
3 ہندوستانی جمہوریت کی کہانی

3.1ہندوستانی آئین( The Indian Constitution)
ہندوستانی جمہوریت کی بنیادی قدریں(The Core Values Of Indian Democracy)
باکس3.1
سوال کرنے کی روایت
مہابھارت،میں جب بھارگوبھاردواج کو بتاتے ہیں کہ ذات پر مبنی تقسیم مختلف انسانوں کی جسمانی خصوصیات میں پائے جانے والے فرق سے متعلق ہے جو کہ جلد کے رنگ میں ظاہرہوتی ہے تب بھاردواج نے نہ صرف سبھی ذاتوں کے انسانوں کے جلد کے رنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے(اگر مختلف رنگ مختلف ذاتوں کا اشاریہ ہیں تو سبھی ذاتیں مخلوط ہیں) اور مزیدسنجیدگی سے سوال کرتے ہوئے انھیں جواب دیا:’’ہم سبھی خواہش، غصہ، خوف، دکھ، بھوک اورمحنت سے متاثر ہوتے ہیں،پھر ہم میں ذات سے متعلق اختلافات کیسے ہیں؟
(سین11-2005:10)
باکس3.2
آج سماج کا ہدف ایک نئی بنیاد رکھنا ہے جیسا کہ تین الفاظ اخوت،آزادی اورمساوات میں فرانسیسی انقلاب کا خلاصہ کیاگیا تھا۔فرانسیسی انقلاب کو اسی نعرے کے سبب پذیرائی ملی لیکن یہ مساوات پیش کرنے میں ناکام رہا۔ہم نے روسی انقلاب کا استقبال کیاکیونکہ اس کا مقصد بھی مساوات لانا تھالیکن یہ مساوات پیش کرنے میں بہت زیادہ زور نہیں دے سکا۔ سماج اخوت یاآزادی کو قربان کردینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اخوت یاآزادی کے بغیر مساوات کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں کا ساتھ ساتھ وجوداسی وقت ممکن ہے جب بدھ کے بتائے ہوئے طریقوں کی پیروی کی جائے۔
(امبیڈکر1992)
باکس3.2کے لیے مشق
ہندوستان کی آزادی سے بہت پہلے ان میں بہت سے امور پر غور کیاجاچکا تھا۔ جب ہندوستان برطانوی استعماریت سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہا تھا تب بھی ہندوستانی جمہوریت کے خاکے کے بارے میں ایک تصورسامنے آیاتھا۔1928میں موتی لعل نہرو اور8دوسرے کانگریسی رہنماؤں نے ہندوستا نی آئین کے لیے ایک مسودہ تیار کیاتھا۔انڈین نیشنل کانگریس کے1931کے کراچی کے اجلاس میں ایک قرار داد پیش کی گئی تھی کہ آزاد ہندوستان کا آئین کیسا ہونا چاہیے۔کراچی قراردادمیں ایک ایسی جمہوریت کا تصور ہے جس کا مطلب محض انتخاب کارسمی انعقاد نہیں بلکہ ایک حقیقی جمہوری سماج قائم کرنے کے لیے ہندوستانی سماج کی ساخت پر نئے سرے سے بنیادی کام کرنا ہے۔
کراچی قرار داد میں جمہوریت کاوہ تصور صاف طورپر ظاہر ہوتا ہے جو قوم پرست تحریک کامقصد تھا۔اس میں ان قدروں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں آگے چل کر ہندوستانی آئین میں پورا اظہار ملا۔آپ غورکریں کہ کس طرح ہندوستانی آئین کی تمہیدمیں صرف سیاسی انصاف ہی نہیں بلکہ سماجی ومعاشی انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔آپ اسی طرح غورکریں گے کہ مساوات محض سیاسی حقوق کے بارے میں نہیں بلکہ حیثیت اورمواقع کے بارے میں ہے۔
باکس3.3
ضمیمہ 6
سوراج میں کیاشامل ہوا؟
کراچی کانگریس قرارداد،1931
کانگریس نے سوراج کا جیسا تصور قائم کیا ہے اس میں عوام کی معاشی آزادی بھی شامل ہونی چاہیے۔کانگریس نے یہ اعلان کیا کہ کوئی بھی آئین اسی وقت قابل قبول ہوگا جب وہ سوراج حکومت کو درج ذیل فراہم کرنے کے قابل بنائے:
1۔ اظہار رائے ،انجمن اوراجلاس کی آزادی۔
2۔ مذہبی آزادی۔
3۔ ثقافت اورزبانوں کا تحفظ۔
4۔ قانون کی نظر میں سبھی شہریوں کا مساوی ہونا۔
5۔ مذہب، ذات یاجنس کی بنیاد پر روزگار، تجارت وکاروبار میں عدم اہلیت کا ناقابل قبول ہونا۔
6۔ عوامی کنوؤں،اسکولوں وغیرہ کے سلسلے میں سبھی کے لیے یکساں حقوق وفرائض۔
7۔ قوانین وضوابط کے لحاظ سے سبھی کو ہتھیار رکھنے کا حق۔
