Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-007



1


7عوامی ذرائع ابلاغ اورترسیل


ذرائع ابلاغ یاترسیل عامہ (Mass media)کی مختلف شکلیں ہیں جس میں ٹیلی ویژن،اخبارات،فلمیں،رسائل،ریڈیو، اشتہارات، ویڈیوگیم اورسی ڈی وغیرہ شامل ہیں۔انھیں ماس میڈیا اس لیے کہاجاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کی بڑی تعداد پر مشتمل سامعین یا حاضرین تک پہنچتی ہے۔انھیں کبھی کبھی ذرائع ابلاغ عامہ یا ماس کمیونی کیشن بھی کہاجاتاہے۔آپ کی نسل کے بہت سے لوگوں کے لیے ماس میڈیا اورترسیل کی کسی نہ کسی شکل کے بغیر تصور کرنا شاید مشکل ہو۔
سرگرمی7.1
  ایک ایسی دنیا کا تصورکریں جہاں کوئی ٹیلی ویژن، سنیما،اخبارات،رسائل، انٹرنیٹ، ٹیلی فون یا موبائل فون کچھ بھی نہ ہو۔
 آپ اپنے کسی ایک دن میں روزمرہ کی سرگرمیاں تحریرکریں۔ان مواقع کاپتہ لگائیں جب ابلاغ عامہ عوامی ترسیل کے کسی نہ کسی ذریعے کا استعمال کیا ہو۔
اپنے سے پرانی نسل کے افراد سے پتہ لگائیں کہ ترسیل کی ان شکلوں میں کسی ایک کی کمی سے اُن کی زندگی کیسی تھی۔آپ ان کی زندگی کا موازنہ اپنی زندگی سے کریں۔
   ترسیلی ٹکنالوجی میں ترقی ہونے سے کام کرنے اورخالی وقت کو گزارنے کے طریقوں میں کس طرح کی تبدیلی آئی ہے۔بحث کریں۔



ma

ماس میڈیا ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک جزو ہے۔ملک بھر کے متعدد متوسط طبقے کے گھروں میں لوگ صبح بستر سے اٹھتے ہی سب سے پہلے ریڈیو یا ٹیلی ویژن کھولتے ہیں یا صبح کا اخبار دیکھتے ہیں۔ان ہی گھروں کے بچے سب سے پہلے اپنے موبائل فون پر نظرڈالتے ہیں کہ کہیں کوئی’مسڈکال‘تونہیں آئی ہے۔کئی شہری علاقوں میں نل ساز،بجلی مستری،بڑھئی،رنگ ریز اوردیگر متفرق خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنا موبائل فون رکھتے ہیں جس سے ان سے آسانی سے رابطہ قائم کیاجاسکتا ہے۔اب توشہروں میں زیادہ تر دکانوں میں چھوٹا  ٹیلی ویژن سیٹ رکھنے لگے ہیں۔آنے والے گاہک دکان دار سے ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی فلم یا کرکٹ میچ کے بارے میں تھوڑی بہت بات چیت بھی کرلیتے ہیں۔بیرونی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی ٹیلی فون اورانٹرنیٹ کی مدد سے ملک میں رہنے والے اپنے دوستوں اورفیملی لوگوں کے ساتھ برابررابطہ بنائے رکھتے ہیں۔شہر میں رہنے والے مہاجر کا م گار طبقے کے لوگ بھی گاؤں میں رہنے والے اپنے اہل خانہ سے ٹیلی فون کے ذریعہ پابندی کے ساتھ رابطہ قائم رکھتے ہیں۔کیاآپ نے موبائل فون کے بارے میں مختلف قسم کے اشتہارات دیکھے ہیں؟کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ موبائل فون مختلف قسم کے سماجی گروہوں کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں؟کیاآپ کو یہ جان کر تعجب نہیں ہوگا کہCBSEبورڈ کے امتحان کے نتائج انٹرنیٹ اورموبائل فون دونوں پر دستیاب ہوتے ہیں۔سچ تویہ ہے کہ ان کی کتابیں بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔
یہ توظاہر ہے کہ حالیہ سالوں میں سبھی طرح کی عوامی ترسیل کے ذرائع کی غیر معلومی توسیع ہوئی ہے۔سماجیات کے طالب ہونے کے سبب ہمیں اس اضافے کے کئی پہلوؤں کے بارے میں جاننے میں دلچسپی ہے۔ سب سے پہلے جب ہم موجود ترسیلی انقلاب کی خصوصیات کو تسلیم کرتے ہیں وہیں ہمیں تھوڑاپیچھے جاکر دنیا میں اورہندوستان میں جدید ماس میڈیا کے ذرائع میں اضافے کا خاکہ بھی پیش کرنا ہوگا۔اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کسی دیگر سماجی ادارے کی طرح ہی ماس میڈیا کی ساخت اورمواد کی شکل بھی معاشی،سیاسی اورسماجی وثقافتی سیاق وسباق میں آنے والی تبدیلیوں سے متعین ہوا ہے۔مثال کے طورپرہم یہ دیکھتے ہیں کہ آزادی کے حصول کے بعد ابتدائی دہائی میں خاص طورپر ریاست اورترقی کے بارے میں اس کی سوچ نے میڈیا کو کتنا زیادہ متاثر کیا۔1990 کے بعد کے عالم کاری کے دور میں بازار کو کتنا اہم کردار نبھانا ہے۔ دوسرے ہمیں یہ سمجھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے کہ سماج کے ساتھ ماس میڈیا یا عوامی ذرائع ترسیل اورعوامی ترسیل کے تعلق کتنے جدلیاتی ہیں۔دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ماس میڈیا کی فطرت اور کردار اس سماج کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے جس میں یہ واقع ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی سماج پر ماس میڈیا کے دوررس اثرات کے بارے میں جتنا کہاجائے کم ہوگا۔ ہم جدلیاتی (ٹکراؤوالے)تعلق کو اس وقت دیکھیں گے اورسمجھیں گے جب ہم اس باب میں(a)نوآبادیاتی ہندوستان میں میڈیا کا کردار (b)آزادی کے حصول کے بعد ابتدائی دہائی میں اور(c)اورآخر کارعالم کاری کے سیاق وسباق میں بحث کریں گے۔تیسرا،عوامی ترسیل ،ترسیل کے دیگر ذرائع سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس میں بڑے پیمانے کی پونجی،پیداوار اورمینجمنٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک رسمی ساختی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے؟لہٰذاآپ دیکھیں گے کہ ماس میڈیا کی کئی ساخت اورتفاعل کے لیے ریاست اوربازار کا کردار اہم ہوتا ہے۔ ماس میڈیا ایسی تنظیموں کے ذریعہ کام کرتا ہے جن میں کثیر سرمایہ لگاہوتا ہے اورکافی تعداد میں ملازم کام کرتے ہیں۔ چوتھا، اس میں بہت زیادہ فرق پایاجاتا ہے کہ مختلف طبقے کے لوگوں کے ذریعہ ماس میڈیا کا استعمال کتنی آسانی سے کیاجاسکتا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ اسی حقیقت کو پچھلے باب میں ڈجیٹل ڈیوائڈ کے تصور کے طورپرپیش کیا گیا تھا۔

3

7.1جدید ترسیل عامہ کی شروعات(The Begining of Modern Mass Media)

پہلے جدید ترسیل عامہ ادارے کی شروعات پرنٹنگ پریس یعنی چھاپہ خانہ کے فروغ کے ساتھ ہوئی تھی۔حالانکہ بہت سے معاشروںمیں چھپائی کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے،لیکن جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کتابیں شائع کرنے کا کام سب سے پہلے یورپ میں شروع کیاگیا۔یہ تکنیک سب سے پہلے جان گوٹن برگ کے ذریعہ1440میں فروغ دی گئی تھی۔ابتدا میں چھپائی کا کام صرف مذہبی کتابوں تک ہی محدود تھا۔

4
                     پڑینٹنگ پریس کا ایک منظر اور 21ویں صدی میں ٹی وی نیوز روم، ہندوستان

صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی چھپائی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہواپریس کے ذریعہ تیار مواد صرف پڑھے لکھے طبقہ اشراف تک ہی محدود تھے۔ اس کے بعد19ویں صدی کے وسط میں جب ٹکنالوجی،نقل وحمل اورخواندگی میں مزید ترقی ہوئی تبھی اخبارات عوام تک پہنچنے لگے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک جیسی جیسی خبریں پڑھنے یا سننے کو ملنے لگیں۔ ایسا کہاجاتا ہے کہ اسی کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے جڑا ہوا محسوس کرنے لگے اوران میں’’ہم کااحساس‘‘ فروغ پانے لگا۔اس سلسلے میں معروف دانشور بینڈکٹ اینڈ رسن کا کہناکہ اس سے قوم پرستی کے نمو میں مدد ملی اورجوایک دوسرے کے وجود کے بارے میں نہیں جانتے تھے،وہ بھی ایک فیملی ممبر جیسا محسوس کرنے لگے۔اس سے وہ لوگ جو کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے تھے ان میں بھی باہمی قربت کا احساس پیداہوا۔اس طرح اینڈرسن کے مطابق ہم قوم کو ایک ’خیالی کمیونٹی‘کی طرح مان سکتے ہیں۔
اب آپ یاد کیجیے کہ کیسے19ویں صدی کے سماجی مصلحین اکثراخبارات ورسائل میں متعدد سماجی مسائل پر لکھا کرتے تھے اورمباحثہ کرتے تھے۔ ہندوستانی قوم پرستی کی تحریک بھی استعماریت کے خلاف اس کی جنگ کے ساتھ گہرائی سے وابستہ ہے۔اس کی ابتدا ہندوستان میں برطانوی حکمرانوں کے ذریعہ لائی گئی ادارہ جاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہوئی۔ نوآبادیاتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی کھل کر مخالفت کرنے والے قوم پرست پریس نے استعماریت کے خلاف رائے عامہ کو بیدا رکیا اوران کوصحیح سمت عطاکی۔ نتیجتاًنوآبادیاتی ریاست نے قوم پرست پریس پر شکنجہ کسناشروع کردیا اوراس پر سنسرشپ نافذ کردی ۔اس کی ایک مثال البرٹ بل1883کے خلاف تحریک کے طورپر پیش کی جاسکتی ہے۔قوم پرست تحریک کی تائید کے سبب ’کیسری(مراٹھی)، ’ماتربھومی (ملیالم)‘، ’امرت بازار پتریکا،(انگریزی)‘ جیسے کئی قوم پرست اخباروں کو نوآبادیاتی حکومت کی ناراضگی جھیلنی پڑی لیکن اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا، ان اخباروں کے ذریعہ قوم پرست تحریک کی تائید جاری رہی اوروہ نوآبادیاتی حکمراں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے۔
باکس7.1

