.5 مقدس مرکز
5.1 راجدھانی کا انتخاب
اب ہم تنگ بھدرا ندی کے کنارے پر واقع شہر کے شمالی پہاڑی کنارے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ پہاڑیاں رامائن میں مذکور ’’بالی‘‘ اور ’’ سگریو‘‘ بندروں کی ریاست کی حفاظت کرتی تھیں۔ دوسری روایت کے مطابق مقامی دیوی ماں (ماتردیوی) ’’ پمپا دیوی‘‘ نے ان پہاڑیوں میں ’’ ویروپکش‘‘ جو ریاست کے سرپرست دیوتا شیو کا ایک روپ بھی تسلیم کیے جاتے ہیں، سے شادی کے لیے ریاضت کی تھی ۔ آج تک یہ شادی کا دن ویروپکش مندر میں ہر سال جشن کی طرح منایاجاتا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قبل وجے نگر عہد کے جین مندر بھی پائے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ علاقہ متعدد مذہبی روایات سے وابستہ تھا۔
اس علاقے میں مندروں کی تعمیر کی ایک طویل تاریخ رہی ہے جو پلّووں ، چالوکیہ، ہوئے سالوں اور چولا شاہی خا ندانوں تک پیچھے جاتی ہے۔ عموماً حکمراں اپنے آپ کو خدا سے وابستہ کرنے کے وسیلے کے طور پر مندروں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اکثر دیوتا کا صریح یا مضمر شکل میں راجا کے ساتھ اتحاد ظاہر کیا جاتا تھا۔ مندر علمی مرکز کے طور پربھی کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حکمراں اور دیگر لوگ اکثر مندروں کی دیکھ بھال کے لیے زمینیں یا دیگر و سائل کا عطیہ دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے مندر ایک اہم مذہبی، سماجی ، ثقافتی اور معاشی مرکز کے طور پر ارتقا پذیر ہوئے ۔حکمرانوں کے نقطئہ نظر سے مندروں کی تعمیر ، مرمّت اور دیکھ بھال ،اپنا اقتدار، دولت اور پارسائی کے لیے حمایت اور قدر شناسی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ تھے۔
یہ ممکن ہے کہ وجے نگر کے مقام کا انتخاب کرنے کی تحریک وہاں موجود ویروپکش اور پمپا دیوی کے مندروں سے ملی ہو۔ حقیقتاً وجے نگر کے راجا ویرپکش دیوتا کی جانب سے حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ سبھی شاہی فرامین پر عموماً کنّڑ زبان میں ’’شری ویروپکش‘‘ لکھا ہوتا تھا ۔ حکمراں دیوتاؤں کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے ’’ ہندو سوراترانہ‘‘ خطاب کا استعمال بھی کرتے تھے۔ یہ عربی اصطلاح سلطان جس کے معنی راجا ہیں،کا سنسکرت متبادل تھا اور اس کے معنی تھے’’ ہندوسلطان‘‘۔
حتی کہ وجے نگر کے حکمرانوں نے ابتدائی روایات کو اخذ کیا اور ان میں جدّت پیدا کی نیز ان کو فروغ دیا۔ اب شاہی شبیہ کی مورتیوںکی مندروں میں نمائش کی جانے لگی اور راجا کی مندروں کی زیارت کو ایک اہم ریاستی تقریب مانا جانے لگا۔ اس موقع پر سلطنت کے اہم اورخاص نایک بھی راجا کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔
5.2 گوپورم اور منڈپ
مندر فنِّ تعمیر کی اصطلاح میں اس عہد تک معیّن نئی خصوصیات کی علامات سامنے آئیں ۔ ان میں بڑے پیمانے پر بنے ڈھانچے جو یقینا شاہی اقتدار کے نشان تھے، شامل ہیں۔ اس کی سب سے عمدہ مثال رائے گوپورم (شکل 7.7) یا شاہی داخلی دروازے ہیں جو اکثر مرکزی مقدس مقام پر بنی میناروں کو بونا کر دیتے ہیں اور طویل دوری سے ہی مندر کی موجود گی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ شاید راجاؤں کی طاقت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں۔ جو ان مینار نما داخلی دروازوں کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل ، تکنیک اور مہارت کی دسترس کے اہل تھے۔ دیگر نمایاں خصوصیات میں منڈپ یا شہ نشین اور لمبی ستونوں والی غلام گردش (برآمدوں ) جو عموماً مندر کمپلیکس کے اندر واقع مقدس مقام کے چاروں طرف بنے ہوئے تھے، شامل ہیں ۔ آئیے اب ہم دو مندروں کو اور زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں۔ ویروپکش مندر اور وٹھّل مندر۔