8۔ جائیداد یا آزادی سے کسی فرد کا محروم نہ ہونا سوائے اس کے کہ وہ قانون کے مطابق ہو۔
9۔ مذہب کے بارے میں ریاست کی غیر جانب داری۔
10۔ بالغ حق رائے۔
11۔ ابتدائی تعلیم کا لازمی ہونا۔
12۔ کسی طرح کے خطاب کا نہ دیاجانا۔
13۔ موت کی سزا کا ختم کیاجانا
14۔ ہندوستان کے ہر شہری کے لیے نقل وحرکت کی آزادی اورملک میں کہیں بھی رہائش اورجائیداد حاصل کرنے کا حق اوراسی بنا پر قانون کا تحفظ۔
15۔ کارخانہ مزدوروں کے لیے مناسب معیارِزندگی،آجروں اورکام کرنے والوں کے درمیان تنازعہ کوحل کرنے کا مناسب نظام اورضعیفی وبیماری وغیرہ سے تحفظ۔
16۔ بے گاری کی شرائط سے سبھی مزدوروں کو آزادکرنا۔
17۔ کام کرنے والی خواتین کا خصوصی تحفظ۔
18۔ کانوں اورکارخانوں میں بچوں کو ملازمت پر نہ رکھنا۔
19۔ کاشت کاروں اورکام کرنے والوں کو یونین بنانے کا حق۔
20۔ لگان اورتصرف املاک نیزکرایہ کے نظام میں اصلاح اورغیر پیداواری زمین کی لگان اورمحاصل میں رعایت اورچھوٹے زمین مالکوں کے واجب الادا اورادائیگیوں میں کمی۔
21۔ وراثت ٹیکس کا تدریجی پیمانے پر ہونا۔
22۔ فوجی اخراجات میں کم سے کم نصف کٹوتی۔
23۔ ریاست کے کسی بھی ملازم کو500روپیے ماہانہ سے زیادہ ادائیگی نہ کرنا۔
24۔ نمک ٹیکس کا ختم کیاجانا۔
25۔ غیر ملکی کپڑوں کے مقابلے دیسی کپڑوں کا تحفظ۔
26۔ نشیلے مشروبات اورمنشیات پرپوری طرح پابندی۔
27۔ کرنسی اورمبادلہ قومی مفاد میں ہو۔
28۔ کلیدی صنعتوں،خدمات اورریلوے وغیرہ کو قومیانا
29۔ زرعی قرضوں سے راحت اورسودخوری پر کنٹرول۔
30۔ شہریوں کے لیے فوجی تربیت۔
ممبر شپ فارم پر کراچی قرارداد کاخلاصہ شائع کیا جائے گا۔
باکس 3.4
ہندوستانی آئین کی تمہید
ہم ہندوستان کے عوام ہندوستان کو ایک مقتدر اعلی ،سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری ری پبلک (عوامی حکومت) بنانے کا عہد کرتے ہیں اوراس کے سبھی شہر یوں کو :
سماجی ، معاشی اورسیاسی انصاف:
خیالات ، ایمان وعقیدہ اورعبادت کی آزادی :
حیثیت اورمواقع کی برابری:
اور ان سب میں فرد کے وقار اور ملک کے اتحاد اورسا لمیت کو یقینی بناتے ہوئے اخو ت کو فروغ دینے کے لیے اپنی اس آئین ساز اسمبلی میں آج مورخہ 26نومبر 1949 کو بذریعہ ہذا اس آئین کو اپناتے نافذ کرتے اور خود کو سونپتے ہیں۔
باکس 3.3 اور3.4 کےلیے مشق
کراچی قرار دار اورتمہید کو بغور پڑھیں اوران میں موجود کلیدی تصورات کی شناخت کریں۔
جمہوریت کئی سطحوں پر کام کرتی ہے اس باب کی شروعات ہم ہندوستانی آئین کے تصور کے ساتھ کریں گے جو ہندوستان کی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آئین سازاسمبلی میں آئین کی تشکیل عمیق اور کھلے بحث ومباحثے کے نتیجے کے طور پر عمل میں آئی۔ اس طرح اس کا تصوراتی یانظریاتی مواد اور طریقہ عمل جس کے ذریعہ اس کی تشکیل ہوئی پوری طرح جمہوری تھا ۔ اگلے سیکشن میں ان میں سے کچھ مباحثوں پر مختصر نظرڈالیں گے۔
جمہوریت کئی سطحوں پر کام کرتی ہے اس باب کی شروعات ہم ہندوستانی آئین کے تصور کے ساتھ کریں گے جو ہندوستان کی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آئین سازاسمبلی میں آئین کی تشکیل عمیق اور کھلے بحث ومباحثے کے نتیجے کے طور پر عمل میں آئی۔ اس طرح اس کا تصوراتی یانظریاتی مواد اور طریقہ عمل جس کے ذریعہ اس کی تشکیل ہوئی پوری طرح جمہوری تھا ۔ اگلے سیکشن میں ان میں سے کچھ مباحثوں پر مختصر نظرڈالیں گے۔

سروپلی رادھاکرشنن آئین ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے
آئین ساز اسمبلی کے مباحثے:ایک تاریخ(Constituent Assembly Debates:A History)
باکس3.5
بحث کے اقتباسات
