Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-002


1


2 ثقافتی تبدیلی

ہم نے پچھلے باب میں دیکھا کہ کس طرح استعماریت سے ہونے والی تبدیلیوں نے  ہندوستانی سماج کی ساخت   کو بھی بدلا۔ صنعت کاری اورشہرکاری نے لوگوں کی زندگی میں زبردست تبدیلی پیدا کی۔بعض لوگوں کے لیے کام کی جگہیں کھیت کے بجائے فیکٹریاں ہوگئیں۔بہت سے لوگ اب گاؤں کی جگہ شہروں میں رہنے لگے۔رہن سہن اور کام کاج کے نظام میں تبدیلیاں پیداہوگئیں۔ثقافت،طرززندگی،اصول،اقدار،فیشن اوربدن زبان(body language) بھی تبدیل ہوگئی۔ماہرین سماجیات کاماننا ہے کہ سماجی ساخت کا مطلب’’لوگوں کے باہمی تعلقات کا وہ مستقل نظم ہے جسے ادارہ جاتی اور سماجی طورپر قائم برتاؤ یا کردار کے  طورطریقوں یا وضع کے طورپر ثقافت کے ذریعہ معین یا کنٹرول کیاجاتا ہے۔‘‘آپ نے باب1میں پہلے ہی استعماریت سے ہونے والی ساختی تبدیلیوں کا مطالعہ کرلیاہے ۔ اس باب میں آپ یہ مشاہدہ کریں گے کہ ساختی تبدیلیاں ثقافتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے کتنی اہم ہیں۔
اس باب میں دو متعلقہ پیش رفتوں پر نظرڈالی گئی ہے۔یہ دونوں نوآبادیاتی حکمرانی کے اثرکا پیچیدہ نتیجہ ہیں۔پہلی پیش رفت کا تعلق19ویں صدی کے سماجی مصلحین اورابتدائی بیسویں صدی کے قوم پرست رہنماؤں کے غوروفکر اورشعوری کوششوں سے ہے جن سے ان سماجی روایات میں تبدیلیاں پیداہوئیں جن کے تحت عورتوں اورنچلی ذاتوں سے امتیازبرتا جاتا تھا۔دوسری پیش رفت اتنی غوروفکر  کا نتیجہ  تو نہیں تھی لیکن یہ ثقافتی روایات میں رونماہونے والی تبدیلیاں تھیں جنھیں سرسری طورپر سنسکرت کاری، جدید کاری، سیکولرائزیشن اورمغر ب کے چارعمل کے طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ سنسکرتیانے کا عمل نوآبادیاتی حکومت کی آمد سے پہلے ہی سے  شروع ہوگیا تھا جب کہ باقی تین عمل کاریوں کو ان تبدیلیوں کے تئیں ہندوستانیوں کے مخلوط یا پیچیدہ  ردِ عمل کے طورپر زیادہ بہتر سمجھاجاتا ہے جو استعماریت کے ذریعہ لائی گئیں۔

2.1انیسویں اور ابتدائی بیسویں صدی میں سماجی اصلاحی تحریکیں(social reform movements in the 19th and early 20th century)

ہماری زندگی پر استعماریت کے دوررس اثرات کے بارے میں آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ انیسویں صدی میں ہندوستان میں ابھرنے والی سماجی واصلاحی تحریکیں نوآبادیاتی ہندوستانی سماج کو درپیش چیلنج کے سبب شروع ہوئی تھیں۔آپ شاید ان سماجی برائیوں سے واقف ہوں جنہوں نے ہندوستانی سماج کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ ستی، بچہ شادی، بیواؤں کی دوبارہ ہماری زندگی پر استعماریت کے دوررس اثرات کے بارے میں آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ انیسویں صدی میں ہندوستان میں ابھرنے والی سماجی واصلاحی تحریکیں نوآبادیاتی ہندوستانی سماج کو درپیش چیلنج کے سبب شروع ہوئی تھیں۔آپ شاید ان سماجی برائیوں سے واقف ہوں جنہوں نے ہندوستانی سماج کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ ستی، بچہ شادی، بیواؤں کی دوبارہ شادی،ذات پات پر مبنی امتیازات یا بھیدبھاؤ اس وقت کے معروف اہم مسائل تھے۔ایسابھی نہیں ہے کہ استعماریت سے پہلے  ہندوستان میں ان سماجی تفریق سے لڑنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ان پر بدھ مت میں توجہ دی گئی۔یہ بھکتی اورصوفی تحریکوں کی توجہ کا مرکزبنیں۔19ویں صدی میں سماجی اصلاح کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کوششیں جدید سیاق وسباق اورنظریات کامجموعہ تھیں  مغربی روشن خیالی کے جدید نظریات اورروایتی تحریروں پر نئے زاویۂ نگاہ کا تخلیقی آمیزہ تھیں۔
2 
راجہ رام موہن رائے                       پنڈتا رام بائی                     سر سید احمد خاں

باکس2.1

خیالات کی آمیزش

 راجہ رام موہن رائے نے ستی کی مخالفت کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ انسانی اورفطری حقوق سے متعلق جدید خیالات کا حوالہ دیا بلکہ ہندوشاستروں کو بطورنمونہ سامنے رکھا۔

راناڈے نے بیوہ شادی کے جواز کی تائید میں شاستروں کا حوالہ دیتے ہوئے    'The Texts of the Hindu Law on the  Lawfulness of the Remarriage of widows Marriage      اور  'Vedic Authorities for widows ' کے عنوان سے کتابیں لکھیں۔

نئی تعلیم کے مواد جدیدیت اورروشن خیالی پر مبنی تھے۔انسانیات اورسماجی علوم کے کورسوں کے  مواد یورپی نشاۃ ثانیہ، اصلاحات اور روشن خیالی  سے اخذ کیے گئے تھے۔اس کے مرکزی خیالات انسانیاتی،سیکولر اورلبرل تھے۔

⇐سرسید احمد خان نے اسلام کی تشریح میں آزادانہ ( اجتہاد) (یعنی قرآن وحدیث اوراجماع پر قیاس کرکے شرعی مسائل کا اخذ کرنا) کی موزونیت پر زور دیا اورقرآنی انکشافات وجدید سائنس کے دریافت کردہ فطری قدرت کے قوانین کے درمیان یکسانیت کی دلیل دی۔

کندوکیری وریش لنگم نے اپنی کتاب  ’دی سورس آف نالج میں‘’نویہ–نیایہ‘کی دلیلوں پر غور و خوض کیا۔انھوں نے جولیس ہکسلے کی کتابوں کا بھی ترجمہ کیا۔


ماہر سماجیات ستیش سبروال نے نوآبادیاتی ہندوستان میں تبدیلیوں کی جدید ساخت میں تین پہلوؤں کے مختصراًبیان کے ذریعہ جدید سیاق وسباق کی تشریح کی ہے:

ترسیل کے ذرائع
تنظیم کی ہئتیں اور
خیالات کی نوعیت

نئی ٹیکنالوجی نے ترسیل کی مختلف شکلوں کو رفتار فراہم کی ۔ پرنٹنگ پریس،ٹیلی گراف ، مائیکروفون،پانی کے جہاز اورریلوے کے ذریعہ لوگوں کی آمدورفت اورسامانوں ڈھلائی سے نئے نئے خیالات وافکار کی ترسیل میں کافی مدد ملی۔ہندوستان میں پنجاب اوربنگال کے سماجی مصلحین نے مدراس اور مہاراشٹر کے سماجی مصلحین سے تبادلۂ خیال کیا۔ کیشوچندرسین نے1864میں مدراس کا دورہ کیا۔پنڈتارامابائی نے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا۔ان میں سے بعض دوسرے ملکوں میں گئے۔عیسائی مشنریاں ناگالینڈ،میزورم اور میگھالیہ جیسے دوردراز کے علاقوں میں بھی پہنچیں۔

3

جدید ٹکنالوجی اور تنظیمیں جنھوں نے ترسیل کی مختلف شکلوں کو رفتار عطا کی۔

جدید ٹکنالوجی اورتنظیمیں جنھوں نے ترسیل کی مختلف شکلوں کو رفتار عطاکی۔

4

جدید سماجی تنظیموں جیسے بنگال میں برہمو سماج اورپنجاب میں آریہ سماج کا قیام عمل میں آیا۔1914میں انجمن خواتین اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔ہندوستانی مصلحین نے نہ صرف عوامی مجالس میں بلکہ اخبارات اوررسائل کے ذریعہ بھی مباحثہ منعقد کیا۔ سماجی مصلحین کی تحریروں کا ترجمہ ایک ہندوستانی زبان سے دوسری ہندوستانی زبان میں کیاگیا۔مثلاً وشنو شاستری نے1868میں ودیاساگر کی کتاب’اندو پرکاش‘کامراٹھی ترجمہ شائع کیا۔

