رعایا اپنے بادشاہوں کے بارے میں کیا سوچتی تھی؟ ظاہر ہے اس کے سارے جواب کتبے تو نہیں دیتے ہیں۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عام آدمیوں نے مشکل سے ہی اپنے خیالات اور اپنے تجربات کا کوئی بیان چھوڑ ا ہے۔ پھر بھی مؤرخین نے اس مسئلے کا حل جاتک اور پنچ تنتر، جیسی کہانیوں کے مجموعوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے زیادہ ترکہانیوں کی ابتدا غالباً زبانی قصوں سے ہوئی ہوگی،جنھیں بعد میں تحریری شکل دے دی گئی ہوگی۔جاتک کہانیاں عام دور کے پہلے ہزارے کے درمیانی حصے میں لکھی گئی تھیں۔
ایک کہانی جو ،گندا تندوجاتک‘کے نام سے مشہور ہے اس میں ایک کینہ پرور قسم کے بادشاہ کے دور میں رعایا، جس میں بوڑھے مردوں، عورتوں، کسانوں ،گدریوں ،گاؤں کے لڑکوں ،بلکہ جانوروں تک کی درگت بیان کی گئی ہے۔ پھر جب بادشاہ بھیس بدل کر یہ دیکھنے نکلا کہ اس کی رعایا اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے تو ہر شخص اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کے لیے اسے کوستا نظر آیا، ان کی شکایت تھی کہ رات کو چور اور ڈاکو اور دن میںٹیکس وصول کرنے والے ان پر ہلّا بولتے رہتے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے لوگ اپنے گاؤں چھوڑ چھوڑ کر جنگل میں بھاگ گئے۔
جیسا کہ اس کہانی سے ظاہر ہوتا ہے ۔بادشاہ ا ور اس کی رعایا ،خصوصاً دیہی آبادی کے درمیان اکثر تناؤ رہتا تھا۔ بادشاہ بسا اوقات اونچے محصولوں کی مانگ کرکے اپنے خزانے بھرنے کی کوشش کرتا تھا اور کسان خاص طور پر اس کی ان مانگوں کو ظالمانہ اور تکلیف دہ محسوس کرتے تھے۔ جنگلوں کی طرف بھاگ جانا، جیسا کہ اس کہانی سے اظہار ہوتا ہے ایک راستہ بچتاتھا۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکسوں کی متواتر بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے دوسری حکمت عملیاں بھی اپنائی جاتی تھیں۔
ایک حکمت عملی توہل سے کھیتی کرناہی تھا جو گنگا اور کاویری جیسی دریائی وادیوں کی زرخیز مٹی میں تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی دور میں پھیلتی چلی گئی۔ ان علاقوں میں جہاں زیادہ بارش ہوتی تھی لوہے کے پھل والے ہل کو سیلابی مٹی کو الٹنے پلٹنے میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ وادی گنگا کے کچھ علاقوں میں پودوں کی منتقلی کے طریقے متعارف ہونے کے بعد دھان کی گرچہ زراعتی پیداوار یت میں لوہے کے پھل کے استعمال سے اضافہ ہوا مگر اس کا استعمال برصغیر کے کچھ حصوں تک محدود رہا۔ نیم خشک علاقوں میں جیسے پنجاب اور راجستھان کے کچھ حصوں کے کسانوں نے اس طریقے کو بیسویں صدی تک بھی نہیں اپنایا اور برصغیر کے شمال مشرقی اور وسطی حصوں کے پہاڑی علاقے کے رہنے والوں نے بیلچہ زراعت ہی کو اپنائے رکھا ،جو اس زمینی کیفیت کے لیے زیادہ مناسب طریقہ بھی تھا۔
زراعتی پیداوار میں اضافے کے لیے ایک اور حکمت عملی آبپاشی کے طریقے کو اپنانا تھا، جو عام طور پر کنوؤں اور تالابوں کے ذریعے اور نسبتا ًکم ،نہروں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ برادریاں اور ان کے ساتھ افراد ،آبپاشی کے منصوبوں کو منظم کرتے تھے۔ مؤخر الذکر ،عام طور پر صاحبِ اقتدار افراد تھے جن میں بادشاہ بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے اس قسم کے کاموں کا کتبوں میں بھی ذکر کردیا ہے۔
5.4 زمینوں کے عطیات اور نئے دیہی اعلیٰ طبقے
عام یا مسیحی دور کی شروع صدیوں سے ہی ہمیں زمینی عطیات دئیے جانے کے بارے میں معلومات ملنی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے عطیات کو کتبوں پر بھی لکھ دیا گیا تھا ۔کچھ کتبے پتھروں پرتھے مگر زیادہ تر تانبے کے پتروں پر تھے(شکل 2.13) جو غالبا عطیات وصول کرنے والوں کو زمین کی تبدیلی ملکیت کے ریکارڈ کے طور پر دیے گئے تھے۔ جو ریکارڈ اس وقت تک محفوظ رہے ہیں ان میں زیادہ تر مذہبی اداروں یا برہمنوں کو دیے ہوئے عطیات ہیں۔ زیادہ تر کتبے سنسکرت میں تھے۔ کچھ صورتوںمیں جو ساتویں صدی سے نظر آنی شروع ہوتی ہیں ان دستاویزوں کا کچھ حصہ سنسکرت میں ہوتا تھا اور باقی مقامی زبانوں میں۔جیسے تمِل یا تیلگو۔آیے ذرا ایک کتبے کو غور سے دیکھیں۔
