Skip to content
Tareekh-e-hindkemauzuat-I-002



دوسرا موضوع 


بادشاہ، کسان اور شہر

ابتدائی حکومتیں اور معیشتیں

(تقریباً 600قبل مسیح  سے 600 عیسوی)



1

شکل: 2.1

ایک کتبہ۔ سانچی( مدھیہ پردیش)

(تقریباً دوسری صدی  ق م )

ہڑپائی تہذیب کے خاتمے کے بعد سے 1500سال کے طویل عرصے میں اس بر صغیر کے مختلف حصوں میں متعدد تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یہی وہ دور تھا جب سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے پر بود وباش رکھنے والے لوگوں نے رگ وید کی تدوین کی۔ بر صغیر کے بہت سے حصوں میں زراعتی بستیاں ابھریں جن میں شمالی ہندوستان، سطح مرتفع( دکن) اور کرناٹک کے کچھ حصے شامل تھے۔ اس کے علاوہ دکن اور اس سے بھی نیچے کچھ علاقوں میں گلہ بان آبادیوں کے نشانات بھی ملے ہیں ۔ مُردوں کو ٹھکانے لگانے کے نئے طریقے قبل مسیح کے پہلے ہزار ے سے جنوبی ہند میں اپنائے جانے لگے جن میں باقاعدہ عمارتیں بنانا بھی شامل تھا جنھیں سنگِ کلاں ، (میگھالیتھ ) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ متعدد صورتوں میں مُردوں کو لوہے کے اوزاروں کے ایک خاصے بڑے سلسلے کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا۔

 تقریباً چھٹی صدی ق م سے ایسی شہادتیں بھی موجود ہیں کہ جن سے کچھ دوسرے رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔ شاید ان میں سب سے واضح علامت شروع کی حکومتوں یا ریاستوں، سلطنتوں اور بادشاہوں کے قائم ہونے کی ہے۔ ان سیاسی عملوں اور تبدیلیوں کے ذیل میں کچھ اور تبدیلیاں بھی رونما ہورہی تھیں جو زراعتی پیداوار کی تنظیم کی تبدیلی کی شکل میں ظاہر ہورہی تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں نئے شہر بھی ابھرے اور مستحکم ہوئے۔

ان تبدیلیوں اور کیفیات کو سمجھنے کے لیے مورخین نے کئی قسم کے مآخذسے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتبات ، تحریریں ، سکّے اور بصری مواد ۔ جیسا ہم آگے دیکھیں گے یہ بڑا پیچیدہ سا طریقۂ کار ہے۔ آپ یہ محسوس کریں گے کہ یہ مآخذپوری کہانی سنا بھی نہیں پاتے۔

1 ۔ پرنسیپ اور پیاداسی

ہندوستان کے علمِ کتبات (ایپی گرافی) میں کچھ اہم ترین تبدیلیوں میں ایک تبدیلی یا انقلاب1830کے دہے میں رونما ہوا۔ یہ اس وقت ہوا جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی ٹکسال میں ایک افسر جیمس پرنسیپ نے ’برہمی‘ اور ‘خروشتی‘ زبانوں کو ،جو قدیم ترین کتبوں اور سکّوں میں استعمال ہوئی ہیں ،حل کرلیا۔ اس نے دیکھا کہ ان مآخذمیں سے اکثر میں ایک بادشاہ کا ذکر ہے جسے ’پیاداسی‘، یعنی ’دیکھنے میں تسکین بخش، کا نام دیا گیا تھا۔ کچھ ایسے کتبے تھے جن میں ایک بادشاہ اشوک کا بھی ذکر تھا، جو بدھ مت کی تحریروں میں مشہور ترین حکمرانوں میں سے ایک حکمراں ظاہر کیا گیا ہے۔
چونکہ یوروپی اور ہندوستانی تاریخ داں بہت سی زبانوں کے طرح طرح کے کتبات اور تحریروں کی مدد سے خاص خاص خاندانوں کے ان حکمرانوں کی ترتیب وار فہرست تیار کرنے کی کوشش کررہے تھے جنھوں نے برصـغیر پر حکومت کی۔ اس کے نتیجے میں سیاسی تاریخ کے بنیادی خدو خال بیسویں صدی کے ابتدائی دہوں میں حاصل ہوچکے تھے۔
اس کے بعد عالموں نے اپنے مطالعے اور تجزیے کا فوکس سیاسی تاریخ کے سیاق کی طرف موڑنا شروع کیا۔ اور یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ کیا سیاسی تبدیلیوں اور معاشی اور سماجی حالات 
وکیفیات کے درمیان کچھ تعلق تھے یا نہیں۔ یہ بات جلد ی ہی واضح ہوگئی کہ یہ تعلق یا رشتے موجود تو تھے مگر یہ بالکل براہ راست یا سیدھے سادے نہیں تھے۔ر 
علم کتبات (ایپی گرافی) کتبوں کے مطالعے کو کہتے ہیں۔

کتبات

کتبات وہ تحریں ہوتی ہیں جو کچھ سخت سطحوں-جیسے پتھر، دھات یا مٹی کے برتنوں پر کھدی ہوتی ہیں۔ ان میں عام طور پر ان کتبوں کے تیار کرنے والوں کی کامیابیاں، کام، خیالات ، ریکارڈ ہوتے ہیں اور بادشاہوں کی فتوحات ،مذہبی اداروں کو مرد اور عورتوں کی طرف سے دیے گئے عطیات وغیرہ کے ذکر بھی شامل ہوتے ہیں کتبات اصل میں دائمی ریکارڈ ہوتے ہیں جن میں سے کچھ میں تاریخیں بھی ہوتی ہیں ۔ کچھ دوسرے کتبات کی تاریخیں علم کتبات (پیلیوگرافی) کی بنیاد یا انداز تحریر کی مدد سے بہت حد تک صحت کے ساتھ متعین کرلیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر تقریباً250قبل مسیح دور میں حرف(a)کو kکی طرح لکھا جاتا تھا۔ تقریباً 500عیسوی میں یہ Hkکی طرح لکھا جانے لگا۔
سب سے ابتدائی کتبا ت پراکرت میں ہیں۔ یہ وہ زبانیں تھیں جنھیں عام لوگ روز مرہ بولتے تھے۔ اجات شترو اور اشوک جیسے حکمرانوں کے نام جو پراکرت تحریروں اور کتبوں سے معلوم ہوئے ہیں۔ انھیں اس سبق میں پراکرت املا میں ہی دوہرایا گیا ہے ۔ آپ پالی، تمل اور سنسکرت میں استعمال ہونے والی اصطلاحیں بھی دیکھیں گے کیونکہ ان زبانوں کو بھی کتبات اور تحریروں میں لکھنے میں استعمال کیا گیا تھا۔ ممکن ہے لوگ کچھ اور زبانوں میں بھی بات چیت کرتے ہوں گے گوکہ انہیں لکھنے میں استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔


جن پد'کا مطلب وہ زمین یا ملک جہاں (کوئی قوم، خاندان یاقبیلہ ) داخل ہوتا ہے یا قیام کرتا ہے۔ یہ سنسکرت اور پراکرت دونوں میں استعمال ہونے والا لفظ ہے۔


2۔سب سے پہلی حکومتیں

2.1  سولہ مہاجن پد

عام طور پر چھٹی صدی ق م کو ہندوستانی تاریخ میں ایک اہم موڑ مانا جاتا ہے۔ یہ شروع کی حکومتوں، لوہے کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سکّوں کے نظام کے قائم ہونے وغیرہ سے متعلق دور تھا۔ اس دور میں مختلف قسم کے فکری نظام بھی اُبھرے جن میں بدھ مت اور جین مت بھی شامل تھے۔ابتدائی بدھ اور جین مذہبی تحریروں (ملاحظہ ہو باب 4) دوسری اور باتوں کے علاوہ سولہ ریاستوں یا حکومتوں کا ذکر ہے جسے ’مہاجن پد‘ کہا گیا ہے۔ حالانکہ ان کی فہرست میں اختلاف ہے مگر کچھ نام جیسے وجّی ، مگدھ،کوشالا،کورو،پنچالا، گندھارا اور اونتی، بار بار نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے مہاجن پدوں میں یہ سب سے اہم حکومتیں تھیں۔
 گوکہ زیادہ ترجن پدوں پر بادشاہوں کی حکومت تھی لیکن کچھ جن پدجنھیں ’گن‘ یا’سنگھہ ‘ کہا جاتا تھا یہاں او لی گارکی (چند سری) حکومتیں تھیں (ملاحظہ ہو صفحہ 30) جن میں اقتدار یعنی حکومت میں لوگ شریک ہوتے تھے جنہیں" راجا" کہا جاتا تھا۔ مہاویر اور بدھ (باب 4) دونوں ایسے ہی ’گنوں‘ سے تعلق رکھتے تھے۔بعض صورتوں میں جیسے وجّی سنگھ میں راجا غالباً زمین جیسے ذرائع پر اجتماعی گرفت رکھتے تھے۔ حالانکہ عام طور پر ان کی تاریخ کو مرتب کرنا ذرائع کی کمی کی وجہ سے کافی مشکل ہے۔ لیکن ان میں کچھ ریاستیں لگ بھگ ایک ہزار سال تک باقی رہیں۔
ہر مہاجن پد کاایک دارالحکومت ہوتاتھا جو عام طور پر حصار بند شہر ہوتا تھا۔ ان حصار بند شہروں کو برقرار رکھنے اور ایک ابتدائی قسم کی فوج اور افسر شاہی ڈھانچہ برقرار رکھنے کے لیے ذرائع کی ضرورت ہوتی تھی۔ چھٹی صدی ق م سے بر ہمنوں نے ان سنسکرت تحریروں کی تدوین شروع کی جنھیں دھرم سوترکہا جاتا ہے۔ ان میں حکمرانوں( اور ساتھ ہی دوسرے سماجی زمروں کے
لیے بھی) معیار متعین کیے گئے تھے جن کا ایک مثالی کھتری ہونا ہی متوقع تھا (باب 3

541


وہ علاقے کہاں تھے جہاں ریاستیں اور شہر سب سے زیادہ گنجان جمگھٹا بن گئے تھے؟


ملاحظہ ہو ) حکمرانوں کو کسانوں ،بیوپاریوں اور دستکاروں سے ٹیکس لینے کا مشورہ دیا گیا تھا ۔آیایہ آمدنی گلہ بانوں اور جنگل باسیوں سے بھی حاصل کی جاتی تھی، اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ جتنا ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے وہ یہ ہے کہ پڑوسی ریاستوں پر حملہ کرکے دولت حاصل کرنے کا طریقہ جائز تصور کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ کچھ ریاستوں کے پاس باقاعدہ فوجیں قائم ہوگئیں اور انہوں نے ایک مستقل نوکر شاہی نظام مستحکم کرلیا۔ دوسری ریاستیں اب بھی ’’ہنگامی فوج‘ (ملیشیا) پر ہی انحصار کرتی تھیں۔انہیں بھرتی کیا جاتا تھا جو مشکل سے ہی کسانوں کے علاوہ کوئی اور ہوتے تھے۔

اولی گار کی: (چند سری) ایسے طرز حکومت کو کہا جاتا ہے جس میں اقتدار کچھ افراد کے مجموعے کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ رومی ری پبلک، جس کے بارے میں آپ نے پچھلے سال پڑھا، اپنے نام کے باوجود ایک اولی گار کی (چند سری) حکومت تھی۔

:گفتگو کیجیے

مگدھ طاقت کے ابھرنے کے سلسلے میں پرانے لکھنے والوں اور موجودہ تاریخ دانوں کی پیش کردہ کیا وجوہات

