Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-005


1


5صنعتی سماج میں تبدیلی اورترقی

ٓآپ نے آخری بارکون سی فلم دیکھی تھی؟آپ یقینا اس کے ہیرواورہیروئن کانام بتاسکتے ہیں،لیکن کیا آپ کو ساؤنڈ اورلائٹ ٹکنیشین،میک اپ آرٹسٹ یا رقص سازوں(choreographers)کے نام یادہوں گے؟کچھ لوگوں جیسے سیٹ کو تیار کرنے والے بڑھئی کے نام کا ذکر ان کے کام کے اعتراف کے لیے بھی کیاجانا مناسب نہیں سمجھاجاتاجب کہ ان سبھی کے تعاون کے بغیر فلم نہیں بنائی جاسکتی۔ بالی ووڈ آپ کے لیے اورمیرے لیے خوابوں کی ایک دنیا ہوسکتی ہے لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ کام کامیدان ہے۔کسی دیگر صنعت کی طرح اس میں کام کرنے والے بھی یونین کا حصہ ہیں۔ مثال کے لیے رقاص،کرتب باز(یادشوارگزار مرحلہ سر کرنے والے فن کار)اور معاون فن کار،یہ سبھی جونیئرآرٹسٹ ایسوسی ایشن کا حصہ ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ آٹھ گھنٹے کی شفٹ ،مناسب اجرتیں اورکام کرنے کے حالات محفوظ ہوں۔اس صنعت میں تیار پروڈکٹ کی تشہیر کی جاتی ہے اورفلم ڈسٹری بیوٹروں اورسینماہال کے مالکوں کے ذریعہ اورمیوزک کیسٹوں ویڈیو کی شکل میں اس کی مارکیٹنگ یافروخت کاری کی جاتی ہے۔وہ لوگ جو اس صنعت میں کام کرتے ہیں دوسروں کی طرح اس شہر میں رہتے ہیں لیکن شہر میں رہائش ان کے مختلف کام ان کی شناخت اور آمدنی اورکتنا کماتے پر منحصر ہوتا ہے۔ فلمی ستارے اورکپڑاملوں کے مالک جوہو جیسے مقامات پر رہتے ہیں جب کہ عارضی فن کار اورٹیکسٹائل مزدور گورے گاؤں جیسی جگہوں پر رہ سکتے ہیں۔بعض لوگ پانچ ستارہ ہوٹلوں میںاورجاپان کا سوشی جیسا کھاناکھاتے ہیں جب کہ کچھ ٹھیلوں یا ریڑھیوں سے لے کر بڑاپاؤکھاتے ہیں۔ ممبئی کے لوگوں کو، وہ کہاں رہتے ہیں،کیا کھاتے ہیں،کتنا قیمتی کپڑا پہنتے ہیں کی بنیادپرتقسیم کیاجاتا ہے،لیکن کچھ عام باتوں یا جو شہرکی فراہم کردہ اشیا کی بنیادپر وہ متحد بھی ہیں۔وہ یکساں طورپر فلمیں اورکرکٹ میچ دیکھتے ہیں،وہ یکساں فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں اوران سب کی آرزویہی ہوتی ہے کہ ان کے بچے بہتر کریں۔
یہ لوگ کہاں اور کیسا کام کرتے ہیں وہ کس طرح کی حرفت اپناتے ہیں،یہ سب ان کی شناخت کا جز ہوتے ہیں۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تبدیلی اوردستیاب کام کی قسم نے ہندوستان میں سماجی رشتوں میں تبدیلی پیداکی ہے۔دوسری طرف سماجی ادارے جیسے ذات،قرابت داری ،جنس اورخطہ بھی کام کی تنظیم کے طریقے یا اشیا کو بازار میں پیش کرنے کے طریقے  پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ ماہرین سماجیات کے لیے تحقیق کاوسیع میدان ہے۔
مثال کے طورپر ہم عورتوں کوبعض دیگر شعبوں جیسے انجینئرنگ کے بجائے نرسنگ اورتدریسی کاموں میں زیادہ کیوں پاتے ہیں؟یہ محض ایک اتفاق ہے یا اس کے پیچھے سماج کی یہ سوچ ہے کہ عورتیں نگہداشت اورپرورش کرنے جیسے کاموں کے لیے بہ نسبت  زیادہ موزوں ہیں؟جب کہ نرسنگ کے کام میں ایک پل کو ڈیزائن کرنے کی نسبت زیادہ جسمانی محنت کرنی پڑتی ہے۔اگرعورتیں انجینئرنگ کے میدان میں زیادہ جاتی ہیں تو وہ اس پیشے پر کیسے اثرانداز ہوں گی؟خود سے پوچھیں کہ کیوں ہندوستان میں کافی کے اشتہار میں پیکٹ پر دوکپ دکھائے جاتے ہیں جب کہ امریکہ میں ایک کپ؟اس کاجواب یہ ہے کہ بہت سے ہندوستانی کافی پینے کو راہِ رسم نبھانے کا ایک موقع مانتے ہیں جب کہ امریکہ میں کافی پینے کو صبح سویرے اٹھ کرتازگی لانے والے مشروب جیسا ماناجاتا ہے۔ ماہرین سماجیات ان سوالوں میں دلچسپی لیتے ہیں کیاپیداکرتا ہے،کون کہاں کام کرتا ہے، کس کو اورکیسے فروخت کرتا ہے۔یہ انفرادی دلچسپیاں نہیں بلکہ سماجی طرز عمل کے نتائج ہیں۔ عوامی دلچسپیاں یاترجیحات سما جی طرز عمل  پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

5.1صنعتی سماج کاخاکہ(Images of industrial Society)

سماجیات کی بہت سی اہم تصنیفات اس وقت سامنے آئیں جب صنعت کاری نئی نئی تھی اورمشینوں کو اہمیت حاصل ہو رہی تھی۔کارل مارکس،میکس ویبر اورریمل درخائم جیسے مفکرین نے صنعت کے ساتھ بہت سی سماجی خصوصیات منسلک کیں۔جیسے شہرکاری جس میں راست رشتوں کوکافی نقصان پہنچا جو دیہی علاقوں میں پائے جاتے تھے جہاں کے لوگ اپنے کھیتوں یا اپنی جان پہچان کے زمین مالکوں کے یہاں کام کرتے تھے۔ان کی جگہ جدید فیکٹریوں اورکام کی جگہوں پر انجان پیشہ ورانہ رشتوں نے لے لی۔صنعت کاری میں قوت کار کی ایک تفصیلی تقسیم ہوتی ہے۔لوگ اپنے کام کے آخری نتیجے کواکثرنہیں دیکھتے کیونکہ انھیں پروڈکٹ کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو بنانا ہوتاہے۔یہ کام اکثردہرانے اورتھکانے والاہوتا ہے لیکن پھر بھی بالکل ہی کام نہ کرنے یا بے روزگار ہونے سے تو بہتر ہی ہے۔ مارکس نے اس صورت حال کو بے گانگی کاعمل کہاجس میں لوگ اپنے کام سے خو ش نہیں ہوتے اور کام کو صرف اپنی بقاکے لیے کچھ کرنے جیسا سمجھتے ہیں۔ان کی بقابھی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے انسانی محنت کے لیے کچھ جگہ چھوڑی بھی ہے؟

صنعت کاری کم سے کم بعض حلقوں میں زبردست مساوات پیداکرتی ہی ہے۔ مثلاً  ریل، گاڑیوں بسوں اور سائبرکیفے میں ذات پات پر مبنی امتیاز نہیں ہوتاجب کہ دوسری طرف نئی فیکٹری یاکام کی جگہوں پر تفریق کی پرانی شکلیں اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔حالانکہ اب سماجی عدم مساوات کم ہورہی ہے معاشی یاآمدنی سے متعلق عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔اکثرسماجی عدم مساوات اورآمدنی سے متعلق نابرابری ایک دوسرے سے پیوست ہو بھی جاتی ہے،مثال کے طورپر اچھی تنخواہ والے پیشوں جیسے طب ،قانون یاصحافت میں اونچی ذات کااب بھی غلبہ ہے۔ زیادہ ترایسا بھی ہوتا ہے کہ یکساں کام کے لیے عورتوں کو مردوں کی نسبت کم ادائیگی ہوتی ہے۔

اولین ماہرین سماجیات نے صنعت کاری کومثبت اورمنفی دونوں سے دیکھا ہے۔ جدیدکاری نظریہ کے زیر اثر20ویں صدی کے وسط سے صنعت کاری کو ناگزیر اورمثبت دیکھا جارہا ہے۔جدید کاری نظریے میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جدیدکاری میں سماج مختلف مراحل سے گزرتا ہے لیکن ان سبھی میں ایک ہی سمت ہوتی ہے۔ان نظریہ سازوں کے مطابق جدید سماج کی نمائندگی مغرب کے ذریعہ کی جارہی ہے۔

سرگرمی5.1

نظریہ اجتماع(Convergene thesis) جسے جدید کاری کے نظریہ سازکلارک کیر(Clark Kerr) نے آگے بڑھایا، کے مطابق 21ویں صدی کے صنعت یافتہ ہندوستان میں19ویں صدی کے ہندوستان کی خصوصیات ملنے کی بہ نسبت21ویں صدی کے چین یاریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خصوصیات زیادہ ملتی ہیں۔ کیاآپ کے خیال میں یہ بات صحیح ہے؟کیا تہذیب،زبان اور روایات نئی ٹیکنالوجی کے سبب ختم ہوجاتی ہیں اورکیالوگوں کے ذریعہ نئے پروڈکٹ اپنانے کے انداز پر تہذیب کااثرہوتا ہے۔ان مسائل پر مثالیں دیتے ہوئے اپنے خیالات ایک صفحے پر تحریر کیجیے۔

