Skip to content
Tareekh-e-hindkemauzuat-I-003




تیسرا موضوع

قرابت، ذات اور طبقہ 

ابتدائی معاشرے
 (تقریباً 600قبل مسیح سے 600عیسوی )

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ تقریبا 600ق م سے 600عیسوی کے دوران لوگوں کی معاشی، سیاسی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ ان میں سے کچھ تبدیلیوں نے معاشروں پر بھی اثر ڈالا: مثال کے طور پر جنگل کے علاقوں میں زراعت کے پھیلاؤ نے جنگل باسیوں کی زندگی پر اثر ڈالا ۔ حرفے کے ماہرین یا اختصاص رکھنے والوں کا ایک علاحدہ ممتاز سماجی گروہ بن گیا۔ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم نے سماجی فرقوں کو اور تیکھا کردیا۔ مؤرخین، ان عملی سلسلوں کے سمجھنے کے لیے اکثر تحریروں یا متنوں کی روایات کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ تحریروں میں سماجی روییے کے معیار بھی متعین کیے گئے ہیں۔ دوسری کچھ تحریریں سماجی کیفیات اور عام طرزِ عمل کے وسیع سلسلے کو بیان کرتے ہوئے ان پر رائے زنی بھی کرتی ہیں۔ ہم کتبات سے کچھ سماجی کارکنوں کی جھلک بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے ہر تحریر یا متن (اور کتبہ بھی )کچھ مخصوص سماجی درجے یا گروہ کے تناظر میں لکھاگیا تھا۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کس نے کیا کس کے لیے لکھا ہے۔ ہمیں متن میں استعمال کی گئی زبان اور وہ طریقہ یا وسیلہ جس کے توسط سے یہ متن عام لوگوں تک پہنچا یا گیا، ان پر بھی نگاہ رکھنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ان سے محتاط انداز میں استفادہ کیا جائے تو یہ متن یا تحریریں ان رویوں اور عملوں کو یکجا کر لینے کا مواقع فراہم کردیتی ہیں جنھوں نے سماجی تاریخ کی تشکیل کی تھی۔ 
مہابھارت، جو موجودہ صورت میں ایک لاکھ سے زیادہ اشلوکوں پر مشتمل ایک زبر دست رزمیہ ہے۔ جس میںسماجی درجوں اور کیفیات کے وسیع سلسلہ کا اظہار موجود ہے، اس کے مطالعے سے ہمیں بر صغیر کے ایک بھر پور متن سے استفادہ کا موقع ملتا ہے۔ اسے لگ بھگ1000سال (تقریبا 500ق م سے آگے)میں مرتب کیا گیا تھا۔ اس کے کچھ قصے اس سے پہلے بھی لوگوں میں گشت کر رہے ہوں گے۔ اس کی مرکزی کہانی دو جنگجو بھائیوں کے حامیوں میں جنگ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے متن میں معاشرے کے مختلف سماجی زمروں کے رویوں کے معیار یا اصولوں سے متعلق باب بھی شامل ہیں۔ کبھی کبھی (گوکہ ہمیشہ نہیں) اس کے بنیادی کردار ان معیاروں پر عمل پیرا بھی نظر آتے ہیں۔ ان معیاروں کی عملی تصدیق اور ان سے انحرافات کے کیا معنی ہیں؟


1

شکل :3.1 

کھائی مٹی کے اس سنگ تراشی نمونے میں مہابھارت کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔(مغربی بنگال)تقریباًساتویں صدی


2

شکل3.2:

 تنقیدی اڈیشن کے صفحے کا ایک حصہ بڑے بڑے روشن لفظوں میں چھپاہوا بنیادی متن کا حصہ ہے۔باریک چھپائی مختلف مسودوں کے اختلاف کو ظاہر کرتی ہے۔جن کے بڑی احتیاط سے کیٹالاگ تیار کیے گئے تھے۔ 

۔1۔مہابھارت کا تنقیدی اڈیشن 

عملی تحقیق وتلاش کے بڑے جرأت مندانہ منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہندوستان کے ایک مشہور ماہر علوم سنسکرت وی۔ ایس۔ سُکتھنکر کی قیادت میں 1919میں شروع ہوا۔ درجنوں عالموں پر مشتمل ایک ٹیم نے مہا بھارت کے ایک تنقیدی اڈیشن کی ترتیب وتدوین کا کام شروع کیا۔ اس کام میں حقیقت میں کیا کیا جانا تھا؟ ابتدا یہاں سے تھی کہ پہلے مہابھارت کے سنسکرت کے مسودے جمع کیے جائیں، جو ملک کے مختلف حصوں میں الگ الگ رسم الخطوں میں تحریرہوئے تھے۔ 
ٹیم نے ہر مسودے کے ایک ایک اشلوک کا موازنہ اور مقابلہ کرنے کے لیے ایک طریقہ کار متعین کیا۔ آخر میں انھوں نے وہ اشلوک چن لیے جو زیادہ تر مسودوں میں پائے جاتے تھے اور انھیں کئی جلدوں میں شائع کروادیا، جو 13,000سے زیادہ صفحات میں چھپے۔ اس منصوبے کو مکمل ہونے میں 47سال لگے۔ اس سے دوباتیں کھل کر سامنے آئیں: سنسکرت کہانی کے مختلف رویوں میں کچھ عناصر مشترک یا یکساں تھے، یہ خصوصیت شمال میں کشمیر سے نیپال او رجنوب میں کیرل اور تمل ناڈوتک پورے برّ صغیر میں پائے جانے والے نسخوں میں واضح طور پر نظر آئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقائی تبدیلیاں بھی تھیں جو متن کے صدیوںتک ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہنے کے نتیجے میں رونما ہوئی تھی۔ ان تبدیلیوں یا فرقوں کو اصلی متن کے حاشیہ او رضمیموں میں بیان کردیا گیا۔ کل ملا کر 13000صفحات میں سے آدھے صرف انھیں تبدیلیوں کے اظہار کے لیے وقف ہیں۔ 
ایک طرح سے یہ تبدیلیاں یا فرق اس پیچیدہ طریقہ کا رکو ظاہر کرتے ہیں جس سے گزر کر ابتدائی (اور بعد کی بھی) سماجی تاریخوں نے اپنا روپ اختیار کیا۔ یہ روپ اس سماجی لین دین کے توسط سے وجود میں آیا جو نمایاں روایتوں او رتیزی سے اثر پذیر مقامی تصورات اور روزمرہ عمل کے درمیان متواتر جاری رہتا ہے۔ ان لین دین یا سماجی مکالموں کا مظہر وہ عارضی حادثات ہونے میں جو اختلافی موقعوں اور اتفاقِ رائے کی صورتوں میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ 
ان عملوں یا طریقہ کاروں کے بارے میں ہماری فکر یا سمجھ ان تحریروں سے ہی اخذ کی گئی ہے جو سنسکرت میں برہمنوں نے برہمنوں کے لیے تیار کی تھیں۔ جب سماجی تاریخ کے رموزومسائل کی تلاش کا کام مؤرخین نے انیسویں اور بیسویں صدی میں اٹھایا تو ان کا رجحان یہ تھا کہ ان متنوں کے ظاہری مطالب کو ہی بعینہ مان لیا جائے––یعنی وہ یہ یقین کر لیتے تھے کہ جو کچھ ان متنوں میں لکھاہواہے اس پر اسی طرح عمل بھی ہوتاتھا۔ اس کے بعد عالموں اور محققوں نے پالی، پر اکرت او ر تمل میں لکھی دوسری روایتوں کا مطالعہ شروع کیا۔ ان مطالعوں سے اندازہ ہوا کہ معیاری سنسکرت کے متنوں کو مجموعی طور پر مستند یا قابلِ اعتماد مانا جاتا تھا: ان پر کبھی کبھی تنقید بھی کی جاتی تھی اور بعض صورتوں میں انھیں مسترد بھی کیا جاتا تھا۔ جب ہم یہ تجزیہ کر رہے ہوں کہ مؤرخین نے سماجی تاریخ کی کس طرح تدوین وترتیب کی تو ہمیں اس نکتے کو اہمیت کے ساتھ ذہن میں رکھنا چاہیے ۔

۔2 قرابت او رشادی 

متعدد قواعد وضوابط اور مختلف عمل 

2.1  خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا

عام طور پر ہم خاندانی زندگی کو مان کرچلتے ہیں ۔ مگر آپ نے دیکھا ہوگا کہ تمام خاندان بالکل یکساں نہیں ہوتے۔ان میں خاندان کے افراد کی تعداد میں ہی فرق نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ان کے رشتے میں اور ان کاموں میں جن میں وہ شریک ہوتے ہیں فرق ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک گھر یا خاندان کے لوگ کھانے او ردوسرے ذرائع میں شریک ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں، مذہبی یا دوسری رسمیں ادا کرتے ہیں اور ساتھ رہتے ہیں۔خاندان کچھ افراد کے ایک وسیع دائرے کا حصہ ہوتے ہیں جنھیں رشتہ دار یا ایک اور اصطلاح خونی رشتہ دارسے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ گو کہ خاندانی بندھنوں کو عام طورپر قدرتی مانا جاتاہے اور ان کی بنیاد خون میں شرکت ہوتی ہے۔ پھر بھی انھیں مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض معاشروں میں رشتے کے (چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد ،پھوپی زاد، بھائیوں کو) خون شریک مانا جاتا ہے جب کہ کچھ میں تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔
مؤرخین شروع کے سماجوں میں اشرافیہ یا اوپر کے خاندانوں کے بارے میں تو خاصی آسانی سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔جب کہ عام لوگوں میں ان گھریلو رشتے داریوں کو مرتب کر لینا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ مؤرخین، خاندانوں او رخونی قرابت داریوں کے بارے میں لوگوں کے رویوں کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں اور ان کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔یہ باتیں اس لیے اہم ہیں کہ یہ لوگوں کے انداز فکر کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے کچھ روییے یا یہ تصورات ان کے عملوں پر اثر انداز ہوتے ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے عملوں نے ان کے رویوں میں تبدیلی کے لیے راہ ہموار کی ہوگی۔ 

2.2پدرنسبی کا مثالی نمونہ 

کیا ہم ایسے مواقع کی شناخت کر سکتے ہیں جہاں خونی قرابت کے رشتے بدلے ہوں؟ ایک سطح پر مہابھارت اس سے متعلق کہانی ہے۔ یہ کوروں اور پانڈووں، رشتے کے بھائیوں کے گروپوں کے درمیان زمین اور اقتدار کے لیے ایک خاندانی جھگڑے کا بیان ہے۔ یہ ایک ہی حکمراں خاندان یعنی' کورو'سے تعلق رکھتے تھے جو ایک جن پد (باب2، نقشہ 1)پرگرفت رکھنے والا ایک خاندانی سلسلہ تھا۔ آخر میں یہ قضّیہ ایک جنگ پر ختم ہوا جس میں پانڈو فتح یاب ہوئے ۔ اس کے بعد ہی پدرنسبی جانشینی کی دعوے داری شروع ہوئی۔ گوکہ پدرنسبی اس رزمیہ کے نظم کیے 
جانے سے پہلے 

خاندان اور خونی قرابت کے لیے

 سنسکرت کی اصطلاحیں :سنسکرت میں خاندان کے لیے’کل‘اور خونی قرابتوں کے وسیع دائرے کے لیے’گیانتی،کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ سلسلۂ نسب کے لیے’ونش‘کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔


’پدر نسب‘ کا مطلب ہے باپ سے بیٹے،پوتے اور اس طرح نسب کو آگے بڑھانا ’مادرنسب‘ کی اصطلاح اس صورت میں استعمال ہوتی ہے جہاں یہ نسب ماں سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔

3
بھی موجود تھی لیکن مہابھارت نے اس تصور کو مزید یہ قوت بخشی کہ یہ طریقہ قابلِ قدرہے۔ پدرنسبی طریقے کے تحت بیٹے اپنے باپ کے تمام ذرائع (بادشاہی کی صورت میں تخت و تاج کی شمولیت سمیت) کے باپ کی موت کے بعد، دعوے دار ہو سکتے تھے۔
زیادہ تر حکمراں خاندان (تقریباً 600قبل مسیح سے آگے)اسی نظام پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، گوکہ عملی طور پر اس میں کبھی کبھی تبدیلی بھی ہوجاتی تھی۔کبھی کوئی بیٹا ہی نہیں ہوتا تھا، کبھی کچھ صورتوں میں بھائی بھی ایک دوسرے کی جانشینی کر لیتے تھے، کبھی دوسرے قرابت دار تخت وتاج کا دعویٰ کردیتے تھے۔ بعض بالکل غیر معمولی حالات میں، پر بھاوتی گپتا جیسی عورتیں
(باب 2)اقتدار حاصل کر لیتی تھیں۔

