔ اس طرح کے فکری انتشار کی و جہ سے ترسیل میں کافی دشواری ہوتی ہے اوراس میں لوگ ایک موضوع سے بہت جلد دوسرے موضوع پر چلے جاتے ہیں جس کی و جہ سے عام سوچ اور فکر میں گڑبڑی ہوتی ہے اور وہ غیر منطقی ہو جاتے ہے(مہیج سے بھی تعلق ہٹ جاتا ہے)نئے الفاظ ومحاوروں کی ایجاد(نوتعبیریت) ہوتی ہے اور ایک ہی طرح کی غیر مناسب فکر بار بار آتی ہے۔(تکرار غیر اختیاری)
انتشارنفس میں وہم ادراک بھی پایا جاتا ہے یعنی بغیر کسی باہری مہیج کے ادراک کا ہونا۔ ایسے لوگوں میں سننے سے متعلق وہم ادراک عام طور سے پایا جاتا ہے۔ مریض کسی بولے گئے لفظ یا جملہ یا جملوں کی آواز ہی سن پاتا ہے (واحدمخاطب یا صیغہ حاضرواہمہ) یا ایک دوسرے سے بات کو سننا (واحد غائب وہم)کہا جاتا ہے وہم میں دیگر احساسات بھی پائے جاتے ہیں جس میں لمسی واہمہ (یعنی جھنجھلاہٹ و جلن)جسمانی وہم (یعنی جسم کے اندر کسی چیز کا ہونا جیسے پیٹ میں سانپ کا رینگنا) مرئی وہم (یعنی کسی رنگ کا مبہم ادراک اور کسی چیز یا شخص کو نئے ڈھنگ سے دیکھنا) خود ذائقی و ہم (یعنی کسی کھانے یا پینے کے ذائقہ میں نیا پن) و سونگھنے کا وہم (یعنی زہر یا سگریٹ کی مہک) شامل ہیں۔
انتشارنفس میں مبتلالوگ غیر معقول حرکت کرتی ہیں یعنی ایسے جذبات کا اظہارجووقت کے لحاظ سے غیر مناسب ہوتاہے۔ 
اس کی  منفی علامتوں میں مرض میں کمی اور کم سخنی،اکھڑپن کا اظہار،ارادہ میں کمی و سماج سے علاحدگی۔انتشارنفس میں مبتلالوگ کم سخن ہوتے ہیں یعنی وہ باتیں کم کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ غصہ بھی کم دکھاتے ہیں،اداسی،خوشی اور دوسرے احساسات بھی ان میں اوروں کی نسبت کم پائے جاتے ہیں۔اس طرح کے اثرات کو دو ٹوک اثرات کہاجاتا ہے۔اس طرح وہ اکھڑپن دکھاتے ہیں۔کچھ لوگوں میں جذباتی اظہار بالکل ہی نہیں ہوتا اس طرح کے حالات کو سپاٹ اثرات کہتے ہیں۔ نفس انتشار میں مبتلا لوگوں میں بے نیازی یا ان میں کسی کام کو شروع کرنے اور ختم کرنے کی صلاحیت کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے مرض میں مبتلا مریض خود کو سماج سے الگ تھلگ رکھتے ہیں اور پوری طرح اپنے ہی خیالات میں کھوئے رہتے ہیں۔
نفس انتشار لوگوں میں نفسی حرکی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں اوراچانک نہیں حرکت کرتے یا اپنے پرانے بناوٹی صورت اورہاؤ بھاؤ بنائے رکھتے ہیں۔ اس طرح کی علامتیں مرض کی شدت کوبتاتی ہیں جسے کیٹاٹانیہ(دونفسی عارضہ) کہا جاتا ہے۔اس عارضے میں غشی کی حالت میں مبتلا لوگ غیر حرکی اورلمبے وقت تک خاموش رہتے ہیں کچھ لوگوں میں کیٹاٹونک سختی پائی جاتی ہے۔ یعنی سخت رویہ ایک ہی طرح سے گھنٹوں بنا رہنا۔ دوسرے لوگوں میں کیٹاٹونک ہاؤ بھاؤ ہے یعنی ناگوار سمجھنا۔ انوکھے حالات طویل مدت تک رہتے ہیں۔

باکس 4.2

انتشار نفس کی ذیلی قسمیں 

DSM-IV-TR کے مطابق انتشارنفس کی ذیلی قسمیں اور ان کی  خصوصیات اس طرح ہیں:

    ◊ پیرانومی قسم (Paranoid type):کسی عام وہم یا سننے سے متعلق وہم میں مبتلا: بول چال طرز عمل یا ان کے  تاثرات میں کوئی بدنظمی نہیں۔

   ◊ بے نظمی قسم (Disorganised type): بات چیت و طرز عمل میں بدنظمی: نامعقول سپاٹ تاثرات: کیٹاٹونی علامتوں کی کمی۔

   ◊  کیٹاٹونی قسم (Catatonic type): جسمانی حرکت پزیری میں شدت کی کمی‘ منفی سوچ کی شدت یعنی ہدایتوں میں رکاوٹ یا خاموشی (یعنی باتیں کرنے سے انکار)

