
8سماجی تحریکیں
باکس 8.1
ہمہ گیربالغ حق رائے دہی
ہمہ گیربالغ حق رائے دہی یا ہر ایک بالغ کو ووٹ دینے کا حق ہندوستانی آئین کے ذریعہ دیے گئے اہم حقوق میں ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر حکمرانی خود اپنے جیتے ہوئے نمائندوں کے علاوہ کسی بھی دیگر فرد کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی۔ یہ حق نو آبادیاتی حکومت کے دنوں سے بنیادی طورپر مختلف ہے جب افراد کو برطانوی کراوُن کی نمائندگی کرنے والے نو آبادیاتی حکومت کے افسران کی اطاعت کے لیے مجبور ہونا پڑتاتھا حالانکہ برطانیہ میں سبھی کو حق رائے دہی نہیں حاصل تھا۔ حق رائے دہی جائیداد کے مالکوں تک ہی محدود تھی۔ چار ٹرازم انگلینڈ میں پارلیمانی نمائندگی سے متعلق ایک سماجی تحریک تھی۔ 1839میں 1.25ملین سے زیادہ افراد نے عوامی چارٹر پر دستخط کر کے ہمہ گیر بالغ حق رائے دہی، بیلٹ کے ذریعہ ووٹ اور جائیداد کی ملکیت کے بغیر بھی انتخاب میں کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا۔ 1892میں مذکورہ تحریک نے 3.25ملین دستخط یکجاکیے جو ایک چھوٹے ملک کے لیے بہت بڑی تعداد تھی۔ تاہم پہلی جنگ عظیم کے بعد بھی 1918میں 21سال سے زائد عمر کے سبھی مردوں، 30سال سے زائدعمر کی شادی شد ہ خواتین، گھر کی ملکیت رکھنے والی خواتین گریجویٹ عورتوں کو ووٹ دینے کا حق ملا۔ خواتین کے لیے حق رائے دہی طلب کرنے والی تحریک کی حامی خواتین (Suffragettes)(خواتین کارکن )نے سبھی بالغ خواتین کے لیے حق رائے دہی کا معاملہ اٹھایا تو ان کی سخت مخالفت ہوئی اوراس تحریک کو پرُ تشدد طورپر کچل دیا گیا۔
سرگرمی 8.1
سرگرمی 8.2
8.1سماجی تحریک کی خصوصیات(Features of a Social Movement)
سرگرمی8.3
باکس 8.2
ستیا گرہ کی ایک جھلک
ہندوستان کی قومی تحریک کے دوران غیر ملکی اقتدار اور پونجی کی وابستگی سماجی احتجاج کا مرکزی نقطہ تھا۔مہاتما گاندھی نے ہندوستان میں کپاس اگانے والوں اور بنکروں کے ذریعہ معاش جو مل میں تیار کپڑوں کی حکومتی تائید کی پالیسی سے ختم ہوگیا تھا، کی حمایت میں ہاتھ سے کاتا گیااور بنا ہوا کپڑا کھادی زیب تن کیا۔نمک بنانے کے لیے تاریخ ساز ڈانڈی مارچ انگریزوں کی ٹیکس کاری پالیسیوں جس میں صَرفہ کی بنیادی اشیا کے صارفین پر سامراج کو فائدہ پہنچانے کے لیے بار ڈالاگیاتھا، کے خلاف ایک احتجاج تھا۔ گاندھی جی نے روزانہ کی عوامی صَرفہ کی چیزوں جیسے کپڑا اور نمک کو منتخب اور انھیں احتجاج کی علامت بنا دیا۔

باکس 8.3
ویمل دادا صاحب مورے(1970)
پاردھی کمیونٹی میں پیدا ہوئے انکش کالے کی ایک میٹنگ میں تقریر