پَر بھاوتی گُپتا ہندوستان کی شروع کی تاریخ کے اہم ترین حکمرانوں میںسے ایک چندر گپت دوم (تقریباً 375-415عیسوی) کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی ایک اہم حکمراں خاندان وکاتکامیں ہوئی تھی جو دکن میں صاحبِ اقتدار تھے۔ (ملاحظہ ہو نقشہ3)سنسکرت کی قانونی تحریروں کی رو سے عورتیں انفرادی حیثیت سے زمین جیسے ذرائع پر آزادانہ ملکیت کا حق نہیں رکھتی تھیں مگر کتبے سے اظہار ہوتا ہے کہ پربھاوتی زمین کی ملکیت رکھتی تھی ،جسے اس نے عطیے میں دیا تھا۔ یہ اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ رانی تھی۔ ( ہندوستان کی ابتدائی تاریخ میں ایسی چند مثالوں میں یہ بھی ہے) اس لیے اس کی حیثیت مستثنیات میں سے تھی۔ یہ بھی ممکن ہے قانونی متنوں میں دی گئی پابندیوں پر مساویانہ انداز میں عمل در آمد نہ ہوتا ہو۔
اس کتبے سے ہم اس وقت کی دیہی آبادی کے بارے میں کچھ اندازہ لگاسکتے ہیں۔ ان میں برہمن اور کسان شامل تھے۔ ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ تھے جن سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بادشاہ یا اس کے نمائندوں کو مختلف پیداواروں کا ایک سلسلہ فراہم کرتے رہیں گے۔ اور کتبے کے مطابق گاؤں کے نئے مکھیا کی تابعداری کریں گے۔ شاید اپنے ذمے کی تمام ادائیگیاں بھی اسی کو کریں گے۔
اس طرح کے زمینی عطیات ملک کے دوسرے متعدد حصوں میں پائے گئے ہیں ۔ زمین کی وسعت کے سلسلے میں مختلف علاقوں میں فرق ضرور تھا۔ چھوٹے چھوٹے کھیتوں سے لے کر غیر مزروعہ وسیع وعریض قطعات تک اور معطی (جسے زمین کا عطیہ دیا گیا ہو) کے حقوق بھی مختلف ہوتے تھے ۔ زمینی عطیات کا سلسلہ مؤرخین کے درمیان کافی گرم بحث ومباحثے کا موضوع ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ زمینی عطیات کا طریقہ اصل میں زراعت کے فروغ کے لیے حکمراں خاندانوں نے ایک حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا تھا۔ دوسرے زمرے کا خیال ہے کہ زمینی عطیات سیاسی اقتدار میں گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یعنی بادشاہ اپنے سامنتوں پر گرفت میں کمزوری محسوس کرتے ہوئے زمینی عطیات کے ذریعے اپنے حمایتیوں کی ہمدردی اور مدد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ بادشاہ اپنی ایک فوق البشر حیثیت پیش کرنا چاہتے تھے (جیسا کہ ہم نے پچھلے حصے میں دیکھا تھا) کیونکہ وہ اقتدار کھورہے تھے۔ اس لیے کم سے کم ظاہری طور پر تو وہ اپنے اقتدار اور طاقت کا مظاہرہ چاہتے ہی تھے۔
زمینی عطیات کسانوں اور حکومت کے درمیان رشتوں پر بھی کسی قدر روشنی ڈالتے ہیں ۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو افسروں اور سامنتوں کی پہنچ سے باہر تھے۔ گلہ بان ،مچھیرے اور شکاری اور جنگلوں کی پیداوار جمع کرنے والے گروہ ،قیام رکھنے ولے یا نیم مقیم کاریگر اور وہ کسان جو کھیتی باڑی کی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ایسے گروہ اپنی زندگیوں اور لین دین کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے ہیں۔
چھوٹے گاؤں میں زندگی
’ہرَش چَرِت’ قنّوج کے حکمراں ہرش وردھن کی سوانح ہے جو اس کے درباری شاعر بان بھٹّ نے سنسکرت میں (ساتویں صدی عیسوی) میں مرتب کی تھی۔ نیچے اس کے متن سے ایک اقتباس دیا جارہا ہے جو وندھیا پہاڑوں کے جنگل کے کنارے آباد ایک چھوٹی سی بستی کا بے حد نایاب مظہر یا ترجمان ہے۔
قرب وجوار کے بیشتر علاقوں کے جنگل ہونے کی وجہ سے دھان کی زمینوں کے بہت سے قطعے اناج گاہنے کے ٹکڑے(کھلیان)اور قابِل کاشت چھوٹے چھوٹے حصے ، کسان جن کی الگ الگ حد بندی کرلیتے ہیں ۔۔۔۔یہ بنیادی طور پر پھاوڑا کا شت تھی۔۔۔چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی، گھاس سے ڈھکی زمین میں ہل چلانے کی مشکل کے ساتھ بہت کم صاف قطعے ان کی کالی مٹی، ایسی سخت جیسے لوہا۔۔۔