⇐ حالانکہ راجارام موہن رائے سے پہلے بھی لوگوں نے کچھ اخبارات شائع کرنے شروع کردییے تھے،لیکن راجہ رام موہن کے رائے کے ذریعہ بنگالی میں1821میں شائع’سمبادکومدی‘اورفارسی میں1822میں شائع ’مرات الاکبر‘ہندوستان کی پہلی اشاعت تھی جن میں قوم پرست اورجمہوری انداز نظرواضح طورپر دکھائی دیا۔

فردون جی مرزبان ممبئی میں گجراتی پریس کے پیش رو تھے۔انھوں نے1822میں ہی ایک ’روزانہ‘کے طورپر’بامبے سماچار‘کی شروعات کی تھی۔

ایشورچند ودیاساگر نے1858میں بنگالی میں ’شوم پرکاش‘کی شروعات کی تھی۔

⇐ دی ٹائمز آف انڈیاکی اشاعت بامبے میں1861میں شروع کی گئی۔

1865میں الٰہ آباد میں’پائنیر‘کی شروعات ہوئی۔

1868میں ’مدراس میل‘کا آغاز ہوا۔

  1875میں کلکتہ میں’اسٹیٹس مین‘کی اشاعت ہوئی۔

⇐      1876میں لاہورمیں’سول اینڈ ملٹری گزٹ کی شروعات ہوئی۔

(ڈیسائی1948)


برطانوی حکمرانی کے تحت ترسیل عامہ کی توسیع اخبارات، میگزین، فلموں اورریڈیو تک ہی محدود تھی۔ریڈیوپوری طرح ریاست یعنی حکومت کی ملکیت میں تھااس لیے اس پر قوم پرستانہ خیالات کا اظہار نہیں کیاجاسکتا تھا۔ اگرچہ اخبارات اورفلموں میںخود مختاری تھی لیکن برطانوی راج کے ذریعہ ان پرسخت نظر رکھی جاتی تھی۔ انگریزی یا ملّی زبانوں میں اخبارات اوررسائل کی اشاعت بہت زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں ہوتی تھی کیونکہ بہت کم لوگ خواندہ تھے۔تاہم ان کااثر ان کی اشاعت کی تعداد کی نسبت بہت زیادہ تھا کیوں کہ خبریں اوراطلاعات کمرشیل وانتظامی مراکز جیسے بازاروں،تجارتی مراکز ،عدالتوں اورقصبوں میں پڑھی جاتی تھیں۔پرنٹ میڈیا میں رائے عامہ کے مختلف پہلو ہوتے تھے جس میں’آزاد ہندوستان‘کے ان کے تصور کے بارے میں اظہار کیاجاتا تھا۔ یہ مختلف خیالات آزاد ہندوستان میں بھی جاری رہے۔
5

7.2آزاد ہندوستان میں عوامی ذرائع ابلاغ(Mass Media In Independent India)

نکتہ نظر(The Aproach)

آزاد ہندوستان میں ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے میڈیا سے جمہوریت کے پہرے دار کے طورپر عمل کرنے کے لیے کہاتھا۔میڈیا سے یہ توقع کی گئی تھی کہ وہ لوگوں میں خود کفالت اورقومی ترقی کا جذبہ بڑھانے کا کام کرے گا۔آپ نے گزشتہ ابواب میں پڑھاتھا کہ ہندوستان میں آزادی کے ابتدائی سالوںمیں ملک کی ترقی پر کتنا زوردیاگیا۔ مختلف ترقیاتی عمل کے بارے میں عام لوگوں کو مطلع کرنے کا ذریعہ میڈیا ہی تھا۔ تب میڈیا کو چھوت چھات،بچہ شادی اوربیواؤں کے مقاطعہ یا خارج کرنے جیسی سماجی برائیوں، جادوٹونا اورشفائے روحانی جیسے عقائد کے خلاف لڑنے کے لیے بھی ترغیب دی جاتی تھی۔ایک جدید صنعتی سماج کی تعمیر کے لیے ایک منطقی اورسائنسی مزاج کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔حکومت کافلم ڈویژن نیوز ریل اورڈاکومینٹری فلمیں تیارکرتا تھا۔ انھیں ہر ایک سنیماگھر میں فلم شروع کرنے سے پہلے دکھایاجاتاتھا تاکہ فلم دیکھنے والوں کو حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے ترقیاتی عمل کے بارے میں اطلاع مل سکے۔

سرگرمی7.2

آزادی کے بعد کی دودہائی میں جو لوگ بڑے ہوئے ہیں ان کی نسل میں سے کسی شناساسے ان ڈاکومینٹری فلموں کے بارے میں پوچھیے جواُن دنوں سنیماگھروں میں فلم دکھانے سے پہلے پابندی سے دکھائی جاتی تھیں۔ان کی یادوں کو لکھیں۔


ریڈیو(Radio)

ریڈیو کی نشریات1920کی دہائی میں کولکاتہ اورچنئی میں غیر پیشہ ور’بیم‘براڈکاسٹنگ کلبوں کے ذریعہ ہندوستان میں شروع ہوئیں۔1940کی دہائی میں دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک عوامی نشریاتی نظام کے طورپر اس میں اس وقت پختگی آئی جب وہ جنوب مشرقی ایشیا میں حلیف(اتحادی)ملکوں کی فوجوں کے لیے پروپیگنڈہ(تشہیر)کاایک بڑا ذریعہ بنا۔آزادی کے حصول کے وقت ہندوستان میں صرف 6ریڈیو اسٹیشن تھے جوبڑے شہروں میں تھے اوربنیادی طورپر شہری سامعین کی ضرورتوں کو ہی پوراکرتے تھے۔1950تک پورے ہندوستان میں کل ملاکر 5,46,200ریڈیو لائسنس تھے۔
6
امیتارائے(بعد میں ملک)ڈسک جاکی کے طورپر1944سے آل انڈیا ریڈیو لکھنؤمیں ملازمت کرنے والی معروف میڈیاشخصیت اورفلم ناقد تھیں۔اس زمانے میں بہت کم عورتیں ہوا کرتی تھیں۔بعد میں وہ بی بی سی،سی بی سی اور دیگر بین الاقوامی براڈکاسٹنگ تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہوئیں۔خواتین صحافیوں میں سینئررکن امیتا،اپنی فلم،ریڈیو ٹی وی تنقید و تبصروں اوراولین اخباروں میں اپنے کالموں کے لیے جانی جاتی ہیں۔
بشکریا: امیتا ملک،نئی دہلی
چونکہ میڈیا کو ایک نئے آزاد ملک کی ترقی میںفعال ساتھی کے طورپر ماناجاتا تھا؛اس لیے آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں خاص طورپر خبریں،حالات حاضرہ اورترقی پر بحث ہوتی تھی۔حسب ذیل باکس سے اس زمانے کے شعور وجذبے کا پتہ چلتا ہے۔
باکس7.2

1960کی دہائی میں سبزانقلاب کے تحت ملک میں جب پہلی بار زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی کاشت کی جانے لگی تو آل انڈیاریڈیو نے ہی گاؤں میں ان فصلوں کی تشہیر کرنے میں بڑے پیمانے کی مہم کو اپنی ذمہ داری میں شامل کرلیا اوروہ1967سے یومیہ بنیاد پر 10سال سے بھی زیادہ عرصے تک لگاتار اُن کی تشہیر کرتی رہی۔

اس مقصد کے لیے ملک بھر کے کئی آل انڈیاریڈیو اسٹیشنوں میں زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کے بارے میں خصوصی پروگرام تیار کیے جاتے تھے۔ان پروگراموں کی اکائیوں میں مضمون کے ماہرین شامل ہوتے تھے جوکھیتوں میں جاتے تھے اوران کسانوں سے جنھوں نے نئے قسم کی دھان اورگیہوں اگانا شروع کیاتھا،معلومات حاصل کرکے ریڈیو پر نشر کرتے تھے۔

ماخذ:بی۔آر۔کمار،اے آئی آر براڈکاسٹس ڈڈمیک اے ڈیفرنس  

دی ہندو،31 دسمبر،2006


آل انڈیاریڈیو سے خبروں کے نشریے کے علاوہ تفریح کے لیے چینل’وودھ بھارتی‘بھی تھاجو سامعین کی فرمائش پر خاص طورپر ہندی فلموں کے گانے پیش کرتا تھا۔ 1957 میں آل انڈیا ریڈیو نے انتہائی مقبول چینل’وودھ بھارتی‘کو اپنے میں شامل کرلیا جو جلد ہی اسپانسر پروگرام اوراشتہارات نشرکرنے لگا اورآل انڈیا ریڈیو کے لیے ایک کمانے والا چینل بن گیا۔

باکس7.3

ہندوستانی فلمی گانے اورکمرشیل اشتہارات کوکم ترتہذیب ماناجاتا تھا لہٰذا ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔اس لیے ہندستانی سامعین نے ہندوستانی فلم موسیقی اوردیگر تفریحی پروگراموں سے لطف اٹھانے کے لیے اپنے شارٹ ویوریڈیوسیٹوں کو ریڈیو سیلون(جو پڑوسی ملک سری لنکا سے نشرہوتاتھا) اور ریڈیو گوا(جو گواسے نشرہوتاتھا،جہاں ان دنوں پرتگالی حکمرانی تھی)سے جوڑلیا۔ہندوستان میں ان نشریات کی مقبولیت نے ریڈیو سننے اورریڈیو سیٹوں کی فروخت بڑھادی ۔ان دنوں ریڈیو سیٹ خریدتے وقت گاہک فروخت کرنے والے سے یہ یقینی بنالیتے تھے کہ اس سیٹ سے ریڈیو سیلون یا ریڈیو گواکے پروگرام سنے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ (بھٹ:1994)


