Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-004


1

4 دیہی سماج میں تبدیلی و ترقی 

ہندوستانی سماجی بنیادی طورپر ایک دیہی سماج ہے ۔اگرچہ شہرکاری بڑھتی جارہی ہے ہندوستان کی اکثریت گاؤں میں رہتی ہے (2011کی مردم شماری کے مطابق69فی صد)ان کاذریعۂ معاش زراعت یااس سے متعلق پیشہ ہے۔ تواس کا مطلب یہ ہواکہ بہت سے ہندوستانیوں کے لیے زراعتی زمین ایک اہم پیداواری وسیلہ ہے۔زمین جائیداد کی نہایت اہم شکل بھی ہے ،لیکن یہ محض نہ تو پیداوار کا ایک ذریعہ ہے اورنہ ہی جائیداد کی ایک شکل، نہ ہی زراعت ذریعۂ معاش کی ایک شکل۔یہ ایک طرززندگی بھی ہے۔ہمارے بہت سے ثقافتی عمل اورطریقوں کو زرعی پس منظرمیں تلاش کیاجاسکتا ہے۔ پچھلے ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ساختی اورثقافتی تبدیلیاں کس طرح ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔مثال کے طورپر ہندوستان کے مختلف خطوں میں نئے سال کے تیوہار جیسے تمل ناڈو میں یونگل،آسام میں بیہو،پنجاب میں بیساکھی،کرناٹک میں اگاڑی خاص طورپر فصل کاٹنے کے وقت منائے جاتے ہیں اورنئے زرعی موسم کے آنے کا اعلان کرتے ہیں۔ چند دیگر زراعتی تیوہاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔

           f
                                      زراعت کے مختلف ذرائع اور متعلقہ تیوہار


زراعت اورثقافت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔زراعت کی فطرت اورعمل مختلف خطوں میں الگ الگ طرح کے ہیں۔یہ فرق اورتغیر مختلف علاقائی ثقافتوں میں منعکس ہوتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ دیہی ہندوستان کی ثقافتی اورسماجی ساخت زراعتی اورزرعی طرززندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
دیہی آبادی کی اکثریت کے لیے زراعت ذریعۂ معاش کا نہایت اہم واحد وسیلہ ہے، لیکن گاؤں میں محض زراعت نہیں۔ بہت سی سرگرمیاں ہیں جو زراعت اوردیہی زندگی کے لیے مددگار ہیں اوردیہی ہندوستان میں لوگوں کے لیے ذریعہ ٔ معاش کے وسائل بھی ہیں۔مثال کے طورپربہت سے ایسے کاریگر یا دست کار جیسے کمہار،بڑھئی،بنکر،لوہار اورسنار بھی دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہ دیہی معیشت کاایک حصہ اورجزو ہیں۔نوآبادیاتی دورسے ہی وہ تعداد میں دھیرے دھیرے کم ہوتے جارہے ہیں۔آپ نے پہلے باب میں پڑھا کہ کیسے مشین سے بنے سامانوں کی آمد نے ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزوں کی جگہ لے لی ہے۔
بہت سے دیگر ماہر یافن کار اوردست کار جیسے کہانی سنانے والے،جیوتشی،پجاری، بہشتی اورتیلی وغیرہ بھی دیہی زندگی میں لوگوں کو سہارا دیتے ہیں۔دیہی زندگی میں پیشوں کا تنوع ذات پات کے نظام میں ظاہر ہوتا ہے جس میں کچھ علاقوں میں ماہرین اوراپنی خدمات فراہم کرنے والے دھوبی ، کمہار اورسنار وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ان میں سے کچھ روایتی پیشے آج ٹوٹ رہے ہیں، لیکن دیہی وشہری معیشتوں کے باہمی تعلق سے کئی متنوع حرفتیں گاؤں میں آرہی ہیں۔بہت سے لوگ گاؤں میں رہتے ہیں،ملازمت کرتے ہیں یا ان کاذریعۂ معاش دیہی غیر کاشت کاری سرگرمیوں پر مبنی ہے۔ مثال کے طورپر سرکاری خدمات میں دیہی باشندے بھی ملازم ہیں جیسے ڈاک اورتعلیم کاشعبہ،کارخانے میں کام گار یافوج میں ملازمت وغیرہ جن کا ذریعہ معاش غیرزراعتی سرگرمیوں پر مبنی ہے۔

سرگرمی4.1

اپنے علاقے میں منائے جانے والے کسی ایسے اہم تیوہارکے بارے میں بتائیے جس کا تعلق فصلوں یا زراعتی سماج سے ہے۔اس تیوہار سے جڑے مختلف رواجوں یارسموں کی کیااہمیت ہے اوروہ کس طرح زراعت سے جڑے ہیں؟
بہت سے قصبے اورشہر بڑھ رہے ہیں جن کے آس پاس گاؤں ہیں۔کیا آپ ایسے شہر یاقصبے کے بارے میں بتاسکتے ہیں جو پہلے گاؤں تھا یا ایسا علاقہ جو پہلے زرعی زمین تھا؟آپ ان جگہوں کی ترقی کے بارے میں کیاسوچتے ہیں اوران لوگوں کا کیا ہواجن کاذریعہ معاش اس زمین سے جڑا ہواتھا۔

l

4.1زرعی ڈھانچہ:دیہی ہندوستان میں ذات اورطبقہ(Agrarian Structure: Caste and Class in Rural India)

