
7عوامی ذرائع ابلاغ اورترسیل
سرگرمی7.1


7.1جدید ترسیل عامہ کی شروعات(The Begining of Modern Mass Media)

باکس7.1
⇐ حالانکہ راجارام موہن رائے سے پہلے بھی لوگوں نے کچھ اخبارات شائع کرنے شروع کردییے تھے،لیکن راجہ رام موہن کے رائے کے ذریعہ بنگالی میں1821میں شائع’سمبادکومدی‘اورفارسی میں1822میں شائع ’مرات الاکبر‘ہندوستان کی پہلی اشاعت تھی جن میں قوم پرست اورجمہوری انداز نظرواضح طورپر دکھائی دیا۔
⇐ فردون جی مرزبان ممبئی میں گجراتی پریس کے پیش رو تھے۔انھوں نے1822میں ہی ایک ’روزانہ‘کے طورپر’بامبے سماچار‘کی شروعات کی تھی۔
⇐ ایشورچند ودیاساگر نے1858میں بنگالی میں ’شوم پرکاش‘کی شروعات کی تھی۔
⇐ دی ٹائمز آف انڈیاکی اشاعت بامبے میں1861میں شروع کی گئی۔
⇐ 1865میں الٰہ آباد میں’پائنیر‘کی شروعات ہوئی۔
⇐ 1868میں ’مدراس میل‘کا آغاز ہوا۔
⇐ 1875میں کلکتہ میں’اسٹیٹس مین‘کی اشاعت ہوئی۔
⇐ 1876میں لاہورمیں’سول اینڈ ملٹری گزٹ کی شروعات ہوئی۔
(ڈیسائی1948)

7.2آزاد ہندوستان میں عوامی ذرائع ابلاغ(Mass Media In Independent India)
نکتہ نظر(The Aproach)
سرگرمی7.2
ریڈیو(Radio)

باکس7.2
1960کی دہائی میں سبزانقلاب کے تحت ملک میں جب پہلی بار زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی کاشت کی جانے لگی تو آل انڈیاریڈیو نے ہی گاؤں میں ان فصلوں کی تشہیر کرنے میں بڑے پیمانے کی مہم کو اپنی ذمہ داری میں شامل کرلیا اوروہ1967سے یومیہ بنیاد پر 10سال سے بھی زیادہ عرصے تک لگاتار اُن کی تشہیر کرتی رہی۔
اس مقصد کے لیے ملک بھر کے کئی آل انڈیاریڈیو اسٹیشنوں میں زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کے بارے میں خصوصی پروگرام تیار کیے جاتے تھے۔ان پروگراموں کی اکائیوں میں مضمون کے ماہرین شامل ہوتے تھے جوکھیتوں میں جاتے تھے اوران کسانوں سے جنھوں نے نئے قسم کی دھان اورگیہوں اگانا شروع کیاتھا،معلومات حاصل کرکے ریڈیو پر نشر کرتے تھے۔
ماخذ:بی۔آر۔کمار،اے آئی آر براڈکاسٹس ڈڈمیک اے ڈیفرنس
دی ہندو،31 دسمبر،2006
باکس7.3
ہندوستانی فلمی گانے اورکمرشیل اشتہارات کوکم ترتہذیب ماناجاتا تھا لہٰذا ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔اس لیے ہندستانی سامعین نے ہندوستانی فلم موسیقی اوردیگر تفریحی پروگراموں سے لطف اٹھانے کے لیے اپنے شارٹ ویوریڈیوسیٹوں کو ریڈیو سیلون(جو پڑوسی ملک سری لنکا سے نشرہوتاتھا) اور ریڈیو گوا(جو گواسے نشرہوتاتھا،جہاں ان دنوں پرتگالی حکمرانی تھی)سے جوڑلیا۔ہندوستان میں ان نشریات کی مقبولیت نے ریڈیو سننے اورریڈیو سیٹوں کی فروخت بڑھادی ۔ان دنوں ریڈیو سیٹ خریدتے وقت گاہک فروخت کرنے والے سے یہ یقینی بنالیتے تھے کہ اس سیٹ سے ریڈیو سیلون یا ریڈیو گواکے پروگرام سنے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ (بھٹ:1994)
باکس7.3کے لیے مشق
باکس7.4
جنگ،حادثات اورآل انڈیا ریڈیو کی توسیع
