Skip to content
Hindustanmeinsamajitabdiliaurtaraqqi-008


1

8سماجی تحریکیں


دنیابھر میں کثیرتعداد میں طلبا اور آفس میں کام کرنے والے ڈیوٹی پر پانچ یا چھ دن ہی جاتے ہیں اور ختم ہفتہ میں آرام کرتے ہیں۔ تاہم چھٹی والے دن آرام کرنے والوںمیں سے تھوڑے لوگوں کو ہی اس بات کا احساس ہے کہ یہ دن مزدوروں کی ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ کام کے دن کا آٹھ گھنٹے سے زیادہ کا نہ ہونا، مردوں اور عورتوں کو یکساں کام کے لیے یکساں مزدوری اور مزدوروں کو سماجی تحفظ نیزپنشن کا مجاز بنانا اور دیگر حقوق سماجی تحریکوں کے ذریعہ حاصل کیے گئے تھے۔ سماجی تحریکوں نے اس دنیا کو ایک خاکہ فراہم کیا جس میں ہم رہتے ہیں اوریہ سلسلہ مستقل جاری ہے۔

باکس 8.1

ہمہ گیربالغ حق رائے دہی

ہمہ گیربالغ حق رائے دہی یا ہر ایک بالغ کو ووٹ دینے کا حق ہندوستانی آئین کے ذریعہ دیے گئے اہم حقوق میں ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر حکمرانی خود اپنے جیتے ہوئے نمائندوں کے علاوہ کسی بھی دیگر فرد کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی۔ یہ حق   نو آبادیاتی حکومت کے دنوں سے بنیادی طورپر مختلف ہے جب افراد کو برطانوی کراوُن کی نمائندگی کرنے والے نو آبادیاتی حکومت کے افسران کی اطاعت کے لیے مجبور ہونا پڑتاتھا حالانکہ برطانیہ میں سبھی کو حق رائے دہی نہیں حاصل تھا۔ حق رائے دہی جائیداد کے مالکوں تک ہی محدود تھی۔ چار ٹرازم انگلینڈ میں پارلیمانی نمائندگی سے متعلق ایک سماجی تحریک تھی۔ 1839میں 1.25ملین  سے زیادہ افراد نے عوامی چارٹر پر دستخط کر کے ہمہ گیر بالغ حق رائے دہی، بیلٹ کے ذریعہ ووٹ اور جائیداد کی ملکیت کے بغیر بھی انتخاب میں کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا۔ 1892میں مذکورہ تحریک نے 3.25ملین دستخط یکجاکیے جو ایک چھوٹے ملک کے لیے بہت بڑی تعداد تھی۔ تاہم پہلی جنگ عظیم کے بعد بھی 1918میں 21سال سے زائد عمر کے سبھی مردوں، 30سال سے زائدعمر کی شادی شد ہ خواتین، گھر کی ملکیت رکھنے والی خواتین گریجویٹ عورتوں کو ووٹ دینے کا حق ملا۔ خواتین کے لیے حق رائے دہی طلب کرنے والی تحریک کی حامی خواتین (Suffragettes)(خواتین کارکن )نے سبھی بالغ خواتین کے لیے حق رائے دہی کا معاملہ اٹھایا تو ان کی سخت مخالفت ہوئی اوراس تحریک کو پرُ تشدد طورپر کچل دیا گیا۔


سرگرمی 8.1
اپنی زندگی کا موازنہ پنی دادی /نانی کی زندگی سے کیجیے یہ آپ کی زندگی سے کس طرح مختلف ہے؟ آپ کی زندگی میں ایسے کون سے حقوق ہیں جنھیں آپ آسانی سے قبول کرتے ہیں اور جو انھیں حاصل نہیں تھے۔ بحث کریں۔



ہم اکثر یہ مان لیتے ہیں کہ جن حقوق کا ہم استعمال کرتے ہیں وہ یوں ہی حاصل ہوگئے۔ ماضی کی ان جد وجہد کو یاد کرنا اہم ہے جن سے حقوق کی بازیابی ممکن ہوئی۔ آپ نے 19ویں صدی کی سماجی واصلاحی تحریکوں، ذات اور جنسی امتیاز کے خلاف جد وجہد اور ہندوستان کی قومی تحریک جس سے 1947میں نوآبادیاتی حکمرانی سے ہمیں آزادی ملی، کے بارے میں پڑھا ہے۔ آپ دنیا بھر کی کئی قوم پرست تحریکوں سے بھی واقف ہیں جن سے ایشیا، افریقہ اور امریکا میں نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی ملی۔ پوری دنیا میں سماجی تحریکوں نے سیاہ فام لوگوں کے مساوی حقوق کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 1950اور 1960کی دہائی میںشر وع کی شہری حقوق تحریک اور جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جد وجہد نے دنیا کو بنیادی طورپر بدل دیا ہے۔ سماجی تحریک نے نہ صرف معاشرے کو بدلتی ہے بلکہ دیگر سماجی تحریکوں کو ترغیب بھی دیتی ہے۔ سماجی تبدیلی لانے میں ہندوستانی آئین کے کردار کی کہانی جو ہم باب 3میں پڑھ چکے ہیں یہی اشارہ دیتی ہے۔
سرگرمی 8.2
سماجی تحریکوں سے سماج کس طرح بدلتا ہے اور کیسے ایک سماجی تحریک دیگر تحریکوں کی بنیادبنتی ہے، اس کی کسی مثال کے بارے میں سوچنے کی کوشش کیجیے۔

8.1سماجی تحریک کی خصوصیات(Features of a Social Movement)

جب بس ایک بچے کو کچل دیتی ہے تو لوگ بس کو نقصان پہنچا تے ہیں اور اس کے ڈرائیور پر حملے کرتے ہیں۔ یہ احتجاج کا جدا واقعہ ہے۔ یہ بھڑک اٹھتاہے توپھر ٹھنڈا بھی پڑجاتا ہے۔ لہٰذا یہ سماجی تحریک ہیں۔ سماجی تحریک میں ایک طویل عرصے تک مستقل اجتماعی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی سرگرمیاں عام طورپر ریاست کے خلاف ہوتی ہیں اور ریاست کی پالیسی اور عمل میں تبدیلی کا تقاضہ کرتی ہیں۔خود بخود پیدا ہونے والے اور غیر منظم احتجاج کوسماجی تحریک نہیں کہا جا سکتا۔ اجتماعی سرگرمیوں میں کچھ حد تک تنظیم کا ہونا ضروری ہے۔ اس تنظیم میں قیادت اور ساخت ہوتی ہے جس میں ممبروں کے باہمی تعلق ، فیصلہ سازی اور ان کی تعمیل کی توضیح ہوتی ہے۔ سماجی تحریک ایک عمومی رخ یا کسی تبدیلی کو لانے (یاروکنے) کا طریقہ ہوتا ہے۔ یہ توضیحی خصوصیات قائم نہیں رہتیں بلکہ یہ سماجی تحریک کے دوران بدل سکتی ہیں۔
سماجی تحریکیں اکثر عوامی مسائل کے معاملے میں تبدیلی لانے کے مقصد سے ابھرتی ہیں، جیسے قبائلی لوگوں کے جنگلات کے استعمال سے متعلق حقوق یا بے دخل لوگوں کی آبادکاری اور تلافی کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے۔ ایسے ہی دیگر امور کے بارے میں سوچیے جنھیں سماجی تحریکوں نے ماضی اور حال میں اٹھایا ہو جب کہ سماج میں تبدیلی لانا چا ہتی ہیں۔ کبھی کبھی صورتحال سابقہ حالت میں برقراررکھتے ہوئے جوابی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ مثلاًجب راجہ رام موہن رائے نے ستی کی مخالفت کی اور برہم سماج قائم کیا تو ستی رسم کے دفاع میں دھرم سبھا قائم کی گئی جس نے انگریزوں کو ستی مخالف قانون نہ بنانے کے عرضداشت پیش کی۔ جب مصلحین نے عورتوں کے لیے تعلیم کا مطالبہ کیاکی تو بہت سے لوگوں نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ یہ سماج کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ جب نچلی ذات کے بچوں نے اسکولوں میں نام لکھوایا تو کچھ نام نہاد اونچی ذات کے بچوں کو ان کے خاندانوں کے ذریعہ اسکول سے نکال دیا گیا۔ کسان تحریکوں کو بھی اکثر ظالمانہ طریقے سے دبایاگیا۔ حال ہی میں ہمارے ملک کے کئی خارج گروپوں جیسے دلتوں کی سماجی تحریکوں سے ان کے خلاف بدلے کی کارروائی ابھر کر سامنے آئی۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دینے کی تجاویز سے ان کی حریف تحریکوں کی بنیاد پڑی۔ سماجی تحریک آسانی سے معاشرہ کو نہیں بدل سکتی۔ چونکہ یہ مفادات اور قدروں کے خلاف ہوتی ہے اس لیے ان کی مخالفت عین فطری ہے اس میں کچھ عرصے کے بعد تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے۔
جہاں احتجاج اجتماعی سرگرمی کی سب سے زیادہ دکھائی دینے والی شکل ہے، وہیں سماجی تحریک یکساں طورپردیگر طریقوں سے بھی عمل کرتی ہے۔ سماجی تحریک کے  کار کنان کو ان سے متعلق امداد پر لوگوں کو تیار کرنے کے لیے میٹنگ کرنی پڑتی ہے ۔ایسی سرگرمیاں باہمی غوروفکرمیں مددگار ہوتی ہیں اور اجتماعی ایجنڈوں کو آگے بڑھانے میں اتفاق کاباعث بنتی ہیں یا رائے عامہ کو بیدار کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے لوگوں
 کو تیار کرتی ہیں یہ سماجی تحریکیں مہم کاخاکہ بھی بناتی ہیں جس میں حکومت پر دباؤ بنانے والے میڈیا اور رائے عامہ تیار کرنے والے دیگر اہم لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ باب 3میں اس سلسلے پر کی گئی بحث کو یاد کیجیے۔ سماجی تحریک مخالفت کے مختلف ذرائع کو بھی فروغ دیتی ہے۔ جیسے موم بتی یا مشعل جلوس، سیاہ کپڑوں کا استعمال، نکڑ ناٹک، گیت، نظم وغیرہ، گاندھی جی نے آزادی کی تحریک میں اہنسا، ستیا گرہ اور چرخے کے استعمال جیسے نئے طریقوں کو اپنایا۔ احتجاج کے نئے طریقوں جیسے کہ دھرنا اور نمک کی پیداوار نو آبادیاتی بندش کی   خلاف ورزی کویا دکریں۔
سرگرمی8.3
مختلف سماجی تحریکوں کی ایک فہرست بنایئے جن کے بارے میں آپ نے سنا یا پڑھاہے۔ وہ کیاتبدیلی لانا چاہتے؟ وہ کن تبدیلیوں کو روکنا چاہتے تھے؟

باکس 8.2
ستیا گرہ کی ایک جھلک

ہندوستان کی قومی تحریک کے دوران غیر ملکی اقتدار اور پونجی کی وابستگی سماجی احتجاج کا مرکزی نقطہ تھا۔مہاتما گاندھی نے ہندوستان میں کپاس اگانے والوں اور بنکروں کے ذریعہ معاش جو مل میں تیار کپڑوں کی حکومتی تائید کی پالیسی سے ختم ہوگیا تھا، کی حمایت میں ہاتھ سے کاتا گیااور بنا ہوا کپڑا کھادی زیب تن کیا۔نمک بنانے کے لیے تاریخ ساز ڈانڈی مارچ انگریزوں کی ٹیکس کاری پالیسیوں جس میں صَرفہ کی بنیادی اشیا کے صارفین پر سامراج کو فائدہ پہنچانے کے لیے بار ڈالاگیاتھا، کے خلاف ایک احتجاج تھا۔ گاندھی جی نے روزانہ کی عوامی صَرفہ کی چیزوں جیسے کپڑا اور نمک کو منتخب اور انھیں احتجاج کی علامت بنا دیا۔

2
گاندھی جی نمک کا قانون توڑتے ہوئے، 1930
گاندھی جی نے سول نافرمانی کے ایک جرم کے طورپر اپنا احتجاج ظاہر کرتے ہوئے عورتیں نمک کی کڑ اہی میں کھارا پانی ڈالتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔
 نہرو میموریل میوزیم اور لائبریری، نئی دہلی کے شکریہ کے ساتھ یہ فوٹو گراف حاصل کیا گیا۔


باکس 8.3

ویمل دادا صاحب مورے(1970)

