Skip to content
Tareekh-e-Hindkemauzuat-II-002


 چھٹا موضوع

بھکتی–صوفی روایات

مذہبی عقائد میں تبدیلی اورعقید ت مندانہ متون

(تقریباً آٹھویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک)

باب 4 میں ہم نے دیکھا کہ پہلے ہزار سال عیسو ی کے وسط تک آتے آتے بر صغیر کے منظرنامے پر مذہبی عمارات ، استوپ، وہار اور مندر بکھر گئے۔ اگر یہ عمارتیں کسی مخصوص مذہبی عقائد اور معمولات کی نشانی ہیں تو وہیں دیگر مذہبی عقائد کی ازسرنو تعمیر، ادبی روایات بشمول پُر انوں کی بنیاد پر بھی جن کی موجود ہ شکل تقریباً اسی زمانے میں بننا شروع ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ ایسے مذہبی عقائد بھی ہیں جو ادبی اور بصری دونوں ہی دستاویزات میں مجموعی طور پر موہوم ہیں۔

اس عہد کے جدید ادبی ماخذوں میں صوفی سنت شاعروں کی تخلیقات ہیں جن میں انھوں نے عوام کی علاقائی زبانوں میں اپنے خیالات کا بیانیہ اظہار کیا۔ یہ تخلیقات جو زیادہ تر موسیقانہ ہیں شاعر سنتوں کے شاگردوں یا عقید ت مندوں کے ذریعہ ان کی موت کے بعد مرتب کی گئیں۔ یہ روایات سریع الحرکت تھیں۔عقیدت مندوں کی کئی نسلوں نے بنیادی پیغام کو نہ صرف پھیلا یا بلکہ ان خیالات کو جو مختلف سیاسی ، سماجی اور ثقافتی تناظر میں مشکوک اور غیر ضروری لگے، انھیں یا تو ترمیم کر دیا، یاحذف کردیا۔ ان ماخذوں کا استعمال کرنا مؤرخین کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

مؤرخین ان سنت شاعروں کے عقید ت مندوں (جوان کے مذہبی فرقے کے ممبر تھے) کے ذریعہ لکھی گئی، ان کی سوانح حیات یا اولیاء کی کتابوں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوانح حیات ادبی سچائی نہیں ہیں لیکن ان سے یہ علم ہوتا ہے کہ عقیدت مند ، ان نئے راستہ بنانے والے مرد و خواتین کی زندگی کو کس طرح دیکھتے تھے۔

جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ ماخذات ایک قوّتِ  عمل اورمختلف مناظر نامے کی امتیازی خصوصیات کی دقّتِ نظر مہیا کراتے ہیں۔ آئیے اب ہم اس کے کچھ حصّوں کو نہایت باریکی سے دیکھیں یعنی ان کا مطالعہ کریں۔

20

شکل 6.1

مانک کو اچکر کی بارہویں صدی میں بنی کانسہ کی مورتی۔

یہ شیو کے پیرو کار تھے انھوں نے تمل میں خوبصورت عقیدت مندانہ گیت لکھے  ہیں۔


1۔ مذہبی عقائد اور معمولات کا رنگیں مرقّع

شاید اس عہد کی سب سے قابل توجہ خصوصیت ہے کہ ادب اور سنگ تراشی۔ دونوں میں قطار درقطار دیوی دیوتا زیادہ نظر آنے لگتے ہیں۔ ایک سطح پر یہ اس بات کا مظہر ہے کہ وشنو، شیو اور دیوی ، جن کو مختلف اشکال میں ظاہر کیا گیا ، کی پوجا نہ صرف جاری رہی بلکہ اور زیادہ وسیع ہوگئی۔

’’ عظیم ‘‘ اور’’ ادنیٰ‘‘

روایات

’’ عظیم ‘‘ اور’’ ادنیٰ‘‘ جیسی اصطلاح بیسویں صدی کے سماجی علوم کے ماہررابرٹ ریڈ فیلڈ کے ذریعہ ایک زرعی سماج کے ثقافتی معمولات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ اس ماہر سماجی علوم نے دیکھا کہ کسان ان رسم ورواج اور مذہبی عبادات کو ادا کرتے تھے، جن پر سماج کے غالب طبقے جیسے پروہت اور راجہ کے ذریعہ عمل کیا جاتا تھا۔ ان رسم و رواج کو ریڈ فیلڈ نے ’’ عظیم‘‘ روایات کا نام دیا۔ اس کے ساتھ ہی زرعی سماج دیگر مقامی معمولات پر بھی عمل پیرا تھا جواس ’’ عظیم‘‘ روایات سے ضروری طور پرمیل نہیں کھاتی تھیں۔ ان کو اس نے ’’ ادنیٰ‘‘ روایات کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ ریڈ فیلڈ نے محسوس کیا کہ ’’ عظیم ‘‘ اور ’’ ادنیٰ‘‘ دونوں ہی روایات میں وقت کے ساتھ ہوئے باہمی تعامل کے سبب تبدیلیاں ہوئیں۔
 اگرچہ دانشور ان طریقۂ عمل او رزمروں کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے لیکن وہ ان اصطلاحات میں جو نظامِ مراتب ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں۔ ’اعلیٰ ‘ اور ’ادنیٰ‘ کے لیے حوالہ نشان اس امتیاز کا ایک واضح اشارہ ہے ۔ 

1.1 عباد ت اور پرستش کی تکمیل

جومؤرخین اس ترقی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہاں کم ازکم دوطرح کے  طریقۂ عمل تھے ۔ ایک طریقۂ عمل برہمنی خیالات کی نشرو اشاعت تھا۔ اس کی توضیح پورا ن کی کتابوں کی ترتیب، تدوین اور تحفظ کے ذریعہ ہوئی تھی۔ یہ کتابیں آسان سنسکرت اشعار میں جوعام طور پر ویدک علوم سے خارج عورتوں اور شودروں کے ذریعہ بھی قابِل رسائی تھیں۔ اسی عہد کا ایک دیگر طریقۂ عمل تھا عورتوں ، شودروں و دیگر سماجی طبقوں کے عقائد اور معمولات کو برہمنوں کے ذریعہ تسلیم کیا جانا اور اس کو ایک نئی شکل عطا کرنا۔ حقیقتاً سماجی علوم کے ما ہر ین کا خیال ہے کہ پورے برّ صغیر میں بہت سے مذہبی عقائد اور معمولات’’ عظیم ‘‘ سنسکرت۔ پور انی (Puranic) روایات نیز ـ ’’ادنیٰ ‘‘ روایات کے درمیان ایک مسلسل مکالمے کا نتیجہ ہیں۔
      اس طریقہ عمل کی سب سے زیادہ قابل توجہ مثال ، پوری ( اڈیشہ ) میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں اہم ترین دیوتا کو بارھویں صدی تک آتے آتے جگن نا تھ (لغوی معنی پورے عالم کا 
آقا) کو وشنو کے ایک روپ کے طور پر شناخت کیا گیا ۔
21
شکل 6.2
جگن ناتھ (بائیں) اپنی بہن سبھدرا (درمیان میں) اور اپنے بھائی بلرام (دائیں) کے ساتھ

اگرشکل 6.2 کا شکل 4.26 (باب 4)سے موازنہ کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ دیوتا کو بالکل مختلف طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس مثال میں ایک مقامی دیوتا کو جس کی شبیہ کو اب تک مسلسل مقامی قبائلی مہارت کے ذریعہ لکڑی سے بنایا جاتا تھا، وشنو کی شکل میں شناخت کیا گیا ہے۔وشنو کی یہ شبیہ ملک کے دیگر حصوں میں پائی جانے والی شبیہوں سے پوری طرح مختلف تھی۔
تکمیل کی ایسی مثالیں دیویوں کے طبقات میں بھی ملتی ہیں۔ دیوی کی عبادت کو بظاہر وسیع طور پر اکثر سندور سے لیپے گئے پتھروں کی شکل میں ہی کی جاتی تھی۔ ان مقامی دیویوں کو پورانک روایات کے اندر اہم ترین دیوتاؤں کی بیویوں کی شکل میں نام و نشان دیا گیا ہے۔کبھی وہ لکشمی کے روپ میں وشنو کی پتنی (بیوی)بنی اور کبھی شیو کی پتنی پاروتی کی شکل میں سامنے آئی۔
22
شکل   6.3
بودھ دیوی ماریچی کی مورتی،
(تقریباً دسویںصدی، بہار)، مختلف مذہبی عقائد اور روایات کی تکمیل کے طریقہ عمل کی مثال پیش کرتی ہے۔

1.2 اختلاف اور تضاد

اکثر دیوی کی عبادت کے طریقہ کو تانترک نام سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ تانترک طر یقہ برّ صغیر کے کئی حصوں میں پھیلا ہوا تھا۔ اس میں عورت اور مرد دونوں ہی شامل ہوسکتے تھے۔ اس کے علاوہ رسومات کے تناظر میں طبقہ اور ذات کے اختلافات کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ ان تصوّرات نے خاص طور پر برّ صغیر ہندکے مشرقی ، شمالی اور جنوبی حصّوں میں شیومت اور بودھ مت کو بھی متاثر کیا۔
آنے والے ہزار سال میں ان مختلف النوع مکمل عقائد اور معمولات کی درجہ بندی ’’ہندو‘‘ کی شکل میں ہوئی ۔ اگر ہم زمانہ وید اور پوران کے درمیان روایات کاموازنہ کریں تو یہ انتشار اور زیادہ واضح طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ زمانہ وید کے دیو کل کے اگنی ،اندر اور سوم جیسے دیوتا پوری طرح حاشیہ پر آگئے۔ ادب و سنگ تراشی، دونوں میں ہی ان کی نمائندگی نظر نہیں آتی ۔ اگرچہ ویدکے منتروں میں وشنو،شیو اور دیوی کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ پوران کے دیو مالا کے ساتھ معمولی طور پر مشترک تھے لیکن ان واضح فرق کے باوجود ویدوں کو مستند ومعتبر تسلیم کیا جاتا تھا۔
اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کبھی تنازعہ کی صورت بھی پیدا ہوجاتی تھی۔ ویدکی روایات کو ماننے والے سبھی معمولات کی ملامت کرتے تھے جو ایشو رکی عبادت کے منتروں کی نغمہ خوانی، وظیفہ خوانی اور قربانیوں (یگیوں) کو اداکرنے سے دور تھے۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جوتانترک معمولات میں مشغول تھے اور ویدک اقتدار کو نظر انداز کرتے تھے۔ ساتھ ہی عقیدت مند اپنے منتخب دیوتا وشنو یا شیو کو اکثر عظیم ثابت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ دیگر روایات جیسے بودھ یا جین مذہب سے بھی رشتے عموماً تناؤ بھرے ہوجاتے تھے۔ اگرچہ واضح تنازعہ کم دکھائی دیتا ہے۔
      بھکتی روایات کو ہمیں اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جس عہد پر غور کر رہے ہیں اس سے قبل سے ہی عقیدت مندانہ عبادت کی تقریباً ایک ہزار سال پرانی طویل تاریخ رہی ہے۔ اس وقت عقیدت مند، عقید ت مندی کے اظہار میں مندروں کے اندر دیوتاؤں کی روزمرّہ کی عبادت سے لے کر وجدآورپرستش تک جہاں عقیدت مند روحانی حالت حاصل کرلیتے ہیں،دکھائی دیتی ہے۔ عقیدت مندانہ نغمہ خوانی یا وظیفہ خوانی اس طریقہ عبادت کا کبھی اہم حصہ ہوتی تھی۔ وشنوا ور شیوفرقوں پر تویہ بات خاص طور پر صادق آتی ہے۔

گفتگو کیجیے...

