Skip to content
Nafsiat-002


           باب  9

نفسیاتی مہارتوں کا فروغ 

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ :
◊  ماہرین نفسیات میں اعلیٰ قابلیت پیدا کرنے کی ضرورت کو سمجھ سکیں گے،
◊  مشاہداتی مہارت کے بنیادی پہلوؤں کو بیان کر سکیں گے،
ترسیل کی مہارت کو پیداکرنے کی اہمیت کو جان سکیں گے،
◊  انفرادی جائزہ کے لیے نفسیاتی جانچ کی مہارت کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے اور مشاورت کی نوعیت اور عمل کی وضاحت کرسکیں گے۔

تعارف

ایک با اثر ماہر نفسیات کا بننا

عام مہارتیں

دانشورانہ ذاتی ہنر مندی: حساسیت سے اختلاف تک
ذہنی اور ذاتی مہارتیں(باکس 9.1)

مشاہداتی ہنر مندی

مخصوص ہنر مندی

ترسیلی مہارتیں
  ترسیل کی خصوصیات (باکس 9.2)
اپنی سماعتی مہارت کو بہتر بنانے کی کچھ ترکیبیں (باکس 9.3)
نفسیاتی جانچ کا ہنر 
نفسیاتی تشخیص کی مہارت کے اہم نکات اور مسائل (باکس 9.4)

انٹرویو کی مہارتیں

انٹرویو کے سوالات کی  اقسام (باکس 9.5)

مشاورتی ہنر مندی


کلیدی اصطلاحات

خلاصہ 
اعادہ کے سوالات 
پروجیکٹ کی تجاویز
ویب لنکس 
تعلیماتی اشارات

تعارف

جیسا کہ آپ پچھلی جماعت میں پڑھ چکے ہیں کہ نفسیات کی شروعات ایک اطلاق رخی مضمون کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ نفسیاتی جانچ نفسیات میں کار گزاری کی ایک اہم مثال ہے۔ نفسیات ہماری زندگی سے متعلق مختلف سوالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک کامیاب انسان کے لیے کس طرح کی شخصیاتی بناوٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟ یا بارھویں کلاس میں پڑھنے والے ایک طالب علم کے لیے کس طرح کا پیشہ مناسب ہوگا؟ اسی طرح سے انسانیت سے متعلق دیگر سوالات و تجسس ہوتے ہیں جن کا جواب ما ہرین نفسیات سے پوچھا جاتا ہے۔ اطلاقی رخ سے متعلق نفسیات کے دو طرح کے تصورات ہیں: پہلا خدماتی رخ والا شعبۂ تعلیم اور دوسرا سائنسی طریقہ پر مبنی تحقیقی مضمون۔ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہوگا کہ کچھ خاص اجزا نفسیات کو اطلاقی یا استعمالی رخ کی حیثیت دینے میں مدد کرتے ہیں۔ اوّل، ماہرین نفسیات نے گزشتہ اور موجودہ  دونوں ہی دور میں کسی شخص ، گروپ ، تنظیم یا سماج کے بہت سارے مسائل کے حل کے لیے نفسیاتی اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی۔  جیسے ہی کوئی شخص یا سماج کسی مسئلہ سے رو برو ہوتا ہے، مسئلہ کچھ زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ ما ہرین  نفسیات نے اس کا ٹھوس حل نکالنے کی کوشش کی ہے مثلاً افسردگی کی فطرت میں تیزی سے اضافہ اور نوجوانوں میں خودکشی کی شرح ایساہی ایک میدان ہے جہاں نفسیاتی معلومات جو نوبالغی نمو کے لیے خاص ہے، کا استعمال ان واقعات کے ہونے کی سمجھ پیدا کرنے اور نوجوانوں کو ان کے شروعاتی مسائل کو حل کرنے میں مدد کرنے کی غرض سے کچھ مداخلتی طریقہ کی ایجاد کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ماہرین نفسیات کی مہارت کی قدر بازا روں میں بہت زیادہ ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں نفسیات کی مانگ اور مقبولیت ایک پیشہ کے طور پر کافی بڑھی ہے۔ سماج کے مختلف حلقوں نے نفسیاتی معلومات اور ان کی اصلی کارکردگی کو منظم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ اسے خاص طور سے فوج یا تعلیمی میدان میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں کہ کچھ ریاستوں میں اسکولوں کے لیے ایک تربیت یافتہ صلاح کار کا ہونا ضروری ہے انتظامیہ میں شمولیت اور تشخیص ملازم کے برتاؤ،کام کی جگہ پرتناؤ وغیرہ ، صحت سے متعلق مسائل اور آج کل کھیل کود سے بھی متعلق مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ماہرین نفسیات کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تقریباً زندگی کے سبھی شعبوں میں ماہر نفسیات کی مانگ سامنے آرہی ہے۔
نفسیات کے سبھی اطلاقی میدانوں میں انسانی فطرت اور مختلف ماحول میں ماہرین نفسیات کے کردار کے بارے میں بنیادی مفروضات پر عام اتفاق رائے ہے۔یہ عام تصور ہے کہ ما ہرین نفسیات کی دلچسپی لوگوں میں، ان کی صلاحیتوں میں اور ان کے مزاج میں ہے۔ کسی بھی حلقہ کے ما ہرین نفسیات کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی لوگوں میں دلچسپی ہو اور وہ معلومات کے ذریعہ لوگوں کی مدد کرنے میں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ آپ کسی مریض کے کوائف حاصل کرنے ان کے سماجی، تہذیبی ماحول، اس کی شخصیاتی تشخیص اور دیگر اہم پہلوؤں کی معلومات حاصل کرنے میں ما ہرین نفسیات کی گہری شمولیت کو دیکھ سکتے ہیں۔ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ مریض ایک خاص لفظ ہے جو عام طور سے طبّی اور مشاورتی  ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے۔ نفسیات میں مریض کا مطلب ایک فرد ،گروپ یا تنظیم سے ہو سکتا ہے جو ما ہرین نفسیات سے اپنے مسائل کے سلسلہ میں مدد یا رہنمائی چاہتا ہے۔
لفظ مہارتـ کی تعریف لیاقت،چستی اور پھرتی کے طور پر کی جاسکتی ہے جو تربیت اورتجربہ کے ذریعہ حاصل یا پیدا کی جاتی ہے۔ وبسٹر ڈکشنری نے اس کی تعریف ان خصوصیات کو رکھنے سے کی ہے جس کی ضرورت کچھ کرنے یا کچھ پانے میں ہوتی ہے۔
امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن (1973) نے مہارت جو کہ پیشہ ور ماہر نفسیات کے لیے ضروری ہے اس کی پہچان کے لیے جو ٹاسک فور س بنائی اس نے کم ازکم تین طرح کی مہارتوں کی سفارش کی جومندرجہ ذیل ہیں : انفرادی فرق کی تشخیص، طرزعمل میں تبدیلی کی مہارت اور مساوا تی رہنمائی سے متعلق مہارتیں۔ ان مہارتوں اور صلاحیتوں کی پہچان اوراستعمال سے اطلاقی نفسیات کی بنیاد اور مشق کو ایجابی مضبوطی ملی ہے۔ کس طرح کوئی شخص ایک پیشہ ور ماہر نفسیات بن سکتا ہے؟

ایک با اثر ماہر نفسیات کا بننا

زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح کے ماہر نفسیات ہیں ہم کبھی بھی ذہانت، احساس کمتری ،پہچان کی کمی، ذہنی رکاوٹ، رویہ، دباؤ، ترسیلی رکاوٹ و دیگر بہت سی اصطلاحات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ عام طور سے لوگ ان الفاظ کو مقبول تحریروں اورمیڈیا سے چن لیتے ہیں۔ انسانی برتاؤ کے بارے میں بہت سے عام فہم خیالات ہیں جنھیں لوگ اپنی زندگی میں قائم کر لیتے ہیں ۔انسانی برتاؤ میں باقاعدگی جن کا مشاہدہ ہمیں بار بارکرنے کے سبب ان کو رائج کرنے کا جواز مل جاتا ہے ۔ اس طرح کی روزمرہ کی غیر مکمل نفسیات اکثر مقصد حاصل کرنے سے قاصر ہوتی ہے اور کبھی کبھی تباہ کن بھی ثابت ہوتی ہے۔ اب ایک سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح نقلی اور اصلی ماہر ین نفسیات کے درمیان فرق کیا جائے اس کا جواب کچھ سوالات ان سے پوچھ کر حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی پس منظر، ادارہ سے منسلک ہونا اور خدماتی تجربات۔ بہر حال تربیت ایک محقق کی حیثیت سے ہوئی ہو اور مخصوص پیشہ ورانہ اقدار کو اپنایا گیا ہویہ زیادہ اہم بات ہے۔
اب یہ مان لیا گیا ہے کہ ماہر ین نفسیات کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے ذرائع کی معلومات ان کے  طریقۂ کار اور نظریات کی ضرورت نفسیاتی مہارت حاصل کرنے میں پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پیشہ ور ماہر نفسیات  مسئلہ کا حل سائنسی طریقہ سے کرتا ہے۔ وہ اپنے مسئلہ کو تجربہ گاہ میں لے جاتے ہیں یا مختلف مسائل کے حل کرنے کے لیے حلقہ جاتی مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ مسئلے  کا حل ریاضیاتی احتمال کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تب جا کر وہ کسی نفسیاتی طریقوں یا اصولوں پر پہنچ پاتے ہیں جس پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔
یہاں ایک دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ کچھ ماہر ین نفسیات کسی اصول کو مرتب کرنے یا جانچ کرنے کے لیے تحقیقات کیا کرتے ہیں جب کہ  دیگر کا تعلق ہماری روز مرہ کی زندگی اور  طرز عمل سے ہوتا ہے۔ ہمیںدونوں طرح کے ماہر نفسیات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمیں کچھ سائنسدانوں کی ضرورت اصولوں کو مرتب کرنے کے لیے پڑتی ہے جب کہ کچھ کی ضرورت انسانی مسائل کو حل کرنے کے لیے پڑتی ہے۔ ضروری ہے کہ ایک ماہر نفسیات میں تحقیقی ہنرمندی کے علاوہ ان کی ضروری صلاحیت اور حالات کی معلومات ہو۔ ماہرنفسیات کو ان کے حالات اور صلاحیت کے لیے بین الاقوامی طورپر پہچان ملتی ہے۔
تعلیم اور تربیت کے بعد پیشہ میں داخل ہونے کے لیے ایک ماہر نفسیات کو وسیع معلومات ہونی چاہئیں۔ یہ پیشہ ور،علما اور تحقیق کرنے والوں پر لاگو ہوتا ہے جن کے کاموں میں طلباسے ملنا، کاروبار، کارخانہ اور سماج سے رابطہ قائم کرناشامل ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم نفسیات جیسے مضمون کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کو ناپنا، لاگوکرنا اور پیدا کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ اس کی پہچان ، اندازہ لگانے اور جانچ کی شرائط پر عام اتفاق رائے نہیں ہو سکتا ہے۔
بنیادی صلاحیت اور مہارت جس کی پہچان ماہر ین نفسیات نے ایک با اثر ماہرنفسیات ہونے کے لیے کی ہے اسے تین بڑے حلقوں میں بانٹا ہے ۔ (a) عام مہارتیں (b)مشاہداتی مہارتیں (c) مخصوص مہارتیں۔ انھیں یہاں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

عام مہارتیں 

ایسی مہارتیں عام نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان کی  ضرورت سبھی ماہرین نفسیات کو ہوتی ہے،چاہے وہ کسی بھی حلقہ میں ماہر ہوں۔یہ مہارت سبھی پیشہ ور ماہرین نفسیات کے لیے ضروری ہے چاہے وہ طبی اورصحت کے حلقہ میں ہوں،کارخانوں میں، تنظیموں میں، سماج میں، تعلیم میں یاکسی ماحولیاتی ڈھانچے میں ہوںیا ایک مشیر کی حیثیت سے کام کررہے ہوں۔ اس طرح کی مہارت میں ذاتی اور علمی ہنر مندی شامل ہوتی ہے ۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ جن طلبامیں اس طرح کی ہنر مندی کی کمی ہے انھیں کسی طرح کی پیشہ ورانہ تربیت (طبی یا تنظیمی میدانوں میں) دینا مناسب نہیں ہے جب کسی طالب علم میں اس طرح کی مہارت پائی جاتی ہےتبھی اس میدان میں تربیت دی جاتی ہے جو اس کی ہنر مندی میں بہتری لاتی ہے جو کہ ایک پیشہ ور کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح کی ہنر مندی کی کچھ مثالیں باکس 9.1 میں دی گئی ہیں ۔