باکس7.3کے لیے مشق

اپنے بزرگوں سے وودھ بھارتی کے پروگراموں کے بارے میں پوچھیں۔کون سی نسل انھیں یادکرتی ہے۔ ملک کے کن حصوں میں یہ پروگرام زیادہ مقبول تھے؟ان کے تجربات پر بحث کریں۔ سامعین کی فرمائش کے بارے میں اپنے اوران کے تجربات کا موازنہ کریں۔



جب1947میںہندوستان نے آزادی حاصل کی توآل انڈیاریڈیو کے پاس کل ملا کر چھ ریڈیو اسٹیشنوں کی بنیادی ساخت تھی جو بڑے شہروں میں واقع تھی۔ملک کی 35کروڑ کی آبادی کے لیے کل280,000ریڈیو ریسیورسیٹ تھے۔آزادی کے بعد حکومت نے ریڈیو نشریات کی بنیادی ساخت کی توسیع کے لیے ریاستوں کی راجدھانیوں اورسرحدی علاقوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔ان سالوں میں آل انڈیاریڈیو نے ہندوستان میں ریڈیو نشریات کے لیے ایک وسیع بنیادی ساخت کو فروغ دیا۔ یہ ہندوستان کے جغرافیائی،لسانی اورثقافتی تنوع کو دیکھتے ہوئے،قومی،علاقائی اورمقامی تین سطحوں پر اپنی خدمات فراہم کررہی ہیں۔
شروع میں ریڈیو کو مقبول بنانے میں اونچی لاگت ایک بڑی رکاوٹ تھی لیکن1960کی دہائی میں جب ٹرانسسٹر انقلاب آیا تب ریڈیو زیادہ آسانی سے دستیاب ہونے لگا کیونکہ ٹرانسسٹر (بجلی کے بجائے)بیٹری سے چلنے لگے اورانھیں کہیں بھی آسانی سے لے جایاجاسکتا تھا؟اس کے ساتھ ہی ان کی قیمتیں بھی بہت زیادہ کم ہوگئیں۔ 2000میں حالت یہ تھی کہ تقریباً110ملین خاندانوں(ہندوستان کے دوتہائی خاندان)میں24زبانوں اور146بولیوں میں ریڈیونشریات سنی جاتی تھیں۔ان میں سے ایک تہائی سے بھی زیادہ گھر اورخاندان دیہی علاقوں کے تھے۔آج AIRکے 480اسٹیشن اور 680ٹرانسمیٹرز %99آبادی کو کور کرتا ہے اور ملک کی %92آبادی تک پہنچ رہا ہے۔


باکس7.4
جنگ،حادثات اورآل انڈیا ریڈیو کی توسیع

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جنگوں اورحادثات یا آفات کے سبب آل انڈیا ریڈیو نے اپنی سرگرمیوں میں تیز اضافہ کیا۔ 1962میں جب چین کے ساتھ جنگ ہوئی تو آل انڈیا ریڈ یونے روزانہ پروگرام پیش کرنے کے لیے ایک’talks‘اکائی قائم کی۔ اگست1971میں بنگلا دیش کا بحران سامنے آیاتو نیوز سروس ڈویژن نے 6بجے صبح سے آدھی رات تک ہر گھنٹے خبریں پیش کرنے کی شروعات کی۔1991کے ایک اورحادثے میں راجیوگاندھی کے  الم ناک قتل کے بعد چوبیس گھنٹے بلیٹن پیش کرنے کا ایک اورقدم اٹھایاگیا۔


ٹیلی ویژن(Television)

ہندوستان میں دیہی ترقی کو فروغ دینے ولے کے لیے 1959میں ہی ٹیلی ویژن کے پروگراموں کو تجربے کے طورپرشروع کردیاگیا تھا۔آگے چل کر،اگست1975سے جولائی1976کے دوران سٹیلائٹ کی مدد سے تعلیم دینے کے تجربے(Satellite Instructional Television Experiment) (SITE)کے تحت ٹیلی ویژن نے چھ ریاستوں کے دیہی علاقوں میںکمیونٹی کے ناظرین کے لیے براہِ راست نشریات کی ۔شروعات کی یہ تعلیمی نشریات روزانہ چار گھنٹے تک2,400ٹی وی سیٹوں پربراہ راست نشر کی جاتی ۔اسی دوران دوردرشن کے تحت چار(دہلی،ممبئی،سری نگراورامرتسر) میں1975تک ٹیلی ویژن مراکز قائم کردیے گئے۔ہر ایک نشریاتی مرکز کے اپنے پروگرام ہوتے تھے جن میں خبریں،بچوں اورخواتین کے پروگرام،کسانوں کے پروگرام اور تفریحی پروگرام شامل تھے۔
جب پروگرام کمرشیل بن گئے اوران میں ان پروگراموں کے اسپانسروں کے اشتہارات شامل کیے جانے لگے تو مقصود ناظرین میں تبدیلی واضح طورپردکھائی دینے لگی۔ان تفریح کے پروگراموں میں اضافہ ہوگیا جو شہری صارف طبقے کے لیے ہوتے تھے۔دہلی میں1982کے ایشیائی کھیلوں کے دوران رنگین نشریات کے شروع کیے جانے اورقومی نیٹ ورک میں تیزی سے توسیع کے نتیجے میں آبادی کا ایک بڑا تناسب اس میں شامل ہوگیا۔یہی وہ وقت تھا جب’’ہم لوگ‘‘(1984–85) اور’بنیاد (1986–87) جیسے سوپ اوپیرا نشر کیے گئے۔یہ نہایت مقبول ثابت ہوئے اوردوردرشن کے لیے کافی مقدار میں اشتہارات کے ذریعہ آمدنی کمانے کا ذریعہ ثابت ہوئے جیساکہ آگے چل کر ’’رامائن‘‘(1987–88) اور ’مہابھارت‘ (1988–90) جیسے رزمیوں کے معاملے میں بھی ہوا۔

سرگرمی7.3

پرانی نسل کے مختلف لوگوں سے ملیں اورپتہ لگائیں کہ1970اور1980کی دہائی میں ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں کیا دکھایا جاتا تھا؟کیاان میں بیشتر لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن دستیاب تھا؟


باکس7.5

’ہم لوگ:ایک فیصلہ کن موڑ

’ہم لوگ‘ہندوستان کاسب سے پہلا طویل سوپ اوپیرا تھا…اس نئے اولین پروگرام کے ذریعہ تفریحی پیغام میں تعلیمی مواد کو بھی قصداً شامل کرتے ہوئے تفریح اورتعلیم کی مشترکہ حکمت عملی کو اپنایاگیاتھا۔

1984–85کے دوران17مہینوں میں’ہم لوگ‘کی تقریباً15قسطیں نشرکی گئیں۔اس ٹیلی ویژن پروگرام کے ذریعہ سماجی خیالات پر مبنی موضوعات جیسے جنسی مساوات،چھوٹا خاندان اورقومی یکجہتی کو فروغ دیاگیاتھا۔ہر22منٹ کی قسط کے آخر میں مشہور ہندوستانی اداکار اشوک کمار30تا40سیکنڈ کے اختتامی خطاب میں قسط وار حصے سے حاصل سبق کو مختصراً پیش کیاکرتے تھے۔اشوک کمار ناظرین کے سامنے ڈرامے کے خیالات کو روزمرہ کی زندگی کے ساتھ جوڑ تے تھے۔مثال کے طورپرانھوں نے ایک منفی کردار جو شراب پیتا تھا اوراپنی بیوی کو مارتا پیٹتا تھا،پر تبصرہ کرتے ہوئے ناظرین سے یہ پوچھا، ’’آپ کے خیال میں بیسرام جیسے لوگ اتنی زیادہ شراب کیوں پیتے ہیں اوراس کے بعد برُاسلوک کیوں کرتے ہیں؟کیا آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں؟شراب پینے کی عادت کو کیسے کم کیاجاسکتا ہے؟اس کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں(سنگھل اورروجرس1989)’ہم لوگ‘کے دیکھنے والوں کے بارے میں مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دیکھنے والوں اور’ہم لوگ‘کے ان کے پسندیدہ کرداروں کے درمیان اعلی درجے کا سماجیاتی بین عمل ہے ۔مثال کے طورپر،’ہم لوگ‘کے بیشترناظرین نے بتایا کہ انھوں نے اپنے رہائشی کمروں کی خلوت میں اپنے پسندیدہ کردار کے بارے میں ملنے کے لیے اپنے یومیہ شیڈوں کے معمولات کے لحاظ سے تطابق کیا۔چند دیگر افراد کے مطابق وہ ٹیلی ویژن سیٹوں کے ذریعہ اپنے پسندیدہ کرداروں سے بات چیت کرتے تھے؛ مثال کے طورپر،’بڑکی فکرمت کرو۔کیریربنانے کا اپنا خواب مت چھوڑو‘

’ہم لوگ‘دیکھنے والوں کی تعداد شمالی ہندوستان میں65سے90فی صد اورجنوبی ہندوستان میں20سے40فی صد تک تھی۔اوسطاً تقریباً5کروڑ ناظرین ’ہم لوگ‘کا نشریہ دیکھتے تھے۔اس سوپ اوپیرا(گھریلو ڈراما)کا غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ ناظرین سے اس کے بارے میں بڑی تعداد میں 4,00,000سے بھی زیادہ خط وصول ہوا کرتے تھے،وہ اتنے زیادہ ہوتے تھے کہ ان میں سے زیادہ تر تو’دوردرشن‘کے آفیسروں کے ذریعہ کھولے بھی نہیں جاسکتے تھے۔ (سنگھل اورروجرس2001)


باکس7.6

’ہم لوگ کے اشتہارات نے ایک نئی صرفی شے،میگی2منٹ نوڈلس کو فروغ دیا۔عوام نے اسے تیزی سے قبول کیا جس سے ٹیلی ویژن کمرشیل کی قوت کا پتا چلا۔اشتہاردینے والوں نے ٹیلی ویژن اشتہار کے لیے ایر ٹائم خریدنے کے لیے قطارلگادی اوردوردرشن کو کمرشیل بنانے کی شروعات ہوئی۔

پرنٹ میڈیا (Print Media)

پرنٹ میڈیا کی شروعات اورسماجی و اصلاحی تحریک نیزقوم پرست تحریک دونوں میں اس کے کردار کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے۔آزادی کے بعد پرنٹ میڈیا نے قوم کی تعمیر کے کام میں اپنی شرکت نبھانے کے کردار کو برابر جاری رکھا اوراس کے لیے وہ ترقیاتی امور اورلوگوں کے ایک بڑے طبقے کی آواز کو اٹھاتارہا ۔درج ذیل باکس کے مختصراًاقتباس سے آپ کو پیمان وابستگی کے مفہوم کا پتہ چلے گا۔

