
5صنعتی سماج میں تبدیلی اورترقی
5.1صنعتی سماج کاخاکہ(Images of industrial Society)
سماجیات کی بہت سی اہم تصنیفات اس وقت سامنے آئیں جب صنعت کاری نئی نئی تھی اورمشینوں کو اہمیت حاصل ہو رہی تھی۔کارل مارکس،میکس ویبر اورریمل درخائم جیسے مفکرین نے صنعت کے ساتھ بہت سی سماجی خصوصیات منسلک کیں۔جیسے شہرکاری جس میں راست رشتوں کوکافی نقصان پہنچا جو دیہی علاقوں میں پائے جاتے تھے جہاں کے لوگ اپنے کھیتوں یا اپنی جان پہچان کے زمین مالکوں کے یہاں کام کرتے تھے۔ان کی جگہ جدید فیکٹریوں اورکام کی جگہوں پر انجان پیشہ ورانہ رشتوں نے لے لی۔صنعت کاری میں قوت کار کی ایک تفصیلی تقسیم ہوتی ہے۔لوگ اپنے کام کے آخری نتیجے کواکثرنہیں دیکھتے کیونکہ انھیں پروڈکٹ کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو بنانا ہوتاہے۔یہ کام اکثردہرانے اورتھکانے والاہوتا ہے لیکن پھر بھی بالکل ہی کام نہ کرنے یا بے روزگار ہونے سے تو بہتر ہی ہے۔ مارکس نے اس صورت حال کو بے گانگی کاعمل کہاجس میں لوگ اپنے کام سے خو ش نہیں ہوتے اور کام کو صرف اپنی بقاکے لیے کچھ کرنے جیسا سمجھتے ہیں۔ان کی بقابھی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے انسانی محنت کے لیے کچھ جگہ چھوڑی بھی ہے؟
صنعت کاری کم سے کم بعض حلقوں میں زبردست مساوات پیداکرتی ہی ہے۔ مثلاً ریل، گاڑیوں بسوں اور سائبرکیفے میں ذات پات پر مبنی امتیاز نہیں ہوتاجب کہ دوسری طرف نئی فیکٹری یاکام کی جگہوں پر تفریق کی پرانی شکلیں اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔حالانکہ اب سماجی عدم مساوات کم ہورہی ہے معاشی یاآمدنی سے متعلق عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔اکثرسماجی عدم مساوات اورآمدنی سے متعلق نابرابری ایک دوسرے سے پیوست ہو بھی جاتی ہے،مثال کے طورپر اچھی تنخواہ والے پیشوں جیسے طب ،قانون یاصحافت میں اونچی ذات کااب بھی غلبہ ہے۔ زیادہ ترایسا بھی ہوتا ہے کہ یکساں کام کے لیے عورتوں کو مردوں کی نسبت کم ادائیگی ہوتی ہے۔
اولین ماہرین سماجیات نے صنعت کاری کومثبت اورمنفی دونوں سے دیکھا ہے۔ جدیدکاری نظریہ کے زیر اثر20ویں صدی کے وسط سے صنعت کاری کو ناگزیر اورمثبت دیکھا جارہا ہے۔جدید کاری نظریے میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جدیدکاری میں سماج مختلف مراحل سے گزرتا ہے لیکن ان سبھی میں ایک ہی سمت ہوتی ہے۔ان نظریہ سازوں کے مطابق جدید سماج کی نمائندگی مغرب کے ذریعہ کی جارہی ہے۔
سرگرمی5.1
نظریہ اجتماع(Convergene thesis) جسے جدید کاری کے نظریہ سازکلارک کیر(Clark Kerr) نے آگے بڑھایا، کے مطابق 21ویں صدی کے صنعت یافتہ ہندوستان میں19ویں صدی کے ہندوستان کی خصوصیات ملنے کی بہ نسبت21ویں صدی کے چین یاریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خصوصیات زیادہ ملتی ہیں۔ کیاآپ کے خیال میں یہ بات صحیح ہے؟کیا تہذیب،زبان اور روایات نئی ٹیکنالوجی کے سبب ختم ہوجاتی ہیں اورکیالوگوں کے ذریعہ نئے پروڈکٹ اپنانے کے انداز پر تہذیب کااثرہوتا ہے۔ان مسائل پر مثالیں دیتے ہوئے اپنے خیالات ایک صفحے پر تحریر کیجیے۔
5.2ہندوستان میں صنعت کاری(Industrialisation in india)
ہندوستانی صنعت کاری کی خصوصیات(The Specificity Of Indian Industrialisation)
