Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-001


1.

1-ساختی تبدیلی

حال کو سمجھنے کے لیے ماضی کے بارے میں کچھ آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ غالباً یہ آگاہی کسی بھی فرد،سماجی گروہ یا پورے ملک جیسے کہ ہندوستان کو بھی سمجھنے کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ہندوستان کی ایک طویل اوروسیع تاریخ ہے جہاں عہد قدیم اورعہد وسطیٰ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے وہیں اس کے نوآبادیاتی تجربے کوجاننا بھی بہت اہم ہے بالخصوص جدید ہندوستان کو سمجھنے کے لیے ۔یہ محض اس لیے نہیں کہ ہندوستان میں بہت سے جدید خیالات اورادارے استعماریت کے ذریعے آئے بلکہ اس لیے بھی کہ جدید خیالات سے اس طرح کا سامنا باہم متناقض یا متضاد تھا۔مثلاً نوآبادیاتی دور میں ہندوستانیوں نے مغربی روشن خیالی اورآزادی کے بارے میں پڑھاتاہم وہ ایک ایسی مغربی نوآبادیاتی حکومت کے تحت زندگی گذاررہے تھے جو ہندوستانیوں کو حریت اورآزادی دینے کی ہی منکر تھی۔اسی طرح کے تضادات سے ہی بہت سی ساختی اورثقافتی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن پرباب 1 اور 2 میں بحث کی جائے گی۔
آئندہ ابواب میں ہم دیکھیں گے کہ ہماری سماجی اصلاح اورقوم پرستانہ تحریک، قوانین، سیاسی زندگی اور آئین، صنعت و زراعت، شہر اور گاؤں پر استعماریت کے ساتھ ہمارے متناقض تجربے کی کتنی گہری چھاپ ہے۔جدیدیت کے ساتھ ہمارے مخصوص تجربات پر بھی اس  کے دیر پا اثرات ہوئے۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں جن سے ہم دوچار ہوتے ہیں ان کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
ہمارے یہاں پارلیمانی اور قانونی نظام ہے،ایک پولیس اورتعلیمی نظام بھی ہے جوکافی حدتک برطانوی ماڈل پر ہی مبنی ہے۔ہم برطانوی لوگوں کی طرح سڑک کے بائیں طرف چلتے ہیں۔’بریڈآملیٹ‘ اور’کٹ لیٹ‘ جیسی کھانے کی چیزیں بھی عام طورپر سڑک کے کنارے ریستورانوں اورکینٹینوں میں ملاکرتی ہیں۔  بسکٹ بنانے والی ایک مشہور کمپنی نے اپنا کانام بھی برطانیہ کے نام پر رکھا۔بہت سے اسکولوں میں نکٹائی پوشاک کا ایک لازمی حصہ ہے۔ہم مغرب کی تعریف کرتے ہیں اور برائی بھی۔عصری ہندوستان میں برطانوی استعماریت کے یہ محض چند پیچیدہ سے طور طریقے ہیں جن کی جھلک ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔

2.
جدیدیت کے مختلف ابعاد

آئیے انگریزی زبان کی مثال لیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اس کے اثرات کتنے کثیر رخی اورمتناقض ہیں۔ یہ صرف غلط املے  کا معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں انگریزی نہ صرف بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے بلکہ اس میں ہندوستانیوں  کی ادبی تحریریں بھی پائی جاتی ہیں۔انگریزی کے علم کے سبب ہندوستان کونہ صرف عالمی بازار  میں فوقیت حاصل ہے بلکہ یہ اب بھی امتیازی حق ومراعات کی علامت بنی ہوئی ہے۔انگریزی کا علم نہیں ہے تو روزگار کے میدان میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ لوگ جیسے دلت وغیرہ جو رسمی تعلیم سے روایتی طورپر محروم تھے،انگریزی کی تعلیم سے ان کے لیے بھی مواقع کے دروازے کھل سکتے ہیں جو کہ پہلے بندتھے۔
اس باب میں ہم نے ہونے والی ساختی تبدیلیوں پر توجہ  مرکوز کی ہے۔لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وسیع تاثراتی نظریے  کے بجائے  ایک ساخت اورنظام کے طورپر استعماریت کو واضح طورپر سمجھنے کی کوشش کی جائے جس کے سبب نئی سیاسی،معاشی ،سماجی اور ساختی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اس باب میں ہم صرف ان دوساختی تبدیلیوں پر نظرڈالیں گے جنہیں صنعت کاری (industrialisation) اورشہریانایا شہرکاری (urbanisation) کہتے ہیں یہاں مخصوص نوآبادیاتی سیاق وسباق پر توجہ مرکوز  کی جائے گی اور ساتھ ہی آزادی کے بعد ہونے والی ترقیات کا بھی ذکر کیاجائے گا۔

3.

عالمی طورپر مستعمل انگریزی

خاتون خانہ اور کالج کے طلباجو انگریزی جانتے ہیں BPOs میں آن لائین اسکورر کے طور پر اپنا نہایت پسندیدہ مفوضہ کام کرتے ہیں جیسا کہ کے۔ جیشی نے لکھا  ہے۔ یہ کلاس روم جیسا ایک بالکل مانوس منظر ہے۔ صرف نامانوس چیز اس کی ترتیب اور تنظیم ہے۔ بلیک بورڈ کے  بجائے کمپیوٹر اسکرین  اور گھریلو خواتین نے بحیثیت ٹیچر ایشیا میں غیر انگریزی بولنے والے طلبا کے ذریعہ تحریر کیے گئے مضامین کی جانچ کا کام اختیار کیا  ہے۔ یہ سب ماؤس کی ایک کلک پر انجام پاتا ہے۔ اس سلسلے میں جانچ کرنے والوں  کے حوصلہ افزا تبصرات جاپان، کوریا اور چین کے طلبا کو انگریزی سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔BPOs میں آن لائن تعلیم کا کام  جلد از جلد کمانے کی خواہش مندوں کے لیے خوشی کا باعث ہے ۔آپ کے اندر صرف انگریزی کا طبعی ذوق تخلیقی مہارت، کمپیوٹر کا بنیادی علم، میلوں آگے جانے اور سیکھنے کی خواہش ہونی چاہیے۔
ماخذ:  دی ہندو،جمعرات 4 مئی 2006

ان سبھی ساختی تبدیلیوں کے ساتھ ثقافتی تبدیلیاں بھی واقع ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم اگلے باب میں گفتگوکریں گے۔ ان دونوں کوقطعیت کے ساتھ الگ الگ کرنا مشکل ہے۔جیسا کہ آپ دیکھیں گے کہ ثقافتی تبدیلیوں کے ذکر کیے بغیر شناختی تبدیلیوں پر بحث مشکل ہے۔

