
6 عالم کاری اورسماجی تبدیلی
اکیسویں صدی میں سماجی تبدیلی پر کوئی بحث گلوبلائزیشن یا عالم کاری کے حوالے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔یہ فطری وجہ ہے کہ اس کتاب میںسماجی تبدیلی اورترقی کے موضوع پرتحریر ابتدائی ابواب میں اصطلاح عالم کاری اورلبرلائزیشن یانرم کاری کا ذکر پہلے ہی ہوچکاہے۔ باب4میں عالم کاری،نرم کاری اوردیہی سماج کے سیکشن کو یادکریں۔ باب5میں نرم کاری پر حکومت ہند کی پالیسی اور اس کے اثرات سے متعلق سیکشن کو دوبارہ پڑھیں۔جب ہم نے باب3میں ویزن ممبئی عالمی شہروں کے لیے نئے تصورات پر بحث کی تھی تب بھی یہ اصطلاحات استعمال ہوئی تھیں۔ اسکولی کتابوں کے علاوہ آپ نے اخباروں،ٹیلی ویژن پروگراموں یہاں تک کہ روزمرہ کی بات چیت میں بھی ان الفاظ کو پڑھاا ورسنا ہوگا۔
سرگرمی6.1
کسی بھی اخبار کو پابندی کے ساتھ دوہفتے تک پڑھیں اوریہ دیکھیں کہ عالم کاری کی اصطلاح کو استعمال کیسے ہوا ہے۔ کلاس میں اپنے ہم جماعتوں کے تبصروں سے اس کا موازنہ کریں۔مختلف قسم کے ٹیلی ویژن پروگراموں میں عالم کاری اورعالمی کا حوالہ دیجیے۔آپ سیاسی ومعاشی یاثقافتی معاملوں سے متعلق خبروں اورمباحثوں پر اپنی توجہ مبذول کریں۔

سرگرمی1سے آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ عالم کاری لفظ کا استعمال مختلف طریقوں سے کیاجاتا ہے۔تاہم ہمیں واضح طورپر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اصلاًاس اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟اس باب میں ہم عالم کاری کے معنی،اس کی مختلف جہتوں اوران کے سماجی نتائج کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
تاہم اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ عالم کاری کی صرف ایک تعریف ہوسکتی ہے اوراسے سمجھنے کا طریقہ بھی ایک ہی ہے۔ دراصل ہم یہ دیکھیں گے کہ مختلف مضامین یا تعلیمی شعبے عالم کاری کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دے سکتے ہیں۔معاشیات میں زیادہ توجہ معاشی پہلوؤں جیسے پونجی کے بہاؤ پر دی جاسکتی ہے۔سیاسیات میں حکومتوں کے بدلتے کردار پر توجہ مرکوز کی جاسکتی ہے۔تاہم عالم کاری کا عمل اتنا وسیع اوردوررس ہے کہ عالم کاری کے اسباب اورنتائج دونوں کو سمجھنے کے لیے تمام مضامین کو ایک دوسرے سے معلومات کے مبادلے کی ضرورت پڑرہی ہے۔آئیے ہم دیکھیں کہ عالم کاری کو سمجھنے میں سماجیات کاکیاکردار ہے۔
آپ سماجیات کے دائرۂ کار پرہماری ابتدائی بحث اورسماجیاتی تناظر کے امتیازی کردار کو یادکریں۔عالم کاری کو سمجھنے میں سماجیاتی تناظر کی اہمیت پرتوجہ دینے کے سلسلے میں ہم پھر تھوڑا اورپیچھے کی طرف لوٹیں گے۔
سماجیاتی مطالعے کادائرہ نہایت وسیع ہے۔یہ افراد کے درمیان جیسے دکان دار اورایک گاہک کے ساتھ،اساتذہ اورطلبا کے ساتھ، دو دوستوں یافیملی کے ممبران کے درمیان باہمی رابطے کے اپنے تجزیے پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔اسی طرح یہ اپنے تجزیے کو قومی امورجیسے بے روزگاری یاذات پات کاتنازعہ یاقبائلی لوگوں کو جنگل سے متعلق حقوق پر سرکاری پالیسی کے اثرات یا دیہی لوگوں کے قرض میں مبتلا ہونے وغیرہ تک محدود رکھ سکتا ہے یاعالمی سماجی عمل کاری جیسے مزدورطبقے سے متعلق نئے لچکدار ضوابط محنت کے اثرات یا الکٹرانک میڈیا کا نوجوانوں پر اثریا ملک کے تعلیمی نظام پر غیر ملکی یونیورسٹیوں کے داخلے کے اثرات کا جائزہ لے سکتا ہے۔اس لیے سماجیات کی ان موضوعات(یعنی فیملی،ٹریڈیونین یاگاؤں وغیرہ)سے توضیح نہیں ہوتی جن کا یہ مطالعہ کرتا ہے بلکہ اس کی توضیح ایک منتخب میدان کامطالعہ کس طرح کرنا ہے اس سے ہوتی ہے(این سی ای آر ٹی گیارھویں جماعت کی کتاب، حصہ اوّل، 2005)
اوپر دیے گئے پیراگراف کو غور سے پڑھیں۔آپ محسوس کریں گے کہ سماجیات کی تعریف کیامطالعہ کرناہے ،سے نہیں بلکہ کیسے مطالعہ کرتا ہے سے، کی گئی ہے۔اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہوگاکہ سماجیات گلوبلائزیشن کے صرف سماجی یاثقافتی نتائج کا ہی مطالعہ کرتا ہے۔یہ فرد اورسماج،خوردکلاں،مقامی اورعالم گیر کے درمیان رشتوں کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سماجیاتی تخیل کااستعمال کرتا ہے۔ ایک دوردراز کے گاؤں میں رہنے والا کسان عالمی تبدیلی سے کیسے متاثر ہوتا ہے؟عالم کاری متوسط طبقے کے لوگوں کے روزگار کے مواقع پر کس طرح اثرانداز ہواہے؟اس نے بڑے ہندوستانی کارپوریشنوں کو کثیر ملکی کاروباری ادارہ بننے کے امکانات پر کیسے اثر ڈالاہے؟ اگر خوردہ فروشی کی تجارت کا میدان کثیرقومی بڑی کمپنیوں کے لیے کھول دیاجاتا ہے توپڑوسی کے کرانے کے دکان داروں پر اس کا کیااثر پڑے گا؟ آج ہمارے شہروں اورقصبوں میں اتنے بڑے بڑے شاپنگ مال کیوں ہیں؟آج نوجوانوں میں اپنا خالی وقت گزارنے کا طریقہ کیسے بدل گیا؟ ہم عالم کاری کے ذریعہ لائی جانے والی مختلف قسم کی جامع تبدیلیوں کی چندمثالیں دیتے ہیں۔آپ خود بھی ایسی کئی مثالیں بتاسکیں گے جن سے پتہ چلے گا کہ عالمی پیش رفت وحالات کا عام لوگوں کی زندگی پر کس طرح اثرپڑرہا ہے۔اس سے وہ طریقہ بھی اثرانداز ہورہا ہے جس کے ذریعہ سماجیات کو سماج کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔
بازار کو کھولنے اوربہت سی اشیا کی درآمد پر پابندیاں ہٹالینے سے ہم دنیا کے مختلف گوشوں کی زیادہ سے زیادہ اشیا اپنی قریبی دکانوں پر حاصل کرلیتے ہیں۔ یکم اپریل2001سے درآمدپر لگی سبھی قسم کی مقداری پابندیوں کو ہٹالیاگیا۔ اب یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی کہ آپ کو مقامی پھل کی دکان پر چین کی ناشپاتی اورآسٹریلیا کاسیب دیکھنے کوملے۔ قریبی دکان میں آپ کو آسڑیلیائی سنترے کاجوس اوربرف میں جمے پیکٹوں میں تلنے کے لیے تیار چپس مل جائیں۔ہم اپنی فیملی اوردوستوں کے ساتھ کیا کھاتے پیتے ہیں سب دھیرے دھیرے تبدیل ہورہا ہے۔ پالیسی تبدیلیوں کاایک ہی نمونہ صارفین اورپیداکاروں پر الگ الگ اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی جہاں ایک طرف شہری اورخوش حال صارفین کے لیے زبردست متبادل کی صورت پیداکرسکتی ہے وہیں ایک کسان کے لیے روزی روٹی کا سنگین مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔یہ تبدیلیاں انفرادی ہیں کیونکہ یہ افراد اوران کی طرززندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ان کابلاشبہ تعلق حکومت کے ذریعہ اپنائی جانے والی عوامی پالیسیوں سے اورعالمی تجارتی تنظیم(WTO)کے ساتھ اس کے معاہدے سے ہوتا ہے۔ اسی طرح بڑی پالیسی تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک ٹیلی ویژن چینل کے بجائے آج واقعتا بے شمار چینل ہیں۔میڈیا میں ڈرامائی تبدیلی غالباًعالم کاری کے اثر ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔اگلے باب میں ہم اس پر زیادہ تفصیل سے بحث کریں گے۔یہ محض چندہی مثالیں ہیں لیکن یہ آپ کی ذاتی زندگی اورعالم کاری کی دوررس ظاہری پالیسیوں کے درمیان موجود قریبی باہمی رابطوں کاجائزہ لینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔جیسا کہ پہلے بیان کیاگیا ہے کہ سماجیاتی تخیل خورد وکلاں کے اورذاتی وعوامی کے درمیان رابطہ قائم کرسکتی ہے۔