’بہترین بیٹے‘پیدا کرنا

یہ رگ وید کے ایک منتر کا اقتباس ہے،جسے غالباً1000قبل مسیح میں منتر میں داخل کیا گیاتھا۔اسے شادی کی رسوم کی ادائیگی کے دوران پجاری کو دوہرانا ہوتا تھا۔یہ آج بھی بہت سے ہندوخاندانوں میں شادی کے موقعے پر پڑھاجاتا ہے۔
’میں اِسے یہاں سے آزاد کرتاہوں،مگر وہاں سے نہیں۔میں نے اسے وہاں سختی سے باندھ دیا ہے تاکہ اندر کی عنایت سے اس کے متعدد بیٹے ہوں گے اوریہ اپنے شوہر کی محبت کی خوش نصیبی حاصل کرے گی۔
اندربنیادی دیوتاؤں میں ایک تھا،شجاعت ،جنگ اور بارش کا دیوتا۔
’یہاں ‘اور’وہاں‘سے بالترتیب،باپ کا گھر اور شوہر کا گھر مراد ہے۔
اس منتر کے سیاق میں دولہا اور دولہن کے نقطۂ نگاہ سے شادی کے ضمنی مفہوموں پر گفتگو کیجیے۔کیا یہ مفہوم دونوں کے لیے یکساں ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے؟

پدرنسبی طریقے میں دلچسپی صرف حکمراں خاندانوں کی ہی انوکھی خصوصیت نہیں تھی۔ یہ رِگ وید جیسے رسوماتی متنوں میں بھی نظر آتا ہے۔ ممکن ہے یہ رویے یا رجحانات دولت مند اور اعلا حیثیت زمروں موجود ہوں،جن میں برہمن بھی شامل تھے۔

دو خونی قرا بت دار لڑے کیوں؟

یہ سنسکرت مہابھارت کا آدی پاروَن (لفظی معنیٰ پہلا حصہ) کا اقتباس ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کورَوں اور پانڈوں میںیہ جھگڑا کھڑاکیوں ہوا؟
کورَو(بھائی)…دھرت راشٹر کے بیٹے تھے۔اور پانڈو(بھائی)…ان کے رشتے کے چچازاد بھائی تھے۔چونکہ دھرت راشٹر اندھا تھا اس لیے اس کا چھوٹا بھائی پانڈوٗ ہستناپور کے تخت پربیٹھا(ملاحظہ ہونقشہ1)…بہرحال پانڈوٗ کی بے وقت موت کے بعد،دھرت راشٹر ہی بادشاہ ہوگیا کیوں کہ(خاص)راج کمار ابھی بہت چھوٹے تھے۔جیسے جیسے یہ راج کمار ساتھ ساتھ بڑے ہوئے ہستناپور کے شہریوں نے پانڈوؤں کے لیے اپنی ترجیح کا اظہار شروع کردیا۔کیوں کہ یہ بھائی کوروؤں سے زیادہ لائق اور نیک تھے۔کوروؤں میں سب سے بڑے بھائی دریودھن کے دل میں اس کی خلش پیداہوئی۔وہ اپنے باپ کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ تم نے اپنے (جسمانی )عیب کی و جہ سے تخت نہیںلیا حالانکہ یہ تمہیں ہی مل رہا تھا۔اگر پانڈوپدرنسبی(اصول) کے تحت اپنے باپ پانڈوٗ سے تخت حاصل کرلیتا ہے تو اس کا بیٹا بھی اسی قانون وراثت سے اور پھر اس کا بیٹا،اور آگے تک (یہی ہوگا) ہم اور ہمارے بیٹے شاہی جانشینی سے محروم کردییے جائیں گے ۔ دنیا اور زمین کے مالک کی نگاہوں میں ہماری حیثیت کمتر ہوجائے گی۔
اس جیسے ٹکڑے خالص لفظی اعتبار سے ممکن ہے حقیقت نہ ہوں مگر اس سے ہمیں یہ اندازہ ضرورہوجاتا ہے کہ اس کے مرتب کرنے والے کیا سوچتے تھے۔کبھی کبھی،جیسا کہ زیر نظر صورت حال میں نظرآتا ہے،ان میں متضاد خیالات بھی موجود ہوتے تھے 

2.3۔ شادی کے قواعد وضوابط
جب کہ ایک طرف آبائی نسبی سلسلہ کو متواتر آگے بڑھانے کے لیے بیٹے اہم تھے، بیٹوں کو اس نظامِ عمل میں کچھ مختلف نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انھیں گھر کے ذرائع پر کوئی گرفت نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی شادی خونی قرابتوں کے دائرے سے باہر کرنے کو بہتر مانا جاتا تھا۔ یہ نظام جسے بیرونِ خاندان شادی(Exogamy)کہا جاتاہے اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اعلا حیثیت کا دعویٰ رکھنے والے خاندانوں سے متعلق لڑکیوں او رعورتوں کی زندگی کو عام طور پر اتنی احتیاط سے منظم کیا جاتاتھا کہ ان کی شادی ’صحیح‘ وقت پر’صحیح‘ شخص کے ساتھ کردینا یقینی ہو۔ اس سے یہ عقیدہ ابھرا کہ ’کنیادان‘ یا شادی میں بیٹی کا تحفہ باپ کا مذہبی فرض ہے۔
نئے شہروں کے وجود میں آنے سے (باب2)سماجی زندگی اورپیچیدہ ہوگئی۔ دور نزدیک کے لوگ اپنی چیزوں کی خریدوفروخت کے لیے آپس میں ملنے لگے او رانھیں شہری ماحول میں ایک دوسرے کے خیالات میں شرکت کا موقع ملا۔ ممکن ہے اس سے پرانے عقائد وعمل پر سوال اٹھانے کی طرف راہ ہموار ہوئی ہو(ملاحظہ ہو باب 4)اس خطرے یا چیلنج سے دو چار ہو کر برہمنوں نے سماجی رویے کے ضابطوں کی ایک طویل فہرست تیار کردی۔ اس پر برہمنوں کو خصوصی طور پر اور باقی سماج کو عمومی طور پر عمل کرنا تھا۔ تقریباً 500قبل مسیح سے ان معیاروں کی تدوین سنسکرت تحریروں کی شکل میں شروع ہوئی جنھیں ’دھرم سوتر،یا’دھرم شاستر‘کا نام دیا گیا۔ ایسی تحریروں میں سب سے اہم ’منوسمرتی‘ کی تدوین تقریبا ً200قبلِ مسیح اور 200 عیسوی کے درمیان ہوئی۔ 
حالانکہ ان متنوں کے مرتب کرنے والے برہمنوں کا دعویٰ تو یہی تھا کہ ان کا نقطہ نگاہ عوام الناس کے لیے قابلِ عمل ہے۔ جو کچھ انھوں نے بیان کردیا ہے اس کی ہر شخص کو پابندی کرنا لازمی ہے مگر امکان یہی ہے کہ حقیقی سماجی رشتے زیادہ الجھے ہوئے تھے۔ پھر پورے برصغیر میں علاقائی اختلاف یا تبدیلیوں کے ہوتے ہوئے اور رسل ورسائل یا ملنے جلنے کے مواقع کی کمی کے نتیجے میں برہمنوں کا اثر کسی طرح ہر حصے تک سرایت نہیں کررہاتھا۔ جو چیز دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ دھرم سوتروں یا دھرم شاستروں میں شادی کے آٹھ طریقوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اُن میں پہلے چار طریقوں کو ’اچھا‘،مانا گیا تھا اور باقی چار کی مذمت کی گئی تھی۔ ممکن ہے ان پر وہ لوگ عمل کرتے ہوں جو برہمنوں کے معیاروں کو تسلیم نہیں کرتے تھے

اس ٹکڑے کو پڑھیے اور بتایے کہ بادشاہ ہونے کے لیے اس میں کن کن خصوصیتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ان میں،کسی خاص خاندان میں پیدا ہونے کی کتنی اہمیت تھی؟ان میں سے کون سی خصوصیات حق بجانب ہیں؟کچھ ایسی خصوصیات بھی ہیں جو آپ کو انصاف کے لگتی ہیں؟

شادی کی قسمیں

’داخلی زوجیت‘ ( Endogamy) کسی اکائی کے اندرشادی کرنایہ کوئی خونی قرابت کا زمرہ،ذات،یاکسی ایک علاقے میں رہنے والوں کا گروپ ہوسکتا ہے۔
خارجی زوجیت(Exogamy)یعنی اکائی سے باہرشادی۔
کثیرزوجیت،(Pologyny)کا مطلب ہے کسی مرد کا کئی بیویاں رکھنا۔
کثیر شوہریت،Polyaudru))کسی عورت کا کئی شوہررکھنے کا طریقہ۔

شادی کے آٹھ طریقے

نیچے ’منوسمرتی‘ سے، پہلے، چوتھے، پانچویں اورچھٹے طریقے کی شادی کے انداز دیے جارہے ہیں:
پہلا:لڑکی کا تحفہ ،لڑکی کو قیمتی کپڑے پہنا کر جواہرات کے تحائف سے اس کی عزت افزائی کے بعد اسے کسی ایسے شخص کو جوویدوں کا عالم ہو،اور اسے خود باپ نے مدعو کیا ہو(سونپ دینا)
چوتھا:باپ کی طرف سے بیٹی کا تحفہ،مندرجہ ذیل متن کو جوڑے کے سامنے دوہرانے کے بعد:
"تم دونوں اپنے فرائض کو مل جل کر پورا کرسکو"اور دولہا کی عزت افزائی کے مظاہرے کے بعد۔
پانچواں:جب دولہا کسی کنواری لڑکی کو حاصل کرے،اس کے قرابت داروں اور خود دلہن کو اپنی رضاورغبت سے،اپنے بس بھرمال ودولت دینے کے بعد۔
چھٹا:کسی کنواری لڑکی اور اس سے محبت کرنے والے کے درمیان رضاورغبت کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم ہوجانا…جو خواہش سے پیدا ہوتاہے…
ہرطریقے کے سلسلے میں گفتگو کیجیے کہ کیا شادی کا فیصلہ ہوتا تھا۔
الف)  دلہن کی طرف سے)
ب)    دولہا کی طرف سے)
ج)    دلہن کے باپ کی طرف سے)
د)    دولہا کے باپ کی طرف سے)
ر)   کسی اور شخص کی طرف سے)

2.4 عورتوں کے گوتر 

لگ بھگ 1000قبل مسیحی دور سے برہمنوں کا ایک طریقہ لوگوں (خصوصاً برہمنوں)کو گوتر کی اصطلاح میں تقسیم کرنا تھا۔ ہر گوتر کا نام کسی ویدا نتی روشن ضمیر شخص پر رکھا گیا تھا ۔ جو لوگ بھی اس گوتر سے تعلق رکھتے تھے وہ اس کے جانشین مانے جاتے تھے۔ گوتر کے سلسلے میں دو ضابطے خصوصاً اہم تھے۔ شادی کے ساتھ عورتیں اپنا گوتر چھوڑ کر اپنے شوہر کے گوتر کو اپنا لیتی تھیں۔ ایک ہی گوتر کے افراد آپس میں شادی نہیں کر سکتے تھے۔ 
یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا اس پر عمومی طور پر عمل ہوتا تھا یا نہیں ایک طریقہ مردوں اور عورتوں کے نام دیکھنے کا ہے۔کیونکہ کبھی کبھی یہ گوتر کی بنیاد پر رکھے جاتے تھے۔ یہ نام طاقتور حکمراں خاندانوں کی صورت میں تو موجود ہیں–––مثال کے طور پر ’ستواہن‘خاندان کے حکمراں جنھوں نے (تقریباً دوسری صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی تک)مغربی ہندوستان کے کچھ حصوں اور دکن پر حکومت کی۔ ان کے متعدد کتبات دریافت ہو چکے ہیں جن سے ان کے خاندانی تعلق ، جس میں شادی بھی شامل تھی، تلاش کر لینے کا موقع مل جاتا ہے۔
کچھ ستواہن حکمراں کثیر زوجی تھے(یعنی ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے)۔ان عورتوں کے ناموں کو دیکھ کر انھوں نے ستواہن بادشاہوں سے شادی کی تھی۔ ظاہرہوتا ہے کہ ان میں سے بہت سی عورتوں کے نام ایسے گوتروں کے ساتھ تھے جیسے گوتم اور وششٹھ، جو ان کے باپ کے گوتر تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے برہمن ضابطوں کے مطابق اپنے شوہروں کے گوتر ناموں کو اپنانے کے بجائے انہی ناموں کو برقرار رکھا۔ ایک اور بات جو ظاہر ہوئی وہ یہ تھی کہ کچھ عورتیں ایک ہی گوتر سے تعلق رکھتی تھیں۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ برہمن تحریروں میں بتائے گئے خارجی شادی کے اصول کی خلاف ورزی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک متبادل عمل کی مثال ہے––یعنی داخلی زوجیت یا اپنے قرابت داروں میں شادی کرنا جو جنوبی ہندوستان کے متعدد سماجوں میں رائج تھی (اور اب بھی ہے)۔ خونی قرابتوں میں شادی کا یہ طریقہ (جیسے چچازاد، ماموںزاد، خالہ زاد اور پھوپی زاد بہنوں بھائیوں میں شادی)ایک گتھے ہوئے سماج کی بقا کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے۔ 
برصغیر کے دوسرے حصوں میں بھی رواجوں میں اختلافات کے امکانات ہیں لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی مخصوص تفصیلات تیار کرنا ممکن نہیں ہواہے۔