اپنے شہر میں یا گاؤں میں پوجے جانے والے دیوی دیوتاؤں کے ناموں کے بارے میں پتا لگائیے اور وہ طریقے بتائیے جن سے ان کی تصویر کشی کی گئی ہے نیز ادا کی جانے والی رسوم بھی بیان کیجیے۔

2۔ عبادت کی نظمیں۔ ابتدائی بھکتی روایات

عبادت کے طریقوں کے ارتقاکے عمل کے دوران بہت سے سنت شاعر ایسے قا ئد کی شکل میں سامنے آئے جن کے اردگرد عقیدت مندوں کا ایک پورا طبقہ جمع ہوگیا۔ مزید برآں ، اگرچہ بیشتر بھکتی کی مختلف شکلوں میں برہمن ، دیوتاؤں اور عقیدت مندوں کے درمیان ، اہم ذریعہ بنے رہے۔ ان روایات نے ان عورتوں اور ’’نچلی ذاتوں‘‘ کو اپنے یہاں مقام دیا اور انھیں تسلیم کیا جنھیں راسخ العقیدہ برہمن ڈھانچے نے غیر مستحق قرار دے دیا تھا ۔ بھکتی روایات کی ایک اورقابل ذکر خصوصیت اس کا تنوّع ہے۔
      دوسری سطح پر ، مذہب کے مؤرخین روایات کو دو واضح زمروں ، سگن (Saguna) (وصف کے ساتھ) اور نرگن  (Nirguna)  (بنا وصف کے) میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلے زمر ے میں بشمول سابقہ روایات کچھ خاص دیوتا جیسے شیو، وشنو اور ان کے اوتار اور دیویوں کی شکل میں، جن کو اکثر تشبیہی شکل میں تصور کیا گیا ، کی عبادت پر مائل بہ مرکز کیا گیا ۔ دوسری طرف نرگن بھکتی روایات میں خیالی دیوتاکی عبادت کی جاتی تھی۔

2.1  تامل ناڈو کے الوار اور نینار

ابتدائی بھکتی تحریکات کی ابتدا (تقریباً چھٹی صدی) الواروں(خصوصی طور پر جو وشنو کی بھکتی میں مستغرق ہو)اور نینار (خصوصی طور پر شیوبھکتوں کے قائد) کی قیادت میں ہوئی ۔ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سیا حت کرتے ہوئے اپنے بھگوانوں یا اوتاروں کی مدح میں تمل زبان میں بھجن گاتے تھے ۔
اپنی سیاحت کے دوران الوار اور نینار سنتوں نے کچھ مقدس یاد گار مقامات کو اپنے بھگوانوں کے مسکن کے طور پر نام و نشان دیا۔ بعد میں اکثر ان ہی مقدس مقامات پر بڑے وسیع مندروں کو تعمیر کیا گیا اور یہ مقامات زیا رت گاہ کے طور پر ترقی کرتے گئے۔ سنت شاعروں کے بھجنوں کو ان زیارتی مندروں میں مذہبی رسوم ورواج کے موقع پر گایا جانا عبادت کا حصہ بن گیا۔ ساتھ ہی ان سنتوں کی شبیہ (مورتی) کی بھی پوجا کی جاتی تھی۔

2.2 ذات پات کے تئیں رجحانات

کچھ مؤر خین یہ مانتے ہیں کہ الوار اور نینار سنتوں نے ذات پات کے نظام اور برہمنوں کے غلبے کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ۔کم از کم نظام میں اصلاح کی کوشش کی ۔کچھ حد تک یہ اس بات کی تو ثیق کرتی ہے۔ کیونکہ بھکتی سنت مختلف سماجی منظر سے آئے تھے۔ جیسے برہمن، دست کار ، کاشت کار اور کچھ تو ان ذاتوں سے تعلق رکھتے تھے،جنھیں ’’ اچھوت ‘‘ کہا جاتا تھا۔ 
الوار اور نینار سنتوں کے نغموں کو کبھی کبھی ویدوں کی طرح اہم بتاکر ان روایات کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا ۔ مثال کے طور پر الوار سنتوں کے اشعار کے ایک مجموعہ ’’ نلیاردیویا پربندھم‘‘ کا ذکر تمل وید کے طور پر ملتا ہے۔ اس طرح اس کتاب کی اہمیت سنسکرت کے چاروں ویدوں جتنی ہی بتائی گئی ہے جو برہمنوں نے تیار کیے تھے۔

ماخذ 1

چترویدی  (چاروں ویدوں کا عالم برہمن) 

اور ’’ ذات سے خارج‘‘
یہ اقتباس ٹونڈرا ڈپوڈی نامی ایک الوار ( جو ایک برہمن بھی تھا) کے مجموعے سے لیا گیا ہے:
آپ (وشنو) ان ’’خادموں ‘‘ کو واضح طورپر پسند کرتے ہیں جو اپنی محبت آپ کے قدموں پرظاہر 
کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ ’’ ذات سے خارج‘‘ پیدا ہوئے ہیں اور اس سے بھی زیادہ
چترویدی جو اجنبی ہیں اور آپ کی خدمت کے تئیں اطاعت گزار ا وروفادار نہیں ہیں۔
کیا آپ سوچتے ہیں کہ ٹونڈ را  ڈپوّ ڈی ذات پات نظام کی مخالفت کرتے تھے؟

ماخذ 2

شاستر یا پرستش

یہ ابیات اپاّر نامی ایک نینار سنت کی تخلیق ہیں:
اے آوارہ گرد (شیطان) جو تم قانون کی کتابوں (شاستر) کا حوالہ دیتے ہو۔
تمھارا گوتر اور کل بھلاکس کام کاہے؟ 
تم صرف مارپیرو کے آقا (شیو جو تمل ناڈو کے تنجاور ضلع کے مارپیرو میں رہتا ہے) کواپنا واحد جائے پناہ مان کر سر تسلیم خم کرتے ہو۔
کیا یہاں برہمنوں کے تئیں ٹونڈرا  ڈپو  ڈی اور اپّار کے ر ویّوں میں کوئی مماثلت یا فرق ہے؟

2.3  خواتین عقیدت مند (بھکت)

شاید اس روایت کی قابلِ ذکر خصوصیت ، اس میں خواتین کی موجود گی تھی۔ مثال کے طورپر ، انڈال نالی الوار عورت کے نغمے بڑے پیمانے پر گائے جاتے تھے۔ (اور آج تک مسلسل گائے جاتے ہیں۔) انڈال خود کو وشنو کی محبوب مان کر اپنے دیوتا کے لیے اپنی محبت کا اظہار اشعارمیں کرتی تھی۔ ایک دیگر خاتون کرائی کل امیاّر جو شیو کی بھکت تھی، نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی زہدکا راستہ اختیار کیا۔ نینار روایت میں اس کے نغموں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ان خواتین نے اپنے سماجی فرائض کو ترک کر دیا تھا لیکن وہ کسی متبادل نظام سے وابستہ نہیں ہوئیں یا راہب نہیں بنیں۔ ان خواتین کی بقائے زندگی اور ان کے نغموں نے سر قبیلی (پدرانہ) معیا روں کو چیلنج کیا۔

عقیدت مندانہ ادب کی تدوین

دسویں صدی تک آتے آتے بارہ الواروں کے اشعار کے مجموعہ پر بیاض مرتب کر لی گئیں۔ جونلا یرا دیویا پربندھم (’’ چار ہزار مقدس نظمیں‘‘) کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ دسویں صدی میں ہی اپاّر،سمبندرا اور سندرار کی نظمیں ، تو ارم (Tevaram) نامی مجموعہ میں مرتب کی گئیں ، جنھیں گیتوں کی موسیقی کی بنیاد پر درجہ بند کیا گیا ۔



ماخذ3 

ایک دیوی

یہ اقتباس کرائی کل امیاّر کی نظم سے لیا گیا ہے، جہاں وہ خود کا ذکر کر رہی ہے: 
دیوی
پھولی ہوئی سانسوں......... کے ساتھ
 باہر نکلی آنکھیں ،سفید دانت اور سمٹا ہوا معدہ
 لال بال اور آگے نکلے ہوئے دانت
 لمبی پنڈلی کی نلی جو ٹخنوں تک پھیلی ہو ئی ہے، 
چیخیں اور آہ وزاری             اگر چہ جنگل میں اُدھر اُدھربھٹکنا 
یہ النکاٹوکا جنگل ہے
جو ہمارے والد (شیو) کا گھر ہے جونا چتے ہیں.......... اپنے الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ آٹھوں سمت بکھرجاتے ہیں اور ٹھنڈے عضو کے ساتھ۔
ان طریقوں کی فہرست بنائیے جن سے کرائی کل امیاّر عورتوں کی خوبصورتی کے روایتی نظریہ کے مقابلے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے۔
24
شکل  6.4
کرائی کل امیاّر کی بارھویں صدی میں بنی کانسہ کی مورتی۔

2.4 ریاست کے ساتھ تعلقات

باب 2 میں ہم نے دیکھا کہ تمل علاقے میں پہلی ہزار سالہ عیسوی کی ابتدا میں کئی اہم سرداری  علاقے تھے۔ اسی ہزار سالہ عیسوی کے نصف آخر میں ریاستوں کے ظہور بشمول پالَوؤں اور پانڈیائوں (تقریباً چھٹّی صدی سے نویں صدی عیسوی) کی شہادتیں ملتی ہیں۔ تاہم بدھ اور جین مذہب اس علاقے میں کئی صدیوں سے موجود تھے۔ انھیں تاجر اور دست کار طبقوں کی حمایت حاصل تھی۔ ان مذاہب کو بعض اوقات شاہی سرپرستی بھی حاصل ہوتی تھی۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ تمل بھکتی نغموں میں شاعروں کاایک اہم موضوع بدھ اور جین مذہب کے تئیں ان کی مخالفت تھی۔ مخالفت کی یہ آواز نینار سنتوں کی نظموں میں خاص طور پرنشان زدکی جاسکتی ہے۔مؤرخین نے اس دشمنی کی توضیح کرتے ہوئے یہ خیال پیش کیا ہے کہ دیگرمذہبی روایات کے ممبران کے درمیان یہ شاہی سرپرستی کے لیے مقابلہ کی وجہ سے تھی۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ طاقتور چول (نویں سے تیرھویں صدی) حکمرانوں نے برہمنی اور بھکتی روایات کی حمایت کی نیزو شنو اورشیو کے مندروں کی تعمیر کے لیے زمینیں عطیہ کیں۔
واقعتا کچھ مندر بشمول چدمبرم، تنجاور اور گنگئی کونڈا چولاپو رم کے شاندار شیو مندر چول حکمرانوں کی سرپرستی و مدد سے ہی تعمیر ہوئے تھے۔ اسی عہد میں شیو کی کچھ قابل دید کانسہ کے  مجسموں کو بھی بنایا گیا۔ واضح رہے کہ نینار سنتوں کی بصیرت دست کاروں کے لیے محرک بنی۔
نینار اور الوار دونوں ہی ویلال کاشت کاروں کے ذریعہ قدر و منزلت پاتے تھے۔ اس لیے یہ تعجب خیز بات نہیں ہے کہ حکمرانوں نے بھی ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً چول راجاؤں نے ملکوتی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے عالیشان مندروں کی تعمیر کرائی جن میں پرستش کے لیے پتھر اور دھات سے مورتیاں بنائی گئی تھیں۔ اس طرح ان مقبول سنت شاعروں کو ، ایک شبیہ دی گئی جوعوامی زبان میں گیت لکھتے تھے۔
ان راجاؤں نے تمل زبان میں لکھے شیو بھجنوں کو ان مندروں میں گائے جانے کو متعارف کرایا۔ انھوں نے ایسے بھجنوں کے مجموعہ کو ایک کتاب توارم (Tevaram)کی شکل میں جمع کرنے کی پہل بھی کی۔ مزید برآں 945 عیسوی کی ایک کتباتی شہادت سے علم ہوتا ہے کہ چول حکمراں پر انتک اول نے سنت شاعر اپاّر، سمبندر اور سندرار کی دھات سے بنی مورتیاں ایک شیو مندر میں لگوائیں۔ سنتوں کی ان مورتیوں کو تہوار کے موقع پر ایک جلوس میں نکالا جاتا تھا۔
25
شکل  6.5
نٹراج کی شکل میں شیو کی مورت

گفتگو کیجیے... 

آپ کیوں سوچتے ہیں کہ راجا بھکتوں سے اپنے رابطے کا اعلان کرنے کے خواہش مند تھے؟


ماخذ 4

مذہبی رسومات اور

حقیقی دنیا

یہ باسوناّ کے ذریعہ لکھا گیا ایک وچن ہے:
 جب وہ پتھر میں تراشے سانپ کو دیکھتے ہیں تو اس پر دودھ چڑھاتے ہیں۔
اگر اصلی سانپ آجائے تو کہتے ہیں ’’ مارڈالو۔ مارڈالو‘‘۔
دیوتا کے اس خدمت گار کو جسے اگر غذا دی جائے تو وہ کھا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں ’’دور ہٹو۔ دور ہٹو‘‘۔
لیکن بھگوان کی شبیہ کو جو کھانہیں سکتی وہ کھانے پیش کرتے ہیں۔
مذہبی رسومات کے تئیں باسوناّ کے رویّے کو بیان کیجیے ۔ وہ کس طرح سامع کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے؟

3 . کرناٹک کی ویر شیو روایت

بارھویں صدی میں کرناٹک میں ایک نئی تحریک ظہور میں آئی جس کی قیادت باسوناّ (1106-68) نامی ایک برہمن نے کی۔ باسوناّ ابتدا میں جین مذہب کا پیرو کار تھا اور چالوکیہ راجا کے دربار میں وزیر تھا۔ اس کے متبعین ویر شیو (شیو کے ہیرو) یا لنگایت (Lingayats)(لنگ پہننے والے) کہلائے۔
آج بھی لنگایت اس علاقے میں ایک اہم فرقہ ہے۔ وہ شیو کی عبادت لنگ کی شکل میں کرتے ہیں۔  اس فرقے کے مرد بائیں کندھے پر چاندی کے ایک خول میں ڈوری کے حلقے میں چھوٹے سے لنگ کو پہنتے ہیں جنھیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان میں لنگم یعنی سیاحت کرنے والے بھکشو (راہب) بھی شامل ہیں۔ لنگا یتوں کا یقین ہے کہ مرنے کے بعد شیو میں مل (متحد) جائیں گے اور اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آئیں گے۔ یہ دھرم شاستر میں بتائی گئی تجہیزو تکفین کی رسوم جیسے میت سوزی پر عمل نہیں کرتے ۔یہ اپنے مردہ کو پابندی رسم کے ساتھ دفنا تے ہیں۔
لنگایتوں نے ذات پات کے نظریہ اور کچھ طبقوں کے ’’ آلودہ ‘‘ (ناپاک) ہونے کے برہمن کے برہمنی نظریہ کو چیلنج کیا۔ دوبارہ پیدا ہونے کے نظریہ پر بھی انھوں نے سوالیہ نشان لگایا ۔ ان سب وجوہات کے سبب، برہمنی سماجی نظام میں جو طبقات حاشیہ پر تھے وہ لنگا تیوں کے متّبعین بن گئے ۔ دھرم شاستروں میں جن معمولات کو  متروک کر دیا تھا جیسے سنِ بلوغ کے بعد شادی اور بیواؤں کی دوبارہ شادی، لنگا یتوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ ویر شیو روایت کی ہماری فہم ان وچنوں سے حاصل ہوئی ہے جو اس تحریک میں شامل ان عورتوں اور مردوں کے ذریعہ کنّڑ زبان میں لکھے گئے تھے۔ 