دیہی سماج میںزرعی زمین ہی گزربسرکاایک نہایت اہم وسیلہ اورجائیداد کی ایک شکل ہے، لیکن کسی مخصوص گاؤں یا کسی خطے میں رہنے والوں کے درمیان اس کی مساوی تقسیم نہیں ہوتی اورنہ ہی ہر ایک کے پاس زمین ہوتی ہے۔درحقیقت زیادہ ترخطوں میں زرعی زمین کی تقسیم نہایت غیر مساوی ہے۔ہندوستان کے کچھ حصوں میں زیادہ ترلوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ زمین تو ہوتی ہی ہے لیکن عام طورپر یہ بہت چھوٹا ٹکڑا ہوتا ہے۔دوسرے حصوں میں40سے50فی صد خاندانوں کے پاس کوئی زمین نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا ذریعۂ معاش زرعی مزدوروں سے دیگر قسم کے کاموں سے چلتا ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ تھوڑے سے خاندان بہت اچھی حالت میں ہیں جب کہ بڑی تعداد میں لوگ خط ِ افلاس کے اوپر یا نیچے ہیں۔
ہندوستان کے زیادہ ترخطوں میں عورتیں عام طورپر زمین کی مالک نہیںہوتیں۔ اس کی وجہ پدرنسبی رشتہ داری اوروراثت کے نظام کا رائج ہونا ہے۔قانون عورتوں کو خاندانی جائیداد میں برابر کی حصہ داری دلانے میں مددگار ہوتا ہے۔ درحقیقت ان کے حقوق بہت محدود ہوتے ہیں اورزمین کی ملکیت خاندان کے پاس ہوتی ہے جس کا سربراہ ایک مردہوتا ہے۔
اصطلاح زرعی ڈھانچہ کا استعمال اکثر زمین کی ملکیت کی ساخت یا تقسیم کے لیے کیاجاتا ہے۔ چونکہ دیہی علاقوں میں زرعی زمین نہایت اہم پیداواری وسیلہ ہے لہٰذا دیہی طبقاتی ساخت کوزمین کاہی شکل فراہم کرتی ہے جوبڑی حد تک یہ طے کرتی ہے کہ کسی کوزرعی پیداوار کے عمل میں کیا کردار اداکرنا ہے۔متوسط اوربڑی زمینوں کے مالک عام طورپر زراعت سے اچھی آمدنی کرلیتے ہیں (حالانکہ یہ زرعی قیمتوں پر منحصر ہے،جن میں کافی نشیب وفرازآتارہتا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ مانسون جیسے اسباب پر بھی منحصر ہے) لیکن زرعی مزدوروں کو اکثر قانونی طور سے طے اجرت سے کم دی جاتی ہے اوروہ بہت کم کماپاتے ہیں۔ان کی آمدنی اور روزگار غیر محفوظ ہوتا ہے۔زیادہ ترزرعی مزدوری دہاڑی مزدور یعنی روزانہ کی مزدوری کی بنیادپر کمانے والے ہوتے ہیں اورسال کے بیشتر دنوں میں ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا۔ اسے کم روزگار کے طورپر جانا جاتا ہے۔اسی طرح کاشت کار یاپٹے دار(کاشت کار جو زمین کے مالک سے زمین پٹے پر لیتا ہے)کی آمدنی مالک کاشت کار کی بہ نسبت کافی کم ہوتی ہے،کیونکہ وہ زمین کے مالک کو کافی کرایہ اداکرتا ہے جو بالعموم فصل سے ہونے والی آمدنی کا50سے75فی صدہوتا ہے۔
اسی طرح، زرعی سما ج کو اس کے طبقاتی ڈھانچے کے معنی میں ہی سمجھاجاسکتا ہے، لیکن ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ذات نظام کے ذریعہ بھی اس کی ساخت وضع ہوتی ہے۔دیہی علاقوں میں ذات اورطبقے کے درمیان ایک پیچیدہ رشتہ ہوتا ہے۔ جو ہمیشہ سیدھا سانہیں ہوتا۔ہم اکثر توقع کرتے ہیں کہ اونچی ذاتوں کے پاس زیادہ زمین اور آمدنی ہوتی ہے اوریہ بھی کہ ذات اورطبقے کے درمیان مطابقت ہے کیونکہ ان کاسلسلہ مدارج نیچے کی طرف ہوتا ہے۔ بہت سے علاقوں میں یہ کافی حد تک صحیح ہے لیکن یہ مکمل طورپر نہیں۔ مثلاً کئی جگہوں پر سب سے اونچی ذات (برہمن) زمین کے مالک نہیں ہیں لہٰذا وہ زرعی ڈھانچے سے بھی باہر ہوگئے حالاں کہ وہ دیہی سماج کے جزہیں۔ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں زمین کی ملکیت والے گروہ کے لوگ ’شودر‘ یا ’کشتریہ‘ ہیں۔ ہرعلاقے میںعام طورپر ایک یادوذاتوں کے لوگ ہی مالک ہوتے ہیں، وہ تعداد کی بنیادپر بھی بہت اہم ہیں۔ماہر سماجیات ایم۔این۔سری نواس نے ایسے لوگوں کو غالب ذات کا نام دیا۔ ہر ایک علاقے میں غالب ذات گروہ کافی طاقت ور ہوتا ہے اورمعاشی وسیاسی طورپر وہ لوگوں پر غلبہ بنائے رکھتا ہے۔اترپردیش کے جاٹ اور راجپوت،کرناٹک کے ووکالگاس اورلنگایت،آندھراپردیش کے کماس، ریڈی، پنچاب کے جاٹ سکھ غالب زمین مالک گروہوں کی مثالیں ہیں۔
عام طورپر غالب زمین مالکوں کے گروہوں میں متوسط اوراونچی ذات کے گروہوں کے لوگ ہی آتے ہیںجب کہ زیادہ تر حاشیائی کسان اوربے زمین لوگ نچلی ذات گروہوں کے ہوتے ہیں۔ رسمی درجہ بندی میں وہ درج فہرست ذاتیں، قبائل یا دیگر پس ماندہ طبقے سے ہی متعلق ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے کئی حصوں میں پہلے’اچھوت‘یادلت ذات کے لوگوں کو زمین کی ملکیت کاحق نہیں تھا۔ وہ زیادہ تر غالب ذات کے زمین مالک گروہوں کے یہاں زرعی مزدور کے طورپر کام کرتے تھے۔اس سے قوت محنت کی بھی تشکیل ہوئی جن سے زمین مالکوں کے لیے گنجائش پیداہوئی کہ وہ ان سے زمین کی عمیق کاشت کروائیں اورزیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کریں۔

باکس4.1

زرعی پیداوار اورزرعی ساخت کے درمیان براہ راست تعلق ہوتاہے۔ایسے علاقے جہاں آب پاشی کا کافی بہترنظام ہو، جہاں کافی بارش ہو، جہاں آب پاشی کے مصنوعی ذرائع کام کرتے ہوں(جیسے چاول پیداکرنے والے خطے جو ندی کے ڈیلٹاپر ہوتے ہیں،مثال کے طورپر تمل ناڈ میں کاویری بیسن)وہاں عمیق یاکسی زراعت کے لیے زیادہ مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں بہت غیرمساوی زرعی ساخت کو فروغ حاصل ہوا۔بڑی تعداد میں بے زمین مزدورجوکہ زیادہ تر بندھوا اورنچلی ذات کے ہوتے ہیں اس علاقے کی زرعی ساخت کی خصوصیات کاتعین کرتے ہیں۔(کمار1998)



ذات اورطبقے کے درمیان خراب مطابقت کامطلب یہ ہے کہ مخصوص اونچے اورمتوسط طبقے کے پاس چونکہ سب سے بہتر زمین اوروسائل تھے اس لیے اقتدار اورمراعات بھی ان ہی کے پاس تھی۔دیہی معیشت اورسماج کے لیے یہ اہم دلالت تھی۔ملک کے زیادہ ترعلاقوں میں’مالک جائیداد ذات‘گروہ کے پاس زیادہ تر وسائل کی ملکیت ہوتی ہے اوراپنے لیے کام کرانے میں وہ مزدوروں پر اچھی دست گاہ رکھے ہیں۔شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں ابھی تک بے گار اورمفت مزدوری جیساطریقہ رائج ہے۔گاؤں کے زمین داریا زمین کے مالک کے یہاں نچلی ذات گروہ کے ممبر سال میں چند مقررہ دنوں تک مزدوری کرتے ہیں۔اسی طرح وسائل کی کمی اورزمین مالکوں کی معاشی،سماجی اورسیاسی مدد لینے کے لیے بہت سے غریب کام گارنسلوں سے ان کے یہاں بندھوا مزدور کی طرح کام کررہے ہیں،گجرات میں اس نظام کو ’بل پتی‘کے نام سے جاناجاتاہے(بریمن،1974)اورکرناٹک میں اسے ’جیتا‘کہتے ہیں۔حالانکہ قانونی طورپر اس طرح کے نظام کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن کئی علاقوں میں یہ اب بھی چل رہا ہے۔شمالی بہار کے ایک گاؤں میں زیادہ تر زمین مالک بھومی ہار ہیں، یہ بھی ایک غالب ذات ہے۔

سرگرمی4.2
غورکیجیے کہ آپ نے ذات نظام کے بارے میں کیاسیکھا۔زرعی یادیہی طبقاتی ساخت اور ذات کے درمیان پائے جانے والے مختلف تعلقات کی درجہ بندی کیجیے۔ وسائل، مزدور اور پیشے تک مختلف رسائیوں کے معنی پر بحث کیجیے۔

4.2زمینی اصلاحات کااثر(The Impact of Land Reforms)

نوآبادیاتی دور(The Colonial Period)

ہندوستان میں تاریخی اسباب کی بناپر بعض علاقے محض ایک یادواہم بڑے گروہوں کے غلبے میں رہے، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ زرعی ڈھانچہ قبل نوآبادیات سے نوآبادیات اورآزادی کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیل ہوتا رہا جب کہ وہی غالب ذات قبل نوآبادیاتی دورمیں کاشت کارزیرکاشت زمین کے راست مالک نہیں تھے۔ ان کی جگہ پر حکومت کرنے والے گروہ جیسے کہ مقامی راجہ یازمین دار (زمین کے مالک جواپنے علاقے میں سیاسی طور پرطاقتورتھے،عام طورپر چھتری یادیگر اونچی ذات کے ہوتے تھے)زمین پر کنٹرول رکھتے تھے۔کسان یاکاشت کار جوکہ اس زمین پر کام کرتا تھا وہ فصل کا ایک حصہ انھیں دے دیتا تھا جب برطانیہ نے ہندوستان کو نوآبادیاتی ملک بنایا توانھوں نے کئی علاقوں میں ان مقامی زمین داروں کے ذریعہ ہی کام چلایا۔ انھوں نے زمین داروں کو مالکانہ حقوق بھی دے دیے۔برطانوی لوگوں کے لیے کام کرتے ہوئے انھیں زمین پر پہلے سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوا۔حالانکہ ان نوآبادکاروں نے زرعی زمین پر بہت زیادہ ٹیکس لگادیاتھا۔زمین دار کسان سے ٹیکس کی شکل میں جتنی زیادہ پیداوار اوررقم لے سکتے تھے لے لیتے تھے۔زمین داری نظام کاایک نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی دورمیں زرعی پیداوارکم ہونے لگی۔ زمین داروں کے ظلم وجبر سے کسانوں نے فرار کی راہ اختیار کی اورباربارکی ہونے والی قحط سالی اورجنگوں کے سبب آبادی میں کافی کمی آئی۔