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جنگوں اورحادثات یا آفات کے سبب آل انڈیا ریڈیو نے اپنی سرگرمیوں میں تیز اضافہ کیا۔ 1962میں جب چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو آل انڈیا ریڈ یونے روزانہ پروگرام پیش کرنے کے لیے ایک’talks‘اکائی قائم کی۔ اگست1971میں بنگلا دیش کا بحران سامنے آیاتو نیوز سروس ڈویژن نے 6بجے صبح سے آدھی رات تک ہر گھنٹے خبریں پیش کرنے کی شروعات کی۔1991کے ایک اورحادثے میں راجیوگاندھی کے الم ناک قتل کے بعد چوبیس گھنٹے بلیٹن پیش کرنے کا ایک اورقدم اٹھایاگیا۔
ٹیلی ویژن(Television)
سرگرمی7.3
باکس7.5
’ہم لوگ:ایک فیصلہ کن موڑ
’ہم لوگ‘ہندوستان کاسب سے پہلا طویل سوپ اوپیرا تھا…اس نئے اولین پروگرام کے ذریعہ تفریحی پیغام میں تعلیمی مواد کو بھی قصداً شامل کرتے ہوئے تفریح اورتعلیم کی مشترکہ حکمت عملی کو اپنایاگیاتھا۔
1984–85کے دوران17مہینوں میں’ہم لوگ‘کی تقریباً15قسطیں نشرکی گئیں۔اس ٹیلی ویژن پروگرام کے ذریعہ سماجی خیالات پر مبنی موضوعات جیسے جنسی مساوات،چھوٹا خاندان اورقومی یکجہتی کو فروغ دیاگیاتھا۔ہر22منٹ کی قسط کے آخر میں مشہور ہندوستانی اداکار اشوک کمار30تا40سیکنڈ کے اختتامی خطاب میں قسط وار حصے سے حاصل سبق کو مختصراً پیش کیاکرتے تھے۔اشوک کمار ناظرین کے سامنے ڈرامے کے خیالات کو روزمرہ کی زندگی کے ساتھ جوڑ تے تھے۔مثال کے طورپرانھوں نے ایک منفی کردار جو شراب پیتا تھا اوراپنی بیوی کو مارتا پیٹتا تھا،پر تبصرہ کرتے ہوئے ناظرین سے یہ پوچھا، ’’آپ کے خیال میں بیسرام جیسے لوگ اتنی زیادہ شراب کیوں پیتے ہیں اوراس کے بعد برُاسلوک کیوں کرتے ہیں؟کیا آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں؟شراب پینے کی عادت کو کیسے کم کیاجاسکتا ہے؟اس کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں(سنگھل اورروجرس1989)’ہم لوگ‘کے دیکھنے والوں کے بارے میں مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دیکھنے والوں اور’ہم لوگ‘کے ان کے پسندیدہ کرداروں کے درمیان اعلی درجے کا سماجیاتی بین عمل ہے ۔مثال کے طورپر،’ہم لوگ‘کے بیشترناظرین نے بتایا کہ انھوں نے اپنے رہائشی کمروں کی خلوت میں اپنے پسندیدہ کردار کے بارے میں ملنے کے لیے اپنے یومیہ شیڈوں کے معمولات کے لحاظ سے تطابق کیا۔چند دیگر افراد کے مطابق وہ ٹیلی ویژن سیٹوں کے ذریعہ اپنے پسندیدہ کرداروں سے بات چیت کرتے تھے؛ مثال کے طورپر،’بڑکی فکرمت کرو۔کیریربنانے کا اپنا خواب مت چھوڑو‘
’ہم لوگ‘دیکھنے والوں کی تعداد شمالی ہندوستان میں65سے90فی صد اورجنوبی ہندوستان میں20سے40فی صد تک تھی۔اوسطاً تقریباً5کروڑ ناظرین ’ہم لوگ‘کا نشریہ دیکھتے تھے۔اس سوپ اوپیرا(گھریلو ڈراما)کا غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ ناظرین سے اس کے بارے میں بڑی تعداد میں 4,00,000سے بھی زیادہ خط وصول ہوا کرتے تھے،وہ اتنے زیادہ ہوتے تھے کہ ان میں سے زیادہ تر تو’دوردرشن‘کے آفیسروں کے ذریعہ کھولے بھی نہیں جاسکتے تھے۔ (سنگھل اورروجرس2001)
