Skip to content
Tareekh-e-Hindkemauzuat-II-001


پانچواں موضوع

سیاحوں کی نظر سے

سماج کا تصور

(تقریباً دسویں صدی سے سترہویں صدی تک)

عورتوں اور مردوں نے کام کی تلاش میں قدرتی آفات سے بچنے کے لیے ،تاجروں ، سوداگروں فوجیوں ، پروہتوں اور زائرین کی شکل میں یا پھر مہم جوئی کے شعور و احساس سے سرشار ہوکر سیاحت کی ہے۔ وہ لوگ جو کسی نئے مقام پر آتے ہیں یا آباد ہوجاتے ہیں یقینی طور پر ایک ایسی دنیا کو اپنے سامنے پاتے ہیں جو مناظر یا مادّی ماحول کی اصطلاح میں اور ساتھ ہی لوگوں کی رسوم، زبان، اعتقادات اور سلوک وعمل میں مختلف ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ ان اختلافات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں اور دیگر جو کچھ حد تک خاص ہوتے ہیں ، انھیں بغور اپنے تذکروں میں رقم کر لیتے ہیں۔ جس میں غیر معمولی اور قابل ذکر باتوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے پاس خواتین کے ذریعہ چھوڑے گئے سفرنامے نہیں ہیں۔ حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ بھی سیاحت کیا کرتی تھیں۔

محفوظ بچے تذکرے، موادمضمون کی اصطلاح میں مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ کچھ دربار کی سرگرمیوں سے متعلق ہوتے ہیں جب کہ دیگر مذہبی مسائل پر مرکوز ہوتے ہیں یا فن تعمیر monumentsکی خصوصیات اوریاد گاروں پرمرکوز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پندرھویں صدی میں وجے نگر شہر (باب 7) کے سب سے اہم تذکروں میں سے ایک تذکرہ ہرات سے آئے ایک سفیر عبدالرزّاق سمرقندی سے حاصل ہوتا ہے۔

کئی مرتبہ سیاح دور دراز علاقوں میں نہیں جاتے تھے۔ مثلاً مغل سلطنت (باب 8اور9) میں، انتظامیہ کے افسران کبھی کبھی سلطنت کے اندر ہی سفر کیا کرتے تھے اور اپنے مشاہدات قلمبند کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ اپنے ہی ملک کے مقبول رسوم ورواج ، روایات وعقائد ، عوامی حکاتیوں (Folklore)میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اس باب میں ہم یہ دیکھیں گے کہ بر صغیر میں آئے سیاحوں کے ذریعہ بیان کیے گئے سماجی تذکروں کے مطالعہ سے ہم کس طرح اپنے ماضی کے متعلق علم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہم تین افراد کے تذکروں پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے : البیرونی، جو گیارھویں صدی میں ازبیکستان سے آیا تھا۔ ابن بطوطہ (چودھویں صدی میں) مراقش(Morocco)سے اور فرانسیسی سیاح فرانس برنیئر (Francois Bernier)سترھویں صدی میں برصغیر ہند میں آیا تھا۔

 پوری طرح سے مختلف سماجی و ثقافتی ماحول سے آنے کے سبب یہ مصنفین روزمرہ کی سرگرمیوں اور رسم ورواج کے تئیں عموماً زیادہ متوجہ رہتے تھے  جب کہ مقامی مصنّفین کے لیے یہ عام موضوعات تھے اور تذکروں میں درج کرنے کے قابل نہیں تھے۔ نظریہ میں اختلاف ہی سفر ناموں کو زیادہ دلچسپ بناتاہے۔ سیاح سفرنامے کس کے لیے تحریر کرتے تھے؟ ہم دیکھیں گے کہ 
ان کے جوابات الگ الگ مثالوں میں مختلف ہیں۔
1

 شکل ۔5۔1(a) 

پان کے پتے

2

شکل 5.1(b)

ناریل ، ک‎‎‎‎‎‎‎  سیاحوں لے ناریل اورپان جیسی اشیا کو غیر معولی سمجھا ہے

ماخذ1



البیرونی کے مقاصد

البیرونی نے اپنے کام کا ذکر اس طرح کیا ہے: 

ان لوگوں کے لیے معاون جو ان سے (ہندوؤں) مذہبی مسائل پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اطلاعات کا خزانہ جوان کے ساتھ متعلق ہونا چاہتے ہیں۔

البیرونی کی کتاب کا یہ اقتباس پڑھیے (ماخذ5) اور بحث کیجیے کہ کیا یہ کتاب ان مقاصد کو پورا کرتی ہے۔


متون ترجمے،

خیالات کی شمولیت

کئی زبانوں میں مہارت حاصل کرنے کے سبب البیرونی ، زبانوں کا موازنہ اور کتابوں کا ترجمہ کرنے کے قابل ہوا۔ اس نے کئی سنسکرت کتابوں بشمول پتنجلی کی قواعد کی تصنیف کا عربی میں ترجمہ کیا۔ اپنے برہمن دوستوں کے لیے اقلیدس(Euclid)،ایک یونانی ریاضی داں، کے کاموں کا سنسکرت میں ترجمہ کیا۔

1۔ البیرونی اور کتاب الہند

1.1خوارزم سے پنجاب تک

البیرونی کی پیدائش 973 عیسوی میں جدید از بیکستان میں واقع خوارزم میں ہوئی تھی۔ خوارزم ایک علمی وتعلیمی مرکز تھا۔ البیرونی نے اس وقت کی ممکن الحصول اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ کئی زبانوں جیسے شامی (سیریائی) فارسی ، عبرانی (ہیبرو) اور سنسکرت کا عالم تھا ۔ حالانکہ وہ یونانی زبان نہیں جانتا تھا  تاہم  وہ افلاطون (Plato)نیز دیگر یونانی فلسفیوں کے کاموں سے واقف تھا۔ جن کے اس نے عربی تراجم پڑھے تھے۔ 1017عیسوی میں خوارزم پر حملے کے بعد سلطان محمود، یہاں کے کئی عالموں اور شعرا کو اپنے ساتھ اپنے دارالسلطنت غزنی لے گیا تھا۔ البیرونی بھی ان میں سے ایک تھا۔ وہ بطور یرغمال غزنی آیا تھا مگر آہستہ آہستہ یہ شہر اس کی پسند بنتا گیا اور تاحیات  اس نے اپنی زندگی یہیں بسر کی۔70سال کی عمر میں اس کی وفات ہوئی۔

غزنی میں ہی البیرونی کی ہندوستان کے تئیں دلچسپی پیدا ہوئی۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ آٹھویں صدی سے ہی سنسکرت میں لکھی علم فلکیات ، ریاضی اور طب سے متعلق کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہونے لگا تھا۔ پنجاب کے غزنی سلطنت کا حصہ بن جانے کے بعد مقامی لوگوں سے ہوئے رابطوں نے آپسی اعتماد اور فہم پیدا کرنے میں مدد کی ۔ البیرونی نے برہمن پروہتوں اور عالموں کے ساتھ کئی سال گزارے ،سنسکرت، مذہب اور فلسفہ کا علم حاصل کیا۔ حالانکہ اس کے سفر کی تفصیلات واضح نہیں ہیں پھر بھی خیال کیا جاتا ہے  کہ اس نے پنجاب اور شمالی ہندوستان کا وسیع سفر کیا تھا۔

اس کے تحریر کرنے کے زمانے میں ہی سیاحتی ادب (سفر نامے) عربی ادب کا ایک قابل قبول حصہ بن چکا تھا۔ یہ ادب مغرب میں صحارا ریگستان سے لے کر شمال میں وولگا ندی تک پھیلے علاقوں سے متعلق ہے۔ گرچہ 1500عیسوی سے قبل ہندوستان میں البیرونی کو کچھ ہی لوگوں نے پڑھا ہوگالیکن ہندوستان سے باہر ممکن ہے  بہت سے  افراد اسے پڑھ چکے ہوں۔

1.2  کتاب الہند

 البیرونی کی تخلیق ’’کتاب الہند‘‘ کی عربی تحریرآسان اور واضح ہے۔ یہ ایک ایسی ضخیم کتاب ہے جو مذہب اور فلسفہ، تیوہاروں ، علم فلکیات، علم کیمیا، رسم ورواج ، عقائد، معاشرتی زندگی،وزن و پیمائش، مجسمہ سازی، قانون اور نظام وزن و پیمائش جیسے مضامین پر 80 ابواب میں منقسم ہے۔ 

عام طور سے (حالانکہ ہمیشہ نہیں) البیرونی نے ہر باب میں ایک جداگانہ رو ش اختیار کی ہے ۔ ہر باب کی ابتدا ایک سوال سے ہوتی ہے اور پھر سنسکرت روایات پر مبنی وضاحت کے تسلسل اور دوسرے ثقافتی موازنہ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ موجودہ دور کے چند دانشور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ تقریباً ہندسی ساخت (Geometric Structure)ہے جو اپنی صحت اور پیش بینی کی صلاحیت کے لیے قابل تعریف ہے اور بڑی حد تک ان کے ریاضیاتی فیصلوں سے مستعار بھی ہے۔

البیرونی جس نے کتاب تحریر کرنے کے لیے عربی زبان کا استعمال کیا تھا۔ممکن ہے اپنی کتاب برصغیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے تحریر کی ہو۔ وہ سنسکرت ، پالی اور پراکرت کتابوں کے عربی زبان میں ترجموں اور تصرف سے واقف تھا۔ اس میں فرضی قصوں سے لے کر علم فلکیات اور طب سے متعلق کتابیں شامل تھیں۔لیکن ساتھ ہی ان کتابوں کے مواد تحریر کی طرز کے ضمن میں اس کا نقطۂ نظر تنقیدی تھا۔ یقینی طور سے وہ اس میں اصلاح کرنا چاہتا 

نظامِ وزن و پیمائش (Metrology)پیمائش کی سائنس ہے۔

ہندو

اصطلاح ’’ہندو‘‘ تقریباً پانچویں چھٹی - صدی قبل مسیح میں مستعمل قدیم فارسی لفظ سے نکلی ہے جس کا استعمال سندھ ندی کے مشرقی علاقوں کے لیے ہوتا تھا۔ عربوں نے اس فارسی لفظ کو مستعمل رکھا اور اس علاقے کو ’’الہند‘‘ کہا ۔ بعد میں ترکوں نے سندھ کے مشرق میں رہنے والے لوگوں کو ’’ ہندو‘‘ اور ان کی سرزمین کو ’’ ہندوستان ‘‘ اور ان کی زبان کو  ’’ہندوی‘‘ کا نام دیا ۔ ان میں سے کوئی بھی اصطلاح لوگوں کی مذہبی شناخت کی مظہر نہیں تھی۔مدتوں بعد اس اصطلاح کا اطلاق مذہب کے ساتھ کیا جانے لگا ۔

بحث کیجیے۔۔۔۔۔

اگر البیرونی اکیسویں صدی میں ہوتا تو یہی زبانیں جاننے پر اسے دنیا کے کن علاقوں میں آسانی سے سمجھاجاسکتا تھا؟

3

شکل 5.2
تیرھویں صدی کے عربی قلمی نسخے کی ایک تصویر جس میں چھٹی صدی بل مسیح کے ایتھینز شہر کے سیاستداں اور شاعر سولون کو طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ان کے لباس پر غور کیجیے جن میں انہیں دکھایا گیا ہے۔
 ← یہ لباس یونانی ہیں یا عربی