5

ویریس لنگم

                                                            ویریس لنگم

حریت پسندی اورآزادی کے نئے خیالات،گھر بنانے،سنوارنے اورشادی سے متعلق نئے خیالات،ماں اوربیٹی کے نئے کردار اورثقافت وروایت  پر شعوری فخر کے نئے خیالات ابھرے۔تعلیم کی قدر کواولیت دی جانے لگی۔ یہ سمجھا گیا کہ قوم کا جدید ہونا ضروری تو ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ قدیم وراثت  کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ تعلیم نسواں(عورتوں کی تعلیم)کے بارے میں بھی جامع بحث ہوئی۔یہ امرقابل ذکر ہے کہ سماجی مصلح جیوتی باپھولے نے پونے میں خواتین کے لیے پہلااسکول کھولا۔ مصلحین نے دلیل دی کہ سماج کی ترقی کے لیے عورتوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ان میں سے بعض تویہ مانتے تھے کہ جدید ہندوستان سے قبل عورتیں تعلیم یافتہ ہوا کرتی تھیں،لیکن بہت سے مصلحین نے اس کی تردید کرتے ہوئے یہ مانا کہ تعلیم نسواںبعض مراعات یافتہ گروپوں تک ہی محدود تھی۔اس طرح خواتین کی تعلیم کے جواز کی تائید کے لیے جدید اورروایتی خیالات والے ذریعہ رجوع کیا گیا،انھوں نے جدیدیت اورروایت پر سرگرمی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔اس سلسلے میں یہ جاننا بھی دلچسپ ہے کہ جیوتی باپھولے نے آریوں کی آمد سے پہلے کے دور کو باعث افتخار مانا جب کہ بال گنگا دھر تلک وغیرہ آریہ دور کو باعث فخر مانتے تھے۔دوسرے لفظوں میں انیسویں صدی اصلاح کا ایک ایسا دور تھا جس میں جستجو واستفسار،تشریح نواور ذہنی وسماجی نمودونوں کی ا بتدا ہوئی۔

6

ودیا ساگر

جیوتیبا پھولے


مختلف سماجی اصلاحی تحریکات کے مرکزی خیال ایک ہی جیسے تھے تاہم کچھ نمایاں  فرق بھی موجود تھا۔بعض اونچی ذات،متوسط طبقے کی عورتوں اورمردوں کو درپیش مسائل تک محدود تھے۔دوسروں کے لیے ناانصافی اورتفریق کے شکار ذاتوں کے مسائل بنیادی نوعیت کے تھے تھے۔بعض کایہ ماننا تھا کہ سماجی برائیاں اس لیے پیداہوئیں کہ ہندوازم کا صحیح جذبہ کمزور پڑچکا تھا۔بعض ذات اورجنس کے تئیں ہونے والی زیادتی کو مذہب کے لحاظ سے فطری مانتے تھے۔اسی طرح مسلم سماجی مصلحین کثیر زوجیت اورپردہ کے موضوع پر سرگرم بحث تھے۔مثلاً جہاں آرا شاہ نواز نے آل انڈیا مسلم لیڈیز کانفرس میں کثیر زوجیت کی برائیوں کے خلاف ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے دلیل دی۔

سرگرمی 2.1

درج ذیل سماجی مصلحین کے بارے میں دریافت کریں۔

انھوں نے کن امور کے خلاج جنگ کی؟اپنی مہم کو انھوں نے کیسے انجام دیا؟کیاانھیں کسی مخالفت کا سامنا کرناپڑا؟

وریس لنگم

پنڈتا رامابائی

◊    ودیاساگر

دیانند سرسوتی 

جیوتیبا پھولے

◊شری نارائن گرو

سر سید احمدخاں

کوئی دیگر

…جس طرح کی کثیر زوجیت مسلمانوں کے بعض طبقات میں رائج ہے وہ قرآن کے اصل مفہوم کے خلاف ہے…یہ تعلیم یافتہ خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اثرات کا استعمال کرکےرشتہ داروں کو کثیر زوجیت سے روکیں۔

کثیر زوجیت کے خلاف پیش کی گئی قرار داد مسلم پریس میں زبردست بحث کا موضوع بنی۔پنجاب سے شائع ہونے والے ایک رسالے ’تہذیب نسواں‘نے کھل کر کثیر زوجیت مخالف اس قرار داد کی تائید کی۔جب کہ دیگر رسائل میں اس کی مخالفت کی گئی(چودھری1993:111)۔کمیونٹی میں اس طرح کی بحث ان دنوں عام بات تھی۔مثلاً برہمو سماج نے ستی کے رواج کی مخالفت کی۔بنگال میں ہندوسماج کی روایت پسند عوام نے ایک تنظیم کی تشکیل کی جسے دھرم سبھا کہاجاتا تھا اور اس دلیل کے ساتھ برطانوی حکومت کے پاس ایک عرض داشت پیش کی گئی کہ مصلحین کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مقدس کتابوں کی تشریح کریں۔ایک اورنظریہ کاا ظہار دلتوں  میں مستقل بڑھتاجارہا تھا کہ ہندوفرقے کو پوری طرح مسترد کردیاجائے۔ مثلاً پھولے  کے اسکول کی ایک 13سالہ طالبہ مکتابائی نے جدید تعلیم کے زیر اثر1852میں لکھا کہ:

اس مذہب کو

جہاں صرف ایک شخص مراعات یافتہ ہے

اورباقی کو اس سے محروم کردیاگیا ہے

اس کرہ ارض سے مٹادیاجائے

اوریہ ہمارے ذہنوں میں کبھی جگہ نہ پائے

ایسے ایک مذہب پر فخر کرنا…

2.2ہم سنسکرت کاری،جدید کاری،سیکولرکاری اورمغرب کاری کا مطالعہ کس طرح کرتے ہیں؟

اس باب میں ان چاروں تصورات سنسکرت کاری یاسنسکرتیانے،جدیدکاری،سیکولرکاری اورمغرب کاری کا مختلف طبقات پر اثر کا مطالعہ کیاگیا ہے۔ بحث آگے بڑھنے کے ساتھ ہم دیکھیں گے کہ یہ چاروں تصورات کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے متعلق ہیں اورکئی صورتوں میں یہ ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہیں۔بہت سی حالتوں میں یہ نہایت مختلف طورپر عمل انجام دیتے ہیں۔یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ایک ہی فرد ایک جگہ تو جدید ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں وہ روایتی ہوجاتا ہے۔ اس طرح کی صورت حال ہندوستان میں اوردیگر کئی غیر مغربی ملکوں میں فطری سمجھی جاتی ہے۔

لیکن آپ جانتے ہیں کہ سماجیات کا مواد فطری توضیح پر مبنی نہیں ہوتا ہے۔ (جیساکہ آپ باب1،کتاب1،این سی ای آرٹی2006میں پڑھ چکے ہیں)  پچھلے باب میں آپ نے دیکھا کہ نوآبادیاتی جدیدیت میں اس کے اپنے تضاد تھا۔ مغربی تعلیم کی مثال لیں۔استعماریت کے دوران ایک انگریزی تعلیم یافتہ ہندوستانی متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔ اس نے مغربی روشن خیال مفکرین،لبرل جمہوریت کے فلسفیوں کے بارے میں پڑھا اورایک لبرل وترقی پسند ہندوستان کے وجودکاخواب دیکھا۔تاہم نوآبادیاتی حکومت کے ذریعہ ان کے وقارکو چوٹ پہنچی اورانھوں نے روایتی علم و فضیلت پر اصرار کیا۔آپ 19ویں صدی کی اصلاحی تحریکوں میں اس رجحان کو پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔

اس باب میں آپ دیکھیں گے کہ جدیدیت کے سبب نہ صرف یہ کہ جدید خیالات کو راہ ملی بلکہ روایت کے بارے میں بھی نئے سرے سے سوچنے اورتشریح نو میں مدد ملی۔ثقافت اورروایت دونوں ہی جان دار وجود رکھتے ہیں۔لوگ انھیں سیکھتے ہیں اوران میں ترمیم کرتے ہیں۔ہم روزمرہ کی زندگی سے مثال لیتے ہیں۔عہدحاضر کے 

ہندوستان میں کس طرح سے ساڑی یا جین سیم یا سرونگ پہنا جاتا ہے۔روایتی طورپر ساڑی،جو ایک طرح کا ڈھیلا ڈھالابغیر سلاہوا کپڑاہوتا ہے،کو مختلف علاقوں میں الگ الگ ڈھنگ سے پہناجاتا ہے۔جدید متوسط طبقے کی عورتوں میں ساڑی پہننے کا ایک معیاری طریقہ رائج ہوا جس میں روایتی ساڑی کو مغربی پیٹی کوٹ اوربلاؤز کے ساتھ پہناجانے لگا۔

سرگرمی2.2

سماجیات میں وہ طریقہ جن میں ان چاروں عمل کاریوں کا استعمال کیاجاتا ہے،کو پڑھتے وقت کلاس میں یہ بحث کرنا زیادہ دلچسپ ہوسکتا ہے کہ آپ کے خیال میں ان اصطلاحات کا کیا مطلب ہوگا!