باکس7.6
’ہم لوگ کے اشتہارات نے ایک نئی صرفی شے،میگی2منٹ نوڈلس کو فروغ دیا۔عوام نے اسے تیزی سے قبول کیا جس سے ٹیلی ویژن کمرشیل کی قوت کا پتا چلا۔اشتہاردینے والوں نے ٹیلی ویژن اشتہار کے لیے ایر ٹائم خریدنے کے لیے قطارلگادی اوردوردرشن کو کمرشیل بنانے کی شروعات ہوئی۔
پرنٹ میڈیا (Print Media)
باکس7.7
ہندوستان میں صحافت کو’اندرونی آواز‘یاتقاضہ(Calling)کے طورپر سمجھاجاتا رہا ہے۔ جب آزادی کی جدوجہد اورسماجی تبدیلی کی تحریکوں میں تیزی آئی اورجدیدسماج میں نئے تعلیمی اورکیریر مواقع پیداہوئے تب وطن پرستانہ اورسماجی اصلاح کی مثالیت اورتصوریت کے جذبے سے ترغیب پاکر غیر معمولی ذہین لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہوسکی۔جیسا کہ اکثر ایسے کاموں میں ہواکرتا ہے اس روزگار میں واقعتا پیسہ بہت کم تھا۔ اس روزگار کو پیشے کے طورپرتبدیل ہونے میں کافی وقت لگاجو’ہندو‘جیسے اخبار کی شکل میں ہونے والی تبدیلی سے ظاہرہوتا ہے۔یہ ابتدامیں خالصتاً سماجی اورعوامی خدماتی مشن کو لے کر چلا تھا لیکن آگے چل کر کاروباری مہم جوئی میں بدل گیا،حالانکہ اس میں سماجی اورعوامی خدماتی مشن کا جذبہ بھی قائم رہا۔
ماخذ:ایڈیٹوریل۔یسٹرڈے،ٹوڈے،ٹومارو،دی ہندو،13ستمبر2003،
بی۔ پی۔ سنجے2006
7.3 عالم کاری اور میڈیا(Globalisation and The Media)
باکس 7.8
عالم کاری اورموسیقی
یہ دلیل دی جاتی ہے کہ موسیقی سے متعلق شکل وہ ہوتی ہے جو کسی دیگر شکل کے مقابل زیادہ مؤثر طورپر ۔عالم کاری کو قبول کرلیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسیقی ان لوگوں تک بھی آسانی سے پہنچ جاتی ہے جوتحریری یا تقریری زبان کو نہیں جانتے۔ذاتی اسٹیریونظام سے موسیقی ٹیلی ویژن(جیسے کہMTV)اورسی ڈی تک ٹیکنالوجی کی ترقی نے عالمی طورپر موسیقی کی تقسیم کے لیے ترقی یافتہ طریقے پیش کردییے ہیں۔
ترسیل کی شکلوں کا امتزاج
اگرچہ موسیقی صنعت محدودبین الاقوامی گروپ کے ہاتھوں میں زیادہ مرکوز ہوتی جارہی ہے پھر بھی کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کے لیے ایک بڑا خطرہ پیداہوگیا ہے کیونکہ انٹرنیٹ کے آجانے سے موسیقی کو مقامی موسیقی کی دکانوں سے سی ڈی یا کیسٹ کے طورپرخریدنے کے بجائے ڈجیٹل طورپر ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے۔عالمی موسیقی صنعت میں اس وقت متعدد فیکٹریوں،تقسیمی سلسلوں،موسیقی کی دکانوں اورفروخت کرنے والے ملازمین یا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہے۔ اگر انٹرنیٹ سے ان سبھی عناصر کی ضرورت کو ختم کرکے موسیقی کوبراہ راست ڈاؤن لوڈ کر فروخت کرنا ممکن ہوتو موسیقی صنعت میں باقی کیارہے گا؟
موسیقی انڈسٹری میں موبائل کے اثرات اور مواقع کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
باکس7.8کے لیے مشق

پرنٹ میڈیا(Print Media)
باکس7.9
