Skip to content
Tareekh-e-Hindkemauzuat-II-003



ساتواں

موضوع 

ایک شاہی راجدھانی

وجے نگر

(تقریباً چودہویں صدی سے سولہویں صدی تک)


وجے نگر یا ’’ فتح کا شہر ‘‘ ایک شہر اور سلطنت دونوں کے لیے مستعمل نام ہے۔ یہ سلطنت چودھویں صدی میں قائم ہوئی تھی۔ اپنے عروج کے زمانے میں یہ شمال میں کرشناندی سے لے کر جزیرہ نما جنوب بعید تک پھیلی ہوئی تھی۔1565  میں اس شہر کو تخت و تاراج کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہ شہر و یران ہوگیا۔ اگرچہ سترھویں اٹھارھویں صدی تک یہ پوری طرح کھنڈ ر میں تبدیل ہوگیا تھا۔ تاہم کرشنا، تنگ بھدرا دو آبہ کے علاقے کے لوگوں کی یادداشت میں یہ شہر زندہ رہا۔ انھوں نے اس کو’’ ہمپی‘‘ کے نام سے یاد رکھا۔ یہ نام مقامی دیوی ماں ’’ پمپادیوی‘‘ سے مشتق ہے۔ ان زبانی روایات کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی تحقیقا ت، یادگاروں اور کتبات نیز دیگر دستاویزات نے دانشوروں کو وجے نگر سلطنت کو ازسرِ نَودریافت کرنے میں مدد کی۔
2

 7.1 شکل

وجے نگر شہر کے چاروں طرف تعمیرکی گئی پتھر کی دیوارکا ایک حصّہ

.1

ہمپی کی دریافت

ہمپی کے کھنڈرات1800 عیسوی میں ایک انجینیئراور عہد عتیق کے عالم کرنل کولن میکنزی کے ذریعہ منظر عام پر آئے۔ میکنزی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے ۔ انھوں نے اس مقام کا سب سے پہلے سروے پر مبنی نقشہ تیار کیا۔ ان کو حاصل زیادہ تر ابتدائی معلومات ویروپکشامند ر اور پمپادیوی کی عبادت کے پرہیتوں کی یاد داشتوں پر مبنی تھیں۔1856 کے بعد سے فوٹوگرافروں نے یادگاروں کو ریکارڈ کیا جس کی وجہ سے دانشور اس کا مطالعہ کرنے کے قابل ہوئے۔1836 سے ہی ماہرینِ کتبات نے یہاں سے اور ہمپی کے دیگر مندروں سے کئی درجن کتبات تلاش کرنے اور جمع کرنے شروع کیے۔ اس شہر اور سلطنت کی تاریخ کو ازسرِنَو تحریر کرنے کی کوشش میں مؤرخین نے ان مآخذ کا غیر ملکی سیّاحوں کے سفر ناموں اور تیلگو، کنّڑ،تمل اور سنسکرت ادب میں تحریر اطلاعات سے موازنہ کرنے کی کوشش کی۔

ماخذ 1

کولن میکنزی

کولن میکنزی کی پیدائش 1754 میں ہوئی تھی جو ایک انجینیئر، سروئیر(امینِ پیمائش) اور کارٹوگرافر (نقشہ نگار) کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ 1815 میں ان کو ہندوستان کا پہلا سروئیر جنرل مقرر کیا گیا ۔ وہ اپنی موت (1821) تک اس عہد ے پر فائز رہے۔ ہندوستان کے ماضی کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور نوآبادی کے انتظام کو آسان بنانے کے لیے وہ مقامی تاریخوں کو جمع کرنے اور تاریخی مقامات کا سروے کرنے کی مہم میں مشغول ہوئے۔ اس نے کہا کہ’’برطانوی حکومت کے زیر اثر آنے سے پہلے جنوب خراب انتظامات کے سبب طویل عرصے تک بدحالی سے باہر نکلنے کے لیے کوشاں رہا۔ وجے نگر کے مطالعے سے میکنزی کو یہ یقین ہوگیا کہ ایسٹ ا نڈیا کمپنی مقامی لوگوں کے مختلف قبیلے جو اس زمانے میں بھی عام عوام کی آبادی کو تشکیل کرتے ہیں، کو اب بھی غالب طور پرمتاثر کرنے والے ان میں سے بہت سے ادارے، قوانین اور رسم ورواج کے متعلق بہت سی فائدہ مند معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔


3

شکل 7.2

میکنزی اپنے معاونین کے ساتھ،

 یہ تصویر کسی نامعلوم آرٹسٹ کے ذریعہ بنائی گئی ہے جو مصور تھا مس ہکی کی آئل پنٹنگ کی نقل ہے۔ یہ تصویر تقریباً 1825کی ہے۔ رائل ایشیا ٹک سوسائٹی آف برٹین اینڈ آئر لینڈ کے ذخیرہ سے متعلق ہے۔ میکنزی کی بائیں طرف ان کا چپراسی کستناجی دور بین تھا مے ہوئے، ان کے دائیں جانب ان کے معاونین، برہمنا ہے ایک جین پنڈت (دائیں) اور اس کے پیچھے تیلگو برہمن کو ویلری و ینٹک لچھمیا موجود ہے۔


میکنزی اور ان کے دیسی اطلاعات فراہم کرنے والوں کو آرٹسٹ نے کس طرح دکھایاہے ؟ اس کی اطلاعات فراہم کرنے والوں کے ضمن میں دیکھنے والوں کو کس طرح کے خیالات سے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟


.2   رائے، نا یک اور سلطان

روایات اور کتباتی شہادت کے مطابق 1336میں وجے نگر سلطنت کی بنیاد دو بھائیوں ہری ہر اور بکاّنے ڈالی تھی۔ تبدیل پذیر سرحدوں کے اندر یہ سلطنت مختلف زبانیں بولنے اور مختلف مذہبی روایات پرعمل کرنے والے لوگوں پر مشتمل تھی۔
       اپنی شمالی سرحدوں پر وجے نگر حکمرانوں نے اپنے ہم عصر راجاؤں ، جن میں دکن کے سلطان اور اڑیسہ کے گجپتی حکمراں بھی شامل تھے، زرخیز دریائی وادیوں اور نفع بخش سمندر پار تجارت سے پیدا و سائل پر قبضہ کرنے کے لیے مقابلہ آرائی کی۔ ساتھ ہی ساتھ ریاستوں کے ساتھ تفاعل سے، خیالات و تصوّرات کی حصہ داری سے خاص طور پر فن تعمیر کا اِرتقا ہوا۔ وجے نگر کے حکمرانوں نے تصورات اور تعمیراتی تکنیکوں کو اخذ کیا جس کو انھوں نے مزید فروغ دیا۔

کرناٹک سامراجیہ مو

اگرچہ مؤرخین ’’وجے نگر سلطنت ‘‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ، معاصروں نے اسے ’’ کرناٹک سامراجیہ مو‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے۔

اس سلطنت کے اندر شامل کئی علاقوں نے پہلے طا قتور ریاستوں جیسے تمل ناڈو میں چولاؤں اور کرناٹک میں برسوں کی ریاستوں کا ارتقا یکھاتھا۔ ان علاقوں کے اعلیٰ حکمراں طبقے نے محنت ودیدہ ریزی سے تعمیر مندروں جیسے تھنجا ور کا برہاد یشورمندر اور بیلور کا چیناّ کیشو مندر کی بڑے پیمانے پر سرپرستی کی۔ وجے نگر کے حکمراں جو خود کو رائے پکارتے تھے، نے ان روایات کو تعمیر کیا اور آگے بڑھایا۔ اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے انھوں نے واقعی ان کو نئی اونچائیوں تک پہنچایا۔

4
شکل 7.3
تنجاور کے گوپورم یابرہادیشور مندر کا صدردروازہ

ہاتھی، گھوڑے اور افراد

 گجپتی کے لغوی معنی’ ہاتھیوں کے مالک ‘کے ہیں۔ پندرھویں صدی میں اڑیسہ کے طاقتور حکمراں نسل کا یہی نام تھا۔ وجے نگر کی معروف روایات میں دکن کے سلطان کو ’’ 
اشوپتی‘‘ یا ’گھوڑوں کا مالک ‘کی اصطلاح دی گئی اور رائے کو ’’ نرپتی‘‘ یعنی ’لوگوں کے مالک‘ کی اصطلاح سے پکارا گیا تھا۔

2.1  

راجا اور تاجر

 جیسا کہ اس عہد کے دروان جنگیں مؤثر گھوڑ سوار فوج پر منحصر تھیں ۔اس لیے حریف ریاستوں کے لیے عرب اور وسطی ایشیا سے گھوڑوں کی درآمد بہت اہمیت رکھتی تھی۔ یہ تجارت ابتدائی دور میں عربوں کے کنٹرول میں تھی۔ تاجروں کی مقامی جماعتیں جو’’ کودی رئی ، چیٹی‘‘ یا گھوڑوں کے تاجر کے نام سے معروف تھیں، اس مبادلہ ٔ  تجارت میں حصہ لیتی تھیں۔  1498سے کچھ دیگر کردار اس منظر نامے پر ظہور پذیر ہوئے، یہ پرتگالی تھے جو برّ صغیر کے مغربی ساحل پر پہنچے اور تجارتی وفوجی مراکز قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی برتر فوجی تکنیک خاص طور پر دستی بندوقوں کے استعمال نے انھیں اس عہد کی پیچیدہ سیاست میں ایک اہم کھلاڑی بنا دیا۔
       واقعتا وجے نگر بھی مسالوں ، کپڑوں اور قیمتی پتھروں کے اپنے بازاروں کے لیے مشہور تھا۔ایسے شہروں میں تجارت اکثر معیار کامظہر مانی جاتی تھی۔ یہاں کے دولت مند عوام انتہائی غیر ملکی اشیا کا مطالبہ کرتے تھے خاص طور پر قیمتی پتھر اور زیورات کا۔ تجارت سے حاصل مال گزاری ریاست کی خوشحالی میں اہم طور پر معاون ثابت ہوتی تھی۔