نوآبادیاتی ہندوستان کے بہت سے اضلاع کا انتظامیہ زمین داری نظام کے تحت تھا۔دیگر علاقوں میںجوبراہ راست برطانوی حکومت کے تحت تھے انھیں زمینی بندوبست کارعیت واری نظام کہاجاتاتھا۔(تیلگومیں رعیت کے معنی کاشت کار کے ہوتے ہیں)اس نظام میں زمین دار کے بجائے کاشت کار (جو اکثر زمین کے مالک ہوا کرتے تھے نہ کہ کاشت کار) ہی ٹیکس اداکرنے کے لیے ذمہ دارہواکرتاتھا۔ کیوں کہ نوآبادیاتی حکومت سیدھا کسانوں یا زمین مالکوں سے سروکار رکھتی تھی نہ کہ کسی حاکم کے ذریعہ۔اس میں ٹیکس کابوجھ کم پڑتاتھا اورکاشت کاروں کو زراعت میں سرمایہ کاری کی زیادہ حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔نتیجتاًیہ علاقے نسبتاً زیادہ پیداواری اورخوش حال بن گئے۔

نوآبادیاتی ہندوستان میں زمین کے ٹیکس کے اس پس منظرکو(جس کے بارے میں آپ نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں مطالعہ کیاہے)،جدیدہندوستان میں زرعی ساخت کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ موجودہ ساخت میں تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

آزادہندوستان(Independent India)

ہندوستان کے آزادہونے کے بعد نہرو اوران کے پالیسی صلاح کاروں نے منصوبہ بندترقی کے پروگرام پر توجہ مبذول کی۔ زرعی اصلاحات کے ساتھ ساتھ صنعت کاری پر بھی توجہ دی گئی۔پالیسی سازوں نے جواس وقت مایوس کن زراعتی صورت حال پر جوابی عمل پیش کررہے تھے ان امور کی نشان دہی کم پیداواریت،درآمداناج پر انحصار اوردیہی آبادی کے ایک بڑے طبقے میں زبردست غربت کے طورپر کی ۔ انھوں نے محسوس کیا کہ زراعت کی ترقی کے لیے زرعی ساخت میں اہم اصلاح اورخاص طورپر زمین کی ملکیت اورزمین کی تقسیم کے نظام میں بہتری پیداکی جانی ضروری تھی۔1950اور1970کے دوران زمینی اصلاح کے قوانین کا سلسلہ قومی پیمانے کے ساتھ ساتھ ریاستوں میں بھی شروع کیاگیا جن کامقصد ان تبدیلیوں کی شروعات تھی۔

پہلی اہم قانون سازی زمین داری نظام کے خاتمے سے متعلق تھی اس کے ذریعہ بچولیوں کو ختم کرنا تھا جوریاست اورکاشت کاروں کے درمیان مانع تھے۔زمینی اصلاح سے متعلق جو بھی قانون پاس کیے گئے ان میں یہ قانون غالباًسب سے زیادہ مؤثر تھا۔زیادہ تر علاقوں میں یہ زمین پر زمین داروں کے اعلی حقوق اوران کی معاشی وسیاسی تسلط کوختم کرنے میں کامیاب رہا۔یقینا ایسا بغیر جدوجہد کے نہیں ہوسکتاتھا ۔ آخر کار اس کا اثر یہ ہوا کہ زمین کے حقیقی مالکان اورکاشت کاروں کی حیثیت مقامی سطح پر کافی مضبوط ہوئی تاہم زمین داری کے خاتمے کے ذریعہ زمین کو کرائے پر چڑھانے ، لگان داری پٹے داری یا فصلوں میں شریک ہونے کے نظام کوپوری طرح ختم نہیں کیاجاسکا۔یہ نظام کئی علاقوںمیں چلتارہا۔ اس سے کثیرسطحی زرعی ڈھانچے میں زمین داری کی اونچی سطح کو ہٹایا جاسکا۔

شروع کیے گئے دیگر اہم زمینی اصلاحی قوانین میں لگان داری کاخاتمہ اورضابطہ بندی ایکٹ تھے۔ انھوں نے یاتو پٹے داری یالگان داری کومجموعی طورپرہٹانے کی کوشش کی یاکرائے کے لیے قانون بنائے تاکہ کاشت کاروں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کیاجاسکے۔اکثرریاستوں میں ان قوانین کو بہت زیادہ موثر طورپر کبھی نافذنہیں کیاگیا۔مغربی بنگال اورکیرل میں زرعی ساخت کو بنیادی طورپر نئے سرے سے وضع کیاگیا جس کے ذریعہ کاشت کاروں یا پٹے دارکو زمینی حقوق دیے گئے۔

زمینی اصلاحی قوانین کا تیسرا بڑازمرہ زمین کی حدبندی ایکٹ تھاجن کے تحت زمین رکھنے کی اوپری حد طے کردی گئی جو کوئی  خاندان رکھ سکتا تھا۔حدبندی کی مقدار ہرخطے میں متفرق تھی جو زمین کی قسم،اس کی پیداواری صلاحیت اوردوسرے اسی طرح کے عوامل پر منحصر تھی۔ بہت زیادہ پیداواری(زرخیز)زمین کی حدبندی کم تھی جب کہ غیرپیداواری بنجرزمین کی حد بندی  زیادہ تھی۔ ان قوانین کے مطابق ریاستوں کاکام تھا کہ وہ ہر ملکیت والی زمین کی شناخت کرکے زائد زمین(حد بندی سے اوپر)کاتصرف اختیار کریں اوراسے نئے سرے سے بے زمین کنبوں اوردیگر صراحت کیے گئے زمروں جیسے درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل کو نئے سرے سے تقسیم کریں۔ زیادہ تر ریاستوں میں یہ قوانین بے اثرثابت ہوئے۔ان میں بچنے کی بہت سی صورتیں یادیگر حکمت عملیاں تھیں جن کے ذریعہ زمین کے مالکان اپنی زائد زمین کوریاست کے قبضے سے بچانے میں کامیاب رہے۔جہاں کچھ بہت ہی بڑی املاک یاجائدادوں کو توڑدیاگیاوہیں اکثرمعاملات میں زمین کے مالکان اپنی زمین کو رشتہ داروں اوردوسروں کے درمیان تقسیم کرنے میں کامیاب رہے اس میں ان کے ملازمین بھی شامل تھے۔ اس بے نام منتقلی میں زمین پر اُن کا کنٹرول بنائے رکھنے کی گنجائش تھی۔بعض مقامات پر تووہ امیرکسان جنھوں نے اصلاًاپنی بیویوں کوطلاق دے دی تھی(لیکن وہ ان کے ساتھ رہتے رہے)تاکہ زمینی حدبندی کے قانون کے شق سے بچاجاسکے جس میں غیرشادی شدہ عورتوں کے لیے الگ حصہ تھا لیکن بیویوں کے لیے نہیں۔

