مندرجہ ذیل حصہ میں تینوں اہم نظام اورنفسیاتی علاج میں استعمال کیے جانے والے ہر ایک طریقہ علاج کے نمونہ کی تشریح کی گئی ہے۔
نفسی حرکی علاج
جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ نفسی حرکی علاج جس کانظریہ سب سے پہلے سگمنڈ فرائڈ نے دیا تھاسب سے پرانا طریقہ ہے۔ ان کے قریبی ساتھی کارل جُنگ نے اس میں ترمیم کی جسے آج تجزیاتی نفسی علاج کے طورپر جانا جاتاہے۔اس کے بعد فرائڈ کے جانشین جو نیفریڈین کے نام سے جانے جاتے ہیں کلاسیکی نفسی حرکی علاج کا اپنا نقطۂ نظرپیش کیا۔ موٹے طورپرنفسی حرکی علاج میں سائیکی کی ساخت،سائیکی کے مختلف اجزا کے درمیان حرکیات اور نفسیاتی پریشانیوں کے ذرائع کو تصوراتی شکل فراہم ہوئی۔ آپ پہلے ہی ان نظریوں کا مطالعہ خودّاری ،شخصیت اورنفسیاتی انتشار کے ابواب میں کرچکے ہیں۔ طریقۂ علاج سے متعلق اقدام ، معالجاتی تعلقاتی نوعیت اور نفسی حرکی علاج سے اخذنتائج کا ذکر نیچے کیا گیا ہے۔
درون نفسی کشاکش کو ظاہر کرنے والے طریقے کی نوعیت۔
چونکہ نفسی تجزیاتی نظریہ درون نفسی کشاکش کو نفسیاتی بیماریوں کی و جہ مانتا ہے۔ اس لیے اس علاج کا پہلا قدم اس دورن نفسی کشاکش یاتصادم کو ظاہر کرتا ہے۔نفسیاتی تجزیہ نے اس درون نفسی کشاکش کو ظاہر کرنے کے لیے آزادانہ ایتلاف اورتعبیرخواب جیسے دو اہم طریقے ایجاد کیے۔آزادانہ ایتلاف مریض کے مسائل کو سمجھنے کا سب سے اہم طریقہ ہے۔ ایک بار جب معالجاتی تعلقات قائم ہوجاتے ہیں اور مریض آرام محسوس کرتا ہے تو معالج اسے بسترپر آرام کرنے کے لیے کہتا ہے اور کہتا ہے کہ جو بات ذہن میں ہے اسے بغیرکسی رکاوٹ کے بولتاجائے۔ اس طرح مریض کو ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر تعلق بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اس لیے اس طریقہ کو آزادانہ ایتلاف طریقہ کہا جاتا ہے احتسابی (رکاوٹ کرنے والے) فوق انا اور چوکس انا کو مریض کے بولتے وقت تعمیل میں رکھا جاتا ہے تاکہ مریض ایک پرسکون اور بھروسہ مند ماحول میں جو بھی ذہن میں آئے بولتا جائے۔ چونکہ معالج روک ٹوک نہیں کرتااس لیے وہ خیالات،خواہشات اور تصادم جو لاشعور (unconsious) میں دبے ہوتے ہیں آسانی سے شعوری ذہن میں ابھر کر آجاتے ہیں۔ مریض کا یہ آزادانہ بغیر کسی رکاوٹ والا بیان اس کے لاشعور تک کی کھڑکی ہے جو معالج کے پہنچ میں ہوتی ہے۔ اس طریقہ کے ساتھ ساتھ مریض کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے خواب کو لکھیں جو انھوں نے دیکھا ہے۔ ماہر نفسی تحلیل (Psychoanalysis) ان خوابوں کوایسے خواہشات کی نشاندہی مانتے ہیں جو لاشعور میں موجود ہوتا ہے۔ خوابوں کی تشبیہات درون نفسی قوتوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ خواب میں علامتوں کا استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ بالواسطہ اظہارہے اور یہ انا کو چوکس نہیں کرتے۔ اگر غیر تکمیلی خواہشات کا اظہار براہ راست ہو تو ہمیشہ چوکس رہنے والی انا اسے دبا دے گی اور وہ اندیشہ (تشویش)کو پیدا کرے گی۔ ان علامتوں کی وضاحت ترجمے کی تسلیم شدہ روایت کے مطابق کی جاتی ہے،غیر تکمیل شدہ خواہشات اور تصادم کے اظہار کے طورپرکی جاتی ہے۔
علاج کاطریقۂ عمل
منتقلی اورتعبیر مریض کے علاج کے طریقۂ عمل ہیں جیسے ہی آزادانہ ایتلاف اور خواب کی وضاحت جس کا بیان اوپر کیا جاچکا ہے، کے ذریعہ لاشعور میں دبی خواہشات کو شعور میں لایا جاتا ہے مریض معالج کو ماضی ،خاص طور سے بچپن کے حاکم کی حیثیت سے پہچاننا شروع کردیتا ہے۔معالج کو سزا دینے والے کی طرح بھی دیکھ سکتا ہے یا لاپرواہ ماں کی طرح بھی دیکھ سکتا ہے۔ معالج خود کو کسی طرح کی رائے قائم نہ کرنے والا بلکہ وہ رواداری کا رویہ بنائے رکھتا ہے اور مریض کو اس طرح کی جذباتی پہچان کے عمل کو بنائے رکھنے کی اجازت دیتاہے۔ اس عمل کو عمل منتقلی (Transference) کہا جاتا ہے۔ معالج اس عمل کو بڑھاوا دیتا ہے کیونکہ اس سے مریض کو لاشعوری تصادم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مریض اپنے غصہ ، مایوسی ، ڈر اور اداسی کا اظہار کرتا ہے جو ماضی میں کسی شخص کے ساتھ ہوا ہوتاہے اوراس کا اظہار وہ اس وقت نہیں کرپاتا ہے۔ معالج اس شخص کی جگہ لے لیتا ہے۔ اسی مرحلہ کومنتقلی خلل اعصاب (Tranference neurosis) کہا جاتا ہے۔ ایک مکمل منتقلی خلل اعصاب مریض کے درون نفسی کشاکش کی نوعیت کی واقفیت کرانے میں معالج کی مدد کرتا ہے۔ ایک مثبت منتقلی ہوتی ہے جس میں مریض معالج کے ساتھ محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور معالج سے اس کی منظوری چاہتا ہے۔منفی منتقلی تب موجود ہوتی ہے جب مریض میں معالج کے تئیں غم، غصہ اور دشمنی کا احساس ہوتا ہے۔
منتقلی کے عمل میں رکاوٹ بھی رہتی ہے جسے مزاحمت کہا جاتا ہے۔ چونکہ منتقلی کا عمل لاشعور میں دبی خواہشات اور تصادم کو ظاہر کرتا ہے اس سے تکلیفیں بڑھتی ہیں اس لیے مریض منتقلی کی مزاحمت کرتا ہے۔ اس مزاحمت کی و جہ سے مریض علاج کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے تاکہ لاشعور میں دبی ہوئی تکلیف دہ باتوں کو یاد کرنے سے بچ سکے۔ رکاوٹ شعوری اور لا شعوری دونوں ہوسکتی ہیں۔شعوری رکاوٹ (conscious resistance) اس وقت سامنے آتی ہے جب مریض جان بوجھ کر کچھ معلومات چھپاتا ہے۔ لاشعوری رکاوٹ اس وقت موجود ہوتی ہے جب مریض علاج کے درمیان خاموش ہوجاتا ہے، غیر جذباتی اورفضولیات کی تفصیل کو یاد کرتا ہے، اہم تاریخوں کو بھولتا ہے اور علاج کے لیے دیر سے آتا ہے۔ معالج مریض سے ان کے بارے میں بار بار تکرار کرکے ان رکاوٹوں سے ابھرتا ہے اور کبھی ان کے اندیشہ ، خوف یاشر م جیسے جذبات جن کی و جہ سے رکاوٹ پیداہوتی ہے کو بھول کر ان سے ابھرتا ہے۔