   ◊  غیرتفرقی قسم (Undifferentiated type): جو کسی بھی ذیلی قسموں میں فٹ نہ ہوں لیکن علامتیں موجود ہوں۔

   ◊  باقیات قسم (Residual type): شیزوفرینک کے کم سے کم کسی ایک ضمنی واقعہ کا تجربہ: ایجابی علامتوں کے بجائے منفی علامتوں کا مظاہرہ۔

سرگرمی 5.4

کیا آپ ان اداکاروں کی فہرست تیار کر سکتے ہیں جن کی فلمیں آپ نے دیکھی ہیں یا کتابیں جوآپ نے پڑھی ہیں اور جو افسردگی یا انتشارنفسی جیسے انتشار میں مبتلاہوں جن کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک وہم کس طرح کا ہے؟

1  ایک شخص جسے یہ یقین ہو کہ وہ ہندوستان کا اگلا صدر ہونے والا ہے۔

2  جسے یہ یقین ہو کہ خفیہ ایجنسی؍پولیس اس کے خلاف سازش کررہی ہے تاکہ وہ جاسوسی کے معاملہ میں پھنس جائے۔

3  جسے یہ یقین ہو کہ وہ خدا کا مجسم (اوتار) ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے۔

4  جسے یہ یقین ہو کہ سونامی اسے خوشی یا چھٹی منانے سے روکنے کے لیے ہوئی تھی۔

5  جسے یہ یقین ہو کہ اس کی کارگزاری کو سیٹ لائٹ کے ذریعہ دماغ میں کوئی چپ کسی طرح فٹ کراکر کنٹرول کیا جارہا ہے۔

نفس انتشار کی ذیلی قسمیں اور ان کی  خصوصیات کا بیان مختصر طور پر باکس 4.2 میں کیا گیا ہے۔