سرگرمی1.1

عام زندگی میں استعمال کی جانے والی ایسی چیزوں جیسے فرنیچر یاغذا کی قسم یا ہندوستانی زبانوں میں کہاوتوں ومحاوروں وغیرہ کے بارے میں سوچیں جن کا تعلق برطانوی نوآبادتی دور کے ہمارے ماضی میں تلاش کیاجاسکتا ہے۔

کسی بھی ہندوستانی زبان میں ناول،افسانہ، فلم یا ٹیلی ویژن سیریل کی شناخت کریں جو استعماریت کے دور کی یاددلاتے ہوں۔اس کے متعدد پہلوؤں پر بحث کریں۔

آپ نے فلم یا ٹیلی ویژن سیریل میں عدالتی کارروائی کا منظردیکھاہوگا۔کیا آپ نے ان کاروائیوں پر غورکیا ہے؟اِن میں زیادہ تر برطانوی نظام سے ماخوذ  ہیں۔ابھی یہ  پرانی بات نہیں ہے جب ہندوستانی جج عدالت میں مصنوعی بالوں والاٹوپ(وگ)پہناکرتے تھے۔معلوم کیجیے کہ یہ رواج کہاں سے ماخوذ ہے۔


1.1  استعماریت کی تفہیم(UNDERSTANDIN COLONIALISM)


4.
ایک سطح پرکسی ایک ملک کے ذریعہ دوسرے ملک پر حکمرانی قائم کرنا استعماریت کا سیدھا مطلب  ہے۔ جدید دور میں مغربی استعماریت سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کی ایک پہچان یہ بھی رہی ہے کہ جدید ہندوستان پر مختلف ادوار میں مختلف گروہوں نے حکومت کی ہے۔ لیکن نوآبادیاتی حکمرانی کا اثر دیگر سابقہ حکومتوں سے اس معنی میں مختلف ہے کہ اس کے سبب جو تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان کا دائرہ اثر کافی دور رس اور گہرا تھا۔تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں مضبوط طاقتوں کے ذریعہ کمزوروں کے خطے کا الحاق کیا گیا اوران پر تسلط قائم کیاگیا۔تاہم سرمایہ داری سے قبل اوربعدمیں قائم ہونے والی سلطنتوں میں کافی فرق ہے۔ سرمایہ داری دورسے قبل کے فاتحین نے کثیر مال غنیمت اور مسلسل خراج کے ذریعے اپنے غلبے کو مستحکم کیا لیکن بحیثیت مجموعی انھوں نے معاشی بنیاد کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔وہ براہِ راست خراج وصول کرتے تھے یہ معاشی زائد یا فاضل سے اخذ کیا جاتا تھا اور یہ ماتحت علاقوں میں روایتی پیداوار سے حاصل ہوتا تھا۔ (علوی(Alavi) اورشانن(Shanin)1982)
اس کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی برطانوی استعماریت نے کثیر منافع کو یقینی بنانے اوربرطانوی سرمایہ داری کے مفاد کے لیے براہِ راست مداخلت کی۔یہ ہرپالیسی برطانوی سرمایہ داری کے استحکام اوراس کی توسیع کی جانب گامزن تھی۔مثلاً اس نے ملک کے بنیادی قوانین میں تبدیلی کی۔انھوں نے نہ صرف یہ کہ زمین کی ملکیت کے قوانین کو تبدیل کیا بلکہ یہ بھی طے کیا کہ کون سی فصل پیدا کی جائے گی اورکون سی نہیں۔انھوں نے مصنوعات کے شعبہ میں بھی مداخلت کی۔اشیا کے نظامِ پیداوار اوران کی تقسیم کے طریقوں کو بدل دیا۔جنگلات میں دخل اندازی کی۔ پیڑوں کی کٹائی کرکے چائے کی کاشت شروع کی۔ جنگلات سے متعلق کئی قوانین وضع کیے جن سے چرواہوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ان کوجنگلوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جن سے ان کے مویشیوں کو پہلے چارا ملاکرتا تھا۔درج ذیل باکس میں مختصراًبتایا گیا ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی جنگلاتی پالیسی شمال مشرقی ہند پر اثرانداز ہوئی۔

باکس1.1

شمالی مشرقی ہند میں نو آبادیاتی دور کی جنگلاتی پالیسی

 بنگال میں ریلوے کی شروعات…ایک اہم موڑ ثابت ہوئی،آسام میں اس کی جنگلاتی پالیسی میں تبدیلی نظرآئی(اس وقت آسام صوبہ بنگال کا ایک حصہ تھا)یعنی اب اس کی پالیسی  عدم مداخلت کے اصول کوچھوڑ کر سرگرم مداخلت پسندی میں بدل گئی…ریلوے سلیپروں کے مطالبہ نے آسام کے جنگلات کو نوآبادیاتی انتظامیہ کے لیے غیر پیداواری  سے محصول کے نفع بخش ذرائع میں بدل دیا۔(جس میں موجود سبھی سات شمال مشرقی ریاستیں شامل تھیں)1861اور1878کے درمیان تقریباً269مربع میل کا وسیع جنگل محفوظ (ریزرو) قراردیاگیا۔ 1894تک یہ علاقہ3,683مربع میل تک پھیل گیا اوربڑھتے بڑھتے19ویں صدی کے آخر تک محکمے کے تحت جنگلات کا علاقہ 20,061 مربع میل  ہو گیا جوصوبہ کے کل علاقے کا 42.2 فی صد رقبہ تھا)۔اس میں سے3,609مربع میل محفوظ جنگلات پر مشتمل تھا…نمایاں طورپر ان جنگلات کا بڑارقبہ ان پہاڑی علاقوں میں واقع تھاجن پر قبائلی لوگوں کا قبضہ تھااورجو صدیوں سے اسی پر انحصار کرتے تھے اورفطرت کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ رہاکرتے تھے۔

(نانگ بری،2003)


5.