پاردھی بہت ماہر شکاری ہوتے ہیں پھر بھی سماج ہمیں صرف مجرموں کے طورپر پہچانتا ہے۔ ہماری کمیونٹی کو چوری کے الزام میں پولیس کا ظلم برداشت کرناپڑتا ہے۔ گاؤں میں جب بھی کوئی چوری ہوتی ہے ہمیں ہی حراست میں لیاجاتا ہے۔ پولیس ہماری عورتوںکا استحصال کرتی ہے اور ہمیں ان کی بے عزتی دیکھنی پڑتی ہے۔ سماج ہمیں دور رکھنا چاہتا ہے کیونکہ ہمیں چور کہا جاتا ہے، لیکن کیا کبھی لوگوں نے ہمارے بارے میں سوچا ہے؟ ہماری قوم کے لوگ چوری کیوں کرتے ہیں؟یہی وہ سماج ہے جس نے ہمیں چور بننے پر مجبور کیا۔ وہ کبھی ہمیں کام پر نہیں رکھتے کیونکہ ہم پاردھی ہیں ۔
ماخذ: شرمیلا ریگے، رائٹنگ کاسٹ/رائٹنگ جینڈر نر ریٹنگ دلت ویمنس ٹیسٹی موئنیز (زبان /کالی، نئی دہلی 2006)
باکس8.3کے لیے مشق
سماجی تبدیلی اور سماجی تحریکوں میں فرق(Distinguishing Social Change and Social Movement)
8.2 سماجیات اور سماجی تحریکیں(Sociology and Social Movements)
سماجی تحریکوں کا مطالعہ سماجیات کے لیے کیوں اہم ہے؟(Why the study of social movements is important for sociolog؟)
سماجی تحریکوں کے نظریات(Theories of social movement)
سرگرمی 8.4
باکس 8.4
جنوبی ایشیا میں غریب عورتوں پر کیے گئے سروے میں دکھایا گیا ہے کہ انھیں اپنی بچت میں سے کچھ رقم اپنے شوہروں کو شراب نوشی کے لیے دینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا تب انھوں نے دو جگہوں پر رقم محفوظ کرنے کا ایک طریقہ نکال لیا۔ جب انھیں اپنی محنت سے بچائی گئی رقم کو دینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا تھا تو وہ اسے خفیہ جگہوں میں سے نکال لیتی تھیں اور اسی طرح دوسری جگہ رقم کو بچا لیتی تھیں۔
باکس 8.4 کے لیے مشق
8.3سماجی تحریکوں کی اقسام(Types of social movements)
درجہ بندی کا ایک طریقہ : اصلاحی، نجات پانے کا، انقلابی(One way of classifying reformist, redemptive, revolution)
سرگرمی 8.5
درجہ بندی کی ایک اورقسم : پرانی اور نئی(Another way of classifying:old and new)

نئی سماجی تحریکوں کا قدیم تحریکوں سے امتیاز(Distinguishing the social movement from the old social movements)
کیا ہم قدیم و جدید سماجی تحریکوں کی تفریق کا اطلاق ہندوستانی سیاق وسباق میں کر سکتے ہیں؟(Can we apply the distinction between old and new social (movements in the Indian Contex
8.4ماحولیاتی تحریکیں(Ecological Movements)

سرگرمی8.6

باکس8.5
چپکو تحریک
1970کی غیر معمولی بارش میں تباہ کن سیلاب آیاجوہماری یادداشت میں تازہ ہے۔الک نندہ وادی میں پانی نے 100مربع کلومیٹر زمین کو ڈبودیاتھا، 6دھاتی پلوں،10کلومیٹر کی موٹر سڑک،24بسوںاوردیگر بہت سی گاڑیوں کو بہادیا،366گھر گر گئے اور500ایکڑ دھان کی کھڑی فصل برباد ہوگئی۔ انسانوں اورجانوروں کی کئی زندگیاں ختم ہوگئیں۔