آپ درج ذیل برتاؤ کی تعریف کس طرح کریں گے:

مغربی 

جدید

      سیکولر اور

سنسکرت کردہ

  کیوں؟

 ◊ اس باب کو مکمل کرنے کے بعد سرگرمی 2.2پر واپس آئیں۔

  کیاآپ اصطلاحات اوران کے سماجیاتی معنی کے عام فہم استعمال کے درمیان کوئی فرق دیکھتے ہیں؟



7

روایتی اورجدید کی آمیزش اورملان

روایتی اور جدید کی آمیزش اور ملان

سرگرمی2.3
کچھ اس طرح کی دیگر مثالوں کا ذکر کریں جو آپ روزمرہ کی زندگی میں بڑے پیمانے پردیکھتے ہیں۔
 
میرے والد کا لباس ان کی اندرونی زندگی کو بہت اچھی طرح پیش کرتا ہے۔وہ ایک ہندوستانی برہمن تھے۔وہ سفیدپگڑی پہناکرتے تھے—ایک شری ویشنویہ ذات کی علامت…تاہم انھوں نے تو ٹل ٹائیز پہنی،کرومینتز بٹن اوردوہرے بٹن کی کالر کا استعمال کیا وراپنی ململ کی دھوتیوں پر انگریزی نفیس کپڑے کی اونی جیکٹوں کو پہنا جسے وہ روایتی برہمنی انداز میں لٹکاکرپہناکرتے تھے۔
ماخذ:اے۔کے۔رمانوجن میریٹ (A.K.Ramanujan in Marriot)1990:42


 ہندوستان کا ساختی اورثقافتی تنوع از خود عیاں ہے۔یہ تنوع ان مختلف طریقوں کو وضع کرتا ہے جو جدیدیت یا مغرب کار ، سنسکرت کاری یاسیکولرکاری کے مختلف گروہوں کے لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں۔درج ذیل صفحات میں ان تنوع کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔یہاں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ تفصیل سے بات کریں۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ جدید کاری کے ان جدید طریقوں کو تلاش کرکے ان کی شناخت کریں جن کا ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں پر اثر پڑا ہے یا ایک ہی خطے میں مختلف طبقات اورذاتیں اثر انداز ہوئی ہیں۔حتی کہ ایک ہی طبقے یا کمیونٹی سے متعلق عورتوں اورمردوں پر ان کا اثر پڑاہو۔
ہم سنسکرت کاری کے تصورسے شروع کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی حرکت پذیری کا یہ عمل استعماریت کے آغاز سے پہلے کا ہے اوریہ بعد میں بھی مختلف شکلوں میں جاری رہا۔باقی تین تبدیلیوں کی عمل کاری جن کے بارے میںہم بعد میں ذکر کریں گے، وہ استعماریت کی آمد کے ساتھ رونما ہوئیں۔جدید مغربی خیالات جیسے آزادی اورحقوق کے بارے میں جاننے کے نتیجے میں ہندوستانی ان تین تغیرپذیر عمل کے براہِ راست اثر میں آئے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیاجاچکا ہے کہ جدید علم کے حصول کے بعد تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کو استعماریت میں بالعموم بے انصافی اورذلت کا احساس اکثر ہوا جس کے ردعمل میں روایتی ماضی اوروراثت کی طرف واپس جانے کی خواہش بھی پیدا ہوئی۔اس طرح ایک پیچیدہ یامشترکہ صورت حال پیداہوئی جس میں جدید کاری،مغرب کاری اورسیکولر کاری کاسلسلہ شروع ہوا۔

 2.3سماجی تبدیلی کی مختلف اقسام(Different kinds of social change)

سنسکرت کاری (Sanskritisation)

اصطلاح سنسکرتیانا یا سنسکرت کاری کو ایم۔این۔سری نواس نے وضع کیا۔ اس کی مختصر تعریف اس عمل کاری کے طورپر کی جاسکتی ہے جس کے ذریعہ نچلی ذات یا قبیلہ یا دیگر گروہ اونچی ذاتوں کی روایت،رسم،عقائد،نظریات اورطرز زندگی بطورخاص دوبارہ پیداہونے کا اختیار کرتے ہیں۔
سنسکرت کاری کے اثرات کثیررخی ہیں۔ ان اثرات کو زبان،ادب، نظریات ،موسیقی، رقص،ڈرامہ،طرززندگی اوررسومات پر دیکھاجاسکتاہے۔
بنیادی طورپر یہ ایک عمل ہے جو ہندوسماج کے اندر واقع ہوتا ہے۔اگر چہ سری نواس نے دلیل دی کہ غیر ہندوفرقوں اورمذہبی گروہوں میں بھی یہ عمل مرئی تھا، لیکن مختلف میدانوں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل ملک کے مختلف حصوں میں الگ الگ ڈھنگ سے واقع ہوا۔جن علاقوں میں اعلاسنسکرت یافتہ ذاتیں غالب تھیں وہاں کی پوری تہذیب میں کسی نہ کسی سطح کی سنسکرت کاری ہوئی۔ جہاں غیر سنسکرت یافتہ ذاتیں غالب تھیں،یہ ان کے اثرات تھے جو قوی تھے۔ عمل کاری کی اس اصطلاح کو’ عدم سنسکرت کاری‘(De–Sanskritisation)کہاجاسکتا ہے۔اس کے علاوہ دیگر علاقائی تنوع بھی تھے۔پنجاب میں ثقافتی طورپر سنسکرتی اثر کبھی مضبوط نہیں رہا۔ کئی صدیوں تک 19ویں صدی کے تین چوتھائی حصے تک پارسیوں کا اثرغالب ماناجاتا تھا۔
شری نواس کی دلیل یہ ہے کہ ’’کسی گروہ کی سنسکرت کاری عام طورپر ذات کے مدارج کو بہتری کی طرف لے جاتی ہے۔عام طورپر یہ مانا جاتا ہے کہ سنسکرت کاری متعلقہ گروہ کی معاشی یاسیاسی حیثیت میں یاتو بہتری ہے۔یاہندوازم کی عظیم روایات کے ربط کے نتیجے میں اس گروپ میں کسی اونچے گروپ کی خود آگاہی ہے۔روایتوں کا یہ ذریعہ تیرتھ کا مرکز ، آشرم یاخانقاہ یا کوئی تبدیلی مذہب والا فرقہ ہوسکتا ہے۔‘‘البتہ ایک انتہائی غیر مساوی سماج جیسے ہندوستان میں نچلی ذاتوں کے ذریعہ اونچی ذات کے لوگوں کی رسم کو اختیارکرنا کسی طرح آسان نہیں ہے کیوں کہ پہلے بھی رکاوٹیں تھیں اوراب بھی رکاوٹیں ہیں۔درحقیقت روایتی طورپرغالب ذاتیں ان نچلی ذاتوں کو سزادیتی تھیں جو اس طرح کی گستاخی کی جرأت کرتے تھے۔حسب ذیل اقتباس سے آپ اس مشکل کوبخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

سنسکرت میں کمودتی نے کافی دلچسپی اورولولے کے ساتھ مطالعے کی شروعات کی۔ان کے استاد گوکھلے گروجی تھے…یونیورسٹی میں شعبے کے سربراہ ایک معروف عالم وفاضل شخص تھے اوروہ کمودتی پر طنز کرنے میں انھیں کافی مزہ آتا تھا…مخالفانہ تبصروں کے باوجود انھوں نے سنسکرت میں اپنی ماسٹرس ڈگری کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا۔

ماخذ:کُمد پاؤڈےPAWADE) 1938)