:شکل2.2

راجگیر کی قلعہ بند دیواریں

 یہ دیواریں کیوں تعمیر کی گئی تھیں؟

سولہ میں سب سے پہلی حکومت: مگدھ     

چھٹی اور چوتھی صدی قبل مسیح کے درمیان مگدھ (موجودہ بہار کا علاقہ) سب سے مضبوط مہاجن پد کے روپ میں ابھرا ۔جدید تاریخ دانوں نے اس صورت حال کی مختلف طریقوں سے توجہیات کی ہیں۔ مگدھ کا خطہ ایسا ہے جہاں زراعت خصوصی طور سے بہت اچھی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ لوہے کی کانوں (موجودہ جھارکھنڈ) تک پہنچ آسان تھی جس سے اوزاراور ہتھیاروں کے لیے ذرائع فراہم ہوتے تھے۔ فوج کے لیے ایک اہم جزو، ہاتھی، بھی اس خطے کے جنگلوں میں ملتے تھے۔ پھر گنگا اور اس کی معاون ندیاں آمد ورفت کے لیے ایک سستا اور آسان ذریعہ تھیں۔ بہر حال ابتدائی جین اور بدھ مورخوں نے ،جنھوں نے مگدھ کے بارے میں لکھا ہے ،اس کی طاقت واستحکام کو کچھ افراد کی پالیسیوں کی دین بتایا ہے ۔ ان میں ظالمانہ حد تک حوصلہ مند بمبسار، اجات سترو اور مہاپد مانند سب سے زیادہ جانے پہچانے نام ہیں۔ان کے علاوہ ان کے وزیر تھے جنھوں نے ان کی پالیسیوں کو بھی عملی جامہ پہنانے میں مدد کی۔
شروع میں مگدھ کی راجدھانی راجا گاہا (جو آج کے بہار میں راجگیر کا پر اکِرت نام ) تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانے نام کے (راجا گاہا کے معنی ہیں’ راجا کا گھر‘) راجا گاہا ایک قلعہ بند بستی تھی جوپہاڑیوں میں آباد تھی ۔ بعد میں چوتھی صدی ق م میں راجدھانی کو پاٹلی پتر ،موجودہ پٹنہ منتقل کردیا گیا، جہاں سے گنگا کے کنارے کنارے آمد ورفت کے تمام راستوں پر قابو رکھا جاتا تھا
3

3۔  ایک قدیم سلطنت

مگدھ کی ترقی کا نقطۂ عروج موریہ سلطنت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ چندر گپت موریا جس نے اس سلطنت کی بنیادڈالی (تقریباً 321ق م ) اس نے اپنا حلقہ اقتدار شمال مغرب میں افغانستان اور بلوچستان تک پھیلا لیا اور اس کے پوتے اشوک نے کلنگ(موجودہ اڑیسہ کا ساحلی علاقہ) کو فتح کیا جسے تاریخ ہند کے ابتدائی دور کا سب سے مشہور بادشاہ ماناجاتا ہے۔

3.1

موریاؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا 
موریہ سلطنت کی تاریخ مرتب کرنے کے لیے مؤرخین نے کئی طرح کے ذرائع استعمال کیے ہیں۔ ان میں آثار قدیمہ سے متعلق دریافتیں ،خصوصا ً سنگ تراشی کے نمونے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی دور کی کچھ تحریر یں بھی قابل قدر حیثیت رکھتی ہیں جیسے میگستھنیز (چند گپت موریہ کے دربار میں ایک یونانی سفیر) کے بیانات جو افغانستان میں اب بھی نامکمل سے ٹکڑوں میں موجود ہیں۔ ایک اور ماخذ جسے کافی استعمال کیا جاتا ہے، ارتھ شاسترہے جس کے کچھ حصوں کو غالباً کو ٹلیہ یا چانکیہ نے مرتب کیا تھا، جسے روایتی طور پر چند رگپت موریا کا وزیر مانا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ موریاؤں کا ذکر بعد کے بدھ مت،جین مت اور پَورانی، ادب اور سنسکرت کے ادبی کاموں میں بھی ملتا ہے۔ گوکہ یہ مآخذ بھی مفید ضرور ہیں مگر سب سے قابل قد ر ذرائع اشوک (تقریبًا 272/268-تا 231ق م) کے چٹانوں اور ستونوں پر کندہ کرائے کتبات ہی ہیں۔ اشوک وہ پہلا حکمراں تھا جس نے اپنی رعایا کے لیے قدرتی چٹانوں اور کچھ پالش شدہ ستونوں پر اپنے پیغامات کندہ کرائے تھے۔ اس نے ان کتبوں کو اپنے تصورات ان تک پہچانے کے لیے استعمال کیا جسے وہ’دھمّہ‘ سمجھتا تھا۔ اس میں بزرگوں کی عزت، برہمنوں اور ان لوگوں کے ساتھ فراخد لی کا سلوک جو دنیاتج چکے ہوں،غلاموں ،اور ملازموں کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ اور خود اپنے مذہب اور روایات کے ساتھ دوسرے کے مذہب وروایات کی عزت کرنا شامل تھا۔

 3.2

  سلطنت کا انتظام قائم کرنا  

سلطنت میں پانچ اہم سیاسی مراکز تھے:راجدھانی پاٹلی پتر، اور تکشلا، اُجّین، توسالی اور سورن گری کے صوبائی مراکز۔ جن سب کا ذکر اشوک کے کتبوں میں کیا گیا ہے اگر ہم ان کتبوں کے متن کا بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان سب میں ایک ہی پیغام کندہ کیا گیا تھا۔ موجودہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبوں سے لے کر ہندوستان میں آندھرا پردیش ،اڑیسہ اور اترانچل تک، کیا اتنی وسیع وعریض سلطنت میں ایک ہی نظام قائم تھا۔ رفتہ رفتہ مؤرخین یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ایسا ہونے کا امکان کم ہے ۔سلطنت میں شامل خطّے ایک دوسرے سے 
بے حد مختلف تھے۔ افغانستان کے پہاڑی علاقوں اور اڑیسہ کے ساحلی علاقوں کے درمیان فرق کا تصوّر کیجیے۔

زبانیں اور رسم الخط

اشوک کے زیادہ ترکتبات پراکِرت زبانوں میں تھے جب کہ شمال مغربی علاقوں میں آرامی اور یونانی میں تھے۔ زیادہ تر پراکِرتوں کے کتبے برہمی رسم الخط میں لکھے گئے تھے لیکن شمال مغرب میں کچھ کتبے خروشتی میں لکھے گئے تھے۔ آرامی اور یونانی کو افغانستان کے کتبوں میں استعمال کیا گیا تھا۔


4

شکل2.3

شیروں کی مورتی والی لاٹ 

شیروں کی مؤرتی والے سرکے ستون کو آج کیوں اہم سمجھا جاتا ہے؟


5

کیا حکمراں ان علاقوں میں بھی اپنے کندہ کرائے کتبا ت جما سکتے تھے جو ان کی سلطنت میں شامل نہیں تھے؟


یہ بھی ممکن ہے کہ انتظامیہ کی گرفت سلطنت کی راجدھانی اور صوبائی مراکز کے اردگرد سب سے زیادہ سخت ہو۔ یہ مراکز بھی بہت احتیاط سے چنے گئے تھے۔تکشلا اور اُجّینی دونوں دور دراز تجارتی راستوں پر واقع تھے۔ جب کہ شورن گرِی (جس کے لفظی معنی سونے کا پہاڑ ہیں) ممکن ہے کرناٹک کی سونے کی کانوں کے سلسلے میں اہمیت کا حامل رہاہو۔
سلطنت کی بقا کے لیے زمینی اور دریائی دونوں طرح کے ذرائع آمد ورفت کا ہونا لازمی تھا۔ سلطنت کے مرکز سے صوبوں کے سفر اگر مہینوں میں نہیں تو ہفتوں میں طے ہوتے ہوں گے۔ جس کا مطلب ہے سفر کرنے والوں کے لیے ضروریات زندگی کا انتظام اور تحفظ کی فراہمی 

کرناضروری تھا۔ظاہر ہے کہ مؤخر الذکر کے لیے فوج ہی ایک اہم ذریعہ ہوسکتی تھی ۔میگستھینز نے فوجی امور کو منظم کرنے اور تال میل قائم رکھنے کے لیے ایک مرکزی کمیٹی اور اس کی چھ ذیلی کمیٹیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک بحری فوج ،دوسری نقل وحمل اور فوجی ضروریات کا انتظام کرنے کے لیے، تیسری پیدل سپاہیوں کے لیے ،چوتھی گھوڑوں کے لیے، پانچویں رتھوں اور چھٹی ہاتھیوں کے انتظامات کی ذمہ داری کے لیے تھی۔ دوسری کمیٹی کی کار گزاریاں کچھ مختلف النوع تھیں۔ ان کے کاموں میں بیل گاڑیوں کا انتظام، سپاہیوں کے لیے غذا اور جانوروں کے لیے چار ا حاصل کرنا اور سپاہیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ملازمین اور کاریگروں کو بھرتی کرنا جیسے کام شامل تھے۔
اشوک نے ’دھمّہ ‘ کے پرچار کے ذریعے بھی اپنی حکومت کو متحد رکھنے کی کوشش کی اور جیسا کہ ہم نے دیکھا اس کے اصول سیدھے سادے اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے والے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان سے اس دنیا میں بھی عام لوگوں کی بہتری اور بھلائی ہوگی اور اگلی دنیا میں بھی ۔’دھمّہ‘ کے پیغام کی تبلیغ کے لیے خاص افسروں کا تقرّر کیا گیا 
تھا جنہیں ’دھمّہ مہامتہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 

3.3

 سلطنت کتنی اہم تھی؟ص

جب انیسویں صدی میں مؤرخین نے ہندوستان کی تاریخ کو مرتب کرنا شروع کیا اس وقت موریہ سلطنت کا عروج ایک اہم اور خاص سنگ میل مانا جاتا تھا۔ ہندوستان اس وقت نو آبادیاتی حکومت کے ماتحت تھا اور سلطنتِ برطانیہ کا ایک حصہ تھا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور کے مؤرخین کو یہ امکان نظر آیا کہ وہ اسے قدیم ہندوستان کی ایک ایسی سلطنت کے روپ میں پیش کریں جو ایک طرح سے تاریخ میں ایک چیلنج تھی اور حوصلہ افزا بھی۔ کچھ ایسی دریافتیں جنھیں موریہ سلطنت سے متعلق مانا جاتا ہے، جن میں سنگ تراشی کے نمونے بھی تھے، انہیں فنکاری کا ایک ایسا شاہکار مانا گیا جو سلطنتوں کے شایانِ شان ہو۔ ان میں سے متعدد مؤرخین نے اشوک کے کتبوں کے پیغام کو بہت سے دوسرے حکمرانوں سے بہت مختلف پایا ۔اس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اشوک زیادہ طاقتور اور محنتی تھا اور بعد کے ان حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ نرم یا خاکسار بھی۔جنھوں نے بڑے بڑے عظیم القاب اپنے ناموں سے ملحق کرلیے تھے۔ اس لیے بھی کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے کہ بیسویں صدی کے قوم پرست رہنما اسے ایک حوصلہ افزا کردار سمجھتے تھے۔
پھر بھی موریہ سلطنت کتنی اہم تھی؟ یہ صرف 150سال منظر پر رہی جو برّصغیر کی طویل تاریخ میں کوئی بہت بڑی مدت نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اگر آپ نقشہ 2کو دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ سلطنت پورے برصغیر پر محیط نہیں تھی۔ سلطنت کی حدود کے اندر بھی تمام علاقوں پر گرفت میں یکسانیت نہیں تھی۔ دوسری صدی ق م تک برّصغیر کے مختلف علاقوں سرداروں کی  عمل داریاں اور حکومتیں ابھر آئی تھیں۔ 
 