زرعی ڈھانچہ پورے ہندوستان میں بہت زیادہ متفرق ہے اورزمینی اصلاحات کی پیش رفت میں بھی ریاستوں کے درمیان یکساں نہیں ہے۔تاہم،مجموعی طورپریہ کہاجاسکتا ہے نوآبادیاتی دورسے عہد حاضرتک کافی تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن ان میں کافی زیادہ غیر یکسانیت ہے۔اس ڈھانچہ نے زرعی پیداواریت کومحدود کیا۔زمینی اصلاحات زرعی پیداوار کو بڑھانے ، دیہی علاقوں سے غریبی ہٹانے سماجی انصاف دلانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔

سرگرمی4.3

بھودان تحریک کے بارے میں معلوم کریں۔

آپریشن بارگاکے بارے میں معلوم کریں۔

بحث کریں

4.3 سبزانقلاب اوراس کے سماجی نتائج(The green Revolution and its Social Consequences)

ہم نے دیکھاکہ زیادہ تر علاقوں میں زمینی اصلاحات کا دیہی سماج اورزرعی ساخت پر محدود اثرپڑا۔ اس کے برعکس1960 اور1970کی دہائی میں سبزانقلاب کے ذریعہ ان علاقوں میں جہاں یہ واقع ہوازبردست تبدیلیاں پیداہوئیں۔جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ سبزانقلاب زرعی جدید کاری کا ایک سرکاری پروگرام تھا۔ اس کے لیے مالی امداد بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ مہیا کی گئی تھی۔یہ پروگرام کسانوں کے لیے کیڑے مار ادویات،فرٹیلائزراوردیگر درآمدات(مادخل)کے ساتھ ساتھ اونچی پیداوار یا مخلوط قسم کے بیجوں پر مرکوز تھا۔ سبزانقلاب سے متعلق پروگراموں کو صرف ان ہی علاقوں میں نافذکیاگیاتھا جہاں آب پاشی کا مناسب انتظام تھا کیو نکہ نئے بیجوں اورکاشت کاری کے طریقوں کے لیے کافی پانی کی ضرورت تھی۔اس میں خاص طورپر گیہوں اورچاول کی پیداواروالے علاقوںکو ہدف بنایاگیاتھا۔جس کے نتیجے میں سبزانقلاب کے پیکیج کی پہلی کوشش صرف چھ خطوں پنجاب،مغربی اترپردیش، آندھراپردیش کے ساحلی علاقے اورتمل ناڈ کے کچھ حصوں میں اثرانداز رہی۔نیز سماجی اورمعاشی کایاپلٹ جو ان خطوں میں دیکھی گئی اس سے سبز انقلاب کے بارے میں سماجی سائنس دانوں کے پر ُجوش مطالعات اورعمیق بحث کی باڑھ سی آگئی۔

نئی ٹیکنالوجی کے سبب زرعی پیداواریت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اور کئی دہائیوں کے بعد پہلی باراناج کی پیداوار میںہندوستان خود کفیل بن سکا۔ سبزانقلاب کو حکومت اوران سائنس دانوں کی ایک بہت بڑی کامیابی سمجھاگیا جنھوں نے اس میں اشتراک کیا۔حالانکہ اس کے کچھ منفی سماجی اثرات تھے جن کی نشان دہی ان ماہرین سماجیات نے کی تھی جنھوں نے سبزانقلاب والے علاقوں کا مطالعہ کیاتھا۔اس کے ساتھ ہی اس کا کچھ مخالف ماحولیاتی اثر بھی پڑا۔

سبزانقلاب کے زیادہ ترعلاقوں میں بنیادی طورپر متوسط اوربڑے کسان ہی تھے جونئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں لگنے والامال(درآمد)بہت مہنگاپڑتا تھا چھوٹے اورحاشیائی کسان کی استطاعت نہیں رکھتے تھے جتنا کہ بڑے کسان ۔جب زراعت کرنے والے بنیادی طورپر اپنے لیے پیداوار کرتے ہیں اوربازار کے لیے نہیں کرپاتے تو اسے گزربسر کرنے والی زراعت کہاجاتاہے اورعام طورپر انھیں چھوٹے کاشت کاریاکسان کہاجاتا ہے۔زراعت کار یاکسان وہ ہیں جو زائد یافاضل پیداکرنے کے اہل ہوتے ہیں جو ان کے اہل خانہ کی ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے اوراس طرح وہ بازار سے جڑ جاتے ہیں۔سبزانقلاب اوراس کے بعد زراعت کے تجارتی بننے سے وہی کسان فائدہ اٹھاسکے جو بازار کے لیے فاضل پیداوار کرنے کے  اہل تھے۔

اس طرح سبزانقلاب کے پہلے مرحلے1960اور1970کی دہائی میں نئی تکنیک کے نافذ ہونے سے دیہی سماج میں عدم مساوات ظاہرہوئی۔ سبزانقلاب کی فصلیں زیادہ منافع والی تھیں کیونکہ ان سے زیادہ پیداوار ہوتی تھی۔ بہتر معاشی حیثیت والے کسان جن کے پاس زمین،پونجی،تکنیک اورمعلومات تھی اور جو نئے بیجوں اورکھادوں میں پیسہ  لگاسکتے تھے وہ اپنی پیداوار بڑھاسکے اورزیادہ رقم کماسکے۔حالانکہ کئی معاملوں میں اس سے پٹے دار کسان بے دخل بھی ہوئے۔ایسا اس لیے ہواکیونکہ زمین کے مالکوں نے اپنے پٹے داروں سے زمین واپس لے لی اس طرح اب براہ راست زرعی کام کرنا زیادہ فائدہ مند تھا۔ اس سے امیرکسان مزید   خوش حال ہوگئے اوربے زمین نیزحاشیائی زمین مالکوں کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔

اس کے علاوہ پنجاب اورمدھیہ پردیش کے کچھ علاقوں میں زرعی سازوسامان جیسے ٹلر،ٹریکٹر،تھریشر اورہارویسٹر کے استعمال نے خدمات فراہم کرنے والی جاتیوں کے ان گروہوں کوبھی بے دخل کردیا جو زراعت سے متعلق ان سرگرمیوں کو انجام دیاکرتی جس  کی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کی رفتار مزیدبڑھادی۔

سبزانقلا ب کاحتمی نتیجہ’’تفریق ‘‘ایک ایسا عمل تھا جس میں امیر اورزیادہ امیرہوگئے جب کہ کئی غریب غریب ہی رہے یا اوربھی زیادہ غریب ہوگئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کئی علاقوں میں مزدوری کے مطالبہ میں اضافہ سے زرعی مزدوروں کے روزگار اوران کی رو زینہ میں بھی اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ اورزرعی مزدوروں کی ادائیگی کے طریقوں میں تبدیلی،اناج کی جگہ نقد ادائیگی سے زیادہ تردیہی مزدوروں کی معاشی حالت خستہ ہوگئی۔

سبزانقلاب کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ ہندوستان کے خشک اورنیم آب پاشی علاقوں میں حال ہی میں نافذکیاگیا۔ ان علاقوں میں خشک سے آب پاشی والی زراعت کی طرف ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے جس کے ساتھ ہی فصل کاری اوراگائی جانے والی فصلوں کی اقسام میں بھی اضافہ ہوا۔بڑھتی تجارت کاری اوربازارپرانحصار ان علاقوں میں(مثال کے طورپرجہاں کپاس کی کھیتی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے)بڑھ گیا جن سے ذریعۂ معاش کا تحفظ کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا کیونکہ کسان جو کسی وقت اپنے استعمال کے لیے اناج کی پیداوار کرتے تھے اب اپنی آمدنی کے لیے بازارپر منحصر ہوگئے۔بازار رخی زراعت میں خاص طورپر جب ایک ہی فصل اگائی جاتی ہے توقیمتوں میں کمی یا خراب فصل سے کسانوں کی معاشی بربادی ہوسکتی ہے۔سبزانقلاب کے زیادہ ترعلاقوں میں کسانوں نے کثیرفصلی زرعی نظام،جس میں وہ دشواریوں کو بانٹ سکتے تھے،کی جگہ پر واحد فصلی زرعی نظام کو اپنا یاجس کا مطلب یہ تھا کہ فصل کے ضائع ہونے پر ان کے پاس گذربسر کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