ہندوستان میں صنعت کاری کا تجربہ کئی لحاظ سے مغربی نمونے جیساتھاتو کئی لحاظ سے مختلف بھی تھا۔ مختلف ملکوں کے تقابلی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ صنعتی سرمایہ کاری کا کوئی معیاری نمونہ نہیں ہے۔آیئے ہم اسے ایک فرق سے شروع کرتے ہیں،لوگ کیاکررہے ہیں ان کے کام کی قسم سے اس کو وابستہ کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی اکثریت سروس یاخدماتی شعبہ میں کام کرتی ہے،اس کے بعد صنعت میں اور10فی صد سے کم زراعت میں کام کرتے ہوتے۔(بین الاقوامی محنت تنظیم(ILO)کے اعدادوشمار) ہندوستان میں،19-2018میں تقریباً43 فی صد لوگ ابتدائی شعبہ(زراعت اورکان کنی)میں،25 فی صد ثانوی شعبہ(مینوفیکچرنگ،تعمیرات اورافادیت وسہولیات)اور32 فی صد لوگ ثالثی شعبہ(تجارت،نقل وحمل مالی خدمات وغیرہ) میں لگے ہوئے تھے۔تاہم،اگر ہم ان شعبوں کی معاشی نمودیکھیں توزراعتی عمل کاحصہ تیزی سے کم ہواہے اوراس شعبہ میں یہ اشتراک تقریباًنصف ہوگیا۔یہ ایک کافی سنجیدہ صورت حال ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہواکہ جس شعبہ میں زیادہ لوگ کام سے لگے ہیں وہ زیادہ آمدنی کے اہل نہیں ہے.ہندوستان میں 19-2018میں زراعت میں روزگار کا حصہ 42.5فیصد تھا،کان کنی اور کھدائی میں 0.4فیصد ، مینوفیکچرنگ میں یہ 12.1فی صد تھا ، تجارت ہوٹل اور ریستوراں میں یہ 12.6فی صد تھا، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج، مواصلات میں 5.9فی صد ، کمیونٹی، معاشرتی اور ذاتی خدمات میں یہ 13.8فی صد تھا ۔
ترقی پذیراورترقی یافتہ ملکوں میں ایک اوربڑا فرق باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار میں لوگوں کی تعداد سے متعلق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں اکثریت باضابطہ روزگار میں لگی ہے۔ہندوستان میں 52فی صد سے زیادہ خود کے روزگار سے وابستہ ہیں،صرف تقریباً24 فی صد باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار ہیں جب کہ تقریباً24 فی صد بے ضابطہ یااتفاقی مزدور ہیں
ساتھ میں دیے گئے چارٹ سے 73-1972اور19-2018کے درمیان تبدیلیوں کا پتہ چلتا ہے۔ماہرین معاشیات اور دوسرے منظم اورغیرمنظم شعبہ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔
یہ بحث کا موضوع ہے کہ ان شعبوں کی تعریف کیسے کی جائے۔ایک تعریف کے مطابق منظم شعبہ کی کل اکائی میں10اوریااس سے زائدلوگوں کے پورے سال روزگار میںرہنے سے ان شعبوں کی تشکیل ہوتی ہے۔سرکاری طورپر ان کا رجسٹریشن ہونا چاہیے تاکہ ملازمین کو تنخواہ،پنشن اورد وسرے فوائد مل سکیں۔ ہندوستان میں90فی صد لوگ زراعت اور خدمات کے غیر منظم یا غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔منظم شعبہ کی چھوٹی سی تعداد کا سماجی اطلاق کیا ہے؟ زراعت،صفت اور خدمات کے غیر منظم یاغیررسمی شعبوں میں ۔
پہلا،اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت کم لوگ بڑی فرموں میں روزگار کرتے ہیں جہاں وہ دیگر علاقوں اورپس منظر کے لوگوں سے مل پاتے ہیں۔شہری زندگی اس کے لیے کچھ اصلاحی عمل کا موقع فراہم کرتی ہے۔کیونکہ شہر میں رہنے والا آپ کا پڑوسی کسی مختلف جگہ کا ہوسکتا ہے۔جب کہ بڑے پیمانے پر زیادہ تر ہندوستانی اب بھی چھوٹے پیمانے والے کام کے مقاما ت پر کام کرتے ہیں۔یہاں ذاتی رشتے کام کے متعدد پہلوؤں کا تعین کرتے ہیں۔اگر آجر آپ کو پسند کرتا ہے تو تنخواہ بڑھ سکتی ہے اور اگر آپ اس سے لڑتے جھگڑتے ہیں توآپ ملازمت یاکام سے محروم ہوسکتے ہیں۔بڑی تنظیموں میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کچھ مقررہ اصول ہوتے ہیں۔جن کی بہتر طورپر توضیح کی جاتی ہے،وہاں تقرری کا معاملہ زیادہ شفاف ہوتا ہے۔اگر آپ کے اپنے سرپرست حاکم سے بعض اختلاف ہوتے ہیں تو اس کے لیے شکایتوں اوران کی تلافی کاطریقۂ کار مقرر ہوتا ہے۔ دوسرے،بہت ہی کم ہندوستانیوں کی رسائی نفع بخش اورمحفوظ ملازمت کے تئیں ہوپاتی ہے جن میں دو تہائی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ملازمت زیادہ مقبول ہے۔باقی ضعیفی میں اپنے بچوں کے دست نگر ہونے پر مجبور ہیں۔ذات،مذہب اورعلاقائی حدوں پر قابو پانے میں سرکاری ملازمتوں نے ایک اہم کردارنبھایاہے۔