Skip to content
Nafsiat-007


سماجی اثر اورگروہی یا اجتماعی عمل 

7

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
�  گروپوں کی ہیئت اور قسموں کو سمجھ سکیں گے اورجان سکیں گے کہ یہ کس طرح تشکیل پاتے ہیں،
�  فرد کے برتاو پر گروپ کے اثر کی جانچ کر سکیں گے،
باہمی تعاون اور مسابقت یا مقابلہ کے بارے میں بیان کر سکیں گے،
�  گروپوں کے مابین کشاکش کی ہیئت کو سمجھ سکیں گے اور کشاکش کے حل کی حکمت ِعملی یا طریقوں کو جانچ سکیں گے۔

تعارف

گروپ کی فطرت اور تشکیل گروہ کیا ہے؟
  گروہی فکر (باکس7.1 )
گروپ کی اقسام 
اقل گروہی مثالی خاکہ تجربات(باکس 7.2)
انسانی برتاؤ پر ان گروپوں کے اثرات
سماجی آوارگی
گروہی تقطیب
تقلید ،تعمیل اور فرماں برداری
گمان حرکت اثر (باکس 7.3)
گروہی دبائو اور تقلید :ا یش تجربات(باکس 7.4)
باہمی تعاون اورمسابقت
شیرف کے کیمپ موسم گرما کے تجربات(باکس 7.5)
سماجی شناخت 
بین گروہی تصادم:فطرت اور اسباب
کشاکش رفع کرنے کی حکمت عملی

کلیدی اصطلاحات

خلاصہ 
اعادہ کے سوالات
پروجیکٹ کی تجاویز
ویب لنکس
تعلیماتی اشارات


تعارف 

 اپنی روزمرّہ زندگی اور اپنے مختلف سماجی روابط یا تغافل پر غور کیجیے۔ صبح اسکول جانے سے پہلے آپ کنبہ کے ارکان کے ساتھ باہمی تعامل کرتے ہیں، اسکول میں اپنے اساتذہ اور ہم جماعت دوستوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اور اسکول کے بعد آپ اپنے دوستوں سے فون پر بات کرتے ہیں۔ ان سے ملتے جلتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ان میں سے ہر مثال میں آپ ایک گروپ کا حصہ ہیں جو صرف آپ کو ضرورت کے مطابق حمایت اور تسکین ہی مہیا نہیں کرتا بلکہ ایک فرد کی حیثیت سے ہونے والی آپ کی نشوونما میں بھی مدد گار ہوتے ہیں۔کیا آپ کبھی کسی ایسی جگہ گئے ہیں جہاں آپ کے خاندان کے افراد ، اسکول کے دوست اور احباب موجود نہ ہوں؟اگر ہاں تو آپ نے کیسا محسوس کیا ؟ کیا آپ کو ایسا لگا کہ آپ کی زندگی سے کچھ خاص چیز غائب ہے ۔
ہماری زندگی اس گروپ کی فطرت سے متاثر ہوتی ہے جس کے ہم ممبر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان گروپ کا حصہ بنیں جو ہم پرمثبت اثر ڈالیں اور ایک ذمہ دار شہری بننے میں ہماری مدد کریں۔ اس سبق میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ گروپ کیا ہے؟ اور وہ کس طرح ہمارے مزاج و کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صرف ہم ہی دوسروں سے متاثر نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم خود فرد اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ سماج یا دوسرے افراد میں کچھ تبدیلیاں لا سکیں۔ باہمی تعاون اورمقابلے کے فوائد پر بھی ہم بحث کریں گے نیز یہ کہ یہ ہماری ذاتی اور  سماجی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں یہ بھی دیکھیں گے، ہم یہ بھی پڑھیں گے کہ کس طرح شخصیت کی شناخت ہوتی ہے اور ہم کیسے اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اسی طرح یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح گروپوں میں آپسی تصادم پیدا ہو جاتا ہے اور اس سے کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں اور ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا طریقۂ کار ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک ہم آہنگ اور اتصالی سماج کی تشکیل کی جانب اپنا اشتراک کرنے کے اہل ہو سکیں۔

گروپ کی فطرت اور تشکیل 

گروپ کیا ہے ؟

پچھلے تعارفی موضوع میں ہم نے زندگی میں گروہ کی اہمیت پر غور کیا۔ ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ گروپ یا گروہ (مثلاً خاندان،کلاس، کھیل کے ساتھی ،دوست وغیرہ)افراد کے اجتماع سے کس طرح مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب لوگ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے یا آپ کے اسکول کا فنکشن دیکھنے کے لیے ایک جگہ اکٹھاہوتے ہیں لیکن یہ باہمی طور پر منحصر نہیں ہوتے ۔ ان کے کوئی طے شدہ کردار ، حیثیت اورایک دوسرے سے توقعات بھی نہیں ہوتیں جو وہ ایک دوسرے سے واسطہ رکھتے ہوں۔ لیکن جب بات ہمارے خاندان، جماعت یا اس گروہ کی ہو جس کے ساتھ ہم کھیلتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں آپسی ربط اور انحصار موجودہوتا ہے۔ گروہ کے ہر ممبر کا ایک کردار، مرتبہ اور ذمہ داری ہوتی ہے ، آپس میں ایک دوسرے سے توقعات بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ کا خاندان جماعت اور کھیل کو د کا گروپ ایسی مثالیں ہیں جو وقتی طور پر یکجا ہونے والے گروہوں سے مختلف ہیں ۔گروہ دویا زیادہ افراد کا منظم اجتماع ہے جو آپسی ربط رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مشترکہ مقاصد ہوتے ۔ باقاعدہ طے شدہ کردار ہوتے اور آپس میں ربط اور انحصار کے لیے باضابطہ قوانین ہوتے ہیں جو ممبران کے برتاؤ کو طے کرتے ہیں۔ 
�  گروپ کی مندرجہ ذیل اہم خصوصیات ہوتی ہیں
دو یا دو سے زیادہ افراد کی ایک سماجی اکائی جن میں گروپ سے تعلق کا احساس ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت ایک گروپ کو دوسرے سے الگ کرتی ہے اور انفرادیت بخشتی ہے۔
�  افراد کا ایک مجموعہ جن کے مشترک محرکات اور مقاصد ہوتے ہیں گروپ ایک متعین مقصد کے تئیں عمل کرتا ہے ۔ وہ متحد ہو کر مختلف مصیبت آمیز مسائل پر کام کر تا ہے۔
      افراد کا ایک مجموعہ جن میں انحصار باہمی ہویعنی جن میں ایک کی کار کردگی دوسرے کو اثر انداز کرتی ہو۔ مثال کے طور پر کرکٹ میچ میں اگر ایک فیلڈر کیچ چھوڑ دیتا ہے تو پوری ٹیم متأثر ہوتی ہے۔
فرد جو اپنی ضرورت ایک انجمن کے ذریعہ پوری کرنا چاہتا ہے وہ بھی اپنے گروپ کے افراد کو اثر انداز کرتا ہے۔
افراد کا ایک اجتماع جو ایک دوسرے پر براہِ راست یا با لواسطہ طور پر اثر اندازہوتے ہیں ۔
�  افراد کا ایک اجتماع جن میں باہمی تعلق کر دار ایک طے شدہ منظم ضابطے اور معیارات کے تحت ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کبھی آپس میں ملیں تو طے شدہ معیارات کے حساب سے کار کردگی اور فرائض انجام دیں اور گروپ کے ممبران گروپ کے معیارات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ معیارات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمیں گروپ سے کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے ہیں اور گروپ کے ممبران سے برتاؤ کی صراحت  ہوتی ہے۔
 گروپ اور لوگوں کے اچانک اکٹھا ہوئے جھنڈ میں نمایاں فرق ہے۔ مثال کے طور پر بھیڑ بھی لوگوں کا اجتماع ہے۔کبھی کبھی اچانک کسی و جہ سے کچھ لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جیسے سڑک پر کوئی حادثہ ہو جاتا ہے اور لوگ یکجا ہو جاتے ہیں ۔ یہ بھیڑ ہے۔ کیونکہ اس کی نہ تو کوئی ساخت ہوتی ہے اور بھیڑمیں نہ احساس باہمی تعلق ہوتا ہے نہ ہی کوئی باضابطہ اخلاقیات۔بھیڑ میں لوگوں کا برتاؤ غیر معقول ہوتا ہے اور ان میں باہمی انحصار نہیں ہوتا ہے۔
Team ٹیم  ایک مخصوص قسم کے گروپ کو کہتے ہیں۔ ان کے  ممبر اکثر نہ صرف تکملاتی مہارت رکھتے ہیں۔ بلکہ ایک مشترکہ منزل مقصود کے بامقصد حصول کے لیے پیمان وابستگی رکھتے ہیں۔ ٹیم کے سبھی ممبر ہر عمل کے لیے باہمی طور پر جواب دہ ہوتے ہیں۔ٹیم میں افراد کی باہمی مدد اور متحدہ کوشش سے اثباتی اثر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹیم اور گروپ میں نماں فرق مندرجہ ذیل ہیں:
گروپ میں افراد کی باہمی کار گزاری پر ہی گروپ کی کامیابی کا انحصار ہوتاہے لیکن ٹیم کی کا میابی میں فرد اور ٹیم کے جذبۂ اتحاد دونوں کا اہم رول ہوتا ہے ۔
�  گروپ میں لیڈر کسی کام کی کامیابی یا ناکامی کے لیے جوابدہ ہوتا ہے۔ جب کہ ٹیم میں ایک لیڈر ہوتا ہے مگر ہر ممبر اپنی کارکردگی کے لیے خود ذمہ دار ہوتا ہے۔
 سامعین  سے مراد افراد کے اس ہجوم سے ہے جو کسی خاص مقصد جیسے کرکٹ میچ دیکھنے یا کوئی فلمدیکھنے وغیرہ کے لیے اکٹھا ہو گئے ہوں۔ سامعین زیادہ تر تو بہت ہی خاموشی کے ساتھ دوسروں کی کارکرد گی کو سراہتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی شوراور ہنگامہ کے شکار ہو کر بھیڑبن جاتے ہیں۔ ان کے دھیان کا ایک خاص مرکز ہوتا ہے اور ان کی تمام حرکات و سکنات ایک مخصوص سمت میں ہوتی ہیں۔ بھیڑ کا رویہ ایک مخصوص یکساں فکر کے باوجود اضطراری ہوتا ہے۔
8

شکل7.1 ان دو تصویرں پر ایک نظر 

تصویر Aمیں ایک فٹ بال ٹیم دکھائی گئی ہے ، ایک گروپ جس میں ممبران ایک دوسرے سے تعامل کرتے ہیں ان کے اپنے کردار اور مقاصد ہوتے ہیں ۔ تصویر B میں حاضرین فٹ بال میچ دیکھتے ہوئے جو محض لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جو بعض امرا تفاق (فٹ بال میں ان کی دلچسپی ہو سکتی ہے) کے بنا پر بیک وقت ایک ہی جگہ پر جمع ہوئے ہیں

لوگ گروپ میں شامل ہونا کیوں پسند کرتے ہیں؟

 آپ سب اپنے خاندان کے فردہیں اور اس کلاس گروپ کے ممبر ہیں جس کے ساتھ آپ کھیلتے ہیں۔ اسی طرح اکثر لوگ بیک وقت الگ الگ کئی گروپ کے ممبر ہوتے ہیں۔گروپ آپ کی منفرد ضروریات کو پوری کرتا ہے۔ اس طرح ہم بیک وقت کئی گروپ کے ممبر ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی اس و جہ سے ہم کچھ خاص قسم کے دباؤ کے شکار ہوتے ہیں کیونکہ ہر گروپ کے ہم سے کچھ مسابقتی تقاضے اورامیدیں وابستہ ہوتی ہیں ۔ زیادہ ترتو ہم ان سب کاارتکاب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لوگ مختلف گروہ کے ممبر بنتے ہیں کیوں کہ گروپ ہماری مختلف ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔
لوگوں کے گروپ میں شمولیت کی کچھ مندرجہ ذیل وجوہات حسب ذیل ہیں۔
�   تحفّظ: جب ہم اکیلے ہوتے ہیں تو اکثر اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ گروپ اس غیر محفوظ ہونے کے احساس کا ازالہ کرتا ہے اور تحفّظ دیتا ہے۔ نتیجتاً لوگ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں اور کسی بھی طرح کے پرخطر حالات میں تحفظ کا احساس مضبوط ہو تاہے۔
�  حیثیت :جب ہم کسی اہم گروپ کے ممبر ہوتے ہیں تو گروپ کے ساتھ اپنی پہچان بننے اور قوت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ مان لیجیے آپ کے اسکول نے کوئی  ٹرافی جیتی تو آپ کو بھی فخرہوتا ہے کہ آپ اس اسکول کے ممبر ہیں۔
�  خود پسندی: گروپ سے ہمیں خود اعتمادی اور اثباتی سماجی انفرادی حقیقت کا احساس ملتا ہے۔ گروپ کا وقاراور اس سے ہماری وابستگی ہماری ہی نظروں میں باعث افتخار ہوتی ہے۔
�  نفسیاتی اور سماجی ضروریات کی آسودگی: گروپ کے افراد کا باہمی تعلق ، توجہ حاصل کرنا اور توجہ دینا ، پیار ، قوت اور احساس تعلق اس کی  نفسیاتی اور سماجی ضرورت کی آسودگی کا باعث ہوتی ہے۔
�  تحصیل مقصود :گروپ میں ان مقاصد کی تکمیل ممکن ہے جو فرد کے لیے انفرادی طور پرممکن نہیں ہوتی۔ اکثریت میں طاقت ہے۔
�   علم اور معلومات بہم پہچانا :گروپ کے ذریعے جو معلومات ہمیں ملتی ہیں وہ ہمارے خیالات میں وسعت کا باعث ہوتی ہیں۔ تنہا فرد کے طور پر ہمیں اتنی معلومات نہیں ہوتیں۔ گروپ ہمارے علم کو وسیع کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

