انیسویں صدی کے یوروپی لوگ سانچی کے استوپ میں بڑی گہری دلچسپی لے رہے تھے،بلکہ فرانسیسیوں نے تو سب سے محفوظ حالت والے بت مشرقی دروازے کو یہاں سے لے جاکر فرانس کے میوزیم میں سجانے کی اجازت کی درخواست بھی شاہجہاں بیگم سے کی تھی۔کچھ عرسے تک کچھ انگریز بھی یہی کرنا چاہتے تھے،مگر خوش نصیبی سے دونوں،فرانسیسی اور انگریز،اس کی بہت احتیاط سے تیار کی گئی پلاسٹر کا سٹ،نقلوں سے ہی مطمئن ہوگئے اور اصلی دروازہ اپنے مقام پر ہی رہا،جو ریاست بھوپال کا حصہ تھا۔
بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم اور ان کی جانشین سلطان جہاں بیگم نے اس قدیم تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے روپیہ دیا۔ظاہر ہے،پھر اگر جان مارشل نے سانچی پر اپنی اہم کتابوں کو سلطان جہاں سے معنون کیا تو کوئی حیرت نہ ہونی چاہیے۔انھوں نے ان جلدوں کی اشاعت کے لیے بھی مالیت فراہم کی۔اس لیے اگر استوپ کا مکمل علاقہ اب تک باقی اور محفوظ ہے تو اس میں کچھ بروقت دانشمندانہ فیصلوں،ریلوے ٹھیکیداروں کی نظر بدسے محفوظ رہ جانے اور ان لوگوں کی دست برد سے بچے رہنے کی خوش نصیبی کو کچھ کم دخل نہیں ہے جو یہاں کی ہردریافت کو یوروپ کے میوزیم کی زینت بنانے کے لیے یہاں سے لے جانا چاہتے تھے۔اہم ترین بدھ مراکز میں سے ایک مرکز ہوتے ہوئے سانچی نے ابتدائی بدھ مت کے بارے میں ہماری سمجھ اور فکر میں بڑی تبدیلی پیدا کردی ہے۔آج یہ آثار آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کی بنیادی آثار قدیمہ بازیافت اور تحفظ کی کامیابی کے ایک واضح ثبوت کے طورپر وہاں موجود ہیں۔

مگر اس قدیم یادگار کی اہمیت کیا ہے؟یہ ٹیلا(ماؤنڈ)کیوں بناتھا،اس میں کیا رکھا گیا تھا؟اس کے چاروں طرف پتھر کا جنگلاکیوں ہے؟کس نے اس پورے علاقے کو تعمیر کروایا یا کس نے اس کے اخراجات ادا کیے؟اس کی ’بازیافت‘کب ہوئی؟ہم سانچی پر ایک کافی دلچسپ اور پرکشش کہانی اب دوبارہ بُن سکتے ہیں،مگر اس کے لیے ہمیں متنوں،بت تراشی کے نمونوں،طرزتعمیر اور کتبوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرنا پڑے گا۔ہم ابتدائی بدھ روایات کے پس منظر کی تلاش سے اس کی ابتدا کرتے ہیں۔
گفتگو کیجیے
شاہجہاں بیگم نے جو کچھ بیان کیا ہے ، اور جو آپ شکل 4.3 میں دیکھ رہے ہیں ‘ اِن کا موازنہ کیجیے۔ آپ کو اِن میں کیا مماثلتیں اورفرق نظر آتے ہیں ؟
2۔ پس منظر
قربانیاں اور مباحثے
قبل میں پہلے ہزارے کے درمیانی حصے کو عام طورپر انسانی تاریخ کا ایک اہم موڑ مانا جاتا ہے۔اس دور میں ہمیں مفکرین ابھرتے نظر آتے ہیں جیسے ایران میں زرتشت (Zarathustra) چین میں کونگ زی،سقراط،افلاطون،اور ارسطویونان میں؛اورمہاویر اورگوتم بدھ ہندوستان میں۔ انھوں نے وجود کے رازوں یا پہیلیوں اور بنی نوع انسان اور نظام کائنات کے درمیان رشتوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔یہی وہ وقت تھا جب وادی گنگامیں (باب2۔3)نئی نئی حکومتیں اور شہر ابھر رہے تھے اور مختلف طریقوں سے وہ لوگوں کی سماجی اور معاشی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔ ان مفکرین نے اس ارتقا اور ان تبدیلیوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔
2.1قربانی کی روایت
کچھ پہلے سے قایم فکری روایتیں،مذہبی عقایداورعمل چلے آرہے تھے جن میں ابتدائی ویدی روایات بھی شامل تھیں،جو رگ وید سے ماخوذ تھیں جسے تقریباً1500سے 1000قبل میں نظم کیا گیاتھا۔رگ وید مختلف قسم کے دیوتاؤں کی تعریفی مناجاتوں(بھجن) پر مشتمل ہے جن میں خصوصی طور پر اگنی،اندر اور سوم شامل ہیں۔ان میں سے بہت سی مناجاتوں کو قربانی ادا کرنے کے دوران دوہرایا جاتا تھا اور لوگ مویشیوں ،بیٹوں،اچھی صحت ،طویل عمروغیرہ کے لیے دعائیں مانگتے تھے۔
شروع میں قربانیاں اجتماعی ہوتی تھیں۔کچھ بعد میں(تقریباً1000سے500قبل مسیح اورآگے)کچھ قربانیاں خاندان کے سربراہ پوری گھریلواکائی کی خوشحالی اور بہتری کے لیے ادا کرنے لگے۔اس سے زیادہ باضابطہ منظم قربانیاں،جیسے’را جہ سوٗیا‘اور ’اَشومیدھ‘سردار اور بادشاہ کروایا کرتے تھے جو ان رسوم کی ادائیگی کے لیے برہمن پجاریوں پر منحصر رہتے تھے۔
2.2نئے سوالات
اپنشدوں میں پائے جانے والے بہت سے تصوّرات(تقریباً چھٹی صدی قبل اورآگے)سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ زندگی کے معنوں یا مقصد،موت کے بعد زندگی کا امکان،دوسرے جنم جیسے مسائل کے لیے متجسس تھے۔کیا موجودہ زندگی پچھلے عملوں کی و جہ سے ہے؟ایسے سوالات پر جوش وخروش
اگنی سے ایک پرارتھنا
اگنی سے ایک پرارتھنا یہ رگ وید کے دو اشلوک ہیں جو آگ کے دیوتا کے لیے دعائیں ہیں۔ اس دیوتا کے سامنے قربانیاں پیش کی جاتی تھیں تاکہ دوسرے دیوتاؤں تک پہنچاجاسکے ؛ ’’ پیش کردے ۔ اے طاقتور !ہماری اس قربانی کو دیوتاؤں کے سامنے ۔ اے وہ کہ جو دانشمند ہے ، دینے میں فراخ دل ہے ۔ ہمیں عطا کر ‘ اے پجاری ! وافِر غذا ۔اے اگنی ، حاصل کر قربانی سے ہمارے لیے زبردست دولت حاصل کرلے ، اے اگنی؛ سدا بہار ‘ اس کے لیے جو تیری پوجا کرے غذا ( کا تحفہ ) ، لا جواب گائے : اولاد ، جو ہماری نسل آگے بڑھائے ۔۔۔
اس قسم کے اشلوک خاص قسم کی سنسکرت میں نظم کیے گئے تھے ۔ انہیں پجاری خاندانی کے لوگوں کو زبانی یاد کرایا جاتا تھا ۔
قربانی کے مقاصد کی فہرست بنایے۔
سے بحث جاری تھی۔مفکرین آخری یا مجرد حقیقت کو سمجھ لینے اور بیان کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ دوسرے ،ویدی روایتوں سے باہر والے،پوچھتے تھے کہ کوئی واحد اور حتمی حقیقت ہے بھی یا ہے ہی نہیں!لوگوں نے قربانی کی روایت پر بھی قیاس آرائیاں شروع کردی تھیں۔
2.3مباحثے اور بات چیت
ہمیں بودھ متنوں سے گرم مباحثوں اور پرجوش گفت وشنید کی جھلک ملتی ہے۔ان متنوں میں64مسلکوں یا مکتب فکر کا ذکر ملتا ہے۔استاد یا گورواپنے فلسفے کی صداقت،یاجس انداز میں وہ دنیا کو سمجھتے تھے،اسے ایک دوسرے کو باور کرانے اور عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے جگہ جگہ کا سفر کرتے تھے۔’کٹاگرہ شالا‘—لفظی معنوں کے اعتبار سے ایک نکیلی چھت والی جھونپڑی—یا باغوں میں بحثیں منعقد ہوتی تھیں۔انھیں باغوں میں مسافر اور راہب ٹھہرا کرتے تھے۔اگر کوئی فلسفی اپنے مد مقابل کو ہم رائے یا متفق کرنے میں کامیاب ہوجاتا تھاتو مؤخر الذکر کے ماننے والے بھی اس کے شاگرد ہوجاتے تھے۔اس طرح کسی مسلک کی حمایت کا دائرہ وقتاً فوقتاً پھیلتا سکڑتا رہتاتھا۔
ان میں سے بہت سے گوروؤں نے جن میں مہاویر اور بدھ دونوں شامل تھے،ویدوں کی سندیاکُلّی اختیار پر سوال اٹھائے تھے۔وہ انسان کی اپنی ذاتی شخصیت پر بھی زور دیتے تھے۔یعنی مرد یا عورت اپنے اس دنیا وی وجود کی کشمکشوں اور صعوبتوں سے مکتی پالینے کی کوشش کرسکتے تھے۔ظاہر ہے یہ برہمنی موقف سے بالکل متضاد صورت حال تھی،جس میں فرد کا وجود اس کی مخصوص ذات یا صنف پر منحصر مانا جاتا تھا۔
۔ 3دنیاوی خوشیوں سے پرے
جینیوں کا فلسفہ شمالی ہندوستان میں وردھمان کی پیدائش سے پہلے ہی جنھیں مہاویر کے نام سے جانا جاتاہے۔ چھٹی صدی قبل مسیحی دور میں موجود تھا۔جین روایات کے مطابق مہاویر سے پہلے23گورو گزرچکے تھے جنھیں’تیرتھنکر‘کہاجاتاہے،جس کے لفظی معنی ہیں وہ لوگ جو مرد اور عورتوں کی دریائے وجود کے پار رہنمائی کرتے ہیں۔
جین مت میں سب سے اہم تصور یہ ہے کہ پوری دنیاوحسّ حیات معمور ہے: پتھروں، چٹانوں، یہاں تک کہ پانی میں بھی زندگی ہے۔ذی حیات چیزوں کو اذیت نہ دیناجین فلسفے کا مرکزی نکتہ ہے۔خصوصاً انسانوں،جانوروں،پودوں اور حشرات الارض کو۔یہ حقیقت ہے کہ جین مت کے بنیادی تصور، اہنسا‘ نے ہندوستان کی مجموعی فکر پر اثر چھوڑا ہے۔جین تعلیمات کے مطابق جنم اور دوبارہ جنم یا آواگون کا یہ چکّر ’کرم‘کی بنیاد پر چلتا ہے۔
’کرم ‘کے اس چکر سے چھٹکارا پانے کے لیے ترک لذات اور کفارے کو اپنانا ہوتا ہے۔اور یہ صرف دنیا کو تج دینے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس لیے مکتی یا نجات کے لیے راہبانہ زندگی ضروری ہے۔جین راہب اور راہبائیں پانچ وچن لیتے تھے: قتل سے بچنا،چوری اور جھوٹ سے بچنا،تجردیا برہمچریہ اپنانا،اور ملکیت رکھنے سے بچنا۔
رفتہ رفتہ جین مت ہندوستان کے بہت سے حصوں میں پھیل گیا۔بودھوں کی طرح جین عالموں
مہاویر کا پیغام
اپنشد کے اشلوک
نیچے چھندوگیہ اپنشد سے دو اشلوک دییے جارہے جس کا متن تقریباً چھٹی صدی قبل میں نظم ہوا تھا ۔
اپنے وجود کی ماہیت
میرے دِل میں میرا یہ وجود ، دھان ، جوَ، سرسوں یا باجرے ، یا بیج کے چھلکے سے بھی چھوٹا ہے ۔ میرے دل میں میرا یہ وجود اِس زمین سے بڑا ہے ، اِس درمیانی خلا سے بڑا ہے، اس آسمان سے بڑا ہے اور اِن دنیاؤں سے بڑا ہے ۔
سچی قربانی
یہ ( ہوا )جو چلتی ہے ، یقینا یہ ایک قربانی ہے ۔۔۔ یہ جب چلتی ہے تو ان سب کو پاک کردیتی ہے : اس لیے یقینا یہ قربانی ہے ۔
بودھ متن کس طرح تیار ہوئے اور محفوظ کیے گئے ؟
بُدھ( اور دوسرے گورو) زبانی پڑھاتے تھے — گفتگو اور مباحثوں کے ذریعے مرد اور عورتیں ( شاید بچے بھی ) ان جلسوں میں شریک ہوئے اور جو کچھ سنتے اس پر گفتگو کرتے ۔ بدھ کی کوئی تقریر ان کی زندگی میں نہیں لکھی گئی ۔ اُن کی موت ( تقریباً پانچویں ۔چوتھی صدی قبل ) کے بعد اُن کے شاگردوں میں’ بزرگوں ‘ یا سینئر راہبوں کی ایک کونسل نے ویسالیؔ ( آج کے بہار میں ویشالی کی جگہ پالی )’ ٹپی ٹاکا ‘ —لفظی معنی : ’ تین ٹوکریاں تین مختلف متنو ں کو اُٹھانے کے لیے‘ منتقل کی جاتی تھیں ۔ پھر انہیں لکھ کر ان کی طوالت اور اِن میں شامل موضوع و مواد کے اعتبار سے تقسیم کیا جاتا تھا ۔
’ وِنا یا پِٹک ’ سنگھ ‘ یا خانقاہی تنظیم میں داخل ہونے والوں کے لیے قواعد و ضوابط شامل کیے گئے تھے ۔ بدھ کی تعلیمات کو ’ سُتّ پِٹک رکھا گیا تھا اور ’ اَبھی دھّما پِٹک کائیں فلسفیامواد اکٹھا کیا گیا تھا ۔ ہر ایک ’ پِٹک ‘ متعدد الگ الگ متنوں پر مشتمل تھی ۔ بعد میں اِن متنوں پر بودھ علماء نے توضیحیں اور تفسیریں لکھیں۔
جیسے جیسے بدھ مت سری لنکا جیسے نئے علاقوں میں پہنچا دوسرے متن ‘ جیسے ’ دیپا و مَسا‘ ( لفظی معنی جزیرہ کا روزنامچہ ) اور مہاوَمسا‘ ( عظیم روزنامچہ ) لکھے گئے ۔بدھ کی سوانح حیات بھی شامِل ہوئی تھی ۔ اِن میں کچھ سب سے پرانے متن پالی میں ہیں ، لیکن بعد کی تالیفات سنسکرت میں ہیں ۔
جب بدھ مت مشرقی ایشیا میں پہنچا تو وہاں سے بہت سے یاتری — جیسے چین سے فاسیان اور زوان رنگ متنوں کی تلاش میں ہندوستان آئے ۔ یہ لوگ ان متنوں کو لے گئے اور ان کا عالموں نے ترجمہ کیا ۔ ہندوستانی بودھ عالموں نے بھی دور دراز مقامات کا سفر کیا اور بدھ کی تعلیمات کا ان متنوں کے توسط سے پرچار کیا ۔
صدیوں تک بودھ متن ایشیا کے مختلف حصوں کی خانقاہوں میں حفاظت سے رکھے رہے ۔ اِن متنوں کے جدید ترجمے پالی‘ سنسکرت ، چینی اور تبتی زبانوں سے کیے گئے ہیں ۔