⇐ کے ۔ٹی۔شاہ کا کہنا تھا کہ مفیدروزگار کے حق کو ریاست کی طرف سے زمرہ بندذمہ داریوں کے ذریعہ حقیقی بنایاجانا چاہیے تاکہ ہر شہری جو اہل اورمجاز ہو،اسے مفید کام فراہم کیاجاسکے۔
⇐ بی۔داس نے حکومت کے کاموں کو قانونی دائرۂ اختیاراورقانونی دائرۂ اختیار کے باہر درجہ بند کرنے کی مخالفت کی،’’میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فاقہ کشی کو ختم کرے،سبھی شہریوں کو سماجی انصاف مہیا کرائے اورسماجی تحفظ کو یقینی بنائے…لاکھوں لوگوں کی کثرت کو مرکزی آئین میں کوئی امید نظرنہیں آتی…جو بھوک سے نجات کو یقینی بنائے،سماجی انصاف کو تحفظ دے،ایک کم سے کم معیار زندگی اورعوامی صحت کے کم سے کم معیارکو یقینی بنائے۔
⇐ امبیڈکر کاجواب اس طرح تھا:’’آئین کا مسودہ اس طرح وضع کیاگیا ہے کہ وہ ملک کی حکومت کے لیے صرف ایک مشینری فراہم کرتا ہے۔ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ کوئی ایک مخصوص پارٹی اقتدار میں آئے جیساکہ بعض ممالک میں ہوتا ہے۔اگر نظام جمہوریت کی آزمائش پر کھرا اترتا ہے تو یہ عوام کے ذریعہ متعین کیاجانا چاہیے کہ کسے اقتدار ملنا ہے،لیکن جس کے ہاتھ میں اقتدار رہے وہ اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔اسے رہنمااصول کہی جانے والی ہدایات کااحترام کرنا ہوگا۔انھیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا،لیکن ان کی خلاف ورزی پر عدالت میں جواب دہ نہیں ہوگا۔انتخاب کے وقت یقینا حلقۂ انتخاب کنندگان کے سامنے اسے جواب دینا پڑے گا۔ رہنمااصول جن عظیم قدروں پر مشتمل ہیں انھیں اسی وقت بہتر طورپر محسوس کیاجاسکتا ہے جب اقتدار حاصل کرنے کے لیے صحیح منصوبے کو نافذ کیاجائے۔‘‘
⇐ ’’زمینی اصلاح کے بارے میں نہرو کا کہنا تھا کہ سماجی قوتیں اس طرح کی ہیں کہ قانون اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتا جو ان دونوں کے درمیان حرکیات کا ایک دلچسپ انعکاس ہے۔‘‘اگر قانون اورپارلیمنٹ خود کو بدلتی تصویر کے موافق نہیں کرتے تو یہ صورت حال پر قابو نہیں کرپائیں گے۔
⇐ آئین سازاسمبلی کی بحث کے دوران قبائلی لوگوں کے تحفظ اوران کے مفادات کے معاملے میں جے پال سنگھ جیسے رہنماؤں کو نہرو کے ذریعہ یہ یقین دلایاگیا۔’’یہ ہمارا ارادہ ہے اوریقینی خواہش ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان کی مدد کی جائے؛جہاں تک ہوسکے مؤثر طورپر غاصب پڑوسیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے اوران کی ترقی کی راہ ہموار کی جائے۔‘‘
⇐ آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ ایسے حقوق کو جنھیں عدالت کے ذریعہ نافذ نہیں کیاجاسکتاانھیں ریاستی پالیسی کے رہنمااصول کے عنوان سے اپنایا گیا،اتفاق رائے سے اضافی اصولوں کو بھی شامل کیاگیا۔ان میں کے سنتھانم کی وہ شق بھی شامل کی گئیں جن کے مطابق ریاست کودیہی پنچایتوں کو منظم کرنا چاہیے اور مقامی خود مختار حکومت کی مؤثر اکائیوں کو اختیار دیاجانا چاہیے۔
⇐ ٹی ۔اے ۔رام سنگم چٹیارنے دیہی علاقوں میں کوآپریٹیوخطوط پر گھریلوصنعتوں کی ترقی سے متعلق شق کو بھی شامل کیا۔ تجربہ کار رکن پارلیمنٹ ٹھاکر دیوبھارگو نے یہ جملہ بھی جوڑا کہ ریاست کو زراعت اورمویشی پالن کوجدید خطوط پر منظم کرنا چاہیے۔
باکس 3.5کے لیے مشق
مسابقتی مفادات:آئین اورسماجی تبدیلی(Competing Interests: The Constitution And Social Change)