2.2  سلطنت کا عروج اور زوال

 سیاسی سطح پر اقتدار کے دعوے داروںمیں حکمراں نسل اور ساتھ ہی فوجی کما نڈر شامل ہوتے تھے۔ پہلا شاہی خاندان ’’ سنگم شاہی خاندان‘‘ کے نام سے معروف تھا، اس نے 1485تک اپنا دبدبہ بنائے رکھا۔ انھیں سلواؤں (Saluvas)نے اکھاڑ پھینکا جو فوجی کمانڈ ر تھے اور 1503 تک ان کا اقتدار رہا۔ پھران کی جگہ تلواؤں (Tuluvas) نے لے لی۔ کرشن دیو رائے تلو ا شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
       کرشن دیورائے کے دور حکمرانی کی خاصیت اس کی سلطنت کی وسعت اور استحکام تھا۔ اس کے عہد میں تنگ بھدرا اور کرشنا ندیوں کے بیچ کے علاقے (رائچورودوآبہ1512- ) کو حاصل کر لیا گیا ۔ اس نے اُڑیسہ کے حکمرانوں کو مغلوب کیا (1514) اور بیجایور کے سلاطین کو کراری شکست دی (1520)۔ اگرچہ ریاست ہمیشہ فوجی اعتبار سے مستعدو تیار رہتی تھی۔ ان غیر متوازی حالات میں بھی ریاست میں امن و سکون اور خوشحالی رہی۔ کچھ بہت خوبصورت مندروں کی تعمیر اور جنوبی ہند کے بہت سے اہم مندروں میں مؤثر و دلنشین گوپورموں (صدر د روازوں ) سے مربوط کرنے کا شرف کرشن دیورائے کو حاصل ہے۔ اس نے اپنی والدہ کے نام پر وجے نگر کے قریب ناگل پورم نامی قصباتی حلقے کی آبادی بھی قائم کی تھی۔ وجے نگر کے تعلق سے سب سے زیادہ تفصیلی تذکرہ کرشن دیورائے کے یا اس کے فوراً بعد کے زمانے سے ملتا ہے۔
       کرشن دیورائے کی 1529میں موت کے بعد شاہی ڈھانچے میں تناؤ پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ اس کے جانشینوں کے سامنے باغی نائیکوں یا فوجی سرداروں نے پریشانی پیدا کرنی شروع کردی تھی۔ 1542 تک مرکز پر کنٹرول ایک دیگر حکمراں نسل اراویڈ وکی طرف منتقل ہوگیا جو ستر ھویں صدی کے اختتام تک بر سرِا قتدار رہے تھے۔ پہلے کی ہی طرح اس عہد میں بھی وجے نگر کے حکمرانوں اور دکن کے سلاطین کی فوجی حوصلہ مندی کے نتیجے میں صف بندی بدلتی رہی۔ آخر کار یہ حالات وجے نگر کے خلاف دکن کے سلاطین کے درمیان اتحاد کا سبب بنے۔ 1565 میں وجے نگر کے وزیراعظم رام رائے کی قیادت میں راکشسی تانگاڈی (تالی کوٹا کے نام سے بھی معروف) کے میدان جنگ میں بیجاپور ، احمد نگر اور گولکنڈہ کی مشترکہ فوجوں کے ہاتھوں وجے نگر کی شکست ہوئی۔ فاتح فوجوں نے وجے نگر شہر کو تخت و تاراج کردیا ۔ کچھ برسوں کے اندر ہی یہ شہر پوری طر ح اجڑ (ختم) گیا۔ اب سلطنت کامرکز مشرق کی طرف منتقل ہوگیا جہاں اراویڈو شاہی خاندان نے پینوکونڈا سے اور بعد میں چندر گیری (تروپتی کے نزدیک) سے حکمرانی کی۔
       اگرچہ وجے نگر شہر کی بربادی و تباہی کے لیے سلطانوں کی فوجیں ذ مّہ دار تھیں، پھر بھی سلطانوں اور را یوں کے درمیان رشتے باوجود مذہبی اختلافات کے،ہمیشہ یا ناگزیر طور پر دشمنی پر محمول نہیں رہتے تھے۔ مثال کے طور پرکرشن دیو رائے نے سلطانوں میں اقتدار کے کئی دعوے داروں کو حمایت دی۔ ’’ یاون(Yavana) ریاست کو قائم کرنے والے‘‘ کا خطاب اختیار کرکے فخر محسوس کیا۔ اسی طرح بیجاپور کے سلطان نے کرشن دیورائے کی موت کے بعدجانشینی کے تنازع کو سلجھانے میں مداخلت کی تھی۔ درحقیقت وجے نگر کے راجااور سلطنتیں دونوں ہی ایک دوسرے کے استحکام کو یقینی بنانے کی خواہش مند تھیں۔ رام رائے کی جو کھم بھری پالیسی تھی جو ایک سلطان کو دوسرے سلطان کے خلاف کرنے کی کوشش تھی۔ جس نے سلطانوں کو متحدکرنے کے لیے رہنمائی کی اور انھوں نے اسے فیصلہ کن شکست دے دی۔

راجا اور تاجر

وجے نگر کے سب سے مشہور حکمراں کرشن دیورائے (دور حکومت 1509-29) نے نظام حکومت  کے متعلق تیلگو زبان میں’’ امکتا ملائدا‘‘ نامی ایک کتاب تحریر کی تھی ۔تاجروں کے متعلق وہ لکھتا ہے:
ایک راجا کو اپنی بندرگاہوں کو بہتربناناچاہیے اور تجارت کو اس طرح بڑھاوا دینا چاہیے کہ گھوڑوں ، ہاتھیوں ، قیمتی جواہرات ، صندل کی لکڑی ، مورتیوں اور دیگر اشیاء کو آزادی کے ساتھ درآمد کیاجاسکے...... اسے ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ غیر ملکی جہاز والوں کو جنھیں طوفانوں، بیماری اور تھکن کی وجہ سے یہاں لنگر انداز ہونا پڑتا ہے، کی مناسب اندازمیں دیکھ بھال کی جاسکے.......دور دراز کے غیر ملکی تاجروں جو ہاتھیوں اور عمدہ گھوڑوں کی درآمد کرتے ہیں ،سے روزانہ کی رسمی ملاقات کرکے ، تحفے دے کر اور مناسب منافع کی منظوری دے کر خود کو وابستہ کرنا چاہیے ۔ ایسا کرنے کے بعد یہ اشیاکبھی بھی تمہارے دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں پہنچیں گی۔

آپ کے خیال میں راجا تجارت کو بڑھاوا دینے کے لیے خوا ہش مند کیوں تھا؟ اس طرح کے لین دین سے کن گروپوں کو فائدہ پہنچتا ہوگا؟


5
نقشہ1
جنوبی ہندوستان
تقریباً چودہویں ۔اٹھارہویں صدی

جدیدعہد کی ریاستوں کی شناحت کیجیے جو وجے نگر سلطنت کی تشکیل کرتی تھیں۔

 یاون (Yavana)سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال یونانیوں اور شمال مغرب کی طرف سے برّ صغیر ہند میں آنے والے دیگر لوگوں کے لیے کیا جاتا تھا۔