گروپ کی تشکیل

  اس حصے میں ہم دیکھیں گے کہ گروپ کیسے بنائے جاتے ہیں ؟گروپ بننے کی بنیادی شرط لوگوں کے درمیان رابطہ اور عام تبادلۂ خیال وباہمی عمل ہے۔ تبادلۂ خیال کو بڑھاوا دینے والی کچھ شرطیں مندرجہ ذیل ہیں:
�  قربت: ذرا اپنے گروپ کے احباب کا تصور کیجیے ۔ کیا آپ ان کے دوست ہوتے اگر آپ اسی کالونی میں نہ رہ رہے ہوتے یا ایک ہی اسکول میں نہ پڑھ رہی ہوتے یا اسی ایک کھیل کے میدان میں نہ کھیل رہے ہوتے۔ شاید آپ کا جواب ’نہیں‘ ہوگا۔یعنی بار بار ایک شخص سے ملنا اور بات چیت کرنا قربت کو بڑھاوا دیتا ہے اور ہمیں ان کے اوران کی دلچسپیوں اور ان کے رویوں کے بارے میں جاننے کا اتفاق حاصل ہوتا ہے مشترکہ مفادات ،رویّے اور پس منظر، آپ کے گروپ ممبران کے لیے اپنی پسند کے اہم ترین عناصر ہیں۔ 
�  یکسانیت: بار بار کسی سے ملاقات یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی یکسانیت کی پہچان اس شخص سے کر سکیں اور گروپوں کی تشکیل کی راہ ہموار کر سکیں۔
ہم اپنے جیسے لوگوں کو کیوں پسند کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات نے اس کے بارے میں مختلف بیانات پیش کیے ہیں۔ ایک و جہ یہ ہے کہ افراد وابستگی کو ترجیح دیتے ہیں اور ان رشتوں کو پسند کرتے ہیں جو ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ جب دو لوگ ایک جیسے ہوں تو موافقت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرنا شروع کرتے ہیں۔ مثال کے لیے۔ اگر آپ کی کلاس میں آپ کی طرح کوئی دوسرا لڑکافٹ بال کھیلنا پسند کرتا ہے تو آپ اس کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح قوی امید ہوتی ہے کہ آپ شاید دوست بن جائیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں تو ہماری فکر اور اقدارکو تقویت ملتی ہے اور ہم اس شخص کو پسند کرنے لگتے ہیں جس نے ہمارے خیالات کو تقویت دی،  مان لیجیے آپ کے خیال میں بہت زیادہ ٹیلی ویژن  دیکھنا اچھا نہیں ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ تشدد دکھایا جاتا ہے ، آپ کسی ایسے فرد سے ملتے ہیں جس  کے اسی طرح کے خیالات ہوں۔ اس سے آپ کی رائے کو تقویت ملتی ہے اور آپ اس فرد کی رائے کو پسند کرنا شروع کر تے ہیں جو آپ کی رائے کو تقویت دینے کا ذریعہ بنا تھا۔
�  مشترک محرکات اور مقاصد: لوگوں کے محرک اور مقاصد اگر ایک ہوں تو ان کے گروپ بن جاتے ہیں اور مقصد کے حصول کے لیے گامزن ہو جاتے ہیں ۔ مان لیجیے آپ کو جھگی جھونپڑی میں ان پڑھ بچوں کو پڑھانا پسند ہے تو ظاہر ہے آپ یہ کام اکیلے کرنے سے قاصر ہوں گے  اور اگر کچھ ہم خیال آپ کو مل جاتے ہیں تو یہ کام آسان ہو جائے گا اور آپ سب سے مل کر بچوں کو پڑھانا شروع کردیں گے۔ ا س طرح گروپ کے ذریعہ آپ ایسے مقاصدمیں کامیاب ہو جاتے ہیں جب کہ  اس کے بغیر آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

گروپ کی تشکیل کے مراحل 

 زندگی کے دیگر مراحل کی طرح ہی گروپ بھی نشونما پاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ گروپ فوراً بن جاتے ہیں۔آپ جس وقت ایک دوسرے کے تعلق میں آئیں تو فوراً ہی اس کے ممبر نہیں بن جاتے ۔ گروپ کی تشکیل کے بھی مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ جیسے تشکیل۔کشاکش۔ استحکام۔ کار کردگی اور بر خواستگی۔ ٹکمین کا کہنا ہے کہ گروپ بننے کے درمیان پانچ مراحل ہیں۔ صورت یا ہیئت۔ کشاکش۔ معیاریت۔ کار کردگی۔ برخواستگی۔
�   پہلے جب گروپ ممبر ملتے ہیں تو گروپ، اس کی کارکردگی اور منزل مقصود کی بابت بے یقینی کی کیفیت ہوتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا وہ گروپ میں فٹ ہوں گے۔ ان کو جوش کے ساتھ خوف بھی ہوتاہے یہ مرحلۂ صورت یا تشکیل ہے۔
�  اس مرحلہ کے بعد درون گروپ کشاکش بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اسے پرآشوب مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ اس مرحلے میںگروپ میں اکثر بحث رہتی ہے کہ گروپ کا مقصد کیسے حاصل کیا جائے۔کون گروپ پر تسلط رکھے گا اور گروپ کے ذرائع کیا ہوں گے  ذمہ داریاں فرداً فرداً کیا ہوں گی۔ اسکے بعد ایک طرح سے سب کی حیثیت طے ہو جاتی ہے جس کے ذریعے منزل مقصود حاصل کرنے کا خاکہ ذہنوں میں صاف ہو جاتا ہے۔
�   پر آشوب مرحلے کے بعد ایک دوسرا مرحلہ ہوتا ہے جسے نارمل حالت کہا جاتا ہے۔یہاں تک آتے آتے گروپ کی کار کردگی کا معیار طے ہو جاتا ہے اور گروپ کی اثباتی شناخت قائم ہوجاتی ہے۔
چوتھا مرحلہ ہے مرحلۂ کار کردگی۔ اب گروپ کی کل کارکردگی کا ایک معیار قائم ہو جاتا ہے اور ہر فرد گروپ کے طے شدہ مقاصدکے حصول کے لیے کام کرتا ہے۔ کچھ گروپوں کے لیے شاید یہ ترقی کا آخری مرحلہ بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم کچھ گروپوں کے لیے مثلاً اسکول کے تقریب کے لیے ایک منتظمہ کمیٹی کے معاملے میں ایک اور مرحلہ ہو سکتا ہے جسے موقوف کرنے کا مرحلہ کہا جاتا ہے ۔اسکول کی تقریب ختم ہونے پر یہ گروپ برخواست ہوتا ہے۔

سرگرمی 1.7 

گروپ کی تشکیل کے مراحل کی شناخت 

اپنی جماعت کے کن ہی دس ممبر وںکو چنیے اور ایک اوپن ہاؤس کا منصوبہ بنا نے کے لیے ایک کمیٹی بنائیے۔ ان کو پوری خودمختاری دیجیے۔ دوسری کلاس کے بچے غور سے دیکھتے رہیں کہ وہ روز مرہ کے کام کیسے کر رہے ہیں ۔

آپ نے غور کیا کہ گروپ کی تشکیل کے سبھی مراحل طے کیے گئے ، کون سے غیر ضروری مرحلے چھوڑ دیے گئے ؟

ان تما م باتوں پر جماعت میں تبصرہ کیجئے۔

آپ دیکھیں گے کہ تشکیل گروپ کے تمام مراحل یکے بعد دیگرے ضروری طور پر نہیں برتے جاتے۔ کبھی کبھی دو یاتین مرحلے ایک ساتھ ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں کہ اگلے مراحل طے کرکے پیچھے پلٹتے ہیں اور کبھی کچھ غیر ضروری مراحل کو چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔
تشکیل گروپ کے عمل کے دوران ایک خاکہ طے ہو جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گروہی ساخت کو اسی وقت فروغ حاصل ہوتا ہے جب ممبران تغافل کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انجام دیے جانے والے کام کی تقسیم ، ممبران کا وقار یا متعلقہ حیثیت میں باقاعدگی دکھائی دینے لگتی ہے ۔
گروپ کا خاکہ تشکیل دینے میں چار عناصر ضروری ہیں:
— فرد کا کردار:  اولاد سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بڑوں کو عزت دے اور اپنی تعلیمی ذمہ داریاں پوری کرے وغیرہ وغیرہ ۔

باکس 1.7               

گروہی فکر 

زیادہ تر ٹیم ورک (اتحادی عمل )گروپ کی کار کردگی کے لیے بہتر ثابت ہوتاہے۔ تاہم ارونگ جینس کا کہنا ہے کہ پیوستگی یا اتصال با اثر قیادت میں مخل ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ تباہ کن فیصلہ سازی کی شکل میں برآمد ہو سکتا ہے۔ جینسن نے ’’اجتماعی فکر ‘‘ کے طور پر جانا گیا عمل دریافت کیا جس میں گروپ اپنے معاملات میں اتفاق رائے کی گنجائش رکھتا ہے یہ در حقیقت حقائق پر مبنی راہ عمل کے تین تشخیص کی ترغیب کو بے اثر کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ فیصلہ سازوں کے لیے غیر منطقی اور غیر نا قدانہ فیصلہ سازی کے رجحان کے شکل میں بر آمد ہوتا ہے ۔ اجتماعی فکر کی خصوصیت اتفاق رائے یا گروپ میں متفقہ معاہدہ کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے ۔ ہر ممبر یہ یقین کرتا ہے کہ سبھی ممبران ایک مخصوص فیصلے یا پالیسی پر متفق ہوں گے۔ کوئی بھی اختلاف رائے کااظہار نہیں کر سکتا کیونکہ ہر فرد یہ مانتا ہے کہ گروپ سے وابستگی بے اثر ہو جائے گی او وہ غیر مقبول ہو جائے گا ۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے گروپ میں واقعات پر قدرت رکھنے کے تئیں خود کو قوت کے بارے میں مبالغہ آمیز احساس رہتا ہے۔ حقیقی دنیا (جس میں اس کے منصوبے کے تئیں ضررکا اندیشہ ظاہر ہوتا ہے )کو نظر انداز کرنے یا اس کے مشاہد ے کے محرک کو کم ترین کرنے کا میلان ہوتا ہے گروپ کی اندرونی ہم آہنگی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے یہ حقیقت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے سماجی طور پر متجانس اور وابستہ گروپ دیگر گروپوں سے الگ تھلگ ہوتے ہیں ان میں جو اجتماعی فکر پیدا ہوتی ہے، اس میں متبادلات پر غور کرنے کی روایت نہیں ہوتی ۔ ان میں فیصلہ زیادہ نقصان دہ یا ناکامی کا موجب ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر متعدد گروہی فیصلوں کی مثالیں اجتماعی فکر کے مظہر کے طور پر بیان کی جا سکتی ہیں۔کبھی کبھی یہ فیصلہ مزاح بن کر رہ جاتا ہے۔ جیسے سن67- 1964 چلنے والی ویت نام جنگ اس کی ایک مثال ہے جس میں صدر لنڈن جانسن اوران کے صلاح کاروں نے غلط انداز سے سوچا اور جنگ کو لمبے عرصے تک کھینچنے کی و جہ سے 56 ہزار امریکی اور لاکھوں ویت نامیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ زبر دست بجٹ خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ اجتماعی فکر کے جوابی عمل یاروک تھام کے بعض طریقے ہیں: (i) تنقیدی سوچ حتی کہ گروپ ممبران کے درمیان عدم اتفاق کی حوصلہ افزائی اورصلہ دینا (ii) موجودہ متبادل راہ کو پیش کرنے کے تئیں گروپوں کی حوصلہ افزائی (iii) بیرونی ماہرین کو مدعو کرنا اور گروہی فیصلوں کی قدر شناسی کرنا (iv) دیگر معتبر لوگوں سے جوابی عمل تلاش کرنے کے لیے ممبروں کی حوصلہ افزائی کرنا۔

معیار تسلیم شدہ برتاؤ اور عقائد کے متوقع معیارات جو گروپ کاہر فرد مانتا ہے۔ یہ گروپ کے اَن کہے اصول و ضوابط سمجھے جاتے ہیں۔ آپ کی فیملی میں بہت سے معیارات ایسے ہیں جو فیملی ممبران کے برتاؤ کی رہنما ئی کرتے ہیںاور جو دنیا کو مشترکہ نظر سے دیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

گروپ کی اقسام

گروپ کئی معنوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ گروپ بڑے ہوتے ہیں (جیسے ایک ملک) اور کچھ چھوٹے ہوتے ہیں (جیسے خاندان)کچھ گروپ کچھ دنوں کے لیے وجود میں آتے ہیں(جیسے کمیٹی )کچھ گروپ عرصے تک قائم رہتے ہیں (جیسے مذہبی گروپ)کچھ گروپ کی تنظیم بہت پختہ ہوتی ہے (جیسے فوج،پویس وغیرہ)کچھ بغیرکسی رسمی تنظیم کے ہوتے ہیں (جیسے کرکٹ میچ دیکھنے لیے اکٹھا افراد)ہم بیک وقت بہت سے گروپ کے ممبر ہوتے ہیں۔ کچھ مخصوص قسم کے گروپ کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔
—بنیادی اور ثانوی گروپ 
— رسمی اور غیر رسمی گروپ 
— اندرونی گروپ اور بیرونی گروپ 