سبزانقلاب کی حکمت عملی کا ایک منفی نتیجہ علاقائی عدم مساوات میں اضافہ تھا۔ وہ علاقہ جہاں یہ تکنیکی تبدیلی ہوئی،زیادہ ترقی یافتہ ہوگئے جب کہ دیگر علاقے پہلے کی طرح رہے۔مثال کے طورپر سبزانقلاب کو ملک کے مشرقی،مغربی جنوبی حصوں پنجاب وہریانہ اورمغربی اترپردیش میں زیادہ نافذکیاگیا(داس 1999 )اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہاراورمشرقی اترپردیش جیسی ریاستوں اورتلنگانہ جیسے خشک علاقوں میں زراعت نسبتاًغیرترقی یافتہ رہی۔ یہی وہ علاقے ہیں جہاں جاگیردارانہ زرعی ساخت اب بھی قائم ہے جس میں زمین مالک نچلی ذاتوں،زرعی مزدوروں اورچھوٹے کسانوں پر اپنا اقتدار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ذات اورطبقہ میں زبردست عدم مساوات اور مزدوروں کے استحصالی رویے نے ان علاقوں میں کئی طرح کے تشددجن میں بین ذات تشدد بھی شامل ہے کوحالیہ سالوں میں فروغ دیا ہے۔

اکثریہ سوچاجاتا ہے کہ زراعت کے سائنسی طریقے کاعلم فراہم کرنے سے ہندوستانی کسانوں کی حالات میں بہتری پیداہوگی۔ ہمیں یہ یادرکھناچاہیے کہ ہندوستانی کسان سبزانقلاب سے پہلے سے زرعی کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ انھیں زرعی زمین اوراس میں بوئی جانے والی فصلوں کے بارے میں تفصیلی روایتی علم ہے۔ایسی بہت سی معلومات جنھیں کسانوں نے صدیوں میں فروغ دیاتھا وہ ختم ہوتی جارہی ہیں کیونکہ مخلوط اوراونچی پیداوار والے اورجینیائی اصلاح شدہ بیجوں کی مختلف اقسام کو زیادہ پیداواری اورسائنسی طورپر فروغ دیاجارہا ہے (گپتا  1998؛واسوی، 1999)۔ماحول اورسماج پر زراعت کے جدید طریقوں کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے بہت سے  سائنس داں اورکسانوں کی تحریکیں اب زراعت کے روایتی طریقوں اورزیادہ نامیاتی بیجوں کی طرف واپس آنے کا مشورہ دینے لگے ہیں۔ دیہی عوام خود یقین کرتے ہیں کہ مخلوط قسم روایتی اقسام کی نسبت کم صحت بخش ہوتی ہے۔

باکس4.2

مقامی تبصرے میں مخلوط پیداوار کے ساتھ نامیاتی پیداوار کی تکمیلیت کا موازنہ کیاجانا بڑھ رہا ہے۔ مدبھاؤگاؤں کی ایک بزرگ خاتون بھارگو ہوگرنے کہا:کیا…یہ کچھ گیہوں،لال سورگھم اگاتے ہیں…کچھ قداورمرچ کے پودے اگاتے ہیں…کپاس…اب یہ صرف مخلوق ہیں… کہاں ہے جواری (نامیاتی مقامی)؟مخلوط بیج اب زمین پر اگائے جانے لگے ہیں—بچے جوپیداہوئے ہیں وہ بھی مخلوط (hybrid) ہیں۔

(واسوی 1994:295-96)

4.4آزادی کے بعد دیہی سماج میں تبدیلیاں(Transformations in rural society after independence)

آزادی کے بعد دیہی علاقوں خاص کران علاقوں میں جہاں سبز انقلاب ہوا سماجی رشتوں کی نوعیت میں کئی مؤثر تبدیلیاں واقع ہوئیں ان تبدیلیوں میں شامل ہیں:
عمیق زراعت کے سبب زرعی مزدوروں میں اضافہ؛
اناج کے بجائے نقد میں ادائیگی
کسانوں یا زمین مالکوں اورزرعی مزدوروں(بندھوامزدور کے طورپر معروف)کے درمیان؛ روایتی بندھنوں یاموروثی رشتوں میں ڈھیلاپن؛
آزاد اجرتی مزدوروں کے طبقے کا عروج؛

زمین مالکوں (جوزیادہ تر غالب ذات کے ہوتے تھے)اورزرعی مزدوروں(زیادہ تر نچلی ذات کے)کے درمیان رشتوں میں نوعیت کی تبدیلی کابیان ماہر سماجیات جان بریمن نے’سرپرستی سے استحصال‘کی طرف منتقلی میں کیاتھا(بریمن1974)ایسی تبدیلیاں ان تمام علاقوں میں ہوئیں جہاں زراعت کی تجارت کاری زیادہ ہوئی یعنی جہاں فصلوں کی پیداوار بنیادی طورپر بازار میں فروخت کے مقصد کے لیے کی گئی۔مزدور رشتے میں اس تبدیلی کو کچھ ماہرین نے سرمایہ دارانہ زراعت کی طرف تبدیلی دیکھا کیونکہ پیداوار کا سرمایہ دارانہ طریقہ اس کے ذرائع (اس معاملے میں زمین)سے مزدوروں کی علاحدگی اورآزاد اجرتی مزدور کے استعمال پر مبنی ہوتا ہے۔ عام طورپر یہ سچ ہے کہ زیادہ ترقی یافتہ خطوں میں کسان زیادہ بازاررخی بنتے جارہے تھے۔چونکہ زراعت اب زیادہ تجارتی بن گئی ہے اس لیے یہ دیہی علاقے بھی وسیع معیشت میں مربوط ہوتے جارہے تھے۔اس عمل سے زرکابہاؤ گاؤں کی طرف بڑھا اورکاروبار میں روزگار کے لیے مواقع میں وسعت پیداہوئی لیکن ہمیں یہ یادرکھنا چاہیے کہ دیہی معیشت میں تبدیلی کا یہ عمل دراصل نوآبادیاتی دور میں شروع ہواتھا۔ انیسویں صدی میں مہاراشٹر میں زمینوں کے بڑے قطعے کپاس کی زراعت کے لیے دیے گئے تھے اوراس کی کھیتی کرنے والے کسان سیدھے عالمی بازار سے جڑگئے؛حالانکہ اس کی رفتار اوروسعت میں آزادی کے بعد تیزی سے تبدیلی ہوئی کیوں کہ حکومت نے زراعت کے جدید طریقوں کی حوصلہ افزائی کی اور دیگر حکمت عملیوں کے ذریعہ دیہی معیشت کو جدید بنانے کی کوشش کی۔ریاستی حکومت نے دیہی بنیادی ساخت وسہولیات جیسے آب پاشی،سڑکیں، بجلی اورزراعتی درآیدیوں کا اہتمام بشمول بینکوں اورکوآپریٹیوکے ذریعہ ادھار کی سہولت وغیرہ کو فروغ دینے میں سرمایہ داری کی زراعتی پیداوار میں مستقل اضافے کے لیے بجلی کی فراہمی ضروری ہے۔بجلی کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ ہندوستانی حکومت کی حال میں شروع کردہ ’ دین دیال اپادھیائے جیوتی یوجنا ‘ اس جانب ایک اہم قدم ہے۔ دیہی ترقی کی ان کوششوں کا بحیثیت مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف دیہی معیشت اورزراعت میں انقلاب آیا بلکہ زرعی ساخت اورخود دیہی سماج میں بھی تبدیلی پیداہوئی۔
                     kh
ملک کے مختلف حصوں میں کا شت