نفسیاتی ترجمانی ایک بنیادی ترکیب ہے جس کی و جہ سے تبدیلی آتی ہے۔ ٹکراؤ اور وضاحت ترجمانی کی دوتخلیقی ترکیب ہیں۔ ٹکراؤ میں معالج مریض کو اس کی نفسیات کے اسی شعبہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کا سامناکرنا مریض کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ وضاحت ایک عمل ہے جس کے ذریعہ معالج کسی غیر واضح اورالجھے ہوئے حالات کو سامنے لاتا ہے۔ یہ کام ضروری تفصیلات کو غیر ضروری تفصیلات اور حالات سے الگ کرکے اور ابھار کر کیا جاتا ہے۔ ترجمانی ایک باریک اور مختصر عمل ہے۔ اسے نفسی تحلیل (Psychoanalysis) کا نقطۂ کمال (Pinnacle) کہا جاتاہے۔ معالج لاشعوری مادے کا استعمال کرتا ہے جس کا انکشاف آزادانہ ایتلاف، خواب کی تعبیر،اور مزاحمت کے عمل کے دوران ہوتا ہے۔اس سے مریض ان نفسیاتی مواد اور تصادم یا کشاکش سے آگاہ ہوتا ہے جن کے نتیجے میںمخصوص واقعات،علامات اورتصادم واقع ہوئے تھے۔ ترجمانی درون نفسی تصادم یا محرومیت جو کہ بچپن میں ہوگئی تھی پر زور دے سکتی ہے۔محاذآرائیکے استعمال، وضاحت اور ترجمانی کے عمل کو بار بار دہرانے کومکمل کارکردگی کہا جاتا ہے۔مکمل کارکردگی مریض کو خود کو سمجھنے ،مسئلہ کی وجہ کو جاننے اور سامنے لائی گئی باتوں کو اس کی انا سے جوڑنے کے کام میں مدد کرتی ہے۔
مکمل کارکردگی کے نتیجہ میں بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ بصیرت اچانک نہیں پیداہوتی بلکہ یہ رفتہ رفتہ ہونے والا عمل ہے جس میں لاشعوری یاد داشت بار بار علم و شعور میں آتی ہے۔ان لاشعوری واقعات اور یاد داشت کامنتقلی میں دوبارہ تجربہ ہوتا ہے اور یہ مکمل کارکردگی ہیں۔ چونکہ یہ عمل لگاتار چلتا رہتا ہے اس لیے مریض اپنے آپ کو جذباتی و عقلی طور پر بہتر ڈھنگ سے سمجھنا شروع کردیتا ہے اور اسے اپنے مسائل و تصادم کی بصیرت حاصل ہونے لگتی ہے۔ عقلی سمجھ اورذہنی بصیرت کہتے ہیں جذباتوں کو سمجھنا ، اپنے غیر موافق رد عمل کو تسلیم کرنا جو ماضی میں ناخوشگوار واقعات کے طورپر ہوئے ہوں اور اپنے جذبات کو بدلنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی لانا ہی جذباتی سوجھ بوجھ کہلاتی ہے۔بصیرت کسی علاج کی آخری منزل ہوتی ہے کیونکہ مریض اس میں اپنے بارے میں ایک نئی سمجھ قائم کرلیتا ہے اس کے بعدماضی کے تصادم دفاعی میکانیت اور جسمانی علامتیں اب باقی نہیں رہتیں اور مریض نفسیاتی طور پر ایک صحت مند انسان ہو جاتا ہے۔ اس مرحلہ میں تحلیل نفس (Psychoanalysis) کا کام پورا ہوجاتا ہے۔
علاج کی مدّت
تحلیل نفسی کئی سالوں تک جاری رہتی ہے ایک گھنٹے کی میقات کے ساتھ ہر ہفتے میں4—5 دن کے لیے۔ یہ ایک گہرا علاج ہے۔پہلا مرحلہ شروعاتی دور کا ہوتا ہے۔ اس میں مریض کو معمول کی واقفیت ہوتی ہے، وہ ماہر تحلیل کارکے ساتھ معالجاتی تعلقات قائم کرتا ہے ،ماضی اور موجودہ تکلیف دہ حالات کے بارے میں شعور سے حاصل سطحی موادکو حافظے میں لانے کے عمل سے کچھ سکون محسوس کرتا ہے۔دوسرا مرحلہ بیچ کا دور ہوتا ہے جو ایک طویل عمل ہے۔اس میں مریض کی طرف سے منتقلی،مزاحمت ،محاذآرائی اور صراحت یعنی معالج کی طرف سے پوری کارکردگی کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ سارے عمل آخر کار مریض میں سوجھ بوجھ پیدا کرتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ اختتام کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں تحلیل کارکے ساتھ تعلقات ختم ہوجاتے ہیں اور مریض علاج چھوڑنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
کرداری علاج
کرداری معالجے کی اولین شرط ہے کہ نفسی تکالیف غیر مناسب کرداری وضع یا سوچنے سے ہوتی ہے۔ لہٰذاحال میں مریض کے کردار اور افکار پر زور دیتا ہے۔ ماضی صرف غیر مناسب سوچ وطرز عمل کے بناؤ کو سمجھنے کے لیے کارگر ہوتا ہے۔ اس میں ماضی کو سرگرم یافعال نہیں کیا جاتا ہے صرف ناقص وضع کو موجودہ طورپردرست کیا جاتا ہے ۔
سیکھنے کے نظریاتی اصول کا کلینکی اطلاق ہی کرداری علاج پرہوتاہے کرداری علاج میں مخصوص تکنیک کا ایک بڑا سیٹ ہے جو مداخلت کرتا ہے۔ یہ کوئی متحدہ نظریہ نہیں ہے، جس کا اطلاق تشخیص اورموجود علامتوں سے پرے ہو۔ کسی خاص تکنیک یااطلاقی مداخلت کے انتخاب میں مریض کی علامتیں اور ان کی طبی جانچ رہبری کا کام کرتی ہے۔ خوف کی زیادتی کے علاج میں کسی تکنیک کے ایک سیٹ کی ضرورت ہوگی جب کہ غصہ کی حالت میں دیگر سیٹ کی ضرورت ہوگی ایک اُداس مریض کا ،تشویش میں مبتلامریض سے بہتر طریقہ سے علاج ہوگا۔ طرز علاج کی بنیاد غیر مناسب طرز عمل کی وضع اوروہ بات جو غیر مناسب طرز عمل کو جاری و مستحکم رکھتی ہیں پر ہوتا ہے۔ اور وہ طریقہ جو انھیں بدل سکتاہے ان پر بھی ہوتا ہے۔
علاج کا طریقہ
