اہلیتوں کا اگلا مجموعہ جس کی ضرورت ماہر ین نفسیات کو ہوتی ہے اس کا تعلق نفسیات کے علم کی معلومات پر مبنی ہے۔ اس میں نفسیاتی تشخیص ، تعین قدر ، انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل شامل ہے۔ 19 ویں صدی کے آخر میں گلٹن کے وقت سے ماہر نفسیات کی دلچسپی ہمیشہ سے انفرادی اختلافات کو سمجھنے میں رہی ہے۔ نفسیاتی جانچ وضع کی گئی اور بنیادی طور پر ان کا استعمال عام ذہانت میں انفرادی اختلافات تفرقی استعداد،تعلیمی حصولیابی ،پیشہ ورانہ موزونیت، شخصیت ،سماجی رویہ اور مختلف غیر علمی خصوصیات میں انفرادی فرق کا پتہ لگائے جانے اور تجزیے کے لیے کیا جاتاہے ۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال انفرادی تشخیص کے علاوہ اجتماعی طور پر مختلف نفسیاتی مطالعہ کے لیے بھی کیا جاتا ہے ۔ ماہر ین نفسیات ان فرقوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو کچھ خاص اسبا بی اجزا پر مبنی ہوتے ہیں جیسے پیشہ، عمر، جنس، تعلیم ،تہذیب وغیرہ۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال کرتے وقت معروضیت کا رویہ ،سائنسی رخ اور معیار بند توضیح کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
مثال کے طور پر تنظیمی اور ذاتی کاموںمیں،کاروباراور کارخانوں میں جہاں کسی خاص نوکری کے لیے لوگوں کو منتخب کرنے کے لیے مخصوص جانچ کا استعمال ہوتا ہے، اصل کار گزاری ریکارڈ یا درجات کا استعمال جانچ کی معقولیت کی شرط کے طور پر کیا جانا ضروری ہے ۔ مان لیں شعبہ کا عملہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ایک اچھے امکانی باصلاحیت اسٹینو گرافر کی پہچان میں کوئی نفسیاتی جانچ مدد گار ہوسکتی ہے۔ یہ بات طے ہونی ضروری ہے کہ مختلف کارکردگی سطح کے ملازمین کے درمیان جانچ کے ذریعہ فرق کا پتہ چلے اس کے علاوہ یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ کسی نئے ملازم جس کا انتخاب جانچ کی بنیاد پر ہوا ہے، کی کار گزاری اس کے جانچ کے شمار سے ملتی جلتی ہے۔
باکس 9.4
نفسیاتی تشخیص کی مہارتوں کی ضروری باتیں
نفسیاتی تشخیص ایک بنیادی صلاحیت ہے جس کی ضرورت ماہرین نفسیات کو ہوتی ہے۔ اس میں انٹرویو لینے ،نفسیاتی جانچ اور نفسیاتی خدمات کے نتائج کے اندازۂ قدر پر مبنی افراد کی جامع اور مربوط تشخیص کی معلومات شامل ہیں ۔نفسیاتی تشخیص کے لیے ضروری مہارتیں درج ذیل ہیں۔
• تشخیص کے متعدد طریقوں اور ذرائع کو اس طرح منتخب کرنے اور نافذ کرنے کی اہلیت جو مختلف افراد، جوڑے، خاندان اور گروپ کے لیے قابل فہم و قدر ہو۔
• فیصلہ لینے کے لیے در کار ڈاٹا جمع کرنے کے منظم نظریات کا استعمال کرنے کی صلاحیت ۔
• نفس پیمائش سے متعلق امور اور طریقۂ تشخیص کے بنیاد کی معلومات۔
• ڈاٹا کے مختلف ذرائع کو مربوط سے متعلق امور کی معلومات۔
• مختلف ذرا ئع سے حاصل تشخیص کوتشخیصی مقاصد کے لیے مربوط کرنے کی صلاحیت ۔
• تشخیص کو وضع کرنے ا ور استعمال کرنے کی صلاحیت: موجودہ تشخیصی نظریات کی قوتوں اور حدوں کا سمجھنا۔
• مہارتوں کے استعمال سے بڑھانے کے لیے نگرانی موثر استعمال کی صلاحیت۔
جو بھی کسی نفسیاتی جانچ کا استعمال کرتا ہے ایسی نفسیاتی جانچ میں پیشہ ورانہ ،علمی صلاحیت اور تربیت کا ہونا ضروری ہے۔ نفسیاتی جانچ کا استعمال جانچ مینوئل میں دی گئی معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری معلومات درج ذیل ہیں:
• جانچ کا مقصد یعنی کس کام کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے؟
• وہ آبادی جس پر ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
• جانچ سے متعلق جواز کی قسم یعنی کس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسی کی پیمائش کرتا ہے جس کی پیمائش کا یہ دعویٰ کرتا ہے۔
• جواز نامے کی بیرونی کسوٹی یعنی وہ میدان جس میں اسے عملی صورت میں پایا جاتا ہے۔
• معتبری کے اشاریات یعنی آنکڑوں میں کس حد تک غلطیاں ممکن ہیں؟
• معیاربندی نمونہ یعنی کب جانچ وضع کی گئی، کن لوگوں کی جانچ ہوئی مثلاً ہندوستانی، امریکی، دیہاتی، شہری، پڑھے لکھے یاجاہل وغیرہ؟
• جانچ کے بندوبست میں لگا وقت۔
• شمار کے طریقے یعنی کس کا شمار کرنا ہے اور کون سے طریقے کا استعمال کرنا ہے؟
• معیار یعنی کس طرح کے موجود ہیں؟ کون سا مناسب گروپ ہے جس کا استعمال شمارکی توضیح کے لیے کیا جائے مثلاً مرد عورت، عمر وغیرہ؟
•کن مخصوص عوامل کا اثر مثال کے طور پر دوسروں کی موجودگی، دباؤ، حالات وغیرہ۔
• جانچ کی کمزوری یعنی کون اور کیا اس کی جانچ نہیں ہوسکتی؟ وہ حالات جس میں اچھی تشخیص نہیں ہو سکتی۔
انٹرویو کی مہارتیں
انٹرویو دو یا دو سے زیادہ لوگوں کے درمیان با مقصد بات چیت ہے جو بنیادی طور پر سوالات جوابات کی شکل میں ہوتی ہے۔ انٹرویو دوسرے زیادہ تر مذاکرات سے زیادہ رسمی ہوتا ہے کیونکہ اس میں پہلے سے مقاصد طے کر لیے جاتے ہیں اور اسی پر توجہ دی جاتی ہے۔ انٹرویو کی کئی اقسام ہیں۔ ملازمت کے لیے انٹرویو اس میں سے ایک ہے جس کا سامنا آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کو ابھی کرنا ہے۔ اس کی دوسری قسمیں معلومات حاصل کرنے سے متعلق انٹرویو،مشاورتی انٹرویو، جانچ پڑتال سے متعلق انٹرویو، ریڈیو، ٹیلی ویژن انٹرویو اور تحقیقاتی انٹرویوہیں۔