مشاہداتی ہنر مندی 

ماہرین نفسیات محققین اور معالج کی حیثیت سے جو عمل کرتے ہیں وہ ہیں : پوری توجہ دینا ،نظر رکھنا اور بغور سننا ۔ان سبھی جسمانی حواس کا استعمال کرتے ہیں، جن کے ذریعہ ،دیکھنے ،سننے ،بو ،ذائقہ یا لمس پر غور کیا جائے گا۔ اس طرح ماہر نفسیات آلۂ کار کی طرح ہوتا ہے جو ماحول سے متعلق معلومات کے سبھی ذرائع کا انجذاب کرتا ہے۔ آپ مشاہدے کے بارے میں گیارھویں جماعت میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ اس سال ہم مشاہداتی مہارتوں کے فروغ پر زیادہ توجہ دیں گے۔
ایک ماہر نفسیات ماحول کے مختلف پہلوؤں کا مشاہدہ کرنے میں مصروف رہتا ہے جس میں مختلف واقعات شامل ہیں۔ شروع میں ایک ماہر نفسیات طبعی ماحول کی پوری توجہ کے ساتھ جانچ پڑتال کرنے کی شروعات کر سکتا ہے تاکہ اس کی کیفیت کے یا گردو پیش کے ماحول کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکے۔ وہ فرش کے رنگ، چھت کے رنگ، کھڑکی کے سائز، دروازہ کے سائز، روشنی کی قسم، صناعی،مصوری،مجسمہ سازی وغیرہ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ یہ سبھی چھوٹے ،نازک اور بے ربط سے دکھائی دینے والے اشارات انسانی طرز عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ ایک ماہر نفسیات گردو پیش کے ان اشاروں پر غور کرتا ہے۔ طبعی ماحول کے علاوہ ایک ماہر نفسیات لوگوں اور ان کے افعال کے مشاہدے میں بھی سرگرمی کے ساتھ مصروف رہتا ہے۔ اس میں آبادیاتی خصوصیات (عمر، جنس، قدو قامت، ذات ، نسل وغیرہ) دوسروں سے بات چیت اور معاملات، دوسروں کے سامنے برتاؤ کا انداز وغیرہ شامل ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ان تفصیلات کا ریکارڈ رکھتا ہے کیونکہ مشاہدے کے دوران کچھ اہم باتیں سامنے آسکتی ہیں۔ مشاہدہ کے عمل میں درج ذیل نکات پر توجہ دی جاتی ہے:

بکس 9.1

ذہنی وذاتی مہارتیں 

1۔   ذہنی مہارتیں:سننے کی صلاحیت و ہمدردانہ تعلقات، دوسروں کی تہذیب ،تجربات، اقدار، نقطۂ نظر، مقاصد اور خواہشات، خوف ،معلومات حاصل کرنے کے لیے کھلا پن وغیرہ کی قدر کرنا اور اس میں دلچسپی دکھانا۔ اس طرح کی ہنر مندی کا اظہار زبانی طور پر ہوتا ہے۔

  2۔  وقوفی مہارتیں: مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت تنقیدی سوچ ، منظم فکر میں مبتلا ہونا ،جستجو اور لچیلا پن کا ہونا۔

3۔  احساسی مہارت: جذبات پر قابو ،توازن، برداشتگی، اپنی اخلاقیات کی سمجھ غیر طے شدہ شبہ کی برداشتگی۔

  4۔  شخصیت،رویہ: دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش، نئے خیالات میں کھلا پن، ایمانداری ،یکجہتی، اقداری اخلاقیاتی برتائو، ذاتی حوصلہ۔

5۔  اظہاری مہارتیں: اپنے خیالات، احساسات کی زبانی اور غیر زبانی یا لکھی ہوئی معلومات کی ترسیلی مہارت۔

6۔  تفکری مہارتیں:اپنے محرکات، رویوں، طرز عمل کا جائزہ لینے کی صلاحیت اور اپنے خو د کے اورد وسروں کے طرز عمل کے لیے حساسی صلاحیت۔

7۔  ذاتی مہارتیں:ذاتی تنظیم، ذاتی حفظان صحت، وقت کا انتظام اور مناسب ملبوسات۔

تنوع کے تئیں احساس پذیری: انفرادی اور ثقافتی اختلافات۔

خود کے بارے میں معلومات (اپنے رویہ، اقدار اور متعلقہ قوت /کمزوریاں) پیشہ ورانہ ماحول میں متعد د دیگر تنوع کے ساتھ جیسے کوئی عمل انجام دیتا ہے۔

فطرت سے متعلق معلومات اور مختلف حالات میں انفرادی و تہذیبی تنوع کے اثرات۔

تشخیص، علاج و مشاورتی جیسی اختلافی پس منظر میں مؤثر طور پر کام کرنے کی صلاحیت۔

مختلف ثقافتی معیار و عقائد کی قدر و ستائش کرنے کی صلاحیت ۔

اپنی ترجیحات اور اپنے گروپ کے لیے کسی کی ترجیحات کے تئیں بھی احساس پذیری۔

ثقافتی عقائد میں تنوع کی تائید کرنے کی صلاحیت اور زندگی میں مثبت نتائج کو فروغ دینے کے لیے اس کی قدر کرنا۔


•اپنے طبعی ماحول پر توجہ دینا۔ کون، کیا، کب ، کہاں، کیسے۔
•◊ لوگوں کے ردعمل، جذبات اورمحرکات سے باخبر رہنا۔
•◊  مشاہدہ کے دوران جواب موصول ہونے والے سوالات کرنا۔
•◊ پوچھے جانے پر اپنے بارے میں معلومات فراہم کرنا۔
• ◊  پر امید تجسس کے ساتھ مشاہدہ کرنا اور
◊اخلاقی اصولوں کے تحت مشاہدے کے وقت لوگوں کی بے جا مداخلت سے تحفظ کا حق اور معیارات کا لحاظ کرنا ہے۔ دھیان رکھیں کہ کسی کی معلومات دوسروں کے سامنے ظاہرنہ ہوں۔
آپ مشاہدہ کے دو اہم نظریات یعنی طبیعی اور سرکشی مشاہدہ سے پہلے ہی واقف ہو چکے ہیں اب ہم ان کے بارے میں نمونہ پذیر مہارتوں پر توجہ دیں گے۔
طبیعی مشاہدے مخصوص ترتیب میں لوگوں کے طریقۂ عمل کے بارے میں سیکھنے کا ایک بنیادی طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ بازار میں لوگوں کا طرز عمل اس وقت کس طرح کا ہوتا ہے جب انھیں یہ پتا چلتا ہے کہ کسی کمپنی نے بھاری چھوٹ (معمول سے کم قیمت )دے رکھی ہے۔ اس کے لیے آپ اس بازار میں جاتے ہیں جہاں چھوٹ والی اشیاکی نمائش لگی ہو اور منظم طور پر مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ خریداری سے قبل اور اس کے  بعد کیا کرتے اور کہتے ہیں۔ اس طرح کی چیزوں کے موازنہ سے کیا کچھ چل رہا ہے اس کے بارے میں آپ کو ضروری بصیرت فراہم ہو سکتی ہے۔
 شرکتی مشاہد ے طبیعی مشاہدے کے طریقہ کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔ اس میں مشاہدہ کرنے والا مشاہدہ کے عمل میں اس ماحول کا حصہ بن کر شامل ہو جاتا ہے جہاں مشاہدہ انجام پاتاہے۔ مثال کے طور پر درج بالا میں سے مشاہدہ کرنے والا اس خریداری مرکز کے شوروم  میں جز وقتی ملازمت کر سکے تاکہ وہ ایک اندرکا آدمی بن کر خریداروں کے طرز عمل میں تبدیلی پر توجہ دے سکتا ہے۔ اس طریقہ کا استعمال عام طور سے ماہر بشریات کرتے ہیں جن کا مقصد اندرونی نظام سے براہ راست معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے جب کہ دیگر صورت میں باہری آدمی بن کر معلومات حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ 

مشاہدہ کے فوائد اور نقصانات

◊•      اس کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں ایک طبیعی ماحول میں برتائو کے دیکھے جانے اور مطالعہ کیے جانے کی گنجائش ہوتی ہے۔
◊• باہر کے لوگ یا وہ جو اس ماحول میں کام کر رہے ہیں ان کو اس کے استعمال کے لیے تربیت دی جاسکتی ہے۔
◊•      اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ مشاہدے میں شامل لوگوں اور مشاہد ین کے احساسات کے سبب مشاہدہ کیے جانے والے واقعات کے تئیں جانبداری برتی جا سکتی ہے۔
•◊ کسی مخصوص ماحول میں عام طور پر اوروں کے کام کاج ایک معمول کی طرح ہوتے ہیں جس کو مشاہد کبھی کبھی نظر انداز کر سکتا ہے۔
•◊  دوسری اہم کمزوری یہ ہے کہ مشاہد کی موجودگی کے سبب دوسروں کے حقیقی برتائو اور وہ رد عمل متاثر ہوسکتے ہیں جن سے مشاہدہ کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

سرگرمی 9.1

 اپنی بین شخصی (افراد کے درمیان باہمی) مہارتوں کا تعین قدر ایک کاغذ پر تحریر کیجیے کہ درج ذیل پہلوؤں کے لحاظ سے آپ خود کا بیان کس طرح کریں گے:

(a)  دوستانہ روش

(b) مزاج

(c)  شگفتہ طبعی

(d)  کیریر کے تئیں تعین مقصد

(e)  ٹیم اور گروپوں میں کام کرنے کی اہلیت

(f)  آزادی

(g)  دوسروں کے ذریعہ اعتراف کیے جانے کی خواہش

(h) ڈسپلن

 اب تین تا پانچ ممبروں کے گروپ کی تشکیل کیجیے۔ درج بالا پہلوؤں پر جتنا بہتر آپ کر سکتے ہیں کیا گروپ میں دیگر ممبروں کے ذریعہ ہر ممبر کی قد رشناسی اسی طرح کی گئی ۔ ہر ممبر ان پہلوؤں پر یکسانیت اور اختلاف اور اپنے خود کے ادراک کا تجزیہ کرنے اور گروپوں کے دیگر ممبران کے ذریعہ انھیں کیسے سمجھایا گیا ہے، نتیجہ نکالتا ہے۔

مخصوص ہنر مندی

یہ مہارت نفسیاتی خدمات کے میدان میں اصل اور بنیادی ہیں۔ مثال کے طور پر جو ماہر نفسیات طبی ساخت میں کام کرتے ہیں ان کے لیے معالجاتی مداخلت، نفسیاتی تشخیص اور مشورہ سے متعلق مختلف طریقۂ کار میں تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح تنظیمی ماہرین نفسیات جو کسی تنظیمی پس منظر میں کام کرتے ہیں انھیں تشخیصی، سہولیاتی،مشاورتی اور کرداری مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ فرد، گروپ، ٹیم اورتنظیمی ترقی لانے کے علاوہ تحقیقی مہارت وغیرہ میں بھی اضافہ ہو۔ گرچہ مخصوص مہارت اورصلاحیت کی ضرورت کسی خاص پیشہ ورانہ کام کے لیے پڑتی ہے پھر بھی ساری مہارتوںکا ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ تعلق ہوتا ہے۔ وہ کسی خاص حلقہ کے لیے مخصوص نہیں ہوتی ہیں۔ متعلقہ مخصوص مہارتوں اور صلاحیتوں کو ذیل میں درجہ بند کیا گیاہے۔
(a) ترسیلی مہارت
◊  بولنا
◊  فعال سماعت
◊  جسمانی اظہار یا غیر زبانی مہارت
(b)  نفسیاتی جانچ کی مہارتیں
(c)  انٹرویو کی مہارتیں
(d)  مشاورتی مہارتیں
◊  ہم احساس ہونا
◊  اثباتی خیال
◊  معتبریت یا مستند ہونا

