Skip to content
Tareekh-e-hindkemauzuat-I-001



 پہلاموضوع

اینٹیں، منکے اور ہڈیاں

ہڑپّا کی تہذیب

ہڑپّا  کی جانی پہچانی مُہر (شکل 1.1) ہڑپّا یا وادئی سندھ کی تہذیب سے متعلق مصنوعات میں شاید ممتازترین چیز ہے۔ سیلکھڑی پتھر کی اس قسم کی مُہروں میں عام طور پر کچھ جانوروں کی شکلیں اور ایک ایسی زبان کے کچھ نشانات ملتے ہیں جو ابھی تک حل نہیں کیے جاسکے ہیں۔مگر ہم ان لوگوں کے بارے میں جو ان علاقوں میں رہتے تھے، ان کے چھوڑے ہوئے گھروں، برتنوں، زیوروں، اوزار، ہتھیاروں اور مُہروں کی مدد سے بہت کچھ جانتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انہیں آثارِقدیمہ کی شہادتیں یا ثبوت کہا جاسکتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ہم ہڑپّاکی تہذیب کے بارے میں کتنا جانتے ہیں اور یہ معلومات ہم نے کس طرح حاصل کیں؟ہم دریافت کرنے کی کوشش کریں گے کہ آثارِ قدیمہ کے مواد سے کس طرح مطلب اخذ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ مطالب یا توجیہات کس طرح تبدیل ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس تہذیب کے کچھ رخوں کی معلومات ابھی ہمارے پاس نہیں ہیں اور ممکن ہے وہ کبھی حاصل بھی ہو نہ سکیں۔
1
شکل: 1.1  ہڑپّا  کی ایک مُہر

اصطلاحات، مقامات اور ادوار

وادیٔ سندھ کی تہذیب کو ہڑپا تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے کچھ ایسی چیزوں کے مجموعے کو تہذیب (کلچر) کی ایک اصطلاح دی ہے جو اپنے ایک علاحدہ انداز، مخصوص جغرافیائی علاقے اور وقت کی ایک متعینہ مدت میں ایک ساتھ دریافت ہوئی ہیں۔ہڑپّا کی تہذیب میں اپنی ایک علاحدہ شناخت رکھنے والی چیزوں میں مُہریں، منکے (موتی نما دانے) وزن کرنے کے باٹ، ہتھیاروں کے پھل (شکل 1.2) یہاں تک کہ پکائی ہوئی اینٹیں تک شامل ہیں۔ یہ چیزیں کافی دور دراز علاقوں میں بھی ملی ہیں۔ جیسے افغانستان، جموں، بلوچستان (موجودہ پاکستان) اور گجرات۔ (نقشہ 1)
اس انوکھے کلچر کا نام ’ہڑپّا ‘ کے نام پر اس لیے رکھا گیا کہ اسی مقام پر یہ چیزیں سب سے پہلے دریافت ہوئی تھیں۔ اس تہذیب کا دور تقریباً 2600 اور 1900 قبل مسیح کے درمیان مانا گیا ہے۔ اس میں ایک ہی علاقے میں قدیم اور کسی قدر جدید تہذیب موجود تھی جنھیں ’قدیم ہڑپّائی‘ اور ’جدید ہڑپّائی‘ تہذیب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پوری ہڑپّا تہذیب کو ان دو مختلف تہذیبوں سے ممتاز یا علاحدہ شناخت دینے کے لیے ’پختہ ہڑپّا ئی تہذیب‘ بھی کہا جاتا ہے۔
23
شکل: 1.2  منکے اوزان، ہتھیاروں کے پھل
4
َِ

آپ کو تاریخوں کے سلسلے میں اس کتاب میں کچھ مخففات نظر آئیں گے ۔ 

موجودہ دور سے پہلے 

 (عام مسیحی دور سے پہلے (ق م BCE

(Common Era) عام دورعیسوی  یا =CE

جس کے اعتبار سے یہ 2018 کا سال ہے۔

قدیم اور پختہ ہڑپّا ئی تہذیبیں  Circa  لاطینی=c.


قدیم اور پختہ ہڑپّا ئی تہذیبیں


نیچے دیے ہوئے اعداد کو دیکھیے جن میں سندھ اور چولستان (پاکستان میں صحرائے تھار کی سرحد سے ملا ہوا علاقہ) میں آبادیوں کی تعداد نظر آتی ہے۔
سندھ                           چولستان                                                                       
قدیم ہڑپّا ئی مقامات         52                                       37                                         
پختہ ہڑپّا ئی مقامات 137                                       65                                         
نئے مقامات پر پختہ                                        
ہڑپّا ئی آبادیاں           43 132                                          
متروکہ قدیم ہڑپّا ئی مقامات 29                                                        

1۔ ابتدا 

اس علاقے میں ’پختہ ہڑپّا ئی تہذیب‘ سے پہلے کئی قدیم آثاری تہذیبیں موجود تھیں۔ یہ تہذیبیں وہاں کے مخصوص مٹی کے برتنوں زراعت کی موجودگی کے آثار اور گلہ بانی کی علامات اور کچھ دستکاری نمونوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ بستیاں عام طور پر چھوٹی تھیں اور بڑی عمارتیں تھیں ہی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہڑپّا تہذیب اور قدیم ہڑپّا ئی تہذیب کے درمیان ایک تعطل یا وقفہ بھی رہا ہوگا۔ اس کا اندازہ بعض مقامات پر بڑے پیمانے پر جلے ہوئے حصوں اور کچھ آبادیوں کو ویران چھوڑ دینے یا ترک کردینے کی علامتوں سے ہوتا ہے۔

۔ گزر بسر کی حکمت عملیاں 2    

اگر آپ نقشہ 1 اور 2 کو غور سے دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ پختہ ہڑپّا ئی تہذیب ان ہی کچھ جگہوں پر ابھری جہاں قدیم ہڑپّا ئی تہذیبیں موجود تھیں۔ ان تہذیبوںمیں کچھ مشترک عناصر بھی نظر آتے ہیں جن میں ’گزر بسر کی حکمت عملیاں‘ شامل تھیں۔ ہڑپّا کے لوگ غذا کے لیے نباتات کی بہت سی قسموں اورحیوانی پیدوار استعمال کرتے تھے، جن میں مچھلی بھی شامل تھی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے کچھ جلے ہوئے غلوں اور بیجوں کے باقی ماندہ مواد سے ان لوگوں کی غذائی عادات کو دوبارہ مرتب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس قسم کا مطالعہ نباتاتی آثار قدیمہ کے ماہرین کرتے ہیں جو قدیم پودوں کی باقیات کے ماہر ہوتے ہیں۔ ہڑپّا ئی مقامات پر جواناج ملے ہیں ان میں گیہوں، مسور، جو، مٹر اور تل شامل ہیں۔ باجرہ گجرات کے مقامات میں ملا ہے۔ چاول کے آثار نسبتاً بہت کم نظر آئے ہیں۔
ہڑپّا ئی مقامات پر مویشیوں، بھیڑوں، بکریوں، بھینسوں اور سوروں کی ہڈیاں ملی ہیں۔ حیوانات کے آثار قدیمہ کے ماہرین کے ذریعہ کیے گئے مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جانور گھریلو یا پالتو ہوچکے تھے۔ جنگلی انواع جیسے جنگلی سور، ہرن اور گھڑیال کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اِن کا شکار خود ہڑپّائی لوگوں نے کیا تھا یا دوسری شکاری برادریوں کے لوگوں نے۔ مچھلی اور پالتو پرندوں (مرغیوں وغیرہ) کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔
5

2.1۔  زراعتی تکنیکیں

گو کہ غلوں کی دریافت سے زراعت کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے لیکن اس دور کے حقیقی زراعتی انداز اور طریقوں کو مرتب کرنا خاصا مشکل ہے۔ کیا بیج بونے کا کام جوتی ہوئی زمین پر کیا جاتا تھا؟ مہروں کی تصویروں اور پکائی مٹی (ٹیرا کوٹا) کی مورتیوں کے نمونوں سے بیل کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے اور اس سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے قیاس کیا ہے کہ بیلوں کو زمین جوتنے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ چولستان اور بنوالی (ہریانہ) میں پکائی مٹی کے بنے ہل کے نمونے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کو کالی بنگا (راجستھان )میں جوتی ہوئی زمین کے آثار بھی ملے ہیں جسے قدیم ہڑپّائی تہذیبی سطحوں سے متعلق مانا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو صفحہ20) کھیت میں ہل کی ایک دوسرے کو عمودی زاویے سے کاٹتی ہوئی دو نالیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ساتھ دو فصلیں اگائی جاتی تھیں۔

 ماہرین آثار قدیمہ نے فصلوں کی کٹائی کے اوزاروں کی شناخت کی بھی کوشش کی ہے۔ کیا ہڑپّا کے لوگ لکڑی کے دستوں میں لگے پتھر کے پھل استعمال کرتے تھے یا دھات کے اوزار؟
ہڑپّا ئی مقامات زیادہ تر نیم خشک زمینی علاقوں میں نظر آتے ہیں، جہاں کھیتی باڑی کے لیے غالباً آبپاشی کی ضرورت پیش آتی ہوگی۔ افغانستانمیں شور توغئی کے ہڑپّا ئی مقام پر تو نہروں کے آثار موجود ہیں مگر پنجاب اور سندھ میں نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ اتنی قدیم نہریں مٹی سے پٹ گئی ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کنوؤں سے پانی کھینچ کر آبپاشی کی جاتی ہو۔ اس کے علاوہ ممکن ہےکہ گجرات کے ڈھولاویرا میں ملے آبی ذخیروں میں کھیتی باڑی کے لیے پانی جمع کیا جاتا ہو.
6
شکل: 1.3  پکا ئی مٹی کا بنا بیل

گفتگو کیجیے:  

کیا نقشہ 1 اور 2 میں دکھائے گئے مقامات کے پھیلا‎‎‎‎ؤ   میں کچھ  مماثلتیں یا فرق نظر آتے ہیں؟

7
شکل: 1.4 تانبے کے اوزار 
آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا یہ اوزار فصلوں کی کٹائی میں استعمال ہوتے ہوں گے؟
شکل: 1.5  
ڈھولاویرا میں آبی ذخیرہ کا تالاب۔ چنائی اور راج گیری کے کام کو غور سے دیکھیے۔
8

گفتگو کیجیے:  

غذائی عادات کے خاکے کو دوبار مرتب کرنے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کن شہادتوں کا استعمال کرتے ہیں؟

ماخذ:1

کی شناخت کس طرح ہوتی ہے؟ (Artefacts)  مصنوعات

کھانے کی تیاری کے لیے پیسنے کے سازوسامان کی ضرورت پڑتی ہے، پھر اس کے ساتھ ہی گوندھنے، ملانے اور پکانے کی چیزیں بھی ضروری ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں دھاتوں، پتھروں اور پکائی مٹی سے بنائی جاتی تھیں۔ نیچے موہنجودڑو کی کھدائی کی سب سے پہلی رپورٹ کا ایک اقتباس دیا گیا ہے۔ موہنجودڑو ہڑپّائی مقامات میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔
دو پاٹوں کی چکیاں(کاٹھی دار)… کافی تعداد میں ملی ہیں۔ غلوں کوپیسنے کا شاید یہی ایک ذریعہ استعمال میں تھا۔ عام طور پر یہ سخت کھردری آتش فشانی چٹان یا ریگی پتھر سے بنائی جاتی تھیں اور زیادہ تر ان کے سخت قسم کے استعمال کے نشانات ملتے ہیں۔ چونکہ ان کی بنیادیں یا نچلے حصے عام طور پر کروی ہیں اس لیے انہیں زمین میں گاڑ دیا جاتا ہوگا یا گارے میں جمادیا جاتا ہوگا تاکہ پیستے وقت یہ ہلیں نہیں۔ان میں دو قسمیں خاص طور پر ملتی ہیں۔ ایک وہ جن پر ایک اور چھوٹا پتھر دھکیلا یا آگے پیچھے لڑھکایا جاتا تھا ۔ یا دوسری قسم وہ جس میں ایک دوسرا پتھر کونٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ نیچے والے پتھر میں ایک بڑا سا گڑھا ہوتا تھا۔ پہلی قسم کی چکیاں شاید صرف غلے کو پیسنے کے کام آتی تھیں اور دوسری قسم کی چکیاں شاید سالن میں استعمال کرنے کے لیے مسالے اور جڑی بوٹیاں کوٹنے کے کام آتی تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس قسم کے پتھروں کا نام ہمارے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں نے ’سالن والے پتھر‘ (کَری اسٹون) ہی رکھ لیا ہے اور ہمارے ایک باورچی نے تو میوزیم سے ایک ایسے پتھر کو باورچی خانے میں استعمال کرنے کے لیے ادھار مانگا بھی تھا۔(ارنیسٹ میکی (Ernest Mackay) کی ’فردر ایکسکیویشنس ایٹ موہنجودڑو 1937)۔
9
ماہرین آثار قدیمہ آج کے دور کی مشابہتوں یا ملتی جلتی چیزوں سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قدیم مصنوعات کو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ میکی نے آج کی چکیوں کا وہاں ملنے والی چکیوں  سے موازنہ کیا۔ کیا یہ طریقٔہ کار سودمند ہے؟

