تھوڑا ساوقت نکال کران سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کیجیے ۔ کیا ایک درخت آپ کا سب سے اچھا دوست ہو سکتا ہے؟جب گرمی زیادہ ہوجاتی ہے، یا جب بھیڑ بھاڑ زیادہ ہوجاتی ہے تو کیا لوگ زیادہ جارح ہوجاتے ہیں؟ اگر ندیوں کو مقدس یا متبرک کہا جاتا ہے،تو لوگ انھیں خشک کیوں ہونے دیتے ہیں؟کسی قدرتی آفت جیسے کوئی زلزلہ ،سونامی،یا کوئی انسان کے ذریعہ لائی گئی آفت ،جیسے کسی کارخانہ میں زہریلی گیس کے رسنیکے صدماتی اثرات کی اصلاح کیسے کی جاسکتی ہے؟ دومختلف طبیعی ماحولوں میںپرورش شدہ بچوں کا موازنہ کیجیے،ایک بچہ رنگین کھلونوں ،تصاویر اور کتابوں سے بھرے ماحول میں،اور دوسرا بچہ ایسے ماحول میں رہتا ہے جس میں بمشکل ضروریات زندگی کی اشیاہوں توکیا دونوں بچوںمیں ایک جیسی وقوفی یا عقلی مہار تیں نشوونما پائیں گی۔لوگ ان سوالات کے الگ الگ جواب دے سکتے ہیں۔
ان سوالات سے جو مشترکہ خیال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں انسانی کردار اور ماحول کے مابین تعلق ایک مخصوص کردار ادا کرتا ہے۔ ان دنوں یہ بیداری بڑھتی جارہی ہے کہ ماحولیاتی مسائل جیسے شوروغل، ہوا ،پانی اور مٹی، آلودگی ،اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے غیر اطمینان بخش طریقے جسمانی صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے واقفیت کم ہے کہ آلودگی کی یہ شکلیں،ماحول میں دیگر بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ ہماری نفسیاتی صحت اور تفاعل پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ نفسیات کی ایک شاخ جسے ماحولیاتی نفسیات کہا جاتا ہے ، مختلف نفسیاتی امور جن کا تعلق اصطلاحات کے وسیع مفہوم میں انسان اورماحول کے تفاعل سے ہے،سے متعلق ہوتی ہے۔
لفظ ’ماحول ‘سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو ہمارے اردگرد ہیں۔لفظی طور پر ہر ایک شئے جو ہمارے اردگرد ہے بشمول طبیعی ،سماجی او رثقافتی ماحول۔ عمومی طور پر اس میں بیرون انسان وہ تمام طاقتیں جن پر وہ کسی بھی طرح سے جوابی عمل کرتے ہیں شامل ہیں۔ اس حصہ میں بحث طبیعی ماحول پر مرکوز ہوگی۔علم ماحول یا ماحولیات زندہ اشیا،اور ماحول کے مابین تعلقات کا مطالعہ ہے۔نفسیات میں نقطہ ماسکہ ماحول اور لوگوں کے مابین باہمی انحصار پر ہے،جیسا کہ ماحول انسانوں کے حوالہ سے جو اس میں رہتے ہیں معنی خیز ہوتاہے۔ اس سبق میں طبیعی یا فطری ماحول اور وضع شدہ ماحول کے درمیان فرق کیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ نام سے خود ظاہر ہوتا ہے ،کہ فطرت کا وہ حصہ جسے انسانی ہاتھ نے اب تک چھو ایا مس نہ کیا ہو فطری ماحول ہے۔جب کہ دوسر ی جانب فطری ماحول کے اندر انسانوں نے جو کچھ بھی تخلیق کیا ہے وضع کردہ ماحول ہے۔شہر،مکانات،دفاتر،کارخانے،پل،شاپنگ مال،ریل کی پٹریاں، سڑکیں، باندھ،اور یہاں تک کہ مصنوعی طور پر بنائے گئے پارک اور تالاب تمام وضع کردہ ماحول کی مثالیں ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانوں نے فطرت کے ذریعہ دیے گئے ماحول میں تبدیلیاں کی ہیں۔
وضع کردہ ماحول کے ساتھ عام طور پر ماحولیاتی ڈیزائن کا تصورشامل ہوتا ہے۔ اوراس میں کچھ نفسیاتی خصوصیات ہوتی ہیں،جیسے:
� انسانی دماغ کی تخلیق جو عمارتی نقشے تیار کرنے والوں،شہری منصوبہ کاروں اور سوِل انجینئروں کے کام میں ظاہر ہوتی ہے۔
� فطری ماحول پر انسانی کنٹرول کا احساس جو باندھوں کی تعمیر اور ندیوں کے فطری بہاؤ کو منضبط کرنے میں دکھائی دیتا ہے۔
� ڈیزائن شدہ ماحول میں واقع ہونے والاسماجی تفاعل پراثر یہ خصوصیت مثال کے طور پرکسی کالونی میں مکانوں کے بیچ دوریوں، کسی مکان کے اندر کمروں کے محل وقوع یا کسی دفتر میںرسمی یا غیر رسمی اجتماع کے لیے بیٹھنے کی جگہوں اور کام کرنے کی میزوں کے انتظام میں منعکس ہوتی ہے۔
انسان اورماحول کے مابین تعلق کے مختلف زاویہ ہائے نظر
انسان اورماحول کے مابین تعلق کو دیکھنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہیں۔ جو زیادہ تراس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ اس تعلق کا ادراک انسانوں کے ذریعہ کس طرح کیا گیا ہے۔ ایک ماہر نفسیات جس کا نام اسٹوکولس (1990)ہے،نے تین طرزِہائے نظر کی وضاحت کی ہے جنھیں انسان ماحول کی توضیح کے لیے اپنایا جا سکتا ہے۔
(a)
اقل ترینیت سیاق یہ فرض کرتا ہے کہ طبیعی ماحول کا اثر انسانی کردار، صحت اور فلاح و بہبود پر بہت کم یا ناقابل ذکر ہوتا ہے ۔طبیعی ماحول اور انسان ایک دوسرے کے متوازی اجزاکی شکل میں ہوتے ہیں۔
(b)
آلائی سیاق بتاتا ہے کہ طبیعی ماحول خاص طور پر اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کااستعمال اپنے آرام اور فلاح و بہبود کے لیے کریں۔ ماحول پر پڑنے والے زیادہ تر انسانی اثرات آلائی سیاق کو منعکس کرتے ہیں۔
(cروحانی سیاق سے مراد ماحول کے ایسے زاویۂ نظر سے ہے جس میں اس سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے بجائے اس کا احترام اور قدر کی جائے۔ یہ دلالت کرتی ہے کہ انسانوں نے اپنے خود کے اور ماحول کے مابین انحصار باہمی کو تسلیم کیا ہے،یعنی انسانوں کا وجود اسی وقت تک رہے گااور وہ خوش بھی رہیں گے جب تک ماحول صحت مند اور فطری رہے گا۔
ماحول کے بارے میں روایتی ہندوستانی نقطۂ نظر روحانی سیاق کی حمایت کرتا ہے۔ ہمارے پاس اس سیاق کی ہندوستان میں کم از کم دو مثالیں ہیں:(1) راجستھان کی بشنوئی کمیونٹی کے رسم و رواج اور (2) اتراکھنڈ علاقہ میں چپکو تحریک،(باکس 8.1دیکھیے) اس کے برخلاف لوگوں کے ماحول کو برباد کرنے اور نقصان پہنچانے کی مثالیں بھی ملتی ہیں ،جو کہ آلائی پس منظر کی ایک منفی مثال ہے۔
انسانی کردار پر ماحولیاتی اثرات
انسان اورماحول کے ما بین تعلق کی پورے طور پر قدر اسی وقت کی جا سکتی ہے جب تک کہ ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اوراپنے وجود کو برقرار رکھنے اور گزارنے کے لیے دونوں ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ جب ہم اپنی توجہ انسانوں پر فطری یا طبیعی ماحول کے اثرات پر مبذول کرتے ہیں تو ہمیں ماحولیاتی اثرات کی بہت سی قسمیں ملتی ہیں،جو طبیعی اثرات جیسے موسمی تبدیلیوں کے جوابی عمل میں لباس کی تبدیلی سے لے کر شدید نفسیاتی اثرات میں تبدیلیاں جن میں کسی قدرتی آفت کے بعدشدید افسردگی تک شامل ہے۔ ماہرین نفسیات کے نشان کردہ چند اثرات کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔
• ادراک پر ماحولیاتی اثرات: ماحول کے کچھ پہلو انسانی ادراک کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر جیسا کہ آپ گیارھویں جماعت میں پڑھ چکے ہیں،افریقہ کا ایک قبائلی سماج دائرہ نما جھونپڑوں میں رہتا ہے یعنی ایسے مکانوں میں جس میںزاویہ والی دیواریں نہیں ہوتی ہیں۔ ان کے اندر بندسی التباس(میولر–لائر التباس)میں غلطیاں ان لوگوں کے مقابلہ میں جوزاویہ والی دیواروں کے مکانات میں رہتے ہیں،کم پائی گئیں۔
•پیشہ ،طرززندگی اور رویوں پر ماحولیاتی اثرات :کسی مخصوص علاقہ کا طبعی یا فطری ماحول یہ متعین کرتا ہے کہ آیا اس علاقہ میں لوگوں کی زندگی کا انحصار زراعت پر ہے (جیسا کہ میدانوں میں)یا پھر دیگر پیشوں جیسے شکار کرنایا جمع کرنا (جیسے جنگل ،پہاڑوں یا ریگستانی علاقوں میں)،یا صنعتوں پر (جیسے ان علاقوں میں جو زراعت کے لیے زیادہ زرخیز نہیں ہیں) اس کے بدلہ میں،پیشہ کسی مخصوص جغرافیائی علاقہ کے باشندوں کے طرزحیات اور رویوں کا تعین کرتا ہے۔کسی ریگستان میں ر ہنے والے کسی شخص کے روزمرہ کے معمولات کا موازنہ کسی ایسے شخص سے کیجیے جو پہاڑی علاقہ میں رہ رہا ہو،اور ایک ایسے شخص کے ساتھ بھی جو میدان میں رہ رہا ہو۔ اس بات کا مشاہدہ کیاگیا ہے کہ ایک زراعتی سماج اپنے ارکان کی اجتماعی کوششوں پر منحصر ہوتا ہے۔اس لیے زراعتی سماج کے ارکان امداد باہمی کے رویہ کی نشوونما کرتے ہیں اور گروہ کے مفاد کو فرد کی خواہشات کے مقابلہ میں زیادہ اہم مانتے ہیں۔ وہ فطرت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اورقدرتی واقعات مثلامانسون پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔اور ایسے حالات جن میں ضروری فطری وسائل جیسے پانی کی فراہمی محدود ہوں، کاسامنا کرسکتے ہیں اسی لیے مطابق زرعی سماج کے ارکان اپنے عقائد میں زیادہ سخت ہو جاتے ہیں جب کہ دوسری جانب اعلی صنعت یافتہ سماجوں میں لوگ فطرت کو کم قریب محسوس کرتے ہیں اور اس پر انحصار بھی کم ہوتا ہے۔صنعت یافتہ سماجوں کے ارکان آزادانہ خیالات کی قدر زیادہ کرسکتے ہیں اور مقابلہ کے رویہ کی نشوونما کرسکتے ہیں ،ان پر جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے اس پر شخصی کنٹرول کے عقیدہ کو قائم کرسکتے ہیں۔
ماحول پر انسانی اثر
انسان اپنی طبیعی ضروریات کو پوری کرنے اور دیگر مقاصد کے لیے فطری ماحول پراپنا اثر ڈالتے ہیں۔وضع شدہ ماحول کی تمام مثالیں ماحول پر انسانی اثرات کی مظہر نہیں ہوتیں۔مثال کے طور پر انسان نے خود کے لیے پناہ گاہ مہیا کرنے کی خاطر طبعی ماحول میں تبدیلی کے ذریعہ کچھ ایسی چیزوں کی تعمیر شروع کردی جنھیں ’مکانات ‘کہتے ہیں۔ ایسے انسانی افعال میں سے کچھ نے ماحول کو ضرر اورنقصان پہنچایااور انجام کار، خود انھیں کئی طرح سے ضرر پہنچا۔مثال کے طور پر انسان مختلف آلات جیسے ریفریجریٹر ،عمومی کیمیائی اشیا ء (جیسے ایف سی یا کلوروفلوروکاربنس) کا استعمال کرتے ہیں جو ہوا کو آلودہ کرتے ہیں،اور لمبے عرصہ میں،جسمانی بیماریوں جیسے کینسر کی کچھ قسموں کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔دھواں بھی ہمارے اردگرد کی ہوا کو آلودہ کرتا ہے۔پلاسٹک یا دھات کی اشیاکے جلنے سے بھی ماحول پر خطرناک آلودگی کے اثرات پڑتے ہیں۔ درختوں کوکاٹ لیے جانے یا جنگل کو ختم کرنے سے کاربن سائیکل اور وائر سائیکل منتشر ہو سکتی ہے اورانجام کار ایسے علاقہ میں بارش کی وضع کو متاثر کر سکتی ہے، مٹی کٹاؤ اور بیابانیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ملوں اور کارخانوں سے جو سیال کی شکل میں گندگی باہر نکلتی ہے اور اسے صاف کیے بغیر ندیوں میں جانے دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی آلودگی کے خطرناک جسمانی اور نفسیاتی نتائج کے بارے میں ہم زیادہ پر واہ کرتے نہیں دکھائی دیتے ہیں۔
ان تمام مثالوں کے اندر نفسیاتی پیغام کیا ہے؟ پیغام یہ ہے کہ اگرچہ اوپر مذکورہ زیادہ تر اثرات نوعیت میں طبعی ہیں،انسانوں کے ذریعہ یہ اثرات فطری ماحول کے اوپر اپنے کنٹرول اور طاقت کی نمائش کی خاطر لائے گئے ہیں۔ یہ کسی حد تک متناقص ہے کہ انسان اپنی زندگی کی کیفیت کو بہتر بنانے کے لیے ٹکنالوجی کا استعمال کرکے فطری ماحول کو تبدیل کرتے ہیں۔لیکن ’درحقیقت‘وہ حقیقی معنوں میں زندگی کی کیفیت کو اور زیادہ خراب کر رہے ہیں۔
شور ،آلودگی ،ہجوم اور قدرتی آفات ماحولیاتی کیفیات کی چند مثالیں ہیں، جو انسانوں کے لیے دبائو پیدا کرتے ہیں۔جیسا کہ آپ پہلے ہی باب 3 میں مطالعہ کرچکے ہیں کہ دباؤ ایک ناخوشگوار نفسیاتی حالت ہے جو فرد کے اندر تشویش اور تناؤ پیدا کرتی ہے،تاہم ان مختلف دباؤوں کے لیے انسانی رد عمل مختلف ہوسکتا ہے۔مضر ماحولیاتی دباؤ میں سے چند کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔
شور
کوئی آواز جو برانگیختگی اور ناگواری کا احساس پیدا کرتی ہو،شور کہلاتی ہے۔ عام تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ شور بالخصوص لمبی مدت تک کے لیے غیر آرام دہ ہوتاہے،اور لوگوں کے اندر ناخوشگوارکیفیت ،مزاج (موڈ) پیدا کرتا ہے۔ ایک لمبی مدت تک شور کے درمیان رہنے سے سماعت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ،شور ذہنی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے،کیونکہ یہ توجہ یاارتکاز کو کم کرتا ہے۔آپ میں سے بہت سے لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ہو گا جب کہ اپنے امتحان کے لیے آپ نے مطالعہ کی کوشش کی ہوگی اور اس وقت آپ کے پڑوسی تیز اور اونچی موسیقی کے ساتھ کسی شادی کا جشن منارہے ہوں گے۔
شور کی تین خصوصیات کسی کی کارگزاری پر اپنا اثر ڈالتی ہیں،یعنی شور کی شدت،پیشین گوئی اور کنٹرول ہے، انسانوں پر شور کے اثرات کی باضابطہ تحقیق سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آئی ہیں۔
•جب انجام دیا جانے والا کام ایک آسان ذہنی کام جیسے اعداد کا جوڑنا ہو تو مجموعی کارگزاری پر شور کا اثر نہیں پڑتا ہے۔لوگوںکوشورکی عادت سی ہوجاتی ہے۔
• اگر انجام دیا جانے والا کام بہت دلچسپ ہے اس وقت بھی شور کی موجودگی کا رگزاری پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ کام کی نوعیت فرد کو کام پر پوری توجہ دینے اور شور کو نظر انداز کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ بھی ایک طرح کا تطابق ہو سکتا ہے۔
• جب شورو قفوں کے ساتھ آتا ہے جس کی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی ہو تو مستقل طور پر موجود رہنے والے شور کے مقابلہ میں زیادہ خلل اندازی محسوس کرتے ہیں۔
• جب انجام دیا جانے والا کام مشکل یا اس پر مکمل ارتکاز کی ضرورت ہو اس وقت شدید،غیرمتوقع اور کنٹرول نہ کیے جانے والا شور کارگزاری کی سطح کو کم کردیتا ہے۔
• جب شور کا برداشت کرنا یا ختم کیا جانا شخص کے قابو میں ہوتا ہے تو کارگزاری میں غلطیوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔
•جذباتی اثرات کے معاملے میں ایک مخصوص سطح سے اوپر کا شور برانگیختگی کا موجب ہوتا ہے اور نیند میں خلل انداز ہوسکتا ہے۔ یہ اثرات بھی کم ہوجاتے ہیں اگرشور اختیار کے قابل ہو،یا شخص کے پیشہ کے ایک حصہ کے طورپر ضروری ہو۔ تاہم ،ناگوار اورناقابل اختیار شور کا لگاتارسامنا ہونے سے ذہنی صحت پر نقصان دہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ان مشاہدات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شور کے دباؤ پیدا کرنے والے اثرات کا تعین صرف اس کی کم یا زیادہ شدت سے ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ لوگ کس حد تک اس کو برداشت کر سکتے ہیں ،انجام دیے جانے والے کام کی نوعیت اور شوروغل کے قابل پیشن گوئی اور قابل کنٹرول ہونے سے بھی طے ہوتی ہے۔
آلودگی
ماحولیاتی آلودگی ہوا،پانی اور مٹی کی آلودگی کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ بیکار اشیایا کوڑہ کرکٹ جو گھروں یا صنعتوں سے آتے ہیں ہوا،پانی اور مٹی آلودگی کے بڑے ماخذ یا منبع ہیں۔ سائنسداں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ آلودگی کی ان میں سے کوئی بھی شکل جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم کچھ ایسے تحقیقی مطالعات بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی کی ان شکلوں کے براہِ راست یا بالواسطہ نفسیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں یہ بات بھی سمجھ لی جانی چاہیے کہ عمومی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی کوئی بھی شکل عصبی نظام کو زہریلی اشیاکی موجودگی کی و جہ سے متاثر کر سکتی ہے۔ اور اس سے نفسیاتی عمل کاریاں بھی کسی نہ کسی طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔ اثر کی دوسری شکل کو آلودگی کے جذباتی رد عمل میں دیکھا جا سکتا ہے جو کہ بدلہ میں بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کے نتیجہ میں کام کی کارکردگی میں کمی واقع ہونا، کام میں دلچسپی کا کم ہونا اور تشویش کی سطح میں اضافہ ہونا شامل ہے۔لوگ ان جگہوں میں رہنا اور کام کرنا پسند نہیں کرتے ہیں جو کہ کوڑہ کرکٹ سے بھری ہوئی ہوں یا جہاں سے مستقل طور پر بدبو آتی رہتی ہو۔ اسی طرح سے دھول کے ذرات کی موجودگی یا دیگر معلق شدہ ذرات دم گھٹنے اور سانس لینے میں دشواری کا احساس پیدا کرسکتے ہیں اور تنفس سے متعلق خلل بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ لوگ جنھیں اس طرح کی بے چینی کا تجربہ ہوتا ہے اپنے کام پر پوری توجہ مبذول نہیں کرسکتے ہیں یا خوشگوار موڈ (کیفیت مزاج)میں نہیں ہوتے ہیں۔
کچھ ماہرین نفسیات نے ہوا کی آلودگی کے مخصوص نفسیاتی اثرات بھی بیان کیے ہیں،مثال کے طورپر کولکاتا کے ایک صنعتی علاقہ میں رہائش پذیر ایک گروہ اور غیر صنعتی رہائشی علاقہ میں رہنے والے گروہ کے مابین ہواکی آلودگی کے نفسیاتی ردعملوں کا موازنہ کیاگیا توصنعتی علاقہ میں رہنے والے لوگوں نے غیر صنعتی رہائشی علاقہ کے رہنے والے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ تناؤ اور تشویش ظاہر کی۔ جرمنی میں کیے گئے ایک مطالعہ میں آلودگی پیدا کرنے والی اشیا جیسے ہوا میں سلفرڈائی آکسائڈ کی موجودگی کام پر ارتکاز کی قابلیت کو کم کرنے اور کارگزاری کارکردگی کو کم کردینے والی پائی گئی۔
خطرناک کیمیائی اشیاکے رساؤ اور اخراج کی و جہ سے ہوئی آلودگی دیگر اقسام کے نقصان کی موجب ہو سکتی ہے۔ دسمبر 1984 میں ہوئی بدنام گیس ٹریجڈی جس میں بہت سی زندگیاں ختم ہوئیں اور اپنے پیچھے گیس کی و جہ سے پیدا نفسیاتی اثرات بھی چھوڑ گئی، ان میں سے بہت سے لوگ جنھوں نے دیگر اشیاکے ساتھ ساتھ زہریلی گیس ،میتھائل آئی سو سائنائٹ (ایم۔آئی۔سی) کو سانس کے ساتھ اندر لے لیا تھا ان کے حافظہ، توجہ اور چوکسی میں خلل کا مظاہرہ کیا۔
گھر اور دفتر کے ماحول (اِنڈور ماحول) میں ہوا کی آلودگی بھی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔مثلا تمباکو کے دھویں کی آلودگی یعنی سگریٹ،سگار،بیڑی کے دھویں کی آلودگی سے بھی نفسیاتی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے اثرات سگریٹ،سگار،بیڑی پینے والوں کے لیے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں تاہم وہ لوگ جو دھویں کو سانس کے ذریعہ اندر لیتے ہیں (انفعالی طور پر دھواں لینا) ان پر بھی منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کار نے پایا کہ تمباکو کے دھویں کو سانس کے ذریعہ اندر لینے سے افراد کی جارحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پانی اورمٹی میں آلودگی پیدا کرنے والی اشیاکی موجودگی جسمانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ ان میں سے کچھ کیمیا مضمر نفسیاتی اثرات رکھ سکتے ہیں۔مخصوص کیمیا جیسے سیسہ ،دماغ کی نشو نما کو متاثر کرکے ابطائے ذہنی کی و جہ بن سکتا ہے۔ اس طرح کی زہر یلی اشیا انسانوں کو مختلف طریقوں سے جیسے پانی کے ذریعہ ،یا مٹی کے ذریعہ ،یا آلودہ مٹی میں اگائی ہوئی سبزیوں کے ذریعہ جذب کر لیے جانے کے ذریعہ سے متاثر کرسکتے ہیں۔
گھریلو اور صنعتی رویوں یا کوڑا کرکٹ جو حیاتیاتی درجہ بندی کے قابل نہیں ہوتے ہیں مہلکیت کا ایک دوسراذریعہ ہے۔ پلاسٹک،ٹن اوردھات کے ڈبے جیسی فاضل اشیایا کوڑا کرکٹ کی عام مثالیں ہیں۔ اس طرح کی بے کار اشیاکو برباد کر دینا چاہیے یا مخصوص تکنیکوں کے ذریعہ انھیں جلا دینا چاہیے اور دھویں کو اس ہوا میں جسے لوگ سانس کے ذریعہ اندر لیتے ہیں نہیں جانے دیا جانا چاہیے۔
عام طور پر اس بات کے کافی ثبوت ہیں کہ ہوا،پانی اور مٹی کے اندر زہریلے کیمیا صرف نارمل نفسیاتی تفاعل پر ہی نقصان دہ اثرات مرتب نہیں کرتے بلکہ خطرناک ذہنی خلل کی و جہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آلودگی کی تمام اقسام کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ہجوم
ہم میں سے زیادہ تر لوگ ہجوم یا بھیڑ سے واقف ہیں،جو اشخاص کے بڑے غیر رسمی گروہ ہیں جو بغیر کسی خاص مقصد کے عارضی طور پر ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پر جب ایک مشہور شخص اچانک سڑک پر ظاہر ہوتا ہے تو اس وقت موقع پر موجود لوگ اکثر منظر کے چہار جانب صرف اس شخص کو دیکھنے کے لیے اکٹھا ہوجاتے ہیں۔لیکن ہجومیت کا ایک مختلف مطلب ہوتا ہے۔ اس سے مراد بے چینی کا ایک احساس ہوتا ہے کیونکہ ہمارے اردگرد بہت سے لوگ یا اشیاہوتی ہیں،جس سے ہمیں جسمانی پابندی اور کبھی کبھی پرائیویسی (خلوت)کی کمی کا تجربہ یا احساس ہوتا ہے۔ ہجومیت ایک مخصوص جگہ یا مکان کے اندر بہت زیادہ تعداد میں ا شخاص کی موجودگی کے لیے فرد کا رد عمل ہے۔ جب یہ تعداد ایک مخصوص حد سے اوپر چلی جاتی ہے،تو موقع پر موجود افراد کے اندر دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اس معنی میں،ہجومیت ماحولیاتی دباؤ کی ایک دوسری مثال ہے۔
ہجومیت کے تجربہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہوتی ہیں:
� بے چینی کا احساس۔
� پرائیویسی (خلوت)میں کمی یا ختم ہونا۔
� شخص کے چہار جانب جگہ کے لیے منفی نقطۂ نظر۔
� سماجی تعامل پر کنٹرول ختم ہوجانے کا احساس۔
ہمارے ملک میں ہجومیت کے نفسیاتی نتائج کا باضابطہ مطالعہ بہت سے ماہرین نفسیات نے الہ آباد،پونہ ،وارانسی اور جے پور جیسے شہروں اور ان کے ساتھ ساتھ راجستھان کے کچھ دیہی علاقوں میں کیا۔ہجومیت کی تحقیقی تفتیشوں میں سے کچھ امتحان گاہوں کے اندر انجام دی گئیں،لیکن زیادہ اور عام طور سے پیش آنے والی جگہوں جیسے گھر ،آفس،ٹریفک،پبلک ٹرانسپورٹ ، آٹورکشہ ، سنیما ہال وغیرہ میں کی گئیں۔ ہمارے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی و جہ سے ہمارے یہاںہجومیت دیگر کم آبادی والے ممالک کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس خصوصیت نے کچھ غیر ملکی ماہرین نفسیات کو ہندوستان میں ہجومیت کے اثرات کے مطالعہ پر آمادہ کیا۔
یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ہجومیت کا تجربہ صرف بڑی تعدا د میں اشخاص ہونے کی و جہ سے ہی نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی صرف مکانیت میں کمی کی و جہ سے ،اس کا تعلق کثافت جو کہ دستیاب مکان میں اشخاص کی تعداد ہوتی ہے،سے ہوتا ہے۔مثلا اگر ایک ٹرین کے ڈبہ میں چارسیٹوں پر پندرہ اشخاص بیٹھے ہیں تو ہر ایک شخص کو ہجومیت کا تجربہ ہوگا۔ انھیں پندرہ افراد کو ایک بڑے ہال میں بیٹھا دیا جائے تو کسی کو بھی ہجومیت کا تجربہ نہیں ہوگا۔
کوئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا ہجومیت ہمیشہ بہت کثیف جگہ میں ہی ہوتی ہے اور کیا سبھی لوگ اس کے منفی اثرات کا تجربہ یکساں طور پر کرتے ہیں؟ اگر آپ ان دونوں سوالات کا جواب نہیں میں دیتے ہیں تو آپ صحیح ہیں۔جب ہم کسی میلہ یا شادی بیاہ کی تقریب میں جاتے ہیں تو اسی شکل میں اس کامزہ لیتے ہیں۔ وہ میلہ یا شادی کی تقریب کیا ہوگی جس میں صرف معدودے چند لوگ ہی ہوں؟دوسری جانب اگر بہت سے لوگ ایک ہی کمرہ میں رہ رہے ہوں تو ان میں سے ہر ایک تکلیف اور بے چینی محسوس کرتا ہے۔