ایسے مریض جن میں نفسیاتی پریشانیاں اور جسمانی علامتیں پائی جاتی ہیں جو جسمانی بیماری نہیں کہی جا سکتی،اس کے کرداری وضع کے تجزیے کے لیے انٹرویو لیا جاتا ہے ۔کرداری تجزیے گذشتہ ناقص سیکھ اور عوامل ناقص سیکھ کو برقرار اور جاری رکھتے ہیں کو جاننے کے لیے کیا جاتا ہے۔ناقص کردار ایسے طرز عمل ہیں جو مریض میں تکلیفیں پیدا کرتے ہیں۔سابقہ عوامل وجوہاتی عناصرہیں جو مریض کو اس طرح کے برتاؤ کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اسے قائم رکھنے والے عوامل وہ ہیں جس کی و جہ سے موجودہ طرز عمل قائم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جوان آدمی جو سگریٹ پینے کی بری عادت کا شکار ہے،وہ سگریٹ چھوڑنے میں مدد چاہتا ہے۔کرداری تجزیے کا اہتمام مریض اور اس کی فیملی کے ممبران سے انٹرویو لینے کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس سے، یہ پتا چلتا ہے کہ اس شخص نے سالانہ امتحان کی تیاری کے وقت سگریٹ پینا شروع کیا۔ اس نے سگریٹ پینے سے تشویش کی شدت میں کمی کا ذکر کیا۔ اس طرح تشویش بڑھانے والے جزو اس کا سبب بن جاتے ہیں۔راحت کا احساس اس کے لیے سگریٹ جاری رکھنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اور مریض سگریٹ کو ایک عادت کے طورپر جاری رکھنے کا سبب بن جاتا ہے۔ مریض سگریٹ کو ایک عادت کی طرح سیکھ لیتا ہے جو اندیشہ سے آرام پانے کی و جہ سے مستحکم ہوجاتا ہے۔
ایک بار جب تکلیف دینے والے غیر مناسب طرز عمل کی شناخت ہو جاتی ہے تو اس کے علاج کے لیے ایک خاص منصوبہ کا انتخاب کرلیاجاتا ہے۔ اس علاج کا مقصد غیر مناسب طرزعمل کو بھلا کر یا ختم کر کے اس کی جگہ ایک مناسب طرز عمل کی وضع کو قائم کرنا ہوتا ہے۔ معالج اسے مقدم عمل اور مؤخر عمل قائمکرکے پورا کرتا ہے۔مقدم عمل کسی ایسی چیز کو تبدیلی کرنے کے ذریعہ جو ایسے برتاؤ میں پہلے سے موجود ہوتی ہے،اس کے کردار پر قابو پاتا ہے۔ اس طرح کی تبدیلی کسی خاص نتیجہ کو مضبوطی دینے والے اسباب کی قدر کو بڑھایا گھٹاکرکی جاسکتی ہے۔ اسے عملیہ قائم کرنا کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ رات کا کھانا کھانے میں پریشان کرتا ہے توعملیہ انجام دینے کے طور پر اسے چائے کے وقت دیے جانے والے کھانے کی مقدار میں کمی کرنی ہوگی اسی سے اس کے رات کے کھانے کی بھوک بڑھے گی اور اس کے لیے رات کے کھانے کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ مزید بچہ کے ڈھنگ سے کھالینے پر اس کی تعریف کرنے سے اس کے اس طرز عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ چائے کے وقت کھانے میں کمی اسبابی وضاحت ہے اور اس کے کھالینے پر تعریف کرنا نتیجہ کی وضاحت ہے۔ اس سے رات کے کھانے کی عادت بچہ میں پیدا ہوجاتی ہے۔
غیر مناسب طرز عمل میں کمی اور معقول طرز عمل میں اضافہ ساتھ ساتھ مختلف تفرقی تقویت (Differential reinforcement) کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ مناسب طرز عمل کے لیے اثباتی اور غیر مناسب طرز عمل کے لیے منفی تقویت کو ساتھ ساتھ استعمال میں لانا بھی ایک طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مناسب طرز عمل کو ایجابی مضبوطی فراہم کی جائے اور غیر مناسب طرز عمل کو نظر انداز کردیا جائے دوسرا طریقہ کار کم تکلیف دینے والا اور زیادہ اثردار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک لڑکی جب اس کے کہنے پر فلم نہیں دکھائی جاتی ہے۔تووہ روٹھ جاتی ہے اور روتی ہے۔ والدین کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ نہ روئے اور نہ روٹھے تو اسے فلم دکھائیں اور جب وہ روئے اور روٹھے تو نہ دکھائیں۔ مریض کے والدین کو یہ بھی ہدایت دی جاتی ہے کہ لڑکی کے رونے و روٹھنے کو نظر انداز کردیں ۔ اسے فلم دکھانے کے لیے کہنا جو ایک مناسب طرز عمل ہے اس میں اضافہ ہوتا ہے اور رونے و روٹھنے کا طرز عمل جوغیر مناسب ہے اس میں کمی آتی ہے۔
آپ بے وجہ خوف کے بارے میں پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں۔ منظم ازالہ تحسس ایک طریقہ کار ہے جسے wolpe نے متعارف کیاتھا۔ بے وجہ خوف کے علاج کے لیے دیا۔ اس میں مریض کا انٹرویو اس کے اندر خوف بڑھانے والے حالات کی معلومات کے لیے کیا جاتا ہے معالج اندیشہ پیدا کرنے والے محرک (stimulies) کی ایک فہرست اس طرح تیار کرتا ہے کہ کم اندیشہ دینے والے محرک فہرست کے پیچھے میں ہوا کرتے ہیں۔ معالج پہلے مریض کو آرام کراتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سب سے کم اندیشہ دینے والے حالات کے بارے میں سوچیں ۔ باکس 5.2 میں آرام کرانے کے طریقہ کی تفصیل بتائی گئی ہے۔ مریض کو یہ کہا جاتا ہے کہ کسی طرح کے کھینچاؤ کے احساس ہونے پر اندیشہ دینے والے حالات کے بارے میں سوچنا بند کردیں۔ میقات کے آخر میں مریض آرام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ خوفناک حالات کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ اس طرح مریض کامنظم سب حساسیت (Systematic desensitization) ہوجاتی ہے۔
یہاں دوطرفہ اظہاربستگی (reciprocal inhibition) کے اصول کام کرتے ہیں اس اصول کے مطابق دو مخالف قوتوں کی ایک ساتھ موجودگی سے کمزور طاقت میں رکاوٹ آتی ہے۔ اس طرح آرام کرنے کا ردِ عمل پہلے قائم ہوتا ہے اور کم اندیشہ دینے والے حالات کا تصور اور اندیشہ سے آرام کے ذریعہ چھٹکارا ہوتا ہے۔ آگے مریض زیادہ اندیشہ دینے والے حالات کا تصور بھی آرام کی حالت میں ہونے کی وجہ سے کرسکتا ہے۔ ماڈلنگ ایک طریقۂ کار ہے جس میں مریض ایک خاص انداز میں طرز عمل کرنا سیکھتا ہے جسے وہ کسی نمونہ یا معالج کو دیکھ کر جو شروع میں ایک رول ماڈل کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ اکراہی آموزش یعنی دوسروں کو دیکھ کر سیکھنا ،کا استعمال اور طرز عمل میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں پر نوازنا بھی ایک طریقۂ کار ہے۔