5.2ہندوستان میں صنعت کاری(Industrialisation in india)

ہندوستانی صنعت کاری  کی خصوصیات(The Specificity Of Indian Industrialisation)

ہندوستان میں صنعت کاری کا تجربہ کئی لحاظ سے مغربی نمونے جیساتھاتو کئی لحاظ سے مختلف بھی تھا۔ مختلف ملکوں کے تقابلی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ صنعتی سرمایہ کاری کا کوئی معیاری نمونہ نہیں ہے۔آیئے ہم اسے ایک فرق سے شروع کرتے ہیں،لوگ کیاکررہے ہیں ان کے کام کی قسم سے اس کو وابستہ کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی اکثریت سروس یاخدماتی شعبہ میں کام کرتی ہے،اس کے بعد صنعت میں اور10فی صد سے کم زراعت میں کام کرتے ہوتے۔(بین الاقوامی محنت تنظیم(ILO)کے اعدادوشمار) ہندوستان میں،19-2018میں تقریباً43 فی صد لوگ ابتدائی شعبہ(زراعت اورکان کنی)میں،25 فی صد ثانوی شعبہ(مینوفیکچرنگ،تعمیرات اورافادیت وسہولیات)اور32 فی صد لوگ ثالثی شعبہ(تجارت،نقل وحمل مالی خدمات وغیرہ) میں لگے ہوئے تھے۔تاہم،اگر ہم ان شعبوں کی معاشی نمودیکھیں توزراعتی عمل کاحصہ تیزی سے کم ہواہے اوراس شعبہ میں یہ اشتراک تقریباًنصف ہوگیا۔یہ ایک کافی سنجیدہ صورت حال ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہواکہ جس شعبہ میں زیادہ لوگ کام سے لگے ہیں وہ  زیادہ آمدنی کے اہل نہیں ہے.ہندوستان میں 19-2018میں زراعت میں روزگار کا حصہ 42.5فیصد تھا،کان کنی اور کھدائی میں 0.4فیصد ، مینوفیکچرنگ میں یہ 12.1فی صد تھا ، تجارت ہوٹل اور ریستوراں میں یہ 12.6فی صد تھا، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج، مواصلات میں 5.9فی صد ، کمیونٹی، معاشرتی اور ذاتی خدمات میں یہ 13.8فی صد تھا ۔ 

ترقی پذیراورترقی یافتہ ملکوں میں ایک اوربڑا فرق باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار میں لوگوں کی تعداد سے متعلق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں اکثریت باضابطہ روزگار میں لگی ہے۔ہندوستان میں 52فی صد سے زیادہ خود کے روزگار سے وابستہ ہیں،صرف تقریباً24 فی صد باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار ہیں جب کہ تقریباً24 فی صد بے ضابطہ یااتفاقی مزدور ہیں 

ساتھ میں دیے گئے چارٹ سے 73-1972اور19-2018کے درمیان تبدیلیوں کا پتہ چلتا ہے۔ماہرین معاشیات اور دوسرے منظم اورغیرمنظم شعبہ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

یہ بحث کا موضوع ہے کہ ان شعبوں کی تعریف کیسے کی جائے۔ایک تعریف کے مطابق منظم شعبہ کی کل اکائی میں10اوریااس سے زائدلوگوں کے پورے سال روزگار میںرہنے سے ان شعبوں کی تشکیل ہوتی ہے۔سرکاری طورپر ان کا رجسٹریشن ہونا چاہیے تاکہ ملازمین کو تنخواہ،پنشن اورد وسرے فوائد مل سکیں۔ ہندوستان میں90فی صد لوگ زراعت اور خدمات کے غیر منظم یا غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔منظم شعبہ کی چھوٹی سی تعداد کا سماجی اطلاق کیا ہے؟ زراعت،صفت اور خدمات کے غیر منظم یاغیررسمی شعبوں میں ۔

پہلا،اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت کم لوگ بڑی فرموں میں روزگار کرتے ہیں جہاں وہ دیگر علاقوں اورپس منظر کے لوگوں سے مل پاتے ہیں۔شہری  زندگی اس کے لیے کچھ اصلاحی عمل کا موقع فراہم کرتی ہے۔کیونکہ شہر میں رہنے والا آپ کا پڑوسی کسی مختلف جگہ کا ہوسکتا ہے۔جب کہ بڑے پیمانے پر زیادہ تر ہندوستانی اب بھی چھوٹے پیمانے والے کام کے مقاما ت پر کام کرتے ہیں۔یہاں ذاتی رشتے کام کے متعدد پہلوؤں کا تعین کرتے ہیں۔اگر آجر آپ کو پسند کرتا ہے تو تنخواہ بڑھ سکتی ہے اور اگر آپ اس سے لڑتے جھگڑتے ہیں توآپ ملازمت یاکام سے محروم ہوسکتے ہیں۔بڑی تنظیموں میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کچھ مقررہ اصول ہوتے ہیں۔جن کی بہتر طورپر توضیح کی جاتی ہے،وہاں تقرری کا معاملہ زیادہ شفاف ہوتا ہے۔اگر آپ کے اپنے سرپرست حاکم سے بعض اختلاف ہوتے ہیں تو اس کے لیے شکایتوں اوران کی تلافی کاطریقۂ کار مقرر ہوتا ہے۔ دوسرے،بہت ہی کم ہندوستانیوں کی رسائی نفع بخش اورمحفوظ ملازمت کے تئیں ہوپاتی ہے جن میں دو تہائی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ملازمت زیادہ مقبول ہے۔باقی ضعیفی میں اپنے بچوں کے دست نگر ہونے پر مجبور ہیں۔ذات،مذہب اورعلاقائی حدوں پر قابو پانے میں سرکاری ملازمتوں نے ایک اہم کردارنبھایاہے۔ایک ماہرسماجیات نے دلیل دی ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عوامی شعبہ کے بھیلائی اسٹیل پلانٹ میں فرقہ وارانہ فساد کبھی نہیں واقع ہوئے۔کیوں کہ وہاں ہندوستان کے سبھی علاقوں کے لوگ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ تیسرے،چونکہ بہت ہی کم لوگ یونین ممبر ہیں جو منظم شعبہ کی خاصیت ہے وہ مناسب اجرتوں اورمحفوظ کام کرنے کی حالتوں کے لیے اجتماعی جدوجہد کاتجربہ نہیں رکھتے۔ حکومت نے اب غیرمنظم شعبوں کی صورت حال پر نگرانی رکھنے کے لیے قانون بنائے ہیں لیکن عملاًآجر یاٹھیکے دار کی متلون مزاجی اورخیالات کادخل زیادہ ہوتاہے۔

ہندوستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں میں  صنعت کاری(Industrialisation in the early years of indian independence)

ہندوستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں میں کپاس،جوٹ،کوئلہ کانیں اورریلوے ہندوستان کی پہلی جدید صنعتیں تھیں۔آزادی کے بعدحکومت نے معیشت کی فیصلہ کن بلندیوں کو اختیارکیا۔اس میں دفاع، نقل وحمل،مواصلات،توانائی اوردیگر پروجیکٹوں کو شامل کیاگیاجنھیں صرف حکومت ہی انجام دینے کی قدرت رکھتی تھی اوریہ نجی صنعت کے فروغ کے لیے بھی ضروری تھا۔ ہندوستان کی مخلوط معاشی پالیسی میں کچھ شعبوں کوحکومت کے لیے محفوظ کیاگیاجب کہ کچھ کونجی شعبو ں کے لیے کھول دیاگیا۔ اس میں بھی حکومت نے اپنی لائسنس دینے کی پالیسی کے ذریعہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ یہ صنعتیں مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ آزادی سے پہلے صنعتیں خاص طورپر بندرگاہ والے شہروں جیسے مدراس،ممبئی اورکلکتہ میں واقع تھیں لیکن اس کے بعد دیگرمقامات جیسے بڑودہ، کوئمبٹور، بنگلور، پونے،فریدآباد اورراج کوٹ بھی اہم صنعتی مراکز بن گئے۔دیگرچھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو بھی خصوصی ترغیب اورمدددے کر حوصلہ افزائی کی کوشش کی گئی۔بہت سی اشیا جیسے کاغذ اورلکڑی کے سامان،اسٹیشنری،شیشہ اورچینی مٹی چھوٹے پیمانے کے شعبہ کے لیے محفوظ تھے۔1991تک کل کام کرنے والی آبادی میں سے صرف 28فی صد بڑی صنعتوں میںملازمت کررہے تھے جب کہ72فی صد لوگ چھوٹے پیمانے اورروایتی صنعتوں سے وابستہ تھے۔(رائے2001:11)

گلوبلائزیشن،نرم کاری اورہندوستانی صنعت میں تبدیلی(Globalisation, Liberalisation and change in indian industry)