سماجیات کی تعریف اکثر ایک ایسے مضمون کے طورپر کی جاتی ہے جو’سماج‘کامطالعہ کرتا ہے ۔گیارھویں جماعت کی کتاب 1میں اپنی بحث کویاد کریں کہ سماج کی سرحدوں کو متعین کرنا آسان نہیں ہے۔ گاؤں کے مطالعے کا مطلب نہ یہ کہ صرف مختلف سماجی گروہوں اوران کے سماج کا مطالعہ ہے بلکہ اس مطالعے میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس گاؤں کا سماج باہری دنیا سے کیسے وابستہ ہے۔یہ وابستگی پہلے کے مقابلے زیادہ معقول ہے۔ایک ماہرسماجیات یاماہر سماجی انسانیات سماج کامطالعہ الگ وجود کی شکل میں نہیں کرسکتا۔ جگہ اوروقت کی دوریاں سکڑجانے کے سبب یہ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ماہرین سماجیات کو ان عالمی بین رابطے کوذہن میں رکھتے ہوئے گاؤں،خاندانوں،نقل وحرکت،بچوں کی پرورش،کام وفرصت،دفترشاہی تنظیموں یاذاتوں کامطالعہ کرناہوگا۔ان مطالعات میں عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کازراعت اوراس بنا پر کسانوں پر پڑنے والے اثرات کو بھی ذہن میں رکھناہوگا۔
عالم کاری کااثر دوررس ہوتا ہے۔یہ ہم سبھی پر اثر اندازہوتا ہے لیکن اس کااثر ہر ایک کے لیے الگ الگ ہوتا ہے۔اس طرح جہاں کچھ کے لیے اس کا مطلب نئے مواقع کاحاصل ہونا ہوسکتا ہے وہیں دوسروں کے لیے یہ ذریعۂ معاش سے محرومی بھی ہے۔جب چینی اورکوریائی ریشم کے دھاگے بازار میں آئے توبہار کی ریشم کاتنے اوردھاگا بنانے والی عورتوں کو اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑا۔ بنکر اورصارفین اس دھاگے کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ یہ کسی حدتک سستا اورچمک دار ہوتا ہے۔ ہندوستان کے سمندروں میں بڑے بڑے مچھلی پکڑنے والے جہازوں کے آجانے سے اسی طرح کی بے دخلی واقع ہوئی۔ ان جہازوں کے ذریعہ مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جنھیں کبھی پہلے ہندوستانی مچھلی پکڑنے کے جہازوں کے ذریعہ اکٹھا کیاجاتاتھا۔ اسی طرح مچھلی کو چھاننے،خشک کرنے، فروخت کرنے اورجال بنانے والی عورتوں کی روزی روٹی پرخراب اثرپڑا۔ گجرات میں گونداکٹھاکرنے والی عورتیں جو’جولی پھرا‘یا باول کے پیڑوں سے گونداکٹھاکرتی تھیں سوڈان سے سستی گوند کی درآمد کی و جہ سے اپنے روزگار سے محروم ہوگئیں۔ ہندوستان کے تقریباًسبھی شہروں میں ردی چننے والے لوگ کچھ حد تک اپنے روزگار سے محروم ہوئے کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں سے ردی کاغذ کی درآمد ہونے لگی ہے۔ اسی باب میں ہم آگے دیکھیں گے کہ روایتی تماشاگر کے پیشوں پر اس عالم کاری کاکیا اثرپڑاہے۔
یہ ظاہر ہے کہ عالم کاری کی سماجی اہمیت کافی زیادہ ہے۔لیکن جیساکہ آپ نے دیکھاسماج کے مختلف طبقوں پر اس کا اثر کافی الگ الگ ہے۔اس لیے عالم کاری کے اثر کے بارے میں لوگوں کے خیالات ایک جیسے نہ ہوکریکسر مختلف ہیں۔بعض کویقین ہے کہ عالم کار ی اس لیے ضروری ہے کہ یہ ایک بہتردنیا کی آمد کااعلان کرتا ہے۔ دوسروں کو ڈر ہے کہ لوگوں کے مختلف طبقات پرعالم کاری کااثر الگ ہوتا ہے۔وہ دلیل دیتے ہیں کہ جہاں زیادہ مراعات یافتہ طبقے کے بہت سے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں وہیں مراعات سے محروم آبادی کے بڑے حصے کی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عالم کاری کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ اگلے دوسیکشن میں ان امور پر بحث کرتے ہوئے۔ ہم یہ بھی پتہ لگائیں گے کہ قدیم دورمیں عالمی سطح پر ہندوستان کے بین رابطے کیسے تھے۔ ہم یہ بھی جانچ کریں گے کہ واقعی عالم کاری کی بعض امتیازی خصوصیات کیاہیں؟
6.1کیا عالمی بین رابطے دنیا اورہندوستان کے لیے نئے ہیں؟(Are Global Interconnections New to World and to India؟)
اگر عالم کاری عالمی بین روابط کے بارے میں ہے تو ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیاواقعی یہ کوئی نیا مظہرہے؟کیا ہندوستان اوردنیا کے مختلف حصے ابتدائی ادوار میں آپس میں بین عمل نہیں کرتے تھے؟
ابتدائی سال(The Early Years)
ہندوستان آج سے دوہزارسال پہلے بھی دنیا سے الگ نہیں تھا۔ ہم نے تاریخ کی درسی کتاب میں مشہور شاہراہ ریشم کے بارے میں پڑھا ہے۔یہ شاہراہ صدیوں پہلے ہندوستان کو ان عظیم ثقافتوں سے جوڑتی تھی جو چین،فرانس،مصر اورروم میں واقع تھی۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان کے طویل ماضی کے دوران،دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ کبھی تاجروں کی شکل میں،کبھی فاتح کے طورپراور کبھی نئے مقامات کی تلاش میں مہاجروں کے طورپر یہاں آئے اور بس گئے۔دوردراز کے گاؤں میں اکثر لوگ ایسے زمانے کو یادکرتے ہیں جب ان کے آباواجداد کہیں اوررہا کرتے تھے جہاں سے وہ آئے تھے اوروہاں بس گئے جہاں وہ اب رہتے ہیں۔
باکس6.1
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ سنسکرت زبان میںماہر صرف ونحو(قواعد زبان)،پاننی جس نے قبل مسیح چوتھی صدی کے آس پاس سنسکرت کے قواعد اورصوتیات کو مرتب اورتبدیل کیاتھا، افغان نژاد تھا…ساتویں صدی کا چینی دانشور ای جنگ نے چین سے ہندوستان کے اپنے راستے جاوا(سری وجے کے شہر میں)میں سنسکرت سیکھی تھی۔بین عمل کااثر تھائی لینڈسے ملایا،انڈوچائنا، انڈونیشیا، فلپائن، کوریااورجاپان تک پورے ایشیا میں زبانوں اورفرہنگوں پر دکھائی دیتا ہے…ہمیں’کوپ منڈوک‘(کنویں کے مینڈک)سے متعلق ایک تمثیلی حکایت میں’بے تعلقی کے رویے‘کے خلاف تنبیہ ملتی ہے۔ اسے متعدد پرانی سنسکرت کتابوں میں باربار دہرایاگیا ہے۔ کوپ منڈوک ایک مینڈک ہے جو زندگی بھر ایک کنویں میں رہتاہے۔وہ اورکچھ نہیں جانتا اورباہر کی ہر چیز کے بارے میں شک کرتا ہے۔وہ کسی سے بات نہیں کرتا اورکسی کے ساتھ بھی موضوع پر استدلال نہیں کرتا۔ اسے توبس باہری دنیا کے بارے میں اپنے دل میں شک ہے۔دنیا کی سائنسی،ثقافتی اورمعاشی تاریخ درحقیقت بہت ہی محدود ہوتی اگر ہم کنویں میں رہنے والے اس مینڈک کی طرح زندگی گزارتے۔(سین2005:84–86)
بین الاقوامی باہمی تعاملی یہاں تک کہ عالم گیر نظریہ بھی اسی طرح جدید دور کے لیے نئی ترقیاں انفرادیت یا جدید ہندوستان کے لیے منفرد نہیں ہے۔
استعماریت اورعالمی ربط(Independent India and The World)
ہم نے جدید ہندوستان میں سماجی ترقی کی کہانی نوآبادیاتی دورسے شروع کی تھی۔آپ نے باب1میں پڑھا کہ جدید سرمایہ داری کا اس کی ابتدا میں سے ایک عالم گیر پہلورہا ہے۔استعماریت اس نظام کاایک حصہ تھی جسے پونجی،خام مواد،توانائی ،بازار کے نئے وسائل اورایک ایسے نیٹ ورک کی ضرورت تھی جو اسے قائم رکھ سکے۔آج عالم کاری یا گلوبلائزیشن کی شناخت ایک توضیحی خاصیت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل وحرکت یاہجرت کے طورپر کی جاتی ہے۔تاہم،آپ جانتے ہیں کہ غالباًلوگوں کی سب سے بڑی نقل وحرکت یورپی لوگوں کی ہجرت (ترک وطن)تھی جوامریکہ اورآسٹریلیا میں بس گئے تھے۔آپ یادکریں گے کہ کس طرح ہندوستان سے معاہدے کے ذریعہ پابندمزدوروں کو جہازوں میں بھر کر ایشیا،افریقہ اورشمالی جنوبی امریکہ کے دوردراز کے علاقوں میں کام کرنے کے لیے لے جایاگیااورغلامی کی تجارت کے تحت ہزاروں افریقیوںکو دوردراز ملکوں میں بھیج دیا گیا۔