استعماریت نے لوگوں کی آمدورفت میں نمایاں طورپر اضافہ کیا۔ہندوستان کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں لوگوں کی آمدورفت میں آسانی پیداہوئی۔مثلاً موجودہ جھارکھنڈسے چائے کے باغات میں کام کرنے کے لیے لوگ آسام جانے لگے۔ایک نیا ابھرتا ہوا متوسط طبقہ (مڈل کلاس)بطور خاص بنگال اورمدراس کے برطانوی پریزیڈنسی سے سرکاری ملازمین ،ڈاکٹر اوروکیل جیسے پیشہ ور لوگ ملک کے مختلف حصوں میں آنے جانے لگے۔لوگوں کو جہازوں میں سوار کراکر دور دراز کے ایشیائی، افریقی اور امریکی نوآبادیاتی علاقوں میں کام کرانے لے جایاگیا۔بہت سے راستے میں فوت ہوگئے۔ اکثر واپس نہیں آسکے۔ آج بھی ان کی نسلوںکو ہندوستانی نژاد عوام کے طورپرجاناجاتا ہے۔
اپنے حکومتی کام کاج کو آسان بنانے کے لیے استعماریت نے مختلف میدانوں میں زبردست تبدیلیاں کیں۔یہ تبدیلیاں قانونی،ثقافتی یا تعمیراتی وغیرہ میدانوں میں رونماہوئی۔استعماریت درحقیقت وسیع پیمانے پراورتیزی سے لائی گئی تبدیلیوں کی کہانی تھی۔ ان میں سے بعض تبدیلیاں دانستہ طورپر انجام دی گئیں تھیں جب کہ بعض غیرارادی طورپر۔جیساکہ ہم نے دیکھا کہ مغربی تعلیم کی شروعات برطانونی استعماریت  کے انتظام و انصرام میں مدد کے لیے ہندوستانیوں کو تیارکر نے کی غرض سے ہوئی تھی لیکن یہ قوم پرستانہ اورنوآبادی مخالف شعورکی بیداری کا ذریعہ بنی۔
استعماریت کے ذریعہ لائی گئی ساختی تبدیلیوں کی وسعت  اورگہرائی کو سمجھنے کے لیے سرمایہ داری کی چند بنیادی خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سرمایہ داری ایک ایسا معاشی نظام ہے جس میں پیداوار کے وسائل کی ملکیت نجی ہوتی ہے اورایک بازاری نظام میں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے انھیں منظم کیاجاتا ہے۔(ہم پہلی کتاب’ ہندوستانی سماج میں سرمایہ دارانہ بازار‘ پرگفتگو کرچکے ہیں)۔مغرب میںسرمایہ داری کی شروعات ایک پیچیدہ عمل کے ذریعہ ہوئی جس میں بطور خاص یورپ کے ذریعہ باقی دنیا میں امکانات کی  تلاش،دولت اوروسائل کی لوٹ،سائنس اورٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی اورصنعت وزراعت کوبروئے کارلانابھی ہے۔ سرمایہ داری کواس کے تحرک،قوت نمو،توسیع ،اس اختراع،تکنیک اور زیادہ سے زیادہ منافع کو یقینی بنا نے کے لیے محنت کے بہتر استعمال کے لیے جاناگیا۔ اس کا عالمی مزاج بھی اس کی پہچان بنا۔ہندوستان جیسے نوآبادیاتی ملکوں میں جس طرح سے سرمایہ داری کو فروغ ملا اس کا بھی کافی اثر پڑا۔ اگلے  حصے صنعت کاری اورشہرکاری میں  ہم دیکھیں گے کہ استعماریت کس طرح نہایت مخصوص انداز میں ابھری۔
اگر سرمایہ داری غالب معاشی نظام ہو جائے،تووہ قومی ریاستیں غالب سیاسی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔ ہم سبھی قومی ریاستوں میں رہتے ہیں یا قومی شہریت آج ہمیں فطری دکھائی دیتی ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل بین الاقوامی سفر کے لیے پاسپورٹ کا استعمال بالعموم نہیں کیاجاتا تھا اورزیادہ تر علاقوںمیں ہی کچھ لوگوں کے پاس یہ ہوا کرتا تھا۔تاہم سماج ہمیشہ ان خطوط پر منظم نہیں تھے۔ قومی ریاست ایک خاص قسم کی ریاست پر مشتمل ہوتی ہے،یہ جدیددنیا کی امتیازی صفت ہے۔ متعینہ سرحدوںمیں حکومت  کے پاس قومی خود مختاری ہوتی ہے اوراس میں رہنے والے لوگ ملک کے شہری ہوتے ہیں۔قومی ریاستوں کا تعلق قوم پرستی کے عروج کے ساتھ کافی گہرا ہے۔قوم پرستانہ کے نظریے  کے مطابق  لوگوں کے کسی بھی گروہ کو آزادی،اور قومی خود مختاری کاحق حاصل ہے۔ یہ جمہوری نظریات کے ابھرنے کا ایک اہم جزہے۔اس کے بارے میں آپ باب3میں مزید تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔ آپ کو حیرت  ہوگی کہ استعماریت کا عمل ، قوم پرستی کا اصول اورجمہوری حقوق باہم متضاد ہیں۔نوآبادیاتی حکومت کااطلاق غیر ملکی حکمرانی  پر ہوتا ہے جیسے کہ ہندوستان پر برطانوی حکمرانی،قوم پرستی کا مفہوم ہے کہ ہندوستان یا کسی بھی نوآبادیاتی سماج کے لوگوں کو  خود مختار یا سوراج ہونے کا مساوی حق حاصل ہے۔ ہندوستان کے قوم پرست رہنماؤں نے اس  ستم ظریفی کو جلد ہی سمجھ لیااور اعلان کردیا کہ آزادی یا سوراج ان کا پیدائشی حق ہے ۔انھوں نے سیاسی اورمعاشی دونوں طرح کی آزادی کے لیے جنگ کی۔
باکس1.2
1834سے لے کر1920تک ہندوستان کی بندرگاہوں سے مستقل  جہاز جایاکرتے تھے۔جن میں مختلف مذاہب، جنس،طبقات اورذات کے لوگ ہوتے تھے۔ان کوکم از کم پانچ سال کے لیے ماریشس کے باغات میں مزدوری کرنے کے لیے پہنچایاجاتا تھا۔ کئی دہائیوں تک لوگوں کی بھرتی کے لیے بہار میں بطور خاص پٹنہ، گیا، آرا، سارن،ترہوت،چمپارن،مونگیر(Monghyr)، بھاگل پور اورپورنیہ اضلاع کو مرکز بنایاگیا تھا۔ (پائینو 1984)