گذشتہ چنددہائیوں میں انتہائی اہم تبدیلیوں میں ہندوستانی لسانی اخبارانقلاب ہے۔ہندی،تیلگو اور کنڑ زبانوں کے اخباروں میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ملک کی طباعتی اشاعتوں میں 2006 سے 2016کے درمیان 23.7ملین یومیہ کاپیوں کا اضافہ ہوا ہے۔ 39.1 ملین اوسط کاپیوں کی تعداد سے 2016 میں بڑھ کر 62.8 ملین ہو گئی ہے۔ جو 2006 سے 2016 کے درمیان مرکب سالانہ شرح ترقی(CAGR) کا 4.87 فیصد ہے۔ چار جغرافیائی علاقوں میں شمال میں 7.83 فیصد کا اضافہ نظر آتا ہے۔ جبکہ جنوب، مغرب اور مشرق میں تقریباً 4.95،2.81 اور 2.63 فیصد تھی۔ ہندوستان میں دو سب سے اوپر کے روزنامے دینک جاگرن اور دینک بھاسکر کی جولائی اور دسمبر 2016 کے درمیان تقریباً 3.92 اور3.81 ملین کی اوسط امتیازی فروخت رہی۔
ماخذ: ایڈیٹ بیورو آف سرکولیشن 2016-17
ایناڈو کی کہانی بھی ہندوستانی لسانی پریس کی کہانی پیش کرتی ہے۔ ایناڈو کے بانی راموجی راؤ نے 1974 میں اخبار شائع کرنے سے قبل بڑی کامیابی کے ساتھ ایک چٹ فنڈ بنایا تھا۔ 1980 کی نصف دہائی میں دیہی علاقوں میں مناسب اسباب سے ہم آہنگی مثلاً عراق مخالف تحریک کی وجہ سے تیلگو اخبار ملک کے کونے کونے تک بیچنے کے لائق ہو گیا تھا۔جس نے اسے 1989 میں ضلع روزنامہ نکالنے کی ترغیب دی۔ جس میں مخصوص اضلاع،سنسنی پھیلانے والی خبریں اور اسی ضلع کے گاؤں اور چھوٹے قصبوں سے حاصل زمرہ بند اشتہار لگائے جاتے تھے۔ 1998تک آتے آتے ایناڈو آندھرا پردیش کے دس قصبوں سے شائع ہونے لگا اور کل تیلگو روزناموں کی اشاعت میں اس کا حصہ70 فیصد ہوگیا۔

باکس7.10
ہندوستان میں اخبارات کی اشاعت میں تبدیلی
انڈین ریڈرشپ سروے کے حالیہ میں شائع اعدادوشمار کے مطابق ہندی زبان بولنے والے علاقوں میں قارئین کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ہندوستانی زبان کے روزناموں کے پڑھنے والوں کی تعداد میں پچھلے سال کافی زیادہ اضافہ ہوا اور2019میں 19.1کروڑ سے بڑھ کر 425ملین تک پہنچ گئی ہے ۔دوسری طرف انگریزی روزناموں کو پڑھنے والوں کی تعداد 31کروڑ کے قریب ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔2005ہندی کے روزناموں میں’دینک جاگرن‘(74ملین پڑھنے والے)اور’دینک بھاسکر‘(51ملین قارئین کے ساتھ)فہرست میں سب سے اوپر ہیں جب کہ’دی ٹائمز آف انڈیا‘انگریزی واحدایک ایسا روزنامہ ہے جس میں قارئین کی تعداد50لاکھ سے زیادہ(15.2اور503ملین )ہے۔50لاکھ پڑھے جانے والے کل18روزناموں میں سے چھ ہندی کے،تین تمل کے،دوگجراتی،ملیالم اورمراٹھی کے اورایک بنگالی،تیلگواورانگریزی کے ہیں۔(دی ہندو،دہلی،30اگست2006)
سرگرمی7.4
باکس2.11
اخبار کی تعداد اشاعت میں تبدیلیاں:ٹیکنالوجی کا کردار
1980کی دہائی کے آخری سالوں اور1990کی دہائی کے ابتدائی سالوں سے اخبارکے نامہ نگاروں کی ڈیسک سے آخری صفحے کے پروف تک اخبارات پوری طرح خود کار ہوگئے ہیںجس کے سبب کاغذ کا استعمال پوری طرح سے ختم ہوگیا ہے۔ایسا ٹکنالوجی سے متعلق دوتبدیلیوں کے سبب ممکن ہوا ہے: (لین LANs) یعنی لوکل ایریانیٹ ورک کے ذریعہ پرسنل کمپیوٹر (PC) کا نیٹ ورک کانظام اورخبریں بنانے والے ’نیوزمیکر‘جیسے اوردیگر انفرادی ضرورتوں کے مطابق ’سافٹ ویروں کے استعمال کے سبب۔