اپنا گھونسلہ چھوڑتا ہوا پرندہ

یہ رحلہؔ سے لیا گیا ایک اقتباس ہے:
میرے مقام پیدائش تنجیار سے میری روانگی جمعرات کو ہوئی........میں اکیلا ہی نکل پڑا .......نہ ہی کوئی ہمسفر .......اور نہ کوئی قافلہ جس میں شامل ہو سکتا، لیکن اپنی دلی خواہش اور جذبات سے مغلوب میں اُن مقدس مقامات کو دیکھنے نکل پڑا ، جو برسوں سے میرے سینے میں پل رہی تھیں اور میرے ارادے کو تقویت بخش رہی تھیں۔ اس لیے میں نے اپنے عزیزوں ، مرد ، عورت اور اپنے گھر کو خیر آباد کہا جیسے پرندے اپنے گھر گھونسلے سے نکل پڑتے ہیں...... اس وقت میری عمر 22سال تھی۔
اپنی روانگی کے تقریباً 30سال بعد ابن بطوطہ 1354 میں واپس اپنے گھر لوٹا۔

شکل 5.3
ڈاکومسافروں پر حملہ کرتے ہوئے۔ سولہویں صدی کی مغل پینٹنگ

←  آپ ڈاکوؤں اور مسافروں کے درمیان کیسے فرق کریں گے؟

2۔ ابن بطوطہ کا رحلہ

2.1 ایک ابتدائی عالمی سیاح

ابن بطوطہ کی عربی زبان میں تحریر سیاحت کی کتاب جسے’رحلہ ‘ کہا جاتا ہے۔ چودھویں صدی کے برصغیر ہند کی سماجی اور ثقافتی زندگی کے متعلق تفصیلی اور دلچسپ معلومات فراہم کراتی ہے۔ مراکش کے اس سیاح کی پیدائش تنجیار کے ایک باعزت اور تعلیم یافتہ خاندان میں جو اسلامی مذہبی قانون یعنی شریعت میں خصوصی مہارت کے لیے مشہور تھا، میں ہوئی تھی۔ اپنی خاندانی روایت کے بموجب ابن بطوطہ نے کم عمر میں ہی ادبی اور مکتبی تعلیم حاصل کرلی تھی۔
اپنے طبقے کے دیگر افراد کے برخلاف ابن بطوطہ کتابوں کے مقابلے سیاحت سے حاصل تجربات کو علم اور معلومات کازیادہ اہم ذریعہ مانتا تھا۔ اسے سیاحت کا بہت شوق تھا۔ وہ نئے نئے ممالک اور لوگوں کے متعلق جاننے کے لیے دور دراز کے مقامات تک گیا۔ 1332-33میں ہندوستان کے لیے روانہ ہونے سے قبل وہ مکہ کے زیارتی سفر (حج) اور شام (سیریا)، عراق ، فارس (ایران) ، یمن،عمان اور مشرقی افریقہ کے کئی ساحلی تجارتی بندرگاہوں کی سیاحت کر چکا تھا۔
وسط ایشیا کے زمینی راستے سے ہوکر ابن بطوطہ 1333میں سندھ پہنچا۔ اس نے دہلی کے سلطان محمد بن تغلق کے بارے میں سنا تھا اور فن و ادب کے ایک  قدر داں کی حیثیت سے اس کی شہرت کی کشش سے متاثر ہوکر ابن بطوطہ ملتان اور کچھ کے راستے سے دہلی کی طرف روانہ ہوا۔ سلطان اس کی علمیت سے متاثر ہوا، اسے دہلی کا قاضی یعنی جج مقرر کیا ۔ وہ اس عہدہ پر کئی سال تک رہا مگر اس نے اپنا اعتماد کھو دیا اور اُسے قید کر دیا گیا۔ بعد میں سلطان اور اس کے درمیان کی غلط فہمی دور ہونے کے بعد اس کو شاہی خدمت میں بحال کر دیا گیا۔ 1342میں ا ُسے منگول حکمراں کے پاس سلطان کے سفیر کی حیثیت سے چین جانے کا حکم دیا گیا۔
اپنی نئی تفویض کے ساتھ ابن بطوطہ وسطی ہندوستان کے راستے   مالا بارساحل کی طرف روانہ ہوا۔ مالابار سے وہ مالدیپ گیا جہاں وہ اٹھارہ مہینے قاضی کے عہدہ پر فائز رہا۔ بالآخر  اس نے سری لنکا جانے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں ایک بار پھر وہ مالابار ساحل اور مالدیپ گیا۔ چین جانے کے اپنے مشن کو دوبارہ شروع کرنے سے قبل وہ بنگال اور آسام بھی گیا۔ وہ جہاز سے سماترا گیا اور سماتراسے ایک دوسرے جہاز سے چین کے بندرگاہی شہر زیاتن(Zaytun)(اب قوانز ہو،Quanzhouکے نام سے جانا جاتا ہے) گیا۔ اس نے چین میں خوب سیاحت کی۔ وہ بیجنگ تک گیا لیکن وہاں وہ طویل عرصے تک نہیں ٹھہرا۔1347میں اس نے اپنے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ چین کے ضمن میں اس کے سفر نامہ کا موازنہ مارکوپولو، جس نے تیرھویں صدی کے آخر میں وینس سے روانہ ہوکر چین ( اور ہندوستان کا بھی) کا سفر کیا تھا، کے سفر نامے سے کیا جاتا ہے۔
سفر کرنا بہت زیادہ محفوظ بھی نہیں تھا۔ ابن بطوطہ پر کئی مرتبہ ڈاکوؤں کے گروہوں نے حملے کیے تھے۔ درحقیقت وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کارواں میں سفر کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔ لیکن اس طرح بھی شاہراہوں کے لیٹروں کو روکانہیں جاسکتا تھا ۔ ملتان سے دہلی کے سفر کے دوران اس کے کارواں پر حملہ ہوا تھا اور اس کے کئی ساتھی مسافروں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ جو زندہ بچ گئے تھے۔ ان میں ابن بطوطہ بھی تھا، سب شدید زخمی ہوگئے تھے۔

6

شکل 5.3

ڈاکومسافروں پر حملہ کرتے ہوئے۔ سولہویں صدی کی مغل پینٹنگ
آپ ڈاکوؤں اور مسافروں کے درمیان کیسے فرق کریں گے؟

7
شکل 5.4
ایک کشتی میں سوار مسافر، بنگال کے ایک مندر میں ٹری کوٹا مجسمہ سازی، (تقریباً سترہویں -اٹھارہویں صدی)
آپ کے خیال میں کچھ مسافر ہتھیار کیوں لیے ہوئے ہیں؟

بے یار و مددگار  سیاح  (The Lonely Traveller)

طویل سفر میں صرف لٹیرے ہی ایک خطرہ نہیں تھے، مسافر وطن کی یاد میں افسردہ ہوسکتا تھا یا بیمار پڑ سکتا تھا۔ یہاں ’رحلہ‘ سے لیا گیا ایک اقتباس پیش ہے:
مجھ پر بخار کا حملہ ہوا تھا۔ میں نے کمزوری کے سبب گرنے سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو پگڑی کے کپڑے سے زین کے ساتھ باندھ لیا....... آخر کار ہم تیونس شہر پہنچے اور وہاں کے باشندے  اور  قاضیکا لڑکا استقبال کرنے کے لیے شہر کے باہر آئے۔ چاروں طرف سے لوگ خیر مقدم کے لیے آگے بڑھے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی میرا استقبال نہیں کیا۔ کیونکہ وہاں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس سے میرا تعارف ہو، اپنے اکیلے پن سے میں اتنا اداس ہوا کہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو میں روک نہیں سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رودیا ۔ مگر ایک زائر میری غمگینی کے سبب میرے پاس آیا اور میرا خیر مقدم کیا.........

نقشہ1

افغانستان ، سندھ اور پنجاب کے وہ  مقامات،جن کی ابن بطوطہ  نے سیاحت کی
 کئی مقامات کے نام اسی طرح لکھے گئے ہیں جس طرح ابن بطوطہ انھیں جانتا تھا۔

8
←  اکیل کی مدد سےنقشے میں ملتان اور دہلی کے درمیان دیے گئے نقشے میں فاصلے کی اسکیل سے پیمائش کیجیے۔

2.2  ’’تجسس کا لطف‘‘

 جیسا کہ ہم نے دیکھا ابن بطوطہ ایک تجربہ کار سیاح تھا۔ جس نے اپنے آبائی وطن مراقش واپس جانے سے قبل کئی سال شمالی افریقہ ، مغربی ایشیا، وسطی ایشیا کے کچھ علاقے (ہو سکتا ہے کہ وہ روس بھی گیا ہو) برصغیر ہندوستان اور چین کے سفر کیے تھے۔ جب وہ واپس آیا تو مقامی حکمراں نے حکم دیا کہ اس کی کہانیوں کو قلمبند کیا جائے۔

تعلیم اور تفریح

ابن جو زی نے  جسے ابن بطوطہ کی عبارت (تحریر) املا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، اپنے ابتدائیہ میں لکھا ہے:
(حکمراں کے ذریعہ) ایک مشفقانہ ہدایت دی گئی کہ وہ ( ابن بطوطہ) اپنے سفر کے دوران دیکھے گئے شہروں کا نیز اپنی یاداشت میں محفوظ دلچسپ واقعات کواملا کروائیں یعنی تحریر کروائیں اور ساتھ ہی مختلف ممالک کے حکمرانوں میں سے جن سے وہ ملیں، ان کے ممتاز علماکے نیز ان کے برگزیدہ بزرگوں کے متعلق بتائیں۔ اس کے مطابق انھوں نے ان سبھی مضامین پر بیان لکھوایا۔ جس نے ذہن کو تفریح، کا نوں اورآ نکھوں کو خوشی عطا کی۔ ساتھ ہی انھوں نے کئی قسم کے غیر معمولی تذکرے جن کا ذکر کرنے سے روحانی تسکین ہوتی ہے ، بیان کیے اور شاندار چیزوں کے بارے میں بتایا جن کے حوالے سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

 ابن بطوطہ کے نقش قدم پر

1400سے 1800کے درمیان ہندوستان میں آئے سیاحوں نے فارسی میں کئی سفر نامے تحریر کیے ہیں۔ اسی زمانے میں ہندوستان سے وسط ایشیا ، ایران اور عثمانی سلطنت کی سیاحت کرنے والوں نے بھی گاہے بگا ہے اپنے تجربات تحریر کیے ہیں ۔ ان مصنّفین نے البیرونی اور ابن بطوطہ کے نقش قدم کی پیروی کی ہے۔ ان میں کچھ نے ان ابتدائی مصنّفین کو پڑھا بھی تھا۔
ان مصنّفین میں سے سب سے مشہور عبدالرزّاق سمر قندی ہے جس نے 1440 کی دہائی میں جنوبی ہندوستان کا سفر کیا تھا ۔ محمود ولی بخش جس نے 1620کی دہائی میں دور دراز تک سیاحت کی تھی۔ نیز شیخ علی حزیں جو1740کی دہائی میں شمالی ہندوستان آئے تھے، شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ مصنّفین ہندوستان سے مسحور تھے اور یہاں تک کہ ان میں سے ایک محمود بلخی تو کچھ وقت کے لیے سنیاسی بھی بن گئے تھے۔ کچھ دیگر جیسے حزیں ہندوستان سے مایوس ہوئے ، یہاں تک کہ نفرت بھی کرنے لگے۔ وہ ہندوستان میں اپنے لیے ایک شاندار سلوک کی امید رکھتے تھے۔ ان میں سے زیادہ ترنے ہندوستان کو عجائبات کے ملک کی صورت میں دیکھا تھا۔