آزاد ہندوستان اوردنیا(Independent India and The World)
آزاد ہندوستان نے عالم گیرزاویۂ نگاہ اپنائے رکھاجوکئی معنوں میں ہندوستانی قوم پرست تحریکوں سے وراثت میں ملاتھا۔پوری دنیا میں آزادی کی جدوجہد کے لیے پیمان وابستگی اوردنیاکے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ یکجہتی اس تصور کا لازمی جزوتھا۔ بہت سے ہندوستانیوں نے تعلیم اورکام کے حصول کے لیے سمندرپارسفر کیا۔ نقل وطن ایک جاری رہنے والا عمل تھا۔ خام مال،اشیا اورٹکنالوجی کی برآمد درآمد آزادی کے بعد سے ہی ترقی کاایک اہم حصہ بنی رہی۔ غیرملکی کمپنیاں ہندوستان میں عمل پذیر تھیں۔لہٰذاہمیں خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا تبدیلی کاموجودہ عمل بنیادی طورپر اس عمل سے مختلف ہے جسے ہم نے ماضی میں دیکھاتھا۔
6.2عالم کاری کی فہم(Understanding Globalisation)
ہم نے دیکھاکہ ابتدائی دورسے ہی کروی دنیا کے ساتھ ہندوستان کے رشتے امتیازی اہمیت کے حامل تھے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مغربی سرمایہ داری جیسا کہ وہ یورپ میں ابھری،استعماریت کی شکل میں دیگرملکوں کے وسائل پر عالم گیر کنٹرول کے ذریعہ قائم ہوئی۔تاہم،اہم سوال یہ ہے کیا عالم کاری محض عالم گیر بین رابطوں سے متعلق ہے یاپیداوار اورمواصلات،محنت اورپونجی کی تقسیم کے سرمایہ دارانہ نظام،ٹکنالوجی سے متعلق اختراع اورثقافتی تجربات،حکمرانی کے طریقوں اورسماجی تحریکوں میں کچھ اہم تبدیلیوں کے حوالے سے ہے۔یہ تبدیلیاں اہم ہیں اگرچہ کچھ نمونے سرمایہ داری کے ابتدائی مراحل میں پہلے بھی ظاہر ہوئے تھے۔کچھ ایسی تبدیلیوں کے ذریعہ جو مواصلاتی انقلاب سے پیداہوئیں ہمارے کام اورزندگی کے طورطریقوں کی زبردست طریقے میں کایاپلٹ ہوئی ہے۔
ہم ذیل میں عالم کاری کی چند امتیازی خصوصیات کے بارے میں بتانے کی کوشش کریں گے۔ آپ ان کاپوری طرح تجزیہ کرنے کے بعد محسوس کریں گے کہ کیوں عالم گیر بین رابطے کی براہ راست تعریف عالم کاری کی گہرائی اورپیچیدگی کو واضح نہیں کرپاتی۔
عالم کاری سے مرادجوں جوں سماجی اورمعاشی رشتے عالم گیر پیمانے پر وسیع ہورہے ہیں ویسے ویسے ،دنیاکے خطوں اور ملکوں کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار کابڑھناہے۔اگرچہ معاشی قوتیں عالم کاری کالازمی جزو ہیں تاہم یہ کہناغلط ہوگاکہ اکیلے ہی یہ اس کی تشکیل کرتی ہیں۔اطلاعات اورمواصلات کی ترقی کے ذریعہ ہی یہ سب سے زیادہ آگے بڑھا ہے کیونکہ ان سے پوری دنیا کے لوگوں کے درمیان باہمی رابطے کی رفتار اوردائرہ میں بڑھااورگہراہواہے۔مزیدبرآں جیساکہ ہم دیکھیں گے کہ سیاسی سیاق وسباق میں بھی اسے وسعت حاصل ہوئی۔آئیے عالم کاری کی مختلف جہتوں پر ایک نظرڈالیں۔اپنی بحث کو مزید آسان بنانے کے لیے ہم معاشی،سیاسی اورثقافتی پہلوؤں پر الگ الگ غورکریں گے۔تاہم آپ یہ بھی محسوس کریں گے یہ کیسے مربوط ہیں اورکتنا ایک دوسرے سے گہرائی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
عالم کاری کی مختلف جہات(The Different Dimensions of Globalisation)
معاشی(The Economic)
ہندوستان میں ہم لبرلائزیشن(نرم کاری)اورگلوبلائزیشن(عالم کاری)دونوں اصطلاحات کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔یہ دراصل ایک دوسرے سے متعلق توہیں لیکن ایک جیسی نہیں ہیں۔ہندوستان میں ہم نے دیکھا کہ ریاست نے1991میں اپنی معاشی پالیسی میں تبدیلی لانے کافیصلہ کیا۔ ان تبدیلیوں کو لبرلائزیشن کی پالیسی کے طورپر بیان کیاجاتاہے۔
a۔ لبرلائزیشن کی معاشی پالیسی
عالم کاری میں پوری دنیا میں سماجی اورمعاشی رشتوںکی توسیع شامل ہے۔اس وسعت کی حوصلہ افزائی چند معاشی پالیسیوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔مجموعی طورپر اس عمل کوہندوستان میں لبرلائزیشن یانرم کاری کہاجاتا ہے۔نرم کاری اصطلاح سے مراد ایسے متعدد پالیسی فیصلے سے ہے جو حکومت ہند کے ذریعہ1991میں ہندوستانی معیشت کو عالمی بازار کے لیے کھول دینے کے مقصد سے لیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی معیشت پرکنٹرول رکھنے کے لیے حکومت کے ذریعہ اس سے پہلے اپنائی جانے والی پالیسیوں پرپابندی لگ گئی۔حکومت نے آزادی کے حصول کے بعد کئی ایسے قانون بنائے جن کے ذریعہ یہ یقینی بنایاگیاکہ ہندوستانی بازار اورملکی کاروبار وسیع عالمی مسابقت سے محفوظ رہیں۔اس پالیسی کے پس پردہ یہ مفروضہ تھا کہ استعماریت سے آزاد ملک آزاد بازار کی حالت میں خسارے میں رہے گا۔آپ باب1میں استعماریت کے معاشی اثرات کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ حکومت کو یہ بھی یقین تھا کہ اکیلابازار ہی لوگوں کی فلاح وبہبود بالخصوص بنیادی سہولیات سے محروم طبقے کاخیال نہیں رکھ سکے گا۔یہ محسوس کیاگیا کہ عوام کی فلاح وبہبود کے لیے حکومت کو اہم ذمہ داری نبھانی چاہیے۔جیساکہ آپ نے باب3میں پڑھا کہ ہندوستانی آئین سازوں کے لیے سماجی انصاف کامسئلہ کتنا اہم تھا۔
معیشت کی نرم کاری کا مطلب ہندوستانی تجارت کو باضابطہ بنانے والے اصولوں اورمالیاتی ضوابط کو ہٹادیناتھا۔ان تدابیر کومعاشی اصلاحات بھی کہاجاتاہے۔یہ اصلاحات کیاہیں؟جولائی1991سے ہندوستانی معیشت نے اپنے سبھی اہم میدانوں (زراعت،صنعت،تجارت،غیرملکی سرمایہ کاری، ٹکنالوجی،عوامی شعبہ اورمالیاتی ادارے وغیرہ)میںاصلاحات کاایک طویل سلسلہ دیکھا ہے۔بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ عالمی بازار میںزیادہ سے زیادہ شمولیت ہندوستانی معیشت کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
لبرلائزیشن کے عمل میں بین الاقوامی اداروں جیسے بین الاقوامی زری فنڈ (IMF)سے قرض لینا بھی شامل تھا۔یہ قرض متعینہ شرائط پر دیے جاتے ہیں۔حکومت کوبعض قسم کے اقدامات کرنے کے وعدے کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔ان اقدامات میں ساختی تطابق کی پالیسی شامل ہے۔ان تطابق یاموافقت میں عام طورپر سماجی شعبوں جیسے صحت،تعلیم اورسماجی تحفظ میں حکومت کے اخراجات میںکمی کرنا شامل ہوتا ہے۔ دیگر بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی تجارتی تنظیم(WTO)کے حوالے سے بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے۔

b۔ کثیرملکی کاروباری ادارے
عالم کاری کو متحرک کرنے والے بہت سے معاشی عوامل میں کثیرمملکتی کارپوریشن (TNCs)کے کردار کی خصوصی اہمیت ہے۔ٹی این سی وہ کمپنیاں ہیں جو ایک سے زائد ملکوں میں اشیا یا خدمات پیش کرتی ہیں۔یہ نسبتاً چھوٹی فرمیں بھی ہوسکتی ہیں۔ان کے ایک دوکارخانے اس ملک سے باہر ہوتے ہیں جہاں وہ بنیادی طورپر واقع ہیں۔یہ بہت بڑے کاروباری ادارے بھی ہوسکتے ہیں جن کاکاروبارپوری دنیا میں پھیلاہواہو جیسے کوکاکولا،جنرل موٹرز،کولگیٹ۔پاپولر،کوڈک متسوبشی اور بہت سی دوسری کمپنیاں۔اگر ان کی ایک واضح قومی بنیادی ہو تب بھی یہ عالمی بازاروں اورعالم گیر منافع رخی ہوتی ہیں۔کچھ ہندوستانی کارپوریشن بھی کثیرقومی بن رہے ہیں،لیکن ہم یہاں یقینی طورپر نہیں کہہ سکتے کہ مجموعی طورپر ہندوستان کے عوام کے لیے اس رجحان کاکیا مطلب ہوسکتا ہے۔