بھیڑبھاڑیاہجومیت کے دبائو کے اثرات عام طورپر تب ہی سمجھے جاسکتے ہیں جب ہم اس کے نتائج کو دیکھیں۔ہجومیت اور زیادہ کثافت کے اثرات کا خلاصہ جیسا کہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں کیے گئے تحقیقی مطالعوں میں بتایا گیا ہے،ذیل میں دیاگیا ہے۔
� بھیڑبھاڑ اور کثافت میں اضافہ کی و جہ سے غیر فطری کردار اور جارحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کا مظاہرہ سالوں قبل چوہوں کے مطالعہ میں کیا گیا۔ یہ جانور ایک بند جگہ کے اندر دیکھے گئے تھے،شروع میں ان کی تعداد کم تھی جیسے جیسے اس بند جگہ میں ان کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا انھوں نے جارحیت اور غیر معمولی کردار کا مظاہرہ کرناشروع کردیا جیسے دوسرے چوہوں کی دموں کو کاٹنا،وغیرہ یہ جارح کردار اس حد تک بڑھ گیا کہ بالآخر ایک بڑی تعداد میں چوہوں کی موت واقع ہوگئی،اس طرح سے بند جگہ کے اندر چوہوں کی آبادی کم ہوگئی۔ انسانوں کے اندر بھی آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ کبھی کبھی پر تشدد جرائم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
� بھیڑبھاڑ کی و جہ سے مشکل کاموں ،جن میں وقوفی عمل کا ریاں شامل ہوتی ہیں،پر کارگزاری کم ہوجاتی ہے،حافظہ اور جذباتی حالت پر برعکس اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ منفی اثر کسی حد تک ان لوگوں پر بھی جو اپنے ارد گرد ہجوم کے عادی ہوتے ہیں،دیکھا گیا ہے۔
� بہت زیادہ ہجوم سے پر گھروں میں نمو پار ہے بچوںکی علمی کارگزاری کم پائی گئی ہے ان کے اندر کسی کام کو جاری رکھنے کا رجحان اگر وہ اس پر ناکام ہوگئے ہوں،ان بچوں کے مقابلہ میں جن کی نمو بغیر ہجوم والے گھروں میں ہوتی ہے کمزور پائے گئے ہیں انھیں اپنے والدین کے ساتھ زیادہ کشاکش کا تجربہ ہوتا ہے ،اوروہ اپنے کنبوں سے کم تائید حاصل کرپاتے ہیں۔
� سماجی تعامل کی نوعیت اس سے متعین ہوتی ہے کہ کوئی فرد کس درجہ تک ہجومیت پررد عمل کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر تعامل کسی خوشگوار سماجی موقع پر ہو،جیسے کوئی پارٹی ،عوامی جشن،تو زیادہ تعداد میں اسی طبعی حالت میں لوگوں کی موجودگی کسی دباؤ کا سبب نہیں بن سکتی ہے۔ اس کے بجائے یہ مثبت جذباتی رد عمل کی جانب لے جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہجومیت طبعی اور سماجی تعامل کو بھی متاثر کرتی ہے۔
� بھیڑبھاڑ کے منفی اثرات کو دکھانے کے درجہ اور ان کے رد عمل کی نوعیت میں انفرادی فرق پایا جاتا ہے۔ دو قسم کی قوت برداشت جو اس انفرادی فرق کو واضح کرتی ہیں کا ذکر کیا جا سکتا ہے جو ہجومی قوت برداشت اور مقابلہ جاتی قوت برداشت کہلاتی ہیں۔
بھیڑبھاڑ قوت برداشت سے مراد اعلیٰ کثافت یا ہجوم سے پر ماحول مثلاً تنگ رہائش یا مختصر کمرہ کے اندر بہت سے لوگوں کے ساتھ پیش آنے کی ذہنی قابلیت ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسے ماحول جن میں ان کے ارد گرد بہت سے لوگ موجود رہتے ہوں،کے عادی ہیں مثلا ایک مختصر مکان میں رہائش پذیر بڑے کنبہ میں نمو پارہے افراد،کے اندر ہجومیت برداشت کی نشونما ان لوگوں کے موازنہ میں جو اپنے اردگرد معدودے چند افراد کی موجودگی کے ہی عادی ہوں،زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی بہت زیادہ ہے اور یہاں پر بہت زیادہ افراد ایسے ہیں جو ایک مختصر مکان کے اندر بڑے کنبوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ امید کرسکتے ہیں کہ عمومی طور پر ہندوستان کے لوگوں میں ہجومیت قوت برداشت دیگر کم آبادی والے ممالک کے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے۔
مقابلہ جاتی قوت برداشت ایسے حالات یا مواقع کی نشاند ہی کرتی ہے جس میں لوگوں کو بنیادی وسائل بشمول مکانیت کے لیے دیگر بہت سے اشخاص کے ساتھ مقابلہ آرا ہونا پڑتا ہے ۔چونکہ پر ہجوم جگہ میں وسائل کے لیے مقابلہ آرا ئی ہونے کے امکانات اور زیادہ ہوجاتے ہیں اس لیے اس جگہ میں رد عمل وسائل کے لیے ہونے والے مقابلہ میں قوت برداشت کی حد سے متاثر ہوتے ہیں۔
� کسی مخصوص ماحول کے بارے میں موضوعی طورپر یہ فیصلہ لینے کی حد کہ وہ کم پر ہجوم ہے یا زیادہ پر ہجوم ہے،کا تعین ثقافتی خصوصیات بھی کرسکتی ہیں۔ یہ ہجومیت کے منفی رد عمل کی نوعیت اور حد کو بھی متاثرکرسکتی ہیں۔مثلا ایسی ثقافتوں کو جو فرد کے مقابلہ میں گروہ یا اجتماعیت کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، میں زیادہ تعداد میں اردگرد موجودگی کو ناپسند یدہ نہیں خیال کیا جاتا ہے جب کہ دوسری جانب وہ ثقافتیں جو گروہ یا اجتماعیت کے مقابلہ میں فردکو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اردگرد کے ماحول میں زیادہ اشخاص کی موجودگی بے چین کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر،اگرچہ چاہے ثقافت گروہ کو فرد سے زیادہ اہم مانے یا فرد کو گرو ہ سے زیادہ اہم سمجھے اس کو درکنار کرتے ہوئے یہ صاف اور واضح ہے کہ تمام ثقافتوں میں ہجومیت کو دبائو پیدا کرنے والے کے طور پر ماناجاتا ہے۔
�شخصی مکان یا آرام دہ طبعی مکان جسے کوئی شخص عمومی طور پر اپنے اردگرد بنائے رکھنا پسند کرتا ہے،زیادہ کثیف ماحول سے متاثر ہوتا ہے،ایک پر ہجوم سیاق میں شخصی مکان محدود ہوجاتا ہے،اور یہ ہجومیت کے منفی ردعملوں کی ایک و جہ ہوسکتا ہے۔
ہم لوگوں کی بہت سی مثالیں جگہ کے ضمن میں جوابی عمل کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ،سماجی حالات کے اندر انسان اس شخص کے ساتھ جس سے کہ وہ تعامل کرتے ہیں ایک خاص طبعی دوری برقرار رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اسے بین شخصی دوری کہتے ہیں۔ اور یہ شخصی مکان کے وسیع تصور کا ایک حصہ ہے،یعنی طبعی مکان جسے ہم اپنے اردگرد رکھنا پسند کرتے ہیں۔ہجوم کے منفی ردعملوںکی ایک و جہ،جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے،شخصی جگہ میں کمی ہے۔شخصی مکان لوگوں کے مابین حالات اور جگہ کے مابین اور ثقافتوں کے مابین تغیر پذیر ہوسکتاہے۔ کچھ اوسط دوریوں کا مشاہدہ مخصوص ثقافتوں میں کیا گیا ہے۔ ایڈورڈ،ایک ماہر انسانیات نے چار اقسام کی بین شخصی دوری کا ذکر کیا ہے جو حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
� قریبی تعلق کی دوری (18انچ تک): وہ دوری جسے آپ کسی شخص کے ساتھ پرائیویٹ گفتگو کرتے وقت بنائے رکھتے ہیں۔ یا اس وقت جب آپ کسی قریبی دوست یا رشتہ دار کے ساتھ بات چیت کرتے وقت برقرار رکھتے ہیں۔
�شخصی دوری (18 انچ سے 4 فٹ): وہ دوری جسے آپ کسی قریبی دوست،رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص جو کام کی جگہ یا دیگر سماجی حالت میں آپ سے بہت زیادہ قریب نہیں ہوتا ہے،کے ساتھ آمنے سامنے تعامل کرتے وقت برقرار رکھتے ہیں۔
�سماجی دوری(4سے10فٹ):وہ دوری جسے آپ رسمی طور پران لوگوں سے ملاقات کے وقت قائم رکھتے ہیں جو قریبی نہیں ہوتے۔
�عوامی دوری(10فٹ سے لامحدود):وہ دوری جسے آپ رسمی جگہ میں جہاں پر اشخاص کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے،بناتے ہیں۔مثال کے طورپر ،ایک مقرر سے سامع کی دوری ،ایک کلاس روم میں مدرس کی شاگردوں سے دوری۔
یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ دوریاں تعامل میں شامل اشخاص کے آرام کو ذہن میں رکھتے ہوئے ارادتاً برقرار رکھی جاتی ہیں۔ تاہم،جب جگہ کی قلت ہوتی ہے،تو لوگ ایک دوسرے سے بہت کم طبعی دوری برقرار رکھنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں(مثلا کسی لفٹ کے اندر،یا کسی ریل کے ڈبہ میں جہاں بہت زیادہ لوگ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بند مکانات میں کسی فرد کو ہجوم کا احساس ہوسکتا ہے،اگرچہ معروضی طور پر اشخاص کی تعداد بہت زیادہ نہ ہو۔ مختصرا ،دستیاب شدہ جگہ کے لیے لوگوں کا رد عمل طبعی یا فطری ماحول کے ایک جزوکے طور پرہوتا ہے۔جب حرکت کی آزادی ،پرائیویسی کا احساس اور شخصی مکان کو نارمل طور پر برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں تو شخص کو دباؤ کا تجربہ ہوتا ہے اور منفی طور پر ایک خراب موڈ کے ساتھ یا جارحانہ طور پر جوابی عمل کرتا ہے اور اس حالت کو جتنی جلد ممکن ہوسکے رفع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مندرجہ ذیل وجوہات سے شخصی مکان کا تصور اہم ہے۔ اول ،یہ ایک ماحولیاتی دبائو کے طورپر ہجوم کے منفی اثرات کی تشریح کرتاہے۔ دوئم،یہ سماجی تعلقات کے بارے میں بتاتا ہے۔مثال کے طور پر دو اشخاص جو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے یا کھڑے ہوں،کو ایک دوسرے کے دوست یا قریبی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے ۔جب آپ اپنے اسکول کی لائبریری میں جاتے ہیں ،اور اگر آپ کا دوست ایک میز پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے بغل کی دوسری سیٹ خالی ہے تو آپ اس شخص کے پاس والی سیٹ پر بیٹھنا پسند کریں گے۔لیکن آپ ایک ایسے شخص جس سے آپ واقف نہیں ہیں اس میز پر بیٹھا ہوا ہے۔اور اس کے بغل کی سیٹ بھی خالی ہے،تو اس شخص کی بغل میں آپ بیٹھنا پسند نہیں کریں گے۔سوئم،اس سے ہمیں سماجی حالات میں بے اطمینانی یا دبائو کو کم کرنے کے لیے طبعی مکان میں ترمیم کیسے کی جاسکتی ہے یا سماجی تعامل کو اورزیادہ پرلطف اور فائدہ مند کیسے بنایا جا سکتا ہے،کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
یہاں پر چند آسان مثالیں دی گئی ہیں۔فرض کیجیے کہ آپ کے اسکول میں عملہ کو یہ طے کرنا ہے کہ کرسیوں کو کس ترتیب سے لگانا ہے جب (i) جب کوئی سماجی تقریب جیسے ثقافتی پروگرام ہو (ii) جب والدین اور مدرسین کے مابین کوئی میٹنگ ہو اور (iii) جب کوئی مہمان مقرر طلبااور مدرسین کو خطاب کرنے کے لیے مدعو ہو۔کیا کرسیوں کی ترتیب ان سبھی مواقع پر ایک ہی ہونی چاہیے؟ اگر آپ کا رکردگی 8.1 کو انجام دیں تو لوگ غیر ہجومی حالت میں کس طرح کی ،ترتیب پسند کرتے ہیں ،کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے۔
قدرتی آفات
ماحولیاتی دباؤ مثلا شور،ہجوم اور آلودگی کی مختلف اقسام انسانی کردار کانتیجہ ہیں۔ اس کے برعکس قدرتی آفات دباؤ سے پر تجربات ہیں جو فطرت کے اشتعال یعنی طبیعی ماحول میں خلل کی و جہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ زلزلہ، سنامی، سیلاب،سائیکلون اور آتش فشانی زلزلے فطری یا قدرتی آفات کی مثالیں ہیں۔ دیگر آفات کی مثالیں جیسے جنگ ،صنعتی تصادم جیسے صنعتی تنصیبات سے زہریلے (سمی)یا ریڈیو ایکٹیو اجزا کا اخراج یا وبائی امراض (جیسے 1996 میں ہمارے ملک کے کچھ حصے جو طاعون سے متاثر ہوئے تھے)کی مثالیں بھی مل سکتی ہیں۔ تاہم جنگ اور وبائی امراض انسانی تشکیل شدہ وقوع ہیں اگرچہ ان کے اثرات بھی اتنے ہی خطرناک ہوسکتے ہیں جتنے کہ قدرتی آفات کے۔ یہ وقوع بھی آفات ہی کہلاتے ہیں،کیونکہ ان کا انسداد بھی نہیں ہوسکتا ہے اور یہ عموما بغیر کسی وارننگ کے ہی آتے ہیں،اور ان کی و جہ سے بے انتہا جانی اور مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان کی و جہ سے نفسیاتی خلل بھی جسے بعد صدمہ دباؤ کا اختلال کہتے ہیں پیدا ہوتا ہے۔سائنس اور ٹکنالوجی نے اب اتنی زیادہ ترقی کر لی ہے کہ آج انسانوں کے لیے ان وقوعات کی پیشین گوئی کرنا کسی حد تک ممکن ہوگیا ہے۔تاہم قدرتی آفات کے نفسیاتی اثرات کوسمجھنے اوران کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