9

شکل 5.5

اٹھارہویں صدی کی ایک پینٹنگ جس میں سیاحوں کو آگ کے اردگرد مجتمع دکھایا گیا ہے۔

گفتگو کیجیے۔۔۔۔۔۔۔

البیرونی اورابن بطوطہ کے تحریر کردہ تذکروں کے مقاصد کا موازنہ کیجیے۔

10

شکل 5.6

سترہویں صدی کی ایک تصویر میں برنیئر کو یوروپی پوشاک پہنے دکھایا گیا ہے۔

3۔  فرانسس برنیئر

ایک منفرد ڈاکٹر (معالج)

تقریباً 1500کے قریب پرتگالیوں کے ہندوستان آنے کے بعد ان میں سے بعض لوگوں نے ہندوستانی رسم ورواج اور مذہبی معمولات کے متعلق مفصل روداد یں لکھیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے جیسے جیسوئٹ روبرٹونو بیلی(Jesuit Roberto Nobili)نے تو ہندوستانی گرنتھوں کا یوروپی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا۔
ان میں سب سے معروف مصنّفین میں ایک نام دوارتے باربوسا(Duarte Barbosa) کا ہے جس نے جنوبی ہندوستان کی تجارت اور سماج کا ایک تفصیلی بیان قلمبند کیا ہے۔ بعد میں 1600کے بعد ہندوستان میں آنے والے ڈچ، انگریز اور فرانسیسی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ ان میں سب سے مشہور نام فرانسیسی جو ہری جین بیپ ٹیسٹ ٹَوَرنئیر (Jean Baptiste Tavernier) کا تھا، جس نے کم از کم چھ مرتبہ ہندوستان کا سفر کیا۔ وہ خاص طور پر ہندوستان کے تجارتی حالات سے بہت مسحور تھا۔اس نے ہندوستان کا موازنہ ایران اور عثمانی سلطنت سے کیا۔ ان میں سے کئی سیاح جیسے اطالوی معالج منوچی(Manucei) کبھی بھی یوروپ واپس نہیں گئے اور ہندوستان ہی کو ہی مسکن بنا لیا۔ 
فرانس کا رہنے والا فرانسس برنیئر ایک معالج، سیاسی فلسفی نیز ایک مؤرخ تھا۔ دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی مغل سلطنت میں مواقع کی تلاش میں آیا تھا۔ وہ بارہ سال تک 1656سے 1668 تک ہندوستان میں رہا ۔ پہلے شہنشاہ شاہ جہاں کے بڑے بیٹے داراشکوہ کے معالج کے طور پر مغل دربار سے وابستہ رہا اور بعد میں ایک آرمینیائی امیر دانشمندخان کے ساتھ ایک دانشور اور سائنسداں کی شکل میں مغل دربار سے وابستہ رہا۔
11
شکل 5.7
ہندوستانی لباس میں ٹیورنیٹر کی تصویر

3.1’’ مشرق ‘‘ اور ’’مغرب ‘‘ کا موازنہ

برنیئر نے ملک کے کئی علاقوں کی سیاحت کی اور جو دیکھا اس کی روداد لکھی ۔ اس نے یہاں کے حالات کا موازنہ یوروپی حالات سے کیا ۔ اس نے اپنی اہم تحریر فرانسیسی حکمراں لوئی چودھواں (Louis XIV) کے نام معنون کیا ۔ اور اپنی بعض دوسری تحریروں کو با اثر عہدیداروں اور وزرا کو خطوط کی شکل میں پیش کیا ۔ یوروپی ترقی سے ہندوستان کا موازنہ کرتے ہوئے برنیئر نے ہندوستان کے حالات کو مایوس کن بتایا ۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ اُس کے بیشتر مشاہدے درست نہیں تھے اس کے باوجود جب بھی اس کی کوئی تحریر شائع ہوتی ، بے حد مقبول ہوتی 

ماخذ 4

مغل فوج کے ساتھ سفر

 برنیئر نے کئی مرتبہ مغل فوج کے ساتھ سفر کیا تھا۔ یہاں فوج کے کشمیر کوچ کرنے کے تعلق سے تحریر کردہ تذکرے کا ایک اقتباس پیش کیا جارہا ہے:
اس ملک کے رواج کے مطابق مجھ سے دو عمدہ ترکمانی گھوڑے رکھنے کی امید کی جاتی ہے۔ میں اپنے طاقتور فارسی اونٹ اور کوچ بان، اپنے گھوڑے کے لیے ایک سائس، ایک خام نامہ نیز ایک خدمت گار جو اپنے ہاتھوں میں پانی کا برتن لے کر میرے گھوڑے کے آگے چلتا ہے، بھی رکھتا ہوں۔ مجھے استعمال کی ہرشے دی گئی۔ جیسے ایک مناسب سائز کا خیمہ، ایک دری ، چار بہت مـضبوط پر ہلکے بیدسے بنا ایک سفری پلنگ، ایک تکیہ، ایک بستر، کھانے کے وقت کے لیے مناسب گول شکل کا چمڑے کا میزپوش ، رنگے ہوئے کپڑے کے کچھ رومال ،کھانا بنانے کے برتن سے بھرے تین چھوٹے تھیلے جو سبھی ایک بڑے تھیلے میں رکھے ہوئے تھے اور یہ تھیلا بھی ایک لمبے چوڑے نیز مضبوط دوہرے بورے اور چمڑے کے تسمے سے بنے جال میں رکھا تھا، اسی طرح اس دوہرے بورے میں آقا اور خدمت گاروں کی غذائی اشیا، سوتی کپڑے اور لباس رکھے گئے ہیں۔ میں نے احتیاط سے پانچ یا چھ دنوں کے صرفہ کے لیے عمدہ چاول، سونف (ایک جڑی بوٹی) کی خوشبو والے میٹھے  بسکٹ، لیمو نیزچینی کا ذخیرہ ساتھ رکھا۔ ساتھ ہی دہی نتھارنے مناسب چھوٹے لوہے کے ہک والے تھیلے لینا بھی نہیں بھولا تھا۔ اس ملک میں لیموں کے شربت اور دہی سے زیادہ تازگی بھری کوئی شے نہیں ہے۔
 برنیئر کی فہرست میں سے کون سی اشیا ایسی ہیں جوآج سفر میں آپ ساتھ لے جانا چاہیں گے؟
 

ہندوستان کے متعلق خیالات

 کی تخلیق اور اشاعت

یوروپی سیاحوں کی تحریروں اور ان کی کتابوں کی طباعت واشاعت کی مدد سے یوروپی لوگوں میں  ہندوستان کی ایک شبیہ پیدا کرنے میں مدد ملی۔ بعد میں 1750کے بعد جب شیخ اعتصام الدین اور مرزاابوطالب جیسے ہندوستانیوں نے یوروپ کا سفر کیاتو انھیں یوروپی لوگوں میں موجود  ہندوستانی سماج کی شبیہ کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے حقائق و مواد کو اپنی تشریح کے مطابق ترتیب دیا اور اپنے طریقہ سے ترتیب دے کر متاثر کرنے کی کوشش کی۔


بحث کیجیے... 

ہندوستانی زبانوں میں بڑی مقدار میں سیاحتی ادب دستیاب ہے۔ آپ اپنے گھر میں بولی جانے والی زبان کے سیاح مصنّفین کے متعلق معلوم کیجیے ۔کسی ایک ایسی روداد کو پڑھیے اور سیاح کے ذریعہ دیکھے گئے علاقوں، اس نے جو خود دیکھے اور اس کے ذریعہ روداد لکھے جانے کے اسباب بیان کیجیے


 برنیئر کی تحریریں 1670-71میں فرانس میں شائع ہوئیں تھیں۔ اگلے پانچ برسوں کے اندر ہی انگریز، ڈچ، جرمن اوراطالوی زبانوں میں ان کا ترجمہ ہوگیا تھا۔ 1670 اور1725کے درمیان اس کا سفر نامہ فرانسیسی زبانوں میں آٹھ بار از سرنو شائع ہوچکا تھا ۔1684تک یہ تین مرتبہ انگریزی میں شائع ہوا تھا۔

غیر معمولی وسعت

والی  زبان 

سنسکرت کے متعلق البیرونی لکھتا ہے:
اگر آپ اس (یعنی سنسکرت زبان سیکھنے کی) زبان پر فتح پانا چاہتے ہیں تو آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ عربی کی ہی طرح ، الفاظ اور گردان، دونوں میں اس زبان کی غیر معمولی وسعت ہے۔ اس میں ایک ہی چیز کئی الفاظ، بنیادی اورمشتق دونوں، بولے جاتے ہیں جنھیں مناسب طور پر سمجھنے کے لیے مختلف قابل وصف طریقے سے ایک دوسرے سے الگ کیا جانا ضروری ہے۔

خدا ہی بہتر جانتا ہے!

سیاح بتائی گئی باتوں پر ہمیشہ یقین نہیں کرتے ۔ البیرونی کو جب ایک لکڑی کے مجسمے کے بارے میں پتا چلا جو کہانی کی رو سے 2,16,432 سال تک وجود میں رہی ، تو البیرونی پوچھتا ہے۔
 لکڑی اتنے طویل عرصے تک کیسے وجود میں رہی ہوگی ، خاص طور پر ایسے مقام پر جہاں ہوا اور مٹی کافی نم ہوتی ہے؟ خدا ہی بہتر جانتا ہے!