ویروپکش مندر دسویں صدی میں بنا تھا۔ وجے نگر سلطنت کے قیام کے ساتھ ہی اسے کہیں زیادہ وسیع کیا گیا ۔ خاص مندر کے سامنے ہال (ایوان) ، کرشن د یو رائے نے اپنی تخت نشینی کی نشانی کے طور پر بنوایا تھا۔ اس کو انتہائی نفیس منقش ستونوں سے سجایا گیا تھا ۔ مشرقی گوپورم کی تعمیر اسی کے نام منسوب کی جاتی ہے۔ ان اضافوں کے معنی تھے کہ مرکزی مقدّس مقام اس سے منسلک چھوٹے حصّوں پر قابض ہو سکے۔
ندر بنے ایوانوں کااستعمال مختلف مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔ کچھ جگہیں ایسی تھیں جہاں دیوتاؤں کی مورتیاں، موسیقی ، رقص ، ڈرامہ وغیرہ کے خاص پروگراموں کو دیکھنے کے لیے رکھی گئی تھیں۔ دیگر ایوانوں کا استعمال دیوتاؤں کی شادیوں کے جشن منانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ دوسرے دیگر کا استعمال دیوی دیوتاؤں کے جھو‘لا جھولنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ ان جشنوں پر خاص مورتیاں جو چھوٹے مرکزی مقدس مقام میں رکھی ہوئی تھیں، ان سے ممتاز تھیں، جن کا استعمال ان موقعوں پر کیا جاتا تھا۔
شکل 7.21
ویروپکش مندر کا نقشہ
زیادہ تر مقدس مقام چوکور ڈھانچہ ہیں ۔ دو اہم اور بڑے داخلی دروازوں کو کالے رنگ سے دکھایا گیا ہے۔ ہر ایک باریک نقطہ ایک ستون کی نمائندگی کرتا ہے۔ مربع یا مستطیل بناوٹ ڈھانچے کے اندرستونوں کی منظم لائنیں بڑے ایوانوں، منڈپوں (شہ نشینوں) اور غلام گردشوں (برآمدوں) کی حد بندی کرتی نظر آئیں گی۔
اسکیل کا استعمال کرتے ہوئے نقشے میں گوپورم (داخلی دروازے) سے مرکزی مقدس مقام کا فاصلہ ناپیے۔ آپ کے خیال میں آبی ذخیرہ سے مقدس مقام تک جانے کے لیے سب سے آسان راستہ کون سا رہا ہوگا؟
شکل 7.22
ملکوتی شادیوں کا جشن منانے کے لیے استعمال ہونے والا کلیان منڈپ
شکل 7.23
بت تراشی کے ایک ستون کا خاکہ
ستون پر آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس کا تذکرہ کیجیے۔
شکل 7.24
وٹھّل مندر کا رتھ
کیا آپ کو لگتا ہے کہ حقیقت میں اس طرح کے رتھ بنائے جاتے تھے؟
شکل 7.25
جنجی کا جھولتا منڈپ
شکل 7.26
مدورائی کے نایکوں کے ذریعہ بنوایا گیا ایک گوپورم
دوسرا مقدس مقام ، وٹھّل مندر بھی دلچسپ ہے ۔ یہاں کے صدر دیوتاوٹھّل تھے جو عام طور پر مہاراشٹرا میں پوجے جانے والے وشنو کا ایک روپ ہیں۔ اس دیوتا کی پوجا کو کرناٹک میں متعارف کرانا اس بات کا مظہر ہے کہ جس کے ذریعہ ایک شاہی ثقافت کو پیدا کرنے کے لیے وجے نگر کے حکمرانوں نے مختلف روایات کو اخذ کیا تھا۔ دیگر مندروں کی طرح اس مندر میں بھی کئی ایوان تھے اور رتھ کے مندر کے منصوبے کی طرح کا ایک انوکھا مندر بھی تھا۔
مندر کمپلکس کی ایک خصوصیت رتھ گلیاں ہیں جو مندر کے گوپورم سے سیدھی لائن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان گلیوں کا فرش پتھرکی سلوں سے بنایا گیا ہے اور اس کے دونوں جانب ستونوں والے ایوان تھے جن میں تاجر اپنی دوکانیں قائم کیا کرتے تھے۔
جس طرح نایکوں نے قلعہ بندی کی روایت کو تکمیل تک پہنچایا اور ساتھ ہی اسے جاری رکھا ، ٹھیک اسی طرح انھوں نے مندروں کی تعمیر کی روایات کے ساتھ بھی کیا ۔ حقیقتاً کچھ سب سے زیادہ قابلِ نظارہ گوپورموں کی تعمیر بھی مقامی نایکوں کے ذریعہ ہوئی تھی۔
گفتگو کیجیے ...