بادشاہ اور اس کے افسروں کی کار گزاریاں

یہاںمیگستھینز کے بیان کا ایک اقتباس دیا جارہا ہے
حکومت کے بڑے بڑے افسروں میں سے کچھ ۔۔۔۔دریاؤں کی نگرانی کرتے ہیں، زمین کی پیمائش کرتے ہیں، جیسے مصر میں کی جاتی ہے۔ ان پٹّوں کا معائنہ کرتے ہیں جن کے ذریعہ بڑی نہروں سے ان کی ملحقہ شاخوں میں پانی چھوڑا جاتا ہے تاکہ ہر شخص کو اس سے برابر مقدار فراہم کی جاسکے۔یہی لوگ شکاریوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں اور ان کے پاس ان کی کارگزاریوں کے مطابق انعام یا سزا دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ محصول جمع کرتے ہیں اور زمین سے تعلق رکھنے والے پیشوں ، مثال کے طور پر لکڑہاروں، بڑھیؤں ،لوہاروں اور کان کنوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔
اُن پیشہ ور گروپوں کی نگرانی کے لیے افسر کیوں مقرر کیے گئے تھے؟


:گفتگوکیجیے

میگستھینز اور ارتھ شاستر کے اقتباسات کو پڑھیے (مآخذ 1اور2) آپ کے خیال میں موریہ سلطنت کی تاریخ کی تدوین کے لیے یہ کس حد تک مفید ہیں؟

فوج کے لیے ہاتھی پکڑنا

ارتھ شاستر میں انتظامیہ اور فوجی تنظیموں کی بہت چھوٹی چھوٹی تفصیلات دی گئی ہیں۔ ہاتھیوں کو کس طرح پکڑا جائے اس سلسلے میں جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے درج ذیل ہے:
ہاتھیوں کے جنگل کے محافظ، ہاتھی پالنے والوں ، ہاتھی کی ٹانگوں میں زنجیر ڈالنے والوں ،سرحد کے محافظوں ،وہ لوگ جو جنگلوں میں رہتے ہیں، اور وہ بھی جو ہاتھی پالتے ہیں۔ ان سب کی مدد سے پانچ سات مادہ ہاتھیوں کے ساتھ جو جنگلی ہاتھیوں کو زنجیریں پہنانے میں مددگار ہوں، ہاتھیوں کے گلوں کو ان کے پیشاب اور لید کے نشانات کے سہارے جنگل میں تلاش کریں۔
یونانی ماخذوں کے مطابق موریہ حکمراں 600,000پیدل، 30,000گھوڑ سوار اور 9,000ہاتھیوں کی مستقل فوج تیار رکھتے تھے۔ بعض مؤرخین ان اعداد وشمار کو مبالغہ مانتے ہیں۔

اگر یونانی بیانات صحیح ہیں تو آپ کے خیال میں اتنی زبردست فوج کو برقرار رکھنے میں موریہ حکمرانوں کو کس کس طرح کے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہوگی؟


4۔بادشاہت کے نئے تصورات

4.1  جنوب میں سردار اور بادشاہ

دکن اور اس سے بھی جنوب میں جو بادشاہتیں ابھریں جن میں تمیلاکم (قدیم تمل ملک کا نام جس میں تمل ناڈو کے ساتھ آج کے آندھرا پردیش اورکیرل کے بھی کچھ حصے شامل تھے ) کے چول، چیرا اور پانڈیا کی سرداری عملداریاں بھی شامل ہیں وہ مستحکم اور خوشحا ل ثابت ہوئیں۔ ہم نے ان ریاستوں کے بارے میں مختلف قسم کے مآخذوں سے کچھ معلومات حاصل کی ہیں ۔مثال کے طور پر ایک قدیم تِمل سنگم کے متنوں میں (ملاحظہ ہو باب3) ایسی نظمیں شامل ہیں جن میں سرداروں کے بارے میں تفصیلات اورذرائع حاصل کرنے اور اُن کو تقسیم کرنے کے طریقے بیان کیے گئے

سردار اور سردار کی عمل داریاں

سردار(چیف)کوئی طاقت ور اور صاحبِ اقتدار شخص ہوتا ہے۔اس کی یہ حیثیت موروثی  بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی ہے۔اسے اپنے عزیزوںاور رشتہ داروں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔اس کے کاموں میں مخصوص قسم کی رسوم کو انجام دینا،جنگوں میں سرداری کے فرائض انجام دینا،اور قضیوں کو نپٹانا شامل ہو سکتے ہیں۔یہ اپنے ماتحتوں سے تحفے اور نذرانے وصول کرتا ہے (برخلاف بادشاہوں کے جو محصول جمع کرتے ہیں) اور عام طورپر انھیں اپنے حمایتیوں اور معاونوں میں تقسیم کردیتاہے۔عام طورپر سرداری عمل داری میں باقاعدہ فوج اور افسر نہیں ہوتےہیں۔۔


بہت سے سردار اور بادشاہ ، جن میں ستواہن ،جنھوں نے (تقریباً دوسری صدی ق م سے دوسری صدی عیسوی) اور وسط ہند کے کچھ علاقوں پر حکومت کی اور شاکا، جو بنیادی طور پر وسط ہند سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے برّصغیر کے شمال مغربی اور مغربی حصوں میں بادشاہتیں قائم کیں، شامل تھے۔یہ اپنے محصولات اور آمد کے ذریعہ دور دراز تجارت سے حاصل کرتے تھے۔ ان کی سماجی بنیاد عام طور پر مجہول سی تھی۔ لیکن جیسا کہ ہم ستواہن کے بارے میں آگے چل کر مشاہدہ بھی کریں گے(باب3) جب یہ ایک باراقتدار حاصل کرلیتے تھے تو یہ مختلف طریقوں سے اپنی سماجی حیثیت کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

 4.2  مقدس بادشاہ

ایک اعلٰی سماجی حیثیت یا درجہ حاصل کرلینے کا ایک ذریعہ یہ بھی تھا کہ اپنی شناخت طرح طرح کے دیوی دیوتاؤں کے ساتھ کرائی جائے۔ اس حکمت عملی کا اظہار سب سے واضح طورہرکُشان حکمرانوں (پہلی صدی ق م پہلی صدی عیسوی ) سے ہوتا ہے جنھوں نے وسط ایشیا سے شمال مغربی ہندوستان تک پھیلی ہوئی ایک وسیع وعریض ریاست پر حکومت کی ان کی تاریخ کو کتبوں اور تحریری روایتوں کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے۔
متھرا (اتر پردیش ) کی ایک عبادت گاہ میں لگی کُشان حکمرانوں کی بہت بڑی بڑی مورتیاں ملی ہیں۔ ایسی ہی مورتیاں افغانستان کی ایک عبادت گاہ میں بھی ملی ہیں۔ کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ کُشانی حکمراں خود کو دیوتا سمجھتے تھے۔ کچھ کُشان بادشاہوں نے غالباً چینی حکمرانوں سے ترغیب لیتے ہوئے، جو خود کو آسمانوں کا بیٹا کہلواتے تھے ، خود کو ’دیوپُتر ،دیوتا کا بیٹا کا لقب اختیار کرلیاتھا ۔
چوتھی صدی تک بڑی بڑی ریاستوں کی شہادتیں ملتی ہیں جن میں گپتا سلطنت بھی شامل ہے۔ ان میں سے بہت سی حکومتوں کا انحصار ان سامنتوں پر تھا جو مقامی ذرائع پر گرفت رکھ کر خود کو اس حیثیت پر بنائے رکھتے تھے۔ اس گرفت میں زمین پر گرفت بھی شامل تھی۔ یہ حکمرانوں کے مطیع ہوتے تھے اور انہیں فوجی امداد بہم پہچاتے تھے۔ طاقتور سامنت خود بھی بادشاہ بن سکتے تھے اور اس کے برعکس کمزور بادشاہ تنزل کرتے ہوئے اس حیثیت پر بھی پہنچ سکتے تھے کہ وہ کسی کے ماتحت ہوجائیں۔
گپتا حکمرانوں کی تاریخوں کو ادب،سکّوں اور کتبوں کی مدد سے مرتب کرلیا گیا ہے ،ان میں وہ پرشستیاں،بھی شامل ہیں جنھیں خاص طور پر بادشاہوں کی تعریف میں اور عام طور پر دوسرے مربیوں اور سر پرستوں کی ستائش میں شاعروں نے لکھا تھا۔ گوکہ مؤرخین ان نظموں سے اکثر اوقات حقیقی یا سچی معلومات اخذ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں مگر جنھوں نے نظم کیا تھا اور جو لوگ انہیں پڑھتے تھے وہ ان کی شعری خزانے کے طور پر ہی قدر کرتے تھے۔ ان کے بیانات کو 
پانڈیا سردارسینگٹوان جنگل آتا ہے
نیچے تَمِلمیں لکھی ایک نظمسِلاپپادی کرم، کا ایک اقتباس دیا جارہا ہے:
(جب اس نے جنگل میں قدم رنجاں فرمایا ) لوگ پہاڑوں سے نیچے اتر آئے ۔۔۔۔۔ گاتے بجاتے، ناچتے ،جیسے ہارے ہوئے لوگ جیتے ہوئے بادشاہ کے حضور عزت واحترام کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔یہ بھی اپنے ساتھ تحفے اور نذرانے لائے ہیں۔جن میں ہاتھی دانت ،خوشبودار لکڑیاں ہرن کے بالوں سے بنے پنکھے، شہد ،صندل ،لوہا ملی سرخ مٹی، سرمہ، چھوٹی الائچی ، ہلدی ،کالی مرچ، وغیرہ وغیرہ تھے۔۔۔۔۔ یہ لوگ ناریل ،آم ،جڑی بوٹیاں ،بھیل ،پیاز ،گنیّ ،پھول چھالی، کیلے، شیر کے بچے ،شیر ببّر ،ہاتھی، بندر، ریچھ ، خرگوش ، مشک نافۂ ہرن ،لومڑیاں ،مور، مشک بلّی، (musk cat)جنگلی مرغے ،بولتے ہوئے طوطے وغیرہ وغیرہ بھی لائے  ۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ یہ تحفے کیوں لائے تھے سردار نے ان کا کیا استعمال کیا ہوگا؟

6

شکل2.4

کُشان سکّے
سیدھا رخ: کنشک بادشاہ 
الٹا رخ: ایک دیوی

بادشاہ کو کس شکل میں پیش کیا گیا ہے؟

شکل: 2.5

کسی کُشان بادشاہ کا سنگ سرخ کا مجسّمہ


اس مورتی میں وہ کون سے اجزا ہیں جن سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ بادشاہ کا مجسمہ ہے؟
و
7
 لفظ بہ لفظ حقیقتِ حال نہیں مانتے تھے۔ پریاگ پرسشتی، (جسے الہٰ آبادستونی کتبہ) بھی کہا جاتا ہے۔ سنسکرت میں ہری شینا کا نظم کیا ہوا ہے جو سمدر گپت کا درباری شاعر تھا۔ یہ بادشاہ فی الحقیقت گپتا حکمرانوں (تقریباً 