 3 - موہنجودڑو … ایک منصوبہ بند شہری مرکز

شہری مراکزکا ابھرنا ہڑپّا ئی تہذیب کی شاید سب سے انوکھی خصوصیت تھی۔ آیئے ایک ایسے ہی شہری مرکز موہنجودڑو کو ذرا قریب سے دیکھیں، حالانکہ موہنجودڑو سب سے زیادہ مشہور اور جانا پہچانا مقام ہے مگر جو مقام پہلے دریافت ہوا تھا وہ ہڑپّا ہی تھا۔
10
شکل: 1.7  موہنجودڑو کا خاکہ

گفتگو کیجیے:

نشیبی شہر حصار سے کس طرح مختلف ہے؟

یہ پوری آبادی دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ایک نسبتاً چھوٹا مگر کچھ اونچائی پر اور دوسرا کافی بڑا مگر نشیب میں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے ان کا نام بالترتیب ’حصار‘ یا ’قلعہ‘ (Citadel) اور ’نشیبی شہر‘ (Lower Town) رکھے ہیں۔ حصار یا قلعے کی اونچائی اس وجہ سے ہے کہ یہاں عمارتیں اینٹوں اور گارے کے چبوتروں پر اٹھائی گئی تھیں۔ اس کے ارد گرد دیوار بھی تھی جس کا مطلب ہے اسے جغرافیائی یا جسمانی طور پر بھی نشیبی شہر سے علاحدہ کیا گیا تھا۔
نشیبی شہر بھی دیوار بند تھا۔ بہت سی عمارتیں چبوتروں پر بنی ہوئی تھیں جو بنیاد کا بھی کام دیتے تھے۔ حساب لگاکر یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ایک مزدور لگ بھگ ایک مکعب میٹر مٹی روزانہ ڈھو لیتا ہوگاتو صرف بنیادوں کو جمانے کے لیے چالیس لاکھ مزدورں کی ضرورت پڑی ہوگی، جس کا مطلب ہے بہت بڑے پیمانے پر مزدوروں کو اکٹھا کیا گیا ہوگا۔
ایک اور بات پر بھی غور کیجیے۔ ایک مرتبہ چبوترے (Platforms) بن جانے کے بعد شہر میں ہونے والا تمام تعمیری کام ایک محدود علاقہ میں مرکوز رہتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے آبادی کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہوگا اور پھر اس کے مطابق کام پورا کیا گیا ہوگا۔ اس قسم کی منصوبہ بندی کا پتہ جن  چیزوں سے چلتا ہے ان میں اینٹیں بھی شامل ہیں جو خواہ دھوپ میں سکھائی گئی ہوں یا آگ میں پکائی گئی ہوں، ان کا تناسب بالکل معیار کے مطابق یا طے شدہ تھا جس میں لمبائی، چوڑائی سے چار گنا تھی اور اونچائی دوگنی تھی۔ تمام ہڑپّائی مقامات میں ایسی ہی اینٹیں استعمال ہوتی تھیں۔
یہ پوری آبادی دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ایک نسبتاً چھوٹا مگر کچھ اونچائی پر اور دوسرا کافی بڑا مگر نشیب میں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے ان کا نام بالترتیب ’حصار‘ یا ’قلعہ‘ (Citadel) اور ’نشیبی شہر‘ (Lower Town) رکھے ہیں۔ حصار یا قلعے کی اونچائی اس وجہ سے ہے کہ یہاں عمارتیں اینٹوں اور گارے کے چبوتروں پر اٹھائی گئی تھیں۔ اس کے ارد گرد دیوار بھی تھی جس کا مطلب ہے اسے جغرافیائی یا جسمانی طور پر بھی نشیبی شہر سے علاحدہ کیا گیا تھا۔
نشیبی شہر بھی دیوار بند تھا۔ بہت سی عمارتیں چبوتروں پر بنی ہوئی تھیں جو بنیاد کا بھی کام دیتے تھے۔ حساب لگاکر یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ایک مزدور لگ بھگ ایک مکعب میٹر مٹی روزانہ ڈھو لیتا ہوگاتو صرف بنیادوں کو جمانے کے لیے چالیس لاکھ مزدورں کی ضرورت پڑی ہوگی، جس کا مطلب ہے بہت بڑے پیمانے پر مزدوروں کو اکٹھا کیا گیا ہوگا۔
ایک اور بات پر بھی غور کیجیے۔ ایک مرتبہ چبوترے (Platforms) بن جانے کے بعد شہر میں ہونے والا تمام تعمیری کام ایک محدود علاقہ میں مرکوز رہتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے آبادی کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہوگا اور پھر اس کے مطابق کام پورا کیا گیا ہوگا۔ اس قسم کی منصوبہ بندی کا پتہ جن  چیزوں سے چلتا ہے ان میں اینٹیں بھی شامل ہیں جو خواہ دھوپ میں سکھائی گئی ہوں یا آگ میں پکائی گئی ہوں، ان کا تناسب بالکل معیار کے مطابق یا طے شدہ تھا جس میں لمبائی، چوڑائی سے چار گنا تھی اور اونچائی دوگنی تھی۔ تمام ہڑپّائی مقامات میں ایسی ہی اینٹیں استعمال ہوتی تھیں۔
یہ پوری آبادی دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ایک نسبتاً چھوٹا مگر کچھ اونچائی پر اور دوسرا کافی بڑا مگر نشیب میں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے ان کا نام بالترتیب ’حصار‘ یا ’قلعہ‘ (Citadel) اور ’نشیبی شہر‘ (Lower Town) رکھے ہیں۔ حصار یا قلعے کی اونچائی اس وجہ سے ہے کہ یہاں عمارتیں اینٹوں اور گارے کے چبوتروں پر اٹھائی گئی تھیں۔ اس کے ارد گرد دیوار بھی تھی جس کا مطلب ہے اسے جغرافیائی یا جسمانی طور پر بھی نشیبی شہر سے علاحدہ کیا گیا تھا۔
نشیبی شہر بھی دیوار بند تھا۔ بہت سی عمارتیں چبوتروں پر بنی ہوئی تھیں جو بنیاد کا بھی کام دیتے تھے۔ حساب لگاکر یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ایک مزدور لگ بھگ ایک مکعب میٹر مٹی روزانہ ڈھو لیتا ہوگاتو صرف بنیادوں کو جمانے کے لیے چالیس لاکھ مزدورں کی ضرورت پڑی ہوگی، جس کا مطلب ہے بہت بڑے پیمانے پر مزدوروں کو اکٹھا کیا گیا ہوگا۔
ایک اور بات پر بھی غور کیجیے۔ ایک مرتبہ چبوترے (Platforms) بن جانے کے بعد شہر میں ہونے والا تمام تعمیری کام ایک محدود علاقہ میں مرکوز رہتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے آبادی کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہوگا اور پھر اس کے مطابق کام پورا کیا گیا ہوگا۔ اس قسم کی منصوبہ بندی کا پتہ جن  چیزوں سے چلتا ہے ان میں اینٹیں بھی شامل ہیں جو خواہ دھوپ میں سکھائی گئی ہوں یا آگ میں پکائی گئی ہوں، ان کا تناسب بالکل معیار کے مطابق یا طے شدہ تھا جس میں لمبائی، چوڑائی سے چار گنا تھی اور اونچائی دوگنی تھی۔ تمام ہڑپّائی مقامات میں ایسی ہی اینٹیں استعمال ہوتی تھیں۔

ہڑپّا  کی درگت

گوکہ ہڑپّا دریافت کیے جانے والے مقامات میں پہلا مقام تھا، مگر اسے اینٹ چوروں نے بری طرح لوٹا ہے۔ الیگزینڈر کنگھم، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا AS1 کے پہلے ڈائریکٹر نے جنھیں کبھی کبھی ’بابائے محکمۂ آثار قدیمہ ہند‘ کہا جاتا ہے، 1875 میں اظہار کیا تھا کہ اس قدیم آثار سے جتنی اینٹیں اٹھاکرلے جائی گئی ہیں وہ لاہور اور ملتان کے درمیان ’’تقریباً 100 میل‘‘ کی ریلوے لائن پر بچھادینے کے لیے کافی ہوں گی۔ اس طرح اس قدیم مقام کے بہت سے عمارتی ڈھانچے تباہ ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں موہنجودڑو کا تحفظ بہت بہتر رہا۔
11
شکل: 1.8  موہنجودڑو کا خاکہ
تصویر:  1.8  موہنجودڑو کا ایک نالہ
نالے کی وسیع نکاس کو غور سے دیکھیے۔

3.1 نالیوں کا جال پھیلانا

ہڑپّا ئی شہروں کی سب سے ممتاز خصوصیات میں سے ایک وہاں کے پانی کی نکاس کا انتظام تھا۔ اگر آپ نچلے شہر کے منصوبے کو دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ سڑکوں اور گلیوں کو ایک لگ بھگ باقاعدہ ’جال‘ (Grid) کے انداز پر بنایا گیا تھا جو ایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سڑکیں اور نالیاں پہلے بنائی گئی تھیں اور بعد میں ان کی مناسبت سے مکانات تعمیر کیے گیے تھے۔ پھر اگر گھروں کا پانی ان نالیوں میں بہنا تھا تو ہر گھر کی ایک دیوار سڑک کے رخ پرضرورہوتی ہوگی۔

حصار (Citadels)

گوکہ زیادہ تر ہڑپّا ئی بستیوں میں مغربی رخ پر ایک چھوٹا سا اونچا حصہ، اور ایک بڑا مشرقی حصہ ہوتا ہے مگر ان میں بعض بعض جگہ کچھ تبدیلیاں بھی نظر آتی ہیں۔ دھولاویرا اور لوتھل (گجرات) کے مقامات پر پوری بستی کی قلعہ بندی کی گئی تھی اور شہر کے اندر بھی مختلف حصوں کو دیوار کے ذریعے الگ کیا گیا تھا۔ لوتھل کے اندر بالائی حصار کو دیوار بناکر الگ نہیں کیا گیا تھا مگر اسے اونچائی پر ہی بنایا گیا تھا۔

