Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-003


1

3 ہندوستانی جمہوریت کی کہانی


ہم سبھی اس تصور سے بخوبی واقف ہیں کہ جمہوریت عوام کے ذریعہ،عوام کے لیے،عوام کی حکومت ہے۔اسے بنیادی طورپر دوزمروں میں رکھاجاتا ہے:براہِ راست اورنمائندہ۔راست جمہوریت میں سبھی شہری بغیرکسی منتخب یا تقرر کردہ عہدے دار کی ثالثی کے  عوامی فیصلوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔ایسا نظام صرف وہیں قابل عمل ہے جہاں لوگوں کی تعداد نسبتاًکم ہو— مثلاً ایک کمیونٹی، تنظیم ، قبائلی کو نسل یا ٹریڈ یونین کی مقامی اکائی جہاں ممبران ایک کمرے میں کسی امور پر بحث کرنے کے لیے آپس میں مل سکتے ہوں اوراتفاق رائے سے یا اکثریتی ووٹ سے کسی فیصلے پر پہنچ سکتے ہوں۔
وسیع اورپیچیدہ جدید سماج میںراست جمہوریت کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔آج کل جمہوریت کی نہایت عام شکل خواہ50,000کی آبادی والا قصبہ ہویا پھر100کروڑ کی آبادی والے ممالک، نمائندہ جمہوریت ہی پائی جاتی ہے۔اس میں شہری عوامی مفاد میں سیاسی فیصلے،قوانین وضع کرنے یا پروگراموں کے نفاذ کے لیے عہدے داروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہماری جمہوریت بھی نمائندہ جمہوریت ہے۔ہر ایک شہری کو اپنے نمائندے کے حق میں ووٹ دینے کا اختیار ہے۔ عوام اپنے نمائندگان کو پنچایت،میونسپل بورڈ،ریاستی اسمبلی اورپارلیمنٹ وغیرہ سبھی سطحوں پر منتخب کرتے ہیں۔اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ جمہوریت میں عوام کی باقاعدہ شمولیت زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے اورمحض ہر پانچ سال پر ووٹ ڈالنے کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔اس طرح شراکتی جمہوریت اورغیرمرکزی حکمرانی دونوں ہی مقبول ہوتے جارہے ہیں۔شراکتی جمہوریت ایک ایسانظام ہے جس میں اہم فیصلہ لینے کے لیے کسی گروہ یاکمیونٹی کے سبھی ممبران اجتماعی طورپر شریک ہوتے ہیں۔اس باب میں غیرمرکزی اورزمینی جمہوریت کے ایک اہم قدم  سمجھے جانے والے  پنچایتی راج نظام کی مثال پر بحث کی جائے گی۔
دونوں طریقۂ عمل اورقدروں سے پتہ چلتا ہے کہ استعماریت کے خلاف جدوجہد کے طویل عرصے میں ہندوستانی جمہوریت کو فروغ ملا ہے۔ آزادی کے حصول کے گذشتہ 60سالوں میں ہندوستانی جمہوریت کی کامیابی ایک ایسے ملک کے لیے کرشمہ ہی ہے جہاں اتنا تنوع اورعدم مساوات پایا جاتا ہو۔اس باب میں ہندوستان کے خوش حال  لیکن پیچیدہ ماضی اورحال کی جامع تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔
 اس باب میں ہندوستان میں جمہوریت کے فروغ کے بارے میں ایک مختصر خاکہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ سب سے پہلے ہم ہندوستانی آئین پر نظرڈالیں گے جو ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ ہم اس کی بنیادی قدروں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے،آئین سازی پرمختصراًنظرڈالیں گے اورمختلف خیالات کی نمائندگی کرنے والے مباحث کے بعض تراشوں پر غور کریں گے۔ دوسرے باب میں ہم جمہور ی عمل کی زمینی سطح کے نظام یعنی پنچایت راج نظام پر نظرڈالیں گے۔دونوں ہی تشریح میں آپ غور کریں گے کہ لوگوں کے مختلف گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی ہیں،جو مسابقتی مفاد کی نمائندگی کررہی ہیں۔جمہوریت کسی بھی عمل کا ایک لازمی جزو ہے۔اس باب کے تیسرے حصے میں یہ بحث کی گئی ہے کہ کسی طرح مسابقتی مفادات عمل کرتے ہیں۔اصطلاح مفاد یا ہم مفاد گروہوں اورسیاسی پارٹیوں سے کیا مراد ہے اورہندوستان جیسے جمہوری نظام میں ان کا کیا کردار ہے؟
                                     v
                               ایک بزرگ خاتون انتخاب میں ووٹ ڈالتے ہوئے۔


3.1ہندوستانی آئین( The Indian Constitution)

ہندوستانی جمہوریت کی بنیادی قدریں(The Core Values Of Indian Democracy)

ہمیں جدید ہندوستان کی دیگر خصوصیات کی طرح جدید ہندوستانی جمہوریت کی کہانی کی شروعات بھی نوآبادیاتی دور سے ہی کرنی چاہیے۔آپ نے ابھی ایسی بہت سی ساختی اورثقافتی تبدیلیوں کے بارے میں پڑھا ہے جو برطانوی استعماریت کے ذریعہ دانستہ لائی گئیں۔ان میں سے بعض غیر ارادی طورپر رونما ہوئیں۔ برطانیہ کاکوئی ایسا ارادہ نہیں تھا کہ ایسی تبدیلیاں ہوں۔مثلاً انھوں نے یہاں مغربی تعلیم کی اشاعت اس لیے کی کہ وہ مغربی تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کا ایک متوسط طبقہ تیار کرسکیں اوران کی مدد سے نوآبادیاتی حکمرانوں کی حکومت جاری رکھ سکیں۔ایک مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ضرور ابھرا لیکن یہ برطانوی حکومت کے لیے مددگار ہونے کے بجائے جمہوریت کے روشن خیال تصورات،سماجی انصاف اورقوم پرستی کااستعمال نوآبادیاتی حکومت کے لیے چیلنج بن گیا۔
 اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جمہوری اقدار اورادارے خالصتاً مغربی دین ہیں۔ملک کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک ہمارے قدیم رزمیے، لوک کہانیاں، مذاکرات، مباحثوں اورمتضاد صورتوں سے بھرے پڑے ہیں۔کسی بھی لوک کہانی، لوک گیت یا رزمیہ کے بارے میں غورکیجیے جو ان مختلف نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہیں؟ہم رزمیہ مہابھارت کی ہی ایک مثال پیش کرتے ہیں۔

باکس3.1

سوال کرنے کی روایت

مہابھارت،میں جب بھارگوبھاردواج کو بتاتے ہیں کہ ذات پر مبنی تقسیم مختلف انسانوں کی جسمانی خصوصیات میں پائے جانے والے فرق سے متعلق ہے جو کہ جلد کے رنگ میں ظاہرہوتی ہے تب بھاردواج نے نہ صرف سبھی ذاتوں کے انسانوں کے جلد کے رنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے(اگر مختلف رنگ مختلف ذاتوں کا اشاریہ ہیں تو سبھی ذاتیں مخلوط ہیں) اور مزیدسنجیدگی سے سوال کرتے ہوئے انھیں جواب دیا:’’ہم سبھی خواہش، غصہ، خوف، دکھ، بھوک اورمحنت سے متاثر ہوتے ہیں،پھر ہم میں ذات سے متعلق اختلافات کیسے ہیں؟

(سین11-2005:10)


جیساکہ ہم نے باب1اور2میں دیکھا کہ جدید ہندوستان میں سماجی تبدیلی کا سبب محض ہندوستانی خیالات اور مغربی افکار نہیں بلکہ ہندوستانی مغربی خیالات کا امتزاج اوران کی ازسرنو تشریح ہے۔ ہم نے سماجی مصلحین کے معاملے میں مساوات کے جدید خیالات اورانصاف کے روایتی تصورات دونوں کو برتتے  دیکھاہے۔ جمہوریت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔نوآبادیاتی ہندوستان میں برطانوی استعماریت کے غیر جمہوری اورامتیازی انتظامی سلوک جو آزادی کے اس تصور کے بالکل متضاد تھے جنھیں جمہوریت کے مغربی نظریات میں اپنایا گیا تھا اورمغربی تعلیم یافتہ ہندوستانیوں نے جن کے بارے میں پڑھاتھا،ہندوستان میں پھیلی غربت اورسماجی تفریق کی شدت جمہوریت کے معنی پر گہرے سوالات پیداکرتی ہے۔کیاجمہوریت کا مطلب صرف سیاسی آزادی ہے؟یا پھر معاشی آزادی اورسماجی انصاف بھی؟کیا ذات،مسلک،نسل اورجنس کی تفریق کے بغیر سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں؟اگر ایسا ہے تو پھر ایک غیرمساوی سماج میں ایسی مساوات کو کیسے محسوس کیاجاسکتا ہے؟