ایک ماہرسماجیات نے دلیل دی ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عوامی شعبہ کے بھیلائی اسٹیل پلانٹ میں فرقہ وارانہ فساد کبھی نہیں واقع ہوئے۔کیوں کہ وہاں ہندوستان کے سبھی علاقوں کے لوگ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ تیسرے،چونکہ بہت ہی کم لوگ یونین ممبر ہیں جو منظم شعبہ کی خاصیت ہے وہ مناسب اجرتوں اورمحفوظ کام کرنے کی حالتوں کے لیے اجتماعی جدوجہد کاتجربہ نہیں رکھتے۔ حکومت نے اب غیرمنظم شعبوں کی صورت حال پر نگرانی رکھنے کے لیے قانون بنائے ہیں لیکن عملاًآجر یاٹھیکے دار کی متلون مزاجی اورخیالات کادخل زیادہ ہوتاہے۔
ہندوستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں میں صنعت کاری(Industrialisation in the early years of indian independence)
ہندوستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں میں کپاس،جوٹ،کوئلہ کانیں اورریلوے ہندوستان کی پہلی جدید صنعتیں تھیں۔آزادی کے بعدحکومت نے معیشت کی فیصلہ کن بلندیوں کو اختیارکیا۔اس میں دفاع، نقل وحمل،مواصلات،توانائی اوردیگر پروجیکٹوں کو شامل کیاگیاجنھیں صرف حکومت ہی انجام دینے کی قدرت رکھتی تھی اوریہ نجی صنعت کے فروغ کے لیے بھی ضروری تھا۔ ہندوستان کی مخلوط معاشی پالیسی میں کچھ شعبوں کوحکومت کے لیے محفوظ کیاگیاجب کہ کچھ کونجی شعبو ں کے لیے کھول دیاگیا۔ اس میں بھی حکومت نے اپنی لائسنس دینے کی پالیسی کے ذریعہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ یہ صنعتیں مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ آزادی سے پہلے صنعتیں خاص طورپر بندرگاہ والے شہروں جیسے مدراس،ممبئی اورکلکتہ میں واقع تھیں لیکن اس کے بعد دیگرمقامات جیسے بڑودہ، کوئمبٹور، بنگلور، پونے،فریدآباد اورراج کوٹ بھی اہم صنعتی مراکز بن گئے۔دیگرچھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو بھی خصوصی ترغیب اورمدددے کر حوصلہ افزائی کی کوشش کی گئی۔بہت سی اشیا جیسے کاغذ اورلکڑی کے سامان،اسٹیشنری،شیشہ اورچینی مٹی چھوٹے پیمانے کے شعبہ کے لیے محفوظ تھے۔1991تک کل کام کرنے والی آبادی میں سے صرف 28فی صد بڑی صنعتوں میںملازمت کررہے تھے جب کہ72فی صد لوگ چھوٹے پیمانے اورروایتی صنعتوں سے وابستہ تھے۔(رائے2001:11)
گلوبلائزیشن،نرم کاری اورہندوستانی صنعت میں تبدیلی(Globalisation, Liberalisation and change in indian industry)
1990کی دہائی سے حکومت نے نرم کاری(لبرلائزیشن)کی پالیسی اپنائی ۔نجی کمپنیاں خاص طورسے غیر ملکی فرموں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جو پہلے حکومت کے لیے محفوظ تھے۔ ان میں ٹیلی مواصلات،شہری ہوابازی اورتوانائی وغیرہ کے شعبہ شامل ہیں۔صنعتوں کو کھولنے کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں ۔نرم کاری کے نتیجے میں بہت سی ہندوستانی کمپنیوں کو کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعہ خرید لیاگیا۔ساتھ ہی کچھ ہندوستانی کمپنیاں بھی کثیرقومی کمپنیاں بنتی جارہی ہیں۔اس کی پہلی مثال جب پارلے مشروبات کوکوکاکولا کے ذریعہ خرید لیاگیا۔ پارلے مشروبات کی سالانہ آمدنی250کروڑ روپیے تھی جب کہ کوکاکولا اشتہار پر ہی400کروڑ روپیے خرچ کرتی تھی۔اشتہار کی اس سطح سے پورے ہندوستان میں کوک کے صرف کی مقدار بڑھی اوریہ بہت سے روایتی مشروبات کی جگہ اس کے ذریعہ پرُکی گئی۔نرم کاری کادوسرا میدان خوردہ فروشی ہوسکتی ہے۔ کیاآپ کے خیال میں ہندوستانی ڈپارٹ مینٹل اسٹور سے خریداری کرناپسندکریں گے یا وہ کاروبار سے باہر ہوجائیں گے؟
باکس5.1
ہندوستانی بازار میں داخلے کے لیے جدوجہد