3.2:  رہائشی گھروں کا طرزِ تعمیر

موہنجودڑو کے نچلے شہر میں رہائشی گھروں کے نمونے ملتے ہیں۔ بہت سے مکانات کا مرکزی حصہ صحن ہوتا تھا جس کے چاروں طرف کمرے ہوتے تھے۔ صحن شاید گھریلو کاموں خصوصاً گرم خشک موسم میں کھانا پکانے اور بننے کے کام آتا تھا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ غالباً مکانوں میں تخلیے کا خاص خیال رکھا جاتا تھا- پہلی منزل کی دیواروں میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ صدر دروازہ سے اندر کے حصوں یا صحن کو براہِ راست نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔
ہر گھر میں اپنا علاحدہ غسل خانہ ہوتا تھا جس میں اینٹیں بچھی ہوتی تھیں اور اس کی نالیاں دیواروں کے پار گلیوں کے نالیوں سے جڑی ہوتی تھیں۔ کچھ گھروں میں دوسری منزل یا چھت پر جانے کے لیے سیڑھیوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ بہت سے گھروں میں کنوئیں ہوتے تھے، کبھی کبھی ان کنوؤں کو ایسے کمروں میں بنایا جاتا تھا کہ ان میں براہِ راست باہر سے داخلہ ممکن ہو، شاید انہیں راہگیر بھی استعمال کرتے تھے۔ محققین کا خیال ہے کہ موہنجودڑو میں لگ بھگ 700 کنوئیں تھے۔
12
صحن کہاں ہے؟ دوزینے کہاں ہیں؟ گھر میں داخل ہونے کا دروازہ کیسا لگتا ہے؟

جب قدیم ترین نظام کا انکشاف ہوا

 نالوں کے متعلق میکی نے بیان کیا تھا کہ: ’’اب تک دریافت ہوئے قدیم نظاموں میں یقینا یہ سب سے مکمل نظام ہے۔‘‘ ہر گھر سڑک کے نالے سے ملحق تھا۔ بڑی اور اہم نالیاں اینٹوں اور مسالے سے بنائی گئی تھیں اور انھیں اس طرح اینٹوں سے ڈھک دیا گیا تھا کہ صفائی کے لیے انھیں ہٹایا جاسکے۔ کہیں کہیں ان ڈھکنوں کے لیے چونے کا پتھر بھی استعمال کیا گیا تھا۔ گھر کی نالیاں پہلے ایک نابدان یا ہودی میں گرتی تھیں جن میں ٹھوس کوڑا نیچے بیٹھ جاتا تھا اور گندا پانی گلیوں کی نالی میں چلا جاتا تھا۔ جگہ جگہ کافی لمبی لمبی نکاسی نالیاں دی گئی تھیں اور ان کے نابدان تھے جو صفائی میں مدد دیتے تھے۔ آثار قدیمہ کا ایک عجوبہ یہ بھی ہے کہ ان نکاسی نالیوں کے پاس جگہ جگہ ’’کوڑے کی قسم کے کچھ چھوٹے چھوٹے ڈھیر بھی ان نکاسی نالیوں کے کنارے پڑے ملے ہیں جن میں زیادہ تر ریت تھا … جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نالیوں کی صفائی کے بعد کوڑا ہمیشہ نہیں اٹھایا جاتا تھا۔‘‘ (Ernest Mackay, Early Indus Civilisation, 1948 سے ماخوذ)
نکاس کا یہ نظام صرف بڑے شہروں کی ہی انوکھی خصوصیت نہیں تھی، یہ چھوٹی بستیوں میں بھی ملا ہے۔ جیسے لوتھل میں۔ جہاں مکانات گارے کی اینٹوں کے بنائے گئے ہیں، نالیاں وغیرہ پکی اینٹوں
سے بنی ہیں 

شکل: 1.9  یہ موہنجودڑو کے ایک بڑے گھر کا پیمائشی خاکہ ہے۔ کمرہ نمبر 6 میں ایک کنواں تھا۔
13
شکل:  1.10  حصار کا منصوبہ
کیا گودام اور بڑے حمام کے علاوہ بھی بالائی قطعہ پر کچھ اور تعمیرات ہیں؟

3.3  حصار

حصاروں پر ہمیں کچھ ایسی عمارتوں کے آثار بھی ملتے ہیں جو خاص طور پر عوامی کاموں میں استعمال ہوتی ہوں گی۔ ان میں گودام کی ایک بہت بڑی عمارت کا ڈھانچہ جس میں اب صرف نیچے کی اینٹوں کا فرش باقی ہے اور اوپر کا حصہ جو غالباً لکڑی کا تھا بہت پہلے گل سڑ کر ختم ہوگیا اور ایک بہت بڑا حمام شامل ہے۔
بڑا حمام: صحن میں ایک بہت بڑا مستطیل حوض تھا جس کے چاروں طرف برآمدہ یا راہ داری تھی۔ شمال اور جنوب کی سمت اس میں دو سیڑھیوں والے زینے تھے جو نیچے حوض تک جاتے تھے حمام کو کناروں پر اینٹوں اور کھریا مٹی کے مسالے کی مدد سے پانی رسنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے تین طرف کمرے بنے ہوئے تھے جن میں سے ایک کمرے میں بہت بڑا کنواں تھا۔حوض سے ایک بڑے نالے کے ذریعے پانی بہتا تھا۔ شمال کی طرف ایک گلی پار ایک چھوٹی عمارت تھی جس میں برآمدے کے دونوں طرف چار چار، یعنی کل آٹھ غسل خانے تھے۔ ہرغسل خانے میں ایک نالی تھی جو برآمدے سے گزرتے ہوئے ایک بڑے نالے سے مل جاتی تھی۔ اس عمارت کے انوکھے پن اور جس گِردوپیش میں یہ ملی ہے (حصار اور اس کی ممتاز عمارتیں) ان سے ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ یہ کسی خاص روایتی یا مذہبی قسم کے اشنان کے لیے بنائی گئی تھی۔

گفتگو کیجیے:

موہنجودڑو کی تعمیراتی خصوصیات سے کن کن منصوبہ کاریوں کا پتہ چلتا ہے؟

4۔ سماجی تنوع کی کھوج

4.1  تجہیز و تدفین 

آثار قدیمہ کے ماہرین کچھ ایسے طریقۂ کار اور حکمت عملیاں بھی استعمال کرتے ہیں جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جاسکے کہکیا کسی مخصوص تمدن (کلچر) میں رہنے والے لوگوں میں کچھ سماجی اور معاشی فرق بھی موجود تھے۔ ان میں دفن کے طریقوں کا مطالعہ بھی شامل ہے۔ آپ شاید مصر کے عظیم الشان اہراموں سے واقف ہیں جو ہڑپّا ئی تہذیب کے ہم عصرہیں۔ ان میں سے بہت سے اہرام شاہی مقبرے تھے جن میں بے حد دولت بھی دفن کی گئی تھی۔
ہڑپّا ئی مقامات میں عام طور پر مردے کو ایک گڈّھے میں رکھا جاتا تھا۔ کبھی کبھی دفن کرنے کے گڈّھوں (مدفنوں) کی بناوٹ میں بھی فرق ہوتا تھا۔ کچھ جگہوں پر گڈّھے کے خلا کے کناروں پر اینٹیں لگائی جاتی تھیں۔ کیا یہ تبدیلیاں کسی سماجی فرق کو ظاہر کرتی ہیں؟ اس کے متعلق ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
کچھ مدفنوں میں مٹی کے برتن اور زیورات بھی ملے ہیں جو شاید اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ اگلی زندگی میں استعمال میں آئیں گے۔ مردوں اور عورتوں دونوں کے مدفنوں میں زیورات ملے ہیں۔ حقیقت میں 1880 کے دہے کے درمیانی حصے میں ہڑپّا کے ایک قبرستان کی کھدائی میں ایک ایسا زیور جو سیپ کے چھلّوں، یشب (ایک نسبتاً کم قیمتی پتھر) کا منکا اور سیکڑوں بہت چھوٹے چھوٹے منکے (سوراخ دار دانے) ایک مرد کی کھوپڑی کے پاس ملے ہیں۔ کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ مردوں کو تانبے کے آئینوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ لیکن مجموعی طور پر ہڑپّا ئی لوگ مُردوں کے ساتھ قیمتی چیزوں کو دفن کرنےکے قائل نظر نہیں آتے۔
۔14
شکل: 1.11  تانبے کا ایک آئینہ 

 4.2  ’عیش و آرام‘ کی تلاش

سماجی تفریق کو سمجھنے کے لیے ایک  طریقۂ کار مصنوعات کا مطالعہ بھی ہے۔ انھیں ماہرین آثارقدیمہ موٹے طور پر افادیت پسندانہ (ضروریات زندگی کو پورا کرنے والی) اور عیش و آرام فراہم کرنے والی اشیا میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی چیزوں میں روزانہ استعمال کی چیزیں ہوتی ہیں جنھیں عام قسم کے مواد، جیسے پتھر اور مٹی وغیرہ سے آسانی سے بنالیا جاتا ہے۔ ان میں چکیاں، مٹی کے برتن، سوئیاں، (کھال رگڑنے والے) جھانوے وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور پوری بستی میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ماہرین ان اشیا کو آرام و آسائش کی چیزیں مانتے ہیں جو کمیاب ہوتی ہیں، قیمتی اور مقامی طور پر نہ ملنے والے مواد سے بنائی جاتی ہیں یا جن کے بنانے میں پیچیدہ قسم کی تکنیک استعمال ہوتی ہے۔ اس طرح چینی کے چھوٹے چھوٹے برتن (جن کا مواد پسے ہوئے ریت، سلیکا کو رنگوں اور گوند سے ملاکر تیار کیا جاتا ہے اور پھر آگ پر پکایا جاتا ہے)، غالباً بیش قیمت سمجھے جاتے تھے چونکہ ان کا بنانا مشکل تھا۔
15
شکل: 1.12  ایک منقش چینی کا برتن

’دفینے‘ (Hoards) ان خزانوں کو کہتے ہیں جنھیں کچھ لوگ کسی چیز،جیسے برتن میں رکھ کر کہیں احتیاط سے رکھ دیتے ہیں۔ یہ دفینے زیورات یا دھات کی شکل میں، دھات کا کام کرنے والے دوبارہ استعمال کے لیے کہیں رکھ دیتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے ان کے اصلی مالک انہیں نہیں اٹھا پاتے تو یہ اس وقت تک وہیں رکھے رہتے ہیں جب تک کوئی آثار قدیمہ کا ماہر انہیں دریافت نہیں کرلیتا۔

گفتگو کیجیے:

آج کل مُردوں کو ٹھکانے لگانے کے کیا کیا طریقے رائج ہیں؟ ان سے سماجی تفریق کا کتنا اظہار ہوتا ہے؟

ایسی صورت میں مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے جب ہمیں ایسی مصنوعات ملتی ہیں جو  روزانہ استعمال میں آنے والی ہیں۔ مثال کے طور پر سوت کاتنے والے تکلے میں لگا ایک سوراخ دار لنکتکلا (Spindle whorl) جو چینی مٹی جیسے کمیاب مواد سے بنا ہو۔ ان چیزوں کو ہم افادیت یا ضرورت کی اشیا مانیں گے یا عیش و آرام کی؟
اگر ہم ایسی اشیا کے پھیلاؤ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ایسے صناعی نمونے جو قیمتی مواد سے بنے ہوئے ہیں وہ زیادہ تر بڑی بڑی بستیوں— موہنجودڑو اور ہڑپّا میں مرکوز ہیں اور چھوٹی بستیوں میں یہ مشکل سے ہی نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر چینی مٹی کے بہت چھوٹے برتن، جو شاید عطر کی شیشیوں کے طور پر استعمال ہوتے ہوں گے، موہنجودڑو اور ہڑپّا میں ملے ہیں اور کالی بنگن جیسی چھوٹی بستیوں میں نہیں پائے گئے۔ سونا بھی بہت کمیاب تھا اور شاید آج کی طرح بہت قیمتی بھی۔ سونے کے جو بھی زیورات ملے ہیں انھیں ’دفینوں‘ سے حاصل کیا گیا تھا۔