باکس7.7

ہندوستان میں صحافت کو’اندرونی آواز‘یاتقاضہ(Calling)کے طورپر سمجھاجاتا رہا ہے۔ جب آزادی کی جدوجہد اورسماجی تبدیلی کی تحریکوں میں تیزی آئی اورجدیدسماج میں نئے تعلیمی اورکیریر مواقع پیداہوئے تب وطن پرستانہ اورسماجی اصلاح کی مثالیت اورتصوریت کے جذبے سے ترغیب پاکر غیر معمولی ذہین لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہوسکی۔جیسا کہ اکثر ایسے کاموں میں ہواکرتا ہے اس روزگار میں واقعتا پیسہ بہت کم تھا۔ اس روزگار کو پیشے کے طورپرتبدیل ہونے میں کافی وقت لگاجو’ہندو‘جیسے اخبار کی شکل میں ہونے والی تبدیلی سے ظاہرہوتا ہے۔یہ ابتدامیں خالصتاً سماجی اورعوامی خدماتی مشن کو لے کر چلا تھا لیکن آگے چل کر کاروباری مہم جوئی میں بدل گیا،حالانکہ اس میں سماجی اورعوامی خدماتی مشن کا جذبہ بھی قائم رہا۔

ماخذ:ایڈیٹوریل۔یسٹرڈے،ٹوڈے،ٹومارو،دی ہندو،13ستمبر2003،  

بی۔ پی۔ سنجے2006


میڈیا کو سب سے زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑاجب1975میں ایمرجنسی کا اعلان کیاگیا اورمیڈیا پر سنسر شپ نافذکی گئی۔خوش قسمتی سے وہ وقت ختم ہوگیا اور1977میں جمہوریت ازسرنو بحال ہوئی،ہندوستان اپنے متعدد مسائل کا سامناکرتے ہوئے بھی اپنے آزاد میڈیا پر جائز طورپر فخر کرسکتا ہے۔
باب کے شروع میں ہم نے بتایا تھا کہ ماس میڈیا ترسیل کے دیگر ذرائع سے مختلف ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر پونجی،پیداوار اورمینجمنٹ سے متعلق تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے رسمی ساختی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ بھی کہ کسی دیگر سماجی ادارے کی طرح ماس میڈیا بھی الگ الگ معاشی،سیاسی اورسماجی وثقافتی سیاق وسباق کے لحاظ سے ساخت اورمواد کے لحاظ سے بدلتارہتا ہے۔اب آپ یہ دیکھیں گے کہ میڈیا کا مواد اورانداز دونوں ہی مختلف اوقات میں کس طرح تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔کبھی ریاست یعنی حکومت کو بھی اہم کردار نبھانا ہوتا ہے اورکبھی بازار کو۔ہندوستان میں حالیہ وقتوں میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں طورپر دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ جدید جمہوریت میں میڈیا کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔آئندہ سیکشن میں ہم ان نئی باتوں پر غورکریں گے۔

7.3 عالم کاری اور میڈیا(Globalisation and The Media)

ہم گزشتہ باب میں عالم کاری کے دوررس اثرا ت اورترسیلی انقلاب کے ساتھ اس کے قریبی تعلق کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ترسیل کی ہمیشہ بین الاقوامی جہات رہی ہیں جیسے نئی کہانیوں کوجمع کرنا اورابتدائی طورپر مغربی فلموں کو دوسرے ملکوں میں فروخت کرنا۔تاہم1970کی دہائی تک زیادہ تر میڈیا کمپنیاں قومی حکومتوں کے ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے مخصوص گھریلو بازاروں میں عمل پذیر رہیں۔میڈیا صنعت بھی کئی الگ الگ شعبوںمیں تقسیم تھی جیسے سنیما،پرنٹ میڈیا، ریڈیو اورٹیلی ویژن نشریہ جوایک دوسرے سے آزادرہ کراپنا کام کرتے تھے۔
گزشتہ تین دہائی میں میڈیا صنعت میں کئی تبدیلیاں پیداہوئی ہیں۔اب قومی بازاروں کی جگہ مسلسل تغیرپذیر عالمی بازار نے لے لی ہے اورجدید ٹیکنالوجی نے میڈیا کی مختلف شکلوں کو جو پہلے الگ الگ تھیں، آپس میں ملادیا ہے۔

باکس 7.8

عالم کاری اورموسیقی

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ موسیقی سے متعلق شکل وہ ہوتی ہے جو کسی دیگر شکل کے مقابل زیادہ مؤثر طورپر ۔عالم کاری کو قبول کرلیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسیقی ان لوگوں تک بھی آسانی سے پہنچ جاتی ہے جوتحریری یا تقریری زبان کو نہیں جانتے۔ذاتی اسٹیریونظام سے موسیقی ٹیلی ویژن(جیسے کہMTV)اورسی ڈی تک ٹیکنالوجی کی ترقی نے عالمی طورپر موسیقی کی تقسیم کے لیے ترقی یافتہ طریقے پیش کردییے ہیں۔

ترسیل کی شکلوں کا امتزاج

اگرچہ موسیقی صنعت محدودبین الاقوامی گروپ کے ہاتھوں میں زیادہ مرکوز ہوتی جارہی ہے پھر بھی کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کے لیے ایک بڑا خطرہ پیداہوگیا ہے کیونکہ انٹرنیٹ کے آجانے سے موسیقی کو مقامی موسیقی کی دکانوں سے سی ڈی یا کیسٹ کے طورپرخریدنے کے بجائے ڈجیٹل طورپر ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے۔عالمی موسیقی صنعت میں اس وقت متعدد فیکٹریوں،تقسیمی سلسلوں،موسیقی کی دکانوں اورفروخت کرنے والے ملازمین یا ایک پیچیدہ نیٹ  ورک شامل ہے۔ اگر انٹرنیٹ سے ان سبھی عناصر کی ضرورت کو ختم کرکے موسیقی کوبراہ راست ڈاؤن لوڈ کر فروخت کرنا ممکن ہوتو موسیقی صنعت میں باقی کیارہے گا؟

موسیقی انڈسٹری میں موبائل کے اثرات اور مواقع کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟


باکس7.8کے لیے مشق

باکس میں دییے گئے مواد کو بغور پڑھیں اوربحث کریں:
چندموسیقی گروپوں یا کارپوریشنوں کے نام دریافت کریں۔
     کیاآپ نے کبھی اُس رنگ ٹون کے بارے میں سوچاہے، جنھیں لوگ اپنے موبائل کے لیے ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔کیا یہ میڈیا کی مختلف شکلوں کا امتزاج ہے؟
     کیا آپ نے ٹیلی ویژن پر کوئی ایسا موسیقی مقابلہ دیکھا ہے جہاں ناظرین سے ایس ایم ایس کرنے کی توقع کی گئی ہو؟کیا یہ میڈیا کی مختلف شکلوں کے امتزاج کی ہی مثال نہیں ہے؟اس میں کون کون سی قسم شامل ہے؟
     کیا آپ ایسے نغموں کا لطف اٹھاتے ہیں جن کے الفاظ آپ نہ سمجھتے ہوں؟موسیقی کی ایسی نئی شکلوں کے بارے میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں،جہاں صرف موسیقی کے اقسام کا ہی نہیں زبان کا بھی امتزاج ہو؟
      کیا آپ نے کبھی’ریپ‘اور’بھانگڑہ‘کی ملی جلی موسیقی سنی ہے؟یہ دونوں شکلیں کہاں سے نکلی ہیں؟
      غالباً اوربھی کئی مسائل ہیں جن کے بارے میں آپ سوچ سکتے ہیں۔بحث کریں اوراپنے مباحثے کی بنیاد پر ایک مختصرمضمون لکھیں۔


ہم نے موسیقی صنعت اوراس کے دوررس نتائج جوعالم کاری کے سبب پیداہوئے ہیں یاترسل عامہ میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ یہ باب غالباً ان کے بارے میں ایک جزوی فہم ہی پیدا کرے ۔ نوجوان نسل کے طورپر آپ فراہم کی گئی معلو مات کی بنیاد پر پیش رفت کرسکتے ہیں۔ اب ہم یہاں دیکھیں گے کہ عالم کار ی کے سبب پرنٹ میڈیا(خاص طورپر اخبارات ورسائل)،الیکٹرانک میڈیا(خاص طورپر ٹیلی ویژن)اورریڈیو میں کیاکیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

7

پرنٹ میڈیا(Print Media)

ہم دیکھ چکے ہیں کہ تحریک آزادی کی وسعت میں اخبارات ورسائل کتنے اہم تھے۔اکثریہ ماناجاتا ہے کہ ٹیلی ویژن اورانٹرنیٹ کے فروغ سے پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم ہوجائے گی، لیکن ہندوستان میں ہم نے اخبارات کی اشاعت کو بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔جیسا کہ باکس میں بتایاگیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیاں اخبارات کی تعداد اوراشاعت بڑھانے میں مددگار رہی ہیں۔بازار میں چمک دمک والے رسائل بھی اب ملنے لگے ہیں۔

باکس7.9

گذشتہ چنددہائیوں میں انتہائی اہم تبدیلیوں میں ہندوستانی لسانی اخبارانقلاب ہے۔ہندی،تیلگو اور کنڑ زبانوں کے اخباروں میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ملک کی طباعتی اشاعتوں میں 2006  سے 2016کے درمیان 23.7ملین یومیہ کاپیوں کا اضافہ ہوا ہے۔ 39.1 ملین اوسط کاپیوں کی تعداد سے 2016 میں بڑھ کر 62.8 ملین ہو گئی ہے۔ جو 2006 سے 2016 کے درمیان مرکب سالانہ شرح ترقی(CAGR) کا 4.87 فیصد ہے۔ چار جغرافیائی علاقوں میں شمال میں 7.83 فیصد کا اضافہ نظر آتا ہے۔ جبکہ جنوب، مغرب اور مشرق میں تقریباً 4.95،2.81 اور 2.63 فیصد تھی۔ ہندوستان میں دو سب سے اوپر کے روزنامے دینک جاگرن اور دینک بھاسکر کی جولائی اور دسمبر 2016 کے درمیان تقریباً 3.92 اور3.81 ملین کی اوسط امتیازی فروخت رہی۔

