Skip to content
Nafsiat-006


6

رویہ اور سماجی واقفیت

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:

◊ رویہ کیا ہوتا ہے؟یہ کیسے بنتا اور تبدیل ہوتا ہے۔

◊ لوگ دوسروں کے برتاؤ کو کس طرح پرکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔

◊ کس طرح دوسرے افراد کی موجودگی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے یہ  سمجھ سکیں گے۔

◊ کیوں لوگ پریشانی میں ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں یا کیوں نہیں کرتے ہیں۔

◊ سماج کے تئیں مثبت رویے کو سمجھ پائیں گے نیز اس کو متاثر کرنے والے عناصر کو سمجھیں گے۔

تعارف

سماجی رویوں کا بیان 

رویوں کی نوعیت اور اس کے عناصر

ایک ’’ہرابھرا ماحول‘‘کسی رویّے کے اے۔بی۔ سی۔ عناصر(باکس6.1)

رویوں کا بننا اور تبدیل ہونا

رویوں کا بننا

رویے میں تبدیلی

بیس ڈالرکے لیے جھوٹ بولنا(باکس 6.2)

رویہ اور برتاؤ کا آپسی رشتہ۔

تعصب اور امتیاز 

تعصب سے نمٹنے کی حکمت عملی

سماجی واقفیت

ذہنی خاکے اور طے شدہ امر

تاثر قائم کرنااور بیان کرنا، نسبت دہی کے ذریعہ دوسروں کا برتاؤ ظاہر کرنا

تاثر قائم کرنا

اسباب اور وجوہات کا انتساب

دوسروں کے سامنے برتاؤ

سماج کے تئیں مثبت رویہ

سماج موافق برتاؤ پر اثر انداز ہونے والے عوامل


کلیدی اصطلاحات 

خلاصہ 
اعاد ہ کے لیے سوالات
پروجیکٹ کے لیے تجاویز 
ویب لنکس
تعلیماتی اشارات

تعارف

سماجی نفسیات،علم نفسیات کی وہ شاخ ہے جس میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ فرد کا رویہ کس طرح دوسرے افراد اور سماجی ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کے کچھ خاص اطواراور برتا ؤ ہوتے ہیں اور ہم دوسرے لوگوں اور مختلف باتوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔جن لوگوں سے ہم ملتے ہیں ان کے بارے میں تأثر قائم کرتے ہیں اور ان کے رویوں کے جواز بھی ڈھونڈتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا اپنا رویہ بھی دوسرے افراد اور گروہوں سے متاثر ہوتا ہے۔   کچھ حالات میں لوگ سماج کے تئیں ایک مثبت رویے کا اظہار کرتے ہیں جیسے ضرورت مندوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنااور اس سلسلے میں کسی بدلے کے متمنی بھی نہیں ہوتے۔ ان میں سے بہت سے سماجی رویے سیدھے سادے ہوتے ہیں۔لیکن وہ عمل جو ان رویوں کے پیچھے کارفرماہوتا ہے،اسے بیان کرنا ایک پیچیدہ کام ہے۔ یہ سبق اطوار ،سماجی واقفیت یا مصروفیت،اور سماجی رویوں کی معلومات دے گا جن کا بیان سماجی نفسیات کے ماہرین نے کیا ہے۔

سماجی رویّوں کا بیان

سماجی رویّہ انسان کی زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے اور’’سماجی‘‘ کا مطلب صرف دوسرے افراد کی صحبت ہی نہیں ہے۔آپ یاد کیجیے کہ پچھلی جماعت میں آپ نے پڑھا ہے کہ سماجی نفسیات ان تمام رویوں کا مطالعہ کرتی ہے جو دوسروں کی موجودگی،موجودگی کا گمان ہونے کی حالت میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اس کو ایک مثال سے بھی سمجھاجاسکتا ہے۔ اگر آپ کو ایک نظم یاد کرکے سنانی ہو تو آپ تنہائی میں اس کام کو بہ آسانی کرلیں گے۔لیکن اگر یہی نظم کچھ سامعین کے سامنے سنانی ہو تو آپ کی کار کردگی متاثر نظر آئے گی  کیونکہ اب آپ کو ایک سماجی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔صرف اس گمان سے ہی کہ کچھ لوگ آ پ کی آواز سن رہے ہیں (خواہ وہ حقیقت میںسامنے موجود نہ ہوں) آپ کی کارکردگی تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ صرف ایک مثال بتانے کے لیے ہے کہ ہمارے سماجی ماحول ہماری سوچ، جذبات اور رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور وہ بھی بہت سے پیچیدہ طریقوں سے۔ماہرین نفسیات نے سماجی رویوں کا مختلف شکلوں کا محاسبہ کیا ہے اور ان کے جوازڈھونڈنے کی کوشش بھی کی ہے۔سماجی اثرات کی و جہ سے لوگ دوسروں کے بارے میں خیالات یا رویوں کی تشکیل کرتے ہیں،زندگی کے مختلف امورکے بارے میں سوچتے ہیںاور یہ تمام خیالات برتاؤ اور رجحانات میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں توہم ان کی ذاتی خصوصیات کے بارے میں نتیجے نکالتے ہیں۔یہی عمل تاثرقائم کرنے کا عمل کہلاتا ہے۔ہمیں اس میں بھی دلچسپی ہے کہ لوگ کسی ایک حالت میں ایک خاص طرح سے ہی کیوں برتاؤکرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ کہ ہم سماج کی مختلف مخصوص حالتوں میں ہونے والے انسانی رویوں کی وجوہات تلاش کرتے ہیں۔یہ طریقہ عمل نسبت دہی کہلاتا ہے۔اکثر اوقات تاثر قائم کرنااورنسبت دہی رویوں اور برتائو سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ تینوں عمل ان ذہنی اعمال کی مثال ہیں جو سماج کے بارے میں اجتماعی معلومات اوراس کے محاسبے سے متعلق ہوتے ہیں۔اور دراصل اس کو ہی سماجی وقوف کہاجاتا ہے۔ یہ وقوف ان وقوفی اکائیوں کے ذریعہ عمل میں آتی ہے جنھیں ذہنی خاکے کہاجاتا ہے۔ وقوف کا یہ عمل سیدھے طورپر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ ذہنی خاکے ہمارے ظاہری رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔مشاہدوں کے دوران رویوں پر سماجی اثر کو صاف طور پر دیکھاجا سکتا ہے اور ایسی کئی مثالیں ہیں۔ ان میں سے دوسماجی تسہیل اور بندش یا اظہار بستگی ہیں۔مطلب یہ کہ دوسروں کی موجودگی میں یاان کی مدد سے صلاحیتوں کا ارتقایا زوال یا پھرسماجی رویے جن میں ضرورت مند اور پریشان افراد کی مدد کی جائے سماجی تناظر کس طرح فرد کے رویے پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس بات کو مکمل طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سماجی وقوفی عمل اور سماجی رویے، دونوں کا مطالعہ کیا جائے۔ ماہرین کا کہناہے کہ لوگ اپنے خود کے اور دوسروں کے متضاد رویوں کو کس طرح سمجھتے ہیں، اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اپنی سمجھ بوجھ اور فہم عامہ سے اوپر اٹھ کر مطالعہ کرنا ہوگا۔سائنٹفک طریقے اور منظم مشاہداتی تکنیک کے استعمال سے سماجی رویوں کے منطقی رشتوں کا مطالعہ کرناآسان ہوسکتاہے۔
یہ سبق اوپر دیے گئے تمام بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالے گا۔ہم رویوں کے بیان سے شروعات کریں گے۔

رویوں کی نوعیت اور اس کے عناصر

کچھ منٹ تک مندرجہ ذیل ذہنی ورزش خاموشی سے کیجیے۔ آج دن میں کتنی بار آپ نے خود سے کہاکہ’’میری رائے میں…‘‘یا’’اورسب یہ سمجھتے ہیں لیکن مجھے ایسا محسو س ہوتا ہے کہ…‘‘؟
خالی جگہوں میں جوالفاظ آپ بھریں گے وہ رائے ہوں گی۔اب اس مشق کو جاری رکھتے ہوئے بتائیے۔یہ تمام آرا آپ کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہیں؟ ان میں سے کچھ کا موضوع آپ کے لیے اوسط اہمیت کا حامل ہوگا،یہ صرف سوچنے کے طریقے ہیں اور آپ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ دوسرے لوگ آپ کے خیالات سے متفق ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف آپ دیکھیں گے کہ کچھ آرا آپ کے لیے نہایت اہم ہیں،اگر کوئی ان موضوعات پر آپ کی مخالفت کرتا ہے یا آپ کو چیلنج کرتا ہے تو آپ جذباتی ہوجاتے ہیں ہوسکتا ہے ان میں سے بعض خیالات کوآپ نے اپنے برتاؤ کا حصہ بنا لیاہو۔ دوسرے الفاظ میں اگر آپ کے خیالات صرف سوچ کی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ جذباتی اور عملی پہلو بھی رکھتے ہیں تو یہ خیالات ،سوچ یاسرائے سے بڑھ کر ہیں اور یہ آپ کے رویوں کی مثال ہیں۔ رویوں کے بارے میں تمام ترتعارف اس امر پر متفق ہیں کہ رویہ ایک ذہنی حالت ہے،خیالات کا پلندہ ہے(ایک مخصوص موضوع سے متعلق)،جس کا محاسبہ یا مشاہدہ کیاجاسکتا ہے۔ نیز اس میں تعین قدر یعنی مثبت،منفی یا غیر جانب دار متوازن خصوصیات کا مطالعہ کیاجاسکتا ہے۔ یہ ایک جذباتی عنصر کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک خاص موضوع پر مخصوص طریقے سے رد عمل کا رجحان ہے۔ اس میں سوچ یا خیال کا پہلو وقوفی پہلو کہلاتا ہے۔جذباتی عنصرقلبی کیفیت سے متعلق یا احساسی پہلو کہلاتا ہے اور عمل کا رجحان برتاؤ یا جہدی رویہ کہلاتا ہے۔ اگر ان تینوں کو ساتھ ملا کر دیکھاجائے تو انھیں’’اے۔بی۔سی۔ عناصر‘‘یا’’رویے کااحساسی یا کرداری وقوفی عمل‘‘کہاجائے گا۔یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ رویے کبھی کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ اس رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جوفرد کے کردار میں کچھ مخصوص طریقوں سے جھلکتا ہے۔یہ ادراک یا واقفیت کا ایک جذباتی پہلو ہے اور الگ سے ان کے بارے میں مطالعہ یا مشاہدہ ناممکن ہے۔ باکس6.1 میں ماحول کے تئیں رویے کی ایک مثال دی گئی ہے جس میں ان تینوں عناصر کے مابین رشتے کو بخوبی دیکھاجاسکتا ہے۔

باکس 1.6

’’ایک ہرا بھرا ماحول ‘‘ کسی رویے کے اے ۔بی۔سی۔ عناصر

فرض کیجیے کہ آپ کے پڑوس کے کچھ افراد ہرا بھرا ماحول بنانے کے لیے کچھ پیڑپودے لگانے کی مہم شروع کرتے ہیں۔سرسبز ماحول کے بارے میں جان کاری ہونے کے سبب آپ کے خیالات اس ضمن میں مثبت ہوں گے (واقفیت کا عنصر یعنی’’سی‘‘) ہریالی کو دیکھ کر آپ کو خوشی ہوگی اور پیڑوں کو کٹا ہوا دیکھ کر آپ کو رنج وغصہ آئے گا۔ یہ پہلو ایک ہی رویے کی قلبی یا احساسی کیفیت کو ظاہر کرتاہے(’’اے‘‘عنصر) اب فرض کیجیے کہ آپ نے پیڑ لگانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو یہ آپ کے رویے کے کرداری پہلو (’’بی‘‘عنصر) کو نمایاں کرتا ہے۔عموماً ہم تینوں عناصر کو یکجا کرکے ہی دیکھتے ہیں اور ان کی سمت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔لیکن یہ یکسانیت سب ہی طرح کے حالات میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔مثال کے طورپر ممکن ہے کہ سرسبز ماحول کے تئیں آپ کے رویے کا وقوفی عنصر مضبوط ہو لیکن احساسی اور کرداری عنصر تھوڑا کمزور ہوسکتا ہے۔یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ احساسی اور وقوفی عناصر زیادہ مضبوط ہوں لیکن کرداری عنصر کمزور یا متوازن ہو۔مقصد یہ کہ بقیہ دو عناصر کو بنیاد بناکر تیسرے کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کرنا مناسب نہیں ہے اور یہ ہمیں کسی رویے کی صحیح تصویر نہیں پیش کرے گا۔


رویوں کو دوسرے خیالات،عقیدہ اور اقدار (جو آپس میں بری طرح گتھے ہوئے ہیں) سے بالکل الگ کرکے دیکھنا چاہیے۔ان میں عقیدہ رویے کے وقوفی عنصر کی نمائندگی کرتا ہے اور اس بنیاد کو تیار کرتا ہے جس پر رویہ بنتا ہے جیسے خدا پر اعتقاد،سیاسی خیالات کے ضمن میں جمہوریت میں یقین وغیرہ۔

اقدار وہ رویے یا اعتقاد ہیں جن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ’’ایسا ہونا چاہیے یا نہیں؟‘‘جیسے اخلاقی اقدار وغیرہ ۔قدر کی ایک مثال یہ خیال ہے کہ انسان کو محنت کرنی چاہیے یا ایماندار ہوناچاہیے کیونکہ ایمانداری بہترین پالیسی ہے۔ اقدار تب ظہور میں آتیہیں جب کوئی ایک مخصوص اعتقاد یا رویہ انسان کی زندگی کے تئیں رجحان کا لازمیجزوبن جاتا ہے۔نتیجتاً اقدار کو تبدیل کرنا مشکل امر ہے۔