پاردھی کمیونٹی میں پیدا ہوئے انکش کالے کی ایک میٹنگ میں تقریر

پاردھی بہت ماہر شکاری ہوتے ہیں پھر بھی سماج ہمیں صرف مجرموں کے طورپر پہچانتا ہے۔ ہماری کمیونٹی کو چوری کے الزام میں پولیس کا ظلم برداشت کرناپڑتا ہے۔ گاؤں میں جب بھی کوئی چوری ہوتی ہے ہمیں ہی حراست میں لیاجاتا ہے۔ پولیس ہماری عورتوںکا استحصال کرتی ہے اور ہمیں ان کی بے عزتی دیکھنی پڑتی ہے۔ سماج ہمیں دور رکھنا چاہتا ہے کیونکہ ہمیں چور کہا جاتا ہے، لیکن کیا کبھی لوگوں نے ہمارے بارے میں سوچا ہے؟ ہماری قوم کے لوگ چوری کیوں کرتے ہیں؟یہی وہ سماج ہے جس نے ہمیں چور بننے پر مجبور کیا۔ وہ کبھی ہمیں کام پر نہیں رکھتے کیونکہ ہم پاردھی ہیں ۔

ماخذ: شرمیلا ریگے، رائٹنگ کاسٹ/رائٹنگ جینڈر  نر ریٹنگ دلت ویمنس ٹیسٹی موئنیز (زبان /کالی، نئی دہلی 2006)

باکس8.3کے لیے مشق

اس بیان کو پڑھیے۔ ایک نئی باہمی غوروفکرکس طرح فروغ پارہی ہے؟ غالب سماج کے ادراک پر کس طرح سوال اٹھائے جا رہے ہیں؟

سماجی تبدیلی اور سماجی تحریکوں میں فرق(Distinguishing Social Change and Social Movement)

 سماجی تبدیلی اور سماجی تحریکوں میں فرق کرنا اہم نکتہ ہے۔ سماجی تبدیلی مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے۔ اس کی وسیع تاریخی عمل کاری بے شمار افراداور اجتماعی سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتی ہے جب کہ سماجی تحریکیں کسی مخصوص مقصد کی سمت میں ہوتی ہیں۔ اس میں طویل ومسلسل سماجی کوششیں اورعوامی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ باب 2میں ہماری بحث کی بنیادپر ہم سنسکرتیا نے اور مغربیا نے کو سماجی تبدیلی کے طورپراور19ویں صدی کے سماجی مصلحین کے ذریعہ سماج میں تبدیلی کی کوششوں کو سماجی تحریک کے حوالے سے دیکھ سکتے ہیں۔

8.2 سماجیات اور سماجی تحریکیں(Sociology and Social Movements)

سماجی تحریکوں کا مطالعہ سماجیات کے لیے کیوں اہم ہے؟(Why the study of social movements is important for sociolog؟)

ابتدا سے ہی سماجیات کے مضمون میں سماجی تحریکوں میں دلچسپی لی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی انقلاب شہنشاہیت کو اکھاڑ پھینکنے اور آزادی، مساوات اور اخوت قائم کرنے کے مقصد سے چلائی گئی متعدد سماجی تحریکوں کا ایک پُر تشدد نتیجہ تھا۔ برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے دوران بہت سے سماجی نشیب وفراز آئے۔ گیاھویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی کتاب 1میں مغرب میں سماجیات کے ابھرنے پر ہماری بحث کو یاد کریں۔ گاؤں سے شہروں میں کام کی تلاش میں آنے والے غریب مزدوروں اور کاریگروں نے ان غیر انسانی صورتحال والی زندگی کی مخالفت کی جن میں رہنے کے لیے انھیں مجبور کیا جاتا تھا۔ انگلینڈ میں غذا سے متعلق ہنگاموں کو اکثر حکومت نے کچل دیا۔طبقہ اشراف کے ذریعہ ہونے والے ان احتجاج کو قائم نظام کے لیے زبردست چیلنج کے طورپر دیکھا جاتاتھا۔سماجی نظام کو بنائے رکھنے کے لیے ان کی فکر ماہر سماجیات ایمل درخائم کی تحریروں میں ظاہر ہوئی تھی۔ درخائم نے سماج میں مذہبی زندگی کی اشکال اور حتی کہ خود کشی وغیرہ سے متعلق اپنی فکر کی عکاسی کی کہ کیسے سماج ساخت سماجی یکجہتی کو ممکن بناتی ہے۔ ایسی تحریکوں کو اس وقت بدنظمی پھیلانے والی قوتوں کے طورپر دیکھا جاتا تھا۔
کارل مارکس کے خیالات سے متاثر دانشوروں نے اجتماعی پر تشدد سرگرمی کا ایک مختلف نظریہ پیش کیا۔ ای۔ پی۔ تھامس جیسے مورخین نے دکھایا کہ مجمع اور ہجوم کی تشکیل سماج کو برباد کرنے کے لیے انتشار پرست غنڈوں کے ذریعہ نہیں کی جاتی بلکہ اس میں اخلاقی معیشت بھی ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان میں یہ کہا جاسکتا ہے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں صحیح اور غلط کی باہمی فکرہوتی ہے۔ ان کی تحقیق نے دکھایا کہ شہری علاقوں میں غریبو ں کے پاس احتجاج کی مناسب وجہ ہوتی ہے۔ وہ اکثر عوامی احتجاج کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس محرومی کے خلاف اپنے غصے اور ناراضگی کو ظاہر کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہوتا۔

سماجی تحریکوں کے نظریات(Theories of social movement)

نسبتی محرومی کے نظریے کے مطابق سماجی تصادم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک سماجی گروپ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے قرب وجوارکے دیگر لوگوں کے مقابلے میںخستہ خراب حالت میں ہے۔ ایسا تصادم یا کشاکش کامیاب اجتماعی مخالفت کے نتیجے میں برآمد ہو سکتا ہے۔ سماجی تحریکوں کواشتعال دلانے میں نفسیاتی عوامل جیسے غیض وغضب کا ہاتھ زیادہ ہوتا ہے۔حالانکہ محرومی کا احساس ہے کہ اجتماعی سرگرمی کے لیے جہاں لوگ نسبتی محرومی کا احساس کرتے ہیں وہیں سماجی تحریکوں میں نہیں بدلتے۔کیا آ پ ایسی کسی مثال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں لوگ محرومی کا احساس کر تے ہیں لیکن اپنی شکایتوں کو مٹانے کے لیے کسی سماجی تحریک کو نہ تو شروع کرتے ہیں اور نہ ہی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ 
اجتماعی سرگرمی کو منظم کرنے اوراسے مسلسل حرکت پذیر رکھنے کے لیے شکایات پر بحث اور تجزیہ ضروری ہے جن سے ایک اور حکمت عملی پر پہنچا جا سکے۔ یعنی نسبتی محرومی اور اجتماعی سرگرمی کے درمیان کوئی خود کار رشتہ نہیں ہے بلکہ دوسرے عوامل جیسے قیادت اورتنظیم بھی یکساں طورپر اہم ہے۔
مانکرالوسن کی کتاب’دی لاجک اینڈ کلیکٹیوایکشن‘ میں دلیل دی گئی ہے کہ سماجی تحریک ذاتی مفاد چاہنے والے عقلی انفرادی کرداروں کا ایک مجموعہ ہے۔ ایک فرد کسی سماجی تحریک میں اسی وقت شامل ہوگا جب وہ اس سے کچھ حاصل کرسکے۔ وہ اسی و قت حصہ لے گا جب دشواریاں کم اور فائدہ زیادہ ہو۔ اولسن کا نظریہ زیادہ عقلی، زیادہ سے زیادہ افادیت پیدا کرنے والے فرد کے تصور پر مبنی ہے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ لوگ کوئی کام کرنے سے پہلے انفرادی لاگت یا فائدے کا شمار کرتے ہیں؟

سرگرمی 8.4

 کسی سماجی تحریک کے بارے میں سوچیے۔ آپ ہندوستان کی تحریک آزادی، کسی قبائلی تحریک، کسی نسل مخالف تحریک کا معاملہ لے سکتے ہیں اور اس پر بحث کر سکتے ہیں۔کیا لوگ ان میں نفع نقصان کے بارے میں سوچ کر شامل ہوئے یا انفرادی حصوں کے بارے میں عقلی شمار کرتے ہیں۔


میکارتھی اور زیلڈ کے ذریعہ پیش کیے گئے وسائل کی حرکت پذیری کے نظریے کو اولسن کے اس مفرضے کے ذریعہ رد کردیا گیا کہ سماجی تحریک ذاتی فائدہ چاہنے والے افراد سے وضع ہوتی ہے۔ اس کے بجائے ان کی دلیل تھی کہ سماجی تحریکوں کی کامیابی وسائل یا مختلف قسم کے ذریعے کو متحرک کرنے کی اہلیت پر منحصر ہوتی ہے اگر ایک تحریک قیادت، تنظیمی صلاحیت اور ترسیلی سہولیات جیسے وسائل کو جمع کر سکتی ہے۔ ناقدیہ دلیل دیتے ہیں کہ سماجی تحریک دستیاب وسائل کے ذریعہ محدود نہیں ہوتی ۔ یہ نئی علامات اورشناخت جیسے وسائل تخلیق کرسکتی ہے جیسا کہ غریبوں کی تحریکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسائل کی کمی مجبوری نہیں ہو تی ابتدائی محدود مادی وسائل اور تنظیمی بنیادکے ساتھ بھی ایک تحریک جدوجہد کے ذریعہ وسائل پیدا کر سکتی ہے۔ماضی اور حالیہ زمانے میں ایسی مثالوں کے بارے میں سوچیے۔
سماجی کشاکش سے خود بخود اجتماعی عمل نہیں پیدا ہو جاتا۔ ایسے عمل کے واقع ہونے کے لیے کسی گروپ کو شعوری طورپر سوچنا یا خود کو ستائے گئے افراد کے طورپرشناخت کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک تنظیم، قیادت اور ایک واضح نظریہ ہونا چاہیے۔ تاہم، اکثر سماجی احتجاج ان خطوط پر عمل نہیں کرتے۔ لوگوں کا یہ واضح نظریہ ہو سکتا ہے کہ ان کااستحصال کس طرح کیا جاتا ہے لیکن وہ اکثر اس کو واضح سیاسی حرکت پذیری اور مخالفت کے ذریعہ چیلنج کے اہل نہیں ہوتے۔ اپنی کتاب، ویپنس آف دی ویک‘ میں جیمس اسکاٹ نے ملیشیا کے کسانوں اور مزدوروں کی زندگی کا تجرزیہ کیا ہے۔ نا انصافی کے خلاف احتجاج نے دانستہ آہستہ آہستہ کام کرنے جیسے معمولی طریقوں کی شکل اختیار کرلی۔ اس طرح کے کاموں کو مزاحمت کے زور کے عمل کے طورپر معین کیا جا سکتا ہے۔
باکس 8.4

جنوبی ایشیا میں غریب عورتوں پر کیے گئے سروے میں دکھایا گیا ہے کہ انھیں اپنی بچت میں سے کچھ رقم اپنے شوہروں کو شراب نوشی کے لیے دینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا تب انھوں نے دو جگہوں پر رقم محفوظ کرنے کا ایک طریقہ نکال لیا۔ جب انھیں اپنی محنت سے بچائی گئی رقم کو دینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا تھا تو وہ اسے خفیہ جگہوں میں سے نکال لیتی تھیں اور اسی طرح دوسری جگہ رقم کو بچا لیتی تھیں۔

باکس 8.4 کے لیے مشق

کیا یہ ایک مزاحمتی عمل ہے یا بقا کی حکمت عملی یعنی سامنا کرنے کی میکانیت، بحث کریں۔

8.3سماجی تحریکوں کی اقسام(Types of social movements) 

درجہ بندی کا ایک طریقہ : اصلاحی، نجات پانے کا، انقلابی(One way of classifying reformist, redemptive, revolution)