شکل 4.4 سنسکرت میں ایک بودھ مخطوطہ ۔ تقریباً بارھویں صدی
جبریت کے معتقد اور مادّہ پرست
نیچے ’ سُتّ پٹِک ‘ کا ایک اقتباس دیا جارہا ہے ‘ جس میںمگدھ کے بادشاہ ’ اَ جاتؔ شترو اور بدھ کے مابَین ایک گفتگو کا بیان ہے :
ایک بار بادشا اَجات شترو بدھ سے ملنے آیا اور ان سے ایک اور گورو‘ مَکھاّیی گوساؔلا کی بتائی ہوئی بات بیان کی ۔
’’ گوکہ اَس میں نیکی سے ، سمجھدار شخص کو امید رکھنی چاہیے …اس کفارے سے مجھے کرم حاصل ہوجائے گا…اور اسی ذریعہ سے ایک سمجھ کو توقع کرنی چاہیے کہ وہ رفتہ رفتہ اس ’ کرم ‘ سے چھٹکارا پاجائے گا ، مگر ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کرسکتا ۔ راحت و رنج، جیسے یہ ہیں : سمسارا ‘ ( آواگون ) کے دوران بدلے نہیں جاسکتے ۔ نہ یہ کم کیے جاسکتے ہیں نہ بڑھائے جاسکتے ہیں ۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے دھاگے کے گولے کا چال ہوگا اگر اسے آخر تک کُھلنے کے لیے چھوڑدیا جائے ، اِسی طرح سمجھ دار اور ناسمجھ دونوں یکساں طور پر اپنے اپنے راستے پر لگے رہیں گے اور دکھ پر خاتمہ ہوگا ‘‘ ۔
اور ایک فلسفی کیساؔ کمبالن نے جوکچھ بتایا وہ اس طرح ہے : ’’ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، اے بادشاہ ، بھیک ، قربانی یا ‘ چڑھاوے ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں جیسے ’ یہ دنیا ‘ یا ’ اگلی دنیا ۔۔۔‘‘
انسان چار عناصر سے بنا ہے ۔ جب وہ مرتا ہے تو اس کا زمینی حصہ زمین کی طرف پلٹ جاتا ہے ، سیال حصہ پانی کی طرف ، حرارت آگ کی طرف اور ہوائی ( یا بادی حصہ ) ہوا کی طرف اور اس کی حِسّ خلاء میں پہنچ جاتی ہے ۔۔۔تحفوں ( چڑھاووں ) کی بات ناسمجھوں کا اصول ہے ۔ ایک کھوکھلا جھوٹ ۔۔۔ناسمجھ اور سمجھدار دونوں یکساں طور پر اچانک اُٹھالیے جاتے ہیں اور فنا ہو جاتے ہیں ۔ یہ موت کے بعد باقی نہیں رہے۔‘‘
پہلا استاد اَجیوَکوں کی روایت سے تعلق رکھتا تھا ۔ انہیں عام طور پر جبر کے عقیدے کا قائل کہا جاتا ہے ۔ یعنی وہ لوگ جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہر چیز پہلے سے لکھی جاچکی ہے۔ دوسرا گورو لوکایتوں کی روایت کا معتقد تھا ، جنھیں عام طور پر ’ مادّہ پرست ‘ مانا جاتا ہے ۔ اِن روایتوں کے متن باقی نہیں رہے ہیں ۔اس لیے ہم اِن کے بارے میں صرف دوسری روایتوں کے توسط کچھ جانتے ہیں
کیا آپ کے خیال میں اِن لوگوں کو ’ جبریت کے معتقد ‘ یا ’ مادّہ پرست ‘ کہنا مناسب ہے ؟
گفتگوکیجیے:
جب کہ متن دستیاب نہ ہوں یا باقی نہ بچے ہوں۔ ایسی حالت میں تصّورات اور عقائد کی تاریخیں بنانے میں کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں؟
شکل 4.5
متھرا سے ایک تیر تھنکر کی مورتی تقربیاً بیسوی صدی
محل سے دور زندگی
جس طرح بدھ کی تعلیمات کو ان کے پیرووں نے مدوّن کیا ، اسی طرح مہاویر کی تعلیمات کو بھی اُن کے شاگردوں نے مرتب کیا ۔ عام صورتوں میں یہ کہانیوں کے روپ میں ہوتی تھیں تاکہ یہ عام لوگوں کی توجہ اور دلچسپی حاصل کرسکیں ۔ نیچے ایک مثال دی جارہی ہے اسے اُتّرادھیان سُتّ ‘ نامی پالی متن سے اخذ کیا گیا ہے ۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح کملاوتیؔ نامی ایک رانی نے اپنے شوہر کو دنیا کو تج دینے پر راضی کیا :
اگر ساری دنیا اور اس کے سارے خزانے بھی تمہارے ہوجائیں تب بھی تمھیں سیری نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ تمھیں بچالینے میں کامیاب ہوں گے ۔ جب تم مروگے ، اے راجا ، اور یہ سب کچھ پیچھے چھوڑجاؤگے اس وقت صرف ’دھمّہ ‘ ہی تمھیں بچائے گا ، اور کچھ نہیں ۔ جیسے کسی چڑیا کو پنجرہ اچھا نہیں لگتا ، مجھے بھی ( یہ دنیا ) پسند نہیں ہے ۔ میں راہبوں کی زندگی گزاروں گی ، بغیر اولاد کے ، بغیر خواہش کے ، بغیر منافع ( حصول ) سے محبت کے ، بغیر نفرت کے ۔۔۔
وہ جنھوں نے خوشیاں یا راحت حاصل کرکے انہیں تج دیا ہے ، وہ ہوا کی طرح ( آزاد ) پھرتے ہیں ، اور جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں ، بے روک ٹوک ، جیسے چڑیا اپنی اڑان میں۔۔۔
اپنی بڑی حکومت چھوڑدو ۔۔۔ جو تمہارے حواس کو لذت پہنچائے اسے تج دو۔ بے لوث اور بے ملکیت ہو جاؤ، پھر شدید کفارہ کے کام کرو ، اپنی طاقت پر مضبوطی سے جمے ہوئے ۔۔۔
رانی کی دی ہوئی دلیلوں میں کون سی دلیلیں سب سے زیادہ قائل کرنے والی ہیں
گفتگو کیجیے
کیا اکیسویں صدی میں ’اہنسا‘ مناسبت رکھتی ہے ؟
شکل 4.6
چودھویں صدی کے جین مخطوطے کا ایک صفحہ کیا آپ رسم الخط پہچان سکتے ہیں ؟
’ہیگیو گرافی(Hagiography)سادھو سنتوں یا مذہبی رہنماؤں کی سوانح ہوتی ہے۔یہ سوانح عام طور پر اس سنت کی کامیابیوں کی قصیدہ خوانی کرتی ہیں اور ضروری نہیں کہ لفظ بہ لفظ صحیح ہوں۔یہ اس لیے اہم ہوتی ہیں کہ ان سے اس مخصوص روایت کے پیروکاروں کے عقاید کا علم حاصل ہوتا ہے۔
4 ۔ بدھ اور گیان کی تلاش
اپنے دور کے سب سے مؤثر گورو بدھ تھے۔صدیوں تک ان کا پیغام پورے برّصغیر میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک اور اس سے آگے بڑھ کر وسط ایشیا سے گزرتا ہوا چین،کوریا اور جاپان،اورسری لنکا کے توسط سے سمندر پار میانمار،تھائی لینڈ اور انڈونیشیا تک گردش کرتا رہا۔
ہم بدھ کی تعلیمات کے بارے میں کن ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ان کی تشکیل تو متذکرہ بالا بودھ متنوں کے ترجمے،تجزیے اور بہت احتیاط سے ان کی ایڈیٹنگ کے بعد کی گئی ہے۔مؤرخین نے ان کی زندگی کی تفصیلات کا کاناکہ بنانے کے لیے’ہیگیوگرافیوں‘(مذہبی لوگوں کی سوانح عمریاں)سے بھی مدد لینے کی کوشش کی ہے۔ان میں سے زیادہ تر،اس عظیم گوروٗ کی یادگاری تفصیلات کو محفوظ کرنے کی کوشش کے طورپر،ان کے کم سے کم سوسال بعد لکھی گئی تھیں۔
ان روایات کے مطابق،سدھارتھؔ،جوان کی پیدائش پر ان کا نام رکھا گیا تھا،ساکیاخاندان کے سردار کے بیٹے تھے۔ان کی پرورش زندگی کی تلخ ترش حقیقتوں سے بالکل محفوظ محل کے پرسکون سائے میں ہوئی۔ایک دن انھوں نے اپنے رتھبان کو شہر لے جانے پر مجبور کیا۔دنیا میں ان کا یہ پہلا سفر خاصا دہشتناک رہا۔انھیں جب ایک بوڑھا،ایک بیمار،اور ایک لاش نظرآئی تو وہ بے حد پریشان ہوگئے۔اس وقت انھیں احساس ہوا کہ انسان کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ اور پھر بالکل خاتمہ ناگزیر ہے۔ انھوں نے ایک بے گھربھکاری کو بھی دیکھا جو،انھیں لگا،کہ بڑھاپے،بیماری اور موت کو تسلیم کرچکا ہے اور اس میں اسے سکون مل گیا ہے۔سدھارتھ نے طے کیا کہ وہ بھی یہ راستہ اختیار کرلیں گے۔جلدی ہی،انھوں نے محل چھوڑ دیا اور خود اپنی حقیقت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
سدھارتھ نے متعدد طریقے اپنائے جس میں اپنے جسم کو اذیت دینا بھی شامل تھا،جس سے وہ لگ بھگ موت کی حد تک پہنچ گئے۔ان شدید قسم کے طریقوں کو چھوڑ کر انھوں نے مراقبے کا طریقہ اپنایا اور آخر انھیں کئی دن بعد بصیرت یا گیان حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد سے وہ ’بدھ‘’بصیرت یافتہ‘کہلائے جانے لگے۔زندگی کا باقی حصہ انھوں نے’دھمّہ‘یا نیک زندگی ،کی تعلیم دینے میں گزارا۔