ترسیلی مہارتیں

یہ مہارت جس پر ہم بحث کرنے جارہے ہیں یہ دیکھنے میں تجریدی ہو سکتی ہے ۔ بہرحال آپ اسے تب بہتر طریقہ سے سمجھ سکیں گے جب آپ ان سے متعلق کسی عمل میں شامل ہوں گے۔ آئیے ہم ترسیلی عمل کی بنیاد کو سمجھتے ہیں اور دیکھیں کہ ذاتی اثر پذیری اور تعلقات کو بہتر بنانے میں اس کا کیا کردار ہے۔ با اثر ترسیل سیکھنا صرف ایک تعلیمی کام نہیں ہے ۔ یہ سب سے اہم مہارتوں میں سے ایک ہے جو آپ کی زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اس کلاس میں بھی آپ کی کامیابی آپ کی ترسیلی صلاحیت پر منحصر ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر بہتر کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کو سوالات پوچھنے اور جواب دینے، رائے اور خیالات کا خلاصہ کرنے اور رائے سے حاصل حقائق میں امتیاز کرنے اور اپنے ہمسروں اور اساتذہ کے ساتھ نتیجہ خیز تعامل کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔ اس کے لیے آپ کو سننے کی مہارت کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ کلاس میں دی گئی معلومات اور دیگر لوگوں کی زبانی اور غیر زبانی باتوں کو سمجھ سکیں۔ آپ کے پیش کرنے کا انداز بھی اچھا ہونا چاہیے تاکہ کلاس میں دیے گئے کام جو کہ ایک منصوبہ کی شکل میں ہوسکتا ہے، کی رپورٹ یا خلاصہ بہتر طریقہ سے پیش کرسکیں۔ ہم ترسیلی عمل سے کیا سمجھتے ہیں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترسیل ایک شعوری یا لا شعوری، قصداً یا غیر ارادی عمل ہے جس میں خیالات اوراحساسات کا اظہار زبانی یا غیر زبانی ہوتاہے، پیغامات کوبھیجنا موصول ہونا یا سمجھنا ہوتا ہے۔ ترسیل کی خصوصیات کا بیان باکس 9.2 میں کیا گیا ہے۔
ترسیلی عمل اتفاقی (کوئی مقصد نہیں) اظہاری فرد کی جذباتی کیفیت کے نتیجے میں یا خطابتی( ترسیل کرنے والوں کے خصوصی مقصد کے نتیجے میں) ہو سکتے ہیں۔ درون ذات یا بین الافراد اور عوامی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اپنے آپ سے ترسیل میں درون ذات میں خود گفتگو کرنا شامل ہوتا ہے۔ یہ ترسیل فکری عمل ،ذاتی فیصلہ سازی اور خود پر توجہ دینے جیسی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے ۔ بین الافراد ایسی ترسیل کی ترسیل کو کہتے ہیں جو دو یا زائد لوگوں کے درمیان ہوتی ہے اور ایک ترسیلی تعلق قائم کرتی ہے۔ آپسی ترسیل کے اقسام میں رو برو یا مداخلتی انٹرویو اور چھوٹے گروپ میں بحث شامل ہیں۔عوامی ترسیل کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں بولنے والا سامعین کو ایک پیغام دیتا ہے یہ براہراست بھی ہو سکتا ہے جیسے پیغام دینے والا حاضرین کو روبرو پیغام دے سکتا ہے یا بالواسطہ پیغامات کاجیسے ریڈیویا ٹیلیویژن سے نشر ہونا۔

باکس 9.2

ترسیل کی خصوصیات

ترسیل قوت متحرکہ ہے کیونکہ عمل مسلسل بدلنے کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ افراد جو کہ تبدیلی کی ترسیل کر رہے ہیں ان کی توقعات ، رویے ، احساسات اور جذبات میں جس طرح تبدیلی واقع ہوتی ہے اسی طرح ان کی ترسیل کی کیفیت بھی بد لتی ہے۔

ترسیل مسلسل ہوتی ہے کیونکہ یہ کبھی نہیں رکتی ہے، خواہ ہم نیند کی حالت میں ہوں یا جاگے ہوئے ہوں ہم ہمیشہ نظریات اور افکار کی عمل کاری میں لگے ہوتے ہیں ہمارا دماغ فعال بنا رہتا ہے۔

ترسیل باقابل تنسیخ ہے کیونکہ ہم جب پیغام بھیج دیتے ہیں ہم اسے واپس نہیں لے سکتے ۔ ایک بار بات جب زبان سے نکل جائے، بامعنی پہلومل جائیں یا جذباتی اظہار ہو تو ہم اسے مٹانہیں سکتے۔ ہماری معذرت یا تردداسے ہلکا تو بنا سکتی ہے لیکن جو ترسیل ہو چکا ہے اسے پوری طرح نہیں مٹایا جا سکتا۔

ترسیل تفاعلی ہے کیونکہ ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ اور خود اپنے سابقہ مستقل ربط میں رہتے ہیں دوسرے ہماری تقریریا بولنے اور کاموں پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور ہم اپنی خود کے بولنے اور عمل پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور اس کے بعد ان ردعمل 5رد عمل اظہار کیا جاتاہے۔ اس عمل اور رد عمل کا دور ہماری ترسیل کی بنیاد ہے۔

انسانی ترسیل کے عناصر

جب ہم کوئی بات چیت کرتے ہیں تو ہم انتخاب پر مبنی ترسیل کرتے ہیں یعنی ہمارے لیے دستیاب الفاظ اورافعال وغیرہ سے متعلق معلومات کے مخزن کا وسیع دائرہ ہوتا ہے جس سے ہم انتخاب کرتے ہیں جو ہمیں اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ موزوں لگتے ہیں۔ جب ہم ترسیل کرتے ہیں تب ہم پیغام بندی (یعنی نظریات لیتے ہیں انھیں معنی خیز بناتے ہیں اور پیغام کی شکل میں لاتے ہیں) اور ان خیالات کو کسی ذریعہ سے بھیجتے ہیں۔ اس میں ہماری حسّیات (یعنی دیکھنے، سننے، ذائقہ، سونگھنے، چھونے کی حس) پیغام کو ایسے شخص کے پاس بھیجا جاتا ہے جو اپنے بنیادی نظام اشارہ کا استعمال کرتے  ہوئے اسے موصول کرتا ہے، وہ کوڈ کشائی کرتا ہے (یعنی اس پیغام کا ترجمہ سمجھے جانے کے لائق معلومات کی شکل میں طے کرتا ہے) مثال کے طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے گھنٹی کی آواز سنی اور کسی چیز کی نرمی کا احساس ہوا۔ یہ زبانی ترسیل کی مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ آپ نے ان اشاروں کو کس طرح سمجھا جنھیں آپ کے حسی عضو نے موصول کیا آپ غیر زبانی طریقہ سے بھی جواب دے سکتے ہیں۔ آپ اگر کسی گرم چولھے کو چھوئیں تو آپ کی انگلیاں جلدی ہٹ جائیں گی اور آپ کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئیں گے۔  انگلیوں کا ہٹنا  اورآنسو کا آنا دیکھنے والوں کو آپ کا درد بیان کردے گا ۔
تصویر 9.1 میں دیے گئے ماڈل میں ترسیل کے عمل میں شامل مختلف مراحل کو دکھایاگیاہے۔
14

تصویر 9.1 بنیادی ترسیلی عمل

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی ترسیلی عمل میں اس کے  ترسیل کی اثر پذیری ترسیل کرنے والوں کے درمیان پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کے لیے استعمال میں لائے گئے اشارہ اور کوڈ سمجھنے پر منحصرہے۔ مان لیجیے کہ آپ امتحان دینے جارہے ہیں اچانک آپ کو  یاد آتا ہے کہ آپ اپنا قلم کلاس میں نہیں لائے ہیں۔ آپ اپنے دوست سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پاس کوئی قلم ہے جو مجھے دے سکتے ہو؟ وہ ہاں کہتی ہے اور قلم دے دیتی ہے۔ آپ نے  بھی ایک مؤثر ترسیلی انجام دہی میں حصّہ لیا۔ آپ (ترسیل کرنے والا A) نے ایک پیغام (آپ کو ایک قلم کی ضرورت ہے) کی پیغام بندی کی اور اپنے دوست(ترسیلی کارB) کو اسے بھیجنے کے لیے ایک ذریعہ (آواز وہ پیدا کرنے والی ایک صورت ) کا استعمال کیا۔ آپ کے دوست نے اپنے حسی عامل (کان) کا استعمال کرتے ہوئے پیغام وصول کیا اور اس کی کوڈ کشائی کی (یہ سمجھا کہ آپ کو ایک قلم کی ضرورت ہے) آپ کے  دوست کا جوابی عمل (لفظ ’’ہاں‘‘ اور آپ کو  قلم دینے کا مناسب طرزعمل) سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پیغام کو کامیابی کے ساتھ موصول کیا اور کوڈ کشائی کی۔ترسیل مزید با اثر ہوسکتی تھی اگر وہ یہ کہتی’’ معاف کیجیے میں نہیں دے سکتی ہوں کیونکہ میرے پاس ایک ہی قلم ہے۔‘‘
آپ کو یاد ہو گا کہ بولنا اپنے آپ میں ترسیل نہیں ہے۔بولنا صرف ایک حیا تیاتی عمل ہے: آواز نکالنا، ممکنہ زبان کا استعمال کرنا۔ ترسیل ایک وسیع وسیلہ ہے اس میں دو یا زائد لوگ شامل ہوتے ہیں جس میں مفہوم شامل ہوتے ہیں تاکہ پیغام کا مدعا ٹھیک اسی شکل میں موصول ہو جس شکل میں اسے بھیجا  گیا ہے۔

باتیں کرنا 

زبان کا استعمال کرتے ہوئے باتیں کرناترسیل کا ایک اہم جزو ہے ۔ زبان میں معنی خیز اشاروں کا استعمال شامل ہوتا ہے۔ اسے با اثر بنانے کے لیے ترسیل کرنے والوں کو زبان استعمال کرنے کے طریقوں کی معلومات ہونا ضروری ہے۔چونکہ زبان اشارتی ہوتی ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ الفاظ استعمال کرتے  وقت جہاں تک ہو سکے صاف اور ٹھوس ہونے چاہئیں۔ ترسیل کسی پس منظر میں ہوتی ہے اس لیے دوسروں کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ بھیجنے والے کا نقطۂ نظر ہوتا ہے جس میں وہ کچھ کہتا ہے اور یہ بھی کہ کیا وہ آپ کے مفہوم کو سمجھ رہے ہیں اگر نہیں تو یہ ضروری ہے کہ آپ ایسے الفاظ کا انتخاب کریں جو سننے والے کے مطابق ہوں۔ یاد رہے کہ عامیانہ اظہار اورایسے الفاظ کا استعمال جو کسی علاقے یا تہذیب کے لیے نیا ہو کبھی کبھی اچھی ترسیل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

سننا 

سنناایک اہم مہارت ہے جس کا استعمال ہم روز کرتے ہیں۔ آپ کی تعلیمی کامیابی، روز گار حاصل کرناا ورذاتی خوشی بہت حد تک آپ کی سننے کی موثر صلاحیت پر منحصرہوتی ہے۔ شروع میں سننے کا کام ایک انفعالی برتاؤ ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس میں خاموشی شامل ہوتی ہے۔ لیکن یہ تصور حقیقت سے پرے ہے سننے میں انسان کو متو جہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں صبر کرنا، کسی فیصلہ پر نہیں پہنچنا ،تحلیل اور جواب دینے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔
حس سماعت اور سماعت ایک نہیں ہے۔ حس سماعت ایک حیاتیاتی کارکردگی ہے جس میں حساس ذرائع سے پیغام کی تعمیل شامل ہے۔ یہ سماعت کا ایک حصہ ہے جو ایک عمل ہے جس میں دیے گئے پیغام کی تعمیل، توجہ، معنی خیز بنانے اور سننے والے کا جواب شامل ہے۔

قبولیت 

سننے کے عمل کا پہلا مرحلہ مہیج یا پیغام کی وصولیابی ہے۔ پیغام سننے یا دیکھنے سے متعلق ہو سکتا ہے۔ سننے کا عمل جسمانی تعامل کے ایک پیچیدہ مجموعے پر مبنی ہے  جس میں کان اور دماغ کو شامل کرتے ہوئے یہ عمل انجام دیا جاتا ہے۔ سننے سے متعلق میکانیت کے استعمال کے علاوہ لوگ اپنے نظام بصارت کے ذریعہ بھی سنتے ہیں وہ اس انسان کے چہرہ کا بیان، بیٹھنے، حرکت کرنے اور  ظاہرداری کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں جس سے اہم نکات حاصل ہوتے ہیں جو پیغام کے صرف زبانی سننے سے ظاہر نہیں ہوسکتا تھا۔

توجہ 

ایک بار جب صحیح لفظ،مرئی یا دونوں موصول ہوتے ہیں وہ انسانی نظام عملی کی توجہ کے مرحلے میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس مرحلے میں دیگر مہیج گھٹتے ہیں تاکہ ہم مخصوص الفاظ یا اشاروں پر متوجہ ہو سکیں۔ عام طور سے آپ کی توجہ، آپ جو سننے کی کوشش کرتے ہیںجوآپ کے آس پاس ہو رہا ہے اور جو آپ کے دماغ میں چل رہا ہے، کے  درمیان تقسیم ہو جاتی ہے۔ مان لیں آپ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں آپ کے سامنے جو شخص ہے وہ مسلسل اپنے دوست کے کان میں کچھ کہتا ہو۔ نظام آواز میں بھنبھناہٹ ہو آپ اپنے آنے والے امتحان کے لیے بھی فکر مند ہوں۔ اس طرح آپ کی توجہ مختلف سمت میں مبذول ہوتی ہے ۔  