سماجی تحریکیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ انھیں اس طرح درجہ بند کیا جاسکتا ہے: (i)نجات پانے یا مکمل تبدیلی سے متعلق (ii)اصلاحی (iii) انقلابی–نجات پانے یا تبدیلی سے متعلق سماجی تحریک کا مقصد اپنے انفرادی ممبروں کے ذاتی شعور اور سرگرمیوں میں تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ مثال کے لیے کیرل کی ازہاواکمیونٹی کے لوگوں نے نارائن گرو کی قیادت میں اپنے سماجی رواجوں میں تبدیلی پیدا کی۔ اصلاحی و سماجی تحریک میں موجودہ سماجی اور سیاسی نظام کوآہستہ آہستہ بتدریج اقدامات کے ذریعہ بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 1960کی دہائی میں ہندوستان کی ریاستوں کو زبان کی بنیادی پر تشکیل نویا حالیہ اطلاع پانے کے حق کی مہم اصلاحی تحریکوں کی مثالیں ہیں۔ انقلابی سماجی تحریک میں سماجی رشتوں میں بنیادی کایاپلٹ کی کوشش کی جاتی ہے۔اکثر ایسا ریاست کے اقتدار پر قبضہ کرکے کیا جاتا ہے۔ روس کاجولشیوک انقلاب جس میں زار کو بے دخل کرکے کمیونسٹ ریاست کی تخلیق کی گئی اور ہندوستان میں نکسلی تحریک جو ظالم زمین مالکوں اور ریاستی عہدیداروں کو ہٹانا چاہتے ہیں، کو انقلابی تحریکوں کے طورپر بیان کیا جا سکتا ہے۔ 
جب آپ سماجی تحریک کو اس وضع کی بنیا دپر درجہ بندی کرنے کی کوشش کریں گے توپتہ چلے گا کہ بہت سی تحریکوں میں تبدیلی سے متعلق اصلاحی اور انقلابی عناصر شامل ہوتے ہیں یا سماجی تحریک کا رخ وقت کے ساتھ اسی طرح بدل سکتا ہے کہ بطور مثال شروع میں انقلابی مقاصد پر مبنی تحریک اور بعد ازاں اصلاحی بن جائے۔ ایک تحریک عوامی حرکت پذیری اجتماعی احتجاج کی حالت سے شروع ہو کرزیادہ ادارتی بن جائے اوممر 2004 ماہرین سماجیات جو سماجی تحریکوں کے دور حیات کا مطالعہ کرتے ہیں اسے سماجی تحریک کی تنظیموں کی جانب حرکت مانتے ہیں۔
سماجی تحریک کو کس طرح سمجھا اور درجہ بند کیا جاسکتاہے یہ ہمیشہ ایک توضیح کا مسئلہ رہا ہے۔ یہ ہر طبقے کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر 1857میں جو برطانوی نو آبادیاتی حکمرانوں کے لیے غدر یا بغاوت تھی ہندوستانی قوم پر ستوں کے لیے آزادی کی پہلی جنگ تھی۔ غدر ایک جائز اقتدار یعنی برطانوی حکومت کے خلاف سرکشی تھی۔ آزادی کے لیے جد وجہد برطانوی حکومت کے جواز کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگ کیسے سماجی تحریکوں کے لیے مختلف معنی ادا کرتے ہیں۔ 

سرگرمی 8.5

درج ذیل سماجی تحریکوں کے بارے میں پتہ لگائیں
تلنگانہ جد وجہد
تیبھا گا تحریک
سواد ھیائے پریوار تحریک
⇐    سنتھال ہول
برسامنڈا کے ذریعہ چلایا گیا اول گلان
جہیز کے لیے ہونے والی اموات کے خلاف مہم
دلتوں کو مندر میں داخلے کی اجاز ت دینے کی تحریک
⇐ اتراکھنڈ اور جھارکھنڈکو الگ ریاست کا درجہ دلانے کی تحریک
⇐  بنگال، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں بیواؤں کی دوبارہ شادی کے حق کی تحریک
⇐  کوئی دیگر سماجی تحریک جس کے بارے میں آپ نے پڑھاہے۔
     کیا آپ درج بالا دیے گیے زمروں کی اصطلاح میں ان سماجی تحریکوں کی درجہ بندی کر سکتے ہیں؟

درجہ بندی کی ایک اورقسم : پرانی اور نئی(Another way of classifying:old and new)

20ویں صدی کے بیشتر حصے میں سماجی تحریکیں طبقے پر مبنی تھیں جیسے طبقہ مزدور تحریکیں ،کسان تحریکیں یا نوآبادیاتی مخالف تحریک۔ نوآبادیاتی مخالف تحریکوں نے سبھی لوگوں کو قومی جدو جہدآزادی میں متحد کیا، طبقے پر مبنی تحریکوں نے مزدور طبقات اور کسانوں کو ان کے حقوق کی لڑائی کے دوران اتحاد پیدا کیا۔ 
اس طرح گذشتہ صدی کے سب سے زیادہ دوررس سماجی تحریکیں طبقے پر مبنی تھیں پھریا قومی جد وجہد آزادی پر مبنی۔ آپ نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں یورپ کے مزدوروں کی تحریکوں کے بارے میں پڑھا ہے جس سے بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک ابھرکر سامنے آئی۔ اس کے علاوہ ساری دنیا میں کمیونسٹ اور سوشلسٹ ریاستوں کی تشکیل ہوئی جن میں سویت یونین، چین اور کیوبا خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان تحریکوں سے سرمایہ داریت میں بھی اصلاح پیدا ہوئی۔ مغربی یورپ کے سرمایہ دار مالکوں میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور ہمہ گیر تعلیمی، صحت کی نگہداشت اور سماجی تحفظ فراہم کرنے والی فلاحی ریاستوں کا قیام اشتراکی اور سماجی تحریکوں کے ذریعہ پیدا کیے گئے سیاسی دباؤ کے سبب ممکن ہوا۔ استعماریت کے خلاف تحریک بھی سرمایہ داری عام طورپر سامراجیت کے اشکال کے ذریعہ ایک دوسرے سے وابستہ ہے اسی لیے سماجی تحریکوں نے استحصال کی ان دونوں اقسام کو یکساں ہدف بنایا یعنی قومی تحریکوں نے غیر ملکی قوت کے ذریعہ کی جانے والی حکمرانی کے ساتھ ہی غیر ملکی پونجی کے غلبے کے خلاف انھیں متحرک کیا۔

3

دوسری جنگ عظیم کے بعد کی دہائی میں قومی تحریکوں کے نتیجے میں ہندوستان، مصر، انڈونیشیا اور دیگر بہت سے ملکوں میں سامراج کے خاتمے اور نئی قومی ریاستوں کی تشکیل ہوئی ۔تب سے 1960اور 1970کی دہائی کے آغاز تک سماجی تحریکوں کی ایک نئی لہر چلی۔ یہ وہ وقت تھا جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں افواج ویتنام میں سابق فرانسیسی نوآبادی میں کمیونسٹ گوریلاؤں کے خلاف ایک خونی جنگ میں شامل تھیں۔ یورپ پیرس کے طلباکی سرگرمی تحریک کا مرکز تھا جو جنگ کے خلاف ہڑتالوں کے سلسلے میں ورکرپارٹیوں میں شامل ہوگئے۔ اٹلانٹک کے دوسری طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سماجی احتجاج امنڈ رہا تھا۔ مارٹن لوتھر کنگ کے ذریعہ چلائی گئی تحریک کے بعد میلکم(Malcolm X) کے ذریعہ سیاہ فام قوت تحریک چلائی گئی۔ جنگ مخالف تحریک میں لاکھوں طلبا نے حصہ لیا جنھیں حکومت کے ذریعہ لازمی طورپر بھرتی کرکے ویتنام میں لڑنے کے لیے بھیجا جارہاتھا۔ خواتین کی تحریک اور ماحولیاتی تحریک کو بھی سماجی ہلچل کے اس دور میں کافی تقویت ملی۔
ان نام نہاد نئی سماجی تحریکوں کے ممبروں کو ایک طبقے اور یہاں تک کہ ایک قوم سے تعلق رکھنے والوں کے طورپر درجہ بند کرنا مشکل تھا۔ مشترکہ طبقاتی شناخت کے بجائے شرکا نے محسوس کیا کہ ان کی مشترکہ شناخت طلبا، خواتین، سیاہ فام یا ماحولیات پرست کے طورپر ہو۔ قدریم سماجی تحریک جو اکثر طبقاتی امور جیسے مزدوریونین یا کا شت کار تحریکوں پر مبنی تھیں کس طرح ماحول یا خواتین یا قبائلی تحریکوں جیسی نئی سماجی تحریکوں سے مختلف ہیں؟
آپ باب 5میں بیان کیے گئے مزدور یونین تحریکوں اور مزدوروں کی جد وجہد کی کئی مثالوں سے پہلے سے واقف ہیں۔

نئی سماجی تحریکوں کا قدیم تحریکوں سے امتیاز(Distinguishing the social movement from the old social movements)

ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ تاریخی سیاق وسباق مختلف تھے۔ یہ وہ دور تھا جب قوم پرست تحریکیں نوآبادیاتی قوتوں کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھیں اور سرمایہ دار مغرب میں مزدور تحریکیں بہتر تنخواہیں، بہتر حالات زندگی، سماجی تحفظ، مفت اسکولی تعلیم اورصحت کی سلامتی کے لیے ریاست کے ساتھ زور آزمائی کر رہی تھیں۔ ایسے میں جب سماجی تحریک نئی قسم کی ریاستوں اور سماجوں کا قیام کررہی تھی۔ پرانی سماجی تحریکوں نے واضح طورپر طاقتی رشتوں کی تنظیم نو کو بنیادی مقصد کے طورپر دیکھا ۔
قدیم سماجی تحریکیں سیاسی پارٹیوں کے ڈھانچے میں کام کرتی تھیں۔ انڈین نیشنل کانگریس نے ہندوستانی قومی تحریک کی اورچین کی کمیونسٹ پارٹی نے چینی انقلاب کی قیادت کی۔ آج چند حضرات مانتے ہیں کہ مزدوریونینوں اور مزدوروں کی پارٹیوں کے ذریعہ چلائی گئی طبقے پر مبنی سیاسی کارروائی روبہ زوال ہے جبکہ دوسرے لوگ دلیل دیتے ہیں کہ خوشحال مغرب میں فلاحی ریاست کے سبب طبقے کی بنیادپر کیا جانے والا استحصال اور عدم مساوات جیسے امور بنیادی فکر کے موضوع نہیں رہے۔ لہٰذا نئی سماجی تحریک سماج میں اقتدار کی تقسیم کو بدلنے کے بارے میں نہ ہو کر زندگی کے معیار کے بارے میں تھی جس میں صاف ستھراماحول ہو۔ 
پرانی سماجی تحریکوں میں سیاسی پارٹیوں کا کردار اہم تھا۔ ماہر سیاسیات /جنی کو ٹھاری ہندوستان میں 1970کے دہے میں سماجی تحریکوں کی کثرت کو لوگوں کی پارلیمانی جمہوریت سے بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کو مانتے تھے۔ کوٹھاری کی دلیل ہے کہ ریاست کے اداروں پر مختار طبقے کا اختیار ہوگیا ہے۔ اس کے سبب سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ انتخابی نمائندگی غریبوں کو اپنی آواز پہنچانے کا مؤثر طریقہ نہیں رہا۔رسمی سیاسی نظام سے آزادلوگ سماجی تحریکوں یا غیر سیاسی تنظیموں میں شامل ہوگئے تاکہ وہ ریاست پر باہر سے دباؤ ڈال سکیں۔آج یہ شہری سماجی تحریکوں اور نئی غیر سرکاری تنظیموں، خواتین گروہوں، ماحول پرست گروہوں اور قبائلی تحریک کاروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
جب آپ ہندوستان میں سماجی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں پڑھتے تو اس بات سے ضرور متاثر ہوتے ہیں کہ گلوبلائزیشن صنعت، زراعت، ثقافت اور میڈیا کے میدان میں لوگوں کی زندگیوں کو نئی شکل عطا کر رہا ہے۔ اکثر فرمیں کثیر مملکتی ہوتی ہیں۔ اکثر ان پر قانونی اہتمام نافذہوتا ہے جو عالمی تجارتی تنظیم جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ضوابط کے ذریعہ متعین کیا جاتا ہے۔ ماحولیات اور صحت سے متعلق مسائل اور نیوکلیر جنگ کا خوف بھی نوعیت کے اعتبار سے عالمی ہوتا ہے۔حالانکہ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ پرانی اور نئی تحریکیں نئے اتحاد جیسے عالمی سماجی فورم جو گلوبلایزیشن کے خطرات کے مسائل اٹھاتے ہیں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

کیا ہم قدیم و جدید سماجی تحریکوں کی تفریق کا اطلاق ہندوستانی سیاق وسباق میں کر سکتے ہیں؟(Can we apply the distinction between old and new social (movements in the Indian Contex