شکل 4.7
امراوتی ( آندھرا پردیش ) سے ( لگ بھگ دوسری صدی عیسوی ) بت تراشی نمونہ ۔ بدھ کا اپنے محل سے رخصت ہونے کا منظر
گفتگو کیجیے:
اگرآپ بدھ کی زندگی کے بارے میں نہ جانتے ہوتے تو کیا آپ بتا سکتے تھے کہ اس بُت تراشی نمونے میں کیا ظاہر کیا گیا ہے ؟
5۔بدھ کی تعلیمات
بدھ کی تعلیمات کی تشکیل بنیادی طورپر ’ستّ پِٹک‘میں پائی جانے والی کہانیوں سے کی گئی ہے۔حالانکہ کچھ کہانیوں میں ان کی معجز نما طاقتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے مگر دوسری کہانیوں سے اظہار ہوتا ہے کہ بدھ لوگوں کو اپنی مافوق الفطرت طاقتوں کے اظہار کے بجائے اپنی دلیلوں کے ذریعے اور سمجھا بجھاکر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مثال کے طورپر جب ایک غم کی ماری ماں،جس کا بچہ مر گیا تھا،ان کے پاس آئی تو انھوں نے اس کے بچے کو زندہ واپس لے آنے کے بجائے اسے موت کی ناگزیر صورت کا قایل کیا۔یہ کہانیاں لوگوں کی عام بول چال کی زبان میں بیان کی جاتی تھیں تاکہ انھیں آسانی سے سمجھا جاسکے۔
بدھ فلسفے کے مطابق دنیا عارضی یا فانی(اَنِکاّ)ہے اور ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔یہ بے روح’اَنِتّا‘بھی ہے کیونکہ اس میں کوئی چیز مستقل اور ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں ہے۔اس عارضی دنیا میں غم(دُکھ)انسان کے وجود کا فطری یا لازمی جُز ہے۔شدید کفارے اور عیش کوشی کے درمیان ایک معتدل راستے کو اپنا کر ہی بنی نوع انسان ان دنیاوی صعوبتوں سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔بدھ مت کی بالکل ابتدائی شکلوں میں خدا کے ہونے نہ ہونے کا سوال بے محل تھا۔
بودھ سماجی دنیا کی تشکیل کو اُلوٗہی بنیاد کی بجائے انسانی بنیاد پر مبنی مانتے تھے۔اسی لیے وہ بادشاہوں اور گہاپتیوں(باب2بھی ملاحظہ ہو)کو انسان دوستی اور اچھے اخلاق کا مشورہ دیا کرتے تھے۔انفرادی کوششوں سے سماجی رشتوں میں تبدیلی پیدا ہوجانا متوقع تھی۔
آؤگون کے چکر سے چھٹکارے،اورخود افروزی (اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا احساس)اور’نِبان‘۔لفظی معنی انا اور خواہش کو کچل ڈالنا۔ان کیفیتوں کے حصول کے لیے خود فرد کی اپنی صلاحیت اور کوشش اور نیک اعمال پر زور دیتے تھے—اسی سے ان لوگوں کے تکلیفوں اور بے چینیوں کے چکر کا خاتمہ ہو سکتا تھا،جو دنیا کو چھوڑ چکے ہوں۔بودھ روایتوں کے مطابق اپنے معتقدین سے ان کے آخری لفظ تھیـ’۔خود اپنے لیے چراغ بن جاؤ چونکہ تم سب کو اپنی مکتی کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔‘
بدھ مت: عملی روپ میں
یہ’ سُتّ پِٹک‘ سے ایک اقتباس ہے اور اس میں سِگالا نامی ایک دولت مند کو بدھ کے دیے ہوئے مشورے کو بیان کیا گیا تھا۔
پانچ طریقوں سے کسی مالک کو اپنے نوکروں اور خدمتگاروں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے ۔۔۔ ان کی طاقت کے مطابق اُن کو کام سونپ کر ‘ انہیں کھانا اور اُن کی تنخواہیں دے کر‘ بیماری کے وقت اُن کی خبر گیری کرکے ‘ لذیذ اور اچھے کھانوں میں انہیں شریک کرکے اور موقع بہ موقع انہیں چھٹی دے کر ۔۔۔
ہم قبیلہ لوگوں کی پانچ طریقوں سے ’ سا ماناؤں ‘ ( وہ لوگ جو دنیا کو ترک کرچکے ہیں ) اور برہمنوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہیے: عمل ‘ تقریر اور دماغ میں اُن کے لیے محبت رکھ کر ، اُن کے لیے گھر کُھلا رکھ کر اور اُن کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرکے ۔
سگالاؔ کے لیے ایسی ہی ہدایات ‘ اس کے والدین ، استاد اور بیوی کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں بھی ہیں ۔
بتایے، والدین ، استاد اور بیوی کے لیے کیا ہدایات ہوں گی ۔
گفتگو کیجیے
سگالا۔ کو دیے گئے بدھ کے مشورے اور اشوک کے اپنی رعایا کو دیے گئے مشورے کا موازنہ کیجیے ( باب ۔2 ) کیا آپ کو اِن میں کچھ مماثلتیں یا فرق محسوس ہوتے ہیں ۔
6 ۔ بدھ کے ماننے والے
جلدی ہی بدھ کے شاگردوں کا ایک اجتماع قایم ہوگیا اور انھوں نے ایک’سنگھ‘قایم کیا—یہ راہبوں کی ایک تنظیم تھی جو خود’دھمّہ‘کے استاد بن گئے۔یہ راہب بڑے سیدھے سادے انداز میں زندگی گزارتے تھے۔جینے کے لیے صرف لازمی چیزیں ان کی ملکیت ہوتیں—جیسے عام لوگوں سے دن میں ایک بار کھانا جمع کرنے کا پیالا۔چونکہ یہ لوگ خیرات پر زندگی گزارتے تھے اس لیے انھیں ’بھکچھو‘ کہاجاتا تھا۔
شروع شروع میں سنگھ میں شامل ہونے کی اجازت صرف مردوں کو تھی،پھر بعد میں عورتوں کو بھی اجازت دے دی گئی۔بودھ روایتوں کے مطابق یہ صورت بدھ کے عزیز ترین شاگردوں میں سے ایک آنند کی سفارش سے ممکن ہوسکی۔انھوں نے ہی بدھ کو عورتوں کو سنگھ میں شامل کرلینے پر راضی کرلیا۔بدھ کی سوتیلی ماں مہاپجاپتی گوتمی وہ پہلی عورت تھیں جنھیں’ ’بھکچھو‘ کا خطاب عطاکیاگیا۔’سنگھ‘میں داخل ہونے والی بہت سی عورتیں’دھمّہ‘کی استاد ہوئیں اور آگے پڑھ کر ’تھیرس‘بن گئیں۔یعنی وہ محترم خاتون جس نے ’مکتی‘حاصل کرلی ہو۔
بدھ کے معتقدین سماج کے مختلف درجوں یا حصوں سے آئے تھے۔ان میں بادشاہ ،دولت مند اور ’گہاپتی‘شامل تھے۔اس میں کمتردرجوں کے عام لوگ،کام گار،غلام،دستکار وغیرہ بھی شامل تھے۔جب ایک بار سنگھ میں داخل ہوگئے تو پھر سب برابر مانے جاتے تھے اور’ بھکچھو ‘ یا ’بھکچھونی‘ ہونے کے بعد وہ اپنی تمام پرانی سماجی شناختوں کو محو کردیتے تھے۔سنگھوں کی داخلی کارکردگی ’گاناؤں‘اور ’سنگھوں‘کی روایات پر مبنی تھی،جہاں گفت وشنید کے بعد اتفاق رائے حاصل کیا جاتا تھا۔اگر اتفاق رائے ممکن نہ ہوتا تو پھر اس مسئلے پر رائے شماری(ووٹ)کے ذریعے فیصلہ کیا جاتاتھا۔بدھ مت نے بدھ کی زندگی میں بھی اور ان کے بعد بھی بہت تیزی سے ترقی کی،کیونکہ یہ بہت سے ایسے لوگوں کے لیے تاثر اور دلکشی پیدا کرتا تھا جو اس وقت کی موجود مذہبی رسوم و عمل سے غیر مطمئن تھے اور اپنے ارد گرد رونما ہونے والی تیزرفتار سماجی تبدیلیوں سے پریشان تھے۔پیدائش کی بنیا دپر برتری کی بجائے فرد کے عمل اور اس کے اقدار کو دی جانے والی اہمیت،اور ’میتا‘(بھائی چارہ)اور’کرونا‘(دردمندی)پر زور،خصوصاًان لوگوں کے لیے جو عمر میں منصوبے میں کون کون سی خصوصیات سب سے صاف یا واضح ہیں؟عمودی حصّے میں کون کون سی خصوصیات کو سب سے بہتر دکھایاجا سکتا ہے؟