بنیادی اور ثانوی گروپ 

 بنیادی اور ثانوی گروپ کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ بنیادی گروپ پہلے سے ہی موجود ہوتے ہیں اور فرد خود کو اس میں مو جود پاتا ہے جب کہ ثانوی گروپ میں فرد خود اپنی پسند سے شامل ہوتا ہے۔ اس طرح خاندان، ذات ،مذہب بنیادی گروپ ہیں جب کہ کسی سیاسی گروپ میں شمولیت ثانوی گروپ کی مثال ہے ایک بنیادی گروپ میں باہمی میل ملاپ کے رشتے بہت نزدیکی ہوتے ہیں۔ ان میں جذباتی رابطے بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بنیادی گروپ انفرادی عمل کا مرکز ہوتا ہے ۔اقدار اور نصب العین کے فروغ میں اس کا خاص کردار ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس ثانوی گروپ میں رشتے غیر ذاتی اور بلا واسطہ قائم ہوتے ہیں اور ان میں اتنی گہرائی سے نزدیکیاں نہیں ہوتیں اور کسی بھی وقت فرد کسی گروپ کو چھوڑ کر دوسرے گروپ میں شامل ہوجاتا ہے۔

حیثیت

اس سے مراد نسبتی سماجی حیثیت ہے جو دوسروں کے ذریعہ گروپ کے ممبروں کو دی جاتی ہے۔ یہ نسبتی رتبہ یا حیثیت یا تو مفوضہ (کسی کی عمر یا رتبے میں برتری کے سبب دی جا سکتی ہے) یا اکتسابی(فرد اپنی مہارت یا سخت محنت کے سبب حاصل کرتا ہے)ہو سکتی ہے ہم گروپ کے ممبر ہونے کے سبب اس گروپ سے متعلق حیثیت سے استفادہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم سبھی ان  گروپوں کے ممبر ہونے کے لیے جدو جہد کرتے ہیں جو حیثیت میں اونچا ہو اور دوسروں کے ذریعہ پسند ہو۔ ایک گروپ کے اندر مختلف ممبران کی مختلف حیثیت یا وقار ہوتا ہے۔ مثال کے لیے ایک کرکٹ ٹیم کے کیپٹن کی حیثیت دوسرے ممبروں کے مقابلے زیادہ اونچی ہوتی ہے حالانکہ ٹیم کی کامیابی کے لیے ہر ممبر مساوی طور پر اہم ہوتا ہے۔
پیوستگی سے مراد گروپ کے ممبروں کے درمیان رفاقت، وابستگی یا باہمی کشش ہے ۔ جیسے جیسے گروپ میں پیوستگی بڑھتی جاتی ہے، گروپ کے ممبران ایک سماجی اکائی کے طور پر رہنا کم پسند کرتے ہیں۔ انتہائی پیوستہ گروہ کے ممبران لوگوں کے نسبت جو کم پیوستہ گروہوں سے متعلق ہوتے ہیں گروپ میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ پیوستگی کاجذبہ اتحاد عمل یا ’’ہم کا احساس‘‘ یا گروپ سے متعلق ہونے کے احساس کی دلالت کرتی ہے۔ ایک پیوستہ گروپ کو چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے یا جو نہایت پیوستہ گروپ ہوتے ہیں ان کی ممبر شپ حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ انتہائی پیوستگی کبھی کبھی گروپ کے مفاد میں نہیں ہوتی ماہرین نفسیات نے اجتماعی فکر (Group Think)کے مظہر کی شناخت کی ہے (باکس7.1 دیکھیں) جو انتہائی پیوستگی کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔

رسمی اور غیر رسمی گروپ

یہ گروپ اس معنی میں مختلف ہوتے ہیں کہ گروپ کے افعال نہایت واضح اور رسمی طور پر بیان ہوتے ہیں۔رسمی گروپ کے افعال جیسا کہ دفتری تنظیم کے معاملے میں ہے، واضح طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔گروپ کے ممبران کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کرداروں کو واضح انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ساخت کی بنیاد پر رسمی اور غیر رسمی گروپ مختلف ہوتے ہیں۔ رسمی گروپوں کی تشکیل کچھ مخصوص ضوابط یا قوانین اور ممبران کے متعین کرداروں پر مبنی ہے۔ اس کے معیار کا ایک مجموعہ ہوتاہے جو نظم و ترتیب قائم رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔ یونیور سٹی رسمی گروپ کی ایک مثال ہے جب کہ دوسری طرف غیر رسمی گروپوں کی تشکیل ضوابط یا قوانین پر مبنی نہیں ہوتی ہے ۔ ممبران کے درمیان قریبی تعلق ہوتا ہے۔

درونی گروپ اور بیرونی گروپ 

جیسے افراد اس لحاظ سے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا یکسانیت اور فرق ہے، دوسروں کے ساتھ خود کا موازنہ کرتے ہیں اسی طرح افراد جس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اس کا موازنہ کرتے ہیں جس کے وہ ممبر نہیں ہیں۔ اصطلاح ’درونی گروپ‘کسی کے اپنے گروپ کی دلالت کرتی ہے اور بیرونی گروپ سے مراد دوسرا گروپ ہے۔ درونی گروپ کے ممبران کے لیے ’ہم‘ کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ لفظ’وہ‘کا استعمال بیرونی گروپ کے ممبروں کے لیے کیا جاتاہے ۔ الفاظ وہ اور ہم کا استعمال کرنے کے ذریعہ کوئی بھی لوگوں کی زمرہ بندی ’’اپنے‘‘یا ’’غیر‘‘کے طور پر کر سکتا ہے۔یہ دیکھاگیا ہے کہ درونی گروپ میں افراد عام طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں اور موافقانہ سوچتے ہیں اور ان میں مطلوبہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ بیرونی گروپ کے ممبران مختلف سمجھے جاتے ہیںاور درونی گروپ کے ممبران کی نسبت منفی طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ درون گروپ اور بیرون گروپ کا ادراک ہماری سماجی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس فرق کو باکس 7.2 میں دیے گئے تافیل کے تجربات کے ذریعہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر چہ اس طرح کی زمرہ بندی کرنا عام بات ہے لیکن یہ اعتراف کیا جانا چاہیے کہ یہ زمرے حقیقی نہیں ہیں اور ہم ان کی تخلیق کرتے ہیں۔ کچھ تہذیبوںمیں کثیریت ہوتی ہے جیسا کہ ہندوستان کے معاملے میں ہے۔ ہمارے یہاں ایک منفرد مخلوط ثقافت ہے جو نہ صرف ہماری زندگی پر جہاں ہم رہتے ہیں جھلکتی ہے بلکہ ہمارے فن ، فن تعمیر او ر موسیقی میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

سرگرمی 2.7

درونی گروپ اور بیرونیگروپ میں فرق 

قریب ماضی میں اسکولوں کے درمیان ہوئے مقابلے کے بارے میں سوچیے ۔ اپنے دوستوں سے کہیے کہ آپ کے اسکول اور اس کے طلبا،دوسرے اسکول اور اس اسکول کے ساتھیوں اور دیگر اسکول کے طلباکے بارے میں پوچھیے اور برتاؤ کی فہرست بنا ئیے۔ فرق کا مشاہدہ کیجیے اور کلاس میں بحث کیجیے۔ کیاآپ کچھ یکسانیت بھی دیکھتے ہیں اگر ہاں تو ان پر بحث بھی کیجیے۔

انفرادی برتاؤ پر گروپ کا اثر

ہم نے دیکھا کہ گروپ اتنے طاقتور ہوتے ہیں کیونکہ وہ افراد کے برتاؤ پر  اثر انداز ہونے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس اثر کی نوعیت کیا ہے؟ دوسروں کی موجودگی ہماری کارکردگی پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ہم دو صورت حال پر بحث کریں گے۔ (i)دوسروں کی موجودگی میں فرد واحد کا تنہا سرگرمی انجام دے رہا ہے(سماجی تسہیل)۔(ii) دوسروں کی موجودگی جو ایک بڑے گروپ کے جز کے طور پر دوسروں کے ساتھ سرگرمی انجام دے رہیں(سماجی آوارگی) ۔چونکہ سماجی تسہیل کے بارے میں باب 6 میں بات کی گئی ہے لہٰذا ہم اس سیکشن میںسماجی آوارگی (Social loafing)کے بارے میں بحث کریں گے۔

سماجی آوارگی

سماجی تسہیل کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کی موجودگی سے جوش پیدا ہوتا ہے اور افراد اگر کچھ حل کرنے میں پہلے ہی بہترہیں توان کی کار کردگی کوبڑھانے میں متحرک ہوسکتی ہے۔ یہ بہتر ی اس وقت واقع ہوتی ہے جب کسی فرد کی کوششوں کو انفرادی طور پر آزمایا جائے۔ کیا ہو اگر فرد کی کوششوں کو گروپ میں شریک کیا جائے تاکہ اس طرح مجموعی طور پر گروپ کی کارکردگی  پر نظر رکھ سکیں؟کیا آپ جانتے ہیں کہ کیا واقع ہوتا ہے؟ یہ پایا گیا ہے کہ افراد گروپ میں کم محنت کرتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ جب اکیلے وہی کام انجام دے رہے ہوں اس سے اس مظہر کا پتہ چلتا ہے جسے ’’سماجی آوارگی ‘‘کہا جاتاہے۔ جب اجتماعی عمل انجام دیا جارہا ہو تب فردکی کوششوں میں کمی سماجی آوارگی کہلاتی ہے۔ اجتماعی عمل وہ ہے جس میں دیگر گروپ ممبران کے ساتھ کسی کے ماحصل کو جمع کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے کام کی ایک مثال رسہ کشی کا کھیل ہے۔ یہ آپ کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اس ٹیم کے ہر ممبر کی قوت کے بارے میں الگ الگ اندازہ لگایا جائے ایسی صورت حال میں گروپ کے ممبروں کو موقع فراہم ہوتا ہے کہ وہ راحت محسوس کریں اور بے دھٹرک کام کرنے لگیں۔کیپٹن اور اس کے ساتھیوں نے بہت سے تجربات میں اس مظہر کا مظاہرہ کیا جنھوں نے طلباکے ایک گروپ سے جتنا زیادہ ممکن تھا تالی بجانے یا پر شور آواز میں خوشی منانے کو کہا کیونکہ وہ (تجربہ کرنے والے)یہ جاننا چاہتے تھے کہ سماجی ماحول میں لوگ کتنا شور مچاتے ہیں ۔گروپ کے سائز میں ترمیم کی گئی، افراد یا تو اکیلے یا دو ، چار اور چھ کے گروپ میں تھے۔ مطالعہ کے نتائج سے پتہ چلا کہ اگر چہ شور کی مقدار بڑھ گئی لیکن ہر شریک کے ذریعہ پیدا کی جانے والی شور کی مقدار گھٹ گئی ۔ دوسرے لفظوں میں ہر شریک نے گروپ سائز کے بڑھنے پر کم کوشش کی۔ سماجی آوارگی لمبی واقع ہوتی ہے۔ اس کی توضیح درج ذیل ہے:
�  گروپ کے ممبران مجموعی طور پر انجام دیے جانے والے کام کے لیے کم جوابدہی محسوس کرتے ہیں اور اس لیے کوشش کم کرتے ہیں۔
�  ممبران کی تحریک کم ہوتی ہے کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اشتراک کو انفرادی بنیاد پر نہیں دیکھا جائے گا۔
�  گروپ کی کار کردگی کا موازنہ دوسرے گروپوں سے نہیں کیا جائے گا۔
�  ممبروں کے درمیان غیر موزوں ارتباط ہوتا ہے(یا ارتباط بالکل نہیں ہوتا)
�  ممبروں کے لیے ایک ہی گروپ سے تعلق رکھنا اہم نہیں ہے۔ یہ صرف افراد کا ایک مجموعہ ہے۔

باکس 2.7

اقل گروہی مثالی خاکہ تجربات

تافیل اور اس کے دوستوں کو درونی گروپ برتاؤ کے لیے اقل شرائط جاننے میں دلچسپی تھی۔ اقل گروہی نمونے کو اس سوال کے لیے فروغ دیا گیا۔ برطانوی اسکول کے طلبانے دو فنکاروں و کینڈسکی اور پال کلی کے ذریعہ بنائی گئی پینٹنگ کے لیے اپنی ترجیح کا اظہار کیا۔ بچوں کو بتایا گیاکہ یہ فیصلہ سازی کا ایک تجربہ تھا۔ وہ ان گروپوں کو جانتے تھے جن میں ان کی گروپ بندی کی گئی تھی(کینڈنسکی گروپ اور کیلی گروپ) دیگر گروہی ممبروں کی کوڈ اعدادکا استعمال کرتے ہوئے چھپی ہوئی تھی۔ بچوں نے اس کے لیے صر ف وصولی کرنے والوں کو کوڈ نمبروں اور گروپ ممبر شپ کا استعمال کرتے ہوئے رقم تقسیم کی۔

نمونہ جاتی تقسیمی ڈھانچہ 

درونی گروپ ممبر 19 18 17 16 15 14 13 12 11 10 9 8 7 —

بیرونی  گروپ ممبر25 23 21 19 17 15 13 16 9 7 5 3 1 —

آپ متفق ہوں گے کہ ان گروپوں کی تخلیق جن کی ماضی میں یا مستقبل کی کوئی تاریخ نہیں تھی ڈھیلی ڈھالی کسوٹی کی بنیاد پر کی گئی تھی (دو فنکاروں کے ذریعہ پینٹنگ کے لیے ترجیح) تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں نے اپنے خود کے گروپ کو ترجیح دی۔


سماجی آوارگی کو درج ذیل طریقوں سے کم کیا جا سکتا ہے۔

�   ہر فرد کے ذریعہ کی جانے والی کوششوں کو قابل شناخت بنانا۔
�   محنت سے کام کرنے کے دباؤ کو بڑھانا (کامیابی کے ساتھ کام انجام دینے کے لیے گروپ ممبروں کو پابند بنانا۔
�  نمایاں اہمیت یا کام کی قدر کو بڑھانا۔
�   لوگوں کو یہ احساس دلانا کہ ان کا انفرادی اشتراک اہم ہے۔
�  گروپ سے وابستگی کو مضبوط کرنا جس سے کامیاب گروہی نتائج کے لیے تحریک پیدا ہوتی ہے۔