قدرتی آفات کے کیا اثرات ہیں؟ اول یہ اپنے پیچھے لوگوں کو اپنی ملکیت کی ہر ایک اشیاکے عمومی خاتمہ کے ساتھ ساتھ غربت زدہ ،بناگھر کے اور وسائل کے بغیر چھوڑجاتی ہیں۔دوئم، اپنی تمام ملکیت اور اپنے عزیزوں کے اچانک ختم ہوجانے یا کھوجانے سے لوگوں کو جھٹکا اور صدمہ پہنچتا ہے۔ طبعی آفات ،صدماتی تجربات یعنی آفات سے جانبر ہونے ،لوگوں کے جذباتی زخم اور صدمہ ہیں۔ بعد صدمہ دباؤ کے خلل ایک خطرناک نفسیاتی مسئلہ ہے جو صدماتی وقوعات جیسے طبیعی آفات کی و جہ سے ہوتا ہے۔ اس خلل کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں:
�کسی آفت کا فوری ردعمل عموما غیر شناخت رخ ہوتا ہے،اس بات کو پورے طورپر سمجھنے کے لیے کہ آفت نے ان کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے لوگوں کو کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔وہ درحقیقت خود سے یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں کہ کوئی افسوسناک واقعہ ظہور پذیر ہو چکا ہے۔اس کے اتباع میں فوری رد عمل طبیعی رد عمل ہے۔
�طبیعی رد عمل جیسے کسی جسمانی عمل کے بغیر جسمانی تھکان،نیند میں دقت، کھانے کی وضع میں تبدیلی،خون کے دباؤ اور دل کی دھڑکنوں میں اضافہ اور بہ آسانی سراسیمہ ہوجانا، آفات کے شکار ہوئے لوگوں میں پایا جاسکتا ہے۔
� جذباتی رد عمل جیسے افسوس ،خوف،برانگیختگی اور غصہ’’ایسا میرے ساتھ کیوں ہوا ہے‘‘،بے یارو مددگارمحسوس کرنا ،ناامیدی’’میں اس واقعہ کے انسداد میں کچھ نہیں کرسکا‘‘افسردگی،کبھی کبھی جذبات میں مکمل کمی (خالی الذہنی) کنبہ میں کسی فرد کی موت ہوجانے پر بھی خود زندگی پانے کے لیے احساس جرم،خود کو الزام دینا اور روزمرہ کی کارکردگیوں میں دلچسپی ختم ہوجانا، شامل ہوتے ہیں۔وقوفی رد عمل جیسے پریشانی ،ارتکاز میں دقت،حیطہ توجہ میںکمی،یا طرح طرح کی یادیں جو غیر مطلوب ہوتی ہیں ہو سکتی ہیں۔
� سماجی رد عمل جیسے دوسروں سے کنارہ کشی،دوسروں کے ساتھ کشاکش میں ہونا،اپنے عزیزوں سے بھی اکثر دلیل کرنا،اور خارج کیے جانے یا چھوڑ دیے جانے کا احساس شامل ہوسکتا ہے۔حیرت انگیز طور پراکثر وبیشتر دباؤ کے شدید جذباتی رد عمل کے دوران کچھ بچ جانے والے لوگ دوسروں کی مدد کرنے کے عمل میں لگ جاتے ہیں۔ ان تجربات سے گزرنے کے بعد،ان سے ابھر کر اور زندہ رہ کر یہ اشخاص زندگی کے بارے میں ایک مثبت نظریہ کی نشوونما کرسکتے ہیں اور ہم احساس کے ساتھ دیگر بچ جانے والے افراد تک اس رویہ کو پہنچاتے ہیں۔
یہ رد عمل بہت لمبی مدت تک کچھ حالتوں میں تازندگی رہ سکتے ہیں۔تاہم مناسب صلاح کاری اور علاج امراض نفسی کے بعد صدمہ دباؤ کے خلل کی اصلاح کم از کم اس سطح تک کی جاسکتی ہے جس پر متاثرہ افراد کے اندر تحریک پیدا کی جاسکے اورنئی زندگی کی شروعات کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ غریب خواتین جو اپنے تمام رشتہ داروں کو کھو چکی ہیں،اور یتیم بچے جو طبعی آفات سے بچ گئے ہیں ،کو مخصوص علاج اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ دیگر ماحولیاتی دباؤمیں ہوتا ہے طبیعی آفات میں بھی لوگوں کا رد عمل مختلف شدتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔عمومی طور پر رد عمل کی شدت مندرجہ ذیل اسباب سے متاثر ہوتی ہے۔
آفت کی شدت اور اس سے ہوئے نقصان (جان اور مال دونوں معنوں میں)
� افراد کی عمومی عہدہ برآہونے کی قابلیت اور
� آفت سے قبل دیگر دبائو والے تجربات مثال کے طور پروہ لوگ جنھیں پہلے سے ہی دباؤ کا تجربہ ہو چکا ہے ایک دوسرے سخت اور دباؤ پیدا کرنے والی حالت سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے ۔
اگرچہ ہم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ زیادہ تر قدرتی یا طبیعی آفات پیشن گوئی ایک محدود طریقہ سے ہی کی جاسکتی ہے،ان طریقوں کی تیاری کی جارہی ہے جس سے ان کے خطرناک نتائج کو کم کیا جا سکے۔ان میں(a) وارننگ یا آگاہی (b)حفاظتی اقدامات جو واقعہ کے فورا بعد لیے جاسکیں،اور (c) نفسیاتی خلل کے علاج شامل ہیں۔ یہ اقدامات عموما کمیونٹی سطح پر لیے جاتے ہیں،جن کی توضیح مندرجہ ذیل ہے۔
�وارننگ: اگر آپ حالیہ برسوں میں ریڈیو سن رہے ہوں تو آپ نے ایسے اشتہارات سنے ہوں گے جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی طبیعی آفت جیسے سیلاب وغیرہ کے اعلان کے بعدلوگوں کو کیا کرنا چاہیے۔ جب سا ئیکلون یا بڑے طوفانوںکی پیشین گوئی کرلی جاتی ہے تو مچھواروں کو سمند رمیں جانے سے روکاجاتا ہے۔
�حفاظتی اقدامات: بدقسمتی سے کچھ طبیعی آفات جیسے زلزلہ ایسے ہیں کہ اگر ان کی پیشن گوئی ممکن ہو تب بھی یہ اتنے اچانک واقع ہوتے ہیں کہ لوگوں کو اس سے آگاہ ہو کر ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہونا ممکن نہیں ہوپاتا ہے۔ اس لیے انھیں پہلے ہی سے یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسی آفت آجائے تو وہ کیا کریں۔
�نفسیاتی بدنظمی اوربیماری کا علاج:اس میں اپنی مددخود کرنے کے طریقے اور اس کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ علاج بھی شامل ہے۔ اکثر سب سے پہلا قدم غذا،کپڑا،دوائیں،پناہ گاہ اور مالیاتی امداد کی شکل میں امدادی اشیامہیا کرانا شامل ہوتاہے۔ انفرادی اوراجتماعی سطح پر صلاح کاری اگلا قدم ہوتی ہے۔ اس کی کئی شکلیں جیسے زندہ بچے افراد کو اپنے تجربات اور جذباتی حالت کے بارے میں گفتگو کے لیے حوصلہ افزائی کرنااور ان کے زخموں کو ٹھیک ہوجانے کے لیے وقت دینا۔کچھ ماہرین جو بعد صدماتی دباؤ کے اختلال کے ماہر ہوتے ہیں،کے مطابق بچے ہوئے لوگوں کے اندر نشوونما کیے جانے والے کلیدی رویوں میں سے ایک خود مکتفی ہے یعنی یہ یقین کہ ’میں یہ کرسکتا ہوںیا میں اس حالت سے کامیابی کے ساتھ باہر آسکتا ہوں۔ علاج امراض نفسی کی ضرورت ان لوگوں کو ہوسکتی ہے جو بے انتہا دباؤ کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔آخر میں روزگار اور نارمل معمول میں آہستہ آہستہ واپسی کی صورت میں بحالی کے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔کسی مرحلہ پر متاثرہ اور بچے ہوئے لوگوں کی توثیقی یہ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے کہ وہ اپنے صدماتی تجربہ سے حقیقت میں اچھی طرح سے بازیاب ہوچکے ہیں۔
سرگرمی8.2
اپنے استادسے ..اپنے درجہ کے ساتھیوں کے ساتھ مندرجہ ذیل کردار کو انجام دینے کے لیے اپنی مدد کرنے کے لیے کہیے۔کچھ طالب علم طبیعی آفات کے شکار ہوئے لوگوں کا رول ادا کریں جس میں بعد صدماتی دباؤ والے خلل کی علامات کا مظاہرہ کریں،جب کہ دیگر طالب علم صلاح کاروں کا رول ادا کریں۔مشیروں کے ذریعہ دکھائے گئے کرداروں کے بارے میں اپنے درجہ کے ساتھیوں اور استادکی رائے معلوم کریں۔
کہاجاسکتا ہے کہ اگرچہ شور،ہوا اور پانی سے پیداشدہ آلودگی اب جانے والی نہیں ہیں،تاہم کمیونٹی کی سطح پر کچھ ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو ہمارے بیش قیمت ماحول کو کم آلودہ اور ہم سب کے لیے زیادہ صحت مند ماحول بنائیں۔جہاں تک ہجومیت کا تعلق ہے یہ مکمل طور پر انسان کا بنایا ہوا مسئلہ ہے۔طبیعی آفات بیشک انسانی کنٹرول سے باہر ہیں تب بھی ضروری ہوشیاری کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ماحول دوستانہ کردار کے متعلق کچھ خیالات اگلے صیغہ میں دیے گئے ہیں۔
ماحولیاتی موافق کردار کو فروغ دینا
ماحولیاتی موافق کردار میں افعال جو کہ ماحول کو مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے ہوں اور ایک صحتمندانہ ماحول کو فروغ دینا دونوں شامل ہیں۔آلودگی سے ماحول کی حفاظت کو تقویت دینے والے کچھ افعال یا عمل مندرجہ ذیل ہیں:
�اپنی گاڑیوں کو اچھی حالت میں رکھ کر یا گاڑیوں میں بغیر ایندھن کے ذریعہ چلنے والی گاڑیوں کے استعمال اور سگریٹ ،بیڑی،سگار وغیرہ پینے پر پابندی کے ذریعہ ہوا کی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔
�شور کی سطح کم ہو یہ یقینی بناکر مثلا سڑک پر غیر ضروری شورشرابہ کی ہمت افزائی نہ کرکے اور کچھ مخصوص گھنٹوں میں شو روغل والی موسیقی سے متعلق اصول وضع کرکے شور کی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
�کوڑہ کرکٹ کو اچھی طرح سے ٹھکانہ لگانے کے انتظامات کرکے مثال کے طور پر حیاتیاتی درجہ بندی کے قابل اور غیر حیاتیاتی درجہ بندی کے قابل کوڑوں کو علاحدہ کرکے۔ یہ عمل اپنے گھروں اور عوامی مقامات دونوں میں عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔صنعتی اور اسپتال کے کوڑوں کے انتظام میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
� درختوں کو لگاکر اور ان کی دیکھ بھال کو یقینی بناکر،یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ایسے درخت اور پیڑ نہ لگائے جائیں جو صحت پر برعکس اثرات ڈالیں۔
�پلاسٹک چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو ،کواستعمال نہ ہونے دینے یعنی ناقابل قبول کہہ کر ،اس طرح سے زہریلے کو ڑے جو مٹی ،پانی اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں،کم کیا جا سکتاہے۔
�صارف اشیاکی پیکنگ میں غیر حیاتیاتی درجہ والے ڈبوں کو ختم کرکے ۔
�تعمیرات (بالخصوص شہری علاقوں میں) جو مناسب ترین ماحولیاتی ڈیزائن کی خلاف ورزی کرتی ہوں،سے متعلق قوانین وضع کرکے۔
نفسیات اور سماجی مسائل
اگر آپ کسی شخص سے ان اہم مسائل جن کا سامنا آج ہمارا سماج کررہا ہے ،کی ایک فہرست بنانے کے لیے کہیں،توآپ کو یہ اچھی طرح سے اطمینان ہونا چاہیے کہ دیگر مسائل کے بیچ دومسائل–غربت اور تشدد کاذکر ضرور ہوگا۔ یہ دونوں مظاہر لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت زیادہ اثرات ڈالتے ہیں۔ یہ سمجھ لیا جانا چاہیے کہ غربت صرف ایک اقتصادی مسئلہ نہیں ہے اور تشدد بھی صرف ایک قانون توڑنے کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ دونوں مسائل اسی وقت حل ہو سکتے ہیں جب ہم ان کے نفسیاتی اثرات کا معائنہ کریں۔ ماہرین نفسیات نے ان امور کی باقاعدہ تفتیش کی اور ان مظاہر کی وجوہات اور نتائج پر توجہ دی ۔ ان میں سے ہر ایک سماجی واسطے کی وضاحت ذیل میں کی جارہی ہے۔
غربت اور امتیاز
تمام لوگ اس سے متفق ہیں کہ غربت سماج پر ایک کلنک ہے اور جتنی جلد ہم اس سے نجات حاصل کرلیں،اتنا ہی زیادہ یہ سماج کے لیے بہتر ہوگا،کچھ ماہرین نے غربت کی تعریف اقتصادی اصطلاحات جیسے تغذیہ (ایک شخص کے ذریعہ روزانہ لی جانے والی کیلوری) اور زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا،کپڑا اور مکان پر صرف کی جانے والی رقم،میں کیا ہے۔کچھ دیگر علامات جیسے جسمانی صحت اور خواندگی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح کے معیاروں کا استعمال کچھ سیاقوں میں اب بھی جاری ہے۔ تاہم سماجی اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے اقتصادی اور دیگر طبیعی پہلو غربت کے بارے میں کہانی کا مختصر حصہ ہی بتاتے ہیں۔سماجی،نفسیاتی نقطۂ نظر سے غربت کی سب سے زیادہ عمومی طور پر تسلیم کی جانے والی تعریف یہ ہے کہ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں سماج کے اندر سرمایہ کے غیر مساوی تقسیم کے سیاق میں ضروریات زندگی کا فقدان ہوتا ہے۔