1960کی دہائی میں زرعی ترقی کے ذریعہ دیہی سماجی ساخت کو بدلنے میں نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے والے متوسط اوربڑے کسانوں کی خوش حالی کا بھی اہم رول تھا۔ اس پر پچھلے سیکشن میں بحث کی جاچکی ہے۔زراعتی طورپر کئی خوش حال خطوں جیسے ساحلی آندھراپردیش،مغربی اترپردیش اورمرکزی گجرات غالب ذاتوں سے تعلق رکھنے والے امیر کسانوں نے زراعت سے ہونے والے فائدے کی سرمایہ کاری دیگر قسم کے کاروبار میں کرنی شروع کی۔ تنوع کے اس عمل سے نئے کاروباری مہم جو ابھرے جنھوں نے دیہی علاقوں سے ترقی پذیر خطوں کے ابھرتے شہروں کی طرف رخ کیا۔اس سے نئے علاقائی طبقہ کو عروج حاصل ہواجو معاشی اورسیاسی طورپر بھی غالب ہوگئے۔ (رٹن (Rutten) 1995)۔طبقاتی ساخت میں اس تبدیلی کے ساتھ دیہی اورنیم شہری علاقوں میں اونچی تعلیم کی اشاعت خاص طورپر نجی پروفیشنل کالجوں کے قیام سے نئے دیہی ممتاز طبقے کے ذریعہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا ممکن ہوا،جن میں کئی نے پروفیشنل یا سفید پوش پیشے اپنائے یا کاروبار کی شروعات کرکے شہری متوسط طبقات کو وسعت فراہم کی۔
اس طرح تیز زراعتی ترقی والے علاقوں میں پرانے زمین دار یازرعی گروپوں کو تقویت ملی،جنھوں نے ایک فعال کاروباری مہم جودیہی وشہری غالب طبقے کے طورپر خود کو ڈھال لیا،لیکن دیگر علاقوں جیسے مشرقی اترپردیش اوربہار میں موثرزمین اصلاحات،سیاسی حرکت پذیری اورتقسیم نو میں کمی کے سبب وہاں تقابلی طورپر زرعی ساخت اورزیادہ ترلوگوں کے زندگی کے حالات میں تھوڑی تبدیلی پیداہوئی۔اس کے برخلاف کیرل جیسی ریاست ترقی کے ایک مختلف عمل سے گزری جس میں سیاسی حرکت پذیری،تقسیم نوع کے ذرائع اوربیرونی معیشت سے وابستگی(بنیادی طورپر خلیج ممالک سے)نے دیہی ماحول میں بھرپور تبدیلی پیدا کی۔کیرل میں دیہی علاقے بنیادی طورپر زراعتی ہونے کے بجائے مخلوط معیشت والے ہیں جن میں کچھ زراعتی عمل خوردہ فروخت اورخدمات کے ایک تفصیلی نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں اورجہاں ایک بڑی تعداد میں خاندان بیرون ممالک سے بھیجی ہوئی رقم پر منحصر ہیں۔
زرا5
                                     زراعت میں بدلتی ٹیکنالوجی

6

اس گھر ’’ وسوکروتھم ‘‘کو دیکھیے جو کیرل کے ایک گاؤں میں واقع ہے۔یہ پال گھاٹ قصبے سے 3 کلومیٹر دور ایک گاؤں یکار میں ہے۔

4.5  مزدوروں کی گردش(Circulation of Labour)

مہاجرزرعی مزدوروں میں اضافہ دیہی سماج کی ایک دیگر اہم تبدیلی ہے جوزراعت کے کمرشیلائزیشن سے متعلق ہے۔مزدوروں یا پٹے داروں اورزمین کے مالکوں کے درمیان سرپرستی کا روایتی بندھن ٹوٹنے اورپنجاب جیسے سبزانقلاب والے خطوں میںزرعی مزدوروں کے لیے موسمی اضافے کے طورپر موسمی نقل پذیری کانیا انداز سامنے ہے، جس میں ہزاروں مزدور اپنے گھرگاؤں سے ان خوش حال علاقوں کے درمیان گردش کرنے لگے جہاں مزدوری کے لیے زیادہ مطالبہ ہے اورانھیں زیادہ اجرتیں ملتی ہیں۔1990کی دہائی کے وسط سے دیہی علاقوں میں عدم مساوات بڑھنے کے سبب مزدوروں کی نقل پذیری نے بہت سے اہل خانہ کواس بات پر مجبور کیاہے کہ وہ گذر بسر کے لیے کثیر پیشوں کو متحدکریں۔ذریعۂ معاش کی حکمت عملی کے طورپرمحدود مدد، کام کی تلاش اوربہتر اجرت کے لیے وقتاًفوقتاً نقل مکانی کرتے ہیں، جب کہ عورتوں اوربچوں کو اپنے بزرگ ماں باپ کے پاس چھوڑ دیاجاتا ہے۔نقل مکانی کرنے والے مزدوراکثرخشک سالی سے متاثر اورکم پیداواری صلاحیت والے خطوں سے سال کے کچھ حصوں میں پنجاب اورہریانہ کے کھیتوں میںیااترپردیش کے اینٹ کے بھٹوں میں، نئی دہلی یا بنگلور جیسے شہروں میں تعمیراتی کام کے لیے آتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ان مزدوروں کو آزادی یااپنی مرضی کے مالک مزدورکانام جان بریمن کے ذریعہ دیاگیا ہے۔ حالانکہ اس سے آزادی کا مفہوم نہیں نکلتابلکہ اس کے برعکس بریمن (1985)کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بے زمین مزدوروں کے پاس بہت زیادہ حقوق نہیں ہوتے،مثال کے طورپر انھیں طے شدہ کم سے کم اجرت بھی نہیں دی جاتی۔ یہ بات یہاں قابل غورہے کہ امیر کسان اکثر فصل کی کٹائی یااس طرح کے شدید محنت والے کاموں کے لیے مقامی مزدور طبقہ کی نسبت مہاجر مزدوروں کو ترجیح دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مہاجر مزدوروں کا استحصال زیادہ آسانی سے کیاجاسکتا ہے اورانھیں کم مزدوری بھی دی جاسکتی ہے۔اس ترجیح نے کچھ علاقوں میںایک منفرد انداز پیداکردیاہے جس میںمقامی بے زمین مزدوراپنے گاؤں سے زرعی کاموں میں عروج کے زمانے میں بھی کام کی تلاش میں نکل جاتے ہیں جب کہ مہاجرمزدوروں کو مقامی کھیتوں پر کام کرنے کے لیے دوسرے علاقوں سے لایاجاتا ہے۔یہ انداز خصوصاًگنا پیداکرنے والے علاقوں میں پایاجاتا ہے۔نقل مکانی اورکام کے تحفظ میں کمی کے سبب ان مزدوروں کے کام کرنے اورزندگی گزارنے کی حالتوں میں بدتری پیداہو جاتی ہے۔

مزدوروں کی بڑے پیمانے پر گردش سے دیہی سماج پر خوا ہ وہ مزدوروں سے کام لینے والے خطے ہوں یا مزدور فراہم کرنے والے علاقے زبردست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔مثال کے طورپر غریب علاقوں میں جہاں خاندان کے مردممبر سال کے زیادہ ترحصہ گاؤں کے باہر کام کرنے میں گزارتے ہیں،زراعت بنیادی طورپر عورتوں کاکام بن گیاہے۔ عورتیں بھی زرعی مزدوروں کے اہم ذرائع کے طورپرابھر رہی ہیں۔اس سے زراعتی قوت کار کی تانیث کار (feminisation) ہوئی ہے۔عورتوں میں عدم تحفظ بھی زیادہ ہے کیونکہ ایک جیسے کام کے لیے مردوں کی نسبت وہ کم مزدوری پاتی ہیں۔ ابھی حال تک سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کمانے والوں اورمزدوروں کے طورپر عورتیں مشکل سے نظرآتی تھیں جب کہ عورتیں زمین پر بے زمین مزدوروں اورکاشت کاروں کی حیثیت سے کافی محنت کرتی ہیں لیکن موجودہ پدرنسبی قرابت داری نظام اور مردوں کو حقوق فراہم کرنے والے دیگر ثقافتی رواج نے زمین کی ملکیت سے عورتوں کو خارج کیاگیا ہے۔

4.6عالم کاری،نرم کاری اوردیہی سماج Globalisation, Liberalisation, and Rural Society