اعادۂ مضمون 

آپ کیسے سمجھیں گے کہ کوئی آپ کو سن رہا ہے؟ آپ ان سے کہیں کہ جو آپ نے کہا ہے اسے دہرائیں۔ وہ شخص ایسا کرتے وقت آپ کی  باتوں کو ہو بہو نہیں دہرا پاتا ہے۔ و ہ موصول شدہ خیالات کا ایک خلاصہ تیار کرتا ہے اور اپنی سمجھ کے مطابق اسے پیش کرتا ہے۔ اسے ہی اپنے لفظوں میں مطلب نکالنا (اعادۂ مضمون )کہا جاتا ہے۔ اس سے آپ کو یہ پتا چلتا ہے کہ ترسیل کی گئی باتوں کو اس نے کتنا سمجھا۔ اگر کوئی شخص ان باتوں کو نہ تو دہرا سکے اور نہ ہی اسے لکھ کر خلاصہ  کر سکے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید پورا پیغام اسے موصول نہیں ہو رہا ہے اوروہ اسے سمجھ نہیں پایا۔ جب ہم کلاس میں استاد یا دیگر لوگو ں کی باتوں کو سنیں تو اسے بھی دھیان میں رکھ سکتے ہیں۔
کوشش کریں کہ آپ نے جو سنا اس کا اعادہ ضرورکریں اور اگرآپ ایسا نہیں کرسکتے تواگر ممکن ہوجلد اس کی وضاحت کی درخواست کریں اورزبانی مطلب نکالنے کی کوشش کریں دوسری بار آپ اس پر بحث کریں مثلاً جب آپ ہدایت وصول کر رہے ہوں یا جب اپنے دوست کے ساتھ حالت تصادم میں ہوں ۔ بولنے والے کے سامنے اپنی سمجھ کو بتائیں جس کے بارے میں آپ نے ابھی سنا تھا تاکہ یہ پتہ چلے کہ آپ نے جو سنا اور سمجھا وہ صحیح ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ کئی بار تو غلط ترسیل کی وجہ سے تصادم ہوتے ہیں۔

مطلب تفویض کرنا 

موصول ہوئے مہیج کو کچھ طے شدہ درجات میں رکھنے کا کام زبان کے سیکھنے کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ موصول ہوئے پیغام کی ترجمانی کی غرض سے ہمارے ذہنی درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً لفظ پنیر کے لیے ہمارے درجاتی نظام میں ایسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں جیسے کہ ڈیری پروڈکٹ، اس کا ایک مخصوص ذائقہ اور رنگ یہ سبھی ہمیں لفظ پنیر کا تعلق اس کے اصلی معنی سے کرانے میں مدد کرتے ہیں۔

سننے میں ثقافت کا کردار 

دماغ کی طرح ہماری تہذیب جس میں ہم پلے بڑھے ہیں ہماری سننے اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ ایشائی تہذیب جیسے کہ ہندوستان اس بات پر زور دیتی ہے کہ بڑوں یا بزرگوں کے پیغامات کو خاموشی سے سننا چاہیے۔ کچھ ثقافتوں میں زیر اختیارتوجہ پر زور دیاجاتا ہے مثال کے طورپر  بودھ مذہب کا اپنا ایک نظریہ ہے۔ اسے چوکسی (mindfulness) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اپنی پوری توجہ کیے جارہے اپنے کام پر مخصوص کرنا۔چوکسی کی تربیت چونکہ بچپن میں ہی شروع ہوتی ہے توجہ کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے اور اس کی و جہ سے نہ صرف بہتر سماعت بلکہ ہمدردانہ سما عت بھی حاصل ہوتی ہے۔حالانکہ بہت ساری تہذیبوں میں اس طرح بہتر سماعت کی صلاحیت کا مزاج نہیں ہے۔ باکس 9.3 میں سننے سے متعلق مہارتوں میں بہتری کے لیے بعض نسخے بتائے گئے ہیں ۔

باکس 9.3

آپ کے سننے سے متعلق مہارتوں میں بہتری کے لیے کچھ نسخے

◊   اسے تسلیم کریں کہ موثر ترسیل میں مرسل اور وصول کنندہ دونوں کی مساوی ذمہ داری ہوتی ہے۔

◊   ترسیل شدہ معلومات سے متعلق فیصلہ لینے میں جلد بازی نہ کریں۔سبھی نظریات کے بارے میں کھلا ذہن رکھیں۔

◊   دھیان اور صبر کے ساتھ سنیں۔ جواب دینے میں جلد بازی نہ کریں۔

◊   انا کی باتوں سے بچیں، صرف وہ بات نہ کریں جوآپ چاہتے ہیں۔ دوسرے جو کہنا چاہتے ہوں اس کا بھی خیال رکھیں۔

◊  جذباتی جوابوں کے بارے میں احتیاط رکھیں کچھ ایسے الفاظ ہوتے ہیں جن کے زبان سے نکلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

◊  دھیان رہے کہ آپ کا جسمانی انداز آپ کی سماعت کو متاثر کرتا ہے۔

◊   اختلال(توجہ) پر قابو رکھیں۔

◊  شبہ کی حالت میں اعادۂ مضمون کی کوشش کریں اور بھیجنے والے سے اس کی جانچ بھی کر لیں کہ کیا آپ نے صحیح سمجھا۔

◊   دھیان کریں کیا کہا گیا یعنی پیغام کو ایک ٹھوس کارکردگی کی شکل میں اتاریں۔

جسمانی زبان

کیا آپ مانتے ہیں کہ جب آپ کسی دیگر شخص کے ساتھ ترسیل کرتے ہیں۔ توآپ کے  الفاظ پیغام کے پورے معنی کی ترسیل کرتے ہیں؟ اگر آپ کا  جواب ہاں ہے تو آپ غلط فہمی میں ہیں۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ بہت حد تک بغیر زبان ہی  کے ترسیل ممکن ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ غیر زبانی عمل علامتی ہوتا ہے اور چل رہی کسی بات سے قریبی طور پر جڑا ہوتا ہے۔ اس طرح کے غیر زبانی عمل اس چیز کا حصہ بنے جسے ہم اشاروں سے بات چیت یا جسم کی زبان کہتے ہیں۔ 
جسمانی بیان میں وہ سارے پیغامات الفاظ کو چھوڑ کر شامل ہوتے ہیں جسے لوگ استعمال کرتے ہیں جسمانی زبان پڑھتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک اکیلے غیر زبانی اشارہ کا مکمل معنی نہیں نکلتا کچھ عوامل جیسے ہاؤ بھاؤ، چال ڈھال ،آنکھوں کا ملانا ،ہنسنے کا ڈھنگ اور جسمانی حرکت ان سبھی پر ایک ساتھ غور کرنا ہوگا۔ زبانی ترسیل میں بھی غیر زبانی اشاروں کے مختلف مطلب ہو سکتے ہے۔ مثلاً ہاتھوں کا سینہ پر بندھا ہونا یہ بتاتا ہے کہ وہ شخص اکیلا رہنا پسند کرتا ہے۔ لیکن ہاتھ کے ساتھ اٹھنا عضلات کا سخت ہونا، جبڑوں کا بیٹھا ہونا اور آنکھوں کا چھوٹا ہونا غصہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کس شخص کے برتاؤ کے حالیہ اور ماضی کے انداز کے درمیان توافق،زبانی اور غیر زبانی ترسیل کے درمیان ہم آہنگی کو منطبق ہونے کی کیفیت (Congruency) کہاجاتا ہے۔ جب آپ اپنے دوست سے کہتے ہیں ’’آج آپ اچھے نہیں لگ رہے ہیں‘‘ تو آپ کا اندازہ اس شخص کے آج کے ظاہری حالات اور اس کے ماضی کے ظاہری حالات کے موازنے پر مبنی ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کچھ تبدیلی ہوتی ہے اور اسے آپ دیکھتے ہیں۔ اگر آپ کو اس کا تجربہ نہیں ہوتا تو آپ کو تبدیلی کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ اب ہم یاد کریں کہ کس بات چیت کو بڑھانے یا کم کرنے میں جسمانی زبان کا کتنا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جان بوجھ کر کسی دوست کو دیکھتے ہیں تاکہ وہ متوجہ ہو۔ جسمانی زبان کا زیادہ تر استعمال دوسروں کے ساتھ لاشعوری تعلقات میں ہوتا ہے۔

سرگرمی 9.2

     ترسیل میں غیر زبانی عمل کا مشاہدہ 

 اپنے خاندان کے لوگوں کا دھیان سے مشاہدہ کریں ان کے  غیر زبانی طرز عمل یا جسمانی اشارات پر جب وہ کسی سے بات کرتے ہوں تو غور کریں۔ اب آپ اسی انداز میں اپنے خود کے غیر زبانی برتاؤ پر توجہ دیں۔ کیا آپ ان سے اور ان لوگوں کے غیر زبانی طرز عمل یا جسمانی زبان میں کوئی یکسانیت دیکھتے ہیں؟ اپنے کلاس میں لوگوں کو بتائیں۔

نفسیاتی جانچ کی مہارتیں

اہلیتوں کا اگلا مجموعہ جس کی ضرورت ماہر ین نفسیات کو ہوتی ہے اس کا تعلق نفسیات کے علم کی معلومات پر مبنی ہے۔ اس میں نفسیاتی تشخیص ، تعین قدر ، انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل شامل ہے۔ 19 ویں صدی کے آخر میں گلٹن کے وقت سے ماہر نفسیات کی دلچسپی ہمیشہ سے انفرادی اختلافات کو سمجھنے میں رہی ہے۔ نفسیاتی جانچ وضع کی گئی اور بنیادی طور پر ان کا استعمال عام ذہانت میں انفرادی اختلافات تفرقی استعداد،تعلیمی حصولیابی ،پیشہ ورانہ موزونیت، شخصیت ،سماجی رویہ اور مختلف غیر علمی خصوصیات میں انفرادی فرق کا پتہ لگائے جانے اور تجزیے کے لیے کیا جاتاہے ۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال انفرادی تشخیص کے علاوہ اجتماعی طور پر مختلف نفسیاتی مطالعہ کے لیے بھی کیا جاتا ہے ۔ ماہر ین نفسیات ان فرقوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو کچھ خاص اسبا بی اجزا پر مبنی ہوتے ہیں جیسے پیشہ، عمر، جنس، تعلیم ،تہذیب وغیرہ۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال کرتے وقت معروضیت کا رویہ ،سائنسی رخ اور معیار بند توضیح کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

مثال کے طور پر تنظیمی اور ذاتی کاموںمیں،کاروباراور کارخانوں میں جہاں کسی خاص نوکری کے لیے لوگوں کو منتخب کرنے کے لیے مخصوص جانچ کا استعمال ہوتا ہے، اصل کار گزاری ریکارڈ یا درجات کا استعمال جانچ کی معقولیت کی شرط کے طور پر کیا جانا ضروری ہے ۔  مان لیں شعبہ کا عملہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ایک اچھے امکانی باصلاحیت اسٹینو گرافر کی پہچان میں کوئی نفسیاتی جانچ مدد گار ہوسکتی ہے۔ یہ بات طے ہونی ضروری ہے کہ مختلف کارکردگی سطح کے ملازمین کے درمیان جانچ کے ذریعہ فرق کا پتہ چلے اس کے  علاوہ یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ کسی نئے ملازم جس کا انتخاب جانچ کی بنیاد پر ہوا ہے، کی کار گزاری اس کے  جانچ کے شمار سے ملتی جلتی ہے۔ 

باکس 9.4

نفسیاتی تشخیص کی مہارتوں کی ضروری باتیں  

نفسیاتی تشخیص ایک بنیادی صلاحیت ہے جس کی ضرورت ماہرین نفسیات کو ہوتی ہے۔ اس میں انٹرویو لینے ،نفسیاتی جانچ اور نفسیاتی خدمات کے نتائج کے اندازۂ قدر پر مبنی افراد کی جامع اور مربوط تشخیص کی معلومات شامل ہیں ۔نفسیاتی تشخیص کے لیے ضروری مہارتیں درج ذیل ہیں۔

 تشخیص کے متعدد طریقوں اور ذرائع کو اس طرح منتخب کرنے اور نافذ کرنے کی اہلیت جو مختلف افراد، جوڑے، خاندان اور گروپ کے لیے قابل فہم و قدر ہو۔

 فیصلہ لینے کے لیے در کار ڈاٹا جمع کرنے کے منظم نظریات کا استعمال کرنے کی صلاحیت ۔

         نفس پیمائش سے متعلق امور اور طریقۂ تشخیص کے بنیاد کی معلومات۔ 

•         ڈاٹا کے مختلف ذرائع کو مربوط سے متعلق امور کی معلومات۔

•        مختلف ذرا ئع سے حاصل تشخیص کوتشخیصی مقاصد کے لیے مربوط کرنے کی صلاحیت ۔

 تشخیص کو وضع کرنے ا ور استعمال کرنے کی صلاحیت: موجودہ تشخیصی نظریات کی قوتوں اور حدوں کا سمجھنا۔

     • مہارتوں کے استعمال سے بڑھانے کے لیے نگرانی موثر استعمال کی صلاحیت۔

جو بھی کسی نفسیاتی جانچ کا استعمال کرتا ہے ایسی نفسیاتی جانچ میں پیشہ ورانہ ،علمی صلاحیت اور تربیت کا ہونا ضروری ہے۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال جانچ مینوئل میں دی گئی معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری معلومات درج ذیل ہیں:

•        جانچ کا مقصد یعنی کس کام کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے؟

 وہ آبادی جس پر ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

•       جانچ سے متعلق جواز کی قسم یعنی کس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسی کی پیمائش کرتا ہے جس کی پیمائش کا یہ دعویٰ کرتا ہے۔