وجے نگر حکمرانوں نے مذہبی رسوماتی فن کی ابتدائی روایات کو کیسے اور کیوں اپنایا
اور تصرّف میں لائے؟
6 .محلوں ، مندروں اور بازاروں کے خاکے
ہم نے وجے نگر کے ضمن میں اطلاعات کے ذخیرے۔ فوٹوگراف ، نقشے ، ڈھانچوں کی بلندی ڈرائنگ (Elevation) اور بت تراشی کا تجزیہ کیا ہے ۔ یہ سب کیسے منظر عام پر آیا؟ میکنزی کے ذریعہ کیے گئے ابتدائی جائزوں کے بعد سیّا حوں کے بیانات اور کتبات کو ایک مربوط شکل دی گئی۔ بیسویں صدی میں اس مقام کو آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اور کرناٹک ڈپارٹمنٹ آف آرکیا لوجی آف میوزیم کے ذریعہ محفوظ کیا گیا ۔ 1976میں ہمپی کو ایک قومی اہمیت کے مقام کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ۔ اس کے بعد 1980 کی دہائی کی ابتداء میں مختلف قسم کی دستاویزی تکنیکوں کے استعمال سے، وسیع اور عمیق سروے کے ذریعہ ، وجے نگر کے مادّ ی باقیات کی تفصیلی دستاویزی شہادتوں کی فراہمی کا ایک اہم منصوبہ شروع کیا گیا ۔ تقریباً 20 برسوں کے دوران پوری دنیا کے درجنوں دانشوروں نے ان اطلاعات کو مرتب کرنے اور محفوظ کرنے کا کام کیا۔
آیئے ہم اس غیر معمولی مشق کے ایک حصہ نقشہ سازی کو تفصیل سے دیکھیں۔ اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ پورے علاقے کو 25 مربع حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر ایک مربع کو حروف تہجی کے لحاظ سے ایک حرف نام دیا گیا۔ پھر ان چھوٹے مربعوں کو ذیلی تقسیم کرکے اور بھی چھوٹی مربع ترتیب میں رکھا گیا۔ لیکن یہ سب کافی نہ تھا۔ ان چھوٹے مربعوں کو مزید تقسیم کرکے ان کو چھوٹی اکائیوں میں بانٹا گیا۔
جیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں یہ مفصل جائزے بہت سخت محنت سے لیے گئے تھے اور ان سے ہزاروں ڈھانچوں کے باقیات ، چھوٹے مقدس مقامات اور مکانات سے لے کر بڑے مندروں تک کو پھر سے بازیافت کیا گیا ۔ اس کی وجہ سے سڑکوں، راستوں ، بازاروں وغیرہ کے نشانات ملے اور بعد میں ان سب کے مقامات کی پہچان ستونوں کی بنیاد اور پلیٹ فارموں کے ذریعہ کی گئی ۔ ایک زمانے میں جو بازار ترقی پذیر تھے ان کے بس یہی باقیات ہیں۔

شکل 7.27
مقام کا تفصیلی نقشہ (اوپر بائیں)
حروف تہجّی کا کون سا حرف استعمال نہیں کیا گیاہے۔ نقشہ میں دیے گئے پیمانے کو استعمال کرتے ہوئے کسی ایک مربع کی لمبائی ناپیے۔
شکل 7.28
تصویر2.27 کا مربعN (بائیں)
اس نقشہ کے لیے کون سا پیمانہ استعمال کیا گیا ہے؟
ماخذ 5
بازار
پیس بازار کا ایک خیرہ کن تذکر ہ پیش کرتا ہے:
’’آگے جانے پر ایک کشادہ اور خوبصورت گلی ملے گی...... اس گلی میں کئی تاجر رہتے ہیں ۔ آپ کویہاں سبھی قسم کے یا قوت، ہیرے اورزمرّد موتی، چھوٹے موتی، کپڑے اور زمین پر ملنے والی ہر چیز جسے آپ خریدنا چاہیں گے ملے گی۔ ہر شام آپ کو یہاں ایک میلہ ملے گا جہاں پر کئی عام قسم کے گھوڑے اور ٹٹو اور بہت سے چکوترے بھی ،لیموں ،سنترے ،انگور اور باغات میں پیدا ہونے والی ہرشے اورلکڑی ملتی ہے۔ اس گلی میں آپ کو ہر چیز مل سکتی ہے۔
