اس باب کے کن موضوعات میں کننگھم دلچسپی لے سکتا تھا؟ 1947 کے بعد سے کون سے مسائل قابل توجہ رہے ہیں؟
وہیلرہڑپّا میں
شروع کے ماہرین آثار قدیمہ میں ایک مہم جوئی کی سی تحریک کارفرما تھی۔ وھیلر نے ہڑپّا میں اپنے تجربے کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے:
مجھے یاد ہے کہ 1944 کی مئی کی ایک گرم رات میں ٹانگے کی چار میل لمبی مسافت نے مجھے، (یعنی تازہ ترین مقررہ ڈائرکٹر جنرل آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا‘) ایک مقامی مسلمان افسر کے ساتھ چھوٹے سے ’ہڑپّا ‘ نامی اسٹیشن پر اُتر کر ڈھلوان ریتیلی سڑک سے ہوتے ہوئے اس قدیم مقام کے چاندنی میں نہائے ریت کے ٹیلوں کے پاس بنے چھوٹے سے ریسٹ ہاؤس تک پہنچا۔ میرے بے چین ساتھی کی اس تنبیہ کے ساتھ کہ ہمیں اپنا معائنہ صبح پانچ بج کر تیس منٹ سے شروع کرکے ساڑھے سات بجے تک ختم کرنا ضروری ہے ’’اس کے بعد ناقابِل برداشت گرمی ہوجائے گی‘‘، ہم ایک سیاہ فام پنکھا کھینچنے والے کے ساتھ جوداخلے کے دروازے کے پاس ساکت بیٹھا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے۔ آس پاس کے لَق و دق ویرانے سے اٹھتی لاتعداد گیدڑوں کی آوازیں ہی رات کی خاموش فضا کو متواتر توڑ رہی تھیں۔
اگلی صبح بالکل ٹھیک ساڑھے پانچ بجے ہمارا چھوٹا سا جلوس ریت کے ڈھیروں کی طرف قدم بڑھا رہاتھا۔ دس منٹ میں ہی میں رک کر کھڑا ہوگیا اور اپنی آنکھیں ملتے ہوئے وہاں کے سب سے بڑے ٹیلے کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ چھ گھنٹے بعد بھی میرا حیران وپریشان عملہ اور میں اس چلچلاتی دھوپ میں اپنی کدالوں اور چاقوؤں کی مدد سے کام میں لگے ہوئے تھے۔ (معافی کے ساتھ) یہ دیوانے صاحب بہت ہی شدید انداز میں قدم بڑھا رہے ہیں۔
(از آر ای ایم وھیلر ’’مائی آرکیولوجیکل مشن ٹو انڈیا اینڈ پاکستان‘‘ 1976)
11۔ ماضی کے ٹکڑوں کو جوڑنے کے مسائل
جیسا کہ ہم نے دیکھا ہڑپّا ئی رسم الخط اس قدیم تہذیب کو سمجھنے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔ اس کے بجائے کچھ مواد یا مادی شہادتیں ہیں جو ہڑپّا کے لوگوں کی زندگی کی ترتیب یا تدوین میں ماہرین آثار قدیمہ کی مدد کرتی ہیں۔ یہ مواد مٹی کے برتن، اوزار، زیورات، گھریلو سازوسامان وغیرہ ہوتے ہیں۔ نامیاتی اشیا جیسے کپڑا، چمڑا، لکڑی اور نرکل وغیرہ عام طور پر سڑ گل جاتے ہیں۔ خصوصاً منطقہ حارّہ کے خطے میں جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ پتھر، پکائی مٹی دھات وغیرہ ہیں۔
ایک اہم بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ صرف ٹوٹی پھوٹی اور ناکارہ قسم کی چیزیں ہی بے کار سمجھ کر پھینکی گئی ہوں گی۔ دوسری چیزوں کو ممکن ہے دوبارہ قابِل استعمال بنا لیا گیا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں جو قیمتی اشیا بالکل صحیح حالت میں ملتی ہیں وہ یا تو ماضی میں کبھی گم ہوگئی ہوں گی یا ایسے خزینے کے طور پر رکھی گئی ہوں گی جسے دوبارہ کبھی نکالا نہ گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ اشیا اتفاقی ہوتی ہیں نہ کہ وہاں کی عمومی صورتِ حال کی اشیا۔