کرداری اور نشوونما سے متعلق انتشار

اوپر ذکر کیے گئے انتشار کے علاوہ کچھ ایسے بھی انتشار ہیں جو خصوصاً بچوں میں پائے جاتے ہیں اور اگرا نھیں نظر انداز کر دیا جائے تو آگے چل کر ان کے تشویشناک نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بچے جن میں سمجھ کم ہوا کرتی ہے اور وہ اپنی ایک مستقل پہچان نہیں بنا پاتے ہیں اور نہ ہی ان میں حقیقت ، ممکنات و اقدار کے بارے میں کوئی ذہنی خاکہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ پریشانی کے حالات کو جھیل نہیں پاتے ہیں جو ان کی کار کردگی اورجذباتی مسائل سے عیاں ہوتا ہے۔ دوسری طرف احساسات ، تجربہ و خود مختاری میں اس طرح کی کمی کی وجہ سے وہ کسی مسئلہ کے سامنے آتے ہی پریشان ہو جاتے ہیں جو چھوٹے سے بڑے بچوں تک میں دیکھنے کو ملتا ہے اوربچے زیادہ تیزی سے مثالی طورپرخود کو بحال کرلیتے ہیں۔
 اب ہم بچپن کے مختلف انتشارکا ذکرکریں گے جیسے کمی توجہ بیش افعال،انتشار (ADHD) فسادکردار اور علاحدگی تشویشی انتشار،ان انتشاروں پر اگر دھیا ن نہیں دیا گیا تو یہ آگے چل کر زیادہ تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
بچوں سے متعلق انتشار کی درجہ بندی کا طریقہ بڑوں سے مختلف ہوتاہے اکین باک نے دوعوامل کی شناخت کی یعنی اختراج اوردرون کاری جس میں زیادہ تر بچپن کے کرداری مسائل شامل ہیں۔ اختراجی یا زیر کنٹرول مسائل میں ایسے طرز عمل شامل ہو تے ہیں جو تباہ کن و اکثر جارحانہ اور بچپن کے ماحول کے بر خلاف ہوتے ہیں۔ اندرونی انتشار یاضرورت سے زیادہ منضبط مسائل وہ حالات ہیں جن میں بچے افسردگی‘ اندیشہ و تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں اوردوسرں پر ظاہر نہیں ہوتا۔
کئی ایسے بھی انتشار ہیں جن میں بچے تباہ کن واختلال انگیزبرتاؤ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم ایسے تین امتیازی انتشارکے اوپر توجہ دیں گے یعنی کمی توجہ بیش افعال انتشار Attention-deficit Hyyperactivity  Disorder (ADHD)Oppositional Defiant (ODD) اور Conduct Disorderمخالفت پرآمادہ انتشار اور فساد کردار۔
ADHD عدم توجہی اور بیش فعالی تحریک پذیری کی خصوصیات دو ہیں: بچے جن میں توجہ کی کمی ہوتی ہے کسی کام یا کھیل میں ذہنی طورپر زیادہ دیر تک متوجہ نہیں رہ پاتے۔ کسی ایک چیز یا ہدایت پر دھیان لگانے میں انھیں  دشواری ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ بچے سنتے نہیں، توجہ نہیں دیتے،ہدایت نہیں مانتے،منظم نہیں ہیں،جلد بہک جاتے یا بھول جاتے ہیں،کاموں کو پورا نہیں کرتے،کسی ناخوشگوار کام میں جلد دلچسپی ختم ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بچے جن میں اضطراری حرکتیں پائی جاتی ہیں انھیں  اس عمل پر قابو نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی کام کو کرنے سے پہلے سوچتے ہیں۔ اپنے کسی کام کے لیے انتظار کرنے میں انھیں دشواری ہوتی ہے۔کسی لالچ یا مفاد کی طرف مائل نہ ہونے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ چھوٹے موٹے واقعے جیسے کسی چیز کوپھینکنا ان میں عام طور سے دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ کوئی شدید حادثہ واقع ہوسکتاہے یا چوٹ وغیرہ بھی کبھی لگ سکتی ہے۔بیش فعالی کی بھی کئی شکلیں ہیں۔ADHD میں مبتلا بچے لگاتار حرکت میں رہتے ہیں۔ کچھ سننے کے لیے چپ چاپ بیٹھنا ان کے  لیے ناممکن ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کابچپن چلبلا ہوتا ہے اور کسی کمرہ میں ادھر ادھر بغیر کسی مطلب کے گھومنے والے ہوتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ انھیں ایک چلتی پھرتی گاڑی کہتے ہیں جو لگاتار حرکت پذیر اور باتیں کرنے والا ہوتا ہے۔ لڑکوں میں لڑکیوں کی بہ نسبت چار گنا زیادہ ایسی علامتیں پائی جاتی ہیں۔
 مخالفت پرآمادہ انتشارمیں مبتلا بچے اپنی عمر کے برخلاف زیادہ ضد کا مظاہرہ کرتے ہیںاور تنگ مزاج،حکم عدولی، نافرمانی اورجارحانہ طرزِ عمل اختیارکرنے والے ہوتے ہیںADHD کے برعکس او ڈی ڈی کی شرح میں لڑکے اور لڑکیوں میں بہت فرق نہیں ہوتا اصطلاح  فساد کرداراورسماج مخالف برتاؤ کا تعلق عمر کے غیر موافق کارکردگی اور رویہ ہے جو خاندان کی توقعات سماج کے معیار یا دوسروں کی  ذاتی جائداد کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے فسادکردارمیں پائے جانے والے خاص طرز عمل میں جارحانہ کارکردگی جو لوگوں کو یا جانوروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔غیرجارحانہ کارگزاری جس سے جائداد کو نقصان پہنچتا ہو،بڑے پیمانہ پر دھوکہ یاچوری،اہم قواعدوضوابط کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ بچے مختلف قسم کے جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے زبانی جارحیت (یعنی نام بگاڑکرپکارنا، قسمیں کھانا) جسمانی جارحیت (یعنی مارنا، جھگڑنا) جارحانہ جھگڑا دوسروں کوزخم دینا اورپیش عملی جارحیت (یعنی غالب ہونا، بغیر اشتعال انگیزی کے دوسروں پر دھونس جمانا ) 
درونی انتشارمیں انتشار (SAD) اور افسردگی شامل ہے اداس یا غمگین ہونا ایک داخلی انتشار ہے جو خاص طور پر بچوں میں ہوتا ہے۔ شدید اندیشہ یا بچوں میں والدین سے جدا ہونے کے ڈر کا احساس اس کی  سب سے اہم علامت ہے۔ ایسے بچوں کو کسی کمرہ میں رہنے،اکیلے اسکول جانے ،کسی نئی جگہ میں داخل ہونے میں دشواری ہوتی ہے اور وہ ہر وقت والدین اور ان کے سائے سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ والدین سے جدائی سے بچنے کے لیے ایسے بچے افراتفری،شور مچانے اور خود کشی کی حرکتیں کرتے ہیں۔
جس طرح سے بچے افسردگی کا احساس و مظاہرہ کرتے ہیں اس کا  تعلق ان کے  جسمانی،جذباتی اور وقوفی نشوونما سے ہوتاہے۔ ایک چھوٹا بچہ خاموشی اور انفعال کے ذریعہ اپنی اداسی کا اظہار کر سکتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ الگ تھلگ چپ چاپ دکھ سکتا ہے۔ ایک اسکول جانے والا بچہ جھگڑالو اور بحث کرنے والا ہو سکتا ہے ، ایک کم عمر کا بچہ خطاکاری کا احساس اور نا امیدی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔
بچوں میں ایک تشویشناک انتشار بھی ہوسکتا ہے جسے ساری نشوونمائی انتشار کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے انتشار کی پہچان سماجی میل جول ، ترسیل کے ہنر میں شدید کمی ، طرز عمل دلچسپی اور کارکردگی کا رسمی یا روایتی انداز ہے تخیل پرستی یا تخیل پرست انتشار ایک بہت ہی عام قسم کا انتشار ہے۔ اس طرح کے بچوں میں نمایاں طور پر سماجی میل جول و ترسیل  میں دشواری ،دلچسپی کا محدود دائرہ ، معمول کے لیے شدید خواہش پائی جاتی ہے۔تخیل پرستی میں مبتلا لگ بھگ 70 فیصدبچے ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں۔
اس طرح کے بچے کو دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانے میں شدید دشواری کا احساس ہوتا ہے۔ وہ سماجی طرز عمل کی شروعات نہیں کر پاتے اور دوسرے لوگوں کے جذباتوں پر رد عمل بھی نہیں کر پاتے۔ وہ دوسروں کے ساتھ اپنے احساسات و جذبات کو بانٹ بھی نہیں پاتے۔ وہ تشویشناک طریقے سے زبان و ترسیل میں بے اعتدالیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ان میں موجود ہوتا ہے۔ بہت سارے یتیم بچوں میں بولنے کی نشوونما کبھی نہیں ہو پاتی۔ اور جو کچھ باتیں کر پاتے ہیں وہ بھی تکراری اور منحرف انداز کلام پایا جاتا ہے۔ ایسے بچوں میں دلچسپی کی بہت کمی ہوتی ہے اور وہ کسی خاص ہلنے ڈولنے کی حرکت کو بار بار کرتے ہیں جیسے چیزوں کو ترتیب میں رکھنا اور ایک ہی گھسی پٹی جسمانی حرکت جیسے ہلنے ڈولنے کی حرکت کو بار بار کرتے ہیں۔ اس طرح کی حرکتوں سے انھیں خوشی ملتی ہے جیسے ہاتھ پھڑ پھڑانا یا خود کواذیت پہنچانا جیسے اپنے سرکو دیوار سے مارنا وغیرہ۔