2.3  رائے اور نایک

سلطنت میں طاقت کا استعمال کرنے والوں میں فوجی سردار ہوا کرتے تھے جو عموماً قلعوں پر کنٹرول رکھا کرتے تھے اور ان کے پاس ہتھیار بندمددگار ہوتے تھے۔ یہ سردار اکثر ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک حرکت پذیر رہتے تھے۔ اور کئی بار آباد ہونے کے لیے زرخیز زمین کی تلاش میں کاشت کار بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہ سردار ’’ نایک‘‘ کے نام سے معروف تھے  اور عموماً  تیلگو یا کنّٹر زبان بولتے تھے۔ بہت سے نایکوں نے وجے نگر کے راجاؤں کے اقتدار کو قبول کرلیا تھا لیکن یہ اکثر بغاوت کر دیا کرتے تھے اور فوجی کاروائیوں کے ذ ریعہ ہی انھیں مغلوب کیا جاتا تھا۔
       وجے نگر سلطنت کی ایک اہم سیاسی اختراع ’’ امر-نایک‘‘ نظام تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نظام کی بہت سی خصوصیات دہلی سلطنت کے ’’ اقطاع نظام‘‘ سے اخذ کی گئی تھیں۔
       ’’ امر-نایک‘‘ فوجی کمانڈر ہوتے تھے جنھیں رائے کے ذریعہ فرماں روائی کے لیے عمل داریاں دی جاتی تھیں۔ وہ اس علاقے کے کسانوں ، دست کاروں اور تاجروں سے ٹیکس اور دیگر محصول وصول کیا کرتے تھے۔ وہ مال گذاری کا ایک حصہ ذاتی استعمال اور گھوڑے وہاتھیوں کے طے شدہ فوجی دستے کے رکھ رکھاؤ کے لیے اپنے پاس رکھتے تھے۔ یہ فوجی دستے وجے نگر کے حکمرانوں کو ایک مؤثر جنگی قوّت مہیا کراتے تھے جس کی وجہ سے انھوں نے پورے جنوبی جزیرہ نما کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ مال گذاری کا کچھ حصہ مندروں اور آبپاشی کے کاموں نیز رکھ رکھاؤ میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
       امر-نایک راجا کو سالانہ خراج بھیجتے تھے اور اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے شاہی دربار میں تحائف کے ساتھ ذاتی طور پر حاضر ہوا کرتے تھے۔ کبھی کبھی راجا ان پر اپنے اختیار کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادل کردیا کرتا تھا۔ تاہم سترھویں صدی کے دوران بہت سے نایکوں نے اپنی آزاد ریاستیں قائم کرلی تھیں۔ اس کے سبب مرکزی شاہی ڈھانچہ میں دراڑ پڑنے لگی تھی۔

ایسا مانا جاتاہے کہ لفظ’’ امر‘‘ سنسکرت لفظ ’’سمر‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی لڑائی یا جنگ کے ہیں ۔ یہ فارسی لفظ ’’امیر‘‘ سے بھی مشابہ ہے جس کے معنی ہیں’’ اعلیٰ رُتبہ کا فرد‘‘۔

گفتگو کیجیے...

نقشہ 1میں چندر گیر ی،مدو رائی، اکیرّی، تھنجاور اور میسور کو نشان زد کیجیے۔ یہ سبھی نایک طاقت کے مراکز تھے۔ بحث کیجیے کہ ندیوں اور پہاڑوں نے کن معنی میں وجے نگر کے ساتھ ترسیل کو آسان بنایا یاوہ مزاحم ہوئے؟

شہر کے متعلق تحقیقاتی نتیجہ

 وجے نگر کے راجاؤں اور ان کے نایکوں کے کتبات بڑی تعداد میں ملے ہیں جن میں مندروں کو دیے جانے والے عطیات کو ریکارڈ کیا گیا اور اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ بہت سے سیّا حوں نے شہرکی سیر کی تھی اور اس کے متعلق لکھا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ قابلِ ذکر تذکرے نکو لو ڈی کونٹی نامی اطّالو ی تاجر، فارس (ایران) کے بادشاہ کا بھیجا سفیر عبدالرزّ اق اور افاناسی نکیتین نامی روسی تاجرکے ہیں۔ ان سبھی نے پندرھویں صدی میں اس شہر کی سیر کی تھی اور دوراتے باربوسا، ڈومنگو پیس اور فرناؤ نونیز یہ سبھی سولھویں صدی میں پرتگال سے آئے تھے۔

      کیا آپ یہ سبھی خصوصیات آج کسی شہر میں پاتے ہیں؟ آپ کے خیال میں پیس نے باغات اور آبی ذخائر کو خاص طور پر تذکرے کے لیے کیوں منتخب کیا ہے؟

ماخذ 3

ایک بے ہنگم شہر

یہ اقتباس ڈومنگو پیس کے وجے نگر سے متعلق تذکرے سے لیا گیا ہے:
میں اس شہر کے رقبے کے بارے میں یہاں تحریر نہیں کر رہا ہوں۔ کیونکہ یہ کسی بھی ایک مقام سے پوری طرح نہیں دیکھا جاسکتا ۔ میں ایک پہاڑ پر چڑھ کر اس کا ایک بڑا حصہ ہی دیکھ سکا۔ میں اس کو پوری طرح نہیں دیکھ سکتا کیونکہ یہ کئی پہاڑ ی سلسلوں کے درمیان واقع ہے۔ میں نے وہاں سے جو دیکھا وہ مجھے روم جتنا ہی بڑا نظرآیا جو دیکھنے میں بہت خوبصورت ہے۔ اس میں درختوں کے بہت سے جھنڈ (باغات) ہیں ، مکانات کے باغیچوں میں اور بہت سی پانی کی نالیاں اس کے درمیان بہتی ہیں۔ کئی مقامات پر یہاں جھیلیں ہیں اور راجا کے محل کے قریب ہی کھجور کے درختوں کا جھنڈ (باغیچہ ) ہے اور دیگر پھل دار درخت ہیں۔

3 . وجے نگر : راجدھانی اور اس کے مضافات

بہت سی راجدھانیوں کی طرح وجے نگر بھی امتیازی قدرتی اور طرز تعمیر کے اعتبار سےخصوصیات کا حامل تھا۔
6
شکل 7.4

وجے نگر کا خاکہ

نقشے پر تین اہم خِطّوں Zones) ( کی شناخت کیجیے۔ درمیانی حصے کو غور سے دیکھیے۔ کیا آپ ندیوں سے جڑی  پانی کی گذر گاہوں کو دیکھ سکتے ہیں؟ آپ کتنی قلعہ بند دیواروں کو تلاش کرسکتے ہیں؟ کیا مقدس مذہبی مرکز قلعہ بند تھا؟