ہندوستان میں عورتوں، کاشت کاروں، دلتوں، آدی واسیوں اور دیگر سبھی طرح کی سماجی تحریکیں واقع ہوئی ہیں۔ کیا ان تحریکوں کو جدید سماجی تحریک سمجھا جا سکتا ہے؟ گیل اوم ویٹ نے اپنی کتاب ’’ری انونٹنگ ریولیشن‘‘ میں دکھایا ہے کہ سماجی نابرابری اوروسائل کی غیر یکساں تقسیم کے بارے میں فکر ان تحریکوں میں بھی لازمی عنصر بنی ہوئی ہیں۔ کاشت کار تحریکوں نے اپنی پیداوار کے لیے بہتر قیمت اور زرعی امداد کے ہٹائے جانے کے خلاف لوگوں کو متحرک کیا ہے۔ دلت مزدوروں نے اجتماعی کوشش کر کے یہ یقینی بنایا ہے کہ اعلیٰ ذات کے زمین مالک اور مہاجن ان کا استحصال نہ کر پائیں۔عورتوں کی تحریکوں نے جنسی تفریق کے امور پر کام کے مقامات اور خاندان کے اندر جیسے مختلف دائروں میں رہ کر کام کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ نئی سماجی تحریکیں معاشی عدم مساوات کے قدیم مسائل پر نہیں ہیں اورنہ ہی ان کی بنیاد صرف طبقاتی طورپر منظم ہے۔ شناخت کی سیاست، ثقافتی تشویش اور آرزوئیں سماجی تحریکوں کی تخلیق کے ضروری عناصر ہیں اور یہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان میں طبقے پر مبنی عدم مساوات کی تلاش مشکل ہے۔ اکثر یہ سماجی تحرکیں طبقاتی سرحدوں سے الگ شرکاکو متحدکرتی ہیں۔ مثال کے طورپرعورتوں کی تحریکوں میں شہری، متوسط طبقے کے حقوق نسواں کے حامی اور غریب کسان عورتیں سبھی شامل ہوتی ہیں۔الگ ریاست کے درجے کا مطالبہ کرنے والی علاقائی تحریک افراد کے ایسے مختلف گروہوں کو اپنے ساتھ شامل کرتی جو متجانس طبقات کی شناخت نہیں رکھتے۔ سماجی تحریکوں میں سماجی عدم مساوات کے سوال دیگراہم امور کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔
چپکو تحریک کے بعدگفتگو کے ذریعہ ہم لوگ اس کو واضح کریں گے۔

8.4ماحولیاتی تحریکیں(Ecological Movements)

جدید دور کے زیادہ تر حصے میں سب سے زیادہ زور ترقی پر دیا گیا ہے۔کئی دہائیوں سے قدرتی وسائل کے بے پناہ استعمال اورترقی کے ایسے نمونے کی تخلیق میں،جس سے پہلے سے ہی کم ہونے والے قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا مطالبہ بڑھ جاتا ہے،کے بارے میں تشویش کا اظہار کیاجاتا رہاہے۔ترقی کے اس نمونے کی اس لیے بھی تنقید ہوئی ہے،کہ اس میں یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ اس سے سبھی طبقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس طرح بڑے باندھ لوگوں کو ان کے گھروں اورذریعۂ معاش سے الگ کردیتے ہیں اورصنعت کسانوں کو ان کے گھروں اورذریعۂ معاش سے محروم کردیتی ہے۔صنعتی آلودگی کے اثرات کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔یہاں ہم ماحولیاتی تحریک سے متعلق مختلف امور کو جاننے کے لیے اس کی صرف ایک مثال سامنے رکھتے ہیں۔
4
سکلانا میں عالمی یوم ماحولیات پر یکجا چپکوتحریک کار،1986

سرگرمی8.6
اپنے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی کی چندمثالوں کا پتہ لگائیے اور بحث کیجیے۔آپ اپنی دریافت کی ہوئی مثالوں کی پوسٹر نمائش بھی لگاسکتے ہیں۔


چپکو تحریک ماحولیاتی تحریک کی ایک مثال ہے جو ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے علاقوں میں واقع ہوئی۔یہ متحدہ مفادات اورنظریات کی بہترین مثال ہے۔رام چندراگہاکی کتاب’’ان کوائٹ ووڈس‘‘کے مطابق گاؤں کے باشندے اپنے گاؤں کے قریب کے اوک (Oak) اور Rhododendron کے جنگلوں کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آگے آئے۔سرکاری جنگل کے ٹھیکے دار درختوں کو کاٹنے آئے تو گاؤں والے بشمول خواتین آگے بڑھے اورکٹائی کوروکنے کے لیے درختوں سے چپک گئے۔گاؤں والوں کی زندگی کی گزربسر کامسئلہ سامنے تھا۔ سبھی لوگ ایندھن کے لیے لکڑی،چارا اوردیگر روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے جنگلوں پر منحصر تھے۔اس کشاکش نے غریب گاؤں والوں کی ذریعہ معاش کی ضرورتوں کو لکڑی فروخت کرکے آمدنی کمانے کی حکومت کی خواہش کے مقابل کھڑاکردیا۔گزربسر کی معیشت منافع کی معیشت کے مقابل تھی۔سماجی نابرابری کے اس مسئلے (جس میں گاؤں والوں کے سامنے کمرشیل اورسرمایہ دارانہ مفادات کی نمائندگی کرنے والی حکومت تھی؟کے ساتھ چپکو تحریک نے ماحولیاتی تحفظ کے نتیجے میں علاقے میں تباہ کن سیلاب اورزمینوں کا دھنسنا واقع ہوا۔گاؤں والوں کے لیے ’لال‘ اور ’ہرے‘ مسائل ایک دوسرے سے وابستہ تھے جب کہ ان کی بقاجنگلوں کے باقی رہنے پر منحصر تھی۔وہ جنگلوں کو سب کو فائدہ پہنچانے والی ماحولیاتی دولت کے طورپر بھی قدر کرتے تھے۔اس کے ساتھ چپکو تحریک نے دوردراز کے میدانی علاقوں میں واقع حکومت کے ہیڈکوارٹر جواُن کی متعلقہ تشویش کے تئیں بے نیاز اورمخالف معلوم ہوتا تھا، کے خلاف پہاڑی گاؤں والوں کی ناراضگی کا بھی اظہار کیا۔اس طرح معیشت،ماحولیاتی اورسیاسی نمائندگی کی فکر بھی چپکو تحریک کی بنیاد تھی۔ ماحول کی بہتری کے لیے درختوں کا ہونا ضروری ہے۔ یکساں طور پرصاف ستھرا ماحول،صاف پانی اور ارد گرد صفائی پر محیط ہوتا ہے اور یہ اہم بھی ہے۔ ان تمام باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے حکومت ہند نے حال ہی میں ’’انٹیگریٹیڈ گنگا کنزرویشن مشن (Intergrated Ganga Conservation Mission)(نمامی گنگے،Namami Gange)‘‘ اور’’ سوچھ بھارت ابھیان‘‘ کو شروع کیا ۔ یہ ایسے منصوبے ہیں جو ملک کے ماحول کو بہتر بنائیں گے اور توازن قائم کرنے کے عمل کوجاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔

5
جنگلوں کی کٹائی پر بحث کرتے ہوئے لوگ، جوناگڈھ،ہماچل پردیش 


باکس8.5
چپکو تحریک

1970کی غیر معمولی بارش میں تباہ کن سیلاب آیاجوہماری یادداشت میں تازہ ہے۔الک نندہ وادی میں پانی نے 100مربع کلومیٹر زمین کو ڈبودیاتھا، 6دھاتی پلوں،10کلومیٹر کی موٹر سڑک،24بسوںاوردیگر بہت سی گاڑیوں کو بہادیا،366گھر گر گئے اور500ایکڑ دھان کی کھڑی فصل برباد ہوگئی۔ انسانوں اورجانوروں کی کئی زندگیاں ختم ہوگئیں۔

…1970کا سیلاب خطے کی ماحولیاتی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی نشان دہی کرتا ہے۔گاؤں والے جنھوں نے تباہی کی مار برداشت کی تھی، اب جنگلوں کی اندھادھند کٹائی،زمینوں کے کھسکنے اورسیلاب کے درمیان اب تک کے نازک رشتوں کو سمجھنے لگے تھے۔یہ دیکھا گیا کہ وہ گاؤں جو زمین یا چٹان کے گرنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے براہ راست ان جنگلوں کے نیچے واقع تھے جہاں درختوں کی کٹائی کی گئی تھی۔

…گاؤں والوں کا معاملہ چمولی ضلع میں واقع ایک کوآپریٹیوتنظیم وشوی گرام سوراج سنگھ(DGSS)نے اٹھایا۔

…ان ابتدائی احتجاج کے باوجود حکومت نے نومبر میں جنگلوں کی سالانہ نیلامی کردی۔دی جانے والی قطعہ زمین میں سے ایک زمینی جنگل تھا۔

…ٹھیکے دار کے آدمیوں نے،جو جوشی مٹھ سے رینی جارہے تھے،رینی سے پہلے ہی بس رکوائی۔گاؤں کے باہر سے ہی وہ جنگل کی طرف جارہے تھے۔ایک چھوٹی لڑکی،جس نے مزدوروں کو ان کے اوزاروں کے ساتھ دیکھا تھا،بھاگ کر گاؤں کی مہیلامنڈل کی سربراہ گوری دیوی کے پاس گئی۔گوری دیوی نے تیزی کے ساتھ دیگر گھروالیوں کو اکٹھاکیا اورجنگل جاپہنچیں۔جب انھوں نے مزدوروں سے کٹائی کاکام نہ شروع کرنے کی درخواست کی تو شروع میں انھیں گالیاں اوردھمکیاں ملیں۔جب عورتوں نے جھکنے سے انکار کردیا تو ان آدمیوں کو آخر کار وہاں سے جانا پڑا۔


باکس8.5کے لیے مشق

کیا یہ طبقے پر مبنی عدم مساوات اوروسائل کی تقسیم کے پرانے معاملے کو اٹھانے والی سماجی تحریک ہے؟
یا اس میں ماحولیاتی قائم پذیری اورلوگوں کے ثقافتی حقوق جیسے معاملوں کو اٹھایاجارہا ہے۔

باکس8.6

ہمارے موجودہ اطلاعاتی دور میں پوری دنیا کی سماجی تحریکیں غیر سرکاری تنظیموں، مذہبی اورانسانیت پرست گروہوں،انسانی حقوق کی انجمنوں،صارف تحفظ کی وکالت کرنے والوں، ماحولیاتی تحریک کاروں اورمفادعامہ کے لیے مہم جوئی کرنے والے دیگر لوگوں پر مشتمل ایک بڑے علاقائی اوربین الاقوامی نیٹ ورک میں یکجا ہونے کی اہل ہیں…مثال کے طورپرسیٹل(seattle)میں عالمی تجارتی تنظیم کے خلاف ہونے والے زبردست مظاہرے کو جزوی طورپر انٹرنیٹ پر مبنی نیٹ ورک کے ذریعہ منظم کیاگیا تھا۔

باکس 8.6کےلیے مشق

درج بالا متن کو پڑھیں اور بحث کریں کہ کس طرح سماجی تحریکیں بھی عالم گیر ہو جاتی ہیں ۔ ٹکنا لوجی اس میں کس طرح مددگار ہوتی ہے؟ سماجی تحریکوں کے ذریعہ ادا کئے جانے والے کردار میں کس طرح تبدیلی پیدا کرتی ہیں؟

8.5  طبقے پر مبنی تحریکیں(Class Based Movements)

کسان تحریکیں(Peasants Movements)

کسان تحریک یا زراعت سے متعلق جدوجہد نوآبادیاتی دور کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی تھی۔یہ تحریکیں1858اور1914 کے دوران مقامی جداگانہ اورمخصوص شکایات تک محدود ہونے کی طرف مائل تھیں۔ 1859–62کی بغاوت جو نیل کی کاشت کے خلاف تھی اور1857کے دکن فسادات جو مہاجنوں کے خلاف تھے،کافی مشہور ہوئے۔اس سے وابستہ چندمعاملے آنے والے دور میں بھی جاری رہے اورمہاتماگاندھی کی قیادت میں وہ جزوی طورپر تحریک آزادی سے جڑگئے۔ مثال کے طورپرباردولی ستیاگرہ (1928میں سورت ضلع میں)ایک لگان مخالف مہم تھی جوملک گیر عدم تعاون تحریک کا ایک حصہ تھی۔ یہ مال گزاری ادا کرنے سے انکار کی ایک مہم تھی ۔1917–18میں چمپارن ستیہ گرہ ہوا جو نیل کی کاشت کے خلاف کیا گیا تھا۔ 1920میں برطانوی حکومت اوربعض خطوں میں مقامی حکمرانوں کی جنگلاتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک برپاکی گئی۔باب1میں ساختی تبدیلیوں پر ہماری بحث کویادکریں۔