سمدر گپت کی تعریف میں 

یہ پریاگ پُرشَستی سے ایک اقتباس ہے :
روئے زمین پر اس کا کوئی مخالف نہیں تھا۔اس کی متعدد نیک خصوصیات سے چھلکتی اور سیکڑوں نیک اعمال سے سجی سجائی شخصیت،نے دوسرے بادشاہو ں کی شہرت کواس کے پیروں کے تلوؤں نے مسل کر نیست ونابود کردیاوہ پُرُش اعلا ترین وجودہے ،نیکوں کی خوشحالی اور بدوں کی تباہی وبربادی کا سبب ہوتے ہوئے وہ ایسی ذات ہے جس کے نرم دل کو صرف دلی تعلق اور خاکساری سے جتیا جاسکتا ہے۔ جذبۂ رحم اسے اپنے قبضہ میں کیے ہوئے ہے وہ لاکھوں گایوں کا عطاکرنے والا ہے ۔دکھیوں،مصیبت زدوں، غریبوں،خستہ حالوں پریشانیوں میںمبتلا لوگوں کو اٹھانے کے لیے ایک بنیادی جذبہ پایا ہے۔یہ ہمدردی اور نیکی کا ایک جگمگاتا مجسمہ ہے۔(یہ) کُبیر (دولت کا دیوتا) ، وَرُن (سمندروں کا دیوتا) اِندر (بارش کا دیوتا) اور یَم (موت کا دیوتا ) جیسے دیوتاؤں کے برابر ہے۔

گفتگوکیحے

آپ کیوں یہ سوچتے ہیں کہ بادشاہ کسی مقدس یا دیومالائی درجے پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے؟

۔5 بدلتا ہوا مضافاتی منظر

5.1 بادشاہوں کے لیے عمومی تصوّر

رعایا اپنے بادشاہوں کے بارے میں کیا سوچتی تھی؟ ظاہر ہے اس کے سارے جواب کتبے تو نہیں دیتے ہیں۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عام آدمیوں نے مشکل سے ہی اپنے خیالات اور اپنے تجربات کا کوئی بیان چھوڑ ا ہے۔ پھر بھی مؤرخین نے اس مسئلے کا حل جاتک اور پنچ تنتر، جیسی کہانیوں کے مجموعوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے زیادہ ترکہانیوں کی ابتدا غالباً زبانی قصوں سے ہوئی ہوگی،جنھیں بعد میں تحریری شکل دے دی گئی ہوگی۔جاتک کہانیاں عام دور کے پہلے ہزارے کے درمیانی حصے میں لکھی گئی تھیں۔ 
ایک کہانی جو ،گندا تندوجاتک‘کے نام سے مشہور ہے اس میں ایک کینہ پرور قسم کے بادشاہ کے دور میں رعایا، جس میں بوڑھے مردوں، عورتوں، کسانوں ،گدریوں ،گاؤں کے لڑکوں ،بلکہ جانوروں تک کی درگت بیان کی گئی ہے۔ پھر جب بادشاہ بھیس بدل کر یہ دیکھنے نکلا کہ اس کی رعایا اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے تو ہر شخص اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کے لیے اسے کوستا نظر آیا، ان کی شکایت تھی کہ رات کو چور اور ڈاکو اور دن میںٹیکس وصول کرنے والے ان پر ہلّا بولتے رہتے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے لوگ اپنے گاؤں چھوڑ چھوڑ کر جنگل میں بھاگ گئے۔
جیسا کہ اس کہانی سے ظاہر ہوتا ہے ۔بادشاہ ا ور اس کی رعایا ،خصوصاً دیہی آبادی کے درمیان اکثر تناؤ رہتا تھا۔ بادشاہ بسا اوقات اونچے محصولوں کی مانگ کرکے اپنے خزانے بھرنے کی کوشش کرتا تھا اور کسان خاص طور پر اس کی ان مانگوں کو ظالمانہ اور تکلیف دہ محسوس کرتے تھے۔ جنگلوں کی طرف بھاگ جانا، جیسا کہ اس کہانی سے اظہار ہوتا ہے ایک راستہ بچتاتھا۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکسوں کی متواتر بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے دوسری حکمت عملیاں بھی اپنائی جاتی تھیں۔

5.2  پیداوار میں اضافے کی حکمتِ عملیاں

ایک حکمت عملی توہل سے کھیتی کرناہی تھا جو گنگا اور کاویری جیسی دریائی وادیوں کی زرخیز مٹی میں تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی دور میں پھیلتی چلی گئی۔ ان علاقوں میں جہاں زیادہ بارش ہوتی تھی لوہے کے پھل والے ہل کو سیلابی مٹی کو الٹنے پلٹنے میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ وادی  گنگا کے کچھ علاقوں میں پودوں کی منتقلی کے طریقے متعارف ہونے کے بعد دھان کی گرچہ زراعتی پیداوار یت میں لوہے کے پھل کے استعمال سے اضافہ ہوا مگر اس کا استعمال برصغیر کے کچھ حصوں تک محدود رہا۔ نیم خشک علاقوں میں جیسے پنجاب اور راجستھان کے کچھ حصوں کے کسانوں نے اس طریقے کو بیسویں صدی تک بھی نہیں اپنایا اور برصغیر کے شمال مشرقی اور وسطی حصوں کے پہاڑی علاقے کے رہنے والوں نے بیلچہ زراعت ہی کو اپنائے رکھا ،جو اس زمینی کیفیت کے لیے زیادہ مناسب طریقہ بھی تھا۔
زراعتی پیداوار میں اضافے کے لیے ایک اور حکمت عملی آبپاشی کے طریقے کو اپنانا تھا، جو عام طور پر کنوؤں اور تالابوں کے ذریعے اور نسبتا ًکم ،نہروں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ برادریاں اور ان کے ساتھ افراد ،آبپاشی کے منصوبوں کو منظم کرتے تھے۔ مؤخر الذکر ،عام طور پر صاحبِ اقتدار افراد تھے جن میں بادشاہ بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے اس قسم کے کاموں کا کتبوں میں بھی ذکر کردیا ہے۔

گجرات میں سدرشن (خوبصورت) جھیل

نقشہ2میں گیر نار کو تلاش کیجیے۔ سدرشن جھیل ایک مصنوعی آبی ذخیرہ تھی ۔ہمیں اس کے بارے میں (تقریباً دوسری صدی عیسوی کے) ایک چٹان کتبے سے معلومات حاصل ہوتی ہیں جسے شاکا حکمران ردّرمان کی کا میابیوں کے رکارڈ کے طور پر سنسکرت میں کندہ کرایا گیا تھا۔
اس کتبے میں ذکر کیا گیا ہے کہ جھیل اپنے بندوں اور نالوں نالیوں سمیت موریہ دور میں یہاں کے مقامی گورنر نے بنوائی تھی۔ لیکن ایک بھیانک طوفان نے اس کے بندوں کو توڑدیا اور پانی تیزی سے جھیل سے بہہ نکلا۔ رُدّرمان جو اس وقت وہاں حکومت کررہا تھا اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے رعایا پر کسی قسم کا ٹیکس لگائے بغیر اس کی مرمت کروائی ۔
اسی چٹان پر (تقریباً پانچویں صدی) ایک اور کتبے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک گپتا حکمراں نے اس جھیل کی دوبارہ مرمت کروائی۔

حکمراں آبپاشی کے انتظامات کیوں کیا کرتے تھے؟


جن علاقوں میں پانی افراط سے ہوتا ہے وہاں دھان کی کھیتی میں پودوں کی جگہ بدلنے (Transplantation) کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ یہاں پہلے بیج پھیلا دیے جاتے ہیں۔ جب نئے پودے پھوٹ آتے ہیں تو انہیں پانی سے بھرے کھیتوں میں دوبارہ لگایا جاتا ہے ۔ اس سے نئے پودوں کی بقااور پیداوار کے تناسب میں بہتری آنا یقینی ہوجاتا ہے۔
۔

سرحدوں کی اہمیت

منوسمرتی، قدیم ہندوستان کی سب سے زیادہ جانی مانی قانونی تحریروں میں سے ایک تحریر ہے جو تقریباً دوسری صدی قبل مسیحی دور سے دوسری صدی عیسوی کے درمیان سنسکرت میں مرتب کی گئی تھی۔اس میں بادشاہ کو جو مشورہ دیا گیا تھا وہ یہ تھا:
یہ دیکھتے ہوئے کہ سرحدوں کے بارے میں لا علمی کی وجہ سے دنیا میں متواتر قضیے کھڑے ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔ اسے (بادشاہ کو) چاہیے کہ ۔۔۔۔پوشیدہ قسم کے سرحدی نشانات دفن کردے- پتھر، ہڈیاں، گائے کے بال، بھوسی راکھ، ٹھیکرے ،سوکھا گوبر، اینٹیں، کو ئلا ، کنکریاں اور ریت ،اسے ایسی اور دوسری چیزیں جوزمین میں سڑتی گلتی نہیں ہیں بالخصوص ان سرحدوں پر پوشیدہ نشانات کے طور پر دفن کردینی چاہئیں جو دوسری سرحدوں سے ملتی ہیں۔ 
کیا یہ سرحدی نشانات قضیوں کو حل کرنے کے لیے کافی ہوسکتے تھے؟

5.3  دیہی سماج میں فرق یا نابرابری

حالانکہ ان تکنیکیوں سے بیشتر صورتوں میں پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن اس کے فوائد میں ہمواری یا یکسانیت نہیں تھی۔ جو ظاہر ہے وہ یہی ہے کہ زراعت میں مصروف لوگوں کے درمیان فرق یا نابرابری متواتر بڑھ رہی تھی۔ ان کہانیوں میں خصوصاً بدھ روایتوں میں بے زمین کسان مزدوروں ، چھوٹے کسانوں اور ان کے ساتھ بڑے بڑے زمین مالکوں کا ذکر ملتا ہے۔ پالی تحریروں میں ’گہاتپی ‘ کی اصطلاح دوسرے اور تیسرے زمروں کے لیے استعمال کی گئی۔بڑے زمین مالک اور گاؤں کا مکھیا (جس کی حیثیت بسا اوقات مؤروثی ہوتی تھی) طاقتور یا صاحب اقتدار شخصیتیں مانی جاتی تھیں اور بیشتر صورتوں میں دوسرے کسانوں پر ان کی گرفت ہوتی تھی۔ شروع کے تمِل ادب (سنگم تحریروں)میں گاؤں میں رہنے والے لوگوں کے مختلف زمروں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ بڑے زمین مالک یا ’ویلالار، ’ہل چلانے والے یا ’اُذھاور‘ اور غلام یا ’آدی مائی‘ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فرق زمین مزدور اور کچھ جدید تکنیکیوں تک پہنچ یا گرفت پر مبنی ہوں ۔ایسی صورت میں زمین پر گرفت کے معاملات انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ چنانچہ ان مسائل پر متعدد قانونی تحریروں میں بحث نظر آتی ہے

گہاپتی

گہاپتی مالک، مختار اور کنبے کا مکھیا ہوتا تھا۔ وہ اس کنبے کی عورتوں، بچوں، غلاموں اور ملازموں پر گرفت رکھتا تھا جو ایک مشترکہ رہائشی مکان میں رہتے تھے ۔ وہی تمام ذرائع ، زمین ، جانوروں اور دوسری چیزوں کا بھی مالک ہوتا تھا۔ کبھی کبھی یہ اصطلاح ان لوگوں کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی جو شہری اشرافیہ کے درجے میں شمار ہوتے تھے۔ جن میں دولت مند تاجر بھی شامل تھے۔