c۔ الکٹرانک معیشت
الکٹرانک معیشت ایک اورعامل ہے جو معاشی عالم کاری کوسہارادیتا ہے۔کمپیوٹر کے ماؤس کومحض دہانے سے بینک،کارپوریشنز،فنڈ منیجراورانفرادی سرمایہ کار اپنے فنڈ کو بین الاقوامی سطح پر منتقل کرسکنے کے اہل ہوتے ہیں۔حالانکہ اس طرح فوری الکٹرانک زربھیجنے کا یہ طریقہ نہایت دشوار گزاربھی ہے۔ہندوستان میں اکثر اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے اتارچڑھاؤ کے حوالے سے بحث کی جاتی ہے جوغیرملکی اصل کاروں کے ذریعہ منافع کے لیے اچانک بڑی مقدار میں اسٹاک خریدنے یافروخت کرنے کے سبب پیداہوتا ہے۔ایسے تبادلے مواصلاتی انقلاب کی وجہ سے ممکن ہوئے ہیں جس کے بارے میں ہم آگے بحث کریں گے۔

سرگرمی6.2
کثیرمملکتی کاروباری اداروں کے ذریعہ تیارایسی اشیا کی فہرست بنائیں جن کااستعمال آپ کرتے ہیں یاآپ نے بازار میں دیکھا ہے یاجن کے اشتہارات کوآپ نے سنایادیکھا ہے۔اس طرح کی تیار اشیاکی فہرست بنائیں جیسے:
⇐ جوتے
⇐ کیمرے
⇐ کمپیوٹر
⇐ ٹیلی ویژن
⇐ کاریں
⇐ میوزک سسٹم
⇐صابن یاشیمپو جیسے زیب وزینت کاسامان
⇐ کپڑے
⇐ پروسس کی ہوئی غذا
⇐ چائے
⇐ کافی
⇐ دودھ پاوڈر
d۔ بے وزن معیشت یاعلم پر مبنی معیشت
عالم کاری گزشتہ ادوار کے برعکس اب ابتدائی طورپر زراعت یاصنعت پر مبنی نہیں ہے۔ بے وزن معیشت وہ ہوتی ہے جس میں پروڈکٹ معلومات یااطلاع پر مبنی ہوتے ہیں جیسے کمپیوٹر،سافٹ ویئر،میڈیا اورتفریح سے متعلق اشیا اورانٹرنیٹ پر مبنی خدمات۔علم پر مبنی معیشت وہ ہوتی ہے جس میں زیادہ تر قوت محنت مادی پیداوار یا مادی اشیا کی تقسیم میں نہیں شامل ہوتی بلکہ ان کے ڈیزائن،ترقی،ٹکنالوجی،مارکیٹنگ،فروخت اورخدمات میں لگی ہوتی ہے۔اس معیشت میں آپ کے پڑوس میں واقع کھانے پینے کی انتظامی خدمات سے لے کربڑی بڑی ایسی تنظیم بھی شامل ہوتی ہے جو کانفرنسوں جیسی کاروباری تقریبات سے لے کر شادی جیسی فیملی تقریبات کے لیے میزبانی کی اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ایسے بھی بہت سے نئے نئے کاروبار ہیں جن کے بارے میں چند دہائیوں پہلے نہیں سنا گیاتھا۔ مثال کے طورپر پروگرام(event)منیجر۔کیاآپ نے ان کے بارے میں سنا ہے۔ اسی طرح کی کن ہی نئی خدمات کے بارے میں دریافت کیجیے۔
باکس6.2
ہم میں بہت سے لوگ ہوا میں پیسہ کمالیتے ہیں:ہم ایسا کچھ تیارنہیںکرتے جن کا وزن کیاجاسکے،لمس ہویا آسانی سے اس کی پیمائش کی جاسکتی ہو۔ہماری پیداوار بندرگاہوں پرڈھیرلگاکر اکھٹی نہیں کی جاتی،مال گودام میں نہیں رکھی جاتی یاریلوے کے مال ڈبوں میں بھر کر بھیجی نہیں جاتی۔ہم میں زیادہ تر لو گ اپنی روزی روٹی خدمات فراہم کرکے فیصلہ،اطلاع اورتجزیہ کرنے کے ذریعہ کرتے ہیں۔بھلے ہی ہم اپناکام کسی ٹیلی فون کال سنٹر،وکیل کے آفس،سرکاری محکمے اورکسی سائنسی تجربہ گاہ میں انجام دیتے ہوں۔ہم تھن ایئر(Thin-air)کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔
ماخذ:چارلس لیڈ بیٹر1999 لیونگ آن تھن ایئر:دی نیواکنامی(لندن ویکنگ)
باکس6.2کے لیے مشق
1۔ اپنے قریبی پڑوس سے معلوم کریں کہ وہاں کے نو جوان کس طرح کی ملازمت کرتے ہیں۔ان کاموں کی فہرست بنائیں۔ آپ کے خیال میں کتنے لوگ کسی نہ کسی شکل میں خدمات فراہم کرنے میں لگے ہیں۔ بحث کریں۔
2۔ اپنے کلاس سے پتہ لگائیں کہ آپ کے ہم جماعت مستقبل کے بارے میں کسی طرح کا منصوبہ بنارہے ہیں؟ بے وزن معیشت کے حوالے سے بحث کریں۔
سرگرمی6.3
⇐ ٹیلی ویژن پر اُن چینلوں کی تعدادشمارکریں جو کاروباری ہیں اوراسٹاک بازاروں،غیرملکی راست سرمایہ کاریوں کے بہاؤ،مختلف کمپنیوں کی مالی رپورٹیں وغیرہ پیش کرتے ہیں۔ آپ حسب خواہش ہندوستانی زبان کے چینل یا انگریزی چینلوں پر اپنی توجہ مبذول کرسکتے ہیں۔
⇐ مالیات سے متعلق چند اخباروں کے نام دریافت کریں۔
⇐ کیاعالمی رجحانات پر کسی طرح کا فوکس دیکھتے ہیں؟بحث کیجیے۔
⇐ آپ کے خیال میں کیا ان رجحانات کے سبب ہماری زندگیاں متاثر ہوئی ہیں؟
e۔ مالیات کی عالم کاری
یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ پہلی بارخاص طورپر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے سبب مالیات کاعالم کاری ہوا ہے۔عالمی طورپر مربوط مالیاتی بازارالکٹرانک حلقے میں سینکڑوں اوراربوں ڈالر کاتبادلہ ہیں۔ پونجی اورسیکورٹی یا ضمانتی بازاروں میں24گھنٹے تجارت چلتی رہتی ہے۔نیویارک،ٹوکیواورلندن جیسے شہرمالیاتی تجارت کے اہم مراکز ہیں۔ہندوستان میں ممبئی کو ملک کی مالیاتی راجدھانی کہاجاتا ہے۔
عالمی مواصلات(Global Communications)
ٹیکنالوجی اورعالمی ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی اہم پیش رفت سے عالمی مواصلات میں انقلابی تبدیلیاں پیداہوئی ہیں۔ اب کچھ گھروں اوربہت سے دفاتر میں باہری دنیا کے ساتھ رابطہ بنانے کے متعددذرائع موجود ہیں؛جیسے ٹیلی فون (لینڈلائن اورموبائیل دونوں قسم کے)،فیکس مشینیں،ڈجیٹل اورکیبل ٹیلی ویژن،الکٹرانک میل اورانٹرنیٹ وغیرہ۔
آپ میں بعض کو ایسی بہت سی جگہوں کے بارے میں پتہ ہوگا اورکچھ کو نہیں بھی ہوگا۔ہمارے ملک میں اسے اکثر ’ڈجیٹل ڈیوائڈ‘کااشاریہ ماناجاتا ہے۔اس ڈجیٹل تقسیم کے باوجود ٹکنالوجی کی یہ مختلف شکلیں وقت اوردوری کو سمیٹ دیتی ہیں۔سیارے کے مخالف جانب بنگلوراورنیویارک میں بیٹھے دوافرادنہ صرف یہ کہ بات چیت کرسکتے ہیں بلکہ دستاویزوں اورتصویروں کو سٹیلائٹ ٹکنالوجی کی مدد سے ایک دوسرے کو بھیج بھی سکتے ہیں۔ عالم کاری کے عمل نے دنیا میں نیٹ ورک سوسائٹی اور میڈیا سوسائٹی کوقائم کیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان باہمی تعلقات قائم ہوئے ہیں۔لیکن اس میں ابھی موثر اور اہم سدھار کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں حکومت ہند نے اس ضمن میں ایک جانب پر متعدد امکانا ت والے منصوبہ ’’ڈجیٹل انڈیا‘‘ کی شروعات کی ہے۔جو ہر طرح کے تبادلہ میں (ڈجیٹلائزیشن کو امدادی وحدت کی صورت میں قائم کرے گی ۔ یہ قدم ہندوستان میں ایک ایسے تبادلہ کو وجود بخشے گا جو ڈجیٹل اعتبار سے طاقتور ہندوستانی سماج، علم اور معاشی نظام کووسعت دے گا۔ آپ نے گزشتہ ابواب میں دیکھا کہ بیرونی وسائل سے کیسے کام لیا جاتا ہے۔


سرگرمی6.4
⇐ کیاآپ کے پڑوس میں کوئی انٹرنیٹ کیفے ہے؟
⇐ اس کے استعمال کنندگان کون ہیں؟وہ انٹرنیٹ کاکس طرح کااستعمال کرتے ہیں؟
⇐ کیایہ کام کے لیے ہے؟کیا یہ تفریح کی کوئی نئی شکل ہے؟
⇐ کیا آپ کے پڑوس میں کوئی STDیاISDٹیلی فون بوتھ ہے؟کیا یہاں کوئی فیکس کی بھی سہولت ہے؟
باکس6.3
1990کی دہائی میں عالم گیر سطح پر انٹرنیٹ کااستعمال بہت زیادہ بڑھ گیا۔1998میں دنیا بھر میں7کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے تھے۔ان میں سے62فی صدی ریاست ہائے متحدہ امریکا اورکناڈا میں تھے جب کہ12فی صد ایشیا میں تھے۔2000 تک انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد بڑھ کر32.5کروڑ ہوگئی۔ہندوستان میں2000تک انٹرنیٹ کے گاہکوں کی تعداد 30لاکھ ہوگئی ۔پھر1.5کروڑ لوگ اس کا استعمال کرنے لگے اس زبردست اضافے کی وجہ پورے ملک میں سائبر کیفے کی بھرپور دستیاب تھی۔(سنگھل اورروجرس2001:235)