5۔  دستکاری پیداوار کے بارے میں جانکاری

نقشہ :1 میں چن ہوڈرو کو تلاش کیجیے۔ یہ موہنجودڑو (125 ہیکیٹر رقبے) کے مقابلے میں ایک چھوٹی (7ہیکٹیر سے کم کی) بستی ہے اور صرف دستکاری اور صنعت کاری کے لیے وقف تھی۔ جس میں منکے بنانا، سیپ کی کٹائی کا کام، دھات کا کام، مُہریں بنانے کا کام اور اوزان بنانے کا کام ہوتا تھا۔
جن جن چیزوں سے منکے بنائے جاتے تھے ان کی اقسام حیرتناک تھیں: جیسے سنگ یمانی (کورنیلین، جو بہت خوش رنگ سرخ ہوتا تھا) یشب، حجری بلور (کرسٹل) گار (کوارٹز)،  ابرق، دھاتوں میں تانبا، کانسہ،سونا، اس کے علاوہ سیپ، چینی مٹی، پکائی یا جلی مٹی۔
کچھ منکے دو یا دو سے زیادہ پتھروں کو چپکا کر بنائے جاتے تھے۔ کچھ پتھروں پر سونا چڑھاکر اس کے منکے تیار کیے جاتے تھے۔ ان کی شکلیں بھی طرح طرح کی ہوتی تھیں۔ ٹکلی یا ٹکیا جیسی،  بیلن نما کُردی ،ڈھول جیسی، بیچ میں سے کٹی ہوئی۔ کچھ منکوں پرنقش و نگار بناکر یا رنگ کر سجایا جاتا تھا، کچھ منکوں پر طرح طرح کے ڈیزائن کھود ے گئے تھے۔ منکے بنانے کی تکنیک مواد کے فرق کے اعتبار سے بدل جاتی تھی۔ ابرق جو بہت نرم قسم کا پتھر ہے اس پر آسانی سے کام ہوجاتا تھا۔ کچھ منکے ابرق کے سفوف سے ایک لگدی بناکر ڈھالے جاتے تھے۔ اس سے انہیں مختلف شکلوں میں ڈھال لینے کا موقع مل جاتا تھا، جب کہ نسبتاً سخت قسم کے پتھروں کے منکوں میں اقلہد سی  شکلیں بنانا خاصا مشکل کام تھا۔ قدیم تکنیک کا مطالعہ کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کے سامنے یہ معمّہ اب بھی حل  نہیں ہوا ہے کہ ابرق کا اتنا چھوٹا منکا کیسے بنایا جاتا تھا۔
سجایا جاتا تھا، کچھ منکوں پر طرح طرح کے ڈیزائن کھود ےگئےتھے۔ منکے بنانے کی تکنیک مواد کے فرق کے اعتبار سے بدل جاتی تھی۔ ابرق جو بہت نرم قسم کا پتھر ہے اس پر آسانی سے کام ہوجاتا تھا۔ کچھ منکے ابرق کے سفوف سے ایک لگدی بناکر ڈھالے جاتے تھے۔ اس سے انہیں مختلف شکلوں میں ڈھال لینے کا موقع مل جاتا تھا، جب کہ نسبتاً سخت قسم کے پتھروں کے منکوں میں اقلید سی  شکلیں بنانا خاصا مشکل کام تھا۔ قدیم تکنیک کا مطالعہ کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کے سامنے یہ معمّہ اب بھی حل  نہیں ہوا ہے کہ ابرق کا اتنا چھوٹا منکا کیسے بنایا جاتا تھا۔

17

18

ماہرین آثار قدیمہ کے تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ ان منکوں کو بناتے وقت ان کے پیلاہٹ مائل مواد کو مختلف درجوں پر آگ میں تپانے سے ان کا سرخی مائل پتھر (کارنیلین) جیسا رنگ خودبخود حاصل ہوجاتا تھا۔ پہلے بے قاعدہ قسم کی گولیاں سی کاٹ لی جاتی تھیں پھر انہیں رفتہ رفتہ آخری شکل دی جاتی تھی۔ گھسنے، پالش کرنے اور سوراخ کرنے کے بعد عمل پورا ہوجاتا تھا۔ چن ہوڈرو، لوتھل اور تازہ طور پر دھولا ویرا میں بہت مخصوص قسم کے سوراخ کرنے والے آلے (ڈریلیں) بھی ملے ہیں۔
اگر آپ نقشہ: 1  میں ناگیشور اور بالاکوٹ کو تلاش کریں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ دونوں بستیاں ساحل کے پاس ہیں۔ یہ سیپ کی چیزیں بنانے کے خصوصی مرکز تھے۔ جن میں چوڑیاں، ڈوئیاں (کف گیر) اور کندہ کاری کے کام شامل تھے جو دوسری بستیوں میں لے جائے جاتے تھے۔ اسی طرح اس کا بھی امکان ہے کہ تیار شدہ مصنوعات (جیسے منکے) چن ہوڈرو اور لوتھل سے بڑے شہری مرکزوں، جیسے موہنجودڑو اور ہڑپّا بھیجے جاتے ہوں گے۔

19

 1.5 پیداواری مراکز کی شناخت

دستکاری پیداوار کے مراکز کی شناخت کے لیے ماہرین آثار قدیمہ عام طور پر مندرجہ ذیل چیزوں پر نگاہ رکھتے ہیں: خام مال جیسے پتھر کے ٹکڑے، ثابت سیپ، تانبے کا کچ دھات، اوزار، نیم تیار شدہ اشیا، منسوخ شدہ چیزیں اور کوڑاکباڑ۔ حقیقت میں کوڑا یا ضائع شدہ مواد دستکاری کے عمل کابہترین پیمانہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر سیپ یا پتھر کو کسی چیز کے بنانے کے لیے کاٹا جاتا ہے تو اس کے کچھ ٹکڑے جنھیں کوڑا سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہوگا، وہ پیداوار کے مقام پر ملیں گے۔

شکل: 1.14  مٹی کے برتن

ان میں سے کچھ دہلی کے نیشنل میوزیم اور لوتھل کے مقامی میوزیم میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

گفتگو کیجیے:

کیا اس باب میں جن پتھر کی مصنوعات کو پیش کیا گیا ہے وہ ضروریات زندگی میں مانی جائیں گی یا آرام و آسائش کے زمرے میں؟ کیا کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو دونوں زمروں میں شمار کی جائیں گی؟
کچھ کوڑے کے بڑے ٹکڑوں کو چھوٹی چیزیں بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا لیکن بہت چھوٹے ٹکڑے عام طور پر کام کی جگہوں میں ہی پڑے رہتے تھے۔ ایسے آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھوٹے مخصوص مراکز کے علاوہ دستکاری پیداوار کا کام موہنجودڑو اور ہڑپّا جیسے بڑے شہروں میں بھی چلتا تھا۔
20

شکل: 1.16  تانبے اورکانسے(برونز) کے برتن

6۔  سامان فراہم کرنے کی حکمت عملیاں

ظاہر ہے دست کاری پیداواروں کے لیے مختلف قسم کے مواد یا مال استعمال ہوتے تھے۔ ان میں سے مٹی جیسے کچھ مال تو مقامی طور پر ہی مل جاتے تھے لیکن پتھر، لکڑی اور دھاتوں جیسے بہت سے مال اس سیلابی میدانی علاقے سے باہر سے لائے جاتے ہوں گے۔ پکائی مٹی سے بنے بیل گاڑی کے کھلونوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمینی راستوں پر لوگوں اور مال کی آمد و رفت کے لیے یہی ذریعہ سب سے اہم تھا۔ سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے ساتھ اور ساحلی علاقوں میں آبی ذرائع آمدورفت بھی استعمال میں آتے تھے۔

6.1  برصغیر اور باہر سے آنے والی اشیا

ہڑپّا کے لوگ دستکاری سے وابستہ پیداوار کے لیے مختلف طریقوں سے مال حاصل کرتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے ناگیشور اور بالاکوٹ جیسی بستیاں ایسی جگہ پر بسائیں جہاں سیپ موجود تھا۔ ایسے ہی کچھ دوسرے مقامات ہیں۔ ایک افغانستان کے دور دراز علاقے میں شور توغئی تھا جو ایک نیلے رنگ کے، اس وقت کے قیمتی پتھر ’لاجورد‘ لَیپسلازولی) حاصل کرنے کے لیے بہترین مآخذ تھا، اور لوتھل جو سنگ یمانی (کورنیلین) کے مآخذ (گجرات میں بھروچ) کے قریب تھا، سیلکھڑی (جنوبی راجستھان اور گجرات سے) اور دھات (راجستھان سے) حاصل ہوتی تھی۔
خام مال حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ ممکن ہے یہ رہا ہو کہ جہاں ضرورت کا مال موجود ہو ان علاقوں میں مہمیں بھیجی جائیں۔ جیسے (تانبے کے لیے) کھیتری(راجستھان) کا علاقہ یا (سونے کے لیے) جنوبی ہندوستان۔ یہ مہمیں یا قافلے وہاں کی مقامی برادریوں سے تعلق قائم کرتے تھے۔بعض جگہ ہڑپّا ئی مصنوعات، جیسے ابرق کے چھوٹے چھوٹے منکے ان علاقوں میں دریافت ہونا اس تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کھیتری علاقے میں جسے ماہرین آثار قدیمہ نے ’گنیشور جودھپورکلچر‘ کا نام دیا ہے اور جہاں کی اہم خصوصیت ’غیر ہڑپّا ئی مٹی کے برتن اور تانبے کے برتنوں کا غیرمعمولی خزانہ ہے‘ وہاں یہ آثار موجود ہیں۔ ممکن ہے اس علاقے کے لوگ ہڑپّا ئیوں کو تانبا فراہم کرتے ہوں۔
21

6.2  دور دراز علاقوں سے تعلق

آثار قدیمہ کی تازہ دریافتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے بالکل جنوبی سرے پر واقع عُمان سے بھی تانبا لایا جاتا تھا۔ کیمیاوی تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ عُمانی تانبے اور ہڑپّا ئی مصنوعات دونوں میں نکلکے اجزا موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اصل بنیاد ایک تھی۔ اس کے علاوہ بھی آپسی تعلق کے آثار موجود ہیں۔ ایک خاص شکل کا برتن، ’ہڑپّا ئی مٹکا‘ جس پر کالی مٹی کی موٹی تہہ چڑھی ہوئی ہے، عُمانی مقامات پر پایا گیا ہے۔ یہ موٹی تہہ کسی بھی سیال کے رساؤ کو روکتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان برتنوں میں کیا بھر کر لے جایا جاتا تھا مگر یہ ممکن ہے کہ ہڑپّا ئی اس میں بھری چیز سے عُمانی تانبے کا لین دین کرتے ہوں۔
 میسوپوٹامیائی تحریروں میں، جنھیں تین ہزار سال قبل مسیحی دور (BCE) کی تاریخ دی جاسکتی ہے،  تانبے کے کسی ماگان نامی علاقے سے آنے کا تذکرہ ہے، جو ممکن ہے عُمان کا نام ہو، اور یہ بھی کسی قدر حیرتناک بات ہے کہ میسوپوٹامیہ کے مقامات میں پائے جانے والے تانبے میں بھی نکل کے اثرات موجود ہیں۔ آثار قدیمہ کی دوسری دریافتیں جن سے دور دراز کے تعلق کا اندازہ ہوتا ہے ہڑپّا ئی مُہریں، اوزان، پانسے اور منکے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ میسوپوٹامیہ کی تحریروں میں کسی دلمون کے علاقوں (غالباً جزیرۂ بحرین) مگانی اور ملوہا، جو ممکن ہے ہڑپّا ئی علاقے ہوں، ان کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں ملوہاکی پیداواروں کا ذکر ہے۔ سنگ یمانی، لاجورد، تانبے، سونے اور طرح طرح کی لکڑیوں کا ذکر ہے۔ میسوپوٹامیہ کے ایک فرضی خیال یا گمان میں کہا گیا ہے کہ ’’تمہارا پرندہ ’ہاجاپرندہ‘ ہوجائے، تمہاری آواز شاہی محل میں سنی جائے۔‘‘ کچھ ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ ’ہاجاپرندہ‘ مور تھا۔ کیا یہ نام اس کی آواز کی  نسبت سے دیا گیاتھا؟ ممکن ہے عُمان، بحرین اور میسوپوٹامیہ سے یہ تعلق سمندری راستے سے رہا ہو۔ میسوپوٹامیہ کی تحریروں میں ملوہا کو ’جہازیوں کا ملک‘ کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں مُہروں پر جہازوں اور کشتیوں کے نشانات بھی ملتے ہیں۔
22