سرگرمی8.7

 نکسلی تحریک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں:
ابتدائی سال
موجودہ دور
امور
احتجاج کاانداز
بحث کریں۔باب4کو دوبارہ پڑھیں اور شناخت کریں کہ تحریک کے لیے کون سے سماجی اسباب ذمہ دارہوسکتے ہیں۔


1920اور1940کے درمیان کسان تنظیمیں بھی سامنے آئیں جن میں پہلی تنظیم بہار صوبائی کسان سبھا(1929) تھی اور1936میںآل انڈیا کسان سبھا کا ظہورہوا۔ سبھاؤں کے ذریعہ کسان منظم ہوئے اورانھوں نے مطالبہ کیاکہ کسانوں، مزدوروں اوراستحصال کے شکار سبھی طبقات کو معاشی استحصال سے نجات حاصل ہو۔آزادی کے وقت ہمیں دو اہم کسان تحریکیں دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں پہلی تحریک تبھاگا(Tebhaga) تحریک (1946–47)اوردوسری تلنگانہ تحریک (1946–51) تھی۔پہلی جدوجہد بنگال اور شمالی بہار کی متحدہ کاشت والوں کی تھی جنھیں اپنی پیداوار کا دوتہائی حصہ نہ کہ روایتی طورپرنصف حصہ دینا ہوتا تھا۔ اسے کسان سبھا اورکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI)کی حمایت حاصل تھی۔دوسرے حیدرآباد کی رجواڑہ ریاست جاگیردارانہ صورت حال کے خلاف تھی جس کی قیادت کمیونسٹ پارٹ آف انڈیا نے کی تھی۔
بعض معاملے جو کہ نوآبادیاتی دور میں بہت موثرتھے،آزادی کے بعد ان میں تبدیلی آئی۔ دیہی علاقوں میں زمینی اصلاحات، زمین داری کے خاتمے،زمینی محاصل کی کم ہوتی ہوئی اہمیت اورلوگوں کے ادھار دینے کے نظام میں تبدیلی کی شروعات ہوئی۔ 1947کے بعد کے دور کی خصوصیت کا تعین بڑی سماجی تحریکوں کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔ یہ تھیں:نکسلی جدوجہد اورنئی کسان تحریکیں۔ نکسلی تحریک بنگال میں نکسل باڑی کے خطے میں(1967)شروع ہوئی تھی۔
کسانوں کا بنیادی مسئلہ زمین کا تھا۔ آپ دیہی ہندوستان کی زرعی ساخت میں ہونے والی تیز تقسیم کو باب4میں واضح طورپرسمجھ چکے ہیں۔باکس8.7اور8.8میں آپ کو ان تحریکوں کے بارے میں مختصراً واقف کرایاگیا ہے۔
باکس8.7

سلی گوڑی سب ڈویژن کے کسانوں کا اجلاس ایک عظیم کامیابی ثابت ہوا۔اپنی سابقہ تشدد پسند جدوجہد کے ذریعہ کسانوں کا حوصلہ بڑھااورانھیں تقویت مل چکی تھی۔وہ آگے کے لیے کافی پُرامید تھے۔جوتے داروں کے کھیتوں میں دھوپ اوربارش کے دوران شدید محنت کے معمولات سے مزدوروں کے مرجھائے اوربجھے بجھے چہروں پر امید اورحقیقت کی سمجھ سے چمک سی پیداہوگئی تھی۔کانوسانیال کے بعد کے دعوؤں کے مطابق مارچ سے اپریل1967تک سبھی گاؤں والے منظم ہوچکے تھے۔15,000سے20,000 تک کسانوں کا کل وقتی کارکنان تحریک کے طورپر اندراج ہوا۔ہر ایک گاؤں میں کسان کمیٹیاں بنیں اورانھوں نے مسلح گارڈ کی حیثیت اختیار کرلی۔انھوں نے جلد ہی زمینوں کو کسان کمیٹیوں کے نام سے زیرتصرف کرلیا،زمین کے ان سبھی ریکارڈوں کو جلادیا گیا جن کی بنیادپر انھیں ان کے واجبات سے محروم رکھاجاتا تھا،گروی رکھ لیے گئے سبھی قرضوں کو ردکردیا گیا،ظالم زمین مالکوں کے لیے موت کی سزاکا اعلان کیاگیا، زمین مالکوں سے بندوقیں چھیننے کے لیے مسلح ٹولیوں کی تشکیل کی گئی۔اپنے آپ کو روایتی ہتھیاروں جیسے تیر،کمان اوربھالے وغیرہ سے لیس کیاگیا اورگاؤں کی نگہبانی کے لیے متوازی انتظامیہ کی تشکیل کی گئی…

ماخذ:سمنتا(Sumanata) بنرجی:نکسل باری اینڈدی لیفٹ مومینٹ(ادارت)گھنشیام شاہ، سوشل مومینٹ اینڈ دی اسٹیٹ (سیج (Sage)، دہلی2002)،  صفحہ 192-125



باکس8.8

گوریلا تحریک 24نومبر 1968کو گوڈاپادو کے قریب کے میدانی علاقے میں گروڑ بھورا میں ایک امیر زمین مالک کی زمین پر فصل کو جبراً کٹوانے کے ذریعہ شروع ہوئی۔ زیادہ مؤثر کارروائی وہ تھی جو دوسرے دن پہاڑی علاقے میں ہوئی جب پاروتی پورم ایجنسی علاقے کے پونڈ اگواتلی گاؤں میں بہت سے گاؤں کے تقریباً 250 گری جنوں نے تیر،کمان اور بھالوں سے زمین مالک اور مہاجن۔۔۔۔ کے گھر پر یورش کردی اور اس کے جمع کیے ہوئے دھان، چاول اور دیگر غذائی اشیا اور 20,000 روپیے کے بقدرجائیداداوردستاویزات پر قبضہ کر لیا۔


باکس 8.7اور 8.8کے لیے مشق

باکس 8.7اور 8.8بغور پڑھیں اور حکمت عملیوں کی شناخت کریں۔

عصری ہندوستان میں بہت سے زرعی مسائل اب بھی برقرارہیں۔ باب 4میں تفصیلی طورسے  اس پر بحث کی گئی ہے۔ نکسلی تحریک آج بھی ایک بڑھتی ہوئی قوت ہے۔
نام نہاد’ نئی کسان‘ تحریک پنجاب اور تملناڈو میں 1970کی دہائی سے شروع ہوئی۔ یہ علاقائی بنیاد پرمنظم اور پارٹی بنیاد سے مبرّاتھی جس میں بڑے کسانوں کے بجائے چھوٹے کاشت کار تھے۔ (بڑے کسان انھیں کہا جاتا ہے جو اشیا کی پیداوار اور خریداری دونوں ہی شکل میں بازار سے وابستہ ہوتے ہیں)۔ تحریک کا بنیادی نظریہ مضبوطی کے ساتھ ریاست اور شہر مخالف تھا۔ مطالبہ کی بنیاد میں قیمت اور متعلقہ امور تھے۔ (مثال کے طورپر قیمت وصولی، منافع بخش قیمتیں، زراعت کی اصل کاری قیمتیں، ٹیکس اور ادھار کی )تحریک کے نئے طریقوں کو اپنا یا گیاجیسے سڑکوں اور ریل راستوں کو بندکرنا، سیاست دانوں اور منتظمین کے لیے گاؤں میں داخلے کو ممنوع کرنا اور اسی طرح کے دیگر کام۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ کسان تحریکوں کے ماحول اور عورتوں کے امورسمیت اس ایجنڈے اور نظریہ میں وسعت پیدا ہوئی ہے لہٰذا انھیں عالمی سطح پر نئی سماجی تحریکوں کے ایک جزو کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔

مزدوروں کی تحریک(Workers Movements)

ہندوستان میں کارخانوں سے پیداوار کا عمل 1860کے ابتدائی حصے میں شروع ہوا۔آپ کو نوآبادیاتی دور میں صنعت کاری کے مخصوص کردار پر ہماری بحث یاد ہوگی۔ نوآبادیاتی حکومت میں تجارت کا ایک عام انداز اپنایا جارہا تھا جس کے تحت خام مال کی پیداوار کا حصول ہندوستان سے کیا جاتا تھا اورمملکت متحدہ میں تیار کیے گئے مال کی نوآبادی میں فروخت کاری کی جاتی تھی۔ ان فیکٹریوں کواس طرح کلکتہ(کولکاتہ) اور باجے(ممبئی) جسے بندرگاہی شہروں میں قائم کیا گیا۔ بعد ازاں یہ فیکٹریاں مدراس (چنئی) میں بھی قائم کی گئیں۔ چائے باغات کی شروعات 1839کے آس پاس کی گئی۔
نوآبادیاتی دور کے ابتدائی مراحل میں مزدوری بہت کم تھی کیونکہ نوآبادیاتی نظام نے ان کی تنخواہوں اور کام کی شرائط کے بارے میں کوئی ضابطہ نہیں بنایا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نو آبادیاتی حکومت نے چائے کے باغات میں مزدوروں کی فراہمی کو کس طرح یقینی بنایا تھا(باب1)
اگر چہ بعد میں مزدور یونین بنیں مزدوروں نے احتجاج کیا لیکن ان کی کارروائی اس وقت بہر حال مسلسل جاری رہنے کے بجائے خود بخود یا بے ساختہ ہوا کرتی تھیں۔ چند قوم پرست رہنماؤں نے نوآبادیاتی مخالف تحریک میں مزدوروں کو بھی شامل کرلیا۔جنگ کے سبب ملک میں صنعتوں کی وسعت توضروری ہوئی لیکن اس سے غریبوں کی پریشانی بھی بہت بڑھی۔غذاکی قلت ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوابامبے میں ٹکسٹائل ملوں میں ہڑتال کی ایک لہر چل پڑی۔ ستمبر–اکتوبر 1917میں تقریباً30ہڑتالیں مندرج ہوئیں۔ کولکاتہ میں جوٹ مزدوروں نے کام روک دیا۔ مدراس میں بکنگھم اور کرناٹک ملس کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافہ کے لیے کام بندکردیا۔ احمد آبادکی کپڑامل کے مزدوروں نے 50فی صد اجرت بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کام بند کردیا۔     (بھومک 2004)
پہلی ٹریڈ یونین اپریل 1918میں ایک سماجی کارکن اورتھیوسوفکل سوسائیٹی کے ممبر بی۔ پی واڈیا کے ذریعہ قائم کی گئی۔ اسی سال مہاتما گاندھی نے ٹکسٹائل لیبر ایسوسی ایشن(ٹی  ایل اے )قائم کی۔1920میں بامبے میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس یعنی ایٹک (AITUC )کا قیام عمل میں آیا۔ ایٹک وسیع بنیاد پر قائم تنظیم تھی جومتنوع نظریات پر مبنی تھی۔ اہم نظریاتی گروہوں کی قیادت کمیونسٹ ایس اے ڈانگے اور ایم این رائے کے ذریعہ کی گئی۔ اعتدال پسندوں کی قیادت ایم جوشی، وی وی گری اور قوم پرست رہنماؤں کے ہاتھ میں تھی جس میں لالہ لاجپت رائے اور جواہر لعل نہرو جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
AITUCکی تشکیل سے نوآبادیاتی حکومت مزدوروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں زیادہ محتاط ہوگئی۔ اس نے مزدوروں کو کچھ رعایتیں دے کر بے اطمینانی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ 1922میں حکومت نے چوتھا فیکٹری ایکٹ پاس کیا جس میں کام کے گھنٹوں کو کم کرکے 10گھنٹے کر دیا گیا۔ 1926 میں مزدور یونین ایکٹ پاس کیا گیا جس میں ٹریڈ یونینوں کے رجسٹریشن کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں چند ضوابط بھی پیش کیے گئے۔ 1920کی دہائی کے وسط میں ایکٹ سے تقریباً 200یونین ملحق ہوگئیں اور اس کی ممبر شپ تقریباً 250,000تک پہنچ گئی۔

6
اوپر : ممبئی کپڑا مل مزدوروں کی ہڑتال1981-82
بائیں: یونین کے ذریعہ کیے جانے والے مظاہرے میں خواتین مزدور، ارول، بہار 1987

سرگرمی 8.8

ایک مہینے تک پابندی کے ساتھ خبریں پڑھیں یا سنیں اور ٹریڈ یونینوں کے ذریعہ اٹھائے جانے والے امور سے متعلق معلومات یکجاکریں گلوبلائزیشن کے سیاق وسباق میں بحث کریں۔