گروہی تقطیب

ہم سبھی جانتے ہیں کہ گروپوں کے ذریعہ نہ کہ افراد کے ذریعہ اہم فیصلے لیے جاتے ہیں۔ مثال کے لیے گاؤں میں اسکول قائم کر لیا جائے یا نہیں یہ فیصلہ لینا ہے۔ اس طرح کے فیصلے گروہی فیصلے ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب گروپ فیصلے لیتے ہیں تب کبھی کبھی یہ بھی ڈر رہتا ہے کہ کہیں گروہی سوچ نہ حاوی ہو جائے(باکس7.1)۔ گروپ ایک اور رجحان ظاہر کرتا ہے جسے گروہی تقطیب کے طور پر بیان کیا جاتاہے ۔ یہ دیکھاگیا ہے کہ گروپ ممکن ہے اکیلے افراد کے مقابلے زیادہ سخت فیصلے لیں ۔ مان لیجیے ایک ملازم ہے جو رشوت لیتے ہوئے یا کسی غیر اخلاقی عمل میں پکڑا گیا ہے۔ اس کے ساتھیوں سے پوچھا جاتاہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اسے کیا سزا ملنی چاہیے؟ وہ اسے بری کر سکتے ہیں یا غیر اخلاقی عمل بھی ساتھ ساتھ کیے جانے کے سبب سزا دینے کے بجائے خدمات سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ گروپ میں جو کچھ بھی ابتدائی موقف ہوں گروپ کے مباحثے کے نتیجے میں یہ موقف اور بھی مضبوط ہو سکتے ہیں۔ گروپ کے ابتدائی موقف میں تقویت گروپ کے تفاعل اور بحث کا نتیجہ ہے جسے گروہی تقطیب کہا جاتا ہے۔ یہ کبھی کبھی خطرناک رد عمل ثابت ہوتا ہے کیونکہ گروپ سخت موقف اختیار کر سکتا ہے یعنی نہایت کمزور فیصلے کے مقابلے انتہائی سخت فیصلہ اختیار کر سکتا ہے۔
گروہی تقطیب کیوں واقع ہوتی ہے ۔ ایک مثال لیں ،آیا سزائے موت ہونی چاہیے ،فرض کیجیے آپ و حشیانہ جرائم کے لیے سزائے موت کے حامی ہیں۔ کیاہوگا اگر آپ ہم خیال لوگوں کے ساتھ اس امر پر تبادلۂ خیال اور بحث کررہے ہوں ؟ اس تفاعل کے بعد آپ کے خیالات اور بھی مضبوط ہو سکتے ہیں ۔ یہ حتمی رائے درج ذیل تین اسباب کی بنا پر قائم ہوتی ہیں۔
�  ہم خیال لوگوں کا ساتھ ملنے پر آپ ممکن ہے اپنے زاویہ نظر کے حق میں نئے نئے دلائل سنیں۔ اس سے آپ سزائے موت کے زیادہ قائل ہو جائیں گے۔
�  جب آپ دوسروں کو بھی سزائے موت کے حق میں دیکھ رہے ہو ں تو آپ محسوس کریں گے کہ اس خیال کو عوامی طور پر جواز حاصل ہو رہا ہے اور یہ بینڈویگن اثر کی ایک قسم ہے۔
�  جب آپ دریافت کرتے ہیں کہ لوگوں کے ایک جیسے خیالات ہیں تب ممکن ہے آپ انھیں درون گروپ کے طو ر پر باور کرتے ہیں۔ اس سے موافقت دکھانا شروع کرتے ہیں اور نتیجتاً آپ کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔

سرگرمی 3.7

تقطیب کی جانچ

اپنے استاد کے ذریعہ تیار کیا گیا ایک مختصر 5 نکاتی رویہ پیمانہ کلاس کو دیجیے جو سزائے موت کے تئیں رویوں کی جانچ کے سلسلے میں ہو۔ کلاس کو ان کے جوابات کی بنیاد پر دو گروپوں میں تقسیم کیجیے یعنی ایک وہ جو سزائے موت کے حامی ہیں دوسرے وہ جو سزائے موت کے مخالف ہیں اب ان گروپوں کو دو مختلف کمروں میں بٹھا دیجیے اور ان سے کہیے کہ وہ حالیہ معاملے جس میں عدالت کے ذریعہ موت کی سزا دی گئی ہو،پربحث کریں۔ دیکھیے کہ دونوں گروپوں میں بحث کس طرح آگے بڑھتی ہے۔ بحث کے بعد گروپ کے ممبروں کے تئیں رویہ پیمانہ کو از سر نو منظم کیجیے۔ جائزہ لیجیے کہ آیا دونوں گروپوں میں گروہی مباحثے کے نتیجے میں ان کے ابتدائی موقف کے مقابلے موجودہ موقف کچھ سخت ہوا ہے۔

تقلید، تعمیل اور فرماں برداری

سماجی اثرات گروپ اور افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ اثرات ہم کو ایک مخصوص سمت میں ہمارے برتاؤ کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اصطلاح ، سماجی اثر سے مراد وہ عمل کاری ہے جس کے ذریعہ ہمارے رویوں اور برتاؤں پر دیگر لوگوں کی حقیقی یا خیالی موجودگی سے اثر پڑتا ہے۔ پورے دن آپ کو متعدد صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں دوسرے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ کی سوچ پر جیسا کہ وہ چاہتے ہیں، اثر ڈالتے ہیں آپ کے والدین ، اساتذہ ، دوست، ریڈیو اور ٹیلی ویزن کمر شیل سماجی اثر کی کوئی نہ کوئی قسم تخلیق کرتے ہیں۔ سماجی اثر ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ بعض صورت حال میں ہم پر سماجی اثر بہت مضبوط ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہم چیزوں کو کم کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ورنہ ہم ایسا نہیں کرتے ۔ دیگر مواقع پر ہم دوسروں کے اثرات کے خلاف بھی جاتے ہیں بلکہ ان پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے خود کے زاویۂ نظر اپنائیں ۔ اس سیکشن میں تین اہم گروہی اثرات کی عمل کاری کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ تین عمل ہیں مطابقت،تعمیل اور  فرماں برداری۔
اپنے اسکول میں درج ذیل صورت حال کا تصور کیجیے ۔ آپ کے کچھ دوست حال میں اعلان کیے گئے ضابطے (یعنی اسکول میں موبائیل فون کے استعمال پر پابندی ) کے خلاف احتجاج کے خط کے ساتھ آپ کے پاس آئے۔ ذاتی طورپر آپ مانتے ہیں کہ یہ اصول یا ضابطہ معقول ہے اور اسے لاگو ہونا چاہیے۔ لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر آپ خط پر دستخط نہیں کریں گے  تو آپ کئی دوستوں سے محروم ہو جائیں گے اور طلبا میں اتحاد نہ رکھنے پر بدنام ہو جائیں گے ۔ ایسی صورت حال میں آپ کیا کریں گے؟ آپ کے خیال میں آپ کی عمر کے زیادہ تر لوگ کیا کریں گے؟ اگر آپ کا جواب ہے کہ آپ اس خط پر دستخط کرنے پر متفق ہو جائیں گے تو یہ سماجی اثر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جسے مطابقت (Conformating) کہا جاتاہے ۔ جس کا مطلب ہے گروپ معیار یعنی دیگر گروپ ممبران کی توقع کے مطابق برتاؤ کرنا، افراد جو مطابقت نہیں پیدا کرتے (انھیں منحرف یا غیر مطابقت پسندی کہا جاتا ہے)ان لوگوں کے مقابلے زیادہ توجہ دیتے ہیں کیل مین نے سماجی اثرات کی تین شکلوں تعمیل، شناخت اور درون کارکاذکرکیاہے۔تعمیل میں بیرونی شرائط ہوتی ہیں جو فرد کو ان اثرات کو قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے جو دوسروں کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ تعمیل سے مراد کسی کے ذریعہ کی گئی درخواست کے جواب میں مخصوص اندازمیں برتاؤ کرنا ہے۔اس طرح اوپر بیان کی گئی مثال میں آپ یہ سوچ کر دستخط کر سکتے ہیں کہ آپ اس درخواست کو قبول کر چکے ہیں نہ کہ اس لیے کہ آپ دیگر طلبا سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ کسی اہم ممبر کے ذریعہ اس طرح کی درخواست کی گئی ہے ۔ یہ تعمیل کا معاملہ ہوگا جسے بیرونی یاعوامی مطابقت پسندی کہا جاتا ہے ۔ تعمیل بغیر کسی معیار کے واقع ہو سکتی ہے مثال کے  طور پر ایک کمیونٹی گروپ کا کوئی ممبر صاف ستھرے ماحول کے سلسلے میں آپ سے آپ کی موٹر سائیکل پر ایک اسٹیکر لگوانا چاہتا ہے جس پر لکھا ہوا ہو’’پلاسٹک کے تھیلے کو نہ کہیں‘‘آپ ایسا کرنے کے لیے راضی ہیں اس لیے نہیں کہ یہ گروپ کا نمونہ ہے، نہ ہی اس لیے کہ آپ ذاتی طور پر پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی لگائے جانے کے حق میں ہیں بلکہ اس لیے کہ اپنی موٹر سائیکل پر اس طرح کے اسٹیکر لگائے جانے میں کوئی نقصان یا مسئلہ نہیں دیکھتے۔ ساتھ ہی ساتھ آپ کو اس بے ضررد رخواست (اورنسبتاً پر معنی)’’نہ ‘‘ کہنے کے بجائے ’ہاں‘ کہنا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ Kelmanکے مطابق شناخت اثر اندازی کے اس عمل کی دلالت کرتی ہے جو موافقت کی جستجو یا شناخت کی جستجو پر مبنی ہوتی ہے۔ جب کہ دوسری طرف اندرون کاری وہ عمل ہے جومعلومات کی جستجو پر مبنی ہوتی ہے۔
برتاؤ کی ایک اور شکل ’فرماں برداری ‘ یا اطاعت ہے۔ فرماں برداری کی نمایاں خصوصیت ایک ایسا برتاؤ ہے جو کسی شخص کی اطاعت نافذ کرنے کے اختیار کے جوابی عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔ درج بالا مثال میں آپ خط پر بلا تامل فوری دستخط کر سکتے ہیں اگر کوئی سینئیر ٹیچر یا اسٹوڈینٹ لیڈر آپ سے ایسا کرنے کے لیے کہے۔ ایسی صور ت حال میں آپ لازماً گروپ کے معیار یا قدر کی پابندی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ہدایت یا حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ کسی مختار شخص کی موجودگی سے یہ برتاؤ موافقت پسندی سے مختلف ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، آپ کلاس روم میں اس وقت اونچی اور تیز آواز میں بات کرنا بند کر سکتے ہیں جب آپ سے کوئی استاذخاموش رہنے کے لیے کہتا ہے لیکن اگر آپ کا ہم جماعت آپ سے یہی بات کہتاہے تو آپ اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
ہم یہ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ موافقت پسندی ، تعمیل اور فرماں برداری کے درمیا ن کچھ مماثلت ہے لیکن کچھ فرق بھی ہے۔ ان تینوں سے فرد کے بر تاؤ پر دوسروں کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ فرماں برداری سماجی اثر اندازی کی سب سے زیادہ راست اور نمایاں شکل ہے جب کہ تعمیل، فرماں برداری کی نسبت کم راست ہے کیونکہ کسی نے آپ سے درخواست کی اور اس طرح آپ تعمیل کرتے ہیں (آپ موافقت پسندہیں کیونکہ آپ معیار یا قدر سے منحرف نہیں ہونا چاہتے )

موافقت پسندی یا تقلید

لوگ گروپ کے معیار کی پا بندی کیوں کرتے ہیں، جب کہ صرف انھیں سزا کے طورپر گروپ کی ناراضگی یا ’’جدا‘‘ سمجھے جانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں؟ کیوں کہ لوگ مطابقت پسند ہوتے ہیں تب بھی جب کہ وہ جانتے ہیں کہ معیار خود مطلوبہ نہیں ہے؟
 ایسا لگتا ہے کہ معیار کی پیروی کرنے کا میلان فطری ہے اور اس میں کسی خاص توضیح کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم ، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ میلان کیوں فطری یا اضطراری  ہوتا ہے۔ اولاً معیارِ برتاؤ کے غیر تحریری اور غیر رسمی اصولوں کے ایک مجموعے کی نمائندگی کرتاہے جس سے گروپ کے ممبران کو کسی مخصوص صورت حال میں ان سے کیا توقع کی جاتی ہے، اس کی معلومات فراہم ہوتی ہے۔ اس سے پوری صورت حال واضح ہو جاتی ہے فرد اور گروپ دونوں کو زیادہ ہموار طور پر عمل کرنے کی آسانی ہوتی ہے۔ دوسرے بالعموم لوگوں کو اگر دوسروں سے ’’مختلف یا جدا ‘‘سمجھا جائے تو وہ اس میں پریشانی محسوس کرتا ہے۔ اس طرح برتاؤ کرنا جو متوقع برتاؤ کی شکل سے مختلف ہو، کا نتیجہ دوسروں کی ناپسند یدگی یا ناگواری کی شکل میں ہو سکتا ہے۔ یہ سماجی سزا کی ایک شکل ہے۔ یہ کچھ ویسی ہی شکل ہے جس سے لو گ اکثر سوچ سوچ کر ڈرتے ہیں۔مگر وہ سوال یاد کریں جو اکثر ہم پوچھتے ہیں: لوگ (تب) کیا کریں گے؟اس طرح معیار کی پابندی کر نا ،پسندیدگی یا نا گواری سے بچنے اور دوسروں سے توثیق حاصل کرنے کا سیدھا طریقہ ہے۔ تیسرے، معیار کو اکثریت کے خیالات اور عقائد کی عکاسی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ ترلوگ یہ مانتے ہیں کہ اکثریت زیادہ ممکن ہے صحیح ہونہ کہ غلط ۔ اس کی ایک مثال ٹیلی ویژن پر اکثر دکھایا جانے والا معلومات عامہ کا پروگرام ہے۔ جب مقابلے میں حصہ لینے والا کسی سوال کا صحیح جواب نہیں دے پاتا تو وہ حاضرین کی رائے لینے کا انتخاب کر سکتا ہے، وہ شخص اکثر اسی رائے کو اختیار کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے جو حاضرین نے پیش کی ہو۔ اسی استدلال کے ذریعہ لوگ معیار کے ساتھ مطابقت کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ اکثریت صحیح ہی ہوگی۔
مطابقت پسندی پر اولین تجربات شیرف اور ریش نے انجام دیے تھے ۔ انھوں نے بعض ایسی صورت کو سمجھا یا جو مطابقت پسندی کی حد کو متعین کرتی ہیں اور ان طریقوں کو بھی بتایا جو گروپوں میں مطابقت پسندی کے مطالعے کے لیے اپنائے جا سکتے ہیں۔ جن تجربات کا مظاہر ہ کیا انھیں شیرف ’’گمان حرکت اثر‘‘ (Auto kinetic effect) اور ایش تکنیک (باکس 7.3 اور باکس 7.4) کہا جاتاہے۔
مطابقت پسندی پر ان تجربات کے نتائج سے کیا معلومات حاصل ہوتی ہیں؟ اس کا اصل سبق گروپ کے ممبروں میں مطابقت پسندی کا درجہ ہے جس کا تعینبہت سے عوامل کے ذریعہ کیا جاتاہے جو صورت حال کے لحاظ سے مخصوص ہوتے ہیں۔