کرداری کی متعدد مختلف تکنیکیں ۔کرداری تجزیہ پختگی معالج کے ہنر پر منحصر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مناسب تکنیکیں بھی معالج کے ہنرپرہی منحصر ہوتی ہیں۔
وقوفی علاج
وقوفی معالجات میں غیرمعقول افکاروعقائد میں نفسیاتی پریشانیوں کے اسباب تلاش کیے جاتے ہیں۔ البرٹ ایلیس نے معقول جذباتی علاج (Rational Emotive therapy) (RET) وضع کیا۔ اس علاج کا بنیادی نظریہ یہ ہےکہ نامعقول عقیدہ سابقہ حالات اور ان کے نتائج کے بیچ ثالث کا کردارنبھاتی ہے۔ RET کا پہلا قدم اسبابِ عقیدۂ نتائج کی تحلیل کرناہے جونفسیاتی دباؤ کا سبب بنتے ہیں انھیں نوٹ کیا جاتا ہے۔اس میں مریض کا انٹرویو بھی لیا جاتا ہے تاکہ غیرمعقول عقیدہ کا پتہ لگایا جاسکے جو موجودہ حقیقت کو توڑ مروڑ دیتی ہیں۔ نامعقول عقیدہ کو ہوسکتا ہے کہ کسی ماحول میں تجرباتی شہادت کا سہارانہ ملے۔ان عقائد کی خصوصیت کی وضاحت ہونی چاہیے ،پر مشتمل طرزفکر کے ساتھ۔ یعنی اعتماد ہے یا کوئی چیز ضروری طور پرہونی چاہیے،کے ایک مخصوص انداز میں ہونی چاہیے۔غیر معقول عقائد کی مثالیں ہیں، ’’کسی شخص کو ہمیشہ سبھی لوگوںکو پیار کرناچاہیے۔‘‘ ’’ انسان کی پریشانی کی و جہ بیرونی واقعات ہیں جن پر کسی کو کوئی اختیار نہیں ہوتا‘‘ وغیرہ نامعقول عقیدہ کی مثالیں ہیں مقدم حالات کی مسخ ادراک جو نامعقول عقیدہ کی وجہ سے ہوتی ہیں،میں نتیجہ کے طور پر منفی جذبات و طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ نامعقول عقیدہ کا اندازۂ قدر انٹرویو اور سوال نامے کے ذریعہ لگایا جاسکتا ہے۔ RET کے طریقہ عمل میں معالج نامعقول عقیدہ کی غیرہدایتی سوال نامے کے عملکے ذریعہ تردید کردیتا ہے سوال کی نوعیت براہ راست نہ ہوکر سیدھی سادی ہوتی ہے۔ سوالات مریض کو اپنی زندگی اور اس کے مسائل کے بارے میں تہہ تک سوچنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ مریض اپنی زندگی کے فلسفہ میں تبدیلی لاکر اپنے نامعقول عقیدہ میں تبدیلی لانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اس طرح معقول نظام عقیدہ نامعقول نظام عقیدہ کی جگہ لے لیتا ہے اور نفسی دباؤ میں کمی آجاتی ہے۔
سرگرمی5.3
آپ کا دوست امتحان سے پہلے بہت تذبذب اورگھبراہٹ کا شکار ہوجاتا ہے وہ ادھرسے ادھرٹہلتارہتا ہے،پڑھائی نہیں کرپاتا اور اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو بھی پڑھا تھا وہ اسے بھول چکا ہے۔ اس کی مدد کی کوشش کریں وہ گہری سانس لے اور ، اسے 5-10 سیکنڈ تک روکے اور تب اسے (سانس) باہرچھوڑے ۔ اسے یہ عمل 5-10بار دہرانے کے لیے کہیں اور اپنی سانس پر توجہ دینے کے لیے بھی کہیں۔ آپ بھی اس عمل کو گھبراہٹ کے وقت کرسکتے ہیں۔
اپنے نامعقول عقیدہ میں تبدیلی لانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اس طرح معقول نظام عقیدہ نامعقول نظام عقیدہ کی جگہ لے لیتا ہے اور نفسی دباؤ میں کمی آجاتی ہے۔
وقوفی علاج کا ایک دوسرا طریقہ ایرون کا ہے۔ نفسی دباؤ سے متعلق ان کے اصول کی امتیازی خصوصیت اندیشہ یا مایوسی ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ خاندان اورسماج سے حاصل ہوئے بچپن کے تجربے بنیادی نظام عمل تیار کرتے ہیں جس میں انسان کے عقائدو طریقۂ عمل شامل ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مریض جسے ایک بچے کی حیثیت سے اس کے والدین نے نظر انداز کیاہو، ایک احساس پایا جاتا ہے کہ اسے لوگ نہیں چاہتے۔ ان کی زندگی میں ایک اہم واقعہ ہوتا ہے۔ اس کا اسکول میں اپنے استاد کے ذریعہ سرے عام مذاق اڑایاگیا ۔ اس حساس واقعہ نے اس میں وہ بنیادی احساس پیدا کیا کہ مجھے لوگ نہیں چاہتے جس کی وجہ سے اس میں لازمی منفی خیالات پیدا ہوگئے۔ یہ منفی خیالات نامعقول خیالات ہیں کہ لوگ مجھے چاہتے نہیں ، میں بدصورت ہوں، میں بیوقوف ہوں ، میں آگے ترقی نہیں کرسکتاوغیرہ ایسے منفی خیالات کی امتیازی خصوصیات وقوفی مسخ شدگی ہے۔ وقوفی مسخ شدگی ایک طریقۂ فکر ہے جس کی نوعیت ایک عام سوچ کی طرح ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت کو منفی طور پر توڑ مروڑ دیتی ہے۔ فکر کا یہ اندازاعتدال سے متجاوز وقوفی ساخت کہا جاتا ہے۔ اس سے سماجی حقیقت سے متعلق وقوفی عمل میں بھول ہوجاتی ہے۔
ایسے خیالات کے بار بار آنے سے اندیشہ اوراداسی کا احساس ہونے لگتا ہے ۔ معالج ایسے سوالات کا استعمال کرتا ہے جو سیدھا مریض کے عقیدہ اور فکر کو مجروح کرنے والانہ ہوایسے سوالات کی مثال،لوگ آپ سے محبت کس وجہ سے کریں؟ آپ کے خیال میں کامیابی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ وغیرہ ایسے سوالات مریض کو اپنی منفی سوچ کے مخالف سمت سوچنے پر مجبور کرتے ہیں جہاں سے اسے اپنے نظام ناقص افعال کے بارے میں سوجھ بوجھ ملتی ہے اور وہ اپنے وقوفی ڈھانچہ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اس علاج کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ اس طرح کے وقوفی ردوبدل ہوں جس سے کہ اندیشہاور مایوسی میں کمی لائی جاسکے۔کرداری علاج کی طرح وقوفی علاج بھی مریض کے خصوصی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیتا ہے۔نفسیاتی حرکی علاج کے برعکس کرداری علاج میں کھلاپن ہے یعنی معالج اپنے طریقۂ عمل میں مریض کو شامل کرتا ہے۔ یہ چھوٹا ہوتا ہے جو 10-20 دن کی میقات میں ختم ہوتا ہے۔