عام طور پروہ شہر کاذکر ’’ دنیا کا بہترین دستیاب شہر ‘‘ کی شکل میں کرتا ہے جہاں بازار ’’چاول،گیہوں، اناج ، ہندوستانی مکاّ اور کچھ مقدار میں جو اور سیم کی پھلیاں ، مونگ، دالیں، کالا چنا جیسی غذائی اشیا سے بھرے رہتے تھے جو سبھی سستے داموں اور وافر مقدار میں دستیاب تھے‘‘۔ فرناؤنونیز کے مطابق ’’وجے نگر کے بازار وافر مقدار میں پھلوں ، انگوروں اور سنتروں ، لیموں، انار، کٹہل اور آموں سے بھرے رہتے تھے ۔ یہ سبھی بہت سستے تھے‘‘۔ بازاروں میں گوشت بھی وافر مقدار میں فروخت ہوتا تھا۔ فرناؤ نونیز بیا ن کرتا ہے۔’’ بکرے کا گوشت ، سو‘ر کا گوشت ، ہرن کا گوشت، تیتر، خرگوش ، کبوتر، بیٹر اور سبھی طرح کے پرندے، چڑ یاں ، چوہے اور بِلّیاں نیز چھپکلّیاں بسناگ (وجے نگر) کے بازاروں میں فروخت ہوتی تھیں‘‘۔
.7 جوابات کی تلاش میں سوالات
باقی بچی عمارتیں ہمیں ان طریقوں کے متعلق بتاتی ہیں جن سے مقامات کو منظم طور پراستعمال کیا گیا۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح کے سامان اور تکنیکیں ان کی تعمیر میں استعمال کی گئیں ۔ مثال کے طور پر ایک شہر کی قلعہ بندی کے مطالعہ سے اس کی مدافعت کی ضروری اشیا اور فوجی تیاری کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ دیگر مقامات کی عمارتوں سے اگر ہم ان عمارتوں کا موازنہ کریں تو یہ ہمیں ان کے خیالات و تصورات اور ثقافتی اثرات کے متعلق بھی بتاتے ہیں۔ وہ ان خیالات کو بھی ذہین نشین کراتے ہیں جو اس کے تعمیر کرنے والے اور سر پرست ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ یہ اکثر مظاہر کے ساتھ پھیلتے تھے جو ان کے ثقافتی تناظر کا نتیجہ ہو تے ہیں۔ ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں جب ہم دیگر ذرائع جیسے ادب، کتبات اور مقبول عام روایات سے ملی معلومات کو اکٹھا کریں۔
فنِّ تعمیر کی خصوصیات ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ عام مرد وخواتین اور بچے جو شہر اور اس کے مضافات میں رہنے والی بڑی اکثر یت پر مشتمل تھے ان دلنشین عمارتوں کے متعلق کیا سوچتے تھے۔ کیا ان کی شاہی مرکز اور مذہبی مرکز کے کسی بھی علاقے کے اندر پہنچ تھی؟ کیا وہ مورتی کے سامنے سے تیزی سے گذر جاتے تھے یا دیکھنے کے لیے رُکتے تھے، غور کرتے اور اس کے پیچیدہ مظہروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوں گے؟ وہ لوگ جنھوں نے ان عظیم الشان تعمیر اتی منصوبوں پر کام کیا تھا اپنی مہم جوئی کے ضمن میں کیا سوچتے تھے جس کے لیے انھوں نے اتنی جانفشانی کی تھی؟