کتبات سے حاصل شدہ 

ستواہن بادشاہوں کے نام

یہ ستواہن حکمرانوں کی کئی نسلوں کے نام ہیں جنھیں کتبوں سے حاصل کیا گیا ہے۔تمام ناموں کے ساتھ ’راجا‘ کے لقب پر غور کیجیے۔ساتھ ہی مندرجہ ذیل لفظ کو بھی نگاہ میں رکھیے جو ’پوت‘کے لفظ پر ختم ہوتا ہے جو ’بیٹے‘کے لیے پراکِرت کا لفظ ہے’۔گوتمی پوت‘کا مطلب ہے’گوتم کابیٹا‘’گوتمی‘اور ’وسیتھی‘جیسے نام ’گوتم‘اور’وشسٹھ ویدانتی روشن ضمیروں کے نام ہیں جن کے ناموں پر گوتروں کو موسوم کیا گیا۔
راجا گوتمی۔پوت سیری ستکانی
راجاوسیتھی ۔پوت(سامی—)سیری۔پولومائی
 راجاگوتمی۔پوت سامی۔سیری۔یانا۔ستکانی
 راجا مدھاری۔پوت سوامی سکسینہ 
راجا وساتھی۔پوت چھترپانا۔ستکانی
راجا ہریتی پوت ونہوکاڈا چوٹوکولانا مدا۔ستکانی 

4
ان میں کتنے گوتمی۔پوت اور کتنے وسیتھی (متبادل املا وساتھی)پوت شامل ہیں؟

شکل:3.3


ایک ستواہن حکمراں اور اس کی بیوی۔یہ بودھ بھکچھوؤں کو عطیہ کیے گئے ایک غار کی دیوار پر بت تراشی کے نایاب نمونوں میں سے ایک حکمراں کا مظہر ہے۔یہ تقریباً دوسری صدی قبل مسیحی دور کا ہے۔

اپنشدوں میں اسم مادری

بِرِ یہَدرَنائک ا پنشد جو قدیم ترین اپنشدوں میں سے ایک ہے(باب4بھی ملاحظہ ہو)،میں استادوں اور طلبا کی ایک کے بعد ایک کئی نسلوں کے نام موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سے اپنی ماؤں کی نسبت سے موسوم ہیں۔

ایک ماں کا مشورہ

مہابھارت میں بیان کیاگیاہے کہ جب کوروؤں اور پانڈوؤں میں جنگ ناگزیر ہوگئی تو گندھاری نے اپنے سب سے بڑے لڑکے دریودھن سے یہ اپیل کی:
’’مجھے امن برقرار رکھ کر تم اپنے باپ اور مجھے عزت دوگے اور ساتھ ہی اپنے خیر خواہوں کوبھی…وہ شخص جو اپنے حواس پر قابو رکھ کر اپنی سلطنت کی حفاظت کرتا ہے وہ دانشمند ہے۔لالچ اور غصہ انسان کو اپنے مفاد سے دور کھینچ لیتے ہیں؛ان دو دشمنوں کو شکست دے کر کوئی بادشاہ زمین کو فتح کرلیتاہے...تم خوشبو کے ساتھ زمین سے فائدہ اٹھاؤ گے،میرے بیٹے،سمجھدار اور دلیر پانڈوؤں کے ساتھ... جنگ میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔کوئی قانون(دھرم)یا فائدہ (ارتھ) نہیں،خوشی تو کیا چیزہے؛اور پھر آخر میں فتح ہی(لازمی)نتیجہ نہیں۔اپنے دماغ کو جنگ پر نہ جماؤ…‘‘
دریودھن نے اپنی ماں کی بات نہیں مانی،لڑا اور جنگ ہارا۔
کیا اس ٹکڑے سے آپ کو کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے شروع کے سماجوں میں ماؤں کے لیے کیا رویہ تھا؟

گفتگو کیجیے:

آج کل بچوں کے نام کس طرح رکھے جاتے ہیں؟کیانام رکھنے کے یہ طریقے اِس باب میں بیان کیے گئے طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا اختلاف؟

2.5کیا ماؤں کی اہمیت تھی؟

6

شکل:3.4:جنگ کاایک منظر

یہ فن بت تراشی کے سب سے پہلے نمونوں میں ایک مہابھارت کا منظر ہے جو پکائی مٹی کی مورت سازی کانمونہ ہے اسے (اترپردیش میں)اِہنچھا تر کے ایک مندر کی دیوار سے لیا گیا ہے۔تقریباً پانچویں صدی عیسوی ہم نے دیکھا کہ ستواہن حکمراں اپنی مادر نسبیت (ماؤں کے نام کے ساتھ)سے پہچانے جاتے تھے۔ گوکہ اس سے لگتا ہے کہ مائیں اہمیت رکھتی تھیں لیکن ہمیں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے احتیاط برتنا ضروری ہے۔ 
ستواہنوں کی صورت میں تو ہم جانتے ہیں کہ جانشینی عام طور پر پدری سلسلے کی پابندتھی۔

۔  3 -سماجی فرق

ذات پات  نظام کے اندر اور باہر 

آپ غالباً ذات پات کی اصطلاح سے واقف ہیں ۔جس کا مطلب ہے سماجی زمروں کی ایک مخصوص درجہ بندی۔اس کی مثالی درجہ بندی کو دھرم سوتروں او ردھرم شاستروں میں بیان کیاگیاہے۔ برہمنوں کا دعویٰ تھا کہ یہ درجہ بندی جس میں برہمنوں کو سب سے پہلے رکھا گیا تھا، حکمِ الہٰی تھا۔گو کہ اس میں شودروں اور ، اچھوتوں، کو سماجی اعتبارسے سب سے نیچے رکھا گیاتھا۔ اس نظام کو پیدائشی بنیاد پر طے شدہ فرض کیا جاتا تھا۔

3.1’’صحیح‘‘پیشہ

ان چار درجوں (یا’ورنوں)‘کے لیے دھرم سوتروں یا دھرم شاستروں میں مثالی ’پیشوں‘کے سلسلے میں قواعد وضوابط بھی رکھے گئے تھے۔ برہمنوں کے لے ویدوں کا مطالعہ اور ان کی تعلیم کا کام فرض کیا گیا تھا۔قربانیاں کرنا اور دوسروں سے کروانا، اور تحفے(یا چڑھاوے)دینا اور لینا بھی انھیں کے کام تھے۔ چھتریوں کو جنگ وجدل میں مصروف رہنے، لوگوں کی حفاظت، انصاف کے قیام، ویدوں کے مطالعے، دوسروں سے قربانیاں کروانے اور تحفے دینے کے کام سونپے گئے تھے۔ آخری تین پیشے ویشیوں کو بھی دیے گئے تھے۔ان کے ساتھ ان سے زراعت، گلّابانی اور تجارت کے کام انجام دینا بھی متوقع تھے۔ شودروں کے لیے صرف ایک پیشہ––اوپر کے تین ورنوں کی خدمت کرنامقرّرکیا گیا تھا۔
برہمنوں نے ان معیاروں کو عائد کرنے کے لیے دو تین حکمت عملیاں طے کی تھیں۔ پہلی، جو ابھی ہم اوپر دیکھ چکے ہیں، وہی تھی کہ ورن کے اس نظام کی بنیاد حکم الٰہی پر ہے۔دوسرا یہ کہ وہ بادشاہوں کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ حکمت عملی ان کے یہاں متبوع ہے۔ تیسرے وہ لوگوں کو اس بات کے لیے قائل کرتے تھے کہ ان کا مرتبہ پیدائشی طور پر ہی متعین ہے اگر چہ یہ بات آسان نہیں تھی لیکن اس نسخہ کا استعمال مہا بھارت اور دوسری کتابوں میں انھوں نے خوب کیا۔

ایک حکم الٰہی؟

اپنے دعوؤں کے جواز کے لیے برہمن عام طورپر رگ وید کی مناجات کے ایک اشلوک کو پیش کرتے تھے جسے’پُرش سُکتا‘کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں ابتدائی انسان ’پرش‘کی قربانی کو بیان کیا گیا ہے ۔کائنات کے تمام عناصر بشمولیت یہ چار سماجی درجے،اُسی کے جسم سے صادر ہونا مانا گیا ہے۔
برہمن اس کا منہ،اس کے بازوؤں سے چھتری بنے اس کی رانیں ویشیہ بن گئیں۔
پیروں سے شودر پیداہوئے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟برہمن اس اشلوک کا کیوں حوالہ دیتے تھے؟

 ’صحیح‘سماجی کردار

مہابھارت کے آدی پارون کی ایک کہانی اس طرح ہے:
ایک مرتبہ کوروٗ راجکماروں کے تیر اندازی کے برہمن استاد ’درونا‘ کے پاس،نشاد(شکاری سماج)کا جنگل واسی ایکلویہ آیا۔جب دھرم سے واقف درونانے اُسے اپنا شاگر دبنانے سے انکار کردیا تو ایکلویہ جنگل واپس چلا گیا اور اس نے مٹی سے درونا کا ایک بت بنایا اور اسے اپنا استاد سمجھتے ہوئے اپنے طور پر تیر اندزی کی مشق شروع کردی۔کچھ عرصے بعد اس نے تیر اندازی میں بڑی مہارت حاصل کرلی۔ایک دن کو روٗ راج کمار شکار پر گئے اور ان کے کتّے نے جنگل میں گھومتے پھرتے ایکلویہ کو دیکھ لیا۔جب کتے نے سیاہ فام نشادکی بوسونگھی،جس کے جسم پر مٹی کی پپری جمی ہوئی تھی اور کالے ہرن کی کھال میں لپٹا ہوا تھا، تو اس نے بھونکنا شروع کردیا۔اس پر غصہ میں آکر ایکلویہ نے اس کے منہ میں سات تیر بھردییے ۔جب کتا پانڈوؤں کے پاس واپس پلٹا تو وہ تیر اندازی کے اس غیر معمولی مظاہرے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔انھوں نے ایکلویہ کو ڈھونڈ نکالا۔جس نے اپنا تعارف درونا کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کیا۔
درونا نے اپنے شاگرد ارجن سے ایک بارکہاتھا کہ وہ اس کے شاگردوں میں بے مثال ہوگا۔ارجن نے اسے یہ بات یاددلائی۔ درونا ایکلویہ کے پاس پہنچا تو اس نے درونا کو پہچان کر اس کا اپنے استاد کی طرح عزت و احترام کیا۔جب درونا نے اپنی فیس کے طور پر اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا طلب کیا تو ایکلویہ نے بے جھجک اسے کاٹ کر درونا کو دے دیا لیکن اس کے بعد جب اس نے اپنی بچی ہوئی انگلیوں سے تیر چلائے تو ان میں وہ پھرتی باقی نہیں رہی تھی جو پہلے تھی۔اس طرح درونا نے اپنا وچن پورا کیا۔کوئی ارجن سے بہتر نہیں تھا۔

آپ کے خیال میں نشادوں کے لیے اس کہانی کے ذریعے کیا پیغام پہنچانا مقصود تھا؟
چھتریوں کو یہ کیا پیغام پہنچادیتی ہے؟
آپ کا کیا خیال ہے کہ درونا ،برہمن ہوتے ہوئے،تیر اندازی سکھانے کے کام کو دھرم سوتروں کے مطابق انجام دے رہا تھا؟