کُمدپاوڈے نے اپنی خودنوشت سوانح عمری میں تذکرہ کیا ہے کہ کیسے ایک دلت خاتون سنسکرت ٹیچر بنی۔ایک طالبہ کے طورپر وہ سنسکرت کے مطالعے کی طرف متوجہ ہوئیں۔شاید یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو انھیں ان میدانوں میں جانے کی گنجائش پیداکردیتا ہے جس میں ان کا داخلہ جنس اورذات کی بنیاد پر ممکن نہیں تھا۔ شاید ان کی توجہ اس لیے مبذول ہوئی کہ وہ اصل سنسکرت کی کتابوں میں عورتوں اوردلتوں کے بارے میں جوکچھ کہاگیا ہے،اسے جان سکیں۔جیسے جیسے انھوں نے اپنے مطالعے کو آگے بڑھایا انھیں کئی طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جن میں حیرت بھی تھی اور بیر بھی۔اس میں  محتاط قبولیت  اور سخت تردید شامل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ میں اپنی ذات کو بھولنے کی کوشش کرتی ہوں،لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔تبھی مجھے وہ تاثر یاد آیا جو میں نے کہیں سنا تھا:’’جو پیدائش سے ملی ہو اورجو مرنے کے بعد بھی ختم نہ ہووہی ذات ہے؟‘‘
سنسکرت کاری ایک ایسے عمل کا اظہار ہے جس میں لوگ ثقافتی طورپراونچی حیثیت کے گروہوں کے ناموں اوررسوم ورواج کو اپناکر اپنی حیثیت میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔’حوالہ جاتی ماڈل‘عموماًمالی لحاظ سے بہتر ہوتا ہے  جب لوگ دولت مند بن جاتے ہیں تو  دونوں ہی صورتوں میں اونچی حیثیت کے گروہ  جیسا بننے کی آرزویاخواہش بھی ہوتی ہے۔
سنسکرت کاری کے تصور کو مختلف سطحوں پر تنقید کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ایک،اس کی تنقید اس لیے کی جاتی ہے کہ اس میں سماجی حرکت پذیری یا سماجی ترقی کے لیے’نچلی ذاتوں‘کی حرکت پذیری کی گنجائش کو بڑھاچڑھا کر پیش کیاجاتا ہے۔اس عمل میں کوئی ساختی تبدیلی نہیں واقع ہوتی بلکہ کچھ افراد کی صرف حیثیت میں تبدیلی ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں اگرچہ افراد غیر مساوی ساخت میں اپنی حیثیتوں کو بہتر بنانے کے اہل ہوسکتے ہیں،لیکن عدم مساوات جاری رہتی ہے۔دو،یہ اشارہ ملتا ہے کہ سنسکرت کاری کا نظریہ ’اونچی ذاتوں‘کو ہی برتر اور’نچلی ذات‘کو کمترحیثیت دیتا ہے۔لہٰذا اونچی ذات کی تقلید کی خواہش کو فطری اورقابل سمجھاجاتا ہے۔
تین،سنسکرت کاری  کا تصورایک ایسے ماڈل کا جواز پیش کرتا ہے جو دراصل عدم مساوات اور عدم شمولیت پر مبنی ہے۔اس سے ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کے گروہوںکی آلودگی اورپاکی میں یقین رکھنامنصفانہ اوربالکل صحیح ہے۔لہٰذا بعض گروہوں کو حقیرگرداننامحض اونچی جاتوں کے ذریعہ نچلی ذاتوں کو حقیر سمجھنے کے استحقاق کی نشان دہی کرتا ہے۔سماج میں جہاں ایسے مخصوص فلسفہ زندگی کا وجود ہو وہاں ایک مساوی سماج کا تصور ہو وہاں مشکل ہوجاتا ہے۔آگے جو  صفحات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی طرح پاکی اورناپاکی کے تصور کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے یا ایسے نظریات کے وجود کو قدروقیمت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔
اگرچہ سنارکی ذات مجھ سے اونچے درجے کی ذات ہے،پھر بھی ہماری ذات میں سنار سے کھانا یا پانی لینا منع ہے۔ہم یہ مانتے ہیں کہ سنار اتنے لالچی ہوتے ہیں کہ وہ بول وبراز سے بھی سونا ڈھونڈنکالتے ہیں۔ویسے تو ذات میں اونچے ہیں لیکن وہ ہم سے زیادہ ناپاک ہیں۔ہم دیگر اونچی ذاتوں سے بھی کھانا نہیں لیتے ہیں جو آلودہ کام کرتے ہیں۔ دھوبی جو گندے کپڑوں کو دھوتے ہیں یا تیلی جوبیج کو پیس کرتیل نکالتے ہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی تفریق پیدا کرنے والے خیالات کس طرح طرز زندگی بن چکے تھے۔ایک مساوی سماج کی آرزو کے بجائے غیر شمولیتی اور بھید بھاؤ کے اپنے معنی ہو گئے تھے ۔دوسرے لفظوں میں انھوں نے بھی ایک ایسی حیثیت کی آرزو کی جہاں وہ دوسرے لوگوں کو حقیرنظروں سے دیکھ سکیں۔اس سے یقینا غیر جمہوری تصور کا پتہ چلتا ہے۔

چار،چوں کہ سنسکرت کاری اونچی ذات کے رسم ورواجوں کو اپنانے کے نتیجے میں واقع ہوتا ہے اس لیے لڑکیوں اورعورتوں کی علاحدگی،دلہن کی حیثیت کے بجائے جہیز کو اپنانے  اوردوسرے گروہوں کے خلاف ذاتی تفریق وغیرہ بڑھ جاتی ہے۔
پانچ،اس طرح کے رجحان کااثریہ ہوتا ہے کہ دلت ثقافت اورسماج کی خصوصیات دھیرے دھیرے ختم ہوجاتی ہیں۔ مثلاً اس محنت کی بنیادی قیمت اورخصوصیات جو نچلی ذاتیں انجام دیتی ہیں اسے کم تریا رسواکن اورشرمناک مانا جاتاہے۔کام،دست کاری اورفن کارانہ صلاحیت، ادویہ کی مختلف شکلوں کے بارے میں علم،ماحولیات،زراعت اورمویشی پالن وغیرہ پرمبنی شناختوں
 کو صنعتوں کے دور میں بے کار سمجھاجاتا ہے۔
بیسویں صدی میں برہمن مخالف تحریک اورعلاقائی خودآگاہی کے فروغ کے سبب سنسکرت کے الفاظ اورمحاوروں کو متعدد ہندوستانی زبانوں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔پس ماندہ طبقات کی تحریک کاایک فیصلہ کن نتیجہ یہ ہوا کہ ذات کی بنیادپر گروہوں اورافراد کی بلندی کی طرف حرکت پذیری میں سیکولر عوامل کے کردار پر زوردیاجانے لگا۔غالب ذاتوں کے معاملے میں اب ویش،چھتری اوربرہمن کے لیے قبولیت حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں رہ گئی جب کہ دوسری طرف غالب ذات کا ممبر ہونا ایک وقار کی بات تھی۔حالیہ سالوں میں اسی طرح کی بات اب دلتوں کے لیے جتائی جانے لگی ہے جو دلتوں کی حیثیت سے اپنی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ تاہم،کبھی کبھی دلتوں میں غریب ترین اورانتہائی حاشیے پر پہنچے لوگوں میں ذات پرمبنی شناخت دیگر غالب ذاتوں میں اپنی غیر اہم ہونے کی تلافی کسی اورصورت سے کرتی دکھائی دیتی ہے۔دوسرے لفظوں میں انھوں نے کچھ فخر اور خود اعتمادی تو حاصل کی ہے لیکن یہ اب بھی  غیر شمولیت  اورتفریق کا شکار ہیں۔

سرگرمی2.4
سنسکرت کاری کے سیکشن کو غور سے پڑھیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ عمل جنس پر مبنی ہے یعنی’’یہ عورتوں پر مردوں سے بالکل الگ طورپر اثرانداز ہوتا ہے۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس عمل سے مردوں کی حیثیت میں تبدیلی آئی ہے جب کہ عورتوں کے بارے میں حقیقت اس کے برخلاف ہوسکتی ہے؟

مغرب کاری(Westernisation)

آپ مغربی نوآبادیاتی تاریخ کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔آپ نے دیکھاکہ اس سے کس طرح تبدیلیاں پیداہوئیں جو متناقض ،غیر معمولی اورنامانوس سی تھیں۔ایم۔این۔شری نواس نے مغرب کاری کی تعریف اس طرح کی ہے،’’یہ ہندوستانی سماج اورثقافت میں تقریباً150سالوں کے برطانوی حکمرانی کے نتیجے میں رونما ہوئی تبدیلیاں ہیں جس میں مختلف سطحوں جیسے ٹکنالوجی، اداروں، نظریات اوراقدار میں واقع ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔‘‘
مغرب کاری کی مختلف قسمیں تھیں۔ایک قسم،ہندوستانیوں کے ایک اقلیتی طبقے جو مغربی ثقافت کے ربط میں سب سے پہلے آئے تھے،کے ذریعہ مغرب یافتہ ذیلی ثقافتی وضع کے ابھرنے کی دلالت کرتی ہے۔اس میں ہندوستانی دانشوروں کی ذیلی ثقافت بھی شامل تھی جنھوں نے نہ صرف یہ کہ بہت سے وقوفی انداز یااسلوب فکر اورطرز زندگی کواپنایا بلکہ اس کی تائید اوراشاعت بھی کی۔ابتدائی 19 ویں صدی کی بہت سی مصلحین  اسی قسم کے تھے۔باکس میں مغرب کاری کی مختلف اقسام دکھائی گئی ہیں۔
لہٰذا ایسے لوگ کم تھے جنھوں نے مغربی طرز زندگی اپنا یا وہ مغربی اسلوب فکر سے متاثر تھے۔اس کے علاوہ دیگر مغربی ثقافتی اوصاف جیسے نئی ٹکنالوجی کا استعمال،پوشاک،غذا اوربالعموم لوگوں کے طورطریقوں اور عادتوں میں تبدیلیاں بھی پائی جاتی تھیں۔ پورے ملک میں متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے کے گھروں میں ٹیلی ویژن،فریج،صوفہ سیٹ،کھانے کی میز اوراٹھنے بیٹھنے کے کمرے میںکرسی وغیرہ عام بات ہے۔
مغرب کاری میں ثقافت کی بیرونی شکلوں کی تقلید شامل ہے۔اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ لوگ جمہوریت اورمساوات کی جدید قدروں کو اپنائیں۔
طرز زندگی اور فکر کے علاوہ ہندوستانی فن وادب پر بھی مغربی ثقافت کا اثر پڑا۔کئی فن کار جیسے روی ورما،ابا نندرناتھ ٹیگور،چندومینن اوربنکم چندر چٹوپادھیائے سبھی نوآبادیاتی صورت حال کا سامنا کررہے تھے۔باکس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ روی ورما جیسے فن کار کے طرز،تکنیک اورمرکزی خیال کو مغربی ثقافت اورملکی روایتوں نے شکل فراہم کی۔اس میں کیرل کے مادر نسبی کمیونٹی میں فیملی کی تصویر پر بحث کی گئی ہے لیکن وہ نمایاں طورپر ماں،باپ اوربچوں پر مشتمل جدید مغربی ممالک کی انتہائی مثالی پد رنسبی نیوکلیئر فیملی سے مماثلت رکھتی ہے۔