11.1 دریافت شدہ چیزوں کی درجہ بندی
آثار قدیمہ کی مہم جوئی میں مصنوعات کو دریافت کرلینا صرف ابتدا یا پہلا قدم ہے اس کے بعد ماہرین اس کی درجہ بندی کرتے ہیں۔درجہ بندی کے معاملے میں ایک آسان اصول انہیں ان کے مواد کی بنیاد پر تقسیم کیا جانا ہے۔ جیسے پتھر، مٹی، دھات، ہڈی، ہاتھی دانت وغیرہ۔ اگلا اور اس سے زیادہ پیچیدہ درجہ ان کو ان کے استعمال یا کاموں کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔ ماہرین کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کوئی مصنوع، مثال کے طور پر کوئی اوزار تھا، زیور تھا یا دونوں کام میں آتا تھا یا کوئی ایسی چیز ہے جو مذہبی یا کسی رسم کی ادائیگی میں کام آتی تھی۔
کسی مصنوع کے استعمال یا کام کا عام طور پر کسی آج کی چیز سے اندازہ لگایا جاتا ہے۔ منکے، چکیاں، پتھر کے پھل اور برتن، ان کی بالکل واضح مثالیں ہیں۔ ماہرین کسی مصنوع کے استعمال کا اندازہ اس سیاق یا گردوپیش سے بھی لگاتے ہیں جس میں یہ پائی گئی تھی۔ کیا یہ کسی گھر میں ملی تھی، کسی نالی میں تھی، قبر میں تھی، بھٹّی میں تھی؟
کبھی کبھی ماہرین آثار قدیمہ کو کچھ بالواسطہ قسم کی شہادتوں کی مدد سے ترتیب و تدوین کا راستہ بھی اپنانا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ہڑپّا ئی مقامات پر روئی کے آثار موجود ہیں مگر ان کے کپڑوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ہمیں بالواسطہ قسم کی شہادتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس میں بت تراشی کے نمونوں میں دکھائے گئے انداز بھی شامل ہیں۔
ماہرین کو مختلف حوالوں کے کچھ نظام یا خاکے بھی ابھارنے ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ جس وقت پہلی ہڑپّا ئی مُہر ملی تو اسے اس وقت تک نہ سمجھا جاسکا جب تک ماہرین کے پاس وہ سیاق یا مناسبت نہ فراہم ہوگئی جس میں اسے رکھا جاسکتا تھا۔ اس کے اس تمدنی ماحول یا ترتیب کے اعتبار سے بھی جس میں یہ ملی تھی اور اس تقابل کے اعتبار سے بھی جو میسوپوٹامیہ کی دریافتوں کی مدد سے بن پایا۔
11.2 توجیہ یا تغیر کے مسائل
آثار قدیمہ کی توجیہ و تفسیر کے مسائل سے شاید سب سے زیادہ واضح طور پر مذہبی اعمال کو بیان کرنے کے موقع پر دوچار ہونا پڑتا ہے۔ شروع کے ماہرین کا خیال تھا کہ کچھ چیزیں جو غیرمعمولی یا کچھ اجنبی سی لگتی تھیں وہ غالباً مذہبی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ ان میں پکائی مٹی کی عورتوں کی مورتیاں بھی شامل تھیں، جو بہت سے زیوروں سے آراستہ اور سرپر باقاعدہ قسم کا پہناوا رکھے نظر آتی تھیں۔ انہیں ’دیوی ماں‘ مانا جاتا تھا۔ ایک نایاب قسم کے پتھر کی بنی مردوں کی مورتیں، جو لگ بھگ ایک مقررہ نشست میں ایک ہاتھ گھٹنے پر رکھے ’پجاری بادشاہ کی طرح نظر آتی تھیں‘ انھیں بھی اسی زمرے میں رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح کچھ عمارتوں کو بھی رسومی اہمیت بخشی گئی۔ اس میں ’بڑا حمام‘ کالی بنگا اور لوتھل میں ملی ’’آگ والی قربان گاہیں‘‘ (آتش کدے) بھی شامل ہیں۔