جدول4.2 : ذہنی معذوریت کے مختلف درجے میں مبتلا لوگوں کی خصوصیات

شدید گہرا کم ہلکا فعلی رقبہ (IQوسعت=20تا34)عمیق        ( IQ=20سے نیچے) (IQوسعت =35تا49) (پیمانہ ذہانت(IQ)کی وسعت=50تا70) عقل(مہارت) کی کمی یابالکل کمی پر کچھ لوگ خاص خاص ذاتی ضرورت پر توجہ دے سکتے ہیں ۔ ذاتی کاموں میں دشواری، تربیت کی ضرورت لیکن مناسب خود امدادی مہارتیں۔  کھانیپینیاور اجابت کی ضرورت خود پورا کرے ۔ خود امدادی مہارت سننے کی محدود صلاحیت وبولنے کی زبان کمزور  سننے ،بولنے کی صلاحیت توہوتی ہے لیکن بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ سننے بولنے وسمجھنے کی صلاحیت ضرورت کے مطابق ہوتی ہے اورترسیل کو سمجھ سکتا ہو ۔ بات چیت اورترسیل کسی طرح کی تعلیمی عقل وہنر نہیں ۔ تعلیمی عقل وہنر کی کمی، زیادہ سے زیادہ پہلے یا دوسرے درجہ تک ۔ درجہ3سے درجہ6تک سیکھنے کے موزوں ماحول کی ضرورت ۔ تعلیم
حقیقی دوست بنانے کی صلاحیت کا نہ ہوناکسی طرح کا سماجی میل جول بالکل نہیں۔ دوست بنا سکتے ہیں۔ لیکن مختلف سماجی حالات میں پریشانیاںمحسوس کرتے ہیں ۔ اس کے دوست ہوتے ہیںجلد مطابقت حاصل کرناسیکھ لیتا ہے۔  سماجی ہنر  عام طور سے کوئی کام کاج نہیں ۔بلکہ لگاتار دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ۔ کام کے ماحول میں رہ سکتے ہیں لیکن لگاتار نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مسابقی تاکم مسابقت والا کام کر سکتا ہے خاص طور سے غیرہنر مندانہ کام ۔ پیشہ وارانہ تطابق 