2017-18کی ایک تحقیق کے مطابق10گھروں میں سے ایک گھر میں کمپیوٹر ہے۔ تقریباً سبھی گھروں کے ایک چوتھائی گھروں میں موبائل فون یا دوسرے ذرائع سے انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی ہے۔ ان اعداد شمار سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کمپیوٹر تیزی سے بڑھتی تعداد کے باوجود اس سہولت کے استعمال کنندگان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے۔ سائبر کینکٹویٹی زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود ہے جو کہ سائبر کیفے کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن دیہی علاقوں میں جہاں بڑے پیمانے پربجلی کی کٹوتی ،ناخواندگی اور ٹیلی فون جیسی سہولیات کی عدم موجودگی ہے اس کو غیر متعلق بنائے ہوئی ہے۔
باکس6.4
ہندوستان میں ٹیلی مواصلات کی توسیع
جب ہندوستان نے1947میں آزادی حاصل کی اس وقت اس نئے ملک میں84,000ٹیلی فون لائنیں35کروڑ کی آبادی کے لیے تھیں۔تینتیس سال بعد1980تک بھی ہندوستان کی ٹیلیفون خدمات بہتر نہیں تھیں؛تب70کروڑ کی آبادی کے لیے صرف 25لاکھ ٹیلی فون اور12,000پبلک فون تھے اورہندوستان کے6,00,000گاؤں میںسے صرف 3 فی صدمیں ہی ٹیلی فون لگے ہوئے تھے۔ 1990کی دہائی کے آخر ی سالوں میں ٹیلی مواصلاتی صورت حال میں زبردست تبدیلی پیداہوئی۔1999تک ہندوستان میں2.5کروڑٹیلی فون لائنیں لگ چکی تھیں؛جو ملک کے300شہروں، 4,869قصبوں اور310,897گاؤں میں پھیلی ہوئی جن کے سبب ہندوستان کا ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورک دنیا میں نواں سب سے بڑانیٹ ورک بن گیا۔
…1988اور1998کے درمیان کسی نہ کسی طرح کی سہولیت والے گاؤں کی تعداد27,316سے بڑھ کر300,000(یعنی ہندوستان میں گاؤں کی کل تعداد سے آدھی)ہوگئی۔2000تک کوئی 6,50,000پبلک کال آفس(PCO)ہندوستان میں دوردور تک دیہی پہاڑوں اورقبائلی علاقوں میں معتبرٹیلی فون خدمات فراہم کرنے لگے تھے جہاں ٹیلی فون کرنے کے خواہش مندا فراد آرام سے(پیدل چل کر)جاتے،ٹیلی فون کرتے اورمیٹرکے ذریعہ آنے والے بل کو اداکرتے۔
اس طرح پی سی او کی سہولت دستیاب ہوجانے سے فیملی ممبران کے ساتھ رابطہ بنائے رکھنے کی ہندوستانی لوگوں کی ایک زبردست سماجی وثقافتی ضرورت پوری ہوگئی۔جیسے ہندوستان میں شادی وغیرہ کی تقریبات میں شامل ہونے ، رشتہ داروں کے پاس جانے ، اورآخری رسوم وغیرہ میں شرکت کے لیے ٹرین سے سفرپسندیدہ ذریعہ ہے،ویسے ہی ٹیلی فون بھی قریبی فیملی بندھنوں کو قائم رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ماناجاتا ہے۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ٹیلی فون سے متعلق خدمات کے زیادہ تر اشتہارمیں ماں کو بیٹے بیٹیوں سے اوردادا دادی یا نانانانی کو پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں سے بات کرتے ہوئے دکھایاجاتا ہے۔ ہندوستان میں ٹیلی فون کی توسیع کمرشیل استعمال کے علاوہ اپنے استعمال کنندہ کے لیے ایک مضبوط سماجی وثقافتی عمل بھی انجام دیتی ہے۔ (سنگھل اورروجرس2001:188–89)
باکس6.2 کے لیے مشق
ذاتی رشتوں اورٹیلی مواصلات پر ایک مضمون لکھیے۔
سیلولر ٹیلی فون میں بھی زبردست اضافہ ہوااورزیادہ تر شہر میں رہنے والے متوسط طبقہ کے نوجوانوں کے لیے سیل فون ان کی ذات کا ایک جزوبن گیااس طرح سیل فون کے استعمال میں بھی اضافہ ہوااورطریقوں میں بھی کافی تبدیلی دکھائی دی ۔حسب ذیل باکس میں دی گئی معلومات ان تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے:
باکس6.5
1998میں وزارت داخلہ حکومت ہند نے موبائل ٹیلی فون کے لیے پیشگی ادائیگی کے نقد کارڈوں کی کھلی فروخت پر پابندی لگادی،اوردلیل یہ دی کہ نقد پیشگی ادائیگی کارڈوں کااستعمال جرائم پیشہ لوگ کررہے ہیں جس سے تفتیش کرنے والوں کومجرموں کا پتہ لگانے میں دشواری ہوتی ہے۔تاہم مجرموں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے ٹیلی فون کارڈوں کی تعداد کل تعداد کے مقابلے بالکل برائے نام ہے۔ٹیلی فون آپریٹروں کے لیے یہ احکامات صادر کردیے گئے کہ کسی بھی گاہک کو نقد کارڈوں کی خوردہ فروشی سے پہلے اس کے نام اورپتے کی تصدیق ضرور کرلیں۔نجی آپریٹروں کاماننا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کے تقریباً50فی صد حصے سے اس غیرضروری تصدیق سے محروم ہورہے ہیں۔
موبائل ٹیلی فون کے نئے گاہکوں کی تعداد میں1998میں تقریباً 50فی صد کی کمی آئی جب ہندوستانی انکم ٹیکس محکمے نے یہ حکم دیا کہ موبائل ٹیلی فون رکھنے والے ہرفرد کو اپنا انکم ٹیکس داخل کرنا چاہیے۔یہ حکم اس خیال پر مبنی تھا کہ اگر کوئی فرد موبائل ٹیلی فون جیسی کوئی ’آسائشی شے‘رکھنے کاخرچ اٹھاسکتا ہے تو اس کی آمدنی اتنی ضرورہوگی کہ اسے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا چاہیے۔ (سنگھل اورروجرس203-2001:04)
باکس6.6
ہندوستان دنیا میں موبائل فون کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بازاروں میں سے ایک بن گیا ہے۔ ہندوستان میں موبائل خدمات کمرشیل طورپر1995سے شروع کی گئی تھیں۔شروع کے 5–6سالوں میں اس کے گاہکوں میں اضافے کا اوسط 50,000سے 1لاکھ کے درمیان تھا اوردسمبر2002میں کل موبائل گاہکوں کی تعداد بڑھ کر ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گئی۔اگرچہ موبائل ٹیلی فون کے لیے1994کی نئی ٹیلی مواصلاتی پالیسی کی تعمیل کی گئی لیکن شروعاتی سالوں میں اس کی افزائش کی شرح دھیمی رہی کیونکہ ہینڈسیٹ کی قیمت اونچی رہی اورموبائل ٹیلی فون کے ٹیرف زیادہ تھے۔موبائل ٹیلی فون کے معاملے میں نئی ٹیلی کام پالیسی صنعت نے کئی ایسے اقدامات کیے جو صارف کی ترغیبات کاباعث تھے۔ موبائل گاہکوں کی تعداد میںاضافہ ہونے لگا۔سال2003میں ملک بھرمیں1.60کروڑ نئے موبائلوں کااضافہ ہوا۔اس کے بعد 2004میں 2.2کروڑ اور2005میں3.2کروڑ نئے موبائلوں کااضافہ ہوا۔ ستمبر2006میں ہندوستان میں 12.344کروڑلوگوں کے پاس موبائل تھے جب کہ ہندوستان سے زیادہ موبائل فون والے صرف تین ممالک چین میں 40.8کروڑ،یوایس اے میں 170کروڑ اورروس میں130کروڑ تھے۔
باکس6.7
طلبا نے کلام کواحتجاجی خط بھیجا
ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر…کے ذریعہ این ڈی ٹی وی چینل پر دییے گئے بیان نے طلبا کو زبردست احتجاج پر اکسایا…وائس چانسلر نے ڈریس کوڈنافذکرنے اورسیل فون پر پابندی کے اپنے فیصلے کادفاع یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ طلبا نے اس کا خیر مقدم کیاہے۔
لیکن طلبا نے پابندی کی تائید سے انکار کیااورپہلے منظم احتجاج میں انھوں نے صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے مداخلت کرنے کی درخواست کی۔
ماخذ:www.ndtv.com(Thursday,January 19, 2006(Chennai)) http://(جمعرات، 19 جنوری 2006،چنئی)
باکس6.5،6.6اور6.7کے لیے مشق