…1970کا سیلاب خطے کی ماحولیاتی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی نشان دہی کرتا ہے۔گاؤں والے جنھوں نے تباہی کی مار برداشت کی تھی، اب جنگلوں کی اندھادھند کٹائی،زمینوں کے کھسکنے اورسیلاب کے درمیان اب تک کے نازک رشتوں کو سمجھنے لگے تھے۔یہ دیکھا گیا کہ وہ گاؤں جو زمین یا چٹان کے گرنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے براہ راست ان جنگلوں کے نیچے واقع تھے جہاں درختوں کی کٹائی کی گئی تھی۔
…گاؤں والوں کا معاملہ چمولی ضلع میں واقع ایک کوآپریٹیوتنظیم وشوی گرام سوراج سنگھ(DGSS)نے اٹھایا۔
…ان ابتدائی احتجاج کے باوجود حکومت نے نومبر میں جنگلوں کی سالانہ نیلامی کردی۔دی جانے والی قطعہ زمین میں سے ایک زمینی جنگل تھا۔
…ٹھیکے دار کے آدمیوں نے،جو جوشی مٹھ سے رینی جارہے تھے،رینی سے پہلے ہی بس رکوائی۔گاؤں کے باہر سے ہی وہ جنگل کی طرف جارہے تھے۔ایک چھوٹی لڑکی،جس نے مزدوروں کو ان کے اوزاروں کے ساتھ دیکھا تھا،بھاگ کر گاؤں کی مہیلامنڈل کی سربراہ گوری دیوی کے پاس گئی۔گوری دیوی نے تیزی کے ساتھ دیگر گھروالیوں کو اکٹھاکیا اورجنگل جاپہنچیں۔جب انھوں نے مزدوروں سے کٹائی کاکام نہ شروع کرنے کی درخواست کی تو شروع میں انھیں گالیاں اوردھمکیاں ملیں۔جب عورتوں نے جھکنے سے انکار کردیا تو ان آدمیوں کو آخر کار وہاں سے جانا پڑا۔
باکس8.5کے لیے مشق
باکس8.6
ہمارے موجودہ اطلاعاتی دور میں پوری دنیا کی سماجی تحریکیں غیر سرکاری تنظیموں، مذہبی اورانسانیت پرست گروہوں،انسانی حقوق کی انجمنوں،صارف تحفظ کی وکالت کرنے والوں، ماحولیاتی تحریک کاروں اورمفادعامہ کے لیے مہم جوئی کرنے والے دیگر لوگوں پر مشتمل ایک بڑے علاقائی اوربین الاقوامی نیٹ ورک میں یکجا ہونے کی اہل ہیں…مثال کے طورپرسیٹل(seattle)میں عالمی تجارتی تنظیم کے خلاف ہونے والے زبردست مظاہرے کو جزوی طورپر انٹرنیٹ پر مبنی نیٹ ورک کے ذریعہ منظم کیاگیا تھا۔
باکس 8.6کےلیے مشق
درج بالا متن کو پڑھیں اور بحث کریں کہ کس طرح سماجی تحریکیں بھی عالم گیر ہو جاتی ہیں ۔ ٹکنا لوجی اس میں کس طرح مددگار ہوتی ہے؟ سماجی تحریکوں کے ذریعہ ادا کئے جانے والے کردار میں کس طرح تبدیلی پیدا کرتی ہیں؟
8.5 طبقے پر مبنی تحریکیں(Class Based Movements)
کسان تحریکیں(Peasants Movements)
سرگرمی8.7
باکس8.7
سلی گوڑی سب ڈویژن کے کسانوں کا اجلاس ایک عظیم کامیابی ثابت ہوا۔اپنی سابقہ تشدد پسند جدوجہد کے ذریعہ کسانوں کا حوصلہ بڑھااورانھیں تقویت مل چکی تھی۔وہ آگے کے لیے کافی پُرامید تھے۔جوتے داروں کے کھیتوں میں دھوپ اوربارش کے دوران شدید محنت کے معمولات سے مزدوروں کے مرجھائے اوربجھے بجھے چہروں پر امید اورحقیقت کی سمجھ سے چمک سی پیداہوگئی تھی۔کانوسانیال کے بعد کے دعوؤں کے مطابق مارچ سے اپریل1967تک سبھی گاؤں والے منظم ہوچکے تھے۔15,000سے20,000 تک کسانوں کا کل وقتی کارکنان تحریک کے طورپر اندراج ہوا۔ہر ایک گاؤں میں کسان کمیٹیاں بنیں اورانھوں نے مسلح گارڈ کی حیثیت اختیار کرلی۔