ہندوستانی بازار میں داخلے کے لیے جدوجہد کاخوردہ فروشی سلسلہ اس وقت ہندوستان کے زبردست خوردہ فروشی شعبہ میں داخلے کی مانگ کے تحت پوری دنیا کے بڑے بڑے سلسلے یاتجارتی گروہ جن میں وال مارٹ،اسٹور، کیریفور اورمائیسکوشامل ہیں،ملک میں داخلے کے لیے بہتر طریقہ تلاش کررہے ہیں حالانکہ بازار میں غیر ملکی راست اصل کاری پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز اوربھارتی ایئرٹیل جیسے بڑے ہندوستانی کاروباری اداروں نے حال ہی میں زبردست سرمایہ کاری کی ہے جس سے غیر ملکی خوردہ فروشوں کے لیے اس میں جلد ازجلد سرمایہ کاری کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی ایئرٹیل نے یہ اشارہ دیا کہ وال مارٹ،کیرے فور اورٹیسکو کے ساتھ خوردہ فروشی کی مشترکہ کاروباری مہم انجام دینے کی شروعات کرنے کی بات چیت ہوئی ہے۔…ہندوستان کا خوردہ فروشی شعبہ نہ صرف یہ کہ اپنی تیزترین نموکے سبب ہی باعث کشش ہے بلکہ اہل خانہ کے ذریعہ ملک کے کاروبار کا97فی صد حصہ گلی محلے کی دکانوں کے توسط سے چلایاجارہا ہے لیکن اس صنعت کی خاصیت کو بجاطورپر دیکھتے ہوئے حکومت غیرملکیوں کے بازارداخلے کومشکل بنارہی ہے۔سیاست داں باربار یہ دلیل دیتے ہیں کہ عالمی خوردہ فروش ہزاروں چھوٹے مقامی اورگھریلو تاجروں کے اس سلسلے کواورحال ہی میں ابھرنے والے ملکی خوردہ فروش تاجرگروہوں کو برباد کردیں گے۔
ماخذ:انٹرنیشنل ہیرالڈٹری بیون، 3اگست2006
حکومت متعدد عوامی شعبہ کی کمپنیوں میں اپنے شیئرزکو نجی شعبہ کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے نااصل کاری (سرمایہ فروخت کرنا)کہاجاتا ہے۔کئی سرکاری ملازم اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ اس کے بعد وہ اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے۔ماڈرن فوڈز جسے حکومت نے سستی قیمتوں پر صحت بخش بریڈ بنانے کے لیے قائم کیا تھا، وہ پہلی کمپنی تھی جس کی نجی کاری کی گئی تھی تو اس نے پہلے پانچ سالوں میں لگے ہوئے ملازمین کوجبراًملازمت سے ریٹائر کردیا۔
آئیے اب ہم دیکھیں کہ کس طرح یہ عالمی رجحانات کے مطا بق ہے۔زیادہ سے زیادہ کمپنیاں مستقل ملازمین کی تعداد میں کمی کررہی ہیں اور اپنے کام کو چھوٹی چھوٹی کمپنیوں اورگھروں کو سونپ رہی ہیں۔ جہاں تک کثیر قومی کمپنیوں کاسوال ہے وہ پوری دنیا میں باہر والوں سے کام کا معاہدہ کرتی ہیں جس میں ہندوستان جیسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں مزدور سستے مل جاتے ہیں۔ چونکہ چھوٹی کمپنیوں کو بڑی کمپنیوں سے آرڈر لینے میں مسا بقت کاسامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے وہ اپنی اجرتیں کم رکھتی ہیں اوران میں کام کے حالات بھی کمزورہوتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی فرموں کے لیے ٹریڈیونین بنانا بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تقریباًسبھی کمپنیاں حتی کہ حکومت بھی کسی نہ کسی شکل میں بیرونی وسائل اورمعاہدے پر کام کرانے لگی ہیں۔ لیکن یہ رجحان خاص طورپر نجی شعبہ میں دیکھاجاسکتا ہے۔
بحیثیت مجموعی کہاجاسکتاہے کہ ہندوستان اب بھی بڑے پیمانے پر ایک زرعی ملک ہے۔سروس یاخدماتی شعبہ جیسے دکانیں، بینک،انفارمیشن ٹیکنالوجی(IT)صنعت،ہوٹل اوردیگر خدمات میں زیادہ سے زیادہ ملازمت لوگ حاصل کررہے ہیں تعداد بڑھ رہی ہے اس کے ساتھ وہ قدریں بھی بڑھ رہی ہیں جو ٹیلی ویژن سیریل اورفلموں میں ہم دیکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت کم لوگوں کے پاس محفوظ روزگار ہیں یہاں تک کہ کم تعداد کے باقاعدہ تنخواہ یافتہ روزگار بھی معاہدہ محنت میں اضافے کے سبب زیادہ غیر محفوظ ہوتے جارہے ہیں۔اب تک سرکاری ملازمت بیشترلوگوں کی فلاح وبہبود میں اضافے کاذریعہ تھا جس میں اب کمی آتی جارہی ہے۔بعض ماہرین معاشیات نے اس پر غور وخوض کیاہے لیکن عالمی پیمانے پر نرم کاری اورنجی کاری سے آمدنی کی نابرابری بڑھنے کی وجہ دکھائی دیتی ہے۔آپ گلوبلائزیشن کے موضوع پر اگلے باب میں مزیدپڑھیں گے۔