ماخذ 4

آبی ذخائر (تالاب ) کی تعمیر کیسے ہوئی

پیس کرشنا دیورائے کے تعمیر کردہ آبی ذخیرہ کے متعلق لکھتا ہے:
راجا نے ایک آبی ذخیرہ تعمیر کروایا......... دو پہاڑوں کے دہانے (منہ) پر واقع ہے۔ اس وجہ سے کسی بھی پہاڑ کی طرف سے آنے والا سارا پانی یہاں جمع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی تقریباً 3 لیگ (اندازاً 15 کلو میٹر) کی دوری سے پائپوں کے ذریعہ آتا ہے جو باہری سلسلے کے نچلے حصے کے ساتھ بہتا ہے۔ یہ پانی ایک جھیل سے لایا جاتا تھا جوبھر جانے پر خود ایک چھوٹی سی ندی میں جا ملتی ہے۔ آبی ذخیرے میں تین بڑے ستون بنے  ہیں جن پر خوبصورتی سے تصاویر منقش کی گئی ہیں۔ یہ اوپر سے تین پائپوں کے ذریعہ جڑی ہوئی ہیں جن سے وہ اپنے باغات اور دھان کے کھیتوں کی آبپاشی کے لیے پانی لاتے ہیں۔ اس آبی ذخیرے کو بنانے کے لیے اس راجا نے ایک پہاڑی کو تڑوا دیا تھا....... میں نے اس حوض میں بہت سے لوگوں کو کام کرتے دیکھا ہے یہاں پر پندرہ بیس ہزار افراد تھے ، بالکل چونٹیوں کی طرح......................

3.1  آبی وسائل

وجے نگر کے مقام کی سب سے زیادہ قابلِ توجہ خصوصیت تنگ بھدراندی کے ذریعہ تشکیل کیا گیا ایک قدرتی نشیبی زمین (بیسن) ہے۔ تنگ بھدرا ندی شمال مشرق کی سمت بہتی ہے ۔قُرب و جو ار کے برّی مناظر نہایت عمدہ گرینائٹ کی پہاڑیوں سے لیس ہیں جو شہرکے اطراف حلقہ بناتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان ابھری ہوئی پہاڑیوں سے کئی چشمے بہہ کر ندی سے ملتے ہیں۔
       ان سبھی معاملات میں ان چشموں کے ساتھ باندھ بنا کر مختلف سائز کے آبی ذخیرے بنائے گئے تھے۔ کیونکہ یہ جزیرہ نما کے سب سے خشک حلقوں میں سے ایک تھا۔ اس لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس کو شہر تک لانے کے لیے مناسب بندوبست کرنا ضروری تھا۔اس طرح کے حوضوں؍ٹنکیوں میں سے ایک کی تعمیر پندرھویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ہوئی تھی ، جس کو اب کملا پورم آبی ذخیرہ کہا جاتا ہے۔ اس حوض کے پانی سے نہ صرف قُرب و جوار کے کھیتوں کی آب پاشی کی جاتی تھی بلکہ ایک نہر کے ذریعہ ’’ شاہی مرکز‘‘ تک بھی لے جایا گیا ہے۔
       سب سے اہم آب رسانی کے کام کو ’’ ہیریا نہر ‘‘ کے کھنڈرات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نہر میں تنگ بھدرا ندی پر بنے باندھ سے پانی لایا جاتا تھا اور اس سے ’’ مقدس مرکز‘‘ سے ’’ شہری مرکز‘‘ کو الگ کرنے والی قابل کاشت وادی کی آبپاشی کی جاتی تھی۔ اس کو غالبا سنگم شاہی خاندان کے راجاؤں نے تعمیر کروایا تھا۔