باکس3.2

آج سماج کا ہدف ایک نئی بنیاد رکھنا ہے جیسا کہ تین الفاظ اخوت،آزادی اورمساوات میں فرانسیسی انقلاب کا خلاصہ کیاگیا تھا۔فرانسیسی انقلاب کو اسی نعرے کے سبب پذیرائی ملی لیکن یہ مساوات پیش کرنے میں ناکام رہا۔ہم نے روسی انقلاب کا استقبال کیاکیونکہ اس کا مقصد بھی مساوات لانا تھالیکن یہ مساوات پیش کرنے میں بہت زیادہ زور نہیں دے سکا۔ سماج اخوت یاآزادی کو قربان کردینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اخوت یاآزادی کے بغیر مساوات کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں کا ساتھ ساتھ وجوداسی وقت ممکن ہے جب بدھ کے بتائے ہوئے طریقوں کی پیروی کی جائے۔

(امبیڈکر1992)


باکس3.2کے لیے مشق

درج بالا متن کو پڑھیے اوربحث کیجیے کہ جمہوریت کے نئے ماڈل کی تحقیق اورتعمیر میں مغرب اورہندوستان کے کس طرح کے متنوع خیالات مد نظر رکھے جاتے تھے ۔کیا آپ دیگر مصلحین اورقوم پرستوں کے بارے میں غورکرسکتے ہیں جو اس طرح کی کوششیں کررہے تھے؟

ہندوستان کی آزادی سے بہت پہلے ان میں بہت سے امور پر غور کیاجاچکا تھا۔ جب ہندوستان برطانوی استعماریت سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہا تھا تب بھی ہندوستانی جمہوریت کے خاکے کے بارے میں ایک تصورسامنے آیاتھا۔1928میں موتی  لعل نہرو اور8دوسرے کانگریسی رہنماؤں نے ہندوستا نی آئین کے لیے ایک مسودہ تیار کیاتھا۔انڈین نیشنل کانگریس کے1931کے کراچی کے اجلاس میں ایک قرار داد پیش کی گئی تھی کہ آزاد ہندوستان کا آئین کیسا ہونا چاہیے۔کراچی قراردادمیں ایک ایسی جمہوریت کا تصور ہے جس کا مطلب محض انتخاب کارسمی انعقاد نہیں بلکہ ایک حقیقی جمہوری سماج قائم کرنے کے لیے ہندوستانی سماج کی ساخت پر نئے سرے سے بنیادی کام کرنا ہے۔

کراچی قرار داد میں جمہوریت کاوہ تصور صاف طورپر ظاہر ہوتا ہے جو قوم پرست تحریک کامقصد تھا۔اس میں ان قدروں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں آگے چل کر ہندوستانی آئین میں پورا اظہار ملا۔آپ غورکریں کہ کس طرح ہندوستانی آئین کی تمہیدمیں صرف سیاسی انصاف ہی نہیں بلکہ سماجی ومعاشی انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔آپ اسی طرح غورکریں گے کہ مساوات محض سیاسی حقوق کے بارے میں نہیں بلکہ حیثیت اورمواقع کے بارے میں ہے۔

باکس3.3

ضمیمہ 6

سوراج میں کیاشامل ہوا؟

کراچی کانگریس قرارداد،1931

کانگریس نے سوراج کا جیسا تصور قائم کیا ہے اس میں عوام کی معاشی آزادی بھی شامل ہونی چاہیے۔کانگریس نے یہ اعلان کیا کہ کوئی بھی آئین اسی وقت قابل قبول ہوگا جب وہ سوراج حکومت کو درج ذیل فراہم کرنے کے قابل  بنائے:

اظہار رائے ،انجمن اوراجلاس کی آزادی۔

مذہبی آزادی۔

ثقافت اورزبانوں کا تحفظ۔

قانون کی نظر میں سبھی شہریوں کا مساوی ہونا۔

مذہب، ذات یاجنس کی بنیاد پر روزگار، تجارت وکاروبار میں عدم اہلیت کا ناقابل قبول ہونا۔

عوامی کنوؤں،اسکولوں وغیرہ کے سلسلے میں سبھی کے لیے یکساں حقوق وفرائض۔

قوانین وضوابط کے لحاظ سے سبھی کو ہتھیار رکھنے کا حق۔

جائیداد یا آزادی سے کسی فرد کا محروم نہ ہونا سوائے اس کے کہ وہ قانون کے مطابق ہو۔

مذہب کے بارے میں ریاست کی غیر جانب داری۔

10۔ بالغ حق رائے۔

11۔ ابتدائی تعلیم کا لازمی ہونا۔

12۔ کسی طرح کے خطاب کا نہ دیاجانا۔

13۔ موت کی سزا کا ختم کیاجانا

14۔ ہندوستان کے ہر شہری کے لیے نقل وحرکت کی آزادی اورملک میں کہیں بھی رہائش اورجائیداد حاصل کرنے کا حق اوراسی بنا پر قانون کا تحفظ۔

15۔ کارخانہ مزدوروں کے لیے مناسب معیارِزندگی،آجروں اورکام کرنے والوں کے درمیان تنازعہ کوحل کرنے کا مناسب نظام اورضعیفی وبیماری وغیرہ سے تحفظ۔

16۔ بے گاری کی شرائط سے سبھی مزدوروں کو آزادکرنا۔

17۔ کام کرنے والی خواتین کا خصوصی تحفظ۔

18۔ کانوں اورکارخانوں میں بچوں کو ملازمت پر نہ رکھنا۔

19۔ کاشت کاروں اورکام کرنے والوں کو یونین بنانے کا حق۔

20۔ لگان اورتصرف املاک نیزکرایہ کے نظام میں اصلاح اورغیر پیداواری زمین کی لگان اورمحاصل میں رعایت اورچھوٹے زمین مالکوں کے واجب الادا اورادائیگیوں میں کمی۔

21۔ وراثت ٹیکس کا تدریجی پیمانے پر ہونا۔

22۔ فوجی اخراجات میں کم سے کم نصف کٹوتی۔

23۔ ریاست کے کسی بھی ملازم کو500روپیے ماہانہ سے زیادہ ادائیگی نہ کرنا۔

24۔ نمک ٹیکس کا ختم کیاجانا۔

25۔ غیر ملکی کپڑوں کے مقابلے دیسی کپڑوں کا تحفظ۔

26۔ نشیلے مشروبات اورمنشیات پرپوری طرح پابندی۔

27۔ کرنسی اورمبادلہ قومی مفاد میں ہو۔

28۔ کلیدی صنعتوں،خدمات اورریلوے  وغیرہ کو قومیانا

29۔ زرعی قرضوں سے راحت اورسودخوری پر کنٹرول۔

30۔ شہریوں کے لیے فوجی تربیت۔

ممبر شپ فارم پر کراچی قرارداد کاخلاصہ شائع کیا جائے گا۔


باکس 3.4

ہندوستانی آئین کی تمہید

ہم ہندوستان کے عوام ہندوستان کو ایک مقتدر اعلی ،سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری ری پبلک (عوامی حکومت) بنانے کا عہد کرتے ہیں اوراس کے سبھی شہر یوں کو :

سماجی ، معاشی اورسیاسی انصاف:

خیالات ، ایمان وعقیدہ اورعبادت کی آزادی :

حیثیت اورمواقع کی برابری: 

اور ان سب میں فرد کے وقار اور ملک کے اتحاد اورسا  لمیت کو یقینی بناتے ہوئے اخو ت کو فروغ دینے کے لیے اپنی اس آئین ساز اسمبلی میں آج مورخہ 26نومبر 1949 کو بذریعہ ہذا اس آئین کو اپناتے نافذ کرتے اور خود کو سونپتے ہیں۔

باکس 3.3 اور3.4 کےلیے مشق

کراچی قرار دار اورتمہید کو بغور پڑھیں اوران  میں موجود کلیدی تصورات کی شناخت کریں۔

جمہوریت کئی سطحوں پر کام کرتی ہے اس باب کی شروعات ہم ہندوستانی آئین کے تصور کے ساتھ کریں گے جو ہندوستان کی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آئین سازاسمبلی میں آئین کی تشکیل عمیق اور کھلے بحث ومباحثے کے نتیجے  کے طور پر عمل میں آئی۔ اس طرح اس کا تصوراتی یانظریاتی مواد اور طریقہ عمل جس کے ذریعہ اس کی تشکیل ہوئی پوری طرح جمہوری تھا ۔ اگلے سیکشن میں ان میں سے کچھ مباحثوں پر مختصر نظرڈالیں گے۔

جمہوریت کئی سطحوں پر کام کرتی ہے اس باب کی شروعات ہم ہندوستانی آئین کے تصور کے ساتھ کریں گے جو ہندوستان کی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آئین سازاسمبلی میں آئین کی تشکیل عمیق اور کھلے بحث ومباحثے کے نتیجے  کے طور پر عمل میں آئی۔ اس طرح اس کا تصوراتی یانظریاتی مواد اور طریقہ عمل جس کے ذریعہ اس کی تشکیل ہوئی پوری طرح جمہوری تھا ۔ اگلے سیکشن میں ان میں سے کچھ مباحثوں پر مختصر نظرڈالیں گے۔