برطانوی حکومت کے آخری چند سالوں کے دوران کمیونسٹوں نے ایٹک پر نمایاں طورپر کنٹرول حاصل کرلیا۔ مئی1947میں انڈین نیشنل کانگریس نے ایک دیگر یونین جسے انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (INTUC) کہا گیا، بنانے کو ترجیح دی، 1947میں ایٹک میں تقسیم سے سیاسی پارٹیوں کے خطوط پر مزید تقسیم کی راہ آسان ہوں۔ قومی سطح پر مزدور طبقے کی تحریک سیاسی پارٹیوں 
کے خطوط پر تقسیم ہوئی ،اس کے علاوہ  1960کی دہائی کے آخر سے علاقائی پارٹیوں نے بھی اپنی ذاتی یونینوں کی شروعات کی۔
1966-67میں معیشت میں کساد بازاری پیدا ہوئی جس میں پیداوار میں کمی آئی اور اس کے نتیجے میں روزگار میں کمی ہوئی۔دوسری طرف انتشار اور بے اطمینانی تھی۔ 1974میں ریلوے ملازمین کی زبر دست ہڑتال ہوئی۔ ریاست اور ٹریڈ یونین کے درمیان مقابلے میں تیزی پیدا ہوئی۔ 1975-77میں ایمر جنسی کے دوران حکومت نے مزدور یونینوں کی سرگرمیوں پر بندش لگادی۔ یہ قلیل مدتی تھا۔ مزدوروں کی تحریک شہری آزادی کے لیے ایک بڑی جدوجہد کا اہم حصہ تھی۔
گلوبلائزیشن کے عصری سیاق و سباق میں آپ نے پڑھا کہ ہونے والی تبدیلیوں کا مزدوروں پر کیا اثر پڑا۔ ٹریڈ یونینوں کے سامنے جو چیلنج تھے وہ بھی نئے طرح کے تھے۔ آپ کو انھیں سمجھنے کے لیے باب5 اور 6کو دوبارہ پڑھے جانے کی ضرورت ہے۔

8.6ذات پر مبنی تحریکیں(Caste Based Movements)

دلت تحریک(The  Dalit Movement)

خود داروں کا سورج شعلے میں جل اٹھا۔
ان ذاتوں کو اسے جلانے دو!
چکنا چور، شکستہ،  تباہ کرنے دو نفرت کی ان دیواروں کو 
ٹکڑے ٹکڑے کرنے دو ان صدیوں پرانے اندھے پن کے مکتب کو
اٹھ کھڑے ہو، اے لوگو!
دلتوں کی سماجی تحریک ایک مخصوص کردار ظاہر کرتی ہے۔ محض معاشی استحصال اور سیاسی دباؤ کے حوالے سے ان کی توضیح اطمینان بخش طورپر نہیں کی جاسکتی، حالانکہ یہ پہلو بھی بہت اہم ہے۔ یہ ایک انسان کے طورپر شناخت کرنے کی، خود اعتمادی اور خود فیصلہ سازی کے لیے جدوجہد ہے۔ یہ چھواچھات میں پنہاں رسوائی کو ختم کرنے کی بھی جد وجہد ہے۔ اسے لمس کیے جانے کی جدوجہد بھی کہا جاتا ہے۔
دلت لفظ کا استعمال عام طورپر مراٹھی، ہندی، گجراتی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں غریب اور دبے کچلے یا ستائے گئے لوگوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کانئے سیاق و سباق میں پہلا استعمال مراٹھی میں 1970کی دائی کے آغازمیں باباصاحب امبیڈکر کے پیروکاروں نے نئے بودھوں کے لیے کیا تھا۔ اس کا مطلب ان لوگوں سے تھا جنھیں ان کے اوپر کے لوگوں کے ذریعہ قصداً تباہ و برباد کیا گیا تھا۔ اس لفظ میں خود آلودگی یا ناپاکی کی فطری تردید کرم اور منصفانہ جاتی درجہ بندی فطری طورپر موجود ہے۔
ملک میں حال یا ماضی میں کوئی ایک متعدہ دلت تحریک نہیں ہوئی ہے۔ مختلف تحریکوں نے دلتوں سے متعلق مختلف امور کو مختلف نظریات کے تحت نمایاں کیاہے۔ تاہم سبھی میں ایک دلت شناخت کی بات کہی گئی ہے اگرچہ اس کے معنی ہر ایک کے لیے یکساں یا جامع نہیں ہیں۔ دلت تحریکوں کی فطرت اور شناخت کے معنی میں اختلاف کے باوجود ان میں مساوات، عزت نفس اور  چھوا چھات کے انسدادکے لیے ایک مشترکہ جستجو ہے۔ (شاہ 2001:194) اسے مشرقی مدھیہ پردیش میں چھتیس گڑھ کے میدانی علاقے میں چماروں کی ستنامی تحریک، پنجاب میں آدی دھر م تحریک، مہاراشٹرکی مہا ر تحریک ، آگرہ کے جاٹوں کی سماجی و سیاسی حرکت پذیری میں اور جنوبی ہندوستان میں برہمن مخالف تحریک میں دیکھا جا سکتا ہے۔
عصری دور میں دلت تحریک نے عوامی میدان میں قطعی طورپر مقام حال کر لیا ہے جس کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی کے ساتھ دلت ادب کو بھی کافی جگہ مل رہی ہے۔

7

دلت ادب پوری طرح چترورن نظام اور ذات کی درجہ بندی کے خلاف ہے جنھیں یہ نچلی ذاتوں کی تخلیقیت اور کلی وجود کو کچلنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ دلت مصنفین اپنے خود کے تجربے اور ادراک کی بنیاد پر اپنے تخیل اور اظہار کا استعمال کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ اصل دھارا والے سماجی کا اعلیٰ سماجی تخیل صداقت کو ظاہر کرنے کے بجائے اسے چھپائے گا۔ دلت ادب سماجی و ثقافتی انقلاب کا تقاضہ کرتا ہے جب کہ بعض وقار اورشناخت کے لیے ثقافتی جدوجہد پر زور دیتے ہیں بہت سے دیگر سماج کی ساختی خصوصیات کے ساتھ ہی معاشی جہات کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔

سرگرمی 8.9

دلت ادب کے بارے میں مزید معلوم کیجیے۔ دلت تخلیق میں سے اپنی پسند کی کوئی نظم یا اپنی پسند کی کسی کہانی کومنتخب کر کے اس پر بحث کریں۔

باکس 8.9

اپنے ساتھی مہاروں پر ایک نا معلوم شاعری کی شاعری (1890کی دہائی)۔

ان کے گھر گاؤں سے باہر ہیں

ان کی عورتو ں کے بالوں میں جوئیں ہیں

ننگے بچے کوڑے میں کھیلتے ہیں

وہ سڑا ہوا گوشت کھاتے ہیں

اچھوت لوگوں کے چہرے پر عاجزی سی دکھائی دیتی ہے

ان میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔

وہ گاؤں کی دیویوں اور دیتیہ دیوتاؤں کے نام سے ہی واقف ہیں۔ 

لیکن برہما کا نام انھیں نہیں معلوم۔



باکس8.10

ماہرین سماجیات کے ذریعہ دلت تحریکوں کو درجہ بند کرنے کی کوشش سے یہ مانا جانے لگا ہے کہ وہ سبھی اقسام جیسے اصلاحی، نجات دہی اور انقلاب سے متعلق ہیں۔

…ذات مخالف تحریک جو 19ویں صدی میں جیوتی باپھولے کی تحریک سے غیربرہمن تحریک کی شکل میں مہاراشٹر اور تملناڈو میں آگے بڑھائی گئی اور جسے ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں فروغ ملا جس میں سبھی طرح کی خصوصیات تھیں۔ سماج کی اصلاح میں یہ زیادہ بہتر طورپر انقلابی اور افراد کے حوالے سے نجات دینے والی تھی۔ جزوی سیاق وسباق میں مابعد امبیڈکر دلت تحریکوں میں انقلابی عمل رہا ہے۔ اس نے زندگی کے متبادل طریقے فراہم کیے جو بعض نکات پر بنیادی اور ہمہ گیر تھے جس میں رویّے میں تبدیلیوں جیسے گائے کا گوشت کھانے کو ترک کرنے سے لے کر مذہب کی تبدیلی تک سبھی کچھ شامل تھا۔ یہ پورے سماج کو تبدیل کرنے پر مرکوز تھا،ذات کی بنیاد پر ہونے والے ظلم اور معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بنیادی انقلابی ہدف سے درج ذات کے ممبران کو سماجی حرکت پذیری فراہم کرنے کے محدود ہدف تک شامل تھا۔

 لیکن مجموعی طورپر ۔۔۔۔۔۔ یہ تحریک ایک اصلاحی تحریک رہی ہے۔ اس نے ذات کی بنیادپرحرکت پذیری فراہم کی لیکن ذات کو نابود کرنے کے لیے صرف بے دلی سے کوشش کی گئی۔ اس میں کوشش کر کے کچھ حقیقی لیکن محدود سماجی تبدیلی حاصل کی گئی خاص طورپر دلتوں میں تعلیم یافتہ طبقوں کے لیے یہ اب تک اطمینان بخش طورپر دنیا میں سب سے زیادہ غریب عوام کی انسداد غربت کے لیے سماج کی کایا پلٹ میں ناکام رہا ہے۔


باکس8.10کے لیے مشق

دلت تحریکوں کو اصلاحی کے ساتھ نجات دہندہ بھی کہا جاسکتاہے، اسباب کی شناخت کیجیے؟
کیا آپ باکس میں دیے گئے خیالات سے متفق ہیں، بحث کریں؟

پسماندہ طبقات سے متعلق ذاتوں کی تحریکیں(Backward Class Castes Movements)

پسماندہ ذاتوں یا  طبقات کا سیاسی اکائیوں کی شکل میں ظہور نوآبادیاتی اور ما بعد نوآبادیاتی دونوں سیاق و سباق میں ہوا ہے۔نو آبادیاتی ریاست میں سے اکثر نے اپنی سرپرستی ذات کی بنیاد پر فراہم کی، اس لیے لوگوں کی اداراتی زندگی میں سماجی اور سیاسی شناخت کے لیے اپنی ذاتوںمیں رہنا معنی خیز ہوتا ہے۔ اس سے یکساں طورپر واقع جاتی گروہوں پر خود کو منظم کرنا جسے افقی پھیلاؤ کہا جاتا ہے، پر اثر پڑا۔ اس طرح ذات اپنے رسمیاتی مدار چھوڑنے لگی اور سیاسی حرکت پذیری کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکولر بن گئی (باب 2سیکولر کاری پر بحث یاد کریں)۔
پسماندہ طبقات کی اصلاح کا استعمال ملک کے مختلف حصوں میں 19ویں صدی کے آخر سے کیا جا رہا ہے۔ اس کازیادہ سے زیادہ استعمال مدراس پریزیڈنسی میں 1872، میسور کی رجواڑہ ریاست میں 1918سے اور ممبئی پریزیڈنسی میں1825 سے کیا جارہاہے۔ 1920کی دہائی سے ملک کے مختلف حصوں میں ذات پات کے مسائل کے معاملے پر مختلف تنظیمیں متحد ہوئیں۔ ان میں صوبہ ہائے متحدہ میں ہندوبیک ورڈ کلاسس لیگ اورآل انڈیا بیک ورڈ فیڈریشن شامل ہیں۔1954میں پسماندہ طبقات کے لیے 88 تنظیمیں کام کررہی تھیں۔

باکس8.11

بنیادی حقوق، اقلیتوں وغیرہ کے مسئلے پر صلاح کار کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کرتے ہوئے جی بی پنت نے اپنی تقریر میں درج ذیل خیالات کا اظہار کیا۔ہمیں دبائے ہوئے طبقات، درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ طبقات کی خصوصی نگہداشت کرنی ہوگی۔انھیں عام سطح پر لانے کے لیے ہم جوکر سکتے ہیں اسے ضرور کرنا چاہیے۔ زنجیر کی طاقت کی پیمائش اس کی سب سے زیادہ کمزور کڑی کے ذریعہ کی جاتی ہے، اور اس لیے جب تک سب سے کمزور کڑی کو طاقتور نہیں بنایا جاتا تب تک ہمیں ایک صحت مندانہ سیاست نہیں حاصل ہوگی۔

2019میں حکومت ہند نے تعلیم میں 10فیصدی ریزرویشن اور معاشی سطح پر کمزور لوگوں کے لیے جنرل کیٹیگری میں 

بھی دیا گیا ہے۔ یہ کیسے ہے؟ اس پر بحث کیجئے۔

اونچی ذات کاردّعملThe Upper Caste Response)

دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے بڑھتے ہوئے اثرات نے اونچی ذاتوں کے بعض طبقات میں یہ خیال پیدا کیا کہ ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ ان کے اقلیت ہونے کے سبب حکومت ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ ماہرین سماجیات کے طورپر ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے احساسات کا وجود ہے اور ہمیں اس کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اس طرح کے تاثرات یا احساسات تجرباتی حقائق پر مبنی ہیں۔ہمیں یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان نام نہاد اونچی ذاتوں کی سابقہ نسلوں نے ’ذات‘ کو جدید ہندوستان کی ایک جاندار حقیقت کے طورپر کیوں نہیں دیکھا؟ باکس 8.12میں ایک واضح سماجی توضیح فراہم کی گئی ہے۔
خلاصہ کلا م کے طورپر اگر آزادی سے پہلے کی رائج صورت حال سے موازنہ کیا جائے تو آج سب سے نچلی ذاتوں اور قبائلی سمیت سبھی سماجی گروہوں کی حالت میں بہتری پیدا ہوئی ہے، لیکن اس میں کس حد تک بہتری پیدا ہوئی ہے؟ باقی کی آبادی کے مقابلے انتہائی نچلی ذاتوں یاقبائلی گروہوں کی کیا حالت رہی ہے؟ یہ سچ ہے کہ 21ویں صدی کی ابتدا میں سبھی جاتی گروہوں میں مختلف قسم کے روزگار اورپیشے آج کی نسبت زیادہ وسیع تھے۔ تاہم یہ وسیع سماجی حقیقت کو نہیں بدلتا کہ اعلیٰ ترین یا زیادہ تر جیحی پیشوں میں اکثریت نچلی ذاتوں کی ہے۔تفریق اورعلاحدگی کے امور پر کتاب 1میں کسی حد تک بحث کی گئی ہے۔
'
باکس8.12

نہرو کے دور میں پیدا ہونے والی نسلوں نے ذات کو ایک قدیم گذرے ہوئے تصور کے طور پر دیکھا۔ ذات کا نظریہ اس نئے متوسط طبقے پر بالخصوص حاوی تھا جسے (جیسے کہ میں) اپنی روایتی اعلیٰ ذات کی حیثیت کا طویل تجربہ تھا لیکن جو حال ہی میں نئے شہری اور پروفیشنل مڈل طبقاتی ماحول میں شامل ہوئے تھے۔ اس نئے متوسط طبقاتی ماحول میں پرورش پائے ہوئے مجھ جیسے لوگوں کی ذات ایک گذری ہوئی چیز تھی۔ مانا کہ رسمیات کے مواقع پر خاص کر شادی وغیرہ کی تقاریب میں اسے کسی پرانے صندوق سے جھاڑ پوچھ کر نکالی گئی بھولی بسری  شے کی طرح پیش کیا جاتاتھا لیکن ہمیں نہیں لگتاکہ شہری روز مرہ زندگی میں ذات کا اتنا فعال کردار ہے۔

اب جاکر یوں کہیے کہ منڈل کے بعد ہمیں یہ سمجھ میں آنے لگا ہے کہ شہری متوسط طبقے کے ضمن میں ذات تقریباً غائب سی کیوں تھی۔ سب سے اہم وجہ بے بسی بھی ہے کہ اس سیاق وسباق میں اونچی ذاتوںکا زبردست دبدبہ تھا۔ اس ہم جنسیت نے ذات کو سماجی بصارت کی سطح کے نیچے دبا کر آنکھوں سے اوجھل کر دیا۔ اگر آپ صرف اپنی ہی برادری کے لوگوں سے محصورہوں تو ذات کی شناخت کا سوال ہی نہیں اٹھے گا، ٹھیک اسی طرح جیسے غیرملک میں رہتے ہوئے ہمیں ہندوستانی ہونے کا ہمیشہ خیال رہتا ہے لیکن ہندوستان میں رہتے ہوئے ہم اسے فراموش کردیتے ہیں (دیش پانڈے 2003:99)

8.7قبائلی تحریکیں(The Tribal Movements)

ملک بھر میں پھیلے مختلف قبائلی گروہوں کے مسائل یکساں ہو سکتے ہیں لیکن ان میں تفریق بھی اتنی ہی اہم ہے۔ قبائلی تحریکوں میں سے کئی زیادہ تر وسطی ہندوستان کی نام نہاد قبائلی بیلٹ میں واقع رہے ہیں۔ جیسے چھوٹا ناگپور وسنتھال پرگنہ میں واقع سنتھال، ہو، اوراوں منڈا۔ نئے بنے جھارکھنڈریاست کا خاص حصہ ان ہی پر مشتمل ہے۔ ہمارے لیے مختلف تحریکوں کے بارے میں تفصیلی گوشوارہ دینا ممکن نہیں ۔مثال کے طورپر جھار کھنڈ پر بحث کریں گے جہاں قبائلی تحریک کی تاریخ سوسال قدیم ہے۔ ہم مشرقی شمالی ریاستوں کی قبائلی تحریکوں کی خصوصیات کے بارے میں مختصراً بات کریں گے لیکن ان کی بھی تفصیل ممکن نہیں کیونکہ ایک ہی علاقے میں جھارکھنڈ قبائلی تحریک کی مختلف شکلیں موجود ہو سکتی ہیں۔

8
قبائلیوں کی جدو جہد جاری ہے

جھارکھنڈ(Jharkhand)

 2000میں جنوبی بہار سے الگ کر بنایا گیاجھار کھنڈ ہندوستان کی نئی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس ریاست کے قیام کی تاریخ میں ایک صدی سے زیادہ کی مزاحمت شامل ہے۔ جھارکھنڈ کے لیے سماجی تحریک کے کرشمائی لیڈر برسامنڈا نام کے ایک آدی واسی تھے جنھوں نے انگریزوں کے خلاف ایک بڑی بغاوت کی قیادت کی۔ اپنی موت کے بعد برسا اس تحریک کی اہم علامت بن گئے ان کے بارے میں کہانیاں اور گیت پورے جھارکھنڈ میں پائے جاتے ہیں۔ برسا کی جد وجہد کی یاد داشت تحریروں کے ذریعہ قائم رکھی گئی۔ جنوبی بہار میں کام کرنے والی عیسائی مشنریوں نے اس علاقے میں خواندگی کی اشاعت میں اہم کردار نبھایا۔ خواندہ آدی واسیوں نے اپنی تاریخ اور روایات کے بارے میں لکھا اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کی۔ اس سے جھارکھنڈ کے لوگوں کو ایک متحدہ نسلی شعور اورشناخت تخلیق کرنے میں مدد ملی۔
 خواندہ آدی واسی دانشور قیادت ابھری، جس نے الگ ریاست کی مانگ وضع کی اور ہندوستان اور غیر ممالک میں بھی حلقہ اثرکیا۔ جنوبی بہار میں آدی واسی دکّووں سے جومہاجر تاجر اور مہاجن تھے اورجو اسی علاقے میں آکر بس گئے تھے اور جنھوں نے وہاں کے اصلی باشندوں کی دولت پر قبضہ کر لیا تھا، اصل آدی واسی نفرت کرتے تھے۔معدنیات سے خوشحال ان خطوں میں کان کنی اور صنعتی جیکٹوں سے ملنے والے زیادہ تر فائدے دکّووں کو ملتے تھے، یہاں تک کہ آدی واسی زمینوں کو الگ کر دیا گیا۔ حاشیے پر پہنچا ئے جانے کے تجربے اور نا انصافی کے اپنے مفہوم کو ایک متحدہ جھارکھنڈی شناخت کی تخلیق اور اجتماعی کارروائی کی ترغیب کے لیے آمادہ کیا جس کے نتیجے میں آخرکار ایک الگ ریاست کی تشکیل ممکن ہوئی۔
وہ امور جن کے خلاف جھارکھنڈ میں تحریک کے رہنماؤں نے احتجاج کیا تھا:
بڑے آبپاشی پروجیکٹوں اور گولہ باری کی رینج کے لیے زمین کا تصرف؛ 
رکے ہوئے سروے ، بسانے کی کارروائی اور بند کر دیے  کیمپ وغیرہ۔
قرضوں، کرائے اور کو آپریٹیو قرضوں کا جمع کرنا، جس کی مزاحمت کی گئی تھی؟
جنگلاتی اشیا کا قومیانا جس کا انھوں نے بائیکاٹ کیا۔

شمال مشرق(The North East)

آزادی کے حصول کے بعد حکومت ہند نے ریاستوں کی تشکیل کا جو عمل شروع کیا اس نے اس علاقے کے سبھی اہم پہاڑی علاقے کے اضلاع میں انتشاری رجحانات پیدا کیے۔ اپنی الگ شناخت اور روایتی خود مختاری کے تئیں باشعور یہ ذاتیں آسام کے انتظامی مشینری میں شامل کیے جانے کے بارے میں غیر یقینی تھیں۔
اسی طرح اس علاقہ میں نسلیت کا عر وج ایک اجنبی طاقتور نظام کے ساتھ قبیلے کے ربط میں آنے کے نتیجے میں ہوا جو نئی صورت حال کا سامنا کرنے کا جوابی عمل تھا۔ ہندوستانی اصل دھارا سے کافی عرصے تک علاحدہ رکھنے کے سبب یہ قبائلی اپنے عالمی نظریات اور سماجی و ثقافتی اداروں کو بیرونی اثرات سے بہت کم بچا کررکھ پائے ۔۔۔۔ جب کہ پہلے مرحلے میں الگ رہنے کا رجحان دکھائی دیا، ہندوستانی آئین کے ڈھانچے میں خود مختاری کی تلاش کے ذریعہ یہ رجحان تبدیل ہوا۔            (نانگبری 2003:115)
ایک خاص مسئلہ جو ملک کے مختلف حصوں کی قبائلی تحریکوں کو جوڑتا ہے، قبائلی لوگوں کی جنگلاتی زمینوں سے بے دخلی ہے۔ اس معنی میں ماحولیاتی امورقبائلی تحریکوں کے مرکز میں ہیں۔اسی طرح شناخت کے ثقافتی اور معاشی امور جیسے عدم مساوات وغیرہ بھی ہیں۔ یہ ہمیں ہندوستان میں قدیم اور نئی سماجی تحریکوں کے بارے میں ابہام کے سوال کی طرف واپس لے جاتا ہے۔

8.8خواتین کی تحریک(The Womens Movement)

19 ویں صدی کی سماجی اصلاحی تحریکیں اور ابتدائی خواتین تنظیمیں(The 19th Century Social Reform Movements and Early Womens Organisations)

آپ 19ویں صدی کی سماجی اصلاحی تحریکوں سے بخوبی واقف ہیں جنھوں نے عورتوں سے متعلق کئی امورپیش کیے۔ اس کتاب کے باب 2اور پہلی کتاب میں بھی انھیں اٹھایا گیاہے۔ 20ویں صدی کی ابتدا میں قومی اور مقامی سطح پر خواتین کی تنظیموں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ویمنس انڈیا ایسوسی ایشن (1971,WIA)، آل انڈیا ویمنس کانفرنس (1926, AIWC)، نیشنل کونسل فارویمن ان انڈیا (1925, NCWI)، چندایسے نام ہیں جنھیں بیان کیا جا سکتا ہے جب کہ ان میں سے کئی کی شروعات محدود دائرہ عمل میں ہوئی ان میں وقت کے ساتھ ساتھ وسعت پیدا ہوئی۔ مثال کے طورپر ابتدا میں اے آئی  ڈبلیو ای کا خیال تھاکہ خواتین بہبود اور سیاست باہمی طورپرمتعلق نہیں ہیں۔ چندسال بعد ہی اس کے صدارتی خطاب میں بیان کیا گیا۔ کیاہندوستانی مرد یا عورت آزاد ہو سکتے ہیں۔اگر ہندوستان غلام رہتا ہے؟ ہم اپنی قومی آزادی کے بارے میں کیسے خاموش رہ سکتے ہیں جو کہ سبھی عظیم اصلاحات کی بنیاد ہے۔
دلیل دی جا سکتی ہے کہ سرگرمی کایہ دور سماجی تحریک نہیں تھا ۔ اس کی مخالفت بھی کی جا سکتی تھی۔ آئیے ہم ان خصوصیات کو یاد کریں جو سماجی تحریکوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں تنظیم، نظریات، قیادت، ایک ساجھا سمجھ اور عوامی امور پہ تبدیلی لانے کا ہدف تھا مجموعی طور پر ایک ایسا ماحول بنانے میں کامیاب ہوئیں جہاں عورتوں کے امور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

9
شمالی پہاڑیوں کی ایک خاتون جس کا نام گفیالوتھا، اس نے سول نافرمانی تحریک میں حصہ لیا۔