شکل 4.8
پانی لانے والی ایک عورت ‘ (متھرا) تقریباً تیسری صدی عیسوی دور
تھیری گاتھا
یہ ایک انوکھا بودھ متن ہے جو سُتّ پِٹک کا حصہ ہے ۔ یہ بھکّھونیوں کے نظم کردہ اشعار کا مجموعہ ہے ۔ یہ عورتوں کے سماجی اور روحانی تجربات پر نگاہ ڈالنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔
’ پُناّ ‘ ایک ’دامنی ‘ یا غلام ہر صبح اپنے مالک کے گھر کے لیے دریا سے پانی بھرنے جاتی تھی ۔ اُسے وہاں ہر روز ایک برہمن اشنان کی روایتیں پوری کرتا نظر آتا تھا ۔ ایک صبح اس نے برہمن سے بات کی ۔نیچے پُناّ اور برہمن کے درمیان مکالمے کو ،جسے پناّ نے نظم کیا ہے ، دیا جارہا ہے :
میں ایک پانی ڈھونے والی ہوں
سردیوں میں بھی
میں ہمیشہ دریا تک نیچے آتی رہی ہوں
سزا کے خوف سے
یا اعلا ذات کی عورتوں کے غضبناک لفظوں سے ( ڈرکر )
مگر برہمن ! تمہیں کاہے کا ڈر ہے ؟
جو تمہیں نیچے دریا تک لے جاتا ہے
( حالانکہ ) اس کڑکڑاتے جاڑے میں تمہارا جوڑ جوڑ کانپتا رہتا ہے ۔
برہمن نے جواب دیا ۔
میں بدی سے بچنے کے لیے نیکی کررہا ہوں ۔
کوئی بھی —بوڑھا یا جوان
جس نے کوئی بدی کی ہو
وہ پانی میں نہا کر چھٹکارا پالیتا ہے
پُنّانے کہا
یہ تمہیں کس نے بتایا کہ پانی سے دھوکر تم برائیوں سے پاک ہوجاؤگے؟
یوں تو سارے مینڈک اور کچھوے ، جنّت میں جائیں گے ، اور ایسے ہی پانی کے سانپ بھی ۔ اور گھڑیال۔۔۔!
( اس کے بدلے میں ) وہ کام ہی نہ کرو جس کا خوف تمہیں پانی کی طرف لے جائے
برہمن ٹھہرجاؤ!
اور اپنی کھال کو سردی سے بچاؤ
اس نظم سے بدھ کی کن کن تعلیمات کا اظہار ہوتا ہے ؟
بھکشوؤں اور بھکشنیوں کے لیے ضابطے(اُصول)
وِنایہ پِٹک میں تحریر کردہ قواعد اور ضوابط میں سے کچھ یہ ہیں
جب کوئی بھکچھو،کوئی نیا کمبل یادری تیار کرے گا تو وہ کم سے کم چھ سال تک رکھاجانا چاہیے۔اگر چھ سال کے خاتمے سے پہلے ہی وہ کوئی نیا عمدہ ،کمبل ،دری بنائے تو یہ خیال کیے بغیر کہ اُس نے پہلے ہی وہ کوئی ٹھکانے لگایا ہے یا نہیں تو سوائے اس صورت کے کہ بھکچھوؤں نے اُسے اس کی اجازت دے دی ہے—اُسے ضبط کرکے قبول کرلیاجائے۔
ایسی صورت میںکہ کوئی بھکچھو کسی خاندان کے رہائشی گھر پہنچے اور اُسے دوروٹیاں یا پکے ہوئے اناج کا کھانا پیش کیاجائے تو اگر وہ چاہے تو دوتین پیالے لے سکتاہے۔اگر وہ اس سے زیادہ قبول کرتا ہے تو یہ اس سے قبول کرلیاجاناچاہیے۔وہاں دوتین پیالے قبول کرکے اُنھیں وہاں سے لاکر اسے اس میں دوسرے بھکچھوؤں کو شریک کرنا چاہیے۔یہاں کا صحیح طریقہ یہی ہے۔
اگر کوئی بھکچھو کبھی ایسی رہائش گاہ میں جو سنگھ سے متعلق ہو وہاں بستر بچھائے—یا بچھانے کے بعد—روانگی کے وقت اُسے واپس نہیں رکھ سکتا یا نہیں رکھواتا،یا وہ بغیر اجازت چلاجاتا ہے تو اُسے قبول کیاجائے۔
کیا آپ وضاحت کرسکتے ہیں کہ یہ قاعدے کیوں بنائے گئے تھے؟
چھوٹے تھے یا کسی سے کمزور تھے،وہ خیالات یا خوبیاں تھیں جو بودھ تعلیمات کی طرف لوگوں کو کھینچتی تھیں۔
گفتگو کیجیے
آپ کے خیال میں داسی پُنّاسنگھ میں کیوں شامل ہونا چاہتی ہے۔
7 ۔استوپ
ہم نے دیکھا کہ بدھ تصورات اور عمل ،بہت سی دوسری روایات،جن میں برہمن اور جین اور کچھ ایسی روایت بھی شامل تھیں جن کے کوئی تحریری متن بھی نہیں تھے،ان کے درمیان خیالات کے لین دین یا عمل اور ردّ عمل کے ذریعے وجود میں آئے۔ایسے کچھ عمل اور رد عمل ان طریقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں جن کے توسط سے کچھ مقدس مقامات کی شناخت ہوئی۔
بالکل ابتدائی دور سے ہی لوگ کچھ مقامات کو مقدس ومحترم سمجھنے کا رجحان رکھتے تھے۔ان میں کچھ مخصوص پیڑوں کے مقامات یا کچھ انوکھی قسم کی چٹانیں یا انسانی دل و دماغ پر چھاجانے والے کچھ قدرتی خوبصورتی کے مقامات شامل تھے۔یہ مقامات جن سے ملحق کچھ چھوٹے چھوٹے مندر ہوتے تھے،انھیں کبھی کبھی ’چیتّیہ‘کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔
بودھ ادب میں بہت سے چیتّیوں کا ذکر ہے۔اس میں اُن جگہوں کی تفصیلات بھی ہیں جو بدھ کی زندگی سے کچھ تعلق رکھتی ہیں۔جہاں وہ پیدا ہوئے ،(لمبنی)جہاں انھیں گیان حاصل ہوا(بودھ گیا)،جہاں انھوں نے اپنا پہلا وعظ دیا،(سارناتھ)اور انھیں جہاں’نروان‘حاصل ہوا(کُسی نگر)۔رفتہ رفتہ یہ تمام جگہیں مقدس سمجھی جانے لگیں۔ہمیں معلوم ہے کہ بدھ کے زمانے کے لگ بھگ 200سال بعد اشوک نے لمبنی میں ایک لاٹ نصب کروائی ،یہ بتانے کے لیے کہ وہ اس جگہ آیاتھا۔
لفظ'چیتّیہ'ممکن ہے 'چتا'لفظ سے اخذ کیا گیا ہو جس کے معنی ہیں انسانی جسموں کو جلانے کے لیے لکڑی کا چِتا۔ کچھ اور آگے بڑھ کر اسے چِتاکا ٹیلا بھی کہا جاتا ہے۔