مطابقت پسندی کے فیصلہ کن عناصر 

(i)گروپ کی جسامت: بڑے گروپ کی نسبت چھوٹے گروپ میں مطابقت پسندی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کیوں واقع ہوتا ہے؟اس کا جواب آسان ہے کیونکہ چھوٹے گروپ میں ایک منحرف ممبر( وہ جو تقلید نہیں کرتا)نظر میں آجاتاہے۔ تاہم ایک بڑے گروپ میں ، اگر زیادہ تر ممبروں میں مضبوط مطابقت پسندی یا تقلید پائی جاتی ہو تواس سے اکثریت قوی ہوتی ہے اور اس لیے معیار بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ایسے معاملے میں اقلیتی ممبران زیادہ امکانی طور پر تقلید کریں گے کیونکہ گروپ کا دباؤ  زیادہ مضبوط ہوگا

باکس 3.7 

گمان حرکت اثر

شیرف نے یہ مظاہر ہ کرنے کے لیے کہ کس طرح گروپ اپنے معیارات کا تعین کرتے ہیں اور ممبران ان کے معیارات کے لحاظ سے اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔

تجربات کے ایک سلسلے کا اہتمام کیا،شرکاکو ایک تاریک کمرے میں بٹھا دیا گیا اور روشنی کے ایک نقطے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کو کہا گیا۔ اس روشنی کے نقطے پر نظر مرکوز رکھنے کے بعد ہر شخص سے کہا گیا کہ اس دوری کا اندازہ لگائے جس سے وہ گزراتھا۔ اس طرح کا فیصلہ متعدد آزمائشوں کی بنیاد پر کیا جاتاتھا۔ ہر آزمائش کے بعد گروپ کو اوسط دوری کے بارے میں معلومات فراہم گئیں جسے ممبران کے ذریعہ اخذ کیا گیا تھا۔یہ مشاہدہ کیا گیا کہ بعد کی آزمائشوں میں افراد نے اپنے فیصلوں میں ا س طرح ترمیم کی کہ وہ گروپ اوسط کے زیادہ مماثل ہوگئے ۔ اس تجربے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ روشنی کا نقطہ اصلاً اپنی جگہ سے ہٹا ہی نہیں تھا۔روشنی کو متحرک ہونے کے طور پر صرف شرکاکے ذریعہ دیکھا گیا تھا ( اس لیے اس اثر گمان حرکت اثر کہا گیا تاہم تجربہ کرنے والوں کی ہدایت کے جواب میں شرکانے نہ صرف متحرک ہونے والی روشنی کی دوری کا فیصلہ کیا بلکہ اس دوری کے لیے معیار بھی تخلیق کیا ۔خود غور کیجیے کہ شرکا کو تبدیلی کی نوعیت سے متعلق کس طرح کی معلومات نہیں دی گئی تھیں، اگر دی گئیں تو آزمائشوں کی بنیاد پر ان فیصلوں کے بارے میں لکھیے ۔

(ii)اقلیت کی تعداد:ایش تجربے کا معاملہ لیجیے (باکس7.4دیکھیں)مان لیجیے فرد کو پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کے کچھ دیرکے بعد کوئی شریک ہے جو فرد کے جواب سے اتفاق کرتا ہے۔ کیا فرد اب غالباً زیادہ تقلید کرے گا یا شاید کم تقلید کرے گا؟ جب غیرمقلد یا انحراف کرنے والی اقلیت کی تعداد بڑھتی ہے تو ممکنہ مطابقت پسندی گھٹ جاتی ہے۔ درحقیقت گروپ میں غیر مقلّدین یا غیر مطابقت پسندوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

(iii)کام کی نوعیت: ایش کے تجربے میں مفوضہ کام میں مطلوبہ جواب کی توثیق کی جا سکتی ہے اور صحیح یا غلط ہو سکتا ہے۔ بالفرض کام میں کچھ موضوع کے بارے میں رائے دینا شامل ہے۔ایسے معاملے میں کوئی صحیح یا غلط جواب نہیں ہوگا۔ کس صورت حال میں ممکنہ طور پر زیادہ مطابقت پسندی ہوگی پہلے میں جہاں صحیح یا غلط جیسا کچھ معاملہ ہو یا دوسرے میں جہاں جواب میں صحیح یا غلط درست ہونے کے کسی جواب کے بغیر وسیع طور پر جوابات مختلف ہو سکتے ہیں؟آپ کو صحیح ہونے کا اندازہ لگانا پڑ سکتا ہے، مطابقت پسندی دوسری صورت حال میں غالباً کم ہوگی۔
(iv)برتاؤ کا عوامی یا نجی اظہار:ایش تکنیک میں گروپ ممبران سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے جوابات کھلے طور پر دیں۔ یعنی سبھی ممبران جانتے ہیں کہ کیا جواب دیا جاتا ہے۔ تاہم، دیگر صورت حال بھی ہو سکتی ہیں(مثال کے طور پر خفیہ رائے شماری کے ذریعہ رائے دیں)جس میں ممبران کا برتاؤ نجی نوعیت کا ہوتا ہے(دوسروں کو واقفیت نہیں)کم عوامی اظہار کی نسبت نجی اظہار میں کم تقلید یا مطابقت پسندی دیکھی جاتی ہے۔
(v)شخصیت: اوپر بیان کی گئی صورت سے ظاہر ہے کہ بیان کی گئی تقلید کے درجے کو متعین کرنے میں صورت حال کی خصوصیات کتنی اہم ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھاکہ کچھ افراد تقلیدی یا مطابقت پسند شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد میں دوسرے کیا کہتے ہیں یا زیادہ تر صورت حال میں کیا کرتے ہیں۔ اس کے مطابق اپنے برتاؤ میں تبدیلی کا میلان پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ، ایسے بھی افراد ہیں جو خود مختار ہوتے ہیں اور کسی مخصوص صورت حال میں کس طرح کا برتاؤ کیا جائے ۔ اس کا فیصلہ کرنے میں معیار کی طرف نہیں دیکھتے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نہایت ذہین لوگ، وہ جو اپنے آپ میں پر اعتماد ہوتے ہیں، وہ لوگ جو مضبوطی کے ساتھ وقف رہتے ہیں اور جن کے اندر   زبر دست خود پسندی ہوتی ہے،وہ غالباً کم مطابقت پسند ہوتے ہیں۔

باکس 4.7

گروہی دباؤ اور تقلید:ایش تجربات

ایش نے جائزہ لیاکہ جب گروپ کے ایک ممبر کو ایک مخصوص انداز میں برتاؤ کرنے یا مخصوص رائے دینے کے لیے باقی گروپ کا دباؤ ہوتا ہے تو تقلید کتنی ہوگی ۔ سات افراد کے ایک گروپ نے ایک تجربے میں شرکت کی اس بصیرت آزمائی میں درحقیقت صرف ایک اصل فرد زیر تجربہ تھاباقی چھ شرکاتجربہ کرنے والے کے ساتھی یا اتحادی جیسا کہ سماجی نفسیات میں انھیں کہا جاتا ہے،ان اتحادیو ں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مخصوص جواب دیں۔ بے شک یہ بات اصل فرد کو نہیں معلوم تھی۔ سبھی شرکاکو ایک عمودی خط (معیاری خط) دکھایا گیا جس کا موازنہ مختلف لمبائیوںB,A اور C (تقابلی خطوط) کے تین عمودی خطوط کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ شرکاکو یہ بیان کرنا تھا کہ کون سے تقابلی خطوط B,A یا Cمعیاری خط کے مساوی ہیں۔ 

9

جب تجربہ شروع ہوا ہر شریک کا ر نے باری باری اپنے جواب کا اعلان کیا پہلے پانچ افراد نے غلط جواب دیا (کیونکہ انھیں ایسا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ہر دور میں اصل فرد کی باری آخرمیں آئی لہذا اصل فرد کے سامنے 5 افراد کے ذریعہ غلط جواب دینے کا تجربہ تھا۔ آخری شخص (جو اتحاد ی بھی تھا) نے بھی وہی غلط جواب دیا جو پہلے پانچ افراد جیسا ہی غلط جواب تھا۔ حتی کہ اگر اصل فرد نے محسوس بھی کیا کہ جوابات صحیح نہیں ہیں پھر بھی ایک معیار اس کے سامنے پیش ہوا ۔ ایسی بارہ آزمائشیں تھیں۔کیا اصل فرد نے اکثریت کے جواب کی تقلید کی ، یا اس نے اپنی خود کی رائے پیش کی؟

یہ مشاہدہ کیاگیا کہ 67 فی صد افراد نے تقلید کی اور اکثریت والوں نے وہی غلط جواب دیا۔ یا دکیجیے کہ یہ صورت حال تھی جس میں جوابات کھلے طور پر دیے گئے تھے۔

مطابقت پسند ی یا تقلید معلوماتی اثر انگیزی یعنی وہ اثر جو حقیقت کی نسبت معلوم واقعات کو قبول کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، واقع ہوتی ہے۔ اس قسم کی عقلی تقلید دوسروں کے عمل سے دنیا کے بارے میں سیکھنے کے طور پر باور کی جاسکتی ہے۔ ہم ان لوگوں کا مشاہدہ کرنے کے ذریعہ سیکھتے ہیں جو متعدد سماجی روایتوں کے بارے میں معلومات کے بہتر ماخذ ہوتے ہیں۔ گروپ کے نئے ممبران گروپ کی روایتوں کو دیگر گروپ ممبران کے افعال کا مشاہدہ کرنے کے ذریعہ سیکھتے ہیں۔تقلید اقداری اثر کے سبب بھی واقع ہوتی ہے، یعنی یہ اثر انگیز فرد کی دوسروں کے ذریعہ پذیرائی یا سرا ہے جانے کی خواہش پر مبنی ہوتی ہے ایسے معاملوں میں لوگ اس لیے تقلید کرتے ہیں کیونکہ گروپ سے انحراف سے مسترد کیے جانے یا کم سے کم عدم قبولیت کی شکل میں برآمد ہو سکتی ہے جو سزا کی ایک طرح کی صورت ہے۔ عام طور پر مشاہد ہ کیا جاتا ہے کہ گروپ کی اکثریت قطعی فیصلے تعین کرتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں اقلیت زیادہ ذی اثر ہوتی ہے ۔ ایسا تب واقع ہوتا ہے جب اقلیت ایک مضبوط اور مصالحت کو قبول نہ کرنے والا موقف اختیار کرے اور اس بنا پر اکثریت کے زاویہ نگاہ کی درستی پر شکوک پیدا کرے۔ اس سے گروپ میں تصادم پیدا ہوتا ہے۔(دیکھیں باکس 7.4)

تعمیل یا بجا آوری

یہ پہلے بیان کیا گیا تھا کہ تعمیل کا سیدھا سا مطلب دیگر فرد یا گروپ کی درخواست (حتی کہ معیار کی غیر موجودگی میں بھی)کے جواب میں برتاؤ کرنا ہے۔ تعمیل کی ایک اچھی مثال برتاؤ کی وہ قسم ہے جب ایک فروخت کرنے والا ہمارے دروازے پر آتا ہے ۔ اکثر یہ فرد کچھ سامان کے ساتھ آتا ہے  جسے ہم واقعتا خرید نا نہیں چاہتے ۔ تاہم کبھی کبھی ہمیں خود حیرت ہوتی ہے کہ فروخت کرنے والاکچھ منٹ کے لیے ہم سے بات کرتا ہے اور اس بات چیت کے ختم ہونے پر ہم وہ چیز خرید لیتے ہیں جسے وہ فروخت کرنا چاہتا ہے۔ آخر لوگ کیوں تعمیل کرتے ہیں؟
کئی صورتوں میں ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں تعمیل کرنا ایک آسان طریقہ ہوتا ہے۔ یہ زیادہ خوش خلق ہے اور دوسرے فریق کو اس سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ دیگر صورتوں میں دیگر عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ جب کوئی چاہتا ہے کہ دوسرا فرد تعمیل کرے تو اس سلسلے میں درج ذیل تکنیکیں بھی کار آمد پائی گئی ہیں۔

دی فوٹ ان دی ڈور تکنیک: فرد ایک معمولی درخواست کے ذریعہ شروعات کرتا ہے جسے شاید ہی کوئی دوسرا فرد منع کرسکے ۔ جب ایک بار کوئی اور فرد درخواست عمل میں لے آتا ہے تو اس کے بعد جب کہ ایک بڑی درخواست کی تعمیل پہلے ہی کر چکا ہے دوسری درخواست کو منع کرنے میں تامل محسوس کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پرکوئی شخص کسی گروپ کی طرف سے آسکتا ہے اور ہمیں یہ کہتے ہوئے تحفہ دیتا ہے (کون ایسی چیز مفت میں دیتا ہے)کہ یہ تشہیر کے لیے ہے۔ اس کے بعد جلد ہی اسی گروپ کا دوسرا ممبر پھر آسکتا ہے اور گروپ کی بنائی ہوئی کسی دوسری شے کو ہم سے خرید نے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