کچھ ایسی مُہروں کے بغور مشاہدے سے جن میں سے کچھ میں مذہبی رسوم کے اظہار کا امکان ہے، ان کے مذہبی عقائد اوراعمال کی ترتیب و تدوین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ دوسری مُہروں میں، جن پر پیڑ پووں کے نشان ہیں، اسے قدرت کی پرستش کی علامات سمجھا گیا ہے۔ کچھ جانور، جیسے مُہروں پر بنا ایک سینگ والا جانور، جسے عام طور پر ’اکل سنگھا‘ (Unicorn) مانا جاتا تھا۔ اسے کسی تصوراتی مخلوط قسم کا جانور مانا جاسکتا ہے۔ کچھ مُہروں میں آلتی پالتی مارے یوگی انداز میں بیٹھی ایک شکل دکھائی دیتی ہے، جو ہندو دھرم کے اہم ترین قدیم دیوتاؤں میں سے ایک کا روپ ہے۔ اس کے علاوہ مخروطی قسم کے پتھر کے ٹکڑوں کو ’لنگوں‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ہڑپّا کی بہت سی مذہبی روایتوں کو اس مفروضے پر مرتب کیا گیا ہے کہ بعد کی روایات میں ان کے متوازی یا ملتی جلتی علامتیں موجود ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ عام طور پر معلوم سے نامعلوم کی طرف بڑھتے ہیں، یعنی حال سے ماضی کی طرف۔ گوکہ یہ طریقۂ فکر پتھروں کی چکیوں اور برتنوں کے لیے تو قرین قیاس لگتا ہے مگر جب اسے اور آگے بڑھاکر ’’مذہبی‘‘ علامتوں سے تطبیق دیتے ہیں تو قیاس آرائی زیادہ رہ جاتی ہے۔
ذرا ’ابتدائی شِیو‘ والی مُہروں کی ہی مثال لیں۔ سب سے پہلے مذہبی صحیفہ ’رگ وید‘ (تدوین تقریباً 1000-1500 قبل مسیحی دور) میں ایک دیوتا ’رُدّر‘ کا ذکر ہے جسے بعد کی پوران کی روایتوں میں شِیو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ (مسیحی دور کے پہلے ہزارے میں باب 4 بھی ملاحظہ ہو) بہرحال، شِیو‘ کے برخلاف رگ وید میں ’رُدر‘ کو نہ تو پشوپتی (تمام جانوروں خصوصاً مویشوں کا مالک و مختار) دکھایا گیا ہے اور نہ کوئی یوگی۔ دوسرے لفظوں میں (مُہریں) یہ اظہار رِگ وید میں ’رُدّر‘ کی تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ تو پھر کیا یہ امکان ہے کہ یہ مظہر کسی ’شامن‘ کا ہو، جیسا کہ کچھ ماہرین نے اشارہ بھی کیا ہے؟
شکل: 1.26 کیا یہ ’دیوی ماں‘ تھی؟

شکل: 1.27 ’ابتدائی شِیو‘کی مُہر
نگ"ایک منقوش پتھر تھا جو "شِیو"کے علامت کے طور پر جانا جاتا تھا۔
’شامن‘ وہ مرد یا عورتیں ہوتے ہیں جو جادوئی اور شفا بخشنے کی طاقت اور ساتھ ہی طاقتیں رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
شکل: 1.28 کھیل کے مُہرے یا ’لنگ‘؟
ان پتھروں کے بارے میں ایک بالکل شروعات کے دور کے کھدائی کرنے والے میکی نے جو کچھ کہا تھا وہ اس طرح تھا:
’’لاجورد، یشب اور عقیق اور دوسرے پتھروں کے بہت خوبصورتی سے تراشے اور گھسے ہوئے دو انچ کم اونچائی والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھی لنگ تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس کا بھی اتنا ہی امکان ہے کہ یہ بورڈ پر کھیلے جانے والے کھیلوں میں استعمال ہوتے ہوں۔‘‘