انٹرویو کی شکل
انٹرویو کے مقاصد طے ہو جانے کے بعد انٹرویو لینے والا انٹرویو کی شکل تیار کرتا ہے۔ کسی بھی مقصد کے لیے انٹرویو کی بنیادی شکل کو تین مرحلوں میں بانٹا گیا ہے۔ یعنی افتتاحی ،مرکزی اور اختتامی اب ہم ان تین مرحلوں کو مختصر طور پر بیان کریں گے۔
انٹرویو کی شروعات
انٹرویو کی شروعات میں دو ترسیل کرنے والوں کے درمیان بہتر ربط قائم ہوتاہے تاکہ انٹرویو دینے والا آرام دہ کیفیت میں ہو۔ عام طور سے انٹرویو لینے والا بات چیت کی شروعات کرتا ہے اور ابتدائی دور میں زیادہ باتیں وہی کرتا ہے۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں یعنی اس سے انٹرویو کا مقصد طے ہوتا ہے اور انٹرویو دینے والا صورتحال کے علم کے ساتھ بے تکلف ہو جاتا ہے اور وہ انٹرویو لینے والے کے ساتھ بہتر محسوس کرتا ہے۔
انٹرویو کا مرکزی یا درمیانی حصہ
انٹرویو کا مرکزی حصہ اس کا قلب ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں انٹرویو لینے والا معلومات اور مواد حاصل کرنے کے لیے سوالات کرتا ہے جو کہ اس مقصد کے لیے ضروری ہے۔
سوالات کی ترتیب
انٹرویو کا مقصد حاصل کرنے کے لیے سوالات کا ایک سیٹ تیار کیا جاتا ہے جسے شیڈول بھی کہا جاتا ہے جو مختلف دائرہ اثر یا درجات کے لیے ہوتا ہے جس کا وہ احاطہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے انٹرویو لینے والے کو پہلے زمرات طے کرنے ہوتے ہیں جن کے تحت معلومات حاصل کرنی ہوتی ہے مثال کے طور پر ملازمت کے لیے انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوالات کا ذکر باکس 9.5 میں کیا گیا ہے۔ انٹرویو لینے والا مختلف زمرات کے سوال منتخب کرتا ہے جیسے اس تنظیم کی نوعیت جہاں اس نے پہلے کام کیا ہے۔ پچھلی ملازمت سے تشفی کے بارے میں ،شئے کے بارے میں خیالات وغیرہ۔ یہ زمرات اور سوالات اپنے آپ میں اس طرح تیار کیے جاتے ہیں کہ اس کا جواب شروع میں آسان لیکن آگے چل کر مشکل ہوتا جاتا ہے۔ سوالا ت کی وضع حقیقت جاننے کے ساتھ ساتھ اندرونی تشخیص کے لیے کی جاتی ہے۔
باکس 9.5
انٹرویو کے سوالات کی اقسام
براہ راست سوال: یہ نمایاں ہوتے ہیں اور اس کے تحت خاص معلومات درکار ہوتی ہیں مثلاً پہلے آپ نے کہاں کام کیا؟
غیر متعین سوال: یہ کم براہ راست ہوتے ہیں اور صرف موضوع کی صراحت کرتا ہے مثلاً آپ اپنی نوکری سے کتنے خوش تھے؟
متعین سوال: اس میں جواب کے متبادل فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ جواب میں اختلاف کم ہو۔ مثلا کیاآپ کے خیال میں کسی پیداوار یا ترسیلی مہارت کی معلومات ایک سیلز مین کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟
دو قطبی سوال: یہ ایک طرح کا متعین سوال ہے اس میں ہاں یا نہیں میں جواب درکار ہوتا ہے مثلا کیا کمپنی کے لیے کام کرنا چاہیں گے؟
ہم سوال: یہ کسی خاص جواب کے لیے آمادہ کرتا ہے مثلاً کیا آپ نہیں کہیں گے کہ آپ کی کمپنی میں یونین کا افسر ہونا چاہیے؟
منعکس سوال: انٹرویولینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ اس نے کہا تھا اس پر روشنی ڈالے اور اس میں مزید توسیع کرے۔ مثال کے لیے ،آپ نے کہا ،’’میں نے اتنی محنت کی تھی لیکن کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ‘‘براہ کرم وضاحت کریں کہ ایسا کیوں واقع ہوتا ہے۔
انٹرویو کے سوال کے جواب دینا
• اگر آپ سوال نہیں سمجھ پاتے تو اس کی وضاحت کے لیے کہیں۔
• اپنے جواب میں سوال کو دہرائیں۔
• ایک بار میں ایک ہی جواب دیں۔
• منفی سوالات کو اثباتی جواب میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
انٹرویو کا اختتام
انٹرویو کے اختتام پر انٹرویو لینے والے کو حاصل کی گئی معلومات کا خلاصہ تیار کرنا چاہیے۔ اسے آخری مرحلے پر بات چیت کرکے اسے ختم کرنا چاہیے۔ انٹرویو ختم ہونے کے وقت انٹرویو لینے والے کو یہ چاہیے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو سوال پوچھنے اور تبصرہ پیش کرنے کا موقع دے۔
مشاورتی مہارتیں
ایک ماہر نفسیات ہونے کے لیے دوسری ضروری بات یہ ہے کہ اس شخص میں مشاورتی اوررہنمائی کرنے کی صلاحیت ہو۔ ان صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ماہرین نفسیات کو رہنمائی کرنے والے نگراں کی دیکھ ریکھ میں تعلیم و تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ غلط پیشہ میں جانے کے بڑے ہی شدید نتائج ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے پیشے میں داخل ہو جاتا ہے جس کے لیے اس کے پاس ضروری استعداد نہ ہو تو اسے مطابقت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ منفی جذبات کو فروغ دے سکتاہے۔ وہ احساس کم تری میں مبتلا ہو سکتاہے، وغیرہ۔ اس طرح کی پریشانیاں دوسروں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ٹھیک اس کے برعکس اگر کوئی شخص اس طرح کا پیشہ اپناتا ہے جس کے لیے اس میں مطابقت ہو تو اسے اپنے کاموں کو اچھی طرح کرنے میں تسلی ہوتی ہے۔ اس طرح کے اثباتی احساس کا مطابقت پر پوری زندگی میں زبردست اثر پڑتا ہے۔ مشاورت بھی اسی طرح کا ایک حلقہ ہے جس میں اگر کوئی شخص داخل ہوتا ہے تو اسے مشاہدئے باطن میں مصروف رہنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے اپنے پیشہ سے متعلق اسے با اثر بنانے کے لیے اس کے میلانات اور بنیادی مہارتوں کی تشخیص ہو سکے۔