شکل: 1.17  ہڑپّا ئی گھڑا جو عُمان میں ملا ہے

23
24
25

شکل: 1.18  

یہ ایک اُستوانی مُہر ہے جو میسوپوٹامیہ  کی مخصوص مُہر ہے مگر اس پر کوہان والے بیل کا نشان غالباً سندھ تہذیبی علاقوں سے لیا گیا ہوگا۔
شکل: 1.19  
’خلیج فارس‘ کی گول مُہر، جو بحرین میں ملی ہے، کبھی کبھی اس میں ہڑپّا ئی نشانات بھی مل جاتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ’’دلمون‘‘ کے مقامی اوزان ہڑپّا ئی معیاروں پر چلتے تھے۔

شکل: 1.20  ایک مُہر جس میں کشتی دکھائی گئی ہے ۔

گفتگو کیجیے:

ہڑپّا ئی علاقے سے، عمان، دلمون اور میسوپوٹامیہ کے لیے کن راستوں کا امکان تھا؟


26

شکل: 1.21  ایک پرانے سائن بورڈ پر حروف

7 ۔ مہُریں، رسم الخط اور اوزان
7.1  مہُریں اور مُہربندی
دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے کے لیے مُہروں اور مُہر لگانے کا طریقہ استعمال ہوتا تھا۔ ذرا سوچیے سامان کا ایک تھیلا ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا ہو تو اس کے منہ کو رسیوں سے کس کر باندھ دیا جاتا تھا اور اس کی گانٹھ پرکچھ گیلی مٹی لگاکر ایک یا زیادہ مُہریں دبادباکر لگادی جاتی تھیں جن سے اس پر نقش ابھر آتے تھے۔ اگر وہ تھیلا اس طرح پہنچ جاتا کہ اس پر لگی مُہریں سالم ہوتی تھیں تو اس کا مطلب تھا کہ اس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے۔ ان لگی ہوئی مُہروں سے بھیجنے والے کی شناخت بھی ہوجاتی تھی۔
7.2  ایک معمہّ رسم الخط
ہڑپّا ئی مُہروں میں عام طور پر ایک سطر کی تحریر بھی ہوتی ہے، جو غالباً مالک کا نام اور اس کاخطاب ہوگا۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس پرلگا نشان (جو عام طور پر کسی جانور کا ہوتا ہے) اَن پڑھ لوگوں کے لیے کچھ مطلب بھی بیان کرتا ہوگا۔ 
زیادہ تر تحریریں مختصر ہیں، ان میں سب سے طویل تحریریں 26 الفاظ پر مشتمل ہیں۔ حالانکہ یہ رسم الخط اب تک پڑھا نہیں جاسکا ہے۔ لیکن بظاہر یہ حروفی یا ابجدی نہیں تھا (جس میں ہر نشاں (حرف) یا کوئی مصوتہ ہوتا ہے یا حرف صحیح ، چونکہ اس میں بہت زیادہ اشارے یا نشانات ہیں۔ لگ بھگ 375 اور 400 کے درمیان۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ دائیں سے بائیں طرف لکھا جاتا تھا۔ کیونکہ کچھ مُہروں میں سیدھے ہاتھ کی طرف نشانوں میں نسبتاً زیادہ فاصلہ ہے جب کہ بائیں طرف پیچیدہ ہوجاتا ہے، لگتا ہے کھودنے والے نے دائیں طرف سے کام شروع کیا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے جگہ کم رہ گئی۔
ذرا یہ بھی دیکھیے کہ جن چیزوں پر یہ تحریر ملی ہے وہ کتنے قسم کی ہیں: مُہریں، تانبے کے اوزار، منکوں کے کنار، تانبے اور پکائی مٹی کی ٹکیاں، زیورات، ہڈی کی چھڑیں، یہاں تک کہ ایک پرانا سائن بورڈ۔ یاد رکھیے کہ ممکن ہے کچھ ضائع ہوجانے والی اشیا پر بھی تحریریں ہوسکتی تھی۔ کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ خواندگی وسیع پیمانے پرموجود تھی؟
27
شکل: 1.22  روپڑ کی مُہربندی۔
’’ اس میں کتنی مُہریں لگائی گئی ہیں؟‘‘

گفتگو کیجیے:

آج کل دنیا میں دور دراز علاقوں کے درمیان اشیا کے لین دین کے کون سے طریقے ہیں؟ ان کے فوائد اور مسائل کیا ہیں؟
28

شکل: 1.23  ایک پجاری بادشاہ

7.3  اوزان

لین دین باقاعدہ اوزان کی بنیاد پر منظم تھا۔ یہ وزن یا باٹ عام طور پر ایک پتھر ’بلور‘ اور ’سنگ یمانی‘ کا مرکب ’چَرٹ‘ کے ہوتے تھے اور عام طور پر مکعب شکل کے ہوتے تھے۔ (شکل 1.2) مگر ان پر کچھ نشان نہیں ہوتے تھے۔ چھوٹے اوزان دوہرے طریقے کی بنیاد پر چلتے تھے 1، 2، 4، 8، 16، 32 وغیرہ سے 12,800 تک) جب کہ بڑے اوزان اعشاریہ کے نظام پر تھے۔ چھوٹے اوزان غالباً زیورات اور منکوں کی تول میں کام آتے تھے ۔ دھات کے پلڑوں والے ترازو بھی ملے ہیں۔

8۔  قدیم اقتدار

پیچیدہ قسم کے فیصلے لیے جانے کی اوران کے نفاذ کی علامتیں بھی ہڑپّا ئی سوسائٹی میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہڑپّا ئی مصنوعات کی حیرتناک حد تک یکسانیت کو ہی لیجیے۔ برتنوں (شکل 1.14)، مُہروں، اوزان اور اینٹوں کی یکسانیت۔ خاص طور پر اینٹیں، جو ظاہر ہے کسی ایک مرکز پر نہیں بنتی تھیں۔جموں سے گجرات تک کے پورے علاقے میں بالکل یکساں تناسب کی تھیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر بستیاں خاص حکمت عملی کے ساتھ مخصوص محل وقوع میں بنائی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ اینٹیں بنانے، زبردست دیواریں چننے اور چبوترے بنانے کے لیے بڑی تعداد میں مزدور جمع کیے جاتے تھے۔
ان کاموں کو کون منظم کرتا تھا؟

8.1  محلات اور بادشاہ

اگرہم اقتدار کے کسی مرکز کو تلاش کرنا چاہیں یا ان کے مظاہر دیکھنا چاہیں جو صاحبان اقتدار تھے تو ماہرین آثار قدیمہ ہمیں اس کا کوئی فوری جواب نہیں دے سکتے۔ موہنجودڑو میں ملی ایک بڑی عمارت کو ’محل‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ مگر وہاں کچھ شاندار قسم کی چیزیں نہیں ملی ہیں۔ ایک مجسمے کو ’پجاری بادشاہ‘ کا لقب دے دیا گیا تھا، جو آج بھی باقی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ ماہرین میسوپوٹامیہ کی تاریخ سے اور وہاں کے ’’پجاری بادشاہ‘‘ سے واقف تھے انہوں نے سندھ علاقے میں بھی اس کا متبادل تلاش کرلیا۔ مگر جیسا کہ ہم دیکھیں گے (صفحہ23) ہڑپّا تہذیب کے رسومی عمل ابھی تک صحیح طور پر نہیں سمجھے جاسکے ہیں اور نہ اس بات کو جاننے کا کوئی طریقہ ہے کہ وہ لوگ جو   یہ رسوم عمل میں لاتے تھے ان کے پاس سیاسی اقتدار بھی تھا۔ 

گفتگو کیجیے:

کیا ہڑپّا ئی سماج میں ہر شخص برابر تھا؟

کچھ ماہرین آثار قدیمہ کاخیال ہے کہ ہڑپّا ئی سماج میں کوئی حکمراں تھا ہی نہیں اور لوگ مساویانہ طرز  زندگی سے خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہاں ایک حکمراں کے بجائے کئی حکمراں تھے۔ یعنی موہنجودڑو کا ایک حکمراں تھا اور ہڑپّاکادوسرا۔ اسی طرح اور بھی حکمراں تھے۔ اس سلسلے میں کچھ اور ماہرین کی رائے ہے کہ وہاں ایک ہی ریاست تھی جس کے لیے وہ مصنوعات کی مماثلت، منصوبہ بند بستیوں کی موجودگی، اینٹوں کے حجم کے تناسب سے یکساں معیار، اور خام مال کی فراہمی کے مطابق بستیوں کا قیام وغیرہ کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ ابھی تک یہ آخری نظریہ ہی سب سے زیادہ قرین قیاس لگتا ہے کیونکہ ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے کہ تمام سماجوں یا بستیوں نے مل کر اتنے پیچیدہ قسم کے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کیا ہو۔

9۔  تہذیب کا خاتمہ

یہ شہادتیں موجود ہیں کہ 1800 قبل مسیحی تک چولستان جیسے خِطّوں میں زیادہ تر ترقی یافتہ ہڑپّا ئی مقامات ترک کیے جاچکے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی گجرات، ہریانہ اور مغربی اترپردیش کی نئی بستیوں میں آبادی پھیل رہی تھی۔
بعض ان ہڑپّا ئی مقامات میں جو 1900 قبل مسیح کے بعد بھی چلتے رہے ان کے مادی تمدن میں تبدیلیاں آنی شروع ہوگئی تھیں، جن میں خصوصی طور پر تہذیب کی ممتاز مصنوعات، اوزان، مُہروں، مخصوص منکوں وغیرہ کا غائب ہوجانا تھا۔ تحریر، دور دراز مقامات سے تجارت اور دستکاری میں تخصیص بھی غائب ہوگئی تھی۔ عام طور پر بہت کم چیزیں تیار ہوتی تھیں اور ان میں بہت کم مواد استعمال ہوتا تھا۔ مکانات کی تعمیر کی تکنیک میں زوال آیا اور بڑی عوامی عمارتیں بننی بند ہوگئیں۔ بعد کے ہڑپّا ئی تمدن یا ’جانشیں تمدنوں‘ میں مجموعی طور پر مصنوعات اور بستیوں سے دیہی طرز زندگی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
یہ تبدیلیاں کیا لائیں؟ اس سلسلے میں بہت سی توضیحات پیش کی گئی ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی سے لے کر جنگلوں کی تباہی، زبردست سیلاب، دریاؤں کاراستہ بدل لینا  یا سوکھ جانا اور زمین کے ضرورت سے زیادہ استعمال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ وجوہات کچھ بستیوں کے لیے صادق آتی ہیں، مگر ان سے پوری تہذیب کے ختم ہوجانے کی وضاحت نہیں ہوتی۔ 

29
ایسا لگتا ہے کہ ہڑپّا کی ریاست کا خاتمہ ہوگیاجو اتحاد قائم رکھنے میں ایک مضبوط طاقت تھی۔ اس کیفیت کی شہادت مُہروں، مخصوص قسم کے منکوں اور مٹی کے برتنوں کے غائب ہوجانے اور نظام اوزان کے بدلے مقامی اوزان کے آجانے سے ملتی ہے۔ اس کے بعد برصغیر کو اپنے ایک بالکل مختلف علاقے میں شہروں کے ابھرنے اور ترقی کرنے کے لیے ہزار سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا تھا۔