 جواز نامے کی بیرونی کسوٹی یعنی وہ میدان جس میں اسے عملی صورت میں پایا جاتا ہے۔

•       معتبری کے اشاریات یعنی آنکڑوں میں کس حد تک غلطیاں ممکن ہیں؟

 معیاربندی نمونہ یعنی کب جانچ وضع کی گئی، کن لوگوں کی جانچ ہوئی مثلاً ہندوستانی، امریکی، دیہاتی، شہری، پڑھے لکھے یاجاہل وغیرہ؟

 جانچ کے بندوبست میں لگا وقت۔

 شمار کے طریقے یعنی کس کا شمار کرنا ہے اور کون سے طریقے کا استعمال کرنا ہے؟

 معیار یعنی کس طرح کے موجود ہیں؟ کون سا مناسب گروپ ہے جس کا استعمال شمارکی توضیح کے لیے کیا جائے مثلاً مرد عورت، عمر وغیرہ؟

کن مخصوص عوامل کا اثر مثال کے طور پر دوسروں کی موجودگی، دباؤ، حالات وغیرہ۔

 جانچ کی کمزوری یعنی کون اور کیا اس کی جانچ نہیں ہوسکتی؟ وہ حالات جس میں اچھی تشخیص نہیں ہو سکتی۔

انٹرویو کی مہارتیں 

انٹرویو دو یا دو سے زیادہ لوگوں کے درمیان با مقصد بات چیت ہے جو بنیادی طور پر سوالات جوابات کی شکل میں ہوتی ہے۔ انٹرویو دوسرے زیادہ تر مذاکرات سے زیادہ رسمی ہوتا ہے کیونکہ اس میں پہلے سے مقاصد طے کر لیے جاتے ہیں اور اسی پر توجہ دی جاتی ہے۔ انٹرویو کی کئی اقسام ہیں۔ ملازمت کے لیے انٹرویو اس میں سے ایک ہے جس کا سامنا آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کو ابھی کرنا ہے۔ اس کی دوسری قسمیں معلومات حاصل کرنے سے متعلق انٹرویو،مشاورتی انٹرویو، جانچ پڑتال سے متعلق انٹرویو، ریڈیو، ٹیلی ویژن انٹرویو اور تحقیقاتی انٹرویوہیں۔

انٹرویو کی شکل 

 انٹرویو کے مقاصد طے ہو جانے کے بعد انٹرویو لینے والا انٹرویو کی شکل تیار کرتا ہے۔ کسی بھی مقصد کے لیے انٹرویو کی بنیادی شکل کو تین مرحلوں میں بانٹا گیا ہے۔ یعنی افتتاحی ،مرکزی اور اختتامی اب ہم ان تین مرحلوں کو مختصر طور پر بیان کریں گے۔

انٹرویو کی شروعات 

انٹرویو کی شروعات میں دو ترسیل کرنے والوں کے درمیان بہتر ربط قائم ہوتاہے تاکہ انٹرویو دینے والا آرام دہ کیفیت میں ہو۔ عام طور سے انٹرویو لینے والا بات چیت کی شروعات کرتا ہے اور ابتدائی دور میں زیادہ باتیں وہی کرتا ہے۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں یعنی اس سے انٹرویو کا مقصد طے ہوتا ہے اور انٹرویو دینے والا صورتحال کے علم کے ساتھ بے تکلف ہو جاتا ہے اور وہ انٹرویو لینے والے کے ساتھ بہتر محسوس کرتا ہے۔

انٹرویو کا مرکزی یا درمیانی حصہ 

انٹرویو کا مرکزی حصہ اس کا قلب ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں انٹرویو لینے والا معلومات اور مواد حاصل کرنے کے لیے سوالات کرتا ہے جو کہ اس مقصد کے لیے ضروری ہے۔

سوالات کی ترتیب 

انٹرویو کا مقصد حاصل کرنے کے لیے سوالات کا ایک سیٹ تیار کیا جاتا ہے جسے شیڈول بھی کہا جاتا ہے جو مختلف دائرہ اثر یا درجات کے لیے ہوتا ہے جس کا وہ احاطہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے انٹرویو لینے والے کو پہلے زمرات طے کرنے ہوتے ہیں جن کے تحت معلومات حاصل کرنی ہوتی ہے مثال کے طور پر ملازمت کے لیے انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوالات کا ذکر باکس 9.5 میں کیا گیا ہے۔ انٹرویو لینے والا مختلف زمرات کے سوال منتخب کرتا ہے جیسے اس تنظیم کی نوعیت جہاں اس نے پہلے کام کیا ہے۔ پچھلی ملازمت سے تشفی کے بارے میں ،شئے کے بارے میں خیالات وغیرہ۔ یہ زمرات اور سوالات اپنے آپ میں اس طرح تیار کیے جاتے ہیں کہ اس کا جواب شروع میں آسان لیکن آگے چل کر مشکل ہوتا جاتا ہے۔ سوالا ت کی وضع حقیقت جاننے کے ساتھ ساتھ اندرونی تشخیص کے لیے کی جاتی ہے۔

باکس 9.5

انٹرویو کے سوالات کی اقسام

براہ راست سوال:  یہ نمایاں ہوتے ہیں اور اس کے تحت خاص معلومات درکار ہوتی ہیں مثلاً پہلے آپ نے کہاں کام کیا؟

غیر متعین سوال: یہ کم براہ راست ہوتے ہیں اور صرف موضوع کی صراحت کرتا ہے مثلاً آپ اپنی نوکری سے کتنے خوش تھے؟

متعین سوال: اس میں جواب کے متبادل فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ جواب میں اختلاف کم ہو۔ مثلا کیاآپ کے خیال میں کسی پیداوار یا ترسیلی مہارت کی معلومات ایک سیلز مین کے لیے زیادہ  اہمیت رکھتی ہے؟

دو قطبی سوال: یہ ایک طرح کا متعین سوال ہے اس میں ہاں یا نہیں میں جواب درکار ہوتا ہے مثلا کیا کمپنی کے لیے کام کرنا چاہیں گے؟ 

ہم سوال: یہ کسی خاص جواب کے لیے آمادہ کرتا ہے مثلاً کیا آپ نہیں کہیں گے کہ آپ کی کمپنی میں یونین کا افسر ہونا چاہیے؟

منعکس سوال: انٹرویولینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ اس نے کہا تھا اس پر روشنی ڈالے  اور اس میں مزید توسیع کرے۔ مثال کے لیے  ،آپ نے کہا ،’’میں نے اتنی محنت کی تھی لیکن کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ‘‘براہ کرم وضاحت کریں کہ ایسا کیوں واقع ہوتا ہے۔

انٹرویو کے سوال کے جواب دینا

 •  اگر آپ سوال نہیں سمجھ پاتے تو اس کی وضاحت کے لیے کہیں۔

  •  اپنے جواب میں سوال کو دہرائیں۔

•   ایک بار میں ایک ہی جواب دیں۔

 •   منفی سوالات کو اثباتی جواب میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔

انٹرویو کا اختتام 

انٹرویو کے اختتام پر انٹرویو لینے والے کو حاصل کی گئی معلومات کا خلاصہ تیار کرنا چاہیے۔ اسے آخری مرحلے پر بات چیت کرکے اسے ختم کرنا چاہیے۔ انٹرویو ختم ہونے کے وقت انٹرویو لینے والے کو یہ چاہیے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو سوال پوچھنے اور تبصرہ پیش کرنے کا موقع دے۔

مشاورتی مہارتیں

ایک ماہر نفسیات ہونے کے لیے دوسری ضروری بات یہ ہے کہ اس شخص میں مشاورتی اوررہنمائی کرنے کی صلاحیت ہو۔ ان صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ماہرین نفسیات کو رہنمائی کرنے والے نگراں کی دیکھ ریکھ میں تعلیم و تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ غلط پیشہ میں جانے کے بڑے ہی شدید نتائج ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے پیشے میں داخل ہو جاتا ہے جس کے لیے اس کے پاس ضروری استعداد نہ ہو تو اسے مطابقت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ منفی جذبات کو فروغ دے سکتاہے۔ وہ احساس کم تری میں مبتلا ہو سکتاہے، وغیرہ۔ اس طرح کی پریشانیاں دوسروں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ٹھیک اس کے  برعکس اگر کوئی شخص اس طرح کا پیشہ اپناتا ہے جس کے لیے اس میں مطابقت ہو تو اسے اپنے کاموں کو اچھی طرح کرنے میں تسلی ہوتی ہے۔ اس طرح کے اثباتی احساس کا مطابقت پر پوری زندگی میں زبردست اثر پڑتا ہے۔ مشاورت بھی اسی طرح کا ایک حلقہ ہے جس میں اگر کوئی شخص داخل ہوتا ہے تو اسے مشاہدئے باطن میں مصروف رہنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے اپنے پیشہ سے متعلق اسے با اثر بنانے کے لیے اس کے میلانات اور بنیادی مہارتوں کی تشخیص ہو سکے۔

مشاورت کا مطلب اورنوعیت 

مشورہ یا صلاح کاری ،انٹرویو کی منصوبہ بندی کے لیے صلاح کار معمول کے طرزعمل کے تجزیے کے لیے اور مریض پر فلاحی تاثرات کے تعین کے لیے ایک نظام فراہم کرتا ہے۔ اس سیکشن میں ہم مہارتوں، تصورات اور طریقۂ کار پر بحث کریں گے جسے ایک قوی صلاحیت کے فروغ میں مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ایک مشیر کار کی زیادہ دلچسپی مریض کے مسائل سے متعلق سمجھ پیدا کرنے میں ہوتی ہے جس کے لیے وہ اس بات پرتوجہ دیتا ہے کہ مریض کو اپنے مسائل کے بارے میں کیا سمجھ ہے اور وہ اس کے متعلق کیسا محسوس کرتا ہے۔ مسائل کی اصل حقیقت کو اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ مریض کے احساسات اورمعلومات پر کام کرنا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ توجہ اس شخص کے ذریعہ مسائل کے بارے میں دیے گئے بیانات پر ہوتی ہے۔
صلاح کاری میں رشتہ میں معاونت شامل ہے جس میں مدد چاہنے والے اور مدد دینے والے اس پس منظر میں مدد کے اہل ہوں یا اس کے لیے تربیت یافتہ ہوں، دونوں میں شامل ہوتے ہیں (تصویر 9.2 دیکھیے)۔
صلاح کاری کے ضمن میں یہ نکات عام طور پر شامل کیے جاتے ہیں :
15

شکل9.2: صلاح کاری کے عمل کی بنیادی ضرورت 

1. صلاح کاری میں مریض کے احساسات ،افکار اور افعال کے تئیں جواب دہی شامل ہے۔
2.   صلاح کاری میں مریض کے ادراک اور احساست کو بغیر کسی تشخیصی معیارکے بنیادی قبولیت شامل ہے۔
3.   رازداری اور اخفا صلاح کاری پس منظر میں ضروری اجزاکی تشکیل کرتے ہیں ۔طبیعی سہولیات جو اس معیار کو محفوظ رکھتی ہے اہم ہے۔
4.   صلاح کاری ایک رضاکارانہ کام ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب ایک مریضـ کسی مشیر کار سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ مشیر کار معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی طرح کا دباؤنہیں ڈالتا۔
5.   مشیر کار اور مریض دونوں ہی اس کام میں زبانی اورغیر زبانی پیغامات حاصل کرتے ہیں پیغامات کی نوعیت کی معلومات اوراحساس پذیری مشیر کار کی اثر پذیری کے لیے لازمی شرط ہے۔

صلاح کاری سے منسلک غلط فہمیوں کو دور کریے

 •   مشورے صرف معلومات دینے کو نہیں کہتے ہیں۔
 • مشورے میں صرف صلاح دینا شامل نہیں ہے۔
 مشورے کسی فرد کو ملازمت یا پڑھائی کے لیے منتخب کرنا اور امداد ملازمت نہیں ہے۔
•       مشورہ انٹرویو کی طرح نہیں ہوتا گرچہ انٹرویو اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
 • مشورہ میں رویہ، عقیدہ اور طرز عمل کو سمجھا کر، دھمکا کر یا مجبور کرکے یا  منا کر نہیں کیا جاتا ہے۔

تاثراتی تعلقات میں اضافہ 

زیادہ تر لوگ جو صلاح کار سے مدد چاہتے ہیں ان کے اثر آفریں اور  اطمینان بخش رشتے تقریباً موجود نہیں ہوتے یا کبھی کبھی ہوتے ہیں ۔چونکہ برتاؤ میں تبدیلی اکثر سماجی تعاون کے ایک نظام کے ذریعہ واقع ہوتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ معمول دیگر لوگوں کے زیادہ مثبت تعلق کو فروغ دینا شروع کرتے ۔صلاح کاری تعلقات اس کی شروعات کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے۔ ہم سبھی کی طرح مشیر کار بھی مکمل نہیں ہوتے۔ لیکن انھیں دوسروں کے ساتھ صحت مند امدادی تعلقات قائم کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
مختصر اگر صلاح کاری میں عام طور سے مریضوں کے لیے سبھی مشتمل نتیجے شامل ہوتے ہیں۔ مؤثر کرداری تبدیلی جو مریض میں ہوا کرتی ہے وہ کثیر پہلوی ہوتی ہے۔ اس کا مظاہرہ کسی مریض میں زیادہ ذمہ داری اختیار کرنے، نئی سوجھ بوجھ کو فروغ دینے،طرز عمل میں مصروف رہناسیکھنے کی شکل میں ظاہرہوتا ہے۔