لوگ بھوسے کے گٹھر اٹھائے ادھر سے ادھر آتے جاتے۔۔۔چنے ہوئے پھولوں کے لا تعداد بورے۔۔۔۔ پٹ سن اور گانجے کے پودوں کے پولے، شہد کی مقداریں، مور کی دم کے پر ،موم کے لچھے،لٹھے اور گھاس لیے چلتے پھرتے گاؤں کی بیبیاں پڑوس کے گاؤں کی طرف جانے والے راستوں پر تیز تیز قدم بڑھاتی، جن کے دماغ صرف فروخت کے خیالات میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے او ر وہ دوسروں پر جنگل سے جمع کیے ہوئے طرح طرح کے پھلوں سے بھری ٹوکریاں سنبھالے ہوئے ہوتی تھی۔
۔6 شہر اور تجارت
6.1 نئے شہر
ایک بار پھر ہم ذرا پیچھے ہٹ کر ان شہری مراکز کو دیکھیں جو تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی سے برصغیر کے کچھ حصوں میںابھرنے شروع ہوئے تھے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا تھا ان میں سے بہت سے مرکز مہاجن پدوں کی راجدھانی تھے۔ فی الحقیقت تمام بڑے بڑے شہر آمد ورفت کے راستوں پربسائے گئے تھے۔ پاٹلی پتر جیسے کچھ مرکز آبی راستوں پر تھے اور اجّینی جیسے دوسرے شہر خشکی یا زمینی راستوں پر تھے۔کچھ اور جیسے پوہر سمندری ساحلوں کے پاس تھے، جہاں سے سمندر ی راستے شروع ہوتے تھے۔ متھرا جیسے بہت سے شہر تجارتی ہماہمی ،ثقافتی اور سیاسی تحریک وعمل کے مرکز تھے۔
6.2 شہری آبادیاں : اشرافیہ اور دستکار
ہم نے دیکھا کہ بادشاہ اور حاکم اشرافیہ کے لوگ قلعہ بند شہروں میں رہتے تھے ،گوکہ بہت وسیع علاقوں میں بڑے پیمانے پر کھدائی کرنا اس لیے مشکل ہے کہ (ہڑپّا کے برخلاف) اب بھی لوگ وہاں بود وباش رکھتے ہیں ۔پھر وہاں سے ایک وسیع سلسلہ مصنوعات کا دریافت ہوچکا ہے۔ ان میں بہت چمکدار اور چکنے مٹی کے پیالے اور رقابیں شامل ہیں جنھیں شمالی سیاہ پالش شدہ برتنوں کے نام سے جانا جاتا ہے اور انھیں غالباً دولت مند لوگ استعمال کرتے تھے۔ زیورات ،اوزار، ہتھیار، برتن ،مورتیاں جوسونے ،چاندی ،تانبے ،برونز(کانسے) ،ہاتھی دانت، شیشے ،سیب اور پکائی مٹی جیسے موادوں کے ایک بڑے سلسلے سے بنائی گئی تھیں۔یہ سب چیزیں بھی وہاں سے ملی ہیں۔
دوسری صدی قبل مسیح تک ہمیں بہت سے شہروں میں نذرانے یا چڑھاوے کے کتبے ملتے ہیں۔ ان میں معطی یامعطیہ کا نام ہوتا تھا اور کبھی کبھی اس کے پیشے کا بھی ذکر ہوتاتھا۔ ان سے ہمیں ان لوگوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں جو شہروں میں رہتے تھے۔ جن میں دھوبی، بنکر، قبالہ نویس، بڑھئی ،کمہار، سنار ، لوہار، افسر ،مذہبی استاذ تجارت پیشہ اور بادشاہ شامل تھے۔

پاٹلی پتر کی تاریخ
ہر شہر کی اپنی مخصوص تاریخ تھی، مثال کے طور پر پاٹلی پتر ،پاٹلی گرام کے نام کے ایک گاؤں سے شروع ہوا۔ پھر پانچویں صدی قبل مسیحی دور میں مگدھ کے حکمرانوں نے اپنی راجدھانی راجا گاہا سے اس بستی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام بدل دیا ۔ چوتھی صدی قبل مسیحی دور تک یہ موریہ سلطنت کی راجدھانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایشیا کے سب سے بڑے شہروں میں شما رہوتا تھا۔ اس کے بعد ظاہری طورپر اس کی اہمیت کم ہوگئی۔ جب چینی سیاح زوان زانگ ساتویں صدی مسیحی دور میں یہاں آیا تو اس نے اسے کھنڈروں کی حالت میں اور بہت چھوٹی آبادی والا شہر پایا۔
شکل:2.6
ایک شبیہ کا تحفہ
یہ متھرا کی ایک شبیہ کا ٹکڑا ہے۔ اس کے پائے پر پراکرت میں ایک کتبہ ہے جس میںبیان کیا گیا ہے ایک عورت ناگا پیانے اسے ایک عبادت گاہ میں نصب کروایا جو دھرما کانامی سنار (سوانکا) کی بیوی ہے۔
کیا ان میں کچھ ایسے شہر بھی تھے جن میں تیسرے ہزارے قبل مسیحی دور میں ہڑپّائی تہذبیں پھلی پھولی تھیں؟
نذرانے یا چڑھاوے کے کتبوں میں عبادت گاہوں کو دیے ہوئے تحائف کا ریکارڈ ہے۔
کبھی کبھی پیشہ ور انجمنیں یا شرینی، جودستکاروں اور تاجروں کی تنظیمیں تھیں، ان کا بھی ذکر کیا جاتا تھا۔ یہ پیشہ ور انجمنیں غالباً خام مال حاصل کرتی تھیں۔ پیداوار تناسب انداز میں باقاعدگی پیدا کرتی تھیں اور تیار شدہ مال کی فروخت کا انتظام کرتی تھیں۔ امکان یہی ہے کہ کاریگر شہروں کی بڑھتی ہوئی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے لوہے کے اوزار بڑی تعداد میں استعمال کرتے ہوں گے۔