ہندوستان کاوجود بہت سی سطحوں پر قائم ہے۔قبائلی ثقافت کے امتیازی دھارے کے ساتھ آبادی کی کثیر مذہبی اورکثیرثقافتی ترکیب اس تکثیری کردار کا ایک پہلو ہے۔ کئی سطحوں پر ہندوستانی لوگوں کی درجہ بندی کرتی ہیں۔شہری اوردیہی تقسیم،امیروغریب کی تقسیم،خواندہ وناخواندہ کی تقسیم پر مبنی ثقافت،مذہب اورذات کے اثرات بھی الگ الگ نوعیت کے ہیں۔دیہی غریبوں میں کئی ایسے گروہ اورذیلی گروہ ہیں جوگہرائی سے ذات اورغریبی کی بنیادپر طبقہ بندی کرتے ہیں۔شہروں کے کام کرنے والے طبقے بھی وسیع پیمانے پر منقسم ہیں۔یہی نہیں منظم گھریلوکاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور اورکمرشیل طبقے کا بھی وجود ہے۔شہری پیشہ ور طبقہ بھی اپنی باتیں پرزور طریقے سے پیش کرتا ہے۔ہندوستانی سماجی وسائل اورریاست کے وسائل پر کنٹرول کے لیے ہنگامی مسابقتی مفادات عمل کرتے ہیں۔
تاہم آئین میں چندبنیادی مقاصد شامل کیے گئے ہیں جو عام طورپر ہندوستانی سیاسی دنیا میں منصفانہ مان کر اتفاق رائے سے تسلیم کیے گئے ہیں۔یہ مقاصد غریبوں اورحاشیے پر کیے گئے لوگوں کو تفویض اختیار،انسداد غربت ذات پات کے خاتمے اورسبھی گروپوں کے تئیں یکساں برتاؤ کے مثبت اقدامات ہیں۔
مسابقتی مفادات کسی واضح طبقاتی تقسیم کو ہمیشہ منعکس نہیںکرتے۔ کسی کارخانے کوبند کروانے کا مسئلہ لیجیے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس سے زہریلا کوڑا کرکٹ خارج ہوتا ہے اورآس پاس کے لوگوں کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا معاملہ ہے جس کا آئین تحفظ کرتا ہے۔اگلے صفحے پر یہ دکھایاگیا ہے کہ بہت سی چیزوں کو بندکرنے سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ ذریعہ معاش بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے،اس کا بھی آئین تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہ دلچسپ ہے کہ آئین سازی کے وقت ہماری آئین ساز اسمبلی اس کی پیچیدگی اورتکثیر یت سے پوری طرح آگاہ تھی لیکن سماجی انصاف کو یقینی بنانے کی اس نے ضمانت دی۔


آئینی اصول اورسماجی انصاف:سماجی انصاف کے امداد کی توضیح( Constitutional norms and social justice: interpretation to aid social justice)
سماجی انصاف سے متعلق قانون اورانصاف کے درمیان فرق کو سمجھنا مفید ہے۔قانون کا اصل جوہر اس کی نافذ کرنے کی قوت ہے۔قانون اس لیے قانون ہے کیونکہ اس میںجبریہ یاطاقت کے ذریعہ اطاعت کرائی جاتی ہے۔اس کے پیچھے ریاست کی قوت ہوتی ہے۔انصاف کااصل حق غیرجانب داری ہے۔ کوئی بھی قانونی نظام ذمہ داروںکی درجہ واری کے ذریعہ عمل کرتا ہے۔وہ بنیادی معیار جن سے دیگر اصول اور ذمہ داران روبہ عمل ہوتے ہیں،آئین کہلاتا ہے۔یہ ایک دستاویز ہے جو ملک کے اصولوں کی تشکیل کرتا ہے۔ ہندوستانی آئین ہندوستان کا بنیادی معیار ا صول ہے۔دیگر سبھی قوانین آئین کے ذریعہ طے کیے گئے طریقۂ عمل کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کو ذمہ داروں کے ذریعہ بنایااورنافذکیاجاتا ہے جن کی آئین کے ذریعہ صراحت کی گئی ہے ۔عدالتوں کے سلسلہ مدارج(جو خود آئین کے ذریعہ مقرر کیے گئے یہ ذمہ داران ہیں)میں جب کوئی تنازع پیداہوا ہے تو قوانین ان کی توضیح کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ سب سے بڑی عدالت ہے اورآئین کی آخری شارح ہے۔
سپریم کورٹ نے کئی شکلوں میں آئین میں بنیادی حقوق کے مفہوم میں وسعت پیداکی ہے۔درج ذیل باکس میں چند مثالوں کو واضح کیاگیا ہے۔
باکس3.6
⇐ ایک بنیادی حق میں وہ سب شامل ہے جواس کے لیے ضمنی ہے۔آرٹیکل 21میں زندگی اورآزادی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے جس کی تشریح میں وہ سبھی شامل ہے جو معیار زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔اس میں ذریعہ معاش،صحت،رہائش،تعلیم اوروقار سبھی کو شامل کیاگیا ہے۔مختلف رائے یا فیصلوں میں زندگی کی مختلف صفات کو وسعت دی گئی ہے اوراسے محض جبلی حیوانات کے وجود کی بہ نسبت زیادہ بہتر مفہوم میںواضح کیاگیا ہے۔یہ ان تشریحات کو ان قیدیوں کو راحت پہنچانے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے جن میں انھیں اذیت اورمحرومیوں کاشکار بنایاجاتا ہے،بندھوا مزدوروں کو چھڑانے ،بازآبادکاری،ماحولیاتی تنزلی سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف راحت پہنچانے،بنیادی صحت سے متعلق دیکھ بھال اورابتدائی تعلیم فراہم کرنے میں بھی انھیں استعمال کیاجاتا ہے۔