ماخذ: ایڈیٹ بیورو آف سرکولیشن 2016-17

ایناڈو کی کہانی بھی ہندوستانی لسانی پریس کی کہانی پیش کرتی ہے۔ ایناڈو کے بانی راموجی راؤ نے 1974 میں اخبار شائع کرنے سے قبل بڑی کامیابی کے ساتھ ایک چٹ فنڈ  بنایا تھا۔ 1980 کی نصف دہائی میں دیہی علاقوں میں مناسب اسباب سے ہم آہنگی مثلاً عراق مخالف تحریک کی وجہ سے تیلگو اخبار ملک کے کونے کونے تک بیچنے کے لائق ہو گیا تھا۔جس نے اسے 1989 میں ضلع روزنامہ نکالنے کی ترغیب دی۔ جس میں مخصوص اضلاع،سنسنی پھیلانے والی خبریں اور اسی ضلع کے گاؤں اور چھوٹے قصبوں سے حاصل زمرہ بند اشتہار لگائے جاتے تھے۔ 1998تک آتے آتے ایناڈو آندھرا پردیش کے دس قصبوں سے شائع ہونے لگا اور کل تیلگو روزناموں کی اشاعت میں اس کا حصہ70 فیصد ہوگیا۔


8

ظاہر ہے کہ ہندوستانی زبانوں کے اخبارات میں اس حیرت انگیز اضافے کے کئی اسباب ہیں۔پہلا،ایسے خواندہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ جو شہروں کو ہجرت کررہے ہیں۔2003میں ہندی روزنامے’ہندوستان‘کی دہلی ایڈیشن کی 4,000کاپیاں چھپتی تھیں جو2005تک بڑھ کر4,25,000ہوگئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ دہلی کی ایک کروڑ سینتالیس لاکھ کی آبادی میں52فی صد اترپردیش اوربہار کے ہندی بولنے والے علاقے سے آئے ہیں۔ان میں47فی صد لوگوں کا پس منظر گاؤں ہے بن میں60فی صد لوگ 40سال سے کم عمرکے ہیں۔
دوسرا،چھوٹے قصبوں اورگاؤں میں پڑھنے والوں کی ضرورتیں شہری پڑھنے والوں سے مختلف ہوتی ہیں ہندوستانی زبان کے اخبارات ان ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔ ’ملایلی منورما‘اور’ایناڈو‘جیسے ہندوستانی زبان کے اہم اخبارات نے مقامی خبروں کے تصور کوخصوصی انداز سے ضلعی اشاعتوں اورضرورت کے مطابق بلاک اشاعت کے ذریعہ شروعات کی۔ایک دیگر اولین تمل، ’دن تنتی‘  نے ہمیشہ آسان اوربول چال کی زبان کا استعمال کیا۔ہندوستانی زبانوں کے اخباروں نے ترقی یافتہ پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو اپنایا اورضمیمہ، اضافی نمبر،ادبی گوشے وکتابچے شائع کرنے کی کوشش کی۔’دینک بھاسکر‘گروپ کی افزائش کا ان سبب کے ذریعہ اپنائی گئی کئی مارکیٹنگ حکمت عملی ہے ۔جس کے تحت وہ صارف رابطہ پروگرام،گھرگھر جاکر سروے اورتحقیق جیسے عمل کرتے ہیں۔اس سے ہم پھر اسی مسئلے پر واپس آجاتے ہیں کہ جدید ماس میڈیا کے لیے ایک رسمی ساختی تنظیم کا ہونا ضروری ہے۔

باکس7.10

ہندوستان میں اخبارات کی اشاعت میں تبدیلی

انڈین ریڈرشپ سروے کے حالیہ میں شائع اعدادوشمار کے مطابق ہندی زبان بولنے والے علاقوں میں قارئین کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ہندوستانی زبان کے روزناموں کے پڑھنے والوں کی تعداد میں پچھلے سال کافی زیادہ اضافہ ہوا اور2019میں 19.1کروڑ سے بڑھ کر 425ملین تک پہنچ گئی ہے ۔دوسری طرف انگریزی روزناموں کو پڑھنے والوں کی تعداد 31کروڑ کے قریب ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔2005ہندی کے روزناموں میں’دینک جاگرن‘(74ملین پڑھنے والے)اور’دینک بھاسکر‘(51ملین قارئین کے ساتھ)فہرست میں سب سے اوپر ہیں جب کہ’دی ٹائمز آف انڈیا‘انگریزی واحدایک ایسا روزنامہ ہے جس میں قارئین کی تعداد50لاکھ سے زیادہ(15.2اور503ملین )ہے۔50لاکھ پڑھے جانے والے کل18روزناموں میں سے چھ ہندی کے،تین تمل کے،دوگجراتی،ملیالم اورمراٹھی کے اورایک بنگالی،تیلگواورانگریزی کے ہیں۔(دی ہندو،دہلی،30اگست2006)

جب کہ انگریزی کے اخبار جنھیں اکثر’قومی روزنامے‘کہاجاتا ہے سبھی حلقوں میں پڑھے جاتے ہیں۔ملکی زبانوں کے اخبارات کی اشاعت ریاستوں اوراندرونی دیہی علاقوں میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے مقابلہ کرنے کے لیے خاص طورپر انگریزی زبان کے اخباروں نے جہاں ایک طرف اپنی قیمتیں کم کردی ہیں،وہیں دوسری طرف ایک ساتھ کئی مراکز میں اپنی الگ اشاعتیں نکالنے لگے ہیں۔

سرگرمی7.4

پتہ لگایئے کہ جس اخبار سے آپ بہت زیادہ مانوس ہیں وہ کتنی جگہوں سے نکلتا ہے؟
⇐       کیا آپ نے غورکیا ہے کہ ان میں کس شہر کے مفادات اورواقعات کو خصوصی اہمیت دینے والے ضمیمے ہوتے ہیں۔
کیا آپ نے ایسے کئی کمرشیل ضمیموں کو دیکھا ہے جو آج کل کئی اخبارات کے ساتھ آتے ہیں؟

باکس2.11
اخبار کی تعداد اشاعت میں تبدیلیاں:ٹیکنالوجی کا کردار

1980کی دہائی کے آخری سالوں اور1990کی دہائی کے ابتدائی سالوں سے اخبارکے نامہ نگاروں کی ڈیسک سے آخری صفحے کے پروف تک اخبارات پوری طرح خود کار ہوگئے ہیںجس کے سبب کاغذ کا استعمال پوری طرح سے ختم ہوگیا ہے۔ایسا ٹکنالوجی سے متعلق دوتبدیلیوں کے سبب ممکن ہوا ہے: (لین LANs) یعنی لوکل ایریانیٹ ورک کے ذریعہ پرسنل کمپیوٹر (PC) کا نیٹ ورک کانظام اورخبریں بنانے والے ’نیوزمیکر‘جیسے اوردیگر انفرادی ضرورتوں کے مطابق ’سافٹ ویروں کے استعمال کے سبب۔

بدلتی ہوئی ٹکنالوجی نے نامہ نگاروں کے کردار اورکاموں کو بھی بدل دیاہے۔ایک نامہ نگار کے قدیم بنیادی لوازمات شارٹ ہینڈنوٹ بک،قلم،ٹائپ رائٹراورپرانے سادے ٹیلی فون کی جگہ ایک چھوٹے ٹیپ ریکارڈر،ایک لیپ ٹاپ یا ایک پی سی،موبائل یا سٹیلائٹ فون اورموڈم جیسے لوازمات نے جگہ لے لی ہے۔خبروں کو جمع کرنے کے کام آنے والے ان سبھی ٹکنالوجی سے متعلق تبدیلیوں نے خبروں کی رفتار بڑھادی ہے اوراخباروں کے مینجمنٹ کوکام کی تکمیل کی مقررہ مدت کابوجھ ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اب وہ زیادہ تعداد میں اشاعت کامنصوبہ بنانے اورجدید خبریں فراہم کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔ملکی زبانوں کے کئی اخبارہر ضلع کے لیے الگ اشاعت نکالنے کے لیے ان ٹیکنالوجیوں کا استعمال کررہے ہیں۔ اگرچہ چھپائی مراکز تومحدود ہیں لیکن اشاعت کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

میرٹھ سے نکلنے والے’امراُجالا‘جیسے اخباروں کے سلسلے خبریں جمع کرنے اورتصویری مواد میں بہتری کے لیے نئی ٹکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں۔اس اخبار کے پاس اترپردیش اوراترانچل ریاستوں سے نکلنے والی اپنی سبھی تیرہ اشاعتوں کو مواد فراہم کرنے کے لیے تقریباً ایک سونامہ نگار ملازم اورتقریباً اتنے ہی فوٹو گرافر کا ایک نیٹ ورک ہے۔سبھی نامہ نگار خبریں بھیجنے کے لیے پی سی اورموڈم آلات سے لیس ہیں اورفوٹو گرافر اپنے ساتھ ڈجیٹل کیمرہ رکھتے ہیں۔ڈجیٹل تصویر موڈم کے ذریعہ مرکزی نیوز ڈیسک کو بھیجی جاتی ہے۔


9

بہت سے لوگوں کو یہ ڈرتھا کہ الیکٹرانک میڈیا کے فروغ سے پرنٹ میڈیا کی اشاعت میں کمی آئے گی،لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس میں وسعت ہی ہوئی ہے۔اس عمل کے سبب اخبارات کواکثر قیمتیں کم کرنی پڑی ہیں اورنتیجتاً اشتہارات کے اسپانسروں پر انحصار بڑھ گیا ہے اوراس کے نتیجے میں اخباروں کے مواد میں اشتہارات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔باکس7.13میں اس عمل کی منطق کو واضح کیا گیا ہے۔

باکس7.12

ایک میڈیا منیجر کے الفاظ میں اسباب کی وضاحت 

پرنٹ میڈیا کی مشکل یہ ہے کہ حاصل کے لیے اس کے منصوبے کی تکمیل کی مدت بہت زیادہ ہوتی ہے اورلاگت پیداوار بھی اونچی ہوتی ہے۔ اخبار یا رسائل کے کورصفحہ پر لکھی قیمت سے ہی اس کی لاگت نہیں نکلتی…اگر اخبار نکالنے کی لاگت 5روپیے ہے اور اسے2روپیے میں فروخت کررہے ہیں تو اسے اونچی مالی اعانت (سبسڈی)کی بنیاد پر ہی فروخت کررہے ہیں۔ظاہر ہے کہ آپ کو اپنی لاگت نکالنے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرنا ہوگا۔