(از ارنیسٹ میکی، ارلی انڈس سویلائزیشن 1948)
گفتگو کیجیے:
آثار قدیمہ کی شہادتوں سے ہڑپّا ئی معیشت کے کون کون سے پہلوؤں کی ترتیب کی جاچکی ہے؟
اتنے دہوں تک متواتر آثار قدیمہ کے کام کے بعد کیا حاصل ہوسکا؟ ہمیں ہڑپّا ئی معاشیات کے بارے میں کافی اچھی معلومات حاصل ہوگئیں۔ ہم ان کے معاشرے میں سماجی فرقوں کی گتھی کو سلجھانے میں بھی کچھ کامیاب ہوئے ہیں اور ہمیں اب کسی قدر یہ اندازہ لگانا ممکن ہے کہ ان کی تہذیب کس طرح روبہ کار تھی۔ فی الحقیقت ہمارے لیے ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اگر ان کا رسم الخط پڑھ لیا گیا ہوتا تو ہماری معلومات میں کتنا اضافہ ہوتا۔ اگر کوئی ’دو زبانی‘ شہادت دستیاب ہوجائے تو ہڑپّا ئی لوگوں میں بولی جانے والی زبانوں کے سلسلے میں اٹھنے والے سوالوں کا بھی کوئی تشفی بخش حل نکل آئے گا۔
بہت سے نکات کی ترتیب و تدوین اب بھی صرف قیاس ہی ہیں۔ کیا بڑا حمام کوئی رسوماتی عمارت تھی؟ ہڑپّا کے مدفنوں میں سماجی فرق اتنا کم کیوں نظر آتا ہے۔ کچھ اور سوالات کے جواب بھی ابھی نہیں مل سکے ہیں۔ کیا عورتیں برتن بناتی بھی تھیں یا صرف ان پر رنگ کرتی تھیں (جیسا کہ آج کل ہوتا ہے؟) دوسرے دستکاروں کے کیا حالات تھے؟ پکائی ہوئی مٹی کی عورتوں کی مورتیاں کس کام آتی تھیں؟ بہت کم ماہرین نے ہڑپّا ئی تہذیب کا مطالعہ صنفی زاویے سے کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ پورا میدان مستقبل کی تحقیق و جستجو کے لیے کھلا ہوا ہے۔
شکل: 1.29 پکائی مٹی کی ایک گاڑی
ٹائم لائن - 1
ابتدائی ہندوسانی آثار قدیمہ میں اہم ادوار
| نشیبی حجری |
بیس لاکھ سال (قبل موجودہ دور)
|
| وسطی حجری |
80,000 |
| بالائی حجری |
35,000 |
| عبوری حجری |
12,000 |
| جدید حجری (ابتدائی زراعت اور گلہ بانی کرنے والے) |
10,000 |
| تانبا پتھر تہذیب (تانبے کا پہلا استعمال ) |
6000 |
| ہڑپّا ئی تہذیب |
2,600 قبل مسیح
|
| ابتدائی لوہا، یادگار حجریا مدفن(میگالیتھک بوریئس ) |
1000 قبل مسیح |
| ابتدائی تاریخی دور |
600 قبل مسیح
400 قبل مسیح
|
(نوٹ: تمام تاریخیں تخمیناًہیں۔ اس کے علاوہ برّصغیر کے مختلف خِطّوں میں تہذیب و ترقی کے ادوار میں اوقات کا بہت فرق ہے ۔جو تاریخیں دی گئی ہیں وہ اس رخ کی سب سے پہلی شہادتوں کی بنیاد پر متعین کی گئی ہیں۔ )
ٹائم لائن - 2
ہڑپّا ئی آثار قدیمہ میں اہم ترین ترقیاں
|
انیسویں صدی |
| ہڑپّا ئی مُہر پر الیگزینڈر کنگھم کی رپورٹ |
1875 |
|
بیسویں صدی |
| ایم ایس وتس نے ہڑپّا میں کھدائی شروع کی۔ |
1921 |
| موہنجودڑومیں کھدائی شروع ہوئی |
1925 |
| آر ای ایم وھیلر نے ہڑپّا میں کھدائی کی۔ |
1946 |
| ایس آر راؤ نے لوتھل میں کھدائی شروع کی۔ |
1955 |
| بی بی لال اور بی کے تھاپڑ نے کالی بنگن میں کھدائی شروع کی |
1960 |
| ایم آر مغل نے بہاولپور میں تحقیق شروع کی۔ |