مشاورت کا مطلب اورنوعیت
مشورہ یا صلاح کاری ،انٹرویو کی منصوبہ بندی کے لیے صلاح کار معمول کے طرزعمل کے تجزیے کے لیے اور مریض پر فلاحی تاثرات کے تعین کے لیے ایک نظام فراہم کرتا ہے۔ اس سیکشن میں ہم مہارتوں، تصورات اور طریقۂ کار پر بحث کریں گے جسے ایک قوی صلاحیت کے فروغ میں مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ایک مشیر کار کی زیادہ دلچسپی مریض کے مسائل سے متعلق سمجھ پیدا کرنے میں ہوتی ہے جس کے لیے وہ اس بات پرتوجہ دیتا ہے کہ مریض کو اپنے مسائل کے بارے میں کیا سمجھ ہے اور وہ اس کے متعلق کیسا محسوس کرتا ہے۔ مسائل کی اصل حقیقت کو اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ مریض کے احساسات اورمعلومات پر کام کرنا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ توجہ اس شخص کے ذریعہ مسائل کے بارے میں دیے گئے بیانات پر ہوتی ہے۔
صلاح کاری میں رشتہ میں معاونت شامل ہے جس میں مدد چاہنے والے اور مدد دینے والے اس پس منظر میں مدد کے اہل ہوں یا اس کے لیے تربیت یافتہ ہوں، دونوں میں شامل ہوتے ہیں (تصویر 9.2 دیکھیے)۔
صلاح کاری کے ضمن میں یہ نکات عام طور پر شامل کیے جاتے ہیں :

شکل9.2: صلاح کاری کے عمل کی بنیادی ضرورت
1. صلاح کاری میں مریض کے احساسات ،افکار اور افعال کے تئیں جواب دہی شامل ہے۔
2. صلاح کاری میں مریض کے ادراک اور احساست کو بغیر کسی تشخیصی معیارکے بنیادی قبولیت شامل ہے۔
3. رازداری اور اخفا صلاح کاری پس منظر میں ضروری اجزاکی تشکیل کرتے ہیں ۔طبیعی سہولیات جو اس معیار کو محفوظ رکھتی ہے اہم ہے۔
4. صلاح کاری ایک رضاکارانہ کام ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب ایک مریضـ کسی مشیر کار سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ مشیر کار معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی طرح کا دباؤنہیں ڈالتا۔
5. مشیر کار اور مریض دونوں ہی اس کام میں زبانی اورغیر زبانی پیغامات حاصل کرتے ہیں پیغامات کی نوعیت کی معلومات اوراحساس پذیری مشیر کار کی اثر پذیری کے لیے لازمی شرط ہے۔
صلاح کاری سے منسلک غلط فہمیوں کو دور کریے
• مشورے صرف معلومات دینے کو نہیں کہتے ہیں۔
• مشورے میں صرف صلاح دینا شامل نہیں ہے۔
• مشورے کسی فرد کو ملازمت یا پڑھائی کے لیے منتخب کرنا اور امداد ملازمت نہیں ہے۔
• مشورہ انٹرویو کی طرح نہیں ہوتا گرچہ انٹرویو اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
• مشورہ میں رویہ، عقیدہ اور طرز عمل کو سمجھا کر، دھمکا کر یا مجبور کرکے یا منا کر نہیں کیا جاتا ہے۔
تاثراتی تعلقات میں اضافہ
زیادہ تر لوگ جو صلاح کار سے مدد چاہتے ہیں ان کے اثر آفریں اور اطمینان بخش رشتے تقریباً موجود نہیں ہوتے یا کبھی کبھی ہوتے ہیں ۔چونکہ برتاؤ میں تبدیلی اکثر سماجی تعاون کے ایک نظام کے ذریعہ واقع ہوتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ معمول دیگر لوگوں کے زیادہ مثبت تعلق کو فروغ دینا شروع کرتے ۔صلاح کاری تعلقات اس کی شروعات کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے۔ ہم سبھی کی طرح مشیر کار بھی مکمل نہیں ہوتے۔ لیکن انھیں دوسروں کے ساتھ صحت مند امدادی تعلقات قائم کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
مختصر اگر صلاح کاری میں عام طور سے مریضوں کے لیے سبھی مشتمل نتیجے شامل ہوتے ہیں۔ مؤثر کرداری تبدیلی جو مریض میں ہوا کرتی ہے وہ کثیر پہلوی ہوتی ہے۔ اس کا مظاہرہ کسی مریض میں زیادہ ذمہ داری اختیار کرنے، نئی سوجھ بوجھ کو فروغ دینے،طرز عمل میں مصروف رہناسیکھنے کی شکل میں ظاہرہوتا ہے۔
سرگرمی 9.3
اعادۂ مضمون
اس سرگرمی کے لیےA, B, اور C, تین طلباکی ضرورت ہے۔
A
ایک شیر کار کی حثیت سے کام کرے گا جو سننے کی مشق کرے گا۔ اس کا کام سنی ہوئی باتوں کو مریض سے مختلف لفظوں میں دہرانا۔ A صرف بولی گئی باتوں کو ہی نہیں سنے گا بلکہ باتیں کس طرح کی گئی ( زبانی جسم) اور اس کے پیچھے کیا جذبہ تھا یہ بھی سنے گا۔
B کچھ مسائل کے بارے میں A کو بتائے گا جس کا سامنا اسے بعد کی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔
C ایک مشاہد کی طرح کام کرے گا اور یہ جائزہ لے گا کہ A کتنا بہتر سننے والا ہے۔
A اور B آپس میں لگ بھگ 10 منٹ بات چیت کریں گے۔ اس کے بعد C اپنا مشاہدہ بتائے گا ۔ Aبھی B کی ترسیل کے بارے میں A اور C کے ساتھ اس کے مشاہدے میں شامل ہوگا۔
بازرسانی نشست 10 منٹ کی ہو سکتی ہے۔ اس کے ختم ہونے کے بعد لوگوں کے کردار بدل جاتے ہیں تاکہ سبھی تینوں لوگوں کوتینوں رول کرنے کا موقع مل سکے ،سرگرمی کے آخر میں سیکھی گئی باتوں کا خلاصہ کرنا پڑتا ہے۔
موثر مددگار کی خصوصیات
تربیت یافتہ مدد گار ہونے کے سبب مشیر کار کو یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ مریض کو مشورہ سے فائدہ پہنچا اور معالجاتی اثرات حاصل ہوئے ۔ بہر حال عام طور سے صلاح کاری عمل کی کامیابی مہارت سے ہوتی ہے۔ معلومات، رویّہ، ذاتی خوبیوں ا ور مشیر کار کے طرزعمل پر منحصرہوتی ہیں اس میں سے کوئی یا سبھی،امدادی کام کو بڑھایا یاگھٹایا جا سکتا ہے۔ اس سیکشن میں ایک با اثر مشیر کار سے متعلق چار خوبیوں کا ہم ذکر کریں گے(I) استنادیت (II) دوسروں کے لیے مثبت سوچ (III) ہم احساس کی صلاحیت (IV) اعادۂ مضمون۔