رویہ انسان کی زندگی میں کیا رول ادا کرتا ہے؟ہم نے دیکھا کہ رویہ ایک  پس منظر تیار کرتا ہے جو فرد کو نئے حالات کا سامنا کرنے کی سہولت مہیاکرتا ہے۔مثال کے طور پر غیر ملکیوں کے تئیں ہمارا رویہ بلاواسطہ طور سے ہمارے ذہن میں ایسا خاکہ تیار کرے گا جو غیر ملکیوں کے لیے ہمارا برتاؤ طے کرے گا۔

قلبی یا احساسی،وقوفی اور کرداری عناصر کے علاوہ رویوں کی کچھ اور خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔چار اہم خصوصیات ہیں:1۔قوت کشش(مثبت یا منفی) 2۔شدت،3 سادگی یا پیچیدگی (کثیر الاجزائی )اور4۔مرکزیت۔

قوت کشش رویے کی کشش اور اس کی قوت ہمیں بتاتی ہے کہ وہ رویہ کے کسی مخصوص موضوع کے لیے مثبت ہے یا منفی ہے۔مان لیجیے کہ نیوکلیر تحقیق سے متعلق کسی رویے کو پانچ نکات پر پرکھاجائے (1۔بہت برا 2۔برا 3۔ مساوی—نہ ہی برا نہ ہی اچھا 4۔اچھا اور 5۔بہت اچھا) اگر ایک فرد اپنے خیالات کو چوتھے یا پانچویں نمبر پر رکھتا ہے تو یہ بلاشبہ ایک مثبت رویہ ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ فرد اس خیال کو پسند کرتا ہے اور اس کی نظر میں نیوکلیائی تحقیق اچھی چیز ہے۔دوسری طرف اگر یہ خیال پہلے یا دوسرے نمبر پر رہتا ہے تو یہ منفی رویہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص نیوکلیائی تحقیق کے موضوع کو پسند نہیں کرتا اوراس کو براسمجھتا ہے۔ہم مساوی رویوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ اس مثال میں نیوکلیائی تحقیق سے متعلق مساوی رویہ ظاہر ہوگا اگر فرد اپنے خیالات کو تیسرے نمبر پر رکھتا ہے۔یہ رویہ نہ تو مثبت کہلائے گااور نہ ہی منفی اور نہ ہی یہ کسی قسم کی قوت کشش کا حامل ہوگا۔

شدت رویے کی انتہائی حالت یعنی شدت یہ نمایاں کرتی ہے کہ کوئی بھی رویہ کتنا مثبت ہے اور کتنا منفی ہے۔اوپر دی ہوئی مثال میں پہلے اور پانچویں نمبر پر رہنے والے رجحانات اسی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔وہ ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں جب کہ دوسرے اور چوتھے نمبر کے خیالات میں شدت کی کمی ہے۔ بلاشبہ ایک غیر جانبدار مساوی رویہ اس سلسلے میں سب سے نچلی سطح پر ہے۔

سادگی یا پیچیدگی یہ وصف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کسی بھی ایک رویے میں کتنے ذیلی رویے پوشیدہ ہیں۔ذراسوچیے کہ ایک ہی خاندان کے افراد کے رویے مل کر خاندان کا اجتماعی رویہ کس طرح بناتے ہیں۔مختلف موضوعات جیسے صحت اور عالمی امن وچین وغیرہ کے معاملے میں لوگ مختلف رویوں کے حامی ہوتے ہیں۔ ان موضوعات پر سب ہی افراد کا یکساں رویہ نہیں ہوتا۔ رویوں کایہ نظام اگر ایک یا چند رویوں پر مبنی ہو تو سادہ نظام کہلاتا ہے اور اگر اس میں بہت سے مختلف اورمتضاد رویے شامل ہوں تو یہ پیچیدہ نظام کہلاتاہے۔صحت ،تندرستی اور فلاح و بہبودکے تئیں رویوں کو مثال کے طورپر دیکھیے۔ رویوں کا یہ نظام بہت سے ممبران کے خیالات اور رویوں سے مل کر بنتا ہے۔جیسے کہ کسی فرد کا جسمانی اور ذہنی صحت کا تصور،کسی کا خوشی اور سکون کے بارے میں رویہ اور یہ اعتقاد کہ کیسے امن وآشتی یا صحت مندی حاصل کی جاسکتی ہے۔اس کے برعکس کسی شخص کے لیے عموماً ایک ہی طرح کے رویے ہوں گے۔رویوں کے نظام میں اندرونی بہت سے رویوں کا نظریہ پہلے کیے گئے عناصر کو سمیٹے ہوتا ہے۔

مرکزیت یہ رویوں کے نظم میں کسی ایک مخصوص رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسا رویہ جس میں زیادہ مرکزیت ہوگی اپنے نظام کے دوسرے رویوں کو زیادہ متاثر کرے گا بہ نسبت ان رویوں کے جوغیر مرکزی ہوں مثال کے طورپر دنیاوی امن کے تئیں رویہ میں ایک منفی رویہ بھی موجود ہے جو فوج پر مزید اخراجات کی شکلوں میں ہے اور یہی اس رویہ کا مرکزی پہلوبھی ہے جو پورے نظام کے رویوں کو متاثر کرتا ہے۔

رویوں کا بننا اور تبدیل ہونا

رویوں کا بننا

 ماہرین نفسیات کی جس سوال میں سب سے زیادہ دلچسپی ہے وہ ہے’’رویے کس طرح وجود میں آتے ہیں؟‘‘بہت سے دوسرے خیالات وتصورات کی طرح،جو ہمارے وقوفی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں،مختلف موضوعات،کچھ مخصوص رویوں کی طبع یا ان کے بننے کے لیے کچھ مخصوص حالات ذمہ دار ہوتے ہیں۔

عموماً انسان اپنے تجربات کی روشنی میں رویہ طے کرتاہے اور دوسروں سے روابط بھی اس کا رویہ بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحقیقات کی روشنی میں رویے کا ایک پہلو ایسابھی ہے جو پیدائشی فطرت سے متعلق ہے لیکن یہ جنسیاتی پہلو انسان کے رویے پر بلا واسطہ طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔سیکھنے اور پرکھنے کے بعد بننے والے رویے کا عمل جاری رہتا ہے۔اسی لیے زیادہ تر سماجی نفسیات کے ماہرین اسی بات پر زوردیتے ہیں کہ مطالعے کا مرکز رویے کا سیکھنا ہی ہونا چاہیے۔

رویّوں کے بننے کا عمل 

سیکھنے کا عمل اور حالات مختلف ہوسکتے ہیں جس کی و جہ سے مختلف افراد کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔

 •  لگاؤیا رفاقت کے ذریعہ سیکھاگیا رویہ

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر طالب علم کسی خاص موضوع کے تئیں پسندیدگی کااظہارکرتے ہیں خصوصاً اس موضوع کے استاد کی و جہ سے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اس ٹیچر میں کچھ خصوصیات دیکھتے ہیں۔ یہ مثبت خصوصیات اس موضوع کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں جس کو وہ استاد پڑھاتا ہے۔ اور نتیجے کے طورپر بچوں کی اس موضوع کے تئیں پسندیدگی پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں موضوع کے تئیں ایک مثبت رویہ استاد اور طالب علم کے آپسی لگاؤ کی و جہ سے بنتا ہے۔

•  سزا یا جزا کے تصور سے بننے والا رویہ

اگر کسی فرد کی اس کے کسی مخصوص رویے کے لیے تعریف کی جائے تو یہ بات مستحکم ہے کہ وہ اپنے اس رویے کو مزیدفروغ دے گا۔مثال کے طورپر اگر ایک نوعمرروزانہ یوگ آسن کرتا ہے اور اس و جہ سے اس کو اسکول میں’’بہترین صحت‘‘کا انعام دیاجاتا ہے تو ایسے بچے یا بچی کا صحت اور یوگا کے تئیں ایک مثبت رویہ بن جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک بچہ الٹاسیدھا کھانے کی و جہ سے جلدی جلدی بیمار پڑتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ غیر متوازن غذا کے تئیں وہ بچہ ایک منفی رویہ اپنالے اور ردعمل کے طورپر متوازن غذا کے لیے اس کا مثبت رویہ بن جائے۔

•  دوسروں کو دیکھ کر بننے والا رویہ

اکثر نہ تو کسی لگاؤ اور نہ ہی کسی نفع یا نقصان کا تصور،رویوں کے بننے میں مددگار ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو دیکھ کر ہم اپنا رویہ طے کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر بچے اپنے والدین کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہیں،نتیجے کے طورپر بچے بھی اپنے والدین کے تئیں عزت اورپیار کا رویہ اپناتے ہیں۔

•  گروہ یا تہذیب کے قواعد سے بننے والا رویہ

اکثر اوقات ہم اپنے گروہ یا اپنی تہذیب و ثقافت کے اصولوں کو دیکھ کر بھی اپنا رویہ ترتیب دیتے ہیں۔ یہ اصول کہیں تحریر نہیں ہوتے پھر بھی ایک فرد سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ کچھ مخصوص حالات میں اسی طرح کا برتاؤ کرے گا۔وقت گذرنے کے ساتھ یہ اصول ہماری سماجی وقوف کا حصہ بن جاتے ہیں اور ہمارے رویوں کی تشکیل میں مددگار ہوتے ہیں۔ رویوں کی اس طرح کی گئی تشکیل پہلے بتائے گئے تینوں طریقوں کی مثال بھی کہی جاسکتی ہے۔ لگاؤ کے ذریعے بننے والا رویہ،سزا یا جزا کی و جہ سے بننے والا رویہ اور دوسروں کو نمونہ کرکے بننے والا رویہ ان تینوں کی مثال ہمارے ثقافتی قوانین سے بننے والا رویہ ہے ۔مثال کے طورپر کسی مذہب میں عبادت گاہوں میں پیسے، مٹھائی،پھل اور پھول پیش کرنا ایک ثقافتی کردار یا برتاؤ ہے۔ جب ایک فرد دیکھتا ہے کہ اس طرح کا برتاؤ    جو لوگ کررہے ہیں ان کی تعریف وتوصیف کی جارہی ہے تو وہ فرد بھی اس طرح کے رویے کے تئیں مثبت رویہ اپنالیتا ہے اور عقیدت کے احساس سے جڑجاتا ہے۔

•  مطالعے کی بنیادپر بننے والا رویہ

زیادہ تر رویوں کی تشکیل سماجی تناظر میں ہوتی ہے۔لیکن ضروری نہیں ہے کہ دوسرے افراد جسمانی طورپر موجود ہوں۔موجودہ دور میں میڈیا کے ذریعہ بے تحاشہ اطلاعات موجود ہیں اور اس واقفیت کی بنا پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے رویے جنم لیتے ہیں۔محنتی اور خود ساختہ افراد کی سوانح پڑھ کر ایک فرد محنت اور کامیابی حاصل کرنے کے دوسرے ذرائع کے تئیں مثبت رویہ اپنا سکتا ہے۔

•  رویوں کی تشکیل میں اثرانداز ہونے والے عناصر

اوپر دیے گئے تمام طریقوں کے لیے درج ذیل عوامل ایک پس منظر تیار  کرتے ہیں۔

1۔  خاندان اور اسکول کاماحول:زندگی کے ابتدائی سالوں میں خاندان کے افراد اور ماں باپ رویے کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسکول کا ماحول اس ضمن میں خاص کردار کا حامل ہوتا ہے۔خاندان اور اسکول میں رویوں کو سیکھنا،عموماً لگاؤ سے،یا سزا اور جزا کے خیال سے یا پھر دوسرے افراد کو بطور نمونہ دیکھ کر ہی ممکن ہوتا ہے۔

2۔  حوالہ جاتی گروہ:یہ گروہ فرد کو تسلیم شدہ برتاؤ اور خیالات کے بارے میں بتاتے ہیں۔اس طرح سماجی اورثقافتی قوانین کے ذریعے سیکھنے کا عمل اس قسم میں منعکس ہوتا ہے۔سیاسی،مذہبی اور سماجی گروہوں ، مختلف پیشوں اور دیگرقومی پہلوؤں کے تئیں افراد کا رویہ اکثر ان حوالوں کی مدد سے ہی تشکیل پاتا ہے نوجوانی کے دور میں یہ اثر خاص طورسے دیکھا جاسکتا ہے۔کیوں کہ اس دور میں فرد یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔اس طرح حوالوں سے سیکھ کر بننے والا رویہ سزا اور انعام کے خیال سے بننے والے رویے سے منسلک ہے۔

3۔  ذاتی تجربات:بہت سے رویے نہ تو خاندان میں تشکیل پاتے ہیں اور نہ ہی سماج میں رائج حوالوں سے بنتے ہیں بلکہ خود ہمارے ذاتی تجربات کی بنیادپر بنتے ہیں،خصوصاًان تجربات پر جو ہماری زندگی اوردوسروں کے تئیں ہمارے رویوں میں زبردست تبدیلی لاتے ہیں۔ یہاں ہم زندگی کی ایک حقیقی مثال پیش کرتے ہیں۔فوج میں بھرتی ایک ڈرائیور کو ایک ایسا تجربہ ہوا جس نے اس کی زندگی ہی بدل دی۔ایک مشن کے دوران اس کے سبھی ساتھی مارے گئے لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ اپنی زندگی کے مقصد پر حیران ہوتے ہوئے اس نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور مہاراشٹر میں اپنے آبائی گاؤں میں واپس آگیا اور یہاں آکر اس نے ایک کمیو نٹی لیڈر کے طور پر  کام کرنا شروع کردیا۔ بالکل ذاتی تجربے کی و جہ سے اس شخص کے ذہن میں قوم کی بہبود کاخیال آیا اور اس کے تئیں اس کا مثبت رویہ نموپاسکا۔ اس کی کوششوں سے اس گاؤں کی شکل ہی بدل گئی۔