بدلتی ہوئی ٹکنالوجی نے نامہ نگاروں کے کردار اورکاموں کو بھی بدل دیاہے۔ایک نامہ نگار کے قدیم بنیادی لوازمات شارٹ ہینڈنوٹ بک،قلم،ٹائپ رائٹراورپرانے سادے ٹیلی فون کی جگہ ایک چھوٹے ٹیپ ریکارڈر،ایک لیپ ٹاپ یا ایک پی سی،موبائل یا سٹیلائٹ فون اورموڈم جیسے لوازمات نے جگہ لے لی ہے۔خبروں کو جمع کرنے کے کام آنے والے ان سبھی ٹکنالوجی سے متعلق تبدیلیوں نے خبروں کی رفتار بڑھادی ہے اوراخباروں کے مینجمنٹ کوکام کی تکمیل کی مقررہ مدت کابوجھ ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اب وہ زیادہ تعداد میں اشاعت کامنصوبہ بنانے اورجدید خبریں فراہم کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔ملکی زبانوں کے کئی اخبارہر ضلع کے لیے الگ اشاعت نکالنے کے لیے ان ٹیکنالوجیوں کا استعمال کررہے ہیں۔ اگرچہ چھپائی مراکز تومحدود ہیں لیکن اشاعت کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
میرٹھ سے نکلنے والے’امراُجالا‘جیسے اخباروں کے سلسلے خبریں جمع کرنے اورتصویری مواد میں بہتری کے لیے نئی ٹکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں۔اس اخبار کے پاس اترپردیش اوراترانچل ریاستوں سے نکلنے والی اپنی سبھی تیرہ اشاعتوں کو مواد فراہم کرنے کے لیے تقریباً ایک سونامہ نگار ملازم اورتقریباً اتنے ہی فوٹو گرافر کا ایک نیٹ ورک ہے۔سبھی نامہ نگار خبریں بھیجنے کے لیے پی سی اورموڈم آلات سے لیس ہیں اورفوٹو گرافر اپنے ساتھ ڈجیٹل کیمرہ رکھتے ہیں۔ڈجیٹل تصویر موڈم کے ذریعہ مرکزی نیوز ڈیسک کو بھیجی جاتی ہے۔

باکس7.12
ایک میڈیا منیجر کے الفاظ میں اسباب کی وضاحت
پرنٹ میڈیا کی مشکل یہ ہے کہ حاصل کے لیے اس کے منصوبے کی تکمیل کی مدت بہت زیادہ ہوتی ہے اورلاگت پیداوار بھی اونچی ہوتی ہے۔ اخبار یا رسائل کے کورصفحہ پر لکھی قیمت سے ہی اس کی لاگت نہیں نکلتی…اگر اخبار نکالنے کی لاگت 5روپیے ہے اور اسے2روپیے میں فروخت کررہے ہیں تو اسے اونچی مالی اعانت (سبسڈی)کی بنیاد پر ہی فروخت کررہے ہیں۔ظاہر ہے کہ آپ کو اپنی لاگت نکالنے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرنا ہوگا۔
اس طرح اشتہارات دینے والے پرنٹ میڈیا کے ابتدائی گاہک بن جاتے ہیں…اس لیے میں پرنٹ میڈیا سے اپنے پروڈکٹ کے لیے گاہک حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہوںبلکہ میں اپنے اشتہاردینے والوں کے لیے ایسے گاہک حاصل کرتا ہوں جو میرے پڑھنے والے ہیں…اشتہاردینے والے ایسے گاہکوں کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں،جو کامیاب ہوتے ہیں،جو زندگی سے لطف اندوزہوتے ہیں،صَرف کرتے ہیں،جو جلد ہی پروڈکٹ کو اپنالیتے ہیں،جو تجربہ کیے جانے میں یقین رکھتے ہیں،جو لذت اندوز ہوتے ہیں۔