1974 |
| جرمنی اور اطالوی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے موہنجودڑو میں تلاش و تحقیق کے کام شروع کیے۔ |
1980 |
| امریکی ٹیم نے ہڑپّا میں کھدائی شروع کی |
1986 |
| آر ایس بشٹ نے دھولاویرا میں کھدائی شروع کی۔ |
1990 |

شکل: 1.30
ایک ہڑپّا ئی مدفن
لفظوں میں جواب دیجیے
۔ ہڑپّائی شہروں میں لوگوں کے پاس موجود کھانے کی اشیا کی فہرست مرتب کیجیے۔ ان گروپوں کی بھی شناخت کیجیے جو انہیں فراہم کرتے تھے؟
۔ ہڑپّا ئی تہذیب میں سماجی معاشی فرقوں کے ماہرین آثار قدیمہ کس طرح تلاش و تحقیق کرتے ہیں؟
۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ ہڑپّا ئی شہروں میں پانی وغیرہ کی نکاس کے نظام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے شہر منصوبہ بند انداز میں بنائے جاتے تھے؟ اپنے جواب کے لیے دلیلیں دیجیے۔
۔ ہڑپّائی تہذیب میں منکے بنانے کے لیے جو مواد استعمال ہوتا تھا اس کی فہرست بنایے۔ کسی ایک قسم کے منکے کے بنانے کے طریقہ کو بیان کیجیے۔
۔ شکل 1.30 کودیکھیے اور جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اسے بیان کیجیے۔ اس ڈھانچے کے پاس کیاکیا چیزیں رکھی ہوئی ہیں؟ کیا اس کے جسم پر بھی کچھ مصنوعات ہیں۔ کیا یہ اس کی صنف کوبھی ظاہر کرتے ہیں؟
ان عنوانات پر مختصر مضمون لکھیے جو تقریباً 500 الفاظ پر مشتمل ہو
۔ موہنجودڑو کی کچھ امتیازی خصوصیات بیان کیجیے۔
۔ ہڑپّا ئی تہذیب میں دستکاری کی مصنوعات کی پیداوار کے لیے ضروری خام مالوں کی ایک فہرست مرتب کیجیے اور بیان کیجیے کہ یہ کیسے مہیا کیے جاتے ہوں گے۔
۔ بیان کیجیے کہ ماہرین آثار قدیمہ ماضی کی کس طرح ترتیب و تدوین کرتے ہیں۔
۔ ان کاموں کو بیان کیجیے جو ہڑپّا ئی سماج میں حکمران انجام دیتے تھے۔
نقشے کے کام
۔ نقشہ 1 پر پنسل سے ان مقامات پر دائرہ بناییے جہاں سے زراعت کی شہادتیں ملی ہیں۔ ان جگہوں پر ’ص‘ بناییے جہاں سے دستکاری پیداواروں کی شہادتیں حاصل ہوئی ہیں اور ’خ‘ کا نشان ان مقامات پر بناییے جہاں سے خام مال حاصل کیا جاتا تھا۔
منصوبہ (Project)(کوئی ایک)
۔ معلوم کیجیے کہ کیا آپ کے شہر میں کوئی عجائب گھر (میوزیم) ہے۔ اسے دیکھیے اور وہاں کی کن ہی دس چیزوں پررپورٹ لکھیے۔ اس میں بتایے کہ یہ کتنی قدیم ہیں۔ یہ کہاں پائی گئی تھیں اور آپ کے خیال میں ان کی نمائش کیوں کی جاتی ہے؟
۔ آج کل استعمال ہونے والی ایسی دس چیزوں کی تصویریں جمع کیجیے جوپتھر، دھات یا مٹی کی بنی ہوں۔ اس باب میں دکھائی گئی ہڑپّا ئی تصویروں سے ان کا موازنہ کیجیے اور ان میں یکسانیت اور فرق کو بیان کیجیے۔
:اگر آپ کو مزید معلومات حاصل کرنی ہیں تو پڑھیے
Raymond and Bridget Allchin. 1997. Origins of a Civilization. Viking, New Delhi.
G.L. Possehl. 2003.
The Indus Civilization. Vistaar, New Delhi.
Shereen Ratnagar. 2001. Understanding Harappa.
Tulika, New Delhi.
:مزید معلومات کے لیے ملیے
http://www.harappa.com/har/harreso.html