4۔  میڈیا سے پڑنے والے اثرات:موجودہ دور میں تکنیکی ارتقا نے سمعی وبصری آگاہی اور واقفیت ،انٹرنیٹ کو بھی اس ضمن میں ایک طاقتور رابطہ بنادیاہے جس کے ذریعے رویوں کی تشکیل کے عمل میں مددملتی ہے نیز ان کو تبدیل کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول کی کتابیں بھی اس کام میں اثراندازہوتی ہیں۔ یہ ذرائع اول تو وقوفی اورقلبی عناصر کو مضبوط کرتے ہیں اورساتھ ساتھ رویے کے کرداری عنصر کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ میڈیاکے ذریعہ فردکے رویے پراچھا اور برا کوئی بھی اثر پڑسکتا ہے۔ایک طرف تومیڈیا اور انٹرنیٹ لوگوں کو جلدی اور تیز فہم ادراک سے آگاہی دیتا ہے لیکن اس کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ آگاہی یا ادراک کی طبع پر کوئی قابو نہیں ہوتا اور اسی لیے رویوں کی تشکیل پر بھی قابو نہیں رہ پاتا نہ ہی رویوں کی سمت میں آنے والی تبدیلی روکی جاسکتی ہے۔میڈیاکو سماج میں امن وآشتی بنائے رکھنے اورصارفی رویہ فروغ دینے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔

رویے میں تبدیلی 

رویوں کی تشکیل کے دوران عمل اوراس کے بعدبھی،رویوں کو بہت سے طریقوں سے تبدیل کیاجاسکتا ہے یا متاثرکیاجاسکتاہے۔ کچھ رویّے تو بقدرے تبدیل ہوجاتے ہیں اورکچھ کم۔ جو رویّے ابھی ابتدائی دور میں ہوتے ہیں اور ابھی صرف رائے کا درجہ ہی رکھتے ہیں وہ جلد تبدیل ہوجاتے ہیں بہ نسبت ان رویوں کے جو مستحکم ہوچکے ہوں اور فرد کے اقدار میں شامل ہوچکے ہوں۔عملی نقطۂ نظرسے افراد کے رویوں میں تبدیلی لانے میں سیاستدانوں، سماجی رہنماؤں،صارفی اشیاکے بنانے والوں،ان اشیا کی فروخت کی کوشش کرنے والوں کوزیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔جب تک ہم یہ نہ معلوم کریںکہ رویے کس طرح تبدیل ہوتے ہیں اور اس تبدیلی کے لیے کون سے حالات ذمہ دارہوتے ہیں،تب تک ہم اس تبدیلی کا بغورمطالعہ نہیں کرپائیں گے۔

رویوں کی تبدیلی کا عمل

رویوں کی تبدیلی تین مخصوص خیالات کے زیراثرہوتی ہے۔ وہ درج ذیل ہیں:

(a)  نظریۂ توازن جو Fritz Heider کانظریہ ہے اور کبھی کبھی اس کوP–O–X کے مثلث کی شکل میں بھی دیکھاجاسکتا ہے۔یہ رویوں کے تین پہلوؤں کے مابین رشتے کی نمائندگی کرتا ہے۔اس میں’P‘وہ شخص ہے جس کا رویہ زیر مطالعہ ہے،’O‘ ایک دوسرا شخص ہے اور’X‘وہ موضوع ہے جس کے تئیں اس رویے کو دیکھاجارہاہے یعنی’’رویے کاموضوع‘‘یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں تینوں ہی افراد کی شکل میں ہو۔

بنیادی خیال یہ ہے کہ رویہ جب تبدیل ہوتا ہے اگرP–O، یاO–X یا پھرP–Xکے درمیان آپسی رویے تبدیل ہوتے ہیں یاا ن کا توازن بگڑتا ہیتوایسا اس لیے ہوتا ہے کہ توازن کا بگڑجانا بنیادی طورپر تکلیف دہ ہوتاہے۔ اس لیے رویہ توازن بنانے کی سمت میں بدل جاتا ہے۔ یہ غیر متوازن حالت اس وقت پائی جاتی ہے جبP–O–X (i) مثلث کی تینوںحالتیں منفی ہوںیا (ii) دو حالتیں مثبت ہوں اورتیسری منفی ہو۔ توازن اس وقت قائم ہوتا ہے جب یا تو(i) تینوں حالتیں مثبت ہوں یا پھر (ii) دوحالتیں منفی اورایک مثبت ہو۔

’’جہیزکی رسم‘‘کو ایک موضوع کے طورپر رکھ کر اس کے تئیں رویوں کو مثال کے طورپر دیکھ سکتے ہیں۔یہاں موضوع’X‘ہے۔مان لیجیے کہ کسی فرد (P) کا رویہ جہیزکے تئیں مثبت ہے تو P–X کے درمیان ایک مثبت رشتہ ہوگا۔(P) اپنے بیٹے کی شادی کسی (O) کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہے جس کا نظریہ جہیزکے تئیں بالکل منفی ہے یعنی ’O-X‘کے مابین منفی رشتہ ہوا۔ اس ضمن میں P-O رویے کی فطرت ہوگی اور یہ کسی طرح توازن پیداکرے گا یا غیر متوازن ہوگا؟ اگر اس مثلث میںO بنیادی طور سے P کے لیے خیرخواہی کا جذبہ اوررشتہ رکھتا ہے توحالات غیر متوازن ہوں گے۔ یہاں P–X مثبت ہے،O–P مثبت ہے لیکنO–X منفی ہے۔مطلب یہ کہ یہاں دومثبت اور ایک منفی رجحان ہے اور یہ غیر متوازن حالت ہے۔ ان میں سے کسی ایک رویے کو تبدیل ہونا پڑے گا ۔ یہ تبدیلی P-x رشتے میں ہوسکتی ہے (Pجہیز کو ایک رواج کے طور پر ناپسند کرنے لگتا ہے)یا O–Xرشتہ میں بھی ہوسکتی ہے (کہO جہیز کی رسم کو پسند کرنے لگتاہے) یا پھرO–P رشتہ میں تبدیلی ہوگی (P–O کو ناپسند کرنے لگتاہے) مختصر اً یہ کہ تین مثبت رشتے قائم کرنے کے لیے کہیں کسی رویے میں تبدیلی لازمی ہے۔  اسی طرح دو منفی اور ایک مثبت رشتہ بنانے کے لیے بھی رویے میں تبدیلی کرنی ہوگی۔

(b) وقوفی بے آہنگی کا تصور:یہ نقطۂ نظر Leon Festinger نے پیش کیاتھا۔ یہ وقوفی عنصرپر زوردیتا ہے یہاں بنیادی خیال یہ ہے کہ رویے کا وقوفی عنصر ہم آہنگ ہونا چاہیے(بے آہنگی کاالٹا)،مقصد یہ کہ دلیلوں کے اعتبارسے یہ ایک ہی لائن میں ہو نے چاہئیں۔   اگر ایک فرد کو لگتا ہے کہ رویے کے دووقوفی عناصر ہم آہنگ نہیں ہیں تو ان میں سے ایک ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے تبدیل کردیاجائے گا۔مثال کے طورپر مندرجہ ذیل موضوع کے بارے میں سوچیے۔

وقوف اول:–پان مصالحہ منھ کی کینسرکا موجب ہوتاہے جو جان لیوا ہے۔

وقوف دوئم:–میں پان مصالحہ کھاتا ہوں۔

یہ دونوں خیالات کسی بھی انسان کو یہ محسوس کراسکتے ہیں کہ کہیں کچھ گڑبڑیا بے آہنگی ضرور ہے۔ پان مصالحہ کے تئیں رویے ہم آہنگ نہیں ہیں تو ان میں سے ایک خیال کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ رویے میں ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔ اس مثال میں بے آہنگی ختم کرنے کے لیے میں پان مصالحہ کھانا بندکردوں گا (وقوف دوئم میں تبدیلی)۔ بے آہنگی دورکرنے کا یہ ایک صحت مند،مدلل اور بہتر طریقہ ہے۔

Festinger اور Carlsmith،دوسماجی نفسیات کے ماہرین نے ایک تجربہ کیا کہ وقوفی بے آہنگی کس طرح کام کرتی ہے۔(باکس6.2 دیکھیں)

متوازن اور ہم آہنگ واقفیت دونوں ہی وقوفی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔وقوفی یکسانیت کا مطلب ہے کہ رویے کے دوحصے یا دو عنصر ایک ہی سمت میں ہونے چاہئیں۔ہر ایک حصہ منطقی طورپر دوسرے حصے کی لائن میں ہی ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو فرد کو ذہنی خلش ہوجائے گی،مطلب یہ کہ فرد کو محسوس ہوگا کہ’’ کہیں کچھ ایسا ہے جو ٹھیک نہیں ہے‘‘۔ رویوں کے نظام میں اس حالت میں کچھ پہلو یکسانیت کی سمت میں تبدیل ہوجاتے ہیں کیوں کہ ہماراوقوفی نظام منطقی یکسانیت چاہتا ہے۔

باکس 2.6  

                      بیس ڈالر کے لئے جھوٹ بولنا

ایک بہت بورسے تجربے میں حصہ لینے کے بعد طلباسے کہاگیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کے دوسرے گروپ کو جوباہرانتظار کررہے ہیں،یہ بتائیں گے کہ یہ تجربہ انتہائی دلچسپ تھا۔ اپنے ساتھیوں سے یہ جھوٹ بولنے کے عوض پہلے گروپ کے آدھے بچوں کو 1ڈالر دیا گیا جب کہ باقی کو 20 ڈالر دیے گئے۔  کچھ ہفتوں کے بعد ان لوگوں سے اپنے تجربے کو یاد کرنے کو کہاگیا اور ان سے پوچھا گیا کہ یہ تجربہ کتنادلچسپ تھایہ بھی بتائیں۔ ان کے جوابات سے پتہ چلا کہ جن لوگوں کو ایک ڈالر دیاگیا تھا انھیں یہ تجربہ زیادہ دلچسپ لگابہ نسبت ان لوگوں کے جن کو بیس ڈالر دیے گئے تھے…اس کا مطلب کہ ایک ڈالر والے طلبانے تجربے کے تئیں رویہ تبدیل کرلیاکیوں کہ ان کو وقوفی بے آہنگی کا تجربہ ہوا تھا۔

ایک ڈالروالاگروپ

متبادل یا تبدیل شدہ واقفیت۔

بنیادی واقفیت

بے آہنگی کم کردی گئی۔

بے آہنگ وقوف

’’تجربہ حقیقت میں دلچسپ تھا‘‘۔

’’تجربہ بہت بورتھا‘‘،میں نے باہر انتظار کرتے ہوئے لوگوں سے کہاکہ یہ بہت دلچسپ تھا۔’’میں نے صرف ایک ڈالر کے لیے جھوٹ بولا۔‘‘

’’میں نے باہر انتظارمیں کھڑے لوگوں سے کہا کہ یہ دلچسپ تھا۔‘‘

’’مجھے صرف ایک ڈالر کے لیے جھوٹ نہیں بولناتھا۔‘‘

بیس ڈالروالاگروپ:اس گروپ کو وقوفی بے آہنگی کا تجربہ نہیں ہواتھا۔ اس لیے انھوں نے اس تجربہ کے تئیں اپنے رویے کو نہیں بدلا اور اسے بہت زیادہ بور بتایا۔

اس گروپ میں (کسی بے آہنگی کے بنا) واقفیت کی حالت درج ذیل تھی۔

’’تجربہ بہت بورتھا۔‘‘

’’باہر کھڑے طلبا سے میں نے کہاکہ یہ دلچسپ تھا۔‘‘

’’میں نے جھوٹ بولا کیوں کہ مجھے20 ڈالر کا معاوضہ ملا۔‘‘

(c) دو پہلونظریہ؛ اسے ایک ہندوستانی ماہر نفسیات ایس۔ایم۔محسن نے دریافت کیا تھا۔ ان کے مطابق رویے میں تبدیلی دوپہلوؤں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ تبدیلی کے ہدف نیز اس کے ذریعہ (Source) کو بھی پہچان لیاجائے۔یہاں ہدف سے مراد وہ شخص ہے جس کا رویہ تبدیل کرنا ہے۔ذریعہ وہ شخص ہے جس کے اثر کو استعمال کرکے تبدیلی لانی ہے۔ پہچان کرنے یا تشخیص سے مراد ہے کہ ہدف ،ذریعہ کے لیے احترام اور پسندیدگی کا جذبہ رکھتا ہو۔ وہ اپنے آپ کو مرکز کی جگہ رکھ کر خود کو اس کی طرح محسوس کرتا ہے اور یہاں بھی ضروری ہے کہ ذریعہ کا رویہ بھی ہدف کے لیے مثبت ہو۔ اور دونوں کے مابین احترام اورلگاؤ کا تعلق ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ذریعہ خود بخود موضوع کے تئیں اپنا رویہ تبدیل کرلیتا ہے اور ذریعہ کے برتاؤ میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھ کر ہدف بھی اپنے رویے اور برتاؤ میں لچک اور تبدیلی لاتا ہے۔     یہ ایک طرح سے نقل کرنے یا مشاہدہ کرنے کا عمل ہے۔
مندرجہ ذیل مثال میں اس دوپہلو تبدیلی کے نظریے کو اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔پریتی نے اخبار میں پڑھا کہ جو ٹھنڈا مشروب اس کو بہت پسند ہے وہ صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔لیکن پریتی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اس کا سب سے پسندیدہ کھلاڑی اسی مشروب کی تشہیر کر رہا ہے۔ ایسے میں پریتی خود کو اپنے پسندیدہ کھلاڑی سے قریب محسوس کرے گی اور اس کی پیروی کرنا چاہے گی ۔ اب سوچیے کہ یہ کھلاڑی اس مخصوص مشروب کے تئیں لوگوں کارویہ مثبت سے منفی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس کھلاڑی کو سب سے پہلے اپنے مداحو ں کے تئیں مثبت محسوسات دکھانے ہوں گے  اور اس کے بعد وہ حقیقتاً اس مشروب کو صرف کرنے کی عادت تبدیل کرتا ہے۔ (مرحلہ اول)وہ اس کو ایک صحت بخش مشروب سے تبدیل کر سکتا ہے ۔ اگر یہ کھلاڑی درحقیقت اپنا رویہ تبدیل کرتا ہے تو اس بات کی گنجائش کافی ہے کہ پریتی بھی اپنا رویہ(مشروب کے تئیں)تبدیل کرلے گی اور اس مشروب کا استعمال بند کردے گی(دوسرا مرحلہ)