کسی ’’حملے‘‘ کی شہادت

ڈیڈمین لین 3 فٹ سے 6 فٹ کے درمیان بدلتی چوڑائی کی ایک پتلی سی رہ گزر ہے۔ اس موڑ پر جہاں یہ مغرب کی طرف مڑتی ہے، کسی بالغ انسان کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا، اوپری دھڑ کی ہڈیاں اور اوپری بازو کی ہڈیاں بھربھری حالت میں 4 فٹ 2 انچ گہرائی میں ملیں۔ اس کا جسم گلی میں افقی سمتوں میں پیٹھ کے بل پڑا تھا۔ مغرب کی طرف 15 انچ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی کھوپڑی کی کچھ کرچیں پڑی تھیں۔ انہیں آثار کی وجہ سے اس گلی کا یہ نام رکھا گیا۔
(جان مارشل،موہنجودڑو اینڈدی انڈس سیولائزیشن، 1931)
موہنجودڑو کے اسی حصے سے 1925 میں 16 ایسے آدمیوں کے ڈھانچے نکلے تھے جو مرتے وقت بھی اپنے زیورات پہنے ہوئے تھے۔
بہت بعد میں 1947 میں آر ۔ای۔ ایم وھیلر،آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا (ASI)کے ڈائریکٹر جنرل نے اس آثاری شہادت کو رگ وید کے ایک بیان سے مطابق کرنے کی کوشش کی۔ رگ وید اس برّصغیر کی سب سے پرانی مذہبی تحریر مانی جاتی ہے۔ اس نے لکھا تھا:
رگ وید میں ’پور‘ کا ذکر ہے، جس کے معنی ’قلعے کا پشتہ‘، ’قلعہ‘ یا ’مورچہ‘ کے ہوتے ہیں۔ آریائی جنگ کا دیوتا پورم دارا، (قلع شکن) کہلاتا تھا۔ وہ حصار یا قلعے کہاں ہیں، یا کہاں تھے؟ ماضی میں یہ تصور کیاجاتا تھا کہ یہ صرف اساطیری ہیں… ہڑپّا کی تازہ ترین کھدائی نے ممکن ہے یہ تصویر بدل دی ہو۔ یہاں ہمیں بنیادی طور پر ایک غیر آریائی انتہائی ترقی یافتہ تہدیب نظر آتی ہے، جو زبردست قلعہ بندی کا طریقہ استعمال کرتے تھے… اس مضبوط اور مستحکم تہذیب کو کس چیز نے برباد کیا؟ ماحولیاتی، معاشیاتی یا سیاسی خرابیاں اسے کمزور کرسکتی تھیں، مگر آخر میں اس کے پوری طرح نیست و نابود ہوجانے میں کسی طے کردہ اور وسیع پیمانہ کی کوشش کا زیادہ امکان محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ موہنجودڑوکے آخری وقتوں میں مرد ، عورتیں اور بچوں کو وہاں قتل کر دیا گیا ہو۔ صورت حال پر موجود شراہد اندر کو اس کاذمہ دار  ٹھہراتے ہیں ۔ 
(از  آر-ای-ایم وھیلرــہڑپّا  1946، اینشینٹ انڈیا، 1947)
1960 میں ایک ماہر آثارقدیمہ جارج ڈیلس نے موہنجودڑو میں کسی قتل عام کے تصور پراعتراض کیا تھا۔ اس نے دکھایا تھا کہ اس مقام سے حاصل شدہ کھوپڑیاں ایک ہی زمانے کی نہیں ہیں۔ ’’جب کہ ان میں سے کچھ یقینا قتل عام کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر زیادہ تر ہڈیاں ایسی صورت میں پائی گئی ہیں جنھیں انتہائی لاپرواہی اور بے ادبانہ انداز میں دفن کیا گیاتھا۔ شہر کے سب سے آخری دور میں جنگی تباہ کاری کے آثار موجود نہیں ہیں۔ بڑے پیمانہ پر جلنے کے آثاربھی نہیں ہیں۔ اسلحے اور چاروں طرف سے جنگی سازوسامان سے گھرے، مسلح سپاہیوں کی لاشوں کے ڈھیروں کے نشان نہیں ہیں۔ حصار یا اونچا چبوترہ، پورے شہر میں واحد قلع بند علاقہ تھاتاہم اس سے بھی آخری مدافعت کے کوئی آثار نہیں ملتے۔
(از  جی - ایف - ڈیلســـ دی متھیکل میسیکرایٹ موہنجودڑو، ایکسپیڈیشن 1964)
جیسا کہ آپ نے دیکھا، موجود مواد کا بغور اور سنجیدہ مطالعہ کبھی کبھی پچھلی تعبیرات کو بدل سکتاہے۔

گفتگو کیجیے: 

نقشہ 1، 2 اور 4 کے درمیان کیا مماثلتیں اور کیا فرق ہیں؟

10۔  ہڑپّا ئی تہذیب کی دریافت

اب تک ہم نے ہڑپّا ئی تہذیب کے مختلف رخوں کا اس سیاق وسباق میں مطالعہ کیا ہے کہ دلچسپ تاریخ کے کچھ ٹکڑوں کو مجتمع کرنے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ نے مادّی باقیات اور آثار کی شہادتوں کو کس طرح استعمال کیا ہے۔ مگر اس سلسلے کی ایک اور کہانی بھی ہے۔وہ یہ کہ ماہرین نے اس ’’تہذیب‘‘ کو کیسے دریافت کیا؟
جب ہڑپّا ئی شہر تباہ و برباد ہوئے تو لوگ رفتہ رفتہ ان کے بارے میں سب کچھ فراموش کرتے چلے گئے۔ جب لگ بھگ ایک ہزار سال بعد مرد وعورتوں نے اس علاقے میں دوبارہ رہنا شروع کیا تو ان عجیب و غریب مصنوعات کے بارے میں جو کبھی کبھی سیلاب کی رَو یا مٹی کی کٹائی کے بعد اوپر نظر آجاتی تھیں یا کھیت جوتتے وقت یا خزانوں کی تلاش میں مل جاتی تھیں، انھیں دیکھ کر ان لوگوں کی سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا کیا کیا جائے۔

10.1  کننگھم کی غلط فہمی

جب اے ایس آئی کے پہلے ڈائرکٹر جنرل کننگھم نے انیسویں صدی کے درمیانی حصے میںپہلی بار آثار قدیمہ کی کھدائی شروع کروائی تو اس وقت تک ماہرین آثار قدیمہ اپنی تحقیق و تلاش کے سلسلے میں لکھے ہوئے الفاظ (جانی مانی تحریریں اور کتبات) کی فراہم کردہ معلومات و ہدایات کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔ حقیقت میں کننگھمکی بنیادی دلچسپی اولین تاریخی دور (تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی دور سے چوتھی صدی مسیحی تک)، اور اس کے بعد کے ادوار کے مطالعے میں تھی۔ اس نے ابتدائی بستیوں کی نشاندہی کے لیے ان چینی بودھ سیّاحوں کے چھوڑے ہوئے تحریری مواد کو استعمال کیا جو اس برّصغیر میں چوتھی صدی عیسوی سے ساتویں صدی کے درمیان قدیم مقامات کی زیارت کی تھی۔ سروے کے دوران کننگھم نے ترجمہ کیے ہوئے مستند کتبے بھی جمع کیے۔جب اس نے کچھ مقامات کی کھدائی کی تواس نے کچھ ایسے مصنوعات جمع کرنا چاہے تھے جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ ان کی کچھ تہذیبی قدر یا اہمیت ہے۔
ہڑپّا جیسا کوئی مقام، جو چینی سیّاحوں کے سفر کی فہرست کا حصہ نہیں تھا اور اس وقت کوئی قدیمی تاریخی شہر بھی نہیں مانا جاتا تھا، وہ اس کی تلاش و تحقیق کے خاکے میں پوری طرح مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ حالانکہ ہڑپّا ئی مصنوعات انیسویں صدی میں بھی متعدد جگہ ملتے رہے تھے اور ان میں سے کچھ کننگھمکو ملے تھے ، مگر اسے یہ احساس نہیں تھا۔ کہ یہ کتنے قدیم ہیں۔
کننگھم کو ایک ہڑپّا ئی مُہر کسی انگریز نے دی تھی اس نے اس چیز کا ذکر تو کیا مگر غلطی سے اسے اسی دور میں رکھنے کی کوشش کی جس دور سے وہ خود واقف تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح اس کا بھی یہی خیال تھا کہ ہندوستانی تاریخ وادی گنگا کے شہروں سے شروع ہوتی ہے (ملاحظہ ہو باب 2) اس کے مطمح نظر یا مطالعے کے فوکس کے مطابق اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے ہڑپّا کی اہمیت کو نظرانداز کیا۔
30
شکل: 1.24  
بہت پہلے دریافت شدہ ہڑپّا ئی مُہر کا کنگھم کا بنایا ہوا خاکہ

مقامات، ٹیلے، پرتیں یا طبقے

آثار قدیمہ کے مقامات پیداواراوراشیااور عمارتوں کے ترک کرنے  سے بنتے ہیں۔ جب لوگ متواتر کسی ایک ہی جگہ رہتے ہیں تو وہاں کی زمین کے بار بار استعمال کے نتیجے میں وہاں دستکاری اور  پیشہ ورانہ کوڑا کرکٹ جمع ہوتا چلا جاتا ہے، جسے ہم ’ٹیلہ‘ (ماؤنڈ) کہتے ہیں۔ مختصر یاپھر مستقل طور پر اس جگہ کو ترک کردینے کے نتیجے میں اس قطعۂ زمین پر ہوا، پانی یا زمینی کٹاؤ تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں۔ انسانی آبادیوں کا پتہ ان قدیم موادوں یا سامانوں سے چلتا ہے جو ایک دوسرے سے رنگ، بناوٹ اور ان میں پائے جانے والے مصنوعات کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔ متروک شدہ یا غیر آبادمقامات، جنھیں’’ بانجھ پرتیں‘‘، کہتے ہیں، انھیں اس قسم کے نشانات کی عدم موجودگی سے پہچانا جاسکتا ہے۔
عام طور پر سب سے نچلی پرتیں سب سے پرانی ہوتی ہیں اور سب سے اونچی سب سے نئی ہوتی ہیں۔ ان پرتوں کا مطالعہ علم طبقات الارض (اسٹریٹی گرافی) کہلاتا ہے۔ ان طبقوں میں پائے جانے والے مصنوعات مختلف تمدنوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح ہم کو کسی مقام کے لیے تمدنوں کا ترتیب وار سلسلہ مل جاتا ہے۔

10.2  ایک نئی ’قدیم تہذیب‘

اس کے بعد ہڑپّا میں دیارام سا ہنی جیسے ماہرین آثارِ قدیمہ نے بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ان طبقوں سے مُہریں برآمد کیں جوابتدائی تاریخی سطحوں سے یقینا کافی قدیم تھے۔ اسی وقت سے ان کی اہمیت کا احساس شروع ہوا۔ ایک اور ماہر آثار قدیمہ رکھل داس بنرجی نے موہنجودڑو سے ایسی ہی مُہریں برآمد کیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ مقامات ایک ہی قدیم تمدن کا حصہ ہیں۔ 1924 میں ان دریافتوں کی بنیاد پر جان مارشل( ڈائرکٹر جنرل اے ایس آئی) نے دنیاکے سامنے سندھ کی گھاٹی میں نئی تہذیب کے انکشاف کا اعلان کیا۔ جیسا کہ ایس این رائے نے ’دی اسٹوری آف انڈین آر کیولوجی‘میں لکھا تھا ’’مارشل نے ہندوستان کو جہاں پایا تھا وہاں سے وہ اسے تین ہزار سال قدیم چھوڑ کر گیا‘‘۔ ایسا اس لیے ہوا کہ بالکل ایسی ہی مُہریں میسوپوٹامیہ میں مل چکی تھیں، مگر اس وقت تک انہیں پہچانا نہیں گیا تھا۔ اس وقت دنیا نے صرف ایک نئی تہذیب کو ہی نہیں پہچانا بلکہ یہ بھی معلوم کیا کہ وہ میسوپوٹامیہ تہذیب کی ہم عصر بھی تھی۔
اصل میں اے۔ایس۔آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے جان مارشل کی کارکردگی ہندوستانی آثارِ قدیمہ میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھی۔یہ ہندوستان میں پہلا پیشہ ور ماہر آثار قدیمہ تھا اور یونان اور کریٹ میں اس کام کا تجربہ لے کر یہاں آیا تھا۔مزید برآں وہ بھی کننگھم کی طرح حیرت انگیز دریافتوںمیں دلچسپی رکھتاتھا۔ساتھ ہی روزمرہ کی طرز زندگی دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ 
31
32
مارشل مقام کی طبقاتی خصوصیت کو نظرانداز کرتے ہوئے پورے ٹیلے کو افقی سمت میں یکساں تقسیم کرکے ان پر کھدائی کرنا چاہتا تھا جس کا مطلب تھا کہ کسی ایک اکائی سے حاصل ہونے والے تمام مصنوعات کو ایک گروپ میں رکھا جاتا، خواہ وہ طبقاتی اعتبار سے مختلف تہوں سے حاصل کیے گیے ہوں۔ اس کے نتیجے میں ان دریافتوں کے سیاق یا متعلقہ کیفیتوں کے بارے میں انتہائی اہم معلومات اس طرح ضائع ہوجاتیں کہ پھر انھیں کبھی دوبارہ حاصل نہیں کیاجاسکتا تھا۔