3

سروپلی رادھاکرشنن آئین ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے

آئین ساز اسمبلی کے مباحثے:ایک تاریخ(Constituent Assembly Debates:A History)

1939میں’ہری جن‘نام کی ایک میگزین میں گاندھی جی نے ایک مضمون'The only way'میں لکھاتھا’’…آئین ساز اسمبلی اکیلے ہی ملک کے لیے ایک ملکی وحقیقی اورپوری طرح عوام کی خواہشات کی نمائندگی کرنے والے آئین کی تشکیل کرسکتی ہے جو مردوں اورعورتوں دونوں کے لیے بغیر کسی امتیاز وتفریق کے بالغ رائے دہی پر مبنی ہو۔ 1939میں آئین سازاسمبلی کا عوامی مطالبہ سامنے آیاتھاجو کافی نشیب وفراز کے بعدبرطانوی سامراج نے1945 میں قبول کرلیاتھا۔جولائی1946میں انتخابات ہوئے۔اگست 1946میں انڈین نیشنل کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے آئین ساز اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی۔جس میں اعلان کیاگیا تھاکہ ہندوستان ایک عوامی جمہوری ملک ہوگا جہاں سبھی کے لیے سماجی،معاشی اورسیاسی انصاف کی ضمانت ہوگی۔
سماجی انصاف کے مسئلے پر ایک زبردست بحث چلی کہ کیا حکومتی عمل مجوزہ ہوں گے اورریاست انھیں لازماًنافذکرے گی۔جو مباحثے ہوئے ان میں روزگار کاحق،سماجی تحفظ اورزمینی اصلاحات سے لے کر جائیداد کے حقوق، پنچایتوں کی تنظیم تک کے موضوعات شامل ہیں۔ یہاں مباحثوں کے چند مختصر اقتباس دیے گئے ہیں۔

باکس3.5

بحث کے اقتباسات

کے ۔ٹی۔شاہ کا کہنا تھا کہ مفیدروزگار کے حق کو ریاست کی طرف سے زمرہ بندذمہ داریوں کے ذریعہ حقیقی بنایاجانا چاہیے تاکہ ہر شہری جو اہل اورمجاز ہو،اسے مفید کام فراہم کیاجاسکے۔

 بی۔داس نے حکومت کے کاموں کو قانونی دائرۂ اختیاراورقانونی دائرۂ اختیار کے باہر درجہ بند کرنے کی مخالفت کی،’’میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فاقہ کشی کو ختم کرے،سبھی شہریوں کو سماجی انصاف مہیا کرائے اورسماجی تحفظ کو یقینی بنائے…لاکھوں لوگوں کی کثرت کو مرکزی آئین میں کوئی امید نظرنہیں آتی…جو بھوک سے نجات کو یقینی بنائے،سماجی انصاف کو تحفظ دے،ایک کم سے کم معیار زندگی اورعوامی صحت کے کم سے کم معیارکو یقینی بنائے۔

امبیڈکر کاجواب اس طرح تھا:’’آئین کا مسودہ اس طرح وضع کیاگیا ہے کہ وہ ملک کی حکومت کے لیے صرف ایک مشینری فراہم کرتا ہے۔ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ کوئی ایک مخصوص پارٹی اقتدار میں آئے جیساکہ بعض ممالک میں ہوتا ہے۔اگر نظام جمہوریت کی آزمائش پر کھرا اترتا ہے تو یہ عوام کے ذریعہ متعین کیاجانا چاہیے کہ کسے اقتدار ملنا ہے،لیکن جس کے ہاتھ میں اقتدار رہے وہ اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔اسے رہنمااصول کہی جانے والی ہدایات کااحترام کرنا ہوگا۔انھیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا،لیکن ان کی خلاف ورزی پر عدالت میں جواب دہ نہیں ہوگا۔انتخاب کے وقت یقینا حلقۂ انتخاب کنندگان کے سامنے اسے جواب دینا پڑے گا۔ رہنمااصول جن عظیم قدروں پر مشتمل ہیں انھیں اسی وقت بہتر طورپر محسوس کیاجاسکتا ہے جب اقتدار حاصل کرنے کے لیے صحیح منصوبے کو نافذ کیاجائے۔‘‘

’’زمینی اصلاح کے بارے میں نہرو کا کہنا تھا کہ سماجی قوتیں اس طرح کی ہیں کہ قانون اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتا جو ان دونوں کے درمیان حرکیات کا ایک دلچسپ انعکاس ہے۔‘‘اگر قانون اورپارلیمنٹ خود کو بدلتی تصویر کے موافق نہیں کرتے تو یہ صورت حال پر قابو نہیں کرپائیں گے۔

آئین سازاسمبلی کی بحث کے دوران قبائلی لوگوں کے تحفظ اوران کے مفادات کے معاملے میں جے پال سنگھ جیسے رہنماؤں کو نہرو کے ذریعہ یہ یقین دلایاگیا۔’’یہ ہمارا ارادہ ہے اوریقینی خواہش ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان کی مدد کی جائے؛جہاں تک ہوسکے مؤثر طورپر غاصب پڑوسیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے اوران کی ترقی کی راہ ہموار کی جائے۔‘‘

⇐  آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ ایسے حقوق کو جنھیں عدالت کے ذریعہ نافذ نہیں کیاجاسکتاانھیں ریاستی پالیسی کے رہنمااصول کے عنوان سے اپنایا گیا،اتفاق رائے سے اضافی اصولوں کو بھی شامل کیاگیا۔ان میں کے سنتھانم کی وہ شق بھی شامل کی گئیں جن کے مطابق ریاست کودیہی پنچایتوں کو منظم کرنا چاہیے اور مقامی خود مختار حکومت کی مؤثر اکائیوں کو اختیار دیاجانا چاہیے۔

ٹی ۔اے ۔رام سنگم چٹیارنے دیہی علاقوں میں کوآپریٹیوخطوط پر گھریلوصنعتوں کی ترقی سے متعلق شق کو بھی شامل کیا۔ تجربہ کار رکن پارلیمنٹ ٹھاکر دیوبھارگو نے یہ جملہ بھی جوڑا کہ ریاست کو زراعت اورمویشی پالن کوجدید خطوط پر منظم کرنا چاہیے۔

باکس 3.5کے لیے مشق

آئین سازاسمبلی کے درج بالا اقتباسات کو بغورپڑھیے اور مباحثہ کیجیے کہ کس طرح مختلف مقاصد پر بحث ہوئی۔ان کی یہ امور آج کیا معنویت ہے ؟

مسابقتی مفادات:آئین اورسماجی تبدیلی(Competing Interests: The Constitution And Social Change)

ہندوستان کاوجود بہت سی سطحوں پر قائم ہے۔قبائلی ثقافت کے امتیازی دھارے کے ساتھ آبادی کی کثیر مذہبی اورکثیرثقافتی ترکیب اس تکثیری کردار کا ایک پہلو ہے۔ کئی سطحوں پر ہندوستانی لوگوں کی درجہ بندی کرتی ہیں۔شہری اوردیہی تقسیم،امیروغریب کی تقسیم،خواندہ وناخواندہ کی تقسیم پر مبنی ثقافت،مذہب اورذات کے اثرات بھی الگ الگ نوعیت کے ہیں۔دیہی غریبوں میں کئی ایسے گروہ اورذیلی گروہ ہیں جوگہرائی سے ذات اورغریبی کی بنیادپر طبقہ بندی کرتے ہیں۔شہروں کے کام کرنے والے طبقے بھی وسیع پیمانے پر منقسم ہیں۔یہی نہیں منظم گھریلوکاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور اورکمرشیل طبقے کا بھی وجود ہے۔شہری پیشہ ور طبقہ بھی اپنی باتیں پرزور طریقے سے پیش کرتا ہے۔ہندوستانی سماجی وسائل اورریاست کے وسائل پر کنٹرول کے لیے ہنگامی مسابقتی مفادات عمل کرتے ہیں۔

تاہم آئین میں چندبنیادی مقاصد شامل کیے گئے ہیں جو عام طورپر ہندوستانی سیاسی دنیا میں منصفانہ مان کر اتفاق رائے سے تسلیم کیے گئے ہیں۔یہ مقاصد غریبوں اورحاشیے پر کیے گئے لوگوں کو تفویض اختیار،انسداد غربت ذات پات کے خاتمے اورسبھی گروپوں کے تئیں یکساں برتاؤ کے مثبت اقدامات ہیں۔