⇐ اوپر کے3باکسوں کو بغورپڑھیں۔
⇐ وہ سیل فون کے استعمال بے تحاشہ اضافے کے بارے میں کیاخیالات ظاہرکرتے ہیں؟
⇐ کیا آپ سیل فون کے تئیں رویے اورقبولیت میں کوئی تبدیلی دیکھتے ہیں؟
سرگرمی6.5
1980کی دہائی کے آخر میں ابتدائی طورپر سیل فون کو (جرائم پیشہ کے غلط استعمال کی وجہ سے) بے اعتمادی کی نظر سے دیکھاگیا ۔ بعد ازاں 1998 تک اسے آسائشی اشیاکے طورپرماناگیا(یعنی صرف امیر لوگوں کے ذریعہ ہی انھیں رکھاجاسکتا ہے اوراس کے استعمال کنندگان پر ٹیکس لگایا جانا چاہیے)۔2006تک آتے آتے ہندوستان سیل فون کے استعمال میں دنیاکے چوتھا سب سے بڑا ملک بن گیا۔اب سیل فون یہاں کی زندگی کااتنا اہم جزو بن گیا کہ جب طلبا کو کالج میں سیل فون استعمال نہ کرنے کے لیے کہاگیا تووہ ہڑتال پر جانے اورملک کے صدر سے درخواست کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
ہندستان میں سیل فون کے استعمال میں ہونے والے حیرت انگیز اضافے کے اسباب پر کلاس میں بحث کاانعقاد کرنے کی کوشش کریں۔
⇐ کیا یہ اضافہ چالاکی سے کی جانے والی مارکیٹنگ اورمیڈیا مہم کے سبب واقع ہوئی؟کیا سیل فون اب بھی حیثیت کی علامت ہے؟
⇐ کیا دوستوں ،رشتہ داروں اورعزیزوں سے رابطہ رکھنے اوران سے جڑے رہنے کے لیے سیل فون انتہائی ضروری ہے؟
⇐ کیا ماں باپ بچے کہاں پر ہیں،اس بارے میں اپنی فکر کو کم کرنے کے لیے اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں؟
⇐ نوجوان سیل فون کی ضرورت اتنی شدت سے کیوں محسوس کررہے ہیں؟ مختلف اسباب کاپتہ لگانے کی کوشش کیجیے۔

عالم کاری اورمزدور(Globalisation and Labour)
عالم کاری اورایک نئی بین الاقوامی محنت تقسیم(Globalisation and a new International Division of Labour)
محنت کی ایک نئی بین الاقوامی تقسیم ابھر کر سامنے آئی ہے جس میں تیسری دنیا کے شہروں میںزیادہ سے زیادہ معمول کی مینوفیکچرنگ پیداوار اورروزگار تیسری دنیا کے شہروں میںانجام دیاجاتا ہے۔ آپ نے باب4میں کام کے بیرونی وسائل یاٹھیکے پر دیے جانے والے کاموں اورباب5میں معاہدہ پر مبنی کاشت کاری کے بارے میں پڑھا۔یہاں ہم اس بارے میں صورت حال مزید واضح کرنے کے لیے’نائیکے ‘کمپنی کی مثال پیش کررہے ہیں۔
نائیکے(Nike) کمپنی کو1960کی دہائی میں اپنے قیام کے وقت سے ہی کافی تیزی کے ساتھ فروغ حاصل ہوا۔ نائیکے(Nike) جوتوں کی درآمد کنندہ کمپنی کے طورپر ابھری۔اس کے بانی فل نامٹ جاپان سے جوتے درآمد کیاکرتے تھے اورانھیں کھیل کود سے متعلق تقریبات میں فروخت کیاکرتے تھے۔یہ کمپنی ایک کثیر قومی کاروباری ادارے یعنی کثیرمملکتی کارپوریشن کے طورپرسامنے آئی جس کاہیڈکوارٹر بیورٹن میں، پورٹ لینڈ، اورے گان کے باہر واقع ہے۔صرف دوامریکی کارخانے ہی نائیکے (Nike) کے لیے جوتے بنایاکرتے تھے۔پھر1960کی دہائی میں نائیکے (Nike) کے جوتے جاپان میں بنائے جانے لگے۔ جب وہاں لاگت بڑھی تو پیداواری عمل1970کی دہائی کے نصف میں جنوبی کوریا منتقل کردیاگیا۔ پھر جب جنوبی کوریا میں مزدوری کی لاگت بڑھی تو1980کی دہائی میں پیداوار کو تھائی لینڈ اورانڈونیشیا تک پھیلادیا گیا۔اس کے بعد1990کی دہائی سے ہندوستان میں نائیکے(Nike) کے جوتوں کی پیداوارہور ہی ہے ۔ اگر اورکہیں مزدوری زیادہ سستی ہوگی تومرکز پیداوار وہاں شروع کردیاجائے گا۔ اس پورے عمل سے مزدور زیادہ کمزور اورغیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔محنت کایہ لچیلا پن اکثر پیداکاروں کے حق میں ہی کام کرتا ہے۔ ایک مرکزی مقام پر بڑے پیمانے پر اشیا کی پیداوار (Fordism)کے بجائے ہم الگ الگ مقامات پر پیداوار کے لچیلے نظام (Post-Fordism)کی طرف بڑھ چکے ہیں۔

باکس6.8
ظاہری طورپر توجنرل موٹرز نام کی کمپنی پونٹیاک لی مینس جیسی امریکی کاربناتی ہے۔اس کی شوروم قیمت 20,000 ڈالر ہے جس میں سے صرف7,600ڈالر ہی امریکنوں (ڈیٹراے کے کارکنان اور انتظامیہ، نیویارک کے وکیلوں اور بینک کاروں،واشنگٹن میں رہنے والے ترغیب کاروں اورپورے ملک کے جنرل موٹرز کے شیئر ہولڈروں)کے پاس جاتا ہے۔
باقی:
⇐ مزدوری اورکار کے حصوں کو جوڑنے کے لیے جنوبی کوریا کو 48فی صد
⇐ الکٹرانکس اورانجنوں جیسے ترقی یافتہ اجز اکے لیے جاپان کو 28فی صد
⇐ اسٹائلنگ اورڈیزائن انجینئرنگ کے لیے جرمنی کو12فی صد
⇐ چھوٹے کل پرزوں کے لیے تائیوان ا ورسنگاپور کو7فی صد
⇐ باربورڈس یاآیئرلینڈکوڈاٹاپروسیسنگ کے لیے تقریباً1فی صد حصہ جاتا ہے۔
(ریچ1991)
عالم کاری اورروزگار(Globalisation and Employment)
عالم کا ری اورمحنت کے بارے میں ایک اوراہم مسئلہ روزگار اورعالم کاری کے درمیان رشتوں کا ہے ۔یہاں بھی ہم نے عالم کاری کاغیریکساں اثردیکھا ہے۔شہری مراکز کے متوسط طبقہ کے نوجوانوں کے لیے عالم کاری اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے روزگار کے نئے نئے مواقع پیداکیے ہیں۔کالجوں سے حسب معمول بی ۔ایس۔سی۔/بی۔اے۔/ بی۔کام۔ کی ڈگری لینے کے بجائے وہ کمپیوٹر کے اداروں سے کمپیوٹر زبانیں سیکھ رہے ہیں یاکال سنٹروں ،بزنس پروسس آؤٹ سورسنگ (BPO) کمپنیوں میں ملازمت اختیار کررہے ہیں۔وہ شاپنگ مال یا مختلف ریستورانوں میں ملازمت کرتے ہیں۔تاہم جیساکہ باکس6.9 میں دکھایاگیا ہے روزگار کے رجحانات بحیثیت مجموعی مایوس کن ہی ہیں۔
باکس6.9
’’سب سے زیادہ غریب جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں۔غریبی کی شرح خاص طورپر ہندوستان،نیپال اوربنگلادیش میں اونچی ہے‘‘ جیساکہ ’’ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں محنت اور سماجی رجحانات 2005‘‘نام کی بین الاقوامی محنت تنظیم(ILO)کی رپورٹ میں بیان کیاگیاہے…اس رپورٹ میں ایشیا کے علاقے میں بڑھتے ہوئے ’روزگارخلا‘کاواضح تجزیہ کیاگیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ اس علاقے میں مؤثر معاشی نمو ہوئی ہے لیکن اس کے مطابق کام کے نئے مواقع نہیں پیداہوسکے ہیں۔یعنی 2.5کروڑ روزگار کے مواقع کااضافہ ہواجب کہ ان کی کل تعداد 1.588ارب تھی جو کہ 7 فی صد سے زیادہ کی شرح نمو کو دیکھتے ہوئے تھی۔
ہندوستان کے ساتھ ایشیائی ممالک میں آج کی صورتحال کے بارے میں میڈیا کے رول سے بحث کیجئے۔
’’جاب گروتھ رمینس ڈس اپوائنٹنگ—آئی۔ایل۔او۔‘‘لیبرفائل ستمبر–اکتوبر 2005صفحہ54
عالم کار ی اورسیاسی تبدیلیاں(Globalisation and Political Changes)
کئی لحاظ سے اس بڑی سیاسی تبدیلی یعنی سابقہ سماجی دنیاکے سقوط سے عالم کاری کے عمل میں مزید تیزی پیداہوئی؛نتیجتاً عالم کاری کو سہارادینے والی معاشی پالیسیوں کے تئیں ایک مخصوص معاشی اورسیاسی انداز نظرپیداہوا۔ان تبدیلیوں کو نیولبرل معاشی اقدامات کے طورپر جانا جاتا ہے۔ ہم پہلے یہ دیکھ چکے ہیں کہ ہندوستان میں لبرلائزیشن کی پالیسی کے تحت کیاکیاٹھوس اقدامات کیے گئے۔مجموعی طورپر ان پالیسیوں میں آزاد کاروباری مہم جوئی سے متعلق سیاسی تصور دکھائی دیتا ہے جس میں یہ مانا جاتاہے کہ بازار کی قوتوں کی آزادانہ فرماں روائی کرنا مؤثر بھی ہوگا اورمنصفانہ بھی۔لہٰذا اس میں ضابطہ بندی اورریاست کے ذریعہ فراہم کی جانی والی اعانتیں دونوں کی ہی تنقیدکی جاتی ہے۔ اس معنی میں عالم کاری کے موجودہ عمل میں سیاسی بصیرت اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ معاشی بصیرت۔ تاہم اس بات کاامکان ہوسکتا ہے کہ موجودہ عالم کاری سے کچھ مختلف قسم کا عالم کاری ہو۔ہم اس طرح ایک مشمولی عالم کاری کاتصور کرسکتے ہیں جس میں سماج کے سبھی طبقات کی شمولیت ہو۔