7.1استوپ کیوں بنائے گئے؟
دوسری بھی ایسی جگہیں تھیں جنہیں مقدس سمجھاجاتاتھا۔یہ اس لیے تھا کہ وہاں بدھ کے مقدس آثارجیسے ان کے جسمانی باقیات یا ان کا استعمال کردہ سامان،وہاں دفن کیے گئے تھے یہی وہ ٹیلے تھے جنھیں استوپ کہاجاتاتھا۔
استوپ بنانے کی روایت تو بدھ سے بھی پہلے کی ہو سکتی ہے،لیکن بعد میں انھیں صرف بدھ مت سے ہی منسوب کیا جانے لگا۔اور چونکہ ان میں کچھ مقدس باقیات رکھے ہوئے تھے اس لیے استوپوں کا تقدس و احترام بدھ مت اور بدھ دونوں کی علامتوں کے طورپر کیا جانے لگا۔ایک بودھ متن’اشوکا ودان‘کے مطابق،اشوک نے بدھ کے باقیات کے حصوں کو تمام اہم شہروں میں بھیجا اور وہاں استوپ بنانے کا حکم دیا۔دوسری صدی قبل مسیح دور تک بھارہوت،سانچی اور سارناتھ (نقشہ1)جیسے بہت سے مقامات پر استوپ تعمیر ہوچکے تھے۔
7.2استوپ کیسے تعمیر ہوئے تھے۔
باہر کے پتھر کے جنگلے اور ستونوں پر کتبوں میں تعمیر اور سجاوٹ کے لیے دئے گئے عطیات کو رکارڈ کیا گیاہے۔کچھ عطیات ستواہن جیسے بادشاہوں نے دیئے تھے۔اس کے علاوہ پیشہ وری انجمنوں (گلڈوں)نے دئے تھے۔جیسے ہاتھی دانت کے دستکاروں کے گلڈ نے سانچی کے ایک دروازے کا ایک حصہ بنوایا تھا۔سیکڑوں عطیات عورتوں اور مردوں نے دیئے تھے جن کے ناموں کا ذکر ہے،کبھی کبھی ان جگہوں کے نام بھی دئے گئے ہیں جہاں سے یہ لوگ آتے تھے۔ان کے پیشے اور ان کے اعزاء کے نام بھی کہیں کہیں بڑھادئے گئے ہیں۔بھکچھونیوں نے بھی ان یادگاروں کی تعمیر میں مدد دی تھی۔
7.3استوپ کا ڈھانچہ یا خاکہ
’استوپ‘(سنسکرت لفظ جس کے معنی’ڈھیر‘کے ہوتے ہیں)اس کی ابتدا ایک سیدھے سادے،مٹی کے نیم مدوّر ٹیلے سے ہوئی تھی،بعد میں اسے ’انڈا‘کہا جانے لگا۔رفتہ رفتہ یہ نسبتاًزیادہ پیچیدہ تعمیر میں تبدیل ہوتا چلا گیا جس میں گول اور مربع شکلوں میں توازن پیدا کیا جاتا تھا۔’انڈا‘کے اوپر ’ہارمیکا‘تھا،جو ایک برآمدے جیسا ڈھانچہ ہوتاتھا جو دیوتاؤں کے مسکن کا مظہر تھا۔
ہارمیکا سے اوپر اٹھتا ہوا ایک اسطوانہ(جھنڈا لگانے کی بلی جیسا)تھا جسے’یاشتی‘کہتے تھے۔کبھی کبھی اس پر چھتری بھی چڑھائی جاتی تھی۔ٹیلے کے ارد گرد ایک جنگلاہوتاتھا جو اس مقدس مقام کو عام دنیا سے الگ کرتاتھا۔
سانچی اور بھارہوت میں شروع کے استوپ پتھر کے جنگلے کے علاوہ سیدھے سادھے ہوتے تھے۔جنگلے بانس یا لکڑی کے لمبے لمبے ٹکڑوں جیسے لگتے تھے،دروازے ہوتے تھے جن پر بہت بھُرابھُرا سنگ تراشی کا کام ہوتاتھا اور انھیں چارسمتوں —شمال،جنوب،مشرق،مغرب—کی سمت نصب کیا جاتاتھا۔عبادت کرنے والے مشرقی دروازے سے داخل ہوتے تھے اور ٹیلے کے چاروں طرف،ٹیلے کو اپنے دائیں طرف رکھتے ہوئے،گھڑی کی حرکت کے مطابق گھومتے تھے،جو آسمان میں سورج کی گردش کی نقل تھا۔بعد میں استوپوں کے ٹیلوں پر بہت باقاعدہ نقاشی اور بت تراشی کا کام ہونے لگااور اس میں طاقچے اور بُت تراشی کے نمونے بننے لگے—جیسے امراوتی، ’شاہ جی کی ‘ڈھیری‘پشاور(پاکستان)میں
استوپ کیوں بنائے گئے
یہ ’سُتا پاٹکا ‘کے ایک حصے ’مہا پارینیبا نا سے سُتّ ایک اقتباس ہے:
جب بدھ اپنے آخری وقت میں بستر مر گ پر تھے تو آنند نے پوچھا
مالک ہمیں ناتاتھا گاٹ کے باقی(جسم )کا کیا کرنا ہے(بدھ کا دوسرا نام)؟
بدھ نے جواب دیا۔تاتھا گاٹ کے باقیات کی عزّت و احترام سے کود کو بازنہ رکھنا،آنند!اپنی بھلائی کے لمبے جوش وخروش کے ساتھ مستعد رہنا۔
پھر جب بدھ پر اس کی مزید وضاحت کے لیے زورڈالاگیا تو انھوں نے کہا:’تاتھاگاٹ کے لیے چار چوراہوں پر انھیں ایک ایک ’تھوپا‘(استوپ کے لیے پالی کا لفظ)بنانا چاہیے۔اور اس پر جو کوئی بھی ہار یا خوشبو چڑھائے گا…اور وہاں سلام کرے گا اور وہاں جاکر دل کا سکون حاصل کرے گا،وہ ان کے لیے عرصے تک فایدے اور خوشی کا باعث ہوگا۔
شکل4.15کو دیکھیے اور پہچانیے کہ کیا آپ کو اس قسم کے کچھ عمل نظرآتے ہیں؟
شکل4.9
سانچی سے ایک مَنّتی چڑھاوے کا کتبہ۔ایسے سیکڑوں کتبے بھارہوت اور امراوتی میں پائے گئے ہیں۔
گفتگو کیجیے
سانچی کے بڑے استوپ کے منصوبے (شکل4.10a)اور فوٹو،(شکل4.3)میں کیا مماثلتیں اور کیا فرق ہیں؟
منصوبے میں کون کون سی خصوصیات سب سے صاف یا واضح ہیں؟عمودی حصّے میں کون کون سی خصوصیات کو سب سے بہتر دکھایاجا سکتا ہے؟
شکل(4.10.a
سانچی کے بڑے استوپ عمارت کا افقی منظر دکھاتا ہے کا منصوبہ مجوّرہ۔
شکل(4.10b)
سانچی کے بڑے استوپ کا ایلی ویشن عمارت کا عمودی منظر دکھاتا ہے۔
8۔استوپوں کی’’بازیافت‘‘
امراوتی اور سانچی کی قسمت
ہر استوپ کی اپنی ایک تاریخ ہے—جیسا ہم نے ابھی دیکھا۔کچھ استوپوں کی تویہی تاریخ ہے کہ وہ کیسے تعمیر ہوئے۔لیکن ان کی بازیافت یا تلاش کی بھی ایک تاریخ ہے۔آیئے،کچھ ایسی مثالیں دیکھیں۔1796میں ایک مقامی راجا جو ایک مندر بنوانا چاہتا تھا،بالکل اتفاقاً اسے امراؤتی کے استوپ کا علم ہوا۔اس نے پتھر استعمال کرنے کا ارادہ کیا اور ایک اونچی پہاڑی جگہ کے بارے میں اس کا خیال ہوا کہ یہاں کوئی خزانہ دفن ہے۔کچھ سال بعد ایک انگریز افسر کا لن میکینزی (باب7بھی ملاحظہ ہو)نے اس مقام کو دیکھا۔حالانکہ اسے وہاں کئی بت تراشی کے نمونے ملے،اور اس نے ان کی تفصیلی ڈرائنگ بھی بنائیں،مگر یہ رپورٹیں کبھی شائع نہیں ہوئیں۔
1854میں والٹر ایلیٹ(آندھراپردیش میں)گنٹور کا کمشنر—بت تراشی کے بہت سے پینل مدراس لے گیا۔(انھیں اسی کے نام سے’ایلیٹ ماربلس‘کا نام د ے دیا گیا)۔اس نے مغربی دروازے کے آثار بھی تلاش کر لیے اور آخروہ اس نتیجے پر پہنچا کہ امراؤتی میں ملاڈ ھانچہ چند وسیع ترین اور عالیشان بدھ استوپوں میں سے ایک ہے۔1850کے دہے میں امراوتی سے کچھ سنگ تراشیدہ تختیاں مختلف جگہوں تک لے جائی گئیں۔جن میں ایشیا ٹئک سوسائٹی آف بنگال، مدراس میں انڈیاآفس،اور کچھ تولندن تک لے جائی گئیں۔برطانوی افسروں کے باغوں کی زینت کے طورپر ان تختیوں کا بعض جگہ نظر آجانا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔حقیقت میں اس علاقے میں آنے والا ہر نیا افسر اس مقام سے پتھر اُکھڑوا کرلے جاتارہا،جس کے لیے جواز یہ تھا کہ اس سے پہلے افسر بھی یہ عمل کرچکے ہیں۔
ان چند لوگوں میں جو اس سلسلے میں کچھ مختلف سوچ رکھتے تھے ایک ماہر آثار قدیمہ ایچ ایچ کول تھا،چنانچہ اس نے لکھا۔مجھے کسی ملک کے اوریجنل آرٹ کے شاہکاروں کو لوٹ لینے کی اس طرح اجازت دے دینا ایک خوُد کُشی کے مترادف اور ناقابل دفاع پالیسی لگتی ہے۔اس کا پختہ خیال تھا کہ میوزیم کو بُت تراشی کے ’پلاسٹرکاسٹ‘نمونے رکھنے چاہئیں اور ان کے اصلی روپ وہیں رکھے رہنے چاہئیں جہاں وہ ملے تھے کول امراوتی کے سلسلے میں تو حکومت کے صاحبان اقتدار کو قائل نہ کر سکا مگر سانچی کے سلسلے میں اس کی اپنے مقام پر تحفظ کی اپیل کو تسلیم کیا گیا ۔
سانچی کیوں بچ گیا؟ جب کہ امراوتی نہ بچ سکا۔یہ شاید اس لیے ہوا کہ امراوتی اس وقت دریافت ہوا جب تک عالموں کو یہ احساس نہیں ہواتھا کہ ان چیزوں کو اپنے دریافت کردہ مقام سے ہٹانے کے بجائےوہیں قائم رکھنا کتنا اہمیت رکھتاہے۔پھر جب 1818میں سانچی دریافت ہوا تو اس کے چار میں سے تین دروازے اپنی جگہ پر قائم تھے اور چوتھا وہیں موجود تھا جہاں وہ گراتھا۔ٹیلا بھی اچھی حالات میں تھا۔پھر بھی یہ خیال ظاہر کیا گیاتھا کہ اس دروازے کو پیرس یا لندن لے جایاجائے۔بہرحال آخر میں کئی چیزوں نے اس سلسلے میں مدد کی کہ سانچی کو اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھاجائے۔ چنانچہ آج وہ وہاں موجود ہے جب کہ امراوتی کا ’مہاچیتیّہ‘اب ایک غیر اہم ساٹیلا باقی رہ گیا ہے جس کی پہلی سی شان و شوکت اس سے چھینی جا چکی ہے۔

شکل4.11
سانچی کا مشرقی دروازہ
بھرپور اور دلکش سنگ تراشی کو غور سے دیکھیے۔
گفتگو کیجیے
حصہ 1کو دوبارہ پڑھیے اور وہ وجوہات بتائیے کہ سانچی کیوں باقی ہے۔
'In Situ'کے معنی ہیں مقام پر
شکل4.12
دروازے کا ایک حصہ
آپ کا کیا خیال ہے سانچی کے بت تراش ایک ’اسکرال‘(لپٹی ہوئی تحریر) کھلنے کا تائثر پید اکرنا چاہتے تھے؟

9.1پتھروں میں کہانیاں
آپ نے کچھ پھیری لگا کر کہانی سنانے والوں کو دیکھا ہوگا جو جو کپڑے یا کاغذ کا پلندہ(اسکرال)(چرن چتر)لیے،تصویر دکھادکھا کر کہانی سناتے ہیں۔
شکل4.13کو دیکھیے۔پہلی نگاہ میں بت تراشی کے اس نمونے میں لگتا ہے کہ ایک گاؤں کا منظر دکھایا گیا ہے۔جس میں پھونس کی جھونپڑیاں اورپیڑبھی ہیں۔لیکن آرٹ کے تاریخ دانوں نے اس تفصیلی اور بغور مطالعہ کرکے سانچی کی اس بت تراشی کو ’وسنتاراجاتک‘کے ایک منظر کے طورپر شناخت کیا ہے۔یہ ایک فراخ دل مخیر شاہزادے کی کہانی ہے جو اپنی ہر چیز ایک برہمن کو دے کر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جنگل میں زندگی گزارنے چلا گیاتھا۔جیسا کہ آپ اس سلسلے میں دیکھیں گے تاریخ داں تراشی نمونوں کا متنی شہادتوں سے موازنہ کرکے انھیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شکل4.13
شمالی دروازے کا ایک حصہ
(شکل4.14(سب سے بائیں طرف
بودھی پیڑ کی پوجا کرتے ہوئے پیڑ،بیٹھنے کی جگہ اور اس کے گرد لوگوں کو دیکھیے۔
(شکل4.15(درمیان میں
استوپ کی پوجا کرتے ہوئے
(شکل4.16(نیچے
دھرم چکر کو چلاتے ہوئے
9.2پوجا کی علامتیں
بودھ بت تراشی کو سمجھنے کے لیے آرٹ کے تاریخ دانوں کو بدھ دور کی مقدس سوانحوں(ہیگھو گر افیز)کی بھی معلومات حاصل کرنی پڑتی ہے۔ان سوانحوں کے مطابق بدھ نے گیان ایک پیڑ کے نیچے مراقبے کی صورت میں حاصل کیا تھا۔شروع کے بہت سے بت تراشوں نے بدھ کو انسانی شکل میں نہیں دکھایا۔اس کے بجائے انھوں نے ان کی موجودگی کو علامتوں کے توسط سے ظاہر کیا ہے۔بیٹھنے کی خالی جگہ(شکل4.14)بدھ کے مراقبے کی علامت کے طورپر رکھی گئی ہے اور استوپ ’مہاپری نبّان‘(شکل4.15)کی علامت ہے۔ایک اور علامت جو اکثر استعمال کی گئی تھی وہ پہیا یا’چکّر‘تھی (شکل4.16)یہ بدھ کے سارناتھ میں پہلے وعظ کے اظہار کے لیے تھی۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ بت تراشیاں لفظ بہ لفظ حقیقی نہیں مانی جاسکتیں۔مثال کے طورپر پیڑ کسی عام پیڑ کی علامت نہیں ہے،بلکہ یہ بدھ کی زندگی کے ایک واقعے کی علامت ہے۔ان علامتوں کو سمجھنے کے لیے تاریخ دانوں کو ان لوگوں کی روایات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا پڑیں جنھوں نے آرٹ کے ان نمونوں کی تخلیق کی تھی