اب ہم ان خوبیوں کو اختصار میں سمجھیں گے۔
(i) استنادیت: اپنے بارے میں آپ کی شبیہہ ادراک آپ کی اناکی تشکیل کرتا ہے۔ خودکی ’انا‘ خیالات الفاظ وافعال پہناوے کے طریقے کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سبھی آپ کو ’انا‘ یا ’میں ‘کو دوسروں کو ترسیل کرتے ہیں۔ وہ جو آپ کے بہت قریبی ربط میں ہوتے ہیں وہ بھی آپ کے بارے میں ایک شبیہ قائم کرتے ہیں اور وہ بھی کبھی کبھی ایسی شبیہہ کو آپ تک پہنچا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر دوست آپ سے متعلق اچھی بری باتیں آپ سے کہہ دیتے ہیں، آپ کے اساتذہ اور والدین آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ آپ کا اندازہ وہ لوگ بھی لگاتے ہیں جن کی آپ تعظیم کرتے ہیں لوگوں کے اس طرح کے اجتماعی فیصلے جن کی آپ تعظیم کرتے ہیں ،مختص یا ممتاز کہا جاتا ہے وہ بھی فروغ دیتے ہیں ۔تاکہ آپ کو ادراک ہوسکے کہ مجھے ’وہ‘ مرد ہے جو دوسرے آ پ کو یہ سمجھتے ہیں ۔دوسروں کا یہ ادراک آپ کے اپنے ادراک ’انا‘ جیسا ہو سکتا ہے یا اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ جس قدر آپ کو دوسروں کے ان ادراک اور آپ کے اپنے ادراک کی واقفیت ہوتی ہے وہ آپ کی باخبری کو بتاتی ہے۔ استنادیت کا مطلب آپ کا کرداری اظہار آپ کی قدر اور آپ کے اپنے احساس سے ملتا جلتا ہے اور اس کاتعلق آپ کی اندرونی خود شبیہہ سے ہے۔
(ii) دوسروں کے لیے مثبت سوچ: ایک صلاح کاری اور مشیر کار کے تعلقات میں ایک اچھا رشتہ اظہار خیال کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ یہ ان خیالات کی قبولیت پرمنعکس ہوتا ہے،وہ یہ کہ دونوں کے احساسات اہم ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم کوئی نیا رشتہ قائم کرتے ہیں تو ہمیں غیر یقینی حالت اور اندیشہ کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح کے احساسات تب کم ہوتے ہیں جب مشیر کار مریض کی یہ کہہ کر مدد کرتا ہے کہ آپ جس طرح محسوس کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ دوسروں کے تئیں مثبت سوچ کے اظہار کے لیے درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
(1) جب آپ بولتے ہوں تو’ میں‘یا’انا‘ کا پیغام دینے کی عادت ڈالیں نہ کہ’ آپ‘ کا پیغام ،اس کی مثال ہوگی ’میں‘ سمجھتا ہوں نہ کہ ’آپ کو نہیں چاہیے‘۔
(2) دوسرے کی کہی ہوئی باتوں کی جانچ کرنے کے بعد جواب دیں۔
(3) دوسروں کو ان کے احساسات اور دیگر باتیں بتانے کی آزادی دیں۔ اس میں مداخلت یا کاٹ چھاٹ نہ کریں۔
(4 ) یہ فرض نہ کریں کہ آپ جو سوچ رہے ہیں دوسرے اسے جانتے ہیں۔ پس منظر کے مطابق اپنے آپ کو ظاہر کریں یعنی زبانی تبادلۂ خیال کے پس منظر میں ہوں۔
(5) نہ تو خود کو نہ دوسروںکو کوئی نام دیں (مثلاً آپ ایک دروں بین ہیں وغیرہ)
(III) ہم احساس ہونا یہ ایک بہت ہی اہم صلاحیت ہے جسے ایک مشیر کار میں ہونا ضروری ہے۔ آپ باب 5 میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہم احساس ہونا مشیر کار کی وہ صلاحیت ہے جس سے وہ دوسروں کے احساسات کو اسی پس منظر میں سمجھ پاتا ہے۔ یہ دوسروں کے جوتے میں گھسنے اور ان کی تکلیف کو سمجھنے کی ایک کوشش کی طرح ہے۔ ہمدردی اور ہم احساس ہونے میں فرق ہے۔ہمدردی میں آپ ایک نجات دلانے والے کی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ کوئی آپ کی ہمدردی کا مستحق ہے۔
سرگرمی 9.4
اپنے خوف سے دوچار ہونا
اس سرگرمی کو اجتماعی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایک شخص بغیر اپنا نام ظاہر کیے اپنے سب سے بڑے خوف،شک یا اندیشہ کے بارے میں کسی کاغذ پر لکھتا ہے۔ ہر ایک شخص کے لکھنے کے بعد کاغذ کے ان ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے ایک ٹوکری میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہر ایک شخص باسکٹ میں سے ایک ٹکڑے کو اٹھاتا ہے اور اس میں لکھے خوف کے بارے میں زور سے پڑھتا ہے۔ اس کے بعد پورا گروپ خوف کی نوعیت خوف کے رہنے کی ممکنہ وجوہات، متعلقہ شئے جس کا تعلق خوف پیدا کرنے سے ہوسکتا ہے۔ اس سے نجات پانے کے ہر طریقہ وغیرہ پر بحث کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس کام کو تب تک دوہرایا جاتا ہے جب تک ٹوکری کے سبھی کاغذ کو ایک ایک کر کے پڑھ نہ لیا جائے۔ اس کے آخر میں آپ کو درج ذیل باتوں کی جانچ کرنی چاہیے کہ؛
◊اس سرگرمی نے آپ کو اپنے بارے میں بہتر
طور پرسمجھنے میں مدد کی ہے۔
◊ خوف کے علاوہ کون سے دیگر عناصر خود پر
آگاہی کے عمل میں بھی اشتراک کریں گے۔
◊ اس وقت آپ کو کیسا لگا جب کوئی آپ
کے خوف کے بارے میں پڑھ رہا تھا؟
(IV) اعادۂ مضمون اس مہارت کے بارے میں بحث پہلے ہی اس سیکشن میں ترسیل کے دوران ہو چکی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس کا تعلق مشیر کار کی اس صلاحیت سے ہے جس کے تحت وہ مریض کے جذبات اور ان بیانات پر عکس ڈالتاہے جسے وہ مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
مشاورتی اخلاقیات