6.3 برّصغیراور دوسرے ممالک میں تجارت
چھٹی صدی قبل مسیح سے ہی برصغیر میں زمینی اور دریائی راستوں کا ایک جال سا پھیلا ہوا تھا اور یہ ہرسمت میں اس سے آگے بھی بڑ ھ رہا تھا۔ زمینی راستوں سے وسط ایشیا کی طرف اور سمندری سفر کے لیے ان بندرگاہوں سے جو تمام بحیرہ عرب کے ساحل پر پھیلی ہوئی تھیں، بحیرہ عرب کے پار مشرقی اور شمالی افریقہ اورمغربی ایشیا تک اور خلیج بنگال سے جنوب مشرقی ایشیا اور چین تک حکمران ان راستوں پر غالباً کچھ قیمت کے بدلے میں تحفظ فراہم کرکے گرفت قائم رکھنے کی بھی کوشش کیا کرتے تھے۔
جو لوگ ان راستوں پر آتے جاتے تھے وہ غالبا پیدل سفر کرتے ہوں گے۔ جب کہ تاجر بیل گاڑیوں اور بار برداری کے جانوروں کے کاروانوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ پھر سمندری مسافر تھے جن کی مہمات پر خطر تو ہوتی تھیں مگر بے حد منافع بخش۔ کا میاب تاجر جنھیں تمل میں ماسٹُّون اور پراکِرت میں سیٹھی یا ستھاواہا کہا جاتا تھا بے حد رئیس ہوگئے تھے۔ اشیا کا ایک خاصہ وسیع سلسلہ ایک سے دوسری طرف لے جایا جاتا تھا۔ نمک ، اناج ،کپڑا، کچدھاتیں اور تیار شدہ چیزیں، پتھر،عمارتی لکڑی، طبّی پودے (جڑی بوٹیاں)۔یہ صرف چند چیزوں کے نام ہیں۔ گرم مسالے خصوصاً کالی مرچ کی رومی سلطنت میں بہت مانگ تھی اسی طرح کپڑے اور جڑی بوٹیوں کی مانگ بھی زیادہ تھی۔ یہ سب چیزیں بحیرہ عرب کے پار بحیرہ روم پہنچتی تھیں۔
6.4 سکّے اور بادشاہ
سکّوں کی ابتدا سے لین دین کسی قدر آسان ہوگئی تھی۔ پنچ مارک (تھپّے دار ) چاندی اور تانبے سے بنے سکّے پہلے سکّوں میں شمار ہوتے ہیں جو (چھٹی صدی قبل مسیح سے) شروع ہوئے اورر ائج ہوئے۔ یہ پورے برصغیر میں بہت سے مقامات پر کی گئی کھدائیوں میں برآمد ہوئے ہیں۔ سکّوں کے ماہرین (نِیو مِس مَیٹِسٹس) نے ان سکّوں اور دوسرے سکّوں کا مطالعہ کرکے تجارتی عمل کے امکانی جال کو دوبارہ مرتب کیا ہے۔
ان تھپّے دار سکّوں پر نظر آنے والی علامات کو بشمولیت موریہ خاندان، حکمراں خاندانوں کے مخصوص نشانات سے مطابقت کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ سکّے بادشاہوں نے ہی چلائے تھے۔ بہر حال یہ بھی ممکن ہے کہ تاجروں،بینک کاروں اور شہر کے لوگوں نے بھی ان میں سے کچھ سکّے۔ وہ پہلے سکّے جن پر حکمرانوں کے نام اور شکلیں ظاہر کی گئیں وہ ان ہندیونانیوں نے جاری کیے تھے۔ جنھوں نے دوسری صدی قبل مسیح میں برصغیر کے شمال مغربی علاقے میں اپنی گرفت قائم کی تھی۔
سونے کے پیلے سکّے تقریباً پہلی صدی عیسوی میں کشان حکمرانوں نے چلائے ۔یہ وزن کے اعتبار سے اپنے ہم عصر رومی شہنشاہوں اور ایران کے پار تھی حکمرا نوں کے چلائے ہوئے سکّوں کے بالکل برابر تھے۔ اور شمال ہند اور وسط ایشا کے بہت سے مقامات میں پائے گئے ہیں۔ سونے کے سکّوں کے اتنے پھیلے ہوئے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں قدر وقیمت کے اعتبار سے بہت بڑے بڑے لین دین ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ جنوبی ہندوستانی میں رومی سکّوں کے دفینے بھی ملے ہیں۔ جس سے یہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کا جال ملک کی سرحدوں تک ہی محدود نہیں تھا۔ کیونکہ جنوبی ہندوستان رومی سلطنت کا حصہ نہیں تھا مگر تجارت کے توسط سے اس سے بہت گہرے رشتے ضرور موجود تھے۔
سکّے قبائلی جمہور یتیں بھی چلاتی تھیں جیسے پنجاب اورہریانہ کے ،یودھیا (تقریباً پہلی صدی عیسوی)۔ماہرین آثار قدیمہ نے کئی ہزار تانبے کے سکّے کھود کر نکالے ہیں جو یودھیاؤں نے جاری کیے تھے جس سے ان کے معاشی معاملات میں دلچسپی اور معاشی لین دین میں مبادلہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کچھ خوبصورت ترین سونے کے سکّے گپتا حکمرانوں نے چلائے تھے۔ سب سے ابتدائی اجزاسکّوں کا جاری کیا جاتا اپنی دھات کی اصلیت کے لیے مثالی ہیں۔ ان سکّوں کے ذریعہ دور دراز سے لین دین میں آسانی پیدا ہوئی جس سے بادشاہوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔
تقریباً چھٹی صدی عیسوی سے سونے کے سکّے کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کیا اس سے کسی معاشی بحران کا اندازہ ہوتا ہے ؟ مؤرخین اس مسئلے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ مغربی رومی سلطنت کے شیرازہ کے منتشرہونے کے ساتھ ساتھ دوردراز کی تجارت میں بھی زوال آیا اور اس نے ان حکومتوں ،معاشروں اور خطوں کی خوشحالی پر بھی اثر ڈالا جو اس سے فائدہ اٹھارہی تھیں۔ دوسرے مؤرخین کی رائے کہ نئے شہر اور تجارت اور بیوپار کے نئے سلسلوں کے جال اسی زمانے میں ابھرنے شروع ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی دلیل پیش کی ہے کہ گوکہ اس دور کے سکّوں کی دریافتیں نسبتاً کم ہوئی ہیں مگرسکّوں کا ذکر بہر طور کتبوں اور تحریروں میں ملتا ہے ۔ یہ بھی امکان ہوسکتا ہے کہ سکّے صرف دریافت ہی کم ہوپائے ہوں کیونکہ یہ جمع کیے جانے کے بجائے لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ گردش کررہے تھے؟
مالا بار ساحل
(موجودہ کیرالہ)
یہ ایک نامعلوم یونانی جہاز ران (تقریباً پہلی صدی عیسوی) کی نظم پیری پلس آف دی ارتھرائن سی (Periplus of the Erythraean Sea) کا اقتباس ہے۔
’’یہ لوگ یعنی (دوسرے ملکوں کے تاجر) ان شہری بازاروں کو بعد میں ادائیگی کی بنیاد پر بڑی بھاری مقدار میں کالی مرچ اور اور مالا باتھرم (غالباً دار چینی جو ان علاقوں میں پیدا ہوتی ہے) بڑے بڑے جہازوں میں بھیجتے ہیں ۔ سب سے پہلی چیز جو یہاں در آمد ہوتی ہے وہ بڑی مقدار میں سکّے، زرد یا قوت، اینٹی منی (ایک دھات جو رنگ بنانے کے مواد کے طور پر کام آتی ہے) مونگے ، کچا شیشہ ،تانبا ،ٹین، سیسہ۔ یہاں سے برآمد ہوتے ہیں۔ کالی مرچ جو بڑی مقدار میں ان بازاروں کے قریب صرف ایک خطے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سے۔بڑی مقدار میں نفیس موتی، ہاتھی دانت، ریشم کا کپڑا ، ہر طرح کے پتھر ، شفّاف پتھر ،ہیرے اور نیلم اور کچھووں کے خول برآمد ہوتے ہیں۔
ایک ایسی منکے بنانے والی صنعت کے آثار ،جو بیش قیمت اور نیم قیمتی پتھر استعمال کرتی تھی ،کوڈومنال (تمل ناڈو) میں ملے ہیں۔ ممکن ہے مقامی تاجر یہ قیمتی پتھر ،جن کا ذکر پیری پلس میں کیا گیا ہے، ایسے ہی مقامات سے ساحلی بندرگاہ تک لاتے ہوں۔
مصنف نے یہ فہرست کیوں مرتب کی ہے؟
پیری پلسایک یونانی لفظ ہے،جس کے معنی جہازرانی ہے اور ارتھرائن یونانی میں بحیرۂ قلزم کا نام تھا۔
شکل 2.7:
ایک ٹھپّہ دار سکّہ، اس کا نام ٹھپّہ دار اس لیے رکھا گیا کہ اس کی دھات پر کچھ علامتیں ٹھپّے یا مہروں کی مدد سے دباکر بنائی گئی تھیں۔
شکل2.8: یودھیاکا ایک سکّہ
شکل 2.9:گپتا خاندان کا ایک سکّہ
گفتگو کیجے
تجارت میں کیا کیا لین ہوتے ہیں ؟ ان میں سے کن کن لین دینوں کا اظہار متذکرہ ماخذ وں سے ہوتا ہے؟ کیا کچھ ایسے نہیں جن کا ذکر مآخذوں میں-نہیں ہے؟
شکل2.10:
اشوک کا ایک کتبہ
شکل2.11
اشوک کی برہمی کے متبادل دیونا گری حروف
کیا کچھ دیو ناگری حروف برہمی کے حروف سے مشابہ ہیں؟کیا کچھ ایسے حروف بھی ہیں جو مختلف ہیں؟
۔ 7 - ایک بار پھر بنیادی بات
کتبوں کو پڑھا کیسے جاتا ہے؟
اب تک ہم اور چیزوں کے ساتھ کتبوں کے اقتباسات پڑھ رہے تھے مگرمؤرخین یہ سمجھتے کیسے ہیں کہ ان پر کیا لکھا ہے؟
برہمی کو حل کرنا (پڑھنا)7.1
آج کل کی جدید ہندوستانی زبانوں کے لکھنے میں جو رسم الخط استعمال ہوتے ہیں وہ زیادہ تر اسی برہمی رسم الخط سے اخذ کیے گئے ہے۔ جس میں اشوک کے اکثر کتبے ملتے ہیں اٹھارویں صدی کے آخر ی حصے سے یوروپی عالموں نے ہندوستانی پنڈتوں کی مدد سے موجودہ بنگالی اور دیوناگری رسم الخط (ہندی لکھنے میں کام آنے والا رسم الخط) میں پیچھے کی طرف سفر شروع کیا اور اس کے موجودہ حروف کا پچھلے حروف سے مقابلہ کیا۔