سرگرمی 9.3

اعادۂ مضمون

       اس سرگرمی کے لیےA, B, اور C, تین طلباکی ضرورت ہے۔

A

ایک شیر کار کی حثیت سے کام کرے گا جو سننے کی مشق کرے گا۔ اس کا کام  سنی ہوئی باتوں کو مریض سے مختلف لفظوں میں دہرانا۔ A صرف بولی گئی باتوں کو ہی نہیں سنے گا بلکہ باتیں کس طرح کی گئی ( زبانی جسم) اور اس کے پیچھے کیا جذبہ تھا یہ بھی سنے گا۔

B کچھ مسائل کے بارے  میں A  کو بتائے گا جس کا سامنا اسے بعد کی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔

 C ایک مشاہد کی طرح کام کرے گا اور یہ جائزہ لے گا کہ A  کتنا بہتر سننے والا ہے۔

A اور B آپس میں لگ بھگ 10 منٹ بات چیت کریں گے۔ اس کے بعد C اپنا مشاہدہ بتائے گا ۔ Aبھی B کی ترسیل کے بارے میں A اور C کے ساتھ اس کے مشاہدے میں شامل ہوگا۔

بازرسانی نشست 10 منٹ کی ہو سکتی ہے۔ اس کے ختم ہونے کے بعد لوگوں کے کردار بدل جاتے ہیں تاکہ سبھی تینوں لوگوں کوتینوں رول کرنے کا موقع مل سکے ،سرگرمی کے آخر میں سیکھی گئی باتوں کا خلاصہ کرنا پڑتا ہے۔

موثر مددگار کی خصوصیات

تربیت یافتہ مدد گار ہونے کے سبب مشیر کار کو یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ مریض کو مشورہ سے فائدہ پہنچا اور معالجاتی اثرات حاصل ہوئے ۔ بہر حال عام طور سے صلاح کاری عمل کی کامیابی مہارت سے ہوتی ہے۔ معلومات، رویّہ، ذاتی خوبیوں ا ور مشیر کار کے طرزعمل پر منحصرہوتی ہیں اس میں سے کوئی یا سبھی،امدادی کام کو بڑھایا یاگھٹایا جا سکتا ہے۔ اس سیکشن میں ایک با اثر مشیر کار سے متعلق چار خوبیوں کا ہم ذکر کریں گے(I) استنادیت (II) دوسروں کے لیے مثبت سوچ (III) ہم احساس کی صلاحیت (IV) اعادۂ مضمون۔

اب ہم ان خوبیوں کو اختصار میں سمجھیں گے۔

(i)  استنادیت: اپنے بارے میں آپ کی شبیہہ ادراک آپ کی اناکی تشکیل کرتا ہے۔ خودکی ’انا‘ خیالات الفاظ وافعال پہناوے کے طریقے کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سبھی آپ کو ’انا‘ یا ’میں ‘کو دوسروں کو ترسیل کرتے ہیں۔ وہ جو آپ کے بہت قریبی ربط میں ہوتے ہیں وہ بھی آپ کے بارے میں ایک شبیہ قائم کرتے ہیں اور وہ بھی کبھی کبھی ایسی شبیہہ کو آپ تک پہنچا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر دوست آپ سے متعلق اچھی بری باتیں آپ سے کہہ دیتے ہیں، آپ کے اساتذہ اور والدین آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ آپ کا اندازہ وہ لوگ بھی لگاتے ہیں جن کی آپ تعظیم کرتے ہیں لوگوں کے اس طرح کے اجتماعی فیصلے جن کی آپ تعظیم کرتے ہیں ،مختص یا ممتاز کہا جاتا ہے وہ بھی فروغ دیتے ہیں ۔تاکہ آپ کو ادراک ہوسکے کہ مجھے ’وہ‘ مرد ہے جو دوسرے آ پ کو یہ سمجھتے ہیں ۔دوسروں کا یہ ادراک آپ کے اپنے ادراک ’انا‘ جیسا ہو سکتا ہے یا اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ جس قدر آپ کو دوسروں کے ان ادراک اور آپ کے اپنے ادراک کی واقفیت ہوتی ہے وہ آپ کی باخبری کو بتاتی ہے۔ استنادیت کا مطلب آپ کا کرداری اظہار آپ کی قدر اور آپ کے اپنے احساس سے ملتا جلتا ہے اور اس کاتعلق آپ کی اندرونی خود شبیہہ سے ہے۔

(ii)  دوسروں کے لیے مثبت سوچ: ایک صلاح کاری اور مشیر کار کے تعلقات میں ایک اچھا رشتہ اظہار خیال کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ یہ ان خیالات کی قبولیت پرمنعکس ہوتا ہے،وہ یہ کہ دونوں کے احساسات اہم ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم کوئی نیا رشتہ قائم کرتے ہیں تو ہمیں غیر یقینی حالت اور اندیشہ کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح کے احساسات تب کم ہوتے ہیں جب مشیر کار مریض کی یہ کہہ کر مدد کرتا ہے کہ آپ جس طرح محسوس کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ دوسروں کے تئیں مثبت سوچ کے اظہار کے لیے درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

(1)  جب آپ بولتے ہوں تو’ میں‘یا’انا‘ کا پیغام دینے کی عادت ڈالیں نہ کہ’ آپ‘ کا پیغام ،اس کی مثال ہوگی ’میں‘ سمجھتا ہوں نہ کہ ’آپ کو نہیں چاہیے‘۔

 (2)  دوسرے کی کہی ہوئی باتوں کی جانچ کرنے کے بعد جواب دیں۔
 (3)   دوسروں کو ان کے احساسات اور دیگر باتیں  بتانے کی آزادی دیں۔ اس میں مداخلت یا کاٹ چھاٹ نہ کریں۔
(4 )  یہ فرض نہ کریں کہ آپ جو سوچ رہے ہیں دوسرے اسے جانتے ہیں۔ پس منظر کے مطابق اپنے آپ کو ظاہر کریں یعنی زبانی تبادلۂ خیال کے پس منظر میں ہوں۔
 (5)   نہ تو خود کو نہ دوسروںکو کوئی نام دیں (مثلاً آپ ایک دروں بین ہیں وغیرہ)
 (III) ہم احساس ہونا یہ ایک بہت ہی اہم صلاحیت ہے جسے ایک مشیر کار میں ہونا ضروری ہے۔ آپ باب 5 میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہم احساس ہونا مشیر کار کی وہ صلاحیت ہے جس سے وہ دوسروں کے احساسات کو اسی پس منظر میں سمجھ پاتا ہے۔ یہ دوسروں کے جوتے میں گھسنے اور ان کی تکلیف کو سمجھنے کی ایک کوشش کی طرح ہے۔ ہمدردی اور ہم احساس ہونے میں فرق ہے۔ہمدردی میں آپ ایک نجات دلانے والے کی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ کوئی آپ کی ہمدردی کا مستحق ہے۔

سرگرمی 9.4

اپنے خوف سے دوچار ہونا 

اس سرگرمی کو اجتماعی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایک شخص بغیر اپنا نام ظاہر کیے اپنے سب سے بڑے خوف،شک یا اندیشہ کے بارے میں کسی کاغذ پر لکھتا ہے۔ ہر ایک شخص کے لکھنے کے بعد کاغذ کے ان ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے  ایک ٹوکری میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہر ایک شخص باسکٹ میں سے ایک ٹکڑے کو اٹھاتا ہے اور اس میں لکھے خوف کے بارے میں زور سے پڑھتا ہے۔ اس کے بعد پورا گروپ خوف کی نوعیت خوف کے رہنے کی ممکنہ وجوہات، متعلقہ شئے جس کا تعلق خوف پیدا کرنے سے ہوسکتا ہے۔ اس سے نجات پانے کے ہر طریقہ وغیرہ پر بحث کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس کام کو تب تک دوہرایا جاتا ہے جب تک ٹوکری کے سبھی کاغذ کو ایک ایک کر کے پڑھ نہ لیا جائے۔ اس کے آخر میں آپ کو درج ذیل باتوں کی جانچ کرنی چاہیے کہ؛

◊اس سرگرمی نے آپ کو اپنے بارے میں بہتر 

      طور پرسمجھنے میں مدد کی ہے۔

◊    خوف کے علاوہ کون سے دیگر عناصر خود پر 

      آگاہی کے عمل میں بھی اشتراک کریں گے۔

◊    اس وقت آپ کو کیسا لگا جب کوئی آپ 

      کے خوف کے بارے میں پڑھ رہا تھا؟

(IV) اعادۂ مضمون اس مہارت کے بارے میں بحث پہلے ہی اس سیکشن میں ترسیل کے دوران ہو چکی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس کا تعلق مشیر کار کی اس صلاحیت سے ہے جس کے تحت وہ مریض کے جذبات اور  ان بیانات پر عکس ڈالتاہے جسے وہ مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
مشاورتی اخلاقیات 
حالیہ سالوں میں صلاح کاروں نے اپنی پیشہ ورانہ پہچان بڑھانے کی غرض سے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ کسی بھی پیشہ ور گروپ کی ایک تنقیدی کسوٹی ہے کہ وہ ایک اخلاقی معیار قائم کرے اور اسے نافذ کرے۔ سماجی کارکن شادی کے مشیر کار، خاندانوں کے معالج اور ماہر نفسیات سبھی کے اخلاقی اصول ہوتے ہیں۔ اخلاقی معیار اوراصول سے باخبر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ مشورہ خدماتی شعبے کا ایک حصہ ہے۔ اخلاقی معیار کو نظرانداز کرنے پر قانونی الجھنیں آسکتی ہیں۔
کسی مشیر کار کی صلاحیتوں کو جاننے کے لیے امریکی نفسیاتی تنظیم (APA) نے حقیقی طبی ماحول میں کردار اور فیصلہ سازی سے متعلق ایک اخلاقی اصول کارکردگی وضع کیا ہے۔ جن کی عملی معلومات مشاورتی کام کے مقاصد حاصل کرنے میں ان کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ کام سے متعلق APA دکھائے گئے کچھ طریقے درج ذیل ہیں:
•  اخلاقی،پیشہ ورانہ اصول، معیارات اور رہنما اصولوں کی معلومات؛ قانون،اصول،ضوابط، نفسیاتی خدمات سے متعلق قانون کی جانکاری۔
طبی ماحول میں مختلف پیشوں میں قانونی اوراخلاقی امور کو جاننا اور تجزیہ کرنا۔
•  طبی ماحول میں کام کرنے اور خود کے رویہ کے اخلاقی پہلوؤں کو جاننا اورسمجھنا۔
•  اخلاقی امور سے متعلق مناسب پیشہ ورانہ ادعائیت کا عمل ۔
•  اخلاقی امور کا سامنا کرتے وقت مناسب معلومات اور صلاح کی جستجوکرنا۔

کلیدی اصطلاحات

اطلاقی نفسیات، تشخیصی مہارت، و قومی مہارت، صلاحیت، مشورہ، اخلاقیاتی مشاہدہ، درون افراد آگہی، مداخلت اور صلاح کاری مہارتیں،معروضیت، کھلا ذہن، مسائل کے حل کی مہارت، نفسیاتی تشخص، نفسیاتی جانچ ، تفکری مہارتیں، خود آگاہی،احساس پذیری ،بھروسہ مندی۔