7

 زرعتی علاقوں میں خوردہ فروشی

لبرلائزیشن کی پالیسی جو1980کے آخر سے شروع ہوئی ہے کا زرعی اوردیہی سماج پرزبردست اثر پڑاہے۔اس پالیسی کے تحت عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی شراکت ناگزیر ہوتی ہے جس کا مقصدزیادہ آزاد بین الاقوامی تجارتی نظام ہے جس میں ہندوستانی بازاروں کو درآمد کے لیے کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دہائیوں تک ریاست کے تعاون اورمحفوظ بازاروں کے بعد ہندوستانی کسانوں کوعالمی بازار سے مسابقت کاسامناکرناہے۔ مثال کے طورپر ہم سبھی نے درآمد کیے ہوئے پھلوں اوردیگر غذائی اشیا کو اپنے مقامی بازاروں یا دکانوں میں دیکھا ہے۔یہ وہ اشیا ہیں جو درآمد سے متعلق بندشوں کے سبب کچھ سال پہلے تک دستیاب نہیں تھیں۔ حال ہی میں ہندوستان نے گیہوں کی درآمد کاایک متنازعہ فیصلہ کیا یہ تھا کیااناج میں خود کفالت کی سابقہ پالیسی کے بالکل برعکس تھا۔یہ آزادی کے بعد کے ابتدائی سالوں میں امریکہ کے اناج پرہمارے انحصار کی تلخ یاد دلاتاہے۔ 

یہ زراعت کی عالم کاری عمل یازراعت کو ایک بڑے عالمی بازار میں شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ وہ عمل ہے جس کا بر اہ راست اثر کسانوں اوردیہی سماج پر پڑا۔ مثال کے طورپر پنجاب اورکرناٹک جیسے بعض علاقوں میں کسانوں نے کچھ کثیرقومی کمپنیوں(جیسے پیپسی کمپنی)کے ساتھ معاہدہ کیاکہ وہ مخصوص فصلیں اگائیں گے (جیسے ٹماٹر اورآلو)۔انھیں یہ کمپنیاں ان سے عمل کاری(proccessing)یا برآمد کے لیے خرید لیتی ہیں۔ایسے معاہدہ پرمبنی 

کھیتی کے طریقے میں کمپنیاں اگائی جانے والی فصلوں کی شناخت کرتی ہیں،بیج اوردیگر اشیا اورکثیر معلومات وطریقۂ کار اوراکثر  ضروری سرمایہ(ورکنگ کیپٹل)فراہم کرتی ہیں جس کے بدلے میں کسانوں کو بازار کی طرف سے مطمئن رہنا ہے کیونکہ کمپنیاں ضمانت دیتی ہیں کہ وہ پہلے سے متعین قیمت پر پیداوار کو خرید لیں گی۔ یہ معاہدہ کچھ مخصوص مدوں جیسے کٹ فلاور،انگور،انجیراورانار جیسے پھل،کپاس اور سرسوںوغیرہ کے لیے بہت عام ہے۔حالانکہ معاہدہ کھیتی سے کسانوں کو مالیاتی تحفظ فراہم ہوناظاہرہوتاہے لیکن وہ اپنے ذریعہ معاش کے لیے اُن کمپنیوں پر منحصر بھی ہوجاتے ہیں۔برآمد رخی اشیا کی معاہدہ کھیتی(جیسے پھول اورکھیرے کے لیے)کامطلب یہ بھی ہے زرعی زمین کا استعمال اناج کی پیداوار کے لیے نہیں ہوپارہا۔’معاہدہ کھیتی‘کی سماجی اہمیت یہ ہے کہ یہ بہت لوگوں کوپیداواری عمل سے الگ کردیتی ہے اوران کے اپنے ملکی یادیسی عمل کو بے معنی بنادیتی ہے۔ اس کے علاوہ معاہدہ کھیتی میں بنیادی طورپر ممتاز اشیا کی پیداوار کی جاتی ہے چونکہ اس میں اکثرکھاد اورکیڑے ماردواؤں کی اونچی مقدار استعمال کی جاتی ہے، اس لیے یہ ماحولیاتی نقطۂ نگاہ سے محفوظ کھیتی نہیں ہے۔


8

               پھولوں کی کھیتی 

زراعت کی عالم کاری کاایک  غالب  پہلوکثیر قومی کمپنیوں کا اس میدان میں زرعی مدوں جیسے بیج،کیڑے مار دواؤں اورکھاد کے فروخت کاروں کے طورپر داخلہ ہے ۔گزشتہ دہائی سے حکومت نے زرعی ترقیاتی پروگراموں میں کمی کی ہے اور’زرعی توسیع‘عوامل کی جگہ جگہ گاؤں میں بیج،فرٹیلائزراورکیڑے مارادویات کے ایجنٹوں نے لے لی ہے۔یہ ایجنٹ اکثر کسانوں کے لیے نئے بیجوں اورزرعی کاموں کے لیے معلومات کے واحد ذریعہ ہوتے ہیں جوبلاشبہ اپنی پیداوار فروخت کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔اس سے کسانوں کا مہنگی کھاد اورکیڑے مار ادویات پر انحصار بڑھا جس سے ان کافائدہ کم ہوا  اور بہت سے کسان مقروض بھی ہوگئے ہیں۔


باکس4.3

کسانوں کی خود کشی

ملک کے مختلف حصوںمیں 98-1997سے کسانوں کی خود کشی کا تعلق زراعت میں ساختی تبدیلی اور معاشی وزرعی پالیسیوں میں تبدیلی سے پیدازرعی مسائل سے ہے۔ ان میں شامل ہیں:زمین کی ملکیت میں بدلتی وضع؛ فصلوں کے اگانے کے انداز میں تبدیلی خاص طورپر نقدی فصلوں کی طرف منتقلی کے سبب،نرم کاری پالیسیاں جس سے گلوبلائزیشن کی قوتوں سے ہندستان کی زراعت کو سامناکرنا پڑرہا ہے،اونچی لاگت کے وسائل پر زبردست انحصار؛ریاست کا زرعی توسیعی سرگرمیوں سے باہر ہونا اورکثیرقومی بیج اورکھاد کمپنیوں کے ذریعہ ان کی جگہ لینا؛زراعت کے لیے ر یاستی تعاون میںکمی؛زراعتی عمل کو انفرادی بنانا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق آندھراپردیش،کرناٹک،کیرل اورمہاراشٹر میں2001اور2006کے درمیان 8,900کسانوں نے خودکشی کی (سوری 2006:1523)

9

جب کہ ہندوستان میں صدیوں سے وقتاًفوقتاًخشک سالی، فصل کے خراب ہونے یا قرض کے سبب پریشانی کاسامنا کرتے رہے ہیں لیکن کسانوں کی خودکشی کے واقعے نئے معلوم ہوتے ہیں۔ ماہرین سماجیات نے اس مظہر کی توضیح زراعت اورزرعی سماج میں ہونے والی ساختی اورسماجی تبدیلی کے تناظر میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسی خود کشی’’مربوط واقعے‘‘(matrix events)بن گئے ہیں یعنی عوامل کاایک سلسلہ مل کر ایک واقعہ بناتا ہے۔خودکشی کرنے والے بہت سے کسان حاشیائی کسان تھے جو بنیادی طورپر سبزانقلاب کے طریقوں کا استعمال کرکے اپنی پیداواریت بڑھانے کی کوشش کررہے تھے۔حالانکہ اس طرح سے پیداوار اختیار کرنے کامطلب کئی طرح کی دشواریوں کاسامنا کرناہے۔ زرعی رعایتوں میں کمی کے سبب پیداوار کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے،بازار مستحکم نہیں ہیں اوربہت سے کسان اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے مہنگے درآمدات میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی قرض لے لیتے ہیں۔فصل کے خراب ہونے(کسی بیماری یاکیڑے مکوڑوں کے پھیلاؤ کے سبب،زائد بارش یاخشک سالی کے سبب)اورکچھ معاملوں میں موزوں تعاون یابازارقیمت میں کمی کے سبب کسان قرض کا بوجھ اٹھانے یااپنے خاندان کا گزربسرکرنے میں نااہل ہوتے ہیں، دیہی علاقوں میں بدلتی ثقافت جس میں شادی،جہیز اوردیگر نئی سرگرمیوں اورتعلیم وصحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے سبب زیادہ آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے سے ایسی پریشانیوں کی شدت بڑھ جاتی ہے (واسوی،1999)