جدول4.2: ذہنی معذوریت کے مختلف درجے میں مبتلا لوگوں کی خصوصیات


شدید گہرا کم ہلکا فعلی رقبہ
(IQوسعت=20تا34)عمیق  ( 20=IQسے نیچے)       (IQوسعت =35تا49) پیمانہ ذہانت(IQ) کی وسعت=50تا70)
عقل(مہارت) کی کمی یابالکل کمی پر کچھ لوگ خاص خاص ذاتی ضرورت پر توجہ دے سکتے ہیں ۔ ذاتی کاموں میں دشواری، تربیت کی ضرورت لیکن مناسب خود امدادی مہارتیں۔  کھانے پینے اور اجابت کی ضرورت خود پورا کرے ۔ خود امدادی مہارت
سننے کی محدود صلاحیت وبولنے کی زبان کمزور ۔ سننے ،بولنے کی صلاحیت توہوتی ہے لیکن بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ سننے بولنے وسمجھنے کی صلاحیت ضرورت کے مطابق ہوتی ہے اورترسیل کو سمجھ سکتا ہو ۔  بات چیت اورترسیل
حقیقی دوست بنانے کی صلاحیت کا نہ ہوناکسی طرح کا سماجی میل جول بالکل نہیں۔ تعلیمی عقل وہنر کی کمی، زیادہ سے زیادہ پہلے یا دوسرے درجہ تک ۔ درجہ3سے درجہ6تک سیکھنے کے موزوں ماحول کی ضرورت ۔ تعلیم
حقیقی دوست بنانے کی صلاحیت کا نہ ہوناکسی طرح کا سماجی میل جول بالکل نہیں۔ دوست بنا سکتے ہیں۔ لیکن مختلف سماجی حالات میں پریشانیاںمحسوس کرتے ہیں  اس کے دوست ہوتے ہیںجلد مطابقت حاصل کرناسیکھ لیتا ہے۔  سماجی ہنر 
عام طور سے کوئی کام کاج نہیں ۔بلکہ لگاتار دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ۔ کام کے ماحول میں رہ سکتے ہیں لیکن لگاتار نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مسابقی تاکم مسابقت والا کام کر سکتا ہے خاص طور سے غیرہنر مندانہ کام ۔ پیشہ وارانہ تطابق 
انتشار کا ایک دوسرا گروپ نوجوان لوگوں کی دلچسپی کا ہوتاہے وہ ہے کھانے سے متعلق انتشار اس میںجو اعصابی عوام اشتہا ، اعصابی جوع البقراور نوشانوش شامل ہیں اعصابی عدم اشتہامیں کسی انسان کی شکل و صورت کا تصور خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو بھاری موٹا سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر کھانے پینے سے انکار کرتے ہیں۔ پابندی سے ورزش کرتے ہیں اور کچھ غیر معمولی عادت کو اپنا تے ہیں جیسے کہ دوسروں کے سامنے کھانے کو منع کرنا۔ ان کے  جسمانی  وزن میں شدت سے کمی آ سکتی ہے اور یہ بھوکے رہ کر اپنی جان بھی گنوا سکتے ہیں اعصابی جوع البقرمیں لوگ ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں اور پھر لیکسیٹیو یا ڈیورٹیکس جیسی دوائیوں یا الٹی کے ذریعہ اسے جسم سے خارج کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں میں نفرت و شرم کا احساس ہوتا ہے جب وہ نوشانوش کرتے ہیں اور فارغ ہونے کے بعداپنے تنائو منفی جذبات سے راحت محسوس کرتے ہیں۔نوشانوش میں اکثر لوگوں کا اپنے کھانے پینے پر اختیار نہیں ہوتا۔ 

باکس 3.4

الکوحل کے تاثرات: کچھ حقائق 

سبھی طرح کے الکوحل میں ایتھل الکحل ہوتا ہے۔  •

یہ کیمیکل خون میں جذب ہو جاتا ہے اورمرکزی عصبی نظام (دماغ اورحرام صفر) میں پہنچتا ہے جہاں وہ کام کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔  •

 •ایتھل الکحل دماغ کے اس حصہ کو سست کر دیتا ہے جو فیصلہ او ررکاوٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔لوگ زیادہ بولتے ہیں اور دوست ہو جاتے ہیں اور وہ پر عتمادا ور خوشی محسوس کرتے ہیں

• چونکہ الکوحل جذب ہو تا ہے یہ دماغ کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کرتا ہے مثال کے طور پر پینے والے صحیح فیصلے نہیں لے پاتے۔ بات چیت میں معقولیت اور یادداشت کمزور، بہت سے  لوگ جذباتی اونچے و جوشیلے ہوجاتے ہیں 

 • کام کاج میں دشواری بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر چال میں کمزوری، معمولی کاموں میں بھی بھدّا پن، دیکھنے  کی صلاحیت میں کمی، سننے میں دشواری، گاڑیاں چلانے میں پریشانی و چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کرنے میں دشواری

 

ذہنی معذوریت

آپ باب 1 میں ذہانت میں فرق کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ ذہنی معذوریت کا مطلب ذہنی افعال کا اوسط سے کم ہونا ( جس میں 70 آئی کیو یا اس سے کم) اور مطابقتی طرز عمل کا ناقص ہونا (یعنی ترسیل، خودکی دیکھ بھال کرنے کا ڈھنگ، سماجی ہنر، کام کرنے و تعلیمی ہنر وغیرہ میں کمی) جس کا مظاہرہ18 سال کی عمر سے قبل ہوتا ہے جدول4.2  میں ذہنی طور پر معذور لوگوں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔

باکس 4.4 

عام طور پر غلط استعمال کیے جانے والے کیمیائی مادے ،درجہ بندی کے مطابق (DSM-IV-TR)