جن عالموں نے شروع کے کتبوں کا مطالعہ کیا تھا وہ کبھی کبھی یہ فرض کرلیتے تھے کہ یہ سنسکرت میں تھے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پرانے کتبے پراکرت میں تھے۔ پھر بہت سے ماہرین کتبات کی کئی دہوں کی پرمشقت تلاش وتحقیق کے بعد جیمس پرنسیپ نے اشوک کی برہمی کو 1838میں حل کیا۔
7.2 خروشتی کیسے پڑھی گئی
خروشتی رسم الخط جو شمالی مغرب کے کتبوں میں استعمال ہوا ہے اس کے پڑھے جاسکنے کی کہانی مختلف ہے۔ اس سلسلے میں وہاں کے ہندی ،یونانی حکمرانوں کے جاری کردہ سکّوں (تقریباً دوسری پہلی صدی قبل مسیحی دور) کے ذخیروں کی دریافت نے مدد کی۔ ان سکّوں پر بادشاہوں کے نام یونانی اور خروشتی دونوں میں لکھے ہوئے ہیں ۔ یوروپی عالم جو اوّل الذکر کو پڑھ سکتے تھے انہوں نے دوسری زبانوں کے حروف کا مقابلہ کیا۔ مثال کے طور پر Apollodotusلکھنے میں 'a'کا نشان دونوں زبانوں میں پایا جاسکتا ہے۔ پرنسیپ کے خروشتی کتبوں کی زبان کو پراکِرت کے روپ میں شناخت کرلینے سے طویل کتبوں کو پڑھ لینا بھی ممکن ہوگیا۔
7.3کتبوں سے تاریخی شہادتیں
یہ جاننے کے لیے کہ ماہرین کتبات اور تاریخ داں کیسے آگے بڑھتے ہیں، ہمیں اشوک کے دو کتبوں کو ذرا غور سے دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ کتبے میںاشوک کے نام کاذکر نہیں ہے (مآخذ10) ۔جو کچھ ہے وہ صرف وہ خطابات ہیں جو حکمراں نے اپنائے تھے دیونم پیا جس کا عام طور پر ’دیوتاؤں کا محبوب ترجمہ کیا جاتا ہے اور پیاداسی یا دیکھنے میں خوشگوار ،اشوک نام کچھ اور کتبوں میں استعمال ہوا ہے ۔ جن میں یہ خطابات بھی موجود ہیں۔ ان تمام کتبات کے بغورجائزے کے بعد اور یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ اپنے مواد ،انداز زبان اور طرز بیان(Palaeography)ہر طرح سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ماہرین کتبات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انہیں ایک ہی حکمراں نے نشر کیا تھا۔
آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ اشوک نے بیان کیا ہے کہ اس سے پہلے حکمران خبر رسانوں کو بلانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں کرتے تھے۔ اگر آپ برصغیر کی اشوک سے پہلے کی تاریخ پر غورکریں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا یہ بیان صحیح ہے؟ تاریخ دانوں کو متواتر جانچ پڑتال کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے گاکہ کیا کتبوں میں دیے ہوئے بیانات حقیقت ہیں، امکانی ہیں یا مبالغہ ہیں؟
کیا آپ نے یہ بھی غور کیا کہ کچھ الفاظ بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ ماہرینِ کتبات انھیں کبھی کبھی جملے کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے بڑھادیتے ہیں ۔اسے احتیاط سے کرنا چاہیے تاکہ یہ صورت یقینی رہے کہ بیان کرنے والے کی منشا یا مطلب بدلا نہیں ہے۔
مؤرخین کو کچھ اور باتوں کا بھی اندازہ کرنا ہوتا ہے ۔اگر کسی بادشاہ کے کتبے کسی شہر یا آمد ورفت کے کسی اہم راستے کے کنارے ایک قدرتی چٹان پر لکھے جائیں تو کیا ادھر سے گزرنے والے وہاں رک کردیکھتے ہوں گے؟ زیادہ تر لوگ غالباً ناخواندہ تھے۔ کیا پاٹلی پتر میں استعمال ہونے والی پراکِرت پورے برصغیر میں ہر شخص سمجھ سکتا تھا؟ کیا بادشاہ کے احکامات پر عمل بھی ہوتا تھا؟ ایسے سوالوں کے جواب ملنا اکثر آسان نہیں ہوتا۔
اگر ہم مآخذ 11کو دیکھیں تو ایسے کچھ مسائل ظاہر بھی ہوجاتے ہیں ۔بسااوقات اس کی توجیہ حکمراں کے دلی کرب، بے چینی کے ترجمان کے روپ میں بھی کی جاتی ہے اور جنگ کے سلسلے کے طرز فکر میں تبدیلی کا اظہار بھی مانا جاتا ہے ۔جیسا ہم دیکھیں گے،اگر اس کتبے کی ظاہری قدر سے کچھ آگے بھی غور کریں تو صورت حال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
گوکہ اشوک کے کچھ کتبے اڑیسہ میں بھی ملے ہیں مگر ایسا کتبہ جو اس کی ایسی دلی بے چینی کا اظہار کرتا ہووہاں موجود نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتبہ اس علاقے میں نہیں پایا گیا جِسے فتح کیا گیا تھا۔ اس سے ہم کیا نتیجہ اخذ کریں؟ کیا ایسا تھا کہ اس تازہ ترین فتح کی بے چینی اور اضطراب اس علاقے میں اتنا تکلیف دہ تھا کہ اس کی وجہ سے حکمراں اس مسئلے کو وہاں نہ چھیڑ سکا۔