حالیہ سالوں میں صلاح کاروں نے اپنی پیشہ ورانہ پہچان بڑھانے کی غرض سے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ کسی بھی پیشہ ور گروپ کی ایک تنقیدی کسوٹی ہے کہ وہ ایک اخلاقی معیار قائم کرے اور اسے نافذ کرے۔ سماجی کارکن شادی کے مشیر کار، خاندانوں کے معالج اور ماہر نفسیات سبھی کے اخلاقی اصول ہوتے ہیں۔ اخلاقی معیار اوراصول سے باخبر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ مشورہ خدماتی شعبے کا ایک حصہ ہے۔ اخلاقی معیار کو نظرانداز کرنے پر قانونی الجھنیں آسکتی ہیں۔
کسی مشیر کار کی صلاحیتوں کو جاننے کے لیے امریکی نفسیاتی تنظیم (APA) نے حقیقی طبی ماحول میں کردار اور فیصلہ سازی سے متعلق ایک اخلاقی اصول کارکردگی وضع کیا ہے۔ جن کی عملی معلومات مشاورتی کام کے مقاصد حاصل کرنے میں ان کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ کام سے متعلق APA دکھائے گئے کچھ طریقے درج ذیل ہیں:
• اخلاقی،پیشہ ورانہ اصول، معیارات اور رہنما اصولوں کی معلومات؛ قانون،اصول،ضوابط، نفسیاتی خدمات سے متعلق قانون کی جانکاری۔
• طبی ماحول میں مختلف پیشوں میں قانونی اوراخلاقی امور کو جاننا اور تجزیہ کرنا۔
• طبی ماحول میں کام کرنے اور خود کے رویہ کے اخلاقی پہلوؤں کو جاننا اورسمجھنا۔
• اخلاقی امور سے متعلق مناسب پیشہ ورانہ ادعائیت کا عمل ۔
• اخلاقی امور کا سامنا کرتے وقت مناسب معلومات اور صلاح کی جستجوکرنا۔
کلیدی اصطلاحات
اطلاقی نفسیات، تشخیصی مہارت، و قومی مہارت، صلاحیت، مشورہ، اخلاقیاتی مشاہدہ، درون افراد آگہی، مداخلت اور صلاح کاری مہارتیں،معروضیت، کھلا ذہن، مسائل کے حل کی مہارت، نفسیاتی تشخص، نفسیاتی جانچ ، تفکری مہارتیں، خود آگاہی،احساس پذیری ،بھروسہ مندی۔
خلاصہ
• ایک زیادہ جوابدہ اور اخلاقیاتی انداز میں کام کرنے کے لیے ماہرین نفسیات کے لیے بنیادی صلاحیتوں سے متعلق عام وخاص مہارتیں ضروری ہیں۔
• عام ہنر مندی میں ذاتی اور ذہنی مہارتیں شامل ہوتی ہیں۔ مہارتیں سبھی پیشہ ور ماہرین نفسیات کے لیے ضروری ہیں چاہے وہ طبّی ماحول اورصحت سے متعلق نفسیات کے میدان میں کام کررہے ہوں۔ صنعتی، تنظیمی، سماجی ،تعلیمی یا ماحولیاتی ترتیب میں کام کر رہے ہوں یا صلاح کار کی حیثیت سے کام کر رہے ہوں۔
• مخصوص مہارتیں نفسیاتی خدمات کے لیے بنیادی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر طبّی ماحول میں کام کرنے والے ما ہرین نفسیات کو مختلف معالجاتی طریقہ، نفسیاتی تشخیص اور صلاح کاری کے شعبہ میں تربیت کی ضرورت ہے۔
• ایک با اثر ماہر نفسیات ہونے کے لیے چند خصوصیات جیسے صلاحیت، اخلاقی بلندی، پیشہ ورانہ اور سائنسی ذمہ داری، لوگوں کے حقوق اور وقار وغیرہ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
• مشاہداتی مہارتیں بنیادی مہارتیں ہوتی ہیں اور ایک ماہر نفسیات اس کا استعمال طرز عمل سے متعلق سوجھ بوجھ پیدا کرنے میں بنیادی نکتہ کے طور پر کرتا ہے۔ فطرتی مشاہدہ ، شرکتی مشاہدہ اورمشاہدہ کے دواہم نظر یے ہیں۔
• ترسیل ایک عمل ہے جو باتوں کو ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچاتا ہے۔ بولنا اور سننا بین الافراد ترسیل کے لیے بنیاد ہیں۔
• ترسیل کے لیے زبان اہم ہے اس کا استعمال سامعین کی خصوصیات کے مطابق ہونا چاہیے۔ غیر زبانی اشارے جیسے ہاؤ بھاؤ، بیٹھنے کا سلیقہ ، ہاتھوں کی حرکت وغیرہ کا استعمال بھی خیالات کی ترسیل کے لیے کیا جاتا ہے۔
• مناسب پیغام وضع کرنا،ما حولیاتی شور وغل سے نمٹنا اورمعلومات فراہم کرنا،بگاڑ کو کم کرنے اور ترسیل کو موثر بنانے کے طریقے ہیں ۔
• انٹرویو ایک روبر و ترسیلی عمل ہے۔ یہ تین مرحلوں میں ہوتا ہے جس میں ذہنی تیاری (شروعاتی مرحلہ) سوال و جواب (انٹریو کا جسم) اور اختتامی مرحلہ شامل ہیں۔
• نفسیاتی جانچ کی مہارت میں اضافہ بہت ہی اہم ہے۔ چونکہ یہ جانچ مختلف مقاصد کے لیے انفرادی تشخیص میں کام آنے والا ایک اہم ذریعہ ہے لہذا اس کے نفاذ کے شمار اور توضیح کے لیےمناسب تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
• مشورہ میں امدادی تعلقات شامل ہوتے ہیں جس میں ایک مدد چاہنے والا اور ایک مدد کا فراہم کرنے والا ہوتا ہے۔ ایک با اثر صلاح کار کی خوبیاں ہیں۔ (i) استنادیت (ii) دوسروں کے لیے مثبت سوچ (iii) ہم احساس ہونا (iv) اعادۂ مضمون۔
اعادہ کے سوالات
1. ایک بااثر ماہر نفسیات کے لیے کون کون سی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
2. وہ کون کون سی عام مہارتیں ہیں جو سبھی ماہر نفسیات کے لیے ضروری ہیں؟
3. ترسیل کی تعریف کریں۔ ترسیلی عمل کے کون سے اجزا زیادہ اہم ہیں۔متعلقہ مثالوں کے ساتھ اپنے جواب کا جواز پیش کیجیے ۔
4. وہ مجموعہ صلاحیت بتائیں جسے ایک نفسیاتی جانچ کے وقت ذہن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
5. صلاح کار ی انٹرویو کی مثالی وضع کیا ہے؟
6. آپ اصلاح کاری سے کیا سمجھتے ہیں؟ ایک با اثر صلاح کار کی خصوصیات بیان کریں۔
7. ایک با اثر صلاح کار ہونے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟
8. مریض اور صلاح کار کے درمیان تعلقات میں اخلاقیاتی باتیں کیا کیا ہیں؟
9. اپنے دوست کی زندگی کے کسی ایک پہلو کی شناخت کریں جسے وہ تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان مخصوص طریقوں کے بارے میں سوچیں جس میں آپ ایک پروگرام مرتب کر سکتے ہیں جس سے کہ آپ کے دوست کو اس سے بہتری میں یا اس کے مسئلے کو حل کرنے میں مد د ملے۔