منظم شعبوں میں روزگار

اس کے ساتھ ہی بڑی صنعتوں میں محفوظ روزگار میں بھی کمی ہورہی ہے۔حکومت نے بھی صنعت لگانے کے لیے زمین حاصل کرنے کی پالیسی کی شروعات کی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ صنعتیں آس پاس کے لوگوں کو روزگار فراہم کریں لیکن آلودگی کاایک بہت بڑا سبب ضروربنتی ہیں۔ بہت سے کسان جن میں خاص طورپر قبائلی شامل ہیں بے دخل لوگوں میں یہ تقریباً40فی صد کی تشکیل کرتے ہیں،تلافی کی کم شرحوں پراحتجاج کررہے ہیں اورحقیقت یہ ہے انھیں بے ضابطہ مزدور بننے اورہندوستان کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھ پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔آپ باب3 (II) میں دیے گئے مسابقتی مفادات پربحث یادکریں۔
اگلے سیکشنوں میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح لوگ کوکام ملتے ہیں،وہ حقیقتاً اپنے کام کے مقامات پر کیاکرتے ہیں اورکس طرح کام کی حالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔
5.3 لوگوں کوکام کس طرح ملتے ہیں(How people finds jobs)
اگر آپ بدھ کی صبح ٹائمز آف انڈیا دیکھتے ہیں توآپ اس میں’Times Ascent‘نام کا ایک سیکشن دیکھیں گے۔یہاں روزگار کے اشتہار ہوتے ہیں اوراپنے آپ سے یا اپنے ورکرز اچھا کام لینے کے لیے ترغیب دینے کے بارے میں تجاویز ہوتی ہیں۔
باکس5.3میں نجی شعبہ کی ملازمت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ یہ بھی باضابطہ تنخواہ والی ملازمت ۔ یہ اکی معروف ہوٹل کی ملازمت ہے لیکن یہاں تنخواہ اور ضروری اہلیت لچک دار ہیں ، اور یہ ایک معاہدے کی طرح کام ہے ۔ نیچے دیئے گئے اشتہار میں دی گئی زبان کو ذرا دیکھئے جیسے ایک خلوص مند پروگرام ہر تنظیم اپنے اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔
اب ہم باکس5.3میں نجی شعبہ کی ملازمت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی باضابطہ تنخواہ والی ملازمت ہے۔یہ ایک معروف ہوٹل کی ملازمت ہے لیکن یہاں تنخواہ اورضروری اہلیت لچک دار ہیں اوریہ ایک معاہدے کی طرح کام ہے۔ نیچے دیے گئے اشتہار میں دی گئی زبان کو ذرادیکھیے جیسے ایک خلوص مند پروگرام ہر تنظیم اپنے اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔
باکس 5.2
دیال سنگھ کالج
(دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام کالج)
لودی روڈ،نئی دہلی110003
پرنسپل کے عہدے کے لیے درخواستیںمطلوب ہیں۔تنخواہ اسکیل16,400–22,400)کم سے کم17,300روپیے ماہانہ) ڈی۔اے۔(D.A)؛سی۔سی۔اے(CCA)،ایچ۔آر۔اے۔(HRA)، ٹی۔اے۔(T.A)اور دیگر فوائد کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے قواعد وضوابط کے مطابق
اہلیت
(i) متعلقہ مضمون میں کم سے کم55فی صد نمبر یاصرف گریڈ کے ساتھ سات نقاط اسکیل میںO,A,B,C,D,EاورFاس کے مساوی گریڈ ’B‘
(ii) پی۔ایچ۔ڈی۔یامساوی ڈگری
(iii) یونیورسٹیوں یاکالجوں میں پڑھانے کاکل15سال کاتجربہ اور/یااعلی تعلیم کے دیگر اداروں میںپوسٹ ڈاکٹورل درخواست ریسرچ فارم میں اہلیت،تجربہ،عمروغیرہ کی پوری تفصیلات کے ساتھ تائیدی دستاویزات’’چیئرمین گورننگ باڈی،دیال سنگھ کالج،لودی روڈ،نئی دہلی110003‘‘ میں اس اشتہار کے جاری ہونے کے15دن کے اندرمہربند لفافے میں پہنچنا چاہیے۔
چیئرمین
گورننگ باڈی
باکس5.3
ریڈیسن ہوٹل،دہلی نے فوری طور پراپنے اخلاص مندی پروگرام کی شروعات کی ہے۔
کسٹمرسروس ایگزیکیوٹیو
سینئرٹیلی سیلز ایگزیکیوٹیو