الکوحل  •       

ایمفی ٹیمین:ڈیکسٹرو ایمفی ٹیمین،میٹی ایمفی ٹیمین،۔  •       

کیفین: کوفی، چائے، کیفین آمیزسوڈا،مسکن یا داع درد ادویات، چوکولیٹ، کوکوا۔  •     

کینابس: بھنگ،حشیش،سینسی ملا۔    •       

کوکین   •       

ہیلوسینوجنس (فریب خیال پیدا کرنے والی دوا)، ایل سی ڈی، میسکلین ۔   •       

•سونگھنے یا ناک میں چڑھانے کی دوا: گیسولین (پیٹرول کا کشیدہ)، گلو، پینٹ تھنر ،سپرے پینٹ ،ٹائپ رائیٹر کریکشن فلوڈ، سپرے۔       

نیکوٹین: سیگریٹ، تمباکو۔   •       

اوپیڈ: مورفائن، ہیروئین، کھانسی سیرپ، دافع درد دوائیں مخدر۔  •       

فلفلی الکلی سے حاصل کردہ دوا  •       

مسکن ادویہ  •       

منشیات کے استعمال سے متعلق

عادی بنانے والا عمل چاہے وہ زیادہ مقوی غذا لینے سے متعلق ہو جس کی وجہ سے مٹاپا ہوتا ہے یا نشیلی چیز سے متعلق ہو جیسے الکوحل یا کوکین آج کے سماج کا ایک تشویشناک مسئلہ بن گیا ہے۔
ویسے ناقص مطابقتی طرز عمل والا انتشار جو لگاتار نشیلی چیزوں کے لینے سے ہوتا ہے اسے منشیات استعمال کا انتشارکہاجاتا ہے۔
اس طرح کے انتشار میں الکوحل، کوکین و ہیروئین جیسی منشیات کے جائز و ناجائز استعمال سے جڑے مسئلے شامل ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے سوچنے کے انداز، احساسات و برتاؤ کوبدل ڈالتا ہے۔منشیات سے متعلق انتشارکے (غیرقانونی کیمیائی مادہ پرمنحصر )کے دو ذیلی گروپ ہیں یعنی وہ منشیات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
منشیات پر منحصر کرنے والوں میں ان چیزوں کی شدیدخواہش ہوتی ہے  جس کے وہ عادی ہوتے ہیں اور ان لوگوں میں تحمل،کنارہ کشی کی علامتیں و اجباری منشیات کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ تحمل کا مطلب ہے کہ فردمنشیات زیادہ سے زیادہ مقدار میں لیتا ہے تاکہ اس کا اثر اس طرح کاہو جس کا وہ عادی ہے۔کنارہ کشی کا مطلب ویسی جسمانی علامتوں سے ہے جو کسی انسان میں اس وقت واقع ہوتی ہیں جب وہ نفسی فعال منشیات کا لینا بند یا کم کر دیتا ہے یعنی وہ شئے جو انسان کے شعور،مزاج ، عمل فکر کوبدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
منشیات کے غلط استعمال میں کسی چیز کے استعمال کا انسان پر لگاتار و نمایاں طور پر غلط اثر پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو لگاتارمنشیات لیتے ہیں وہ اپنے خاندان و سماج کونقصان پہنچاتے ہیں،اپنے کاموں کو خراب کرتے ہیں اور جسمانی خطرہ والجھنیں پیدا کرتے ہیں۔
اب ہم منشیات کے غلط استعمال سے متعلق تین سب سے زیادہ عام اقسام پر توجہ دیں گے یعنی شراب کاالکوحل کا ناجائز استعمال و انحصارہیروئین کا غلط استعمال اور انحصار اور کوکین کا غلط استعمال اور انحصار۔
لوگ جو الکوحل کا غلط استعمال کرتے ہیں روزانہ زیادہ مقدار میں اسے لیتے ہیں اور کسی بھی حالات کا سامنا کرنے کے لیے اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ آخرکار ایسے لوگوں کا پینا ان کے سماجی طرز عمل اور کام و فکر کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔
 بہت سے لوگ الکوحل کے ناجائز استعمال کی و جہ سے اس پرانحصار کرنے لگتے ہیں۔ اور ان کے  جسم الکوحل برداشت کرنے کے لائق ہو جاتے ہیں اور اس کے  اثرات کے احساس کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ مقدار میں پینے کی ضرورت محسوس ہوتی جاتی ہے۔ جب وہ پینا بند کر دیتے ہیں تو ان میں پسپا ہونے کے آثار بھی دکھنے لگتے ہیں۔ الکوحل کے استعمال سے لاکھوں خاندان کی سماجی تعلقات و زندگی برباد ہو چکی ہے۔ پی کر گاڑی چلانے والے بہت سارے سڑک حادثہ کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کا ان کے  بچوں پر بھی تشویشناک اثر پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح خاص طور سے اندیشہ،افسردگی،خوف و دیگر انتشار زیادہ پایاجاتاہے۔ زیادہ پینے سے جسمانی صحت کو بھی زبردست نقصان پہنچ سکتا ہے۔ الکوحل کے صحت و نفسیاتی فعل پر پڑنے والے کچھ برے تاثرات کو باکس 4.3 میں بتایا گیا ہے۔