پروجیکٹ کی تجاویز
1. نفسیات کے 3-4 الگ الگ میدانوں کی پہچان کریں مثلاً آپ ایک ماہر طبی نفسیات ،ایک صلاح کار یا ایک ماہر تعلیمی نفسیات کو منتخب سکتے ہیں۔ ان کے کیے جانے والے کاموں اورمہارت جن کا استعمال کرتے ہیں ،کے بارے میں معلومات حاصل کریں آپ ایک سوال نامہ تیار کر سکتے ہیں اور ان سبھی کے ساتھ انٹرویو کر سکتے ہیں تاکہ ان کے کام سے متعلق صلاحیتوں کی پہچان ہوسکے۔ ایک رپورٹ تیار کریں اور جماعت میں بحث کریں۔
2. ماہر نفسیات کی صلاحیتوں میں سے کسی ایک ہنر مندی کو چنیں۔ اس مہارت سے متعلق اصولی اور عملی معلومات حاصل کریں۔ ان معلومات کے بنا پر مہارت میں اضافہ کے لیے اقدامات کی تجویز پیش کریں۔ کلاس میں بحث کریں۔
نفسیات میں پریکٹکل کے لیے رہنما اصول
فرد کے برتاؤ کے مخفی پہلوؤں کے آشکار کرنے میں نفسیاتی لوازم کار اورتکنیکیں مدد گار ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ انسانی برتاؤ کو سمجھنے، پیشن گوئی کرنے اور کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہی نفسیات کا بنیادی مقصد ہے۔ نفسیات میں پریکٹیکل کا مقصد طلبا کو انسانی برتاؤ کی فہم حاصل کرنے میں نفسیاتی لوازم کار اور تکنیکوں میں مطلوبہ علم اور مہارت فراہم کرنا ہے۔ اس میں پیمائش کے مقدرای لوازم کار جیسے معیار بند نفسیاتی آزمائشوں اور صفاتی ذرائع جیسے انٹرویواورمشاہدہ دونوں کے ساتھ طلبا کو براہ راست تجربہ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پریکٹکل عمل کے ذریعہ آزمائش کے اصول پر مبنی ہوتے ہیں اور اس طرح ان کے ذرعیہ طلبا جو کچھ نفسیاتی اصول اور نظریات سیکھتے ہیں انھیں عمل میں لانے کا موقع دستیاب ہوتا ہے۔
پریکٹیکل کام اختیار کرنے سے پہلے یہ یقینی بنانا اہم ہے کہ طلبا کو نفسیات میں تحقیق کے مختلف طریقوں،ان کی خوبیوں اور کمیوں سے متعلق کرداری خصوصیات کے تعین کیے جانے ، نفسیاتی آزمائشوں کی فطرت اور استعمال اور اخلاقی رہنما اصول کے بارے میں علم حاصل ہو، تاکہ ان کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔بارھویں جماعت کے لیے نفسیات کے نصاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے طلباکو نفسیاتی آزمائشوں میں پریکٹیکل کا عمل انجام دیناچاہیے جس میں مختلف دائرہ عمل جیسے ذہانت، شخصیت، استعداد، تطابق، رویہ، تصور ، ذات اور تشویش میں معیار بند نفسیاتی آزمائشوں کا استعمال کرنا شامل ہوتا ہے۔ انھیں ایک انفرادی کیس خاکہ بھی تیار کرنا ہوتاہے جس میں فرد (کیس)کی نشو ونما کا احوال مقداری اور صفاتی اندازدونوں کا استعمال کرنا شامل ہوگا۔
1.نفسیاتی آزمائش
نفسیاتی آزمائشوں کے استعمال میں پریکٹکل کام ٹیچر کی رہنمائی اور نگرانی میں انجام دیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ آپ نے گیارھویں جماعت میں مطالعہ کیاہے کہ نفسیاتی آزمائش لازمی طور پر ایک معروضی اور برتاؤ کے نمونے کی معیار بند پیمائش ہے۔ بارھویں جماعت میں آپ ذہانت اور استعداد (باب1)، شخصیت اور تصور ذات (باب3) اور رویہ (باب6)کے تصورات کے بارے میں سیکھیں گے۔ آپ کو ان شعبوں میں نفسیاتی آزمائشوں کے انتظامیہ کے ذریعہ تخلیق کیے گئے کردار ، ڈاٹا کے شمار اور تشریح کرنے کی اہلیت کو فروغ دینے میں پریکٹکل ٹریننگ بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں پریکٹیکل ٹریننگ آپ کے لیے انسانی کردار جیسے ذہنی دانش وری قابلیت ، ہمہ گیرخاکہ شخصیت ، مخصوص رویوں ، تطابق یا ساز گاری،رویاتی خاکہ ، تصور ذات اور تشویش کی سطح کے لیے امکانی صلاحیت مختلف پہلوؤں کی تشخیص میں مددگار ہوگی۔
آزمائش یا جانچ کے لیے انتظام
نفسیاتی آزمائش کی صحت، جانچ کی حالت، مواد، طریقۂ عمل، معیارات اور اصول جو جانچ کو فروغ دینے کے ایک لازمی جزو کی تشکیل کرتے ہیں، کی معیار بندی سے پیدا ہوتی ہے اس عمل میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ طلبا جانچ اختیار کنندہ کے ساتھ ربط قائم کرنے کو فروغ دیں گے تاکہ نسبتاً نئے اور مختلف سیاق میں وہ ان کے ساتھ آسانی محسوس کر سکیں۔ ربط قائم کرنے میں جانچ کنندہ کی دلچسپی کو ابھارنے ، ان کے تعاون کو سامنے لانے اور جانچ کے مقاصد کے لیے موزوں انداز میں جوابی عمل کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ رابطہ قائم کرنے کا خاص مقصد جواب دہندگان کو پورے طور پر اورباریک بینی کے ساتھ جتنا ممکن ہو سکتا ہے ہدایات کی تعمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔اس بات پر یہ بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ جانچ کی نوعیت (جیسے فرد یا گروپ،لفظی یا غیر لفظی وغیرہ) اور جانچ کے اختیار کنندگان کی عمر اور دیگر خصوصیات سے ربط قائم کرنے کے لیے مخصوص تکنیکوں کے استعمال کا تعین کرتے ہیں۔مثال کے لیے تعلمی طورپر سہولیات سے محروم پس منظر کے بچوں کی جانچ کے وقت جانچ کرنے والایہ فرض نہیں کر سکتا کہ عملی کاموں میں زیادہ بہتر کرنے کے لیے ان کا محرک کیا ہوگا ۔ لہٰذا ایسی صورت میں جانچ کرنے والا انھیں متحرک کرنے کے لیے ربط قائم کرنے کی خاص کوشش کرتا ہے۔