امیدوار کو انگریزی زبان پر مکمل عبورہو۔فروخت کاری کا طبعی ذوق اوراہلیت رکھنے والے درخواست دیں۔
ہم ایک پانچ ستارہ میں کام کاماحول،مستقل ترقی وتربیت،متحرک ماحول،دن کاکام اوراچھی تنخواہ/ترغیبات پیش کرتے ہیں۔
جزوقتی اورکل وقتی اختیاردستیاب
30، 31 اگست اوریکم ستمبر2006کو صبح 9.30 سے6.30بجے شام تک فون کریں۔
فون نمبر66407361/66407351 اور 66407353
یااپناCV 26779062 پر فیکس کریں۔
یاای میل:[email protected] پررابطہ قائم کریں۔
ریڈیسن
باکس5.4
جنوبی گجرات میں اینٹ کے بھٹوں میں مزدوروں کی ٹولی

جنوبی گجرات میں اینٹ کے بھٹے میںکام کے موسم میں تقریباً30 سے 40 ہزار مزدور ملازمت پر رکھے جاتے ہیں۔ اینٹ کے بھٹوں کے مالک اونچی ذات کے لوگ جیسے پارسی یاڈیسائی ہوتے ہیں۔کمہار ذات کے ممبران اینٹ کے بھٹے پر اپنا روایتی مٹی کا کام کرتے ہیں۔مزدور زیادہ تر مقامی یامہاجر دلت ہوتے ہیں۔ انھیں ٹھیکے داروں کے ذریعہ رکھاجاتا ہے۔یہ نوتاا گیارہ لوگوں کی ٹولی میں کام کرتے ہیں۔ جہاںمرد مٹی گوندھتے ہیں اوراینٹ کو شکل دیتے ہیں اورہراینٹ کو خشک کرنے کے مقامات پر لے جاتے ہیں۔ عورتوں اورلڑکیوں کی ٹولی اینٹوں کو بھٹوں پر لے جاتی ہے جہاں مرد انھیں پکاتے ہیں اوروہاں سے پھر انھیں ٹرکوں پر لاداجاتا ہے۔
ہرٹولی روزانہ 2,500تا3,000اینٹیں بنالیتی ہے۔جلدی کام کرنے والاگروپ 10گھنٹے میں اورآہستہ کرنے والا گروپ14 گھنٹے میں اپناکام ختم کرتا ہے۔ 6سال کی عمرسے بچے اپنے والد کے ذریعہ بنائی گئی تازہ اینٹوں کو رات میں اٹھانے کاکام کرتے ہیں۔گیلی اینٹوں کا وزن تقریباً3کلو ہوتا ہے۔رات کے اندھیرے میں چھوٹے بچے ایک ایک اینٹ کو بنیادی پلیٹ پررکھنے کے لیے دوڑتے ہیں۔ جب وہ نوسال کے ہوجاتے ہیں توانھیں دواینٹیں اٹھانے کے لیے ترقی دی جاتی ہے۔ماہرسماجیاتی جان بریمن کہتا ہے کہ کبھی کبھی ان کے والدین انھیں رولا ہوئے ان کے گڈری جیسی بستروں سے جگاکر اٹھا دیتے ہیں۔
5.4کام کس طرح انجام دیاجاتاہے؟(How is work carried out)
سرگرمی5.2


باکس5.5
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں وقت کی تابع داری
پروجیکٹ کی تکمیل کے مقررہ وقت پراوسط10–12گھنٹے کے کام کا دن اورپروجیکٹ کی تکمیل پرآجاتا ہے تو پوری رات دفترمیں رکنا ملازمین کے لیے کوئی خلاف معمول بات نہیںہے۔(اسے نائٹ آؤٹ کے طورپر جاناجاتاہے)طویل اوقات کارصنعت کے ’کام کے ماحول‘کابنیادی جزوہے۔کسی حد تک اس کی وجہ ہندوستان اورگاہک ملک کے درمیان وقت کافرق ہوتا ہے جیسے جوکانفرنس کال(بیک وقت بات چیت کاسلسلہ)شام میں واقع ہونے والی ہوتی ہے اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کام کے دن کی شروعات ہوتی ہے۔ایک اور وجہ یہ ہے کہ بیرونی وسائل کے پروجیکٹوں کی ساخت اس طرح کی بنی ہوتی ہے کہ اس میں بساط سے زائد کام اختیارکیے جاتے ہیں؛پروجیکٹ کی لاگت اورپوراکرنے کے وقت کے لیے متوقع مقدار کار کے لحاظ سے دنوں یاگھنٹوں کا اندازہ عموماًکم یا غلط لگایاجاتا ہے ۔چونکہ متوقع مقدار کار کی بنیاد آٹھ گھنٹے یومیہ ہوتی ہے اس لیے انجینئروں کو وقت مقررہ پر کام پورا کرنے کے لیے زائد گھنٹوں اوردنوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔توسیعی اوقات کار 'Flexi–time'(ملازم کی مرضی کے مطابق کام کے دوران کار کا تعین)کے عام عمل کو انتظامیہ کے ذریعہ جائز ٹھرایاجاتاہے۔اس اصول کے تحت ملازم کو اپنے کام کے گھنٹوں(حدود میں)کو منتخب کرنے کی آزادی ہوتی ہے لیکن عملاً اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ انھیں موجودہ کاموں کو پوراکرنے کے لیے جتنا ضروری ہوگاکام کرنا ہوگا۔ جب ان کے پاس واقعتا کام کا دباؤ نہیں ہوتاپھر بھی وہ آفس میں دیر تک رکنے کی طرف مائل ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھیوں کا دباؤ ہوتاہے یا وہ اپنے باس کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کتنی سخت محنت کررہے ہیں۔