10.3:  نئی تکنیکیں اور سوالات

آر ای ایم وھیلر نے اے ایس آئی کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے1944میں چارج لینے کے بعداس مسئلہ کی اصلاح کی۔ وھیلرنے تسلیم کیا کہ تکنیکی انداز میں ٹیلے کو یکساں افقی خطوط کے مطابق کھودنے کے بجائے اس کی طبقاتی تقسیم پر کھدائی کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ مزیدبرآں سابق فوجی بریگیڈیر ہونے کی وجہ سے یہ آثار قدیمہ کی تربیت یامہارت کے لیے اپنے ساتھ ایک فوجی پیمائش کا آلہ لائے تھے۔
ہڑپّا ئی تہذیب کی سرحدیں موجودہ قومی سرحدوں سے بہت کم یا نہ کے برابرتعلقرکھتی ہیں۔ بہرحال برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام سے اس کے اہم مقامات اب پاکستان کے علاقے میں ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانی ماہرین آثار قدیمہ کو ایک نئی ترغیب ملی کہ وہ ہندوستان میں بھی ایسے مقامات تلاش کریں۔ کَچھمیں ایک وسیع سروے کے نتیجے میں ہڑپّا ئی بستیوں کی خاصی بڑی تعدادکاانکشاف ہوااور پھر پنجاب اور ہریانہ میں تحقیق و تلاش نے ہڑپّا ئی مقامات کی فہرست میں مزید اضافہ کیا۔ اب کالی بنگا، لوتھل، راکھی گڑھی اور تازہ ترین دھولاویرا مقامات دریافت کیے جاچکے ہیں۔ ان کی کھدائی اور تحقیق ہوچکی ہے۔نئی تحقیقات جاری ہیں۔
پچھلے کچھ دہوں میں کچھ نئے مسائل بھی ابھرے ہیں۔ ایک طرف کچھ ماہرین آثارِ قدیمہ اگر تمدنی ترتیب یا سلسلے کی تلاش میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو دوسری طرف کچھ ماہرین کسی خاص مقام کے وقوعے کی منطق یا وجہ سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ لوگ ان مصنوعات کی تعداد یا بہتات کے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے توسط سے یہ مصنوعات کے اس وقت کے استعمال کو مرتب کرنا چاہتے ہیں۔
1980 کے دہے سے ہڑپّا ئی تہذیب میں بین الاقوامی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔ برِّصغیر اوردوسرے ملکوں کے ماہرین مل کر ہڑپّا اور موہنجودڑو کے مقامات پر کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جدید سائنسی تکنیک بھی استعمال کر رہے ہیں، جن میں اوپری پرت یا سطح کی کھوج کرکے مٹی کے اثرات معلوم کرنا، پتھروں، دھاتوں، پودوں اور جانوروں کے بچے کھچے حصے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی یا بیکار قسم کی چیزوں کا تجزیہ کرنا شامل ہے۔ ان تحقیقوں سے مستقبل میں دلچسپ نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے۔

گفتگو کیجیے: 

اس باب کے کن موضوعات میں کننگھم دلچسپی لے سکتا تھا؟ 1947 کے بعد سے کون سے مسائل قابل توجہ رہے ہیں؟

وہیلرہڑپّا  میں 

شروع کے ماہرین آثار قدیمہ میں ایک مہم جوئی کی سی تحریک کارفرما تھی۔ وھیلر نے ہڑپّا میں اپنے تجربے کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے:
مجھے یاد ہے کہ 1944 کی مئی کی ایک گرم رات میں ٹانگے کی چار میل لمبی مسافت نے مجھے، (یعنی تازہ ترین مقررہ ڈائرکٹر جنرل آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا‘) ایک مقامی مسلمان افسر کے ساتھ چھوٹے سے ’ہڑپّا ‘ نامی اسٹیشن پر اُتر کر ڈھلوان ریتیلی سڑک سے ہوتے ہوئے اس قدیم مقام کے چاندنی میں نہائے ریت کے ٹیلوں کے پاس بنے چھوٹے سے ریسٹ ہاؤس تک پہنچا۔ میرے بے چین ساتھی کی اس تنبیہ کے ساتھ کہ ہمیں اپنا معائنہ صبح پانچ بج کر تیس منٹ سے شروع کرکے ساڑھے سات بجے تک ختم کرنا ضروری ہے ’’اس کے بعد ناقابِل برداشت گرمی ہوجائے گی‘‘، ہم ایک سیاہ فام پنکھا کھینچنے والے کے ساتھ جوداخلے کے دروازے کے پاس ساکت بیٹھا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے۔ آس پاس کے لَق و دق ویرانے سے اٹھتی لاتعداد گیدڑوں کی آوازیں ہی رات کی خاموش فضا کو متواتر توڑ رہی تھیں۔
اگلی صبح بالکل ٹھیک ساڑھے پانچ بجے ہمارا چھوٹا سا جلوس ریت کے ڈھیروں کی طرف قدم بڑھا رہاتھا۔ دس منٹ میں ہی میں رک کر کھڑا ہوگیا اور اپنی آنکھیں ملتے ہوئے وہاں کے سب سے بڑے ٹیلے کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ چھ گھنٹے بعد بھی میرا حیران وپریشان عملہ اور میں اس چلچلاتی دھوپ میں اپنی کدالوں اور چاقوؤں کی مدد سے کام میں لگے ہوئے تھے۔ (معافی کے ساتھ) یہ دیوانے صاحب بہت ہی شدید انداز میں قدم بڑھا رہے ہیں۔ 
(از آر ای ایم وھیلر ’’مائی آرکیولوجیکل مشن ٹو انڈیا اینڈ پاکستان‘‘ 1976)

11۔  ماضی کے ٹکڑوں کو جوڑنے کے مسائل

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہڑپّا ئی رسم الخط اس قدیم تہذیب کو سمجھنے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔ اس کے بجائے کچھ مواد یا مادی شہادتیں ہیں جو ہڑپّا کے لوگوں کی زندگی کی ترتیب یا تدوین میں ماہرین آثار قدیمہ کی مدد کرتی ہیں۔ یہ مواد مٹی کے برتن، اوزار، زیورات، گھریلو سازوسامان وغیرہ ہوتے ہیں۔ نامیاتی اشیا جیسے کپڑا، چمڑا، لکڑی اور نرکل وغیرہ عام طور پر سڑ گل جاتے ہیں۔ خصوصاً منطقہ حارّہ کے خطے میں جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ پتھر، پکائی مٹی دھات وغیرہ ہیں۔
ایک اہم بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ صرف ٹوٹی پھوٹی اور ناکارہ قسم کی چیزیں ہی بے کار سمجھ کر پھینکی گئی ہوں گی۔ دوسری چیزوں کو ممکن ہے دوبارہ قابِل استعمال بنا لیا گیا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں جو قیمتی اشیا بالکل صحیح حالت میں ملتی ہیں وہ یا تو ماضی میں کبھی گم ہوگئی ہوں گی یا ایسے خزینے کے طور پر رکھی گئی ہوں گی جسے دوبارہ کبھی نکالا نہ گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ اشیا اتفاقی ہوتی ہیں نہ کہ وہاں کی عمومی صورتِ حال کی اشیا۔

11.1  دریافت شدہ چیزوں کی درجہ بندی

آثار قدیمہ کی مہم جوئی میں مصنوعات کو دریافت کرلینا صرف ابتدا یا پہلا قدم ہے اس کے بعد ماہرین اس کی درجہ بندی کرتے ہیں۔درجہ بندی کے معاملے میں ایک آسان اصول انہیں ان کے مواد کی بنیاد پر تقسیم کیا جانا ہے۔ جیسے پتھر، مٹی، دھات، ہڈی، ہاتھی دانت وغیرہ۔ اگلا اور اس سے زیادہ پیچیدہ درجہ ان کو ان کے استعمال یا کاموں کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔ ماہرین کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کوئی مصنوع، مثال کے طور پر کوئی اوزار تھا، زیور تھا یا دونوں کام میں آتا تھا یا کوئی ایسی چیز ہے جو مذہبی یا کسی رسم کی ادائیگی میں کام آتی تھی۔
کسی مصنوع کے استعمال یا کام کا عام طور پر کسی آج کی چیز سے اندازہ لگایا جاتا ہے۔ منکے، چکیاں، پتھر کے پھل اور برتن، ان کی بالکل واضح مثالیں ہیں۔ ماہرین کسی مصنوع کے استعمال کا اندازہ اس سیاق یا گردوپیش سے بھی لگاتے ہیں جس میں یہ پائی گئی تھی۔ کیا یہ کسی گھر میں ملی تھی، کسی نالی میں تھی، قبر میں تھی، بھٹّی میں تھی؟
کبھی کبھی ماہرین آثار قدیمہ کو کچھ بالواسطہ قسم کی شہادتوں کی مدد سے ترتیب و تدوین کا راستہ بھی اپنانا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ہڑپّا ئی مقامات پر روئی کے آثار موجود ہیں مگر ان کے کپڑوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ہمیں بالواسطہ قسم کی شہادتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس میں بت تراشی کے نمونوں میں دکھائے گئے انداز بھی شامل ہیں۔
ماہرین کو مختلف حوالوں کے کچھ نظام یا خاکے بھی ابھارنے ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ جس وقت پہلی ہڑپّا ئی مُہر ملی تو اسے اس وقت تک نہ سمجھا جاسکا جب تک ماہرین کے پاس وہ سیاق یا مناسبت نہ فراہم ہوگئی جس میں اسے رکھا جاسکتا تھا۔ اس کے اس تمدنی ماحول یا ترتیب کے اعتبار سے بھی جس میں یہ ملی تھی اور اس تقابل کے اعتبار سے بھی جو میسوپوٹامیہ کی دریافتوں کی مدد سے بن پایا۔
11.2  توجیہ یا تغیر کے مسائل

آثار قدیمہ کی توجیہ و تفسیر کے مسائل سے شاید سب سے زیادہ واضح طور پر مذہبی اعمال کو بیان کرنے کے موقع پر دوچار ہونا پڑتا ہے۔ شروع کے ماہرین کا خیال تھا کہ کچھ چیزیں جو غیرمعمولی یا کچھ اجنبی سی لگتی تھیں وہ غالباً مذہبی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ ان میں پکائی مٹی کی عورتوں کی مورتیاں بھی شامل تھیں، جو بہت سے زیوروں سے آراستہ اور سرپر باقاعدہ قسم کا پہناوا رکھے نظر آتی تھیں۔ انہیں ’دیوی ماں‘ مانا جاتا تھا۔ ایک نایاب قسم کے پتھر کی بنی مردوں کی مورتیں، جو لگ بھگ ایک مقررہ نشست میں ایک ہاتھ گھٹنے پر رکھے ’پجاری بادشاہ کی طرح نظر آتی تھیں‘ انھیں بھی اسی زمرے میں رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح کچھ عمارتوں کو بھی رسومی اہمیت بخشی گئی۔ اس میں ’بڑا حمام‘ کالی بنگا اور لوتھل میں ملی ’’آگ والی قربان گاہیں‘‘ (آتش کدے) بھی شامل ہیں۔