5.4  زمینوں کے عطیات اور نئے دیہی اعلیٰ طبقے

عام یا مسیحی دور کی شروع صدیوں سے ہی ہمیں زمینی عطیات دئیے جانے کے بارے میں معلومات ملنی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے عطیات کو کتبوں پر بھی لکھ دیا گیا تھا ۔کچھ کتبے پتھروں پرتھے مگر زیادہ تر تانبے کے پتروں پر تھے(شکل 2.13) جو غالبا عطیات وصول کرنے والوں کو زمین کی تبدیلی ملکیت کے ریکارڈ کے طور پر دیے گئے تھے۔ جو ریکارڈ اس وقت تک محفوظ رہے ہیں ان میں زیادہ تر مذہبی اداروں یا برہمنوں کو دیے ہوئے عطیات ہیں۔ زیادہ تر کتبے سنسکرت میں تھے۔ کچھ صورتوںمیں جو ساتویں صدی سے نظر آنی شروع ہوتی ہیں ان دستاویزوں کا کچھ حصہ سنسکرت میں ہوتا تھا اور باقی مقامی زبانوں میں۔جیسے تمِل یا تیلگو۔آیے ذرا ایک کتبے کو غور سے دیکھیں۔
پَر بھاوتی گُپتا ہندوستان کی شروع کی تاریخ کے اہم ترین حکمرانوں میںسے ایک چندر گپت دوم (تقریباً 375-415عیسوی) کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی ایک اہم حکمراں خاندان وکاتکامیں ہوئی تھی جو دکن میں صاحبِ اقتدار تھے۔ (ملاحظہ ہو نقشہ3)سنسکرت کی قانونی  تحریروں کی رو سے عورتیں انفرادی حیثیت سے زمین جیسے ذرائع پر آزادانہ ملکیت کا حق نہیں رکھتی تھیں مگر کتبے سے اظہار ہوتا ہے کہ پربھاوتی زمین کی ملکیت رکھتی تھی ،جسے اس نے عطیے میں دیا تھا۔ یہ اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ رانی تھی۔ ( ہندوستان کی ابتدائی تاریخ میں ایسی چند مثالوں میں یہ بھی ہے) اس لیے اس کی حیثیت مستثنیات میں سے تھی۔ یہ بھی ممکن ہے قانونی متنوں میں دی گئی پابندیوں پر مساویانہ انداز میں عمل در آمد نہ ہوتا ہو۔
اس کتبے سے ہم اس وقت کی دیہی آبادی کے بارے میں کچھ اندازہ لگاسکتے ہیں۔ ان میں برہمن اور کسان شامل تھے۔ ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ تھے جن سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بادشاہ یا اس کے نمائندوں کو مختلف پیداواروں کا ایک سلسلہ فراہم کرتے رہیں گے۔ اور کتبے کے مطابق گاؤں کے نئے مکھیا کی تابعداری کریں گے۔ شاید اپنے ذمے کی تمام ادائیگیاں بھی اسی کو کریں گے۔
اس طرح کے زمینی عطیات ملک کے دوسرے متعدد حصوں میں پائے گئے ہیں ۔ زمین کی وسعت کے سلسلے میں مختلف علاقوں میں فرق ضرور تھا۔ چھوٹے چھوٹے کھیتوں سے لے کر غیر مزروعہ وسیع وعریض قطعات تک اور معطی (جسے زمین کا عطیہ دیا گیا ہو) کے حقوق بھی مختلف ہوتے تھے ۔ زمینی عطیات کا سلسلہ مؤرخین کے درمیان کافی گرم بحث ومباحثے کا موضوع ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ زمینی عطیات کا طریقہ اصل میں زراعت کے فروغ کے لیے حکمراں خاندانوں نے ایک حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا تھا۔ دوسرے زمرے کا خیال ہے کہ زمینی عطیات سیاسی اقتدار میں گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یعنی بادشاہ اپنے سامنتوں پر گرفت میں کمزوری محسوس کرتے ہوئے زمینی عطیات کے ذریعے اپنے حمایتیوں کی ہمدردی اور مدد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ بادشاہ اپنی ایک فوق البشر حیثیت پیش کرنا چاہتے تھے (جیسا کہ ہم نے پچھلے حصے میں دیکھا تھا) کیونکہ وہ اقتدار کھورہے تھے۔ اس لیے کم سے کم ظاہری طور پر تو وہ اپنے اقتدار اور طاقت کا مظاہرہ چاہتے ہی تھے۔
زمینی عطیات کسانوں اور حکومت کے درمیان رشتوں پر بھی کسی قدر روشنی ڈالتے ہیں ۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو افسروں اور سامنتوں کی پہنچ سے باہر تھے۔ گلہ بان ،مچھیرے اور شکاری اور جنگلوں کی پیداوار جمع کرنے والے گروہ ،قیام رکھنے ولے یا نیم مقیم کاریگر اور وہ کسان جو کھیتی باڑی کی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ایسے گروہ اپنی زندگیوں اور لین دین کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے ہیں۔

 چھوٹے گاؤں میں زندگی

’ہرَش چَرِت’ قنّوج کے حکمراں ہرش وردھن کی سوانح ہے جو اس کے درباری شاعر بان بھٹّ نے سنسکرت میں (ساتویں صدی عیسوی) میں مرتب کی تھی۔ نیچے اس کے متن سے ایک اقتباس دیا جارہا ہے جو وندھیا پہاڑوں کے جنگل کے کنارے آباد ایک چھوٹی سی بستی کا بے حد نایاب مظہر یا ترجمان ہے۔
قرب وجوار کے بیشتر علاقوں کے جنگل ہونے کی وجہ سے دھان کی زمینوں کے بہت سے قطعے اناج گاہنے کے ٹکڑے(کھلیان)اور قابِل کاشت چھوٹے چھوٹے حصے ، کسان جن کی الگ الگ حد بندی کرلیتے ہیں ۔۔۔۔یہ بنیادی طور پر پھاوڑا کا شت تھی۔۔۔چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی، گھاس سے ڈھکی زمین میں ہل چلانے کی مشکل کے ساتھ بہت کم صاف قطعے ان کی کالی مٹی، ایسی سخت جیسے لوہا۔۔۔
لوگ بھوسے کے گٹھر اٹھائے ادھر سے ادھر آتے جاتے۔۔۔چنے ہوئے پھولوں کے لا تعداد بورے۔۔۔۔ پٹ سن اور گانجے کے پودوں کے پولے، شہد کی مقداریں، مور کی دم کے پر ،موم کے لچھے،لٹھے اور گھاس لیے چلتے پھرتے گاؤں کی بیبیاں پڑوس کے گاؤں کی طرف جانے والے راستوں پر تیز تیز قدم بڑھاتی، جن کے دماغ صرف فروخت کے خیالات میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے او ر وہ دوسروں پر جنگل سے جمع کیے ہوئے طرح طرح کے پھلوں سے بھری ٹوکریاں سنبھالے ہوئے ہوتی تھی۔
 

اگر ہار وہ زمین تھی جو کسی برہمن کو عطا کی جاتی تھی ۔اسے عام طور پر بادشاہ کو اس زمین کا محصول دینے اور دوسری ادائیگیوں سے مستثنیٰ کردیا جاتا تھا ۔بسا اوقات مقامی لوگوں سے ان محصولوں کو جمع کرنے کا حق بھی اسے دے دیا جاتا تھا۔

معلوم کیجیے کہ

 کیا ہل کی کھیتی آبپاشی اور پودوں کی منتقلی کے طریقے آپ کی ریاست میں رائج ہیں۔ اگر نہیں تو کیا اس کے کچھ متبادل نظام بروئے کار ہیں؟

پربھاوتی گپتااوردنگوناکاگاؤں

نیچے وہ متن ہے جو پربھاوتی نے اپنے کتبے میں بیان کیا ہے ۔
پربھاوتی گپتا ۔۔۔۔۔۔گرام کٹمبناس کی سردار (کنبے یاکسان جو گاؤں میں آباد ہیں) برہمنوں اور ڈنگونا گاؤں کے دوسرے لوگوں کو حکم دیتی ہے:
’’تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ کارتک کے چاند کے روشن پکھواڑے کے بارہویںدن اپنے مذہبی شرف وفضیلت میں اضافے کے لیے پانی انڈیلنے کے ساتھ ہم نے اس گاؤں کو آچاریہ (استاد) چنالس ومن کو عطیہ کردیا ہے۔ تم سب کواس کے احکامات کی پابندی کرنی چاہیے...
ہم اسے بطور بخشش مندرجہ ذیل مستثنیات (چھوٹیں) بھی عطا کرتے ہیں جو کسی اگر ہار کے لیے عام ہیں۔۔۔یہ گاؤں فوجی اور پولس کے سپاہیوں کے داخلے سے مستثنیٰ ہے یہ  گھاس مہیا کرنے کی ذمہ داری سے مستثنیٰ ہے بیٹھنے کے لیے جانوروں کی کھالوں اور شاہی افسروں کے دورے پرکوئلے فراہم کرنے سے مستثنیٰ ہے جوش مارتی ہوئی شراب کی خرید کے سلسلے میں شاہی خصوصی اختیارسے مستثنیٰ ہے معدنی کانوں کے حقوق اور کھدیرا پیڑوں سے مستثنیٰ ہے پھول اور دودھ کی فراہمی کی ذمہ داری سے مستثنیٰ ہے  پوشیدہ خزانوں اور دفینوں کے حقوق کے ساتھ اور تمام بڑے چھوٹے ٹیکسوں کے استثنیٰ کے ساتھ یہ عطا کیا جا رہا ہے ۔یہ منشور تیرہویں سال جلوس میں جاری کیا جارہا ہے۔ چکر داس نے اسے کندہ کیا ہے۔ 
گاؤں میں کیا کیا چیزیں پیدا کی جاتی تھیں؟

۔6  شہر اور تجارت

6.1  نئے شہر
ایک بار پھر ہم ذرا پیچھے ہٹ کر ان شہری مراکز کو دیکھیں جو تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی سے برصغیر کے کچھ حصوں میںابھرنے شروع ہوئے تھے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا تھا ان میں سے بہت سے مرکز مہاجن پدوں کی راجدھانی تھے۔ فی الحقیقت تمام بڑے بڑے شہر آمد ورفت کے راستوں پربسائے گئے تھے۔ پاٹلی پتر جیسے کچھ مرکز آبی راستوں پر تھے اور اجّینی جیسے دوسرے شہر خشکی یا زمینی راستوں پر تھے۔کچھ اور جیسے پوہر سمندری ساحلوں کے پاس تھے، جہاں سے سمندر ی راستے شروع ہوتے تھے۔ متھرا جیسے بہت سے شہر تجارتی ہماہمی ،ثقافتی اور سیاسی تحریک وعمل کے مرکز تھے۔