نئی مذہبی ترقی

اس عہد نے دو اور اہم ترقیوں کا مشاہدہ کیا۔ ایک طرف تو تمل بھکتوں (خاص طور پر وشنو و کے خیالات کو سنسکرت میں شامل کر لیا گیا۔ جس کا نتیجہ نہایت معروف پُرا نوں میں سے ایک بھگوت پُران کی تخلیق تھی۔ دوسرے، ہم دیکھتے ہیں کہ تیرھویں صدی میں بھکتی روایت کو مہاراشٹر میں فروغ حاصل ہوا۔

4۔ شمالی ہندوستان میں مذہبی جوش

اس عہد میں ،شمالی ہندوستان میں وشنو اور شیو جیسے دیوتاؤں کی عبادت مندروں میں کی جاتی تھی، جنھیں اکثر حکمرانوں کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم مؤرخین کو الوار اور نینار سنتوں کے تحریر ی نغمے وگیت چودھویں صدی تک حاصل نہیں ہوئے۔ ہم اس فرق کو کس سے تعبیر کریں گے؟
کچھ مؤرخین نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ شمالی ہندوستان میں یہ وہ عہد تھا جب بہت سی راجپوت ریاستیں ظہور میں آئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر ریاستوں میں برہمنوں کو اہم مقام حاصل تھا اور وہ سیکولر اور مذہبی تقریبات کا اہتمام کرتے تھے ۔ ان کے مقام کو راست طور پر للکارنے کی کوشش شاید ہی کسی نے کی ہو۔

26
شکل 6.6
قرآن شریف کے ایک ورق کا حصہ، یہ آٹھویں یا نویں صدی کے قلمی نسخہ سے لیا گیا ہے۔

اسی زمانے میں دیگر مذہبی قائدجو راسخ العقیدہ برہمنی ڈھانچے کے باہر تھے،انھوں نے بااثر مقام حاصل کر لیا۔ ایسے قائدوں میں ناتھ، جو گی اورسدھ شامل تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد دست کار طبقے سے آئے تھے جن میں جو لا ہے بھی شامل تھے۔ جن کی منظم دست کاری پیدا وار کی ترقی کے ساتھ اہمیت بڑھا رہی تھی۔  نئے شہری مراکز کے ظہور کے ساتھ اور مرکزی و مغربی ایشیا کے ساتھ لمبی دوری کی تجارت بڑھنے کے ساتھ ہی ان دست کارانہ پیداوار کی مانگ بڑھنے لگی۔
بہت سے نئے مذہبی قا ئدوں نے ویدوں کے اقتدار پر سوالات اٹھائے اور اپنے خیالات کا اظہار عوام الناس کی زبان میں کیا۔ صدیاں گذرنے کے بعد یہ زبانیں اس شکل میں  فروغ پائیں۔جس طرح یہ آج مستعمل ہیں۔ تاہم اپنی مقبولیت کے باوجود یہ نئے مذہبی قائد چیدہ حکمراں طبقے کا تعاون حاصل کرنے کی حالت میں نہ تھے۔
      ان حالات میں ایک نیا عنصر ، ہندوستان میں ترکوں کی آمد تھی جن کا عروج دہلی سلطنت (تیرھویں صدی) کے قیام کے ساتھ ہوا۔ دہلی سلطنت کے قیام سے راجپوت ریاستوں اور ان سے وابستہ برہمنوں کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگیں۔ ان تبدیلیوں کا اثر ثقافت اور مذہب پر بھی پڑا ۔ صوفیا کی آمد(سیکشن6) اس کے فروغ کا اہم حصہ تھا۔

علما (عالمِ کی جمع،  جس کے پاس عِلم ہو) اسلامی علوم کے دانشور تھے۔ اس روایت کے محافظ ہونے کے ناطے وہ مختلف مذہبی ، فقہی اور تعلیمی امور انجام دیتے ہیں۔

شریعت

شریعت مسلم معاشرے کو نظم و ضبط میں کرنے والا قانون ہے۔ اس کی بنیاد قران اور حدیث پر قائم ہے۔حدیث کے معنی ہیں پیغمبر حضرت محمدؐ کے اقوال اور افعال۔
عرب کے باہر کے علاقوں میں اسلامی حکمرانی کی توسیع کے ساتھ جہاں رسم ورواج اور روایات مختلف تھیں توقیاس (مماثلث کی بنیاد پرد لائل) اور اجماع (قوم کا اتفاق ) کو بھی قانون کے دو دیگر ماخذ تسلیم کر لیا گیا ۔ اس طرح شریعت قرآن ، حدیث ، قیاس اور اجماع سے ترقی پذیر ہوئی

5.1  حکمرانوں اور رعایا کے عقائد

ان تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک محور یہ ہے کہ اکثر اعلیٰ حکمراں طبقے کے مذہب کو نقطۂ ماسکہ کے طور پر قبول کیا گیا۔ 711 ء میں محمد بن قا سم نامی ایک عرب جنرل نے سندھ کو فتح کر لیا جو خلیفہ کی مقبوضہ املاک کا سردار بن گیا۔    اس کے بعد (تقریباً تیرہویں صدی عیسوی ) تُر کوں اور افغانوں نے دہلی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بعد دکن اور برّ صغیر ہند کے دیگر حصوں میں بھی سلطنتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بہت سے علاقوں میں اسلام حکمرانوں کا تسلیم شدہ مذہب تھا۔ یہ حالات سولھویں صدی میں مغل سلطنت کے قیام تک قائم رہے۔ مزید برآں اٹھارھویں صدی میں ظہور پذیر ہونے والی علاقائی ریاستوں میں بھی یہی حالت تھی یعنی ان کے حکمراں اسلام مذہب کے ماننے والے تھے۔
       نظریاتی طور پر مسلم حکمرانوں کو علما کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوتا تھا۔ علما سے امید کی جاتی تھی کہ وہ شریعت پر مبنی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے۔ واضح طور پر برّصغیر میں حالات پیچیدہ تھے جہاں عوام کی بڑی تعداد اسلام مذہب کی ماننے والی نہ تھی۔
       اس تناظر میں ذمّی (عربی لفظ ذِمّہ سے مشتق) یعنی حفاظت یا فتہ افراد کا زمرہ۔ ذمّی وہ لوگ تھے جو الہامی صحیفے ماننے والے تھے۔جیسے مسلم حکمرانی والے علاقے میں رہنے والے یہودی اور عیسائی ۔ یہ لوگ جزیہ نامی ٹیکس ادا کر کے مسلمان حکمرانوں کے ذریعے تحفظ کے حقدار ہوجاتے تھے۔ ہندوستان میں اس حیثیت کو وسیع کرتے ہوئے ہندؤوں کو بھی اس درجہ میں شامل کر لیا گیا ۔ جیساکہ آپ دیکھیں گے (باب 9) ، مغل حکمران خود کو صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ تمام لوگوں کا بادشاہ خیال کرتے تھے۔
حقیقت میں اکثر حکمراں رعایا کے تئیں کافی  لچک دار رویّہ اختیار کرتے تھے۔ مثال کے طور پر بہت سے حکمرانوں نے زمین کے وقف عطیات اور ٹیکس سے چھو ٹ ، ہندو، جین ، پارسی، عیسائی اور یہودی مذہبی اداروں کو بھی دی اور ساتھ ہی غیر مسلم مذہبی قائدوں کے تئیں عقیدت کا اظہار بھی کیا۔ ایسے عطیات بہت سے مغل بادشاہوں نے دیے جن میں اکبر اور اورنگ زیب بھی شامل ہیں۔ 
27
شکل  6.7
مغل پینٹنگ، بادشاہ جہانگیر اور جوگی کی تصویر

ماخذ 5

کھمبات کا ایک چرچ

یہ اس فرمان (شاہی حکم ) کا اقتباس ہے جسے 1598میں اکبر نے جاری کیا تھا :
ہمارے ممتاز اور مقدس ذہن میں خیال آیا کہ مسیح کے مقدس سماج کے پادری کھمبات (گجرات میں) کے شہرمیں عبادت کے لیے (چرچ) ایک عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ شاہی فرمان جا ری کیا جارہا ہے...........کھمبات کے معزز افسران کسی بھی طرح ان کے راستے میں نہ آئیں اور انھیں چرچ تعمیر کرنے دیں جس سے وہ اپنی عبادت میں مشغول ہوجائیں ۔ یہ ضروری ہے کہ بادشاہ  کے اس فرمان کی ہر حال میں تعمیل کی جائے۔
وہ کون لوگ تھے جن کی طرف سے اکبر کو اپنے فرمان کی مخالفت کی امید تھی؟


ماخذ 6

جوگی کے لیے احترام

1661-62میں اورنگ زیب نے ایک جوگی کو خط لکھا جس کا ایک اقتباس ہے:
برتر مقام رکھنے والے شیو مورت، گرو آنند ناتھ جیو!
آپ کی تکریم و تعظیم کرنے والے امن اور خوشی سے ہمیشہ شری شیو جیو کی حفاظت میں رہیں!
پرستش کے لیے کپڑا اور پچیس روپیے کی رقم نذر کے بطو ر ارسال کی گئی ہے آپ تک پہنچے گی(آپ کی تکریم کرنے والا) ........جب کبھی آپ کو ہماری خدمت کی ضرورت ہو محترم آپ ہمیں لکھ سکتے ہیں۔
جوگی کے ذریعہ عبادت کیے جانے والے دیوتا کی شناخت کیجیے۔ جوگی کے تئیں بادشاہ کے رویہ کو بیان کیجیے۔

28

شکل  6.8

ایک خوجا کا قلمی نسخہ

خوجہ کی رسم الخط میں تحریر کرنے سے قبل جنین کی زبانی منتقلی ہوتی تھی۔ خوجہ کی رسم الخط مقامی لانڈا (تاجروں کی حذف شدہ تحریر ) سے ماخوذہے۔ پنجاب ، سندھ اور گجرات کے خوجہ طبقات، لسانیات کی روسے گوناگوں ، لانڈا کا استعمال کرتے تھے۔
Matrilocal Residence شادی سے متعلق وہ رسم ہے جس میں خواتین شادی کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ اپنے میکے میں ہی رہتی ہے اور ان کے شوہر ان کے ساتھ آکر رہ سکتے ہیں۔