7
شکل 7.5
شاہی مرکز کی طرف جاتی ایک پختہ نالی

3.2  قلعہ بندیاں اور سٹرکیں

قبل ا س کے کہ ہم شہر کے مختلف حصوں کا تفصیلی تجزیہ کریں۔ ہم ان عظیم قلعوں (مستحکم  شہروں ) کی دیواروں پر نظر ڈالتے ہیں جن سے ان کی گھیرا بندی کی گئی تھی۔ پندرھویں صدی میں فارس (ایران) کے حکمراں نے عبد الرزّاق کو سفیر بنا کر کالی کٹ (موجودہ کوزی کوڈ) بھیجا وہ اس کی  قلعہ بندی سے بہت متاثر ہوا تھا، اس نے قلعوں کی سات لائنوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ان سے نہ صرف شہر بلکہ زراعتی علاقے اور جنگلات کی بھی گھیرا بندی کی گئی تھی۔ سب سے باہری دیوار شہرکے  اطراف کی پہاڑیوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ یہ بھاری اور ٹھوس تعمیر ہلکی سی ڈھلواں تھی۔ اس کی تعمیر میں کہیں بھی گارے یا جوڑ نے والے مسالے کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ پتھروں کے بلاک پچّر کی شکل کے تھے جس کی وجہ سے اپنی جگہ جمے رہتے تھے اور دیواروں کا اندرونی حصہ مٹی اور ملبے کا مجموعہ تھا۔ مربع اور مستطیل برج باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔
       اس طرح کی قلعہ بندی کے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے وسیع زراعتی زمینوں کی بھی گھیرا بندی کی گئی تھی ۔ عبدالرزّاق لکھتا ہے پہلی ، دوسری اور تیسری دیوار کے درمیا ن ہرے بھرے کھیت ، باغات اور مکانات ہیں۔پیس کا مشاہدہ تھا۔ ’’اس پہلے حلقے سے آپ کے شہر میں داخل ہونے تک کا فاصلہ کافی زیادہ ہے جس میں کھیت ہیں، جن میں وہ دھان اگاتے ہیں اور بہت سے باغات ہیں اور بہت سا پانی ہے جو دوجھیلوں سے آتا ہے‘‘۔ ان بیانات کی موجودہ دور کے ماہرین آثارِ قدیمہ نے تصدیق کی ہے جنھوں نے ’’ مذہبی مرکز‘‘ اور شہر کے قلب کے درمیان زراعتی علاقے کے شواہد تلاش کرلیے ہیں۔ اس قطعہ زمین کی دیکھ بھال مکمل نہر نظام کے ذریعہ تنگ بھدرا ندی سے لائے پانی سے کی جاتی تھی۔
       آپ کے خیال میں زراعتی علاقوں کو قلعہ بند ا راضی کے اندر کیوں شامل کیا جاتا تھا؟ اکثر عہد وسطیٰ کے محاصروں کا مقصد محافظ (محصور) لوگوں کو غذائی اشیاسے محروم کرکے اطاعت کے لیے مجبور کرنا تھا۔ یہ محاصرے کئی مہینوں تک اور کبھی کبھی برسوں تک چل سکتے تھے۔ عام طور پر حکمراں ایسے حالات سے بچنے کے لیے قلعہ بند علاقوں کے اندر ہی وسیع اناج گودام کی تعمیر کرواتے تھے۔ وجے نگر کے حکمرانوں نے زراعتی پٹّی (علاقے) کی حفاظت کرنے کے لیے ایک زیادہ مہنگی اور محنت سے بنائی ہوئی حکمتِ عملی کو اختیار کیا۔ 
       قلعہ بندی کی دوسری لائن شہری مرکز کے اندرونی حصے کے چاروں طرف بنی تھی اور تیسری لائن سے شاہی مرکز کی گھیرا بندی کی گئی تھی جس میں اہم اور بڑی عمارتوں کے ہر ایک زمرے کی اس کی اونچی دیواروں سے گھیرا بندی کی گئی تھی۔
       قلعے میں داخل ہونے کے لیے مضبوط محافظ دروازے تھے جو شہر کو اہم سٹرکوں سے جوڑتے تھے۔ داخلی دروازوں کی نمایاں تعمیراتی خصوصیات تھیں جو اکثر ان ساختوں کو واضح کرتے تھے جس سے رسائی کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ قلعہ بند بستی میں جانے کے لیے تعمیر داخلی دروازے پر بنی محراب اور ساتھ ہی دروازے پر گنبد (تصویر 7.6) ترک سلطانوں کے معروف فنِّ تعمیر کی امتیازی خصوصیت تسلیم کی جاتی ہیں۔ آرٹ کے مؤرخین اس طرز کو ’’ ہند اسلامی طرز ‘‘ کہتے ہیں۔ کیونکہ اس کا ارتقا مختلف علاقوں میں مقامی طرزِ تعمیر کے رواج کے ساتھ مسلسل تفاعل سے ہوا تھا۔
       ماہرین آثارِ قدیمہ نے شہر کی اندرونی اور وہاں سے باہر جانے والی سٹرکوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی شناخت داخلی دروازوں سے ہوکر جانے والے راستوں کے نشانات اور اینٹوں کے فرش والی سڑکوں کے سراغ ملنے سے کی گئی ہے۔ سڑکیں عام طور پر پہاڑی قطعہ زمین سے بچا کر وادیوں سے ہوکر ہی چاروں طرف گھومتی ہیں۔ کچھ بہت ہی اہم سڑکیں مندروں کے داخلی دروازے سے آ گے دراز ہوتی تھیں ۔ ان کے دونوں جانب بازار تھے۔

8
شکل 7.6
قلعہ بند دیوار میں بنا ایک داخلی دروازہ

 دونوں داخلی دروازوں کے درمیان یکسانیت اور فرق بیان کیجیے۔ آپ کے خیال میں کیاوجے نگر کے حکمرانوں نے ہند اسلامی فن تعمیر کے عناصر  کو اپنا لیا تھا؟

9
شکل 7.7
 گوپورم 

3.3  شہر کا قلب (مرکز)

شہر کے قلب کی جانب جانے والی سڑکوں کی طرف چلیں تو عام لوگوں کے مکانات کی آثاری شہادتیں نسبتاً کم ملتی ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کو کچھ علاقوں بشمول شہر کے قلب کے شمال مشرقی کنارے میں عمدہ چینی برتن ملے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس علاقے میں شاید مالدار تاجر سکونت پذیر تھے۔ جہاں پر مسلمانوں کے بھی رہائشی مکانات تھے۔ یہاں واقع مقبر ے اور مساجد مسلمانوں کے نمایاں فرض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم ان کی فنّ تعمیر ہمپی سے ملے مندروں کے فنّ تعمیر سے مشابہ ہے۔
       عام لوگوں کے مکانات، جو اب وجود میں نہیں ہیں، کا ذکر سولھویں صدی کا پرتگالی سیّاح باربوساکچھ اس طرح کرتا ہے۔’’ دیگر لوگوں کے مکانات چھپّر کے ہیں مگر پھر بھی اچھے ڈھنگ سے بنائے گئے ہیں۔ پیشے کے مطابق بہت سے کھلے مقامات والی لمبی سڑکوں پر منظم طریقے سے بنائے گئے ہیں‘‘۔
       علاقے کے سروے اشارہ کرتے ہیں کہ پورے علاقے میں متعد د عبادت گاہیں اور چھوٹے مندر تھے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں مختلف مسلکوں کا رواج تھا جن کی مدد مختلف جماعتیں کرتی تھیں۔ جائزوں سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کنوئیں، برسات کے آبی ذخیرے (ٹینک) اور ساتھ ہی مندروں کے آبی ذخیرے شاید شہر کے عام باشندوں کے لیے پانی کے ماخذ و منبع کے طور پرکام کرتے تھے۔
10
شکل 7.8
کھدائی کے بعد  اینٹوں کے فرش والی سڑک کا ایک حصہ
11
شکل 7.9
چینی برتنوں کے ٹکڑے
       آپ کے خیال میں یہ ٹکڑے بنیادی طور پر کس طرح کے برتنوں کا اصل حصّہ تھے؟