سرگرمی4.4

اخبار کابغورمطالعہ کیجیے۔ٹیلی ویژن یاریڈیوپر خبریں سنیے۔ان میں کب کب دیہی علاقوں کی چیزیں ہوتی ہیں؟کس طرح کے مسائل کوعموماً خبربنایا جاتا ہے؟

کسانوں کی خودکشی کامعاملہ زبردست بحران کی نشاندہی کرتا ہے جسے دیہی علاقوں میں محسوس کیاجارہا ہے۔زراعت بہت سے لوگوں کے لیے غیرمستحکم بنتی جارہی ہے اورزراعت کے لیے ریاست کاتعاون بھی بہت کم ملتا ہے۔اس کے علاوہ زراعتی امور اب اہم عوامی امور نہیں رہ گئے ہیں اورحرکت پذیری میں کمی کے سبب کسان طاقتور دباؤ گروپ بنانے میں نااہل ہیں جو پالیسی سازی کو اپنے حق میں اس کے یا اس پر اثرانداز ہوسکے۔زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کی خواہش اور زرعی پیداوار میں آنے والی تبدیلیوں اور سماجی بحران کسانوں کی خودکشی کی اصل وجہ ہے۔مختلف سماجی بحران فطری اتھل پتھل کے باعث بھی ہے ۔پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا، گرامین ادے سے بھارت ادے مہم کے ساتھ’ نیشنل اربن مشن‘ جیسے پروگرام ہیں جنہیں حکومت ہند چلا رہی ہے ۔ ان سے کسانوں کی مدد کا راستہ  ہموار ہوا ہے اس کے علاوہ ان پروگراموں کے ذریعہ دیہی زندگی کی سہولیات میں کافی بہتری آئی ہے۔

سوالات

درج ذیل کوپڑھیں اورسوالوں کے جواب دیں۔

اگھن بیگھا میں مزدوروں کے دشوارکن کام کی صورت حال مالکوں کے ایک طبقے کی  معاشی قوت اورغالب ذات کے ممبر کے طورپر بے انتہاطاقت کے مجموعی اثر کا نتیجہ تھی۔مالکوں کی سماجی طاقت کا ایک اہم پہلو ریاست کے مختلف اجزاکا اپنے مفاد میں مداخلت کی صلاحیت تھی۔اس طرح غالب اورنچلے طبقے کے درمیان خلاوسیع کرنے میں سیاسی عوامل کا فیصلہ کن رول  رہا ہے۔

i مالک ریاست کی طاقت کو اپنے مفاد کے لیے کیسے استعمال کرسکے،اس بارے میں آپ کیاسوچتے ہیں؟

ii مزدوروں کے کام کے حالات دشوارکن کیوں تھے؟
بے زمین زرعی مزدوروں اورمہاجرت کرنے والے مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے آپ کے مطابق حکومت نے کیا تدابیر کی ہیں،یاکی جانی چاہئیں؟
زرعی مزدوروں کی حالت اوران کی سماجی ومعاشی حرکت پذیری کی کمی کے درمیان سیدھا تعلق ہے۔ان میں سے چندکے نام بتائیے۔
وہ کون سے عوامل ہیں جن سے کچھ گروپوں کے نئے امیر،مہم جو اورغالب طبقے کی شکل میں تبدیلی ممکن ہوئی ہے؟کیا آپ اپنی ریاست میں اس تبدیلی کی مثال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
ہندی اورعلاقائی زبانوں کی اکثر فلمیں دیہی ماحول کی ہوتی ہیں۔دیہی ہندوستان پر مبنی کسی فلم کے بارے میں سوچیے اوراس میں بتائے گئے کاشت کارسماج اورثقافت کابیان کیجیے۔اس میں دکھائے گئے منظر کتنے حقیقی ہیں؟کیاآپ نے حال میں دیہی علاقے پر مبنی کوئی فلم دیکھی ہے؟اگر نہیں تو آپ اس کی تشریح کس طرح کریں گے؟
اپنے پڑوس میں کسی تعمیراتی مقام،اینٹ کے بھٹے یا کسی دیگر مقامات پر جائیں جہاں آپ کو مہاجر مزدوروں کے ملنے کا امکان ہو،پتہ لگائیے کہ وہ مزدور کہاں سے آئے ہیں؟ان کے گاؤں سے ان کی بھرتی کس طرح کی گئی،ان کا آجر کون ہے؟ اگر وہ دیہی علاقے سے ہیں تو گاؤں میں ان کی زندگی کے بارے میں پتہ لگائیے اورانھیں کام کی تلاش میں ہجرت کرکے باہر کیوں جاناپڑا؟
اپنے مقامی پھل فروخت کرنے والے کے پاس جائیں اوراس سے پوچھیں کہ وہ پھل جو وہ فروخت کرتا ہے،کہاں سے آئے ہیں اوران کی قیمت کیا ہے۔پتہ لگائیے کہ ہندوستان کے باہر سے پھلوں کی درآمد (جیسے آسٹریلیا سے سیب)کے بعد مقامی پیداوار کی قیمتوں کا کیا ہوا؟کیا کوئی ایسا درآمد کیاہوا پھل ہے جو ہندوستانی پھلوں سے سستا ہے؟
 8۔ دیہی ہندوستان میں ماحول کی حالت کے بارے میں معلومات اکٹھاکرکے ایک رپورٹ لکھیں۔مثال کے لیے موضوع، کیڑے مارادویہ، آبی سطح میں کمی،ساحلی علاقے میں جھینگوں کا کھیتی پراثر،زمین کی نمکینی،اورنہر سے آب پاشی علاقوں میں پانی کاجم جانا،حیاتیاتی تنوع میں کمی۔
ممکنہ ماخذ:اسٹیٹ آف انڈیاز انوائرمنٹ رپورٹز:رپورٹز فرام سینٹر فار سائنس اینڈ ڈیولپمنٹ،ڈاؤن ٹوارتھ۔

حوالہ جات

Agarwal, Bina.  1994.  A Field of One’s Own; Gender and Land Rights in South Asia. Cambridge University Press. New Delhi. 
Breman,  Jan. 1974.  Patronage and Exploitation; Changing Agrarian Relations in South Gujarat. University of California Press. Berkeley. 
Breman,  Jan.  1985. Of Peasants, Migrants and Paupers; Rural labour Circulation and Capitalist Production in West India. Oxford University Press. Delhi.
Breman, Jan and Sudipto Mundle (Eds.). 1991. Rural Transformation in Asia. Oxford University Press. Delhi.
Das, Raju J. 1999. ‘Geographical unevenness of India’s Green Revolution’, Journal of Contemporary Asia. 29 (2).
Gupta, Akhil. 1998. Postcolonial Developments: Agriculture in the Making of Modern India. Oxford University Press. Delhi. 
Kumar, Dharma. 1998. Colonialism, Property and the State. Oxford University Press. Delhi.
Rutten, Mario. 1995. Farms and Factories; Social Profile of Large Farmers and Rural Industrialists in West India. Oxford University Press. Delhi.
Srinivas, M.N. 1987. The Dominant Caste and Other Essays. Oxford University Press. Delhi. 
Suri, K.C. 2006. ‘Political economy of agrarian distress’. Economic and Political Weekly. 41:1523-29.
Thorner, Alice. 1982. ‘Semi-feudalism or capitalism? Contemporary debate on classes and modes of production in India’. Economic and Political Weekly. 17:1961-68, 1993-99, 2061-66.
Thorner, Daniel. 1991. Agrarian structure. In Dipankar Gupta (Ed.), Social Stratification. Oxford University Press. Delhi.
vasavi,A.R. 1994.Hybrid Times , Hybrid people: Culture and Agriculture in south india, man,journal of the royal anthropological society.(29)2.
Vasavi,A.R. 1999a.'agrarian distress in bidar:state, market and suicides' economic and political weekly.43:2263-68.
Vasavi, A.R.1999b.Harbingers of rain:land and life in south india.oxford University press.Delhi