(URBANISATION AND INDUSTRIALISATION)           1.2شہرکاری اورصنعت کاری

(THE COLONIAL EXPERIENCE)نوآبادیاتی تجربہ


صنعت کاری مشین کے ذریعہ کی جانے والی پیداوار کی شروعات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو بے جان توانائی اور وسائل جیسے بھاپ یا بجلی کے استعمال پر مبنی ہے۔سماجیات کی نہایت معیاری مغربی درسی کتب میں ہم پڑھتے ہیں کہ انتہائی ترقی یافتہ روایتی تہذیبوں میں بھی زیادہ تر لوگ زراعت کے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔تکنیکی ترقی کی نسبتاًکم ترسطح میں زرعی پیداوار سے بہت ہی کم لوگوں کو الگ کرنے کی گنجائش تھی۔اس کے برخلاف صنعتی سماج کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ زراعت کے مقابلے کارخانوں،دفتروں یا دکانوں میں برسرروزگارآبادی کی ایک بڑی اکثریت کام کرتی ہے۔مغرب میں 90فی صد سے زیادہ لوگ قصبوں اورشہروں میں کام کرتے ہیں جہاں زیادہ کام ملتے ہی ہیں اور نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم عام طورپر شہر کاری کو صنعت کاری کے سے جوڑدیتے ہیں۔اکثریہ عمل ساتھ ساتھ ہوتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیںہوتا۔
مثلاً برطانیہ صنعت کاری سے گزرنے والا پہلا سماج تھا اوردیہی ملک سے نمایاں طورپر ایک شہری ملک بننے میں بھی سب سے پہلا تھا۔
1800میں10,000باشندوں والے قصبوں اورشہروں میں پوری آبادی کے20فی صد لوگ رہتے تھے۔1900تک یہ تناسب بڑھ کر74فی صد کا ہوگیا۔دارالحکومت لندن میں1800میں تقریباً1.1ملین لوگ رہاکرتے تھے۔بیسویں صدی کی شروعات تک آبادی کا حجم اتنا بڑھ گیا کہ اس کی تعداد 7ملین تک ہوگئی۔لندن اس وقت تک دنیاکا سب سے بڑا شہر تھا۔ یہ ایک بڑاصنعتی ،تجارتی اورمالیاتی مرکز تھا جو مستقل پھیلتی ہوئی برطانوی سلطنت کامرکز بن چکاتھا۔ (گڈنس2001; 572:)
برطانوی صنعت کاری ہندوستان کے بعض شعبوںمیں عدم صنعت کاری  (deindustrialisation)  کا سبب ہوئی۔قدیم شہری مراکز زوال پذیر ہوئے۔ برطانوی صنعت میں تیزی مینچسٹرے مقابلے کے باعث ہندوستان  سے تیار کپاس اورریشم مصنوعات کی روایتی برآمدات میں بھی گراوٹ  کا سبب ہوئی۔یہ دور سورت اورمسولی پٹنم جیسے شہروں کا زوال اورممبئی ومدراس کے عروج کا بھی شاہد ہے۔ برطانیہ نے جب ہندوستانی ریاستوں پر قبضہ کیا توتنجور،ڈھاکہ اورمرشدآباد جیسے شہروں کے درباروں کو بھی زوال ہوااوران درباروں سے وابستہ کاریگروں اور اس سے متعلق لوگوں کا بھی زوال ہوا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کے چند جدید شہروں میں مشینی صنعتیں لگانے کے ساتھ ساتھ بعض شہروں کی آبادی کافی بڑھ گئی۔

6.
7.

ڈھاکہ یامرشدآباد کی اعلا معیار کی ریشم اورسوت جیسے آسائشی اشیاتیارکرنے والے شہری صنعت پر ملکی دربار کے مطالبہ میں کمی اوربیرونی ممالک کے بازار (جن پر وہ کافی حد تک منحصرتھے)کے تقریباًساتھ ساتھ واقع ہونے والے سقوط کے سبب زبردست چوٹ پڑی۔ اندرونی علاقوں کی دیہی دست کاری پر اورخاص کر مشرق کے ان علاقوں کے علاوہ جہاں انگریزوں کا داخلہ سب سے پہلے اورکافی گہرائی تک تھا، غالباًزیادہ عرصے تک محفوظ رہیان پر  ریلوے کی وسعت کے ساتھ زبردست اثرہوا۔(سرکار
1983:29)

باکس1.3

ہندوستان کی مردم شماری رپورٹ،1911 (The Census of India Report,1911)

جلد1.،صفحہ408ہندوستان میں سستے یورپی کپڑوں اوربرتنوں کی وسیع درآمدات اورخود مغربی قسم کی مختلف فیکٹریوں کے ہندوستان میں قائم ہونے کے سبب بہت سی دیسی صنعتوں کا تقریباً صفایاہی ہوگیا۔ زرعی پیداوار کی اونچی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے دیہی کاریگروں نے اپنے خاندانی پیشہ کو چھوڑ کر کھیتی کرنا شروع کردی۔ اس دیھی تنظیم کا انتشار ہر حصے میں الگ الگ رفتار سے ہوا۔ زیادہ ترقی یافتہ صوبوں میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں دیکھی گئی۔


برطانیہ میں صنعت کاری کے اثر سے زیادہ ترلوگ شہری علاقوں کی طرف منتقل ہوئے لیکن اس کے برعکس ہندوستان میں اس برطانوی صنعت کاری کے ابتدائی اثرسے لوگوں نے زراعت کی طرف رخ کیا؛ ہندوستان کی مردم شماری اسے واضح طورپر ثابت کرتی ہے۔
سماجیاتی تحریروں میں ہندوستان میں استعماریت کے متناقض اورغیر مطلوبہ نتائج کے بارے میں اکثر ذکر کیاجاتا ہے۔مغربی صنعت کاری اوراس کے نتیجے میں
 ابھرنے والے متوسط طبقے کا موازنہ ہندوستان میں صنعت کاری کے تجربات کے ساتھ کیاجاتا رہا ہے۔ایسی ہی ایک جھلک باکس میں دی گئی تفصیل سے ملتی ہے۔درج ذیل دلیل سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صنعت کاری کا مطلب صرف مشینوں پر مبنی مصنوعات ہی نہیں بلکہ یہ ایک نئے سماجی گروہوں اورنئے سماجی تعلقات کے مضبوط ہونے  کی 
کہانی بھی ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ ہندوستان کی سماجی ساخت میں تبدیلیوں کے بارے میں ہے۔

باکس1.4

ایسٹ انڈیاکمپنی اوربعدازاں برطانوی حکومت نے جو متبادل پیش کیے ان میں زمین کی ملکیت اورانگریزی میں تعلیم کی سہولیات شامل تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو  زرعی پیداواریت  سے کوئی تعلق نہیں تھا اور دوسرے کو ہندوستانی روایت کے اصل دھارے سے کیوں یہ دونوں مناسب متوسط طبقہ نہیں پیدا کر سکے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ زمین دار زمین کے طفیلی بن گئے اورگریجویٹ محض ملازمت کے تلاش کرنے والے (مکھرجی1979:114)