ربط قائم کرتے وقت جانچ کا منتظم کار جانچ کے مواد کی راز داری کے بارے میں بھی جانچ کے اختیار کنندگان کو مطلع کرتا ہے۔جانچ کے اختیار کنندہ کو جانچ کے مقصد اور جانچ کے نتائج کے استعمال کے بارے میں بھی اطلاع دیتا ہے۔ جانچ کے اختیار کنندہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایسے نتائج کو پوری طرح راز میں رکھا جائے گا اور تیسرے فرد (جانچ کے منتظم کار اور جانچ کے اختیار کنندہ کے علاوہ)کو صرف جانچ کے اختیار کنندہ کے علم اور مرضی کے بعد ہی فراہم کیا جائے گا ۔
لہٰذا جانچ کا انتظام پیشہ ورانہ طور پر تربیت یافتہ اور ماہر فرد کا کام ہے درج ذیل نقاط کو جانچ کرتے وقت ذہن میں رکھا جاسکتا ہے۔
• یکساں جانچ کی حالت: بنیادی طورپر نفسیاتی آزمائشوں کا کام افراد کے درمیان یا مختلف مواقع پر اس فرد کے جوابوں کے درمیان فرق کی پیمائش کرنا ہے۔ اگر مختلف افراد کے ذریعہ شمار حاصل کیا جاتا ہے توان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔جانچ کی حالتیں اور شرائط یقینا سب کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے۔ جانچ کے لیے مناسب کمرے کے انتخاب پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو غیر ضروری شور اور ذہنی بھٹکاؤ سے پاک ہونا چاہیے ۔ اس کمرے میں جانچ اختیار کنندہ کے لیے مناسب روشنی ، روشن دان، بیٹھنے کی سہولیات وغیرہ ہونی چاہیے ۔
• معیار بندہدایات: جانچ کی شرائط میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے جانچ کے منتظم کار کو جانچ کے انتظام کے لیے تفصیلی ہدایات فراہم کی جانی چاہئیں ۔معیاربند ہدایات میں استعمال کے لیے صحیح مواد، وقت کی حد (اگر کوئی ہو) موضوعات کے سلسلے میں زبانی ہدایات، موضوعات سے متعلق سوالنامے کو برتنے کے طریقے اور جانچ کی صورت حال کی دیگر ممکنہ تفصیلات شامل ہونی چاہئیں ۔
• جانچ کے منتظم کار کی تربیت:جانچ کا منتظم کار وہ فرد ہے جو جانچ کا انتظام کرتا ہے اور جانچ کے لیے نمبر دیتا ہے ۔ تربیت یافتہ جانچ کے منتظم کی اہمیت تو ظاہر ہے۔ اس لیے اگر جانچ کار مناسب اہلیت نہیں رکھتا توغلط نمبر دینے کا معاملہ جانچ کے اسکور کو بے کار بنا سکتا ہے۔
کوئی بھی معیار بند جانچ ہداہت نامہ (مینوئل) کے ذریعہ عمل میں آتی ہے جس میں جانچ کی نفسیاتی پیمائش، معیارات اور حوالہ جات شامل ہوتے ہیں۔ اس سے جانچ کے انتظام کے طریقۂ عمل کے شمار کرنے کے طریقے اور جانچ میں لگنے والے وقت کی حدود (اگر کوئی ہو)کا واضح طور پراظہار ہوتا ہے۔
•جانچ کی پوری سمجھ، جانچ کے اختیار کنندہ اور جانچ کی شرائط ، جانچ کے شمار کی مناسب تشریح کے لیے ضروری ہے۔ ہدایت نامہ میں دی گئی جانچ کے بارے میں کچھ معلومات جیسے اس کا اعتبار ، جواز، معیار وغیرہ ، کسی بھی جانچ اسکور کی توضیح سے متعلق ہوتے ہیں۔اسی طرح جانچ کیے جانے والے (جانچ اختیار کنندہ)فرد کے بارے میں بعض پس منظر ذرائع بھی ضروری ہیں ۔ مثال کے لیے مختلف اسباب کی بنا پر مختلف افراد کے ذریعہ وہی اسکور حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اسکور وں سے اخذ کیے گئے نتائج ممکن ہے ایک جیسے نہ ہوں۔ آخر میں خاص عوامل کو بھی کچھ سامنے رکھناچاہیے جو کسی مخصوص اسکور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ خلاف معمول جانچ کی حالت، موضوع کی عارضی جذباتی یا طبعی حالت،اختیار کنندہ کا جانچ وغیرہ کے سلسلے میں سابقہ تجربہ۔
•جانچ کا بند و بست کرنے والا جانچ کے اختیار کنندگان کو جانچ کے نتائج کی مناسب اور قابل فہم و ضاحت اور ان سے اخذ سفارشات فراہم کرتا ہے یہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تب بھی جب کہ جانچ کو درست طور پر انجام دیا گیا ہو، اسکور کیا گیا اور توضیح کی گئی ہو لیکن بغیر بحث کا موقع دیتے ہوئے محض مخصوص عددی شمار (جیسے آئی۔ کیر اسکور، استعداد اسکور وغیرہ) فراہم کیا جائے تو یہ جانچ کے اختیار کنندہ کے لیے مزید نقصان دہ ہو سکتاہے۔
جانچ کے انتظام کے طریقۂ عمل
نفسیاتی جانچ کو صرف پیشہ ورانہ طور پر اہل فرد کے ذریعہ ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ +2 سطح کی نفسیات کا ایک طالب علم پیشہ ورانہ طور پراہل فرد کے درجے میں نہیں پہونچ سکتا ۔ لہٰذا وہ کسی نتیجہ خیز مقصد جیسے انتخاب، پیشن گوئی تشخیص وغیرہ کے لیے ایک نفسیاتی جانچ کے اسکور کی توضیح نہیں کر سکتا ۔ اس مقصد کے لیے جانچ کا منتظم چھوٹے چھوٹے اجزا یاسرگرمیوں کو بانٹ سکتا ہے جس پر کہ جانچ مبنی ہو، تصورات کو سمجھنے کے لیے آموزشی مہارتوں پر زور دینا چاہیے، شریک کار کے ربط قائم کرنے کو فروغ دینا چاہیے جانچ کے انتظام میں ہدایات دینا،مناسب ترین جانچ کی حالت کو برقرار رکھنا،احتیاطی تدابیر کرنے اور جانچ کے شمارکوانجام دیناشامل ہے۔
نفسیاتی آزمائش میں پریکٹکل کام انجام دینے کے لیے درج ذیل اقدامات اور رہنما اصول کی تجویز پیش کی جاتی ہے:
1۔ مینوئل اور کلید عمل شمار کے ساتھ جانچ کو متعارف کیا جانا چاہیے ۔ استاد کو ربط قائم کرنے ، ہدایات اور احتیاطی تدبیر جسے سر انجام دیے جانے کی ضرورت ہوتی ہیں پر زور دیتے ہوئے اپنی کلاس کے سامنے مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے جانچ پوری کلاس کے ذریعہ انجام دی جاسکتی ہے۔