4۔ ایک اجنبی دنیا کے فہم کی تعمیرالبیرونی اور سنسکرت روایت

4.1 فہم کے لیے رکاوٹوں سے نبردآزمائی

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے،سیاحوں نے برصغیر ہند میں جو بھی دیکھا عموماً اس کا موازنہ انھوں نے ان معمولات سے کیا جن سے وہ واقف تھے۔ ہر سیاح نے اسے سمجھنے کے لیے ایک الگ طریقہ اپنایا۔ مثلاً البیرونی اپنے لیے ایک متعین تفویض میں پوشیدہ مشکلات سے واقف تھا۔ اس نے کئی رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے جو اس کے فہم میں مانع تھیں ۔ ان میں سب سے پہلی رکاوٹ زبان تھی۔ اس کے مطابق سنسکرت، عربی اور فارسی سے اتنی مختلف تھی کہ خیالات و نظریات کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا آسان نہ تھا۔ اس نے مذہبی عقائد اور اس پر عمل آوری کی دوسری رکاوٹ کے طور پر نشاندہی کی۔ تیسری رکاوٹ مقامی باشندوں کی خود انہماکی اور تنگ نظری تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے علم کے باوجود البیرونی نے مکمل طور پر برہمنوں کے ذریعہ لکھی گئی کتابوں پر انحصار کیا ۔ اس نے ہندوستانی سماج کو سمجھنے کے لیے اکثر ویدوں ، پرانوں ، بھگوت گیتا ، پتنجلی کی تحریروں اور منو سمرتی سے اقتباسات نقل کیے۔

4.2 البیرونی کا ذات پات کے نظام کابیان

البیرونی نے دیگر سماجوں میں موجود متوازی ذات پات کے نظام کے ذریعہ سے ذات پات کے نظام کو سمجھنے اور تشریح کرنے کی کوشش کی۔ اس نے لکھا ہے کہ قدیم فارس (ایران) میں چار سماجی درجات تسلیم شدہ تھے۔ شہسوار اور شہزادے؛ راہب، آتش پرست، پجاری اور وکلا؛ اطبا، ہئیت داں اور دیگر سائنسداں اور آخر میں کسان اور دستکار۔ دوسرے الفاظ میں وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ سماجی تقسیم صرف ہندوستان تک محدود نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اشارہ دیا کہ اسلام میں سبھی لوگوں کو برابر تسلیم کیاجاتا ہے۔ ان میں فرق صرف تقویٰ کی بنیادپر ہوتا ہے۔
ذات پات کے نظام کے تعلق سے برہمن وادی تفصیل و تعبیر کو تسلیم کرنے کے باوجود البیرونی نے آلودگی کے خیال کو قبول نہیں کیا۔ اس نے لکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو آلودہ ہوجاتی ہے واپس اپنی اصل حالت میں آنے کی کوشش کرتی ہے اور کامیاب ہوتی ہے۔ سورج ہوا کو خالص کرتا ہے اور نمک سمندر میں پانی کو آلودگی سے بچاتا ہے۔ البیرونی پُر زور اندازمیں کہتا ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو زمین پر زندگی ناممکن ہوتی۔
ماخذ 5

ورنوں کا نظام

البیرونی نظام ورن کا ذکر یوں کرتا ہے:
سب سے اعلیٰ ذات برہمن کی ہے۔ جن کے متعلق ہندوؤں کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہ برہماکے سرسے پیدا ہوئے تھے کیونکہ برہمن قدرت نامی طاقت کا دوسرا نام ہے۔ اور ’سر‘ جسم کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے۔ اس لیے برہمن کُل حیوانات کا سب سے چیدہ حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے ہندو انھیں نوع انسانی میں سب سے افضل مانتے ہیں۔
دوسری ذات چھتریوں کی ہے۔ جن کی تخلیق ،جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ برہماکے کندھوں اورہاتھوں سے ہوئی تھی۔ ان کا درجہ برہمنوں سے زیادہ نیچے نہیں ہے۔
اس کے بعد ویش آتے ہیں ۔ان کی پیدائش برہما کی رانوں سے ہوئی تھی، شودر کی پیدائش ان کے پیروں سے ہوئی تھی۔
آخر کے دو طبقوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ لیکن ان طبقوں کے درمیان فرق ہونے کے باوجود بھی یہ ایک ساتھ ہی شہروں اور گاؤں میں ایک جیسے مکانوں اور گھروں میں رہتے ہیں۔


البیرونی نے جو تحریر کیا ہے اس کا موازنہ باب 3  کے ماخذ 6سے کیجیے ۔ کیا آپ نے ان میں کوئی یکسانیت اور فرق پر غور کیا؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ البیرونی نے  ہندوستانی سماج کے متعلق اپنی معلومات اور فہم کے لیے صرف سنسکرت کتابوں پر ہی انحصار کیا؟

جیسا کہ ہم نے دیکھا ، ذات پات کے نظام کے متعلق البیرونی کا بیان اس کی سنسکرت کی معیاری   قانونی کتابوں کے مطالعہ سے غائرطور پر متاثر تھا ۔ ان کتابوں میں برہمنوں کے نقطۂ نظرسے ذات پات کے نظام کو چلانے والے اصولوں کو بیان گیا تھا۔ لیکن حقیقی زندگی میں یہ نظام اتنا بھی سخت نہیں تھا۔ مثلاً انتیاجہ ( لغوی طور پر نظام سے پیدا) نامی درجات سے اکثر یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ کسانوں اور زمینداروں کے لیے سستی محنت (مزدوری) مہیا کرائیں (باب 8بھی ملاحظہ کریں) ۔ باالفاظ دیگر’ حالانکہ یہ اکثر سماجی استحصال کا شکار ہوتے تھے۔ پھر بھی انھیں معاشینیٹ ورک میں شامل کیا جاتا تھا۔



بحث کیجیے...

ایک مختلف علاقے سے آئے سیاح کے لیے ، اس علاقے کی زبان کا علم کتنا ضروری ہے؟


ماخذ 6 

انسانی سرجیسا گری دارمیوہ

ناریل کا تذکرہ ابن بطوطہ اس طرح کرتا ہے:
 یہ درختوں کی قسم میں سب سے منفرداور نشوو نما کے طریقے میں متحیر کن درختوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہو بہو کھجور کے درختوں کی مانند نظر آتے ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ ایک سے گری دار میوہ حاصل ہوتا ہے اور دوسرے سے کھجور۔ ناریل کے درخت کا پھل انسانی سرسے مشابہت رکھتا ہے کیونکہ اس میں بھی مانو دو آنکھیں اور ایک منہ ہے جب وہ ہرا رہتا ہے تو دماغ جیسا نظر آتا ہے۔ اس سے جڑے ریشے بالوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس سے رسّی بناتے ہیں ۔ لوہے کی کیلوں کے استعمال کے بجائے اس سے جہاز کو سیتے (جوڑتے) ہیں۔ وہ اس سے برتنوں کے لیے رسّی بھی بناتے ہیں۔
ناریل کیسے نظر آتے ہیں ۔ اپنے قارئین کو یہ بات سمجھانے کے لیے ابن بطوطہ کس طرح کا تقابل پیش کرتا ہے؟ کیا ہ تشبیہ مناسب ہے؟ وہ کس طرح سے ذہن نشین کراتا ہے کہ ناریل ایک غیر معمولی پھل ہے؟ ابن بطوطہ کا یہ بیان کتنا صحیح ہے؟

5۔ ابن بطوطہ اور غیر مانوس کو جاننے کا تجسس

چودھویں صدی میں ابن بطوطہ دہلی آیا تھا۔ اس وقت تک پورا برّ صغیر ہند ایک ایسے عالمی نیٹ ورک رابطہ کا حصہ بن چکا تھا جو مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں شمالی مغربی افریقہ اوریوروپ تک پھیلا ہوا تھا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ابن بطوطہ نے خود ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر سفر کیے تھے،مقدس مذہبی یاد گاروں کو دیکھا تھا، عالموں اور حکمرانوں کے ساتھ وقت گزاراتھا۔ اکثر قاضی کے عہدہ پر فائز رہا اور شہری مراکزکی عالمی ثقافت سے لطف اندوز ہوا تھا، جہاں عربی ، فارسی، ترکی اور دیگر زبانیں بولنے والے افراد ، خیالات اور تاریخی تفصیلات میں شریک ہوتے تھے۔ اس میں اپنے تقویٰ کے لیے مشہور افراد کی ، ایسے راجاؤں کی جو ظالم اور رحم دل دونوں ہو سکتے تھے اور عام مردو خواتین نیز ان کی زندگیوں کی کہانیاں شامل تھیں اور جو بھی غیر مانوس تھا اس پر خاص طور سے روشنی ڈالی جاتی تھی۔ ایسا یہ یقینی کرنے کے لیے کیا جاتا تھا کہ سامع یا قاری دور دراز کی قابل رسائی دنیا کے تذکروں سے پوری طرح متاثر ہوسکے

5.1   ناریل اور پان

ابن بطوطہ کے طرز بیان کے طریقوں کی کچھ مثالیں ان طریقوں میں ملتی ہیں جن میں وہ ناریل اور پان– دوایسی نبا تاتی پیدا وار جن سے اس کے قارئین پوری طرح ناواقف تھے، کا ذکر کرتا ہے۔

ماخذ 7

پان

پان پر ابن بطوطہ کی وضاحت کا مطالعہ کیجیے۔
پان ایک ایسا درخت ہے جسے انگور کی بیل کی طرح ہی اگایا جاتا ہے...... پان کا کوئی پھل نہیں ہوتا اور اس کو صرف اس کے پتوں کے لیے ہی اگایا جاتا ہے....... اس کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے کھانے سے پہلے چھا لیا لی جاتی ہے۔ یہ جائفل جیسی ہی ہوتی ہے مگر اسے تب تک توڑا (کترا) جاتا ہے جب تک اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نہیں ہوجاتے اور انھیں منہ میں رکھ کر چبایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پان کے پتوں پر تھوڑا سا کتھا رکھ کراس کے ساتھ انھیں چبایا جاتا ہے۔
آپ کے خیال میں اس نے (پان نے) ابن بطوطہ کی توجہ اپنی طرف کیوں مبذول کی؟ آپ اس بیان میں کچھ اور جوڑنا چاہیں گے۔

5.2  ابن بطوطہ اورہندوستانی شہر

ابن بطوطہ نے برصغیر ہند کے شہروں کو ان کے لیے پرجوش مواقع سے بھر پور پایا جن کے پاس ضروری جانفشانی ، وسائل اور مہارت تھی۔ یہ شہر گھنی آبادی والے اور  خوشحال تھے ۔ سوائے کبھی کبھی جنگ اور حملوں سے ہونے والے انتشار کے ۔ ابن بطوطہ کے بیان سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر شہروں میں بھیڑ بھاڑ والی سڑکیں اور منو ّرو رنگین بازار تھے جو مختلف طرح کی اشیا سے بھرے پڑے رہتے تھے۔ ابن بطوطہ دہلی کو نہایت وسیع ، بڑی آبادی کے ساتھ ہندوستان کا سب سے بڑا شہر بتاتا ہے۔ دولت آباد (مہاراشٹر میں) بھی کم بڑا نہیں تھا اور رقبے  میں دہلی کے مدّ مقابل تھا۔
بازار صرف معاشی  لین دین کے مقام ہی نہیں تھے بلکہ یہ سماجی اور معاشی سرگرمیوں کے مراکز بھی تھے۔ زیادہ تر بازاروں میں ایک مسجد اور ایک مندر ہوتا تھا۔ ان میں سے کم ازکم کچھ میں تو رقّاصاؤں، موسیقاروں اور گلوکاروں کے عوامی مظاہرہ کے لیے مقام بھی متعین ہوتے تھے۔
حالانکہ ابن بطوطہ کو شہروں کی خوشحالی کا ذکر کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ مؤرخین نے  اس تحریر کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شہر اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ گاؤں کی فاضل پیدا وار کے تصرف سے حاصل کرتے تھے۔ ابن بطوطہ نے پایا کہ ہندوستانی زراعت کی کثیر پیداواری کا سبب مٹی کی زرخیزی تھی جو کسانوں کے لیے سال میں دو فصلیں پیدا کرنا ممکن بناتی تھی۔اس نے یہ بھی دھیان دیا کہ برِّصغیرکارو بار اور تجارت کے بین ایشیائی نیٹ ورک سے اچھے ڈھنگ سے مربوط تھا۔ ہندوستانی مال کی وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا ، دونوں میں بہت مانگ تھی۔ جس کی وجہ سے دست کار وں اور تاجروں کو بھاری فائدہ ہوتا تھا۔ ہندوستانی کپڑے— خاص طور سے سوتی کپڑے ، باریک ململ، ریشم، زری اور ساٹن کی بہت زیادہ مانگ تھی۔ ابن بطوطہ ہمیں بتاتا ہے کہ باریک ململ کی کئی اقسام اتنی مہنگی تھیں کہ انھیں امرا اور بہت زیادہ مالدار افراد ہی   زیب تن کر سکتے تھے۔