خلاصہ

ایک زیادہ جوابدہ اور اخلاقیاتی انداز میں کام کرنے کے لیے ماہرین نفسیات کے لیے بنیادی صلاحیتوں سے متعلق عام وخاص مہارتیں ضروری ہیں۔
•  عام ہنر مندی میں ذاتی اور ذہنی مہارتیں شامل ہوتی ہیں۔ مہارتیں سبھی پیشہ ور ماہرین نفسیات کے لیے ضروری ہیں چاہے وہ طبّی ماحول اورصحت سے متعلق نفسیات کے میدان میں کام کررہے ہوں۔ صنعتی، تنظیمی، سماجی ،تعلیمی یا ماحولیاتی ترتیب میں کام کر رہے ہوں یا صلاح کار کی حیثیت سے کام کر رہے ہوں۔ 
•  مخصوص مہارتیں نفسیاتی خدمات کے لیے بنیادی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر طبّی ماحول میں کام کرنے والے ما ہرین نفسیات کو مختلف معالجاتی طریقہ، نفسیاتی تشخیص اور صلاح کاری کے شعبہ میں تربیت کی ضرورت ہے۔ 
•   ایک با اثر ماہر نفسیات ہونے کے لیے چند خصوصیات جیسے صلاحیت، اخلاقی بلندی، پیشہ ورانہ اور سائنسی ذمہ داری، لوگوں کے حقوق اور وقار وغیرہ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
•  مشاہداتی مہارتیں بنیادی مہارتیں ہوتی ہیں اور ایک ماہر نفسیات اس کا استعمال طرز عمل سے متعلق سوجھ بوجھ پیدا کرنے میں بنیادی نکتہ کے طور پر کرتا ہے۔ فطرتی مشاہدہ ، شرکتی مشاہدہ اورمشاہدہ کے دواہم نظر یے ہیں۔
•   ترسیل ایک عمل ہے جو باتوں کو ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچاتا ہے۔ بولنا اور سننا  بین الافراد ترسیل کے لیے بنیاد ہیں۔
•   ترسیل کے لیے زبان اہم ہے اس کا استعمال سامعین کی خصوصیات کے مطابق ہونا چاہیے۔ غیر زبانی اشارے جیسے ہاؤ بھاؤ، بیٹھنے کا سلیقہ ، ہاتھوں کی حرکت وغیرہ کا استعمال بھی خیالات کی ترسیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ 
•  مناسب پیغام وضع کرنا،ما حولیاتی شور وغل سے نمٹنا اورمعلومات فراہم کرنا،بگاڑ کو کم کرنے اور  ترسیل کو موثر بنانے کے  طریقے ہیں ۔
انٹرویو ایک روبر و ترسیلی عمل ہے۔ یہ تین مرحلوں میں ہوتا ہے جس میں ذہنی تیاری (شروعاتی مرحلہ) سوال و جواب (انٹریو کا جسم) اور اختتامی مرحلہ شامل ہیں۔
•   نفسیاتی جانچ کی مہارت میں اضافہ بہت ہی اہم ہے۔ چونکہ یہ جانچ مختلف مقاصد کے لیے انفرادی تشخیص میں کام آنے والا ایک اہم ذریعہ ہے لہذا اس کے نفاذ کے شمار اور توضیح کے لیےمناسب تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
•   مشورہ میں امدادی تعلقات شامل ہوتے ہیں جس میں ایک مدد چاہنے والا اور ایک مدد کا فراہم کرنے والا ہوتا ہے۔ ایک با اثر صلاح کار کی خوبیاں ہیں۔      (i) استنادیت (ii) دوسروں کے لیے مثبت سوچ (iii) ہم احساس ہونا (iv) اعادۂ مضمون۔

اعادہ کے سوالات

1.   ایک بااثر ماہر نفسیات کے لیے کون کون سی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
2. وہ کون کون سی عام مہارتیں ہیں جو سبھی ماہر نفسیات کے لیے ضروری ہیں؟
3.  ترسیل کی تعریف کریں۔ ترسیلی عمل کے کون سے اجزا زیادہ اہم ہیں۔متعلقہ مثالوں کے ساتھ اپنے جواب کا جواز پیش کیجیے ۔
4.  وہ مجموعہ صلاحیت بتائیں جسے ایک نفسیاتی جانچ کے وقت ذہن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
5.  صلاح کار ی انٹرویو کی مثالی وضع کیا ہے؟
6.  آپ اصلاح کاری سے کیا سمجھتے ہیں؟ ایک با اثر صلاح کار کی خصوصیات بیان کریں۔
7.  ایک با اثر صلاح کار ہونے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟
8.  مریض اور صلاح کار کے درمیان تعلقات میں اخلاقیاتی باتیں کیا کیا ہیں؟
9.  اپنے دوست کی زندگی کے کسی ایک پہلو کی شناخت کریں جسے وہ تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان مخصوص طریقوں کے بارے میں سوچیں جس میں آپ ایک پروگرام مرتب کر سکتے ہیں جس سے کہ آپ کے دوست کو اس سے بہتری میں یا اس کے مسئلے کو حل کرنے میں مد د ملے۔

پروجیکٹ کی تجاویز

1.  نفسیات کے 3-4 الگ الگ میدانوں کی پہچان کریں مثلاً آپ ایک ماہر طبی نفسیات ،ایک صلاح کار یا ایک ماہر تعلیمی نفسیات کو منتخب سکتے ہیں۔ ان کے کیے  جانے والے کاموں اورمہارت جن کا استعمال کرتے ہیں ،کے بارے میں معلومات حاصل کریں آپ ایک سوال نامہ تیار کر سکتے ہیں اور ان سبھی کے ساتھ انٹرویو کر سکتے ہیں تاکہ ان کے کام سے متعلق صلاحیتوں کی پہچان ہوسکے۔ ایک رپورٹ تیار کریں اور جماعت میں بحث کریں۔
2. ماہر نفسیات کی صلاحیتوں میں سے کسی ایک ہنر مندی کو چنیں۔ اس مہارت سے متعلق اصولی اور عملی معلومات حاصل کریں۔ ان معلومات کے بنا پر مہارت میں اضافہ کے لیے اقدامات کی تجویز پیش کریں۔ کلاس میں بحث کریں۔

bbb

ویب لنکس

www.allpsych.com
www.library.unisa.edu.au/resouraces/subject/counsel.asp

تعلیماتی اشارات

1.  طلبا سے زندگی کے مختلف شعبہ میں نفسیات کے بڑھتے ہوئے  استعمال کے بارے میں تبادلۂ خیال کے لیے کہا جاسکتا ہے۔

2.  طلبا سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین نفسیات کے لیے ممکنہ ضروری صلاحیت اور مہارتوں کے بارے میں بھی سوچنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔

3.  اختراعی طریقوں جیسے حالات کا بیان ،کرداری خاکہ اور کرداری ڈرامے کے مظاہرے کے لیے موثر سماعت ، 

نفسیات میں پریکٹکل کے لیے رہنما اصول

فرد کے برتاؤ کے مخفی پہلوؤں کے آشکار کرنے میں نفسیاتی لوازم کار اورتکنیکیں مدد گار ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ انسانی برتاؤ کو سمجھنے، پیشن گوئی کرنے اور کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہی نفسیات کا بنیادی مقصد ہے۔ نفسیات میں پریکٹیکل کا مقصد طلبا کو انسانی برتاؤ کی فہم حاصل کرنے میں نفسیاتی لوازم کار اور تکنیکوں میں مطلوبہ علم اور مہارت فراہم کرنا ہے۔ اس میں پیمائش کے مقدرای لوازم کار جیسے معیار بند نفسیاتی آزمائشوں اور صفاتی ذرائع جیسے انٹرویواورمشاہدہ دونوں کے ساتھ طلبا کو براہ راست تجربہ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پریکٹکل عمل کے ذریعہ آزمائش کے اصول پر مبنی ہوتے ہیں اور اس طرح ان کے ذرعیہ طلبا جو کچھ نفسیاتی اصول اور نظریات سیکھتے ہیں انھیں عمل میں لانے کا موقع دستیاب ہوتا ہے۔
پریکٹیکل کام اختیار کرنے سے پہلے یہ یقینی بنانا اہم ہے کہ طلبا کو نفسیات میں تحقیق کے مختلف طریقوں،ان کی خوبیوں اور کمیوں سے متعلق کرداری خصوصیات کے تعین کیے جانے ، نفسیاتی آزمائشوں کی فطرت اور استعمال اور اخلاقی رہنما اصول کے بارے میں علم حاصل ہو، تاکہ ان کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔بارھویں جماعت کے لیے نفسیات کے نصاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے طلباکو نفسیاتی آزمائشوں میں پریکٹیکل کا عمل انجام دیناچاہیے جس میں مختلف دائرہ عمل جیسے ذہانت، شخصیت، استعداد، تطابق، رویہ، تصور ، ذات اور تشویش میں معیار بند نفسیاتی آزمائشوں کا استعمال کرنا شامل ہوتا ہے۔ انھیں ایک انفرادی کیس خاکہ بھی تیار کرنا ہوتاہے جس میں فرد (کیس)کی نشو ونما کا احوال مقداری اور صفاتی اندازدونوں کا استعمال کرنا شامل ہوگا۔

1.نفسیاتی آزمائش

نفسیاتی آزمائشوں کے استعمال میں پریکٹکل کام ٹیچر کی رہنمائی اور نگرانی میں انجام دیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ آپ نے گیارھویں جماعت میں مطالعہ کیاہے کہ نفسیاتی آزمائش لازمی طور پر ایک معروضی اور برتاؤ کے نمونے کی معیار بند پیمائش ہے۔ بارھویں جماعت میں آپ ذہانت اور استعداد (باب1)، شخصیت اور تصور ذات (باب3) اور رویہ (باب6)کے تصورات کے بارے میں سیکھیں گے۔ آپ کو ان شعبوں میں نفسیاتی آزمائشوں کے انتظامیہ کے ذریعہ تخلیق کیے گئے کردار ، ڈاٹا کے شمار اور تشریح کرنے کی اہلیت کو فروغ دینے میں پریکٹکل ٹریننگ بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں پریکٹیکل ٹریننگ آپ کے لیے انسانی کردار جیسے ذہنی دانش وری قابلیت ، ہمہ گیرخاکہ شخصیت ، مخصوص رویوں ، تطابق یا ساز گاری،رویاتی خاکہ ، تصور ذات اور تشویش کی سطح کے لیے امکانی صلاحیت مختلف پہلوؤں کی تشخیص میں مددگار ہوگی۔

آزمائش یا جانچ کے لیے انتظام

نفسیاتی آزمائش کی صحت، جانچ کی حالت، مواد، طریقۂ عمل، معیارات اور اصول جو جانچ کو فروغ دینے کے ایک لازمی جزو کی تشکیل کرتے ہیں، کی معیار بندی سے پیدا ہوتی ہے اس عمل میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ طلبا جانچ اختیار کنندہ کے ساتھ ربط قائم کرنے کو فروغ دیں گے تاکہ نسبتاً نئے اور مختلف سیاق میں وہ ان کے ساتھ آسانی محسوس کر سکیں۔ ربط قائم کرنے میں جانچ  کنندہ کی دلچسپی کو ابھارنے ، ان کے تعاون کو سامنے لانے اور جانچ کے مقاصد کے لیے موزوں انداز میں جوابی عمل کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ رابطہ قائم کرنے کا خاص مقصد جواب دہندگان کو پورے طور پر اورباریک بینی کے ساتھ جتنا ممکن ہو سکتا ہے ہدایات کی تعمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔اس بات پر یہ بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ جانچ کی نوعیت (جیسے فرد یا گروپ،لفظی یا غیر لفظی وغیرہ) اور جانچ کے اختیار کنندگان کی عمر اور دیگر خصوصیات سے ربط قائم کرنے کے لیے مخصوص تکنیکوں کے استعمال کا تعین کرتے ہیں۔مثال کے لیے تعلمی طورپر سہولیات سے محروم  پس منظر کے بچوں کی جانچ کے وقت جانچ کرنے والایہ فرض نہیں کر سکتا کہ عملی کاموں میں زیادہ بہتر کرنے کے لیے ان کا محرک کیا ہوگا ۔ لہٰذا ایسی صورت میں جانچ کرنے والا انھیں متحرک کرنے کے لیے ربط قائم کرنے کی خاص کوشش کرتا ہے۔
ربط قائم کرتے وقت جانچ کا منتظم کار جانچ کے مواد کی راز داری کے بارے میں بھی جانچ کے اختیار کنندگان کو مطلع کرتا ہے۔جانچ کے اختیار کنندہ کو جانچ کے مقصد اور جانچ کے نتائج کے استعمال کے بارے میں بھی اطلاع دیتا ہے۔ جانچ کے اختیار کنندہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایسے نتائج کو پوری طرح راز میں رکھا جائے گا اور تیسرے فرد (جانچ کے منتظم کار اور جانچ کے اختیار کنندہ کے علاوہ)کو صرف جانچ کے اختیار کنندہ کے علم اور مرضی کے بعد ہی فراہم کیا جائے گا ۔
لہٰذا جانچ کا انتظام پیشہ ورانہ طور پر تربیت یافتہ اور ماہر فرد کا کام ہے درج ذیل نقاط کو جانچ کرتے وقت ذہن میں رکھا جاسکتا ہے۔
یکساں جانچ کی حالت: بنیادی طورپر نفسیاتی آزمائشوں کا کام افراد کے درمیان یا مختلف مواقع پر اس فرد کے جوابوں کے درمیان فرق کی پیمائش کرنا ہے۔ اگر مختلف افراد کے ذریعہ شمار حاصل کیا جاتا ہے توان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔جانچ کی حالتیں اور شرائط یقینا سب کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے۔ جانچ کے لیے مناسب کمرے کے انتخاب پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو غیر ضروری شور اور ذہنی بھٹکاؤ سے پاک ہونا چاہیے ۔ اس کمرے میں جانچ اختیار کنندہ کے لیے مناسب روشنی ، روشن دان، بیٹھنے کی سہولیات وغیرہ ہونی چاہیے ۔
معیار بندہدایات: جانچ کی شرائط میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے جانچ کے منتظم کار کو جانچ کے انتظام کے لیے تفصیلی ہدایات فراہم کی جانی چاہئیں ۔معیاربند ہدایات میں استعمال کے لیے صحیح مواد، وقت کی حد (اگر کوئی ہو) موضوعات کے سلسلے میں زبانی ہدایات، موضوعات سے متعلق سوالنامے کو برتنے کے طریقے اور جانچ کی صورت حال کی دیگر ممکنہ تفصیلات شامل ہونی چاہئیں ۔
•  جانچ کے منتظم کار کی تربیت:جانچ کا منتظم کار وہ فرد ہے جو جانچ کا انتظام کرتا ہے اور جانچ کے لیے نمبر دیتا ہے ۔ تربیت یافتہ جانچ کے منتظم کی اہمیت تو ظاہر ہے۔ اس لیے اگر جانچ کار مناسب اہلیت نہیں رکھتا توغلط نمبر دینے کا معاملہ جانچ کے اسکور کو بے کار بنا سکتا ہے۔
کوئی بھی معیار بند جانچ ہداہت نامہ (مینوئل) کے ذریعہ عمل میں آتی ہے جس میں جانچ کی نفسیاتی پیمائش، معیارات اور حوالہ جات شامل ہوتے ہیں۔ اس سے جانچ کے انتظام کے طریقۂ عمل کے شمار کرنے کے طریقے اور جانچ میں لگنے والے وقت کی حدود (اگر کوئی ہو)کا واضح طور پراظہار ہوتا ہے۔
•جانچ کی پوری سمجھ، جانچ کے اختیار کنندہ اور جانچ کی شرائط ، جانچ کے شمار کی مناسب تشریح کے لیے ضروری ہے۔ ہدایت نامہ میں دی گئی جانچ کے بارے میں کچھ معلومات جیسے اس کا اعتبار ، جواز، معیار وغیرہ ، کسی بھی جانچ اسکور کی توضیح سے متعلق ہوتے ہیں۔اسی طرح جانچ کیے جانے والے (جانچ اختیار کنندہ)فرد کے بارے میں بعض پس منظر ذرائع بھی ضروری ہیں ۔ مثال کے لیے مختلف اسباب کی بنا پر مختلف افراد کے ذریعہ وہی اسکور حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اسکور وں سے اخذ کیے گئے نتائج ممکن ہے ایک جیسے نہ ہوں۔ آخر میں خاص عوامل کو بھی کچھ سامنے رکھناچاہیے جو کسی مخصوص اسکور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ خلاف معمول جانچ کی حالت، موضوع کی عارضی جذباتی یا طبعی حالت،اختیار کنندہ کا جانچ وغیرہ کے سلسلے میں سابقہ تجربہ۔
•جانچ کا بند و بست کرنے والا جانچ کے اختیار کنندگان کو جانچ کے نتائج کی مناسب اور قابل فہم و ضاحت اور ان سے اخذ سفارشات فراہم کرتا ہے یہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تب بھی جب کہ جانچ کو درست طور پر انجام دیا گیا ہو، اسکور کیا گیا اور توضیح کی گئی ہو لیکن بغیر بحث کا موقع دیتے ہوئے محض مخصوص عددی شمار (جیسے آئی۔ کیر اسکور، استعداد اسکور وغیرہ) فراہم کیا جائے تو یہ جانچ کے اختیار کنندہ کے لیے مزید نقصان دہ ہو سکتاہے۔