کچھ مصنفین نے محرومی اور سماجی ناموافقت کو غربت میں اضافہ کی خصوصیات کے طورپر شامل کیا ہے۔محرومی اورغربت کے مابین ایک فرق یہ ہے کہ محرومی سے مراد وہ حالت ہے جس میں کوئی شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کوئی بیش قیمت چیز تلف ہوچکی ہے۔ اور اسے وہ چیز نہیں مل رہی ہے جس پر اس کا حق ہے اور اس طرح سے کچھ حد تک اس کی تعریف معروضی طور پر کی گئی ہے۔محرومی کے اندر یہ ادراک یا تفکیر کہ اسے جتنا حاصل ہونا چاہیے اس سے کم حاصل ہوا ہے زیادہ شامل ہوتاہے بمقابلہ اس کے کہ اس کے پاس کیا کچھ ہے۔ اس طرح سے ایک غریب شخص کو محرومی کا تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن غربت محرومی کا تجربہ کرنے کے لیے ایک ضروری کیفیت نہیں ہے۔ غریب کی حالت اورخراب ہوجاتی ہے اگر اسے محرومی کا بھی احساس حقیقت میں ہو ، غریب عام طور پر محروم ہونے کا بھی احساس کرتا ہے۔
غربت اور محرومی دونوں کا تعلق سماجی ناموافقت سے ہوتا ہے،یعنی ایک ایسی حالت جس کی و جہ سے سماج کے کچھ صیغوں کو یہ اجازت نہیں ہوتی ہے کہ ان کو بھی وہی آسانیاں مل سکیں جو کہ سماج کے بقیہ لوگوں کو ملی ہیں۔سماجی ناموافقت ان طبقات کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ہمارے سماج میں ذات پات کا نظام سماجی ناموافقت کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔لیکن غربت،ذات کے لحاظ کے بغیر،سماجی ناموافقت پیداکرنے میں ایک اہم رول اداکرتی ہے۔
مزید برآں غربت اور ذات کی و جہ سے سماجی ناموافقت امتیاز کے مسئلہ کو جنم دیتی ہے ۔ ابواب6 اور 7سے آپ یہ بازیافت کرسکتے ہیں کہ امتیاز کا تعلق اکثر تعصب سے ہوتا ہے۔غربت کے سیاق میں امتیاز سے مراد وہ کردار ہوتے ہیں جو امیر اور غریب کے مابین تفریق کرتے ہیں امیر اور موافق کی غریب اور ناموافق کے مقابلہ میں جانبداری۔ یہ تفریق سماجی تقابل تعلیم اور روزگار کے معاملات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح سے غریب اور ناموافق کے اندر صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے بھی انھیں باقی سماج کو حاصل موافق سے علاحدہ رکھا جاتا ہے۔غریب کے بچوں کو اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصلکرنے کا موقعہ یا عمدہ صحت کی آسانیاں اور روزگار حاصل کرنے کے مواقع نہیں مل پاتے ہیں۔سماجی ناموافقت اور امتیازغریبوں کو اپنی سماجی اور اقتصادی حالت کی اصلاح اپنی خود کی کوشش سے کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں جس سے غریب اور بھی زیادہ غریب ہوجاتے ہیں ۔مختصرا غریبی اور امتیاز کا آپس میں اس طرح سے تعلق ہے کہ امتیاز دونوں کا سبب اور غربت اس کا ایک نتیجہ بن جاتی ہے۔واضح طور پر غربت اور ذات پر مبنی امتیاز سماجی طور پر صحیح نہیں ہے اور اسے ختم کرنا چاہیے۔
ہر ایک سماج غربت کو دور کرنا چاہتا ہے۔اس جہت میں آگے بڑھنے کے لیے یہ اہم ہوجاتا ہے کہ غربت اور محرومی کے نفسیاتی حدود اور ان کے اسباب سے واقفیت ہو۔
غربت اور محرومی کی نفسیاتی خصوصیات اور اثرات
غربت اور محرومی کو ایک بہت نمایاں مسئلہ مانتے ہوئے ہندوستانی سماجی سائنسدانوںبشمول ماہرین سماجیات،ماہرین نفسیات اور ماہرین اقتصادیات نے غریب اور محروم طبقات پر باضابطہ تحقیق کی۔ان کے نتائج اور مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک،شخصیت ،سماجی کرداروں وقوفی عمل کاریوں اور ذہنی صحت پر غربت اور محرومی کے برعکس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
� تحریک کے معنوں میں غریب کم آرزئویں اور کم تحصیل تحریک اور انحصار کی زیادہ ضرورت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کی تشریح اپنی قابلیت اور سخت محنت کے بجائے قسمت یا تقدیر کی اصطلاح میں کرتے ہیں۔عمومی طورپر وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی کے واقعات کا کنٹرول ان کے اندر پائے جانے والے عوامل کے بجائے خارجی عوامل کرتے ہیں۔
�جہاں تک شخصیت کا تعلق ہے غریب اور محروم لوگوں میں وقار نفس کم ہوتا ہے،تشویش اور بیرون سمتی زیادہ ہوتی ہے، مستقبل کی طرف شناخت رخ ہونے کے بجائے موجودہ حال پر زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں۔بڑے اور زیادہ انعامات جو لمبے عرصہ کے بعد ملنے والے ہوں ، کے مقابلہ میں فورا ملنے والے قلیل انعامات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے ادراک میں مستقبل ناقابل بھروسہ ہوتاہے۔ وہ ناامیدی کے بے قوتی کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں،وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور شناخت(تشخص)کے خاتمہ کا تجربہ ہوتا ہے۔
� جہاں تک سماجی کردار کا تعلق ہے،غریب اور محروم زدہ طبقے بقیہ سماج کے خلاف مزاحمت اور ناراضگی کے رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
�ذہنی عمل کاریوں پر لمبے عرصہ تک محرومی کے اثرات کے متعلق یہ پایا گیا ہے کہ کاموں(جیسے درجہ بندی،لفظی استدلال ،مدت ادراک، تصویری دوری) پر دانشورانہ تفاعل اور کارگزاری کم محروم لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ محروم لوگوں میں کم ہوتی ہے۔ اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ محرومی کا اثراس ماحول کے سبب ہوتاہے جس کے اندر بچے نشوونما پاتے ہیں ،چاہے مالا مال ہو یا مفلس–ان کی وقوفی نشوو نما پراثر انداز ہوتے ہیں اور یہ وقوفی کا موں کی کارگزاری میں منعکس ہوتا ہے۔
� جہاں تک ذہنی صحت کا تعلق ہے ذہنی گڑبڑ اور غربت یا محرومی کے مابین ایسا تعلق ہے جس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے۔غریب شخص کو کسی مخصوص ذہنی خلل میں مبتلا ہونے کے امیروں کے مقابلہ میں زیادہ مواقع ہوتے ہیں، بنیادی ضروریات عدم تحفظ کا احساس اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔درحقیقت یہ بتایا گیا ہے کہ افسردگی زیادہ ترغریب لوگوں کے اندر ہونے والا ذہنی خلل ہے۔ غربت کے علاوہ ناامیدی اور تشخص کے ختم ہوجانے کا احساس جیسے کہ سماج سے ان کا تعلق نہیں ہے،بھی ا س کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ جذباتی اورتطبیقی مسائل میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔
غربت کی اہم وجوہات
غربت کبھی کبھی طبیعی آفات جیسے زلزلے ،سیلاب اور سائیکلون ،انسان کے ذریعہ ساخت شدہ آفات جیسے زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوتی ہے۔جب اس طرح کے حادثات واقع ہوتے ہیں تو لوگوں کی تمام جائیدا د اچانک ہی ختم ہوجاتی ہے اور وہ غربت کاسامنا کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح سے غریب کی ایک نسل ممکن ہے کہ اپنی غربت کو ختم کرنے کے قابل نہ ہو پائے ،چنانچہ اگلی نسل کو بھی غربت میں ہی رہنا پڑتا ہے۔ ان وجوہات کے علاوہ ،غربت کے لیے ذمہ دار دیگر عوامل کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے۔تاہم ان عوامل کی اہمیت کے بارے میں کچھ اختلاف رائے ہے۔
�غریب لوگ اپنی غربت کے لیے خود ہی ذمہ دارہیں۔ اس نظریہ کے مطابق غریب اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کی تحریک اورقابلیت میں کم اور دستیاب مواقع کو استعمال کرنے میں کم ہوتے ہیں۔عام طور پر غریب کے بارے میں اس طرح کا نظریہ منفی ہوتا ہے اور ان کو بہتر بنانے میں بالکل مددنہیں کرتا ہے۔
� غربت کی و جہ یہ فرد نہیں بلکہ ایک عقیدہ نظام ،ایک طرز حیات،اور اقدار جس کے اندر اس نے پرورش پائی ہے ،ہوتے ہیں۔ یہ عقیدہ نظام جوغربت کی ثقافت کہلاتا ہے،شخص کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اسے غریب ہی رہنا ہوگا اور یہ عقیدہ غریب کی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا ہے۔
� اقتصادی ،سماجی اور سیاسی عوامل ایک ساتھ مل کر غربت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔امتیاز کی و جہ سے سماج کے مخصوص صیغوں کو وہ مواقع جو زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، نہیں مل پاتے ہیں۔ یہ اقتصادی نظام ایک غیر متناسب طریقہ میں سماجی اور سیاسی استحصال کے ذریعہ نمو پاتا ہے،جس سے کہ غریب دوڑ میں پیچھے کر دیے جاتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو سماجی ناموافقی صورت حال کے خیال کے اندر جمع کیا جا سکتا ہے ،کیونکہ اسی کی و جہ سے غریب لوگوں کوسماجی ناانصافی ،محرومی ،امتیاز اور علاحدگی کا تجربہ ہوتا ہے۔
� جغرافیائی علاقہ جس میں کوئی رہائش پذیر ہے کو بھی غربت کی اہم و جہ مانا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ایسے علاقوں(جیسے ریگستان)میں رہنے والے لوگ جہاں طبیعی وسائل کی کمی ہوتی ہے اور موسم بھی سخت ہوتا ہے(جیسے بے انتہاگرمی یا سردی)ہمیشہ غریب ہی رہ جاتے ہیں۔یہ عوامل انسانوں کے ذریعہ کنٹرول نہیں کیے جاسکتے۔ تاہم،ان علاقہ میںرہنے والے لوگوں کے لیے متبادل ذریعہ معاش کے وسائل فراہم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے، انھیں تعلیم اور روزگار کے لیے خاص سہولتیں یا آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں۔
� دوران غربت یا غربت یعنی غربت کا اٹوٹ گھیرااس کی ایک اہم و جہ ہے جو یہ تشریح کرتی ہے کہ غربت سماج کے انھیں طبقوں کے اندر کیوں جاری رہتی ہے۔ غربت کو کم آمدنی اور وسائل کی کمی سے شروعات کرتے ہوئے غریب کمزور صحت،کم تغذیہ ،تعلیم کا فقدان اور مہارتوں میں کمی تک پہنچتا ہے اور اس کے بدلہ میں ان کی کم آمدنی کی حالت، کمزور صحت اور کم تغذیاتی کیفیت جاری رہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں تحریکاتی سطح کم ہوجاتی ہے جو حالت کو مزید خراب بنادیتی ہے یا سائیکل شروع ہوتی ہے اور دوبارہ جاری ہوجاتی ہے۔ اس طر ح سے دو ر غربت میں اوپر مذکور عوامل اور انفرادی تحریک ،امیداور کنٹرول کے احساس میں کمی ہونے کے نتائج کے مابین ایک تعامل شامل ہوتا ہے۔
غربت اور محرومی کے ساتھ اختلاف شدہ مسائل سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غربت کے خاتمہ یا کم کرنے کے لیے فعالیت کے ساتھ اور ایماندارانہ کام کیا جائے اس جہت میں لیے جانے والے اقدامات کی توضیح کی گئی ہے۔
غربت دور کرنے کے لیے اقدامات
غربت اور اس کے منفی نتائج کو دور کرنے یا کم کرنے کی جانب سرکار اور دیگر گروہوں کے ذریعہ بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
� دور غربت یاافلاس کے چکرکوتوڑنااور غریب کو خودکفیل بنانے میں مدد دینا۔شروعات میں مالیاتی امداد ،طبی اور دیگر سہولیات غریبوں کو مہیا کرائی جاسکتی ہیں۔اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ یہ مالیاتی اور دیگر امداد کہیں انھیں اپنی روٹی روزی کے لیے انھیں وسائل پر منحصر نہ کردیں۔
�ایسے ماحول کی تخلیق کی جانی چاہیے جس میں غریب اپنی غربت کے لیے دوسروں پر الزام کے بجائے خود ذمہ داری لیں۔ یہ قدم انھیں امید،کنٹرول اور تشخص کو دوبارہ حاصل کرنے میں مدددے گا۔