ہیروئن کا غلط استعمال اور اس پر انحصار 

ہیروئین کا استعمال سماجی و پیشہ وارانہ کام کاج پر برا اثر ڈالتاہے۔اس کے  استعمال کرنے والے زیادہ تر لوگ اس پرانحصار کرنے لگتے ہیں۔ اپنی زندگی کو اسی کے ارد گرد رکھتے ہیں۔ اس کے  لیے برداشت کا مادّہ پیدا کرتے ہیں اور اسے لینا بند کردینے پر خود کو پسپا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہیروئین سے متعلق سب سے خطرناک بات اس کا زیادہ استعمال ہے جو دماغ کے اندر سانس سے متعلق مراکز کو بیمار کردیتے ہیں۔ تنفس کے عمل کو لگ بھگ مفلوج کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی اس سے موت بھی ہو جاتی ہے۔

کوکین کا غلط استعمال  اور اس پر انحصار

کوکین کے لگاتار استعمال سے اس کے  غلط استعمال کی عادت پڑ جاتی ہے جس میں ایک شخص اسے بغیر استعمال کے پورے دن نہ تو اپنا کام صحیح ڈھنگ سے کر پاتاہے اور نہ ہی سماجی تعلقات کو ہی ٹھیک رکھ پاتاہے۔ اس سے قلیل مدتی حافظہ و دھیان بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس پر انحصار کی و جہ سے اس کی   تاثیر کو پانے کے لیے زیادہ منشیات کے لینے کی ضرورت پڑجاتی ہے اور اسے بند کردینے پر افسردگی، تھکان‘ جھنجھلاہٹ و اندیشہ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کا  نفسیاتی کام کاج و جسمانی بہبودگی پر بھی خطرناک اثر پڑتا ہے۔
عام طور پر غلط استعمال کی جانے والی کچھ چیزوں کی فہرست باکس4.4  میں دی گئی ہے۔

کلیدی اصطلاحات

غیرطبعی نفسیات، غیر سماجی برتاؤ، اندیشہ، (تشویش)، تخیل پرستی، اخراج ادارہ،واہمہ،فطری میلانی دباؤ کھانے سے متعلق انتشار، نسلیات، ادراکی وہم، پرجوش حرکتیں (بیش فعالیت)، ذہنی معذوری، مزاجی انتشار، عصبی ترسیل، معیار، غلبہ وہم اجباری انتشار، خوف، نفسی انتشار، جسدی انتشار، کیمیائی مادے یامنشیات کا غلط استعمال وغیرہ۔

خلاصہ

غیر معمولی طرز عمل وہ طرز عمل ہے جو پریشان کن، ناکارہ و خطرناک ہوتا ہے۔ اس طرح کے طرز عمل کوخلاف معمول سمجھا جاتا ہے جو سماجی معیار کے  بر خلاف ہوتا ہے اور جو انسان کے عام کام کاج و نشوونما پر برا اثر ڈالتا ہے۔
• خلاف معمول کی تواریخ کے مطابق اس کے  تین تناظرہیں یعنی مافوق الفطرت،حیاتاتی نا میاتی و نفسیاتی۔بین عملی حیاتی، نفسی،سماجی نظریہ میں سبھی تینوں جزو یعنی حیاتاتی،نفسیاتی و سماجی سبھی طرح کے نفسیاتی انتشار میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
 • نفسیاتی انتشارات کی درجہ بندی عالمی صحت تنظیم (ICD-10) اورامریکی نفسیاتی امراضی تنظیم(DSM-IV-TR) کے ذریعہ کی گئی ہے۔
خلاف معمول برتاؤ کی وضاحت کے لیے مختلف نمونے پیش کیے گئے ہیں یہ ہیں حیاتاتی نفسی حرکی،رداری،وقوفی،انسان مرکزوجودی، مزاجی دباؤ نظام اور سماجی وثقافتی نظریات۔
•اہم نفسیاتی انتشارات میں اندیشہ،جسدی،اتلافی،مزاجی،انتشارنفس،نشوونمائی اورکرداری،نشہ اورادویات کے استعمال سے متعلق انتشار شامل ہیں۔

اعادہ کے  سوالات

ان علامتوں کی پہچان کریں جن کا تعلق افسردگی و خوشی سے ہے۔  (i)
 شدت کی چستی دکھانے والے بچوں کی خصوصیات بیان کریں۔   (ii)
 کسی کیمیائی مادے کے ناجائز یا غلط استعمال اور اس پر انحصار سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟  (iii)
 کیا اپنے جسم کی بگڑی شبیہ کی بنیادپر کھانے کے انتشارہوتے ہیں؟ اس کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کیجیے۔  (iv)
 معالج جسمانی علامتوں کودیکھ کراندازہ لگا تا ہے۔ نفسیاتی انتشار کی پہچان کس طرح کی جاتی ہے؟  (v)
 کسی وہم کا غلبہ اور جبر و مجبوری میں فرق بیان کریں۔  (vi)
کیا لمبے وقت تک ایک ہی طرح کے کیے گئے برتاؤکو خلاف معمول کہا جاسکتا ہے؟ وضاحت کریں۔  (vii)
عام لوگوں سے بات چیت کے دوران موضوع کو اکثر بدل دیتے ہیں۔ کیا یہ انتشارنفس کی ایجابی یا منفی علامتیں ہیں؟انتشارنفس کی دیگر علامتوں و قسموں کو بیان کریں۔  (viii)
 آپ ایتلاف سے کیا سمجھتے ہیں؟ اس کی مختلف اقسام کو بیان کریں۔  (ix)
خوف کیا ہے؟ اگر کوئی سانپ سے بہت زیادہ ڈرتا ہے تو کیا یہ ایک معمولی خوف ہے جو غلط تربیت کی و جہ سے ہوتاہے؟ اس طرح کے خوف کیسے پیدا ہوتے ہیں  (x)
  تشویش کوپیٹ میں چوہے دوڑنے کا احساس کہا جاتا ہے۔ کس مرحلہ میں تشویش ایک انتشاربن جاتا ہے؟ اس کے اقسام کو بیان کریں۔  (xi)