1990کی دہائی سے حکومت نے نرم کاری(لبرلائزیشن)کی پالیسی اپنائی ۔نجی کمپنیاں خاص طورسے غیر ملکی فرموں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جو پہلے حکومت کے لیے محفوظ تھے۔ ان میں ٹیلی مواصلات،شہری ہوابازی اورتوانائی وغیرہ کے شعبہ شامل ہیں۔صنعتوں کو کھولنے کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں ۔نرم کاری کے نتیجے میں بہت سی ہندوستانی کمپنیوں کو کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعہ خرید لیاگیا۔ساتھ ہی کچھ ہندوستانی کمپنیاں بھی کثیرقومی کمپنیاں بنتی جارہی ہیں۔اس کی پہلی مثال جب پارلے مشروبات کوکوکاکولا کے ذریعہ خرید لیاگیا۔ پارلے مشروبات کی سالانہ آمدنی250کروڑ روپیے تھی جب کہ کوکاکولا اشتہار پر ہی400کروڑ روپیے خرچ کرتی تھی۔اشتہار کی اس سطح سے پورے ہندوستان میں کوک کے صرف کی مقدار بڑھی اوریہ بہت سے روایتی مشروبات کی جگہ اس کے ذریعہ پرُکی گئی۔نرم کاری کادوسرا میدان خوردہ فروشی ہوسکتی ہے۔ کیاآپ کے خیال میں ہندوستانی ڈپارٹ مینٹل اسٹور سے خریداری کرناپسندکریں گے یا وہ کاروبار سے باہر ہوجائیں گے؟

باکس5.1

ہندوستانی بازار میں داخلے کے لیے جدوجہد 

ہندوستانی بازار میں داخلے کے لیے جدوجہد کاخوردہ فروشی سلسلہ اس وقت ہندوستان کے زبردست خوردہ فروشی شعبہ میں داخلے کی مانگ کے تحت پوری دنیا کے بڑے بڑے سلسلے یاتجارتی گروہ جن میں وال مارٹ،اسٹور، کیریفور اورمائیسکوشامل ہیں،ملک میں داخلے کے لیے بہتر طریقہ تلاش کررہے ہیں حالانکہ بازار میں غیر ملکی راست اصل کاری پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز اوربھارتی ایئرٹیل جیسے بڑے ہندوستانی کاروباری اداروں نے حال ہی میں زبردست سرمایہ کاری کی ہے جس سے غیر ملکی خوردہ فروشوں کے لیے اس میں جلد ازجلد سرمایہ کاری کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی ایئرٹیل نے یہ اشارہ دیا کہ وال مارٹ،کیرے فور اورٹیسکو کے ساتھ خوردہ فروشی کی مشترکہ کاروباری مہم انجام دینے کی شروعات کرنے کی بات چیت ہوئی ہے۔…ہندوستان کا خوردہ فروشی شعبہ نہ صرف یہ کہ اپنی تیزترین نموکے سبب ہی باعث کشش ہے بلکہ اہل خانہ کے ذریعہ ملک کے کاروبار کا97فی صد حصہ گلی محلے کی دکانوں کے توسط سے چلایاجارہا ہے لیکن اس صنعت کی خاصیت کو بجاطورپر دیکھتے ہوئے حکومت غیرملکیوں کے بازارداخلے کومشکل بنارہی ہے۔سیاست داں باربار یہ دلیل دیتے ہیں کہ عالمی خوردہ فروش ہزاروں چھوٹے مقامی اورگھریلو تاجروں کے اس سلسلے کواورحال ہی میں ابھرنے والے ملکی خوردہ فروش تاجرگروہوں کو برباد کردیں گے۔

ماخذ:انٹرنیشنل ہیرالڈٹری بیون، 3اگست2006

حکومت متعدد عوامی شعبہ کی کمپنیوں میں اپنے شیئرزکو نجی شعبہ کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے نااصل کاری  (سرمایہ فروخت کرنا)کہاجاتا ہے۔کئی سرکاری ملازم اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ اس کے بعد وہ اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے۔ماڈرن فوڈز جسے حکومت نے سستی قیمتوں پر صحت بخش بریڈ بنانے کے لیے قائم کیا تھا، وہ پہلی کمپنی تھی جس کی نجی کاری کی گئی تھی تو اس نے پہلے پانچ سالوں میں لگے ہوئے ملازمین کوجبراًملازمت سے ریٹائر کردیا۔

آئیے اب ہم دیکھیں کہ کس طرح یہ عالمی رجحانات کے مطا بق ہے۔زیادہ سے زیادہ کمپنیاں مستقل ملازمین کی تعداد میں کمی کررہی ہیں اور اپنے کام کو چھوٹی چھوٹی کمپنیوں اورگھروں کو سونپ رہی ہیں۔ جہاں تک کثیر قومی کمپنیوں کاسوال ہے وہ پوری دنیا میں باہر والوں سے کام کا معاہدہ کرتی ہیں جس میں ہندوستان جیسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں مزدور سستے مل جاتے ہیں۔ چونکہ چھوٹی کمپنیوں کو بڑی کمپنیوں سے آرڈر لینے میں مسا بقت کاسامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے وہ اپنی اجرتیں کم رکھتی ہیں اوران میں کام کے حالات بھی کمزورہوتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی فرموں کے لیے ٹریڈیونین بنانا بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تقریباًسبھی کمپنیاں حتی کہ حکومت بھی کسی نہ کسی شکل میں بیرونی وسائل اورمعاہدے پر کام کرانے لگی ہیں۔ لیکن یہ رجحان خاص طورپر نجی شعبہ میں دیکھاجاسکتا ہے۔

بحیثیت مجموعی کہاجاسکتاہے کہ ہندوستان اب بھی بڑے پیمانے پر ایک زرعی ملک ہے۔سروس یاخدماتی شعبہ جیسے دکانیں، بینک،انفارمیشن ٹیکنالوجی(IT)صنعت،ہوٹل اوردیگر خدمات میں زیادہ سے زیادہ ملازمت لوگ حاصل کررہے ہیں تعداد بڑھ رہی ہے اس کے ساتھ وہ قدریں بھی بڑھ رہی ہیں جو ٹیلی ویژن سیریل اورفلموں میں ہم دیکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت کم لوگوں کے پاس محفوظ روزگار ہیں یہاں تک کہ کم تعداد کے باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار بھی معاہدہ محنت میں اضافے کے سبب زیادہ غیر محفوظ ہوتے جارہے ہیں۔اب تک سرکاری ملازمت بیشترلوگوں کی فلاح وبہبود میں اضافے کاذریعہ تھا جس میں اب کمی آتی جارہی ہے۔بعض ماہرین معاشیات نے اس پر غور وخوض کیاہے لیکن عالمی پیمانے پر نرم کاری اورنجی کاری سے آمدنی کی نابرابری بڑھنے کی وجہ دکھائی دیتی ہے۔آپ گلوبلائزیشن کے موضوع پر اگلے باب میں مزیدپڑھیں گے۔

                                                       منظم شعبوں میں روزگار

3

اس کے ساتھ ہی بڑی صنعتوں میں محفوظ روزگار میں بھی کمی ہورہی ہے۔حکومت نے بھی صنعت لگانے کے لیے زمین حاصل کرنے کی پالیسی کی شروعات کی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ صنعتیں آس پاس کے لوگوں کو روزگار فراہم کریں لیکن آلودگی کاایک بہت بڑا سبب ضروربنتی ہیں۔ بہت سے کسان جن میں خاص طورپر قبائلی شامل ہیں بے دخل لوگوں میں یہ تقریباً40فی صد کی تشکیل کرتے ہیں،تلافی کی کم شرحوں پراحتجاج کررہے ہیں اورحقیقت یہ ہے انھیں بے ضابطہ مزدور بننے اورہندوستان کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھ پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔آپ باب3 (II) میں دیے گئے مسابقتی مفادات پربحث یادکریں۔

اگلے سیکشنوں میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح لوگ کوکام ملتے ہیں،وہ حقیقتاً اپنے کام کے مقامات پر کیاکرتے ہیں اورکس طرح کام کی حالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔

5.3 لوگوں کوکام کس طرح ملتے ہیں(How people finds jobs)

اگر آپ بدھ کی صبح ٹائمز آف انڈیا دیکھتے ہیں توآپ اس میں’Times Ascent‘نام کا ایک سیکشن دیکھیں گے۔یہاں روزگار کے اشتہار ہوتے ہیں اوراپنے آپ سے یا اپنے ورکرز اچھا کام لینے کے لیے ترغیب دینے کے بارے میں تجاویز ہوتی ہیں۔

باکس5.3میں نجی شعبہ کی ملازمت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ یہ بھی باضابطہ تنخواہ والی ملازمت ۔ یہ اکی معروف ہوٹل کی ملازمت ہے لیکن یہاں تنخواہ اور ضروری اہلیت لچک دار ہیں ، اور یہ ایک معاہدے کی طرح کام ہے ۔ نیچے دیئے گئے اشتہار میں دی گئی زبان کو ذرا دیکھئے جیسے ایک خلوص مند پروگرام ہر تنظیم اپنے اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔ 

اب ہم باکس5.3میں نجی شعبہ کی ملازمت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی باضابطہ تنخواہ والی ملازمت ہے۔یہ ایک معروف ہوٹل کی ملازمت ہے لیکن یہاں تنخواہ اورضروری اہلیت لچک دار ہیں اوریہ ایک معاہدے کی طرح کام ہے۔ نیچے دیے گئے اشتہار میں دی گئی زبان کو ذرادیکھیے جیسے ایک خلوص مند پروگرام ہر تنظیم اپنے اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔

باکس 5.2

دیال سنگھ کالج

(دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام کالج)

لودی روڈ،نئی دہلی110003 

پرنسپل کے عہدے کے لیے درخواستیںمطلوب ہیں۔تنخواہ اسکیل16,400–22,400)کم سے کم17,300روپیے ماہانہ) ڈی۔اے۔(D.A)؛سی۔سی۔اے(CCA)،ایچ۔آر۔اے۔(HRA)، ٹی۔اے۔(T.A)اور دیگر فوائد کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے قواعد وضوابط کے مطابق