ماخذ 8

دہلی

 جسے اس عہد کی کتابوں میں اکثر دلّی کے نام سے لکھا جاتا تھا، کاتذکرہ ابن بطوطہ اس اقتباس میں یوں کرتا ہے :
دلّی ایک وسیع رقبے میں پھیلا گھنی آبادی والا شہر ہے۔ شہر کی فصیل غیر متوازی ہے۔ دیوار کی چوڑائی گیارہ ہاتھ (ایک ہاتھ تقریباً 18سے 20 انچ) یا نیم گز ہے۔ اس کے اندر رات کے پہرے دار اور دربانوں کے مکانات ہیں۔ اس کے اندر اشیائے خوردنی ، سامان جنگ (میگزین)،گولہ بارود، منجنیقیں اور محاصرہ میں کام آنے والی مشینوں کو رکھنے کے لیے گودام بنے ہوئے ہیں۔ بغیرخراب ہوئے، ان فصیلوں میں اناج طویل عرصہ تک رکھا جاسکتا تھا۔۔۔۔ فصیلوں کے اندرونی حصے میں گھوڑسوار اورپیادہ فوجی شہر کے ایک جانب سے دوسری جانب جایا کرتے تھے ۔ کھڑکیاں شہر کے جانب کھلتی ہیں۔ان ہی کھڑکیوں کے ذریعہ روشنی اندر آتی ہے ۔فصیل کا نچلا حصہ پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے جب کہ اوپری حصہ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں ایک دوسرے کے قریب قریب کئی میناریں بنی ہیں۔ اس شہر کے اٹھائیس ابواب ہیں جنھیں دروازہ کہا جاتا ہے۔ ان میں بدایوں دروازہ سب سے بڑا ہے۔ مانڈوی دروازے کے اندر ایک اناج منڈی ہے۔ گل دروازے کے بغل میں پھولوں کا باغیچہ ہے.......... اس (دہلی شہر) میں ایک بہترین قبرستان ہے جس میں موجود قبروں کے اوپرگنبد بنا ہے۔ اور جن قبروں کے اوپرگنبد نہیں ہے ان پر ایک محراب ہے۔ قبرستان میں چنبیلی اور جنگلی گلاب وغیرہ پھول اگائے جاتے ہیں اور یہاں پھول سبھی موسم میں کھلے رہتے ہیں۔
شکل 5.8 (اوپر)
تغلق آباددہلی کا ایک دروازہ
شکل 5.9 (دائیں)
 بستی کی قلعہ بند دیوار کا ایک حصہ

12
شکل 5.8 (اوپر)
تغلق آباددہلی کا ایک دروازہ
شکل 5.9 (دائیں)
 بستی کی قلعہ بند دیوار کا ایک حصہ

13


ابن بطوطہ نے فنِّ تعمیر کی کن خصوصیات پر توجہ دی ہے؟
شکل 5.8اور5.9 سے اس بیان کا موازنہ کیجیے۔


14
شکل 5.10
اس طرح کی ’’ اکات ‘‘ بُنائی کے نمونے برِّصغیر ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا  کے کئی ساحلی پیداواری مراکز میں اپنائے گئے اور ان میں ترمیم کی گئی۔
آپ کے خیال میں ابن بطوطہ نے ان سرگرمیوں کا ذکر کیوں کیا؟

ماخذ 9

بازار میں موسیقی

دولت آباد کے متعلق ابن بطوطہ کا بیان پڑھیے:
دولت آباد میں مرد اور خواتین گلوکاروں کا ایک بازار ہے جسے طرب آباد کہتے ہیں۔ یہ بہت خوبصورت اور وسیع بازاروں میں سے ایک ہے۔ یہاں بہت سی دوکانیں ہیں ۔ہر دوکان میں ایک ایسا دروازہ ہوتا ہے جو مالک کے گھر کی جانب بھی کھلتا ہے.......دوکانوں کو قالینوں سے آراستہ کیا گیا ہے اور دوکان کے وسط میں ایک گہوارہ ہوتا ہے جس پر مغنیہ بیٹھتی ہے ۔ اس کی خادمائیں گہوارہ کو ہلاتی رہتی ہیں۔ گہوارہ قیمتی اشیا سے آراستہ ہوتا ہے۔ بازار کے وسط میں ایک بڑی گنبد نما چھت ہے۔ جس میں قالین بچھائے گئے ہیں اوراسے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس میں ہر جمعرات کو فجر کی نماز کے بعد موسیقاروں کا چودھری اپنے خادموں اور غلاموں کے ساتھ آکر بیٹھتا ہے۔ ہر ایک مغنیہ باری باری آکر اس کے سامنے سورج غروب ہونے تک گاتی اور رقص کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ چلا جاتا ہے۔ اس بازار میں عبادت کے لیے مساجد بھی ہیں......... ہندو حکمرانوں میں سے ایک .......جب بھی بازار سے گذرتا تھا  گنبد نما چھت کے عین نیچے اترتا اور مغنیہ اس کے سامنے گانا پیش کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ کچھ مسلمان حکمرانوں نے بھی ایسا ہی کیا۔


ایک حیرت انگیز ملک؟

1440کی دہائی میں عبدالرزّاق کا لکھاسفر نامہ جذبات و مشاہدات کا ایک دلچسپ آمیزہ ہے۔ ایک طرف کیرل میں کالی کٹ (موجودہ کوزی کوڈ ) بندر گاہ پر اس نے جو دیکھا اس کو قابل قدر تسلیم نہیں کیا۔ ’’ یہاں ایسے لوگ آباد ہیں جن کا تصوّر میں نے کبھی نہیں کیا تھا۔‘‘
بعد میں اپنے ہندوستان کے سفر کے دوران وہ منگلور آیا اور مغربی گھاٹ کو پار کیا۔ یہاں اس نے ایک مندر دیکھا جس کو اس نے توصیفی انداز میں بیان کیا ہے۔ 
منگلور سے نومیل کے اندر ہی میں نے ایک مندر دیکھا۔ ایسا میں نے پوری دنیا میں کہیں نہیں دیکھا تھا۔ یہ مربع تھا جس کا ایک ضلع تقریباً 10گز، اونچائی پانچ گز اور جوچار غلام گردشوں کے ساتھ پوری طرح سے ڈھلے ہوئے کانسہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ داخلی دروازے کی غلام گردش میں سونے کی ایک مورتی تھی جو انسان کے مماثل تھی اور سائز میں قدآدم تھی۔ اس کی دونوں آنکھوں میں لال رنگ کے یا قوت اتنی مہارت سے لگائے گئے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مانو وہ آنکھیں دیکھ سکتی ہوں۔ اس دستکاری اور کاریگری کے کیا کہنے!

5.3  پیغامِ رسانی کا ایک انوکھا نظام

تاجروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاست خصوصی اقدامات کرتی تھی۔ تقریباً سبھی تجارتی راستوں پر سرائے اور مسافر خانے بنائے گئے تھے۔ ابن بطوطہ ڈاک کے نظام کی کار گزاری دیکھ کرمتحیررہ گیا۔ اس نظام کے ذریعہ تاجروں کے لیے نہ صرف لمبی دوری تک اطلاعات بھیجنا اور قرض ارسال کرنا ممکن ہوا بلکہ قلیل اطلاع پرمال بھیجنا بھی ممکن ہوتا تھا۔ ڈاک کا نظام اتنا  منظم  تھا کہ جہاں سندھ سے دہلی تک کے سفر میں پچاس دن لگتے تھے، وہیں جاسوسوں کی خبریں سلطان تک اس ڈاک کے نظام کے ذریعہ صرف پانچ دن میں ہی پہنچ جاتی تھیں۔

ماخذ 10

گھوڑے پر اور پیدل

ڈاک کے نظام کا تذکرہ ابن بطوطہ کچھ اس طرح کرتا ہے:
ہندوستان میں دوطرح کی ڈاک کا نظام ہے۔ اسپ ڈاک نظام جسے اُلُق (Uluq) کہا جاتا ہے ۔ جو ہر چار میل کے فاصلے پر واقع مستقر سے شاہی گھوڑوں کے ذریعہ چلتا ہے۔ پیدل ڈاک نظام کے مستقر پر تین منزل پر واقع ہوتے ہیں۔ اسے دعویٰ (Dawa) کہتے ہیں۔ یہ ایک میل کا ایک تہائی ہوتا ہے۔۔۔۔ چونکہ ہر تین میل پر ایک گھنی آبادی والا گاؤں ہوتا ہے۔ جس کے باہر تین شہ نشیں (پویلین) ہوتے ہیں جن میں لوگ کام کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان میں ہرایک کے پاس دو ہاتھ لمبی ایک چھڑ ہوتی ہے جس کے اوپر تابنے کی گھنٹیاں لگی ہوتی ہیں ۔جب ہر کارہ شہر سے سفر شروع کرتا ہے تو ایک ہاتھ میں خط اور دوسرے میں گھنٹیاں لگی چھڑلیے وہ اپنی طاقت کے مطابق تیز دوڑتا ہے۔ جب شہ نشیں میں بیٹھے لوگ گھنٹیوں کی آواز سنتے ہیں تو وہ تیارہوجاتے ہیں۔ جیسے ہی ہرکارہ ان کے قریب پہنچتا ہے۔ ان میں سے ایک اس سے خط لے لیتا ہے اور وہ چھڑہلاتے ہوئے تب تک پوری قوت سے دوڑتا ہے جب تک وہ اگلے ’دعویٰ‘ تک نہیں پہنچ جاتا۔ خط کے اپنے منزل مقصود تک پہنچنے تک یہ عمل چلتا رہتا ہے۔ یہ پیدل ڈاک نظام ،اسپ ڈاک نظام سے زیادہ تیز ہے اور اس کا استعمال اکثر خراسان کے پھلوں کی باربرداری کے لیے ہوتا تھا۔ جنھیں ہندوستان میں بہت پسند کیا جاتا تھا۔

کیا آپ کولگتا ہے کہ پیدل ڈاک کے نظام پر پورے برصغیر ہندوستان میں عمل درآمد کیا جاسکتا تھا؟


گفتگو کیجیے۔۔۔۔۔

ابن بطوطہ ایسی اشیا اور حالات کے مسئلہ کو کیسے حل کرتا تھا جن کو لوگوں نے نہیں دیکھا تھا اور جن کا تجربہ بھی نہیں کیا تھا؟

دور تک پھیلی غریبی

پلسارٹ نامی ایک ڈچ سیاح نے سترھویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں برِّصغیر ہند کی سیاحت کی تھی۔ برنیئر کی ہی طرح وہ بھی لوگوں میں دور تک پھیلی غریبی دیکھ کر حیرت زدہ تھا۔ لوگ ’’ اتنی زیادہ خستہ حال غریبی‘‘ میں رہتے ہیں کہ ’’ ان کی زندگی کو صرف مستقل فقدان کے گھر اور شدید رنج ومصیبت کے مقام کی شکل میں تصویرکشی یا صحیح طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔‘‘ ریاست کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وہ کہتا ہے۔’’ کسانوں کو اتنا زیادہ نچوڑا جاتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لیے ان کے پاس سوکھی روٹی بھی بمشکل بچتی ہے۔‘‘