دی ڈیڈلائن تکنیک:اس تکنیک میں ایک فرق آخری تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے کہ اس تاریخ تک ایک مخصوص شے یا پیشکش دستیاب ہوگی۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ جلد ی کریں اور اس شاذ و نادر  موقع کا فائدہ اٹھا کر جلدی خرید اری کر یں۔ یہ زیادہ ممکن ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی مقررہ وقت نہ ہوتا تو آپ وہ چیز نہ خریدتے۔

دی ڈور اِن دی فیس تکنیک :اس تکنیک میں آپ بڑی درخواست کے ساتھ شروع کرتے ہیں اور جب اسے مسترد کر دیا جاتا ہے تب ایسی کسی چھوٹی چیز کے لیے درخواست کی جاتی ہے جو اصلاً مطلوب ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر فرد کے ذریعہ منظور کر لیا جاتا ہے۔

فرماں برداری

جب کسی با اختیار فرد جیسے والدین، ٹیچر، قائدین یا پولس کی ہدایت یا حکم ماننے کے تئیں ظاہر ہوتی ہے تب اس برتاؤ کو فرماں برداری یا بجا آوری کہتے ہیں۔ کیوں لوگ فرماں برداری دکھاتے ہیں۔ اس کو سمجھناآسان ہے۔ اکثر ایسااس لیے ہے کہ اگر ہم حکم عدولی کرتے ہیں تو کچھ سزا کا خوف رہتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ با اختیار فرد کے حکم کی تعمیل ضرورکی جانی چاہیے ، با اختیار فرد کے پاس احکامات کو نافذ کرنے کے مؤثر ذرائع ہوتے ہیں ملگرام نے ایک تجربے کا اہتمام یہ دکھانے کے لیے کیا کہ افراد ان لوگوں کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں جو اجنبی ہوتے ہیں۔ تجربہ کرنے والے نے زیر مطالعہ جواب دہندگان کو مطلع کیا جا سکے۔تجربہ جوڑوں پر انجام دیا گیا۔ ہر جوڑے میں ایک فرد ’’آموزگار‘‘ تھا جن کا کام الفاظ کا یاد کرنا تھا۔ دوسرا شریک ’’معلم‘‘ تھا جس کا کام ان الفاظ کو تیزپڑھنا تھا اور آموز کار کو ضرب پہنچانے یا جھٹکا دینے کے ذریعہ سزا دینا تھا ۔ آموزکار پہلے سے مرتب ہدایات کے لحاظ سے غلطیاں کر سکتاتھا۔معلم سے کہا گیاکہ وہ ہر بار ضرب کی قوت بڑھائیں۔ درحقیقت کوئی ضرب نہیں پہنچائی گئی تھی۔ ہدایات کو اس طرح مرتب کیا گیا کہ معلم کو ایک گو مگو کی حالت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔کیا اسے ضرب تب بھی رکھنا چاہیے تھا جب کہ ان کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا تھا؟تجربہ کرنے والے معلم کو متحرک کرنا جاری رکھا۔ کل میں 65 فی صد نے پوری طرح فرماں برداری دکھائی۔ کچھ شرکانے بہر حال احتجاج کیااور یہ کہا کہ یہ سیشن ختم ہونا چاہیے۔ ملگرام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگ بھی کسی با اختیار فرد کا حکم ملنے پر معصوم لوگوں کو نقصان   پہنچا نے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
لوگ کیوں اس وقت بھی اطاعت کرتے ہیں جب کہ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کا برتاؤ دوسروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ماہرین نفسیات نے اس کی کئی وجوہات معلوم کی ہیں۔ ان میں سے کچھ اسباب درج ذیل ہیں۔

لوگ حکم کی تعمیل اس لیے کرتے ہیں کہ وہ محسوس کر تے ہیں کہ وہ اپنے خود کے افعال کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں، وہ با اختیار فرد کے احکامات نافذ کر رہے ہیں۔

�  بااختیار فرد عام طور پر حیثیت کی علامت رکھتے ہیں(جیسے یونیفارم ، پہچان یا خطاب )جس سے لوگوں کا بچنا مشکل ہوجاتاہے۔

�  حکام کے ذریعہ دھیرے دھیرے کم تر سطح سے اونچی سطح تک اختیار بڑھتا جاتا ہے اور ابتدائی فرماں برداری مطیع کو حکم کا پابند بناتی ہے۔ جب ایک بار آپ چھوٹے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں تب دھیرے دھیرے با اختیار فرد کے لیے حکم کی پابند ی کرنے میں شدت آتی جاتی ہے اور فرد بڑے احکامات کی تعمیل شروع کرتا ہے۔

اکثرایسا ہوتا ہے کہ واقعات اتنی تیزی سے واقع ہورہے ہوتے ہیں(مثال کے لیے فساد کی صورت حال) کہ کسی کو کچھ سوچنے کا موقع نہیں ملتا سوائے اس کے کہ وہ اوپر سے ملے احکامات کی تعمیل کرے۔

سرگرمی 4.7

روز مرہ زندگی میں فرماں برداری کا مظاہر ہ کرنا۔

کیا آپ حکام یا با اختیار فرد کے تئیں ملگرام کے مطالعات کے نتائج میں یقین کرتے ہیں؟ آپ خوددیکھیے کہ أیا اطاعت واقع ہوئی یا نہیں۔

اپنے استاد سے کسی چھوٹی کلاس میں جانے کی اجازت لیجیے ۔ وہاں جائیے اور طلبا سے کچھ کہیے اس طرح کی درخواستوں کی کچھ مثا لیں ہیں۔

طلبا سے کہیے کہ دیگر طلبا کے ساتھ اپنے بیٹھنے کی جگہ بدل لیں۔

طلبا سے کہیے کہ ایک مینڈک کی طرح ٹرٹر کریں۔

طلبا سے کہیے کہ جے ہند کہیں۔

طلبا سے کہیں کہ اپنے ہاتھ اوپر اٹھائیں۔

(اس میں آزادی کے ساتھ اپنے خیالات بھی شامل کر سکتے)ہیں۔

 آپ نے کیا دیکھا؟ کیا طلبا نے آپ کی اطاعت کی؟ ان سے پوچھیں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ ان پر واضح کیجیے کہ آپ سینئر کی اطاعت کیوں کریں؟ اس کا مطالعہ کر کے واپس آئیے اور بحث کیجیے کہ آپ نے اپنے ٹیچر اور ہم جماعتوں کے ساتھ کیا دیکھا۔

تعاون اور مسابقت

مختلف سیاق و سباق میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ زیادہ تر سما جی صورت حال میں برتاؤ کی خصوصیت کا تعین یا تو ’تعاون‘ یا ’مسابقت‘کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جب گروپ کسی مشترک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مل جل کر کام کرتے ہیں تب ہم اسے تعاون کے طورپر جانتے ہیں۔ تعاون کی صورت حال میں صلہ گروہی صلہ ہوتا ہے نہ کہ انفرادی صلہ۔ تاہم جب ممبران اپنے خود کے مفاد ات کو بیش ترین کرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد کو حقیقت آفریں بنانے کے لیے کام کرتے ہیں تو نتیجتاًمسابقت کا امکان ہو سکتا ہے۔ سماجی گروپوں کے مسابقتی اور تعاونی دونوں مقاصد ہو سکتے ہیں۔ مسابقتی مقاصد کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ ہر فرد اپنا مقصد تبھی حاصل کرتا ہے اگر دوسرے اپنے مقاصد نہ حاصل کریں۔مثال کے لیے آپ مقابلے میں صرف تبھی اول آسکتے ہیں جب کوئی دوسرا اس سطح تک انجام نہیں دے سکتا۔ جب کہ دوسری طرف تعاونی مقصد یہ ہو تا ہے جس میں ہر فرد صرف تبھی مقصد حاصل کرسکتا ہے جب گروپ کے دیگر ممبران بھی مقصد حاصل کرتے ہیں۔ ہم اسے کھلاڑی کی ایک مثال سے سمجھا سکتے ہیں۔ایک سو میٹر کی دوڑ میں چھ لوگوں میں صرف ایک جیت سکتا ہے۔کامیابی انفرادی کارکردگی پر منحصر ہے۔ ڈنڈا دوڑ (Relay Race) میں جیت ٹیم کے سبھی ممبران کی اجتماعی کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے۔Deutschنے گروپوں کے اندر تعاون اور مسابقت کی تفتیش کی۔ کالج کے طلبا کو پانچ افراد کا ایک گروپ تفویض کیا اور ان سے پہیلیوں اور مسائل کو حل کرنے کے لیے کہا گیا۔ ایک گروپ مجموعی کو ’تعاونی گروپ‘ کے طورپر ترجیح دی گئی اور انھیں بتایا گیا کہ ان کی کارکردگی انجام دینے کے لیے اجتماعی طور پر صلہ دیا جائے گانتائج سے پتہ چلا کہ تعاونی گروپوں میں بہت زیادہ ارتباط تھا، ایک دوسرے کے خیالات کی پذیرائی تھی اور مسابقتی گروپ کی نسبت ان میں زیادہ دوستانہ ماحول تھا۔ تعاونی گروپ کے ممبران کا خاص مقصد گروپ کی کارکردگی کو زیادہ بہتر بنا کر پیش کرنا تھا۔ اگرچہ کسی گروپ کے اندر افراد کے درمیان مسابقت کا نتیجہ تصادم اور بے آہنگی کی صورت میں نکل سکتاہے جب کہ گروپوں کے درمیان مسابقت گروپ سے وابستگی اور اتحاد عمل بڑھ سکتا ہے۔

باکس 5.7

شیرف کے موسم گرما کے کیمپ کے تجربات: درون گروہی تشکیل سے بین گروہی مسابقت تک اور بالآخر بین گروہی تعاون 

شیرف نے 11-12 سال کی عمر کے بچوںپر تجربات کے سلسلے کا اہتمام کیا جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔لڑکے موسم گرما کے ایک  کیمپ (پڑاؤ) میں شامل ہو رہے تھے۔ کچھ محققین بھی کیمپ میں تھے جن کے بارے میں لڑکوں کو نہیں معلوم تھا۔ جنھوں نے ان کے (لڑکوں کے ) برتاؤ کا جائزہ لیا۔ تجربہ چار مراحل یعنی دوستی کی تشکیل، گروپ کی تشکیل ، بین گروہی مسابقت اور بین گروہی تعاون پر مشتمل تھا۔

�   دوستی کی تشکیل: جب کیمپ میں لڑکے پہنچے تو انھوں نے اپنا ابتدائی وقت ساتھ ساتھ گزارا۔ وہ ایک دوسرے سے گھل مل گئے ،کھیل اور دیگر سرگرمیوں کے لیے اپنے دوستوں کا انتخاب کیا۔

�   درون گروہی تشکیل :تجربہ کرنے والے نے لڑکوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ لڑکے الگ الگ رہنے والے دونوں گروپوں سے متعلق تھے گروپ کے اندر ممبران نے وابستگی بڑھانے کے لیے تعاونی منصوبوں پر کام کیا۔ گروپو ںکو الگ الگ نام دیے گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے خود کے معیارات کو فروغ دیا۔

�   بین گروہی مسابقت: دونوں گروپوں کو متعدد مسابقتی صورت حال میں رکھا گیا۔ مقابلوں کا اہتمام کیا گیا جس سے گروپوں میں ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوئی ؛یہ اس قدر بڑھی کہ گروپ نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کیا ،ساتھ ہی ساتھ درون گروہی وابستگی اور وفاداری مضبوط ہوتی گئی۔

�   بین گروہی تعاون:بین گروہی مسابقت کے ذریعہ تخلیق کی گئی عداوت کو کم کرنے کے لیے محققین نے ایک مسئلہ تخلیق کیا جس سے دونوں گروپ متاثر ہوئے، دونوں گروپ انھیں حل کرنا چاہتے تھے۔ اہم تر مقاصد صرف گروپوں کے درمیان تعاون کے ذریعہ حاصل کیے جا سکتے تھے۔ دونوں گروپوں کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ پڑی تھی۔ دونوں گروپوں کے ممبران نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ۔یوں بین گروہی تعاون کے مرحلے کے ذریعہ عداوت کم ہوئی۔ اس کا نتیجہ اہم تر مقصد یعنی وہ مقصد جس میں ذاتی مقاصد تحتی تھے، کے فروغ کی صورت میں بر آمدہوا۔

یہ تحقیق اہم ہے جیسا کہ اس سے ظاہر ہو اکہ معاندانہ اور مخالفانہ برتاؤ گروہی صورت حال کے ذریعہ تخلیق کیا جا سکتا ہے ساتھ ہی ساتھ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گروپوں کے درمیان عداوت کو اہم تر مقاصد پر مرکوز کرنے کے ذریعہ کم کیا جا سکتا ہے، جو اہم ہے اوردونوں گروپوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