پریس انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر نے تفصیلی طورپر اخبارات کا مفہوم بیان کیا ہے کہ انھیں اشتہاردینے والے امکانی گاہکوں کی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔
کئی ہفتوں سے میں اولین انگریزی اخباروں پر نظرڈالتا رہا ہوں،خاص طورپر میں اپنے ملک کے دیہی علاقوں،چھوٹے قصبوں اوربڑھی ہوئی جھگی جھونپڑیوں کی آبادی کی فیلڈرپورٹوں اورمقاموں کو دیکھتارہاہوں۔ہماری آبادی کے 70 فی صد لوگ یہاں رہتے ہیں،میرے خیال میں یہ اصل ہندوستان پر مشتمل لوگ ہیں…قومی پریس کو ایسی اطلاعات فراہم کرنے کی ہمت کرنا چاہیے جس سے ہمارے پالیسی ساز،سیاست داں، ماہرین تعلیم اورصحافیوں کی ان کے بارے میں رائے وضع ہوسکے۔جیساکہ صحافت کے لیے ان کا روایتی کردار بیان کیاگیا ہے،حکمرانی کے نظام پر انھیں ایک چوکی دار کے طورپر عمل کرنا چاہیے۔
(چودھری 2005:199–226)
باکس7.13
اخباروں کی کوشش اپنے پڑھنے والوں کی تعداد اورمختلف گروہوں تک رسائی رہی ہے۔یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اخبار پڑھنے کی عادتیں بدل گئی ہیں جب کہ بوڑھے لوگوں کی عادت اخبار کوپوری طرح پڑھنے کی ہے وہیں نوجوان اکثر اپنی مخصوص دلچسپیاں رکھتے ہیں اوراسی کے لحاظ سے وہ کھیل،تفریح یا سماجی گفتگو جیسے موضوعات سے متعلق براہ راست پہنچ جاتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی دلچسپیوں میں فرق ہونے کے سبب اخبار کو مختلف قسم کی روداد تحریر کرنی چاہیے جو مختلف دلچسپیوں کے حامل لوگوں کے ایک وسیع حلقے کو راغب کرسکے۔اس لیے اخبار اکثر معلومات کے ساتھ ساتھ تفریح کے مواد کو پیش کرنے کی طرف مائل ہوئے ہیں تاکہ ہر طرح کے قارئین کی دلچسپی بنی رہے ۔اخباروں کی اشاعت اب بعض روایتی قدروں کے لیے وقف ہونے سے متعلق نہیں رہی ۔وہ ابھی صرفی شے بن گئے ہیں جب تک یہ تعداد بڑی ہے فروخت کے لیے سب کچھ کیا جاسکتا ہے؟
باکس7.13 کے لیے مشق
ٹیلی ویژن(Television)

باکس7.14
پرنس نام کا ایک پانچ سالہ کا بچہ ہریانہ کے کروکشیترضلع کے الڈیہڑی گاؤں میں 55فٹ سے گہرے ٹیوب ویل کے لیے کھودے گئے گڈھے میں گرگیا اور50گھنٹے کی سخت محنت کے بعد فوج کے ذریعہ باہرنکالاجاسکا۔اس کے لیے فوج نے ایک دوسرے گڈھے سے متوازی سرنگ کھودی۔بچہ جس شفٹ یا سرنگ میں پھنساہوا تھا اس میں بندسرکٹ والا ٹیلی ویژن کیمرہ(CCTV)کھانے کے ساتھ اتارا گیا تھا۔ دونیوز چینلوں نے اپنے دیگر سبھی پروگرام چھوڑ کر لگاتار دو دنوں تک اس بچے کی فلم دکھانا جاری رکھا،جس میں یہ دکھایاگیا تھا کہ بچہ کتنی بہادری کے ساتھ کیڑے مکوڑوں سے لڑرہا ہے،سورہا ہے یا اپنی ماں کو چیخ چیخ کر پکار رہا ہے،یہ سب ٹی وی کے پردے پر دکھایاجارہا تھا۔انھوں نے مندروں سے باہر کچھ لوگوں کا انٹرویو بھی لیا اوریہ پوچھا کہ’’آپ پرنس کے بارے میں کیا محسوس کررہے ہیں؟‘‘انھوں نے لوگوں سے یہ بھی کہاکہ ہمیں پرنس کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعہ پیغام بھیجیں۔ہزاروں لوگ اس مقام پر جمع ہوگئے اوردودنوں تک لنگر(کمیونٹی کچن)چلا۔اس سے پورے ملک میں شدید جذباتی ہیجان اورتشویش کاایک ماحول پیداہوگیا اورلوگوں کو مندروں،مسجدوں،چرچوں اورگردواروں میں پرنس کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے ہوئے دکھایاگیا۔ایسی اوربھی کئی مثالیں ہیں جب ٹی وی کو لوگوں کی انفرادی زندگی میں دخل کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے۔