اگرچہ ، مقام ، کیا تعمیر کرنا ہے، کون سا سامان استعمال کرنا ہے اور کس طرز پر عمل کرناہے، یہ اہم فیصلے بھی حکمراں لیتے تھے پراتنی بڑی مہم جوئی کے لیے ضروری تخصیصی علم کون رکھتا تھا؟ عمارتوں کے لیے نقشے کون بناتا تھا؟ راج مستری ، پتھر کاٹنے والے بت تراش جو حقیقی تعمیر اتی کام کرتے تھے، کہاں سے آتے تھے؟ کیا انھیں دورانِ جنگ پڑوسی علاقوں سے گرفتار کیا جاتا تھا؟ انھیں کس قسم کی مزدوری ملتی تھی؟ تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کون کرتا تھا؟ عمارت کے لیے سامان کیسے اور کہاں سے آتا تھا؟ یہ سوالات ہیں جن کے جواب ہم عمارتوں یاان کے باقیات کو محض دیکھنے سے نہیں دے سکتے۔ شاید دیگر مآخذ کے استعمال سے جاری مسلسل تحقیقات کچھ مزید سراغ مہیا کراسکیں۔
کرشن دیورائے
کچھ حل طلب تناظر کو دہرانے کے لیے تمل ناڈو سے چد مبرم کے مندر گوپورم میں رکھی کرشن دیورائے کی اس مورتی کو دیکھیے۔ یقینا حکمراں اپنے آپ کو اسی انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے۔
پیس راجا کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کرتا ہے:
راجا درمیانہ قد گورا رنگ اور اچھا جسم، قدرے موٹا بہ نسبت پتلے کے ہے۔ اور راجا کے چہرے پر چیچک کے نشان ہیں۔
شکل 7.32
’’رانی کا غسل خانہ‘‘ نام سے معروف ڈھانچے کا ایک حصہ
ٹائم لائن 1 اہم سیاسی سر گرمیاں
|
| تقریباً 1200سے 1300عیسوی |
دہلی سلطنت کا قیام ;(1206?) |
| تقریباً 1300سے1400عیسوی |
وجے نگر سلطنت کا قیام ;(1336)
بہمنی سلطنت کا قیام ;(1347)
جون پور، کشمیر اور مدورائی سلطنتوں کا قیام
|
| تقریباً 1400سے1500عیسوی |
اڑیسہ کی گجپتی ریاست کا قیام (1435)؛
گجرات اور مالوہ کی سلطنتوں کا قیام؛
احمدنگر، بیجا پور اور برار کی سلطنتوں کا ظہور (1490)
|
| تقریباً 1500سے1600عیسوی |
پرتگالیوں کی گواپر فتح (1510)؛
بہمنی سلطنت کا زوال،
گولکنڈہ کی سلطنت کا ظہور (1518)؛
بابر کے ذریعہ مغل حکومت کا قیام (1526)
|
نوٹ : سوالیہ نشان غیر یقینی تاریخ کو ظاہر کرتا ہے۔
|
ٹائم لائن2 وجے نگر: دریا فت اور تحفظ کے نشان امتیاز
|
1800
|
کولن میکنزی کی وجے نگر کی سیاحت
|
1856
|
الیکزینڈر گرین لانے ہمپی کے آثارِ قدیمہ کے پہلے تفصیلی فوٹو گراف لیے۔
|
| 1876 |
جے ۔ایف۔فلیٹ نے آثاری مقام کے مندروں کی دیواروں کے کتبات کی
دستاویزی شہادتوں کو جمع کرنے کا کام شروع کیا۔ |
| 1902 |
جون مارشل کی قیادت میں نگہداشت کے کام کا آغاز ہوا۔ |
1986
|
یونیسکو (UNESCO) کے ذریعہ ہمپی کو عالمی وراثتی مقام تسلیم کیا گیا۔
|
شکل 33۔7
150-100 لفظوں میں جواب دیجیے۔
1 - پچھلی دو صدیوں کے دوران ہمپی کے کھنڈرات کے مطالعہ کے لیے کون کون سے طریقے استعمال کیے گئے ہیں؟ آپ کے خیال میں یہ طریقے ویروپکش مندر کے پروہتوں کے ذریعہ فراہم کی گئی معلومات کی کس طرح ستائش کرتے ہیں؟
2- وجے نگر کی پانی کی ضرورت کو کس طرح پورا کیا جاتا تھا؟
3- آپ کے خیال میں شہر کے قلعہ بند علاقے میں زراعتی زمین کو گھیرنے کے کون کون سے فائدے اورنقصانات تھے؟
4- آپ کے خیال میں ’’ مہانومی دبہّ ‘‘ سے وابستہ مذہبی رسومات کی کیا اہمیت تھی؟