باکس2.2

سوچنے کے طریقے

…جان اسٹورٹ(John Stuart) مل کا مضمون’’آن لبرٹی‘‘ شائع ہونے کے فوراًبعد ہندوستانی کالجوں کے نصاب میں شامل ہوگیا۔ ہندوستانیوں نے میگناکارٹا اوریورپ وامریکا میں حریت اورمساوات کے لیے جدوجہد کے بارے میں جانا۔


باکس2.3

زندگی جینے کے طریقے

دیوکی یاد کرتی ہیں کہ جب وہ چھوٹی تھیں توان کے گھر میں ابلے ہوئے انڈوں کو انڈوں کے خول میں ہی کھایاجاتا تھا۔اس کی ماں دلیا پکاتی تھی اوراسے الگ گرم دودھ اورشکر کے ساتھ رکھ دیاجاتا تھا ۔اسے ہرفرد کو اپنے پیالے میں ملاکر یا ڈال کر کھانا ہوتا تھا۔یہ طریقہ دوسرے گھروں سے بالکل مختلف تھا۔ دیوکی کہتی ہیں کہ دوسرے گھروں میں ابلے انڈے انڈے کے خول میں نہیں کھائے جاتے تھے اوروہاں دلیے کو دودھ اورشکر کے ساتھ ملا کر برتن میں پکادیاجاتا تھا اورپھر کھایاجاتا تھا…اسے یاد آتا ہے کہ وہ اپنی ماں سے پوچھا کرتی تھی کہ وہ اس طرح دلیا کیوں کھایاکرتی ہے تواس کی ماں کاجواب ہوتا تھا کہ یہ وہ طریقہ تھا جو تعلقہ میں دلیا کھانے کے لیے استعمال ہواکرتا تھا۔ (ابراہم2006:146)

(اسے کیرل کی تھیا(Thiyya)کمیونٹی پر کیے گئے نسلی مطالعے سے اخذ کیاگیا ہے)

سرگرمی2.5

کیاآپ ایسے ہندوستانیوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو اپنی پوشاک اورظاہری شکل وصورت میںپوری طرح مغربی ہوں لیکن وہ جمہوری اورمساوات کی قدروں کے حامل نہ ہوں جو کہ جدید رویوں کا حصہ ہیں۔ہم نیچے دومثالیں دے رہے ہیں۔کیا آپ ایسی مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو حقیقی اورفلمی زندگی دونوں میں ہی پائی جاتی ہیں؟

ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو مغربی تعلیم یافتہ ہیں لیکن مخصوص نسلی یا مذہبی کمیونٹی کے بارے میں انتہائی تعصبی نظریہ رکھتے ہیں۔ایک فیملی جس نے مغربی ثقافت کی بیرونی شکلوں کو اپنایا ہے،اسے گھروں کی اندرونی سجاوٹ کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے لیکن سماج میں خواتین کے کردار کے بارے میں ان کے خیالات انتہائی قدامت پسندہوسکتے ہیں۔دختر کشی کا عمل،عورتوں کے تئیں متعصبانہ رویہ اورانتہائی جدید ٹکنالوجی کے استعمال کو متحد کرتا ہے۔

آپ کو یہ بھی بحث کرنی چاہیے کہ تضاد(دوہراپن)صرف ہندوستانیوں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے یا غیر مغربی سماج میںرہائش پذیر لوگوں میں بھی پایاجاتا ہے؟کیا یہ اتناہی سچ نہیں ہے کہ مغربی سماج میں بھی نسلی اورتفریقی رویہ پایاجاتا ہے۔



8

راجا روی ورما

باکس2.4

1870میں روی ورما نے کزاکیّ پلاٹ کرشن مینن کی فیملی کی تصویر کوپینٹ کرنے کی اپنی پہلی اجرت یاب تفویض حاصل کی…یہ ایک بدلتے دور کا کام تھا جس میں پہلے کے مقبول آبی رنگوں میں سجاوٹی،دوابعادی طرز کے عناصر کی آمیزش، فاصلے کے پس منظر اورالتباسیت کی نئی نئی تکنیکوں کے ساتھ کی جانی تھی جسے تیل جیسے ذرائع کے استعمال سے ممکن بنایاگیا۔

…ایک اورخصوصیت عمراورسلسلہ مراتب کالحاظ کرتے ہوئے نشستن(بیٹھے ہوئے)اورظاہری ہیئت کی مکانی تنظیم کی تکنیک ہے،جو ایک بار پھر انیسویں صدی کی بورژوافیملی کی تصویروں کی یاددلاتی ہے…کتنے تعجب کی بات ہے کہ یہ پینٹنگ مادرنسبی کیرل میں اس وقت بنائی گئی تھی جب زیادہ تر جو کرشن مینن کی ذات کے تھے،پدرمقامی نیوکلیئر فیملی میں رہنے کے بالکل عادی نہیں تھے…

ماخذ: جی۔ارونیما’’فیس ویلیو:روی ورماس پورٹریچر اینڈدی پروجیکٹ آف کالونیل ماڈرنٹی‘‘۔ دی انڈین اکنامکس اینڈ سوشل ہسٹری ریویو،40,1  (2003)(صفحہ80-57)


9

آپ اس ثقافتی تبدیلی کی متعدد متنوع سطحیں دیکھ سکتے ہیں جو مغرب کے ساتھ ہمارے نوآبادیاتی تصادم کے نتیجے میں واقع ہوئیں۔ عصری سیاق وسباق میں اکثر نسلوں کے درمیان تصادم پیداہوجاتا ہے جسے ثقافتی تصادم کے طورپر دیکھاجاتا ہے جو مغرب کاری کے نتیجے میں پیداہوتا ہے۔ اگلے صفحے میں درج ذیل بیان اس خلا کی تفصیل پیش کرتا ہے۔کیا آپ نے اسے دیکھا ہے یا سامنا کیا ہے؟کیانسلوں کے درمیان تصادم کی وجہ صرف مغرب کاری ہے؟کیا تصادم  ضروری طور پر برا ہوتا ہے؟
شری نواس نے اپنی رائے پیش کی کہ جہاں ’نچلی ذاتیں‘سنسکرت کاری کے عمل کو اپنانے کی جستجو میں رہتی ہیں وہیں’ اونچی ذاتیں ‘مغرب کے رنگ میں رنگنے کی جستجو میں رہتی ہیں۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں اس طرح کی تعمیم مشکل ہے۔مثال کے طورپر کیرل کے تھیا(جو کسی لحاظ سے اونچی ذات کے تصور نہیں کیے جاتے)کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تھیا بھی مغربیت کے دلدادہ تھے اوراس کے لیے شعوری کوشش بھی کرتے ہیں۔اشراف نے توبرطانوی ثقافت کو قبول کیا اورایک زیادہ وسیع النظرزندگی کی طرف پیش رفت کی جو ذات پات کی تنقید کرتی ہے۔ٹھیک اسی طرح مغربی تعلیم سے اکثر شمال مشرق میں لوگوں کے مختلف گروہوں کے لیے نئے مواقع پیداہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ درج ذیل اقتباس پڑھیں۔

باکس2.5

اکثر متوسط طبقے میں مغرب کاری سے پیداشدہ نسلوں کا اختلاف زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے

 گرچہ وہ میرے خون سے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ مجھے پوری طرح اجنبی سے لگتے ہیں۔کوئی چیز اب ان کے ساتھ مشترک نہیں رہ گئی ہے…نہ ان کے سوچنے کا طریقہ،نہ ان کے پہننے کا ڈھنگ،نہ گفتگو یا برتاؤ۔یہ نئی نسل،نئی پیڑھی ہے اورمیراذہنی رجحان اس طرح کا ہے کہ ان کے اورمیرے درمیان کسی قسم کی ہم آہنگی ناممکن ہوجاتی ہے۔پھر بھی میں انھیں دل وجان سے چاہتی ہوں۔میں انھیں ہر وہ چیز دیتی ہوں جن کی وہ خواہش کرتے ہیں،ان کی خوشی میں میرے لیے سب کچھ ہے۔رویندرناتھ کے الفاظ میرے دل میں ایک لرزاں احساس پیداکردیتے ہیں:’’یہ تمھارا وقت ہے،اب میرے ختم ہونے کی شروعات ہے۔‘‘میں اور میرے بچوں پلوؔ،کلول اورکنگکنی میں کوئی بھی یکسانیت نہیں ہے۔پلو ایک الگ ملک اورساتھ ہی ساتھ ایک مختلف تہذیب میں رہتا ہے۔مثلاً ہم بارہ سال کی عمر سے میکھلا چادر پہنتے آرہے تھے،لیکن اب میری بیٹی کنگکنی جو گوہاٹی یونیورسٹی میں بزنس مینجمنٹ کی ایک طالبہ ہے۔ پینٹ اوربیگی شرٹ پہنتی ہے اورکلول کو اپنے سرپر الجھے ہوئے بال رکھنا زیادہ اچھا لگتاہے۔جب میں میراکابھجن سننا چاہتی ہوں تو کلول اورکنگکنی۔وہیٹنی ہسٹن کی اپنی پسندیدہ پاپ موسیقی سننا چاہتے ہیں۔کبھی کبھار جب میں برگیت کی کچھ لائنیں گانے کی کوشش کرتی ہوں،کنگکنی اپنی گٹار پر مغربی دھن بجانا چاہتی ہے۔