برطانوی سامراج کے معاشی نظام میںشہروں کا کردار نہایت اہم تھا۔ممبئی ،کولکاتا اورچنئی جیسے ساحلی شہروں کو موافق مانا گیا۔کیوں کہ ان مقامات سے  قابل استعمال ضروری اشیا کو آسانی سے برآمد کیا جا سکتا تھا ۔اس کے ساتھ ہی  تیار شدہ اشیا  کو سستی لاگت میں  درآمدبھی کیا جا سکتا تھا۔نوآبادیاتی شہر برطانیہ میں واقع معاشی مراکز اور نوآبادیاتی ہندوستان میں حاشیے پر واقع شہروں کے درمیان اہم کڑی تھے۔ اس طرح یہ شہر عالمی سرمایہ داری کی ٹھوس مثال تھے۔ مثلاً برطانوی ہندوستان میں ممبئی کی منصوبہ بند ی کی گئی اور اسے نئے سرے سے ترقی دی گئی۔1900تک ہندوستان کا ایک تہائی کچے کپاس کو جہاز سے باہر بھیجاجاچکا تھا۔ کولکاتا سے جوٹ کی برآمد ہوتی تھی جب کہ چنئی سے قہوہ، چینی، نیل اورکپاس برطانیہ کو برآمد کیا جاتا تھا۔
نوآبادیاتی دور میں شہرکاری کے سبب پرانے شہروں کا وجود کمزور ہوتاگیا اوران کی جگہ نئے نئے نو آبادیاتی شہر ابھرے۔ کولکاتا ایسا پہلا شہر تھا۔ 1690میں ایک انگریز تاجر جاب چارناک نامی نے ہگلی ندی کے ساحل سے متصل تین گاؤں(کولکاتہ، گووندپوراورسوتانتی )کو پٹے پر لیا۔ اس کا مقصد ان تینوں گاؤں میں تجارتی مراکز بناناتھا۔ ہگلی ندی کے کنارے ہی1698میں فورٹ ولیم کو دفاعی مقاصد کے لیے قائم کیاگیااور قلعہ سے متصل علاقے کو  عسکری مصروفیات کے لیے  صاف کیا گیا۔ قلعہ اور کھلے علاقے کو  شہر کا مرکز  قرار دیا گیا۔ یہ شہر تیزی کے ساتھ ابھرا۔

سرگرمی1.2
تینوں شہروں کی شروعات کے بارے میں مزید دریافت کریں۔
ان کے قدیم ناموں کے بارے میں بھی مزید معلومات حاصل کریں جنہیں بدل کر اب بمبئی سے ممبئی، مدراس سے چنئی،کلکتہ سے کولکاتہ، بنگلور سے بنگلوروکیاگیا ہے۔
دیگر نو آبادیاتی شہروں کی ترقی کے بارے میں پتہ لگائیں۔

باکس1.5

جنوبی ایشیا کے نوآبادیاتی شہر کا ایک ماڈل

 یورپی شہر میں…وسیع بنگلے،سجے ہوئے مکانات،منصوبہ بند سڑکیں،سڑک کے دونوں کناروں پر درخت…دوپہراورشام کو ملاقات کے لیے کلب…کھلی جگہوں کو مغربی تفریحی سہولیات جیسے گھڑدوڑ،گولف،فٹ بال اورکرکٹ کے لیے محفوظ رکھاگیاتھا؛جب پینے کے لیے پانی کی فراہمی، بجلی کے کنکشن،گندے پانی کی نکاسی کے انتظامات دستیاب تھے  یا تکنیکی طورپر ممکن تھے  یورپی شہر کے باشندوں نے ان کابھرپور استعمال کیالیکن ان سہولتوں کا استعمال صرف یورپ نژادکے لیے ہی تھا (دتّ:1993:361)


چائے کی باغ بانی (THE TREE PLANTATIONS)

یہ پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے کہ ہندوستان میں صنعت کاری اورشہرکاری برطانیہ کی طرح نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ صنعت کاری کی شروعات دیر سے ہوئی بلکہ جدید دور میں ہماری ابتدائی صنعت کاری اورشہرکاری نوآبادیاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے کی گئی تھی۔
8.
چائے کا باغ

یہاں ہم مختلف صنعتوں کے بارے میں تفصیل سے بات نہیں کرسکتے بلکہ  ہندوستان میں صرف چائے کی باغ بانی یا صنعت کوبطور مثال پیش کریں گے۔
باضابطہ رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ نوآبادیاتی حکومت کس طرح مزدوروں کی بھرتی غلط طریقے سے کرتی تھی اوران سے جبری طورپر کام لیاکرتی تھی۔ یہ عمل واضح طورپر برطانوی باغ بانوں کے مفاد میں انجام دیاجاتا تھا۔کہانیوں اوردیگر رودادوں سے ہمیں اس صنعت میں باغ بانوں کی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
نوآبادیاتی منتظمین یہ مان کرچلتے تھے کہ باغات کے مالکان کے مفاد کو یقینی بنانے کے لیے مزدوروں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔وہ اس بات سے بھی مکمل طورپر آگاہ تھے کہ نوآبادیاتی ملک کے قوانین ان جمہوری  اصولوں سے بندھے نہیں رہ سکتے جن کی پابندی وہ اپنے ملک میں کرتے ہیں۔
9.
چائے کے پتیاں توڑتی ہوئی خاتون

باکس1.6

مزدوروں کی بھرتی کس طرح ہوتی تھی؟

1851میں چائے صنعتوں کی ہندوستان میں شروعات ہوئی۔ زیادہ ترچائے کے باغات آسام میں تھے۔1903تک 4,79,000مستقل اور93,000 عارضی ملازمین یہاں کام کرتے تھے۔ چوں کہ آسام کی آبادی گھنی نہیں تھی اورچائے کے باغات زیادہ تر سنسان پہاڑی علاقوں میں واقع تھے۔ اس لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کو دوسرے صوبوں سے لانے کی ضرورت تھی۔ دوردراز کے مقامات سے ہرسال ہزاروں لوگوں کو ایسے اجنبی مقامات میں رکھنا جہاں کی آب وہوا غیر صحت مندہو اورعجیب و غریب بخار سے متاثر جہاں مالیاتی اوردیگرترغیبات کی ضرورت تھی لیکن اسے دینے کے لیے باغات کے مالک آمادہ نہیں تھے۔ اس کے بجائے انھوں نے فریب دہی اورجبر کاسہارالیا۔ انھوں نے حکومت سے مددطلب کی اورتعزیری قوانین پاس کروا کے اپنے جرم میں حکومت کو معاون بنایا…آسام کے چائے باغات کے لیے مزدوروں کی بھرتی سالوں تک ہوتی رہی۔ یہ کام زیادہ تر ٹھیکے داروں کے ذریعہ بنگال کے ٹرانسپورٹ آف نیٹولیبررزایکٹ نمبر(III)  The Transport of Native Labourers Act(No.III) ،1863کے شقوں کے ذریعہ انجام دیاگیا۔اس میں 1865،1870 اور 1873میں ترمیم کی گئی۔