12
شکل 7.10
وجے نگر میں تعمیر ایک مسجد

کیا اس مسجد میں ہند اسلامی فنِّ تعمیر کی امتیازی خصوصیات موجود ہیں؟

4.شاہی مرکز

شاہی مرکز بستی کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ حالانکہ اسے شاہی مرکز کا رتبہ (نام) دیا گیا ہے اگرچہ اس میں 60 سے بھی زیادہ مندر شامل ہیں۔ واضح طور پر مندروں اور مسلکوں کی سرپرستی کرنا ان حکمرانوں کے لیے بہت اہم تھا جو ان عبادتی مقامات سے وابستہ دیوی دیوتاؤں کے ذریعہ اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور قانونی جو از فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
       تقریباً 30 عمارتوں کی شناخت مختلف الاجزا (کمپلیکس ) محلوں کے طورپرہوتی ہے۔ یہ  نسبتاً بڑے ڈھانچے ہیں جو مذہبی رسوماتی کامو ں سے وابستہ نظر نہیں آتے۔ ان ڈھانچوں اور مندروں کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ مندروں کی تعمیر پوری طرح پتھّروں سے کی گئی تھی۔ جب کہ غیر مذہبی عمارت کے بالائی ڈھانچہ کی تعمیر جلد خراب ہونے والے سامان سے کی گئی تھی۔

گفتگو کیجیے...

وجے نگر کے خاکے (نقشے) کا موازنہ اپنے شہر یا گاؤں کے خاکے سے کیجیے۔

ایوان فتح

دیوانِ عام اور ’’ مہانومی دِبہّ‘‘ کو پیس مشترکہ طور پر ’’ایوان فتح ‘‘ کا نام دیتا ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتا ہے:
ان عمارات میں ایک کے اوپر دو پلیٹ فارم ہیں جوخوبصورتی کے ساتھ نقّاشی کیے ہوئے ہیں...... اوپر پلیٹ فارم پر......اس ’ایوان فتح ‘میں کپڑے سے تیار ایک کمرہ بنوایا ہے......جہاں مورتی کے لیے ایک عبادت گاہ ہے.......... اور ایک دوسرے کے بیچوں بیچ میں ایک شہ نشین (Dais) رکھی ہوئی ہے جس پر ریاست کا شاہی تخت رکھا ہوا ہے (تاج اور شاہی پازیب)۔

4.1 مہانومی دِبہّ

 اس علاقے کے کچھ نمایاں ڈھانچوں (عمارتوں) کا نام ،عمارتوں کی شکل اور ساتھ ہی ساتھ ان کے کاموں کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ ’’ راجا کا محل ‘‘ اس احاطہ میں سب سے بڑی عمارت ہے لیکن اس کے شاہی قیام گاہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے دو بہت ہی مؤثر پلیٹ فارم ہیں جنھیں عام طور پر ’’دیوانِ عام‘‘ اور’’ مہانومی دِبہّ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پورے کمپلیکس کی اونچی دوہری دیواروں سے گھیرا بندی کی گئی ہے۔ اور اس کے درمیان میں ایک گلی بنائی گئی ہے۔ دیوانِ عام ایک اونچا پلیٹ فارم ہے جس میں قریب قریب اور معیّن فاصلے پر لکڑی کے ستونوں کے لیے سوراخ بنائے گئے ہیں۔ دوسری منزل پر جو ان ستونوں پر ٹکی ہوئی تھی، اوپر جانے کے لیے زینہ (سیڑھیاں) بنایا گیا ہے۔ ستونوں کے ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے بہت کم کھلی جگہ بچی ہوگی۔ اور اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ اس ایوان (ہال) کا استعمال کس کام کے لیے ہوتا تھا۔
       شہر کے سب سے اونچے مقام میں سے ایک پر واقع ’’ مہانومی ڈبہّ‘‘ ایک بڑا اور بھاری پلیٹ فارم ہے جو تقریباً 11000مربع فٹ کی کرسی سے 40 فٹ تک اونچا اٹھا ہوا ہے۔ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو لکڑی کے ڈھانچے سہارا دیتے تھے ۔ پلیٹ فارم کی بنیاد ابھرے نقش و نگار سے بنائی گئی تھی (شکل  7.12)۔
       اس ڈھانچے سے وابستہ مذہبی رسومات ، ستمبر اور اکتوبر کے خزاں کے مہینوں میں منائے جانے والے ہندوئو ں کے دس دن کے تہوار دسہرہ (شمالی ہندوستان میں) درگا پوجا (بنگال میں) اور نوراتری یا مہانومی (جزیرہ نما ہندوستان میں) جیسے مختلف ناموں سے معروف ، مہانومی (لغوی معنیٰ ’ عظیم نواں دن) کے موقع پر شاید ایک ہی وقت میں ادا کی جاتی تھیں۔اس موقع پر وجے نگر کا حکمراں اپنی شان و شوکت ، طاقت اور بالادستی کا مظاہرہ کرتا تھا۔
اس موقع پر بشمول مورتی پوجا، ریاست کے گھوڑے کی پوجا اور بھینسوں و دیگر جانوروں کی قربانی کی مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ رقص، کشتی کے مقابلے اور سازسے مزین گھوڑے۔ ہاتھیوں اور رتھوں نیز فوجیوں کا جلوس ساتھ ہی ساتھ نامور رقاصائیں(نایکوں) اور ماتحت راجا اس موقع پر نمایاں رہتے تھے اور ان کے ذریعہ راجا اور اس کے مہمانوں کو پیش کیے جانے والے رسمی تحائف اس موقع کے لازمی جز تھے۔ یہ جشن گہرے علامتی معنوں میں متاثر کن ہوا کرتے تھے۔ تہوار کے آخری دن راجا اپنی نیز اپنے نایکوں کی فوج کا کھلے میدان میں منعقد جلسے میں معائنہ کرتا تھا۔ اس موقع پر نایک راجا کے لیے قیمتی تحفے اور ساتھ ہی ساتھ طے شدہ خراج بھی لاتے تھے۔
’’ مہانومی دِبہّ‘‘ جو آج بھی قائم ہے، کیا وہ ان تفصیلی رسومات کا مرکز تھا؟ دانشوروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ڈھانچے کے چاروں طرف کی جگہ مسلّح افراد ، خواتین اور بڑی تعداد میں جانوروں کے تفصیلی جلوس کے لیے مناسب نظر نہیں آتی۔ شاہی مرکز میں واقع دیگر ڈھانچوں کی طرح یہ بھی ابھی تک ایک معمّا بنا ہوا ہے
13
شکل 7.I1
مہانومی دِبہّ پربنے نقش ونگار
14
شکل 7.I2
مہانومی دبہّ پر بنے نقش و نگار