رویوں کی تبدیلی پر اثر ڈالنے والے عوامل

کیا رویہ تبدیل ہوگا؟ اگر ہاں تو ،کس حد تک؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے ماہرین کو پریشان کرتا رہا ہے۔پھر بھی ان میں سے بہت سے درج ذیل عوامل کو ہم متفقہ رائے سے اہم ما نتے ہیں ۔ کہ یہ انسانی رویوں کو تبدیل کر نےمیں موثر کارکردگی انجام دیتے ہیں۔
• موجودہ رویوں کی خصوصیات: پہلے بیان کیے گئے رویوں کی بھی چارخصوصیات ہیں؛قوت کشش (مثبت یا منفی)،شدت،سادگی ، پیچیدگی اور مرکزیت یا رویے کی خصوصیات اوراہمیت ہی رویوں کی تبدیلی کو طے کرتی ہیں۔عام طور پر منفی رویوں کے بہ نسبت مثبت رویے بہ آسانی تبدیل ہوتے ہیں۔ شدید اور مرکزی رویے ان رویوں کے مقابلے مشکل سے تبدیل ہوتے ہیں جو شدت میں کم ہوں۔سادہ رویوں کو بہ نسبت پیچیدہ رویوں کی تبدیلی کرنا آسان ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ رویوں کی تبدیلی کی سمت کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔ رویوں کی تبدیلی موافق ہوسکتی ہے مطلب یہ کہ تبدیلی موجودہ سمت میں بھی ہوسکتی ہے۔(مثال کے طورپر ایک مثبت رویہ مزید مثبت ہوسکتا ہے اور اسی طرح منفی رویہ مزید منفی ہوسکتا ہے) اگر کسی شخص کا رجحان عورتوں کے تفویض اختیارکے تئیں مثبت ہے توکسی کامیاب عورت کے بارے میں پڑھ کر اس کا خیال اور بھی مثبت ہوسکتا ہے۔ یہ ایک موافق تبدیلی ہوگی۔ دوسری طرف رویوں کی تبدیلی ناموافق بھی ہوسکتی ہے یہ رویوں کی موجودہ سمت کے متضاد بھی ہوسکتی ہے(مثال کے طورپر ایک مثبت رویہ کمزور ہوسکتا ہے اور یہ منفی کی طرف مائل ہوسکتاہے اسی طرح ایک منفی رویہ کمزور پڑ سکتا ہے اور یہ مثبت میں تبدیل ہوسکتا ہے)۔اوپر دی گئی حقوق نسواں سے متعلق مثال میں عورت کی کامیابی کے بارے میں پڑھ کر کوئی شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ عورتیں بہت جلدی ہی بہت طاقتور بن سکتی ہیں اور پھر وہ اپنی گھریلوذمہ داریوں کو نظرانداز کرنے لگیں گی۔ اس خیال کے تحت اس شخص کا موجودہ مثبت رویہ کچھ کمزور پڑسکتا ہے اور بالکل مختلف سمت میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ برعکس تبدیلی ہوگی۔عموماً ایسا دیکھا گیا ہے کہ موافق یا مناسب تبدیلیاں بہ آسانی ظاہر ہوتی ہیں بہ نسبت غیرمناسب تبدیلیوں کے۔
اس کے علاوہ رویہ اسی سمت میں تبدیل ہوتاہے جس طرح کی آگاہی فرد کو حاصل ہوتی ہے یا پھر یہ پیش کی گئی معلومات سے ایک دم مخالف سمت میں بھی تبدیل ہوسکتاہے۔مثال کے طورپر–دانتوں کی صفائی سے متعلق پوسٹر  صحتِ دندان سے متعلق ایک مثبت رویہ تشکیل دیتے ہیں،لیکن اگر دانتوں کے گلے ہوئے حصے کی خوفناک تصاویر لوگوں کودکھائی جائیں تو ضروری نہیں کہ وہ اس پریقین کریں اوران کا رویہ دانتوں کی صحت وصفائی سے متعلق منفی ہوسکتا ہے۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خوف یا ڈر صرف مختصر وقت تک ہی فرد کی سوچ پر اثر ڈالتے ہیں۔لیکن اگر کسی پیغام کے ذریعہ بہت زیادہ خوف یا ڈر پید اکرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ فرد کے رویے پر اتنا زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔
• ذرائع کی خصوصیات:ذرائع کا معتبرہونا یا کشش ،دوایسے وصف ہیں جو رویوں کی تبدیلی کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر کوئی اطلاع کسی معتبرذریعہ سے ملتی ہے تو اس کی بنیاد پر رویے میں تبدیلی زیادہ آسانی سے آسکتی ہے بہ نسبت اس کے کہ یہی اطلاع کسی غیر معتبر ذریعہ سے حاصل ہو،مثال کے طورپر اگر کوئی بالغ فرد سفری کمپیوٹر (لیپ ٹاپ )خریدنا چاہتاہے تو اس ضمن میں کمپیوٹر انجینئر سے حاصل کی گئی مخصوص برانڈ کے سفری کمپیوٹر کی امتیازی خصوصیات کے بارے میں فراہم کی گئی معلومات سے وہ زیادہ مطمئن ہوگا بہ نسبت اس طالب علم کے جس نے یہی معلومات اسے مہیا کی ہوں۔لیکن اگر خریدار اسکول میں پڑھنے والے بچے ہیں تو وہ اپنی ہی طرح کے دوسرے بچوں کے ذریعہ مہیا کی گئی معلومات کو زیادہ اہمیت دیں گے بہ نسبت کسی ماہرکمپیوٹرکے جووہی معلومات فراہم کر رہا ہے  (دیکھیے شکل4.1) ۔کچھ اشیاجیسے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ،ماہرین کی رائے کی بنیادپر اتنا نہیں ہوتا جتنا کہ سماج میں مقبول شخصیات کے ذریعہ ان گاڑیوں کے اشتہارات دینے پر۔

باکس
تصویرA تصویرB
شکل6.1:آپ دیکھیے کہ آپ کو کون سی تصویر زیادہ آمادہ کرتی ہے کہ آپ فوراً ایک کمپیوٹر خریدنے کی پلاننگ کریں۔تصویرAیاتصویرB…وجہ بھی بتائیے؟

میراکمپیوٹرمیری کامیابی کی کنجی ہے۔100جی بی کی صلاحیت اور بالکل ہلکا۔یہ میرے لیے حیرت انگیز کام کرتا ہے!!آپ بھی خریدیے اور پھر دیکھیے کہ آپ کیسے آگے بڑھتے ہیں!!

میرا سفری کمپیوٹر میری کامیابی کا ذریعہ ہے…100جی بی کی صلاحیت،وزن میں ہلکا،یہ میرے لیے حیرت انگیزکام کرسکتا ہے!!آج ہی آپ بھی خریدیے اور پھر دیکھیے آپ کیسے آگے بڑھتے ہیں!!

3

شکل6.1:آپ دیکھیے کہ آپ کو کون سی تصویر زیادہ آمادہ کرتی ہے کہ آپ فوراً ایک کمپیوٹر خریدنے کی پلاننگ کریں۔تصویرAیاتصویرB…وجہ بھی بتائیے؟

4

حقائق پر مبنی اپیل

(پیسہ بچانے کی ترکیب)

کیا آپ کھانا پکانے کی گیس پربہت

 زیادہ خرچ کررہے ہیں؟پریشرکوکر

لائیے اور اپنے بجٹ کی مشکلات کو خیرباد کہیے!!


جذباتی اپیل 

(اپنے خاندان کا خیال رکھنا)

اگر آپ اپنی فیملی کی صحت کا دھیان

 رکھتے ہیں تو متوازن غذا سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں…پریشر کوکر میں کھانا پکائیے اور غذا کے ضروری اجزا کو خوراک میں برقراررکھیے۔

شکل6.2:عقلی اورجذباتی اپیل

پیغام کی خصوصیات:—پیغام وہ جانکاری ہے جو رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے مہیا کی جاتی ہے۔اگر کسی موضوع سے متعلق صرف ضروری معلومات دی جائے جو نہ بہت زیادہہوا ورنہ بہت کم ہو…تو رویوں میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔یہ معلومات حقیقت پر مبنی ہے یا پھر جذباتی کششاس میں شامل ہے،اس سے بھی فرق پڑتا ہے ۔مثال کے طورپر پریشر کو کرمیں کھانا پکانے کا اشتہار اس بات کی جانکاری دیتا ہے کہ اس طرح ایندھن (جیسے ایل پی جی )کی بچت ہوسکتی ہے جو کفایتی رہے گی(حقیقی یا عقلی عنصر)۔اس کے بجائے اگر اسی اشتہارمیں یہ بتایاجائے کہ اس طرح کھانا پکانے سے خوراک کے ضروری اجزا برقرار رہتے ہیں اور اگر آپ اپنے خاندان کی صحت کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو غذائی اجزا کا برقرار رہنا بہت ضروری ہے(یہ جذباتی کشش ہے)۔اس کے بارے میں شکل 6.2دیکھیے۔
5

او۔آر۔ایس۔ کا گھول 

آپ کے بچے کو موسم گرما 

میںگرمی کی شدت سے

محفوظ رکھتا ہے۔

شکل6.3:— براہِ راست تخاطب بمقابلہ  میڈیا کے ذریعہ اطلاع بہم پہنچانا۔کون سی ترکیب زیادہ کارگرہے اور کیوں؟

معلومات کے ذریعہ جو محرکات حرکت میں آتے ہیں وہ بھی رویوں کی تبدیلی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔مثلاً دودھ پینے کی صلاح انسان کو صحت مند اور خوبروبننے،حیثیت اور اپنے کام کو کامیابی سے انجام دینے کے لیے دی جاسکتی ہے۔
آخر میں معلومات بہم پہنچانے کا ذریعہ بھی ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔منھ درمنھ معلومات کا تبادلہ بالواسطہ تبادلے سے زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ 
ذرائع ابلاغ،خطوط اور مختصر اشتہارات کے ذریعہ عموماً معلومات یا جانکاری کی ترسیل ہوتی ہے۔مثال کے طورپر چھوٹے بچوں کے لیے ORS کی ضرورت کے تئیں مثبت رویہ پیدا کیا جاسکتا ہے اگر سماجی کارکن اور ڈاکٹر لوگوں سے براہِ راست بات چیت کریں اگر صرف ریڈیو پر اس کے اچھے اثرات کو بیان کریں گے تو بہتر نتائج نہیں نکل سکتے۔(دیکھیے شکل6.3) آج کل بصری میڈیا جیسے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ بھی آمنے سامنے کے تعلق کی طرح ہی ہوگئے ہیں لیکن یہ ہرگز بھی آپسی بات چیت کا بدل نہیںہیں۔
•ہدف کی خصوصیات:ہدف کی خصوصیات جیسے ترغیب پذیری، زبردست تعصب یا جانبداری، خود پسندی اور ذہانت یہ ساری خصوصیات بھی رویوں کی تبدیلی پر اثرڈالتی ہیں جو لوگ کھلے اور نرم مزاج کے حامل ہوتے ہیں وہ آسانی سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اشتہارات دینے والی کمپنیاں ایسے لوگوں سے ہی زیادہ فائدہ حاصل کرتی ہیں۔جو لوگ بہت زیادہ جانب دار  ہوتے ہیں وہ آسانی سے اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں کرتے۔ اس کے متضادجو پہلے سے کوئی رائے نہیں قائم کرتے اور جانبداری یا تعصب کی شدت نہیں ہوتی وہ لوگ اپنا رویہ بہ آسانی تبدیل کرلیتے ہیں۔ اسی طرح جن افرادمیں خودپسندی کا جذبہ کم ہوتا ہے اور جن کو اپنے اوپر زیادہ بھروسہ نہیں ہوتا،وہ افراد بہ آسانی تبدیل ہوجاتے ہیں بمقابلہ ایسے لوگوں کے جن کو اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہوتا ہے۔ اسی طرح دانشمنداورسمجھدارافراد اکثروبیشتر اپنے رویوں میں تبدیلی اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں کیوں کہ ان افرادکے رویے میں پھیربدل ان کی سوچ اور معلومات کی بنیادپر ہوتی ہے۔

رویہ اوربرتاؤ کا آپسی رشتہ:

عموماً ہم امید کرتے ہیںکہ برتاؤ منطقی طور پر رویوں کا اتباع کرتے ہیں۔ پھر بھی ہمیشہ ایسا نہیں ہوتاکہ کسی شخص کا رویہ اس کے برتاؤ سے ظاہر ہوجائے۔    ہوسکتا ہے کہ کسی خاص موضوع پر کسی فرد کا برتائو اس کے اسی مخصوص موضوع کے تئیں رویے سے بالکل مختلف ہو۔ اورکبھی فرد کا حقیقی برتاؤ اس کے رویے سے بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔
ماہرین نفسیات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ رویوں اور برتاؤ میں تال میل مندرجہ ذیل حالات میں ہی ہوسکتا ہے۔
• رویہ مستحکم ہو اور یہ نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔
•  فرد کو اپنے رویے کے بارے میں پوری معلومات ہو۔
• فرد کے اوپر باہر سے کسی قسم کا دباؤ نہ ہو کہ اسے کس طرح کا برتاؤ روارکھنا ہے۔مثال کے طورپر کسی قسم کے گروپ کا کوئی دباؤ نہ ہو۔
• فرد کے برتاؤ کا مشاہدہ نہ کیاجارہاہو۔اور
فردکو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ اس کے برتاؤ کا مثبت اثرہوگا اور اسی لیے وہ اس برتاؤ پر راضی ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ کے باشندے چین کے لوگوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ رکھتے تھے،اس وقت رچرڈلائپر(امریکہ کا ایک سماجی ماہرنفسیات) نے ایک درج ذیل سروے کیا تھا۔ انھوں نے چین میں رہنے والے ایک جوڑے کو امریکہ کاسفر کرنے کو کہا اور ان سے کہا گیا کہ وہ مختلف ہوٹلوں میں قیام کریں۔ان کے سفر کے دوران صرف ایک بارایساہوا کہ ایک ہوٹل سے ان کو سروس دینے کے لیے منع کیاگیا۔کچھ وقت کے بعد لائپر نے ان تمام ہوٹل کے منیجراور ٹورسٹ ہوم کو ایک سوال نامہ بھیجاجہاں اس چینی جوڑے نے قیام کیا تھا۔ اس سوال نامے میں پوچھا گیا تھاکہ کیاوہ چین کے لوگوں کو اپنے ہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ایک بڑے طبقے نے جواب دیا کہ ’’نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے‘‘۔ یہ جوابات چین کے باشندوں کے تئیں ایک منفی رویہ دکھاتا ہے جب کہ حقیقت میں ایسانہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رویے ہمیشہ ہی کسی کے برتاؤ کے حقیقی انداز کے بارے میں پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔

سرگرمی 1.6

اخبار سے ایک اشتہار کاٹیے جس میں کچھ خاص چیز ہو،ایسی جو آپ کی توجہ کھینچ رہی ہو،اس اشتہار کے بارے میں درج ذیل تفصیلات تحریر کیجیے اوراپنی کلاس میں اس کے بارے میں بات کیجیے۔

ڪ اشتہار کاعنوان (مثلاً اشتہارکسی گھریلواستعمال کی اشیا کے بارے میں ہے،کسی خوراک کے بارے میں ہے،کسی کمپنی کے بارے میں ہے،صحت سے متعلق ہے یا پھر کوئی قومی مسئلہ ہے)۔

ڪ اشتہارسے ہونے والے اچھے اور برے اثرات۔

ڪ کیا یہ اشتہارجذباتی اثر ڈالے گا یا عقلی سطح پر اثر کرے گا۔

ڪ کیا اس اشتہار میں کسی مقبول شخصیت (کوئی ماہرشخص یا پھر پسندیدہ انسان) کارول بھی ہے۔

کبھی کبھی برتاؤ رویوں کو طے کرتا ہے۔ FestingerاورCarl Smithکے تجربے (باکس6.2)سے ہمیں پتہ چلا کہ جن طلباء کوصرف ایک ڈالر دیاگیا تھاکہ وہ دوسروں کو بتائیں کہ تجربہ دلچسپ تھاانھوں نے اس تجربے کو دلچسپ جانا اورپسندکیا۔ ایسا ان کے برتاؤ کی بنیادپر ہوا(کہ انھوں نے تھوڑے سے پیسوں کے عوض اپنے ساتھیوں کو تجربے کے بارے میں بتایاکہ یہ دلچسپ تھا)۔انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کا رویہ تجربے کے تئیں مثبت تھا (’’میں اتنے سے پیسے کے لیے جھوٹ نہیں بولتا/بولتی جس کا مطلب ہے کہ تجربہ واقعی دلچسپ تھا)

تعصب اور امتیاز 

تعصب کسی ایک گروپ کے تئیں جانبداری کارویہ ہے۔یہ عموماً منفی ہوتا ہے اور اکثراوقات پر کسی خاص گروپ کے تئیں بندھے ٹکے رویے پر مبنی (وقوفی عنصر) ہوتاہے۔جیساکہ سماجی وقوف کے سیکشن میں ذیل میں بحث کی جائے گی کہ ایک بندھائی کا انداز کسی مخصوص گروپ کی خصوصیات کے متعلق خیالات کا مجموعہ بھی اس گروپ کے سبھی ممبران کے بارے میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ وہ ان خصوصیات کے حامل ہوں گے۔ اکثریہ خیالات ان خصوصیات کے بارے میں ہوتے ہیں جو عموماًسماج میں ناپسند کی جاتی ہوں اور اسی لیے یہ منفی رویوں کو جنم دیتے ہیں جو کچھ خاص گروہوں کے بارے میں تعصب اور امتیاز کا رویہ پیداکرتے ہیں۔تعصب یا خود گمانی کا وقوفی عنصر اکثرنفرت اور ناپسندیدگی (تاثراتی عنصر) پر منتج ہوتا ہے۔تعصب تفریق میں بھی بدل سکتا ہے جو برتاؤ کاعنصر ہے۔اس میں بھی لوگ ایک خاص ہدف گروپ کے بارے میں غیر مثبت طریقوں سے برتاوکرتے ہیں اور مقابلتاً دوسرے گروپ،(جس کو وہ اچھا سمجھتے ہیں)سے زیادہ مثبت سلوک کرتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جب نسل،ذات یا جماعت کو بنیاد بنا کر افراد سے امتیازی یا نارواسلوک کیاگیا،نازیوں کے ذریعہ جرمنی میں کی گئی ماردھاڑ اور قتل وغارت گری(جو یہودیوں کے خلاف تھی) اس نفرت اور تعصب کی عمدہ مثال ہے جس کے ذریعہ افراد میں نفرت کے تاثرات پیداہوتے ہیں اوراس کے نتیجے میں تعصب،نفرت اور معصوم اور بے گناہ افراد کا قتل وخون ہوتا ہے۔
خودگمانی یا تعصب ضروری نہیں کہ امتیازی سلوک سے واضح ہو۔ اس کے بغیر بھی یہ عنصر موجود رہتا ہے۔ اسی طرح امتیازی یا بے جا برتاؤ بھی تعصب کے احساس کی بنا ہوسکتے ہیں۔لیکن ہاں اکثر یہ دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔جہاں تعصب اور امتیاز موجود ہوتا ہے وہاں سماج کے مختلف گروہوں میں آپسی تصادم کے حالات پید اہوجاتے ہیں۔خود ہمارے اپنے سماج میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کبھی نسل ،کبھی مذہب،کہیں ذات پات ،کبھی تذکیروتانیث کا مسئلہ،معذور ومجبور افراد،بیمارلوگ مثلاً AIDS کے مریض اور ایسے ہی اور بہت سے حوالوں سے امتیازی یا بے جا سلوک کیاجاتا ہے۔ عموماً امتیاز کی بنیادپر کیاجانے والا برتاؤ قانونی ذرائع کی مدد سے دبادیاجاتا ہے لیکن تعصب اور خودگمانی کے جذباتی اوروقوفی عناصر کو تبدیل کرنا،ناممکن ہوجاتاہے۔
سماجی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تعصب کے ذرائع درج ذیل میں سے کوئی ایک(یازیادہ بھی )ہوسکتے ہیں۔
ڪ آموزش:تمام دوسرے رویوں کی طرح تعصب بھی دوسروں کے ساتھ ملنے جلنے سے،سزاوجزا کے ذریعہ،دوسرے افراد کے رویوں کے مشاہدے سے،تہذیبی قوانین سے اور تعصب کو ہوادینے والی اطلاعات سے سیکھاجاسکتا ہے۔خاندان،حوالہ جاتی گروہ،ذاتی تجربات اور میڈیا تعصب کو سیکھنے کے عمل میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔(’’رویوںکا بننا اور تبدیل ہونا‘‘۔یہ حصہ دیکھیے)جولوگ تعصبی رویوں کو سیکھتے ہیں ان کی شخصیت میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے اوروہ افراد مطابقت کی صلاحیت کم رکھتے ہیں۔ان کے کردار میں تشویش اور دوسرے گروپ کے تئیں پسندیدگی کا رویہ درآتا ہے۔
ڪ ایک مضبوط سماجی شناخت اور درون گروپ تعصب:–جو افراد اپنی سماجی شناخت کے تئیں ایک مضبوط اور مستحکم احساس اوراپنے خود کے گروپ کے تئیں بھی ان کا رویہ انتہائی مثبت ہوتا ہے،اس قسم کے لوگ دوسرے گروپ کے تئیں منفی رویے رکھتے ہیں اوریہی رویے تعصب میں جھلکتے ہیں۔
ڪ قربانی کا بکرا بنانا: یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں اکثریت اپنے سماجی،معاشی وسیاسی مسائل کی ذمہ داری اورالزام اقلیت کے سرمنڈھ دیتے ہیں۔ اقلیت اتنی چھوٹی اور کمزور ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے الزامات کی تردید نہیں کرپاتی ۔ یہ احساس نامرادی کو ظاہرکرنے کا ایک اجتماعی طریقہ ہے جو اکثر کمزور طبقے کے تئیں منفی رویے اور تعصب کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
ڪ سچائی کے تصور کی بنیاد : اکثر لوگ لکیر کے فقیربنے رہتے ہیں اوراسی پرانے نظریے پر قائم رہتے ہیں صرف یہ سوچ کر کہ’’اس میں کچھ تو صداقت ہوگی‘‘جو لوگ اس گروپ کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ مثالیں ہی کافی ہیں۔
ڪ ذاتی تسکین کی پیشن گوئی:کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہدف گروپ خود ہی اپنے تئیں منفی رجحانات اور تعصب کے خیالات پیدا کرنے کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔خوداس گروہ کے اعمال ایسے ہوتے ہیں جو تعصبی خیالات کو تقویت بخشتے ہیں نیز منفی امیدوں کو جنم دیتے ہیں۔ مثال کے طورپر اگر ہدف گروپ کو دوسرے کے آسرے پر رہنے والا کہاجائے اور اس وجہ سے اس گروپ کی ترقی ونشوونماممکن نہ ہوتی ہو،تو ممکن ہے اس گروپ کے افراد اسی انداز سے برتاؤ اور عمل کرتے ہوںکہ ان کے اعمال اس بیان کی تصدیق کرتے ہوں۔ اس طرح وہ موجودہ تعصبی رویہ کو تقویت بخشتے ہیں۔

تعصب سے نمٹنے کی حکمت عملی 

اس سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ تعصب پیداکرنے والے اسباب اور وجوہات کا علم ہو۔ اس طرح تعصب سے نپٹنے کے طریقے کارگرہوں گے اگر وہ درج ذیل نکات کو دھیان میں رکھ کر اختیار کیے جائیں:
(a)  آموزش کے ان تمام طریقوں کو کم سے کم کیاجائے جن کے ذریعہ افراد تعصب سیکھتے ہیں۔
(b)  ان رویوں کو تبدیل کیاجائے۔
(c)  سماج میں کسی بھی چھوٹے سے گروہ کی شکل میں کسی شخصیت یا گروہ بندی کو کمزور کیاجائے۔
(d)  ذاتی تسکین کے رجحان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔ یہ تمام مراحل درج ذیل طریقوں سے طے کیے جاسکتے ہیں۔
ڪ تعلیم اور اطلاعات کی تشہیر :مخصوص ہدف گروپ کے بارے میں فرسودہ رجحانات کو ٹھیک کرنے اورایک مختصر گروپ بندی کے رجحانات کو بدلنے کے لیے عوام میں تعلیم کوعام کرنا پڑے گا۔
ڪ سماج کے مختلف گروپ میں آپسی رابطے کا بڑھنا،آپس میں بے یقینی اوردھوکے کی کیفیات کا خاتمہ اوردوسرے گروہوں کے تئیں مثبت خصوصیات کی دریافت تاہم یہ تمام حکمت عملی تبھی کامیاب ہے جب:
_ دونوں گروپ آپس میں تال میل کے ماحول میں ملیں نہ کہ کسی مسابقتی ماحول میں۔
_  دونوں گروپ میں آپس میں گہرا رابطہ ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مددگار ہوگا۔
_  دونوں گروپ طاقت اور رتبے میں ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔
ڪ گروپ کے بجائے انفرادی شخصیت کو زیادہ اجاگر کیاجانا چاہیے۔اس طرح گروپ کی اہمیت ختم ہوگی خواہ وہ اپنا ہو یا باہری گروپ ہو۔کسی بھی فرد کی صلاحیتوں کو انفرادی طورپر سمجھناچاہیے۔اس بارے میں مزید تفصیلات اگلے سبق’’سماجی اثرات اورگروہی عمل کاری‘‘میں دی گئی ہیں۔

سماجی واقفیت 

وقوف کا مطلب ہے وہ ذہنی کیفیت یا عمل جواطلاعات کو حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔واقفیت کے اس پہلو کو سماج کی طرف پھیلادینے سے’’سماجی وقوف‘‘کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس سے مراد وہ تمام نفسیاتی اعمال ہیں جو سماجی موضوعات کے بارے میں معلومات کو جمع کرنے اور اسے استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔ اس میں تمام سماجی رویوں اوربرتاؤ کو سمجھنا اوربیان کرنا شامل ہے۔
سماجی موضوعات (خصوصاً افراد،گروپ،لوگ،رشتے،سماجی امور اور پسند)کے بارے میں معلومات کو اکٹھاکرنا طبعی موضوعات پر اطلاعات اکٹھی کرنے کے مقابلے مشکل ہوتا ہے۔ افرادایک سماجی شخصیت کی شکل میں خود ہی بدل سکتے ہیں۔مثال کے طورپر ایک استاد اسکول میں کسی بچے کا لگاتار مشاہدہ کرتا ہے اور اس کے بارے میں کچھ نتائج نکالتا ہے۔ یہ ان نتائج سے بالکل مختلف ہو سکتے ہیں جو اس بچے کی ماں نے گھر پر اس کی حرکتوں پر غور کرتے ہوئے اخذ کیے۔بچہ اپنے برتاؤ میں تبدیلی کرسکتا ہے اس بنیاد پر کہ اس کی حرکتوں پر کس کی نظر ہے ،استاد کی یاماں کی۔سماجی وقوف فرد ذہنی اکائیوں کے ذریعہ رہنمائی حاصل کرتا ہے جس کو ذہنی خاکہ کہاجاتا ہے۔