6۔ برنیئر اور ’’خستہ حال‘‘ مشرق

ابن بطوطہ نے جہاں ہر اس چیز کا تذکرہ کرنا پسند کیا جس نے اس کو اپنے انوکھے پن کے سبب متاثر  اور برانگیختہ کیا تھاوہیں برنیئرایک الگ دانشورانہ روایت سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس نے ہندوستان میں جو کچھ بھی دیکھا  اس کا موازنہ عام طور سے یوروپ اور خاص طور سے فرانس کے حالات سے کرنے اور ان کے درمیان فرق کو اُجاگر کرنے کے تئیں زیادہ متفکرتھا۔ خاص طور سے وہ حالات جنھوں نے اس کو افسردہ کیا تھا۔ اس کا ارادہ پالیسی سازوں اور دانشور طبقے کو متاثر کرنے کا تھا تاکہ وہ ایسے فیصلے لے سکیں جنھیں وہ ’’صحیح‘‘ مانتا تھا۔
برنیئر کا سفر نامہ ’’ ٹریلوس ان دی مغل ایمپائر‘‘(Travels in the Mughal Empire) اپنے تفصیلی مشاہدات ، تنقیدی بصیرت اورتخیل کے لحاظ سے قابلِ ذکر ہے۔ اس کے سفر نامے میں کی گئی بحث میں مغلوں کی تاریخ کو عالمگیر ڈھانچے میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ عہد مغل کے ہندوستان کاموازنہ یوروپ سے کرتاہے اور عموماً  ہندوستان پریوروپ کی فوقیت پر زور دیتا ہے۔ اس کا ہندوستان کا تذکر ہ دوہری مخالفت کے نمونے پر مبنی ہے جہاں ہندوستان کو یوروپ کے بر عکس کم تردکھایا گیا ہے۔ اس نے حق وراثت یا ولی عہدی میں جو اختلافات محسوس کیے انھیں بھی اپنے مشاہدے کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ تاکہ ہندوستان مغربی دنیا کو حقیر نظر آئے۔

6.1 زمین پر ملکیت کا سوال

برنیئرکے مطابق مغل ہندوستان اور یوروپ کے درمیان بنیادی فرق میں سے ایک ہندوستان میں نجی زمین کی ملکیت کا فقدان تھا۔ اس کا نجی ملکیت کے وصف میں پختہ یقین تھا اور اس نے زمین پر شاہی ملکیت کو ریاست اور اس کے باشندوں —دونوں کے لیے نقصان دہ مانا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ مغل سلطنت میں بادشاہ ساری زمینوں کا مالک تھا جو اسے اپنوں کے درمیان تقسیم کرتا تھا۔ اس سے معیشت اور سماج کے لیے مصیبت خیز نتائج پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح کا ادراک برنیئر تک ہی محدود نہ تھا بلکہ یہ سولھویں اور سترھویں صدی کے زیادہ تر سیاحوں کے سفرناموں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
زمین کی شاہی ملکیت کے سبب برنیئر دلیل دیتا ہے کہ زمین مالکان اپنے بچوں کو زمین نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے وہ پیداوار کی سطح کو بنائے رکھنے کے لیے او راس میں اضافہ کرنے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے تئیں مایوس تھے۔ اس طرح نجی ملکیت کے فقدان نے ’’ بہتر ‘‘ زمین مالکوں کے طبقہ کے ابھرنے (جیسا کہ مغربی یوروپ میں) نہیں دیا جو زمین کی دیکھ بھال اور بہتری کے تئیں فکر مند رہتے۔ اس کے سبب سوائے حکمراں طبقے کے زراعت کی یکساں طور پرتباہی، کسانوں کا حد درجہ استحصال اور سماج کے سبھی طبقات کے میعارِ زندگی میں مسلسل زوال ہوا۔
اس تفصیل سے برنئیر ہندوستانی سماج کو قلاش افراد کی بے تفریق عوام سے بنا سماج بتاتا ہے، جو ایک بڑے اور طاقتور حکمراں جماعت جو اقلیت میں ہے، کا محکوم ہے۔ غریبوں میں سب سے غریب اور امیروں میں سب سے امیر فرد کے درمیان نام نہاد کوئی بھی سماجی گروہ یا طبقہ نہیں تھا۔ برنیئر بڑے یقین سے کہتا ہے کہ’’ہندوستان میں  متوسط طبقے  کے افراد نہیں ہیں۔‘‘
پھر برنیئر نے کیسے مغل سلطنت کو اس طرح دیکھا۔ اس کا بادشاہ ’’ بھکاریوں اور ظالم لوگوں‘‘ کا بادشاہ تھا۔ اس کے شہر اور قصبے تباہ و برباد اور ’’ خراب ہوا‘‘ سے آلودہ تھے۔ اس کے کھیت ’’ جھاڑیوں‘‘ اور’’ وبائی دلدل‘‘ سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کا صرف ایک ہی سبب تھا ۔ زمین کی شاہی ملکیت۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک بھی مغل سرکاری دستاویز یہ نہیں ظاہر کرتی کہ ریاست ہی زمین کی صرف اکیلی مالک تھی۔ مثال کے طور پر سولھویں صدی میں اکبر کے عہد کا سرکاری مؤرخ ابوالفضل زمین مال گزاری کو ’’ حکومت کا معاوضہ ‘‘ کے طور پر ذکر کرتا ہے، جو بادشاہ کے ذریعہ اپنی رعایا کی حفاظت مہیا کرنے کے عوض کیا گیا مطالبہ ہے، نہ کہ اپنے قصبے والی زمین پر لگان ۔ ایسا ممکن ہے کہ یوروپی سیاح ایسے مطالبوں کو لگان مانتے تھے کیونکہ زمین کی مال گزاری کا مطالبہ اکثر بہت زیادہ ہوتا تھا۔ تا ہم یہ نہ تولگان تھااور نہ ہی زمین ٹیکس، بلکہ پیداوار پر یعنی فصل پر لگنے والا ٹیکس تھا( مزید تفصیل کے لیے باب 8 دیکھیے)
برنیئر کے بیانات نے اٹھارھویں صدی سے ہی نظریہ سازوں کو متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی فلسفی مونیٹکو نے اس کے سفر نامے کا استعمال مشرقی مطلق العنانی کے نظریہ کو ارتقاپذیر کرنے کے لیے کیا۔ جس کے مطابق ایشیا (اورینٹ یعنی مشرق) میں حکمراں اپنی رعایا کے اوپر مطلق اقتدار سے لطف اندوزہوتے تھے۔جنھیں تا بعداری اور غریبی کی حالت میں رکھا جاتا تھا۔ اس دلیل کی بنیاد یہ تھی کہ ساری زمین کا تعلق بادشاہ سے ہوتا تھا یعنی اس کے قبضے میں ہوتی تھی۔نجی ملکیت کا وجود نہیں تھا۔ اس نظریہ کے مطابق بادشاہ اور اس کے امراء طبقہ کو چھوڑ کر ہرایک شخص مشکل سے گزربسر کرتا تھا۔
انیسویں صدی میں کارل مارکس کے اس تصوراور نظریہ کو ایشیائی طریقۂ پیداوار (Asiatic mode of production)کے نظریہ کے طور پر مزید ترقی دی۔ اس نے یہ دلیل دی کہ ہندوستان (نیز دیگر ایشیائی ممالک ) میں نو آبادیت سے قبل فاضل پیداوار پر تصرف ریاست کے ذریعہ ہوتا تھا۔ اس سے ایک ایسے سماج کا ظہور ہوا جو بڑی تعداد میں خود اختیار اور (اندرونی طور پر) مساوات پر مبنی طبقات سے بنا تھا۔ ان دیہی طبقات پر شاہی دربار کی نگرانی ہوتی تھی۔ تب تک فاضل پیدا وارکا بہاؤ بغیر رکاوٹ جاری رہتا تھا۔ اس کی خود مختاری کا احترام کیا جاتا تھا اور اس کوجمودی نظام مانا جاتا تھا۔
تاہم ، جیسا کہ ہم دیکھیں گے (باب 8) دیہی سماج کی یہ تصویر کشی حقیقت سے بہت دور تھی۔ حقیقتاً سولھویں سترھویں صدی میں دیہی سماج میں خاصیت کے اعتبار سے بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی فرق موجود تھا۔ ایک سرے پر بڑے زمین دار تھے جو زمین پر اعلیٰ حقوق سے لطف اندوز ہوتے تھے اور دوسری طرف ’’اچھوت ‘‘ بے زمین مزدور تھے ۔ ان دونوں کے درمیان میں بڑا کسان تھا جو کرائے کے مزدوروں(اجرت مزدور) کا استعمال کرتا تھا اور اشیا کی پیداوار میں مشغول رہتا تھا۔ ساتھ ہی چھوٹے کسان بھی تھے جو مشکل سے بقائے زندگی کے لائق پیداوار کرپاتے تھے۔

ماخذ 11

غریب کسان

برنیئر کے، گاؤں کے کسانوں کے تذکرے میں سے ایک اقتباس پیش ہے:
سلطنت ہند کے نہایت وسیع خطوں میں سے کئی صرف ریتیلے یا بنجر پہاڑ ہیں۔ یہاں کی زراعت اچھی نہیں ہے اور آبادی بھی کم ہے۔ یہاں تک کہ قابل زراعت زمین کا ایک بڑا حصہ مزدوروں کی کمی کے سبب کھیتی کرنے سے رہ جاتا ہے۔ ان میں سے کئی مزدور گورنروں کے ذریعہ برتے گئے برے سلوک کے نتیجے میں مرجاتے ہیں۔ غریب جب اپنے لالچی آقا ؤں کی مانگوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہوتے تو ان کو نہ صرف بقائے زندگی کے وسائل سے محروم کر دیا جاتا ہے بلکہ انھیں اپنے بچوں کو بھی کھونا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس انتہائی جابرانہ سلوک کی وجہ سے مایوس ہوکرکسان گاؤں چھوڑکر چلے جاتے ہیں۔
اس اقتباس میں برنیئر ریاست اور سماج سے متعلق یوروپ میں جاری ہم عصر بحث و مباحثہ میں حصہ لے رہا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ مغل ہندوستان سے متعلق اس کا بیان یوروپ میں ان لوگوں کو متنبہ کرنے کا کام کرے گا جو نجی ملکیت کی’’ اچھائیوں ‘‘ کو تسلیم نہیں کررہے تھے۔
برنیئر کے مطابق برصغیر ہندوستان میں کسانوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا؟کیا آپ کے خیال میں اس کا بیان اس مسئلے کو تقویت دیتا ہے؟

15
شکل 5.11
انیسویں صدی کی ایسی تصاویر کی مثالوں نے اکثر غیر معتدل دیہی سماج کے نظر یہ کو تقویت دی ہے۔