اہلیت

(i) متعلقہ مضمون میں کم سے کم55فی صد نمبر یاصرف گریڈ کے ساتھ سات نقاط اسکیل میںO,A,B,C,D,EاورFاس کے مساوی گریڈ ’B‘

(ii) پی۔ایچ۔ڈی۔یامساوی ڈگری

(iii) یونیورسٹیوں یاکالجوں میں پڑھانے کاکل15سال کاتجربہ اور/یااعلی تعلیم کے دیگر اداروں میںپوسٹ ڈاکٹورل درخواست ریسرچ فارم میں اہلیت،تجربہ،عمروغیرہ کی پوری تفصیلات کے ساتھ تائیدی دستاویزات’’چیئرمین گورننگ باڈی،دیال سنگھ کالج،لودی روڈ،نئی دہلی110003‘‘ میں اس اشتہار کے جاری ہونے کے15دن کے اندرمہربند لفافے میں پہنچنا چاہیے۔

چیئرمین

گورننگ باڈی


باکس5.3

ریڈیسن ہوٹل،دہلی نے فوری طور پراپنے اخلاص مندی پروگرام کی شروعات کی ہے۔

کسٹمرسروس ایگزیکیوٹیو

سینئرٹیلی سیلز ایگزیکیوٹیو

امیدوار کو انگریزی زبان پر مکمل عبورہو۔فروخت کاری کا طبعی ذوق اوراہلیت رکھنے والے درخواست دیں۔

ہم ایک پانچ ستارہ میں کام کاماحول،مستقل ترقی وتربیت،متحرک ماحول،دن کاکام اوراچھی تنخواہ/ترغیبات پیش کرتے ہیں۔

جزوقتی اورکل وقتی اختیاردستیاب

30، 31 اگست اوریکم ستمبر2006کو صبح 9.30 سے6.30بجے شام تک فون کریں۔

فون نمبر66407361/66407351 اور 66407353

یااپناCV 26779062 پر فیکس کریں۔

یاای میل:[email protected] پررابطہ قائم کریں۔

ریڈیسن


 بہت کم فی صد میں لوگ اشتہارات یاروزگار دفتر کے ذریعہ ملازمت حاصل کرپاتے ہیں ۔وہ لوگ جو خود روزگار یافتہ ہیں جیسے ایک طرف پلمبر،الکٹریشین اوربڑھئی اوردوسری طرف ٹیچر جو پرائیویٹ ٹیوشن دیتے ہیں، ماہر تعمیرات اورآزادانہ کام کرنے والے فوٹو گرافر ہیں یہ سب ذاتی رابطوں پر منحصر ہیں۔وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے کام ہی ان کے لیے اشتہار ہوں گے۔ پلمبروں(نل سازوں)اوردیگر لوگوں کے موبائل فون سے زندگی آسان بن گئی ہے اوروہ اب زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
فیکٹری ورکرکے طورپر کام کرنے کے لیے بھرتی کاطریقہ مختلف ہوتا ہے۔ پہلے بہت سے مزدورٹھیکے داروں یا کام دینے والوں سے روزگار حاصل کرتے تھے۔کان پور کپڑاملوں میں ان کام دلانے والوں کو مستری کے طورپر جاناجاتا تھاجو خود بھی وہاں کام کرتے تھے۔وہ اسی خطے اورکمیونٹی سے ورکر کے طورپر آتے تھے لیکن مالکوں کی مہربانی سے ورکر یامزدور کے باس بن جاتے تھے جب کہ دوسری طرف مستری ورکر پر کمیونٹی سے متعلق دباؤ بھی رکھتے تھے۔آج کل کام دلانے والوں کی اہمیت کم ہوگئی ہے اورمینجمنٹ نیزیونین اپنے لوگوں کی تقرری میں اہم کردارنبھاتی ہیں۔کچھ مزدور یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ان کے کام ان کے بچوں کو منتقل کیے جائیں۔ بہت سی فیکٹریوں میں بدل کام گاروں کو روزگار پر رکھاجاتا ہے جو مستقل وباقاعدہ مزدوروں کے چھٹی پرجانے کے موقع پر بدلے میں کام کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے بدل ورکر دراصل اسی کمپنی میں سالوں کام کرتے رہتے ہیں۔لیکن وہ حیثیت اورتحفظ نہیں دیاجاتا۔اسے منظم شعبہ میں معاہدہ پر مبنی کام کہاجاتا ہے۔ روزگار کے مواقعوں میں دو عناصر شامل ہوتے ہیں۔ (i) کسی تنظیم میں روزگار (ii) ذاتی روزگار۔حکومت ہند کے منصوبوں میں ’’اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم ‘‘،’’ میک اِن انڈیا‘‘اور منصوبہ بند کوششیں ایسی ہیں جو روزگار اور ذاتی روزگار کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے حاشیہ پع کھڑے لوگ جیسے درج فہرست ذات  اور درج فہرست قبائل اور خواتین بھی روزگار کےمواقع کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان مثبت کوششوں نے ہندوستان کے نوجوانوں کو ترقی کے عمل سے جوڑ دیا ہے ۔  
تاہم تعمیراتی کاموں اینٹ کے بھٹوںوغیرہ پر کام کے لیے بے ضابطہ یااتفاقی مزدوروں کی بھرتی میں ٹھیکے داری نظام دیکھنے میں آتا ہے۔ ٹھیکے دار گاؤں میں جاتا ہے اوران لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا ہے جو کام کرنا چاہتے ہیں۔وہ انھیں کچھ رقم ادھار بھی دیتا ہے۔اس ادھار میں کام کے مقام تک جانے کی لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔جس کو پیشگی اجرت ماناجاتا ہے اورمزدوراس وقت تک اجرت کے بغیر کام کرتارہتا ہے جب تک اس ادھار کی ادائیگی نہیں ہوجاتی۔ماضی میں زرعی مزدورقرض کے ذریعہ اپنے مالکوں کے پاس بندھوا ہواکرتے تھے۔ حالانکہ اب بھی بے ضابطہ صنعتی مزدور کی حیثیت سے وہ قرض دار رہتے ہیں لیکن وہ ٹھیکے داروں کے تئیں دیگر سماجی ذمہ داریوں سے نہیں بندھے ہوتے ۔اس معنی میں وہ ایک صنعتی سماج میں زیادہ آزاد ہوتے ہیں۔وہ معاہدہ توڑ سکتے ہیں اوردوسرے آجر کے پاس ملازمت تلاش کرسکتے ہیں۔کبھی پوری فیملی ہی ہجرت کرجاتی ہے اوربچے اپنے والدین کی مدد کرتے ہیں۔

باکس5.4

جنوبی گجرات میں اینٹ کے بھٹوں میں مزدوروں کی ٹولی

4

جنوبی گجرات میں اینٹ کے بھٹے میںکام کے موسم میں تقریباً30  سے 40 ہزار مزدور ملازمت پر رکھے جاتے ہیں۔ اینٹ کے بھٹوں کے مالک اونچی ذات کے لوگ جیسے پارسی یاڈیسائی ہوتے ہیں۔کمہار ذات کے ممبران اینٹ کے بھٹے پر اپنا روایتی مٹی کا کام کرتے ہیں۔مزدور زیادہ تر مقامی یامہاجر دلت ہوتے ہیں۔ انھیں ٹھیکے داروں کے ذریعہ رکھاجاتا ہے۔یہ نوتاا گیارہ لوگوں کی ٹولی میں کام کرتے ہیں۔ جہاںمرد مٹی گوندھتے ہیں اوراینٹ کو شکل دیتے ہیں اورہراینٹ کو خشک کرنے کے مقامات پر لے جاتے ہیں۔ عورتوں اورلڑکیوں کی ٹولی اینٹوں کو بھٹوں پر لے جاتی ہے جہاں مرد انھیں پکاتے ہیں اوروہاں سے پھر انھیں ٹرکوں پر لاداجاتا ہے۔

ہرٹولی روزانہ 2,500تا3,000اینٹیں بنالیتی ہے۔جلدی کام کرنے والاگروپ 10گھنٹے میں اورآہستہ کرنے والا گروپ14 گھنٹے میں اپناکام ختم کرتا ہے۔ 6سال کی عمرسے بچے اپنے والد کے ذریعہ بنائی گئی تازہ اینٹوں کو رات میں اٹھانے کاکام کرتے ہیں۔گیلی اینٹوں کا وزن تقریباً3کلو ہوتا ہے۔رات کے اندھیرے میں چھوٹے بچے ایک ایک اینٹ کو بنیادی پلیٹ پررکھنے کے لیے دوڑتے ہیں۔ جب وہ نوسال کے ہوجاتے ہیں توانھیں دواینٹیں اٹھانے کے لیے ترقی دی جاتی ہے۔ماہرسماجیاتی جان بریمن کہتا ہے کہ کبھی کبھی ان کے والدین انھیں رولا ہوئے ان کے گڈری جیسی بستروں سے جگاکر اٹھا دیتے ہیں۔

5.4کام کس طرح انجام دیاجاتاہے؟(How is work carried out)