ذہنی خاکے اورطے شدہ امر

ذہنی خاکے کا مطلب وہ ذہنی ڈھانچہ ہے جو کسی موضوع کے بارے میں ایک بنیادی ڈھانچہ،قوانین اور اصولوں سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ خاکے ہمارے ذہن میں محفوظ رہتے ہیں اور بہ وقت ضرورت کام آتے ہیں۔ اس طرح واقفیت کے عمل میں خرچ ہونے والے وقت اور قوت میں کفایت ہوتی ہے۔سماجی واقفیت کے عمل میں ذہن میں محفوظ رہنے والے ان خاکوں کو سماجی خاکہ کہاجاتا ہے۔ کچھ رویے بھی سماجی خاکوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ہم بہت سے خاکے استعمال کرتے ہیں اور مثالوں اور تجزیے کے ذریعہ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔
اکثر وبیشتر یہ خاکے اقسام یا درجات کی شکل میں ہوتے ہیں۔ اقسام کی شکل میں کام کرنے والے خاکے اولین طرز ہوتے ہیں جو خصوصیات یا اوصاف کے موضوع کے بارے میں پوری معلومات دیتے ہیں۔سماجی وقوف میں زمروں پر مبنی خاکے (جولوگوں کے گروہوں سے متعلق ہوتے ہیں) مسبوکہ  ہوتے ہیں۔ یہ وہ خاکے ہیں جو عام خاکوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں،سیدھے طورسے تصدیق شدہ نہیں ہوتے اور جو مستثنیات سے بری ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر مان لیجیے آپ کو گروپ ج کی تعریف بتانی ہے۔ اگر آپ نے کبھی اس گروپ کے کسی ممبر کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں کیا ہوگا تو آپ گروپ کے بارے میں عام معلومات کا استعمال کریں گے اور اس عام معلومات میں آپ اپنی پسنداورناپسند جوڑدیں گے۔ اب اگر آپ نے گروپ’ج‘کے بارے میں مثبت باتیں زیادہ سنی ہیں تو اس پورے گروپ کے بارے میں آپ کا سماجی خاکہ بھی مثبت ہوگا۔ دوسری طرف اگر آپ کی معلومات میں منفی باتیں زیادہ ہوں گی تو آپ کا سماجی خاکہ منفی مسبوکہ ہوگا۔ جو بھی نتائج آپ نے نکالے وہ آپ کی منطقی سوچ یا براہِ راست تجربے کی بنیاد پر نہیں ہیں بلکہ کسی گروپ کے بارے میں پہلے سے طے شدہ خیالات پر مبنی ہیں۔ جب آپ گروپ’ج‘کے کسی ممبر سے ملیں گے تب اس شخص کا تاثر اور آپ کاا س کے تئیں برتاؤ اس مسبوکے کے زیر اثر ہوگا۔پہلے بتایاجاچکا ہے کہ مسبوکات (Stereotypes) کچھ مخصوص گروہوں کے بارے میں تعصب کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔لیکن تعصب ان مسبوکات کی غیر موجودگی میں بھی پروان چڑھتا ہے۔
تأثر قائم کرنا اور بیان کرنا نسبت دہی کے ذریعہ دوسروں کا برتاؤظاہر کرنا

ہر سماجی بین عمل یا رابطہ ان لوگوں کے بارے میں قائم ہوئے ہمارے تاثر سے شروع ہوتا ہے جن سے ہم ملتے ہیں۔عوام میں مقبول شخصیات اور انٹرویو میں شامل ہونے والے خواستگار اس بات کی اچھی مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں پر اچھا تاثر چھوڑنا انتہائی ضروری ہے۔کسی بھی شخص کو جاننے کے عمل کو دوحصوں میں باٹنا جاسکتا ہے (b) تاثر قائم ہونا اور(a) اسباب یا نسبت دہی۔

جوانسان اپناتاثر قائم کرتاہے اسے مدرک کہاجاتا ہے اور جس انسان کے بارے میں یہ تاثر بنتا ہے اسے ٹارگٹ یا ہدف کہتے ہیں۔مدرک یا تو معلومات حاصل کرتا ہے یا حاصل شدہ معلومات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ یہ معلومات ٹارگیٹ کی خصوصیات کے بارے میں ہوتی ہیں۔ مدرک ان معلومات کو جمع کرکے ہدف کے بارے میں نتائج اخذ کرتا ہے۔
’اسباب‘کے عمل میں مدرک اور آگے تک معلومات حاصل کرتا ہے اوران وجوہات کو بیان کرتا ہے کہ ہدف نے ایک مخصوص طریقے سے برتاؤ کیوں کیا۔ اس عمل کا اہم مقصد یہی ہے کہ ہدف کے رویے کو ایک وجہ یا سبب کے ساتھ بیان کیاجائے۔ اکثر مدرک ہدف کے بارے میں ایک تاثر قائم کرلیتا ہے لیکن اگر حالات کا تقاضا ہوتووجوہات بھی بتا سکتا ہے۔
تاثر قائم ہونا اور اس کے اسباب جاننے کاعمل درج ذیل عوامل سے متاثر ہوتا ہے:
مدرک کو ملنے والی معلومات کی فطرت۔
مدرک کے ذہن میں پلنے والے سماجی خاکے (مسبوکات بھی)۔

مدرک کی اپنی شخصیت کی خصوصیات۔

ٕ حالات 

تاثر قائم کرنا

تاثر قائم ہونے کے عمل میں درج ذیل عوامل کارفرماہوتے ہیں:
ڪ تاثر بننے کا یہ عمل مندرجہ ذیل تین تحتی عوامل کے مل کر بننے سے ہوتا ہے:
(a)  انتخاب:ہم ٹارگیٹ کے بارے میں حاصل معلومات کا کچھ حصہ ہی استعمال کرتے ہیں۔
 (b)  تنظیم :منتخب معلومات ایک منظم طریقہ سے جمع کی جاتی ہیں۔  (c)  نتیجہ اخذ کرنا:ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ’’ٹارگیٹ‘‘کس قسم کا انسان ہے۔
ڪ تاثر قائم ہونے میں دیگر اوصاف کے مقابلے کچھ خصوصیات زیادہ کارفرماہوتی ہیں۔

◊وہ ترتیب جس میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں،وہ بھی تاثر کے بننے میں اثرانداز ہوتی ہے۔ اکثر اوقات سب سے پہلے جو اطلاعات موصول ہوتی ہیں وہ زیادہ مستحکم ہوتی ہیں بہ نسبت ان معلومات کے جو بعد میں حاصل ہوں۔ اس کو’ اولین تاثر‘بھی کہتے ہیں(پہلا تاثر دیر پا ہوتا ہے)۔لیکن اگر مدرک سے کہا جائے کہ وہ تمام معلومات کی طرف توجہ دے اور صرف اولین معلومات پر دھیان نہ دے کیوں کہ ممکن ہے کہ بعد میں جو معلومات حاصل ہوں وہ زیادہ پر اثر ہوں۔اس کو اثر قرب زبانی (Recency effect) کہتے ہیں۔

ڪ ہمارایہ رجحان رہتا ہے کہ اگر ٹارگیٹ شخص کی کچھ مثبت خصوصیات ہیں تو یقینا وہ اس قسم کی تمام مثبت خوبیوں کا مالک ہوگا۔ یہ بالائی تاثر کہلاتا ہے۔مثال کے طورپر اگر ہمیں بتایاجائے کہ فلاں شخص وقت کا پابند اور صاف ستھرا ہے تو یقینا ہم سوچیں گے کہ یہ آدمی محنتی بھی ہوگا۔

سرگرمی6.2

یہ مشق تاثرات قائم ہونے کے عمل میں کارفرماعوامل کو جاننے میں آپ کی مدد کرے گی۔ اس کے لیے آپ کودولوگ چاہئیں۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی (جوآپ کی جماعت میں نہ پڑھتے ہوں اور جن کو اس موضوع کے با ر ے میں کچھ علم نہ ہو)۔ ان دونوں لوگوں کو درج ذیل ہدایات دیجیے۔لڑکی کے لیے خالی جگہ میں کوئی مذکر نام اور لڑکے کے لیے خالی جگہ میں کوئی مونث نام لکھیے۔

’’——ایک محنتی طالب علم ہے۔آپ کی رائے میں درج ذیل میں سے اورکون سی خوبیاں بھی اس طالب علم میں ہونی چاہئیں۔برائے مہربانی ان سبھی خصوصیات کو لائن لگاکر نمایاں کیجیے۔‘‘

ذکی/سمجھدار

مددگار

خودغرض

دوست

وقت کا پابند

بے ایمان

اعصابی

غصہ کا تیز

دیکھیے(الف)کون سی خصوصیات کا انتخاب کیاگیا ہے۔ اور (ب)کیا مذکر اور مونث دونوں شراکت داروں کے جوابات میں کچھ فرق ہے؟

حادثات کا انتساب

اسباب اور وجوہات کا انتساب ایک تاثر قائم کرلینے کے بعد ہم اکثر فرد کے برتاؤ کے اسباب ڈھونڈھنے کے عمل سے گذرتے ہیں۔ یہ بھی ایک منظم عمل ہے جیسا کہ محققین کی رائے سے پتہ چلتا ہے۔ اس انتساب کے مندرجہ ذیل پہلو ہیں:
 ڪجب ہم کسی انسان کے برتاؤ کو کسی وجہ سے منسوب کرتے ہیں تو موٹے طورپر ہم ان وجوہات کو اندرونی،انسان کے اپنے اندرونی برتاؤ،یا باہری،انسان کی شخصیت کے باہر،دوحصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔مثال کے طورپر اگر ہم کسی ایک فرد’’A‘‘کو دوسرے فرد’’B‘‘کو مارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو مشاہد کے بطور ہم کہہ سکتے ہیں کہ:(i) A  نے B کو اس لیے مارا کہA غصہ کا بہت تیز شخص ہے۔ یہ ایک اندرونی سبب (شخصیت سے متعلق)ہے۔ یا پھر (ii)  A  نے B کو اس لیے مارا کہ B بہت غلط برتاؤ کررہا تھا۔ یہ باہری اور حالات سے متعلق موقف ہے۔
 ڪجب لوگ کا میابی یا ناکامی سے نسبت ہی کرتے ہیں تو ان وجوہات کو ہم اندرونی وباہری دودرجوں میں بانٹ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کو مستحکم اورغیر مستحکم عوامل میں بھی درجہ بند کیاجاسکتا ہے۔برنارڈ وینر نے درجہ بندی کی جو شکل بتائی ہے وہ شکل6.4 میں واضح ہے۔مستحکم عوامل ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے جب کہ غیر مستحکم عوامل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
 ڪاسباب کے انتساب کے عمل میں لوگوں میں عموماً یہ رجحان ہوتا ہے کہ اندرونی وفطری وجوہات کو وہ زیادہ اہمیت دیتے ہیں بہ نسبت باہری اور ماحولیاتی اسباب کے۔یہ بنیادی نسبتی غلطی ہے۔یہ رجحان کچھ قوموں میں زیادہ ہے اور کچھ میںکم۔مثال کے طورپر ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستانی لوگ امریکی لوگوں کے مقابلے باہری اسبا ب کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
 ڪکامیابی اور ناکامی،دونوں حالتوں کے اسباب کی نسبت میں بھی اختلاف ہوتا ہے عام طورسے کامیابی کے اسباب کواندرونی وجوہات سے نسبت دی جاتی ہے جیسے کہ انسان کی محنت اور صلاحیت ،ناکامی کو باہری حالات واسباب کے ساتھ جوڑدیاجاتا ہے۔جیسے کہ بدقسمتی، کام کا مشکل ہونا وغیرہ وغیرہ۔
 ڪاس ضمن میں بھی ایک امتیاز پایاجاتا ہے کہ فردخوداپنے مثبت اورمنفی تجربات کو جن وجوہات سے منسوب کرتا ہے اور دوسرے شخص کے ذریعہ کیے گئے ان ہی تجربات کو جن وجوہات سے وابستہ کرتا ہے اس میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔ اپنی ذات کے تجربات میں اس کا رول ایکٹر کا ہوتا ہے اور دوسرے شخص کے وقت وہ ایک مشاہد کے بطور سوچتا ہے۔یہ فاعل–مشاہد تاثر کہلاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ خود ایک امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں تو آپ اس کو اپنی محنت وصلاحیت سے منسوب کریں گے فاعل کے طورپراچھے نمبرات حاصل کرتے ہیں تو آپ اس کو اپنی محنت وصلاحیت سے منسوب کریں گے (فاعل کے بطور رول-اندرونی وجوہات کی بناپر مثبت تجربات)۔ اگر آپ کو خراب نمبر ملتے ہیں تو آپ کہیں گے کہ یہ آپ کی بدقسمتی ہے یا پھر امتحان بہت مشکل تھا(بطور فاعل—باہری وجوہات کو منفی اسباب سے وابستہ کرنا)۔اس کے برعکس اگر آپ کا کوئی ہم جماعت امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرتا ہے تو آپ اس کی کامیابی کو خوش قسمتی سے تعبیر کریں گے یا پھر امتحان کو آسان بتائیں گے (بطور مشاہد-مثبت تجربات کو باہری اسباب سے وابستہ کرنا)،اور اگر یہی ہم جماعت خراب نمبر حاصل کرتا ہے تو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ آپ کہیں گے کہ اس کی ناکامی کی وجہ اس کی کم صلاحیتیں یا کم محنتی ہونا ہے(بطورمشاہد-منفی تجربات کو اندرونی اسباب سے وابستہ کرنا)۔ فاعل اور مشاہد کے رول میں اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے مقابلے اپنی ایک اچھی شبیہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اب تک اس سبق میں ہم سماجی برتاؤ کے وقوفی سمجھ بوجھ سے متعلق پہلوؤں پر بات کرچکے ہیں۔ اب ہمیں حقیقی رویوں کے ان پہلوؤں کو دیکھنا چاہیے جو باہر سے ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔
6
                                                 اندرونی عوامل                         باہری عوامل
مستحکم عوامل                       قابلیت                          قسمت
غیر مستحکم عوامل                    کوشش،محنت       کام کی خصوصیات