انھوں نے جلد ہی زمینوں کو کسان کمیٹیوں کے نام سے زیرتصرف کرلیا،زمین کے ان سبھی ریکارڈوں کو جلادیا گیا جن کی بنیادپر انھیں ان کے واجبات سے محروم رکھاجاتا تھا،گروی رکھ لیے گئے سبھی قرضوں کو ردکردیا گیا،ظالم زمین مالکوں کے لیے موت کی سزاکا اعلان کیاگیا، زمین مالکوں سے بندوقیں چھیننے کے لیے مسلح ٹولیوں کی تشکیل کی گئی۔اپنے آپ کو روایتی ہتھیاروں جیسے تیر،کمان اوربھالے وغیرہ سے لیس کیاگیا اورگاؤں کی نگہبانی کے لیے متوازی انتظامیہ کی تشکیل کی گئی…
ماخذ:سمنتا(Sumanata) بنرجی:نکسل باری اینڈدی لیفٹ مومینٹ(ادارت)گھنشیام شاہ، سوشل مومینٹ اینڈ دی اسٹیٹ (سیج (Sage)، دہلی2002)، صفحہ 192-125
باکس8.8
گوریلا تحریک 24نومبر 1968کو گوڈاپادو کے قریب کے میدانی علاقے میں گروڑ بھورا میں ایک امیر زمین مالک کی زمین پر فصل کو جبراً کٹوانے کے ذریعہ شروع ہوئی۔ زیادہ مؤثر کارروائی وہ تھی جو دوسرے دن پہاڑی علاقے میں ہوئی جب پاروتی پورم ایجنسی علاقے کے پونڈ اگواتلی گاؤں میں بہت سے گاؤں کے تقریباً 250 گری جنوں نے تیر،کمان اور بھالوں سے زمین مالک اور مہاجن۔۔۔۔ کے گھر پر یورش کردی اور اس کے جمع کیے ہوئے دھان، چاول اور دیگر غذائی اشیا اور 20,000 روپیے کے بقدرجائیداداوردستاویزات پر قبضہ کر لیا۔
باکس 8.7اور 8.8کے لیے مشق
مزدوروں کی تحریک(Workers Movements)

سرگرمی 8.8
8.6ذات پر مبنی تحریکیں(Caste Based Movements)
دلت تحریک(The Dalit Movement)

سرگرمی 8.9
باکس 8.9
اپنے ساتھی مہاروں پر ایک نا معلوم شاعری کی شاعری (1890کی دہائی)۔
ان کے گھر گاؤں سے باہر ہیں
ان کی عورتو ں کے بالوں میں جوئیں ہیں
ننگے بچے کوڑے میں کھیلتے ہیں
وہ سڑا ہوا گوشت کھاتے ہیں
اچھوت لوگوں کے چہرے پر عاجزی سی دکھائی دیتی ہے
ان میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔
وہ گاؤں کی دیویوں اور دیتیہ دیوتاؤں کے نام سے ہی واقف ہیں۔
لیکن برہما کا نام انھیں نہیں معلوم۔
باکس8.10
ماہرین سماجیات کے ذریعہ دلت تحریکوں کو درجہ بند کرنے کی کوشش سے یہ مانا جانے لگا ہے کہ وہ سبھی اقسام جیسے اصلاحی، نجات دہی اور انقلاب سے متعلق ہیں۔
…ذات مخالف تحریک جو 19ویں صدی میں جیوتی باپھولے کی تحریک سے غیربرہمن تحریک کی شکل میں مہاراشٹر اور تملناڈو میں آگے بڑھائی گئی اور جسے ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں فروغ ملا جس میں سبھی طرح کی خصوصیات تھیں۔ سماج کی اصلاح میں یہ زیادہ بہتر طورپر انقلابی اور افراد کے حوالے سے نجات دینے والی تھی۔ جزوی سیاق وسباق میں مابعد امبیڈکر دلت تحریکوں میں انقلابی عمل رہا ہے۔ اس نے زندگی کے متبادل طریقے فراہم کیے جو بعض نکات پر بنیادی اور ہمہ گیر تھے جس میں رویّے میں تبدیلیوں جیسے گائے کا گوشت کھانے کو ترک کرنے سے لے کر مذہب کی تبدیلی تک سبھی کچھ شامل تھا۔ یہ پورے سماج کو تبدیل کرنے پر مرکوز تھا،ذات کی بنیاد پر ہونے والے ظلم اور معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بنیادی انقلابی ہدف سے درج ذات کے ممبران کو سماجی حرکت پذیری فراہم کرنے کے محدود ہدف تک شامل تھا۔