3.2 غیرچھتری بادشاہ 

شاستروں کے مطابق صرف چھتری ہی بادشاہ ہو سکتے تھے۔ لیکن کچھ اہم حکمراں خاندان غالباً کچھ مختلف بنیاد والے بھی ہوئے ہیں۔ موریہ خاندان، جس کے حکمرانوں نے ایک وسیع وعریض 
سلطنت پر حکومت کی، اس کی سماجی بنیاد خاصی گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ گوکہ بعد کی بودھ تحریریں ان کے چھتری ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر برہمن تحریروں میں انھیں کمتر بنیاد کا بتایا گیا ہے۔ موریاؤں کے فوری جانشین شنگا اور کنوا حکمراں برہمن تھے۔ حقیقت میں سیاسی اقتدار کا دروازہ ہر اس شخص کے لیے کھلاہوا تھا جو حمایت اور ذرائع اکٹھاکر لیتا تھا۔اس کا انحصار مشکل سے ہی چھتری پیدا ئش کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ 
دوسرے حکمراں، جیسے ’شاک‘جو وسطِ ایشیا سے آتے تھے، انھیں برہمن ’ملچھ‘بربر، یا’ باہر والے‘مانتے تھے۔ بہر حال کچھ قدیم ترین سنسکرت کتبوں میں سے ایک کتبہ میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح رُدرمان، مشہور ترین شاک حکمراں (تقریبا دوسری صدی عیسوی )نے سدرشن جھیل کی دوبارہ تعمیر کی(باب 2)۔ اس سے یہ بھی اظہار ہوتا ہے کہ صاحبِ اقتدار یا طاقتور ’ملچھ‘سنسکرت روایات سے بھی واقف تھے۔
 یہ بھی خاصی دلچسپ صورت ہے کہ ’ستواہن‘خاندان کا سب سے مشہور حکمراں، گوتمی پوت سیری ست کانی دونوں چیزوں کا بیک وقت دعوے دار تھا––ایک انوکھا برہمن (ایکا برہمن)اور کھترییوں کے غرور کو توڑنے والا۔ اس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اس نے چارورنوں کے لوگوں کے درمیان آپسی شادیوں کے سلسلے کے خاتمے کو بالکل یقینی بنادیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے ردرمان کے قرابت داروں میں خودشادی بھی کی۔
 جیسا کہ آپ نے اس مثال میں دیکھا۔ ذات پات نظام کے اندر رہتے ہوئے آپسی گٹھاؤ یا انضمام کا عمل خاصہ پیچیدہ طریقہ کار تھا۔ ستواہن حکمراں خود کو برہمن کہتے تھے جب کہ برہمنوں کے مطابق بادشاہوں کو کھتری ہونا چاہیے۔ یہ لوگ چارورنی نظام کو برقرار رکھنے کا دعو یٰ کرتے تھے مگر ایسے لوگوں سے شادی کے رشتے جوڑتے تھے جو اس نظام سے خارج فرض کیے جاتے تھے۔ جیسا ہم نے دیکھا یہ لوگ برہمنی متنوں میں کی گئی خارجی زوجیت کی سفارش کے برخلاف داخلی زوجیت کے طریقے پر عمل کرتے تھے۔
5

شکل: 3.5

چاندی کا ایک سکّہ جس میں ایک شاک حکمراں کو دکھایا گیا ہے۔ تقریباً چوتھی صدی عیسوی

3.3  جاتیاں اور سماجی حرکت پذیری

ان پیچیدگیوں کا اظہار متنوں میں سماجی درجوں کی تقسیم کے سلسلے میں استعمال کی گئی ایک اور اصطلاح سے بھی ہوتا ہے۔ ’جاتی‘برہمنی نظرییے کے مطابق ’ورن‘کی طرح جاتی کی بنیاد بھی پیدائش ہی تھی، لیکن ورنوں کی تعداد توچار پر مقرریا محدودکردی گئی تھی۔ جاتیوں کی تعداد پر کوئی روک نہیں تھی۔ حقیقت میں، جب بھی کبھی برہمنی صاحبان اقتدار کسی نئے گروپ سے دوچارہوتے ––مثال کے طور پر جنگل کے واسی، جیسے نشاد––یا وہ کسی پیشہ وری زمرے کو کسی درجے میں رکھنا چاہتے تھے، جیسے سناریاسورن کار، اور اسے آسانی سے ’چارورنی‘نظام میں نہیں جمایا جا سکتا تھا تو انھیں ’جاتی‘کے خانے میں رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ ’جاتیاں‘جو کسی ایک ہی پیشے میں مصروف ہوتی تھیں کبھی کبھی ’شرینی‘یا پیشہ وری انجمنوں (گلڈوں)کے روپ میں بھی منظم ہوجاتی تھیں۔ہمیں ایسی دستاویزیں یا تحریریں بہت کم دستیاب ہوتی ہیں جن میں ان زمروں کی تاریخ مرتب اور ریکارڈکی گئی ہو۔ مگر کچھ مستثنیات بھی بہر صورت موجود ہیں۔ ایک دلچسپ حجری کتبہ(تقریبا پانچویں صدی عیسوی )جومدھیہ پردیش کے منڈسور میں ملاہے، اس میں ریشم بُننے والوں کی ایک گلڈ کاتذکرہ ہے، جو شروع میں لاٹا (گجرات)میں رہتے تھے۔یہاں سے ہجرت کر کے مند سور پہنچے جس کا نام اس وقت داشاپورا تھا۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے بچوں او رقرابت داروں کے ساتھ یہ مشکل سفر طے کیا۔ کیونکہ انھوں نے یہاں کے بادشاہ کی عظمت کا چرچا سنا تھا اور یہ اس کی بادشاہت میں مستقل طور پر آباد ہونا چاہتے تھے۔
اس کتبے سے سماجی طرزِ عمل کی پیچیدگیوں اور ان گلڈوں یا شرینیوںکی ساخت اور کارکردگی کے مطالعے کا بڑادلچسپ اور دلکش موقع فراہم ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کی رکنیت کی بنیاد حرفے کی کسی شاخ کے اختصاص (اسپیشلائزیشن) میں شرکت پر تھی مگر کچھ ممبروں نے دوسرے پیشے بھی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممبر ایک سے زیادہ پیشوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ یہ اپنی دولت کی سرمایہ کاری کا فیصلہ مل جل کر کرتے تھے۔ اور انھوں نے سوریہ دیوتا کے اعزاز میں ایک عالی شان مندر بنوانے کے لیے اپنے پیشے کے ذریعے پیسہ کمایاتھا۔

سوداگروں کا معاملہ

سنسکرت تحریروں یا کتبوں میں سوداگروں یا تاجروں کے لیے ’وانیک‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔گوکہ تجارت کو شاستروں میں ’ویشیوں‘کا پیشہ بتایا گیا ہے لیکن اس کی کچھ زیادہ پیچیدہ شکل کچھ ڈراموں میں نظرآتی ہے(تقریباً چوتھی صدی عیسوی) کے شدراکاکے مرچھکاٹکا، نامی ڈرامے میں۔اس کے ہیرو چارودتا کو برہمن بھی بتایا گیا ہے اور ’سرتاواہا‘یا—سوداگر بھی۔ ایک پانچویں صدی کے کتبہ میں دوبھائیوں کو جنھوں نے مندر کی تعمیر میں عطیہ دیاہے’چھتری وانِک،(چھتری سوداگر)بتایا گیا ہے۔

کیا آپ کے خیال میں ریشم بننے والے وہی پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے جواُن کے لیے شاستروں نے متعین کیاتھا؟

ریشم بافوں نے کیا کیا؟

یہ سنسکرت میں لکھے ایک کتبے کا اقتباس ہے:
کچھ موسیقی سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔ کانوں کو(کیسی)خوش گو ارلگتی (ہے)؛دوسرے سوبہترین سوانحوں(کے مؤلف ہوتے ہوئے)فخر کرتے ہیں اور لاجواب کہانیوں سے واقف(ہیں)؛(کچھ اور)انکساری سے پُر بہترین مذہبی گفتگو میں منہمک ہیں… کچھ،خوداپنی مذہبی رسوم کی انجام دہی میں کمال رکھتے ہیں؛اسی طرح کچھ دوسروں نے،جنھیں خود پرقابو ہے(ویدی)علم ہئیت میں کمال حاصل کرلیا تھا،دوسرے،جنگوں میں دادِشجاعت دے رہے تھے،آج بھی وہ اپنے زوربازو سے دشمن کو نقصان پہنچانے کا باعث ہیں۔

3.4: چار ورنوں سے پار:   اتحاد

برّ صغیر کی مختلف النّوع کیفیت کے ہوتے ہوئے، ایسی آبادیاں موجود تھی، اور ہمیشہ ان کا وجود رہاہے، جن کے سماجی عمل برہمنی تصورات سے متأثر نہیں تھے۔ سنسکرت متنوں میں جہاں جہاں ان کا تذکرہ آیاہے وہاں انھیں عام طور پر ’فالتو‘(معاشرے سے باہر )غیر مہذب یا ’جانور جیسے‘ الفاظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔ بعض صورتوں میں اس زمرے میں وَن واسی بھی شامل تھے جن کے پاس بقائے حیات کے لیے شکار اور جنگل کی پیداواروں کا جمع کرنا سب سے اہم ذریعہ تھا۔ ’نشاد‘ جیسے گروپ اس کی مثال ہیں جس سے ایکلویہ کا متعلق ہونا فرض کیاجاتا ہے۔ دوسرے زمرے جنھیں مشتبہ نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا ان میں خانہ بدوش گلابانوں کی آبادیاں تھیں جو مقیم زراعت پیشہ معاشروں کے نظام میں آسانی سے سموئی نہیں جا سکتی ہیں۔ کبھی کبھی ان گروہوں کو بھی جو غیر سنسکرت زبانیں بولتے تھے، ’ملچھ‘کا تمغہ عطاہو جاتا تھا اور انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود ان زمروں کے لوگوں میں خیالات اورعقائد کا لین دین بھی موجود تھا۔

شیرجیسا شوہر

یہ مہابھارت کے اَدی پارون کی ایک کہانی کا مختصر روپ ہے:
پانڈو جنگل کی طرف بھاگ گئے تھے۔یہ تھکے ہوئے تھے اور نیند نے انھیں آلیا۔صرف بھیم،جو اپنی جرأت وہمت کے لیے ممتاز تھا،چوکیداری کررہا تھا۔ایک آدم خورراکھشس نے پانڈوؤں کی بوپاکر اپنی بہن ہدِمبا کو انھیں پکڑنے بھیجا۔وہ بھیم پر عاشق ہوئی۔اس نے خود کو ایک خوبصورت دوشیزہ کی شکل میں تبدیل کرلیا اور بھیم سے شادی کی پیش کش کی۔اس نے انکار کیا۔اسی دوران راکھشس وہاں پہنچ گیا اور بھیم کو کشتی کے لیے للکارا۔بھیم نے مقابلہ منظور کیا اور اسے مارڈالا۔اس کی آوازیں سن کر سب جاگ گئے۔ہدمِبا نے اپنا تعارف کرایا اور بھیم سے محبت کا اعلان کردیا۔اس نے کنتی کو بتایا۔میں نے اپنے دوستوں کو،اپنے دھرم کو اور اپنے قرابتداروں کو چھوڑ دیا ہے؛اور اچھی خاتون میں نے تمہارے شیر جیسے لڑکے کو اپنے شوہر کے طورپر چن لیا ہے…اب تم چاہے مجھے بے وقوف سمجھو یا اپنی وفادار خادمہ ،مگر مجھے اپنے ساتھ رہنے دو،عظیم خاتون،اپنے لڑکے کے ساتھ میرے شوہر کی حیثیت میں(رہنے دو)۔
آخر یُدھشٹر اس شرط پر شادی کے لیے راضی ہوگیا کہ یہ دونوں دن تو ساتھ ساتھ گزاریں گے مگر بھیم روزانہ رات کو واپس آجائے گا۔یہ جوڑا دن کے وقت پوری دنیا گھوما۔اسی دوران ہدمبا نے ایک راکھشس لڑکے کو جنم دیا جس کا نام گھٹو تکچ تھا۔اس کے بعد ماں بیٹے نے پانڈوؤں کو چھوڑدیا۔گھٹوتکچ کا چا نے پانڈوؤں سے وعدہ کیا کہ جب بھی انھیں ضرورت ہوگی وہ ان کے پاس واپس آجائے گا۔
بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ راکھشس کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جن کی زندگی کے کام برہمنی متنوں میں بتائے گئے کاموں سے مختلف ہوتے تھے۔
 مہابھارت کی کچھ کہانیوں میں ان رشتوں کی ماہیت کا اظہار ہوتا ہے۔