مسابقتی مفادات کسی واضح طبقاتی تقسیم کو ہمیشہ منعکس نہیںکرتے۔ کسی کارخانے کوبند کروانے کا مسئلہ لیجیے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس سے زہریلا کوڑا کرکٹ خارج ہوتا ہے اورآس پاس کے لوگوں کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا معاملہ ہے جس کا آئین تحفظ کرتا ہے۔اگلے صفحے پر یہ دکھایاگیا ہے کہ بہت سی چیزوں کو بندکرنے سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ ذریعہ معاش بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے،اس کا بھی آئین تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہ دلچسپ ہے کہ آئین سازی کے وقت ہماری آئین ساز اسمبلی اس کی پیچیدگی اورتکثیر یت سے پوری طرح آگاہ تھی لیکن سماجی انصاف کو یقینی بنانے کی اس نے ضمانت دی۔

4

5

آئینی اصول  اورسماجی انصاف:سماجی انصاف کے امداد کی توضیح( Constitutional norms and social justice: interpretation to aid social justice)

سماجی انصاف سے متعلق قانون اورانصاف کے درمیان فرق کو سمجھنا مفید ہے۔قانون کا اصل جوہر اس کی نافذ کرنے کی قوت ہے۔قانون اس لیے قانون ہے کیونکہ اس میںجبریہ یاطاقت کے ذریعہ اطاعت کرائی جاتی ہے۔اس کے پیچھے ریاست کی قوت ہوتی ہے۔انصاف کااصل حق غیرجانب داری ہے۔ کوئی بھی قانونی نظام ذمہ داروںکی درجہ واری کے ذریعہ عمل کرتا ہے۔وہ بنیادی معیار جن سے دیگر اصول اور ذمہ داران  روبہ عمل ہوتے ہیں،آئین کہلاتا ہے۔یہ ایک دستاویز ہے جو ملک کے اصولوں کی تشکیل کرتا ہے۔ ہندوستانی آئین ہندوستان کا بنیادی معیار ا صول ہے۔دیگر سبھی قوانین آئین کے ذریعہ طے کیے گئے طریقۂ عمل کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کو ذمہ داروں کے ذریعہ بنایااورنافذکیاجاتا ہے جن کی آئین کے ذریعہ صراحت کی گئی ہے ۔عدالتوں کے سلسلہ مدارج(جو خود آئین کے ذریعہ مقرر کیے گئے یہ ذمہ داران ہیں)میں جب کوئی تنازع پیداہوا ہے تو قوانین ان کی توضیح کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ سب سے بڑی عدالت ہے اورآئین کی آخری شارح ہے۔

سپریم کورٹ نے کئی شکلوں میں آئین میں بنیادی حقوق کے مفہوم میں وسعت پیداکی ہے۔درج ذیل باکس میں چند مثالوں کو واضح کیاگیا ہے۔

باکس3.6

ایک بنیادی حق میں وہ سب شامل ہے جواس کے لیے ضمنی ہے۔آرٹیکل 21میں زندگی اورآزادی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے جس کی تشریح میں وہ سبھی شامل ہے جو معیار زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔اس میں ذریعہ معاش،صحت،رہائش،تعلیم اوروقار سبھی کو شامل کیاگیا ہے۔مختلف رائے یا فیصلوں میں زندگی کی مختلف صفات کو وسعت دی گئی ہے اوراسے محض جبلی حیوانات کے وجود کی بہ نسبت زیادہ بہتر مفہوم میںواضح کیاگیا ہے۔یہ ان تشریحات کو ان قیدیوں کو راحت پہنچانے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے جن میں انھیں اذیت اورمحرومیوں کاشکار بنایاجاتا ہے،بندھوا مزدوروں کو چھڑانے ،بازآبادکاری،ماحولیاتی تنزلی سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف راحت پہنچانے،بنیادی صحت سے متعلق دیکھ بھال اورابتدائی تعلیم فراہم کرنے میں بھی انھیں استعمال کیاجاتا ہے۔

1993میں سپریم کورٹ نے اطلاع کے حق کو آرٹیکل19(1)(a)کے تحت اظہار کی آزادی کے حق کا حصہ اورضمنی بتایا۔

بنیادی حقوق کے ضمن میں رہنمااصولوں کو پیش کرنا۔سپریم کورٹ نے یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ(equal pay for equal work)، کے رہنما اصول کو آرٹیکل14کے مساوات کے بنیادی حقوق کے تحت مانااوربہت سے باغا ت میں کام کرنے والوں، زرعی مزدوروں اوردوسروں کو راحت پہنچائی۔

سماجی انصاف کے لیے کیاکرنا ہے اورکیانہیں اس کے لیے آئین محض حوالے کی کتاب نہیں ہے بلکہ سماجی انصاف کے معنی کو وسعت دینے کی بھی قوت اس میں موجود ہے۔سماجی انصاف سے متعلق موجودہ فہم کو ذہن میں رکھتے ہوئے حقوق اوراصولوں کی تشریح میں سماجی تحریکوں کے ذریعہ بھی عدالتوں اور دوسرے ذمہ داروں کو مدد ملی ہے۔قانون اورعدالتیں ایسے مقامات ہیں جہاں مسابقتی خیالات پر بحث کی جاتی ہے۔آئین اب بھی وہ ذریعہ ہے جو سماجی بہبود کے تئیں سیاسی اقتدار کی رہبری کرتا ہے اورانھیں روشن خیال بناتا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ آئین میں لوگوں کی مدد کرنے کی اہلیت موجود ہے کیونکہ یہ سماجی انصاف کے بنیادی معیارات پر مبنی ہے۔ مثلاً کے سنتھانم نے آئین سازاسمبلی میں دیہی پنچایتوں سے متعلق رہنمااصول میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔چالیس سال کے بعد 1992 میں 73 ویں ترمیم کے بعد یہ آئینی ضرورت بن گئی۔اگلے سیکشن میں آپ اس کے بارے میں پڑھیں گے۔

3.2پنچایتی راج اوردیہی سماجی تبدیلی کے چیلنج(The panchayati raj and the challenges of rural social transformation)

پنچایتی راج کے نصب العین (  Ideals of panchayati raj)

پنچایتی راج کا لفظی ترجمہ’’پانچ افراد کے ذریعہ حکمرانی‘‘ہوتا ہے۔اس کامطلب گاؤں اوردیگر زمینی سطح پر عمل اورلچیلی جمہوریت کو یقینی بناناہے۔ہمارے ملک میں زمینی سطح کا تصور کہیںباہر سے نہیں لیاگیا ہے لیکن ایک ایسے سماج میں جہاں عدم مساوات میں اتنی شدت ہے جمہوری شرکت میں جنس،ذات اورطبقے کی بنیاد پر رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔مزید برآں،جیساکہ آپ اس باب میں اخباروں کی رپورٹوں میں آگے دیکھیں گے کہ روایتی طورپر گاؤں میں ذات پرمبنی پنچایتیں رہی ہیں لیکن ان کی نمائندگی عام طورپر غالب گروہوں کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے۔مزید یہ کہ اکثر ان کے نظریے قدامت پسند رہے ہیں اوریہ ہمیشہ جمہوری معیاروںاورطریقوں کے خلاف فیصلے لیتے رہے ہیں۔
جب آئین کا مسودہ تیار کیاجارہا تھا تواس میں پنچایتوں کا ذکر نہیں کیاجاسکا تھا۔جہاں پر کئی ممبروں نے اس مسئلے پرغصے اور مایوسی کا اظہار کیاتھا۔ اسی موقع پر اپنے دیہی تجربے کاذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر نے دلیل دی کہ مقامی شرفا اوراونچی ذات کے لوگوں نے سماج میں اتنی مضبوطی سے اپنے قدم جمارکھے ہیں کہ مقامی خوداختیارحکومت کاصرف یہی مطلب ہوگا کہ ہندوستانی سماج کے دبے کچلے لوگوں کا مستقل استحصال کیاجائے۔اونچی ذات کے لوگ بلاشبہ مزید آبادی کے اس حصے کوخاموش کردیں گے۔مقامی حکومت کا تصورگاندھی جی کو بھی عزیز تھا۔ وہ ہرایک گاؤں کو ایک خود کفیل اکائی کے طورپر مانتے تھے جو اپنے معاملات کو خود دیکھے۔گرام سوراج کو وہ ایک نمونہ مانتے تھے جو آزادی کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے تھا۔

باکس3.7
پنچایت راج ادارے کا سہ سطحی نظام

اس کی ساخت ایک اہرام کی طرح ہے۔ ساخت کی بنیاد پر جمہوریت کی اکائی کی شکل میں گرام سبھا واقع ہوتی ہے۔اس میں گاؤں یاگرام کے شہریوں کی شمولیت ہوتی ہے۔یہی وہ عام سبھا ہے جو مقامی حکومت کاانتخاب کرتی ہے اورچند مخصوص ذمہ داریوں کو اسے سونپتی ہے۔گرام سبھا مباحثوں اوردیہی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک فورم فراہم کرتی ہے اورفیصلہ سازی  میں کمزور طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردارنبھاتی ہے۔

آئین کی 73ویں ترمیم کے ذریعہ بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والی سبھی ریاستوں میں پنچایتی راج کاسہ سطحی نظام فراہم کیا گیا ہے۔