2۔ طلبا کو ہدایت دینی چاہیے وہ جوابی یا عمل شمار کی شیٹوں پر ایک نام نہ لکھیں نام یا فرضی نام کا ستعمال نہ کریں۔ طلباکی جوابی شیٹوں کو استاد کے ذریعہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ رازداری کو قائم رکھنے کے سلسلے میں یہ بہتر ہے کہ جوابی شیٹوں کو ملاجلا دیا اور فرضی نمبر ہر جوابی شیٹ پر دیا جائے۔
3۔ ایک ایک جوابی شیٹ کو عمل شمار کے لیے کلاس میں ہر طالب علم کو استاد کے ذریعہ دیا جا سکتا ہے۔ مینوئل میں دی گئی ہدایات کے مطابق عمل شمار کے لیے طلبا کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔
4۔ جوابی عمل شمار کی شیٹ کو ٹیچر کے پاس رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ جانچ کے اسکور کی توضیح میں سردست تجربہ فراہم کرنے کے لیے فرضی موادکے طور پر بعدمیں استعمال کیا جاسکے۔
5۔ طلبا کو اپنے ربط قائم کرنے کی مہارتوں ، ہدایت دینے کی مہارتوں وغیرہ کی جانچ کے لیے استاد کے ساتھ منتخب شر کا پر وہیں جانچ انجام دیے جانے کی ضرورت ہو گی۔
6۔ استاد فرضی موادکے اسکور کو استعمال کر سکتے ہیں اور مظاہر آسکتے ہیں کہ کس طرح معیارات کی مدد سے خام اسکور کی توضیح کے لیے مینوئل کا استعمال کریں۔
7۔ طلبا کو یہ بھی بتایا جا ئے کہ کس طرح موادکے تجزیے پر مبنی نتائج کو اخذ کیا جائے۔
8۔ درج بالا رہنما اصولوں کی بنیاد پر طلبا کو انجام دی گئی جانچ کی رپورٹ کو تیار کرنے ضرورت ہوگی۔
نفسیاتی جانچ رپورٹ تحریر کرنے کے لیے مجوزہ خاکہ
1۔ مطالعہ کے لیے مسئلہ /عنوان(مثال دسویں جماعت کے مطابق /شخصیت/استعداد کی سطح کا مطالعہ۔
2۔ تعارف
• بنیادی تصورات
• متغیرات
3۔ طریقہ
• موضوع
• نام
• عمر
• جنس
• جماعت
(نوٹ: چونکہ موادکو رازداری میں رکھناہے اس لیے مضمون کی تفصیلات کو فرضی نمبر کے تحت رکھا جا سکتا ہے)
• مواد
• جانچ کی مختصر اًوضاحت (جانچ کا نام ، بانی ، سال ، نفسیاتی پیمائش کی خصوصیات وغیرہ)
• دیگر سامان (جیسے اسٹاپ واچ، اسکرین وغیرہ)
• طریقۂ عمل
• جانچ کے بند وبست کا عمل، جیسے ربط قائم کرنا، ہدایات، احتیاطی
• تدبیر، جانچ کا حقیقی طریقہ وغیرہ
• جانچ کا عمل شمار
• گراف تیار کرنا، نفسیاتی نقشہ نگاری وغیرہ (اگر ضروت ہو)
4۔ نتائج اور حاصل
• معیارات اور نتائج اخذ کرنے کے معنی میں مضمون کے اسکور کو
بیان کرنا
5۔ حوالہ جات
• کتابوں ، مینول اور موضوع سے رجوع کرنے کی فہرست
IIکیس پر وفائل
ایک کیس پروفائل تیار کرنے میں بنیادی طور پر صفاتی تکنیکوں کا استعمال شامل ہوگا جیسے مشاہد، انٹرویو، سروے وغیرہ۔ ایک کیس پروفائل تیار کرنے کے دوران طلبا کو ان صفاتی تکنیکوں کے استعمال میں براہ راست تجربہ حاصل ہوگا۔ کیس پروفائل تیار کرنے کا خاص مقصد فرد کو کلی طور پر مؤثر رشتہ قائم کرنے میں مزید مدد ملے گی۔ طلبا کسی فرد کی کیس پروفائل تیار کر سکتے ہیں جو کھیل ، تعلیمی ، موسیقی وغیرہ کے میدان میں اعلیٰ و برتر ہوں یا جن کی کوئی مخصوص ضرورتیں ہوں جیسے آموزشی معذوری یا تخیل پر ستی، ڈاون مجموعہ علامت وغیرہ یا جن کے ساتھ باہمی رابطہ قائم کرنے کا سماجی مسئلہ موجود ہوجیسے کمزور جسمانی شکل وصورت، فریبی، مچلنا یابد مزاجی، منشیات کی عادت، اپنے ہم عمرلوگوں کے ساتھ نہ گھل مل پانا، کھنچا رہناوغیرہ۔ فرد کے پس منظرکی معلومات اور نشونما سے متعلق حالات معلوم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے ۔طلبا سے دریافت کرنے کے طریقوں جیسے انٹرویو یا مشاہدہ ان طریقوں کی شناخت ضروری ہے جسے وہ کیس کی پوری معلومات حاصل کرنے کے لیے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ کیس پروفائل مجوزہ وضع (فامیٹ ) کی بنیاد پر تیار کیاجاسکتاہے ۔ کچھ ابتدائی نتائج اخذ کرنے کے لیے اسباب پر غور وخوض کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
کیس پروفائل تیار کرنے کے لیے مجوزہ خاکہ
کیس کو پیش کرنے کے لیے وسیع پہلوؤں پر مشتمل خاکہ درج ذیل ہے۔ یہ تجویز دی جاتی ہے کہ انھیں درج ذیل نکات کے ساتھ بیانیہ اسلوب کے خاکہ میں تیار کیا جا سکتا ہے۔
1۔ تعارف
• مسئلے کی نوعیت اس کے دائرہ اثر،ممکنہ اسباب اور ممکنہ مشاورتی
• نتائج کو پیش کرتے ہوئے تقریباً ایک یا دو صفحے کا مختصر تعارف۔
• آدھے صفحے میں کیس کا (مختصر) خلاصہ
2۔ مواد کی شناخت
• نام (فرضی نام ہو سکتا ہے)
• شخیص شدہ مسئلہ
• رضاکارانہ یا کسی کے ذریعہ بھیجا گیا (یعنی جیسے ٹیچر، والدین ،
• بھائی ، بہن وغیرہ)
3۔ احوال معاملہ (کیس ہسٹری)
• ایک اقتباس میں عمر ، جنس ، اس کا اسکول، جماعت جس میں اس
وقت نام درج ہو۔
• سماجی اورمعاشی حیثیت کے بارے میں معلومات جوماں یا باپ کی تعلیم اور پیشہ ،کنبہ کی آمدنی، گھر کی قسم ، کنبہ میں اراکین یعنی بھائی، بہن کی تعداد اور ان کی پیدائش کی ترتیب ، کنبہ میں سازگاری وغیرہ کی معلومات پر مشتمل ہو،جسمانی صحت ، جسمانی خصوصیات (جیسے قد اور وزن)، کسی طرح کی معذوری یابیماری (ماضی اور حال میں) کے بارے میں معلومات وغیرہ ۔
• کیا کوئی پیشہ ورانہ مدد لی گئی (پہلے یا حال میں ) اس میں مسئلے کا مختصر احوال اور مشاورت کے تئیں رویہ (مدد چاہیے محرکات کا اشارہ کرتے ہوئے)ظاہر کرتے ہوئے بتایا جانا چاہیے۔
• ریکارڈ کرنے کی علامات(یعنی چہرے کے تأثر ات ، مخصوص انداز وغیرہ کے معنی میں ) اور آثار(یعنی موضوع کیا معلومات فراہم کرتا ہے، خوف ، تشویش، تناؤ، بے خوبی، وغیرہ)
4۔ اختتامی تبصرات