5.2 اسلام کے مقبول عام نظریات

 اسلام آنے کے بعد جو نتائج سامنے آئے وہ صرف اعلیٰ حکمراں طبقے تک ہی محدود نہ تھے بلکہ حقیقتاً پورے برّ صغیر ہند میں دور دراز تک اورمختلف سماجی طبقات جیسے کسان ، دست کار ، جنگجو، تاجر وغیرہ کے درمیان سرا یت کر گئے۔ جن لوگوں نے اسلام مذہب قبول کیا انھوں نے اصولی طور پر اس کے پانچ عقائد ’’ارکان‘‘ قبول کیے تھے: صرف ایک خداہے، حضرت محمدؐ اس کے پیغمبر ہیں (شہادت): دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنی چاہیے؛(نماز؍صلوٰۃ) خیرات (زکوٰۃ) دینی چاہیے ؛ رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے چاہئیں(روزہ) اور حج کے لیے مکّہ جانا چاہیے(حج)۔
      تاہم ان عالمگیر خصوصیات میں اکثرمسلک (سنّی ؍شیعہ ) کی وجہ سے اور مقامی رسم و رواج کے معمولات کے اثر کی وجہ سے بھی مذہب قبول کرنے والے لوگوں کے معمولات میں تنّوع دیکھنے میں آتا تھا۔ مثلاً اسماعیلیوں(ایک شیعہ مسلک)کی شاخ خوجاؤں نے تبادلۂ خیال کے ایسے نئے انداز تشکیل کیے جن سے مقامی ادبی اصناف کے ذریعے قرآن سے ماخذ افکار کی اشاعت ہوئی۔ بشمول جنین (ginan) (سنسکرت لفظ جنان (Janan سے ماخوذ بمعنی  (’ علم‘) بھکتی گیت جو پنجابی ، ملتانی ، سندھی، کچھّی ، ہندی اور گجراتی میں تھے،مخصوص راگ کے ساتھ روزانہ کی عبادت کی مجلس میں گائے جاتے تھے۔
      اس کے علاوہ عرب مسلمان تاجر جو مالابارکے ساحل (کیرل) پر آباد تھے، انھوں نے مقامی ملیالم زبان کو اپنایا۔ ساتھ ہی انھوں نے مقامی رسوم جیسے نانیہالی نسب Matriliny (باب 3) اور شادی سے متعلق وہ رسم جس میں شوہر بیوی کے قبیلے میں شامل ہوجاتا ہے  Matrilocal Residence کو بھی اپنا یا۔
      ایک عالمگیر مذہب کے مقامی رسم ورواج کے ساتھ پیچیدہ مرکب کی شاید سب سے عمدہ مثال مساجد کے فنِّ تعمیر میں نظر آتی ہیں۔ مساجد کے فن تعمیر کی کچھ خصوصیات عالمگیرہیں۔ جیسے مسجد کا مکّہ (خانہ کعبہ) کی سمت ہونا، محراب (نماز کی طاق نماجگہ) اور منبر (خطبہ گاہ) اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ تاہم بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جن میں تنّوع دکھائی دیتا ہے۔ جیسے چھتیں اور تعمیری سامان (دیکھیے تصویر 6.9،  6.10 اور6.11)
29
شکل  6.9
کیرالا میں ایک مسجد،
تیرھویں صدی میں
غورکیجیے شکھارا کی طرح چھت کی شکل میں ہے۔
30
شکل  6.10
ضلع میمن سنگھ،بنگلہ دیش میں 1609میں
اینٹوں سے تعمیر عطیہ مسجد۔
31
شکل  6.11
سری نگر میں جہلم ندی کے کنارے بنی شاہ ہمدان مسجد، اکثر کشمیر میں موجود مساجد میں یہ ’’ تاج کا ہیرا‘‘ خیال کی جاتی ہے ۔ یہ 1395میں تعمیر ہوئی۔ یہ کشمیری لکڑی کے فنّ تعمیر کی سب سے عمدہ مثال ہے۔ اس کے مخروطی کلس اور نقّاشی کیے گئے چھجوں پر غور کیجیے یہ پیپیر میچ (Papier Mach) سے مزّین کی گئی ہے۔

5.3  قوموں کے نام

ہم اکثر ہندو اور مسلمان جیسی اصطلاحات کو مذہبی قوموں کے نام کے طور پرتسلیم کر سکتے ہیں۔ تا ہم یہ اصطلاحات کافی عرصہ تک رواج میں نہیں تھیں۔ جن مؤرخین نے آٹھویں سے چودھویں صدی کے درمیان کی سنسکرت کتابوں اور کتبات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت کی نشاند ہی کرتے ہیں کہ مسلمان یا مسلم اصطلاح کا فی الواقع استعمال نہیں ہوتاتھا۔ اس کے بر خلاف گاہے بگاہے لوگوں کی شناخت ، جہاں سے وہ آئے تھے، کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ اس طرح ترکی حکمرانوں کو تروشکا (Turushka) لقب دیا گیا۔ تاجکستان سے آئے لوگوں کو تاجک اور فارس (ایران) کے لوگوں کو پراشیکا کے نام سے موسوم کیا گیا ۔کبھی کبھی دیگر لوگوں کے لیے مستعمل اصطلاحات کو نئے مہا جرین پر بھی کیا گیا۔ مثال کے طور پر تُر ک اور افغان لوگوں کو شاکا (Shakas) (باب 2 اور3)اور یَوَن (Yavanas) (گریک یعنی یونانی لوگوں کے لیے مستعمل اصطلاح) کے نام سے منسوب کیا گیا۔
ان مہاجرین قوموں کے لیے ایک نہایت عام اصطلاح ملچھ (Mlechchha)جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ ذات پات پر مبنی سماج کے میعارات کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ ایسی زبانیں بولتے تھے جو جو سنسکرت زبان سے نہیں نکلتی تھیں۔ حالانکہ ایسی اصطلاحات میں توہین آمیز تعبیر پوشیدہ تھی۔ لیکن انھیں مسلمانوں کی ایک ممتاز مذہبی قوم کے بطور شاذو نادر ہی تعبیر کیا جاتا تھا۔ جو ہند و قوم کی مخالف ہو۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا (باب 5) کہ اصطلاح ’’ ہندو‘‘ کو کئی انداز سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے لازمی طور پر مذہبی تعبیر کے لیے محدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔


گفتگو کیجیے... 

کیا آپ کے شہر یا گاؤں میں کوئی خانقاہ یا درگاہ ہے؟ معلوم کیجیے کہ وہ کب تعمیر ہوئی تھی اور اس کے ساتھ کون سی سرگرمیاں وابستہ ہیں؟ کیا ایسے دیگر مقامات ہیں جہاں مذہبی مر د و خواتین ملتے یا  رہتے ہیں؟


تصوّف اور صوفی ازم

(صوفیت)

صوفی ازم انیسویں صدی میں ڈھالا گیا ایک انگریزی لفظ ہے ۔صوفی ازم کے لیے اسلامی متون میں لفظ تصو ف مستعمل ہے۔ مؤر خین نے اس اصطلاح کو مختلف طریقوں سے سمجھا ہے۔ کچھ دانشوروں کے مطابق یہ اصطلاح ’’ صوف‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی او‘ن کے ہیں۔ یہ موٹے کھردرے اونی کپڑوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کو صوفیا پہنا کرتے تھے۔ دیگر دانشور اس کو  ’’ صَفا ‘‘ سے مشتق مانتے ہیں جس کے معنی پاکی کے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اصطلاح ’’ صُفّہ‘‘ سے مشتق ہو جو مسجد نبوی کے باہر ایک چبوترے کا نام تھا جہاں مخصوص مطیعوں کا گروہ عقائد سیکھنے کے لیے جمع ہوتا تھا۔

سلسلوں کے نام

زیادہ تر صوفی سلسلوں کے نام ان کے بانیوں کے نام پر مشہورہوئے۔ مثلاً قادری سلسلے کا نام اس کے بانی شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام پر پڑا۔ تاہم کچھ دیگر سلسلوں کا نام اس شہر کے نام سے مشہورہوا جہاں اس سلسلے کا آغاز ہوا ۔جیسے چشتی سلسلے کا نام وسطی افغانستان کے ’چشت ‘شہر کے نام سے مشہور ہوا۔

6۔ تصوف کا ارتقا

اسلام کی ابتدائی صدیوں میں مذہبی اور سیاسی ادارہ کی شکل میں خلافت کی بڑھتی مادّیت کے خلاف احتجاجاً  مذہبی ذہن کے لوگ ترک دنیا اور علم باطن کی  طرف مائل ہونے لگے ۔ ایسے لوگوںکو صوفی کہا جانے لگا۔ ان لوگوں نے غیر استدلالی تعریف اور فقہاکے ذریعہ قرآن اور سنت (پیغمبر کی روایات) کی علمی طریقے سے عالم دین کی تشریح وتعبیر کی تنقید کی۔ اس کے برخلاف انھوں نے نجات حاصل کرنے کے لیے اﷲ کی پرجوش عقیدت و عبادت اور خدا کے لیے محبت اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے زور دیا۔
      انھوں نے پیغمبر حضرت محمد ؐ  کو  انسان کامل کی مثال مانتے ہوئے ان کی اتباع پر زور دیا۔ صو فیا نے قرآن کی تشریح و تعبیر اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کی۔

6.1 خانقاہیں اور صوفی سلسلے

گیارھو یں صدی آتے آتے تصوف ایک  واضح تحریک بن گیا تھا، جس کا صوفی معلومات اور قرآنی علوم پر اپنا ادبی مجموعہ تھا۔ ادارتی طور پر صوفیانے خودکو ایک جماعت کی حیثیت سے خانقاہ (فارسی ) کے اردگرد منظم کرنا شروع کردیا۔ خانقاہ کا انتظام ایک تعلیمی استاد جو شیخ (عربی میں) ، پیر یا مُرشد (فارسی میں ) کے نام سے معروف تھے، کرتے تھے۔ وہ مریدوں سے بیعت لیتے اور انھیں اپنا جانشین (خلیفہ) مقرر کرتے تھے۔ روحانی اطوار کے اصول بنائے جانے کے علاوہ خانقاہ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان رشتہ، شیخ اورعوام کے بیچ کے رشتے بھی طے کرتے تھے۔
      بارھویں صدی کے آس پاس اسلامی دنیا کے مختلف حصوں میں صوفی سلسلوں کی ایک ٹھوس  شکل نظر آنے لگی۔ سلسلے کے لُغوی معنی ایک زنجیرکے ہیں جو شیخ اور مرید کے درمیان متواتر رشتوں کو ظاہر کرتا ہے جس کا غیر منقطع روحانی شجرہ پیغمبر حضرت محمد ؐ پرختم ہوتا ہے۔ اس وسیلے یا واسطے کے ذریعہ روحانی قوت اور فیض مریدوں تک منتقل ہوتا ہے۔ باضابطہ مرید ہونے کی مخصوص رسم بنی جس میں مرید اطاعت و و فاداری کا حلف اٹھاتا تھا۔ پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا اور سرمنڈواتا تھا۔
      جب شیخ کا انتقال ہوجاتا تھا تو اس کا مقبرہ یعنی درگاہ (درگاہ ایک فارسی لفظ ہے جس کے معنٰی دربارکے ہیں) ان کے مریدوں اورمطیعوں؍ماننے والوں کے لیے پرجوش عقیدت کا مرکز بن جاتی تھی۔ اس طرح شیخ کی قبر کی زیارت کی رسم   ( خاص طور پر ان کی برسی یا عرس کے موقع پر) کی حوصلہ افزائی ہوئی (عرس یا شادی، شیخ کی روح کا خدا کے ساتھ اتصال کو ظاہر کرتے ہیں) ۔ کیونکہ لوگوں کا یقین تھا کہ موت کے بعد پیر کا خدا کی ذات کے ساتھ اتحاد ہوجاتا ہے۔     اس طرح پہلے کے بجائے اس کے اور قریب ہوجاتے ہیں۔ لوگ مادی اور روحانی فوائد و فیض حاصل کرنے کے لیے ان کی درگاہ پر جاتے ہیں۔ اس طرح’’ شیخ ‘‘ کی عقیدت مندی کا ایک ’’ ولی‘‘ کے طور پر احترام کیا جانے لگا۔

6.2  خانقاہ کے باہر

کچھ متصوّ فانہ یاعارفانہ لوگوں نے صوفی خیالات و نظریات کی اساسی تشریح کی بنیاد پر تحریکات کا آغاز کیا۔ بہت سے لوگوں نے خانقاہ کی تحقیر کی اور فقیری و تجرّد کی زندگی پر عمل کیا۔ مذہبی رسوم اور ترک دنیا کی انتہائی صورتوں پر عمل کیا۔ یہ مختلف ناموں سے معروف تھے۔ جیسے قلندر، مداری، ملنگ، حیدری وغیرہ۔ شریعت کی  دانستہ  نافرمانی کی وجہ سے اکثر انھیں’ بے شرع‘ کہا جاتا تھا۔ ان کو شریعت پر عمل کرنے والے باشرع صوفیاسے الگ کرکے دیکھا جاتاتھا۔

7. برّ صغیر ہندمیں چشتیہ

بارھویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہجرت کرنے والے صوفی گروہوں میں چشتی سب سے زیادہ  ذی اثرثابت ہوئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے خود کو مقامی ماحول میں کامیابی کے ساتھ ڈھال لیا۔ ساتھ ہی ہندوستانی بھکتی روایات کی اہم خصوصیات کو اپنا لیا۔

7.1  چشتی خانقاہ میں زندگی

’’ خانقاہ ‘‘سماجی زندگی کا مرکز تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ شیخ نظام الدین اولیاؒ (تقریباً چود ھویں صدی) کی خانقاہ جمنا ندی کے کنارے غیاث پور میں واقع تھی جو اس وقت دہلی شہر کے بیرونی سرحد پر واقع تھا۔ یہ خانقاہ متعدد چھوٹے کمروں اور ایک بڑے ہال (جماعت خانہ) پرمشتمل تھی۔ جہاں مکینوں کے ساتھ ملا قاتی مہمان رہتے تھے اور عبادت کرتے تھے۔ مکینوں میں شیخ کےؒ اہل خانہ ، ان کے خدمت گار اور مرید شامل تھے۔ شیخ ہال کی چھت پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے جہاں ملنے والوں اور مہمانوں سے صبح اور شام ملاقات کرتے تھے۔ صحن برآمدوں سے گھراہوا تھا۔ خانقاہ چاروں طرف سے دیوار سے گھری تھی۔ ایک موقع پر جب منگولوں نے حملہ کیا، آس پاس کے  علاقے کے لوگوں نے خانقاہ میں پناہ لی تھی۔

ولی (جمع اولیا) یا اﷲ کا دوست وہ صوفی جو اﷲ کے قریب ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور اس سے حاصل برکات سے کرامات د کھا سکتا تھا۔