عالم کاری کے ساتھ ایک دیگر اہم سیاسی پیش رفت سیاسی اشتراک کے لیے بین الاقوامی اورعلاقائی میکانیت کی افزائش سے واقع ہورہی ہے۔اس سلسلے میں یورپی یونین جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن(ASEAN)(Association of South East Asian Nations)،جنوبی ایشیائی علاقائی کانفرنس(SARC)(South Asian Regional Confrence)اورحالیہ کا ساؤتھ ایشین فیڈریشن آف ٹریڈایسوسی ایشن(SAFTA)(South Asian Federation of Trade Association)کچھ مثالیں ہیں جو علاقائی انجمنوں کے اہم کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔
بین الاقوامی حکومتی تنظیموں(IGOs)اوربین الاقوامی غیر حکومتی تنظیموں(INGOs)کاابھرنا بھی ایک اہم سیاسی پہلو ہے۔ بین حکومتی تنظیم ایک ایسا ادارہ ہے جو شراکتی حکومتوں کے ذریعہ قائم کی جاتی ہے اورجسے ایک مخصوص کثیر مملکتی دائرۂ عمل پر نظررکھنے یااسے باضابطہ بنانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔مثال کے طورپر عالمی تجارتی تنظیم(WTO)کو تجارتی عمل پرنافذہونے والے اصولوں کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔
جیسا کہ ان کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیمیں،بین حکومتی تنظیموں سے اس طرح مختلف ہیں کہ یہ حکومتی اداروں سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ خود آزاد تنظیمیں ہوتی ہیں جو پالیسی فیصلے لیتی ہیں اوربین الاقوامی امور کو نمٹاتی ہیں۔ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں چندمعروف تنظیمیں ’گرین پیس‘(باب8دیکھیں)دی ریڈ کراس، ایمنسٹی انٹرنیشنل اورمیڈی سنز فرنیٹرز (ڈاکٹرزود آؤٹ بارڈرز)ہیں۔ان کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کریں۔
عالم کاری اورثقافت(Globalisation and Culture)
عالم کاری ثقافت کو کئی طرح سے متاثر کرتی ہے۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ زمانے سے ہندوستان نے ثقافتی اثرات کے تئیں کھلا انداز نظراپنارکھا ہے اورنتیجتاً وہ ثقافتی لحاظ سے خوش حال ہوتاجارہا ہے۔گزشتہ دہائی میں کئی ثقافتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن سے یہ ڈر بھی پیداہوگیا ہے کہ کہیں ہماری مقامی ثقافتیں پیچھے نہ رہ جائیں۔ ہم نے پہلے دیکھاتھا کہ ہماری ثقافتی روایت کوپ منڈوک یعنی زندگی بھر کنوئیں کے اندر رہنے والے اس مینڈک کی حالت سے خبردار رہنے کی تعلیم دیتی رہی ہے جو کنوئیں سے باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اورہرباہری شے کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلارہتا ہے۔وہ کسی سے بات نہیں کرتا اورکسی بھی موضوع پر بحث نہیں کرتا۔وہ توصرف باہری دنیا پر شبہ کرنا ہی جانتا ہے۔ خوش قسمتی سے ہم آج بھی اپنی روایتی اورآزاد رجحان اپنائے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ہمارے سماج میں سیاسی اورمعاشی امور پر ہی نہیں بلکہ لباس ،فیشن،موسیقی،فلم،زبان،اندازوغیرہ کے بارے میں زوردار بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔جیسا کہ ہم باب1اور2میں بتاچکے ہیں کہ 19ویں صدی کے مصلحین اورابتدائی قوم پرست بھی ثقافت وروایت پر تبادلہ ٔ خیال کیاکرتے تھے۔یہ امور آج بھی کسی حد تک ویسے ہی ہیں اورکسی حد تک مختلف بھی ۔شاید فرق یہی ہے کہ اب تبدیلی کاپیمانہ اورمختلف ہے۔
ثقافت کو متجانس بنانا بنام گلوبلائزیشن(Homogenisation Versus Globalisation of Culture)
بنیادی طورپر یہ دعوی کیاجاتا ہے کہ سبھی ثقافتیں یکساں یامتجانس ہوجائیں گی۔دوسری دلیل یہ ہے کہ ثقافت کی مقامی خصوصیت کو عالم گیر خصوصیت سے ملانے کارجحان بڑھتا جارہا ہے۔عالم کاری سے مراد عالمی سے مقامی کومخلوط کرناہے۔یہ پوری طرح بے ساختہ نہیں ہوتااورنہ ہی عالم کاری کے کمرشیل مفادات سے بے تعلق ہوتا ہے۔
یہ ایک حکمت عملی ہے جو اکثر غیرملکی فرموں کے ذریعہ اپنابازار بڑھانے کے لیے مقامی روایات کے ساتھ برتنے میں اپنائی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسٹار،ایم ٹی وی،زی چینل اور کارٹون نیٹ ورک جیسے سبھی غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل ہندوستانی زبانوں کااستعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ میک ڈونالڈ صرف سبزی اورچکن سے بنی اشیا کو فروخت کرتا ہے نہ کہ اپنی گائے کے گوشت سے بنی اشیا کو جو بیرون ممالک میں زیادہ مقبول ہیں۔میک ڈونالڈنوراتری تہوار کے زمانے میں سبزی پر مشتمل خوراک پیش کرتا ہے۔موسیقی کے میدان میں ’بھانگڑہ،پاپ،انڈی پاپ،فیوزن میوزک‘ اوریہاں تک کہ ری مکس گیتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھاجاسکتا ہے۔
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ہندوستانی ثقافت کی مضبوطی اس کے کھلے پن کے انداز نظر میں ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جدید دورمیں ہمارے سماجی مصلح اورقوم پرست رہنما اپنے روایت اورثقافت کے موضوع پر زوردار بحث ومباحثہ کرتے رہے ہیں۔ثقافت کو کسی ایسے عدم تغیر پذیر اور جامد وجود کے طورپر نہیں دیکھاجاسکتا جو کسی سماجی تبدیلی کے سبب یاتو ساقط ہوجائے گا یاجوں کاتوں یعنی غیر تبدیل شدہ بنارہے گا۔آج بھی اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ عالم کاری کے نتیجے میں کچھ نئی مقامی روایات ہی نہیں بلکہ عالم گیر روایتوں کی بھی تخلیق ہوگی۔
جنس اورثقافت(Gender and Culture)
ثقافتی شناخت کے ایک مقررہ روایتی تصور کادفاع کرنے والے لوگ اکثر عورتوں کے خلاف ہونے والے متفرق برتاؤ اورجمہوری روایتوں کو ثقافتی شناخت کانام دے کر دفاع کرتے ہیں۔ اس طرح کے رواجوں میں ستی رسم سے لے عورتوں کو تعلیم سے خارج کرنا اور انھیں عوامی معاملوں میں شرکت سے دوررکھنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔عورتوں کے خلاف غیرمنصفانہ رواجوں کے دفاع کے لیے عالم کاری کھڑا کیاجاسکتا ہے۔خوش قسمتی سے ہم ایک جمہوری روایت اورثقافت کو قائم رکھنے اورفروغ دینے میں کامیاب رہے ہیں جس سے ہم ثقافت کی توضیح جمہوری انداز میں کرسکتے ہیں۔
صرف کی ثقافت(Culture of Consumption)