شکل4.13
سمالی دروازے کا ایک حصہ
شکل4.14(سب سے بائیں طرف)
بودھی پیڑ کی پوجا کرتے ہوئے پیڑ،بیٹھنے کی جگہ اور اس کے گرد لوگوں کو دیکھیے۔
شکل4.15(درمیان میں)
استوپ کی پوجا کرتے ہوئے
شکل4.16(نیچے)
دھرم چکر کو چلاتے ہوئے
9.3مقبول عام روایات
سانچی میں دوسرا بت تراشی کا کام غالباً براہِ راست بدھ تصّورات سے متائثر نہیں تھا۔ان میں دروازوں کے کناروں پر بنی خوبصورت صورتوں کی مورتیاں شامل ہیں جو ایک پیڑ کو اٹھائے ہوئے نظر آتی ہیں۔(شکل4.17)۔ماہرین نے شروع میں اس مورتی سے کسی قدردھوکابھی کھایا،جس کا ترک دنیا سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا تھا۔بہر حال دوسری ادبی روایات کے مطالعے سے انھیں احساس ہوا کہ یہ اس روایت کا ترجمان ہوسکتی ہے جسے سنسکرت میں’شالابھنجکا‘کہاجاتا ہے۔عوام کے خیال کے مطابق یہ ایک عورت تھی جس کے مس ہوجانے سے پیڑوں میں پھول اور پھل آتے تھے۔ممکن ہے کہ اسے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہو اور اس طرح اسے استوپ کی زینت میں شامل کرلیا گیاہو۔’شالا بھنجکا کے نشان(موطف)سے اشارہ ملتا ہے کہ بہت سے لوگ جو بدھ مت کی طرف رجوع ہوگئے تھے انھوں نے اس میں قبل —بودھ اور بعض صورتوں میں غیر بودھ تصورات،اعتقادات وعمل شامل کردیئے۔سانچی میں بعض ایسی وضعیں یانشانات(مولف)جو باربار نظر آتے ہیں وہ بظاہر انھیں روایات سے اخذ کیے گئے ہوں گے۔
اس کے علاوہ بھی کچھ اور مورتیاں ہیں۔مثال کے طورپرکچھ جانوروں کے خوبصورت ترین نمونے وہاں نظر آتے ہیں۔ان جانوروں میں ہاتھی،گھوڑے،بندر اور مویشی شامل ہیں۔گوکہ جاتک کہانیوں میں جانوروں کے بارے میں بھی بہت سی کہانیاں موجود ہیں،لیکن ممکن ہے سانچی میں متعدد ایسے جانور اس لیے کھو دیے گئے ہوں کہ ان سے لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے کچھ دلچسپ اور پراثر منظر پیش کیے جاسکیں۔جانوروں کو کچھ انسانی خصوصیات کی علامتوں کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔مثال کے طورپر ہاتھی کو طاقت اور سمجھ بوجھ کی علامت کے طورپر پیش کیاجاتا تھا۔
ایک اور نشان(موٹف)ایک عورت کی مورتی ہے جو کنول اور ہاتھیوں (شکل4.19)سے ِگھری کھڑی ہوئی ہے۔جو اس پر اوپر سے پانی چھڑک رہے ہیں۔ جیسے’ابھی شیک‘(عملِ تقدیس)انجام دیاجارہا ہو۔گوکہ کچھ مؤرخ اسے مایا،بدھ کی ماں بتاتے ہیں،بہرحال کچھ اسے معروف دیوی گجالکچھمی بھی بتاتے ہیں،جو لفظی معنوں کے اعتبار سے خوش بختی کی دیوی مانی جاتی ہے۔جو ہاتھیوں سے وابستہ ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ معتقدین اسے دیکھ کر مایا اور گجا لکچھمی’’دونوں کے روپ میں پہچانتے ہوں۔
سانپ پر بھی غور کیجیے جو بہت سے ستونوں پر پایاجاتا ہے۔(شکل4.21)یہ نشان بھی شاید ان مقبول عام روایات سے لیا گیا ہے جو متنوں میں کبھی رکارڈ نہیں کی گئیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے شروع کے جدید آرٹ کے تاریخ دانوں میں جیمس فرگوسن سانچی کو پیڑ اور سانپ کی پوجا کا مرکز مانتا ہے۔وہ بدھ اور ادب سے واقفیت نہیں رکھتا تھا۔اس میں سے زیادہ تر حصے کا ابھی ترجمہ بھی نہیں ہواتھا۔اور اس نے صرف ان مورتیوں کا ہی مطالعہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا۔

شکل4.17
دروازے پر بنی ایک عورت
شکل18
سانچی میں ایک ہاتھی
شکل4.19
گجا لکچھمی
شکل4.20
اجنتا سے ایک رنگین تصویر بیٹھی ہوئی شکل اور انھیں دیکھیے جو اس کی خدمت کررہی ہیں
شکل4.21
سانچی میں ایک سانپ
ماضی سے رنگین تصاویر
جب کہ بت تراشی وقت کی شکست و ریخت کو جھیل کر باقی رہ جاتی ہے اور نتیجتاً تاریخ کے عالموں کے لیے سب سے آسانی سے حاصل ہوسکنے والا مواد ہے۔بہرطور،اظہاراور اطلاعات رسائی کے دوسرے بصری ذرائع بھی پچھلے وقتوں میں استعمال کیے گئے تھے۔ان میں سے وہ جواب تک سب سے اچھی حالت میں باقی ہیں،ان میں مشہور ترین اجنتا(مہاراشٹر)میں غاروں کی دیواروں پر موجود ہیں۔
اجنتا کی رنگین تصویریں جاتک کی کہانیوں سے اخذ کی گئی ہیں۔ان میں شائستہ اور پرتکلف زندگی کے منظر ،جلوس،عام زندگی کے کاموں میں مصرف مرد عورت اور تیوہارشامل ہیں۔فنکاروں نے’شیڈنگ‘کی تکنیک استعمال کرکے ان میں سہ ابعادی (تھری ڈائی مینشنل)اثر پیدا کیا ہے۔ان میں کچھ تصاویر غیر معمولی طورپر فطری ہیں۔

شکل4.21
سانچی میں ایک سانپ
گفتگو کیجیے۔
ہڈّی،پکائی ہوئی مٹی(ٹیری کوٹا)اور دھات بھی بُت تراشی میںا ستعمال ہوسکتی ہے۔اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
10۔نئی مذہبی روایات
10.1مہایان بدھ مت کا ارتقاء
پہلی صدی عیسوی سے ہی بودھ خیالات اور عمل میں تبدیلیوں کی شہادتیں نظر آنے لگتی ہیں۔بدھ تعلیمات میں’نبّان‘حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت خود ذاتی کوششوں کو دی گئی تھی۔اس کے علاوہ خودبدھ کو بنی نوع انسان کا ہی فرد ماناگیا تھا جنھوں نے گیان اور ’نبّا ن (نروان)خود اپنی کوشش سے حاصل کیا تھا۔بہرحال رفتہ رفتہ نجات دہندہ کا تصّور ابھرا اور یہ یقین کیا جانے لگا کہ یہی وہ ذات ہے جو چھٹکارے یا نجات کو یقینی بناسکتی ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ’بودھ سَتّ‘کاتصور بھی ابھرا اور پھلنا پھولنا شروع ہوا۔’بودھی سَت‘—انتہائی رحم دل مخلوق مانے جاتے تھے اور بزرگی کی یہ خصوصیات وہ صرف اپنی جد وجہد سے جمع کرتے تھے مگر اسے وہ ’نبّان‘حاصل کرلینے کے لیے،اور نتیجتاً دنیا کو ترک کردینے سے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کے لیے صرف کرتے تھے۔بدھ اور بودھی ستاؤں کی مورتیوں کی پوجا بھی اس روایت کا ایک اہم حصہ بن گئی۔
اس نئے انداز فکر کو ’مہایا ن‘کا نام دیا گیا۔جس کے لفظی معنی ہیں’نقل وحمل کے لیے‘’عظیم سواری‘—جن لوگوں نے یہ عقائد اپنالیے انھوں نے پچھلی روایتوں کو ’نہایان‘یا ’کم ترسواری‘کہنا شروع کردیا۔

شکل4.22
بدھ کی ایک مورتی (متھرا)،تقریباً پہلی صدی عیسوی
’ہنایان‘یا تھراو؟
’مہایان‘کے حامی دوسرے بودھو ں کو’ہنایان ‘کہتے تھے۔بہر حال پرانی روایات کے ماننے والے خودکو ’تھیراوادن‘یعنی وہ جو پرانے لوگوں کے راستے کو ماننے والے،استادوں کا احترام کرنے والے یا ’تھیرا‘تھے۔
10.2پَورانی ہندومت کا ارتقاء
نجات دہندہ کا تصور بدھ مت کا اکیلا یا انوکھا عقیدہ نہیں تھا۔ہم اس قسم کے تصورات کو کچھ مختلف اندازمیں ان روایات میں بھی ابھرتا دیکھ سکتے ہیں جنھیں اب ہم ہندودھرم کا حصہ مانتے ہیں۔ان میں ویشنوی مسلک(ہندودھرم کا وہ رخ جس میں وشنو کو بنیادی دیوتامان کر پوجا جاتا ہے)اور شیومسلک(وہ روایت جس میں شیوکوسب سے بڑدیوتامانا جاتا ہے)دونوں شامل تھے،ان میں کسی مخصوص دیوی دیوتا کی پرستش پر زور بڑھتا چلاجاتا تھا۔اس انداز کی پرستش میں کسی معتقد اور اس کے دیوی دیوتاکے درمیان بندھن یارشتے کو اس سے محبت اور دلی تعلق یا ’بھکتی‘کے روپ میں تصورکیا جاتا تھا۔ویشنومسلک میں اس دیوتا کے مختلف اوتاروں یا بدلتے روپوں کے اردگرد فرقے ابھرے۔اس روایت کے اندر ہی دس اوتاروں کو پہچاناگیا۔یہ وہ روپ تھے جو اس دیوتانے وقتاً فوقتاً اس دنیا کو بچانے کے لیے اپنائے جسے بدی کی طاقتوں کے غالب آجانے کی وجہ سے تباہی اور بربادی کا خطرہ لاحق ہو جاتا تھا۔یہ بھی ممکن ہے یہ ملک کے مختلف حصوں میں الگ الگ اوتار مقبول ہوں ان مقامی دیوی دیوتاؤں کو وشنو کا ہی مظہر مان لینے سے مذہبی روایت کو زیادہ متحد یا گٹھا ہوا رکھنے کا بھی ایک ذریعہ پیدا ہورہا تھا۔
دوسرے دیوی دیوتاؤں کی طرح ان روپوں کی بھی بت تراشی نمونوں میں ظاہر کیا جاتا تھا۔مثال کے طورپر شوکو’لنگ‘کی علامت سے پیش کیاجاتا تھا،لیکن کبھی کبھی اسے انسانی روپ میں بھی دکھایا جاتا تھا۔ایسے تمام مظاہر،دیوی ،دیوتاؤں کے بارے میں تصّورات وعقائد کا ایک خاصہ پیچیدہ نظام پیش کرتے ہیں،جنھیں ان کی کچھ مخصوص علامتوں یا نشانات ،جیسے سر کے لباس،زیورات اور ’ایودھوں‘—دیوی دیوتاؤں کے ہاتھوں میں ہتھیار یا کچھ مقدس چیزیں—اور بیٹھنے کے انداز وغیرہ سے ظاہر کیا جاتاہے۔
ان بت تراشیوں کو سمجھنے کے لیے تاریخ دانوں کو ان کے پس منظر کی کہانیوں سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔ان میں سے اکثر کہانیاں پورانوں میں شامل ہیں،جنھیں(پہلے ہزارے کے کم وبیش درمیانی دورمیں)برہمنوں نے تالیف کیا تھا۔ان میں سے زیادہ مواد وہی تھا جو صدیوں پہلے تیار ہوچکاتھا اور عوام میں گھوم رہاتھا۔اس میں دیوی دیوتاؤں کے بارے میں بھی کہانیاں شامل تھیں۔عام طورپر یہ آسان سنسکرت کے اشلوکوں کی شکل میںنظم کی گئی تھیں،اور انھیں عورتوں اور شودروں اور ان تمام زمرے کے لوگوں کے سامنے بہ آواز بلند دوہرایاجاتا تھا جن کی ویدوں تک پہنچ ممکن نہیں تھی۔
پورانوں میں جو کچھ بھی ہے وہ عام لوگوں— پجاریوں، تاجروں اور ان معمولی مرد، عورتوں کے درمیان بات چیت اور لین دین سے وجود میں آیا جو ایک جگہ سے دوسرے جگہوں کے سفر کے دوران ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد میں شریک ہوتے تھے۔ مثال کے طورپر ہمیں معلوم ہے کہ واسودیو کرشن ’متھرا کے علاقے میں ایک اہم دیوتا مانا جاتاتھا۔ صدیوں کے دوران اس کی پوجا ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئی۔