شکل6.4: اعلی’’عوامل کی درجہ بندی،وینر کے مطابق

دوسروں کے سامنے برتاؤ 

سماجی برتاؤ کے بارے میں سب سے پہلا مشاہدہ یہ تھا کہ کسی بھی کام کے بارے میں فرد کی کارکردگی دوسرے افراد کی موجودگی سے متاثرہوتی ہے۔ یہ سماجی تسہیل کہلاتی ہے۔مثال کے طورپر رینا کو ایک موسیقی کے پروگرام میں شرکت کرنی ہے۔ وہ بہت قابل ہے پھر بھی بہت نروس محسو س کررہی ہے۔اگر آپ رینا کی جگہ پر ہوتے تو کیا آپ سامعین کے سامنے یا پھر جب آپ اکیلے ہوتے توایک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے؟1897کی ابتدا میں نارمن ٹرپلیٹ نے غور کیاتھا کہ فرددوسرے افراد کی موجودگی میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے بمقابلہ اس بات کے جب وہ اسی کام کو اکیلے تنہائی میں انجام دے۔مثال کے طورپر ایک سائیکل چلانے والا جب دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے تب بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے بہ نسبت اس وقت کے جب وہ اکیلا سائیکل چلارہا ہوتا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ اس مظہر کے بارے میں مزیدتفصیلات آتی گئیں۔
ڪدوسروں کے سامنے بہتر کارکردگی کی وجہ یہ ہے کہ فرد میں بیداری کا احساس جاگتا ہے جو اسے سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے اُکساتا ہے۔یہ بیانZajoncکا ہے(اس نام کا تلفظ’’سائنس‘‘کی مطابقت سے ہوگا)۔
ڪبیداری کی ایک و جہ یہ ہوتی ہے کہ فرد کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی حرکتوں اور کارکردگی کا مطالعہ کیاجارہا ہے یامشاہدہ کیاجارہا ہے۔ کارٹریل نے اس خیال کو خدشہ ٔ پیمائش کا نام دیا ہے۔فرد کی کارکردگی اچھی ہوگی تو اس کی تعریف ہوگی(یاانعام ملے گا)اور تنقیدکی جائے گی اگر یہ خراب ہوئی تو۔(یعنی سزاملے گی)۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تعریف ہو نہ کہ تنقید،اس لیے ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور غلطیوں سے احتراز کرتے ہیں۔
ڪکام کی فطرت یا طبع بھی دوسروں کے سامنے کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔مثال کے طورپر ایک آسان اور سہل کام کوکرنے میں انسان پُر اعتماد ہوگا کہ وہ بالکل صحیح کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا اور تعریف وتوصیف حاصل کرنے کی اس کی خواہش بھی مستحکم ہوگی۔اس لیے فرد دوسروں کی موجودگی میں تنہائی کے مقابلے اچھا کام انجام دے گا۔لیکن اگر کام نیا اور پیچیدہ ہوگا تو فرد کو غلطیوں کا خدشہ زیادہ ہوگا۔تنقیدوسزا کا خوف زیادہ مستحکم ہے تو فرد ایسے کام کو دوسروں کی موجودگی میں تنہائی کے بہ نسبت بدترطریقے سے انجام دے گا ۔
ڪاگر دوسرے موجود افراد بھی اسی کام کو انجام دے رہے ہیں تو یہ کیفیت باہمی عمل کی ہے۔ اس کیفیت میں سماجی مقابلے اور امتیاز کا دخل ہے۔یہاں بھی اگر کام آسان ہے تو کارکردگی باہمی عمل میں بہترہوگی بہ نسبت اس کے کہ ایک شخص تنہاکام کوانجام دے۔
مختصر یہ کہ دوسروں کی موجودگی میںکا رکردگی کو آسان اور بہتر بھی بنایاجاسکتا ہے۔یا پھر یہ بدتر بھی ہوسکتی ہے اور اس میں بندشیں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور بھی بہت سے سماجی اثرات ہیں۔جیسے اگر ہم ایک گروپ میں کام کررہے ہوں توجتنا بڑا گروپ ہوگا ہر ممبر کو اتنی ہی کم محنت کرنی پڑے گی۔

سرگرمی6.3

  ان دوحالات کوملاحظہ کیجیے۔

   حالت -x ایک شخص سامعین کے سامنے اکیلے ڈانس کررہا ہے۔حالت -y ایک شخص اور پانچ ساتھیوں کے ساتھ دوڑ میں حصہ لے رہا ہے۔ حالتyمیں درج ذیل میں سے کون ساعمل کارفرما ہے جوحالت x میں نہیں ہے۔

 (a)  بیداری۔

(b) کارکردگی کی پیمائش کا خدشہ۔

(c)  مقابلہ۔

(d)  مشکل کام۔

 دیے گئے حالات میں صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے۔دوسرے افراد کی موجودگی میں کارکردگی کی پیمائش کی وجہ سے۔

A  جانے بوجھے اور نئے دونوں طرح کے کام میں بہتری آتی ہے۔ ہاں/نہیں

B  جانے بوجھے اور نئے دونوں طرح کے کام میں کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ ہاں/نہیں

C  جانے بوجھے کاموں کو کرنے میں بہتری اور نئے کاموں کے کرنے میں زوال آتا ہے۔ہاں/نہیں

 D  بیداری جو ’’C‘‘ کی طرف راغب کرتی ہے۔ہاں/ نہیں

سماجی آوارہ گردی کہلاتی ہے جو ذمہ داریوں کومنتشرکرنے پر مبنی ہے۔ آپ اگلے سبق میں اس کے بارے میں پڑھیں گے۔
ذمہ داریوں کا انتشار جو اکثر سماجی آوارہ گردی اور بے راہ روی کی بنیاد ہوتی ہے،ان کی کیفیات میں دیکھاجاسکتا ہے جہاں لوگوں سے مدد کی امید کی جائے۔ہم مدد کرنے کے اس برتاؤ اور اس کے مختلف دوسرے پہلوؤں کے بارے میں آگے پڑھیں گے۔

سماج کے تئیں مثبت رویہ 

دنیا بھر میں دوسروں کے لیے نیک کام کرنا اورمدد گار ہونا ایک خوبی کے طورپر تسلیم کیا جاتا ہے۔تمام مذاہب ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ ہمیں ضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہیے۔یہ برتاؤ مدد گار برتاؤ یا سماجی برتاؤ کہلاتا ہے۔سماجی برتاؤ،جذبۂ فلاح عامہ کے مماثل ہی ہے۔جس کا مطلب ہے دوسروں کے بارے میں سوچنا اور کسی قسم کے ذاتی مقصد کے بغیردوسروں کی بہبود کے لیے کام کرنا۔سماجی برتاؤ کی کچھ مثالیں ہیں ۔چیزوں کو بانٹ کر استعمال کرنا،اور دوسروں سے مل کر چلنا،قدرتی آفات کے موقعوں پر مدد کرنا،ہمدردی کرنا،دوسروں کی حمایت کرنا اور فلاح عامہ میں چندہ دینا وغیرہ وغیرہ۔

سماجی برتاؤ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں:

ڪ اس کا مقصد دوسرے افراد کی بھلائی اور مدد ہونا چاہیے۔
ڪ بغیرکسی بدلے کی امید کے کام کرنا چاہیے۔
ڪ فرد کو بغیرکسی باہری دبائو کے اپنی خواہش سے کام کرنا چاہیے۔
ڪ مدد کرنے والے شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یا اس کو اس کام کی قیمت بھی چکانی پڑسکتی ہے۔
مثال کے طورپر اگر ایک امیر آدمی اپنی جائز آمدنی کی رقم سے بہت ساروپیہ خیرات میں دیتا ہے اور دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کی تصویر اخبارات میں چھپے گی تو یہ سماجی برتاؤ نہیں ہے حالانکہ اس رقم سے بہت سے لوگوں کا بھلاہوسکتا ہے۔
باوجود اس کے کہ سماج موافق برتاؤ کو بڑی اہمیت اور قدر حاصل ہے،لوگ اکثر اوقات ایسا برتاؤنہیں کرتے۔ 11؍جولائی 2006 میں ممبئی میں بم دھماکوں کے فوراً بعد لوگ مدد کے لیے نکل پڑے اور جس طرح بھی مدد کرسکتے تھے کی۔ اس کے برعکس اس سے پہلے ایک موقع پر جب ممبئی میں چلتی ٹرین میں ایک لڑکی کاپرس چھین لیا گیا تو کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔ دوسرے مسافروں نے مدد کے طورپر کچھ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ لڑکی کو بھی ٹرین سے باہر پھینک دیاگیا۔لڑکی زخمی حالت میں ریلوے لائن پر پڑی ہوئی تھی تب بھی آس پاس رہنے والے لوگوں میں سے کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آیا۔
یہا ں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ لوگ کن حالات کے تحت اور کن مقاصد کی وجہ سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں؟اس بارے میں تحقیق سے بہت سے ایسے عوامل سامنے آئے ہیں جو سماجی برتاؤ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

سماج موافق برتاؤ پر اثرانداز ہونے والے عوامل

ڪ سماجی رویہ ایک پیدائشی اور قدرتی رجحان پر مبنی ہوتا ہے جس کے تحت انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ پیدائشی رجحان ہی نسلوں کے زندہ رہنے کے مسئلے کو سہل بناتا ہے۔
ڪ سماجی برتاؤ آموزش سے بھی متاثر ہوتا ہے۔وہ افراد جو ایسے گھریلو ماحول میں پرورش پاتے ہیں جس میں دوسروں کی مدد کرنے کی مثالیں موجود ہوں،مدد کرنے کے عمل کو ایک قدر کے روپ میں مانتے ہیں اور ایسے برتاؤ کی تعریف کرتے ہیں بمقابلہ ان لوگوں کے جو ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہوں جہاں اس قسم کے اقدار کا فقدان ہو۔
ڪ تہذیبی عوامل بھی سماجی برتائو پر اثر ڈالتے ہیں۔کچھ قومیں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ایسی تہذیبیں جہاں آزادی کی حوصلہ افزائی کی جائے،وہاں افراد کا رویہ سماج کے تئیں نہیں ہوتا کیوں کہ یہ امید کی جاتی ہے کہ لوگ اپنی دیکھ ریکھ خود کریں گے اور مدد کے لیے دوسروں پر منحصر نہیں رہیں گے۔ان قوموں میں بھی جہاں ذرائع کی کمی ہووہاں بھی سماج موافق رویوں کا فقدان ہوتا ہے۔
ڪ سماج موافق رویہ اس وقت ابھرتا ہے جب حالات ان سماجی قوانین کو ہوا دیتے ہیں جو دوسروں کی مدد کرنا سکھاتے ہیں۔اس ضمن میں تین اصول وضع کیے گئے ہیں۔
(a)   سماجی ذمہ داری کا اصول:ہمیں کچھ بھی اور سوچے بغیرضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہیے۔
(b)  باہم دگری کا اصول:جن لوگوں نے ماضی میں ہماری مدد کی ہے، ہمیں ان کی مددکرنی چاہیے۔
(c)عدل کا اصول:جب جب ہمیں لگے کہ دوسروں کو مدد کی ضرورت ہے تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔مثال کے طورپر ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ احساس ہوگیا کہ ایسے شخص کی مدد کرنا صحیح ہے جس کا سب کچھ سیلاب میں ختم ہوگیا ہوبجائے کسی ایسے فرد کی مدد کرنے کے جس نے اپناکل اثاثہ جواکھیل کرگنوا دیا ہو۔
ڪ سماج موافق رویہ ان لوگوں کے ردعمل سے بھی متاثر ہوتاہے جن کی مدد کی گئی ہے۔مثال کے طور پر لوگ ایک ایسے شخص کو پیسہ دینے کے خواہش مند نہیں ہوں گے جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اس کو اپنی توہین محسوس کرے گا،یا وہ پورے طورپر ان پر انحصار کرنے لگے گا۔
ڪ سماج موافق رویہ ان افراد میں زیادہ دکھائی دیتا ہے جن کے اندر ہم احساس ہونے کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ دوسرے مدد کے طالب شخص کے دکھ درد کا احساس کرنے کی صلاحیت جیسے کہ باباصاحب آمٹے یا مدرٹریسا کی شخصیات ۔سماج موافق رویہ ان حالات میں زیادہ ابھرتا ہے جو ہم احساسی کے جذبے کو ابھارتے ہیں جیسے کہ قحط سالی سے متاثر فاقہ کش بچوں کی تصویریں۔
ڪ سماج موافق رویہ کچھ عناصر کے ذریعہ کم بھی ہوسکتا ہے جیسے کہ براموڈ،خود اپنے مسائل سے الجھنا یا پھر یہ خیال کہ ضرورت مند انسان اپنی اس حالت کے لیے خود ذمہ دار ہے (دوسرے فرد کی ضرورت مندی کی حالت کے لیے اندرونی اسباب سے وابستگی)
ڪ سماج موافق رویہ ان حالتوں میں بھی کم ہوجاتا ہے جب تماشہ دیکھنے والے لوگ زیادہ ہوں۔مثال کے طورپر سڑک حادثے کا شکار ایک شخص مدد نہیں حاصل کرپاتا کیوں کہ وہاں بہت سے لوگ حادثے کی جگہ پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ مدد کرنا اس کی اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے یہ مظہر’’ذمہ داری کا انتشار‘‘کہلاتا ہے۔اس کے برعکس اگر وہاں صرف ایک ہی شخص کاگزر ہوگا تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ ذمہ داری سے حادثہ کے شکار شخص کی مدد کرے گا۔
اس سبق میں آپ نے رویوں کے بنیادی تصور اور سماجی وقوف کے بارے میں پڑھا نیز سماجی برتاؤ کے کچھ طریقوں کے بارے میں بھی سیکھا۔ اگلے سبق میں آپ گروہ کے اثرات کے بارے میں پڑھیں گے۔

سرگرمی 4.6

A      بھاری کتابوں کے ایک بڑے ڈھیر کے ساتھ اسکول کی لائبریری جائیے۔ لائبریری کے باہر ایک ایسے مقام پر جہاں آپ(a)صرف ایک شخص کو موجود پائیں،(b)ایک سے زیادہ لوگوں کو موجود پائیںوہاں کتابیں اور چیزیں اس طرح گرائیں جیسے کہ یہ اچانک گرگئی ہوں۔اب مشاہدہ کیجیے۔

          (a)    جب صرف ایک ہی شخص موجود تھا تو کیا وہ آپ کی مدد کے لیے آگے آیا اور گری ہوئی چیزیں اٹھانے میں آپ کی مدد کی؟

      