باکس1.7

کرزن کی تقریرIIسے ماخوذ صفحہ9-238

آسام جانے والے مزدوردراصل اقرار نامے کے تحت کئی سالوں کے لیے وہاں گئے تھے۔ معاہدہ  پورا نہ کرپانے کی صورت میں سزا کو منظوری دے کر حکومت نے باغات کے مالکوں کی مدد کی تھی۔

اس خیال کو لاممبرٹی۔رالیگھ نے1901کے آسام لیبراینڈ امیگریشن بل پر بولتے ہوئے واضح کیاتھا؛ کہ ’’پٹے پر یامعاہدے کے تحت لیے گئے مزدوروں کے لیے اس بل کے ذریعہ یہ مجاز بنایاگیا ہے۔ آسام کے لیے قرار سے قبل وہ اچھی طرح جان لیں کہ وہ کیا کررہے ہیں اوران کو چارسال کے اپنے وعدے کو  نبھانا ہے اور انھیں اگر وہ اسے انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں توانھیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی جا سکتی ہے۔مالک اورنوکر سے متعلق عام قانون میں اس طرح کی شرائط نہیں رہتیں لیکن ہم نے قصداًاورآسام کے چائے باغات کے مالکان کے فائدے کے لیے برطانوی ہندوستان میں انھیں قانون کا حصہ بنایاہے…حقیقت تویہی ہے کہ اس قانون بنانے کا اصل محرک  چائے  باغ مالکان کا مفاد  ہے نہ کہ قلی(مزدور)کا مفاد دیکھنا ۔     

(بحوالہ:آئی سی پی،1901،جلدXI،صفحہ133،چندرا1966:361.2)


باکس1.6اور1.7کے لیے مشق

مندرجہ بالا باکس کوپڑھیں اوربحث کریں:

 کام کو منضبط کرنے میں نوآبادیاتی حکومت اوراس کی قانون سازی کا کردار۔

برطانوی چائے باغ مالکان کی مدد میں نوآبادیاتی ریاست کا کردار۔

دریافت کریں کہ آج کل ان مزدوروں کی نسلیں کہاں کام کرتی اوررہتی ہیں۔

مزدوروں کی زندگیوں کے بارے میں جاننے کے بعدیہ ضروری ہے کہ دیکھیں کہ چائے باغات کے مالک کیسے رہا کرتے تھے۔

باکس1.8

باغات کے مالک کیسے رہاکرتے تھے؟

سامان لادنے اوراتارنے کے لیے پربت پوری ایک اہم جگہ تھی۔ پربت پوری کے آس پاس کے باغات کے صاحب بہادر انگریز منیجراوران کی میمیں ہمیشہ اسٹیمرسے اتراکرتی تھیں۔ویسے توان کے باغات دوردراز ہی واقع تھے لیکن ان کی زندگی عیش وآرام سے گزرتی تھی۔ان کے وسیع بنگلے مضبوط لکڑی کے پائے پر واقع تھے اورگھرے ہوئے تھے تاکہ جانوروں سے محفوظ رہیں۔اس بنگلے کے چاروں طرف مخملیںباغ تھے جن کی رونق رنگ برنگے پھولوں کی قطاروں سے بڑھ جاتی تھی…انھوں نے بڑی تعداد میں مالیوں،باورچیوںاورنجی نوکروں یا بیروں کی اس طرح تربیت کررکھی تھی کہ وہ بہتر سے بہترخدمات انجام دے سکیں۔ ان کے وسیع برآمدے والے بنگلے اس خاص طرز کے نوکروں کی فوج کی خدمات کی انجام دہی کے سبب چمکتے دمکتے رہاکرتے تھے۔

بے شک،ہرچیزخواہ برتن صاف کرنے کاپاؤڈرہویا خمیر ملاہوا آٹا،سیفٹی پن سے لے کر چاندی کے برتن تک،خوب صورت ملائم ناٹنگھم لینس والی میز پوشوں سے لے کر نہانے کے صابنوں تک سب کچھ اسٹیمروں کے ذریعہ ندی کنارے آیاکرتے تھے۔لوہے،کاربن اورسلیکان ملاکرڈھالے گئے سخت دھات کے بڑے بڑے نہانے کے ٹب جو کہ انتہائی بڑے بڑے حماموں میں رکھے جایاکرتے تھے،انھیں ہر دن صبح صبح بھشتی بنگلے کے کنویں کے پانی سے بھردیاکرتاتھا۔ یہ نہانے کے ٹب بھی درحقیقت اسٹیمرسے ہی آتے تھے۔(پھوکن 2005)


آزاد ہندوستان میں صنعت کاری (INDUSTRIALISATION IN INDEPENDENT INDIA)

پچھلے حصے میں ہم نے دیکھاکہ ہندوستان میں ہونے والی صنعت کاری اورشہرکاری میں نوآبادیاتی ریاست نے کس طرح اہم کردار نبھایا۔اس حصے میں ہم مختصراًجانیں گے کہ صنعت کاری کوفروغ دینے میں آزاد ہندوستانی ریاست نے کس طرح سرگرم کردار ادا کیا۔ ہندوستان میں صنعت کے نمو پر استعماریت نے جو اثرڈالاوہ ایک طرح کا جوابی عمل بھی تھا۔ باب5میں ہم ہندوستانی صنعت کاری اور اس میں آنے والی تبدیلیوں خاص کر1990کے بعدہوئی نرم کاری کے بارے میں بحث کریں گے۔
ہندوستانی قوم پرستوں کے لیے نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت ہونے والامعاشی استحصال ایک بنیادی مسئلہ تھا۔استعماریت سے پہلے کے ہندوستان کی جوتصویر حکایتوں اور روایتوں سے ابھرتی ہے وہ ہندوستان کی خوش حالی کااظہار تھی۔یہ شبیہہ برطانوی ہندوستان کی غربت کی شبیہہ سے بالکل متضادتھی۔سودیشی تحریک کے ذریعہ ہندوستان کی معیشت کے تئیں۔وفاداری میں مزید اضافہ ہوا۔جدید خیالات نے لوگوں کو احساس دلایا کہ غریبی کو روکا جاسکتا ہے۔ہندوستانی قوم پرستوں نے خیال کیا کہ معیشت کی تیز ترین صنعت کاری وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ ترقی اورسماجی برابری دونوں کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بھاری اورمشین بنانے والی صنعتوں کی ترقی، عوامی شعبہ کی  توسیع اور بڑے کوآپرٹیو سیکٹر کے قیام کو نہایت اہم سمجھاگیا۔
جواہر لعل نہرو نے ایک جدیداورخوش حال ہندوستان کا خواب دیکھا۔ اس کی بنیاد بڑے اسٹیل کا رخانوں یا بڑے اوراونچے باندھوں اوربرقی مراکز پر رکھی جانی ہے۔آپ بھاکڑانانگل بند پر نہرو کے خیالا ت دیکھیں۔
ہمارے انجینئرہمیں بتاتے ہیں کہ غالباًاس کے جیسا بڑااوراونچا بند دنیا میں کہیں نہیں ہے۔اس کے کام میں دشواریاں اورپیچیدگیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔جب میں اس کے آس پاس گھوم رہا تھا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ان دنوں لوگ بڑے مندروں،مسجدوں اورگرودواروں میں نوع انسانی کی بھلائی کے کام کرتے ہیں۔اس وسیع بھاکڑہ نانگل سے بہتر اوربڑی کون سی جگہ ہوگی جہاں ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ایک ساتھ کام کیا۔لوگوں نے یہاں اپنا خون پسینہ بہایااوریہاں تک کہ اپنی جانیں قربان کردیں۔اس سے اچھی اورکون سی جگہ ہوگی؟(نہرو1980:214)