داتا گنج بخش کی کہانی

1039 میں ابوالحسن الہجویریؒ جو افغانستان کے شہر غزنی کے قریب ہجویر کے رہنے والے تھے، انھیں حملہ آور تُر کی فوج کے ایک قیدی کی شکل میں سندھ ندی کو پار کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ وہ لاہور میں آباد ہوگئے اور انھوں نے فارسی میں ’’ کشف المحجوب‘‘ (پردہ والے کی بے پردگی) نامی کتاب تحریر کی۔ جس میں تصوّف کے معنی و مطالب او رمعمولات پر عمل کرنے والے صوفیا کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔
الہجو یریؒ کی 1073 میں وفات ہوگئی انھیں لاہور میں دفن کر دیا گیا۔ سلطان محمود غزنوی کے پوتے نے ان کے مزار پر درگاہ تعمیر کرائی۔ یہ درگاہ خاص طور پر ان کی برسی (عرس) کے موقع پر ان کے عقیدت مندوں کے لیے زیارت گاہ بن گئی۔ 
آج بھی الہجویریؒ ’’ داتاگنج بخش ‘‘یعنی خزانہ عطا کرنے والے کی شکل میں قابلِ احترام ہیں۔ ان کے مقبرے کو ’داتا دربار‘ یعنی ’دینے والے کا دربار‘ کہا جاتا ہے۔

چشتی سلسلے کے اہم معلم
صوفی معلّم سال وفات مقام درگاہ
شیخ معین الدّین سنجری ؒ
خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ
شیخ فرید الدّین گنج شکرؒ
شیخ نظام الدّین اولیاؒ 
شیخ نصیر الدین چراغ دہلیؒ
1235
1235
1265
1325
1356
اجمیر (راجستھان)
دہلی
اجودھن (پاکستان)
دہلی
دہلی

      یہاں ایک کھلا اور کشادہ باورچی خانہ ، فتوح ( بنا مانگی مدد) پر چلتا تھا۔ صبح سے دیررات تک تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ سپاہی ، غلام ،مغنّی ، تاجر، شاعر، مسافر، دولت مند اور غریب ، ہندو جوگی (یوگی) قلندریہاں مرید بننے ، شفا پانے کے لیے تعویذ اور مختلف معاملات میں شیخ کی شفاعت کے لیے آتے تھے۔ کچھ دیگرملنے والوں میں امیرحسن سجزیؒ اورامیر خسروؒ جیسے شاعر اور درباری مؤرخ ضیاالدین برنی جیسے لوگ شامل تھے۔ ان سبھی لوگوں نے شیخ کے متعلق لکھا ہے۔ شیخ کے سامنے سرخم کرنا (جھکنا)، ملنے والوں کو پانی پلانا ، مرید ہونے کے لیے سرمنڈوانا اورروزانہ کی ورزش وغیرہ معلومات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مقامی روایات کو جذب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
      شیخ نظام الدین اولیاؒنے بہت سے روحانی جانشینوں کو نامزدکیا اور انھیں برصغیر ہند کے مختلف علاقوں میں خانقاہ قائم کرنے کے لیے متعین کیا۔ اس کے نتیجے میں چشتی تعلیمات ، معمولات اور تنظیمیں ، ساتھ ہی ساتھ شیخ کی شہرت و نیک نامی بہت تیزی کے ساتھ چاروں طرف پھیل گئی۔ ان کی اور ان کے روحانی اجداد کی درگاہوں پر زائرین آنے لگے۔

7.2  چشتی ریاضت پسندی: زیارت اور قوالی

صوفیا کی درگاہوں کی زیارت پوری اسلامی دنیا میں رائج ہے۔ اس موقع پر صوفی کی روحانی نوازش و کرم یعنی برکات حاصل کی جاتی ہیں۔ پچھلی سات صدیوں سے مختلف عقائد (مسلک)، طبقات اور سماجی پس منظر کے لوگ پانچ عظیم چشتی صوفیا کی در گاہوں پر اپنی عقیدت ظاہر کرتے رہے ہیں (اوپر دیا گیا چارٹ ملا حظہ کیجیے)۔ ان درگاہوں میں سب سے زیادہ قابلِ احترام درگاہ خواجہ معین الدین چشتی ؒکی ہے۔ جو’’ غریب نواز‘‘ (غریبوں کے مشکل کشا) کے نام سے مشہور ہیں۔
      خواجہ معین الدین چشتی ؒکی درگاہ کا سب سے پہلا کتابی حوالہ چودھویں صدی کا ملتاہے۔ یہ درگاہ بظاہر شیخ کے زہد و تقویٰ اور ان کے روحانی جانشینوں کی عظمت ، شاہی زائرین او ربادشاہوں کی سرپرستی کی وجہ سے مشہور تھی۔ محمد بن تغلق (1324-51) پہلا سلطان تھا جس نے سب سے پہلے درگاہ کی زیارت کی تھی۔ لیکن شیخ کےؒ مزار (مقبرہ) پر سب سے پہلی عمارت مالوہ کے سلطان غیاث الدین خلجی نے پندرھویں صدی کے آخر میں بنوائی تھی۔ کیونکہ یہ درگاہ دہلی اور گجرات کو جوڑنے والی تجارتی شاہراہ پر واقع ہے اس لیے بہت سے مسافروں کو متوجہ کرتی تھی۔
سولھویں صدی تک آتے آتے یہ درگاہ بہت مقبول و معروف ہوگئی تھی۔ واقعتاً اجمیر کے عازمین کے روحانی جذبوں سے سرشار گیتوں نے ہی اکبر کو یہاں آنے کی تحریک دی۔ اکبر یہاں چودہ مرتبہ آیا، کبھی تو سال میں دو تین بار نئی فتوحات کے لیے دعائے برکت حاصل کرنے کے لیے، عہدو قسم کو پورا کرنے اور لڑکوں کی پیدائش پر وہ یہاں آیا تھا۔ اس نے یہ روایت 1580 تک بنائے رکھی۔ ہر آمد پر بادشاہ فیاضی کے ساتھ تحائف دیا کرتا تھا۔ اس کا پورا ریکارڈ شاہی دستاویزات میں درج ہے۔ مثال کے طور پر 1568 میں زائرین کے لیے کھانا پکانے کیلیے ایک بڑی دیگ درگاہ کو پیش کی۔ اس نے درگاہ کے احاطے میں ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی۔

32
شکل  6.12
شیخ نظام الدین اولیا ؒاور ان کے مرید امیر خسروؒ کی
 سترھویں صدی کی ایک تصویر
 
ایک فنکار شیخ اور ان کے مرید کے درمیان کیسے امتیاز کرتا ہے؟ بیان کیجیے۔


33
شکل  6.13
اجمیر کی زیارت کے موقع پرمغل بادشاہ جہانگیر کا استقبال کرتے ہوئے شیوخ۔ منوہر نامی مصوّرکی بنائی پینٹنگ تقریباً 1615 عیسوی
تصویر میں مصوّر کے دستخط تلاش کیجیے۔

ماخذ 7 

مغل شہزادی جہا ں آرا

 کی زیارت : 1643

مندرجہ ذیل اقتباس جہاں آراکی تحریر کردہ شیخ معین الدین چشتی کی ؒسوانح عمری بعنوان ’’ مونس الارواح‘‘سے لیا گیا ہے:

      اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد....... یہ فقیرہ حقیرہ جہان آرا دارالسلطنت آگرہ سے اپنے عظیم ولد (شاہ جہاں) کے ہمراہ خطّۂ پاک اجمیر کے لیے روانہ ہوئی....... میں اس  عہد پر  پابندتھی کہ ہر روز ہر منزل پر دورکعت نماز نفل ادا کروں گی۔

       بہت دن تک...میں تیندوے کے کھال پر نہ سوئی اور نہ روضئہ مبارک (مقدّس درگاہ) کی سمت پیر پھیلائے اور نہ اس کی طرف پشت کی۔میں نے درخت کے نیچے دن گز ارے۔

      بروز جمعرات ، رمضان المبارک کے مقدّس مہینے کے چوتھے دن مرقدِ معطّرو منوّر کی زیارت کی خوشی و سعادت حاصل ہوئی.... دن کی روشنی کاایک پہر باقی تھا کہ میں روضۂ اقدس کے اندر گئی اور اپنے زردچہرے پر اس آستانہ کی خاک ملی۔ دروازہ سے روضۂ مقدس تک برہنہ پازمین چومتی گئی۔ گنبد شریف میں داخل ہوکر اپنے پیر کے پرنور روضۂ کے سات پھیرے لیے.... آخر میں عمدہ ترین عطر کو معطّر روضۂ پر اپنے ہاتھوں سے ملا اور گلاب کے پھولوں کی چادر جو اپنے سرپر رکھ کر لائی تھی، میں نے قبر مبارک پر چڑھائی۔

جہاں آرا کن جذبات اور احساسات کا ذکر کرتی ہے جو شیخ  ؒکے تئیں اس کی  عقیدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ کس طرح وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ درگاہ ایک خاص مقام ہے؟


      رقص و موسیقی کا استعمال بھی ’’ زیارت‘‘ کا حصہ تھا۔ اس میں خاص طور سے ماہر موسیقا ر یا قوالوں کے ذریعہ روحانی نغمے و قوالی جس سے وجدانی جذبات کو ابھارا جاسکے، پیش کیے جاتے تھے۔ صوفیا ذکر (ملکوتی ناموں) یا سماع کے ذریعہ (لغوی معنی سننے) یا روحانی موسیقی کی بجاآوری کے ذریعہ اس کی موجودگی (اﷲ ) کو پکارتے تھے یعنی خدا کو یاد کرتے تھے۔ چشتی صوفیا کے یہاں سماع ایک اہم جزو تھا اور یہ مقامی روحانی روایات سے باہمی تعامل کا نمونہ تھا ۔

پورے ملک کا چراغ

ہر صوفی درگاہ کے ساتھ کچھ ممتاز و نمایاںخصوصیات وابستہ ہیں ۔اٹھارھویں صدی کے دکن کے زائر، درگاہ قلی خان نے شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی ؒکی درگاہ کے متعلق ’’ مرقّع دہلی ‘‘میں لکھا ہے:

شیخ (مد فن میں) ؒصرف دہلی کے ہی چراغ نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے چراغ ہیں ۔لوگوں کا یہاں ہجوم ہوتا ہے ۔خاص طور پر اتوار کے دن ۔ دیوالی کے مہینے میں دہلی کی کل آبادی درگاہ کی زیارت کے لیے آتی ہے اور حوض کے اطراف خیمہ لگا کر کئی دن تک یہاں مقیم رہتی ہے۔ پرانی و دائمی بیماریوں سے شفا حاصل کرکے وہ یہاں غسل کرتے ہیں۔ مسلمان اور ہندو ایک ہی جذبے کے تحت یہاں کی زیارت کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک لوگ آتے رہتے ہیں اور درختوں کے سائے میں شادمانی و فرحت کے ساتھ اپنے آپ کو مشغول رکھتے ہیں۔


امیر خسرو اور ’’ قول ‘‘

امیر خسرو (1253-1325) ایک عظیم شاعر‘ موسیقار اور شیح نظام الدین اولیاؒکے مرید تھے۔ انھوں نے ’’قول‘‘ (عربی لفظ جس کے معنی ضرب المثل یا مقولہ ہیں) کو متعارف کراکر چشتی سماع کو ایک نئی شکل دی۔ ایک مناجاتی قول کو قوالی کے شروع اور آخر میں گایا جاتا تھا ۔ اس کے بعد فارسی‘ اردو یا ہندوی میں صوفی شاعری گائی جاتی تھی۔ کبھی کبھی ان تینوں زبانوں کے الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ شیخ نظام الدین اولیا ؒکی درگاہ پر گانے والے قوّال (جوان نغموں کو گاتے ہیں) اپنے گانے کی شروعات ہمیشہ’ قول‘ سے کرتے ہیں ۔ آج برصغیر کی سبھی درگاہوں پر قوالی گائی( پیش کی)جاتی ہے۔

34

شکل  6.14

نظام الدین اولیا کیؒ درگاہ پر قوالی پیش کرتے ہوئے۔


 اس گانے کے خیالات اور اسلوب واظہار کے طریقے جہاں آراکی’’ زیارت‘‘ (ماخذ7) میں  بیان کیے گئے خیالات اور اسلوب و اظہار سے کس طرح مماثل یا مختلف ہیں؟ 

7.3 زبان اور ترسیل (رابطہ)