kkk

ویب لنکس

http://www.mental-health-matters.com/disorders
http://allpsych.com
http://mentalhealth.com.


پروجیکٹ کی تجاویز

1

ہم سبھی لوگوں کے مزاج میں تبدیلیاں ہوتی ہیں یا سارے دن مزاج میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اپنے پاس ایک چھوٹی ڈائری یا کاپی رکھیں اور اپنے جذباتی احساسات کو مختصراً3 —4دنوں تک لکھتے رہیں۔ جیسے ہی دن آگے بڑھے گا (مثال کے طور پر جب آپ سو کر اٹھتے ہیں،اسکول جاتے ہیں،دوستوں سے ملتے ہیں،گھر لوٹتے ہیں) آپ بہت سارے اتار چڑھاؤ اپنے مزاج میں پائیں گے۔ آپ لکھیں کہ آپ کو کب خوشی اور کب غم کا احساس ہوا۔ کب اداس رہے کب اچھا لگا،کب غصہ آیا،کب جھنجھلاہٹ ہوئی اور دیگر عام جذباتی خیالات لکھیں۔ آپ ان حالات کو بھی لکھیں جس میں یہ سارے جذبات ابھرے۔ ان معلومات کو اکٹھا کر لینے کے بعد آپ کو اپنے مزاج کے  بارے میں بہتر واقفیت ہوگی اور کس طرح یہ سارے دن بدلتے رہتے ہیں اس کی  بھی معلومات آپ کو ہو جائے گی ۔

2

مطالعہ سے پتا چلا ہے کہ آج کل جسمانی کشش بھی کھانے سے متعلق انتشار کی ایک و جہ ہے آج کل کے فیشن کے مطابق دبلاپن کی قدر ہے جو کہ ماڈل،فن کار وغیرہ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے  مطالعہ کے لیے آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھیں۔ کم از کم10  لوگوں کو چنیں (جو آپ کی فیملی کے دوست اور جاننے والے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کی  درجہ بندی لمبے،اوسط اور دبلے کی بنا پر کریں۔ اب کسی فیشن یا فلمی میگزین کو لیں۔ اس میں ماڈل کی تصویر خوبصورتی کا مقابلہ جیتنے والے اور فلمی ہستیوں کو دیکھیں۔ اس میگزین کے پڑھنے والوں کے لیے دیے گئے پیغامات کے بارے میں ایک دو پیراگراف لکھیں جو معیاری اور قابل قبول مرد وعورت کے جسم کے بارے میں ہو۔ کیا یہ خیالات آپ کے ان خیالات سے ملتے جلتے ہیں جو آپ نے عام لوگوں کے جسم کے بارے میں قائم کر رکھے ہیں؟

3

فلم شو، ٹی وی یا کھیل جوآپ نے دیکھاہوگا،اس کی  ایک فہرست تیار کریں جس میں ایک خاص قسم کے نفسیاتی انتشارپر توجہ دی گئی ہو۔ دکھائی گئی علامتوں کا موازنہ آپ اپنی کتابی معلومات سے کریں۔ ایک رپورٹ تیار کریں۔


تعلیماتی اشارات

(1)
نفسیاتی انتشار سے متعلق باتوں سے باریکی سے نبٹنا ہوگا۔ مختلف قسم کے انتشارا ور اس کی علامتوں کے بارے میں واقفیت کے بعد طلبہ اپنے اندر ان انتشاروں کا احساس یا اس کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ چند نشانات یا علامتوں کی بنیاد پر کسی ٹھوس نتیجہ پر نہ پہنچیں۔
(2)
طلبہ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کسی نفسیاتی انتشار کے بارے میں صرف معلومات یا جانکاری سے ہی اس انتشار کی پہچان یا علاج سے متعلق ضروری مہارتیں فراہم نہیں ہو پاتیں۔
(3)
طلبہ کو آپس میں ایک دوسرے کا علاج کرنے سے روکنا چاہیے کیوں کہ وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ نفسیاتی جانچ کے لیے کلینکی نفسیات میں ایک خاص قسم کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