سرگرمی 1.3
آپ سب امول مکھن اور اس کی دیگر مصنوعات سے تو واقف ہوں گے معلوم کریں کس طرح اس دو دو کی صنعت کی شروعات ہوئی؟

باکس1.9

1938میں آزادی کے تقریباًایک دہائی قبل قومی منصوبہ بندی کمیٹی کی تشکیل ہوئی تھی جس کے چیئرمین جواہر لعل نہرو اورکے۔ٹی۔شاہ جنرل آڈئیٹرتھے۔اسے انڈین نیشنل کانگریس کے ذریعہ قائم کیاگیاتھا۔1939میں کمیٹی نے اپنا کام شروع کیا، لیکن یہ زیادہ آگے نہیں بڑھ پائی کیوں کہ اس کے چیرمین نہروکو برطانوی حکومت نے گرفتار کرلیااوربعدمیں عالمی جنگ بھی شروع ہوگئی۔ان رکاوٹوں کے باوجود 29ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں قومی زندگی کے تمام پہلوؤں کے مد نظر  آٹھ گروپوں میں تقسیم کیاجاناتھا اورمقررہ منصوبے کے مطابق کام کرنا تھا۔ اہم شعبوں پر کمیٹی نے اپنی توجہ مبذول کی وہ درج ذیل ہیں۔

(a) زراعت اورابتدائی پیداوار کے دیگر وسائل

(b) صنعتیں یاپیداوار کے ثانوی وسائل

(c) انسانی عامل:لیبر اورآبادی

(d) مبادلہ اورمالیات

(e) عوامی سہولیات:نقل وحمل اورمواصلات

(f) سماجی خدمات:صحت اور ہاؤسنگ

(g) تعلیم:عام اورتکنیکی

(h) منصوبہ بندمعیشت میں عورتوں کا کردار

ذیلی کمیٹیوں میں بعض نے اپنی آخری رپورٹیں اورمتعدد دیگر عارضی رپورٹیں ہندوستان کی آزادی سے قبل داخل کیں۔49-1948میں کئی رپورٹیں پیش کی گئیں۔
پلاننگ کمیشن مارچ1950میں حکومت ہند کی ایک قرارداد کے ذریعہ قائم کیاگیا۔یہ قرار داد کمیشن کے کام کاج اوردائرۂ عمل کو متعین کرتا ہے۔
سرگرمی1.4
آزادی کے بعد کے سالوں میں ہندوستان میں کئی صنعتی شہروں کی شروعات اورترقی ہوئی۔غالباًآپ میں سے کچھ ایسے شہروں میں رہتے بھی ہوں گے۔
بوکارو،بھیلائی،رورکیلااوردرگاپور جیسے شہروں کے بارے میں معلومات یکجا کریں۔کیا آپ کے علاقے میں بھی ایسے شہر ہیں؟
کیاآپ کو ان شہروں کے بارے میں خبر معلوم  ہے جوفرٹیلائزرپلانٹ اورتیل کے کنووں کے آس پاس بسے ہوئے ہیں ۔

آزاد ہندوستان میں شہرکاری

آپ کو ہندوستان میں مستقل شہرکاری کے بارے میں توضرور پتہ ہوگا۔عالم کاری کے حالیہ برسوں میں شہروں کی زیادہ سے زیادہ توسیع ہوئی ہے اوراس میں تبدیلیاں آئی ہیں ۔ باب 6 میں اس کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیاجائے گا۔ ہندوستان میں 21صدی میں شہر کاری کا عمل بہت تیز ہوتا نظر آتا ہے۔حکومت ہند کا اسمارٹ سٹی، منصوبہ اسی رفتار کو مزید تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اکیسویں صدی کے ہندوستان میں حکومت ہند کے شروع کردہ ’’اسمارٹ شہر‘‘ کے حوصلہ مند اسکیم کی وجہ سے شہرکاری کی رفتار کافی تیز ہو جائے گی۔ ہم سماجیاتی نظریے سے ہندوستان میں شہرکاری کی مختلف اقسام کو دیکھیں گے۔

10.
آزادی کے بعد کی دو دہائیوں میں ہندوستان میں شہرکاری کا اثرواضح طورپر نظرآنے لگاتھا۔ شہرکاری کئی طرح سے ہورہی تھی۔اس پر خیال ظاہر کرتے ہوئے ماہر سماجیات ایم۔ایس۔اے۔راؤ نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے کئی گاؤں بھی تیزی سے کثیرآبادی والے شہرکے زیر اثر آرہے ہیں۔ شہریا قصبے سے گاؤں کے تعلق کی نوعیت طے کرتی ہے کہ شہر کے اس پر کیسے اثرات ہوں گے۔ انھوں نے شہری اثرات کی تین مختلف صورتوں کا بیان کیا ہے جیسا کہ باکس میں دیا گیا ہے ۔

باکس1.10

سب سے پہلے تو وہ گاؤں آتے ہیں جہاں سے خاصی تعداد میں لوگ دوردراز کے شہروں میں روزگار  کے لیے جاتے ہیں۔وہ ان شہروں میں رہتے ہیں لیکن ان کے خاندان کے ارکان گاؤں میں ہی رہتے ہیں۔شمال مغربی ہندوستان کے ایک گاؤں مادھوپور میں298 گھروں میں77 گھرایسے ہیں جن کے ممبر مہاجر ہیں اور کل مہاجروں میں نصف سے تھوڑا کم ہیں جوممبئی اورکولکاتہ میں کام کرتے ہیں۔کل مہاجروں میں75 فی صد ایسے ہیں جو گاؤں میں اپنے کنبہ کو باقاعدہ طورپر رقم بھیجتے ہیں اور83  فی صد مہاجر ہر سال یاچارسے پانچ بار یا دوسال میں ایک بار اپنے گاؤں آتے ہیں۔بہت سارے مہاجر صرف ہندوستانی شہروں میں ہی نہیں بلکہ غیر ملکوں میں بھی رہتے ہیں جیسے کہ گجرات کے گاؤں کے کئی مہاجر افریقہ اوربرطانیہ کے شہروں میں ہیں۔ان لوگوں نے اپنے گاؤں میں جدید فیشن کے مکان بھی بنائے ہیں۔انھوں نے زمین وجائیداد میں سرمایہ کاری کی ہے اور تعلیمی ادارے اورفلاح وبہبود کے لیے قائم ٹرسٹوں کو چندہ بھی دیا ہے…