(b)    جب وہاں زیادہ افراد موجود تھے توان میں سے کتنے لوگ گری ہوئی چیزوں کو اٹھانے میں مدد کرنے کے لیے آگے بڑھے؟

 تازہ اخبارات ورسائل کا مطالعہ کیجیے اور کم سے کم ایک ایسی مثال حاصل کیجیے جس میں ناظرین نے مدد کی ہو۔ یادرکھیے آپ کو اپنی رپورٹ کے ساتھ اخبارکا تراشہ بھی لگانا ہے۔اس امرپر بحث کیجیے کہ ناظرین نے اس مخصوص حالت میں مدد کیوں کی۔ اس ضمن میںآپ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی بیان کرسکتے ہیں جن کو آپ ذاتی طورسے جانتے ہیں،اورجنھوں نے ہنگامی حالات میں دوسروں کی مدد کی ہے۔ ان کے بارے میں مختصراً لکھیے اور کلاس میں پیش کیجیے

کلیدی اصطلاحات

فاعل–مشاہد، تاثر،بیداری،رویے،وابستگی یا نسبت دہی،توازن،عقائد،رویے کی مرکز یت،عمل باہمی،وقوفی یکسانیت،وقوفی بے آہنگی،رویوں کی متجانس تبدیلی،ذمہ داری کا انتشار،تفریق،باہم دگری،خدشۂ پیمائش،رویوں کی شدت،یا نسبت دہی کی بنیادی غلطی،بالائی تاثر،شناخت،رویوں میں غیر مناسب / ناموافق تبدیلی،سچائی کے وجود کا احساس،ترغیب پذیری،تعصب،بنیادی تاثر،سماج موافق رویہ،اولین ٹائپ،قربت کا تاثر،قربانی کابکرابنانا،ذہنی خاکے،ذاتی تسکین کی پیشن گوئی،رویوں کارویہ،اولین ٹائپ،قربت کا تاثر،،ذہنی خاکے،ذاتی تسکین کی پیشین گوئی ،رویوں کی سادگی یا پیچیدگی،سماجی تسہیل،سماجی آوارہ گردی،مسبوکات،رویوں کی قوت کشش،اقدار۔

خلاصہ

انسان کی ضرورت ہے کہ وہ باہمی رابطہ ورشتہ قائم کرے اوراپنانیز دوسروں کے برتاؤ کی توضیح کرے۔
ڪ لوگوں کے رویوں کے پروان چڑھنے یا سوچ وبرتاؤ کے رجحانات کو پنپنے میں آموزش،خاندان واسکول کے اثرات،حوالہ جاتی گروپ نیز ذرائع ابلاغ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ رویوں میں احساس،وقوفی اور کرداری کا عنصر ہوتا ہے اور ان کو قوت کشش ،شدت،سادگی،پیچیدگی (کثیر اجزائی) اورمرکزیت کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔
ڪ رویوں میں تبدیلی توازن تصور،وقوفی آہنگی اور دوپہلو نظریات سے آتی ہے۔ رویوں کی تبدیلی ذرائع کی خصوصیات،ٹارگیٹ(ہدف)یا پیغام کے ذریعہ متاثر ہوتی ہے۔منفی رویے(تعصب) اکثر سماج میں تصادم کی کیفیت پیدا کردیتے ہیں اورامتیاز وتفریق کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں لیکن تعصب سے نمٹنے کے لیے کچھ عملی طریقے ہیں۔
ڪ ہمارے آس پاس کی سماجی دنیا کو سمجھنے کا طریقہ سماجی وقوف کہلاتا ہے جو ہمارے ذہنی سماجی خاکوں سے تیار ہوتا ہے۔ذہنی خاکہ یا مسبوکہ کسی خاص گروپ کے تئیں عام سوچ ہے جو عموماً تعصب کے احساس کو مضبوط کرتی ہے۔
ڪ تاثر کا قیام ایک منظم طریقے سے ہوتا ہے اور اس میں بنیادی وقربت کا تاثر ہوتا ہے نیز بالائی تاثر بھی ہوتا ہے۔
ڪ لوگ اپنے اوردوسرے کے برتاؤ کو کچھ وجوہات سے وابستہ کردیتے ہیں جیسے کہ کامیابی وناکامی کو اندرونی وباہری اسباب سے وابستہ کرنا۔ اس کی وجہ سے کچھ تاثرات قائم ہوتے ہیں جیسے وابستگی کی بنیادی غلطی کا تاثر،یا فاعل—مشاہد کا تاثر۔
ڪ بیداری اور خدشہ پیمائش (خصوصاً دوسروں کے سامنے) کی وجہ سے کارکردگی میں بہتر ی پیدا ہوتی ہے (سماجی تسہیل) اور غیر مانوس کا موں کی کارکردگی میں گراوٹ آسکتی ہے۔(سماجی بندش)

ڪ افراد ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو ضرورت مندہیں(سماج موافق رویہ)لیکن یہ بھی بہت سے عوامل کے ذریعہ سے بااثر ہوتا ہے۔

اعادہ کے سوالات

1۔  رویوں کی تعریف کیجیے۔ رویے کے اجزا کے بارے میں بحث کیجیے؟
2۔  کیا رویے سیکھے جاسکتے ہیں؟بتائیے کیسے؟
3۔  وہ کون سے عوامل ہیں جو رویوں کے بننے میں مدد کرتے ہیں؟
4۔  کیا برتاؤ ہمیشہ رویے کا انعکاس ہوتا ہے؟ ضروری مثال دے کر بتائیے۔
5۔  سماجی وقوف میں ذہنی خاکوں کی اہمیت پر روشنی ڈالیے؟
6۔  تعصب اورمسبوکہ(Stereotype)کے درمیان اختلاف کے بارے میں بتائیے؟
7۔  تعصب تفریق وامتیاز کے بغیر(یاالٹا)بھی وجود میں رہ سکتا ہے۔تبصرہ کیجیے۔
8۔  تاثر قائم کرنے میں جو عوامل اثرا انداز ہوتے ہیں ان کو بیان کیجیے۔ 
9۔  بتائیے کس طرح ایک فاعل کے ذریعہ کیاجانے والا وابستگی کا سبب ایک مشاہد کے ذریعہ دیے جانے والے سبب سے مختلف ہوگا۔
10۔  سماجی تسہیل کیسے وجود میں آتی ہے؟
11۔  سماج موافق رویے کو بیان کیجیے؟
12۔  آپ کا دوست بے تحاشہ الٹی سیدھی چیزیں کھاتا ہے،آپ خوراک کے تئیں اس کے رویے میں کس طرح تبدیلی لاسکتے ہیں؟

پروجیکٹ کی تجاویز

1۔  کوڑے کباڑے کے استعمال کے تئیں بیداری کا رویہ:ایک سروے۔
ہندوستان کے تقریباً سب ہی شہروں میں گھریلو کوڑہ ایک مسئلہ بن گیا ہے۔صاف ستھرے ماحول کا تصور بڑھ رہا ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ شہری اپنے گھر میں جمع شدہ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں کتنی معلومات رکھتے ہیں۔ اپنی جماعت کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ اپنی کالونی میں ایک سروے کیجیے اورپتہ لگائیے کہ لوگ گھریلوکوڑے کا کیا کرتے ہیں۔ہر طالب علم اپنی کالونی کے دوگھروں میں جاکر اس خاندان کے سربراہ سے مندرجہ ذیل سوال پوچھے اور ان کے جوابات تحریر کرلے۔
1۔  آپ پرانے اخبارات،رسائل،ڈبے اور بوتلوں کا کیا کرتے ہیں؟
2۔  آپ پلاسٹک کے پیکٹ ودیگر سامان(کھلونے،ڈبے وغیرہ) کا کیا کرتے ہیں؟
3۔  باورچی خانے کا کوڑا (سبزی وپھلوں کے چھلکے،چائے کی پتی،بچی ہوئی کھانے کی چیزیں جو کھائی نہیں جاسکتیں)کس طرح ٹھکانے لگاتے ہیں؟
4۔  آپ دوسری اشیا جن میں کیمیائی مادے ہوتے ہیں(جیسے ٹارچ کے سیل،بے کارCDs،کیسٹ،کیڑے ماردواؤں کے ڈبے)کس طرح پھینکتے ہیں؟
5۔  کیا آپ اپنے گھر کا تمام کوڑا ایک ہی ڈبے میںجمع کرتے ہیں یا پھر مختلف طرح کا کوڑہ مختلف کوڑے دان میں ڈالتے ہیں؟
6۔  آپ کے گھر اور پڑوس سے جوکوڑا اکٹھاہوتا ہے اس کا کیا ہوتا ہے اور اسے کہاں لے جایا جاتا ہے؟
7۔  رجعتی سائیکل سے کیا مراد ہے؟
8۔  آپ ذاتی طورسے اپنی کالونی کو صاف ستھرا بنانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
طلبا کے اکٹھے کیے ہوئے جوابات کا موازنہ کیجیے اور دیکھیے کہ لوگ گھر کے کوڑے اور کوڑے کی صفائی کے انتظامات کے بارے میں کس قسم کا برتاؤ اور معلومات رکھتے ہیں ؟
باہمی سمجھ بوجھ(ایک دوسرے کی ذات سے متعلق)کی مشق۔
مندرجہ ذیل مشق آپ کو یہ معلوم کرنے میں مدد دے گی کہ آپ اپنے دوست کو کتنی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ذیل میں دی گئی تمام صفات کے لیے آپ خود کو نمبر دیجیے(کالم1)اوراپنے بہترین دوست کو بھی نمبر دیجیے(کالم2)۔اب اپنے دوست کو بھی اسی طرح کی مشق کے لیے کہیے کہ وہ اپنے لیے کالم1میں اور آپ کے لیے کالم2 میں نمبر دے۔نیچے دیے گئے پیمانے کو استعمال کیجیے۔
1۔بہت کم 2۔کم 3۔نہ کم نہ زیادہ 4۔زیادہ 5۔بہت زیادہ(خصوصیات کے اعتبارسے)
جب آپ اور آپ کے دوست نمبر دے چکیں تو اپنے دوست کے پرچے سے کالم2 اپنی کاپی پر کالم 3 کی حیثیت سے نقل کرلیجیے۔ اب کالم3 اور کالم1کے نمبروں میں مقابلہ کیجیے اور ہر خصوصیت کو دھیان سے دیکھیے۔ اپنے دوست کو بھی یہی کام کرنے کے لیے کہیے یعنی آپ کے کالم 2کے اعداد وہ اپنے پاس کالم 3کے بطور اتارلیں اور پھر ان کا مقابلہ اپنے کالم1سے کریں۔اب کالم 3 میں جو خصوصیات باقی بچ گئیں جو کالم1میں نہیں ہیں ان کو کالم 4کے بطور نوٹ کرلیجیے۔دیکھیے آپ کے پرچے پر کالموں کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگی۔
کالم1 کالم2 کالم3 کالم4
آپ نے خود اپنا مواخذہ کیا   آپ نے اپنے دوست کا تجزیہ کیا آپ کے بارے میں آپ کے دوست کی رائے کالم3تفریق کالم1
دوستی/دوستانہ
پریشان
سنجیدہ
خوش مزاج
نئے خیالات کے تئیں سمجھدار(وسیع النظر)
اب معائنہ کیجیے کیا کالم4 میں کہیں صفر لگاہے؟کن خصوصیات کے بارے میں اختلاف زیادہ ہے اور کن کے تئیں اختلاف کم ہے(صفر کو چھوڑ کر)؟کیا آپ نے خود کو کم یازیادہ نمبر دیے ہیں بمقابلہ آپ کے دوست نے آپ کو جو نمبر دیے؟کیا آپ کے دوست نے آپ کے مقابلے خود کو کہیں کم یا زیادہ نمبر دیے ہیں؟تفریق کا نشان(+یا-)صرف اختلاف کی سمت جاننے کے لیے استعمال کیاجانا چاہیے۔
آپ دونوں کے لیے ہی جتنا کالم1اورکالم3 میں مماثلت ہوگی اتنا ہی آپ ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔ آپ اپنے اور اپنے دوست کے کالم 1 کا موازنہ بھی کرسکتے ہیں اور ان دونوں کی مماثلت آپ اور آپ کے دوست کے مابین مماثلت کی عکاس ہے۔

yy

ویب لنکس

http://tip.psychology.org/attitude.html
http:// changingminds.org/explanations/theories/schema.htm
http:// www.12 manage.com/methods_heider_attribution_theory.html
http:// www. answers.com/topic/social-facilitation.

تعلیماتی اشارات:—

1۔  رویوں کے موضوع پر طلباکو رویے (اے۔بی۔سی۔ڈی۔)کے عناصر اور رویے سے متعلق برتاؤ،دونوں کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔
2۔  رویوں کی تبدیلی کو سمجھاتے ہوئے طلباء کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ اس سے متعلق مثالیں تلاش کریں۔ مثال کے طورپر اشتہاری ایجنسیوں کا میڈیا کے ذریعہ اپنے مال کے فروخت کو فروغ دینا۔ پھر بحث کریں کہ کیا یہ کوششیں کارگرہیں یا نہیں؟
3۔  طلباکو ذہنی خاکوں،اولین خاکوں اور تعصب کے مابین آپسی رشتے کو سمجھنے میں مدد کریں۔ ایسی مثالیں پیش کریں جن سے علم ہو کہ کس طرح اولین خاکے یا مسبوکات تعصب کو جنم دیتےہیں۔
4۔  سماجی وقوف کے موضوع پر طلباکو سمجھنا چاہیے کہ تاثر قائم کرنا اور اس کے اسباب منسوب کرنا ایک بنیادی وقوفی عمل ہے جو دوسرے افراد کے بارے میں معلومات کو استعمال کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔اس ضمن میں ذہنی خاکوں کا رول بھی موثر کردار ادا کرتا ہے۔
5۔  سماجی تسہیل اور سماج موافق برتاؤ پر اس طرح بحث ہونی چاہیے کہ وہ سماجی زندگی کے برتاؤ کے پہلو پر روشنی ڈالیں نہ کہ صرف زندگی کے وقوف عنصر پر۔