بادشاہ کے حکم
اسی طرح بادشاہ دیونم پیا دکہتا ہے :
ماضی میں معاملات کے نبٹارے کے لیے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ نہ باقاعدہ قسم کی رپورٹیں وصول کرنے کا کوئی طریقہ تھا۔ مگر میں نے مندرجہ ذیل (انتظامات ) کیے ہیں۔ پتی ویداک کو لوگوں کے معاملات کے بارے میں مجھے ہر وقت رپورٹ دینی چاہیے۔کہیں بھی ہوںخواہ میں کھانا کھارہا ہوں، اندر کے کمروں میں سونے کے کمرے میں ،گایوں کے باڑے میں، لے جایا جارہا ہوں(غالباً پالکی میں)یاباغ میں ہوں۔ میں لوگوں کے معاملات کا ہر جگہ نپٹاراکروں گا۔
ماہرین کتبات نے پتی ویداک کا ترجمہ خبر رساں کیا ہے، پتی ویدا ک کے کام آج کے رپورٹروں سے منسوب ذمّے داریوں سے کن کن طریقوں سے مختلف تھے۔؟

شکل2.12:
ہندیونانی بادشاہ منانڈیر کا ایک سکّہ
بادشاہ کا اضطراب
جب بادشاہ دیونم پیا پیاداسی آٹھ برس سے حکومت کررہا تھا، تو کلنگ (کاملک) ،(آج کا ساحلی اڑیسہ ) اس نے فتح کیا۔
ایک سوپچاس ہزارلوگ شہر بدر کیے گئے۔ ایک سوہزار قتل کردیے گئے اور بہت سے مرگئے۔
اس کے بعد اب جبکہ کلنگ (کاملک) لیا جاچکا دیونم پیادھمّہ کے گہرے مطالعے میں، دھمّہ سے محبت میں اور لوگوں میں دھمّہ کی ہدایت دینے میں منہمک ہے۔
کلنگ کے ملک کو فتح کرلینے کے سلسلے میں یہ دیونم پیاکا پچھتاواہے ۔
یہ بات دیونم پیا کے خیال میں بڑی تکلیف دہ اور قابِل مذمّت ہے کہ جب کوئی شخص کسی غیر مفتوحہ (ملک) کو فتح کررہا ہو (تو ) قتل، موت اور لوگوں کی شہر بدری وہاں (واقع ہو)۔۔۔۔۔۔۔
گفتگو کیجیے
نقشہ2کو دیکھیے اور اشوک کے کتبوں پر گفتگو کیجیے۔کیا آپ کو اس میں کوئی ترتیب نظر آتی ہے
8۔ کتباتی شہادت کی حدبندیاں
اب تک غالباً یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ علم کتبات جو کچھ ظاہر کرسکتا ہے اس کی کچھ حدیں بھی ہیں۔ کبھی کبھی تو کچھ تکنیکی حدود ہوتی ہیں: حروف بہت ہلکے کھدے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی دوبارہ ترتیب یقینی نہیں ہوتی۔ کتبے خراب یا خستہ حالت میں بھی ہوسکتے ہیں یا حروف معدوم ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کتبے میں استعمال شدہ الفاظ کے معنوں کے بارے میں بھی مکمل یقین کرلینا ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ان میں سے کچھ الفاظ کسی خاص جگہ یا وقت کے لیے مخصوص ہوسکتے ہیں ۔اگر آپ علم کتبات سے متعلق کسی رسالے (جرنل) کو پڑھیں ( ان میں سے کچھ کی فہرست ٹائم لائن 2میں دی گئی ہے) تو آپ کو احسا س ہوگا کہ اس کے عالم کتبات کو پڑھنے کے متبادل طریقوں پر متواتر گفتگو او رمباحثہ جاری رکھتے ہیں ۔
حالانکہ ہزاروں کتبے دریافت کیے گئے ہیں مگر ان میں سے بہت سے ابھی پڑھے نہیں جاسکے، کچھ شائع نہیں کیے جاسکے اور کچھ کا ترجمہ نہیں ہوا۔ پھر کتنے ہی کتبے ایسے بھی ہوں گے جو موجود رہے ہوں گے لیکن زمانے کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اب باقی نہیں رہے۔ اس لیے اب جو مواد موجود ہے وہ کتبوں کے کل مواد کا ایک جزو ہی ہے۔
پھر شاید اس سے بھی زیادہ بنیادی یا اہم ایک اور نکتہ بھی ہے ۔ ہر وہ چیز جسے ہم سیاسی یا معاشی طور پر اہم سمجھتے ہیں وہ سب کچھ ان کتبوں میں لازمی طور پر ریکارڈ بھی نہیں کی گئی تھی ۔ مثال کے طور پر روز مرہ کے زراعتی عمل اور روزانہ عام زندگی کی خوشیاں اور غم۔ ان کا کوئی ذکر کتبوں میں نہیں ہے ۔ان میں لگ بھگ سب میں ہی زبردست اور انوکھے قسم کے واقعات یا حادثوں پر توجہ ہوتی ہے ۔ پھر اس کے علاوہ ان کتبوں کے متن کم وبیش ہمیشہ ہی کسی ایک ایسے شخص یا چند اشخاص کا تناظر ابھارتے ہیں جنھوں نے اسے نصب کروایا تھا۔ اس لیے ماضی کے بارے میں کچھ بہتر سوچ قائم کرنے کے لیے اس تناظر کو کچھ اور تناظروں کے مقابلے میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