اس سیکشن میں ہم یہ جانیں گے کہ اصلاًکام کو کس طرح انجام دیاجاتا ہے۔ اپنے آس پاس ہم جن اشیاکو دیکھتے ہیں وہ کیسے بنائی جاتی ہیں؟ایک آفس یا فیکٹری میں منیجر اورمزدوروں کے تعلقات کیسے ہوتے ہیں؟ہندوستان میں بڑے کام کے مقامات میں پورا کام خودکار طریقے سے چھوٹے گھر پر مبنی پیداواری نظام میں منتقل ہوتا ہے۔
منیجرکا بنیادی کام کارکنان پر کنٹرول رکھنا اوران سے زیادہ سے زیادہ کام نکلواناہوتاہے۔مزدوروں سے زیادہ کام کرانے کے دوطریقے ہوتے ہیں۔ پہلاکام کے گھنٹوں میں اضافہ،دوسرا مقررہ دیے گئے وقت میں تیار کی گئی اشیا کی مقدار کو بڑھادینا۔ مشینیں پیداوار کوبڑھانے میں مددگار ہوتی ہیں لیکن یہ خطرے بھی پیداکرتی ہیں آخر کار مشینیں مزدوروں کی جگہ لے رہی ہیں۔اسی لیے مارکس اورمہاتماگاندھی دونوں نے مشین کاری کو روزگار کے لیے خطرہ بتایاہے۔

سرگرمی5.2
ہندسوراج 1924میں مشینوں پر گاندھی جی:
’’میں مشینوں کے تئیں جنون کامخالف ہوں نہ کہ مشینوں کا۔میں اس خبط کامخالف ہوں جو مزدوروں کو کم کرنے کی مشینری ہے۔ لوگ محنت سے بچنے کے لیے مزدوروں کو کم کرتے جائیں گے اورانھیں فاقہ کشی سے مرنے کے لیے کھلی سڑکوں پر چھوڑ دیں گے۔ میں نوع انسانی کے ایک حصے کے لیے نہیں بلکہ سبھی کے لیے وقت اور مزدور دونوں کوبچاناچاہتا ہوں۔میں دولت کو کچھ ہاتھوں میں اکٹھانہیں ہونے دینا چاہتا بلکہ سب کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتاہوں‘‘
1934:’’ایک قوم کے طورپر جب ہم چرخے کواپناتے ہیں توہم نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے کاحل کرتے ہیں بلکہ یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہماراکسی قوم کے استحصال کا ارادہ نہیں اورہم امیر کے ذریعہ غریب کے استحصال کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔
مثال کے ذریعہ بتائیے کہ مشین کس طرح مزدوروں کے لیے مسائل پیداکرتی ہیں؟گاندھی جی کے ذہن میں کیامتبادل تھا؟چرخے کو اپنانے سے استحصال کو کیسے روکاجاسکتا ہے؟

5
پیداوار بڑھانے کا دوسرا طریقہ ہے کام کومنظم کرنا۔ ایک امریکی فریڈرک ونسلوٹیلر نے 1890کی دہائی میں’’سائنٹفک مینجمنٹ ‘‘کے نام سے ایک نظام کااختراع کیاتھا۔ اسے ’’ٹیلرزم‘‘یاصنعتی انجینئرنگ کے طورپر بھی جاناجاتا ہے۔ اس نظام کے تحت سبھی کاموں کو اس کے چھوٹے چھوٹے تکراری عناصر میں توڑ کر مزدوروں میں تقسیم کرنے کا اہتمام تھا۔ مزدوروں کو جتنا وقت دیاجاتا تھا اس میں انھیں کام کوروزانہ اتنے ہی وقت میں لازما ًختم کرنا پڑتاتھا۔ اس کے لیے وہ اسٹاپ واچ]روک گھڑی[کی مدد لیتے تھے۔کام کوتیزی سے ختم کرنے کے لیے اسمبلی لائن کی شروعات ہوئی۔ہر ایک مزدور کو کنویربیلٹ(Conveyor belt) کی رفتار کے ساتھ منظم کیاگیا۔1980کی دہائی میں اس طرح کی کوشش کی گئی جس میں راست کنٹرول کی جگہ بالواسطہ کنٹرول کا بندوبست کیا گیا تھا جہاں مزدوروں کو ترغیب دیے جانے اورخود کی نگرانی کیے جانے کا اہتمام کیاگیاتھا۔ اکثر ہم یہی دیکھتے ہیں کہ پرانی ٹیلرسٹ   عمل کاری ہی بچی ہوئی ہے۔
کپڑاملوں میں جو ہندوستان میں سب سے پرانی صنعتوں میں سے ایک ہے کام کرنے والے اکثر خود کو مشینوں کی توسیع کے طورپر بیان کرتے ہیں۔ بنکر رام چرن جس نے1940کے دہے سے کان پور کپڑامل میں کام کیاتھا، کاکہنا ہے۔

آپ کو توانائی کی ضرورت ہے،آنکھیں،گردن،ٹانگیں،ہاتھ اورجسم کا ہر ایک حصہ گھومتا ہے۔بننے کے کام میں لگاتار ٹکٹکی لگانی پڑتی ہے،آپ نہیں جاسکتے،آپ کی پوری توجہ مشین پر مرکوز ہونی چاہیے۔جب چارمشینیں چل رہی ہوں توچاروں کوساتھ چلنا چاہیے وہ ہر گز نہ رکیں۔ (جوشی2003)

6
کسی صنعت میں جتنی زیادہ مشینیں ہوتی ہیں اتنا ہی کم لوگوں کو کام ملتا ہے لیکن انھیں مشینوںکی رفتار سے کام کرنا ہوتا ہے۔ ماروتی ادیوگ لمیٹڈ میں دوکاریں ہر منٹ اسمبلی لائن پر آجاتی ہیں۔ مزدوروں کو پورے دن میں صرف 45 منٹ کا وقفہ ملتا ہے۔7.5منٹ کے دوچائے کے وقت اورآدھے گھنٹے کھانے کا وقفہ ہوتا ہے۔ 40کی عمر تک پہنچتے پہنچتے پوری طرح تھکے ہونے کی کیفیت پیداہوجاتی ہے اوروہ رضاکارانہ سبکدوشی لے لیتے ہیں۔فیکٹری میں جہاں پیداوار بڑھی ہے وہیں مستقل ملازمت کی تعدادکم ہوئی ہے۔فرم تمام خدمات جیسے صفائی اورسیکورٹی کے ساتھ ساتھ پرزوں کے بنانے کے کام بیرونی وسائل سے معاہدے (out–sourcing)پر کرانے لگی ہیں۔پرزے فراہم کرنے والے فیکٹری کے آس پاس ہی واقع ہوتے ہیں اورپرزے ہردوگھنٹے یا مقررہ وقت پر بھیج دیتے ہیں۔ بیرونی وسائل سے کرایاگیا کام وقت پر پورا ہوجاتا ہے اورکمپنی کو سستا پڑجاتا ہے لیکن مزدوروں میں کافی تناؤ رہتا ہے کیونکہ اگر ان کی سپلائی وہاں نہیں پہنچ پاتی توان کے پیداوار کا ہدف حاصل ہونے میں تاخیر ہوتی ہے جس کو بعد میں پورا کرنا ہوتا ہے۔اگر ایسا کرنے میں وہ پوری طرح نڈھال ہوجاتے ہیں تو یہ حیرت کی بات نہیں۔
اب ہم ایک نظر سروس سیکورٹیز پرڈالیں۔سافٹ ویئر پیشے سے منسلک لوگ متوسط طبقے کے اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ ان کے کام خود محرک اورتخلیقی مانے جاتے ہیں۔ہم جیساکہ باکس میں دیکھتے ہیں کہ ان کے کام بھی ٹیلرسٹ محنت عمل کاری کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔

باکس5.5

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں وقت کی تابع داری

 پروجیکٹ کی تکمیل کے مقررہ وقت پراوسط10–12گھنٹے کے کام کا دن اورپروجیکٹ کی تکمیل پرآجاتا ہے تو پوری رات دفترمیں رکنا ملازمین کے لیے کوئی خلاف معمول بات نہیںہے۔(اسے نائٹ آؤٹ کے طورپر جاناجاتاہے)طویل اوقات کارصنعت کے ’کام کے ماحول‘کابنیادی جزوہے۔کسی حد تک اس کی وجہ ہندوستان اورگاہک ملک کے درمیان وقت کافرق ہوتا ہے جیسے جوکانفرنس کال(بیک وقت بات چیت کاسلسلہ)شام میں واقع ہونے والی ہوتی ہے اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کام کے دن کی شروعات ہوتی ہے۔ایک اور وجہ یہ ہے کہ بیرونی وسائل کے پروجیکٹوں کی ساخت اس طرح کی بنی ہوتی ہے کہ اس میں بساط سے زائد کام اختیارکیے جاتے ہیں؛پروجیکٹ کی لاگت اورپوراکرنے کے وقت کے لیے متوقع مقدار کار کے لحاظ سے دنوں یاگھنٹوں کا اندازہ عموماًکم یا غلط لگایاجاتا ہے ۔چونکہ متوقع مقدار کار کی بنیاد آٹھ گھنٹے یومیہ ہوتی ہے اس لیے انجینئروں کو وقت مقررہ پر کام پورا کرنے کے لیے زائد گھنٹوں اوردنوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔توسیعی اوقات کار 'Flexi–time'(ملازم کی مرضی کے مطابق کام کے دوران کار کا تعین)کے عام عمل کو انتظامیہ کے ذریعہ جائز ٹھرایاجاتاہے۔اس اصول کے تحت ملازم کو اپنے کام کے گھنٹوں(حدود میں)کو منتخب کرنے کی آزادی ہوتی ہے لیکن عملاً اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ انھیں موجودہ کاموں کو پوراکرنے کے لیے جتنا ضروری ہوگاکام کرنا ہوگا۔ جب ان کے پاس واقعتا کام کا دباؤ نہیں ہوتاپھر بھی وہ آفس میں دیر تک رکنے کی طرف مائل ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھیوں کا دباؤ ہوتاہے یا وہ اپنے باس کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کتنی سخت محنت کررہے ہیں۔