6.2 شہری آبادیاں : اشرافیہ اور دستکار

ہم نے دیکھا کہ بادشاہ اور حاکم اشرافیہ کے لوگ قلعہ بند شہروں میں رہتے تھے ،گوکہ بہت وسیع علاقوں میں بڑے پیمانے پر کھدائی کرنا اس لیے مشکل ہے کہ (ہڑپّا کے برخلاف) اب بھی لوگ وہاں بود وباش رکھتے ہیں ۔پھر وہاں سے ایک وسیع سلسلہ مصنوعات کا دریافت ہوچکا ہے۔ ان میں بہت چمکدار اور چکنے مٹی کے پیالے اور رقابیں شامل ہیں جنھیں شمالی سیاہ پالش شدہ برتنوں کے نام سے جانا جاتا ہے اور انھیں غالباً دولت مند لوگ استعمال کرتے تھے۔ زیورات ،اوزار، ہتھیار، برتن ،مورتیاں جوسونے ،چاندی ،تانبے ،برونز(کانسے) ،ہاتھی دانت، شیشے ،سیب اور پکائی مٹی جیسے موادوں کے ایک بڑے سلسلے سے بنائی گئی تھیں۔یہ سب چیزیں بھی وہاں سے ملی ہیں۔
دوسری صدی قبل مسیح تک ہمیں بہت سے شہروں میں نذرانے یا چڑھاوے کے کتبے ملتے ہیں۔ ان میں معطی یامعطیہ کا نام ہوتا تھا اور کبھی کبھی اس کے پیشے کا بھی ذکر ہوتاتھا۔ ان سے ہمیں ان لوگوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں جو شہروں میں رہتے تھے۔ جن میں دھوبی، بنکر، قبالہ نویس، بڑھئی ،کمہار، سنار ، لوہار، افسر ،مذہبی استاذ تجارت پیشہ اور بادشاہ شامل تھے۔8

پاٹلی پتر کی تاریخ

ہر شہر کی اپنی مخصوص تاریخ تھی، مثال کے طور پر پاٹلی پتر ،پاٹلی گرام کے نام کے ایک گاؤں سے شروع ہوا۔ پھر پانچویں صدی قبل مسیحی دور میں مگدھ کے حکمرانوں نے اپنی راجدھانی راجا گاہا سے اس بستی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام بدل دیا ۔ چوتھی صدی قبل مسیحی دور تک یہ موریہ سلطنت کی راجدھانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایشیا کے سب سے بڑے شہروں میں شما رہوتا تھا۔ اس کے بعد ظاہری طورپر اس کی اہمیت کم ہوگئی۔ جب چینی سیاح زوان زانگ ساتویں صدی مسیحی دور میں یہاں آیا تو اس نے اسے کھنڈروں کی حالت میں اور بہت چھوٹی آبادی والا شہر پایا۔

شکل:2.6

ایک شبیہ کا تحفہ
یہ متھرا کی ایک شبیہ کا ٹکڑا ہے۔ اس کے پائے پر پراکرت میں ایک کتبہ ہے جس میںبیان کیا گیا ہے ایک عورت ناگا پیانے اسے ایک عبادت گاہ میں نصب کروایا جو دھرما کانامی سنار (سوانکا) کی بیوی ہے۔
9

کیا ان میں کچھ ایسے شہر بھی تھے جن میں تیسرے ہزارے قبل مسیحی دور میں ہڑپّائی تہذبیں پھلی پھولی تھیں؟

نذرانے یا چڑھاوے کے کتبوں میں عبادت گاہوں کو دیے ہوئے تحائف کا ریکارڈ ہے۔

کبھی کبھی پیشہ ور انجمنیں یا شرینی، جودستکاروں اور تاجروں کی تنظیمیں تھیں، ان کا بھی ذکر کیا جاتا تھا۔ یہ پیشہ ور انجمنیں غالباً خام مال حاصل کرتی تھیں۔ پیداوار تناسب انداز میں باقاعدگی پیدا کرتی تھیں اور تیار شدہ مال کی فروخت کا انتظام کرتی تھیں۔ امکان یہی ہے کہ کاریگر شہروں کی بڑھتی ہوئی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے لوہے کے اوزار بڑی تعداد میں استعمال کرتے ہوں گے۔

 6.3  برّصغیراور دوسرے ممالک میں تجارت

چھٹی صدی قبل مسیح سے ہی برصغیر میں زمینی اور دریائی راستوں کا ایک جال سا پھیلا ہوا تھا اور یہ ہرسمت میں اس سے آگے بھی بڑ ھ رہا تھا۔ زمینی راستوں سے وسط ایشیا کی طرف اور سمندری سفر کے لیے ان بندرگاہوں سے جو تمام بحیرہ عرب کے ساحل پر پھیلی ہوئی تھیں، بحیرہ عرب کے پار مشرقی اور شمالی افریقہ اورمغربی ایشیا تک اور خلیج بنگال سے جنوب مشرقی ایشیا اور چین تک حکمران ان راستوں پر غالباً کچھ قیمت کے بدلے میں تحفظ فراہم کرکے گرفت قائم رکھنے کی بھی کوشش کیا کرتے تھے۔
جو لوگ ان راستوں پر آتے جاتے تھے وہ غالبا پیدل سفر کرتے ہوں گے۔ جب کہ تاجر بیل گاڑیوں اور بار برداری کے جانوروں کے کاروانوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ پھر سمندری مسافر تھے جن کی مہمات پر خطر تو ہوتی تھیں مگر بے حد منافع بخش۔ کا میاب تاجر جنھیں تمل میں ماسٹُّون اور پراکِرت میں سیٹھی یا ستھاواہا کہا جاتا تھا بے حد رئیس ہوگئے تھے۔ اشیا کا ایک خاصہ وسیع سلسلہ ایک سے دوسری طرف لے جایا جاتا تھا۔ نمک ، اناج ،کپڑا، کچدھاتیں اور تیار شدہ چیزیں، پتھر،عمارتی لکڑی، طبّی پودے (جڑی بوٹیاں)۔یہ صرف چند چیزوں کے نام ہیں۔ گرم مسالے خصوصاً کالی مرچ کی رومی سلطنت میں بہت مانگ تھی اسی طرح کپڑے اور جڑی بوٹیوں کی مانگ بھی زیادہ تھی۔ یہ سب چیزیں بحیرہ عرب کے پار بحیرہ روم پہنچتی تھیں۔

6.4  سکّے اور بادشاہ

سکّوں کی ابتدا سے لین دین کسی قدر آسان ہوگئی تھی۔ پنچ مارک (تھپّے دار ) چاندی اور تانبے سے بنے سکّے پہلے سکّوں میں شمار ہوتے ہیں جو (چھٹی صدی قبل مسیح سے) شروع ہوئے اورر ائج ہوئے۔ یہ پورے برصغیر میں بہت سے مقامات پر کی گئی کھدائیوں میں برآمد ہوئے ہیں۔ سکّوں کے ماہرین (نِیو مِس مَیٹِسٹس) نے ان سکّوں اور دوسرے سکّوں کا مطالعہ کرکے تجارتی عمل کے امکانی جال کو دوبارہ مرتب کیا ہے۔
ان تھپّے دار سکّوں پر نظر آنے والی علامات کو بشمولیت موریہ خاندان، حکمراں خاندانوں کے مخصوص نشانات سے مطابقت کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ سکّے بادشاہوں نے ہی چلائے تھے۔ بہر حال یہ بھی ممکن ہے کہ تاجروں،بینک کاروں اور شہر کے لوگوں نے بھی ان میں سے کچھ سکّے۔ وہ پہلے سکّے جن پر حکمرانوں کے نام اور شکلیں ظاہر کی گئیں وہ ان ہندیونانیوں نے جاری کیے تھے۔ جنھوں نے دوسری صدی قبل مسیح میں برصغیر کے شمال مغربی علاقے میں اپنی گرفت قائم کی تھی۔
سونے کے پیلے سکّے تقریباً پہلی صدی عیسوی میں کشان حکمرانوں نے چلائے ۔یہ وزن کے اعتبار سے اپنے ہم عصر رومی شہنشاہوں اور ایران کے پار تھی حکمرا نوں کے چلائے ہوئے سکّوں کے بالکل برابر تھے۔ اور شمال ہند اور وسط ایشا کے بہت سے مقامات میں پائے گئے ہیں۔ سونے کے سکّوں کے اتنے پھیلے ہوئے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں قدر وقیمت کے اعتبار سے بہت بڑے بڑے لین دین ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ جنوبی ہندوستانی میں رومی سکّوں کے دفینے بھی ملے ہیں۔ جس سے یہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کا جال ملک کی سرحدوں تک ہی محدود نہیں تھا۔ کیونکہ جنوبی ہندوستان رومی سلطنت کا حصہ نہیں تھا مگر تجارت کے توسط سے اس سے بہت گہرے رشتے ضرور موجود تھے۔
سکّے قبائلی جمہور یتیں بھی چلاتی تھیں جیسے پنجاب اورہریانہ کے ،یودھیا (تقریباً پہلی صدی عیسوی)۔ماہرین آثار قدیمہ نے کئی ہزار تانبے کے سکّے کھود کر نکالے ہیں جو یودھیاؤں نے جاری کیے تھے جس سے ان کے معاشی معاملات میں دلچسپی اور معاشی لین دین میں مبادلہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 
کچھ خوبصورت ترین سونے کے سکّے گپتا حکمرانوں نے چلائے تھے۔ سب سے ابتدائی اجزاسکّوں کا جاری کیا جاتا اپنی دھات کی اصلیت کے لیے مثالی ہیں۔ ان سکّوں کے ذریعہ دور دراز سے لین دین میں آسانی پیدا ہوئی جس سے بادشاہوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔
 تقریباً چھٹی صدی عیسوی سے سونے کے سکّے کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کیا اس سے کسی معاشی بحران کا اندازہ ہوتا ہے ؟ مؤرخین اس مسئلے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ مغربی رومی سلطنت کے شیرازہ کے منتشرہونے کے ساتھ ساتھ دوردراز کی تجارت میں بھی زوال آیا اور اس نے ان حکومتوں ،معاشروں اور خطوں کی خوشحالی پر بھی اثر ڈالا جو اس سے فائدہ اٹھارہی تھیں۔ دوسرے مؤرخین کی رائے کہ نئے شہر اور تجارت اور بیوپار کے نئے سلسلوں کے جال اسی زمانے میں ابھرنے شروع ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی دلیل پیش کی ہے کہ گوکہ اس دور کے سکّوں کی دریافتیں نسبتاً کم ہوئی ہیں مگرسکّوں کا ذکر بہر طور کتبوں اور تحریروں میں ملتا ہے ۔ یہ بھی امکان ہوسکتا ہے کہ سکّے صرف دریافت ہی کم ہوپائے ہوں کیونکہ یہ جمع کیے جانے کے بجائے لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ گردش کررہے تھے؟

مالا بار ساحل

(موجودہ کیرالہ)
یہ ایک نامعلوم یونانی جہاز ران (تقریباً پہلی صدی عیسوی) کی نظم پیری پلس آف دی ارتھرائن سی (Periplus of the Erythraean Sea) کا اقتباس ہے۔
’’یہ لوگ یعنی (دوسرے ملکوں کے تاجر) ان شہری بازاروں کو بعد میں ادائیگی کی بنیاد پر بڑی بھاری مقدار میں کالی مرچ اور اور مالا باتھرم (غالباً دار چینی جو ان علاقوں میں پیدا ہوتی ہے) بڑے بڑے جہازوں میں بھیجتے ہیں ۔ سب سے پہلی چیز جو یہاں در آمد ہوتی ہے وہ بڑی مقدار میں سکّے، زرد یا قوت، اینٹی منی (ایک دھات جو رنگ بنانے کے مواد کے طور پر کام آتی ہے) مونگے ، کچا شیشہ ،تانبا ،ٹین، سیسہ۔ یہاں سے برآمد ہوتے ہیں۔ کالی مرچ جو بڑی مقدار میں ان بازاروں کے قریب صرف ایک خطے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سے۔بڑی مقدار میں نفیس موتی، ہاتھی دانت، ریشم کا کپڑا ، ہر طرح کے پتھر ، شفّاف پتھر ،ہیرے اور نیلم اور کچھووں کے خول برآمد ہوتے ہیں۔
ایک ایسی منکے بنانے والی صنعت کے آثار ،جو بیش قیمت اور نیم قیمتی پتھر استعمال کرتی تھی ،کوڈومنال (تمل ناڈو) میں ملے ہیں۔ ممکن ہے مقامی تاجر یہ قیمتی پتھر ،جن کا ذکر پیری پلس میں کیا گیا ہے، ایسے ہی مقامات سے ساحلی بندرگاہ تک لاتے ہوں۔
 مصنف نے یہ فہرست کیوں مرتب کی ہے؟