جانچ کے انتظام کے طریقۂ عمل

 نفسیاتی جانچ کو صرف پیشہ ورانہ طور پر اہل فرد کے ذریعہ ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ +2 سطح کی نفسیات کا ایک طالب علم پیشہ ورانہ طور پراہل فرد کے درجے میں نہیں پہونچ سکتا ۔ لہٰذا وہ کسی نتیجہ خیز مقصد جیسے انتخاب، پیشن گوئی تشخیص وغیرہ کے لیے ایک نفسیاتی جانچ کے اسکور کی توضیح نہیں کر سکتا ۔ اس مقصد کے لیے جانچ کا منتظم چھوٹے چھوٹے اجزا یاسرگرمیوں کو بانٹ سکتا ہے جس پر کہ جانچ مبنی ہو، تصورات کو سمجھنے کے لیے آموزشی مہارتوں پر زور دینا چاہیے، شریک کار کے ربط قائم کرنے کو فروغ دینا چاہیے جانچ کے انتظام میں ہدایات دینا،مناسب ترین جانچ کی حالت کو برقرار رکھنا،احتیاطی تدابیر کرنے اور جانچ کے شمارکوانجام دیناشامل ہے۔
نفسیاتی آزمائش میں پریکٹکل کام انجام دینے کے لیے درج ذیل اقدامات اور رہنما اصول کی تجویز پیش کی جاتی ہے:
1۔  مینوئل اور کلید عمل شمار کے ساتھ جانچ کو متعارف کیا جانا چاہیے ۔ استاد کو ربط قائم کرنے ، ہدایات اور احتیاطی تدبیر جسے سر انجام دیے جانے کی ضرورت ہوتی ہیں پر زور دیتے ہوئے اپنی کلاس کے سامنے مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے جانچ پوری کلاس کے ذریعہ انجام دی جاسکتی ہے۔
2۔  طلبا کو ہدایت دینی چاہیے وہ جوابی یا عمل شمار کی شیٹوں پر ایک نام نہ لکھیں نام یا فرضی نام کا ستعمال نہ کریں۔ طلباکی جوابی شیٹوں کو استاد کے ذریعہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ رازداری کو قائم رکھنے کے سلسلے میں یہ بہتر ہے کہ جوابی شیٹوں کو ملاجلا دیا اور فرضی نمبر ہر جوابی شیٹ پر دیا جائے۔
3۔  ایک ایک جوابی شیٹ کو عمل شمار کے لیے کلاس میں ہر طالب علم کو استاد کے ذریعہ دیا جا سکتا ہے۔ مینوئل میں دی گئی ہدایات کے مطابق عمل شمار کے لیے طلبا کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔
4۔  جوابی عمل شمار کی شیٹ کو ٹیچر کے پاس رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ جانچ کے اسکور کی توضیح میں سردست تجربہ فراہم کرنے کے لیے فرضی موادکے طور پر بعدمیں استعمال کیا جاسکے۔
5۔  طلبا کو اپنے ربط قائم کرنے کی مہارتوں ، ہدایت دینے کی مہارتوں وغیرہ کی جانچ کے لیے استاد کے ساتھ منتخب شر کا پر وہیں جانچ انجام دیے جانے کی ضرورت ہو گی۔
6۔  استاد فرضی موادکے اسکور کو استعمال کر سکتے ہیں اور مظاہر آسکتے ہیں کہ کس طرح معیارات کی مدد سے خام اسکور کی توضیح کے لیے مینوئل کا استعمال کریں۔
7۔  طلبا کو یہ بھی بتایا جا ئے کہ کس طرح موادکے تجزیے پر مبنی نتائج کو اخذ کیا جائے۔
8۔ درج بالا رہنما اصولوں کی بنیاد پر طلبا کو انجام دی گئی جانچ کی رپورٹ کو تیار کرنے ضرورت ہوگی۔

نفسیاتی جانچ رپورٹ تحریر کرنے کے لیے مجوزہ خاکہ

1۔  مطالعہ کے لیے مسئلہ /عنوان(مثال دسویں جماعت کے مطابق /شخصیت/استعداد کی سطح کا مطالعہ۔
تعارف
•   بنیادی تصورات
•  متغیرات
طریقہ
•  موضوع
•  نام
•  عمر
•  جنس
جماعت
(نوٹ: چونکہ موادکو رازداری میں رکھناہے اس لیے مضمون کی تفصیلات کو فرضی نمبر کے تحت رکھا جا سکتا ہے)
مواد
•  جانچ کی مختصر اًوضاحت (جانچ کا نام ، بانی ، سال ، نفسیاتی پیمائش کی خصوصیات وغیرہ)
دیگر سامان (جیسے اسٹاپ واچ، اسکرین وغیرہ)
•  طریقۂ عمل
•  جانچ کے بند وبست کا عمل، جیسے ربط قائم کرنا، ہدایات، احتیاطی 
•  تدبیر، جانچ کا حقیقی طریقہ وغیرہ
•  جانچ کا عمل شمار
•  گراف تیار کرنا، نفسیاتی نقشہ نگاری وغیرہ (اگر ضروت ہو)
4۔  نتائج اور حاصل
•  معیارات اور نتائج اخذ کرنے کے معنی میں مضمون کے اسکور کو 
بیان کرنا
حوالہ جات
•  کتابوں ، مینول اور موضوع سے رجوع کرنے کی فہرست

IIکیس پر وفائل

ایک کیس پروفائل تیار کرنے میں بنیادی طور پر صفاتی تکنیکوں کا استعمال شامل ہوگا جیسے مشاہد، انٹرویو، سروے وغیرہ۔ ایک کیس پروفائل تیار کرنے کے دوران طلبا کو ان صفاتی تکنیکوں کے استعمال میں براہ راست تجربہ حاصل ہوگا۔ کیس پروفائل تیار کرنے کا خاص مقصد فرد کو کلی طور پر مؤثر رشتہ قائم کرنے میں مزید مدد ملے گی۔ طلبا کسی فرد کی کیس پروفائل تیار کر سکتے ہیں جو کھیل ، تعلیمی ، موسیقی وغیرہ کے میدان میں اعلیٰ و برتر ہوں یا جن کی کوئی مخصوص ضرورتیں ہوں جیسے آموزشی معذوری یا تخیل پر ستی، ڈاون مجموعہ علامت وغیرہ یا جن کے ساتھ باہمی رابطہ قائم کرنے کا سماجی مسئلہ موجود ہوجیسے کمزور جسمانی شکل وصورت، فریبی، مچلنا یابد مزاجی، منشیات کی عادت، اپنے ہم عمرلوگوں کے ساتھ نہ گھل مل پانا، کھنچا رہناوغیرہ۔ فرد کے پس منظرکی معلومات اور نشونما سے متعلق حالات معلوم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے ۔طلبا سے دریافت کرنے کے طریقوں جیسے انٹرویو یا مشاہدہ ان طریقوں کی شناخت ضروری ہے جسے وہ کیس کی پوری معلومات حاصل کرنے کے لیے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ کیس پروفائل مجوزہ وضع (فامیٹ ) کی بنیاد پر تیار کیاجاسکتاہے ۔ کچھ ابتدائی نتائج اخذ کرنے کے لیے اسباب پر غور وخوض کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔

کیس پروفائل تیار کرنے کے لیے مجوزہ خاکہ 

کیس کو پیش کرنے کے لیے وسیع پہلوؤں پر مشتمل خاکہ درج ذیل ہے۔ یہ تجویز دی جاتی ہے کہ انھیں درج ذیل نکات کے ساتھ بیانیہ اسلوب کے خاکہ میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

تعارف

•  مسئلے کی نوعیت اس کے دائرہ اثر،ممکنہ اسباب اور ممکنہ مشاورتی
 •  نتائج کو پیش کرتے ہوئے تقریباً ایک یا دو صفحے کا مختصر تعارف۔
•  آدھے صفحے میں کیس کا (مختصر) خلاصہ

2۔  مواد کی شناخت

نام (فرضی نام ہو سکتا ہے)
•   شخیص شدہ مسئلہ
•   رضاکارانہ یا کسی کے ذریعہ بھیجا گیا (یعنی جیسے ٹیچر، والدین ،    
•   بھائی ، بہن وغیرہ)

3۔  احوال معاملہ (کیس ہسٹری)

•  ایک اقتباس میں عمر ، جنس ، اس کا اسکول، جماعت جس میں اس 
وقت نام درج ہو۔
سماجی اورمعاشی حیثیت کے بارے میں معلومات جوماں یا باپ کی تعلیم اور پیشہ ،کنبہ کی آمدنی، گھر کی قسم ، کنبہ میں اراکین یعنی بھائی، بہن کی تعداد اور ان کی پیدائش کی ترتیب ، کنبہ میں سازگاری وغیرہ کی معلومات پر مشتمل ہو،جسمانی صحت ، جسمانی خصوصیات (جیسے قد اور وزن)، کسی طرح کی معذوری یابیماری (ماضی اور حال میں) کے بارے میں معلومات وغیرہ  ۔
کیا کوئی پیشہ ورانہ مدد لی گئی (پہلے یا حال میں ) اس میں مسئلے کا مختصر احوال اور مشاورت کے تئیں رویہ (مدد چاہیے محرکات کا اشارہ کرتے ہوئے)ظاہر کرتے ہوئے بتایا جانا چاہیے۔
ریکارڈ کرنے کی علامات(یعنی چہرے کے تأثر ات ، مخصوص انداز وغیرہ کے معنی میں ) اور آثار(یعنی موضوع کیا معلومات فراہم کرتا ہے، خوف ، تشویش، تناؤ، بے خوبی، وغیرہ)

اختتامی تبصرات