� سماجی انصاف کے اصولوں کا اتباع کرتے ہوئے،تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا–یہ قدم غریب کو اپنی قابلیتوں اور مہارتوں کی دریافت میں مدد کرسکتا ہے ،اس طرح سے انھیں سماج کے دیگر صیغوں کی سطح تک آنے کے قابل بنائے گا۔نامرادی میں کمی سے جرائم اور تشدد میں بھی کمی ہوگی اور غریبوں کو اپنی روٹی روزی غیر قانونی طور کے بجائے قانونی طور پر کمانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
�بہتر ذہنی صحت کے لیے اقدامات غربت میں کمی کرنے کے بہت سے اقدامات غریبوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔لیکن ان کی ذہنی صحت اب بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے جس سے بہت موثر انداز میں نمٹنا ہوگا۔اس مسئلہ کی زیادہ بیداری کے ساتھ ،یہ امید کی جاتی ہے کہ غربت کے اس رخ پر اب زیادہ توجہ دی جائے گی۔
� غربت کو طاقتور بنانے کے اقدام–اوپر مذکور اقدامات سے غریب زیادہ طاقتور ہوں گے،خود مختار انہ اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے قابل ہوں گے اور سرکار یا دیگر گروہوں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی امداد پر انحصار نہیں کریں گے۔
’انت یودیہ‘یا سماج میں’آخری شخص‘یعنی سب سے زیادہ غریب یا سب سے زیادہ ناموافقت میں مبتلا شخص کا اوپر اٹھنا ،ترقی کرنا ،اس نے غریبوں کے ایک بڑے صیغہ کی پہلے کے مقابلہ میں بہترا قتصادی حالت بنانے میں مدد کی ہے۔انتیودیہ پروگرام کے تحت صحت کی سہولیات ،تغذیہ ،تعلیم اور روزگار کے لیے تربیت کی گنجائشیں ان تمام میدانوں میں جس میں غریب کو مدد کی ضرورت ہے،رکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پروگرام شہری علاقوں کی بہ نسبت دیہی علاقوں کے غریبوں کے مقابلہ میں اور بھی کم ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ غریبوں کی اپنی خود کی چھوٹے پیمانہ پر تجارت شروع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان کاموں کے لیے شروعاتی سرمایہ چھوٹے قرض یا مائکروکریڈٹ سہولیات کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ سہولیت بنگلہ دیش میں گرامین بینک کے خیال سے مماثل ہے۔
آئین کے اندر 73ویں ترمیم کی گئی جس کا مقصد لوگوں کو مرکزی اقتدار کو کم کرنے والی منصوبہ بندی کے ذریعہ اور لوگوں کی شراکت کے ذریعہ اپنی نشوونما کے لیے زیادہ طاقت بہم پہنچاتا ہے۔ ایکشن ایڈ،جو ایک بین الاقوامی گروہ ہے اور جو غریبوں کے مقصد کے لیے وقف ہے،کے مقاصد میں غریبوں کو اپنے حقوق،مساوات اور انصاف کی خاطر زیادہ حساس بنانا شامل ہے،اور ان کے لیے مناسب تغذیہ ،صحت ،تعلیم اور روزگار کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کو یقینی بنا تا ہے۔ اس تنظیم کی ہندوستانی شاخ ہمارے ملک میں غربت کے خاتمہ کے لیے کام کررہی ہے۔
ان اقدامات سے مختصر وقت کے اندر جادوئی اثرات کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر غریبی کے خاتمہ کی طرف یہ کوششیں اپنی صحیح روح اور صحیح جہت کے ساتھ جاری رہیں،تو ہم قریب مستقبل میں اس کے مثبت نتائج دیکھ سکتے ہیں۔
سرگرمی8.3
آپ نے یہ کہاوت ضرور سنی ہوگی کہ ’’اپنے ہاتھ میںایک پرندہ جھاڑیوں کے دو پرندوں سے بہتر ہے:
کیا غربت کا تجربہ کررہے لوگ اس کہاوت سے اتفاق کریں گے؟کیوں ؟ اپنے استاد کے ساتھ اس پر بحث کریں۔
جارحیت ،تشدد اور امن
جارحیت اور تشدد آج کے سماج کے اہم مسائل میں سے ہیں،اور ان کے اندر کردار کا ایک وسیع حیطہ ہے جس میں تعلیمی اداروں میں نئے آنے والوں کی حرکت بنانے سے لے کر بچہ بدسلوکی،گھریلو تشدد ،قتل ،زنا،فسادات اور دہشت گردانہ حملے شامل ہیں۔
ماہرین نفسیات نے جارحیت اصطلاح کا استعمال کسی ایک شخص یا اشخاص کے ذریعہ کیا گیا کوئی ایسا کردار جو کسی دیگر شخص یا اشخاص کو نقصان پہنچانے کے ارادہ سے کیا گیا ہو،کے لیے کیا ہے۔ اس کا مظاہرہ حقیقی فعل کے اندر یا سخت الفاظ یا تنقید کے ذریعہ یا دوسروں کے مخالف معاندانہ احساسات کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔کسی دوسرے شخص یا شے کی جانب کیے گئے طاقتور تخریبی کردار کی توضیح تشدد کے طور پر کی گئی ہے۔کچھ ماہرین نفسیات نے جارحیت سے تشدد کو علاحدہ کرنے کے لیے یہ نشاندہی کی ہے کہ جارحانہ کردار کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے یا زخم دینے کے ارادہ پر مشتمل ہوتا ہے۔جب کہ تشدد کے اندر اس طرح کا کوئی ارادہ شامل ہوبھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ہے۔مثال کے طورپر بسوں یا عوامی املاک کو فساد کے دوران جلانا تشدداور جارحیت دونوں کہا جاسکتا ہے ۔لیکن فرض کرلیجیے کہ آپ ایک شخص کو پرتشدد انداز میں موٹر بائیک پر کک مارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کی نیت یا ارادہ صرف گاڑی کو چلانا بھی ہوسکتی ہے اور ’اس لیے‘اس فعل کو جارحیت کے طور پر نہیں مانا جا سکتا ہے۔جب کہ دوسری جانب کوئی شخص جب یہ فعل اس لیے انجام دیتا ہے تاکہ اس سے گاڑی جو کہ کسی ایسے شخص کی ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے،کو نقصان پہنچے اس صورت میں چونکہ اس کا ارادہ نقصان پہنچانے کا تھا،اس لیے فعل کو جارحیت کا فعل کہا جائے گا۔
بامقصد جارحیت اور معاندانہ جارحیت کے مابین بھی ایک امتیاز کیا جاتا ہے مقصدی جارحیت میں جارحیت کے فعل کا مقصد کسی مخصوص مقصد یا شے کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔مثال کے طورپر،ایک غنڈہ اسکول میں کسی نئے طالب علم کو اس لیے مارتا ہے تاکہ وہ اس سے چاکلیٹ کو چھین سکے،معاندانہ جارحیت وہ ہوتی ہے جس میں مقصود کی جانب غصہ کا اظہار بھی شامل ہو اور جس میں اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ بھی شامل ہو ۔ اگر چہ جارح جارحیت کے شکار شخص سے کسی چیز کو حاصل کرنے کی خواہش نہ بھی رکھتا ہو۔مثال کے طور پر ،ایک مجرم کمیونٹی میں کسی شخص کو پولیس میں اس کا نام دیے جانے کے لیے پٹائی کرسکتا ہے۔
جارحیت کی وجوہات
سماجی ماہر نفسیات نے بہت سالوں تک جارحیت کے امور کی تفیش کی ہے،اور جارحیت کی وجوہات کے بارے میں مندرجہ ذیل نظریات دیے ہیں۔
1۔ پیدائشی رجحان: جارحیت انسانوں کے اندر(جیسے کہ یہ مویشیوں میں ہوتا ہے) ایک پیدائشی یا خلقی رجحان ہے،حیاتیاتی طور پر اس خلقی یا پیدائشی رجحان کا مقصد حفاظت نفس ہوسکتا ہے۔
2۔ طبیعاتی میکانیت:جارحیت بالواسطہ طور پر طبیعاتی میکانیت کے ذریعہ بالخصوص ،دماغ کے کچھ مخصوص حصے جو جذباتی تجربات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،کی فعالیت سے پیدا ہوسکتی ہے۔بیداری یا فعال شدہ احساسات کی ایک عمومی طبیعیاتی سطح کا اظہار اکثر وبیشتر جارحیت کی شکل میں ہوتا ہے۔بہت سے عوامل بیداری کی و جہ ہوسکتے ہیں۔مثال کے طور پر ،جیسا کہ ہم اس باب میں پہلے دیکھ چکے ہیں،کہ جارحیت ہجومیت کے ایک احساس ،خصوصی طور پر گرمی اورامس بھرے موسم کی و جہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔
3۔ پرورش اطفال:کسی شخص کی جارحیت پر اس کی پرورش کے طریقہ کا بھی اکثر و بیشتر اثر پڑتا ہے۔مثال کے طورپر ایسے بچے جن کے والدین جسمانی سزا کا استعمال کرتے ہیں ان بچوں کے مقابلہ میں جس کے والدین منضبط کرنے کی دیگر تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں،زیادہ جارح ہوجاتے ہیں۔ یہ شایداس و جہ سے ہوتا ہے کیوں کہ والدین نے جارح کردارکی ایک مثال قائم کی ہے۔جس کی نقل بچہ کرتا ہے اور شاید اس لیے بھی کیونکہ جسمانی سزا بچہ کو غصہ ور اور آزردہ بنادیتی ہے،اور جیسے جیسے بچہ نمو پاتا ہے وہ اپنے اس غصہ کا اظہار جارح کردار کے ذریعہ کرتا ہے۔
4۔ احساس نامرادی:جارحیت احساس نامرادی کا نتیجہ اور ایک اظہار ہے،یعنی ایک جذباتی حالت جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شخص کواپنے مقصود تک یا کوئی شے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے سے روک دیا جائے وہ شخص مقصود سے بہت قریب ہو سکتا ہے لیکن اسے حاصل نہیں کرپاتا ہے۔ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ احساس نامرادی والے حالات میں لوگ ان لوگوں کے مقابلہ میں جن کے اندر احساس نامرادی نہیں ہے،زیادہ جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک امتحان میں جو احساس نامرادی کے اثرات کے جائزہ کے لیے کیا گیا تھا،بچوں کو کچھ پرکشش کھلونے جو ایک اسکرین کے ذریعہ دکھائی دیتے تھے،حاصل کرنے سے روک دیا گیا تھا اس کے نتیجہ میں بچوں کو کھیل کے اندر،ان بچوں کے مقابلہ میں جنھیں کھلونوں کو حاصل کرنے دیا گیا تھا،زیادہ تخریب کار پایا گیا۔
ایک امریکن ماہرنفسیات ،جان ڈولارڈ نے اپنے ہم کاروں کے ساتھ احساس نامرادی اورجارحیت کے نظریہ کے معائنہ کے لیے مخصوص طور پر ایک تحقیق کی اور یہ نظریہ تجویز کیا کہ احساس نامرادی جارحیت کی جانب لے جاتا ہے۔توقع کے مطابق احساس نامرادی میں مبتلا لوگ اس میں مبتلا نہ ہوئے اورلوگوں کے موازنہ میں زیادہ جارحیت کا مظاہرہ کیا۔مزید برآں، جارحیت مظاہرہ اکثر وبیشتر کمزور اشخاص ،جو کہ جارحیت کے رد عمل کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔کی جانب کیاگیا۔ یہ مظہر بے عملی کہلاتا ہے۔ اکثرو بیشتر یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ سماج میں اکثر گروہ کسی اقلیتی گروہ کے خلاف متعصب ہو سکتا ہے،اور کسی اقلیتی گروہ کی جانب جارح کردار کا مظاہرہ کرسکتا ہے،جیسے بے ہودہ یافحش زبان کا استعمال اقلیتی گروہ کے رکن پر جسمانی حملہ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ احساس نامرادی کی و جہ سے پیدا جارحیت کی ایک مہمل صورت بھی ہوسکتی ہے۔
بعد میں جیسے جیسے جارحیت کی وجوہات کے بارے میں مزید معلومات جمع ہوتی گئیں،یہ مزید واضح ہوتا گیا کہ احساس نامرادی ہی صرف جارحیت کی ایک اہم و جہ نہیں ہے۔مشاہدات میں پایاگیا کہ(i) نامرادی ضروری نہیں ہے کہ کسی شخص کو جارح بھی بنادے،اور (ii) دیگربہت سے موقفی عوامل جارحیت کی جانب لے جاسکتے ہیں۔ ان موقفی عوامل میں چند کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔
� آموزش: انسانوں کے اندرجارحیت پیدائشی یا خلقی رجحان کے اظہار کے بجائے زیادہ ترآموزش کانتیجہ ہوتی ہے۔جارحیت کی آموزش ایک سے زیادہ طرزوں میں ہوسکتی ہے۔ افراد جارحیت اس لیے دکھاسکتے ہیں کیونکہ انھوں نے اسے انعام بخشنے والا پایا ہے۔ (مثال کے طورپر معاندانہ جارحیت سے جارح شخص کو وہ شے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے مل جاتی ہے) یہ براہِ راست تقویت کے ذریعہ آموزش کی ایک حالت ہوگی،افراد دوسرے لوگوں کو جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھ کر بھی جارح ہونے کی آموزش کرسکتے ہیں۔یہ ماڈلنگ کے ذریعہ آموزش کہلاتی ہے۔
� کسی جارح ماڈل کا مشاہدہ کرکے: ماہرین نفسیات کے ذریعہ انجام دیے گئے تحقیقاتی مطالعات جیسے البرٹ بنڈورا اور اس کے ہم کار سے جارحیت کی آموزش میںماڈلنگ کے رول کا پتہ چلا۔ اگر کوئی بچہ ٹیلی ویژن پر جارحیت اور تشدد کامشاہدہ کرتا ہے،تو وہ اس کردار کی نقل کرنا شروع کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ٹیلی ویژن اور سنیما میں دکھائی گئی جارحیت دیکھنے والوں خاص طور پر بچوں پر طاقتور اثر ڈالتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ: کیا صرف ٹیلی ویژن پر تشدد کے مشاہدہ سے ہی ایک شخص جارح بن سکتا ہے؟ یا کیا دیگر موقفی عوامل بھی ہیں جو درحقیقت کسی شخص سے جارحیت کا اظہار کراتے ہیں؟ اس کا جواب مخصوص موقفی عوامل کے بارے میں معلومات کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔
دوسروں کے ذریعہ غصہ دلانے والے افعال: اگر کوئی شخص ایک سنیما دیکھتا ہے جو تشدد کو دکھاتا ہے ،اور تب اس کے اندر کسی دوسرے شخص کے ذریعہ غصہ کے احساس پیدا کردیے جاتے ہیں (مثلا بے عزتی،دھمکی ،جسمانی جارحیت یابے ایمانی کے ذریعہ)، اس وقت اس کے اندر جارحیت،اگر اسے غصہ کا احساس نہ دلا یا گیا ہو،کے موازنہ میں زیادہ ہوجاتی ہے۔ احساس نامرادی اورجارحیت نظریہ کی جانچ کے لیے کی گئی تحقیقات میں فرد کو اشتعال دلانا اور اسے غصہ دلا نا جارحیت پر آمادہ کرنے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔
� جارحیت کے اسلحوں کی دستیابی:کچھ تحقیقات میں پایا گیا ہے کہ جارحیت کے مشاہدہ سے مشاہدکے اندر جارحیت میں مزید اضافہ ہو سکتاہے اگر اسے جارحیت کے اسلحے جیسے چھڑی،پستول یا چاقو بآسانی دستیاب ہوں۔
باکس 8.2
مہاتماگاندھی : عدم تشدد کیوں کام کرتا ہے؟
عدم تشدد اعلیٰ ترتیب کی ایک فعال طاقت ہے۔ یہ ایک روحانی طاقت یا ہمارے اندر خدائی طاقت ہے۔نامکمل انسان اس کے پورے جوہر کو گرفت نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی مکمل تابناکی کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوسکتا ہے،لیکن اس کا حددرجہ چھوٹا حصہ بھی جب ہمارے اندر فعال ہوجاتا ہے تو حیرت انگیز طور پر کام کر سکتا ہے۔
میں کوئی خیال پرست نہیں ہوں،میں ایک عملی اصول پرست ہوں عدم تشدد کا مذہب صرف رشیوں یا ولیوں کے لیے نہیں ہے،یہ عام لوگوں کے لیے بھی ہے۔عدم تشدد ہمارے انواع کا ایک قانون ہے جیسے کہ تشدد حیوانیت کا قانو ن ہے۔آدمی کا وقار ایک اعلیٰ ترقانون کی اطاعت چاہتا ہے۔روح کی طاقت کے لیے عدم تشدد کو کسی خارجی یا باہری تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس میں صرف بدلہ میں بھی کسی کو نہ مارنے کے عزم اور بغیر انتقام موت کا سامنا کرنے کی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہنسا پر وعظ نہیں ہے لیکن سرد و جہ اور عالمی قانو ن کا بیان ہے۔ قانون میں نہ ختم ہونے والادیا گیا یقین،کوئی بھی اشتعال انگیزی برداشت کی مشق کے لیے بہت زیادہ ثابت نہیں ہونی چاہیے۔
اہنسا (عدم تشدد) کے ساتھ مشترک ستیہ (سچائی)کے ساتھ آپ دنیا کو اپنے قدموں میں لاسکتے ہیں۔ستیہ گرہ اپنے جو ہر یا اہلیت میں کچھ نہیں ہے بلکہ سیاسی یعنی قومی زندگی میں سچائی اور شرافت کا متعارف ہوتا ہے…لیکن مستقبل قریب میں عدم تشدد اختیار حاصل نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی یہ اس کا مقصد ہوسکتا ہے تاہم ،عدم تشدد اس سے زیادہ کرسکتا ہے۔ یہ موثر طور پر اختیار کا کنٹرول اور رہنمائی ،سرکاری مشینری پر قبضہ جمائے بغیر ،کرسکتا ہے۔یہی اس کا حسن ہے۔
شخصی عوامل:لوگوں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ جو طبیعی طور پر زیادہ گرم مزاج ہوتے ہیں دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جارحیت اس طرح سے ایک شخصی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں میں وقار نفس کم ہوتاہے اور عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں وہ اپنی حمایت کے لیے جارحیت والے کردار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سے وہ لوگ جن کے اندر وقار نفس بہت زیادہ ہوتا ہے وہ بھی جارحیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ انھیں اس اعلیٰ سطح پر نہیں دیکھتے ہیں جس پر وہ دوسروں کو رکھے ہوئے ہیں۔
ً� ثقافتی عوامل:ثقافت جس کے اندر کوئی شخص نمو پاتا ہے اپنے ارکان کو جارح ہونے یا نہ ہونے کے لیے جارح کردار کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرنے کے ذریعہ ،یا اس طرح کے کردار کی تنقیدیا حوصلہ شکنی کے ذریعہ ،سکھا سکتا ہے، کچھ قبائلی برادریاں (کمیونٹی) روایتی طور پر امن پسند ہوتی ہیں،جب کہ دیگر کمیونٹی جارحیت کو بقا کے لیے ضروری مانتی ہیں۔
جارحیت اور تشدد میں تخفیف: چند حکمت عملیاں
اس سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ جارحیت کی ایک سے زیادہ وجوہات ہو سکتی ہیں،کیا سماج کے اندر جارحیت اور تشدد کو کم کرنے کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے؟ جارحیت اور تشدد کو ختم کرنے کے لیے کچھ تجویزوں کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔کسی ایسے سماج یا ماحول کوجو کہ احساس نامرادی کے موقفوں سے آزاد ہو کو یقینی بنانا آسان نہیں ہے۔ تاہم جارحیت کی آموزش کو بڑھ رہے جارحیت کے عمومی مسئلہ کی جانب مناسب رویہ کی تخلیق کے ذریعہ کم کیا جا سکتا ہے۔
� والدین اور اساتذہ کو مخصوص طور پر ہو شیاری برتنی چاہیے کہ وہ جارحیت کی کسی شکل میں حوصلہ افزائی نہ کریں۔ ڈسپلن لانے کے لیے سزا کے استعمال کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
�جارح ماڈلوں کے کردار کا مشاہدہ کرنے اور ان کی نقل کرنے کے مواقع کو بالکل کم کیا جانا چاہیے۔جارحیت کو ایک ہیرو کے کردار میںپیش کرنے سے خاص طور پر احتراز کرنا چاہیے،کیونکہ اس کے مشاہدہ کے ذریعہ آموزش کے لیے اسٹیج تیار ہو سکتا ہے۔
� غربت اور سماجی نا انصافی جارحیت کی نمایاں و جہ ہو سکتی ہے،کیونکہ ان کی و جہ سے سماج کے کچھ صیغوں میں احساس نامرادی پیدا ہو سکتا ہے۔سماجی انصاف اور مساوات کو عمل میں لا نے سے سماج میں نامرادی کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے جو انجام کار کم از کم کچھ سیاق میں جارحیت کو ختم کرسکتی ہے۔
� کمیونٹی یا سماج کی سطح پر کی جانے والی ان حکمت عملیوں کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ امن کی جانب ایک مثبت رویہ کو خوب ذہن نشین کرایا جائے۔ہمیں صرف جارحیت کو کم کرنا نہیں ہے بلکہ امن برقرار رکھنے اور اس کی نشو ونما بھی فعالی طور پر کرنی ہے۔ہمارے اپنے ثقافتی اقدار نے ہمیشہ پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کی جانبداری کی ہے۔ہمارے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے دنیا کو امن کا ایک نیا نظریہ دیا جو صرف جارحیت کی عدم موجودگی نہیں تھا۔ یہ خیال عدم تشدد کا تھا،جس پرانھوں نے خود تا عمر عمل کیا (دیکھیے باکس8.2)
صحت
حالیہ برسوں میں صحت اور فلاح و بہبود کے بارے میں ہماری تفہیم میں اہم تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ اب تسلیم کیا جاتا ہے کہ مختلف صحت کے نتائج صرف امراض کا تفاعل نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تفکیر اور کردار کا تفاعل ہے۔یہ عالمی صحت تنظیم(ڈبلیو ۔ایچ ۔او)کے ذریعہ مہیا کی گئی صحت کی تعریف میں منعکس ہوتی ہے،جو صحت کے حیاتیاتی،نفسیاتی اور سماجی رخوں کو شامل کرتی ہے۔یہ صحت کے صرف جسمانی رخ پر ہی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی رخوں پر بھی ارتکاز کرتی ہے۔اس صیغہ میں جسمانی صحت کے ساتھ ہمارا خود کا تعلق اسی طرح ہوگا جیسا کہ گذشتہ باب میں آپ نے ذہنی صحت کے بارے میں مطالعہ کیا ہے۔
صحت اور بیماری یا علالت درجہ بندی کا ایک معاملہ ہے۔کوئی شخص کسی جسمانی معذور ی کی بیماری میں مبتلا ہے،لیکن وہ دوسرے معنوں میں بالکل صحت مند ہو سکتا ہے۔آپ بابا آمٹے اور اسٹیفین ہاکنس کا نام لے سکتے ہیں،یہ دونوں اشخاص لنگڑے پن کی بیماری میں مبتلا تھے لیکن اپنے اپنے میدانوں میں اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف ثقافتوں کے اندر لوگوں کی تفکیر کہ لوگ کب اور کیوں بیمار ہوتے ہیں،یہیں امراض کے انسداد اور صحت کے فروغ کے ان کے ذریعہ استعمال کیے گئے ماڈلوں کے بارے میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔کچھ روایتی ثقافتیں مثلا چینی ،ہندوستانی اور لاطینی امریکی یہ مانتی ہیں کہ عمدہ صحت جسم کے مختلف اجزاکے ہم آہنگ تو ازن کا نتیجہ ہوتی ہے،اور جب یہ توازن ختم ہو جاتا ہے تو خراب صحت اس کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس کے برعکس ،مغربی ثقافتیں صحت کو ایک بھرپورتفاعلی مشین جس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے ،کے نتیجہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔مختلف ثقافتوں میں ادویات کے مختلف نظام نشو و نما پاتے ہیں۔جو کہ انھیں ماڈلوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایک اور حقیقت ہے جس سے آپ کو واقف ہو نا چاہیے۔ڈبلیو۔ ایچ۔او کی عالمی صحت رپورٹ بتاتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک جیسے ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں متعدی بیماریاں بشمول ایچ ۔آئی وی/ایڈز ،ٹیوبر کو لیسس (ٹی بی)ملیریا،تنفسی متعدی مرض سے زیادہ لوگوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں مختلف قلبی عرقی بیماریاں،کینسر اور امراض نفسی اختلال اس کی نمایاں وجوہات ہیں۔اس طرح کے اختلافات کی تشریح کہ یہ سماج اقتصادی طور پر سماجی طور پر کس طرح ساخت شدہ نہیں اور ان کی نفسیاتی وابستہ امیدوں کی اصطلاح میں کی گئی ہے۔
انفرادی سطح پر ،ماہرین نفسیات نے مختلف عوامل جیسے صحت سے متعلق وقوف بشمول رویہ اور عقائد،کردار اور سماجی عوامل جو جسمانی فلاح و بہبود اور بیماری کے ساتھ مربوط ہیں؛ کی نشاندہی کی ہے۔
(a)وقوف :آپ نے یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ ڈاکٹر کی مدد لینے میں لوگ کس طرح جلدی کرتے ہیں اور جب کہ کچھ لوگ اس طرح کی علامات جیسے متلی ،زکام، اسہال،چیچک وغیرہ میں بھی مدد نہیں لیتے ہیں۔مدد لینے میں تغیرات مرض اس کی شدت اور بیماری کی وجوہات سے متعلق بنی لوگوں کی ذہنی نمائندگیوں میں اختلافات کی و جہ سے ہوتے ہیں۔کوئی شخص زکام کے لیے ڈاکٹر کی مدد نہیں لے سکتا ہے اگر وہ اسے دہی کے کھانے سے موصوف کرتا ہے۔یا جذام یا چھوٹی چیچک کے لیے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا ہے اگر وہ اسے خدا کی ناراضگی سے موصوف کرتا ہے۔
امراض کے بارے میں بیداری یا معلومات کی سطح،اور اس کی و جہ کے بارے میں عقائد،تکلیف سے نجات حاصل کرنے یا صحت کو فروغ دینے کے ممکنہ طریقے کے بارے میں عقائد ہماری مدد لینے والے کردار اور ڈاکٹر کے مشور ہ پر عمل کرنے یا اس پر ڈٹے رہنے کومتاثر کرتا ہے۔ اور مزید عوامل جو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرنے والے ہمارے کردار کو متاثر کرتا ہے وہ درد کا ادراک ہے،جو شخصیت ،تشویش اور سماجی معیارات کا ایک تعامل ہے۔
(b) کردار: ماہرین نفسیات نے اس بات کے بہت پختہ ثبوت حاصل کیے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کردار جس میں ہم مشغول ہوتے ہیں،اور ہمارے طرزِحیات صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔سگریٹ نوشی یا تمباکو کا استعمال،شراب اور نشیلی ادویات کا غلط استعمال اور غیر محفوظ جنسی کردار، غذا اور جسمانی کثرت کی اصطلاح میں ایسے کرداری جو کھم والے عوامل میں لوگوں کے اندر بہت زیادہ فرق پا یا جاتا ہے۔ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اس طرح کے کردار کا تعلق امراض قلب ،کینسر ،ایچ آئی وی ایڈز کے علاوہ دیگر امراض سے بھی ہوتا ہے۔ ایک نئی علمی شاخ جسے کرداری ادویہ کہا جاتا ہے، ظہور میں آئی ہے جو کردار میں اصلاح یا ترمیم کے ذریعہ امراض کی و جہ سے پیدا ہوئے دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