5.5کام کے حالات(Working Conditions)

باکس5.6
جھارکھنڈ میں کان میں پھنسے54کام کرنے والوں کے لیے وقت ختم ہورہا ہےIANS،7ستمبر2006
ناگدا کی بھٹ دیہہ کوئلہ کان میں54کام کرنے والے بدھ کی رات کو پھنس گئے تھے جہاں گیسوں کی زیادتی کے سبب دھماکہ ہوا۔رات کے تقریباً 8بجے متھن اورکاربن موناآکسائڈ کی زیادتی اوردباؤکے سبب یہ دھماکاہواجس سے بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ(BCCL)کی یہ کوئلے کی کان پوری ہل گئی۔اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ17نمبر والی ایک ٹن کی ٹرالی باہر نکل گئی۔
چاربچاؤٹیمیں بنائی گئیں لیکن ان کے پاس جہاں یہ حادثہ واقع ہوا اس گہری کان میں داخل ہونے کے لیے آکسیجن کی مناسب تعداد نہیں تھی۔
کان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر ملازم 20سے 30سال کی عمر کے تھے۔ گھر کے لوگوں اوریونین لیڈروں نے بھی بی سی سی ایل کے مینجمنٹ پرالزام لگایا ۔یہ بی سی سی ایل کی زہریلی کانوں میں ایک ہے،مینجمنٹ نے وہاں سلامتی کی کوئی تدبیر مہیانہیں کی۔ یونین کے ایک ممبر نے بتایاکہ کان میں پانی چھڑکنے کی مشین اورگیس ٹیسٹنگ مشین فراہم ہونی چاہیے تھی،لیکن وہاں ایساکوئی انتظام نہیں کیاگیا۔
5.6گھروں میں ہونے والے کام(Home- based work)

سرگرمی5.3

باکس5.7
ایک بیڑی ورکر کی سوانح حیات
مدھو15سال کی ہے آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد اس نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ اس کے والد درزی تھے،جن کا گذشتہ سال انتقال ہوا۔انھیں تپ دق ہوگیا تھا۔ اس کے سبب بچوں اورماں کے لیے کام کرنا مجبوری بن گیا۔ اس کابڑابھائی جس کی عمر17سال ہے ایک کرانے کی دکان میں کام کرتا ہے ۔اس کے چھوٹے بھائی کی عمر14سال ہے جوچاکلیٹ کا پیکٹ بنانے کے کام میں لگاہوا ہے۔مدھو اوراس کی ماں بیڑی تیارکرتی ہیں۔ مدھو نے بہت چھوٹی سی عمر میں بیڑیاں رول کرنا شروع کی تھیں۔ یہ اسے پسند ہے کیونکہ اس سے اسے ماں اوردیگر عورتوں کے پاس بیٹھنے اوران کی بات چیت سننے کا موقع ملتاہے۔وہ رول کیے گئے تیندوے پتے میں تمباکو بھرتی ہے۔وہ گھر کے کام کاج کے علاوہ دن بھر یہی کام کرتی ہے۔ روزانہ زیادہ وقت تک ایک ہی انداز میں بیٹھے رہنے کے سبب اس کی پیٹھ میں درد ہونے لگاہے۔ مدھو پھرسے اسکول جانا چاہتی ہے۔
(بھنڈاری:2005:406)
2020-21کے دوران کووڈ۔19مہاماری کی وجہ سے سینکڑوں اور ہزاروں ITسیکٹر کے خدمت گاروں نے گھر سے کام کیا۔ گھر پر کام کرنے والوں کے درمیان فرق اور یکسانیت کا پتہ لگائیں۔
5.7ہڑتالیں اوریونین(Strikes and Unions)
باکس 5.8
جے پرکاش بھلارے،سابق مل ورکر،مہاراشٹر گری کام گار یونین کے جنرل سکریٹری:کپڑامل کے کام گار صرف اپنی بنیادی اجرت اورمہنگائی بھتہ حاصل کرتے ہیں۔انھیں کوئی بھتہ نہیں ملتا۔ہم صرف 5دنوں کی اتفاقی چھٹی حاصل کررہے ہیں۔دیگر صنعتوں میں دیگر کام گاروں نے سفر کے مزید طبی فوائد وغیرہ جیسے بھتے حاصل کرنا شروع کیے ہیں اورانھیں10–12دن کی اتفاقی چھٹی ملتی ہے۔اس سے کپڑا مل کے کام گاروں میں اشتعال پیداہوا…22اکتوبر1981کو اسٹینڈرمل کے کام گاروں نے ڈاکٹر دتاسامنت کے گھرکی طرف پیش قدمی کی اوران سے قیادت کے لیے کہا۔پہلے تو سامنت نے یہ کہتے ہوئے منع کیا کہ یہ صنعتBIRAکے تحت آتی ہے اوروہ ٹکسٹائل صنعت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔یہ کام گار کوئی جواب سننے کے موڈ میں نہیں تھے۔ ان کے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے اورآخر کار صبح سامنت قیادت کے لیے آمادہ ہوگئے۔