5 - تصویر 7.33 ویروپکش مندر کے ایک دیگر ستون کا خاکہ ہے ۔ کیا آپ اس میں کوئی گل کاری کی خصوصیت یا خیال دیکھ سکتے ہیں؟ کن جانوروں کو دکھایا گیا ہے؟ آپ کے خیال میں ان کو دکھانے کی وجہ کیا ہوگی؟ دکھائی گئی انسانی تصاویر کا تذکرہ کیجیے۔
مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون (تقریباً )
(250 سے 300 الفاظ پر مشتمل ) لکھیے۔
6- ’’ شاہی مرکز ‘‘اصطلاح شہر کے جس حصے کے لیے استعمال کی گئی ہے کیا یہ اس حصے کا صحیح تذکرہ ہے؟ بحث کیجیے۔
7- ’’کمل محل ‘‘اور’’ ہاتھیوں کے اصطبل ‘‘جیسی عمارتوں کا فنِّ تعمیر ہمیں ان کے بنانے والے حکمرانوں کے متعلق کیا بتاتا ہے؟
8- فنِّ تعمیر کی کون سی روایات نے وجے نگر کے ماہرمعماروں (آرکیٹیکٹ ) کو متاثر کیاانھوں نے ان روایات کو کس طرح منتقل کیا؟
9- اس باب میں وجے نگر کے عام لوگوں کی زندگیوں کے مذکورہ مختلف بیانات میں سےکیاآپ کسی طرح کا انتخاب کر سکتے ہیں؟
نقشے کا کام
10 - دنیا کے نقشے پر تقریباً اً اٹلی ، پرتگال، ایران اور روس کی نشاندہی کیجیے اور ان راستوں کو تلاش کیجیے جن کا ذکر صفحہ 176 پر سیّا حوں نے وجے نگرپہنچنے کے لیے کیا ہے۔
پروجیکٹ (کوئی ایک)
11- برّ صغیر ہندوستان کے کسی ایک ایسے اہم اوربڑے شہر کا پتا لگائیے جو تقریباً چودھویں اورپندرھویں صدی میں آبادتھا۔ شہر کی فنِّ تعمیر کی خصوصیات بیان کیجیے ۔کیا ایسی خصوصیات بھی ہیںجو ان کے سیاسی مرکزرہنے کی طرف اشارہ کرتی ہوں؟ کیا یہاں ایسی عمارتیں ہیں جو مذہبی رسوم کے لحاظ سے اہم ہیں؟ کیا یہاں تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے کوئی علاقہ ہے؟ ایسی کون سی خصوصیات ہیں جو شہری خاکے کو قُرب و جو ار کے علاقوں سے اسے ممتاز کرتی ہیں؟
12 - اپنے آس پاس کی کسی مذہبی عمارت کا دورہ کیجیے۔خاکوں کے ذریعہ اس کی چھت،ستونوں اور محرابوں کو اگر ہو ں تو غلام گردشوں (برآمدوں)،رہ گذاروں (Passages)، ایوانوں ، داخلی دروازوں ، پانی کی فراہمی وغیرہ کا تذکرہ کیجیے۔ ان سب کا موازنہ ویر وپکش مندر کی خصوصیات سے کیجیے۔ بیان کیجیے کہ عمارت کا ہر حصہ کس مقصد کے لیے استعمال میں لایا گیا ہے۔ اس کی تاریخ سے متعلق تحقیق کیجیے۔
مزید معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:
وسندھرا فلیوزاٹ،2006 (طبع ثانی)
Vijaya Nagara
نیشنل بک ٹرسٹ، نئی دہلی
جارج مائیکل،1955
Architecture & Art of Southern India
کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج
کے۔اے۔نیل کنٹھ شاستری، 1955
A History of South India
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
برٹن اسٹین، 1989
Vijay a Nagara (The NewCambridge History of India)
فائونڈیشن بکس ، نئی دہلی
مزید معلومات کے لیے اِس ویب سائٹ پر
رابطہ کرسکتے ہیں:
http://www.museum.upenn.edu/ new/research/Exp_Rese_Disc/ Asia/vrp/html/vijay_ /Hist.shtml