اس ٹکڑے میں جو عمل غیر برہمنی کہے جاسکتے ہیں انھیں بیان کیجیے۔

3.5چار ورنوں سے پار

    محکومیت اور ٹکراؤ 

برہمن کچھ لوگوں کو تو نظام سے باہر سمجھتے ہی تھے۔ انھوں نے اس سماجی تقسیم میں مزید تیکھا پن یا تیزی اس طرح پیدا کی تھی کہ کچھ سماجی زمروں کو ’اچھوت‘درجوں میں رکھ دیاتھا۔ اس کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ کچھ عمل، خصوصاً جومذہبی رسوم کی انجام دہی سے تعلق رکھتے تھے وہ مقدس تھے۔کچھ اور آگے بڑھ کر’پاک‘ بھی۔ وہ لوگ جو خود کو’پاک‘ یا ’خالص‘سمجھتے تھے وہ ان لوگوں کے ہاتھ سے کھانا لینے سے پرہیز کرتے تھے جنھیں وہ اچھوت سمجھتے تھے۔ اس ’پاکی‘کے تصور کے بالکل برعکس کچھ کاموں کو ہی نجس سمجھتے تھے۔ اس میں لاش اٹھانے والے اور مردار جانوروں کے کام کرنے والے شامل تھے۔ جو لوگ اس قسم کے کام انجام دیتے تھے انھیں اس درجاتی تقسیم کے بالکل نیچے رکھا جاتا تھا اور انھیں ’چنڈال‘کا نام دیا گیاتھا۔ ان کا چھوجانا او رکبھی کبھی تو ان پر نظر پڑ جانا بھی ان لوگوں کو ناپاک کرنے والا عمل مانا جاتا تھا جو خود کو اس سماجی نظام کے اعلا ترین درجے پر مانتے تھے۔ 
     ’منوسمرتی‘ نے ’چنڈالوں‘ کے فرائض کا تعین کیا ہے۔ انھیں گاؤں کے باہر رہنا ہوتا تھا۔ بیکار، ناقابلِ استعمال برتن استعمال کرنے ہوتے تھے، مُردوں کے کپڑے اور لوہے کے زیورات پہنے ہوتے تھے۔ یہ لوگ رات کو گاؤں اور شہروں میں چل پھر نہیں سکتے تھے۔ ایسے مردوں کو ٹھکانے لگانے کا کام انھیں کاتھا جن کا کوئی عزیز موجودنہ ہواور جلّاد کی خدمات انجام دینی ہوتی تھی۔ بہت بعد میں چینی بودھ فاہیان (تقریبا پانچویں صدی عیسوی)نے لکھا تھا کہ’اچھوتوں‘کو سڑکوں پر تالی کی آواز نکالنی ہوتی تھی تا کہ لوگ انھیں دیکھنے سے بچے رہیں۔ ایک دوسرے چینی زائر زوانی زانگ (تقریبا ساتویں صدی عیسوی)نے لکھا تھا جلّاد او ر بھنگیوں کو شہر سے باہر رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ 
ایسے غیر برہمنی متنوں کے مطالعے سے ، جن میں چنڈالوں کی زندگی کا اظہار ملتا ہے، مورخین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا چنڈال شاستروں کی مقررکردہ اس حقارت آمیز زندگی کوقبول کرلیتے تھے۔ گو کہ بعض صورتوں میں، برہمنی متنوں سے مطابقت بھی ملتی ہے لیکن کہیں کہیں مختلف سماجی حقیقتوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں


7

شکل3.6

ایک فقیر کے خیرات مانگنے کا منظر سنگ تراشی (گندھارا) 
تقریباً تیسری صدی عیسوی 

بودھی سَتّ چنڈال کے روپ میں

کیا چنڈال خود کو سماجی نظام کے اس پست ترین مقام پر دھکیل د یے جانے کے سلسلے میں مدافعت بھی کرتے تھے؟یہ کہانی پڑھیے جو پالی تحریر متنگ جاتک، کا حصہ ہے جس میں بودھی ستّ(بدھ،اپنی سابقہ پیدائش میں)کی شناخت ایک چنڈال کے روپ میں ہوتی ہے۔
ایک بار بودھی ستّ بنارس کے شہر سے باہر ایک چنڈال کے بیٹے کے روپ میں متنگ نام سے پیدا ہوا ۔ایک دن جب وہ کسی کام سے شہر گیا ہواتھا تو وہ ایک سوداگر کی بیٹی دتّھ منگلک کے سامنے آگیا۔جب اس کی نگاہ اس (منگلک)پر پڑی تو وہ بولی’’میں نے کوئی منحوس چیز دیکھ لی ہے،اور اس نے اپنی آنکھیں دھوئیں۔اس کے جوابی موالیوں(حاضرباش) نے غصے میں اسے مارا پیٹا۔احتجاج کے طور پر وہ اس کے باپ کے گھر کے دروازے کے باہر جا کر لیٹ گیا۔ساتویں دن وہ لڑکی کو باہر لائے اور اسے سونپ دیا۔وہ بھوک سے نڈھال متنگ کو چنڈالوں کی بستی میں واپس لے گئی۔جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دنیا کو تج دینے کا فیصلہ کرلیا۔پھر روحانی طاقتیں حاصل کرکے وہ بنارس واپس آیا اور اس سے شادی کی۔ان کے ایک لڑکا مانڈویہ کمار پیدا ہوا۔اس نے بڑے ہو کر ویدوں کا علم حاصل کیا اور روزآنہ16,000برہمنوں کو کھانا کھلاتا تھا۔
ایک دن متنگ،پھٹے پرانے کپڑے پہنے (بھیک مانگنے کا) مٹی کا پیالہ ہاتھ میں لیے اپنے بیٹے کی ڈیوڑھی پر پہنچا اور کھانا مانگا۔مانڈویہ نے جواب دیا کہ وہ ذات باہر چنڈال جیسا لگتا ہے۔ اس لیے خیرات دیے جانے کے لائق نہیں ہے۔کھانا برہمنوں کے لیے ہے۔متنگ نے کہا:’’وہ جو اپنی پیدائش(نسل)پر فخر کرتے ہیں اور جاہل ہیں وہ تحفوں کے حق دار نہیں ہیں۔اس کے برخلاف جو برائیوں سے پاک ہیں وہ نذرانوں کے لایق ہیں۔‘‘مانڈو کو غصہ آگیا اور اس نے اپنے ملازموں کوحکم دیا کہ وہ اس آدمی کو باہر پھینک دیں۔متنگ اپنے مقام سے اوپر اٹھا اور ہوامیں غائب ہوگیا۔جب دتّھ منگلککو اس واقعے کی خبرہوئی تو وہ متنگ کے تعاقب میں گئی اور اس سے معافی مانگی ۔اس نے کہا کہ پیالے میں جو کچھ بچا کھچا ہے وہ خود کھالے اور کچھ مانڈویہ اور برہمنوں کو دے دے…
اس کہانی میں ان اجزا کی شناخت کیجیے جن سے یہ نشاندہی ہو کہ اسے متنگ کے تناظر سے لکھاگیا تھا

گفتگو کیجیے:

اس باب میں وہ مآخذکون کون سے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوسکے کہ لوگ برہمنوں کے طے کردہ پیشے اختیار کرتے تھے؟کن مآخذوں سے دوسرے امکانات کی نشاندہی ہوتی ہے؟


دروپدی کا سوال

ایسا مانا جاتا ہے کہ دروپدی نے یدھشٹر سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ اسے داؤ پر لگانے سے پہلے خود کو ہا رچکا تھا۔اس سوال کے جواب میں دومتضاد رائیں ظاہر کی گئیں۔
ایک :یہ کہ اگر یدھشٹر پہلے خود کو ہاربھی چکا تھا،تب بھی اس کی بیوی بہرطور اس کے قابو میں تھی اور وہ اسے داؤ پر لگا سکتا تھا۔
دو: ایک غیر آزاد شخص (جیسا کہ خود کو ہارچکنے کے بعد یدھشٹر اس وقت تھا)کی دوسرے شخص کو داؤ پر نہیں لگاسکتا تھا۔
یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا:آخر کار دھرت راشٹر نے پانڈوؤں اور دروپدی کی ذاتی آزادی بحال کردی۔
آپ کاکیا خیال ہے؟کیااس واقعے سے اس طرف اشارہ نہیں ہوتا کہ بیویوں کو ان کے شوہروں کی ملکیت سمجھا جاسکتا ہے؟

۔4 پیدا ئش سے پار

     ذرائع او رحیثیت

اگر آپ باب 2میں زیر بحث آئے معاشی رشتوں کو یاد کریں تو آپ کو خیال آئے گا کہ بر صغیر کے مختلف حصوں میں غلام، بے زمین زراعتی مزدور، شکاری، مچھیرے، گلے بان، کسان، گاؤں کے مکھیا، دستکار، تاجر اور بادشاہ سب سماجی کرداروں کو ادا کررہے تھے۔ ان کی سماجی حیثیتوں کا روپ عام طور پر معاشی ذرائع تک ان کی پہنچ سے بنتا تھا۔ یہاں ہم کچھ مخصوص صورتوں میں معاشی ذرائع تک پہنچ کرسماجی اثرات کا جائزہ لیں گے۔

ملکیت تک صنفی پہنچ  -4.1

سب سے پہلے مہابھارت کے ایک نازک موقعے پر غور کیجیے۔ کوروں اور پانڈووں کی ایک طویل رقابت کے دوران دریودھن نے یدھشٹرکو جوے کے کھیل کی دعوت دی۔ مؤخر الذکر نے، جسے دھوکا دیا گیا تھا، اپنا سونا، ہاتھی، رتھ، غلام، فوج، خزانہ ، سلطنت، اپنی رعایا کی ملکیتیں، اپنے بھائی اور آخر میں خود اپنی ذات کو داؤد پر لگایا اورسب کچھ ہارگیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی مشترکہ بیوی کو داؤ پر لگایا اور اسے بھی ہارگیا۔ 
اس جیسی کہانیوں کے پیش نظر، ملکیت کے جو مسائل اٹھے ہیں (مآخذ 11)وہ دھر م سوتروں اور دھرم شاستروں میں بھی نظر آتے ہیں۔ منوسمرتی کے مطابق باپ کی جائیداد والدین کی موت کے بعد تمام لڑکوں میں برابر تقسیم ہونی چاہیے، لیکن سب سے بڑے کا ایک خصوصی حصہ ہوتا ہے، عورتیں ان ذرائع میں کسی حصے کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔
بہر طور عورتوں کو ان تحائف یا دولت کو رکھنے کا حق تھا جوانھیں شادی کے وقت ملتے تھے، جیسے استری دھن (لفظی معنی ایک عورت کی دولت)کہا جاتا تھا، اس کے بچے اسے ورثے کے طور پر حاصل کر سکتے تھے اور اس پر شوہر کا کوئی دعویٰ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی منوسمرتی میں عورتوں کو خاندان کی دولت اکٹھا کرنے پر تنبیہ بھی کی گئی ہے۔یہاں تک کہ شوہر کی اجازت بغیر اپنی قیمتی چیزیں جمع کرنے پر بھی متنبہ کیا گیا تھا۔ آپ واکاٹک کی رانی پر بھاوتی گپتا (باب2)کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ بہر طور تمام مجموعی شہادتیں–––کتباتی اور تحریری دونوں––– اسی سمت میں نشاندہی کرتی نظر آتی ہیں کہ–––اعلا طبقوں کی عورتوں کی پہنچ تو کچھ ذرائع پر ممکن تھی مگر زمین، مویشیوں اور دولت پر عام طور پر مردوں کی ہی گرفت تھی۔ دوسرے لفظوں میں ، مردوں اور عورتوں کے درمیان سماجی فرقوں میں ان دونوں کی ذرائع تک پہنچ کے مواقع میں نا برابری کی و جہ سے اور شدّت پیدا ہوتی تھی


مرداور عورتیں دولت کس طرح حاصل کرسکتے تھے؟

منوسمرتی میں بتایا گیا ہے کہ مردوں کے لیے دولت حاصل کرنے کے سات ذریعے ہیں:وراثت،خزانہ پالینا،خریدنا،فتح،سرمایہ کاری،کام اور اچھے لوگوں سے تحفے حاصل کرنا۔
عورتوں کے لیے دولت حاصل کرنے کے چھ ذریعے ہیں۔ جو کچھ آگ کے سامنے دیا گیا ہو؛(شادی)یا بارات کے ِجلو میں ہیں؛یا شفقت ومحبت کی علامت کے طورپر دیا گیا ہو،اور جو کچھ اسے اپنے بھائی،ماں یا باپ سے ملے۔وہ شادی کے بعد نجی دیے گئے کسی تحفے سے دولت حاصل کرسکتی ہے یا جو اس کا ’محبت کرنے والا‘شوہر اسے دے دے۔

مرد اور عورتیں جن ذریعوں سے دولت حاصل کر سکتی تھیں ان کا مقابلہ اور موازنہ کیجیے۔

4.2 ورن اور ملکیّت تک پہنچ

برہمنی تحریروں کے مطابق (صنف کے علاوہ )ملکیتوں تک پہنچ یا حصول میں باقاعدگی پیدا کرنے کا ایک اور اصول ’ورن ‘تھا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھاشودروں کے لیے جو واحد پیشہ طے کیا گیا تھا وہ خدمت گزاری تھا جب کہ اوپر کے تین ورنوں کے مردوں کے لیے طرح طرح کے پیشیوں کی فہرست دی گئی تھی۔ اگر ان صورتوں کو پوری طرح برسرکار لایا گیا ہوتا تو سب سے زیادہ دولت مند برہمن اورچھتری ہوتے۔ یہ صورت اس وقت کی سماجی کیفیات میں کسی حدتک موجود بھی تھی۔ پجاریوں اور بادشاہوں کے بارے میں کچھ دوسری تحریری روایات سے ظاہر بھی ہوتا ہے۔ بادشاہوں کو تو کم وبیش مستقل دولتمند دکھایا ہی جاتاتھا۔ پجاریوں کو بھی عام طور پر دولت مند ہی بتایا گیا ہے۔لیکن کہیں غریب برہمنوں کا بھی ذکر مل جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ معاشرہ کے روپ کے لیے برہمنی طرز فکر کو دھرم سوتروں اور دھرم شاستروں میں باقاعدگی سے مرتب کردیا گیا تھا، بہر طور، اس نظام کے سلسلے میں ناقدانہ روایتیں کچھ دوسری سطح پر ابھریں۔ان میں سے کچھ بہترین روایات ابتدائی بدھ مت (تقریباً چھٹی صدی قبل مسیح سے آگے: باب 4بھی ملاحظہ ہو) دور میں وجود میں آئیں۔ بدھ مت کے پیروکاروں نے تسلیم کیا کہ معاشرے میں فرق یا اختلافات موجود تھے، مگر وہ انھیں فطری یابے لوچ نہیں مانتے ۔ وہ پیدائش پر مبنی حیثیت یا درجے کے تصور کو بھی مسترد کرتے ہیں