لیکن مجموعی طورپر ۔۔۔۔۔۔ یہ تحریک ایک اصلاحی تحریک رہی ہے۔ اس نے ذات کی بنیادپرحرکت پذیری فراہم کی لیکن ذات کو نابود کرنے کے لیے صرف بے دلی سے کوشش کی گئی۔ اس میں کوشش کر کے کچھ حقیقی لیکن محدود سماجی تبدیلی حاصل کی گئی خاص طورپر دلتوں میں تعلیم یافتہ طبقوں کے لیے یہ اب تک اطمینان بخش طورپر دنیا میں سب سے زیادہ غریب عوام کی انسداد غربت کے لیے سماج کی کایا پلٹ میں ناکام رہا ہے۔
باکس8.10کے لیے مشق
پسماندہ طبقات سے متعلق ذاتوں کی تحریکیں(Backward Class Castes Movements)
باکس8.11
بنیادی حقوق، اقلیتوں وغیرہ کے مسئلے پر صلاح کار کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کرتے ہوئے جی بی پنت نے اپنی تقریر میں درج ذیل خیالات کا اظہار کیا۔ہمیں دبائے ہوئے طبقات، درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ طبقات کی خصوصی نگہداشت کرنی ہوگی۔انھیں عام سطح پر لانے کے لیے ہم جوکر سکتے ہیں اسے ضرور کرنا چاہیے۔ زنجیر کی طاقت کی پیمائش اس کی سب سے زیادہ کمزور کڑی کے ذریعہ کی جاتی ہے، اور اس لیے جب تک سب سے کمزور کڑی کو طاقتور نہیں بنایا جاتا تب تک ہمیں ایک صحت مندانہ سیاست نہیں حاصل ہوگی۔
2019میں حکومت ہند نے تعلیم میں 10فیصدی ریزرویشن اور معاشی سطح پر کمزور لوگوں کے لیے جنرل کیٹیگری میں
بھی دیا گیا ہے۔ یہ کیسے ہے؟ اس پر بحث کیجئے۔
اونچی ذات کاردّعملThe Upper Caste Response)
باکس8.12
نہرو کے دور میں پیدا ہونے والی نسلوں نے ذات کو ایک قدیم گذرے ہوئے تصور کے طور پر دیکھا۔ ذات کا نظریہ اس نئے متوسط طبقے پر بالخصوص حاوی تھا جسے (جیسے کہ میں) اپنی روایتی اعلیٰ ذات کی حیثیت کا طویل تجربہ تھا لیکن جو حال ہی میں نئے شہری اور پروفیشنل مڈل طبقاتی ماحول میں شامل ہوئے تھے۔ اس نئے متوسط طبقاتی ماحول میں پرورش پائے ہوئے مجھ جیسے لوگوں کی ذات ایک گذری ہوئی چیز تھی۔ مانا کہ رسمیات کے مواقع پر خاص کر شادی وغیرہ کی تقاریب میں اسے کسی پرانے صندوق سے جھاڑ پوچھ کر نکالی گئی بھولی بسری شے کی طرح پیش کیا جاتاتھا لیکن ہمیں نہیں لگتاکہ شہری روز مرہ زندگی میں ذات کا اتنا فعال کردار ہے۔
اب جاکر یوں کہیے کہ منڈل کے بعد ہمیں یہ سمجھ میں آنے لگا ہے کہ شہری متوسط طبقے کے ضمن میں ذات تقریباً غائب سی کیوں تھی۔ سب سے اہم وجہ بے بسی بھی ہے کہ اس سیاق وسباق میں اونچی ذاتوںکا زبردست دبدبہ تھا۔ اس ہم جنسیت نے ذات کو سماجی بصارت کی سطح کے نیچے دبا کر آنکھوں سے اوجھل کر دیا۔ اگر آپ صرف اپنی ہی برادری کے لوگوں سے محصورہوں تو ذات کی شناخت کا سوال ہی نہیں اٹھے گا، ٹھیک اسی طرح جیسے غیرملک میں رہتے ہوئے ہمیں ہندوستانی ہونے کا ہمیشہ خیال رہتا ہے لیکن ہندوستان میں رہتے ہوئے ہم اسے فراموش کردیتے ہیں (دیش پانڈے 2003:99)