اس طرح اشتہارات دینے والے پرنٹ میڈیا کے ابتدائی گاہک بن جاتے ہیں…اس لیے میں پرنٹ میڈیا سے اپنے پروڈکٹ کے لیے گاہک حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہوںبلکہ میں اپنے اشتہاردینے والوں کے لیے ایسے گاہک حاصل کرتا ہوں جو میرے پڑھنے والے ہیں…اشتہاردینے والے ایسے گاہکوں کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں،جو کامیاب ہوتے ہیں،جو زندگی سے لطف اندوزہوتے ہیں،صَرف کرتے ہیں،جو جلد ہی پروڈکٹ کو اپنالیتے ہیں،جو تجربہ کیے جانے میں یقین رکھتے ہیں،جو لذت اندوز ہوتے ہیں۔

پریس انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر نے تفصیلی طورپر اخبارات کا مفہوم بیان کیا ہے کہ انھیں اشتہاردینے والے امکانی گاہکوں کی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔

کئی ہفتوں سے میں اولین انگریزی اخباروں پر نظرڈالتا رہا ہوں،خاص طورپر میں اپنے ملک کے دیہی علاقوں،چھوٹے قصبوں اوربڑھی ہوئی جھگی جھونپڑیوں کی آبادی کی فیلڈرپورٹوں اورمقاموں کو دیکھتارہاہوں۔ہماری آبادی کے 70  فی صد لوگ یہاں رہتے ہیں،میرے خیال میں یہ اصل ہندوستان پر مشتمل لوگ ہیں…قومی پریس کو ایسی اطلاعات فراہم کرنے کی ہمت کرنا چاہیے جس سے ہمارے پالیسی ساز،سیاست داں، ماہرین تعلیم اورصحافیوں کی ان کے بارے میں رائے وضع ہوسکے۔جیساکہ صحافت کے لیے ان کا روایتی کردار بیان کیاگیا ہے،حکمرانی کے نظام پر انھیں ایک چوکی دار کے طورپر عمل کرنا چاہیے۔

(چودھری  2005:199–226)


باکس7.13

اخباروں کی کوشش اپنے پڑھنے والوں کی تعداد اورمختلف گروہوں تک رسائی رہی ہے۔یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اخبار پڑھنے کی عادتیں بدل گئی ہیں جب کہ بوڑھے لوگوں کی عادت اخبار کوپوری طرح پڑھنے کی ہے وہیں نوجوان اکثر اپنی مخصوص دلچسپیاں رکھتے ہیں اوراسی کے لحاظ سے وہ کھیل،تفریح یا سماجی گفتگو جیسے موضوعات سے متعلق براہ راست پہنچ جاتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی دلچسپیوں میں فرق ہونے کے سبب اخبار کو مختلف قسم کی روداد تحریر کرنی چاہیے جو مختلف دلچسپیوں کے حامل لوگوں کے ایک وسیع حلقے کو راغب کرسکے۔اس لیے اخبار اکثر معلومات کے ساتھ ساتھ تفریح کے مواد کو پیش کرنے کی طرف مائل ہوئے ہیں تاکہ ہر طرح کے قارئین کی دلچسپی بنی رہے ۔اخباروں کی اشاعت اب بعض روایتی قدروں کے لیے وقف ہونے سے متعلق نہیں رہی ۔وہ ابھی صرفی شے بن گئے ہیں جب تک یہ تعداد بڑی ہے فروخت کے لیے سب کچھ کیا جاسکتا ہے؟


باکس7.13 کے لیے مشق

متن کو بغور پڑھیں۔
آپ کے خیال میں کیا قارئین بدل گئے ہیں یا اخبارات ؟بحث کیجیے۔
معلومات مع تفریح پربحث کریں،کیاآپ اس کی چند مثالیں سوچ سکتے ہیں۔آپ کے خیال میں انفوٹنمنٹ کے اثرات کیاہوں گے؟

ٹیلی ویژن(Television)

1991میں ہندوستان میں ایک ہی ٹی وی چینل دوردرشن تھا جس پر ریاست کا کنٹرول تھا، لیکن 1998تک تقریباً 70چینل ہوگئے۔1990کی دہائی کے نصف سے غیر سرکاری چینلوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔2000میں جب دوردرشن 20سے زیادہ چینلوں پر اپنے پروگرام نشرکررہا تھا،غیر سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی تعداد40کے آس پاس تھی۔غیر حکومتی سٹیلائٹ ٹیلی ویژن میں ہونے والایہ حیرت انگیزاضافہ عصری ہندوستان میں نمایاں ترقیوںمیں سے ایک ہے۔2002میں اوسطاً13.4 کروڑ لوگ ہر ہفتے سٹیلائٹ ٹی وی دیکھاکرتے تھے۔یہ تعداد بڑھ کر 2005میں190 ملین ہوگئی ہے۔ 2002 میں سٹیلائٹ ٹی وی کی دستیابی والے گھروں کی تعداد چارکروڑ تھی جو بڑھ کر2005میں 61ملین ہوگئی۔ ٹی وی رکھنے والے سبھی گھروں میں اب56فی صد گھروں میں سٹیلائٹ ٹی وی سے استفادہ ہورہا ہے۔
10

1991کے خلیجی جنگ نے(جس نے سی این این چینل کو مقبولیت عطا کی)اوراسی سال ہانگ کانگ کے ہوام پوا ہیچنسن گروپ کے ذریعہ شروع کیے گئے آسٹار ٹی وی نے ہندوستان میں غیر سرکاری سٹیلائٹ چینلوں کی آمد کی نشان دہی کردی تھی۔1992میں ہندی زبان کے تفریحی سٹیلائٹ چینل زی ٹی وی نے ہندوستان میں کیبل ٹیلی ویژن کو اپنے پروگرام دینے شروع کردیے تھے۔2000تک آتے آتے ہندوستان میں40غیر سرکاری کیبل اورسٹیلائٹ چینل دستیاب ہوچکے تھے،ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو صرف علاقائی زبانوں کی نشریات پر مرکوز تھے جیسے سن۔ ٹی وی،اینا ڈو۔ٹی وی،ادے۔ ٹی وی،راج۔ ٹی وی اورایشیا نیٹ ، اسی دوران زی ٹی وی نے بھی کئی علاقائی نٹ ورک شروع کیے جومراٹھی،بنگلہ اوردیگر زبانوں میں پروگرام نشرکرتے ہیں۔
1980کی دہائی میں جہاں ایک طرف دوردرشن کی توسیع تیزی سے ہورہی تھی وہیں کیبل ٹیلی ویژن صنعت بڑے ہندوستانی شہروں میں فروغ ہورہاتھا۔وی سی آرنے دوردرشن کے واحد چینل پروگرامنگ کے متبادلات فراہم کرکے ہندوستانی ناظرین کے لیے تفریح کے متبادلات میں کئی گنا اضافہ کردیا۔نجی گھروں اورکمیونٹی کی نشست والے کمروں میں ریڈیو پروگرام دیکھنے کی سہولت میں بھی اضافہ ہوا۔ویڈیو پروگراموں میں زیادہ تر ملکی اوردرآمد شدہ دونوں طرح کی فلموں پر مبنی تفریحات شامل تھیں۔1984تک،ممبئی اوراحمدآباد جیسے شہروں میں کاروباری مہم نے زورپکڑاجو ایک دن میں کئی فلمیں دکھانے کے لیے اپارٹمنٹ عمارتوںمیں تار لگانے لگے۔ کیبل چلانے والوں کی تعداد جو 1984میں100تھی،بڑھ کر1988میں1,200،1992 میں 15,000اور1999میں تقریباً60,000ہوگئی۔
اسٹار ٹی وی،ایم ٹی وی،چینل وی،سونی اوردیگر جیسی کثیر ملکی کمپنیوں کی آمد سے بعض لوگوں کو ہندوستانی نوجوانوں اورہندوستانی ثقافت پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں فکر پیداہوئی لیکن زیادہ تر کثیر ملکی ٹیلی ویژن چینلوں نے تحقیق کے ذریعہ یہ جان لیا کہ ہندوستانی ناظرین کے مختلف گروپوں کو راغب کرنے کے لیے معروف پروگراموں کا استعمال ہی زیادہ مؤثر ہوگا۔سونی انٹرنیشنل کی ابتدائی حکمت عملی یہ رہی کہ ہر ہفتے 10ہندی فلمیں دکھائی جائیں اوربعد میں جب اسٹیشن اپنے ہندی پروگرام تیار کرلے تب دھیرے دھیرے ان کی تعدادکم کردی جائے۔اب زیادہ تر غیر ملکی نیٹ ورک یا تو ہندی زبان کے پروگراموں کا(ایم ٹی وی انڈیا ) کا ایک حصہ ہوگئے ہیں یا نئے ہندی چینل(اسٹارپلس)میں شروع کردیا ہے۔ اسٹار اسپورٹز اورای ایس پی این دوہری کمنٹری یا ہندی میں ایک آڈیو ساؤنڈ ٹریک چلاتے ہیں۔ بڑی کمپنیوں نے بنگلہ،پنجابی،مراٹھی اورگجراتی جیسی زبانوں میں خصوصی علاقائی چینل شروع کیے ہیں۔
مقامی بنانے کا سب سے ڈرامائی طریقہ غالباً اسٹارٹی وی کے ذریعہ اپنایاگیا۔اسٹارپلس چینل جو شروع میںہانگ کانگ سے چلایاجانے والا پوری طرح عام تفریح کاایک چینل تھا، نے اکتوبر 1996سے شام7اور9کے دوران ہندی زبان کے پروگرام دینے شروع کردیے۔پھر فروری 1999سے یہ پوری طرح ہندی چینل بن گیا اورسبھی انگریزی سیریل کو اسٹارورلڈ کو منتقل کردیاگیا جو اس نیٹ ورک کا انگریزی زبان کا بین الاقوامی چینل ہے۔ اس تبدیلی کی حوصلہ افزائی دینے والے اشتہارات میں ہنگلش کا یہ نعرہ شامل تھا:’’آپ کی بولی آ پ کا پلس پوائنٹ،(بوچر2003)،اسٹار اورسونی دونوں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے اپنے پروگراموں کو چھوٹے بچوں کے لیے ڈب کرتے رہے ہیں کیونکہ انھیں ایسا لگنے لگا تھا کہ بچے ان خصوصیت کو سمجھنے اورقبول کرنے لگے ہیں جو اس صورت میں پیداہوتی ہے جب کہ زبان کوئی دوسری ہو اورکہانی کا ماحول کوئی اور۔کیاآپ نے کبھی کوئی ڈب (صوتی نگارش)کیاہوا پروگرام دیکھا ہے؟اس کے بارے میں آپ کیامحسوس کرتے ہیں؟