پیری پلسایک یونانی لفظ ہے،جس کے معنی جہازرانی ہے اور ارتھرائن یونانی میں بحیرۂ قلزم کا نام تھا۔
10

شکل 2.7:

ایک ٹھپّہ دار سکّہ، اس کا نام ٹھپّہ دار اس لیے رکھا گیا کہ اس کی دھات پر کچھ علامتیں ٹھپّے یا مہروں کی مدد سے دباکر بنائی گئی تھیں۔
11


شکل2.8:  یودھیاکا ایک سکّہ


12
شکل 2.9:گپتا خاندان کا ایک سکّہ

گفتگو کیجے

تجارت میں کیا کیا لین ہوتے ہیں ؟ ان میں سے کن کن لین دینوں کا اظہار متذکرہ ماخذ وں سے ہوتا ہے؟ کیا کچھ ایسے نہیں جن کا ذکر مآخذوں میں-نہیں ہے؟

13

شکل2.10:

اشوک کا ایک کتبہ
14
شکل2.11

اشوک کی برہمی کے متبادل دیونا گری حروف

کیا کچھ دیو ناگری حروف برہمی کے حروف سے مشابہ ہیں؟کیا کچھ ایسے حروف بھی ہیں جو مختلف ہیں؟

۔ 7 - ایک بار پھر بنیادی بات

کتبوں کو پڑھا کیسے جاتا ہے؟

اب تک ہم اور چیزوں کے ساتھ کتبوں کے اقتباسات پڑھ رہے تھے مگرمؤرخین یہ سمجھتے کیسے ہیں کہ ان پر کیا لکھا ہے؟

برہمی کو حل کرنا (پڑھنا)7.1

آج کل کی جدید ہندوستانی زبانوں کے لکھنے میں جو رسم الخط استعمال ہوتے ہیں وہ زیادہ تر اسی برہمی رسم الخط سے اخذ کیے گئے ہے۔ جس میں اشوک کے اکثر کتبے ملتے ہیں اٹھارویں صدی کے آخر ی حصے سے یوروپی عالموں نے ہندوستانی پنڈتوں کی مدد سے موجودہ بنگالی اور دیوناگری رسم الخط (ہندی لکھنے میں کام آنے والا رسم الخط) میں پیچھے کی طرف سفر شروع کیا اور اس کے موجودہ حروف کا پچھلے حروف سے مقابلہ کیا۔
جن عالموں نے شروع کے کتبوں کا مطالعہ کیا تھا وہ کبھی کبھی یہ فرض کرلیتے تھے کہ یہ سنسکرت میں تھے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پرانے کتبے پراکرت میں تھے۔ پھر بہت سے ماہرین کتبات کی کئی دہوں کی پرمشقت تلاش وتحقیق کے بعد جیمس پرنسیپ نے اشوک کی برہمی کو 1838میں حل کیا۔

7.2  خروشتی کیسے پڑھی گئی

خروشتی رسم الخط جو شمالی مغرب کے کتبوں میں استعمال ہوا ہے اس کے پڑھے جاسکنے کی کہانی مختلف ہے۔ اس سلسلے میں وہاں کے ہندی ،یونانی حکمرانوں کے جاری کردہ سکّوں (تقریباً دوسری پہلی صدی قبل مسیحی دور) کے ذخیروں کی دریافت نے مدد کی۔ ان سکّوں پر بادشاہوں کے نام یونانی اور خروشتی دونوں میں لکھے ہوئے ہیں ۔ یوروپی عالم جو اوّل الذکر کو پڑھ سکتے تھے انہوں نے دوسری زبانوں کے حروف کا مقابلہ کیا۔ مثال کے طور پر Apollodotusلکھنے میں 'a'کا نشان دونوں زبانوں میں پایا جاسکتا ہے۔ پرنسیپ کے خروشتی کتبوں کی زبان کو پراکِرت کے روپ میں شناخت کرلینے سے طویل کتبوں کو پڑھ لینا بھی ممکن ہوگیا۔ 

7.3کتبوں سے تاریخی شہادتیں

یہ جاننے کے لیے کہ ماہرین کتبات اور تاریخ داں کیسے آگے بڑھتے ہیں، ہمیں اشوک کے دو کتبوں کو ذرا غور سے دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ کتبے میںاشوک کے نام کاذکر نہیں ہے (مآخذ10) ۔جو کچھ ہے وہ صرف وہ خطابات ہیں جو حکمراں نے اپنائے تھے دیونم پیا جس کا عام طور پر ’دیوتاؤں کا محبوب ترجمہ کیا جاتا ہے اور پیاداسی یا دیکھنے میں خوشگوار ،اشوک نام کچھ اور کتبوں میں استعمال ہوا ہے ۔ جن میں یہ خطابات بھی موجود ہیں۔ ان تمام کتبات کے بغورجائزے کے بعد اور یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ اپنے مواد ،انداز زبان اور طرز بیان(Palaeography)ہر طرح سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ماہرین کتبات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انہیں ایک ہی حکمراں نے نشر کیا تھا۔
آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ اشوک نے بیان کیا ہے کہ اس سے پہلے حکمران خبر رسانوں کو بلانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں کرتے تھے۔ اگر آپ برصغیر کی اشوک سے پہلے کی تاریخ پر غورکریں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا یہ بیان صحیح ہے؟ تاریخ دانوں کو متواتر جانچ پڑتال کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے گاکہ کیا کتبوں میں دیے ہوئے بیانات حقیقت ہیں، امکانی ہیں یا مبالغہ ہیں؟
کیا آپ نے یہ بھی غور کیا کہ کچھ الفاظ بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ ماہرینِ کتبات انھیں کبھی کبھی جملے کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے بڑھادیتے ہیں ۔اسے احتیاط سے کرنا چاہیے تاکہ یہ صورت یقینی رہے کہ بیان کرنے والے کی منشا یا مطلب بدلا نہیں ہے۔
مؤرخین کو کچھ اور باتوں کا بھی اندازہ کرنا ہوتا ہے ۔اگر کسی بادشاہ کے کتبے کسی شہر یا آمد ورفت کے کسی اہم راستے کے کنارے ایک قدرتی چٹان پر لکھے جائیں تو کیا ادھر سے گزرنے والے وہاں رک کردیکھتے ہوں گے؟ زیادہ تر لوگ غالباً ناخواندہ تھے۔ کیا پاٹلی پتر میں استعمال ہونے والی پراکِرت پورے برصغیر میں ہر شخص سمجھ سکتا تھا؟ کیا بادشاہ کے احکامات پر عمل بھی ہوتا تھا؟ ایسے سوالوں کے جواب ملنا اکثر آسان نہیں ہوتا۔
اگر ہم مآخذ 11کو دیکھیں تو ایسے کچھ مسائل ظاہر بھی ہوجاتے ہیں ۔بسااوقات اس کی توجیہ حکمراں کے دلی کرب، بے چینی کے ترجمان کے روپ میں بھی کی جاتی ہے اور جنگ کے سلسلے کے طرز فکر میں تبدیلی کا اظہار بھی مانا جاتا ہے ۔جیسا ہم دیکھیں گے،اگر اس کتبے کی ظاہری قدر سے کچھ آگے بھی غور کریں تو صورت حال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
گوکہ اشوک کے کچھ کتبے اڑیسہ میں بھی ملے ہیں مگر ایسا کتبہ جو اس کی ایسی دلی بے چینی کا اظہار کرتا ہووہاں موجود نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتبہ اس علاقے میں نہیں پایا گیا جِسے فتح کیا گیا تھا۔ اس سے ہم کیا نتیجہ اخذ کریں؟ کیا ایسا تھا کہ اس تازہ ترین فتح کی بے چینی اور اضطراب اس علاقے میں اتنا تکلیف دہ تھا کہ اس کی وجہ سے حکمراں اس مسئلے کو وہاں نہ چھیڑ سکا۔

بادشاہ کے حکم

اسی طرح بادشاہ دیونم پیا دکہتا ہے :
ماضی میں معاملات کے نبٹارے کے لیے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ نہ باقاعدہ قسم کی رپورٹیں وصول کرنے کا کوئی طریقہ تھا۔ مگر میں نے مندرجہ ذیل (انتظامات ) کیے ہیں۔ پتی ویداک کو لوگوں کے معاملات کے بارے میں مجھے ہر وقت رپورٹ دینی چاہیے۔کہیں بھی  ہوںخواہ میں کھانا کھارہا ہوں، اندر کے کمروں میں سونے کے کمرے میں ،گایوں کے باڑے میں، لے جایا جارہا ہوں(غالباً پالکی میں)یاباغ میں ہوں۔ میں لوگوں کے معاملات کا ہر جگہ نپٹاراکروں گا۔
 
ماہرین کتبات نے پتی ویداک کا ترجمہ خبر رساں کیا ہے، پتی ویدا ک کے کام آج کے رپورٹروں سے منسوب ذمّے داریوں سے کن کن طریقوں سے مختلف تھے۔؟
15

شکل2.12:

ہندیونانی بادشاہ منانڈیر کا ایک سکّہ

بادشاہ کا اضطراب

جب بادشاہ دیونم پیا پیاداسی آٹھ برس سے حکومت کررہا تھا، تو کلنگ (کاملک) ،(آج کا ساحلی اڑیسہ ) اس نے فتح کیا۔
 ایک سوپچاس ہزارلوگ شہر بدر کیے گئے۔ ایک سوہزار قتل کردیے گئے اور بہت سے مرگئے۔
اس کے بعد اب جبکہ کلنگ (کاملک) لیا جاچکا دیونم پیادھمّہ کے گہرے مطالعے میں، دھمّہ سے محبت میں اور لوگوں میں دھمّہ کی ہدایت دینے میں منہمک ہے۔
کلنگ کے ملک کو فتح کرلینے کے سلسلے میں یہ دیونم پیاکا پچھتاواہے ۔
یہ بات دیونم پیا کے خیال میں بڑی تکلیف دہ اور قابِل مذمّت ہے کہ جب کوئی شخص کسی غیر مفتوحہ (ملک) کو فتح کررہا ہو (تو ) قتل، موت اور لوگوں کی شہر بدری وہاں (واقع ہو)۔۔۔۔۔۔۔

  گفتگو کیجیے 

نقشہ2کو دیکھیے اور اشوک کے کتبوں پر گفتگو کیجیے۔کیا آپ کو اس میں کوئی ترتیب نظر آتی ہے