قیدیوں کی گومگو حالت کا کھیل

یہ دوافراد کا کھیل ہے جس میں دونوں فریقوں کو تعاون یا مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر دونوں جیت یا ہار سکتے ہیں، اسے اکثر تعاون یا مسابقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کھیل ایک دلچسپ حکایت پر مبنی ہے۔ دو مشتبہ افراد پر الگ الگ سراغ رساں کے ذریعہ نظر رکھی جارہی ہے۔ ایک معمولی جرم کے لیے ان کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ان سراغ رساں کے پاس کافی ثبوت تھے۔ الگ الگ دونوں مجرموں کو اقبال جرم کا ایک موقع دیاگیا۔ اگرایک اقبال جرم کرتا ہے اور دوسرا نہیں تو اس کو جو اقبال جرم کرتا ہے اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور اس کے اعتراف جرم کو دوسرے کے سنجیدہ جرم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اگر دونوں اعتراف جرم کرتے ہیں تو دونوں کو ہلکی سزادی جائے گی اگر کوئی اعتراف جرم نہیں کرتا تو ہر ایک کو ہلکی سزادی جائے گی۔اس کھیل کے سیکڑوں تجربات یہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے کہ جب دوفریق شامل ہوتے ہیں تو تعاون کرنے اور مسابقت کرنے دونوں کے محرکات کے درمیان ایک کشاکش جاری رہتی ہے۔ (شکل 7.2دیکھیں)
مثال کے طور پر ، دو کھلاڑی ہیں :A اور B اگر دونوں تعاون کرتے ہیں تو دونوں کو تین تین نمبر ملتے ہیں۔ اگر کھلاڑی Aمسابقت کرتاہے اور جیت جاتا ہے تو اسے 5نمبر ملتے ہیں اور B کو صفر نمبر ملتا ہے۔ اگر Bمسابقت کرتا ہے اور جیت جاتا ہے تواسے 5 نمبر مل جاتے ہیں اور Aصفر نمبر حاصل کرتا ہے۔ اگر A اور B دونوں مسابقت کرتے ہیں تو دونوں دو دو نمبر حاصل کرتے ہیں۔ آپ کن نتائج کی توقع کرتے ہیں؟ آپ کیوں ایسی توقع کرتے ہیں؟ اسباب بتائیے۔
10

شکل 2.7 تعاون بنام مسابقت

تعاون اور مسابقت کے فیصلہ کن عناصر

کون سے عوامل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا لوگ تعاون کریں گے یا مسابقت کریں گے؟ کچھ اہم درج ذیل ہیں۔
(i)صلہ ساخت: ماہرین نفسیات مانتے ہیں کہ آیا لوگ تعاون کریں گے یا مسابقت کریں گے ،یہ صلہ ساخت پر منحصر ہوگا۔ تعاونی صلۂ ساخت وہ ہے جس میں معاون بین انحصار ہوتا ہے۔ ہر ایک صلہ کا خواہش مندہے اور صلہ تبھی ممکن ہے جب سبھی اس میں اشتراک کریں۔ ایک مسابقتی صلہ ساخت وہ ہے جس میں کوئی فرد صلہ تبھی حاصل کر سکتا اگر کوئی دوسرا نہ حاصل کرسکے۔
(ii)بین شخصی رابطہ :جب کوئی اچھی بین شخصی ترسیل یا رابطہ ہو تب تعاون ممکنہ نتیجہ ہوتا ہے۔ ترسیل سے بین عمل اور مباحثے میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر گروپ کے ممبران ایک دوسرے کو قائل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں سیکھتے ہیں۔
(iii)باہم دگری: باہم دگری کا مطلب ہے لوگ وہ واپس کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو وہ حاصل کرتے ہیں۔ ابتدائی تعاون کے ذریعہ مزید تعاون کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ مسابقت سے مزید مسابقت پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی مدد کرتا ہے تو آپ کا بھی اس شخص کی مدد کرنے کو جی چاہتا ہے؛ جب کہ  دوسری طرف اگر کوئی مدد کرنے سے اس وقت انکار کردیتا ہے جب آپ کو مدد کی ضرورت ہو تو آپ بھی اس شخص کی مدد نہیں کرنا چاہیں گے۔

سماجی  شناخت

کیا کبھی آپ نے یہ سوال خود سے پوچھا ہے۔ ’’ میں کون ہوں؟‘‘اس سوال کا کیا جواب تھا۔ شاید آپ کا جواب تھا کہ آپ سخت محنتی ، بے فکر ، لاابالی لڑکی یا لڑکے ہیں۔ یہ جواب آپ کی سماجی شناخت کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ کسی کی خود کی تعریف ہے۔ اس خود کی تعریف میں ذاتی اوصاف یعنی سخت محنت، بے فکری یا وہ صفات جن میں آپ دوسروں جیسے لڑکی یا لڑکے کے ساتھ شرکت کرتے ہیں ، دونوں شامل ہیں اگر چہ ہماری شناخت کے بعض پہلو کا تعین جسمانی خصوصیات کے ذریعہ کیا جاتا ہے، تاہم سماج میں دوسروں کے ساتھ ہمارے بین عمل کے نتائج کے طور پر ہم دیگر پہلو بھی حاصل کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم خود کو ایک منفرد شخصیت سمجھتے ہیں اور کبھی کبھی ہم خود کو گروپ کے ممبر کی حیثیت دیتے ہیں۔ دونوں ہی مساوی طور پر خود کا معقول اظہار ہے ایک منفرد شخص کے طور پر خود خیالات سے ماخوذ ہماری ذاتی شناختیں اور ممبران کے طور پر سمجھی گئی گروپوں سے ماخوذ سماجی شناختیں دونوں ہی ہمارے لیے اہم ہیں۔ ذاتی سطح پر یا سماجی سطح پرجو ہم خود کی تعریف کرتے ہیںدونوں لحاظ سے لچکدارہوتی ہیں۔ آپ نے اپنے تجربے سے محسوس کیا ہوگا کہ سماجی گروپوں کے ذریعہ شناخت کی آپ کے خود کے تصور کے لیے زیادہ اہمیت کے حامل ہے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں جب ہندوستان کوئی کرکٹ میچ جیتتا ہے؟ آپ کا حوصلہ بڑھتا ہے اور فخر محسوس ہوتا ہے۔ آپ ایسا اس لیے محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی سماجی شناخت ایک ہندوستانی کے طور پر اس طرح ممبر شپ پر مبنی ہے ۔ سماجی شناخت ہمیں مقام عطا کرتی ہے یعنی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم ایک بڑے سماجی سیاق میں کیا اور کہاں ہیں۔ آپ کی اپنے اسکول کے طالب علم کی سماجی شناخت ہے جو ایک بار اپنے اسکول کے طالب علم کی شناخت حاصل کرلی،آپ اپنے اسکول کی اہم قدروں کی درون کاری کرتے ہیں اور ان قدروں کو اپنا لیتے ہیں ۔آپ اپنے اسکول کے اصول عمل کی تکمیل کے لیے جدو جہد کرتے ہیں۔ سماجی شناخت ممبران کو ان کے اور ان کی سماجی دنیا کے بارے میں اقدار، عقائد اور مقاصد فراہم کرتی ہے۔ جب ایک بار آپ اسکول کے اقدار کی درونیت کرتے ہیں تو اس سے آپ کے رویّے اور برتاؤ میں ارتباط اور نظم میں مدد ملتی ہے۔ آپ اپنے اسکول کے لیے سخت محنت کرتے ہیں تاکہ اسے شہر یا ریاست کا بہتر سے بہتر اسکول بنایاجا سکے۔ جب آپ اپنے خود کے گروپ کے ساتھ مضبوط شناخت کو فروغ دیتے ہیں، درون گروپ اور بیرون گروپ کے طورپر زمرہ بندی نمایاں ہو جاتی ہے۔ گروپ جس کے ساتھ آپ کی خود کی شناخت قائم ہو جاتی ہے، وہ درون گروپ بن جاتا ہے اور دوسرے بیرون گروپ بن جاتے ہیں۔ اس خود کے گروپ اور بیرون گروپ کی زمرہ بندی کے منفی پہلو جو ہم شروع کرتے ہیں وہ یہ کہ بیرونی گروپ کی نسبت درون گروپ کے تئیں زیادہ موافق طورپر اس کی درجہ بندی کے ذریعہ بے جا ترجیح دینے لگتے ہیں۔

بین گروپ تصادم : فطرت اور اسباب

تصادم وہ عمل ہے جس میں یا تو فرد یا گروپ کے ذریعہ باور کیا جاتا ہے کہ دوسرے (فرد یا گروپ) کے حریفانہ مفادات ہوتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے متناقض ہونے کی کوشش کرتے ہیں ’’ہم ‘‘اور ’’دیگر‘‘ (’’وہ ‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے)ہونے کا احساس شدید ہوتا ہے۔ دونوں فریقوں کے ذریعہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ دوسرے صرف خود کے مفاد ات کا تحفظ کریں گے؛ ان (دوسرے فریق)سے مفادات کا تحفظ اس لیے کیا جائے گا ۔ نہ صرف ایک دوسرے کی مخالفت ہوتی ہے بلکہ وہ ایک دوسرے پر طاقت آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گروپ افراد کے مقابلے زیادہ جارح ہوتے ہیں ۔ اس سے اکثر تصادم بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ سبھی تصادم یا کشاکش خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے لیے انسان داؤ پر لگتا ہے جنگوں میں فتح اور شکست دونوں ہوتی ہے لیکن جنگ میں انسان کی قربانی ان سب سے کہیں آگے ہوتی ہے۔ سماج میں مختلف قسم کے کشاکش عام طور پر دیکھے جاتے ہیں جو دونوں فریق کے لیے مہنگے تو ثابت ہوتے ہیں سماج کے لیے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔گروہی تصادم کے لیے بعض اہم اسباب درج ذیل ہیں۔
ایک اہم سبب دونوں فریقوں کے ذریعہ ترسیل یا باہمی رابطے کی کمی یا ناقص ترسیل ہے۔ اس قسم کی ترسیل سے بد گمانی پیدا ہوتی ہے یعنی اعتماد کی کمی پیدا ہوتی ہے لہٰذا نتیجے کے طور پر تصادم پیدا ہوتا ہے۔

درون گروپ تصادم کا ایک اور سبب : نسبتی محرومی ہے ۔ یہ تب پیدا ہوتی ہے جب کسی گروپ کے ممبران دوسرے گروپ کے ممبران کے ساتھ خود کا موازنہ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس مطلوبہ چیزیں نہیں ہیں جو دوسرے گروپ کے پاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ دوسرے گروپوں کے مقابل زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ اس سے محرومی اور بے اطمینانی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے ۔ یہ کشاکش کامحرک بن سکتا ہے۔

تصادم کی دوسری و جہ ایک فریق کا یہ ماننا کہ وہ دوسروں کی نسبت بہتر ہے اور اسے روبہ عمل لایا جانا چاہیے۔ جب یہ نہیں ہو پاتا تب دونوں فریق ایک دوسرے کو بھلا برا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بھی اکثر بڑھا دینے کا میلان دکھائی دیتا ہے اس بنا پر تصادم بڑھ جاتا ہے کیونکہ ہر ممبر اپنے اپنے گروپ کے معیارات کا احترام کر اناچاہتا ہے۔

یہ احساس کہ دیگر گروہ میرے گروہ کے معیارات کا لحاظ نہیں کرتا اور اصلاًان معیارات کی بد خواہی کے ارادے سے خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ماضی میں کچھ نقصان پہنچا ئے جانے کے سبب انتقام لینے کی خواہش تصادم کی ایک اور و جہ ہو سکتی ہے۔

زیادہ تر کشاکش کی بنیاد جانبدارانہ ادراک ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ’وہ اور ہم کا احساس جانبدارانہ ادراک پیدا کرتا ہے۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جب لوگ گروپوں میں کام کررہے ہوتے ہیں وہ اپنے خود اکیلے کے مقابلے تو زیادہ مسابقتی اور زیادہ جارح ہوتے ہیں۔گروپوں میں کامیاب وسائل، مادی وسائل ، جیسے علاقہ ،  زر اور سماجی وسائل جیسے احترام اور خود پسندی دونوں کے معاملے میں زیادہ مسابقت ہوتی ہے۔

تصادم کی ایک اور وجہ ادراکی بے انصافی ہے۔معدلت سے مراد فردکے اشتراک کے تئیں تناسب میں صلے کی تقسیم ہے اگر
آپ کا صلہ آپ کے دوست کا صلہ
       =
آپ کا اشتراک آپ کے دوست کا اشتراک

لیکن اگر آپ کا اشتراک زیادہ ہے اور پاتے کم ہیں تو آپ ممکن ہے مشتعل ہوں اور استحصال کا احساس ہو۔
گروپوں کے درمیان تصادم سماجی اور وقوفی عمل کاریوں کے تئیں ہیچ یا قوت محرکہ فراہم کرتاہے۔ یہ عمل ہر فریق کے موقف میں سختی پیدا کر دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ گروہی تقطیب کی صورت میں بر آمد ہوتا ہے اس کا نتیجہ ہم خیال جماعتوں کے اتحادی تشکیل کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ اس بنا پر دونوں جماعتوں میں خوف وہراس بڑھ سکتا ہے جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اورجانبدارانہ توضیح اور نسبت دہی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح تصادم یا کشاکش بڑھ جاتی ہے۔موجودہ سماج مختلف درون گروہی تصادم سے خائف ہے۔ ذات، طبقہ ، مذہب، خطہ اور زبان سے متعلق تصادم کچھ مثالیں ہیں۔ گارڈ نر مرفی نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان In the minds of Men. تھا۔ زیادہ تر کشاکش لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد روبہ عمل آتی ہے۔ اس طرح کے تصادم کی وضاحت ساختی، گروہی اور انفرادی سطحوں پر کی جا سکتی ہے۔ ساختی شرائط میں غربت، معاشی اور سماجی طبقہ بندی ، عدم مساوات، محدودسیاسی اور سماجی مواقع وغیرہ شامل ہیں۔گروہی سطح کے عوامل پر تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سماجی شناخت ، وسائل پر گروپوں کے درمیان حقیقی تصادم اور گروپوں میں غیر مساوی اقتداری رشتہ تصادم کے بڑھنے کا سبب ہوتاہے۔ انفرادی سطح پر عقائد ، تعصبی رویّے اور شخصیت کی خصوصیات اہم فیصلہ کن عناصر ہوتی ہیں۔ یہ پایاگیا ہے کہ انفرادی سطح پر تشدد کے جاری رہنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ بہت چھوٹے چھوٹے عمل جن کی ابتدامیں ممکن ہے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوجیسے دوسرے گروپ کو برا بھلا کہنا،نفسیاتی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے مزید تخریبی عمل ممکن ہو سکتا ہے۔
Deutsch نے بین گروہی تصادم کے درج ذیل نتائج کی شناخت کی ہے۔ 
�  گروپوں کے درمیان باہمی رابطہ کمزور ہو جاتا ہے۔ گروپ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے اس کے سبب ترسیل یا رابطے میں وقفہ پیدا ہوتاہے اوراس سے ایک دوسرے کے خلاف بد گمانی پیدا ہوتی ہے۔