باکس7.14

پرنس نام کا ایک پانچ سالہ کا بچہ ہریانہ کے کروکشیترضلع کے الڈیہڑی گاؤں میں 55فٹ سے گہرے ٹیوب ویل کے لیے کھودے گئے گڈھے میں گرگیا اور50گھنٹے کی سخت محنت کے بعد فوج کے ذریعہ باہرنکالاجاسکا۔اس کے لیے فوج نے ایک دوسرے گڈھے سے متوازی سرنگ کھودی۔بچہ جس شفٹ یا سرنگ میں پھنساہوا تھا اس میں بندسرکٹ والا ٹیلی ویژن کیمرہ(CCTV)کھانے کے ساتھ اتارا گیا تھا۔ دونیوز چینلوں نے اپنے دیگر سبھی پروگرام چھوڑ کر لگاتار دو دنوں تک اس بچے کی فلم دکھانا جاری رکھا،جس میں یہ دکھایاگیا تھا کہ بچہ کتنی بہادری کے ساتھ کیڑے مکوڑوں سے لڑرہا ہے،سورہا ہے یا اپنی ماں کو چیخ چیخ کر پکار رہا ہے،یہ سب ٹی وی کے پردے پر دکھایاجارہا تھا۔انھوں نے مندروں سے باہر کچھ لوگوں کا انٹرویو بھی لیا اوریہ پوچھا کہ’’آپ پرنس کے بارے میں کیا محسوس کررہے ہیں؟‘‘انھوں نے لوگوں سے یہ بھی کہاکہ ہمیں پرنس کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعہ پیغام بھیجیں۔ہزاروں لوگ اس مقام پر جمع ہوگئے اوردودنوں تک لنگر(کمیونٹی کچن)چلا۔اس سے پورے ملک میں شدید جذباتی ہیجان اورتشویش کاایک ماحول پیداہوگیا اورلوگوں کو مندروں،مسجدوں،چرچوں اورگردواروں میں پرنس کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے ہوئے دکھایاگیا۔ایسی اوربھی کئی مثالیں ہیں جب ٹی وی کو لوگوں کی انفرادی زندگی میں دخل کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے۔


باکس7.14کے لیے مشق

آپ نے ٹیلی ویژن پر پرنس کے دفاع کے عمل کو دیکھا ہوگا۔ اگر نہیں تو آپ کسی ایسے واقعہ کومنتخب کریں اوردرج ذیل نکات پر کلاس میں مباحثے کا انعقاد کریں۔
 زیادہ سے زیادہ دیکھنے والوں کو راغب کرنے کے لیے ایسے واقعات کے راست نشریے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے ٹیلی ویژن کے چینلوں کی ایسی مسابقت کا کیا اثر ہوگا؟
 کیا اس مسئلے کو ٹیلی ویژن کیمروں کے ذریعہ ’تاک جھانک‘(چنددوسرے لوگوں کے نجی یاذاتی لمحات پرنظر)کے طورپر لے سکتے ہیں؟
 کیا یہ دیہی علاقے کے غریب لوگوں کے حالات پر روشنی ڈالنے کے لیے ٹیلی ویژن میڈیا کے ذریعہ ادا کیے گئے مثبت کردار کی مثال ہے؟



زیادہ تر چینل ہفتے میں ساتوں دن اوردن میں چوبیس گھنٹے چلتے ہیں۔ان میں اخباروں کی شکل جان دار اورغیر رسمی ہوتی ہے۔اخباروں کو پہلے کی نسبت اب بہت زیاد ہ فوری،جمہوری اورقریبی بنادیاہے۔ٹیلی ویژن نے عوامی مباحثے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ہرگذرے ہوئے سال کے ساتھ وہ اپنی رسائی کو مزید وسیع کرتاجارہا ہے۔اس سے ہمارے سامنے یہ سوال پیداہوتا ہے۔کیا سنجیدہ،سیاسی اورمعاشی مسائل کو نظرانداز تونہیں کیاجارہا ہے۔
ہندی اورانگریزی میں خبردینے والے چینلوں کی تعداد مستقل بڑھتی جارہی ہے۔اسی طرح علاقائی چینل بھی بڑھ رہے ہیں اوران سب کے ساتھ ہی،’ریالیٹی شو‘،’ناٹک شو‘،’بالی ووڈشو‘،’فیملی ڈرامے‘،’انٹریکٹیو شو‘،’کھیل شو‘اور’مزاحیہ شو ‘بڑی تعدادمیں منعقد کیے جارہے ہیں۔تفریحی ٹیلی ویژن نے بڑے ستاروں کا ایک نیا گروپ پیداکردیا ہے جن کے ناموں سے ہر خاندان مانوس ہوگیا ہے اورمقبول رسائل اخبارات کے گپ شپ کالموں میں ان کی نجی زندگی، رقابت کے قصے بھرے ہوتے ہیں’کون بنے گا کروڑپتی‘یا ’انڈین آئیڈل‘یا’بگ باس‘جیسے ’ریالیٹی شو ‘دن بہ دن مقبول ہوتے جارہے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر پروگرام مغربی پروگراموں کے خطوط پر تیار کیے گئے ہیں۔ان میں سے کن کن پروگراموں کو ’انٹریکٹیوشو‘،گھریلوڈرامے،ناٹک شو یا رلیٹی شو کہاجاسکتا ہے۔بحث کریں۔

باکس7.15
سوپ اوپیرا

سوپ اوپیرا(گھریلو قسط وار ڈرامے)ایسی کہانیاں ہیں جو سلسلہ وار دکھائی جاتی ہیں۔وہ مسلسل چلتی رہتی ہیں،انفرادی کہانیاں ختم ہوسکتی ہیں اورمختلف کردار ظاہر اورغائب ہوتے رہتے ہیں لیکن خود’سوپ‘یاکہانی تب تک نہیں ختم ہوتی جب تک اسے پوری طرح نشریات سے واپس نہیں لے لیاجاتا۔ سوپ اوپیرا ایک تاریخ لے کر چلتے ہیں جس سے باقاعدہ دیکھنے والے واقف ہوتے ہیں۔وہ کرداروں،ان کی شخصیت اور زندگی کے تجربات سے مانوس ہوجاتے ہیں۔

ریڈیو(Radio)

2000میں آل انڈیاریڈیو کے پروگرام ہندوستان کے سبھی دوتہائی گھرخاندانوں میں24زبانوں اور146بولیوں میں12کروڑ سے بھی زیادہ ریڈیو سیٹوں پر سنے جاسکتے تھے۔2002میں غیر سرکار ملکیت والے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام سے ریڈیو پر تفریح کے پروگراموں میں اضافہ ہوا۔ سامعین کو راغب کرنے کے لیے نجی طورپر چلائے جانے والے ریڈیو اسٹیشن اپنے سامعین کو تفریح فراہم کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔چونکہ غیر سرکاری طورپر چلائے جانے والے ایف ایم چینلوں کو کوئی سیاسی نیوز بلیٹن نشرکرنے کی اجازت نہیںدی گئی ہے لہٰذا ان میں سے بہت سے چینل اپنے سامعین کو بنائے رکھنے کے لیے خاص قسم کی مقبول موسیقی میں اپنا اختصاص رکھتے ہیں۔ایک اسی طرح کے ایف ایم چینل کا دعوا ہے کہ وہ دن بھرہٹ یا مقبول گانے ہی پیش کرتا ہے۔زیادہ تر ایف ایم چینل جو کہ نوجوان شہری پیشہ وروں اورطلبامیں مقبول ہیں،اکثر میڈیاگروپوں کے ہوتے ہیں۔جیسے’ریڈیو مرچی‘ٹائمز آف انڈیا گروپ کا ہے’ریڈ ایف ایم‘لیونگ میڈیا اور’ریڈ یوسٹی‘اسٹارنیٹ ورک کی ملکیت میں ہے۔لیکن نیشنل پبلک ریڈیو(یوایس اے)یا بی بی سی(یوکے)جیسے آزاد ریڈیو اسٹیشن جو براڈ کاسٹنگ میں لگے ہوئے ہیں ہمارے براڈ کاسٹنگ ہمارے منظرسے باہرہیں۔

11

دوفلموں ’رنگ دے بسنتی‘اور’لگے رہو منابھائی‘میں ریڈیو کو ترسیل کے سرگرم ذریعہ کے طورپر استعمال کیا گیا ہے حالانکہ دونوں ہی فلمیں عصری دور کے ماحول کی ہیں۔’رنگ دے بسنتی‘میں کالج کا ایک محنتی غصہ ور نوجوان بھگت سنگھ کی کہانی سے ترغیب پاکر ایک وزیر کو قتل کردیتا ہے اورعوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے آل انڈیا ریڈیو کو اپنے قبضے میں کرلیتا ہے۔جب کہ ’لگے رہو منا بھائی‘میں ہیروئن ایک ریڈیو جاکی ہے جو اپنے دل اورگلے کی پوری آواز میں’گڈ مارننگ ممبئی!‘کے ساتھ ملک کو جگاتی ہے اورہیروبھی ایک لڑکی کی زندگی بچانے کے لیے ریڈیو اسٹیشن کا سہارا لیتا ہے۔
ایف ایم چینلوں کے استعمال کا امکان بہت زیادہ ہے۔ریڈیو اسٹیشنوں کی مزیدنج کاری اورکمیونٹی کی ملکیت والے ریڈیواسٹیشنوں کے شروع ہونے کے نتیجے میں ریڈیو اسٹیشنوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔مقامی خبروں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ہندوستان میں ایف ایم چینلوں کو سننے والے گھروں کی تعداد نے مقامی ریڈیو کے ذریعہ نیٹ ورک حاصل کرنے کے عالم گیر رجحان کو تقویت پہنچائی ہے۔نیچے دیے گئے باکس سے نہ صرف یہ کہ ایک دیہی نوجوان کی اختراع کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے بلکہ مقامی ثقافتوں کی نگہداشت کی ضرورت بھی ظاہر ہوتی ہے۔