دولت مند شودر

یہ کہانی پالی میں ایک بودھ تحریر کی بنیاد پر ہے جسے ’مجھمانِکایہ‘ کا عنوان دیاگیاہے اور اس میں اونتی پوت نامی بادشاہ اور کچھنا (کچّھن) نامی بدھ کے ایک شاگرد کے درمیان ایک مکالمے کا حصہ بیان کیا گیاہے۔گوکہ ممکن ہے یہ لفظ بلفظ حقیقت نہ ہو اس سے بودھوں کی ورن کے بارے میں فکر کا ضرور اظہار ہوتا ہے۔
اونتی پوت نے کچھنا سے پوچھا کہ وہ ان برہمنوں کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے جن کا خیال ہے کہ وہ بہترین ذات کے لوگ ہیں اور تمام دوسری ذاتیں کمتر ہیں؟ کیوں کہ برہمن ہی صرف گوری ذات ہیں باقی سب ذاتیں کالی ہیں؛ اور یہ کہ صرف برہمن ہی خالصتاپاک ہیں اور بقیہ نہیں ہیں اور برہمن برہم کے بیٹے ہیں،اس کے منہ سے پید ا ہوئے ہیں۔برہم سے پیدا،برہم کے بنائے اور برہم کے جانشین۔کچھنا نے جواب دیا’’اگر شودر دولتمند ہوں…تو کیا دوسرا شودر…یا چھتری یا برہمن یا ویشیہ …اس سے نرمی سے بات کریں گے؟
اونتی پوت نے جواب دیا کہ اگر کسی شودر کے پاس دولت ،اناج،سونا،چاندی ہوتو وہ کسی اور شودر کو ایک تابعدار ملازم کی حیثیت میں نوکر رکھ سکتا ہے؟جو اس سے پہلے اٹھ جائے،اس کے بعد آرام کرے،اس کا حکم بجالائے،اس سے نرمی سے بات کرے؛ وہ تو کسی برہمن ،کسی چھتری یا ویشیہ کو بھی اپنے تابعدار ملازم کی حیثیت میں رکھ سکتا ہے۔ 
کچھنا نے پوچھا’’اگر ایسا ہے تو کیا یہ چاروں ورن بالکل ایک نہیں ہیں؟
اونتی پوت نے تسلیم کرلیا کہ اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اونتی پوت کے پہلے بیان کو دوبارہ پڑھیے۔ اُن میں وہ کون سے تصورات ہیں جنھیں برہمنی تحریروں یاروایتوں سے اخذ کیاگیاہے؟ کیا آپ ان میں سے کسی کا مآخذ تلاش کر سکتے ہیں؟

اس متن میں کیا چیز سماجی فرق کو بیان کرتی ہے؟

4.3ایک متبادل سماجی منظرنامہ 

دولت میں شرکت 

اب تک ہم ایسی کیفیات کا مطالعہ کررہے تھے جن میں لوگ دولت کی بنیاد پر خود کو ایک مخصوص حیثیت کا دعویدار سمجھتے تھے یا دوسرے اسی بنیاد پر یہ حیثیت انھیں دیتے تھے مگر کچھ دوسرے امکانات بھی بہر حال موجود تھے۔ وہ صورت جس میں سخی حضرات کی عزت ہوتی تھی اور وہ لوگ جو کنجوسی کا رویہّ رکھتے تھے یا صرف اپنے لیے دولت جمع کرتے تھے انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ایسا ایک علاقہ جہاں ان قدروں کو پسند کیا جاتا تھا قدیم تمِلاکم تھا، جہاں جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں(باب۔2)لگ بھگ 2000سال پہلے بہت سی سر دارریاستیں تھیں۔ اور چیزوں کے علاوہ یہ سردار ان شاعروں اور بھاٹوں،گو یّوں کی سر پرستی کرتے تھے جو ان کے قصیدے پڑھتے تھے۔ تامل سنگم مجموعوں میں شامل نظموں میں جگہ جگہ لوگوں کے سماجی اور معاشی رشتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گو کہ امیرو غریب لوگوںمیں فرق موجود تھے، مگر جن لوگوں کی دولت پر گرفت تھی ان سے یہ بھی توقع کی جاتی تھی کہ وہ اس میں سے دوسروں کا حصہ بھی دیں گے۔

شکل: 3.7

ایک سردار اور اس کا پیرو پتھر کی بت تراشی کا نمونہ۔امراوتی (آندھرا پردیش)تقریباً دوسری صدی عیسوی

سنگ تراش نے سرداراور اس کے پیرو میں فرق کو کس طرح ظاہر کیا ہے؟

34

غریب سخی سردار

تامل سنگم ادب(تقریباً پہلی صدی عیسوی ) کی نظموں کے مجموعوں میں ایک مجموعے’پران روروٗمیں شامل ایک نظم میں ایک بھاٹ دوسرے شاعروں سے اپنے مربّی کے بارے میں اس طرح بیان کرتا ہے:
اس (یعنی مربی)کے پاس اتنی دولت نہیں ہے کہ وہ روزانہ دوسروں پر بے دھڑک لٹا سکے۔
نہ اس میں ایسی تنک مزاجی ہے کہ وہ یہ کہہ کر کہ اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں،انکار کردے…
وہ اِرنٹانی (ایک مقام)میں رہتا ہے اور سخت ہے۔وہ بھاٹوں کی بھوک کا دشمن ہے۔
اگر تم اپنی مفلسی کا علاج چاہتے ہو تو آؤ،میرے ساتھ آؤ،بھاٹ جن کے لب ایسے سدھے ہوئے ہیں!
اگر ہم اس سے مانگیں بھوک سے سوکھی یہ پسلیاں دکھاتے ہوئے،تو وہ اپنے گاؤں کے لوہار کے پاس جائے گا۔
اور اس مضبوط ہاتھوں والے انسان سے کہے گا۔
مجھے جنگ کے لیے ایک بھالا بنادو،جس کا پھل بالکل سیدھاہو!


بھاٹ اپنے سردار کو آزمانے اور راغب کرنے کے لیے کیا کیا ترکیبیں استعمال کرتا ہے؟
 سردار سے کیا توقع کی جارہی ہے کہ وہ دولت حاصل کرنے کے لیے کیا کام کرے گا؟تاکہ اس میں سے کچھ حصہ بھاٹ کو بھی دیا جا سکتا ہے؟ 

گفتگو کیجیے:

آج کے معاشرے میں سماجی رشتے کس طرح عمل میں آتے ہیں؟کیا ماضی کے انداز کے مقابلے میں کچھ مماثلتیں یا فرق موجود ہیں؟


5- سماجی تفریق کی توضیح کرنا 

ایک سماجی معاہدہ 
سماجی عدم مساوات کو سمجھنے او رسماجی ٹکراؤ کو حل کرنے کے لیے مطلوبہ ادارے یا آلۂ کار کا ایک تبادل بودھوں نے بھی ابھاراتھا۔سُتّ پِٹاکاکے عنوان سے موسوم متن میں شامل ایک فرضی قصے (اسطور)میں انھوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ابتدا میں انسانوں کے جسمانی اعضا کی بھی پوری طرح تشکیل نہیں ہوتی تھی، نہ نبا تاتی دنیا پوری طرح مکمل ہوتی تھی۔ تمام موجودات ایک فرحت بخش صورتِ حال میں زندگی گزاررہے تھے وہ قدرت سے صرف اتنا ہی حاصل کرتے تھے جتنا انھیں اپنے کھانے کے لیے ضروری ہوتا تھا۔ 
لیکن رفتہ رفتہ اس صورت حال میں خرابی یا تنزل پیدا ہوا کیونکہ بنی نوع انسان متواتر لالچی، انتقام جو، اور پر فریب ہوتے جارہے تھے۔ اس صورت میں وہ یہ سوچنے لگے کہ: کیوں نہ ہم ایک ایسا شخص منتخب کرلیں کہ جو غصہ یا اشتعال کے صحیح موقعے پر غضبناک ہو، وہ اس چیز کی سخت تنقید کرے جس کی تنقید صحیح طور پر ضروری ہو اور اسے نیست ونابود کردے جسے نابود کیا جانا حق بجانب ہو؟ اس کے بدلے میں ہم اسے چاولوں میں سے ایک حصہ دیں گے۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کاچُنا ہوا ہوگا، اسے مہاسَمّت عظیم منتخبہ کہا جائے گا۔اس سے اس سمت اشارہ ہوتا ہے کہ بادشاہت بحیثیت ادارہ انسانی چناؤ پر مبنی ہے اور ٹیکس، اس بادشاہ کی خدمات کے لیے معاوضے کی ادائیگی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس سے معاشی اور سماجی رشتوں کی ادارہ جاتی تشکیل کے سلسلے میں، انسانوں کے عمل کو تسلیم کرلیے جانے کا بھی اظہار ہوتاہے۔ اس کے کچھ اور ذیلی نتائج بھی ہیں۔ اگر خود انسان ہی اس نظام کی تشکیل کے ذمے دار تھے، تو وہ اسے مستقبل میں بدل بھی سکتے تھے۔ 

۔6تحریروں کو استعمال کرنا 

مؤرخین اور مہابھارت

اگر آپ اس باب میں دییے گئے مآخذوں پر دوبارہ نگاہ ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مؤرخین کسی تحریر یا متن کا مطالعہ یا جائزہ لیتے وقت کئی عناصر ذہن میں رکھتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ متن پراکرت ، پالی، یا تمل میں تھا۔ یہ وہ زبانیں تھیں جو غالباً عام لوگ استعمال کرتے تھے؛یا سنسکرت میں تھا جو وہ زبان تھی جو پجاریوں او ر طبقہ اشراف کے لیے مخصوص کردی گئی تھی۔ وہ متنوں کی اقسام کو بھی دیکھتے ہیں۔ کیا یہ وہ منتر تھے جنھیں مذہبی رسوم ادا کروانے والے مخصوص لوگ یاد کرکے دوہراتے تھے؛ یاوہ کہانیاں تھیں جنھیں لوگ سن سکتے تھے یاسن کر اگر انھیں پسند آئیں تو دوسروں کو سناتے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے مصنف (مصنفوں) کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ کیونکہ انھیں کے تناظر اور خیالات ان متنوں کو روپ یا سمت دیتے تھے۔ ساتھ ہی وہ متوقع سامعین کا بھی خیال رکھتے ہیں کیونکہ عام طور پر مصنف اپنا متن تیار کرتے وقت سامعین کی دلچسپیوں کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں ۔ وہ کسی متن کی تیاری کی تاریخ یا زمانے اور تالیف کے مقام کو جاننے اور اسے یقینی بنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ان تمام اندازوں کی تشکیل کے بعد ہی وہ ان تحریروں کے حقیقی متنوں کی تاریخی اہمیت تک پہنچنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں آپ خود ہی تصور کرسکتے ہیں کہ خصوصاً مہابھارت جیسے پیچیدہ متن پر کام کرنا کتنا مشکل ہے۔

6.1 زبان او رمواد 

اب ذرا اس متن کی زبان کو دیکھیں ۔ جس نسخے کے بارے میں ہم بات کررہے ہیں وہ سنسکرت میں ہے(گوکہ دوسری زبانوں میں بھی اس کے روپ موجود ہیں)۔ بہرحال مہابھارت کی سنسکرت ویدوں کی سنسکرت سے( یا باب 2میں زیر بحث پر شستیوں سے) کہیں زیادہ آسان ہے۔ اسی و جہ سے شاید ایک وسیع حلقے میں اسے سمجھا بھی گیا۔ 
مؤرخ موجودہ متن کے مواد کو دوخانوں یا دو عنوان کے تحت تقسیم کرتے ہیں۔ وہ باب جن میں کہانیاں ہیں، جنھیں ’بیانیہ‘ کہا جاتا ہے اور وہ باب جن میں سماجی معیاروں کے لیے تجویزیں یا نسخے ہیں جنھیں ’اخلاقیاتی‘ یامعلمانہ کہا گیاہے۔ یہ تقسیم بالکل ٹھوس یا ناقا بل تردیدنہیں ہے۔ بہرحال، مؤرخ عام طور سے اس خیال پر متفق ہیں کہ مہابھارت ایک متاثرکن ڈرامائی کہانی کے طور پر تیار ہوئی تھی اور یہ کہ معلمانہ یا اخلاقیات والے حصے غالباً اس میں بعد میں شامل کیے گئے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ شروع کی سنسکرت روایتوں میں اس کے متن کو ’اتہاس‘ کا نام دیاگیاہے۔ اس اصطلاح کے لفظی معنی ہیں’’یہ اس طرح تھا‘‘اسی لیے عام طور پر اس کا ترجمہ ’تاریخ‘کیا جانے لگا۔ کیا اس رزمیہ میں جس جنگ کو یاد کیا گیا ہے ایسی کوئی جنگ ہوئی تھی؟ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ قرابت داروں کے درمیان ایک حقیقی جنگ کی یادداشت کو بیانیہ میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ اس کی تصدیق کے لیے کوئی اور شہادت موجود نہیں ہے۔
اخلاقیاتی‘،’معلمانہ(Didactic)سے مراد لی جاتی ہے وہ چیز یا رُخ جو ہدایت اور رہنمائی کے مقصد سے شامل کیاجائے۔