چشتی صوفیا نے ’’ سماع‘‘ میں نہ صرف مقامی زبان کو اپنا یا بلکہ دہلی میں چشتی سلسلے سے وابستہ لوگ ہندوی زبان میں بات چیت کیا کرتے تھے جو عوام کی زبان تھی۔ دیگر جیسے بابا فرید ؒنے بھی مقامی زبان میں اشعار کہے جو ’’ گروگرنتھ صاحب ‘‘ میں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ دیگر صوفیا نے طویل نظمیں یعنی مثنویاں تحریر کیں جن میں خدا کے تئیں محبت کے خیالات کا اظہار ، انسانی محبت کی علامت و مثال کے ذریعہ کیا گیا۔ مثال کے طور پر ملک محمد جائسی کی نظم ’’پریم اکھیان‘‘ (محبت کی کہانی)، پدمنی اور رتن سین، چتّوڑ کے راجہ کی محبت کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہے۔ ان کی آزمائش علامتی ہے اور روح کا خدا تک پہونچنے کا سفر ہے۔ اکثر خانقا ہوں میں عام طور پر ’’ سماع ‘‘ کے دوران ایسی شاعری کی خوش خو انی ہوا کرتی تھی یعنی گایا جاتا تھا۔
صوفی شاعری کی ایک مختلف طرز بیجاپور ، کرناٹک کے اطراف میں تحریر ہوئی۔ یہ دکنی (اردو کی بدلی ہوئی شکل) میں لکھی مختصر نظمیں تھیں۔ یہ سترھویں اٹھارھویںصدی میں اس علاقے میں سکونت پذیر چشتی صوفیا سے منسوب کی جاتی ہیں۔ یہ نظمیں عام طور پر عورتوں کے ذریعہ گھر کا کام کاج جیسے اناج پیستے ہوئے اور چرخہ کاتتے ہوئے گائی جاتی تھیں۔ دیگر نظمیں’ لوری نامہ‘’ للّبیذ‘ اور ’ شادی نامہ ‘ (بچوں کو سلانے کے گیت اور شادی کے گیت ) کی شکل میں تحریر ہوئیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس علاقے کے صوفیا کو پہلے سے رائج  بھکتی روایت، لنگایتوں کے ذریعہ کنّڑ میں تحریر ’’ وچن‘‘ اور پندھر پور کے سنتوں کے ذریعہ مراٹھی زبان میں تحریر ’ ابھنگوں‘ سے تحریک ملی ہو۔ اس کے ذریعہ سے اسلام بتد ریج دکن کے گاؤں میں مقام حاصل کر پایا۔

ماخذ 8

چرخہ نامہ

یہ گیت چرخے کے چلنے کی دھن پر تیار کیا گیا ہے:
جیسے آپ روئی لیتے ہیں ، آپ ایسے ’ذکر جلی ‘کریں
جیسے آپ روئی کو دھنتے ہیں، ویسے آپ ’ذکر قلبی‘ کریں
جیسے آپ دھاگے کو چرخی پر لپیٹتے ہیں، ایسے ’ذکر عینی‘ کریں
’ذکر معدہ‘ سے سینے تک کیا جائے
اسے دھاگے کی طرح حلق سے اتاریں
سانس کے دھاگے ایک ایک کرکے شمار کریں
اے بہن!
چوبیس ہزار تک شمار کریں
دن ورات یہ کام کریں
اور اس کو بطور تحفہ اپنے پیر کو پیش کریں



صوفیا اور ریاست

کچھ دیگر صوفی بھی جیسے دہلی سلطنت کے عہد میں سہروردی اور مغل عہد میں  نقش بندی، ریاست سے وابستہ تھے۔ تاہم ان کی وابستگی کے طریقے چشتی صوفیا کی طرح نہ تھے۔ کچھ واقعات میں صوفیا نے درباری عہد ے بھی قبول کیے۔

7.4  صوفیا اور ریاست

 چشتی سلسلے کی روایت کی ایک اہم خصوصیت زہد  اور  سادگی تھی جس میں دنیا وی اقتدارسے دوری  اختیار کرنا بھی شامل تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سیاسی اقتدار سے مطلق علاحدگی کی صورت بنائے رکھی جائے۔ اعلیٰ سیاسی طبقہ بغیر طلب کیے عطیات و نذرانے دیتا تھا توصوفیا  اسے قبول کرتے تھے۔ سلاطین نے خانقاہوں کے لیے رفاہی املاک یعنی ’’ اوقاف‘‘ قائم کیے اور ٹیکس سے مستثنیٰ زمینیں (انعام ) دیں۔
      چشتی صوفیا عطیات نقد اور جنس کی شکل میں قبول کرتے تھے بلکہ ان عطیات کو جمع کرنے کے بجائے وہ جلد از جلد کھانے، کپڑوں، اقامتی سکونت اور مذہبی رسوم جیسے سماع کی ضروریات پر پوری طرح صرف کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان باتوں سے شیخ کی اخلاقی عظمت کی قدر میں اضافہ ہوتا تھا، جس سے زندگی کے ہرشعبہ کے افراد ان کے گرویدہ ہوجاتے تھے۔مزید برآں ، صوفیا کا تقویٰ اور ان کے تبحر علمی اور لوگوں کا ان کی کراماتی طاقت میں یقین ان کو عوام الناس میں مقبولیت عطاکرتا تھا ۔لہٰذا بادشاہ بھی ان کی حمایت حاصل کرنے کے خو اہش مند رہتے تھے۔
     بادشاہ ؍سلاطین نہ صرف صوفیا سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ ان کی حمایت کے بھی متمنّی رہتے تھے۔ جب ترکوں نے دہلی سلطنت قائم کی تو انھوں نے علماکے پرزور مطالبے، شریعت کو بطور ریاستی قانون کے نفاذ کے مطالبے کو روکنے کی کوشش کی  کیونکہ سلاطین پہلے سے ہی رعایا کی مخالفت کا سامنا کر رہے تھے۔رعایا کی اکثریت غیر مسلم تھی۔اس کے بعد سلاطین نے صوفیا کا سہارا تلاش کرنے کی کوشش کی جو اپنی روحانی عظمت کو راست طور پر خدا سے مشتق مانتے تھے اور یہ علما کے ذریعہ شریعت کی ترجمانی پر منحصر نہ تھے۔
      اس کے علاوہ یہ بھی خیال تھا کہ اولیا عام انسانوں کے مادّی اور روحانی حالات میں اصلاح کےلئے خدا سے سفارش بھی کرسکتے تھے۔ اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ شاید سلاطین عموماً اپنا مقبرہ صوفیا کی درگاہوں اور خانقاہوں کے قرب و جوار میں بنانا چاہتے تھے۔
      تاہم سلاطین اور صوفیا کے درمیان تنازع کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ اپنی عظمت واقتدار کو بنائے رکھنے کے لیے دونوں ہی کچھ رسومات کی ادائیگی جیسے سجدہ اور قدم بوسی کے متمنّی تھے۔ کبھی کبھی صوفی شیخ کو اعلیٰ و ارفع القابات سے مخاطب کیاجاتا تھا۔ مثال کے طورپر شیخ نظامالدین اولیاکے مرید انھیں’’سلطان المشائخ‘‘(لغوی معنی شیوخ کے سلطان) کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔


ماخذ 9

شاہی تحفے کا قبول نہ کرنا

یہ اقتباس ایک صوفی کی کتاب سے لیا گیا ہے جو 1313میں شیخ نظام الدین اولیا ؒکی خانقاہ کے طریقۂ عمل کو بیان کرتی ہے:
’’میں (امیر حسن سنجری  ؒ) خوش قسمت تھا کہ ان(شیخ نظام الدین اولیاؒ) کی قدم بوسی کر پایا ........... اس زمانے میں ایک مقامی حکمراں نے باغیچوں اور بہت سی زمین کی ملکیت کی دستاویز مع ان کی دیکھ بھال کے اوزاروں کی گنجائش و شرائط کے ساتھ شیخ کے پاس بھیجی ۔ حکمراں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ باغیچوں اور زمین پر اپنے تمام حقوق سے دست بردار ہوتا ہے۔آقا (شیخ ) نے یہ تحفہ قبول نہ کیا۔ اس کے بجائے انھوں نے افسوس کیا: ’’ ان باغیچوں، کھیت اور زمین کے ساتھ کیا کرنا؟........ہمارے کسی بھی روحانی پیرنے اس طرح کے عمل میں اپنے آپ کو مشغول نہیں کیا۔‘‘
پھر انھوں نے ایک مناسب حکایت بیان کی....... ’’سلطان غیاث الدین جو اس زمانے میں الغ خان کے نام سے معروف تھے، شیخ فرید الدین ؒکی زیارت کے لیے آئے انھوں نے کچھ رقم اور چار گاؤں کی ملکیت کی دستاویز شیخ کو پیش کی۔ رقم درویشوں (صوفیا) کی بھلائی کے لیے اور زمین شیخ کے استعمال کے لیے تھی۔ شیخ الاسلام (فرید الدینؒ) نے مسکراتے ہوئے کہا: مجھے رقم دے دو۔میں اس کو درویشوں میں تقسیم کردوں گا ، لیکن جہاں تک زمین کی دستاویز کا سوال ہے اسے تم رکھو بہت سے لوگ جو مدّتوں سے اس کے متمنّی ہیں، ان کو دے دو۔‘‘ 


35
شکل  6.15
اکبر کے دارالسلطنت فتح پور سیکری میں تعمیر شیخ سلیم چشتیؒ (بابا فرید ؒکے راست خلف یعنی اولاد) کی درگاہ جو چشتی صوفیا اور مغل ریاسست کے رشتوں کی مظہر ہے۔


گفتگو کیجیے۔۔۔۔۔

 مذہبی اور سیاسی فائدوں کے رشتوں کے درمیان تنازع کے امکانی ذرائع کیا کیا ہیں؟


اس بیان میں آپ کی نظر میں صوفیا اور ریاست کے درمیان رشتوں کے کون سے پہلو کی سب سے عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے؟ یہ بیان ہمیں شیخ اور ان کے مرید ین کے درمیان رابطے کے طریقوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟


ماخذ 10

ایک خدا

یہ تخلیق کبیر سے منسوب کی جاتی ہے:
بھائی مجھے بتاؤ کہ یہاں یہ کیسے ہوسکتا ہے
کہ دنیا کے ایک نہیں بلکہ دو آقا ہوں؟
کس نے تم کو گمراہ کیا ہے؟
خدا کو بہت سے ناموں سے پکارا جاتا ہے:
جیسے اﷲ، رام، کریم، کیشو، ہری اور حضرت ۔
 سونے کو انگوٹھیوںاورچوڑیوں کی شکل دینا ممکن ہوسکتا ہے،
کیاان میں سونا ایک جیسا نہیں ہے؟
فرق تو صرف الفاظ کا ہے جن کو ہم گڑھتے ہیں..........
کبیر کہتا ہے کہ دونوں ہی غلط فہمی میں ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی رام کو تلاش نہیں کرسکتا ۔ ایک بکرے کو مارتا ہے اور دوسرا گائے کو۔
وہ پوری زندگی جھگڑے میں برباد کردیتے ہیں۔
مختلف قوموں کے خداؤں کے درمیان امتیاز کے خلاف کبیرنے کس طرح کی دلیل دی ہیں؟

8۔  بھکتی کے نئے راستے

شمالی ہندوستان میں مکالمہ اور اختلاف

بہت سے سنت صوفی شاعر نئے سماجی حالات ، خیالات اور اداروں کے صر یح اور مضمر مکالمے میں مصروف رہے تھے۔ آئیے ہم دیکھیں کہ اس مکالمے میں کس طرح کے تاثرات ملتے ہیں۔ یہاں ہم اپنے عہد کی تین سب سے زیادہ  با اثرشخصیات پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