(c)سماجی اور ثقافتی عوامل: بہت سی تحقیقات میں یہ پایا گیا ہے کہ سماجی اور ثقافتی اختلافات ہمارے جسمانی عوامی عملوں کو متاثر کرسکتے ہیں اور یہ تمام ثقافتوں کے اندر یکساں نہیں ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر دشمنی، غصہ اور امراض قلب کے مابین تعلق تمام ثقافتوں (جیسے ہندوستا ن اور چین) میں یکساں نہیں پایا گیا ہے۔بہرحال ثقافت اور جسمانی جوابی عوامل کے مابین تعامل کو ابھی اور ثبوت کی ضرورت ہے۔تاہم سماجی اور ثقافتی معیارات جو رول اور جنس وغیرہ کے ساتھ اختلاف شدہ ہیں،ہمارے صحت کے کردار بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ہندوستانی سماج میں کسی مونث کے لیے یا کسی مونث کے ذریعہ دیے گئے طبعی مشوروں کو مختلف وجوہات جیسے ان کی قدرکم ہونی ہے۔یا اس یقین یا عقیدہ کی و جہ سے کہ وہ جفاکش ہیں یا بیماری کے ساتھ وابستہ شرم کی و جہ سے ،میں تاخیر کی جاتی ہے۔
کردار پر ٹیلی ویژن کا اثر
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ٹیلی ویژن تکنیکی ترقی کی ایک مفید اپج ہے۔تاہم، انسانوں پر اس کے نفسیاتی اثر کے نقطۂ نظر سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔بہت سے تحقیقی مطالعات میں وقوفی عمل کا ریوں اور سماجی کردار پر ٹیلی ویژن دیکھنے کے اثرات کا جائزہ خاص طور پر مغربی ثقافتوں میں لیا گیا ہے۔ ان کے نتائج ایک مرکب اثر کو دکھاتے ہیں۔زیادہ تر تحقیقی مطالعے بچوں پر کیے گئے ہیں کیونکہ وہ بالغوں کے مقابلہ میں ٹیلی ویژن کے اثرات کے زیادہ ہدف بننے والے ہوتے ہیں۔
اول ،ٹیلی ویژن ایک پر کشش شکل میں بہت زیادہ مقدار میں اہم معلومات بصارتی طرز میں مہیا کرتا ہے۔جس سے یہ تعلیم کا ایک طاقتور ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ چونکہ پروگرام پر کشش ہوتے ہیں اس لیے بچے انھیں دیکھنے میں بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔یہ ان کے مطالعہ اور تحریر کی عادت کو کم کردیتی ہے اور ان کی گھر سے باہر کی کارکردگیاں جیسے کھیلنا وغیرہ کم ہوجاتی ہیں۔
دوئم،ٹیلی ویژن کے مشاہدہ سے بچوں کی کسی ایک مقصدپر ارتکاز کرنے کی قابلیت،ان کی تخلیقیت اور تفہیم کی قابلیت اور ان کے سماجی تعامل پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایک جانب،ایسے عمدہ پروگرام ہیں جو مثبت بین شخصی رویّوں پر زور دیتے ہیں اور مفید حقائق پر مبنی معلومات مہیا کراتے ہیں ،بچوں کو سکھاتے ہیں کہ مخصوص اشیاکو کیسے ڈیزائن اور ساخت کیاجائے۔ دوسری جانب یہ پروگرام دیکھنے والے کم عمر کے لوگوں میں اختلال کا سبب ہوسکتے ہیں اور مقصد پر ارتکاز کرنے کی ان کی قابلیت کے ساتھ مداخلت کرسکتے ہیں۔
سوئم ،تقریبا چالیس سال قبل یو ایس اے اور کناڈا میں ٹیلی ویژن دیکھنے والوں بالخصوص بچوں میں جارحیت اور تشدد پر ٹیلی ویژن کے دیکھنے کے اثر کے بارے میں ایک سنجیدہ مباحثہ ہوا تھا جیسا کہ اس سے قبل جارحیت کے سیاق میں بحث کی جاچکی ہے کہ تحقیق کے نتائج سے یہ واضح ہوا ہے کہ ٹیلی ویژن پر تشد د کے مشاہدہ کا تعلق مشاہد کے اندر زیادہ جارحیت سے پایا گیا ہے۔ اگر مشاہد بچے تھے اور وہ جو بھی انھوں نے دیکھا ہے اس کی نقل کررہے ہوتے تھے،ان میں اتنی زیادہ پختگی نہیں تھی کہ وہ ایسے کردار کے نتائج کو سوچ سکیں۔تاہم کچھ دیگر مطالعات نے نشاندہی کی ہے کہ صرف ٹیلی ویژن پر تشدد دیکھنے سے ہی بچے زیادہ جارح نہیں ہوتی ہیں۔موقف پر دیگر عوامل کی موجودگی بھی ضروری ہوتی ہے۔ دیگر تحقیقی نتائج سے ظاہر ہوتاہے کہ تشدد کے مشاہدہ سے مشاہد طبعی جارح رجحان درحقیقت کم ہو سکتے ہیں جو چیز بوتل کے اندر بند ہے وہ باہر نکل جاتی ہے اور اس طرح سے نظام کی صفائی ہوجاتی ہے،جیسے پھنساہوا بند پانی کا پائپ صاف ہوگیا ہویہ عمل کاری تنقیمہ کہلاتی ہے۔
چہارم: بالغوں اور اس کے ساتھ بچوں کے اندر کہا جاتا ہے کہ صارفیت کا رویہ نشو نما پا چکا ہے اور یہ صرف ٹیلی ویژن کے مشاہدہ سے ہوا ہے۔ ٹیلی ویژن پر بہت سی مصنوعات کو مشتہر کیا جاتا ہے اور مشاہد کے لیے یہ فطری بات ہے کہ اس کے ساتھ جائیں۔
ان نتائج کی وضاحت کیسے کی جاتی ہے،اس سے صرف نظرکرتے ہوئے اس بات کے کافی ثبوت دکھتے ہیں کہ لامحدود طورپر ٹیلی ویژن کا مشاہدہ خطرناک ہوتا ہے۔
سرگرمی 8.4
گذشتہ ایک ہفتہ میں ٹیلی ویژن کے مشاہدہ کے ذریعہ جو بھی الگ الگ معلومات آپ نے حاصل کی ہیں ان تمام کی ایک فہرست تیارکیجیے،اور مند رجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیے ۔
آپ کس شو کو دیکھے ہیں؟
معلومات کی کون سی مد کردار کی ایک مثبت شکل کی نشاندہی کرتی ہے،اور کون سی منفی شکل کی نشاندہی کرتی ہے۔
کلیدی اصطلاحات
جارحیت ،ہواکی آلودگی،ترسیلی بیماریاں،مقابلہ جاتی بردباری،ہجومی بردباری،ہجومیت ،آفت،بے محلی ماحولیات ،ماحولیاتی نفسیات،آلائی تناظر،ماڈلنگ،شور، امن،شخصی امن،طبیعی ماحول،بعد صدمہ دباؤ اختلاج،غربت کاخاتمہ،غربت ،ماحول،موافق کردار،تاثیرذات،سماجی ماحول ،روحانی تناظر ،کاروباری طرزِفکر۔
خلاصہ
• بڑھتی ہوئی آبادی،تیز صنعت کاری اور انسانی اخراجات یا خرچ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے طبیعی ماحول سے تجدید کے قابل اور تجدید کے ناقابل وسائل ہم لیتے ہیں۔ناپسندیدہ انسانی افعال نے ماحول کے اندر حالات کو بدل دیا ہے جس کے نتیجہ میں آلودگی،شور، ہجومیت اور قدرتی آفات کے واقعات زیادہ ہوگئے ہیں۔
• ماحولیاتی بحران اور ان کے حل کو کاروباری اور رسمی ہندوستانی طرز نظر کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔
• آلودگی ہماری ذہنی اورجسمانی صحت اور نفسیاتی عمل کاریوں پر مخالفت برعکس اثرات مرتب کرتی ہے۔
•شور بھی ہماری تفکیر،حافظہ اور آموزش پر نامساعد اثرات ڈالتا ہے۔ اونچی آواز کی سطح مستقل سماعت کے خاتمہ ،دل کی دھڑکن میں اضافہ بلڈ پریشر اور عضلاتی تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
• ہجومیت زیادہ مکان کی دستیابی نہ ہونے کا ایک نفسیاتی احساس ہے۔ہجومیت وقوفی کارگزاری،بین شخصی تعلقات اور جسمانی وذہنی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔
• ایک قدرتی آفت کسی سماج کے اندر نارمل حالت کو منتشر کردیتی ہے اور نقصان،تخریب اور انسانی تکلیف کی وجہ بن جاتی ہے۔کسی آفت کے ختم ہوجانے کے بعد کے اثرات میں بعد صدمہ دباؤ کے اختلاج سب سے زیادہ عام خصوصیت ہے ۔آفت سے متاثر لوگوں کی صلاح کاری اور اجتماعی افعال کے لیے امکان کی تخلیق سے ایسے دباؤمیں کمی واقع ہو سکتی ہے افراد اور کمیونٹی تیزی کے ساتھ اور موثر طریقہ سے ممکنہ آفت کے لیے جوابی عمل کی تیاری سے ناموافق اثرات کم کیے جاسکتے ہیں۔
• ماحول موافق کردار میں افعال جو ماحول کو مسائل سے محفوظ رکھنے کے مقصد سے ہوتے ہیں اور ایک صحت مند ماحول کا فروغ،دونوں شامل ہیں۔
• سماجی اور نفسیاتی واسطے تشویش انگیز مسائل جو کسی سماج میں بہت زیادہ تعداد میں لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں،کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔
• ادنٰی یا کم اقتصادی حالت کا لازمی نتیجہ غربت ہے۔ اس کا تعلق محرومی اور ناموافق صورت حال سے ہے۔ یہ وقوفی کارگزاری، شخصیت اور سماجی کردار پر برخلاف اثر ڈالتی ہے۔غریبوں کی سماجی اور اقتصادی مختاریت کے لیے بہت سے پروگرام عمل میں لائے جارہے ہیں۔
• جارحیت اور تشدد آج کے سماج کے اہم مسائل میں سے ہیں۔جارحیت کی آموزش کو بڑھتی ہوئی جارحیت کے عمومی مسئلہ کی جانب مناسب رویہ تخلیق کرکے رد کیا جا سکتا ہے۔
صحت مکمل جسمانی،ذہنی اور سماجی فلاح و بہبود کی ایک حالت ہے قوم کے سامنے ترسیلی بیماریوں جیسے،اسہال،ٹیوبر کو لیسس(ٹی بی)اور ایچ آئی وی/ایڈز اور غیر ترسیلی بیماریاں جیسے انیمیا، کینسر، ڈائبیٹس(شوگر کی بیماری) اور دباؤ سے متعلق خلل کو کم کرنے کا چیلنج ہے۔مثبت طرزِ حیات کی عادتیں مثبت جذبات ،جسمانی موزونیت اور صحت کے مسائل میں کمی کی ترغیب دیتی ہیں۔
• ٹیلی ویژن دیکھنے کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات انسانی کردار پرپائے گئے ہیں۔زیادہ تر تحقیقی مطالعے بچوں پر ہی کیے گئے ہیں کیوں کہ وہ بالغوں کے مقابلہ میں ٹیلی ویژن کے اثرات کے نشانہ پر زیادہ ہوتے دیکھے گئے ہیں۔
اعادہ کے سوالات
1۔ ماحولیات کی اصطلاح سے آپ کیا مطلب سمجھتے ہیں؟ انسان اور ماحولیات کے مابین رشتوں کے مختلف طرز فکر کی تشریح کیجیے۔
2۔ ’’انسان ماحولیات پر اثر انداز ہوتے ہیں یا متأثر ہوتے ہیں۔‘‘اس بیان کی وضاحت مثالوں کی عدد سے کیجیے۔
3۔ شور کیا ہے؟ انسانی بر تاؤ پر شور کے اثرات بیان کیجیے۔
4۔ بھیڑ کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں؟ بھیڑ کے بڑے نفسیاتی اثرات کی وضاحت کیجیے۔
5۔ انسانوں کے لیے ’ذاتی جگہ ‘کا نظریہ کیوں اہم ہے؟ ایک مثال دے کر اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
6۔ لفظ ’قدرتی بربادی ‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ خطرناک بربادی سے پہلے اس کے پیدا ہونے والے اثرات کو بیان کیجیے؟ ان کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟
7۔ ماحول دوستانہ رویّہ کیا ہے؟ ماحول کو آلودگی سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ کچھ ترکیبیں تجویز کیجیے۔
8۔ غریبی کس طرح بھید بھاؤ سے متعلق ہے؟ غریبی و محرومی کے ذھنی اثرات کو بیان کیجیے؟
9۔ با مقصد جارحیت اور معاندانہ جارحیت میں فرق واضح کیجیے؟ جارحیت اور تشدد کو کم کرنے کی کچھ تدابیر تجویز کیجیے۔
10۔ انسانی برتاؤ پر ٹیلی ویژن دیکھنے کے نفسیاتی اثرات کو بیان کیجیے؟ اس کے برے اثرات پر کس طرح قابو پا یا جاسکتا ہے؟ بیان کیجیے۔
پروجیکٹ کی تجاویز
1۔ اپنے علاقہ کے 10 گھروں کا ایک سروے کیجیے۔ایک انٹرویو ضمیمہ تیارکیجیے اور ہر ایک گھر کے سردار سے ملاقات کیجیے اور ان سے پوچھیے کہ: آپ کن آلودگیوں کا تجربہ کرتے ہیں؟ آپ کے کنبہ کے ارکان کی صحت پر ان آلودگیوں میں سے ہر ایک کے کیا اثرات ہیں؟ معطیات کو مختصر کیجیے صحت کے اثرات کو بیماروں کے جسمانی اور ذہنی علامات میں تقسیم کریں۔اور ایک رپورٹ تیار کریں اور آلودگی کس طرح ختم کی جاسکتی ہے اس پر مشورے دیجیے۔
2۔ اپنے علاقہ میں 20 عمر دراز لوگوں پر ایک سروے کیجیے ۔ ان کے سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے کیجیے۔سماجی مسائل کی ایک فہرست تیارکیجیے،اور ’’4×4‘‘کے کارڈوں پر انھیں تحریرکیجیے۔ہر ایک عمردراز شخص سے درخواست کیجیے کہ کارڈوں کو ترجیح کے حساب سے سب سے اہم سماجی مسئلہ کو پہلے اور سب سے کم اہم سماجی مسئلہ کو آخرمیں رکھتے ہوئے ترتیب دیں اپنے ضمیمہ میں ہر ایک مسئلہ کے مقام کو درج کیجیے اور کارڈ میں ترتیب مثلا ہر ایک مسئلہ کی وجوہات اور اصلاح کے بارے میںپوچھیے۔ایک رپورٹ تیار کیجیے اور اس پر اپنے استاذ کے ساتھ بحث کیجیے۔
ویب لنکس
http://library.thinkquest.org/25009/causes/causes/cycle.html
http://www.helpguide.org/mental/psychological_trauma.htm
http://www.news.cornell.edu/chronicle/99/2.18.99/crowding.html
http://joannecantor.com/montrealpap_fin.htm