35
شکل3.8
شری کرشن میدان جنگ میں ارجن کو مشورہ دے رہے ہیں۔
یہ پینٹنگ آٹھویں صدی عیسوی کی ہے۔مہابھارت کا شاید سب سے زیادہ معلمانہ یا اخلاقیاتی حصہ بھگوت گیتا ہے جو اس مشورے پر مشتمل ہے جسے شری کرشن نے ارجن کو دیا تھا۔نقاشی اور تصویر کشی میں یہ منظر اکثر دکھایا جاتا ہے۔

6.2مصنف (مصنفین )اور تاریخیں 

یہ متن کس نے لکھا؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ اصل کہانی غالباً ان ’رتھ بان بھانڈوں نے بنائی جنھیں ’سو‘تا‘ کہا جاتا تھا جو عام طور پر کھتری جنگجوؤں کے ساتھ میدان جنگ میں جاتے تھے اور ان کی فتوحات اور مہموں پر نظمیں کہہ کہہ کر ان کا دل بڑھانے کے لیے پڑھتے تھے۔ یہ نظمیں یا گیت زبانی طور پر ہی گردش میں رہیں۔ پھر پانچویں صدی قبل مسیح سے ان کہانیوں کو برہمنوں نے لے لیا اور انھیں تحریری شکل دینا شروع کردیا۔ یہ وہ دور تھا جب ’کورو‘اور ’پنچالہ‘جیسی سرداری ریاستیں، جن کے اِردگرِد رزمیہ کی کہانی گردش کرتی ہے سرداری ریاستوں سے آگے بڑھ کر بادشاہتوں میں بدل رہی تھیں۔ کیا اس وقت کے بادشاہ اپنی ’تاریخ‘کو مرتب کرواکر زیادہ منظم صورت میں چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان ہنگامہ آرائیوں کے نتیجے میں،جو ان نئی ریاستوں کا لازمی حصہ تھیں، اور جن کے ساتھ پرانی قدروں کی جگہ نئے معیار اپنی جگہ بنا رہے تھے، ان کیفیات کا اظہار بھی اس کہانی کے کچھ حصوںسے ہوتا ہے۔
تقریباً200قبل مسیح سے200عیسوی کے درمیان اس کی ترتیب و تدوین کا ایک اور دور نظر آتا ہے۔ یہ وہ دورتھا جب وشنو کو زیادہ اہمیت دی جارہی تھی اور رزمیہ کی ایک اہم شخصیت کرشن کو وشنو کی شناخت کے ساتھ دیکھا جارہا تھا۔اس کے بعد تقریباً 200عیسوی سے 400تک بڑے بڑے معلمانہ اور اخلاقیاتی حصے، جو منوسمرتی سے ملتے جلتے تھے، اس میں شامل کیے گئے۔ ان اضافوں کے ساتھ وہ متمن جو 10,000اشلوک سے زیادہ نہیں تھا اب لگ بھگ 1,00,000اشلوکوں کا ہوگیا۔روایتی طور پر منظوم کرنے کے اس زبر دست کام کو ایک رشی ویاس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ 
36
شکل3.9:
’گنیش جی کاتب‘ 
روایت کے مطابق ویاس نے دیوتا کو بول کر اس کا متن لکھوایا یہ تصویر مہابھارت کے ایک فارسی ترجمے سے لی گئی ہے۔
تقریباً1740—50

6.3حقیقت کی تلاش

تمام رزمیوں کی طرح مہابھارت میں بھی جنگوں، جنگلوں، مقامات اور بستیوں کے واضح بیانات موجود ہیں۔ 1951-52میں ایک ماہر آثار قدیمہ بی، بی۔ لال نے میرٹھ (اتر پردیش)کے ایک گاؤں ہستنا پور کے علاقے میں کھدائی کروائی۔ کیا یہی رزمیہ کا ہستنا پور تھا؟ گوکہ دونوں ناموں کی یکسانیت اتفاقی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس مقام کا محل وقوع یعنی گنگا کے دو آب کا علاقہ، جہاں کورو، ریاست واقع تھی، ضرور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہیں متن میں بیان کردہ کوروؤں کی راجدھانی تھی۔لال کوپانچ مقبوضاتی (آبادی)درجے ملے، جن میں دوسرے اور تیسرے درجے قابل توجہ ہیں۔ دوسرے درجے (تقریباً بارھویں سے ساتویں صدی قبل مسیح)کے بارے میں لال نے لکھا:’’جس محدود حصے میں کھدائی کی گئی وہاں گھروں کے کوئی باقاعدہ منصوبے نظر نہیں آئے مگر گارے کی اور مٹی کی اینٹوں کی دیواریں جگہ جگہ ضرور دکھائی دیں۔ گارے کے ایسے پلاسٹر کی دریافت سے، جس پر نرکل کے واضح نشانات موجود تھے، ان سے اندازہ ہوا کہ کچھ گھروںمیں نرکل کی دیواریں تھیں جن پر گارے کا پلاسٹر کیا گیا تھا‘‘۔ تیسرے درجے (تقریبا چھٹی سے تیسری صدی قبل مسیح)کے لیے اس نے لکھا: اس دور کے گھر مٹی کی اینٹوں اور پکائی اینٹوں سے بنائے گئے تھے۔ گندے پانی کی نکاس کے لیے جاذب (کچے)گھڑے اور اینٹوں کی نالیاں بنائی جاتی تھیں جب کہ پکائی مٹی کے گول کنوئیں (ٹیرا کوٹا رنگ ویلس)،کنوؤں اور نکاسی گڑھوں، دونوں کاموں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے‘
کیا رزمیہ میں شہر کے سلسلے میں بیان کا اضافہ متن مکمل ہوجانے کے بعد کیا گیا۔جب (چھٹی صدی قبل مسیح کے بعد)اس خطے میں شہر پھل پھول رہے تھے؟ یا یہ شاعرانہ پرواز تخیل تھی جس کا دوسری شہادتوں سے موازنہ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ایک اور مثال پر غور کیجئے، جو مہابھارت میں سب سے زیادہ تنقید کانشانہ بننے والی کیفیت ہے۔یہ ہے پانڈووں سے دروپدی کی شادی۔ اس پورے بیان کا مرکزی نقطہ کثیر شوہری کا طریقہ ہے۔ اگرہم رزمیہ کے اس بابکو دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مصنف (مصنفین )نے اسے مختلف اندازمیں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
آج کے مؤرخ اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مصنف(مصنفین )نے کثیر شوہری طریقے کا ذکر کیا ہے تو ممکن ہے کہ حکمراں طبقے اور اشرافیہ میں کبھی یہ طریقہ رائج رہا ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت کہ اس واقعے کی توجہیات اتنے طریقوں سے بیان کی گئی ہیں (مآخذ 16)اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کثیر شوہری کا طریقہ ان برہمنوں کے نزدیک رفتہ رفتہ ناپسندیدہ ہوتا چلا گیا جو صدیوں اس پر کام کرتے رہے اور جنھوں نے اس کا متن تیار کیا۔
کچھ مؤرخین نے یہ بھی بتایا ہے کہ کثیر شوہری طریقہ ممکن ہے برہمنوں کے نزدیک کبھی غیر مقبول بلکہ ناپسندیدہ مانا جاتا ہو مگر یہ ہمالیہ کے علاقوں میں رائج تھا (اور آج بھی ہے)کچھ اور مؤرخوں کا خیال ہے کہ جنگ کے زمانوں میں عورتوں کی قلت ہوجاتی ہوگی جس کے نتیجے میں کثیرشوہری طریقہ اپنایا جاتا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ بحرانی کیفیات کا نتیجہ تھا۔
کچھ ابتدائی مآخذوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کثیر شوہری طریقہ شاید نہ ایک واحد طریقہ تھا نہ کوئی مقبولِ عام طریقہ ۔ پھر مہابھارت کے مصنف (مصنفوں)نے مہابھارت کے مرکزی کرداروں سے اس (غیر مقبول یا غیر موجودطریقے)کو کیوں وابستہ کیا؟ اس سلسلے میں ہمیں یہ بات ضروریاد رکھنی چاہیے کہ تخلیقی ادب کے بیان کے کچھ اپنے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں اور یہ لفظ بہ لفظ سماجی حقیقتوں کو ظاہر نہیں کرتا۔
ماخذ:15 

ہستناپور

مہابھارت کے آدی پارون میں شہر کو اس طرح بیان کیاگیاہے۔
شہر سمندر کی طرح ابلا پڑتا تھا سیکڑوں محل سرایوں سے بھرا،ابھرے ہوئے داخلے کے دروازوں، محرابوں ،گمٹیوں سے،جیسے اندر کے عظیم شہر کی شان و شوکت کو بادلوں نے گھیر کر اور دوبالا کردیا ہو۔
کیا آپ کے خیال میں لال کی دریافتیں رزمیہ میں بیان کردہ ہستناپورہ سے کچھ میل رکھتی ہیں؟

دروپدی کی شادی

پنچالا کے بادشاہ دروپدی نے ایک مقابلہ منعقد کیا جس میں ایک کمان چڑھا نا اور ایک نشانے پر تیر لگانا شرط رکھی گئی تھی۔جیتنے والے کو اس کی بیٹی دروپدی سے شادی کرنے کے لیے منتخب کیاجانا تھا۔ارجن جیت گیا اور دروپدی نے اس کے گلے میں مالا ڈال دی۔پانڈو بھائی اس کے ساتھ اپنی ماں کنتی کے پاس واپس آئے تو اس نے انھیں دیکھے بغیر حکم دے دیا کہ جو کچھ وہ لائے ہیں آپس میں بانٹ لیں۔دروپدی کو دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا مگر اس کی حکم عدولی ممکن نہیں تھی۔کافی گفت وشنید کے بعد یدھشٹر نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ان کی مشترکہ بیوی ہوگی۔
جب دروپدی کو اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے احتجاج کیا۔جوتشی ویا س آئے تو انھوں نے بتایا کہ فی الحقیقت پانڈو اندر کا اوتار ہیں،جس کی بیوی نے دروپدی کے روپ میں جنم لیا ہے۔اس لیے یہ ایک دوسرے کے لیے لکھے جاچکے ہیں۔
مہارشی ویاس نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ ایک عورت نے شیو سے شوہر کی دعا کی تھی ، اور اپنے جوش میں ایک کے بجائے پانچ مرتبہ دعا کی تھی۔اس عورت نے اب دروپدی کے روپ مین جنم لیا تھا اور شیونے اس کی دعا قبول کرلی تھی۔ان کہانیوں سے مطمئن ہوتے ہوئے دروپد نے شادی کی منظوری دی۔

آپ کا کیاخیال ہے مصنف(مصنفین)نے ایک واقعے ہی کی تین توجیہیں کیوں بیان کی ہیں

شکل: 3.10

ہستناپورہ کی کھدائی میں دریافت ہوئی ایک دیوار
37

7 ۔ ایک متحرک تحریر

مہابھارت کا ارتقا سنسکرت روپ کے ساتھ رک نہیں گیا۔ صدیوں تک دوسری زبانوں کے بولنے پڑھنے والوں اور لکھنے والوں کے درمیان ایک متواتر گفتگو یا خیالات کے لین دین کے ساتھ اس رزمیہ کے متعدد لسانی روپ تیار ہوتے رہے۔بہت سی کہانیاں، جو مختلف علاقوں اور خاص زمروں میں مقبول عام تھیں، وہ اس کے متن میں شامل ہوتی رہیں۔پھر ساتھ ہی ساتھ خودرزمیہ کی مرکزی کہانی بھی مختلف انداز میں دہرائی جاتی رہی۔ اس کے واقعات یا قصے سنگ تراشی اور مصوری وغیرہ کے ذرائع سے ظاہر کیے جاتے رہے۔ ان سے بہت سے محفلی فنون (پر فورمنگ آرٹس)کے تصورات کو ابھارنے کے لیے کافی وسیع میدان ملا–––ڈرامے، رقص اور دوسرے بیانیہ اور حکایاتی طریقے۔