8.1  ملکوتی کپڑے کی بُنائی : کبیر

کبیر(تقریباً چودھویں اورپندرھویں صدی) اس تناظر میں ابھرنے والے بھکتی شاعروں میں شاید سب سے نمایاں مثال ہیں۔ مؤر خین نے ان کی زندگی اور عہد کا مطالعہ ان سے منسوب شاعری اور بعد میں لکھی گئی ان کی سوانح عمر یوں کی بنیادپر کیا ہے۔ یہ مشق کئی وجوہات کی بنا پر قابلِ تحسین اورچیلنجوں سے بھری رہی ہے۔
      کبیرسے منسوب اشعار ،تین ممتاز لیکن ایک حدتک منطبق روایات میں تدوین کیے گئے ہیں۔ کبیر بی جک ، کبیر پنتھ ( راستہ یا کبیر کا فرقہ) کے ذریعہ وارانسی اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر محفوظ ہیں۔’’ کبیر گر نتھاولی‘‘ کا تعلق راجستھان کے’’ دادوپنتھ‘‘ سے ہے ۔ کبیر کے بہت سے اشعار ’’آدی گرنتھ صاحب ‘‘ (دیکھیے سیکشن8.2) میں پائے جاتے ہیں۔ ان تمام مخطو طات کی تدوین کبیر کی موت کے بہت بعد میں کی گئی ۔ انیسویں صدی میں ان سے منسوب اشعار کے مجموعوں کو بنگال ، گجرات اور مہاراشٹر جیسے دور دراز علاقوں میں طبع کر کے تقسیم کرایا گیا۔
    کبیرکی نظمیں بہت سی زبانوں اور بولیوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ نرگن شاعروں کی خاص زبان ’’ سنت بھاشا‘‘ میں لکھی گئی ہیں۔ کچھ نظمیں جو’’الٹ بانی ‘‘ (الٹی کہی کہاوت) کے نام سے معروف ہیں۔ اس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ ان کے روز مرّہ کے معنی کو الٹ دیا  گیاہے۔
    ان الٹ بانی نظموں کا مطلب بنیادی سچائی کی نوعیت کو الفاظ میں قید کرنے کی شکل کے اشارے دینا ہے۔ مثلاً’’ کنول جو بنا پھول کے تازگی دیتا ہے‘‘ یا’’سمندر میں لگی شدید آگ ‘‘جیسے محاورے کبیر کے روحانی تجربے کے ادراک کو ذہن نشین کراتے ہیں۔
     کبیر کی ایک اور قابل توجہ خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے بنیادی سچائی کو بیان کرنے کے لیے روایات کے سلسلے کو استعمال کیا ہے۔ اس بنیادی سچائی کو اسلام کی طرح کبیر اﷲ، خدا، حضرت اور پیر کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ وہ ویدانتی روایات سے اخذ اصطلاحات جیسے ’’ الکھ (ان دیکھا) ، نر ا کار (بے صورت) ، برہمن، آتمن‘‘ وغیرہ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ روحانی تعبیر کے لیے ’’شبد ‘‘ (آواز) یا ’’ شونیہ‘‘ (خالی پن) جیسی دیگر اصطلاحات، یوگ روایات سے اخذ کی گئی تھیں۔
متنوّ ع اور کبھی کبھی ایک دوسرے کے متصادم تصورات ان نظموں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ کچھ نظمیں اسلامی تصوّر سے اخذ کی گئی ہیں اورکچھ وحدانیت اور بت شکنی کا استعمال کرتے ہوئے ہندواصنام پرستی اور مورتی پوجا پر حملہ کرتی ہیں۔ دیگر کچھ نظموں میں ذکر اور عشق (محبت) کے صوفی تصوّر کا استعمال ’’ نام سمرن‘‘ (خداکے نام کو یاد کرنا) کے معمولات کو ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
کیا یہ سب نظمیں کبیر نے لکھی ہیں؟ ہم اس بارے میں یقینی طور پر کہنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اگرچہ دانشوران نظموں کی زبان ، طرز اور متن کی بنیاد پر تجزیہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سے اشعار کبیر کے ہوسکتے ہیں ۔ کبیر کا یہ مجموعہ کتب اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ کبیر پہلے اور آج بھی ان لوگوں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں جو اپنی ملکوتی سچائی کی تلاش میں محصور مذہبی اور سماجی اداروں ، خیالات اور معمولات پرسو الیہ نشان لگاتے ہیں۔
کبیر کے خیالات شاید اودھ کے علاقے (موجود ہ اترپردیش کا ایک علاقہ) کی صوفی اور یوگیوں کی روایات کے ساتھ ہوئے مکالمے اور بحث و مباحثے (صحیح یا مضمر ) کے ذریعہ سنورے ہوئے تھے۔ کبیر کی وراثت پر کئی گروہوں نے دعویٰ کیا جو انھیں یاد کرتے ہیں اور مسلسل کررہے ہیں۔
اس حقیقت کی سب سے عمدہ شہادت یہ ہے کہ اس بات پر آج بھی بحث جاری ہے کہ کبیر پیدائش سے ہندو تھے یا مسلمان ۔ یہ  بحث بہت سے اولیاء کی سوانح عمریوں میں منعکس ہوتا ہے۔ ان میں بہت سی سترھویں صدی کے بعد تقریباً کبیر کی موت کے 200برس بعد تحریر کی گئی ہیں۔
ویشنو روایات کے اولیا کی سوانح عمریوں میں کبیر (کبیر کے عربی میں معنی عظیم کے ہیں) کی پیدائش کوہندو کبیر داس ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ان کی پرورش ایک مسلم گھرانے میں ہوئی جو جو لاہا برادری سے تعلق رکھتا تھا ۔ جس خاندان نے کچھ وقت پہلے ہی اسلام مذہب قبول کیا تھا۔ ان سوانح عمریوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ بنیادی طور پر کبیر کو بھکتی کا راستہ دکھانے والے گرو شاید راما نند تھے۔
      تاہم کبیر سے منسوب اشعار میں ’’گرو‘‘ اور’’ ست گرو‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے لیکن کسی مخصوص گرو کا نام مذکورہ نہیں ہے۔ مؤ رخین نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ ثابت کرنا بہت مشکل امر ہے کہ کبیر اور رامانند ہم عصر تھے ،جب تک کہ کسی ایک یا دونوں کو بعیداز قیاس طویل زندگی نہ دے دی جائے۔ اس لیے جب تک ان دونوں میں ظاہر شکل میں رشتہ اتحاد قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ کبیر کی وراثت بعد کی نسلوں کے لیے کتنی اہم تھی۔
36
شکل 6.16
راہ چلتے موسیقار ، سترہویں صدی کی ایک مغل تصویر ۔یہ ممکن ہے ایسے موسیقار، سنتوں کی نظموں کو گاتے ہوں۔

8.2  باباگرو نانک اور مقدس لفظ

بابا گرونانک (1469-1539) ایک ہندو تاجر خاندان میں راوی ندی کے کنارے واقع ننکانہ صاحب نامی گاؤںمیں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مسلم غلبے والے پنجاب کا علاقے تھا۔ انھوں نے فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے ایک محاسب کی تربیت حاصل کی ۔ان کی شادی چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی لیکن ان کا زیادہ تر وقت صوفیا اور بھکتوں کے ساتھ گزرا ۔ انھوں نے دور دراز کے سفر بھی کیے تھے۔
       بابا گرونانک کا پیغام ان کی بھجنوں اور تعلیمات میں نظر آتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے نرگن بھکتی کی وکالت کی۔ انھوں نے مذہب کی ظاہر ی معلوما ت کو مسترد کیا، جسے انھوں نے اپنے چاروں طرف دیکھا تھا۔ انھوں نے قربانی ، مذہبی رسوماتی اشنان ، مورتی پوجااور زہد اور ہندو و مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کو بھی مسترد کر دیا ۔ بابا گرونانک کے لیے مطلق و کامل یا ’’ رب‘‘ کوئی جنس یا شکل نہیں رکھتا تھا۔ انھوں نے ملکوتی ناموں کو دوہرا اور یاد کر کے رب سے رابطہ قائم کرنے کا ایک آسان راستہ تجویز کیا۔ انھوں نے اپنے خیالات مناجات کے ذریعہ ظاہرکیے جنھیں پنجابی زبان میں  ’’ شبد(Shabad) ‘‘ کہا جاتا ہے جو اس علاقے کی زبان تھی۔ بابا گرونانک یہ نغمے اور بھجن مختلف راگوں میں گا تے تھے جب کہ ان کا خدمت گار مردانہ’’رباب‘‘ بجاتا تھا۔
       بابا گرونا نک نے اپنے ماننے والوں کو ایک قوم کی شکل میں منظم کیا۔ اجتماعی عبادت (سنگت) کے لیے اصول قائم کیے جس میں اجتماعی طور پر خوش خوانی شامل تھی۔ انھوں نے اپنے ایک شاگرد انگد کو اپنے بعد’’ گرو‘‘ مقرر کیا یہ روایت تقریباً  200 سال تک چلتی رہی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بابا گرونانک کوئی نیا مذہب قائم کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کی موت کے بعد ان کی ماننے والوں نے اپنی روایات اور خودکو ہند و اور مسلمانوں سے نمایاں و ممتاز کرنے کے لیے اسے مستحکم و منظم کیا ۔ پانچویں گرو ارجن دیونے بابا گرونانک کے بھجنوں کے ساتھ ان کے چار پیش رو اور دیگر مذہبی شعرا جیسے بابا فرید ، روی داس (جو ریداس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) اور کبیر کے بھجنوں کو ’’ آدی گرنتھ صاحب ‘‘ میں مرتب کیا۔ ان بھجنوں کو ’’ گُر بانی‘‘ کہا جاتا ہے انھیں مختلف زبانوں میں تالیف کیا گیا۔ سترھویں صدی کے آخر میں دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے نویں گرو، گرو تیغ بہادر کے نغموں کو بھی اس میں شامل کر لیا اور اس مذہبی کتاب (گرنتھ) کو ’’ گرو گرنتھ صاحب ‘‘ کے نام سے پکارا۔ گروگوبندسنگھ نے خالصا پنتھ (پاک لوگوں کی فوج) کی بھی بنیاد ڈالی اور ان کے پانچ رمزو اشارے بھی متعین کیے۔ کبھی نہ کٹے بال (کیش)، کرپان، کچھّا ، کنگھا اور لوہے کا کڑا۔گروگوبند سنگھ کی قیادت نے اس فرقے کو ایک سماجی ، مذہبی اور فوجی طاقت کی شکل میں استحکام بخشا۔
37
شکل 6.17
پندرہویں صدی کی پتھر کی مورتی (تمل ناڈو) کرشن کو بانسری بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ 
میرا بائی کرشن کے اسی روپ کو پوجتی تھی

8.3  میرا بائی ایک بھکت شہزادی

 میرا بائی (تقریباً پندرھویں- سولھویں صدی) ، غالباً بھکتی روایات میں سب سے معروف خاتون شاعرہ ہے۔ ان کی سوانح عمری ابتدائی طور پر ان سے منسوب بھجنوں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے ،جو صدیوں سے زبانی منتقل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق میرا بائی مارواڑ کے میڑ تا شہر کی راجپوت شہزادی تھی جس کی شادی اس کی خواہش کے برخلاف راجستھان میں میواڑ کے سسودیا خاندان کے شہزادہ سے کردی گئی۔ انھوں نے اپنے شوہر سے بغاوت کر لی اوربیوی اور ماں کاروایتی کردار ادا کرنے سے انکار کردیا ، اس کی جگہ وشنو کے اوتار کرشن کو اپنا محبوب تسلیم کر لیا۔ ان کے سسرال والوں نے انھیں زہر دینے کی کوشش کی لیکن وہ محل سے فرار ہوکر ایک جہاں گشتی مغنّیہ بن گئیں۔ انھوں نے قلبی جذبات ظاہر کرنے والے نغمے تحریر کیے۔

ماخذ 11

خدا کے لیے محبت

یہ میرابائی سے منسوب ایک گیت کا حصہ ہے:
میں صندل اور عود کی لکڑی کی چتا بناؤں؛
تم اپنے ہی ہاتھوں سے اسے جلانا
جب میں جل کر راکھ بن جاؤں
 اس راکھ کو اپنے بازؤں پر ملنا۔
.....روشنی کو روشنی میں ہی گم ہوجانے دو۔
 ایک دوسرے گیت میں گاتی ہیں:
میواڑ کے حکمراں میرا کیا کرسکتے ہیں؟
اگر خدا غصہ میں ہے تو سب ختم ہوجاتا ہے،
لیکن رانا کیا کر سکتا ہے؟
اس سے بادشاہ کے تئیں میرا بائی کے رویہ کے بارے میں کیاا شارہ ملتا ہے؟


  چند روایات کے مطابق میرابائی کے گرو ریداس تھے جو چمڑے کا کام کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ذات پات پر مبنی سماج کے معیاروں کی حکم عدولی کی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اپنے شوہر کے محل کے عیش وآرام کو ترک کرکے انھوں نے بیوہ کے سفید کپڑے پہن لیے یا سنّیاسیوں کی طرح زعفرانی کپڑے پہن لیے تھے۔
     حالانکہ میرابائی کسی فرقے یا متبعین کے گروہ کو گرویدہ نہیں کر پائیں پھر بھی وہ صدیوں سے تحریک کاذریعہ تسلیم کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے گیت آج بھی عورتیں اور مرد گاتے ہیں۔ خاص طور پر گجرات اور راجستھان کے غریب لوگ اور جن کو ’’نچلی ذات‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے، گاتے ہیں۔

شنکر دیو


پندرھویں صدی کے آخر میں آسام میں شنکر دیو وشنو ازم کے ایک نمائندہ محرک کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔ ان کی تعلیمات کو اکثر بھگوتی دھرم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ’’ بھگوت گیتا‘‘ اور’’ بھگوت پُران‘‘ پر مبنی تھیں ۔ یہ تعلیمات سب سے اعلیٰ دیوتا وشنو کے تئیں مکمل تسلیم و رضاپر مرکوز تھیں۔ شنکر دیونے متقی بھکتوں کے ’’ست سنگ ‘‘ یا مجلس میں ’’ نام کیرتن ‘‘ یعنی خدا کے ناموں کی خوش خوانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے روحانی علم کی منتقلی کے لیے ’’ ستر‘‘ (Satra) یا خانقاہوں اور ’’ نام گھر‘‘ یا عبادتی ایوان قائم کرنے کے لیے بھی بڑھاوا دیا۔ اس علاقے میں یہ ادارے اور معمولات آج بھی مسلسل پھل پھول رہے ہیں۔ شنکر دیو کے اہم نغموں میں ’’ کیرتن گھوش‘‘ بھی شامل ہے۔

گفتگو کیجیے.... 