زرعی جدو جہد اور بغاوتیں(Agrarian Struggles And Revolts) 

اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ صرف متوسط طبقے کی تعلیم یافتہ خواتین ہی سماجی تحریکوں میں شریک ہوتی ہیں۔ جدو جہد کا ایک حصہ کو عورتوں کی شرکت کیگم گشتہ تاریخ کو یاد کرناہے۔ نو آبادیاتی دور میں قبائلی اور دیہی علاقوں میں ہونے والی جدوجہد اور بغاوتوں میں عورتوں نے مردوں کے ساتھ حصہ لیا۔ بنگال میں تبھاگا تحریک، نظام کے سابقہ حکومت میں تلنگانہ مسلح جدوجہد اور مہاراشٹر میں وری قبائل کا بندھوا مزدوری کے خلاف بغاوت چندمثالیں ہیں۔

1947کے بعد(Post-1947)

ایک سوال جو اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر 1947سے پہلے خواتین تحریک ایک سرگرم تحریک تھی تو بعد میں اس کا کیا ہوا۔ اس کی توضیح یہ کی جاتی ہے کہ قومی تحریک میں حصہ لینے والی بہت سی شریک خواتین قوم کی تعمیر میں لگ گئیں۔ بعض دوسرے تقسیم کے المیے کو اس جمودکا  ذمہ دار مانتے ہیں۔
1970کی دہائی کے وسط میں ہندوستان میں تحریک نسواں کی تجدید ہوئی۔ چند لوگ اسے ہندوستانی تحریک نسواں کا  دوسرا دور کہتے ہیں جب کہ بہت سے موضوعات سے اسی طرح بنے رہے پھر بھی تنظیمی حکمت عملی اور نظریات میں تبدیلی ہوئی۔ خود مختار تحریک نسواں کہی جانے والی تحریکوں میں اضافہ ہوا۔ خود مختاری اصطلاح اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ ان خواتین تنظیموں سے جن کے سیاسی پارٹیوں سے متعلق تھے سے مختلف یاخود مختار یا سیاسی پارٹیوں سے آزاد تھیں۔ یہ محسوس کیا گیا کہ سیاسی پارٹیاں عورتوں کے امور کو الگ رکھنے کا رجحان رکھتی ہیں۔
تنظیمی تبدیلیوں کے علاوہ چند نئے بھی تھے جن پرتوجہ مبذول کی گئی۔ مثال کے طورپرعورتوں کے تئیں تشدد کے بارے میں سالوں سے متعدد تحریکیں چلائی گئی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اسکول کی درخواست میں ماں اور باپ دونوں کے نام ہوتے ہیں یہ ہمیشہ سے نہیں تھا۔ اسی طرح خواتین کی تحریکوں کے سبب اہم قانونی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ زمین کی ملکیت اور روزگار کے امور پر لڑائی جنسی استحصال اور جہیز کے خلاف حقوق کی مانگ کے ساتھ لڑی گئی ہے۔

10
جہیز مخالف جدوجہد
11
شاہ جہاں بیگم ایپ اپنی بیٹی کے فوٹوکے ساتھ جس کا جہیز کے سبب قتل کیا گیا۔


اس بات کو تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ سبھی عورتیں کسی نہ کسی طرح مردوں کے مقابلے میں سہولتوں سے زیادہ محروم ہیں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ سبھی عورتوں کے ساتھ ایک ہی قسم کا امتیاز نہیں ہوتا۔ تعلیم یافتہ عورتوں کی فکر کسان عورتوں سے اسی طرح مختلف ہے جس طرح ایک دلت عورت کی فکر ایک اعلیٰ ذات کی عورت سے۔ آئیے اس تشدد کی مثال دیکھیں۔
اس بات کو بھی اب تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ عورتیں اور مرددونوں ہی غالب جنسی شناختوں سے دوچارہوتے ہیں۔مثال کے طورپرپدر اقتداری سماج میں مردوں کو لگتا ہے کہ انھیں طاقتور اورکامیاب ہونا چاہیے۔ یہ مردانگی نہیں ہے کہ کوئی خود کا جذباتی اظہار کرے۔ تب یہ خیال آتا ہے کہ عورتوں اور مردوں دونوں کو آزادی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ بلاشبہ یہ اس خیال پر منحصر ہے کہ حقیقی آزادی کو بڑھانے اور فروغ دینے کا کام اسی وقت ممکن ہوگا جب بے انصافیوں کا خاتمہ ہو۔جنسی اعتبار سے مساوی سماج عام طور پر دو چیزوں پر قائم ہے۔ خواتین کو تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ وہ کثیر مقاصد والے کردار کو بخوبی نبھا سکیں اور جنسی تناسب کا توازن حال ہی میں حکومت ہند کی ’’بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ‘‘ مہم ایک اہم قدم ہے جو جنسی اعتبار سے متوازن سماج حقیقی روپ دینے میں معاون ہوگا۔ 
باکس 8.13

بڑے پیمانے پر بے روزگار، ماحولیاتی تنزلی اور بے قابو غربت کے سامنے ملک میں سیاسی سرگرمی کی ایک نئی ہلچل شروع ہوئی۔ بعض  معاملوں میں جدوجہد کی شروعات مختلف پارٹیوں کے محاذ سے یا مختلف پارٹیوں کے مشترکہ محاذ کے ذریعہ ہوئی۔ دوسری طرح کی کارروائی کی ایک مثال 60کی دہائی کے آخر میں ممبئی اور گجرات میں چلائی گئی تحریک ہے جو قیمت کے اضافے کی مخالفت میں چلی تھی۔

70کی دہائی میں ہی بحران میں مبتلا بہار میں طلبا میں زبر دست بے اطمینانی پیدا ہوئی ۔۔۔ جس نے  جے پرکاش نارائن کے مکمل انقلاب کی دعوت کو لبیک کہا تھا۔۔۔۔ اقتدار کی ساخت کے بارے میں بہت سے سوال اٹھائے گیے، جس میں کئی امور عورتوں سے متعلق تھے جیسے خاندان، کام کی تقسیم اور فیملی تشدد، مردوں اور عورتوں کے ذریعہ وسائل کی غیر مساوی رسائی، عورتوں اور مردوں کے رشتوں سے متعلق امور اور عورتوں کے جنسی امتیاز کا سوال 70کی دہائی میں ہی خود مختار تحریک نسواں کاعرو ج دیکھا گیا ہے۔

 70کی دہائی کے وسط میں کئی تعلیم یافتہ خواتین سرگرم سیاست میں شامل ہوئیں اورعورتوں کے امور کے تجزیے کو بھی فروغ دیا۔ کئی شہروں میں عورتوں کے گروہ کی یکجائی نے ان میٹنگوں کو تنظیمی کو ششوں کی ٹھوس شکل فراہم کرنے میں محرک کردار کا کام کیا وہ تھے متھرازنا بالجبر معاملہ (1978)اور مایا تیاگی زنا بالجبر معاملہ (1980)۔دونوں ہی معاملے پولیس کی سرپرستی میں انجام دیے گئے جن سے ملک گیر احتجاجی تحریکیں برپا ہوئیں۔۔۔۔ 

ماخذ: الیناسین سبق’’ ویمنس پولیٹکس ان انڈیا‘‘ میتریہ چودھری (ادارت) فیمینزم ان انڈیا(ویمن ان لمیٹیڈ / کالی ، نئی 2004)       صفحہ 187-210

باکس 8.14

عورتوں کے خلاف تشدد کے برتاؤ کاتجزیہ ذات کے مطابق یہ دکھا ئے گا کہ جب غالب پر تشدد اعلیٰ ذاتوںمیں جہیز کے لیے قتل اور خاندان کے ذریعہ حرکت پذیر ی پرکنٹرول اور ضوابط نیزجنسی امتیاز کے واقعات بار بار ہوتے ہیں وہیں دلت عورتوں کو کام کے مقامات زنا بالجبر اور جسمانی تشدد کی اجتماعی اور انفرادی چیلنج کا سامنا نسبتاً زیادہ کرنا پڑتا ہے۔

ماخذ: شرمیلا ریگے، ’’دلت وومن ٹاک ڈیفرنٹلی: اے کرٹیک (Critique) آف ڈیفرنس اینڈ ٹو ورڈس اے دلت فیمنسٹ (Critique) اسٹینڈپوائنٹ پوزیشن‘‘ متیریہ چودھری (ادارت) فیمینزم ان انڈیا(صفحہ 211-223) (وومن ان لمٹیڈ /کالی، دہلی 2004) 


باکس 8.14کے لیے مشق

غور کریں کہ عورتوں کے ایک طبقے کا دیگر طبقوں کے ساتھ تعلق کس طرح مختلف ہو سکتا ہے؟
کیا پھر بھی سبھی عورتوں میں بحیثیت خواتین چندباتیں مشترکہ ہوں گی، بحث کریں؟

8.9 خلاصہ 

اب جب ہم کتاب کے آخر میں پہنچ چکے ہیں شاید یہ موزوں ہوگا کہ ہم پھر وہاں واپس جائیں جہاں ہم نے گیارھویں جماعت میں سماجیات کی پہلی کتاب سے شروعات کی تھی۔ سماجی تحریکیں غالباً اس رشتے کو زیادہ بہتر ڈھنگ سے دکھاتی ہیں۔ یہ اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ افراد اور سماجی گروہ اپنی حالتوں کو بدلنا چاہتے ہیں اس لیے وہ خود کو اور سماج کو دونوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوالات

ایک ایسے سماج کا تصور کیجیے جہاں کوئی سماجی تحریک نہ ہو ئی ہو،بحث کریں۔ایسے ممالک کا تصور آپ کیسے کرتے ہیں؟ اس کا بھی آپ بیان کر سکتے ہیں۔
درج ذیل پر مختصر نوٹ تحریر کریں
تحریک نسواں
قبائلی تحریکیں
ہندوستان میں قدیم جدید سماجی تحریکوں میں واضح امتیاز کرنا مشکل ہے۔ بحث کریں۔
ماحولیاتی تحریک اکثر معاشی اورشناختی امور کو بھی ساتھ لے کر چلتی ہے۔ بحث کریں۔
کسان اور نئی کسان تحریکوں کے درمیان فرق کیجیے۔

حوالہ جات(References)

Banerjee, Sumanta. 2002. ‘Naxalbari and the Left Movement’ in ed. Ghanshyam Shah, Social Movements and the State 2002. pp. 125-192. Sage. New Delhi.
Bhowmick, Sharit K. 2004. ‘The Working Class Movement in India : Trade Unions and the State’ in Manoranjan Mohanti Class, Caste and Gender. Sage. New Delhi.
Chaudhuri, Maitrayee. 1993. The Indian Women's Movement: Reform and Revival, Rediant. New Delhi.
Chaudhuri, Maitrayee.2014.''Theory and Methods in Indian Sociology" in Yogendra Singh" Indian Sociology: Emerging concepts, Structure and change, Oxford University Press, New Delhi.
Fuchs, Martin and Antje, Linkenbach. 2003. ‘Social Movements’ in ed. Veena Das, The Oxford India Companion to Sociology and Social Anthropology. pp. 1524-1563. Delhi. 
Deshpande, Satish. 2003. Contemporary India: A Sociological View. Viking. New Delhi.
Giddens, Anthony. 2013. Sociology (Seventh edition). Polity. Cambridge.
Guha, Ramchandra. 2002. “Chipko: Social History of an Environmental Movement” in Shah Ghansyam  Social Movements and the State. Sage. New Delhi.
Nongbri, Tiplut. 2003. Development. Ethnicity and Gende: Select Essays on Tribes. Rawat. Jaipur/New Delhi.
Nongbri, Tiplut. 2013. "Kinship rerminology and Marriage Rules: The Khasis of North East India in Sociological Bulletin, New Delhi.
Oommen, T.K. 2004. Nation, Civil Society and Social Movements: Essays in Political Sociology. Sage. New Delhi.
Rege, Sharmila.  2004. ‘Dalit Women Talk Differently: A Critique of ‘Difference’ and Towards a Dalit Feminist Standpoint Position’ in Maitrayee Chaudhuri Ed. Feminism in India. pp.211-223. Women Unlimited/Kali. Delhi.
– 2006. Writing caste/writing gender: narrating dalit women’s testimonies.  Zubaan/Kali. Delhi.
Sen, Ilina. 2004. ‘Women’s Politics in India’ in ed. Maitrayee Chaudhuri Feminism in India Women. Unlimited/Kali. Delhi.
Shah, Ghansyam Ed. 2001. Dalit Identity and Politics . Sage. New Delhi. 
– 2002. Social Movements and the State. Sage. New Delhi.