ان اوقات کارکے نتیجے میں بنگلور،حیدرآباد اورگڑگاؤں جیسے مقامات میں جہاں بہت سیITفرمیں یاکال سینٹرواقع ہیں،دکانوں اورریسٹورنٹ نے بھی اپنے کھلنے کے اوقات میں تبدیلی کی ہے اور دیر میں کھلنے لگے ہیں۔اگر شوہر اوربیوی دونوں کام کرتے ہیں تب بچوں کو نگہداشت مرکز برائے اطفال میں پہنچادیتے ہیں۔ صنعت کاری سے مشترکہ فیملی ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے،مگراب لگتا ہے کہ پھرابھر رہی ہیں کیونکہ دادا دادی اب بچوں کی مدد میں شریک ہونے لگے ہیں۔
سماج میں ایک اوراہم موضوع بحث ہے کہ کیاصنعت کاری ،خدمات کی منتقلی اورانفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے علم پر مبنی کام سے سماج میں مہارتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ہم اکثر جزوجملہ’معیشت علم‘(knowledge economy)سنتے ہیں جو ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نموکو بیان کرتا ہے، لیکن آپ ایک کسان کی مہارتوں کا موازنہ کیسے کرتے ہیں جو موسم،مٹی اوربیجوں کے بارے میں اپنی سمجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ جانتا ہے کہ سیکڑوں فصلوں کو کیسے اگایاجاتا ہے۔ ایک سافٹ ویئر کے پیشہ ور علم کے ساتھ اس کا موازنہ کرسکتے ہیں؟دونوں ہی مہارت رکھتے ہیں لیکن دونوں کاانداز الگ ہے۔مشہور ماہر سماجیات ہیری بریورمین یہ دلیل دیتے ہیں کہ دراصل مشینوں کا استعمال کارکنان کی مہارتوں کو کم کردیتا ہے۔مثال کے طورپر،جہاں ابتدائی ماہرین تعمیرات اورانجینئروں کو نقشہ نویسی کی مہارت حاصل کرنی ہوتی تھی وہیں اب کمپیوٹر ان کے لیے بہت سے کام کرتے ہیں۔

5.5کام کے حالات(Working Conditions)

ہم سب کوتوانائی،ایک مضبوط گھر،کپڑے اوردیگر سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے،لیکن ہمیں یہ یادرکھنا چاہیے کہ کوئی انھیں پیش کرنے کے لیے کام کررہا ہے اوراکثر بہت ہی خراب حالات میں حکومت نے کام کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف قانون بنائے ہیں۔ آئیے کان کنی کے کام پرنظرڈالیں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کام پر لگی ہوتی ہے۔صرف کوئلے کی کانوں میں5.5لاکھ مزدور کام کرتے ہیں۔کان کنی ایکٹ1952(جسے اب پیشہ وارانہ تحفظ ، صحت اور کام کرنے کی صورت حال کووڈ2020میں شامل کیا گیا ہے)میں واضح کیاگیا ہے کہ ایک فردکان میں ہفتے میں زیادہ سے زیادہ کتنے گھنٹے کام کرسکتا ہے،زائدگھنٹوں تک کام کرنے پر اسے اوورٹائم رقم کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ حفاظت کے اصولوں کی پابندی بھی کرنی ہوتی ہے۔بڑی کمپنیوں میں ہوسکتاکہ ان ضوابط اوراصولوں کی پابندی کی جاتی ہو لیکن چھوٹے کانوں اورپتھرکے کانوں میں ایسا نہیں ہے۔مزیدبرآں ذیلی ٹھیکوں کاچلن بھی عام ہورہاہے۔بہت سے ٹھیکے دار مزدوروں کا رجسٹربھی صحیح نہیں رکھتے،اس طرح حادثات اورفوائد کی کسی طرح کی ذمہ داری سے بچاجاتا ہے۔ کسی علاقے میں کان کنی ختم ہونے کے بعد کمپنی کو کھلے گڈھوں کو بھر کر اس جگہ کوپہلے جیسی کردینا ہوتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔
زیرزمین کانوں میں مزدور پانی بھرجانے، آگ لگنے،چھتوں اوردیواروں کے گرنے،گیسوں کے اخراج اورآکسیجن کے بندہونے سے زیادہ خطرناک صورت حال کاسامناکرتے ہیں۔ بہت سے مزدورسانس کی تکلیف تپ دق اورسلی کوسس (پھیپھڑے کی سوزش) جیسی بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ جو کانوں میں زمین کی اوپری سطح میں کام کرتے ہیں وہ تیزدھوپ اور بارش میں بھی کام کرتے ہیں۔ انھیں کان کے پھٹنے، چیزوں کے گرنے وغیرہ کے سبب چوٹ کا سامنا کرنا پڑتاہے۔دوسرے ملکوں کے مقابلے ہندوستان میں کان کنی کے حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

7

باکس5.6

جھارکھنڈ میں کان میں پھنسے54کام کرنے والوں کے لیے وقت ختم ہورہا ہےIANS،7ستمبر2006

ناگدا کی بھٹ دیہہ کوئلہ کان میں54کام کرنے والے بدھ کی رات کو پھنس گئے تھے جہاں گیسوں کی زیادتی کے سبب دھماکہ ہوا۔رات کے تقریباً 8بجے متھن اورکاربن موناآکسائڈ کی زیادتی اوردباؤکے سبب یہ دھماکاہواجس سے بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ(BCCL)کی یہ کوئلے کی کان پوری ہل گئی۔اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ17نمبر والی ایک ٹن کی ٹرالی باہر نکل گئی۔

چاربچاؤٹیمیں بنائی گئیں لیکن ان کے پاس جہاں یہ حادثہ واقع ہوا اس گہری کان میں داخل ہونے کے لیے آکسیجن کی مناسب تعداد نہیں تھی۔

کان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر ملازم 20سے 30سال کی عمر کے تھے۔ گھر کے لوگوں اوریونین لیڈروں نے بھی بی سی سی ایل کے مینجمنٹ پرالزام لگایا ۔یہ بی سی سی ایل کی زہریلی کانوں میں ایک ہے،مینجمنٹ نے وہاں سلامتی کی کوئی تدبیر مہیانہیں کی۔ یونین کے ایک ممبر نے بتایاکہ کان میں پانی چھڑکنے کی مشین اورگیس ٹیسٹنگ مشین فراہم ہونی چاہیے تھی،لیکن وہاں ایساکوئی انتظام نہیں کیاگیا۔

بہت سی صنعتوں میں کام کرنے والے مہاجر ہوتے ہیں۔ مچھلی پروسسنگ پلانٹ جو سمندر کے کنارے ہوتے ہیں ، میں زیادہ تر تمل ناڈو،کرناٹک اورکیرل کی اکیلی نوجوان عورتیں کام کرتی ہیں۔ یہ دس بارہ کی تعداد میں چھوٹے سے کمرے میں رہتی ہیں،کبھی کبھی تووہ شفٹ بدلتی رہتی ہیں۔نوجوان عورتوں کو اطاعت شعار کام کرنے والیوں کے طورپر دیکھاجاتا ہے۔بہت سے مردبھی اکیلے ہجرت کرتے ہیں،وہ یاتوغیر شادی شدہ ہوتے ہیں یا گاؤں میں اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر آتے ہیں۔1992میں سورت میں اڑیسہ کے 2لاکھ مہاجروں میں85فی صد غیر شادی شدہ نوجوان تھے جن کے پاس رسم وراہ نبھانے کے لیے بہت کم وقت ہوتا اورجو بھی ملتااسے وہ دیگر مہاجرکارکنان کے ساتھ گزارتے۔ایسی گزارتے۔ایسی قوم جہاںمشترکہ خاندان کی مداخلت ہوتی ہے، عالم کاری معیشت میں کام کی نوعیت لوگوں کو اکیلے پن اورضررریزی کی طرف لے جاتی ہے۔تاہم بہت سی نوجوان عورتوں کے لیے یہ کسی حد تک آزادی اورمعاشی خودمختاری بھی ہے۔

5.6گھروں میں ہونے والے کام(Home- based work)

گھروں میں ہونے والے کام معیشت کاایک اہم حصہ ہیں۔اس میں لیس بنانا،زری کمخواب(بروکڈ)،قالین سازی،بیڑی اوراگربتیاں اوربہت سی ایسی اشیا بنانے کاکام شامل ہے۔یہ کام خاص طورپر عورتوں اوربچوں کے ذریعہ انجام دیاجاتا ہے۔ایک ایجنٹ خام مواد فراہم کرتا ہے اورتیاراشیا لے جاتا ہے۔گھر میں کام کرنے والوں کو عدد کی شرح کی بنیادپر ادائیگی کی جاتی ہے ۔وہ جتنی مقدار تیارکرتے ہیں اسی حساب سے ان کی آمدنی ہوتی ہے۔
آئیے ایک نظربیڑی صنعت پرڈالیں۔بیڑی بنانے کے کام کا طریقہ جنگل کے پاس کے گاؤں سے شروع ہوتا ہے جہاں گاؤں والے تیندوے توڑتے ہیں اور محکمہ جنگلات یا نجی ٹھیکے دار کو فروخت کردیتے ہیں جو اسے واپس محکمہ جنگلات کو فروخت کردیتے ہیں۔اوسطاً ایک شخص پتیوں کے 100بنڈل یکجا کرسکتا ہے۔حکومت انھیں بیڑی کے کارخانوں کے مالکوں کو یہ پتے نیلام کردیتی ہے جو ان ٹھیکے داروں کو دیے ہیں جوگھر میں کام کرنے والوں کو تمباکو اوریہ پتیاں فراہم کرتے ہیں۔یہ کام کرنے والے زیادہ تر عورتیں پہلے ان پتیوں کو گیلا کرتی ہیں،انھیں کاٹتی ہیں اورتمباکو بھرتی ہیں،انھیں دھاگے سے باندھتی ہیں اورگول شکل میں لپیٹ کر بیڑی تیارکرتی ہیں۔ٹھیکے داران بیڑیوں کووہاں سے لے مینوفیکچررکو فروخت کردیتا ہے جو انھیں گرم کرتے ہیں اوراپنا خود کا برانڈ لیبل لگادیتے ہیں۔ مینوفیکچررانھیں ڈسٹری بیوٹر کوفروخت کرتا ہے اوران بیڑیوں کو  تھوک فروش کو فروخت کرتا ہے اوراسی سلسلے کوآگے بڑھاتے ہوئے وہ اپنے پڑوس کی پان کی دکان میں فروخت کرتا ہے۔
8
سرگرمی5.3
پتہ لگائیے کہ تمباکو کیسے اگائی جاتی ہے،کیسے اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے اوریہ کس طرح بیڑی بنانے والوں کے پاس پہنچتی ہے۔