ماخذ:انیمادت1999  "As Days Roll on" in Women ؛ آسام کی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ۔ڈائمنڈ جبلی حصہ، (گوہاٹی، اسپیکٹرم پبلی کیشنز)

10

باکس2.6

میرے دادا جو اکثر ناگاؤں کی طرح یورپیوں کے قریبی رابطے میں آئے تھے،وہ اس بات کے قائل تھے کہ صرف تعلیم سے ہی زندگی میں آگے بڑھاجاسکتا ہے۔انھوں نے اپنے بچوں کے لیے ویسی ہی زندگی چاہی جیساکہ انھوں نے برطانوی حکمرانوں اورمشنریوں کو گزارتے دیکھا۔انھوں نے میری ماں کو پہلے آسام کے پاس والے اسکول میں،پھر دورشملہ میں بھیجا تاکہ وہ تعلیم یافتہ ہوجائیں۔ گاؤں کے ایک تعلیم یافتہ آدمی نے میری ماں کاحوصلہ بڑھایا اس میری ماں کو بتایا کہ وہ اس نئے دور میں پڑھ لکھ کر ویسی ہی خاتون بن سکتی ہے جس نے ساری دنیا کے سامنے تقریر کی تھی۔وہ خاتون تھیں وجے لکشمی پنڈت،پنڈت نہرو کی بہن جنھوں نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔میرے والد اپنی ذہانت اورمحنت کے بل پر ہی ایک مقامی مشن اسکول اورشیلانگ کے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کرنے کے اہل تھے۔ ان کے لیے یہ بلندی کی طرف جانے کا محض ایک راستہ تھا۔ایک ایسے خطے میں جہاں قبائل رہتے ہیں20کلو میٹر سے کم ہی دور ی پر پوری طرح مختلف زبان بولی جانے لگتی ہے،یہ ایک ایسا ذریعہ تعلیم تھی جس سے وہ خود اپنے درمیان اوردنیا کے ساتھ ترسیل کرسکتے تھے۔وہ اپنے خود کے لوگوں کی آواز بن گئے اورانگریزی کو سرکاری ریاستی زبان بنایا (Ao 2005:111)


ہم اکثر مغرب کاری پر بحث کرتے وقت نوآبادیاتی اثر کا حوالہ دیتے ہیں۔تاہم  موجودہ دور میں اکثر ہم مغربیت کی نئی شکلیں دیکھتے ہیں۔سرگرمی2.6میں اس طرف توجہ مبذول کی گئی ہے۔

سرگرمی2.6
◊    ان سبھی چھوٹے بڑے طریقوں کا مشاہدہ کریں جہاں مغربیت سے ہماری زندگی متاثر ہوتی ہے۔
◊ آپ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح برطانوی استعماریت نے ہماری زندگیوں کو متاثر کیا۔کسی طرح مغرب کاری کا مطلب برطانیہ کی محض نقل کرنا یا تقلید کرنا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب کاری اب زیادہ ترامریکاکاری ہوتی جارہی ہے۔ایک اخبار کے ایڈیٹر کوحال ہی لکھا گیا ایک خط حسب ذیل ہے۔اس پر بحث کریں۔

نیاراج

اپنے آپ کو براعظم،برطانیہ اورآئرلینڈ (جہاں سے اس کے بانی مبانی آئے تھے)سے نمایاں کرنے کے لیے امریکا نے تاریخ، مہینہ اورسال کے فارمیٹ میں جزوی ردو بدل کیا اوراپنا خود کا مہینہ تاریخ سال کا فارمیٹ بنایا۔ 11ستمبر جس دن نیویارک میں ورلڈ ٹریڈسنٹرپر حملہ ہوا،وہ خودبخود’’9/11‘‘بن گیا۔ چوں کہ یہ ریاست ہائے متحدہ(US)میں استعمال کی جانے والی مختصر نویسی تھی اس لیے باقی دنیا بھی اس کا استعمال کرنے لگی،لیکن زیادہ ترملکوں نے یہ نہیں سوچا کہ کسی سال کے مہینے کی ترتیب اسی وقت آتی ہے جب کہ پہلے اس مہینے کے دن کو بتادیاجائے۔ہم کیسے اس حقیقت کو واضح کریں گے کہ ممبئی ٹرین کے دھماکوں میں استعمال کی مختصرنویسی ’’7/11‘‘ہے؟ہم برطانوی نوآبادی کے لوگ تھے اس لیے ہم زیادہ تر تاریخ مہینہ سال(DD-MM-YY)کاخاکہ استعمال کرتے ہیں۔  (دی ہندو،اگست2006.21)

ایک وقت پر کئی ہندوستانیوں نے انگریزی کو ویسے ہی نقل کیا جیسے برطانوی بولتے تھے،کیا اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟کیا آپ کو لگتا ہے کہ اب امریکی لہجے کازیادہ اثر ہے؟

جدید کاری اورسیکولر کاری(Modernisation and Secularisation)

اصطلاح جدید کاری کی ایک طویل تاریخ ہے۔19ویں صدی سے اوربطورخاص 20ویں صدی کے دوران اس اصطلاح کو مثبت اورمطلوبہ قدروں کے ساتھ جوڑ کر دیکھاجانے لگا۔ ہر سماج اوراس کے لوگ جدید یاماڈرن ہونا چاہتے تھے۔ابتدائی سالوں میں’جدیدکاری‘کا مطلب ٹکنالوجی اورپیداواری عمل میں اصلاح تھا۔تاہم بعد میں اس اصطلاح کا استعمال وسیع ترہوگیا۔اس سے مراد ترقی کا وہ راستہ تھا جو زیادہ تر مغربی یورپ اورشمالی امریکا میں اختیار کیا گیااوریہ مشورہ دیاجانے لگا کہ دیگر معاشرے میں ترقی کے اسی راستے کی تقلید ہونی چاہیے۔

جدیدیت کی کون سی قسم؟
وہ (مختلف تنظیموں اورکانفرسوں کے اونچی ذات کے بانی)جب تک برطانوی حکومت کی ملازمت میں رہے جدیدیت پسند ہونے کا مبالغہ آمیز دعویٰ کرتے رہے۔جس وقت وہ ریٹائر ہوئے اوراپنی پنشن کا دعوا کیا انھوں نے اپنا ’مجھے نہ چھوؤو‘والا برہمنی لبادہ پہن لیا۔ جیوتی باپھولے کاخط،مراٹھی مصنفین کی کانفرنس کے لیے۔

ہندوستان میں سرمایہ داری کی شروعات جیسا کہ ہم نے باب1میں دیکھا کہ نوآبادیاتی سیاق میں ہوئی۔لہٰذا جدیدکاری اورسیکولر کاری کی ہماری کہانی مغرب میں اس کے ارتقا سے مختلف ہے۔ہم نے مغرب کاری اور19ویں صدی میں سماجی تحریکوں کی کوششوں پر  اس باب  میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے وہ اس سے ظاہر ہے۔یہاں ہم جدید کاری اورسیکولر کاری کے دونوں پر نظرڈالیں گے کیوں کہ مجموعی طورپر ان میں ایک واضح تعلق پایاجاتا ہے۔یہ دونوں جدید تصورات کا حصہ ہیں۔ ماہرین سماجیات نے جدید کاری کے عمل کی تعریف کرتے ہوئے اس کے عناصر کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔
’’جدیدیت‘‘کامطلب یہ سمجھاجا تا ہے کہ مقامی بندھنوں اورتنگ نظری پر مبنی تناظر کمزور پڑجاتے ہیں اورہمہ گیر وابستگی اورعالمی شہری ہونے کا زاویہ نگاہ زیادہ اثرآفریں ہوجاتا ہے اورجذبات،مذہبیت اورغیر عقلیت افادیت،حساب کتاب اورسائنس کی حقیقت زیادہ حاوی ہوجاتی ہے۔اس میںگروہ کے بجائے فرد سماج اورسیاست کی بنیادی اکائی بن جاتا ہے؛ یہ کہ سوسائٹی یا تنظیم جن میں لوگ رہتے یا کام کرتے ہیں اس کا انتخاب پیدائش کی بنیاد پر نہیں بلکہ مرضی کی بنیاد پر کیاجاتا ہے۔اس میں مادی اورانسانی ماحول کے تئیں لوگوں کا رویہ تقدیر پرستی پر نہیںمبنی ہوتا بلکہ برتاؤاورعلم پر مبنی ہوتا ہے۔اپنی شناخت کو چنا اورحاصل کیاجاتا ہے،نہ کہ مفوضہ اوریقینی ہوتا ہے؛کام کو فیملی،رہائش اورکمیونٹی سے دفتر شاہی تنظیم میں شامل کیاجاتا ہے…(روڈالف (Rudolph)اورروڈالف،1967)

سرگرمی 2.7
آپ کسی اخبار یاویب سائٹ جیسے شادی ڈاٹ کام سے شادی سے متعلق کالم دیکھیں اوراس کی وضع پر غورکریں اس میں کتنی بارذات یا کمیونٹی کا ذکر ہوا ہے؟ اگر اس کا ذکر باربار آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ذات اسی طرح کا کردار نبھار ہاہے جو پہلے روایتی طورپر نبھاتی تھی۔یا کیا ذات کا کردار تبدیل ہوا ہے۔ غورکریں۔


دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ لوگ نہ صرف مقامی بلکہ ہمہ گیر سیاق وسباق میں متاثر ہوتے ہیں۔کس طرح آپ کو برتاؤ کرنا ہے،آپ کے کیا خیالات ہونے چاہئیں یہ اب آپ کی فیملی، قبیلے،ذات یا برادری کے ذریعہ نہیں طے کیاجاتا۔آپ کیا کام کرنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ آپ کے والدین نہیں کرتے بلکہ آپ کی مرضی کی بنیادپر ہوتا ہے۔کام کی بنیاد پیدائش نہیں بلکہ انتخاب اورمرضی ہوتی ہے۔آپ کون ہیں،یہ پہچان آپ کی حصولیابیوں کی بنیاد پر ہوتی ہے نہ کہ صرف آپ کون ہیں کہ بنیاد پر۔سائنسی رویہ آپ کی بنیادبنتا ہے۔منطقیانداز نظر کی اہمیت ہوتی ہے۔کیا یہ پوری طرح صحیح ہے؟
ہندوستان میں اکثر روزگار کا انتخاب پسند کی بنیاد پر نہیں ہوپاتا،ایک صفائی ملازم کو اپنے کام چننے کا اختیار نہیں ہے۔(دیکھیں باب5کتاب1 این سی ای آرٹی2007)ہم اکثر ذات یا کمیونٹی میں ہی شادی کرتے ہیں۔مذہبی عقائد اب بھی ہماری زندگی میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ہماری ایک سائنسی روایت بھی ہے۔ ہمارا ایک فعال سیکولر اورجمہوری سیاسی نظام بھی ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری ذات اورکمیونٹی میں حرکت پذیری بھی پائی جاتی ہے۔ہم ان عمل کاریوں کو کیسے سمجھتے ہیں؟اس باب میں ان مخلوط عمل اوران کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
آسان لفظوں میں ہم پیچیدہ آمیزش کو محض روایت اورجدیدیت کی آمیزش کہہ سکتے ہیں حالاں کہ روایت اورجدیدیت اپنے آپ میں ایک مقررہ وجود رکھتے ہیں۔ گویاکہ ہندوستان میں روایات کا محض ایک مجموعہ ہے یا تھا۔ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ ہندوستان میں ان روایتوں کی خصوصیات کا تعین تکثیریت اوراستدلال دونوں سے کیاجاتا ہے۔درحقیقت ان کی ازسرنو توضیح یا تشریح کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کا مشاہدہ 19ویں صدی کے سماجی مصلحین کے حوالے پہلے ہی کرچکے ہیں۔یہ عمل بہرحال آج بھی جاری ہیں۔ نیچے باکس میں ایسی ہی ایک عمل کا بیان کیاہے جو اروناچل پردیش میں دیکھنے کوملتا ہے۔

باکس2.7

جدیدکاری کی پیش رفت اوراثرات کے ساتھ مذہب اورمتعدد تیوہاروں کو منانے کے تئیں رویوں میں تبدیلی پیداہوئی۔رسوم تقریبات کے طریقوں اور تقریبات سے جڑی بندشوں،مختلف قسم کے نذرونیاز اوران کی قدروغیرہ میں مستقل تبدیلی رونما ہوئی۔بالخصوص تیزی سے بڑھتے شہری علاقوں میں یہ تبدیلیاں دیکھنے میں آئی۔

قبائلی شناخت کے تصور پر نئے دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ ایک قبائلی ہونے کے سبب روایتی عمل اوران کے تحفظ کو تقریباًضروری سمجھاجانے لگا،تیوہار ایک متحدہ قبائلی شناخت کے اس مفہوم کو منعکس کرتے ہیں ،گویا کہ تیوہار کا اجتماعی طورپر منایا جانا قبائلی سماج میں گونج رہے ’’ثقافت یعنی شناخت کو ختم کرنا‘‘کے ولولہ انگیز نعرے کا ایک موزوں جواب بن گیا ہے۔

تیوہار منانے کے لیے روایتی طورپر ڈھیلی ڈھالی کام کرنے والی ٹولی کی جگہ تیوہار منانے کے لیے کمیونٹی کی تشکیل اب عام رواج بن چکا ہے۔روایتی طور پر تیوہار منانے کے دنوں کا تعین موسم کی گردش سے کیا جاتا تھا۔ تیوہارمنانے کی تاریخوں کو اب رسمی طورپر سرکاری کلینڈرپر واضح کرکے باضابطہ متعین جاتا ہے۔

ان تیوہاروں کومنانے کے لیے عمومی ڈیزائن کے جھنڈے،خصوصی مہمان ،تقریریں اور’مس فیسٹیول‘مقابلے آج کی نئی ضرورت بن چکے ہیں۔ قبائلی لوگوں کے ذہنوں میںعقلی تصورات اورعالمی نظریات کے سرایت کرنے کے ساتھ ساتھ پرانے عقیدے کے رواج اورعمل جائزوناجائز کی جانچ پڑتال کے تحت آچکے ہیں۔


جدید مغرب میں بالعموم سیکولرکاری کا مطلب مذہب کے اثرات میںمستقل تنزلی ہے۔ جدید کاری کے سبھی نظریہ سازوں کا یہ مفروضہ رہا ہے کہ جدید سماج اب زیادہ سے زیادہ سیکولر بن چکا ہے۔ سیکولرکاری کے اظہار سے مراد مذہبی تنظیموں میںشمولیت کی سطحیں(جیسے چرچ میں حاضری کی شرح)،مذہبی تنظیموں کا سماجی ومادی اثراور لوگوں کے مذہبی عقائد کی سطح حد ہے۔ بہرحال حالیہ سالوں میں مذہبی شعور کے غیرمعمولی طورپر بڑھنے اوران پر تصادم کی مثال دیکھی جاسکتی ہے۔
تاہم ماضی میں بھی ایک مفروضہ قائم تھا کہ جدید طورطریقوں سے مذہبی عمل میں لازماًتنزلی پیداہوگی جب کہ یہ پوری طرح صحیح نہیں ثابت ہوا۔ آپ کویادہوگا کہ کس طرح ترسیل،تنظیم اورنظریات کی مغربی اورجدید شکلیں نئی قسم کی مذہبی اصلاحی تنظیموں کے ابھرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔مزید برآں،ہندوستان میں زیادہ تر  ہم  رسم و رواج میں سیکولر مقاصد کے حصول سے سیدھی نسبت ہوتی ہے۔

خداسے تعلق قائم کرنا

راجا سمھان ٹی ۔ای کے قلم سے

کیاآپ اس لیے پریشان ہیں کہ آپ کی شادی کی سال گرہ کے موقع پر مدورائی میں میناکشی اماں مندرجانے کا منصوبہ پورا نہیں ہوا۔ فکر نہ کریں۔آپ کو صرف ایک ماؤس کلک کے ویب پر ایک آن لائن پوجاآرڈر کر بھگوان کا آشیروادلینا ہےcom.…پورے ملک میں واقع 600سے زیادہ مندروں میں پوجا سروس پیش کرتا ہے۔ پوری دنیا کے لوگ اپنی پسند کے کسی مندر میں خواہ کنیاکماری میں ہویااترپردیش میں،اپنے عزیز دیوتا یا دیوی کی پوجا کے لیے آرڈر کرسکتے ہیں…پورے ملک میں پھیلے ہوئے حق رائے دہی کے ایک نیٹ ورک (زیادہ ترمندر کے پجاری)کے ذریعہ بھکت کی مرضی کے مطابق پوجاانجام دی جاتی ہے اور’پرساد‘5–7دن کے اندر دنیا میں کہیں بھی پہنچایا جاسکتا ہے…ہندوستان کے باشندوں کے لیے جو کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی نہیں کرسکتے،com.… پوجاانجام دیتا ہے اورادائیگی چیک یاڈیمانڈڈرافٹ کے ذریعہ وصول کرتا ہےcom.… کہیں سے بھی کسی بھی مندرمیں انجام دی جانے والی بنیادی پوجا کے لیے آن لائن پوجا کی لاگت 9.75امریکی ڈالر ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اگر آپ اورکہیں کے لیے پوجا  کے خواہش مند ہیں تو75امریکی ڈالر اداکرنے ہوں گے۔
ماخذ:دی بزنس لائن،ہندوگروپ آف پبلی کیشنز کے ہندوگروپ کا فنانشیل ڈیلی  (بدھ،20ستمبر2000)