باکس7.16

یہ برصغیر ایشیا میں شاید ایک دیہی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ہے

 یہ ٹرانس میشن سازوسامان جس کی قیمت کافی کم ہے…شاید دنیا میں سب سے سستا ہو لیکن مقامی لوگوں کویقینا بہت عزیز ہے۔ہندوستان کی شمالی ریاست بہار میں ایک سہانی صبح کو راگھومہتونام کا ایک نوجوان اپنے گھر میں تیار کیے گئے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن شروع کرنے کے لیے آمادہ ہوا۔راگھو کی چھوٹی مرمت کی دکان اورریڈیواسٹیشن کے 20کلومیٹر(12میل)کے دائرے میں رہنے والے ہزاروں گاؤں والے اپنے پیارے سے اسٹیشن کا پروگرام شروع کرنے کے لیے اپنے ریڈیو سیٹ کھولا۔تھوڑی سی گھڑگھڑاہٹ کی آواز کے بعد ایک نوجوان کی پراعتماد آواز ریڈیو لہروں پر تیرنے لگتی ۔’’گڈمارننگ راگھوایف ایم منصور پور میں آپ کا استقبال ہے۔اب اپنے پسندیدہ گانے سننے کا اعلان راگھو کے دوست اوررابطہ کارشمبھو کی آوازمیںسنائی پڑتا ہے جو مقامی موسیقی کے ٹیپوں کے ڈھیرسے گھرے ہوئے سیلو ٹیپ کے پلاسٹر لگے مائیکروفون میں بولتا ہے۔اگلے12گھنٹوں تک راگھو مہتو کا دوردراز کا ایم ایف ریڈیو اسٹیشن فلمی گانے سناتا ہے اورایچ آئی وی اورپولیو جیسی بیماریوں کے بارے میں عوامی مفاد کی خبریں اوربے باک مقامی خبریں بھی دیتا ہے جن میں گم شدہ بچوں اورنئے کھلنے والی مقامی دکانوں کی خبریں بھی شامل ہوتی ہیں۔راگھو اوراس کا دوست راگھو کی چھپروالی دکان پر یا الیکٹرانکس شاپ سے اپنا دیسی ریڈیو اسٹیشن چلاتے ہیں۔

جگہ تنگ ہے…جھونپڑا کرائے کا ہے جس میں موسیقی بھرے ٹیپ اورزنگ لگے بجلی کے سازوسامان کا ڈھیرلگاہے اورمرمت کا کام کرنے والے راگھو کی دکان کے ساتھ ساتھ ریڈیو اسٹیشن کا بھی کام ہوتا ہے۔

وہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہو لیکن اس کے دیسی ایف ایم اسٹیشن نے اسے مقامی سیاست دانوں سے زیادہ مقبول بنادیا ہے۔راگھو کے ریڈیو سے عشق کی شروعات1997سے ہوئی جب اس نے ایک مقامی مرمت کی دکان میں ایک مستری کے طورپر کام کرنا شروع کیا۔ جب دکان کا مالک وہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا توکینسر میں مبتلازرعی مزدور کے بیٹے راگھونے ایک دوست کے ساتھ مل کر وہ جھونپڑی لے لی۔2003میں کسی وقت راگھو کوجوتب تک ریڈیو کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا۔غربت میں مبتلا ریاست بہارمیں جہاں بہت سے علاقوں میں بجلی نہیں ہے،سستے بیٹری سے چلنے والے ٹرانسسٹر ہی تفریح کا سب سے مقبول عام ذریعہ ہے۔’’اس خیال کے پختگی آنے اورایسی کِٹ تیار کرنے میں جو ایک متعین ریڈیو فریکونسی پراپنا پروگرام نشر کرسکے، کافی وقت لگ گیا۔کٹ پر50روپیے کی لاگت آئی’’راگھو کے مطابق نشریہ کٹ ایک اینٹینے کے ساتھ لمبے بانس پر پاس کے ایک تین منزلہ ہسپتال پر لگاہے۔ایک لمباتار اس نشریاتی آلے کو نیچے راگھو کے ریڈیو جھونپڑے میں لگے گھڑگھڑاہٹ کرنے والے،گھر کے بنے پرانے اسٹریوکیسٹ پلیئر سے جوڑتا ہے۔تین دیگر زنگ لگے مقامی طورپر بنے بیٹری سے چلنے والے ٹیپ ریکارڈر رنگین تاروں اورایک بے تار مائیکروفن کے ساتھ اس سے جڑے ہیں۔

راگھو کے جھونپڑے میں ایک مقامی بھوج پوری،بالی ووڈ اوربھکتی گیتوں کے کوئی200ٹیپ ہیں جنھیں وہ اپنے سامعین کے لیے بجاتا ہے۔راگھو کا ریڈیو اسٹیشن اس کاایک شوق ہے۔وہ اس سے کچھ کماتا نہیں ہے۔وہ اپنی الیکٹرانک مرمت کی دکان سے کوئی دوہزار روپیے ماہانہ کمالیتا ہے۔وہ نوجوان جو اپنے خاندان کے ساتھ ایک جھونپڑے میں رہتا ہے،یہ نہیں جانتا کہ ایک ایف ایم اسٹیشن چلانے کے لیے حکومت سے لائسنس لینا ہوتا ہے۔’’میں اس بارے میں نہیں جانتا۔میں نے تویہ پیشہ تجسس کے ساتھ شروع کردیاتھا اورہر سال اس کا نشریاتی علاقہ بڑھتا گیا۔

وہ کہتا ہے اس لیے جب چندلوگوں نے اس سے یہ کہاکہ اس کاریڈیو اسٹیشن ناجائز ہے تو اس نے اسے واقعی بند کردیا،لیکن مقامی گاؤں والوں نے اس کے جھونپڑے کو گھیر لیا اوراسے اپنی خدمات پھر شروع کرنے کے لیے راضی کرلیا۔مقامی لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ راگھوکا ’ایف ایم منصورپور1‘کے پاس کوئی سرکاری لائسنس ہے یا نہیں۔وہ توبس اسے پیار کرتے ہیں۔

’’میرے اسٹیشن کو مردوں سے زیادہ عورتیں سنتی ہیں،‘‘وہ کہتا ہے۔’’اگرچہ بالی ووڈ اورمقامی بھوج پوری گانے بہت ضروری ہیں لیکن میں طلوع آفتاب اورغروب آفتاب کے وقت عورتوں اوربزرگوں کے لیے بھکتی گیت بھی نشرکرتا ہوں۔‘‘چونکہ گاؤں والوں کے پاس راگھوکو فون کرنے کی سہولت نہیں ہے،اس لیے وہ گیتوں کی فرمائش دستی طورپر تحریر پیغاموں کے ذریعہ یا پڑوس کے عوامی ٹیلی فون دفتر کو فون کرکے بھیجتے ہیں۔ایک ریڈیو اسٹیشن کو چلانے والے کے طورپر راگھو کی شہرت دوردورتک پھیل گئی ہے۔لوگوں نے اس کے ریڈیو اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے لکھا ہے اوراس کی ٹکنالوجی کو خریدنے میں اپنی دلچسپی دکھائی ہے۔

ماخذ:بی بی سی نیوز:(امرناتھ تیواری کے ذریعہ)اشاعت:جی ایم ٹی ،بی بی سی، ایم ایم وی 

(Conclusion)خلاصہ

اس حقیقت پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ ترسیل عامہ آج ہمارے انفرادی اورعوامی زندگی کا لازمی جز وبن چکا ہے۔یہ باب ہماری زندگی میں میڈیا سے متعلق سبھی تجربات کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ یہ توہمیں یہی سمجھاسکتا ہے کہ ترسیل عامہ یا عصری سماج کا ایک اہم حصہ ہے۔اس میں میڈیا سے متعلق مختلف پہلوؤں پر توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے:ریاست اوربازار کے ساتھ میڈیا کا تعلق، اس کی سماجی تنظیم اورمینجمنٹ،قا رئین اورسامعین کے ساتھ اس کا رشتہ۔دوسرے لفظوں میں یہاں ان پابندیوں جن کے تحت میڈیا اپنا کام کرتا ہے اورمتعدد طریقوں جن سے ہماری زندگی کو متاثر کرتا ہے، پر نظرڈالی گئی ہے۔

سوالات

اخبار کی صنعت میں جوتبدیلیاں واقع ہورہی ہیں،ان کا خاکہ پیش کیجیے۔ان تبدیلیوں کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟
کیا ایک عوامی ترسیل کے ذریعے کے طورپر ریڈیو ختم ہورہا ہے؟لبرلائزیشن کے بعد بھی ہندوستان میں ایف ایم اسٹیشنوں کی امکانی قوت پر بحث کریں۔
ٹیلی ویژن کے ذریعہ جو تبدیلی ہورہی ہے اس کا پتہ لگائیں اوربحث کریں۔

حوالہ جات

Bhatt, S.C. 1994. Satellite invasion in India. Sage. New Delhi.
Butcher, Melissa. 2003. Transnational television, Cultural Identity and change: When STAR Came to India. Sage. New Delhi.
Chaudhuri, Maitrayee. 2005. ‘A Question of Choice: Advertisements, Media and Democracy’ Ed. Bernard Bel et. al. Media and Mediation Communication Processes pp.199-226. Sage. New Delhi.  
Chatterji, P.C. 1987. Broadcasting in India. Sage. New Delhi.  
Desai, A.R. 1948. The Social Background of Indian Nationalism. Popular Prakashan. Bombay. 
Ghose, Sagarika 2006, ‘Indian Media: A flawed yet robust public service’ in B.G. Verghese (Ed.) Tomorrow’s India: Another tryst with destiny. Viking. New Delhi. 
Joshi, P.C. 1986. Communication and Nation-Building. Publications Divison GOI. Delhi.
Jeffrey, Roger. 2000. India’s Newspaper Revolution. OUP. Delhi.
More, Dadasaheb Vimal. 1970. ‘Teen Dagdachachi Chul” in Sharmila Rege Writing Caste/Writing Gender: Narrating Dalit Women’s Testimonies. Zubaan/Kali. Delhi, 2006 
Page, David and Willam Gawley. 2001. Satellites Over South Asia. Sage. New Delhi.
Singhal, Arvind and E.M. Rogers. 2001. India’s Communication Revolution. Sage. New Delhi.