1993میں سپریم کورٹ نے اطلاع کے حق کو آرٹیکل19(1)(a)کے تحت اظہار کی آزادی کے حق کا حصہ اورضمنی بتایا۔
⇐ بنیادی حقوق کے ضمن میں رہنمااصولوں کو پیش کرنا۔سپریم کورٹ نے یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ(equal pay for equal work)، کے رہنما اصول کو آرٹیکل14کے مساوات کے بنیادی حقوق کے تحت مانااوربہت سے باغا ت میں کام کرنے والوں، زرعی مزدوروں اوردوسروں کو راحت پہنچائی۔
3.2پنچایتی راج اوردیہی سماجی تبدیلی کے چیلنج(The panchayati raj and the challenges of rural social transformation)
پنچایتی راج کے نصب العین ( Ideals of panchayati raj)
باکس3.7
پنچایت راج ادارے کا سہ سطحی نظام
⇐ اس کی ساخت ایک اہرام کی طرح ہے۔ ساخت کی بنیاد پر جمہوریت کی اکائی کی شکل میں گرام سبھا واقع ہوتی ہے۔اس میں گاؤں یاگرام کے شہریوں کی شمولیت ہوتی ہے۔یہی وہ عام سبھا ہے جو مقامی حکومت کاانتخاب کرتی ہے اورچند مخصوص ذمہ داریوں کو اسے سونپتی ہے۔گرام سبھا مباحثوں اوردیہی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک فورم فراہم کرتی ہے اورفیصلہ سازی میں کمزور طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردارنبھاتی ہے۔
⇐ آئین کی 73ویں ترمیم کے ذریعہ بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والی سبھی ریاستوں میں پنچایتی راج کاسہ سطحی نظام فراہم کیا گیا ہے۔
⇐ یہ ضروری ہوگیاہے کہ ان اداروں کے انتخاب ہرپانچ سال میں منعقد کیے جائیں۔
⇐ اس میں درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کے لیے محفوظ نشستوں اور33 فی صد سیٹوں کوخواتین کے لیے محفوظ کیاگیا ہے۔
⇐ اس میں پورے ضلع کے لیے مسودے تیارکرنے اورمنصوبوں کو فروغ دینے کے لیے ضلعی منصوبہ بند کمیٹی کی تشکیل کا اہتمام کیاگیا ہے۔

پنچایتوں کے اختیارات اورذمہ داریاں(Power and Responsibilities of Panchayats)

قبائلی علاقوں میں پنچایت راج(Panchayati raj in tribal areas)
باکس3.8
دلت ذات کی کلاوتی الکشن لڑنے کے بارے میں فکر مند تھی۔پنچایت ممبر بننے کے بعد وہ محسوس کررہی ہے کہ اس کے اعتماد اورخود پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔زیادہ اہم یہ کہ اب اس کا اپنا ایک نام ہے۔پنچایت ممبر بننے سے پہلے وہ ’راموکی ماں‘یا’ہیرالعل‘کی بیوی‘کے نام سے جانی جاتی تھی۔اگروہ گرام پردھان کے عہدے کا انتخاب ہارگئی تواسے محسوس ہوگا کہ اس کی سہیلیوں کی ناک کٹ گئی۔
(ماخذ:’مہیلاسماکھیا‘نام کی ایک غیرسرکاری تنظیم کے ذریعہ درج کیاگیاجو دیہی عورتوں کے تفویض اختیار کے لیے کام کرتی ہے۔)
باکس3.9
بن پنچایتیں
اتراکھنڈمیں زیادہ ترعورتیں کام کرتی ہیں کیونکہ مرد عام طورپر دفاعی خدمات کے لیے دورتعینات ہوتے ہیں۔ زیادہ ترگاؤں والے اب بھی کھانابنانے کے لیے لکڑیوں کااستعمال کرتے ہیں۔ جیساکہ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جنگلوں کاکٹاؤ پہاڑی خطوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔عورتیں کبھی کبھی لکڑیاں چننے اوراپنے جانوروں کاچارااکٹھاکرنے کے لیے کئی میل پیدل چلتی ہیں۔ اس مسئلے پر قابوپانے کے لیے عورتوں نے بن پنچایتوں کی تشکیل کی جن کی ممبرنرسریوں کو فروغ دیا ہے اورپہاڑی ڈھلانوں پر پودکاری کے لیے نئے پیڑوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔یہ ممبران آس پاس کے جنگلوں کی نگہبانی بھی کرتی ہیں تاکہ وہ پیڑوں کی غیرقانونی کٹائی پر نظررکھ سکیں۔’چپکوتحریک‘ جس میں کہ پیڑوں کو کٹنے سے بچانے کے لیے پیڑوں سے چپکاجاتا ہے اسی علاقے میں شروع کی گئی تھی۔