یہ ضروری ہوگیاہے کہ ان اداروں کے انتخاب ہرپانچ سال میں منعقد کیے جائیں۔

اس میں درج فہرست ذاتوں اوردرج فہرست قبائل کے لیے محفوظ نشستوں اور33 فی صد سیٹوں کوخواتین کے لیے محفوظ کیاگیا ہے۔

اس میں پورے ضلع کے لیے مسودے تیارکرنے اورمنصوبوں کو فروغ دینے کے لیے ضلعی منصوبہ بند کمیٹی کی تشکیل کا اہتمام کیاگیا ہے۔


بہرحال پہلی بار1992میں73ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ بنیادی اورزمینی سطح پر جمہوریت یالامرکزی حکمرانی کاتعارف کرایاگیا۔ اس ایکٹ کے ذریعہ پنچایتی راج اداروں کو آئینی حیثیت فراہم کی گئی۔اب یہ لازمی ہوگیاکہ مقامی خوداختیارحکومت کے ممبرگاؤں اورمیونسپل علاقوں میںہرپانچ سال پر منتخب کیے جائیں۔اس سے بھی اہم یہ ہے کہ مقامی وسائل پر اب منتخب ہوئے مقامی اداروں کا اختیارہو۔
آئین میں73ویں اور74ویں ترمیم کے ذریعہ دیہی اورشہری دونوں علاقوں میں مقامی اداروں کے سبھی منتخبہ عہدوں میں خواتین کے لیے کل سیٹوں کے ایک تہائی کے ریزرویشن کویقینی بنایاگیا۔ان میں سے17فی صد سیٹیں درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل کے لیے مختص ہیں۔یہ ترمیم اس لیے اہم ہے کیونکہ اس کے تحت پہلی بار منتخب اداروں میں عورتوں کو شامل کیا گیا جس سے انھیں فیصلہ سازی کے اختیارات بھی ملے۔مقامی اداروں،دیہی پنچایتوں، میونسپلٹیوں،شہری کاررپوریشنوں اورضلعی بورڈوں میںایک تہائی نشستیں عورتوں کے لیے محفوظ کرنے پر73ویں ترمیم کے فوری بعد 94-1993کے انتخابات میں 8,00,000 عورتیں انتخابی عمل میں شامل ہوئیں۔درحقیقت عورتوں کو حق رائے دہی دینے والا یہ ایک بہت بڑا قدم تھا۔مقامی خود اختیار حکومت کے لیے مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت سہ سطحی نظام (آخری صفحے پر باکس 3.7 پڑھیں) 93-1992 پورے ملک میں نافذکیاگیا۔
6

پنچایتوں کے اختیارات اورذمہ داریاں(Power and Responsibilities of Panchayats)

آئین کے مطابق پنچایتوں کو خود اختیار حکومت کے اداروں کے طورپر عمل کرنے کے لیے اقتدار اوراختیار دیے جانے چاہئیں۔اس طرح سبھی ریاستی حکومتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقامی نمائندہ اداروں کو تقویت فراہم کریں۔
درج ذیل اختیارات اورذمہ داریاں پنچایتوں کو تفویض کی گئی ہیں:
⇐معاشی ترقی کے لیے منصوبے اوراسکیمیں تیارکرنا۔
ایسی اسکیموں کو فروغ دینا جن سے سماجی انصاف کو فروغ ہو۔
ٹیکسوں ،محصولات،چنگیوں اورفیس کو اکٹھاکرنا
ان کاتصرف مقامی ذمہ داروں یاحکام کو ذمہ داریوں خاص طورپر مالیات سے متعلق  اختیارات کی منتقلی میں مدد
پنچایتوں کے ذریعہ کیے جانے والے سماجی بہبود کے کاموں میں شمشانوں اور قبرستانوں کارکھ رکھاؤ،پیدائش اوراموات کی شماریات کودرج کرنا،بہبود۔اطفال اورزچگی کے مراکز کاقیام،مویشیوں کے تالاب پرکنٹرول،فیملی پلاننگ کی اشاعت اورزرعی سرگرمیوں کا فروغ شامل ہے۔ترقیاتی سرگرمیوں میں سڑکوں،عوامی عمارتوں،کنوؤں،تالابوں اوراسکولوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔چھوٹی گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی ،چھوٹی آب پاشی اسکیموں کا مربوط دیہی ترقیاتی پروگرام (IRDP)(Integrated Rural Development Programme)اورمربوط ترقیاتی اسکیم برائے اطفال(Integrated Child Development Scheme) (ICDS)جیسی بہت سی حکومتی اسکیموں کی نگرانی پنچایت کے ممبروں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

7
جائیداد،پیشہ،جانور،گاڑیوں،زمین پر لگائے جانے والے محصول اورکرایوں وغیرہ سے پنچایتوں کی خاص آمدنی ہوتی ہے۔ ضلع پنچایت کے ذریعہ حاصل کی گئی عطیات کے ذریعہ وسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔پنچایت دفتروں کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے دفتروں کے باہر بورڈ لگائیں، فنڈوں کی تقسیم سے حاصل کردہ امداد سے استفادہ کی فہرست بنائیں۔ زمینی سطح پر لوگوں ( جن میں معلومات حاصل کرنے کاحق ہے)ان کی نظروں کے سامنے ساری باتیں موجود ہوں۔لوگوں کورقم کی تخصیص کی چھان بین کاحق ہے۔ساتھ ہی وہ یہ بھی دریافت کرسکتے ہیں کہ گاؤں کے بہبوداورترقی کے لیے کیافیصلے لیے گئے ہیں۔
بعض ریاستوں میں نیائے پنچایتوں کی تشکیل کی گئی ہے۔جہاں چند چھوٹے،سول (دیوانی)اورمجرمانہ معاملوں کی سماعت ان کے دائرۂ اختیار میں ہوتی ہے۔وہ جرمانہ تولگاسکتی ہیں لیکن کوئی سزانہیں دے سکتیں۔یہ دیہی عدالتیں اکثر کچھ مقابل یا حریف فریقوں کے درمیان معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔خاص طورپریہ اس وقت سزادینے میں مؤثر ہوتی ہیں جب کوئی مردعورت کو جہیز کے لیے ستاتا ہے یاان کے خلاف پرتشدد کارروائی کرتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں پنچایت راج(Panchayati raj in tribal areas)

باکس3.8

دلت ذات کی کلاوتی الکشن لڑنے کے بارے میں فکر مند تھی۔پنچایت ممبر بننے کے بعد وہ محسوس کررہی ہے کہ اس کے اعتماد اورخود پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔زیادہ اہم یہ کہ اب اس کا اپنا ایک نام ہے۔پنچایت ممبر بننے سے پہلے وہ ’راموکی ماں‘یا’ہیرالعل‘کی بیوی‘کے نام سے جانی جاتی تھی۔اگروہ گرام پردھان کے عہدے کا انتخاب ہارگئی تواسے محسوس ہوگا کہ اس کی سہیلیوں کی ناک کٹ گئی۔

(ماخذ:’مہیلاسماکھیا‘نام کی ایک غیرسرکاری تنظیم کے ذریعہ درج کیاگیاجو دیہی عورتوں کے تفویض اختیار کے لیے کام کرتی ہے۔)


باکس3.9

بن پنچایتیں

اتراکھنڈمیں زیادہ ترعورتیں کام کرتی ہیں کیونکہ مرد عام طورپر دفاعی خدمات کے لیے دورتعینات ہوتے ہیں۔ زیادہ ترگاؤں والے اب بھی کھانابنانے کے لیے لکڑیوں کااستعمال کرتے ہیں۔ جیساکہ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جنگلوں کاکٹاؤ پہاڑی خطوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔عورتیں کبھی کبھی لکڑیاں چننے اوراپنے جانوروں کاچارااکٹھاکرنے کے لیے کئی میل پیدل چلتی ہیں۔ اس مسئلے پر قابوپانے کے لیے عورتوں نے بن پنچایتوں کی تشکیل کی جن کی ممبرنرسریوں کو فروغ دیا ہے اورپہاڑی ڈھلانوں پر پودکاری کے لیے نئے پیڑوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔یہ ممبران آس پاس کے جنگلوں کی نگہبانی بھی کرتی ہیں تاکہ وہ پیڑوں کی غیرقانونی کٹائی پر نظررکھ سکیں۔’چپکوتحریک‘ جس میں کہ پیڑوں کو کٹنے سے بچانے کے لیے پیڑوں سے چپکاجاتا ہے اسی علاقے میں شروع کی گئی تھی۔