دوسری طرح کے شہری اثرات ان گاؤں میں دیکھے جاتے ہیں جو صنعتی شہروں کے قریب واقع ہیں۔جب ایک بھیلائی جیسا صنعتی شہر ابھرتا ہے تو اس کے آس پاس کے کچھ گاؤں کی پوری زمین اس شہر کا حصہ بن جاتی ہے جب کہ کچھ گاؤں کی زمین جزوی طورپر حاصل کرلی جاتی ہے۔ایسے شہروں میں مہاجر آتے ہی رہتے ہیں جس سے گاؤں میں مکانوں کامطالبہ بڑھ جاتا ہے اور بازار کی توسیع ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ہی مقامی باشندوں اورمہاجروں کے بیچ کے رشتوں کو متوازن کرنے کامسئلہ بھی پیداہوجاتا ہے۔

بڑے شہروں کی نمواورترقی تیسرے قسم کا شہری اثر ہے جس سے قریبی گاؤں متاثر ہوتے ہیں۔ شہروں کی توسیع میں کچھ سرحدی گاؤں پوری طرح سے شہر کی وسعت میں کھوجاتے ہیں جب کہ وہ علاقے جہاں لوگ نہیں رہتے شہری ترقی کے لیے استعمال کرلیے جاتے ہیں۔

راؤ:(490-1974:486)

باکس1.10کے لیے مشق
درج بالابیان کو غورسے پڑھیں۔غالباًآپ نے کچھ الگ قسم کا یا اوپر دی گئی قسم کی شہرکاری دیکھی اورتجربہ کیاہوگا،اس کے بارے میں مختصراًلکھیں۔سبھی طلبا ایک دوسرے کے تجربات پر غورکریں۔

                               منتخب میٹروپولیٹن شہروں( اربن اگلو مریشن) کی آبادی
                                ہندوستان میں شہری آبادی اور اربن اگلو مریشن/قصبے
                                                 (1951-2011)
11.
                          منتخبہ میٹرو پولیٹن شہروں میں آبادی کی دس سالہ ترقی کی شرح(فی صد میں)
                                               ہندوستان میں شہری آبادی
                                                  کی شرح اور فی صد
                                                 (1951-2011)

ماحصل

اب کو یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ استعماریت صرف تاریخ کا موضوع ہی نہیں بلکہ یہ آج بھی ہماری روزمرہ کی زندگی میں پیچیدہ طورپر موجود ہے۔اس باب سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ صنعت کاری اورشہرکاری کا مطلب صرف نظام پیداوار میں تبدیلیاں تکنیکی اختراعات،بستیوں کا گھناہونا ہی نہیں بلکہ ہماری طرززندگی بھی ہے ورتھ 1938۔آپ آزاد ہندوستان میں صنعت کاری اورشہرکاری کے بارے میں مزید تفصیل کے ساتھ باب 5اور6میں پڑھیں گے۔

سوالات

استعماریت کا ہماری زندگی پر کس طرح اثر پڑاہے؟آپ یا تو کسی ایک پہلو جیسے ثقافت یاسیاست کو مرکز میں رکھ کر یا سارے پہلوؤں کو جوڑ کر تجزیہ کرسکتے ہیں۔
صنعت کاری اورشہرکاری باہمی تعلق عمل ہے ،بحث کیجئے۔ 
کسی ایسے شہر یا قصبے کو منتخب کریں جس سے آپ اچھی طرح واقف ہوں۔اس شہریاقصبے کی تاریخ،اس کی ابتدا اور ارتقا اور موجودہ صورتحال پر غورکریں۔
کیاآپ ایک چھوٹے قصبے میں یا بہت بڑے شہر یا نیم شہری بستیوں میں رہتے ہیں؟
جہاں آپ رہتے ہیں اس جگہ کابیان کریں۔
وہاں کی خصوصیات کیا ہیں،آپ کوکیوں لگتا ہے کہ وہ ایک قصبہ ہے،شہر نہیں،ایک گاؤں ہے قصبہ نہیں یا شہر ہے گاؤں نہیں؟
جہاں آپ رہتے ہیں کیا وہاں کوئی کارخانہ ہے؟
کیالوگوں کا خاص پیشہ زراعت ہے؟
کیاپیشہ ورانہ مزاج فیصلہ کن انداز میں موثر ہے؟
کیا وہاں عمارتیں ہیں؟
کیا وہاں تعلیمی مواقع دستیاب ہیں؟
لوگ وہاں کیسے رہتے ہیں اورکیسابرتاؤ کرتے ہیں؟
لوگ کس طرح بات کرتے اورکیسے کپڑے پہنتے ہیں؟

حوالہ جات
Alavi, Hamza and Teodor Shanin Ed. 1982. Introduction to the Sociology of Developing Societies. The Macmillan Press. London.
Chandra, Bipan. 1977. The Rise and Growth of Economic Nationalism. People’s Publishing House. New Delhi.
Dutt, A.K. 1993. “From Colonial City to Global City: The Far from Complete Spatial Transformation of Calcutta” in  Brunn S.D.and Williams J.F. Ed. Cities of the World. pp. 351-388. Harper Collins. New York.  
Giddens, Anthony. 2001. Sociology (Fourth edition). Cambridge. Polity.Mukherjee, D.P. 1979. Sociology of Indian Culture. Rawat. Jaipur.
Nehru, Jawaharlal. 1980. An Anthology. Ed. by S. Gopal. Oxford University Press. New Delhi, 
Nongbri, Tiplut. 2003. Development, Ethnicity and Gender: Select Essays on Tribes in India. Rawat. Jaipur/Delhi. 
Mitra and Phukan. 2005. The Collector’s Wife. Penguin Books. New Delhi.  
Pineo, H.I.T.F. 1984. Land way: The Life History of Indian Cane Workers in Mauritius. Moka: Mahatma Gandhi Institute.
Rao, M.S.A. Ed. 1974. Urban Sociology in India: Reader and Source Book. Orient Longman. Delhi. 
Sarkar, Sumit. 1983. Modern India 1885 -1947. Macmillan. Madras. 
Wirth, Louis. 1938. ‘Urbanism as away of life’. American Journal of Sociology. 44.