کچھ ایسی مُہروں کے بغور مشاہدے سے جن میں سے کچھ میں مذہبی رسوم کے اظہار کا امکان ہے، ان کے مذہبی عقائد اوراعمال کی ترتیب و تدوین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ دوسری مُہروں میں، جن پر پیڑ پووں کے نشان ہیں، اسے قدرت کی پرستش کی علامات سمجھا گیا ہے۔ کچھ جانور، جیسے مُہروں پر بنا ایک سینگ والا جانور، جسے عام طور پر ’اکل سنگھا‘ (Unicorn) مانا جاتا تھا۔ اسے کسی تصوراتی مخلوط قسم کا جانور مانا جاسکتا ہے۔ کچھ مُہروں میں آلتی پالتی مارے یوگی انداز میں بیٹھی ایک شکل دکھائی دیتی ہے، جو ہندو دھرم کے اہم ترین قدیم دیوتاؤں میں سے ایک کا روپ ہے۔ اس کے علاوہ مخروطی قسم کے پتھر کے ٹکڑوں کو ’لنگوں‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ہڑپّا کی بہت سی مذہبی روایتوں کو اس مفروضے پر مرتب کیا گیا ہے کہ بعد کی روایات میں ان کے متوازی یا ملتی جلتی علامتیں موجود ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ عام طور پر معلوم سے نامعلوم کی طرف بڑھتے ہیں، یعنی حال سے ماضی کی طرف۔ گوکہ یہ طریقۂ فکر پتھروں کی چکیوں اور برتنوں کے لیے تو قرین قیاس لگتا ہے مگر جب اسے اور آگے بڑھاکر ’’مذہبی‘‘ علامتوں سے تطبیق دیتے ہیں تو قیاس آرائی زیادہ رہ جاتی ہے۔
ذرا ’ابتدائی شِیو‘ والی مُہروں کی ہی مثال لیں۔ سب سے پہلے مذہبی صحیفہ ’رگ وید‘ (تدوین تقریباً 1000-1500 قبل مسیحی دور) میں ایک دیوتا ’رُدّر‘ کا ذکر ہے جسے بعد کی پوران کی  روایتوں میں شِیو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ (مسیحی دور کے پہلے ہزارے میں باب 4 بھی ملاحظہ ہو) بہرحال، شِیو‘ کے برخلاف رگ وید میں ’رُدر‘ کو نہ تو پشوپتی (تمام جانوروں خصوصاً مویشوں کا مالک و مختار) دکھایا گیا ہے اور نہ کوئی یوگی۔ دوسرے لفظوں میں (مُہریں) یہ اظہار رِگ وید میں ’رُدّر‘ کی تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ تو پھر کیا یہ امکان ہے کہ یہ مظہر کسی ’شامن‘ کا ہو، جیسا کہ کچھ ماہرین نے اشارہ بھی کیا ہے؟
33

شکل: 1.26  کیا یہ ’دیوی ماں‘ تھی؟ 

34

شکل: 1.27  ’ابتدائی شِیو‘کی مُہر

نگ"ایک منقوش پتھر تھا جو "شِیو"کے علامت کے طور پر جانا جاتا تھا۔

’شامن‘ وہ مرد یا عورتیں ہوتے ہیں جو جادوئی اور شفا بخشنے کی طاقت اور ساتھ ہی طاقتیں رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
35

شکل: 1.28  کھیل کے مُہرے یا ’لنگ‘؟

ان پتھروں کے بارے میں ایک بالکل شروعات کے دور کے کھدائی کرنے والے میکی نے جو کچھ کہا تھا وہ اس طرح تھا: 
’’لاجورد، یشب اور عقیق اور دوسرے پتھروں کے بہت خوبصورتی سے تراشے اور گھسے ہوئے دو انچ کم اونچائی والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھی لنگ تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس کا بھی اتنا ہی امکان ہے کہ یہ بورڈ پر کھیلے جانے والے کھیلوں میں استعمال ہوتے ہوں۔‘‘
(از ارنیسٹ میکی، ارلی انڈس سویلائزیشن 1948)

گفتگو کیجیے:

آثار قدیمہ کی شہادتوں سے ہڑپّا ئی معیشت کے کون کون سے پہلوؤں کی ترتیب کی جاچکی ہے؟

اتنے دہوں تک متواتر آثار قدیمہ کے کام کے بعد کیا حاصل ہوسکا؟ ہمیں ہڑپّا ئی معاشیات کے بارے میں کافی اچھی معلومات حاصل ہوگئیں۔ ہم ان کے معاشرے میں سماجی فرقوں کی گتھی کو سلجھانے میں بھی کچھ کامیاب ہوئے ہیں اور ہمیں اب کسی قدر یہ اندازہ لگانا ممکن ہے کہ ان کی تہذیب کس طرح روبہ کار تھی۔ فی الحقیقت ہمارے لیے ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اگر ان کا رسم الخط پڑھ لیا گیا ہوتا تو ہماری معلومات میں کتنا اضافہ ہوتا۔ اگر کوئی ’دو زبانی‘ شہادت دستیاب ہوجائے تو ہڑپّا ئی لوگوں میں بولی جانے والی زبانوں کے سلسلے میں اٹھنے والے سوالوں کا بھی کوئی تشفی بخش حل نکل آئے گا۔
بہت سے نکات کی ترتیب و تدوین اب بھی صرف قیاس ہی ہیں۔ کیا بڑا حمام کوئی رسوماتی عمارت تھی؟ ہڑپّا کے مدفنوں میں سماجی فرق اتنا کم کیوں نظر آتا ہے۔ کچھ اور سوالات کے جواب بھی ابھی نہیں مل سکے ہیں۔ کیا عورتیں برتن بناتی بھی تھیں یا صرف ان پر رنگ کرتی تھیں (جیسا کہ آج کل ہوتا ہے؟) دوسرے دستکاروں کے کیا حالات تھے؟ پکائی ہوئی مٹی کی عورتوں کی مورتیاں کس کام آتی تھیں؟ بہت کم ماہرین نے ہڑپّا ئی تہذیب کا مطالعہ صنفی زاویے سے کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ پورا میدان مستقبل کی تحقیق و جستجو کے لیے کھلا ہوا ہے۔
36

شکل: 1.29  پکائی مٹی کی ایک گاڑی

ٹائم لائن - 1

ابتدائی ہندوسانی آثار قدیمہ میں اہم ادوار


    نشیبی حجری   
 بیس لاکھ سال (قبل موجودہ دور)
 وسطی حجری     80,000 
 بالائی حجری  35,000
 عبوری حجری    12,000
جدید حجری (ابتدائی زراعت اور گلہ بانی کرنے والے)   10,000 
 تانبا پتھر تہذیب (تانبے کا پہلا استعمال ) 6000 
ہڑپّا ئی تہذیب 2,600  قبل مسیح 
ابتدائی لوہا، یادگار حجریا مدفن(میگالیتھک بوریئس ) 1000 قبل مسیح 
 ابتدائی تاریخی دور
600 قبل مسیح 
400 قبل مسیح
          (نوٹ: تمام تاریخیں تخمیناًہیں۔ اس کے علاوہ برّصغیر کے مختلف خِطّوں میں تہذیب و ترقی کے ادوار میں اوقات کا بہت فرق ہے ۔جو تاریخیں دی گئی ہیں وہ اس رخ کی سب سے پہلی شہادتوں کی بنیاد پر متعین کی گئی ہیں۔ )

ٹائم لائن - 2

ہڑپّا ئی آثار قدیمہ میں اہم ترین ترقیاں


انیسویں صدی
ہڑپّا ئی مُہر پر الیگزینڈر کنگھم کی رپورٹ 1875  
بیسویں صدی
ایم ایس وتس نے ہڑپّا  میں کھدائی شروع کی۔ 1921
موہنجودڑومیں کھدائی شروع ہوئی 1925 
آر ای ایم وھیلر نے ہڑپّا  میں کھدائی کی۔ 1946
ایس آر راؤ نے لوتھل میں کھدائی شروع کی۔ 1955
بی بی لال اور بی کے تھاپڑ نے کالی بنگن میں کھدائی شروع کی 1960
 ایم آر مغل نے بہاولپور میں تحقیق شروع کی۔ 1974 
جرمنی اور اطالوی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے موہنجودڑو میں تلاش و تحقیق کے کام شروع کیے۔ 1980
امریکی ٹیم نے ہڑپّا  میں کھدائی شروع کی  1986  
  آر ایس بشٹ نے دھولاویرا میں کھدائی شروع کی۔ 1990
                 
37
شکل: 1.30  

ایک ہڑپّا ئی مدفن

لفظوں میں جواب دیجیے   

۔ ہڑپّائی شہروں میں لوگوں کے پاس موجود کھانے کی اشیا کی فہرست مرتب کیجیے۔ ان گروپوں  کی بھی شناخت کیجیے جو انہیں فراہم کرتے تھے؟
۔ ہڑپّا ئی تہذیب میں سماجی معاشی فرقوں کے ماہرین آثار قدیمہ کس طرح تلاش و تحقیق کرتے ہیں؟
۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ ہڑپّا ئی شہروں میں پانی وغیرہ کی نکاس کے نظام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے شہر منصوبہ بند انداز میں بنائے جاتے تھے؟ اپنے جواب کے لیے دلیلیں دیجیے۔
۔ ہڑپّائی تہذیب میں منکے بنانے کے لیے جو مواد استعمال ہوتا تھا اس کی فہرست بنایے۔ کسی ایک قسم کے منکے کے بنانے کے طریقہ کو بیان کیجیے۔
۔   شکل 1.30 کودیکھیے اور جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اسے بیان کیجیے۔ اس ڈھانچے کے پاس کیاکیا چیزیں رکھی ہوئی ہیں؟ کیا اس کے جسم پر بھی کچھ مصنوعات ہیں۔ کیا یہ اس کی صنف کوبھی ظاہر کرتے ہیں؟


ان عنوانات پر مختصر مضمون لکھیے جو تقریباً 500 الفاظ پر مشتمل ہو 


۔   موہنجودڑو کی کچھ امتیازی خصوصیات بیان کیجیے۔
۔   ہڑپّا ئی تہذیب میں دستکاری کی مصنوعات کی پیداوار کے لیے ضروری خام مالوں کی ایک فہرست مرتب کیجیے اور بیان کیجیے کہ یہ کیسے مہیا کیے جاتے ہوں گے۔
۔   بیان کیجیے کہ ماہرین آثار قدیمہ ماضی کی کس طرح ترتیب و تدوین کرتے ہیں۔
۔   ان کاموں کو بیان کیجیے جو ہڑپّا ئی سماج میں حکمران انجام دیتے تھے۔

نقشے کے کام

۔  نقشہ 1 پر پنسل سے ان مقامات پر دائرہ بناییے جہاں سے زراعت کی شہادتیں ملی ہیں۔ ان جگہوں پر ’ص‘ بناییے جہاں سے دستکاری پیداواروں کی شہادتیں حاصل ہوئی ہیں اور ’خ‘ کا نشان ان مقامات پر بناییے جہاں سے خام مال حاصل کیا جاتا تھا۔

منصوبہ (Project)(کوئی ایک)

۔  معلوم کیجیے کہ کیا آپ کے شہر میں کوئی عجائب گھر (میوزیم) ہے۔ اسے دیکھیے اور وہاں کی کن ہی دس چیزوں پررپورٹ لکھیے۔ اس میں بتایے کہ یہ کتنی قدیم ہیں۔ یہ کہاں پائی گئی تھیں اور آپ کے خیال میں ان کی نمائش کیوں کی جاتی ہے؟
۔  آج کل استعمال ہونے والی ایسی دس چیزوں کی تصویریں جمع کیجیے جوپتھر، دھات یا مٹی کی بنی ہوں۔ اس باب میں دکھائی گئی ہڑپّا ئی تصویروں سے ان کا موازنہ کیجیے اور ان میں یکسانیت اور فرق کو بیان کیجیے۔

:اگر آپ کو مزید معلومات حاصل کرنی ہیں تو پڑھیے

Raymond and Bridget Allchin. 1997. Origins of a Civilization. Viking, New Delhi. 

G.L. Possehl. 2003. 
The Indus Civilization.   Vistaar, New Delhi.

Shereen Ratnagar. 2001. Understanding Harappa. 
Tulika, New Delhi. 


:مزید معلومات کے لیے ملیے

http://www.harappa.com/har/harreso.html