لکشمی بھاٹکر ،(ہڑتال میں شریک ہونے والے):میں نے ہڑتال کی ۔حمایت کی ہم ہر روز دروازے کے باہر بیٹھ جاتے تھے اورمشورہ کرتے تھے کہ آگے کیاکرنا ہوگا۔ ہم وقتاًفوقتاً منظم ہوکر مورچہ بھی نکالتے تھے۔یہ مورچے بڑے ہواکرتے تھے۔ہم نے نہ کسی کو لوٹا اورنہ چوٹ پہنچائی۔مجھے کبھی کبھی بولنے کے لیے کہاگیا لیکن بول نہیں سکی۔میرے پاؤں بری طرح کانپنے لگتے۔اس کے علاوہ مجھے اپنے بچوں کا بھی ڈرتھاکہ وہ کیا کہیں گے؟وہ سوچیں گے کہ ہم یہاں بھوکوں مررہے ہیں اوروہ وہاں اپنا فوٹوا خبار میں چھپوارہی ہے۔ ایک بارہم نے سنچری مل کے شوروم کی طرف بھی مورچہ نکالا۔ہمیں گرفتار کرکے بوریولی لے جایا گیا۔میں اپنے بچوں کے بارے میں سوچنے لگی کہ ہم کوئی مجرم تو نہیں ۔مل کے مزدور ہیں۔ہم اپنے خون پسینے کی کمائی کے لیے ہی تولڑرہے ہیں۔
کسن سالونکے،اسپرنگ مل کے سابق مل ورکر:سنچری مل میں ہڑتال شروع ہوئے بمشکل ڈیڑھ مہینہ ہی ہوا ہوگا کہ RMMSوالوں نے مل کھلوادی۔وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انھیںریاست اورحکومت دونوں کی تائیدحاصل ہے۔وہ باہر کے لوگوں کوبغیر ان کے بارے میں پوری طرح جانے مل کے اندر لے گئے…بھونسلے(تب مہاراشٹر کے وزیراعلی)نے30روپیے بڑھانے کی پیش کش کی۔دتاسامنت نے اس سلسلے میں غورکرنے کے لیے میٹنگ بلائی۔ساری اہم سرگرمیاں یہیں سے انجام دی جاتی تھیں۔ہم نے کہا،’’نہیں،ہم یہ نہیں چاہتے۔اگر کوئی وقارنہیں ہے،اگر ہڑتالی رہنماؤں سے کوئی بات چیت نہیں ہے تو ہم بغیر ستائے ہوئے واپس نہیں جاسکیں گے۔
دتااسوالکر،مل چاولس ٹینٹ ایسوسی ایشن کے صدر:کانگریس نے بابورمیشم،رمانائل اورارون گاؤلی جیسے سبھی غنڈوں کو ہڑتال ختم کروانے کے لیے جیل سے باہر کردیا۔ انہوں نے کام گاروں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ہمارے لیے ہڑتال توڑنے والوں کو مارنے کے علاوہ کچھ متبادل بچانہیں تھا۔ یہ ہمارے لیے زندگی اورموت کا سوال تھا۔
بھائی بھونسلے،1982کی ہڑتال کے دوران آر۔ایم۔ایم۔ایس۔کے جنرل سیکریٹری:ہڑتال کے تین مہینے کے بعد ملوں میں کام کرنے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا…ہمارا خیال تھا کہ اگر لوگ کام پر جانا چاہتے ہیں تو انھیں جانے دو…دراصل انھیں مدد کی ضرورت تھی…جہاں تک مافیا ٹولی کے شامل ہونے کی بات ہے تومیں اس کے لیے ذمہ دار تھا…یہ دتاسامنت جیسے لوگ اپنی سہولت کے حساب سے صورت حال کا انتظار کریں گے اورآرام سے کام پرجانے والوں کا انتظار کررہے ہیں۔ ہم نے پریل اوردیگر مقامات پر مخالف گروپوں کو تیارکیاتھا۔ فطری طورپر وہاں جھگڑااور خون خرابہ ہوسکتا تھا…جب رمانائک کی موت ہوئی تواس وقت کے میئر بھج بل اس کے اعزاز میں اپنی سرکاری کار میں آئے۔ان طاقتوں کا استعمال کہیں نہ کہیں سیاست میں بہت سے لوگوں کے ذریعہ کیاگیا۔
کسن سالونکے، (سابق مل ورکر)وہ مشکل وقت تھا۔ ہم نے اپنے سارے برتن فروخت کردییے تھے۔ہمیں اپنے برتنوں کو سیدھے طورپر اٹھاکر لے جاتے ہوئے شرم آتی تھی اس لیے ہم انہیں بوریوں میں لپیٹ کربیچنے کے لیے دکانوں پر لے جاتے تھے۔ وہ ایسے دن تھے جب ہمار ے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا،صرف پانی تھا۔ہم لکڑی کے برادے کو ایندھن کی جگہ جلاتے تھے۔میرے تین بیٹے ہیں۔کئی باربچوں کے پینے کے لیے دودھ نہیں ہوتاتھا۔ مجھ سے ان کی یہ بھوک برداشت نہیں ہوتی تھی۔ میں اپنی چھتری لے کر گھر سے باہر چلا جاتا تھا۔
سندومرہنے، (سابق مل کام گار)آر۔ایم۔ایس۔والے اورغنڈے مجھے بھی زبردستی کام پر واپس لے جانے کے لیے آئے لیکن میں نے جانے سے انکار کردیا…جو عورتیں مل میں رہ کر کام کررہی تھیں ان کے ساتھ کیاہورہا تھااس بارے میں طرح طرح کی افواہیں چاروں طرف پھیلی تھیں۔ وہاں زنابالجبر کامعاملہ بھی ہواتھا۔