ماخذ 12

یوروپ کے لیے ایک تنبیہ

برنیئر متنبہ کرتا ہے کہ اگر یوروپی حکمرانوں نے مغل نمونے کو اختیار کیاتو:
ان کی ریاستیں اس انداز سے اچھی طرح کاشت کی ہوئی اور آباد ، اچھی طرح سے تعمیر ، اتنی غنی ، اتنی شائستہ اور پھلتی پھولتی نہیں رہ جائیں گی جیسا کہ ہم انھیں دیکھتے ہیں۔ دوسرے انداز میں ہمارے حکمراں دولت مند اور طاقتور ہیں ۔ہم کو یہ قبول کرنا ہوگا کہ ان کی اور بہتر اور شاہی طریقے سے خدمت ہو۔ وہ جلد ہی ریگستان اور ویران مقامات کے بھکاریوں اور وحشی لوگوں کے بادشاہ بن کر رہ جائیں گے۔ جیسا کہ وہ جن کے ضمن میں، میں نے تذکرہ کیا ہے۔ (مغل حکمراں)... . ہم ان عظیم شہروں اور قصبوں کو خراب ہوا کے سبب ناقابلِ سکونت زوال پذیر حالت میں پائیں گے جن کی درستی کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹیلے اور جھاڑیاں یا وبائی دلدل سے بھر ے ہوئے کھیت جیسا کہ پہلے ہی بتایا جاچکا ہے۔
برنیئر تباہی وبربادی کے منظر کی تصویر کشی کس طرح کرتا ہے؟ جب آپ باب 8 اور باب 9 کا مطالعہ کریں گے تب آپ اس بیان کو پھر سے پڑھیے اور پھر اس کا تجزیہ کیجیے۔

16
شکل 5.12 
چمچہ جس میں زمرد اور روبی پتھر جڑے ہوئے ہیں۔مغل دست کاری اور مہارت کی ایک مثال

ماخذ 13

ایک مختلف سماجی معاشی منظر نامہ

برنیئر کے سفر نامہ سے لیا گیا یہ اقتباس پڑھیے جس میں زراعت اور دست کاری کی پیداوار، دونوں کا تذکرہ کیا گیا ہے:
یہ ادراک کرنا ضروری ہے کہ اس ملک کے وسیع زمینی خطے کا زیادہ تر حصہ نہایت زرخیز ہے۔  مثال کے طور پر بنگال کی وسیع ریاست جو مصر سے نہ صرف چاول، مکاّاور بقائے زندگی کی دیگر ضروری اشیاکی پیداوار، بلکہ ان بے شمار تجارتی اشیاکے تعلق میں جو مصر میں بھی کاشت نہیں کی جاتیں جیسے ریشم ، کپاس اور نیل سے کہیں آگے ہے۔ ہندوستان کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں آبادی کثیر ہے اور زمین پر زراعت اچھی ہوتی ہے۔جہاں ایک دست کار، جو اگر چہ بنیادی طور پر کاہل ہوتا ہے، ضرورت سے یا کسی دیگر سبب سے اپنے آپ کو قالین ، کمخواب ، کشیدہ کاری، سونے اور چاندی کے لباس اور مختلف قسم کے ریشم اور سوتی کپڑے جو ملک میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور ملک سے باہر برآمد بھی کیے جاتے ہیں، کو تیار کرنے کے کام کے لیے مجبور ہوجاتا ہے۔
اس بات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا کہ پوری دنیا کے سبھی حصوں میں گردش کرنے کے بعد سونا اور چاندی ہندوستان میں آکر کچھ حدتک کھو جاتے ہیں۔
اس اقتباس میں کیا گیا تذکرہ ماخذ 11 میں دیے گئے اقتباس سے کن معنوں میں مختلف ہے؟

ماخذ 14

شاہی کار خانے

شاید برنیئر اکیلا ایسا مؤرخ ہے جو شاہی کارخانوں کے طریقۂ عمل کا تفصیلی تذکرہ مہیا کراتا ہے:
کئی مقامات پر بڑے ہال دکھائی دیتے ہیں جنھیں کارخانہ یا دست کاروں کے کام کرنے کی جگہ کہتے ہیں ۔ ایک ہال میں کشیدہ کار ایک استادِ فن کی نگرانی میں مصروف کار رہتے ہیں۔ ایک دیگر ہال میں آپ سناروں کو مصروفِ عمل پائیں گے، تیسرے میں مصوّر، چوتھے میں روغن گر، ملمع کاری کا کام کرتے ہوئے۔ پانچویں میں بڑھئی، خراد کرنے والے، درزی اور جوتے بنانے والے، چھٹے میں ریشم،کمخواب نیز عمدہ ململ بنانے والے۔۔۔۔
دستکار اپنے کارخانوں میں ہر روز صبح آتے ہیں جہاں وہ پورے دن مصروف رہتے ہیں اور شام کو اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ کوئی بھی زندگی کے ان حالات میں سدھار کرنے کا خواہش مند نہیں ہے جن میں وہ پیدا ہوا تھا۔
برنیئر اس خیال کو کس طرح ذہن نشین کراتا ہے کہ اگرچہ ہر طرف کافی سرگرمی تھی پر ترقی بہت کم تھی؟


حقیقت میں سترھویں صدی میں آبادی کا تقریباً 15فی صد حصہ شہروں میں سکونت پذیر تھا۔ یہ اوسطاً اسی عہد کے مغربی یوروپ کی شہر ی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ تھا۔ باوجود یہ کہ برنیئر عہد کے شہروں کو ’’ خیمہ شہر‘‘ کے طور پر ذکر کرتا ہے ،جس سے اس کی مراد  ان شہروں سے تھی جو اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے شاہی خیمے پر منحصر تھے۔ اس کا ماننا تھا کہ شاہی دربار کے میل جول سے ان کا وجود قائم رہتا تھا اور لا تعلقی پر زوال پذیر ہو جاتا تھا ۔ اس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ان کی سماجی اور معاشی بنیاد   زندہ رہنے کے لائق  نہیں تھی اس لیے یہ شاہی امداد پر رہتے تھے۔
زمین کی ملکیت کے سوال کی طرح ہی برنیئر ایک ازحد سادہ تصویر پیش کررہا تھا۔ واقعتاً سبھی قسم کے شہر موجود تھے: پیداواری مراکز(شہر) ، تجارتی شہر، مذہبی مراکز،زیارتی مقامات وغیرہ۔ ان کی بقا، خوشحالی، تجارتی طبقات اور پیشہ ور طبقوں کی بقا کا مظہر تھی۔
تاجر اکثر مضبوط جماعتی وطبقاتی رشتہ داری کے تعلق سے منظم تھے اور اپنی ذات اور پیشہ ورانہ(کاروباری) انجمنوں کے ذریعہ منظم رہتے تھے۔ احمد آباد جیسے شہری مرکز میں سبھی مہاجنوں کی اجتماعی نمائندگی تجارتی طبقے کے مکھیا کے ذریعہ ہوتی تھی جسے ’’ نگر سیٹھ‘‘ کہا جاتا تھا۔
دیگر شہری گروپوں میں کاروباری جماعتوں جیسے معالج (حکیم یا وید)، اساتذہ (ملاّ وپنڈت)؛ وکیل، مصوّر، معمار، موسیقار، کاتب وغیرہ شامل تھے۔ اگرچہ کچھ شاہی سرپرستی پرمنحصر تھے۔ بہت سے دیگر سرپرستوں یا بھیڑ بھاڑ والے بازاروں میں عام لوگوں کی خدمت کے ذریعہ زندگی گزارتے تھے۔

گفتگو کیجیے...

آپ کے خیال میں برنیئر جیسے دانشو روں نے ہندوستان کا موازنہ یوروپ
 سے کیوں کیا؟

7۔عورتیں

غلام، ستی اور مزدور

جن سیاحوں نے اپنے سفر نامے تحریر کیے ہیں وہ عام طور پر مرد تھے جنھیں برصغیر ہند میں عورتوں کی حالت دلچسپ اور کبھی کبھی پر تجسس لگتی تھی۔ کبھی کبھی وہ سماجی بے انصافی کو ’’فطری‘‘ معاملات مان لیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر بازاروں میں دیگر اشیاء کی طرح غلام کھلے عام فروخت ہوتے تھے اور مستقل طور پر تحفہ میں دیے جاتے تھے۔ اب ابن بطوطہ سندھ پہنچا تو اس نے سلطان محمد بن تغلق کو تحفہ میں دینے کے طور پر’گھوڑے، اونٹ اور غلام‘ خریدے تھے۔ جب وہ ملتان پہنچا تو اس نے گورنر کو کشمش اور بادام کے ساتھ ایک غلام اور گھوڑا تحفہ میں پیش کیا۔ ابن بطوطہ بتاتا ہے کہ محمدبن تغلق ، نصیرالدین نامی مبلغ کے خطبات سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے ایک لاکھ ٹکے(سکے) اور دو سو غلام اس کو عطا کیے۔
 ابن بطوطہ کے تذکرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلاموں میں کافی فرق تھا۔ سلطان کی خدمت میں مشغول کچھ غلام عورتیں ، موسیقی اور رقص میں ماہر تھیں اور ابن بطوطہ سلطان کی بہن کی شادی کے موقع پر ان کے مظاہرہ سے بہت لطف اندوز ہوا تھا ۔ سلطان اپنے امرا پر نظر رکھنے کے لیے بھی غلام عورتوں کو مقرر کرتا تھا۔
غلاموں کو عام طور پر گھر یلو خدمات کے لیے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ ابن بطوطہ نے ان کی خدمات کو ، پالکی یا ڈولے میں مردوں اور عورتوں کو لے جانے میں خاص طور پر ناگزیر پایا۔ غلاموں کی قیمت ، بالخصوص ان غلام عورتوں کی جن کی ضرورت گھریلو خدمات کے لیے تھی بہت کم ہوتی تھی۔ زیادہ تر خاندان جورکھنے کی قدرت رکھتے تھے کم ازکم ایک یا دو غلام تو رکھتے ہی تھے۔
سبھی ہم عصر یوروپی سیاحوں اور مصنّفین نے عورتوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی اکثر مغربی اور مشرقی سماجوں کے درمیان اہم فرق کے طور پرنشان دہی کی تھی۔ اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ برنیئر نے ستی کے رسم و رواج کو تفصیلی ذکر کے لیے منتخب کیا۔ اس نے لکھا کہ گرچہ کچھ عورتیں خوشی سے موت کو گلے لگا لیتی تھیں  جب کہ دیگر کو مرنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
باوجود اس کے کہ عورتوں کی زندگی ستی کی رسم کے علاوہ دیگر بہت سی چیزوں کے گرد گھومتی تھی۔ ان کی محنت ،زراعت اور غیر زرعی پیداوار ، دونوں میں اہم تھی۔ تجارتی گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی تجارتی جھگڑوں کو عدالت کے سامنے بھی لے جاتی تھیں۔ چنانچہ یہ بعید ازقیاس لگتا ہے کہ عورتوں کو ان کے گھروں کے نجی مقامات تک محدود رکھا جاتا تھا۔
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ سیاحوں کے سفر نامے ان صدیوں میں مردوں اور عورتوں کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مشاہدات جہاں سے وہ آئے تھے اس تناظر میں اکثر ایک خاص شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس زمانے کی سماجی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر ان سیاحوں نے دھیان نہیں دیا ہے ۔
ساتھ ہی برصغیر ہند کے مردوں (اور ممکنہ طور پر عورتوں) کے تجربات اور مشاہدات سے نسبتاً لاعلم ہیں جنھوں نے سمندروں اور پہاڑوں کو پار کیا اور برصغیر سے باہر کے علاقوں میں جو کھم بھرے سفر کیے ۔انھوں نے کیا دیکھا اور سنا؟ دور دراز علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات کس طرح قائم ہوئے، وہ کن زبانوں کا استعمال کرتے تھے؟ امید ہے کہ ان پر اور دیگر سوالات پر آنے والے  برسوں میں مؤرخ منصوبہ بند طریقے سے تبادلۂ خیال کریں گے۔تعجب کی بات نہیں کہ برنیئر نے ستی کے رسم و رواج کو تفصیلی ذکر کے لیے منتخب کیا۔ اس نے لکھا کہ گرچہ کچھ عورتیں خوشی سے موت کو گلے لگا لیتی تھیں  جب کہ دیگر کو مرنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ سیاحوں کے سفر نامے ان صدیوں میں مردوں اور عورتوں کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مشاہدات جہاں سے وہ آئے تھے اس تناظر میں اکثر ایک خاص شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس زمانے کی سماجی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر ان سیاحوں نے دھیان نہیں دیا ہے ۔
ساتھ ہی برصغیر ہند کے مردوں (اور ممکنہ طور پر عورتوں) کے تجربات اور مشاہدات سے نسبتاً لاعلم ہیں جنھوں نے سمندروں اور پہاڑوں کو پار کیا اور برصغیر سے باہر کے علاقوں میں جو کھم بھرے سفر کیے ۔انھوں نے کیا دیکھا اور سنا؟ دور دراز علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات کس طرح قائم ہوئے، وہ کن زبانوں کا استعمال کرتے تھے؟ امید ہے کہ ان پر اور دیگر سوالات پر آنے والے  برسوں میں مؤرخ منصوبہ بند طریقے سے تبادلۂ خیال کریں گے۔