شکل4.22
بدھ کی ایک مورتی (متھرا)،تقریباً پہلی صدی عیسوی
شکل4.23
’وراہا‘یا جنگلی سور،وشنو کا اوتار زمین کی دیوی کو بچاتے ہوئے۔آئی ہولے(کرناٹک)۔چھٹی صدی عیسوی دور
تصویر میں دونوں شکلوں کے تناسب سے کیا اظہار ہوتا ہے؟
10.3مندر بنوانا
لگ بھگ اسی زمانے میں جب مختلف مقامات پر سانچی جیسے استوپ اپنی وہ شکل اختیار کررہے تھے جو ہمیں اب نظر آتی ہے۔ان دیوی دیوتاؤں کو رکھنے کے لیے مندر بھی تعمیر ہورہے تھے۔ ابتدائی مندر میں ایک چھوٹا سا مربع کمرہ ہوتاتھا جسے’گربھ گرہ‘کہاجاتاہے۔اس کا صرف ایک دروازہ وہوتاتھا جس سے پجاری داخل ہوکر دیوتا کے بت کی پوجا کرتے تھے۔رفتہ رفتہ ایک بڑاڈھانچہ ،جسے ’شکھارا‘کے نام سے جانا جاتاتھا،مرکزی مقدس مقام کے اردگرد بنایاجانے لگا۔مندر کی دیواروں کو بت تراشی سے سجایا جانے لگا۔بعد میں مندر بہت زیادہ تفصیلی روپ اختیار کرگئے۔جن میں مجمع کے لیے ہال،زبردست دیواریں اور دروازے اور پانی فراہم کرنے کے انتظامات(ساتواں باب بھی ملاحظہ ہو)بھی کیے جانے لگے۔
ابتدائی مندروں کی کچھ انوکھی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھیں بڑی بڑی چٹانوں کو کھوکھلا کرکے مصنوعی غاروں کی طرح بنایا گیاتھا۔مصنوعی غار بنانے کی روایت پرانی تھی۔ان میں سے کچھ سب سے پہلے(شکل4.27)مصنوعی غار تیسری صدی قبل مسیحی دور میں’اجیوکا‘فرقے سے متعلق دنیا تج دینے والوں کے لیے اشوک کے حکم سے بنائے گئے تھے۔
یہ روایت کئی درجوں سے گزری اور بہت بعد میں—آٹھویں صدی میں—ایک مکمل مندر کی بت تراشی تک پہنچی یعنی کیلاش ناتھ(شیوکاایک نام)کا مندر۔
ایک تانبے کی تختی پر کندہ کتبے میں بُت تراشوں کے سردار کے اُس تعجب کودرج کیا گیا ہے جو اس کام کو مکمل کرنے کے بعد اسے محسوس ہورہا تھا:’’اوہ میں نے اسے کیسے بنالیا؟

شکل4.24
دُرگا کا ایک منظر
مہابلی پورم(تمل ناڈو)۔تقریباً چھٹی صدی عیسوی
ان طریقوں کی شناخت کیجیے جن سے فن کاروں نے حرکت کا تاثر پیدا کیا ہے۔اس بُت تراشی کے نمونے میں اس کہانی کے بارے میں اور جانکاری حاصل کیجیے۔

شکل4.25
دیوگڑھ(اترپردیش)کا ایک مندر تقریباً پانچویں صدی عیسوی دور
’شکھارا‘(شکھر)اور ’گرھ گرہ‘کے داخلے کے دروازے کی شناخت کیجیے۔
شکل4.26
شِش ناگ،(سانپ) پر وشنو آرام کرتے ہوئے دیوگڑھ(اترپردیش)کی بت تراشی تقریباً پانچویں صدی عیسوی دور
شکل4.27
(بہارمیں)’بارابار‘کے ایک غار کے داخلے کا دروازہ تقریباً تیسری صدی قبل مسیحی دور
شکل4.28
کیلاش ناتھ مندر ایلورا(مہاراشٹر)یہ پوراڈھانچہ ایک بہت بڑی چٹان میں سنگ تراشی سے بنایا گیا ہے۔
شکل4.27
(بہارمیں)’بارابار‘کے ایک غار کے داخلے کا دروازہ تقریباً تیسری صدی قبل مسیحی دور
شکل4.28
کیلاش ناتھ مندر ایلورا(مہاراشٹر)یہ پوراڈھانچہ ایک بہت بڑی چٹان میں سنگ تراشی سے بنایا گیا ہے۔
11۔کیا ہم سب کچھ دیکھ سکتے ہیں؟
اب تک آپ نے اُس بھر پور خزانے کی بھری جھلک دیکھ لی ہے جو ماضی میں موجودتھا۔اینٹوں اور پتھر کے طرزِ تعمیر،بُت تراشی اور رنگین تصویر کشی کی صورتوں میں—ہم نے یہ بھی دیکھا کہ صدیوں کے وقفے میں اس میں سے بہت کچھ ضائع بھی ہوچکا ہے۔پھر بھی جو کچھ باقی ہے اور محفوظ کیا جا چکا ہے وہ ان فنکاروں—آرٹسٹ،بت تراش،راج،اور معمار—کی نظر،ذوق اور معیار کو ضرور ظاہر کرتا ہے جنھوں نے ان حیرت ناک نمونوں کی تخلیق کی تھی۔پھر بھی کیا ہم اُن تصورات کو خود بخود ہمیشہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے؟کیا ہم یہ جان سکتے ہیں کہ جو لوگ اب سے دوہزار برس پہلے ان بتوں اور تمثیلوں کو دیکھتے تھے ان کے لیے یہ کیا معنی رکھتے تھے
11.1انجان سے دوچار ہونا
شاید ایک بار پھر وہ صورتِ حال یاد کرنا مفید ہو جب انیسویں صدی میں یوروپی عالم نے پہلی بار کچھ دیوی دیوتاؤں کے بُت دیکھے تھے۔سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ یہ کس قسم کی چیزیں ہیں۔کبھی کبھی تو وہ ان مہیب اور بعید از قیاس ہیئتوں کو دیکھ کرخاصے پریشان ہوجاتے تھے ،جن کے کئی کئی بازو اور سر ہوتے تھے یا کچھ انسان اور جانوروں کے جسموں کا مجموعہ ہوتے تھے۔
شروع کے یہ عالم ان مجسمّوں کو دیکھ کر،جوانھیں بالکل اجنبی اور عجیب لگتے تھے ان کا کچھ مطلب سمجھنے کے لیے،ان بت تراشی نمونوں سے موازنہ کرنے کی کوشش کرتے تھے جن سے وہ خود واقف تھے،یعنی قدیم یونانی بت تراشی کے نمونے۔ حالانکہ انھیں ابتدائی ہندوستانی بت تراشی کے نمونے یونانی فنکاروں کی سنگ تراشی سے کمتر درجے کے لگتے تھے مگر جب انھیں بدھ اور بدھ ستّ کے ان خو بصورت مجسمّوں کو دیکھنے کا موقع ملاجو ظاہری طورپر یونانی نمونوں پر مبنی تھے تو ان میں ایک نئی تحریک پیدا ہوئی۔یہ لگ بھگ سب کے سب شمال مغربی علاقوں میں ٹکچھشلا ااور پشاور جیسے شہروں میں دریافت ہوئے تھے جہاں ہند—یونانی حکمرانوں نے دوسری صدی قبل مسیحی دور میں سلطنتیں قائم کی تھیںچونکہ یہ مجسمے ان یونانی مجسموں سے قریب تر تھے جن سے یہ عالم واقف تھے۔اس لیے انھی کو ابتدائی ہندوستانی فن کا بہترین نمونہ سمجھا گیا ۔مطلب یہ کہ ان عالموں نے وہی حکمتِ عملی اپنائی جو ہم عام طورپر اپناتے ہیں۔جانی پہچانی چیزوں سے اخذ کرکے ایک ایسا پیمانہ تیار کرلینا جس کی مدد سے انجان چیزوں کا کچھ مطلب نکالا جاسکے۔