جب ہم ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اکثر لباس،موسیقی،رقص،غذا کاحوالہ دیتے ہیں۔تاہم ثقافت جیساکہ ہم جانتے ہیں زندگی جینے کاطریقہ ہے۔ثقافت کے دواستعمال کاذکرعالم کاری کے موضوع پر کسی باب میں ہونا چاہیے جویہ ہیں:صرف کی ثقافت اورکارپوریٹ ثقافت،عالم کاری کی عمل کاری میں خاص طورپر شہروں کے نمو کو شکل دینے میں ثقافتی صرف جو اہم کردار اداکررہا ہے،اس پر ایک نظرڈالیں۔1970کی دہائی تک شہروں کی افزائش میں مینوفیکچرنگ صنعتیں اہم کردار اداکرتی رہی ہیں۔اس وقت،ثقافتی صرف(فن،غذا،فیشن،موسیقی،سیاحت کی)اکثرشہروں کے نموکو بڑی حد تک شکل فراہم کرتے ہیں۔ہندوستان میں ہر بڑے شہر میں شاپنگ مالز،ملٹی پلیکس،سینماہال،تفریحی پارکوں اور’واٹر ورلڈ‘کے نمو میں آئی تیزی سے واضح طورپر دکھائی دیتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اشتہارات اوربالعموم میڈیا نے ایک ایسی ثقافت کو فروغ دیاہے جس میں خرچ کرنا زیادہ اہم ماناجاتا ہے۔رقم کو سنبھال کررکھنا اب کوئی خوبی نہیں رہ گئی بلکہ شاپنگ کو وقت گزارنے کی سرگرمی کے طورپر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
’مس یونیورس‘اور’مس ورلڈ‘جیسی فیشن نمائشوں میں متواتر کامیابیوں کے ساتھ فیشن، زیب وزینت کے سازوسامان اورصحت کے میدانوں میں صنعتوں کی زبردست افزائش ہوئی ہے۔ نوجوان لڑکیاں ایشوریہ رائے اور سشمیتاسین بننے کاخواب دیکھ رہی ہیں۔’کون بنے گا کروڑپتی‘ جیسے مقبول گیم شو سے دراصل ایسا لگنے لگا ہے کہ کچھ ہی کھیلوں میں ہماری تقدیر بدل سکتی ہے۔
سرگرمی6.7
⇐ روایتی دکان اورنئے شروع ہونے والے ڈپارٹمنٹل اسٹور کا موازنہ کیجیے۔
⇐ مال اورروایتی بازار کاتقابل کریں۔اب فروخت کی جانے والی اشیا ہی نہیں بدل گئیں بلکہ خریداری کا مطلب بھی بدل گیا ہے،کیسے؟بحث کیجیے۔
⇐ کھانے پینے کی جگہوں پر غذاکی کس طرح کی نئی قسم پیش کی جانے لگی ہے۔بحث کریں۔
⇐ نئے فاسٹ فوڈ ریستورانوں کے بارے میں پتہ لگائیں جواپنے عمل میں عالم گیر ہیں۔
کارپوریٹ ثقافت
کارپوریٹ ثقافت مینجمنٹ نظریہ کی ایک ایسی شاخ ہے جو کسی فرم کے سبھی ممبران کو شامل کرتے ہوئے ایک منفرد تنظیمی ثقافت کی تخلیق کے ذریعہ پیداواریت اورمسابقت کو بڑھانے کی جدوجہد کرتی ہے۔ایسا ماناجاتاہے کہ ایک حرکی کارپوریٹ ثقافت جس میں کمپنی کے پروگرام،رسمیات اورروایت شامل ہوتی ہیں،ملازمین کی اطاعت شعاری کوبڑھاتی ہیں اوراجتماعی یکجہتی کوفروغ دیتی ہیں۔اس سے کاموں کے کرنے کاطریقہ مصنوعات کوکیسے فروغ دیا جائے اورپیک کرنے کے طریقوں کی بھی دلالت ہوتی ہے۔
کثیرقومی کمپنیوں کی وسعت اورانفارمیشن ٹکنالوجی میں آنے والے انقلاب کے نتیجے میں مواقع کی دستیابی میں اضافے سے ہندوستان کے بڑے شہروں میں بلند مقام کے لیے حرکت پذیر پیشہ وروں کا ایک طبقہ سافٹ ویئر فرموں،اسٹاک بازاروں،سفر،فیشن ڈیزائننگ،تفریح،میڈیا اوردیگر متعلقہ شعبوںمیں کام کررہا ہے۔ان آرزومندپیشہ وروں کے شیڈول کار بہت ہی الجھن آمیزہوتے ہیں۔ان کی تنخواہ اوربھتے بہت زیادہ ہوتے ہیں اوربازار میں تیزی سے بڑھتے صارف صنعتوں کی اشیا کے وہی خاص گاہک ہوتے ہیں۔
سرگرمی6.8
گذشتہ چندسالوں میں سیاسی پارٹیوں نے اپنی سیاسی مہم کے لیےملٹی نیشنل اور انٹرنیشنل کارپوریشنوں سے مدد طلب کی ہے۔ وہ اشتہاری فرموں سے بھی مشورہ لیتی تھیں۔اس رجحان کے بارے میں مزیدمعلومات حاصل کریں اور بحث کریں۔
متعدد ملکی دست کاری ،ادبی روایات اورنظام علم کودرپیش خطرہ(Threat to many indigenous craft and literary traditions and knowledge systems)
ثقافتی شکلوں اورعالم کاری کے درمیان ایک تعلق کئی ملکی دست کاری اورادبی روایات اورنظام علم کی صورت حال سے ظاہر ہے۔تاہم یہ یادرکھنا ضروری ہے کہ جدید ترقی کی شروعات عالم کاری سے پہلے بھی روایتی وثقافتی شکلوں اوران پر مبنی پیشوں میں ہوچکی تھی ،لیکن اب تبدیلی کاتناسب اورشدت زیادہ ہے۔ مثال کے طورپرتقریباً 30تھئیٹرگروپ جو ممبئی کے پریل اورگڑگاؤں کی کپڑاملوں کے آس پاس سرگرم تھے،اب تقریباًختم ہوچکے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں ملازمت کرنے والے زیادہ تر مل ورکروں کی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں۔ چند سال قبل آندھراپردیش کے کریم نگرضلع کے سرسلاگاؤں اوراسی ریاست کے مینڈک ضلع کے ڈبکا گاؤں کے روایتی بنکروں کے ذریعہ بہت بڑی تعداد میں خودکشی کیے جانے کی خبریں ملی تھیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان بنکروں کے پاس بدلتی ہوئی صارف دلچسپیوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اورپاورلوم سے مسابقت کرنے کے لیے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے کوئی ذرائع نہیں تھے۔
اسی طرح روایتی نظام علم کی مختلف شکلیں جو بطور خاص طب وزراعت کے میدان سے متعلق تھیں،محفوظ رکھی گئیں اورایک نسل سے دوسری نسل کوسونپی جاتی رہیں۔تلسی،رودراکش،ہلدی اورباسمتی چاول کے استعمال کو پیٹنٹ کرانے کے لیے حال ہی میں کچھ کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعہ جو کوشش کی گئی ان سے ملکی علم نظام کی بنیاد کو بچانے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔
باکس6.10
ہماری دومبری کمیونٹی کی حالت بہت خراب ہے۔ٹیلی ویژن اورریڈیو نے ہماری روزی روٹی چھین لی ہے۔ہم قلابازی تودکھاتے ہیں،لیکن سرکس اورٹیلی ویژن کے سبب جواَب دوردراز کے گاؤں اوربستیوں تک پہنچ گئے ہیں،ہمارے کرتب کو کوئی دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ہم چاہے کتنی بھی محنت کرلیں،ہمیں معمولی سامعاوضہ بھی نہیں ملتا۔لوگ ہمارا کھیل تماشہ دیکھتے توہیں لیکن تفریح کے لیے،وہ ہمیں اس کے بدلے میں کوئی رقم نہیں دیتے۔وہ اس بات کا بھی خیال نہیں رکھتے کہ ہم بھوکے ہیں۔اسی لیے ہمارا کاروبار چوپٹ ہورہا ہے۔
عالم کاری جن مختلف اورپیچیدہ شکلوں میں ہماری زندگی پر اثرانداز ہواہے اسے مختصراًپیش کرنا آسان نہیں۔کوئی اس کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ اسے آپ پر ہی چھوڑا جاسکتا ہے۔ہم نے یہاں اس باب میں صنعت وزراعت پرعالم کاری کے اثرات کے بارے میں تفصیلی بحث نہیں کی ہے۔ آپ کو ہندوستان میں عالم کاری اورسماجی تبدیلی کی کہانی جاننے کے لیے باب4اور5پر انحصار کرناہوگا۔ اس کہانی کو دہراتے وقت آپ اپنے سماجیاتی تخیل کااستعمال کریں۔
سوالات
1۔ اپنی دلچسپی کاکوئی موضوع منتخب کریں اوریہ بحث کریں کہ عالم کاری نے اسے کس طرح متاثر کیا ہے۔ آپ سینما،کام،شادی یاکوئی دیگر موضوع بھی منتخب کرسکتے ہیں۔
2۔ ایک عالم گیر معیشت کی امتیازی خصوصیات کیا ہیں؟بحث کریں۔
3۔ ثقافت پرعالم کاری کے اثرات کامختصراًذکرکریں۔
4۔ عالم کاری کیا ہے؟کیا یہ کثیرقومی کمپنیوں کے ذریعہ اپنائی گئی بازار سے متعلق حکمت عملی ہے یا اصلاً کوئی ثقافتی امتزاج۔ بحث کریں۔
حوالہ جات
Leadbeater, Charles. 1999. Living on Thin Air: The New Economy. Viking. London.
More, Vimal Dadasaheb. 1970. ‘Teen Dagdachi Chul’ in Sharmila Rege Writing caste/writing gender: narrating dalit women’s testimonios. Zubaan/Kali. Delhi, 2006.
Reich, R. 1991. ‘Brainpower, bridges and the nomadic corporation’. New Perspective Quarterly. 8:67-71.
Sen, Amartya. 2004. The Argumentative Indian: Writings on Indian History, Culture and Identity. Allen Lane, Penguin Group. London.
Sassen, Saskia .1991. The Global City: New York, London, Tokyo. Princeton University Press. Princeton.
Singhal, Arvind and E.M. Rogers. 2001. India’s Communication Revolution. Sage. New Delhi.