رسوم  کے  سیکولر پہلو ہیں جو سیکولر مقاصد سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ مردوں اورعورتوں کو اپنے ہم عمر لوگوں اوربڑوں کے ساتھ باہمی روابط اورفیملی کی دولت،لباس اور زیورات وغیرہ کی نمائش کا موقع ملتا ہے۔بطورخاص گذشتہ دہائیوں میں رسموں کے معاشی وسیاسی پہلو زیادہ ابھر کرسامنے آئے ہیں شادی گھرکے باہر قطاروں میں لگی ہوئی کاروں کی تعداداورشادی کے موقع پر اہم شخصیتوں کے مہمان بننے کو مقامی کمیونٹی میں خاندان کی حیثیت کا اشاریہ سمجھاجاتا ہے۔
ذات کی سیکولر کاری کے بارے میں بھی بحث و مباحثہ ہوتارہا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟روایتی ہندوستانی سماج میں ذات پات کا نظام مذہبی ڈھانچے کے زیر عمل ہوتا ہے۔اس کے عمل میں پاکی اورناپاکی کے نظام عقائد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔آج کل یہ اکثر سیاسی دباؤ گروپوں کے طورپر عمل کرتی ہے۔عصری ہندوستان میں ذات پرمبنی ایسوسی ایشن اور سیاسی پارٹیوں کی تشکیل دیکھی گئی ہے۔وہ اپنے مطالبہ کے لیے ریاست پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ذات کے ایسے بدلے کردار کو ذات کی سیکولر کاری کے طورپر بیان کیاجاتا ہے۔ درج ذیل باکس میں اسی عمل کوسمجھایا گیا ہے۔

سرگرمی2.8
دیوالی،درگاپوجا، گنیش پوجا،دسہرہ،کروہ چوتھ،عید اور کرسمس جیسے روایتی تیوہاروں کے دوران اشتہارات کا مشاہدہ کیجیے۔پرنٹ میڈیا (اخبارات ورسائل) سے مختلف اشتہار جمع کیجیے ۔الکٹرانک میڈیا(ٹیلی ویژن وغیرہ)کو بھی دیکھیں۔ان اشتہارات سے کیا پیغامات حاصل ہوتے ہیں، نوٹ کیجیے۔

باکس2.8

سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان میں روایتی سماجی نظام ذات پرمبنی ساختوں اور شناختوں کے اردگرد منظم تھا۔ ذات وسیاست کے درمیان رشتے کو واضح کرنے میں بہرحال جدیدیت پر مبنی نظریہ زبردست خوف اجنبی(یااجنبی سے نفرت)کاشکار ہوجاتا ہے۔اس میں ان سوالوں کے ساتھ شروعات ہوتی ہے:کیا ذات ختم ہورہی ہے؟اب یقینا کوئی بھی سماجی نظام اس طرح ختم نہیں ہوتا۔انحراف کاایک زیادہ مفید نقطہ یہ ہوگا کہ:جدیدسیاست کے زیراثر ذات کی کون سی شکل سامنے آرہی ہے اورذات پر مبنی سماج میں سیاست کی کون سی شکل واضح ہورہی ہے؟

ہندوستان میں وہ لوگ جو’سیاست میں ذات پرمبنی نظام‘کی شکایت کرتے ہیں وہ واقعتا سیاست کی ایک ایسی قسم کی تلاش میں ہیں جس کی سماج میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔سیاست ایک مسابقتی مہم جوئی ہے جس کامقصد بعض مخصوص اہداف کی تکمیل کے لیے اقتدار کا حصول ہے ۔مہم جوئی کے لیے تیار ہونے اورحیثیت کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں ایک ایسا عمل ہے جو موجودہ اورابھرنے والی اطاعتوں کی شناخت پیداکرتی ہے اور ان کو برتتی ہے۔اہم چیز تنظیم کا ہونا اورحمایت اورتعاون کو باضابطہ بنانا ہے اورجہاں سیاست عوام پر مرکوز ہوتو تنظیم جن سے عوام کی وابستگی ہو، کے ذریعہ تعاون وحمایت کو مضبوط بنایاجاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ذات پر مبنی شناخت ایک اہم تنظیمی مجمع فراہم کرتی ہے جن کے ساتھ کثیر آبادی جڑی ہوئی ہو توسیاست ایک ایسی ساخت کے ذریعہ منظم کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔

سیاست داں اپنی طاقت کو منظم کرنے کے لیے ذات پرمبنی گروہ بندی اورشناختوں کو تحریک دیتے ہیں…جہاں گروپوں کی دیگر قسم اورایسوسی ایشن کی مختلف بنیاد یں ہوتی ہیں۔ سیاست داں ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور تنظیموں کی طرح ہر جگہ ذات کی بھی شکل تبدیل کرتے ہیں۔

(کوٹھاری 1977: 57-70)


باکس 2.8کے لیے مشق
باکس2.8میں دیے گئے حقائق کو بغور پڑھیں اس میں اٹالک  جملوں کو دیکھیں۔اور مذکورہ دلیلوں کے بارے میں مختصراًبتائیں۔اپنی مثال دیں۔

( Conclusion)ماحصل

اس باب میں ان امتیازی طریقوں کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے جن کے ذریعہ ہندوستان میں سماجی تبدیلی واقع ہوئی اورنوآبادیاتی تجربے کے دوررس نتائج پیداہوئے۔ان میں بہت سی تبدیلیاں غیرارادی اورمتناقض تھیں۔جدیدیت کے مغربی تصورات نے ہندوستانی قوم پرستوں کے تخیل کو شکل فراہم کی۔بعض کو روایتی کتابوں پر نئے سرے سے نظرڈالنے کی ترغیب ملی جب کہ چند نے انھیں مسترد بھی کردیا۔ مغربی ثقافتی شکلوں کو ان حلقوں میں اپنا مقام ملاجن کی وسعت ’کس طرح خاندان رہتے تھے سے لے کر مردوں،عورتوں اوربچوں کا ضابطہ اخلاق کیاہونا چاہیے‘ تک تھی۔فن کارانہ اظہار میں بھی اس کا عکس نظرآیا۔ہماری سماجی، اصلاحی اورقومی تحریکوں پر مغربی مساوات اورجمہوریت کے افکار کا گہرا اثر پڑا۔ان سب سے ایک طرف جہاں مغربی خیالات کو ہندوستانی سماج میں منظوری ملی وہیں دوسری طرف ہندوستانی روایت پر سوال اٹھائے گئے اوراس کی تشریح نو کی گئی،اگلا باب ہندوستان کے جمہوری تجربات کے بارے میں ہے جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے ایک ایسے سماج جہاں عدم مساوات بہت زیادہ تھی، وہاںمساوات اورسماجی انصاف کے بنیادی تصورات پر مبنی آئین نافذ کیاگیا۔ اس باب میں پیچیدہ طریقوں سے یہ بھی دکھایا گیا ہے جن سے ہمارے سماجی روایات اورجدیدیت کی مستقل تشریح نو کی گئی۔

سوالات

سنسکرت کاری نے پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔
مغرب کاری کاعام مطلب مغربی لباس کو زیب تن کرنا اوران کی طرززندگی کی تقلید کرنا ۔کیا مغرب کاری کے دوسرے پہلو بھی ہیں۔کیا مغرب کاری کا مطلب جدیدکاری ہے؟بحث کریں۔
مختصراًمضمون لکھیں۔
رسوم اورسیکولر کاری
ذات اورسیکولر کاری
جنس اورسنسکرت کاری

حوالہ جات

Ramanujan, A.K. 1990. ‘Is There an Indian Way of Thinking: An Informal essay’ in Marriot McKim India Through Hindu Categories. Sage. New Delhi.
Abraham, Janaki. 2006. ‘The Stain of White: Liasons, memories and White Men as Relatives’ Men and Masculinities. Vol 9. No. 2. pp 131-151.  
Ao, Ayinla Shilu. 2005. ‘Where the Past Meets the Future’ in Ed. Geeti Sen Where the Sun Rises When Shadows Fall. IIC Quarterly Monsoon Winter 32, 2&3. 
pp. 109-112.
Chakravarti, Uma. 1998. Rewriting History: The Life and Times of Pandita Ramabai. Kali for Women. New Delhi.   
Chaudhuri, Maitrayee. 1993. The Indian Women’s Movement: Reform and Revival. Radiant. New Delhi.  
Dutt, A.K. 1993. ‘From Colonial City to Global City: The Far from Complete Spatial Transformation of Calcutta’ in  Brunn S.D. and Williams J.F. Ed. Cities of the World. pp. 351-388. Harper Collins. New York.  
Khare, R.S. 1998. Cultural Diversity and Social Discontent: Anthropological Studies on Contemporary India. Sage.  New Delhi. 
Kothari, Rajni.  1997. ‘Caste and Modern Politics’ in Sudipta Kaviraj Ed. Politics in India. pp. 57-70. Oxford University Press. Delhi. 
Pandian, M.S.S. 2000. ‘Dalit Assertion in Tamil Nadu: An Exploratory Note’  Journal of Political Economy. Vol XII. Nos. 3 and 4.  
Raman, Vasanthi. 2003. ‘The Diverse Life-Worlds of Indian Childhood’ in Margrit Pernau, Imtiaz Ahmad, Helmult Reifeld (Eds), Family and Gender: Changing values in Germany and India. Sage. New Delhi. 
Riba, Moji.  2005. “Rites, in passing …” IIC Quarterly Monsoon-Winter 32, 2&3. pp.113-121.
Rudolph and Rudolph. 1967. The Modernity of Tradition: Political Development in India. University of Chicago Press. Chicago. 
Saberwal, Satish. 2001. ‘Framework in Change: Colonial Indian Society’ in Ed. Susan Visvanathan Structure and Transformation: Theory and Society in India.   pp.33-57. Oxford. Delhi.