8.7قبائلی تحریکیں(The Tribal Movements)

جھارکھنڈ(Jharkhand)
شمال مشرق(The North East)
8.8خواتین کی تحریک(The Womens Movement)
19 ویں صدی کی سماجی اصلاحی تحریکیں اور ابتدائی خواتین تنظیمیں(The 19th Century Social Reform Movements and Early Womens Organisations)

زرعی جدو جہد اور بغاوتیں(Agrarian Struggles And Revolts)
1947کے بعد(Post-1947)


باکس 8.13
بڑے پیمانے پر بے روزگار، ماحولیاتی تنزلی اور بے قابو غربت کے سامنے ملک میں سیاسی سرگرمی کی ایک نئی ہلچل شروع ہوئی۔ بعض معاملوں میں جدوجہد کی شروعات مختلف پارٹیوں کے محاذ سے یا مختلف پارٹیوں کے مشترکہ محاذ کے ذریعہ ہوئی۔ دوسری طرح کی کارروائی کی ایک مثال 60کی دہائی کے آخر میں ممبئی اور گجرات میں چلائی گئی تحریک ہے جو قیمت کے اضافے کی مخالفت میں چلی تھی۔
70کی دہائی میں ہی بحران میں مبتلا بہار میں طلبا میں زبر دست بے اطمینانی پیدا ہوئی ۔۔۔ جس نے جے پرکاش نارائن کے مکمل انقلاب کی دعوت کو لبیک کہا تھا۔۔۔۔ اقتدار کی ساخت کے بارے میں بہت سے سوال اٹھائے گیے، جس میں کئی امور عورتوں سے متعلق تھے جیسے خاندان، کام کی تقسیم اور فیملی تشدد، مردوں اور عورتوں کے ذریعہ وسائل کی غیر مساوی رسائی، عورتوں اور مردوں کے رشتوں سے متعلق امور اور عورتوں کے جنسی امتیاز کا سوال 70کی دہائی میں ہی خود مختار تحریک نسواں کاعرو ج دیکھا گیا ہے۔
70کی دہائی کے وسط میں کئی تعلیم یافتہ خواتین سرگرم سیاست میں شامل ہوئیں اورعورتوں کے امور کے تجزیے کو بھی فروغ دیا۔ کئی شہروں میں عورتوں کے گروہ کی یکجائی نے ان میٹنگوں کو تنظیمی کو ششوں کی ٹھوس شکل فراہم کرنے میں محرک کردار کا کام کیا وہ تھے متھرازنا بالجبر معاملہ (1978)اور مایا تیاگی زنا بالجبر معاملہ (1980)۔دونوں ہی معاملے پولیس کی سرپرستی میں انجام دیے گئے جن سے ملک گیر احتجاجی تحریکیں برپا ہوئیں۔۔۔۔
ماخذ: الیناسین سبق’’ ویمنس پولیٹکس ان انڈیا‘‘ میتریہ چودھری (ادارت) فیمینزم ان انڈیا(ویمن ان لمیٹیڈ / کالی ، نئی 2004) صفحہ 187-210
باکس 8.14
عورتوں کے خلاف تشدد کے برتاؤ کاتجزیہ ذات کے مطابق یہ دکھا ئے گا کہ جب غالب پر تشدد اعلیٰ ذاتوںمیں جہیز کے لیے قتل اور خاندان کے ذریعہ حرکت پذیر ی پرکنٹرول اور ضوابط نیزجنسی امتیاز کے واقعات بار بار ہوتے ہیں وہیں دلت عورتوں کو کام کے مقامات زنا بالجبر اور جسمانی تشدد کی اجتماعی اور انفرادی چیلنج کا سامنا نسبتاً زیادہ کرنا پڑتا ہے۔
ماخذ: شرمیلا ریگے، ’’دلت وومن ٹاک ڈیفرنٹلی: اے کرٹیک (Critique) آف ڈیفرنس اینڈ ٹو ورڈس اے دلت فیمنسٹ (Critique) اسٹینڈپوائنٹ پوزیشن‘‘ متیریہ چودھری (ادارت) فیمینزم ان انڈیا(صفحہ 211-223) (وومن ان لمٹیڈ /کالی، دہلی 2004)