رزمیہ کے واقعات کی باز گوئی یا اس کے نئے ڈرامائی روپ، اس کے خاص بیانیہ سے اخذ کر کے ایک تخلیقی عمل کی آمیزش کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ ہم مہابھارت کے ایک واقعے کی مثال لیتے ہیں جسے ہماری ہم عصر ایک ہنگامی ادیبہ مہاشو یتادیوی نے، جو ہر طرح کی زیادتیوں او رظلم وجبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی رہی ہیں، ایک نئے روپ میں پیش کیا ہے۔ اس خاص موقع پر انھوں نے مہابھارت کی خاص کہانی کے متبادل امکانات ظاہر کیے ہیں اور ان سوالات کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے جن پر سنسکرت متن خاموش ہے۔ سنسکرت متن میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح دریودھن نے پانڈووں کو مارڈالنے کے لیے لاکھ سے بنائے گئے ایک خصوصی گھر میں انھیں ٹھہراکر اور اسے آگ لگواکر تباہ کردینے کی سازش کا منصوبہ بنایاتھا۔اس سازش کے بارے میں جانکاری ملتے ہی پانڈؤں نے ایک سرنگ کھودی تاکہ ہر صورت میں وہاں سے بچ کر نکل سکیں۔پھر کنتی نے دعوت کا اہتمام کیا۔گوکہ دعوت میں شریک زیادہ تر افراد برہمن تھے مگر ان میں ایک ’نشاد‘ عورت اپنے پانچ بچوں سمیت بھی آئی۔جب وہ سب نشے میں چور ہوکر سونے کے لیے لیٹ گئے،تو پانڈؤوں نے گھر کو آگ لگادی اور وہاں سے نکل آئے۔جب ایک عورت اور پانچ بچوں کی لاشیں نظرآئیں تو لوگوں کو خیال ہوا کہ پانڈو مرگئے۔مہا شویتا دیوی نے اپنی مختصر کہانی’کنتی ونشادی‘ میں کہانی کے بیان کو وہاں سے شروع کیا جہاں مہابھارت نے اسے چھوڑا ہے۔انھوں نے اپنی کہانی ایک جنگل میں رکھی ہے جہاں جنگ کے بعد کنتی پہنچتی ہے۔اس وقت کنتی کے پاس پچھلے واقعات پر نگاہ ڈالنے کا وقت ہے،چنانچہ زمین جسے قدرت کی علامت کے طور پر رکھا گیا ہے اس سے باتیں کرتے ہوئے کُنتی بعض بعض موقعوں پر اپنے خیال میں اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتی ہے۔ہر روز وہ نشادوں کو دیکھتی ہے جووہاں لکڑیاں،شہد،زمین دوز پھل،اور جڑیں اکٹھا کرنے آتے ہیں۔ایک نشادی(عورت) کبھی کبھی کنتی کو زمین سے باتیں کرتی سنتی تھی۔ایک روز جب ہوا میں کچھ عجیب سنسناہٹ سی تھی،جانور جنگل چھوڑ کر بھاگ رہے تھے،کنتی نے دیکھا کہ نشادی اسے برابر دیکھے جارہی ہے۔پھر جب وہ بولی اور اس سے پوچھا کہ کیا اسے وہ لاکھ کا بنا گھر یاد ہے تو وہ چونک پڑی۔’ہاں‘کنتی نے کہا:اسے یاد ہے۔کیا اسے چھوٹے پانچ بیٹوں کے ساتھ ایک ادھیڑ سی عورت بھی یاد ہے؟اور کیا یہ بھی یاد ہے کہ وہ انھیں اس وقت تک شراب پلاتی رہی تھی جب تک وہ نشے میں چور ہو کر بے ہوش نہیں ہوگئے تھے۔اور پھر وہ خود اپنے بچوں سمیت بچ کر نکل آئی تھی؟وہ نشادی …’’تو،تو نہیں تھی!‘‘کنتی نے حیرت سے پوچھا۔نشادی نے جواب دیا،جو عورت وہاں مری وہ اس کی ساس رہی تھی۔اس نے یہ بھی کہا کہ جب کنتی اپنے گزرے واقعات کو یاد کرتی تھی تو اس نے ایک بار بھی ان چھ معصوموں کے بارے میں نہیں سوچاجو صرف اس لیے ختم ہوگئے کہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو بچانا چاہتی تھی۔جب یہ دونوں باتیں کررہی تھیں تو بھڑکتے شعلے قریب آگئے۔نشادی بھاگ کر محفوظ جگہ پہنچ گئی مگر کنتی وہیں بیٹھی رہی جہاں وہ تھی۔

گفتگو کیجیے:

اس باب میں مہابھارت سے دیے گئے اقتباسات کو ایک بار پھر پڑھیے۔ان میں سے ہر ایک کے بارے میں گفتگو کیجیے کہ کیا یہ لفظ بلفظ حقیقی تھے؟ان متنوں کے ماہرین ہمیں ان کے بارے میں کیا بتاتے ہیں جنھوں نے ان کی تالیف کی تھی؟وہ ان لوگوں کے بارے میں کیا بتاتے ہیں جنھوں نے اس رزمیہ کو لازمی طورپر پڑھا یا سنا ہوگا؟

ٹائم لائن 1

اہم متنی روایات

 پانینی کی اشٹھ ادّھیائے سنسکرت قواعد پر ایک تالیف تقریباً500قبل مسیح 
 بنیادی دھرم سوتر(سنسکرت میں)  تقریباً500—200قبل مسیح 
 ابتدائی بودھ متن بشمولیت تری پتاکا(پالی میں)  تقریباً500—100قبل مسیح  
 راماین اور مہابھارت (سنسکرت میں)  تقریباً500قبل مسیح— 400عیسوی  
منوسمرتی(سنسکرت)؛تمل سنگم ادب کی تصنیف اور ترتیب تقریباً200ق م— 200عیسوی  
چرک اور سوشروتا سمہتا طب پرتصنیفات(سنسکرت میں) تقریباً100عیسوی 
  پورانوں کی ترتیب(سنسکرت میں) تقریباً200عیسوی اورآگے
بھرت کی ناٹیہ شاستر—فن ڈراما پر نظریاتی تصنیف(سنسکرت میں)  تقریباً300عیسوی
دوسرے دھرم شاستر(سنسکرت میں تقریباً300—600عیسوی 
سنسکرت ڈرامے بشمولیت کالی داس کی  تصنیفات۔علم فلکیات اور ریاضی پر تصنیفات  ،بشمولیت آریہ بھٹ ّاوروراہا مہیر(سنسکرت میں)جین تصنیفات کی ترتیب (پراکرت میں تقریباً400—500عیسوی    

ٹائم لائن  2

مہابھارت کے مطالعے میں اہم تاریخی موڑ

                                                                                    بیسوی صدی
مہابھارت کے تنقیدی ایڈیشن کی تیاری اور اشاعت 
66-
1919

جے۔اے۔بی ۔وان بیوٹی نین  (J.A.B. Van Buitenen)
اس تنقیدی ایڈیشن کا ترجمہ انگریزی میں شروع کرتا ہے۔1978میں اس کی موت کے بعد نامکمل رہ جاتا ہے۔
1973
                      —

100—150لفظوں میں جواب لکھیے

1۔واضح کیجیے کہ ’پدرنسبی‘ طریقہ اشرافیہ یا اعلا خاندانوں میں خاص طور پر کیوں اتنی اہمیت کا حامل رہا ہوگا؟
2۔بیان کیجیے کہ کیا ابتدائی حکومتوں میں بادشاہ بلا استثناکھتری ہوتے تھے؟
3۔درونا،ہدمبا اور ماٹنگ کی کہانیوں میں بیان کیے گئے ’دھرم‘یا معیاروں کا موازنہ اور مقابلہ کیجیے۔
4۔بودھ نظریہ’سماجی معاہدہ‘ پوروش سوکت‘ کی بنیاد پر اخذ کردہ برہمنی سماجی نظریہ سے کس طرح مختلف تھا؟
5۔نیچے مہابھارت سے ایک اقتباس دیا جارہا ہے جس میں پانڈوؤں میں سب سے بڑا بھائی یودھیشٹر ایک پیغامبر سنجیے سے کہتا ہے۔
سنجیے، دھرت راشٹر کے گھر کے تمام برہمنوں خصوصاً سب سے بڑے پجاری کو بڑے احترام سے میرا سلام پہنچانا۔ میں گوروٗ درونا کے آگے احترام سے سرجھکاتاہوں…میں اپنے اتالیق کرپا کے پیر پکڑتا ہوں …(اور)کوروؤں کے سردار بھیشم کے۔میں احترام سے بوڑھے بادشاہ (دھرت راشٹر) کے سامنے سرجھکاتا ہوں۔میں دریودھن اور اس کے چھوٹے بھائی کو سلام کرتا ہوں اور ان کی صحت کے بارے میں پوچھتا ہوں…تمام چھوٹے کوروؤں کو بھی جو ہمارے بھائی، بیٹے اور پوتے ہیں ہمارا سلام پہنچانا…سب سے زیادہ اسے سلام کرنا،جو ہمارے لیے باپ اور ماں جیسا ہے،دانا وِدوٗر(جو غلام عورت کا بیٹا تھا)…میں ان بزرگ خواتین کے سامنے سرجھکاتا ہوں جو ہماری مائیں مانی جاتی ہیں۔ان سے جو ہماری بیویاں ہیں یہ کہنا،’’مجھے امید ہے تم اچھی محفوظ ہوںگی‘‘…ہماری بہوؤں کو جو اچھے خاندانوں میں پیدا ہوئی ہیں اور بچوں کی مائیں ہیں انھیں میری طرف سے سلام کہنا۔میری طرف سے انھیں گلے لگانا جو ہماری بیٹیاں ہیں…حسین،مہکتی ہوئی،خوش پوشاک ہماری داشتاؤں کو بھی تمھیں  سلام پہنچانا چاہیے۔غلام عورتوں کو اور ان کے بچوں کو سلام کہنا۔بوڑھوں کو   معذوروں کو(اور)مجبوروں کو سلام کہنا...۔
ا س فہرست کو ترتیب دینے میں جو معیار مقرر کیے گئے انھیں پہچاننے کی کوشش کیجیے۔عمر،صنف،قرابتی رشتوں کے اعتبار سے۔کیاان کے علاوہ بھی معیار ہیں؟ان کے متعلق بتائیں کہ انھیں اس مخصوص مقام پر کیوں رکھا گیا ہے؟

ان عنوانات پر ایک مختصر مضمون لکھیے

(کم وبیش 500لفظوں کا)

مہابھارت کے بارے میں ہندوستانی ادب کے ایک مورخ مارس ونٹرنٹز(Maurice Winternitz)نے لکھاتھا:’’صرف اس و جہ سے کہ مہابھارت ایک مکمل ادب کی زیادہ ترجمانی کرتا ہے…اور اتنی مختلف چیزوں کو اور اتنی مقدار میں اپنے اندر رکھتی ہے…(یہ)ہمیں ہندوستانی عام لوگوں کی روح کی انتہائی گہرائیاں دیکھنے(اور سمجھنے)کا موقع فراہم کرتی ہے۔‘‘بحث کیجیے۔

۔7 بحث کیجیے کہ کیا مہابھارت کسی ایک مصنف کی تصنیف ہوسکتی ہے۔

ابتدائی معاشروں میں صنعتی فرق کتنی اہمیت رکھتے تھے۔اپنے جواب کے وجوہات بتائیے۔
اس شہادت پر بحث کیجیے جس سے احساس ہوتا ہے کہ قرابت داری اور شادی کے سلسلے میں برہمنوں کے بتائے طریقے ہمہ گیر سطح پر نہیں اپنائے جاتے تھے۔

نقشے کا کام

10۔ اس باب کے نقشے کا موازنہ باب2کے نقشہ 1سے کیجیے۔کورو۔پنچالا علاقوں کے قریب واقع مہاجن پدوں اور شہروں کی فہرست بنایے۔

منصوبہ):کوئی ایک)

11۔ دوسری زبانوں میں مہابھارت کی بازگوئی(دوبارہ کہانی کہنا) کے بارے میںمعلومات فراہم کیجیے۔اس باب میں بیان شدہ متن کے کسی واقعے کو ان زبانوں میں کس انداز میں بتایا گیا ہے ان مماثلتوں یا فرق کو بیان کیجے جو آپ ان میں محسوس کرتے ہیں

:اگر آپ کو اور مطالعہ کرنا ہے تو پڑھیے

Uma Chakravarti. 2006
Everyday Lives, Everyday Histories, Tulika, New Delhi

Iravati Karve. 1968
Kinship Organisation in India.
Asia Publishing House, Bombay

R.S. Sharma. 1983
Perspective in Social and Economic History of Early India
Munshiram Manoharlal, New Delhi

V.S.Sukthankar. 1957
On The Meaning of the Mahabharata.
Asiatic Society of Bombay, Bombay

Romila Thapar.2000.
Cultural Pasts: Essays in Early Indian History
Oxford University Press, New Delhi

مزید معلومات کے لیے آپ دیکھ سکتے ہیں

http://bombay.indology. info/mahabharata/statement. html