باکس3.10
ناخواندہ عورتوں کے لیے پنچایتی راج کی تربیت
یہ پنچایتی راج نظام کی قوت کی ترسیل کا ایک اختراعی طریقہ ہے۔سکھی پور اوردکھی پور نام کے دوگاؤں کی کہانی کپڑے کی ’پھڑ‘ (کہانی کہنے کا ایک روایتی عوامی ذریعہ)کے ذریعہ پیش کی گئی۔دکھی پور گاؤں میں وصلا نامی ایک بدعنوان پر دھان تھی جس نے گاؤںمیں اسکول بنوانے کے لیے ایک پنچایت سے رقم وصول کی تھی لیکن اس نے اس کا استعمال اپنی ذات اوراہل خانہ کے لیے ایک مکان کی تعمیر کی خاطرکیا۔گاؤں کا باقی حصہ غریب تھا۔ دوسری طرف سکھی پور گاؤں کے لیے بہتر بنیادی سہولیات کو فروغ دینے میں دیہی ترقی کی رقم خرچ کی۔اس گاؤں میں ابتدائی صحت کی دیکھ بھال کامرکز ہے،اچھی سڑکیں اورپکی عمارتیں ہیں۔ اچھی سڑکوں کے سبب بسیں گاؤں میں پہنچ سکتی ہیں۔لوک موسیقی کے ساتھ’پھڑ‘پر تصویری نقش ونگار اہل حکمراں اورشرکا پیغام کو پہنچانے کے کارگر ہتھیار تھے۔ کہانی کہنے کایہ نیاطریقہ ناخواندہ عورتوں میں آگاہی پیدا کرنے میں بہت مؤثر تھا۔
سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس مہم کے ذریعہ جوپیغام ملا وہ یہ کہ محض ووٹ دینا، الیکشن لڑنایا جیتنا ہی کافی نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کسی کو آخر کیوں ووٹ دیاجائے،اس میں ایسے کیا اوصاف ہونے چاہئیں اوروہ آگے کیا کرنا چاہتا/ چاہتی ہے۔ ’پھڑ‘کی کہانی اورگیت کے وسیلے سے سا لمیت ویکجہتی کی قدر پر بھی زوردیا جاتا ہے۔
یہ تربیتی پروگرام’مہیلا سماکھیانام کی غیرسرکاری تنظیم کے ذریعہ منعقد کیاگیا جودیہی خواتین کے تفویض اختیار کاکام کرتی ہے۔

جمہوریت کاری اورعدم مساوات(Democratisation and inequality)
باکس3.11
عزت کاسوال
ذات پر مبنی پنچایتیں خود کو دیہی اخلاقیات کا سرپرست سمجھتی ہیں…اکتوبر 2004کاایسا پہلا معاملہ تھا جو سرخیوں میںرہاجب جھجر ضلع کے اساندہ گاؤں کی پنچایت ’راٹھی کھاپ‘نے سونیا جس کی ایک سال پہلے شادی ہوچکی تھی ،کویہ حکم دیا کہ اگر اسے گاؤں میں رہنا ہے تواسے اسقاط حمل کرانا ہوگا اوراپنی شادی توڑ کر شوہررام پال کو بھائی ماننا ہوگا۔ اس جوڑے کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے ایک ہی گوتر میں شادی کی تھی،حالانکہ ہندوشادی ایکٹ میں اس ملاپ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سونیا اوررام پال صرف ہریانہ کی ہائی کورٹ کی اس ہدایت کے بعد ہی ساتھ رہ سکے جس نے ہریانہ حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہاتھا۔
…اسی طرح مظفرنگر میں انصاریوں کی پنچایت نے گذشتہ سال یہ فیصلہ دیاکہ اپنے سسرکے ذریعہ زناکا شکارہونے کے بعدعمرانہ اپنے شوہر کی ماں ہوچکی ہے۔میرٹھ کی ایک پنچایت نے فیصلہ دیا کہ اپنے دوسرے شوہر کے ذریعہ حاملہ ہونے کے باوجود بھی گڑیا کو اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس ہوجانا چاہیے جوپانچ سال بعد واپس آیاتھا۔
ماخذ:سنڈے ٹائمز آف انڈیا،نئی دہلی 29اکتوبر2006
باکس3.12
دولت اورمراعات کا کردار؟گاؤں والوں کا کردار؟
اس وقت کی بات جبسوپاسرپنچ سیٹ عورتوں کے لیے محفوظ کوٹے میںرکھی گئی۔پھر بھی پنچایت کے باشندوں نے اسے امیدواروں کے شوہروں کے درمیان مقابلے کے طورپر سمجھا۔ایک طرف سرپنچ کے عہدے کا امیدواررام رائے میواڑہ تھاجو کیکڑی میں ایک شراب کی دکان کامالک تھا جب کہ دوسری طرف اسی گاؤں کازمین دار چاند سنگھ ٹھاکر تھا۔گاؤں والوں نے میواڑہ کی اصلیت افشاں کردی کہ2002–03کی خشک سالی راحت فنڈ میں اس نے نقلی فہرست بنائی تھی۔
حالانکہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ،لیکن اس بار گاؤں والے اسے پنچایت سے باہر دیکھنا چاہتے تھے اس طرح انھوں نے ٹھاکر کو سخت مقابلے کے لیے پیش کیا، سوپا کے باشندوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ لیا کہ میواڑہ کے خلاف مقابلے کے ٹھاکر زیادہ موزوں امیدوار تھا…
باکس3.13
زیادہ سے زیادہ شرکت اوراطلاع کے لیے سماجی تحریکوں اورتنظیموں کاکردار
24جنوری کودسوریلاگاؤں(کشل پورہ پنچایت)میں ایک میٹنگ ہوئی۔اعلان کرکے،بچوں کواکٹھاکرکے انھیں نعرے سکھائے گئے اوردروازے دروازے جاکر لوگوں کو بتایا گیا۔ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم کے ایک معزز کارکن نے لوگوں سے چوپال میں آنے کی درخواست کی…تارہ(مقامی این جی او کی حمایت یافتہ امیدوار)کامنشورپڑھاگیا اوراس نے ایک چھوٹی سی تقریر کی منشور میں کہاگیاتھاکہ وہ ایک سرپنچ کے طورپر رشوت نہیں لیں گی اوراپنی مہم کے لیے 2000 روپیے سے زیادہ نہیں خرچ کریں گی۔وغیرہ…
یہاں لوگوں کے ووٹ خریدنے کے لیے اورمہم اخراجات میں تعاون کے لیے شراب اورگڑتقسیم کیاجاتا ہے اورجیپوں کاباربار استعمال کیاجاتا ہے… اکٹھاہوئے گاؤں والوں کے سامنے بدعنوانی کاپوراسلسلہ واضح کیاگیا؛کم خرچ کے انتخاب نہ صرف غریبوں کی شرکت کی گنجائش پیداکرتے ہیں،بلکہ بدعنوانی سے آزاد پنچایتوں کے امکان کو بھی وسیع بناتے ہیں۔
باکس3.11،3.12،3.13کے لیے مشق
3.3سیاسی پارٹیاں،دباؤ گروہ اورجمہوری سیاست(Political parties pressure groups and democratic politics)
سرگرمی3.1
باکس3.14
ہرسال فروری کے آخر میں حکومت ہند کے وزیر مالیات پارلیمنٹ کے سامنے بجٹ پیش کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہردن اخبار میں رپورٹیں شائع ہوتی ہیں کہ ہندوستانی صنعت کاروں کے مختلف کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریلٹس ٹریڈیونینس،کسان اورحالیہ خواتین گروہوں نے وزارت مالیات کے ساتھ میٹنگ کی ۔
باکس3.14کے لیے مشق
باکس3.15
پارٹیوں کے بارے میںمیکس ویبر کے خیالات
جب کہ طبقات کا اصل مقام معاشی سلسلے یا نظم میں ہے،گروہوں کی حیثیت کو سماجی نظم میں رکھاجاسکتا ہے…لیکن پارٹیاں اقتدار کی ایوان اقتدار میں رہتی ہیں۔…
پارٹی کا عمل ہمیشہ ایک ایسے مقصد کے لیے ہوتا ہے جن کی جدوجہد ایک منصوبہ بند انداز میں کی جاتی ہے۔مقصد ایک موقف ہوسکتاہے(پارٹی کامقصد کسی نصب العین یا مادی ضرورتوں کے لیے پروگرام کو حقیقت آفریں بنانا ہوسکتا ہے )یاذاتی ہوسکتا ہے۔(منافع بخش عہدہ،اقتدار اوران کے ذریعہ قیادت حاصل کرنا یاپارٹی کے پیروکاروں سے عزت حاصل کرنا)
(ویبر1948:194)
باکس3.16کے لیے مشق
باکس3.16
حالیہ سالوں میں دیکھنے کو ملاکہ ہندوستانی شہروں کو عالمی شہر بنانے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔
شہری منصوبہ کاروں اوراس کے امکان پر غور کرنے والوں کے خیال میںممبئی کو فوری شمال–جنوب اورمشرق–مغرب سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ان کی دلیل یہ تھی کہ ممبئی کو دائرے میں کرنے کے لیے ایک ایکسپریس رنگ وے کے تعمیر کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ آزادراستہ شہر میں اندر کے کسی نقطے سے 10منٹ کے اندر پہنچ سکے۔تیز داخلہ اور اخراج اور مؤثرآمد ورفت کو شہرکی بے دخل سرگرمی کے لیے لازمی طورپر مناسب سمجھا جاتا ہے…