باکس3.10

ناخواندہ عورتوں کے لیے پنچایتی راج کی تربیت

یہ پنچایتی راج نظام کی قوت کی ترسیل کا ایک اختراعی طریقہ ہے۔سکھی پور اوردکھی پور نام کے دوگاؤں کی کہانی کپڑے کی ’پھڑ‘ (کہانی کہنے کا ایک روایتی عوامی ذریعہ)کے ذریعہ پیش کی گئی۔دکھی پور گاؤں میں وصلا نامی ایک بدعنوان پر دھان تھی جس نے گاؤںمیں اسکول بنوانے کے لیے ایک پنچایت سے رقم وصول کی تھی لیکن اس نے اس کا استعمال اپنی  ذات اوراہل خانہ کے لیے ایک مکان کی تعمیر کی خاطرکیا۔گاؤں کا باقی حصہ غریب تھا۔ دوسری طرف سکھی پور گاؤں کے لیے بہتر بنیادی سہولیات کو فروغ دینے میں دیہی ترقی کی رقم خرچ کی۔اس گاؤں میں ابتدائی صحت کی دیکھ بھال کامرکز ہے،اچھی سڑکیں اورپکی عمارتیں ہیں۔ اچھی سڑکوں کے سبب بسیں گاؤں میں پہنچ سکتی ہیں۔لوک موسیقی کے ساتھ’پھڑ‘پر تصویری نقش ونگار اہل حکمراں اورشرکا پیغام کو پہنچانے کے کارگر ہتھیار تھے۔ کہانی کہنے کایہ نیاطریقہ ناخواندہ عورتوں میں آگاہی پیدا کرنے میں بہت مؤثر تھا۔

سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس مہم کے ذریعہ جوپیغام ملا وہ یہ کہ محض ووٹ دینا، الیکشن لڑنایا جیتنا ہی کافی نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کسی کو آخر کیوں ووٹ دیاجائے،اس میں ایسے کیا اوصاف ہونے چاہئیں اوروہ آگے کیا کرنا چاہتا/ چاہتی ہے۔ ’پھڑ‘کی کہانی اورگیت کے وسیلے سے سا  لمیت ویکجہتی کی قدر پر بھی زوردیا جاتا ہے۔

یہ تربیتی پروگرام’مہیلا سماکھیانام کی غیرسرکاری تنظیم کے ذریعہ منعقد کیاگیا جودیہی خواتین کے تفویض اختیار کاکام کرتی ہے۔

8


بیشتر قبائلی علاقوں میں زمینی سطح کے جمہوری عمل کی ایک خوش حال روایت رہی ہے۔ہم میگھالیہ سے متعلق ایک مثال پیش کررہے ہیں۔گارو،کھاسی اورجینتیاں،تینوں ہی آدی اسی ذاتوں کے سیکڑوں سال پرانے سیاسی ادارے رہے ہیں۔یہ سیاسی ادارے اتنے ترقی یافتہ تھے کہ گاؤں، قبیلہ اورریاست جیسی مختلف سطحوں پر بہترڈھنگ سے کام کرتے تھے۔ مثلاً کھاسیوں کے روایتی سیاسی نظام میں ہرایک خیل (ونش) کی اپنی کونسل ہوتی تھی جسے’دربارکر‘کہاجاتا تھا اورجو اس قبیلے کے سربراہ کی رہنمائی میں کام کرتی تھی۔ اگرچہ میگھالیہ میں زمینی سطح پر جمہوری سیاسی اداروں کی روایت رہی ہے لیکن آدی واسی علاقوں کاایک بڑا حصہ آئین کی73ویں ترمیم کے اہتمام سے باہر ہے۔غالباًایسا اس لیے ہے کیونکہ متعلقہ پالیسی سازوں کی منشاروایتی قبائلی اداروں میں مداخلت کرنے کی نہیں رہی ہوگی۔
تاہم جیساکہ ماہر سماجیات ٹپولٹ نونگبری نے کہاہے کہ قبائلی ادارے اپنی ساخت اورسرگرمیوں میں جمہوری ہی ہوں، یہ ضروری نہیں۔ بھوریا کمیٹی کی رپورٹ جس نے اس مسئلے پر غورکیا ہے،پر تبصرہ کرتے ہوئے نونگبری نے کہاکہ حالانکہ روایتی آدی واسی اداروں پر کمیٹی کی فکر کو ستائش کی نظر سے دیکھاجاسکتا ہے لیکن وہ صورت حال کی پیچیدگی کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ قبائلی سماج میں مضبوط ہمہ گیر مساوات کے طرزعمل جواُن کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں،کے باوجود طبقہ بندی کا عنصر کہیں نہ کہیں موجودہوتا ہے۔قبائلی سیاسی ادارے صرف عورتوں کے تئیں عدم رواداری کے لیے ہی نہیں جانے جاتے بلکہ سماجی تبدیلی کے عمل نے اس نظام میں زبردست خرابیاں پیداکردی ہیں جس سے اس بات کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے کہ کیا روایتی ہے اورکیا نہیں۔ (نونگبری 2003:220)یہ آپ کو روایت کی بدلتی ہوئی کیفیت کی یاددلاتا ہے جس کاذکر ہم باب1اور2میں کرچکے ہیں۔

جمہوریت کاری اورعدم مساوات(Democratisation and inequality)

یہ واضح ہوجائے گاکہ جس ملک میں ذات،کمیونٹی اورجنس پر مبنی عدم مساوات کی طویل تاریخ ہو،ایسے سماج میں جمہوریت آسان نہیں ہے۔ پچھلی کتاب میں آپ مختلف قسم کی عدم مساوات سے واقف ہوچکے ہیں۔باب4میں دیہی ہندوستانی ساخت کی مزید تفصیلی معلومات پیش کریں گے۔ایسے غیر مساوی اورغیرجمہوری سماجی ساخت کو دیکھنے کے بعد یہ حیرت انگیز نہیں لگتا کہ بہت سے معاملات میں گاؤں کے چند خصوصی گروہ،کمیونٹی،ذات سے متعلق لوگوں کو نہ تو گاؤں کی میٹنگ میں اورسرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے اورنہ ہی اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔گرام سبھا کے ممبران کو اکثر امیر کسانوں کی ایک ایسی جماعت کے ذریعہ کنٹرول کیاجاتا ہے جو اونچی ذات یا زمین داروں کے طبقے پر مشتمل ہوتی ہے۔ ترقیاتی سرگرمیوں پر وہی فیصلے لیتے ہیں،فنڈوں کاتعین کرتے ہیں اوراکثریت محض خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہیں۔
نیچے باکسوں میں جورپورٹیں پیش کی گئی ہیں وہ زمینی سطح پر مختلف قسم کے تجربات کا اظہار کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ میں دکھایاگیاہے کہ کس طرح روایتی پنچایتوں کا استعمال کیاجاتا ہے۔ جب کہ دوسری رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ معاملات میں پنچایتی راج ادارے کیسے واقعی بنیادی تبدیلیاں پیداکردیتے ہیں تاہم ایک اوررپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح جمہوری اقدامات اکثر عملاًکام نہیں کرتے کیونکہ مفادی گروہوں کے ذریعہ تبدیلی اورپیسے سے متعلق معاملات میں روکاوٹ پیداکی جاتی ہے۔

باکس3.11

عزت کاسوال

ذات پر مبنی پنچایتیں خود کو دیہی اخلاقیات کا سرپرست سمجھتی ہیں…اکتوبر 2004کاایسا پہلا معاملہ تھا جو سرخیوں میںرہاجب جھجر ضلع کے اساندہ گاؤں کی پنچایت ’راٹھی کھاپ‘نے سونیا جس کی ایک سال پہلے شادی ہوچکی تھی ،کویہ حکم دیا کہ اگر اسے گاؤں میں رہنا ہے تواسے اسقاط حمل کرانا ہوگا اوراپنی شادی توڑ کر شوہررام پال کو بھائی ماننا ہوگا۔ اس جوڑے کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے ایک ہی گوتر میں شادی کی تھی،حالانکہ ہندوشادی ایکٹ میں اس ملاپ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سونیا اوررام پال صرف ہریانہ کی ہائی کورٹ کی اس ہدایت کے بعد ہی ساتھ رہ سکے جس نے ہریانہ حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہاتھا۔

…اسی طرح مظفرنگر میں انصاریوں کی پنچایت نے گذشتہ سال یہ فیصلہ دیاکہ اپنے سسرکے ذریعہ زناکا شکارہونے کے بعدعمرانہ اپنے شوہر کی ماں ہوچکی ہے۔میرٹھ کی ایک پنچایت نے فیصلہ دیا کہ اپنے دوسرے شوہر کے ذریعہ حاملہ ہونے کے باوجود بھی گڑیا کو اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس ہوجانا چاہیے جوپانچ سال بعد واپس آیاتھا۔

ماخذ:سنڈے ٹائمز آف انڈیا،نئی دہلی 29اکتوبر2006


باکس3.12

دولت اورمراعات کا کردار؟گاؤں والوں کا کردار؟

اس وقت کی بات جبسوپاسرپنچ سیٹ عورتوں کے لیے محفوظ کوٹے میںرکھی گئی۔پھر بھی پنچایت کے باشندوں نے اسے امیدواروں کے شوہروں کے درمیان مقابلے کے طورپر سمجھا۔ایک طرف سرپنچ کے عہدے کا امیدواررام رائے میواڑہ تھاجو کیکڑی میں ایک شراب کی دکان کامالک تھا جب کہ دوسری طرف اسی گاؤں کازمین دار چاند سنگھ ٹھاکر تھا۔گاؤں والوں نے میواڑہ کی اصلیت افشاں کردی کہ2002–03کی خشک سالی راحت فنڈ میں اس نے نقلی فہرست بنائی تھی۔

حالانکہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ،لیکن اس بار گاؤں والے اسے پنچایت سے باہر دیکھنا چاہتے تھے اس طرح انھوں نے ٹھاکر کو سخت مقابلے کے لیے پیش کیا، سوپا کے باشندوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ لیا کہ میواڑہ کے خلاف مقابلے کے ٹھاکر زیادہ موزوں امیدوار تھا…


باکس3.13

زیادہ سے زیادہ شرکت اوراطلاع کے لیے سماجی تحریکوں اورتنظیموں کاکردار

 24جنوری کودسوریلاگاؤں(کشل پورہ پنچایت)میں ایک میٹنگ ہوئی۔اعلان کرکے،بچوں کواکٹھاکرکے انھیں نعرے سکھائے گئے اوردروازے دروازے جاکر لوگوں کو بتایا گیا۔ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم کے ایک معزز کارکن نے لوگوں سے چوپال میں  آنے کی درخواست کی…تارہ(مقامی این جی او کی حمایت یافتہ امیدوار)کامنشورپڑھاگیا اوراس نے ایک چھوٹی سی تقریر کی منشور میں کہاگیاتھاکہ وہ ایک سرپنچ کے طورپر رشوت نہیں لیں گی اوراپنی مہم کے لیے 2000 روپیے سے زیادہ نہیں خرچ کریں گی۔وغیرہ…

یہاں لوگوں کے ووٹ خریدنے کے لیے اورمہم اخراجات میں تعاون کے لیے شراب اورگڑتقسیم کیاجاتا ہے اورجیپوں کاباربار استعمال کیاجاتا ہے… اکٹھاہوئے گاؤں والوں کے سامنے بدعنوانی کاپوراسلسلہ واضح کیاگیا؛کم خرچ کے انتخاب نہ صرف غریبوں کی شرکت کی گنجائش پیداکرتے ہیں،بلکہ بدعنوانی سے آزاد پنچایتوں کے امکان کو بھی وسیع بناتے ہیں۔


باکس3.11،3.12،3.13کے لیے مشق

درج بالا باکسوں کو بغور پڑھیں اوردرج ذیل موضوعات پر بحث کریں
دولت کا رول
لوگوں رول
عورتوں کا رول

3.3سیاسی پارٹیاں،دباؤ گروہ اورجمہوری سیاست(Political parties pressure groups and democratic politics)

آپ کویادہوگا کہ یہ باب جمہوریت کے تعریف کی اقتباس کے ساتھ شروع ہوا تھا،جمہوریت ایک حکومت کی شکل میں،جوعوام کی،عوام کے ذریعہ اورعوام کے لیے ہے۔ جیسے جیسے یہ باب آگے بڑھا،آپ نے غورکیاکہ کس طرح یہ تعریف جمہوریت کی روح کو ظاہرکرتی ہے لیکن لوگوں کے ایک گروہ اوردوسرے گروہ کے درمیان متعدد تقسیم کوواضح نہیں کرتی۔آپ نے دیکھا کہ کس طرح مفادات اورسروکار مختلف ہیں۔ہم نے ہندوستانی آئین کے سیکشنII—میں دیکھاکہ کیسے مختلف گروہوں نے آئین ساز اسمبلی میں اپنے مفادات کی نمائندگی کی۔ہندوستانی جمہوریت کی کہانی میں ہم نے مختلف گروہوں کے مسابقتی مفادات کے بارے میں بھی جانا۔ہر صبح اخبار پر نظر ڈالنے سے آپ بہت سی مثالیں دیکھیں گے جہاں مختلف گروہ اپنی آواز سنانا چاہتے ہیں اورحکومت کی توجہ اپنی شکایات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
تاہم،سوال یہ ہے کہ کیاسبھی مفادی گروہوں کا موازنہ کیاجاسکتا ہے۔کیاایک ناخواندہ کسان یا مزدور اپنے معاملے کو حکومت کے سامنے اتنے ہی منظم طورپر اورقائل کرنے کے انداز میں پیش کرسکتا ہے جتنا کہ ایک صنعت کار؟  بہرحال نہ توصنعت کاراورنہ ہی کسان یا ملازم اپنی بات کو انفرادی طورپر پیش کرسکتے ہیں۔صنعت کارفیڈریشن آف انڈین چیمبرزاینڈکامرس (FICCI) اورایسوسی ایشن آف چیمبرزآف کامرس(ASSOCHAM) جیسی ایسوسی ایشن کی تشکیل کرتے ہیں جب کہ مزدوریاملازمین انڈین ٹریڈ یونین کانگریس (INTUC) یاسینٹرفارانڈین ٹریڈ یونینس(CITU)جیسی ٹریڈیونین کی تشکیل کرتے ہیں اور کسان شیٹ کاری سنگٹھن جیسی زراعتی یونین کی تشکیل کرتے ہیں۔زرعی مزدوروں کی اپنی یونین ہوتی ہیں۔آپ آخری باب میں دیگر تنظیموں، قبائلی اورماحولیاتی تحریکوں جیسی دوسری تنظیموں کے بارے میں پڑھیں گے۔

سرگرمی3.1

ایک ہفتے کے اخباریامیگزین دیکھیں۔ان میں ایسی مثالوں کو لکھیں جہاں مفادات کاٹکراؤ ہورہاہو۔
ان مسائل کی شناخت کریں جہاں تنازعہ پیداہوتا ہے۔
ان طریقوں کا پتہ لگائیں جن سے متعلقہ گروہ اپنے مفادات پیش کرتے ہیں۔
کیایہ کسی سیاسی پارٹی کاایک رسمی وفد ہے جو وزیراعظم یاکسی دیگر عہدے دار سے ملنا چاہتا ہے؟
کیایہ سڑکوں پر کیاجانے والا احتجاج ہے؟
کیا یہ احتجاج تحریری طورپر یا اخباروں میں اطلاع دے کر کیاجارہا ہے؟
کیا یہ عوامی میٹنگوں کے ذریعہ ہے؟
ان مثالوں کی شناخت کیجیے جب کسی سیاسی پارٹی،پیشہ ور ایسوسی ایشن، غیرسرکاری تنظیم یاکسی بھی دیگر ادارے نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے؟
ہندستانی جمہوریت کی کہانی کے مختلف کرداروں کے بارے میں بحث کریں۔


جمہوری طرزحکومت سیاسی پارٹیاں اہم کردارنبھاتی ہیں۔سیاسی پارٹی کی تعریف ایک ایسی تنظیم کے طورپر کی جاسکتی ہے جو انتخابی عمل کے ذریعہ حکومت پر جائز کنٹرول حاصل کرنے کا اپنا موقف متعین کرے۔سیاسی پارٹی ایک ایسی تنظیم ہے جس کا قیام حکومتی اقتدار حاصل کرنے اورایک مخصوص پروگرام پر عمل درآمد کرنے کے مقصد سے کیاجاتا ہے۔سیاسی پارٹیاں سماج کی مخصوص فہم اور اس کی نوعیت پر مبنی ہوتی ہیں۔ایک جمہوری نظام میں مختلف گروہوں کے مفادات کی نمائندگی بھی سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ کی جاتی ہے جو ان کے معاملے کو پیش کرتی ہیں۔مختلف مفادی گروں سیاسی پارٹیوں پر اثراندازہونے کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب کسی گروہ کو لگتا ہے کہ اس کے مفاد کی بات نہیں کی جارہی ہے تووہ ایک متبادل پارٹی کی طرف رجوع کرسکتا ہے یا وہ دباؤ گروہوں کی تشکیل کرسکتے ہیں جوحکومت سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرے۔مفادی گروہ سیاسی حلقوں میں چند مخصوص مفادات کو پورا کرنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ یہ بنیادی طورپر قانون ساز اداروں کے ممبران پر زورڈالنے کی منظم کوشش کرتے ہیں۔بعض صورت حال میں ایسی سیاسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن مقرہ طریقوں سے  ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ایسی تنظیموں کو اس وقت تک تحریک سمجھا جاتا  ہے جب تک کہ انھیں تسلیم نہ کرلیاجائے۔

باکس3.14

ہرسال فروری کے آخر میں حکومت ہند کے وزیر مالیات پارلیمنٹ کے سامنے بجٹ پیش کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہردن اخبار میں رپورٹیں شائع ہوتی ہیں کہ ہندوستانی صنعت کاروں کے مختلف کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریلٹس ٹریڈیونینس،کسان اورحالیہ خواتین گروہوں نے وزارت مالیات کے ساتھ میٹنگ کی ۔