وقوفی کرداری علاج
موجودہ دور میں وقوفی کرداری علاج (CBT) سب سے مقبول ہے۔ نفسی علاج کے نتائج و تاثرات سے متعلق تحقیقات سے یہ رائے قائم ہوچکی ہے کہ CBT بہت سارے نفسیاتی انتشار جیسے اندیشہ، اداسی، گھبراہٹ اورسرحدی شخصیت انتشار وغیرہ کے لیے ایک مختصر اوربااثر علاج ہے۔ CBT نفسی مریضیات کی خاکہ نگاری کے تئیں ایک حیاتی نفسیاتی سماجی نظریہ اپناتاہے۔ یہ وقوفی علاج کو کرداری طریقۂ کار کے ساتھ جوڑتا ہے۔
منطق یہ ہے کہ کسی مریض کی پریشانی کی جڑ حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی معلومات میں ہوتی ہے۔ اس لیے استراحت کے طریقۂ عمل کے ذریعہ حیاتاتی پہلو ماحولیاتی خوش اسلوبی کے ساتھ ایک قابل فہم طریقۂ کاربناتی ہے جس کا استعمال آسان ، مؤثر اور مختلف قسم کے نفسیاتی انتشار کے علاج کے لیے مناسب بھی ہے۔
انسان مرکزی وجودی علاج
انسانی وجودی معالجات کا یہ ماننا ہے کہ نفسیاتی تکالیف تنہائی، علاحدگی اور زندگی میں ناکامی اور مقصد حاصل نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
انسان ذاتی نشوونما،خودیافتگی اور جذباتی فروغ کی خلقی ضرورت کے لیے متحرک ہوتا ہے۔ جب سماج اور خاندان کے ذریعہ ان ضرورتوں کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اسے نفسیاتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خودیافتگی کی تعریف ایک پیدائشی قوت کی حیثیت سے کی گئی ہے جو انسان کو ایک زیادہ پیچیدہ ،متوازن اورمربوط ہونا یعنی پیچیدگی حاصل کرنا اور بغیر بکھرے،توازن قائم رکھنے سے کی جاتی ہے۔مربوط ہونے کا مطلب،پورے ہونے کا احساس ،ایک مکمل انسان ہونے کے سبب مختلف تجربات کا سامنا کرنے کے باوجود وہ شخص ویسا ہی رہتا ہے۔ جس طرح سے کھانا اور پانی کی کمی کی و جہ سے پریشانی پیدا ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح خودیافتگیکی ناکامی کی و جہ سے بھی پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔صحت یابی تبھی آتی ہے جب مریض اپنی زندگی میں خودیافتگی یا خودتحقق کی راہ میں اسے رکاوٹ کے طورپر سمجھ پاتا ہے اور اسے دور کرپاتاہے۔خودیافتگی کے لیے کھل کر جذباتوں کا اظہار ضروری ہوتا ہے۔ خاندان اور سماج جذباتی اظہار پر پابندی عائد کرتا ہے کیونکہ اس سے تخریبی قوت کے مسلط ہونے سے سماج کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جذباتی اظہار پر اس طرح کی پابندی سے تخریبی طرز عمل اور منفی جذبات ابھرکر سامنے آتے ہیں اس طرح یہ علاج ایک جائز بصیرتی اورقابل قبول ماحول تیار کرتا ہے جس میں مریض کے جذبات کا کھلا اظہار ممکن ہوتا ہے ،پیچیدگی اور توازن کی تکمیل حاصل ہوسکتی ہے۔ اس میں بنیادی نظریہ یہ ہے کہ مریض کو اپنے طرز عمل کو کنٹرول کرنے کی آزادی اورذمہ داری ہوتی ہے ۔معالج صرف ایک رہبراورسہولت فراہم کرنے والا ہوتا ہے۔ مریض خود علاج کی کامیابی کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس علاج کا اہم مقصد مریض میں شعور کو بڑھانا ہوتا ہے۔ صحت یابی مریض کے اپنے بارے میں بے نظیر سوجھ بوجھ کے ذریعہ آتی ہے۔ مریض اپنی نمو کے لیے کام شروع کرتا ہے جس کی وجہ سے اس میں صحت یابی آتی ہے۔
وجودی علاج
Victor Frankl نام کے ایک نفسیاتی امراض کے معالج اور علم الاعصاب کے ماہر شخص نے علاج بذریعہ الفاظ کا نظریہ پیش کیا۔ Logo روح کے لیے ایک یونانی لفظ ہے اور’’Logotherapy ‘‘کا مطلب روح کاعلاج ہے۔ Frankl نے اس عمل کو یہاں تک کہ خطرناک حالات میں بھی معنوی عمل بتایاہے۔مطلب جاننے کی بنیاد اپنے وجود کی روحانی حقیقت تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کہ لاشعور جس میں خواہشات دبی ہوتی ہیں
(باب 2 دیکھیں) ایک روحانی لاشعور بھی ہوتا ہے۔ جس میں محبت کا ذخیرہ جمالیاتی شعور اورزندگی کی قدر کا ذخیرہ ہوتا ہے ۔ اعصابی اندیشہ تب ہوتا ہے جب کسی شخص کی زندگی کے مسائل کو جسمانی، نفسیاتی اور روحانی پہلوؤں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ Frankl نے روحانی تشویش کے کردارپر بھی زوردیاجس کا نتیجہ مہمل ہوتا ہے اور اس لیے اسے وجودی اندیشہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اعصابی اندیشہ کی بنیاد روحانی ہوتی ہے۔علاج بذریعہ الفاظ کا مقصد اپنے مطلب کو جاننا و زندگی میں چاہے کیسے بھی حالات ہوں اس کی ذمہ داری کو سمجھنا۔ معالج مریض کی زندگی کی اس انوکھی نوعیت پر زور دیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کے مطلب کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔
علاج بذریعہ الفاظ میں معالج کھلے دل سے اپنے احساسات ، اقدار اور مریض کے ساتھ اپنی وجود کا ذکر کرتا ہے۔ جس میں ابھی اسی وقت پر زور دیا جاتا ہے۔ اس میں منتقلی کی شدّت سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ معالج مریض کوحال کی بے وسیلگی کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہے۔ اس مقصدسے مریض کو اپنے وجود کامطلب جاننے میں اس کی مدد کرنا ہے۔
مریض مرتکز علاج