بہرآخری اور بیسوی صدی کے ابتدائی حصے کے ماہرین بنیادی طور پر صرف بادشاہوں کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بیسوی صدی کے درمیانی حصے سے معاشی تبدیلیوں جیسے مسئلوں اور جن طریقوں یا راہوں طور صرف علم کتبات ہمیں سیاسی اور معاشی تاریخ کا مکمل ادراک نہیں دیتے۔ پھر مؤرخین اکثر پرانے اور جدید ثبوتوں یا شہادتوں کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ انیسوی صدی کے سے ہوتے ہوئے مختلف سماجی زمرے ابھرے۔یہ مسائل اب کہیں زیادہ اہم مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دہوں سے حاشیے کے زمروں یا کمزور گروپوں کی تاریخ میں زیادہ انہماک نظر آیا ہے اس کی وجہ سے پرانے ذرائع کی ایک تازہ تحقیق وتلاش کی راہ کھلے گی۔ تجزیہوتحقیق کے نئے طریقے اور حکمت عملیاں ابھریں گی۔
شکل2.13
کرناٹک کا تانبے کی پتریوں پر ایک کتبہ، تقریباً چھٹی صدی عیسوی کا

ٹائم لائن-1
اہم سیاسی اور معاشی ترقیات
| :دھان کے پودوں کی منتقلی،وادی گنگا میں شہری آبادی :مہاجن پد ٹھپّےدار سکّے |
تقریبا 600- 500قبل مسیح
|
| مگدھ کے حکمراں اقتدار مستحکم کرتے ہیں |
تقریباً500- 400 قبل مسیح |
| مقدونیاکے سکندر کا حملہ |
تقریباً327- 325 قبل مسیح |
| چندر گپت موریہ کی تاج پوشی |
تقریب 321قبل مسیح |
| اشوک کا دور حکومت |
تق268/272 231- قبل مسیح |
| موریہ سلطنت کا خاتمہ پا ، |
تقریبا 185 قبل مسیح |
شمال مغرب میں ہند۔ یونانی حکمرانی، چولا،چیرا اورنڈیا، جنوبی ہندوستان میں ، ستواہن دکن میں ،
|
تقریباً200ق م 100عیسوی تک |
شاکا (وسط ایشیا کے لوگ) شمال مغرب کے حکمراں ، رومی تجارت ، سونے کے سکّوں کاچلن |
تقریباً100 - 200 عیسوی
|
کنشک کی تاج پو شی
|
تقریباً78 عیسوی |
ستواہنوں اور شاکاؤں کے کتبات میںزمینیعطیات کے بارے میں سب سے پہلی شہادتیں
|
200-100تقریبا عیسوی |
| گپتا حکمرانی کی ابتداء |
تقریباً320عیسوی |
سمدر گپت
|
375- 335تقریبا |
| چندر گپت دوم: دکن میں واکاٹکا |
تقریبا375- 415عیسوی |
| کرناٹک میں چالکیہ اور تمل ناڈو میںپلّووں کا عروج |
تقریباً500-600عیسوی |
قنوج کا بادشاہ ہرش وردھن : چینی سیّاحزوان زنگ کی بدھ تحریروں کی تلاش میں آمد
|
تقریباً606-647 عیسوی |
| عربوں کی سندھ پر فتح |
تقریباً712 عیسوی
|
(نوٹ: معاشی ترقیات یا تبدیلیوں کی متعین تاریخیں دینا مشکل ہے۔ پھر پورے برصغیر میں لاتعداد رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں میں جنھیں ٹائم لائن میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ خاص خاص ابتدائی تبدیلیوں کی صرف تاریخ دے دی گئی ہے۔ کنشک کی تاج پوشی کی تاریخ یقینی نہیں ہے۔ اس لیے اس کے آگے سوالیہ نشان(؟) لگادیا گیا ہے۔)
ٹائن لائن-2
علم کتبات میں اہم اقدام
اٹھارھویں صدی
| ایشا ئٹک سوسائٹی بنگال کا قیام |
1784 |
|
انیسویں صدی |
| کولن میکنزی سنسکرت اور درادڑی زبانوں کے8,000سے زیادہ کتبے جمع کرتا ہے۔ |
1810 کی دہائی |
| (جیمس پرنسیپ نے اشوک کی برہمی کو حل کیا (پڑھا |
1838 |
| َْٓالیکز ینڈر کنگھم نے اشوک کے کتبوں کا ایک مجموعہ شائع کیا |
1877 |
| جنوبی ہندوستان کے کتبوں کا ایک جرنل ’ایپی گرافیا کرناٹک کا پہلا شمارہ |
1886 |
| ایپی گرافیا انڈیکا کا پہلا شمارہ |
1888 |
|
بیسویں صدی |
| ڈی ،سی ، سرکار نے انڈین ایپی گرافی، اور انڈین ایپی گرافکل گلوسری شائع کی۔ |
1965- 66 |
لفظوں میں جواب دیجیے100-150
۔ ابتدائی تاریخی شہروں میں حرفے کی پیداوار سے متعلق شہادتوں پر بحث کیجیے ۔یہ ہڑپّائی شہروں کی شہادتوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
۔ مہاجن پدوں کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
۔ مؤرخین عام لوگوں کی زندگی کے حالات کس طرح مرتب کرتے ہیں؟
۔ پانڈیا سردار کو جو چیزیں دی گئی تھیں (مآخذ3)اورڈنگونا‘ گاؤں میں پیدا ہونے والی اشیا، (مآخذ8) ان کی فہر ستوں کا موازنہ کیجیے۔
کیا آپ کو ان میں کوئی یکسانیت یا فرق محسوس ہوا؟
۔ ماہرینِ کتبات جن مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ان کی فہرست تیار کیجیے۔