آئیے ہم درج ذیل پائی ڈائیگرام سے دیکھیں کہ کس طرح تیار بیڑی کی قدر کو تقسیم کیاجاتا ہے۔ مینوفیکچررکو اپنے برانڈ کے سبب سب سے زیادہ رقم ملتی ہے۔یہ برانڈ کی طاقت کو دکھاتا ہے۔

                                                تیار بیڑی کی قیمت کی تقسیم
                    go


باکس5.7

ایک بیڑی ورکر کی سوانح حیات

مدھو15سال کی ہے آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد اس نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ اس کے والد درزی تھے،جن کا گذشتہ سال انتقال ہوا۔انھیں تپ دق ہوگیا تھا۔ اس کے سبب بچوں اورماں کے لیے کام کرنا مجبوری بن گیا۔ اس کابڑابھائی جس کی عمر17سال ہے ایک کرانے کی دکان میں کام کرتا ہے ۔اس کے چھوٹے بھائی کی عمر14سال ہے جوچاکلیٹ کا پیکٹ بنانے کے کام میں لگاہوا ہے۔مدھو اوراس کی ماں بیڑی تیارکرتی ہیں۔ مدھو نے بہت چھوٹی سی عمر میں بیڑیاں رول کرنا شروع کی تھیں۔ یہ اسے پسند ہے کیونکہ اس سے اسے ماں اوردیگر عورتوں کے پاس بیٹھنے اوران کی بات چیت سننے کا موقع ملتاہے۔وہ رول کیے گئے تیندوے پتے میں تمباکو بھرتی ہے۔وہ گھر کے کام کاج کے علاوہ دن بھر یہی کام کرتی ہے۔ روزانہ زیادہ وقت تک ایک ہی انداز میں بیٹھے رہنے کے سبب اس کی پیٹھ میں درد ہونے لگاہے۔ مدھو پھرسے اسکول جانا چاہتی ہے۔

(بھنڈاری:2005:406)

2020-21کے دوران کووڈ۔19مہاماری کی وجہ سے سینکڑوں اور ہزاروں ITسیکٹر کے خدمت گاروں نے گھر سے کام کیا۔ گھر پر کام کرنے والوں کے درمیان فرق اور یکسانیت کا پتہ لگائیں۔

5.7ہڑتالیں اوریونین(Strikes and Unions)

بہت سے کارکنان ٹریڈیونین کاحصہ ہیں۔ہندوستان میں مزدوریونین کوعلاقائیت اورذات پرستی جیسے بہت سے مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے۔ ایک مل میں کام کرنے والے دتاایسواکرکاکہنا ہے کہ بامبے کی ملوں میں کس طرح ذات پات پر قابو پایاگیاہے لیکن پوری طرح ایسا نہیں ہے:
وہ ان کے ساتھ بیٹھتےاورپان کھاتے ہیں(ماڈرن مل میں ایک مہاورکر،وشنو)لیکن وہ اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پیتے۔وہ اس کے ساتھ خراب برتاؤ نہیں کرتے،وہ ان کے دوست ہیں لیکن وہ اس کے گھر کبھی نہیں جاتے۔یا وہ کسی بھی مہارکے کھانے کے ڈبے سے کچھ بھی نہیں کھاتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مراٹھی ورکرشمالی ہندوستان کے مزدوروں کی ذات کے بارے میں پتہ لگاپاتے اس لیے ان کے ساتھ وہ اچھوتوں والا برتاؤنہیں کرتے۔
(مینن اوراڈارکر2004:113)
کبھی کبھی برے حالات کے سبب ورکر ہڑتال کردیتے ہیں ۔وہ کام پر نہیں جاتے،تالابندی میں مینجمنٹ مل کا دروازہ بندکردیتا ہے اورکام کرنے والوں کوآنے سے روک دیتا ہے۔ہڑتال کرنے کافیصلہ ایک مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ منیجر اضافی مزدوروں کو بلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ورکر کے لیے بھی بغیر تنخواہ کے رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔
آئیے ہم ایک مشہورہڑتال پر نظرڈالتے ہیں،جوبامبے ٹکسٹائل مل میں1982میں ٹریڈ یونین لیڈر ڈاکٹر دتاسامنت کی قیادت میں ہوئی تھی اوراس کے سبب تقریباًڈھائی لاکھ کارکنان اوران کے اہل خانہ متاثر ہوئے یہ ہڑتال تقریباًدوسال تک چلی۔ورکر بہتر اجرتیں چاہتے تھے اوریہ بھی چاہتے تھے کہ انھیں اپنی یونین بنانے کاحق ملے۔بامبے صنعتی تعلق ایکٹ (Bombay Industrial Relations Act)کے مطابق یونین کے لیے منظوری ملنی چاہیے تھی اورمنظوری ملنے کا صرف یہی طریقہ ہوسکتا تھا کہ ہڑتال کے خیال کو چھوڑ دیاجائے۔ کانگریس کی قیادت والی راشٹریہ مل مزدور سنگھ(RMMS)نام کی یونین ہی منظورشدہ تھی اور دوسرے کارکنان کو لانے کے ذریعہ اس نے ہڑتال توڑنے میں مددکی۔حکومت نے بھی ورکر کے مطالبات سننے سے منع کردیا۔ دھیرے دھیرے دوسال کے بعدلوگوں نے کام پر جانا شروع کیا کیونکہ وہ مایوس ہوچکے تھے۔ تقریباًایک لاکھ اپنے کاموں سے محروم ہوچکے تھے اوراپنے گاؤں کو واپس جاچکے تھے یاانھوں نے اتفاقی مزدورکی حیثیت اختیار کرلی تھی۔بہت سے دوسرے بھیونڈی،مالیگاؤں اوراچھال کرنجی جیسے چھوٹے شہروں میں پاور لوم میں کام کے لیے چلے گئے۔مل کے مالکوں نے مشینری اورجدیدکاری پرسرمایہ کاری نہیں کی۔آج وہ ہرطرح کی سہولیات سے مزین اپارٹمنٹ کی تعمیر کے لیے جائیداد غیرمنقولہ کے ڈیلروں سے مل کی زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سے ممبئی کے مستقبل کو کون متعین کرے گا اس بات پر جنگ شروع ہوگئی ہے۔ کام کرنے والے جواسے بناتے ہیں یامل کے مالکان اورجائیداد غیرمنقولہ (Real estate)کے ایجنٹ۔

باکس 5.8

جے پرکاش بھلارے،سابق مل ورکر،مہاراشٹر گری کام گار یونین کے جنرل سکریٹری:کپڑامل کے کام گار صرف اپنی بنیادی اجرت اورمہنگائی بھتہ حاصل کرتے ہیں۔انھیں کوئی بھتہ نہیں ملتا۔ہم صرف 5دنوں کی اتفاقی چھٹی حاصل کررہے ہیں۔دیگر صنعتوں میں دیگر کام گاروں نے سفر کے مزید طبی فوائد وغیرہ جیسے بھتے حاصل کرنا شروع کیے ہیں اورانھیں10–12دن کی اتفاقی چھٹی ملتی ہے۔اس سے کپڑا مل کے کام گاروں میں اشتعال پیداہوا…22اکتوبر1981کو اسٹینڈرمل کے کام گاروں نے ڈاکٹر دتاسامنت کے گھرکی طرف پیش قدمی کی اوران سے قیادت کے لیے کہا۔پہلے تو سامنت نے یہ کہتے ہوئے منع کیا کہ یہ صنعتBIRAکے تحت آتی ہے اوروہ ٹکسٹائل صنعت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔یہ کام گار کوئی جواب سننے کے موڈ میں نہیں تھے۔ ان کے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے اورآخر کار صبح سامنت قیادت کے لیے آمادہ ہوگئے۔