شکل4.29
گندھارا سے ایک بودھی ستّ۔کپڑوں اور بالوں کے انداز کو غور سے دیکھیے۔
11.2اگر تحریروں اور مجسّموں میں مطابقت نہ ہو…
ایک اور مسئلے پر غور کیجیے۔ہم نے دیکھا کہ آرٹ کے مؤرخ اکثر بت تراشی کو سمجھنے کے لیے تحریروں یا متنوں کی مدد لیتے ہیں۔ویسے ہندوستانی مجسموں کا یونانی مجسّموں سے موازنہ اور مقابلہ کرنے کے طریقے کے مقابلہ میں تو یہ حکمتِ عملی بہر طور زیادہ مؤثر ہے مگر اس کا استعمال ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔اس کی ایک سب سے زیادہ پریشان کن مثال(تامل ناڈو)مہابلی پورم کی ایک بہت بڑی چٹان پر مشہورسنگ تراشی کا نمونہ ہے۔
شکل4.30میں واضح طورپر ایک کہانی کا بیان ہے،مگر یہ کون سی کہانی ہے؟آرٹ کے مؤرخوں نے پورانوں میں اسے تلاش کیا مگر اس سلسلے میں ان کی رائے میں شدید اختلاف نظر آتا ہے ۔بعض کا خیال ہے کہ یہ آسمان سے گنگا کے زمین پر اترنے کو ظاہر کرتی ہے—چٹان کے بیچ میں قدرتی شگاف ممکن ہے دریا کا ترجمان ہو۔اس کی کہانی پورانوں اور رزمیوں میں بیان کی گئی ہے۔دوسروں کا خیال ہے کہ یہ مہابھارت کی ایک کہانی کا اظہار ہے—ارجنؔ دریا کے کنارے ہتھیار حاصل کرنے کے لیے کفّارہ ادا کررہا ہے—جس میں مرکزی شکل کسی تارک الدنیا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔آخر میں یہ یادرکھیے ٔ کہ بہت سی مذہبی رسومات،مذہبی عقائد اور عمل کسی مستقل اور بالکل ظاہری شکل میں جمع نہیں کیے گئے تھے—جیسے یادگار عمارتیں،بت تراشی کے نمونے یہاں تک کہ رنگین تصویریں۔ ان میں روزمرہ کے عام کام بھی تھے اور کچھ مخصو ص مواقع سے ملحق عمل بھی شامل تھے۔بہت سے فرقوں اور لوگوں کے زمروں نے ان کے کسی باقی رہنے والے ریکارڈ کی ضرورت بھی محسوس نہ کی ہوگی جب کہ ممکن ہے ان کے یہاں کچھ فعّال یا متحرک قسم کی روایتیں،مذہبی کام اور فلسفیانیہ تصورات یا نظریات موجود رہے ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اس باب میں جو ممتاز اور شاندار قسم کی مثالیں پیش کی گئی ہیں وہ بہت بڑے ذخیرے میں سے ایک ذرّہ برابر ہی کہی جاسکتی ہیں۔
آخر میں یہ یادرکھیے ٔ کہ بہت سی مذہبی رسومات،مذہبی عقائد اور عمل کسی مستقل اور بالکل ظاہری شکل میں جمع نہیں کیے گئے تھے—جیسے یادگار عمارتیں،بت تراشی کے نمونے یہاں تک کہ رنگین تصویریں۔ ان میں روزمرہ کے عام کام بھی تھے اور کچھ مخصو ص مواقع سے ملحق عمل بھی شامل تھے۔بہت سے فرقوں اور لوگوں کے زمروں نے ان کے کسی باقی رہنے والے ریکارڈ کی ضرورت بھی محسوس نہ کی ہوگی جب کہ ممکن ہے ان کے یہاں کچھ فعّال یا متحرک قسم کی روایتیں،مذہبی کام اور فلسفیانیہ تصورات یا نظریات موجود رہے ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اس باب میں جو ممتاز اور شاندار قسم کی مثالیں پیش کی گئی ہیں وہ بہت بڑے ذخیرے میں سے ایک ذرّہ برابر ہی کہی جاسکتی ہیں۔
گفتگو کیجیے۔
کوئی مذہبی عمل جو آپ نے دیکھا ہو،بیان کیجیے۔کیا یہ کسی طریقے سے مستقل طورپر اخزکیا ہوا ہے؟
150—100لفظوں میں جواب لکھیے:
1۔ کیا اپنشدکے مفکرین کے خیالات جبریت کے قائل اور مادّہ پرستوں کے خیالات سے
شکل4.30
مہابلی پورم میں سنگتراشی کا ایک نمونہ
ٹائم لائن1—
اہم مذہبی واقعات
| بتدائی دَور کی ویدی روایات |
تقریباً1500سے1000قبل مسیحی دور |
| بعد کی ویدی روایات |
تقریبا1000سے500قبل مسیحی دور |
| شروع کے اُپنشد،جین مت اور بدھ مت |
تقریباً چھٹی صدی قبل مسیحی دور |
| پہلے استوپ |
تقریباً تیسری صدی قبل مسیحی دور |
| مہایان بدھ مت کا ارتقاء اورویشنو مت ،شیو مت اور دیوی کی پوجا کی روایت |
تقریباً دوسری صدی قبل مسیحی دوراور اس کے بعد |
| سب سے پہلا مندر |
تقریباً تیسری صدی مسیحی دور |
ٹائم لائن 2—
شروع کے یادگاری آثار اور بت تراشی نمونوں کی بازیافت اور تحفظ میں اہم موڑ
انیسویں صدی
| انڈین میوزیم کا قیام کلکتہ میں |
1814 |
ہندو فن تعمیر پر مضمون کی اشاعت (Essay on Architecture of Hindus)ازرام راجا: کننگھم سارناتھ کا استوپ دریافت کرتا ہے۔ |
1834 |
| جیمس فرگوسن اہم اثار قدیمہ مقامات کا جائزہ لیتا ہے۔ |
1835-42 |
| گورنمنٹ میوزیم کا قیام مدراس |
1851 |
الیگزینڈرکنگھم،بھیلساٹو پینر کی اشاعت کرتا ہے۔سانچی پر پہلی تحقیق(Bhilsa Topesا |
1854 |
| راجندر لالا مترا ’بدھا گیا‘کی اشاعت کرتاہے:دی ہیریٹیج آف ساکیہ منی۔ |
1878 |
| ایچ ایچ ۔کول قدیم آثار کاکیورٹیر مقرر ہوتا ہے۔ |
1880 |
ٹریثر ٹرووایکٹ‘پاس ہوتا ہے جس کے تحت آثارِ قدیمہ کی دلچسپی کی تمام چیزوں کو حاصل (ایکوائر) کرنے کا حق حکومت کو مل جاتا ہے۔
|
1888 |
|
بیسویں صدی |
جان مارشل اور الفریڈ فاؤچر’دی ماینومینٹس آف سانچی،چھپواتے ہیں۔
|
1914 |
| جان مارشکل’کنزرویشن مینول‘(تحفظی ہدایت نامہ)چھپواتا ہے۔ |
1923 |
| وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے نئی دہلی میں نیشنل میوزیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ |
1955 |
| سانچی عالمی وراثت (ورلڈ ہیریٹیج)میں شامل کیا گیا۔ |
1989 |
100—150لفظوں میں جواب لکھیے:
1۔ کیا اپنشدکے مفکرین کے خیالات جبریت کے قائل اور مادّہ پرستوں کے خیالات سے مختلف تھے؟اپنے جواب میں وجوہات بتائیے۔مختلف تھے؟اپنے جواب میں وجوہات بتائیے۔
2 ۔جین مت کی بنیادی تعلیمات کو مختصراً بیان کیجیے۔
3۔ سانچی کے استوپ کے تحفظ میں بھوپال کی بیگموں کے کردار کو بیان کیجیے۔
4۔ نیچے دئیے ہوئے مختصر اقتباس کو پڑھیے اور جواب دیجیے۔
’’مہاراجہ ہووشکا(ایک کُشان حکمراں)کے تینتیسویں سال،گرم موسم کے پہلے مہینے کے آٹھویں دن ،بھیکھونی دھنادی نے مودھووالکامیں ایک بودھی ستّ نصب کیا،بھکچھونی بدّھا متا کی بہن کی لڑکی ہے،جو ’ٹپی ٹاکا‘سے واقف ہے اور بھکھّو بالا کی ایک عورت شاگرد ہے،جو ٹیپی ٹاکا‘جانتی ہے،اپنے باپ اور ماں کے ساتھ ہے۔
الف) دھناوتی نے اپنے کتبے کی تاریخ کس طرح متعین کی ہے؟)
(ب) آپ کے خیال میں اُس نے بدّھاستّ کا مجسّمہ کیوں نصب کیا تھا؟)
(ج) جن رشتہ داروں کا اُس نے ذکر کیا وہ کون تھے؟)
(د) وہ کون سے بودھ متن سے واقف تھی؟)
(ہ) اس نے یہ متن کس سے سیکھاتھا؟)
5۔5 آپ کے خیال میں مرد اور عورتیں سنگھ میں کیوں شامل ہوئے تھے؟
مندرجہ ذیل پر الگ الگ 500لفظوں کا مضمون لکھیے :

شکل4.31
سانچی میں سنگتراشی کا ایک نمونہ
مہاویر کا پیغام مندرجہ ذیل پر الگ الگ 500لفظوں کا مضمون لکھیے:
6 ۔ سانچی کی بُت تراشی کو سمجھنے کے لیے بودھ ادب کی معلومات کس حد تک مددگار ثابت ہوتی ہے؟
7 ۔شکل4.32اور4.33سانچی کے دو منظر ہیں۔بیان کیجیے کہ آپ ان میں سے ہر ایک میں کیا دیکھتے ہیں؟طرزِ تعمیر،پودے ،جانور اور کاموں کوسامنے رکھتے ہوئے شناخت کیجیے کہ ان میں سے دیہی منظر کس میں دکھایا گیا ہے اور شہری منظر کس میں؟اپنے جواب کی وجوہات بیان کیجیے۔
8 ۔ ویشنومت اور شیومت کے ارتقاء سے بُت تراشی اور طرزِ تعمیر میں کیا تبدیلیاں رونماہوئیں؟
9 ۔ بیان کیجیے کہ استوپ کیوں اور کس طرح تعمیر ہوئے؟
نقشے کاکام
10۔دنیا کے نقشے کے ایک خاکے پران علاقوں پر نشان لگائیے جہاں بدھ مت پھیلا۔ان علاقوں کے لیے زمینی اور سمندری راستوں کو تلاش کیجیے۔
(منصوبہ (کوئی ایک
11۔ اس باب میں جن مذہبی عملوں پر بات ہوئی کیا ان میں سے کوئی ایسی ہے جو آپ کے پڑوس میں اپنا یاجاتا ہو؟آج کل کون کون سے متن استعمال ہوتے ہیں اور انھیں کس طرح حفاظت سے رکھاجاتا ہے اور انھیں کس طرح منتقل کیا جاتا ہے۔کیا پوجا میں بت تمثیلیں بھی استعمال ہوتی ہیں۔اگر ہوئی ہیں تو کیاوہ اس باب میں بیان کیے گئے بتوں جیسی ہی ہیں یا ان سے مختلف ہیں۔آج مذہبی امور کے لیے جو عمارتیں استعمال ہوئی ہیں ان کو بیان کیجیے اور ان کا ابتدائی استوپوں اور مندروں سے موازنہ کیجیے۔
12۔ اس باب میں بیان کی گئی مذہبی روایات سے متعلق مختلف مذہبوں اور مختلف دوروں کی پانچ تصویریں یا سنگ تراشی نمونوں کی تصویریں جمع کیجیے۔ان پر لکھے ہوئے تعارفی بیانوں کو الگ کر لیجیے اور انھیں دو افراد کودکھاکر پوچھیے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسے بیان کریں۔ان کے بیانات کا مقابلہ کیجیے اور جو کچھ آپ معلوم کرسکتے ہیں اس کی رپورٹ تیار کیجیے۔
شکل 4.33
شکل 4.32
تصاویر کے لیے اظہار تشکر
موضوع1
اے ایل باشم1985
’دی ونڈرویٹ دازانڈیا‘
روپا ،کولکاتا
این این بھٹّاچاریہ1996
’انڈین ریلجیس ہسٹری یوگرافی،منشی را م منوہر لال نئی دہلی
ایم کے دھوالیکر2003
’مونیومینظل لیگیسی آف سانچی‘
آکفسورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
پال ڈنڈاس1992
’دی جینس‘
روٹ لیج(Routledge)لندن
گیون فلڈ2004
’انٹروڈکشن ٹو ہندوازم‘
’کیمبرج یونیورسٹی پریس‘ کیمبرج
رچرڈ ایف گومبرچ1988
تھیراودا بدھ ازم اے سوشل ہسٹری فروم انشینٹ بنارس ٹو ماڈرن کولمبو؛
روٹ لیج اینڈ کیگان پال لندن
بنجامن رولینڈ1967
’دی آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر آف انڈیا:بدھسٹ /ہندو/جین ۔پینگوئین بکس ہارمونڈس ورتھ
شکل نمبر شمار1.1، 1.2 ، 1.3 ، 1.4 ، 1.5 ، 1.6 ، 1.7 ، 1.8،1.9 ، 1.10، 1.11،1.12 ، 1.13 ، 1.14،1.15 ،1.16 ،1.20 ، 1.22،1.23 ، 1.26،1.28، 1.30
آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا اور نیشنل میوزیم نئی دہلی
شکل نمبر شمار 1.7 ،1.9، 1.10، 1.17، 1.18، 1.19، 1.21، 1.24
پروفیسر گریگوری ایل پاس سہل
شکل نمبر شمار1.27
سینٹر فار کلچرل ریسورسیز اینڈ ٹریننگ —نئی دہلی
موضوع 2
شکل نمبر شمار2.1امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز گڑگاؤں
شکل نمبر شمار 2.2، 2.6 آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا
شکل نمبر شمار2.3، 2.5، 2.10
سینٹر فار کلچرل ریسورسیزاینڈ ٹریننگ، نئی دہلی
شکل نمبر شمار2.4، 2.7، 2.9، 2.12، 2.13 نیشنل میوزیم، نئی دہلی
شکل نمبر شمار2.8 ویکی پیڈیا
موضوع3
شکل نمبر شمار 3.1، 3.10آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا
شکل نمبر شمار 3.3، 3.4، 3.5، 3.6، 3.7، 3.8،3.9نیشنل میوزیم،نئی دہلی
موضوع 4
شکل نمبر شمار4.1، 4.5 ، 4.8 ، 4.9، 4.12، 4.14 ، 4.15، 4.16 ،4.17، 4.18، 4.19، 4.21، 4.22، 4.23، 4.24، 4.25،4.26، 4.27،4.29، 4.31شکل نمبر شمار4.32اور4.33مشق میں۔
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز گڑگاؤں
شکل نمبر شمار4.2ویکی پیڈیا
شکل نمبر شمار4.3، 4.11، 4.28، 4.30
سینٹر فار کلچرل ریسورسیز اینڈ ٹریننگ —نئی دہلی
شکل نمبر شمار 4.4، 4.6، 4.7، 4.20نیشنل میوزیم ۔نئی دہلی
َِ
مزید اطلاعات کے لیے دیکھیے:
http://dsal.uchicago.edu/ images/aiis/