باکس3.14کے لیے مشق

کیایہ سبھی دباؤ گروہ سمجھے جاسکتے ہیں؟
یہ واضح ہے کہ سبھی گروہوں کی نہ تویکساں رسائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی حکومت پر دباؤ بنانے کی اہلیت۔لہٰذا کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ دباؤگروہ غالب سماجی گروہوں جیسے سماج میں موجود طبقہ یاذات یا جنس پر مبنی گروہ کی قوت کو کم کر دیتے ہیں۔وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ غالب طبقہ یاطبقات ہی ریاست کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہاں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سماجی تحریک اوردباؤ گروہ جمہوریت میں اہم کردار نہیں نبھاتے۔باب8میں اس  پر روشنی ڈالی جائے گی۔

باکس3.15

پارٹیوں کے بارے میںمیکس ویبر کے خیالات

جب کہ طبقات کا اصل مقام معاشی سلسلے یا نظم میں ہے،گروہوں کی حیثیت کو سماجی نظم میں رکھاجاسکتا ہے…لیکن پارٹیاں اقتدار کی ایوان اقتدار میں رہتی ہیں۔…

پارٹی کا عمل ہمیشہ ایک ایسے مقصد کے لیے ہوتا ہے جن کی جدوجہد ایک منصوبہ بند انداز میں کی جاتی ہے۔مقصد ایک موقف ہوسکتاہے(پارٹی کامقصد کسی نصب العین یا مادی ضرورتوں کے لیے پروگرام کو حقیقت آفریں بنانا ہوسکتا ہے )یاذاتی ہوسکتا ہے۔(منافع بخش عہدہ،اقتدار اوران کے ذریعہ قیادت حاصل کرنا یاپارٹی کے پیروکاروں سے عزت حاصل کرنا)

(ویبر1948:194)


باکس3.16کے لیے مشق

آگے دیے گئے باکس کو غور سے پڑھیں۔دیگر قصبوں اورشہروں سے آپ ایسی مزید مثالیں لے سکتے ہیں۔
غریبوں،ملازم پیشہ اورمتوسط وامیر طبقہ کے مفادات کی شناخت کریں۔
اسٹریٹ کے استعمال کو مختلف گروہ کس طرح دیکھتے  ہیں؟
بحث کریں کہ حکومت کے کردار کے بارے میں آپ کیاسوچتے ہیں؟
⇐ میکنزی جیسی صلاح کارفرموں کا کیاکردار ہے؟ وہ کن کے مفاد کی نمائندگی کرتی ہیں۔
سیاسی پارٹیوں کا کیاکردار ہے؟
کیاآپ کو لگتا ہے کہ غریب صلاح کارفرموں کی نسبت سیاسی پارٹیوں کو زیادہ متاثر کر سکتے ہیں؟کیاایسا اس لیے ہے کہ سیاسی پارٹیاں عوام کے تئیں جواب دہ ہیں؟یعنی انھیں انتخاب میں ہرایا جاسکتا ہے۔

ممبئی شہر میں ترقیاتی کاموں کی ٹھوس مثال کے ذریعہ ہم آپ کو سمجھائیں گے کہ ان کے مسابقتی مفادات کس طرح کام کرتے ہیں۔



باکس3.16

حالیہ سالوں میں دیکھنے کو ملاکہ ہندوستانی شہروں کو عالمی شہر بنانے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔

شہری منصوبہ کاروں اوراس کے امکان پر غور کرنے والوں کے خیال میںممبئی کو فوری شمال–جنوب اورمشرق–مغرب سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ان کی دلیل یہ تھی کہ ممبئی کو دائرے میں کرنے کے لیے ایک ایکسپریس رنگ وے کے تعمیر کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ آزادراستہ شہر میں اندر کے کسی نقطے سے 10منٹ کے اندر پہنچ سکے۔تیز داخلہ اور اخراج  اور مؤثرآمد ورفت کو شہرکی  بے دخل سرگرمی کے لیے لازمی طورپر مناسب سمجھا جاتا ہے…

کم مراعات یافتہ لوگوں کے لیے سڑک کی اہمیت کچھ مختلف قسم کی ہے۔وہ جوڑنے والے آزاد راستوں سے بھی زیادہ بہت کچھ ہے۔سڑکیں خواہ اچھی ہوں یا خراب اکثر مؤثر طورپر بازار میلہ بن جاتی ہیں اور مختلف مقصد سے کی جانے والی زیارت،تفریح(نقل وحمل)اورمعاشی مبادلہ بھی اس کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔سڑک پر لوگوں کو عوامی اورنجی جگہوں کے درمیان کوئی فرق نہیں دکھائی دیتا کیونکہ وہیں پر خرید وفروخت،کھاناپینا،کرکٹ کھیلنا،یہاں تک کہ کھڑے رہنا اورگھومنا پھرنا بھی جاری رہتا ہے۔ شہر کے منصوبہ کاروں نے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ کس طرح یہ سرگرمیاں آمدورفت میں رکاوٹ پیداکرتی ہیں اور بھیڑ بھاڑ کا سبب بنتی ہیں۔

ان بھیڑبھاڑ اوررکاوٹوں کوکم کرنے کے لیے غریبوں کو شہر کے باہری حصوں میں بسادیاگیا ہے۔میکنزی کے ایک نجی صلاحکار کے ذریعہ تیار کیے گئے دستاویز ’ممبئی ویزن‘میں کہاگیاکہ ہے غریبوں کا گھر بنانے کا منصوبہ شہر کے باہر نمک کی پرت والی زمین پر تیار کیا گیا ہے۔ان کے ذریعہ معاش کا کیا ہوگا؟درج ذیل اقتباس غریبوں کی آواز کا مکمل عکاس ہے۔

ہم دراصل’انسانی بلڈوزر‘اور’انسانی ٹریکٹر‘ہیں۔زمین کو سب سے پہلے ہم نے ہموار کیا۔ہم نے شہر کے لیے اپنی خدمات دیں۔ ہم شہر کی گندگی باہر لائے ہیں۔میں نہیں دیکھتا کہ شہریوں کے گروہ سیوروں کو  اکھاڑتے یاسڑکوں کو کھودتے ہیں۔شہر صرف امیر کے لیے نہیں ہے،ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔میں بھیک نہیں مانگتا۔میں تمھارے کپڑے دھوتا ہوں۔عورتیں اس لیے کام کرنے جاسکتی ہیں کیونکہ ہم ان کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہیں۔وزارت،کلکٹریٹ،بی ایم سی کے اسٹاف حتی کہ پولیس کے لوگ بھی گندی بستیوں میں رہتے ہیں۔چونکہ ہم یہاں ہوتے ہیں تو عورتیں رات کو محفوظ گھوم سکتی ہیں…بامبے فرسٹ جیسے گروہ سب سے پہلے ممبئی کو عالمی معیار کے شہر ہونے کی بات کرتے ہیں۔اپنے غریبوں کے لیے رہنے کی جگہ کے بغیر ورلڈکلاس سٹی یہ کیسے بن سکتا ہے؟(آنند 2006:3422)

9

سوالات

مفادی گروہ عملی جمہوریت کا ناگزیر حصہ ہیں ۔اس پربحث کیجیے۔

آئین ساز اسمبلی کی بحث کے حصوں کا مطالعہ کیجیے۔مفادی گروہوں کی شناخت کیجیے۔عصری ہندوستان میں کس طرح کے مفادی گروہ ہیں؟وہ کیسے کام کرتے ہیں؟

اسکول میں انتخاب لڑنے کے وقت اپنے منشور کے ساتھ ایک ’پھڑ یا اسکرولی ‘بنائیے۔(یہ پانچ لوگوں کے ایک چھوٹے گروہ میں بھی کیاجاسکتا ہے،جیساکہ پنچایت میں ہوتا ہے؟

کیاآپ نے بچہ مزدور اورمزدور کسان تنظیم کے بارے میں سنا ہے؟اگر نہیں تو معلوم کیجیے،اوران کے بارے میں200الفاظ پر مشتمل ایک مضمون لکھیے۔

گاؤں والوں کی آواز کوسامنے لانے میں73ویں آئینی ترمیم نہایت اہم ہے۔بحث کیجیے۔

ایک مضمون لکھ کر مثال دیتے ہوئے ان طریقوں کو بتائیے جو عوام کی روزمرہ زندگی میں اہم ہیں اورہندوستانی آئین میں ان مسائل کو محسوس کیاگیا ہے۔

حوالہ جات

Anand, Nikhil. 2006. ‘Disconnecting Experience: Making World Class Roads in Mumbai’. Economic and Political Weekly (August 5th). pp. 3422-3429.

Ambedkar, Babasaheb. 1992. ‘The Buddha and His Dharma’ in V. Moon (Ed.)Dr. Babasaheb Ambedkar: Writings and Speeches. Vol. 11. Bombay Educational Department. Government of Maharashtra.

Sen, Amartya. 2004. The Argumentative Indian: Writings on Indian History, Culture and Identity. Allen Lane. Penguin     Group. London.

Weber, Max. 1948. Essays in Sociology Ed. with an introduction by H.H. Gerth and C. Wright Mills. Routledge and Kegan  Paul. London.