لکشمی بھاٹکر ،(ہڑتال میں شریک ہونے والے):میں نے ہڑتال کی ۔حمایت کی ہم ہر روز دروازے کے باہر بیٹھ جاتے تھے اورمشورہ کرتے تھے کہ آگے کیاکرنا ہوگا۔ ہم وقتاًفوقتاً منظم ہوکر مورچہ بھی نکالتے تھے۔یہ مورچے بڑے ہواکرتے تھے۔ہم نے نہ کسی کو لوٹا اورنہ چوٹ پہنچائی۔مجھے کبھی کبھی بولنے کے لیے کہاگیا لیکن بول نہیں سکی۔میرے پاؤں بری طرح کانپنے لگتے۔اس کے علاوہ مجھے اپنے بچوں کا بھی ڈرتھاکہ وہ کیا کہیں گے؟وہ سوچیں گے کہ ہم یہاں بھوکوں مررہے ہیں اوروہ وہاں اپنا فوٹوا خبار میں چھپوارہی ہے۔ ایک بارہم نے سنچری مل کے شوروم کی طرف بھی مورچہ نکالا۔ہمیں گرفتار کرکے بوریولی لے جایا گیا۔میں اپنے بچوں کے بارے میں سوچنے لگی کہ ہم کوئی مجرم تو نہیں ۔مل کے مزدور ہیں۔ہم اپنے خون پسینے کی کمائی کے لیے ہی تولڑرہے ہیں۔

کسن سالونکے،اسپرنگ مل کے سابق مل ورکر:سنچری مل میں ہڑتال شروع ہوئے بمشکل ڈیڑھ مہینہ ہی ہوا ہوگا کہ RMMSوالوں نے مل کھلوادی۔وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انھیںریاست اورحکومت دونوں کی تائیدحاصل ہے۔وہ باہر کے لوگوں کوبغیر ان کے بارے میں پوری طرح جانے مل کے اندر لے گئے…بھونسلے(تب مہاراشٹر کے وزیراعلی)نے30روپیے بڑھانے کی پیش کش کی۔دتاسامنت نے اس سلسلے میں غورکرنے کے لیے میٹنگ بلائی۔ساری اہم سرگرمیاں یہیں سے انجام دی جاتی تھیں۔ہم نے کہا،’’نہیں،ہم یہ نہیں چاہتے۔اگر کوئی وقارنہیں ہے،اگر ہڑتالی رہنماؤں سے کوئی بات چیت نہیں ہے تو ہم بغیر ستائے ہوئے واپس نہیں جاسکیں گے۔

دتااسوالکر،مل چاولس ٹینٹ ایسوسی ایشن کے صدر:کانگریس نے بابورمیشم،رمانائل اورارون گاؤلی جیسے سبھی غنڈوں کو ہڑتال ختم کروانے کے لیے جیل سے باہر کردیا۔ انہوں نے کام گاروں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ہمارے لیے ہڑتال توڑنے والوں کو مارنے کے علاوہ کچھ متبادل بچانہیں تھا۔ یہ ہمارے لیے زندگی اورموت کا سوال تھا۔

بھائی بھونسلے،1982کی ہڑتال کے دوران آر۔ایم۔ایم۔ایس۔کے جنرل سیکریٹری:ہڑتال کے تین مہینے کے بعد ملوں میں کام کرنے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا…ہمارا خیال تھا کہ اگر لوگ کام پر جانا چاہتے ہیں تو انھیں جانے دو…دراصل انھیں مدد کی ضرورت تھی…جہاں تک مافیا ٹولی کے شامل ہونے کی بات ہے تومیں اس کے لیے ذمہ دار تھا…یہ دتاسامنت جیسے لوگ اپنی سہولت کے حساب سے صورت حال کا انتظار کریں گے اورآرام سے کام پرجانے والوں کا انتظار کررہے ہیں۔ ہم نے پریل اوردیگر مقامات پر مخالف گروپوں کو تیارکیاتھا۔ فطری طورپر وہاں جھگڑااور خون خرابہ ہوسکتا تھا…جب رمانائک کی موت ہوئی تواس وقت کے میئر بھج بل اس کے اعزاز میں اپنی سرکاری کار میں آئے۔ان طاقتوں کا استعمال کہیں نہ کہیں سیاست میں بہت سے لوگوں کے ذریعہ کیاگیا۔

کسن سالونکے، (سابق مل ورکر)وہ مشکل وقت تھا۔ ہم نے اپنے سارے برتن فروخت کردییے تھے۔ہمیں اپنے برتنوں کو سیدھے طورپر اٹھاکر لے جاتے ہوئے شرم آتی تھی اس لیے ہم انہیں بوریوں میں لپیٹ کربیچنے کے لیے دکانوں پر لے جاتے تھے۔ وہ ایسے دن تھے جب ہمار ے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا،صرف پانی تھا۔ہم لکڑی کے برادے کو ایندھن کی جگہ جلاتے تھے۔میرے تین بیٹے ہیں۔کئی باربچوں کے پینے کے لیے دودھ نہیں ہوتاتھا۔ مجھ سے ان کی یہ بھوک برداشت نہیں ہوتی تھی۔ میں اپنی چھتری لے کر گھر سے باہر چلا جاتا تھا۔

سندومرہنے، (سابق مل کام گار)آر۔ایم۔ایس۔والے اورغنڈے مجھے بھی زبردستی کام پر واپس لے جانے کے لیے آئے لیکن میں نے جانے سے انکار کردیا…جو عورتیں مل میں رہ کر کام کررہی تھیں ان کے ساتھ کیاہورہا تھااس بارے میں طرح طرح کی افواہیں چاروں طرف پھیلی تھیں۔ وہاں زنابالجبر کامعاملہ بھی ہواتھا۔


باکس5.8کے لیے مشق

1982کی ہڑتال کے بارے میں دییے گئے ان بیانات کو پڑھنے کے بعد درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
اس میں شامل مختلف تناظر سے1982کی ٹکسٹائل کی ہڑتال کو بیان کیجیے۔
کام کرنے والے ہڑتال پر کیوں گئے؟
دتاسامنت نے کس طرح ہڑتال کی قیادت قبول کی؟
ہڑتال توڑنے والوں کا کیاکرداررہا؟
مافیا گروہوں نے کس طرح ان مقامات پر اپنی جگہ بنائی؟
اس ہڑتال کے دوران عورتیں کیسے پریشان ہوئیں اوران کے خاص سروکار کیاتھے؟
ہڑتال کے دوران کام گار اوران کے خاندان کے لوگوں نے اپنی بقاکیسے قائم رکھی؟

سوالات

کسی پیشے کو منتخب کیجیے جوآپ اپنے آس پاس دیکھتے ۔اور اس کابیان درج ذیل لائنوں کے ساتھ کیجیے۔(a)قوت کارکی سماجی ترکیب—ذات،جنس،عمر،خطہ(b)محنت عمل—کام کس طرح کیاجاتا ہے۔(c)تنخواہ اوردیگر سہولیات(d)کام کے حالات—تحفظ،آرام کاوقت،کام کے گھنٹے وغیرہ
یا
اینٹ بنانے،بیڑی رول کرنے،سافٹ ویئر انجینئر یاکان کے کام جو باکس میں بیان کیے گئے ہیں، کے کام گاروں کی سماجی ترکیب کا بیان کیجیے۔ کام کے حالات کیسے ہیں اوردستیاب سہولیات کیسی ہیں؟مدھو جیسی لڑکیاں اپنے کام کے بارے میں کیاسوچتی ہیں؟
نرم کاری نے روزگار کے انداز کو کس طرح متاثر کیاہے؟

حوالہ جات

Anant, T.C.A. 2005. ‘Labour Market Reforms in India: A Review’. In Bibek Debroy and P.D. Kaushik Eds. Reforming the Labour Market.  pp. 235-252. Academic Foundation. New Delhi.
Bhandari, Laveesh. ‘Economic Efficiency of Sub-contracted Home-based Work’. In Bibek Debroy and P.D. Kaushik Eds. Reforming the Labour Market. pp. 397-417. Academic Foundation. New Delhi. 
Breman, Jan. 2004. The Making and Unmaking of an Industrial Working Class. Oxford University Press. New Delhi.
Breman, Jan. 1999. ‘The Study of Industrial Labour in post-colonial India – The Formal Sector: An Introductory review’. Contributions to Indian Sociology. Vol 33 (1&2), January-August 1999. pp. 1-42. 
Breman, Jan. 1999. ‘The Study of Industrial Labour in post-colonial India – The Informal Sector: A concluding review’. Contributions to Indian Sociology. Vol 33 (1&2), January-August 1999. pp. 407-431. 
Breman, Jan and Arvind, N. Das. 2000. Down and Out: Labouring Under Global Capitalism. Oxford University Press. Delhi.
Datar, Chhaya. 1990. ‘Bidi Workers in Nipani’. In Illina Sen, A Space within the Struggle. pp. 1601-81. Kali for Women. New Delhi. 
Gandhi, M.K. 1909. Hind Swaraj and other writings. Edited by Anthony J. Parel. Cambridge University Press. Cambridge.
George, Ajitha Susan. 2003. Laws Related to Mining in Jharkhand. Report for UNDP. 
Holmstrom, Mark. 1984. Industry and Inequality: The Social Anthropology of Indian Labour. Cambridge University Press. Cambridge.
Joshi, Chitra. 2003. Lost Worlds: Indian Labour and its Forgotten Histories Delhi. Permanent Black. New Delhi.
Kerr, Clark et al. 1973. Industrialism and Industrial Man. Penguin. Harmondsworth.
Kumar, K. 1973. Prophecy and Progress. Allen Lane. London. 
Menon, Meena and Neera, Adarkar. 2004. One Hundred Years, One Hundred Voices: the Millworkers of Girangaon: An Oral History. Seagull Press. Kolkata.  
PUDR. 2001. Hard Drive: Working Conditions and Workers Struggles at Maruti. PUDR. Delhi. 
Roy, Tirthankar. 2001. ‘Outline of a History of Labour in Traditional Small-scale Iindustry in India’. NLI Research Studies Series. No 015/2001. V.V. Giri National Labour Institute. Noida.
Upadhya, Carol. forthcoming. Culture Incorporated: Control over Work and Workers in the Indian Software Outsourcing Industry.