کم مراعات یافتہ لوگوں کے لیے سڑک کی اہمیت کچھ مختلف قسم کی ہے۔وہ جوڑنے والے آزاد راستوں سے بھی زیادہ بہت کچھ ہے۔سڑکیں خواہ اچھی ہوں یا خراب اکثر مؤثر طورپر بازار میلہ بن جاتی ہیں اور مختلف مقصد سے کی جانے والی زیارت،تفریح(نقل وحمل)اورمعاشی مبادلہ بھی اس کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔سڑک پر لوگوں کو عوامی اورنجی جگہوں کے درمیان کوئی فرق نہیں دکھائی دیتا کیونکہ وہیں پر خرید وفروخت،کھاناپینا،کرکٹ کھیلنا،یہاں تک کہ کھڑے رہنا اورگھومنا پھرنا بھی جاری رہتا ہے۔ شہر کے منصوبہ کاروں نے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ کس طرح یہ سرگرمیاں آمدورفت میں رکاوٹ پیداکرتی ہیں اور بھیڑ بھاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
ان بھیڑبھاڑ اوررکاوٹوں کوکم کرنے کے لیے غریبوں کو شہر کے باہری حصوں میں بسادیاگیا ہے۔میکنزی کے ایک نجی صلاحکار کے ذریعہ تیار کیے گئے دستاویز ’ممبئی ویزن‘میں کہاگیاکہ ہے غریبوں کا گھر بنانے کا منصوبہ شہر کے باہر نمک کی پرت والی زمین پر تیار کیا گیا ہے۔ان کے ذریعہ معاش کا کیا ہوگا؟درج ذیل اقتباس غریبوں کی آواز کا مکمل عکاس ہے۔
ہم دراصل’انسانی بلڈوزر‘اور’انسانی ٹریکٹر‘ہیں۔زمین کو سب سے پہلے ہم نے ہموار کیا۔ہم نے شہر کے لیے اپنی خدمات دیں۔ ہم شہر کی گندگی باہر لائے ہیں۔میں نہیں دیکھتا کہ شہریوں کے گروہ سیوروں کو اکھاڑتے یاسڑکوں کو کھودتے ہیں۔شہر صرف امیر کے لیے نہیں ہے،ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔میں بھیک نہیں مانگتا۔میں تمھارے کپڑے دھوتا ہوں۔عورتیں اس لیے کام کرنے جاسکتی ہیں کیونکہ ہم ان کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہیں۔وزارت،کلکٹریٹ،بی ایم سی کے اسٹاف حتی کہ پولیس کے لوگ بھی گندی بستیوں میں رہتے ہیں۔چونکہ ہم یہاں ہوتے ہیں تو عورتیں رات کو محفوظ گھوم سکتی ہیں…بامبے فرسٹ جیسے گروہ سب سے پہلے ممبئی کو عالمی معیار کے شہر ہونے کی بات کرتے ہیں۔اپنے غریبوں کے لیے رہنے کی جگہ کے بغیر ورلڈکلاس سٹی یہ کیسے بن سکتا ہے؟(آنند 2006:3422)

سوالات
1۔ مفادی گروہ عملی جمہوریت کا ناگزیر حصہ ہیں ۔اس پربحث کیجیے۔
2۔ آئین ساز اسمبلی کی بحث کے حصوں کا مطالعہ کیجیے۔مفادی گروہوں کی شناخت کیجیے۔عصری ہندوستان میں کس طرح کے مفادی گروہ ہیں؟وہ کیسے کام کرتے ہیں؟
3۔ اسکول میں انتخاب لڑنے کے وقت اپنے منشور کے ساتھ ایک ’پھڑ یا اسکرولی ‘بنائیے۔(یہ پانچ لوگوں کے ایک چھوٹے گروہ میں بھی کیاجاسکتا ہے،جیساکہ پنچایت میں ہوتا ہے؟
4۔ کیاآپ نے بچہ مزدور اورمزدور کسان تنظیم کے بارے میں سنا ہے؟اگر نہیں تو معلوم کیجیے،اوران کے بارے میں200الفاظ پر مشتمل ایک مضمون لکھیے۔
5۔ گاؤں والوں کی آواز کوسامنے لانے میں73ویں آئینی ترمیم نہایت اہم ہے۔بحث کیجیے۔
6۔ ایک مضمون لکھ کر مثال دیتے ہوئے ان طریقوں کو بتائیے جو عوام کی روزمرہ زندگی میں اہم ہیں اورہندوستانی آئین میں ان مسائل کو محسوس کیاگیا ہے۔
حوالہ جات
Anand, Nikhil. 2006. ‘Disconnecting Experience: Making World Class Roads in Mumbai’. Economic and Political Weekly (August 5th). pp. 3422-3429.
Ambedkar, Babasaheb. 1992. ‘The Buddha and His Dharma’ in V. Moon (Ed.)Dr. Babasaheb Ambedkar: Writings and Speeches. Vol. 11. Bombay Educational Department. Government of Maharashtra.
Sen, Amartya. 2004. The Argumentative Indian: Writings on Indian History, Culture and Identity. Allen Lane. Penguin Group. London.
Weber, Max. 1948. Essays in Sociology Ed. with an introduction by H.H. Gerth and C. Wright Mills. Routledge and Kegan Paul. London.