8۔  کتباتی شہادت کی حدبندیاں

اب تک غالباً یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ علم کتبات جو کچھ ظاہر کرسکتا ہے اس کی کچھ حدیں بھی ہیں۔ کبھی کبھی تو کچھ تکنیکی حدود ہوتی ہیں: حروف بہت ہلکے کھدے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی دوبارہ ترتیب یقینی نہیں ہوتی۔ کتبے خراب یا خستہ حالت میں بھی ہوسکتے ہیں یا حروف معدوم ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کتبے میں استعمال شدہ الفاظ کے معنوں کے بارے میں بھی مکمل یقین کرلینا ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ان میں سے کچھ الفاظ کسی خاص جگہ یا وقت کے لیے مخصوص ہوسکتے ہیں ۔اگر آپ علم کتبات سے متعلق کسی رسالے (جرنل) کو پڑھیں ( ان میں سے کچھ کی فہرست ٹائم لائن 2میں دی گئی ہے) تو آپ کو احسا س ہوگا کہ اس کے عالم کتبات کو پڑھنے کے متبادل طریقوں پر متواتر گفتگو او رمباحثہ جاری رکھتے ہیں ۔
حالانکہ ہزاروں کتبے دریافت کیے گئے ہیں مگر ان میں سے بہت سے ابھی پڑھے نہیں جاسکے، کچھ شائع نہیں کیے جاسکے اور کچھ کا ترجمہ نہیں ہوا۔ پھر کتنے ہی کتبے ایسے بھی ہوں گے جو موجود رہے ہوں گے لیکن زمانے کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اب باقی نہیں رہے۔ اس لیے اب جو مواد موجود ہے وہ کتبوں کے کل مواد کا ایک جزو ہی ہے۔
پھر شاید اس سے بھی زیادہ بنیادی یا اہم ایک اور نکتہ بھی ہے ۔ ہر وہ چیز جسے ہم سیاسی یا معاشی طور پر اہم سمجھتے ہیں وہ سب کچھ ان کتبوں میں لازمی طور پر ریکارڈ بھی نہیں کی گئی تھی ۔ مثال کے طور پر روز مرہ کے زراعتی عمل اور روزانہ عام زندگی کی خوشیاں اور غم۔ ان کا کوئی ذکر کتبوں میں نہیں ہے ۔ان میں لگ بھگ سب میں ہی زبردست اور انوکھے قسم کے واقعات یا حادثوں پر توجہ ہوتی ہے ۔ پھر اس کے علاوہ ان کتبوں کے متن کم وبیش ہمیشہ ہی کسی ایک ایسے شخص یا چند اشخاص کا تناظر ابھارتے ہیں جنھوں نے اسے نصب کروایا تھا۔ اس لیے ماضی کے بارے میں کچھ بہتر سوچ قائم کرنے کے لیے اس تناظر کو کچھ اور تناظروں کے مقابلے میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
بہرآخری اور بیسوی صدی کے ابتدائی حصے کے ماہرین بنیادی طور پر صرف بادشاہوں کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بیسوی صدی کے درمیانی حصے سے معاشی تبدیلیوں جیسے مسئلوں اور جن طریقوں یا راہوں طور صرف علم کتبات ہمیں سیاسی اور معاشی تاریخ کا مکمل ادراک نہیں دیتے۔ پھر مؤرخین اکثر پرانے اور جدید ثبوتوں یا شہادتوں کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ انیسوی صدی کے سے ہوتے ہوئے مختلف سماجی زمرے ابھرے۔یہ مسائل اب کہیں زیادہ اہم مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دہوں سے حاشیے کے زمروں یا کمزور گروپوں کی تاریخ میں زیادہ انہماک نظر آیا ہے اس کی وجہ سے پرانے ذرائع کی ایک تازہ تحقیق وتلاش کی راہ کھلے گی۔ تجزیہوتحقیق کے نئے طریقے اور حکمت عملیاں ابھریں گی۔
شکل2.13

کرناٹک کا تانبے کی پتریوں پر ایک کتبہ، تقریباً چھٹی صدی عیسوی کا

16

ٹائم لائن-1

اہم سیاسی اور معاشی ترقیات
  :دھان کے پودوں کی منتقلی،وادی گنگا میں شہری آبادی :مہاجن پد ٹھپّےدار سکّے تقریبا 600- 500قبل مسیح
مگدھ کے حکمراں اقتدار مستحکم کرتے ہیں تقریباً500- 400 قبل مسیح
 مقدونیاکے سکندر کا حملہ  تقریباً327- 325 قبل مسیح
چندر گپت موریہ کی تاج پوشی  تقریب 321قبل مسیح 
 اشوک کا دور حکومت تق268/272
231-
قبل مسیح  
  موریہ سلطنت کا خاتمہ پا ،  تقریبا  185 قبل مسیح 
 شمال مغرب میں ہند۔ یونانی حکمرانی، چولا،چیرا اورنڈیا، جنوبی ہندوستان میں ، ستواہن دکن میں
،  
تقریباً200ق م 100عیسوی تک  
 شاکا (وسط ایشیا کے لوگ) شمال مغرب کے حکمراں ، رومی تجارت ، سونے کے سکّوں کاچلن
    
تقریباً100 - 200 
عیسوی  
    کنشک کی تاج پو شی     
تقریباً78 عیسوی 
 ستواہنوں اور شاکاؤں کے کتبات میںزمینیعطیات کے بارے میں  سب سے پہلی شہادتیں  

200-100تقریبا عیسوی 
گپتا حکمرانی کی  ابتداء  تقریباً320عیسوی
سمدر گپت
 375- 335تقریبا
 چندر گپت دوم: دکن میں واکاٹکا  تقریبا375- 415عیسوی 
  کرناٹک میں چالکیہ اور تمل ناڈو میںپلّووں کا عروج  تقریباً500-600عیسوی
قنوج کا بادشاہ ہرش وردھن : چینی سیّاحزوان زنگ کی بدھ تحریروں کی تلاش میں آمد 
تقریباً606-647 عیسوی 
عربوں کی سندھ پر فتح تقریباً712 عیسوی
 
(نوٹ: معاشی ترقیات یا تبدیلیوں کی متعین تاریخیں دینا مشکل ہے۔ پھر پورے برصغیر میں لاتعداد رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں میں جنھیں ٹائم لائن میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ خاص خاص ابتدائی تبدیلیوں کی صرف تاریخ دے دی گئی ہے۔ کنشک کی تاج پوشی کی تاریخ یقینی نہیں ہے۔ اس لیے اس کے آگے سوالیہ نشان(؟) لگادیا گیا ہے۔)

ٹائن لائن-2

علم کتبات میں اہم اقدام

                                                                                      اٹھارھویں صدی

ایشا ئٹک سوسائٹی بنگال کا قیام 1784
انیسویں صدی
کولن میکنزی سنسکرت اور درادڑی زبانوں کے8,000سے زیادہ کتبے جمع کرتا ہے۔ 1810
کی دہائی 
(جیمس پرنسیپ نے اشوک کی برہمی کو حل کیا (پڑھا 1838
َْٓالیکز ینڈر کنگھم نے اشوک کے کتبوں کا ایک مجموعہ شائع کیا 1877
جنوبی ہندوستان کے کتبوں کا ایک جرنل ’ایپی گرافیا کرناٹک کا پہلا شمارہ 1886
ایپی گرافیا انڈیکا کا پہلا شمارہ 1888
بیسویں صدی
ڈی ،سی ، سرکار نے انڈین ایپی گرافی، اور انڈین ایپی گرافکل گلوسری شائع کی۔ 1965- 66

 

     لفظوں میں جواب دیجیے100-150

۔   ابتدائی تاریخی شہروں میں حرفے کی پیداوار سے متعلق شہادتوں پر بحث کیجیے ۔یہ ہڑپّائی شہروں کی شہادتوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
۔   مہاجن پدوں کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
۔   مؤرخین عام لوگوں کی زندگی کے حالات کس طرح مرتب کرتے ہیں؟
۔   پانڈیا سردار کو جو چیزیں دی گئی تھیں (مآخذ3)اورڈنگونا‘ گاؤں میں پیدا ہونے والی اشیا، (مآخذ8) ان کی فہر ستوں کا موازنہ کیجیے۔
کیا آپ کو ان میں کوئی یکسانیت یا فرق محسوس ہوا؟    
۔   ماہرینِ کتبات جن مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ان کی فہرست تیار کیجیے۔

اگر آپ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پڑھیے۔
D.N. Jha. 2004
Early India: A Concise History
Manohar, New Delhi.

R. Salomon. 1998
Indian Epigraphy. Munshiram 
Manoharlal Publishers Pvt. Ltd.    New Delhi
R.S.Sharma. 1983.
Material Culture and Social Formation in Early India.
Macmillan, New Delhi 

D.C. Sircar. 1975.
Inscriptions of Asoka.   Publications Division, Ministry of Information and Broadcasting. Government of India, New Delhi
Romila Thapar. 1997.
Asoka and the Decline of the Mauryas. Oxford University Press, New Delhi
مزیداطلاعات کے لیے آپ دیکھ سکتے ہیں:
http:/projectsouthasia.sdstate.
edu/Docs/index.html

ان عنوانات پر ایک مختصرمضمون لکھیے(لگ بھگ 500الفاظ)

۔ موریہ حکومت کے انتظامیہ کی اہم خصوصیات بیان کیجیے ۔آپ نے اشوک کے جن کتبات کا مطالعہ کیا ہے؟ ان میں اس انتظامیہ کے کون کون سے اجزا نظر آتے ہیں؟
۔ بیسوی صدی کے کچھ بہترین ماہرین کتبات میں شمار ہونے والے ڈی ،سی سرکار کا بیان ہے ’’ہندوستانیوں کی زندگی ،کلچر اوران کے کاموں کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے جس کا اظہار کتبات سے نہ ہوتا ہو‘‘۔
۔ موریہ دور کے بعد بادشاہت کے سلسلے میں جو تصورات قائم ہوئے ان پر بحث کیجیے۔
۔ زیر نظر دور میں زراعتی کاموں میں کس حد تک تبدیلی رونما ہوئی تھی؟

نقشے کے کام

۔ نقشہ1اور2کا مقابلہ کیجیے اور اُن جن پدوں پر نشان لگایے جو موریہ سلطنت میں شامل رہے ہوں گے۔ کیا ان میں کچھ اشوک کے کتبات بھی پائے گئے ہیں؟

کوئی ایک )منصوبہ) 

۔کسی ایک مہینے کے اخبار جمع کیجیے۔ پبلک ورکس (تعمیراتِ عامہ) کے بارے میں سرکاری افسروں نے جتنے بیانات دیے ہیں انہیں کاٹ کر چپکاییے۔ یا د داشت میں لکھیے کہ ان منصوبوں کے لیے کس قسم کے ذرائع کاہونا ضروری ہے؟ ان ذرائع کو کس طرح مہیّا کیا جاتا ہے اور منصوبے کا مقصد کیا ہے؟ یہ بیانات کون جاری کرتا ہے اور انہیں کس طرح پہنچایا جاتا ہے؟ ان کااسی باب میں زیر بحث آئی کتباتی شہادتوں سے موازنہ اور تقابل کیجیے۔ ان دونوں میں کیایکسانتیں اور کیا فرق ہیں؟
۔آج کے پانچ رائج کرنسی نوٹ اور پانچ سکّے جمع کیجیے ۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں لکھیے کہ آپ کو اس کے سیدھے رخ اور پشت کے رخ (چہرہ اور پُشت ) پر کیا نظر آتا ہے؟ ایک رپورٹ تیار کیجیے جس میں بتایییے کہ ان میں دی ہوئی تصویروں ،رسم الخط، زبانوں، سائز، ہیئت اور کسی ایسے جز کے بارے میں جسے آپ اہم سمجھتے ہیں۔ ان میں کیایکساں اورکیا مختلف خصوصیات ہیں؟ اسی باب میں دیے گئے سکّوں سے ان کا مقابلہ کیجیے اور بتاییے کہ ان میں کیا مواد (دھات) استعمال ہوتاہے۔ ٹکسالی تکنیکیں ،نظر آنے والی علامتیں اور ان کی اہمیت اوروہ امکانی کام کیا تھے جوسکّے انجام دیتے تھے؟