مریض مرتکز علاج Carl Rogers نے دیا ہے۔راجرس نے سائنسی تحقیق کو مریض کے انفرادی عمل دستور کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔راجرس نے نفسی علاج میں خودی کے تصور کو پیش کیا جو کسی انسان کے اندر آزادی اورمرضی سے رہتی ہے۔ اس علاج میں گرم جوشی کا رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جس میں مرض اپنے بکھرے احساسات کو یاد کرپاتا ہے۔ معالج ہم احساس ہونے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ مریض کے تجربہ کو اس طرح سمجھتا ہے گویا کہ وہ اس کے ساتھ ہے اور وہ مریض کے لیے بلا شرط مثبت خیال رکھتا ہے یعنی مریض کو پوری طرح سے جیساوہ ہے اسی طرح اپنا لیتا ہے گویا کہ معالج و مریض کے اس ہم احساس دونوں کے بیچ جذباتی گونج پیدا ہوتی ہے۔ بلاشرط مثبت خیال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معالج مریض کے ذریعہ علاج کے دوران بتائی گئی باتوں یا کیے گئے کاموں پر منحصر نہیں ہوتا ہے۔ یہ منفردغیرمشروط گرم جوشی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ مریض خود کو بے خطر محسوس کررہا ہے اور وہ معالج پر بھروسہ کرسکتا ہے ۔ مریض خود کو اس حد تک محفوظ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے احساسات کو ظاہر کردیتا ہے۔ معالج مریض کے احساسات کو ایک غیر بصری انداز میں دیکھتا ہے۔ یہ انداز نظر مریض کے بیانات کو سنوار کرکیا جاتا ہے یعنی اس معنی کو سمجھنے کے لیے معلومات میں وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کا خیال مریض کو مکمل بنانے میں مدد کرتا ہے۔ مطابقت کو بڑھا کر ذاتی تعلقات کو بہتر بنایا جاتا ہے خلاصہ یہ کہ یہ علاج مریض کو معالج کے سامنے حقیقی کرداروضع کرنے میں مدد کرتا ہے جو اس کے لیے ایک مدد گار کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔
گیسٹالٹ نظریہ علاج
جرمنی لفظ گیسٹالٹ کا مطلب پورا یا مکمل ہوناہے۔ اس علاج کو (Frits) Freiderick Perls نے اپنی اہلیہ Laura Perls کے ساتھ مل کر پیش کیا ۔ Gestalt Therapy کا مقصد انسان کے ذاتی شعور کو بڑھانا ہے وہ خود کو اپناناتھا اس میں مریض کو جسمانی عملیات و جذبات کو جو شعور کے باہر دبے ہوئے ہیں ،کی پہچان کرنا سکھایا جاتا ہے ۔ معالج مریض کے تصادم اور احساسات سے متعلق تصورات کو باہر نکالنے میں مدد کرکے اسی کام کو انجام دیتا ہے۔ اس علاج کا استعمال کسی گروپ پر بھی کیا جاسکتا ہے۔
حیاتی طبّی علاج
نفسی پریشانیوں کے علاج میں دواؤں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اپنی بیماری کے علاج کے لیے دواؤں کے نسخہ کا استعمال پڑھے لکھے طبی پیشے ور کرتے ہیں جنھیں نفسی معالج کہاجاتاہے۔ وہ طبی ڈاکٹر ہوتے ہیں جن میں ذہنی بیماریوں کے علاج، اس کی تشخیص اورسمجھ میں مہارت ہوتی ہے۔ استعمال کی جانے والی دواؤں کی نوعیت بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ شدید ذہنی بیماری جیسے انتشارنفسی یادوقطبی انتشار میں دافع نفسیاتی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام ذہنی بیماری جیسے تعمیمی تشویش یا رجعتی افسردگی میں ہلکی دواؤں کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ذہنی علاج کے لیے جن دواؤں کا استعمال کیا جاتاہے ان کے غلط اثرات بھی ہوسکتے ہیں جنھیں سمجھنا اوردھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس طرح کا علاج مناسب طبی نگرانی میں ہو۔ یہاں تک کہ دیسی دوائیں جو ایک عام انسان پڑھائی کرنے کے واسطے جاگنے کے لیے کرتا ہے یا خود کو کسی پارٹی میں حوصلہ مند رکھنے کے لیے کرتا ہے ان کے بھی غلط اثرات ہوتے ہیں۔ ان دواؤں سے اس کی لت پڑجاتی ہے اور وہ دماغ اورجسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے خود سے کسی دوا کا استعمال کرنا خطرناک ہوتا ہے ،وہ دماغ کو متاثر کرتی ہے۔
آپ نے فلموں میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جن میں ذہنی انتشار پایا جاتا ہے اور انھیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔برقی تشنجی علاج (ECT) حیاتی طبی علاج کا ایک دوسرا طریقہ ہے۔ اس میں تشنج پیدا کرنے کے لیے مریض کوبرقیرہ کے ذریعہ دماغ میں بجلی کا ہلکا جھٹکا دیا جاتا ہے۔ یہ جھٹکا صرف نفسیاتی معالج ہی دے سکتا ہے۔ اور اسے تب دیا جاتاہے جب مریض میں سدھار کے لیے اسے دینا ضروری ہوتا ہے۔ECT ایک روز مرہ کا طریقۂ علاج نہیں ہے یہ صرف اسی حالت میں دیا جاتا ہے جب دوائیں مریض کی بیماریوں میں کام نہیں کرتی ہیں۔
نفسیاتی علاج میں صحت یابی کے معاون عوامل
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ نفسیاتی علاج نفسیاتی تکالیف کا ایک علاج ہے کئی ایسے اسبابی اجزا ہیں جو صحت یابی کے عمل میں مددگار ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے اسبابی اجزا مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ معالج کے ذریعہ اپنا یاگیا طریقۂ کار اور اسے مریض پر لاگو کرنا صحت یابی کا ایک اہم جز ہے۔ اگر کرداری نظام و CBT اسکول کسی تشویش میں مبتلا مریض کی صحت یابی کے لیے اپنایا جاتا ہے تو اس میں آرام کرنے کے طریقۂ کارا ور وقوفی معقولیت زیادہ مددگار ہوتی ہے۔
2۔ معالجاتی تال میل جو معالج و مریض کے بیچ قائم ہو نا بھی صحت یابی کی ایک خوبی ہے کیونکہ یہ معالج کی لگاتار موجودگی اور اس کی گرم جوشی والے احساسات کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔
3۔ علاج کے شروع میں جب کہ مریض کے مسائل کی نوعیت اور اس کے ذریعہ اظہار کیے گئے جذباتی خیالات کو سمجھنے کے لیے اس کا انٹرویو لیا جاتا ہے۔ جذبات کے اظہار کے اس عمل کو (Catharsis) کہا جاتا ہے اور اس کی اپنی صحت یابی کی خوبیاں ہیں۔
4۔ اس کے علاوہ کئی غیرنوعی اجزا ہیں جن کا تعلق نفسیاتی علاج سے ہے۔ ان میں سے کچھ اجزا مریض سے اور کچھ معالج سے تعلق رکھتے ہیں انھیں غیرنوعی اجزا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف نفسیاتی نظام علاج میں مریضوں اور معالج میں پائے جاتے ہیں۔ غیرنوعی اجزا مریضوں میں تبدیلی کی ترغیب علاج کی بنا پر بہتری کی توقع وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسے مریض متغیرہ کہا جاتا ہے۔غیرنوعی اجزا جو معالج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں بہتر مزاج جذباتی تصادم کی کمی، اچھی صحت کی موجودگی وغیرہ شامل ہیں۔انھیںمعالج متغیرہ کہاجاتا ہے۔
نفسیاتی علاج میں اخلاقیات
کچھ اخلاقی معیار ہوتے ہیں جن کاخیال رکھناپیشہ ور معالج کو ضروری ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
1۔ مریض کی مرضی لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
2۔ مریض کے اعتماد کوبرقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
3۔ معالج کی کوششوں کا مقصد ذاتی تکالیف و پریشانیوں کو دور کرنا ہونا چاہیے۔
4۔ معالج اورمریض کے تعلقات کی یک جہتی اہمیت رکھتی ہے۔
5۔ انسانی حقوق اوروقار کا احترام کرنا۔
6۔ پیشہ ورانہ اہلیت اورہنر بہت ضروری ہوتی ہے۔
متبادل صورتی علاج
متبادل معالجات کو ایسا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ روایتی طبی علاج یا نفسی علاج کی متبادل علاجی صورت ہوتی ہیں۔ کئی متبادل معالجات موجود ہیں جیسی مراقبہ (meditation)،سوئی کے ذریعہ علاج،(acupuncture) جڑی بوٹیوں سے علاج، یوگا وغیرہ ۔پچھلے 25 سالوں میں یوگا اورمراقبہ کو نفسیاتی تکالیف کے علاج کی حیثیت سے کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
یوگا ایک قدیم ہندوستانی تکنیک ہے جس کی تفصیل پاتا نجلی کے یوگ سوتر کے اشٹھانگ یوگ میں ملتی ہے۔یوگا جیساکہ عام طور پراسے آج کل کہا جاتا ہے کا مطلب صرف آسن یا جسمانی انداز نشست کے ترکیب یا سانس لینے کے دستور عمل یا پرانایم یا کسی دو کو ملاکرکرناہوتا ہے۔ مراقبے کا مطلب سانس پر توجہ دینے کا کام یا کسی چیز پر یا فکر یا منتر پر غور کرنے کے کام کو کہاجاتا ہے ۔ یہاں دھیان وگیان میں خود کو مشغول کرنا ہوتاہے۔گیان دھیان میں جسے پورے دماغ پر مبنی مراقبہ بھی کہا جاتا ہے کوئی طے شدہ چیز یا فکر دھیان دینے کے لیے نہیں ہوتی ہے۔ اسنان بذات خود جسم کے مختلف احساسات و فکر جو ان کے شعور سے ہوکر گزرتی ہے پر دھیان دیتا ہے بیش ہواداری (Hyperventilation) لانے کے لیے جلدی سانس لینے کی تکنیک جیسا کہ سودرشن کریا یوگ (SKY) میں ہے کہ کم جوکھم کم خرچ والا ایک طریقہ بتایا گیا جسے دباؤ ،تشویش (PTSD) اداسی دباؤ سے متعلق طبی بیماری وغیرہ کے لیے بہت ہی فائدہ مند سمجھاجاتا ہے SKY- کا استعمال صحت عامہ مداخلتی تکنیک (Public health intervention technique) کی حیثیت سے’’ PTSD‘‘ سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا جاتا ہے۔یوگ تکنیک کے استعمال سے انسانی فلاح، مزاج، دھیان ،ذہن توجہ اوردباؤ کی برداشتگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک ہنرمند استاد سے مناسب تربیت اور آدھے گھنٹہ روزانہ مشق سے اس کے فائدہ میں اضافہ ہوتا ہے نم ہنس (NIMHANS)، ہندوستان، میں ہوئی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ سدرشن کریایوگ سے اداسی اور مایوسی میں کمی آتی ہے۔ زیادہ الکوحل لینے والے مریض جو SKYروزانہ مشق کرتے ہیں میں بھی اداسی اوردباؤ کم ہوتے دیکھا گیا۔ بے خوابی کا علاج یوگا سے ہوتا ہے۔یوگا سونے کا وقت گھٹا دیتاہے اور نیند کی خوبیوںمیں بھی اضافہ کرتا ہے۔
کنڈلنی یوگا جسے امریکا میں پڑھایا جاتا ہے ذہنی بیماریوں کے علاج میں اثردار ہوتا ہے کیلیفورنیایونیورسٹی سانڈیگو،یو۔ایس۔اے۔ میں Institute of non-linear science نے بھی پایا کہ کنڈلنی یوگا بھی OCD کے علاج میں اثردار ہوتاہے کنڈلنی یوگا میں پرانا غم یا سانس کی تکنیک کو منتر کے ساتھ ملاتے ہیں۔ اداسی کے بار بار آنے سے روکنے کے لیے پورے دماغ پر مبنی گیان دھیان یا اُپاسنا مددگار ہوسکتی ہے اس طرح کے گیان دھیان سے مریض کو اپنی جذباتی مہیج کو بہتر طرز کاری میں مدد ملتی ہے اور اس طرح سے مہیج کے ناجائز طرز کاری سے روکتی ہے۔
ذہنی طور پر بیمار لوگوں کی بحالی