کیا آپ سوچتے ہیں کہ کبیر ، بابا گرونانک اور میرا بائی کی روایات اکیسویں صدی
 میں بھی اہمیت کی حامل ہیں؟

9۔  مذہبی روایات کی تواریخ کی ازسر نو تحریر

ہم نے دیکھا کہ مؤر خین مذہبی روایات کی تواریخ کو از سرِ نو تحریر کرنے کے لیے مختلف مآخذ سے استفادہ کرتے ہیں۔ جیسے سنگ تراشی، فن تعمیر ، مذہبی گروؤں سے وابستہ کہانیاں، ملکوتی نوعیت کے سوال کو سمجھنے میں مشغول خواتین اور مردوں سے منسوب نغمے وغیرہ۔
      جیسا کہ ہم نے باب1 اور 4 میں دیکھا کہ سنگ تراشی اور فنِّ تعمیر کو ہم اس مقصد کے لیے تبھی استعمال کرسکتے ہیں جب ہم اس کے پس منظر کو اچھی طرح سمجھیں یعنی ان مورتیوں اور عمارات کو بنانے اور استعمال کرنے والوں کے خیالات ، عقائد اور معمولات کی ہمیں فہم ہو۔مذہبی عقائد سے متعلق ادبی روایات کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے؟ اسی باب میں مذکور مآخذ کو ازسر نو ملاحظہ کریں توہم دیکھیں گے کہ ان میں کافی تنوّ ع ہے۔ وہ کئی زبانوں اور طرز میں تحریر کیے گئے ہیں۔ مآخذ کا یہ سلسلہ آ سان اور راست زبا ن میں ہے۔ جیسے بسوانا کے ’’وچن‘‘ ۔ دیگر کچھ پُر تکلف فارسی زبان میں مغل بادشاہوں کے مضامین کی طرح تحریر کیے گئے ہیں۔ ہر ایک طرز کے متن کو سمجھنے کے لیے مختلف طرح کی مہارت درکار ہے۔ مختلف زبانوں سے گہرے تعلق کے علاوہ مؤرخین ہر ایک طرز کی خصوصیات سے واقف ہوں اور ساتھ ہی طرز کے اس تنوّع کا نکتہ رس ہونا ضروری ہے۔

      ظاہراً سبھی مذہبی روایات آج بھی پھل پھول رہی ہیں۔ روایت کا یہ تسلسل مؤرخین کے لیے کافی حد تک فائدہ مند ہوتا ہے ۔جیسے انھیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہم عصر معمولات کا موازنہ ان کتابی روایات یا پرانی تصویر وں میں پیش کردہ روایات سے کرسکتے ہیں اور ان میں آئی تبدیلیوں کو بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود کیونکہ یہ روایات آج بھی لوگوں کے عقائد اور معمولاتِ زندگی کا حصہ ہیں۔ اس لیے لوگوں کے لیے یہ تسلیم کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا کہ وقت کے ساتھ ان روایات میں تبدیلیاں آئی ہوں گی۔ مؤرخین کے لیے اس طرح کی تحقیقات کے ساتھ اثر پذیری کے متعلق یقین کے ساتھ کہنا ایک چیلنج ہے۔ اگرچہ پھر بھی روایات کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دوسری دیگر روایات کی طرح مذہبی روایات بھی وقت کے ساتھ متحرک اور تبدیل پذیر ہوتی ہیں۔

صوفی روایات کی تاریخ کو از سر نو تحریری کرنے کے لیے مختلف النوع مآخذ


صوفی خانقاہوں کے ارد گرد وسیع پیمانے پر کتابیں معرض وجود میں آئیں۔ان میں شامل تھیں:
1 علی بن عثمان ہجویری(متوفی تقریبا 1071)کا رسالہ یا دستور العل’’کشف المحجوب‘‘جو صفی خیالات اور معمولات سےمتعلق بحث کرتا ہے،اس طرز کی ایک مثال ہے۔یہ مئورخین کو اس بات کا مجاز بناتا ہے کہ بر صغیر کے باہر کی روایات نے ہندوستان میں صوفی خیالات کو کس طرح متاثر کیا ۔
2 ’’ملفوظات‘‘ (لغوی معنی ’’زبان سے نکالنا‘‘صوفی کی بات چیت) ’’فوائد الفوائد‘‘ ملفوظات پر ایک ابتدائی متن ہے۔یہ شیخ نظام الدین اولیاؒ کی گفتگو کا ایک مجموعہ ہے جس کو فارسی کے شاعر امیر حسن سجری دہلویؒ نے مرتب کیا تھا۔ماخذ 9 اس کتاب سے لیے گئے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ملفوظات کی تدوین مختلف صوفی سلسلوں کے شیخ کی اجازت سے ہوئی تھی۔ان کا ایک صریحی نصیحت آمیز مقصد تھا ۔بر صغیر کے مختف علاقوں میں بشمول دکن،اس طرح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔
کئی صدیوں تک ان کی تدوین ہوتی رہی تھی۔
3 ’’مکتوبات‘‘(لغوی معنی ’’لکھا ہوا‘‘خطوط کا مجموعہ) یہ خطوط صوفی معلّمون نے اپنے مریدوں اور ساتھیوں کو تحریری کیے تھے۔اگر چہ یہ خطوط مذہبی حقیقیت و سچائی کے متعلق شیخ کے تجربے کو بتاتے ہیں جس کو وہ دیگر لوگوں کے ستاھ بانٹنا چاہتے تھے۔ان میں وہ قبول کنندہ کی زندگی کی حالات کو منعکس کرتے ہیں اور روحانی و دنیاوی دونوں کی انتہائی آرزو اور مشکلات کے کے ردّ عمل کو بیان کرتے ہیں ۔ستھرویں صدی کے مشہور نقشبندی شیخ احمد سر ہندیؒ (متوفی 1624) کے تحریری کردہ خطوط معروف بہ ’’مکتوبات امام ربانی‘‘پر دانشوروں میں اکثر بہت زیادہ بحث ہوتی ہے جس میں شیخ کے نظریات موازنہ اکثر اکبرکی روادارانہ اور غیر فرقہ وارانہ نظریات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
4 ’’تذکرہ‘‘ (لغوی معنی ’ذکر کرنا ‘ اور یاد داشت رکھنا؛ صوفیا کی سوانح عمریاں ):ہندوستان میں چودھویں صدی میں میر خورد کرمانی کی تحریر کردہ کتاب ’’سیر الاولیا‘‘ پہلا صوفی تذکرہ ہے ۔یہ تذکرہ بنیادی و نظریاتی طور پر چشتی صوفیا کے متعلق ہے ۔سب سے مشہور تذکرہ عبد الحق محدّث دہلویؒ (متوفی 1642) ’’اخبار الاخیار‘‘ ہے ۔تذکروں کے مصنفین کے مدّ نظر اکثر اپنے سلسلے کو مقدم ثابت کرنا تھا اور اپنے روحانی شجرے کی عظمت قائم کرنی تھی۔ان میں اکثر بہت سی تفصیلات نا قابل یقین اور عجیب و غریب عناصر سے بھری پڑی ہیں۔ پھر بھی یہ موئرخین کے لیے بہت قیمتی ہیں اور صوفی روایات کی نوعیت کو پوری طرح سمجھنے میں معاون ہیں۔
یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ ہر ایک روایت،جس کا ذکر اس بابا میں ہوا ہے،اس سے ادبی و زبانی ترسیل کے طریقے پیدا ہوتے ہیں ۔ان میں سے کشھ کو محفوظ کیا گیا ہے بہت سے ایسے ہیں جن میں منتقلی کے عمل کے دوران ترمیم کی گئی اور دیگر شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔


ٹائم لائن
بر صغیر ہند کے کچھ اہم مذہبی رہنما
تقریباً  500سے 800  عیسوی تمل ناڈو میں اپاّر؛سمبندر، سندر مورتی
تقریباً  800سے900  عیسوی تمل ناڈو میں نمّلوار ،مانگّا و چاکر ،انڈال،تونڈر اڈپوڈی
تقریباً  1000سے1100  عیسوی پنجاب میں الہجویری  ؛ داتا گنج بخش ؛تمل ناڈو میں رامانجا چاریہ
تقریباً  1100سے1200  عیسوی کرناٹک میں بسوانّا
تقریباً  1200سے1300  عیسوی مہاراشٹر میں جنن دیو؛مکتابائی;راجستھان میں خواجہ معین الدین چشتیؒ؛
پنجاب میں بہاؤالدین زکر یا ؒاور فریدالدین گنج شکر ؒ؛دہلی میں قطب الدین بختیار کا کیؒ۔
تقریباً  1300سے1400  عیسوی کشمیر میں لال دبد؛ سندھ میں لال شہباز قلندرؒ؛دہلی میں نظام الدین اولیاؒ؛
اترپردیش میں رامانند ؛مہاراشٹر میں چوکھا میلا؛ بہار میں شرف الدین یحییٰ منیریؒ
تقریباً  1400سے1500  عیسوی اترپردیش میں کبیر ؛رائے داس ، سورداس ؛پنجاب میں بابا گرونانک ؛گجرات میں
ولّبھ آچاریہ؛گوالیار میں عبداﷲ شطاریؒ؛گجرات میں محمد شاہ عالمؒ؛ گلبرگہ میں میر سید محمدؒ
گیسودراز؛آسام میں شنکردیو؛مہا راشٹر میں تکارام
تقریباً  1500سے1600  عیسوی بنگال میں شری چیتنیہ؛راجستھان میں میرابائی؛ اترپردیش میں شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ؛ملک محمد جائسی؛تلسی داس
تقریباً  1600سے 1700  عیسوی ہریانہ میں شیخ احمد سرہندیؒ ؛ پنجاب میں میاں میر
نوٹ : وقت کی ترکیب ان معلّموں کے قریب قریب عہد کو ظاہر کرتی ہے جس میں وہ بقیدِحیات تھے۔


 100۔150لفظوں میں جواب دیجیے۔
1۔   مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے کہ مسلک کی تکمیل سے مؤرخ کیا معنی مراد لیتے ہیں؟
2۔   کن معنی میں آپ غور کرتے ہیں کہ برّ صغیر ہندمیں مساجد کا فنِ تعمیر؛عالمگیرتصوّرات 
اور مقامی روایات کے آمیزہ کو ظاہر کرتا ہے؟
3۔   ’’ بے شرع اور ’’ باشرع‘‘ صوفی روایات میں کیا مماثلت اور اختلافا ت ہیں؟
 4 ۔   الوار، نینا ر اور ویشنویوں نے کس طرح ذ ات پات کے نظام کی تنقید کی ؟ بحث کیجیے۔
5 ۔   کبیر یا بابا گرونانک کی اہم تعلیمات کو بیان کیجیے اور یہ تعلیمات کس طرح سے منتقل 
ہوئیں؟

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون 

(تقریباً 250 سے 300 الفاظ پر مشتمل)لکھیے۔

صوفی ازم (تصوف)کی خصوصیات کو بیان کرنے والے اہم عقائد اور تعلیمات پر 
بحث کیجیے۔
حکمرانوں نے کیوں اور کیسے نینا ر اور صوفی روایات سے رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی؟ 
تجزیہ کیجیے۔

بھکتی اور صوفی دانشوروں نے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے مختلف زبانوں کو کیوں  
اپنایا؟ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
9 ۔ اس باب میں شامل کوئی پانچ مآخذ کو پڑھیے اور ان میں بیان کئے گئے سماجی اور 
معاشی تصوّرات پر بحث کیجیے۔

نقشے کا کام

10۔ ہندوستان کے نقشے پر تین صوفی درگاہوں اور مندروں سے ربط و ضبط رکھنے والے تین 
مقامات (وشنو، شیو اور دیوی سے مربوط ایک ایک مندر) کی نشاند ہی کیجیے۔

پروجیکٹ (کوئی ایک)

11 ۔ اس باب میں مذکوردومذہبی معلّموں،دانشوروں،صوفی،سنتوںکا انتخاب کیجیے۔
 ان کی زندگی و تعلیمات کے بارے میں مزیدمعلومات حاصل کیجیے۔ ان کے علاقے ، عہد اورجہاں انھوں نے زندگی گزاری اور ان کے اہم خیالات کے متعلق ایک رپورٹ تیار کیجیے ۔ آپ ان کے متعلق کیا جانتے ہیں اورآپ کیوں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اہم ہیں۔
12 ۔   اس باب میں مذکور درگاہوں کے ساتھ مربوط زیارت کے معمولات کے بارے میں 
مزیدمعلومات حاصل کیجیے۔ کیا یہ زیارتیں ابھی تک کی جاتی ہیں؟ ان درگاہوں کی زیارت کون لوگ کرتے ہیں؟ وہ یہ زیارت کیوں کرتے ہیں؟ ان زیارت گاہوں سے وابستہ کون سی سرگرمیاں ہیں؟

 مزید معلومات کے لیےان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:

رچرڈ ایم۔اٹین (مرتبہ)2003
India's Islamic Traditions.

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی،

جون اسٹر یٹن ہاؤلے،2005

Three Bhakti Voices Mira bai,
Soor Das & Kabir                     In Thier  Times & Ours 

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی

ڈیوڈاین۔ لورینزن (مرتبہ)، 2004،

Religious Movements in South Asia
600-1800

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی

اے۔ کے رامانو جن،1981

Hymns For The Drowning.  Penguin

نئی دہلی

اینی میری شیمیل ، 1975

.Mystical Dimension of Islam
نارتھ کرو لینا یو نیورسٹی پریس ، چیپل ہل۔
ڈیوڈ اسمتھ،1998
.The dance of Siva: Religion Art  and Poetry in South India
کیمبرج یونیورسٹی پریس ، نئی دہلی

شارلوٹ ووڈے ولے،1997،
.A Weaver Named Kabir
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، نئی دہلی


مزید معلومات کے لیے آپ ویب سائٹ پر رابطہ کر سکتے ہیں
http://www.alif-india.com
38
شکل 6.18
شیخ بہاؤالدین زکر یا ؒکی درگاہ،
ملتان (پاکستان)