�  گروپ اپنے اختلافات کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اپنے برتاؤ کو منصفانہ اور دوسرے کے برتاؤ کو غیر منصفانہ باور کرنا شروع کرتے ہیں۔

�  ہر فریق اپنے خود کے اقتدار اور جواز کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ نتیجے کے طور پر تصادم بڑھ جاتا ہے اور کچھ مخصوص امور سے زیادہ بڑے مسائل کی طرف منتقل ہوجا تاہے۔

�  ایک بار جب تصادم شروع ہوتا ہے، کئی دوسرے عوامل تصادم بڑھا نے کا سبب بنتے ہیں، درون گروپ رائے عامہ سخت ہو جاتی ہے بیرونی گروپ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ہر گروپ اپنی ہتک وغیرہ کا اسی صورت میںبدلہ چکا نے لگتا ہے اور دیگر فریق بھی کسی نہ کسی کی طرف سے جانبداری برتنے لگتے ہیں ۔ اس سے مزید تصادم بڑھ جاتاہے۔

کشاکش رفع کرنے کی حکمت عملی

تصادم یا کشاکش کم کیا جاتا ہے اگر ہم ان کے اسباب کے بارے میں جان لیں ۔ وہ عمل جو تصادم بڑھا سکتا ہے اس کا رخ اسے کم کرنے کی طرف پلٹا جاسکتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے متعدد حکمت عملی کی تجویز پیش کی ہے ۔ ان میں سے کچھ ہیں۔
اہم تر مقاصد کا تعارف: شیرف کے مطالعہ تعاون اور مسابقت کے سیکشن میں جس کا ذکر کیا جا چکا ہے، سے ظاہر ہے کہ اہم تر مقاصد کے تعارف کے ذریعہ درون گروہی تصادم کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک اہم تر مقصد دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مندہو تا ہے۔ لہٰذا دونوں گروپ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
ادراک کو بدلنا:ترغیب ، تعلیمی اور ذرائع ابلاغ کی اپیل کے ذریعہ ادراک اور رد عمل کو بدلنے اور سماجی گروپوں کی مختلف طور پر تصویر کشی شروعات سے ہی ہر ایک کو دوسروں کے لیے ہم احساس کو فروغ دینا چاہیے۔
بین گروہی رابطوں کو فروغ دینا: تصادم کو گروپوں میں رابطے بڑھانے کے ذریعہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اسے تصادم میں شامل گروپوں کے ذریعہ کمیونٹی پروجکٹوں اور واقعات کے ذریعہ غیر جانبدارانہ بنیاد پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان کو ایک ساتھ لانے کا تصور یہ ہے کہ اس طرح وہ ایک دوسرے کے موقف کی ستائش کر سکیں۔ تاکہ یہ رابطے کامیاب ہوں، اس کے لیے انھیں 
برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں ہمیشہ تعاون برقرار رکھنا چاہیے۔
گروہی حدوں کو از سر نو متعین کرنا: ایک اور تکنیک جس کی تجویز کچھ ماہرین نفسیات نے دی ہے وہ یہ کہ گروہی حدوںکا تعین نئے سرے سے کیا جا ئے۔ اسے شرائط مقرر کرنے کے ذریعہ انجام دیا جاسکتا ہے ۔گروپوں کی حدوں کا کہاں تعین کیا جائے ، جس سے گروپ خود کو ایک عام گروپ سے متعلق ہونا سمجھنے لگیں ۔
گفت و شنید:تصادم کو بات چیت اور تیسرے فریق کی مداخلت کے ذریعہ بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگجو گروپ باہمی طور پر قابل قبول حل کو دریافت کرنے کی کوشش کے ذریعہ تصادم کاحل نکال سکتے ہیں۔ اس میں باہمی سمجھ بوجھ اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بات چیت سے مراد باہم دگری ترسیل ہے اس سے اس صورت حال میں جس میں تصادم واقع ہوتا ہے، کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے کبھی کبھی بات چیت کے ذریعہ تصادم کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں تیسرے فریق کی صلح صفائی اور ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے۔ صلح صفائی کرانے والا یا ثالث متعلقہ امور پر ان کے مباحثے پر توجہ مرکوز کرکے ونوں فریقین کی مدد کرتا ہے اور رضاکارانہ معاہدے پر پہنچتا ہے۔ ثالثی میں تیسرے فریق کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کی بحث سننے کے بعد فیصلہ کرے ۔
ساختی حل : تصادم کو منصفانہ بنیا د پر اصولوں کے لحاظ سے سماجی وسائل کو از سر نو تقسیم کرنے کے ذریعہ کم کیا جا سکتا ہے۔ انصاف پر تحقیق سے انصاف کے متعدد اصولوں کی شناخت ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ مساوات (ضرورت کی بنیاد پر مختص کرنا) ضرورت (ضرورت کی بنیاد پر تعین کرنا) اور معدلت (ممبروں کے اشتراک کی بنیاد پر مختص کرنا)۔
دیگر گروپوں کے معیارات کااحترام: کثریت سماج جیسے ہندوستان میں ضروری ہے کہ مختلف سماجی اور نسلی گروپوں کے مضبوط معیارات کا لحاظ کیا جائے اور اس کے تئیں حساس رہا جائے۔ یہ غور کیا گیا ہے کہ مختلف گروپوں کے درمیان متعدد فرقہ ورانہ فساد اسی بے حسی کے سبب واقع ہوئے ہیں۔

کلیدی اصطلاحات

ثالثی ، وابستگی، مسابقت ، تعمیل، تصادم یا کشاکش، مطابقت پسندی یا تقلید، تعاون ، مقصد کی حصولیابی ، گروپ، گروپ تشکیل، اجتماعی فکر، شناخت، درون گروپ، باہمی انحصار ،بین گروپ ، بات چیت، معیارات ، فرماں برداری، بیرونی گروپ ، قربت ، کردار، سماجی نسل، سماجی اثر ، سماجی مزاحمت، سماجی آوارہ گردی ، حیثیت،ساخت، اہم تر مقاصد۔

خلاصہ

•  گروپ لوگوں کے دیگر مجموعے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ باہمی بین انحصاری، کردار، حیثیت اور توقعات گروپوں کی اہم خصوصیات ہیں۔
گروپ دو یا زیادہ افراد کی منظم تنظیم ہیں۔
لوگ گروپوں میں اس لیے شامل ہوتے ہیں کہ وہ تحفظ ، حیثیت ، خود پسندی، نفسیاتی اور سماجی ضرورتوں کی تسکین ، مقصد کی حصولیابی اور علم و معلومات فراہم کرتے ہیں۔
•  قربت، یکسانیت اور مشترکہ محرکات اور مقاصد گروپ کی تشکیل میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
•  عام طور پر گروپ عمل مفید نتائج پیدا کرتے ہیں تاہم کبھی کبھی پیوستہ اور متجانس گروپوں میں اجتماعی فکر کا مظہر واقع ہوسکتا ہے۔
•  گروپ مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ یعنی ابتدائی اورثانوی ، رسمی اورغیر رسمی ،درون گروپ اور بیرون گروپ۔
•  گروپ انفرادی برتاؤ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سماجی تسہیل اور سماجی آوارہ گردی گروپوں کی دو اہم اثر انگیزی ہے۔
مطابقت پسندی ، تقلید، تعمیل اور فرماں برداری یا اطاعت سماجی اثر کی تین اہم شکلیں ہیں۔
•  تقلید سماجی اثر کی نہایت بالواسطہ شکل ہے، فرماں برداری انتہائی راست شکل اور تعمیل بجا آوری ان دونوں کے درمیان کی چیزہے۔
•  سماجی صورت حال میں لوگ تعاون کرنے یا مسابقت کرنے کے ذریعہ ایک دوسرے سے روبہ رو ہوتے ہیں۔
کسی کی خود کی تعریف کہ وہ کون ہے سماجی شناخت کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
•  گروہی تصادم سبھی سماجوں میں واقع ہوئے ہیں۔
•  گروہی تصادم کو کم کیاجا سکتا ہے اگرہم ایسے تصادم کے اسباب کو سمجھ لیں۔

اعادہ کے لیے سوالات

1۔  رسمی اور غیر رسمی گروپوں اور درون گروپوں اور بیرون گروپوں کا موازنہ کریں۔
2۔  کیا آپ کسی مخصوص گروپ کے ممبرہیں؟ بحث کیجیے کہ وہ کون سے محرکات تھے جس سے آپ گروپ میں شامل ہوئے؟
3۔  ٹکمین کا مرحلہ ماڈل گروپوں کی تشکیل کو سمجھنے میں آپ کی کیسے مدد کرتا ہے؟
4۔  گروپ ہمارے برتاؤ پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟
5۔  گروپوں میں سماجی آوارگی کو کس طرح کم کرسکتے ہیں؟ اسکول میں سماجی آوارگی کے کن ہی دو واقعات کے بارے میں سوچیے۔ آپ اس پر کس طرح قابو پائیں گے؟
6۔  آپ اپنے برتاؤ میں کس طرح کی مطابقت پسندی ظاہر کرتے ہیں؟ مطابقت پسندی کے کیا فیصلہ کن عناصر ہیں؟
7۔  لوگ تب بھی کیوں اطاعت کرتے ہیں جب وہ جانتے ہیں کہ ان کے برتاؤ دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
8۔  تعاون کے فوائد کیا ہیں؟
9۔  کسی کی شناخت کیسے وضع ہوتی ہے؟
10۔  درون گروہی تصادم کے بعض اسباب کیا ہیں؟ کسی بین الاقوامی تصادم کے بارے میں سوچیے ۔ انسانی قیمت پر اس تصادم پر روشنی ڈالیے۔

پروجیکٹ کی تجاویز

1۔  وہ جو طلب نہیں کر سکتا وہ کبھی مول بھاؤ یا سودا طے نہیں کر سکتا پچھلے ایک مہینے کے اخبارات جمع کیجیے۔ مختلف مول تول کی فہرست بنایے جو دوکانداروں نے پیش کیا تھا۔ ان کے ذریعہ تعمیل کی کیا تکنیکیں استعمال کی گئی تھیں؟ اپنے دوستوں سے پوچھیے کہ یہ سود کتنے لوگوں کے لیے باعث کشش ہوئے تھے۔
2۔  مختلف تصادم کی ایک فہرست بنایے جو اسکول میں مختلف ہاؤس میں واقع ہوتے ہیں۔ یہ تصادم کس طرح حل ہوئے تھے۔
3۔  کرکٹ میں کسی ٹسٹ سیریز کی شناخت کیجیے جس میں حال ہی میں ہندوستان کھیلا ہو۔ اس وقت کے اخبارات جمع کیجیے ۔ ان تبصرات اور تنقید وں کا جائزہ لیجیے جو ہندوستانی اور حریف تبصرہ نگاروں نے ظاہر کیے تھے۔ 
کیاآپ تبصروں کے درمیان کوئی فرق دیکھتے ہیں؟
4۔  تصور کیجیے کہ آپ کو بچیوں کے لیے کام کرنے والے این۔ جی۔ او۔ (غیر سرکاری تنظیم ) کی مدد کے لیے رقم اکٹھی کرنی ہے۔ سماجی اثر کی کون سی تکنیک آپ استعمال کریں گے؟ کسی دو تکنیک پر آزمائش کیجیے اور فرق دیکھیے۔

ویب لنکس

http://www.mapnp.org/library/grp_skill/theory/theory.htm
http://www.socialpsychology.org/social.htm
http:/www.stanleymilgram.com/main.htm
http://www.psychclassics.yorku.ca/sheriff/chapl.htm

تعلیماتی اشارات

1۔  گروپوں کی فطرت اور تشکیل کے موضوع میں طلبا کو حقیقی زندگی میں گروپوں کی اہمیت کوسمجھنا چاہیے ۔ اس میں اس پر زور دیے جانے کی ضرورت ہے کہ انھیں گروپوں کا انتخاب کرنے میں محتاط رہنا چاہیے اساتذہ سے کچھ طلبا پوچھ سکتے ہیں کہ وہ مختلف گروپوں کے ممبر کیسے بن سکتے ہیں اور وہ ان گروپوں کی ممبر شپ کیوں حاصل کریں گے۔
سماجی آوارگی کی وضاحت کے لیے کلا س میں طلبا سے گروپوں میں کچھ سرگرمیوں کو انجام دینے اور اس کے لیے انجام دی گئی سرگرمیوں میں ان کے اشتراک کے بارے میں پوچھنے کے ذریعہ طلبا سے سوال کر کے سادہ تجربات انجام دیے جا سکتے ہیں۔ طلبا کے لیے آموزشی تجربہ سماجی آوارگی سے احتراز کے طور پر ہونا چاہیے۔
3۔   تعاون اور مسابقت کے موضوع میں طلبا کو تعاون اور مسابقت دونوں کے فائدے بتانے چاہئیں ۔ انھیں اندازہ ٔقدر کا اہل ہونا چاہیے کہ سماج میں تعاون ایک بہترحکمت عملی ہے۔ حقیقی زندگی کے کچھ معاملوں جہاں تعاونی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں، ان پر بحث کی جا سکتی ہے۔
4۔  طلبا کو اندازہ ٔ قدر کاا ہل ہونا چاہیے کہ شناختیں اہم ہیں اور کس طرح ہماری شناختیں سماجی برتاؤ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
5۔  بین گروہی تصادم کے سیکشن میں تصادم فی نفسہ کے بجائے تصادم کو رفع کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا جانا چاہیے۔