نفسی علاج کے دو پہلو ہوتے ہیں یعنی علامتوں میں کمی اور جسمانی کام کاج یا کیفیت زندگی میں بہتری، ہلکی بیماری کی حالت جیسے تعمیمی تشویش رجعتی افسردگی یا خوف کی علامتوں میں کمی کاتعلق زندگی کی کیفیت میں بہتری سے ہے۔بہرحال، شدید قسم کی ذہنی بیماری جیسے انتشارنفسی کی علامتوں میں کمی کا تعلق کیفیت زندگی میں بہتری سے نہیں ہے۔متعدد مریض جو دلچسپی میں کمی کسی کام کو کرنے کی خواہش میں کمی یا لوگوں سے بات چیت کرنے کی خواہش میں کمی جیسی منفی علامتوں میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے بحالی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ خودکفیل ہوسکیں۔ بحالی کا مقصد ہوتاہے مریض کو طاقتور بنانا تاکہ وہ کسی حد تک سماج کا ایک سود مند رکن بن جائے ۔بحالی میں مریض کوسماجی ہنرمندی کی تربیت ا ور پیشہ جاتی علاج اوروکیشنل علاج دیاجاتا ہے ۔پیشہ جاتی علاج میں مریض کو کچھ ہنر سکھایا جاتا ہے جیسے موم بتی بنانا، کاغذ کا تھیلا بنانا اور بننا اس طرح ان کی مدد کی جاتی ہے تاکہ ان میں کام کرنے کی عادت پڑسکے۔سماجی ہنرمندی کی تربیت سے مریض میں ایسے بین شخصی تعلقات کے فروغ میں مددملتی ہے۔ یہ مددرول پلے اورہدایت کے ذریعہ دی جاتی ہے جس کا مقصد مریض کو سماجی گروپ میں کام کرنے کی تعلیم دینا ہوتا ہے۔ وقوفی تربیت بنیادی وقوفی عمل جیسے دھیان ،ذہن و دیگر کاموں میں اضافہ کے لیے دی جاتی ہے۔ مریض میں خاطر خواہ بہتری آنے کے بعد انھیں اوروکیشنل تربیت دی جاتی ہے جن میں مریض کے ہنر بڑھانے میں مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ کوئی سود مند روزگار کرسکیں۔
کلیدی اصطلاحات
متبادل کرداری علاج، حیاتی طبی علاج، مریض مرکزی علاج، وقوفی کرداری علاج ،ہم احساس ہونا، گیسٹالٹ علاج، انسانی فطری علاج ،نفسی حرکی علاج نفسی علاج ، آبادکاری، رکاوٹ ،ذاتی حقیقت جاننا، مصالحاتی تال میل ٹرانسفیرنس، بلاشرط ایجابی لگاؤ۔
خلاصہ
◊ نفسی علاج نفسیاتی تکالیف سے صحت یابی کے لیے ایک طریقہ علاج ہے۔ یہ یکساں طریقۂ علاج نہیں ہے لگ بھگ 400 مختلف قسم کے نفسی علاج ہوتے ہیں۔
◊ نفسی تحلیل طرز عملی اوروقوفی و انسانیت وجودی جیسے کچھ اہم نظام نفسی علاج ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک نظام کے اندر کئی نظریہ ہوتے ہیں۔
◊ نفسی علاج کا اہم جزوطبی ترتیب ہوتی ہے یعنی مریض کے مسائل سے متعلق بیانات اور کسی خاص نظریہ علاج کے تحت کسی مریض کا علاج۔
◊ معالجاتی تال میل معالج اور مریض کے درمیان کے تعلقات ہوتے ہیں۔معالج جس پر مریض کو بھروسہ ہوتا ہے اورمعالج مریض کی جانب ہمدردانہ تعلق رکھتا ہے۔
◊ نفسی تکلیف میں مبتلا بڑوں کے نفسی علاج کا اہم طریقہ انفرادی نفسی علاج ہے اس میں معالج کو علاج سے قبل پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
◊ Meditation, Yoga جیسے کچھ متبادل معلوجات بھی کچھ مخصوص نفسیاتی تکلیف کے علاج میں اثردار ثابت ہوتی ہیں۔
◊ ذہنی طور پر بیمار لوگوں کی کیفیت زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آبادکاری بہت ضروری ہے جب ایک بار ان کی علامتوں میں کمی ہوجائے۔
اعادہ کے سوالات
1۔ نفسی علاج کی نوعیت اوررسائی کو بیان کریں۔ نفسی معالجات میں معالجاتی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالیں۔
2۔ نفسی علاج کی مختلف قسمیں کون کون سی ہیں؟ کس بنیاد پر انھیں درجہ بند کیا گیا ہے۔
3۔ معالج مریض سے کہے کہ وہ اپنے سارے جذبات کو بیان کرے یہاں تک کہ بچپن کے تجربات کو بھی ۔ استعمال میں آنے والے تکنیک اورطریقۂ علاج کو بیان کریں۔
4۔ طرز عملی علاج میں استعمال ہونے والی مختلف تکنیک کی وضاحت کریں۔
5۔ ایک مثال کے ساتھ وضاحت کریں کس طرح وقوفی تحریف ہوا کرتی ہیں۔
6۔ کون سے علاج مریض کے ذاتی فروغ اورقوت کو جاننے کو بڑھاوا دیتے ہیں؟ اس طریقۂ علاج کے بارے میں لکھیں جو اسی اصول پر مبنی ہیں۔
7۔ وہ کون سے اسابی اجزا ہیں جو نفسی علاج کے تحت صحت یابی میں مدد کرتے ہیں؟ کچھ متبادل معالجات کی وضاحت کریں۔
8۔ ذہنی طور پر بیمار لوگوں کی آبادکاری کے لیے کون کون سی تکنیک استعمال میں آتی ہیں۔
9۔ ایک سماجی سیکھ کے نظریہ کا بانی چھپکلی سے ہونے والے ڈر کو کس طرح دیکھتا ہے؟ نفسی تحلیل کرنے والااسے کس طرح دیکھتا ہے؟
10۔ کیاالیکٹروکنولسوتھراپی (ECT) کو ذہنی تکالیف کے علاج میں استعمال کرنا چاہیے؟
11۔ وقوفی طرز عملی علاج کس طرح کے مسائل میں سب سے زیادہ مناسب ہوتا ہے؟
پروجیکٹ کی تجاویز
� اسکول میں جب آپ اچھا کرتے ہیں تو اچھے پوائنٹ (سنہرے پوائنٹ یا اسٹار) حاصل کرتے ہیں اور کالے پوائنٹ پاتے ہیں جب آپ غلط کرتے ہیں یہ ٹوکن ایکونمی کا ایک نمونہ ہے اپنے ساتھیوں کی مدد سے آپ تمام اسکول و کلاس روم کے کام کاجوں کی ایک فہرست بنائیں جس کے لیے آپ کو کلاس ٹیچر سے یا دوستوں سے انعام یا تعریفیں ملی ہوں۔ آپ ان تمام کام کاجوں کی بھی ایک فہرست بنائیں جس کی وجہ سے ٹیچر نے سرزنش کی ہو یا دوستو ں نے ناراضگی دکھائی ہو۔
� اپنے ماضی کے کسی ایسے شخص کے بارے میں بیان کریں جنھوں نے لگاتار آپ کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھا ہو۔ اس کا آپ پر کیا اثر پڑا؟ وضاحت کریں۔
اس طرح کی معلومات اپنے دوسرے دوستوں سے بھی کریں اور ایک رپورٹ تیار کریں۔

ویب لنکس
http://www.sciencedirect.com.
http//allpsych.com.
http://mentalhealth.com
تعلیماتی اشارات
1۔ طلباسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ باب 2 میں خودی اور شخصیت میں مطالعہ کی بنیاد پرشخصیت کے کچھ نظریات کے ساتھ مختلف معالجاتی نظریہ کا تعلق قائم کریں۔
2۔ رول پلے اورطلبا سے متعلق کچھ کردار ی امور پر ڈرامے کا انعقاد کریں جیسے دوستوں کے ساتھ رشتہ ٹوٹنے سے طلبا میں دلچسپی ہوگی اور اس میں نفسیات کے اطلاق پر زور ڈالیں۔
3۔ چونکہ علاج ایک ہنر مندی کا کام ہے اس لیے اس میں پیشہ ورانہ ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے طلبا کو اس کے استعمال سے بچنا چاہیے۔
4۔ کوئی سرگرمی یا بات چیت جس کا گہرا اثر طلبا کے نفس پر پڑتا ہو، کوٹھیک ڈھنگ سے استاد کے سامنے انجام دینا چاہیے۔