ماخذ 15

غلام عورتیں

ابن بطوطہ ہمیں بتاتا ہے:
یہاں بادشاہ کی عادت ہے.....ہربڑے یا چھوٹے امیر کے ساتھ اپنے غلاموں میں سے ایک کو رکھنے کی، جو اس کے امیروں کی مخبری کرتا ہے۔ وہ خاتون خاکر وب کو بھی مقرر کرتا ہے جو بنا اطلاع دیے گھر میں داخل ہوجاتی ہیں اور غلام عورتوں کے پاس جو بھی اطلاعات ہوتی ہیں وہ ا س کو دے د یتی ہیں۔
زیادہ تر غلام عورتوں کو حملوں اورمہمات کے دوران اسیر کر لیا جاتا تھا۔ 

ماخذ 16

بچی کی ستی

یہ شاید برنیئر کے تذکروں میں سب سے زیادہ دردناک تذکرہ ہے:
لاہور میں میں نے ایک بہت ہی خوبصورت نوجوان بیوہ جس کی عمر میرے خیال میں بارہ سال سے زیادہ نہ تھی، کی قربانی ہوتے ہوئے دیکھی۔ اس بھیانک جہنم کی طرف جاتے ہوئے وہ بے سہارا چھوٹی بچی زندہ سے زیادہ مردہ لگ رہی تھی۔ اس کی ذہنی الجھن کا ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کانپ رہی تھی اور بری طرح رورہی تھی۔ لیکن تین یا چار برہمن، ایک بزرگ عورت، جس نے اس کو اپنے بازوؤں کے نیچے دبایا ہوا تھا، کی مدد سے اس عدم خواہش شکار کوزبردستی مقام کی طرف لے گئے۔ اسے لکڑیوں پر بیٹھا یا گیا۔ اس کے ہاتھ اور پیر باندھ دیے گئے تاکہ وہ بھاگ نہ جائے اور اس حالت میں اس معصوم مخلوق کو زندہ جلا دیا گیا۔ مجھے احساس ہے کہ اپنے جذبات کو دبانے اور پھٹ پڑتے احتجاج اور لاحاصل غصّے کو ان کے اُبال کے سامنے ، دبانے پر مجبور ہونا پڑا۔



گفتگو کیجیے۔۔۔۔

آپ کے خیال میں عام عورتوں کی زندگی نے  ابن بطوطہ اور برنیئر جیسے سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کیوں نہیں کی؟
17
ٹائم لائن
کچھ سیاح جنہوں نے اپنے سفر نامے تحریر کیے
دسویں صدی - گیارہویں صدی
973-1048
محمد ابن احمد ابوریحان البیرونی
(ازبکستان)
تیرھویں صدی
1323 - 1254
مارکو پولو (اٹلی سے)
چودھویں صدی 
77 - 1304 
ابن بطوطہ (مراکش سے) 
پندرھویں صدی 
 72 - 1413
عبد الرزاق کمالدین  ابن اسحاق السمرقندی ((سمرقند سے)
  72- 1466
(ہندوستان میں گزارے سال)
افاناسی نکی ٹچ نکی ٹن
(روس سے) 
سولھویں صدی
1518
(ہندوستان کا سفر)
دوارتے بار بوسا،وفات 1521
(پرتگال سے)
1562
(سال وفات)
سیدی علی رئیس (ترکی سے)
  1600- 1536 انٹونیو مانسرات (اسپین سے)
سترھویں صدی
  31-  1626
(ہندوستان میں گزارے سال)
محمد ولی بلخی
(بلخ سے)
1600 - 67 پٹیر منڈی(امگلینڈ سے)
 89 - 1605 جین با پٹیسٹ ٹیو رنیئر (فرانس سے)
  88 -1620 فرانکوئس برنیئر (فرانس سے)
نوٹ : جہاں کوئی اشارہ نہیں ہے ،تاریخی سیاح کے عرصہ حیات کو ظاہر کر رہی ہیں۔

-100 150 لفظوں میں جواب دیجیے


1۔   کتاب الہندپر ایک نوٹ لکھیے۔
2۔   ابن بطوطہ اور برنیئر نے جن تناظر سے ہندوستان میں اپنے سفر نامے تحریر  کیے تھے، ان کا موازنہ کیجیے اور فرق بتائیے۔       
ز برنیئر کے سفر نامے سے شہری مراکز کی ابھر نے والی تصویر پر بحث کیجیے۔
4۔   ستی کی رسم سے متعلق  ابن بطوطہ کی دی گئی شہادتوں کا تجزیہ کیجیے۔
5۔   ستی کی رسم کے کون سے  عوامل تھے جس نے برنیئر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی؟

مندرجہ ذیل پر ایک مضمون (تقریباً 250  سے300 الفاظ پر مشتمل ) لکھیے


6۔   ذات پات کے نظام کے متعلق البیرونی کی فہم پر بحث کیجیے۔
7۔    آپ کے خیال میں کیا ہم عصر شہری مراکز میں طرز زندگی کی صحیح فہم حاصل کرنے میں ابن بطوطہ کا تذکرہ معاون و مدد گار ہے؟دلائل پیش کیجیے۔
برنیئر کا سفر نامہ کس حد تک مورخین کو ہم عصر دیہی سماج کو ازسرنو تعمیر کرنے کے قابل بناتا ہے؟ بحث کیجیے۔
9۔   برنیئر کے اس اقتباس کو پڑھیے:

ایسے لوگوں کے ذریعہ تیار کردہ دست کاری کے نمونوں کی بہت سی مثالیں ہیں جن کے پاس اچھے اوزاروں کا فقدان ہے اور جن کے متعلق یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے کسی ماہر فن استادسے کام سیکھا تھا ۔ کبھی کبھی وہ یورپ میں تیار اشیا کی اتنی مہارت کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ اصل اور نقل کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔دیگر اشیا میں ہندوستانی لوگ بہترین نالی والی بندوقیں اور ایسے نفیس زیورات بناتے ہیں کہ رشک آتا ہے کہ کیا یوروپی سنار کاریگری کے ان عمدہ نمونوں سے بہتر بنا سکتا تھا ۔ میں اکثر ان کی رنگوں سے بنائی تصویروں کی خوبصورتی ، ملائمت اور نزاکت و نفاست سے حیرت زدہ ہو جاتا ہوں۔

اس پیراگراف میں ذکر کی گئی دست کاری کی فہرست بنایے اور اس کااموازنہ اس باب میں مذکور دست کارانہ سرگرمیوں سے کیجیے۔

نقشے کا کام 

10۔ دنیا کے خاکے میں ان ملکوں  کی نشاندہی کیجیے جن کا سفر ابن بطوطہ نے کیا تھا۔ وہ کون سے سمندر تھے جنھیں وہ پار کر سکتا تھا۔

 پروجیکٹ  (کوئی ایک)

11۔ اپنے کسی ایسے بزرگ رشتہ دار (والد؍والدہ ؍دادا؍دادی؍ چچا؍چچی وغیرہ کا انٹرویو لیجیےجنھوں نے آپ کے شہر یا گاؤں کے باہر سفر کیا ہو۔ معلوم کیجیے (a) وہ کہاں گئے تھے۔ (b) انھوں نے کیسے سفر کیا ؟ (c) انھیں کتنا وقت لگا؟ (d) انھوں نے سفر کیوں کیا؟ (e) کیا انھوں نے کسی مشکل کا سامنا کیا؟ ان کے  مقام سکونت اور سفر کے مقامات کے درمیان زبان، لباس، غذا، رسم ورواج،عمارات ،سڑکیں اور مرد عورت کی طرز زندگی میں یکسانیت اورفرق کی فہرست بنا یئے     جنھوں نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور ان سے حاصل معلومات پر ایک رپورٹ تحریر کیجیے۔
12۔   اس باب میں مذکور سیاحوں میں سے ایک کے حالات زندگی اورتحریروں کے بارے میں مزید  معلومات حاصل کیجیے ۔ ان کی سیاحت پر ایک رپورٹ تیار کیجیے ، خاص طور پر اس بات پر توجہ دیتے ہوئے کہ انھوں نے سماج کا تذکرہ کس طرح کیا تھا اور اس کا موازنہ باب میں دیے گئے اقتباسات سے کیجیے۔


اگر آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے   ہیں تو ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے۔

مظفر عالم اور سنجے سبرامنیم،2006 Indo-Persian Travels in the Age of Discoveries,1400-1800     کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج

کیتھرائن آشراور سنتھیا ٹالبوٹ  2006  IndiaBefore Europe.  
کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج

فرانسس برنیئر
Travels in the Mughal Empire  AD 1656-1668 
لوپرائز پبلی کیشن، نئی دہلی

ایچ۔اے۔ آر۔ گب (مرتبہ)1993
The Travels of Ibn Battuta.
منشی رام منو ہر لال، دہلی

مشیرالحسن (مرتبہ)2005
Westward Bound: Travels of Mirza Abu Talib.
آکسفورڈیونیورسٹی پریس، نئی دہلی
ا
یچ۔کے۔ کول ( مرتبہ) 1997
Travellers' India - an Anthology.
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی  

جان ہاہٹسٹ ٹیور نیر، 1993
Travels in India.
منشی رام منو ہر لال، دہلی



مزید معلومات کے لیے آپ  ویب سائٹ پر رابطہ کر سکتے ہیں:
www. edumaritime. org


18
شکل 5.14
اس تصویر میں سیاحوں کو آرام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