باکس7.14کے لیے مشق
باکس7.15
سوپ اوپیرا
سوپ اوپیرا(گھریلو قسط وار ڈرامے)ایسی کہانیاں ہیں جو سلسلہ وار دکھائی جاتی ہیں۔وہ مسلسل چلتی رہتی ہیں،انفرادی کہانیاں ختم ہوسکتی ہیں اورمختلف کردار ظاہر اورغائب ہوتے رہتے ہیں لیکن خود’سوپ‘یاکہانی تب تک نہیں ختم ہوتی جب تک اسے پوری طرح نشریات سے واپس نہیں لے لیاجاتا۔ سوپ اوپیرا ایک تاریخ لے کر چلتے ہیں جس سے باقاعدہ دیکھنے والے واقف ہوتے ہیں۔وہ کرداروں،ان کی شخصیت اور زندگی کے تجربات سے مانوس ہوجاتے ہیں۔
ریڈیو(Radio)

باکس7.16
یہ برصغیر ایشیا میں شاید ایک دیہی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ہے
یہ ٹرانس میشن سازوسامان جس کی قیمت کافی کم ہے…شاید دنیا میں سب سے سستا ہو لیکن مقامی لوگوں کویقینا بہت عزیز ہے۔ہندوستان کی شمالی ریاست بہار میں ایک سہانی صبح کو راگھومہتونام کا ایک نوجوان اپنے گھر میں تیار کیے گئے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن شروع کرنے کے لیے آمادہ ہوا۔راگھو کی چھوٹی مرمت کی دکان اورریڈیواسٹیشن کے 20کلومیٹر(12میل)کے دائرے میں رہنے والے ہزاروں گاؤں والے اپنے پیارے سے اسٹیشن کا پروگرام شروع کرنے کے لیے اپنے ریڈیو سیٹ کھولا۔تھوڑی سی گھڑگھڑاہٹ کی آواز کے بعد ایک نوجوان کی پراعتماد آواز ریڈیو لہروں پر تیرنے لگتی ۔’’گڈمارننگ راگھوایف ایم منصور پور میں آپ کا استقبال ہے۔اب اپنے پسندیدہ گانے سننے کا اعلان راگھو کے دوست اوررابطہ کارشمبھو کی آوازمیںسنائی پڑتا ہے جو مقامی موسیقی کے ٹیپوں کے ڈھیرسے گھرے ہوئے سیلو ٹیپ کے پلاسٹر لگے مائیکروفون میں بولتا ہے۔اگلے12گھنٹوں تک راگھو مہتو کا دوردراز کا ایم ایف ریڈیو اسٹیشن فلمی گانے سناتا ہے اورایچ آئی وی اورپولیو جیسی بیماریوں کے بارے میں عوامی مفاد کی خبریں اوربے باک مقامی خبریں بھی دیتا ہے جن میں گم شدہ بچوں اورنئے کھلنے والی مقامی دکانوں کی خبریں بھی شامل ہوتی ہیں۔راگھو اوراس کا دوست راگھو کی چھپروالی دکان پر یا الیکٹرانکس شاپ سے اپنا دیسی ریڈیو اسٹیشن چلاتے ہیں۔
جگہ تنگ ہے…جھونپڑا کرائے کا ہے جس میں موسیقی بھرے ٹیپ اورزنگ لگے بجلی کے سازوسامان کا ڈھیرلگاہے اورمرمت کا کام کرنے والے راگھو کی دکان کے ساتھ ساتھ ریڈیو اسٹیشن کا بھی کام ہوتا ہے۔
وہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہو لیکن اس کے دیسی ایف ایم اسٹیشن نے اسے مقامی سیاست دانوں سے زیادہ مقبول بنادیا ہے۔راگھو کے ریڈیو سے عشق کی شروعات1997سے ہوئی جب اس نے ایک مقامی مرمت کی دکان میں ایک مستری کے طورپر کام کرنا شروع کیا۔ جب دکان کا مالک وہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا توکینسر میں مبتلازرعی مزدور کے بیٹے راگھونے ایک دوست کے ساتھ مل کر وہ جھونپڑی لے لی۔2003میں کسی وقت راگھو کوجوتب تک ریڈیو کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا۔غربت میں مبتلا ریاست بہارمیں جہاں بہت سے علاقوں میں بجلی نہیں ہے،سستے بیٹری سے چلنے والے ٹرانسسٹر ہی تفریح کا سب سے مقبول عام ذریعہ ہے۔’’اس خیال کے پختگی آنے اورایسی کِٹ تیار کرنے میں جو ایک متعین ریڈیو فریکونسی پراپنا پروگرام نشر کرسکے، کافی وقت لگ گیا۔کٹ پر50روپیے کی لاگت آئی’’راگھو کے مطابق نشریہ کٹ ایک اینٹینے کے ساتھ لمبے بانس پر پاس کے ایک تین منزلہ ہسپتال پر لگاہے۔ایک لمباتار اس نشریاتی آلے کو نیچے راگھو کے ریڈیو جھونپڑے میں لگے گھڑگھڑاہٹ کرنے والے،گھر کے بنے پرانے اسٹریوکیسٹ پلیئر سے جوڑتا ہے۔تین دیگر زنگ لگے مقامی طورپر بنے بیٹری سے چلنے والے ٹیپ ریکارڈر رنگین تاروں اورایک بے تار مائیکروفن کے ساتھ اس سے جڑے ہیں۔
راگھو کے جھونپڑے میں ایک مقامی بھوج پوری،بالی ووڈ اوربھکتی گیتوں کے کوئی200ٹیپ ہیں جنھیں وہ اپنے سامعین کے لیے بجاتا ہے۔راگھو کا ریڈیو اسٹیشن اس کاایک شوق ہے۔وہ اس سے کچھ کماتا نہیں ہے۔وہ اپنی الیکٹرانک مرمت کی دکان سے کوئی دوہزار روپیے ماہانہ کمالیتا ہے۔وہ نوجوان جو اپنے خاندان کے ساتھ ایک جھونپڑے میں رہتا ہے،یہ نہیں جانتا کہ ایک ایف ایم اسٹیشن چلانے کے لیے حکومت سے لائسنس لینا ہوتا ہے۔’’میں اس بارے میں نہیں جانتا۔میں نے تویہ پیشہ تجسس کے ساتھ شروع کردیاتھا اورہر سال اس کا نشریاتی علاقہ بڑھتا گیا۔
وہ کہتا ہے اس لیے جب چندلوگوں نے اس سے یہ کہاکہ اس کاریڈیو اسٹیشن ناجائز ہے تو اس نے اسے واقعی بند کردیا،لیکن مقامی گاؤں والوں نے اس کے جھونپڑے کو گھیر لیا اوراسے اپنی خدمات پھر شروع کرنے کے لیے راضی کرلیا۔مقامی لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ راگھوکا ’ایف ایم منصورپور1‘کے پاس کوئی سرکاری لائسنس ہے یا نہیں۔وہ توبس اسے پیار کرتے ہیں۔
’’میرے اسٹیشن کو مردوں سے زیادہ عورتیں سنتی ہیں،‘‘وہ کہتا ہے۔’’اگرچہ بالی ووڈ اورمقامی بھوج پوری گانے بہت ضروری ہیں لیکن میں طلوع آفتاب اورغروب آفتاب کے وقت عورتوں اوربزرگوں کے لیے بھکتی گیت بھی نشرکرتا ہوں۔‘‘چونکہ گاؤں والوں کے پاس راگھوکو فون کرنے کی سہولت نہیں ہے،اس لیے وہ گیتوں کی فرمائش دستی طورپر تحریر پیغاموں کے ذریعہ یا پڑوس کے عوامی ٹیلی فون دفتر کو فون کرکے بھیجتے ہیں۔ایک ریڈیو اسٹیشن کو چلانے والے کے طورپر راگھو کی شہرت دوردورتک پھیل گئی ہے۔لوگوں نے اس کے ریڈیو اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے لکھا ہے اوراس کی ٹکنالوجی کو خریدنے میں اپنی دلچسپی دکھائی ہے۔
ماخذ:بی بی سی نیوز:(امرناتھ تیواری کے ذریعہ)اشاعت:جی ایم ٹی ،بی بی سی، ایم ایم وی