کیا آپ ان نقش ونگار کے موضوع کی شناخت کر سکتے ہیں؟
15
شکل 7.13
کمل محل کی بلندی(Elevation)کی ایک ڈرائنگ۔
بلندی ڈرائنگ کسی چیزیا ڈھانچے کی عمودی منظر کی تصویر ہوتی ہے یہ ہمیں ان خصوصیات کے متعلق  تصویر و خاکہ دیتی ہے جس کو ایک فوٹو گراف میں نہیں دیکھ سکتے ۔ محرابوں کو غور سے دیکھیے ۔یہ شاید ہند اسلامی فن تعمیر کی تکنیکوں سے متاثر تھیں۔

←شکل 7.13 اور 7.15 کا موازنہ کیجیے اور دونوں کی مشترکہ خصوصیات کی ایک فہرست تیار کیجیے ۔ساتھ ہی ساتھ ان کی بھی جو ان میں سے کسی ایک میں دیکھی جا سکی ہیں ۔ شکل 7.14 میں بنے محراب کا موازنہ شکل 7.6 میں بنے محراب سے کیجیے ۔کمل محل میں نو میناریں تھیں۔مرکز میں ایک اونچی اور آٹھ اس کی بازؤں کے ساتھ،آپ فوٹو گراف اور بلند ڈرائنگ میں کتنی کتنی میناریں دیکھ سکتے ہیں ؟ اگر آپ کمل محل کا پھر سے نام رکھتے تو آپ اس کو کیا کہتے۔


16
شکل 7.14
کمل محل کے ایک محراب کی تفصیل

4.2   شاہی مرکز میں واقع دیگر عمارات

شاہی مرکز میں واقع سب سے خوبصورت عمارتوں میں سے ایک عمارت’ کمل محل‘ ہے جس کو یہ نام انیسویں صدی کے برطانوی سیّا حوں نے دیا تھا۔ حالانکہ یہ نام یقینی طور پر جمالیاتی(محبت سے لبریز) ہے ۔ لیکن مؤرخین اس کے متعلق یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس عمارت کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوتا تھا۔ ایک خیال جو میکنیزی کے بنائے نقشے سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایوانِ مجلس (Council Chamber)تھا جہاں راجہ اپنے مشیرو ںسے ملاقات کرتا تھا۔
حالانکہ زیادہ تر مندر مذہبی مرکز میں واقع ہیں۔ اسی طرح بہت سے مندر شاہی مرکز میں بھی واقع تھے۔ ان میں سے سب سے زشاید اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا استعمال راجا اور اس کے افراد خانہ کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔ مرکزی مقدس جگہ سے مورتیاں غائب ہیں۔ تاہم دیواروں پر بنائے گئے سنگ تراشی کے پینل باقی ہیں ۔ ان میں مندروں کی اندرونی دیواروں پر کی گئی سنگ تراشی کے منظر رامائن سے لیے گئے ہیں۔
اگرچہ وجے نگر کے بہت سے ڈھانچے ختم ہوگئے تھے۔ جب اس شہر کو حملوں نے تخت و تاراج کر دیا تھا لیکن نایکوں نے محل نماڈھانچوں کی تعمیر اتی روایت کو جاری رکھا ۔ ان میں سے بہت سی عمارات آج بھی باقی ہیں۔
یادہ قابلِ دید مندر ’’ ہزارا رام‘‘ مندر کے نام سے جانا جاتا 
17
شکل 7.14
کمل محل کے ایک محراب کی تفصیل

شکل (a) 7.16 اور (b) 7.6 کا موازنہ شکل 7.17 سے کیجیے اور ہر ایک میں نظر آنے والی خصوصیات کی فہرست بنائیے۔کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ واقعی ہاتھیوں کے اصطبل تھے؟

18
19
شکل  7.18
’’ ہزارہ رام مندر‘‘ کی دیواروں کی سنگ تراشی

کیا آپ رقص کے مناظر کی شناخت کر سکتے ہیں؟ آپ کے خیال میں ہاتھیوں اور گھوڑوں کی تصویر پینل(Panels) پر کیوں بنائی گئی ہیں؟

20
شکل 7.19
مدورائی کے دیوانِ عام کا اندرونی حصہ۔
 محرابوں کو غور سے دیکھیے۔

گفتگوکیجیے...

نایکوں نے وجے نگر کے حکمرانوں کی عمارتی روایت کو کیوں جاری رکھا؟

.5   مقدس مرکز

 5.1 راجدھانی کا انتخاب

اب ہم تنگ بھدرا ندی کے کنارے پر واقع شہر کے شمالی پہاڑی کنارے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ پہاڑیاں رامائن میں مذکور ’’بالی‘‘ اور ’’ سگریو‘‘ بندروں کی ریاست کی حفاظت کرتی تھیں۔ دوسری روایت کے مطابق مقامی دیوی ماں (ماتردیوی) ’’ پمپا دیوی‘‘ نے ان پہاڑیوں میں ’’ ویروپکش‘‘ جو ریاست کے سرپرست دیوتا شیو کا ایک روپ بھی تسلیم کیے جاتے ہیں، سے شادی کے لیے ریاضت کی تھی ۔ آج تک یہ شادی کا دن ویروپکش مندر میں ہر سال جشن کی طرح منایاجاتا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قبل وجے نگر عہد کے جین مندر بھی پائے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ علاقہ متعدد مذہبی روایات سے وابستہ تھا۔
اس علاقے میں مندروں کی تعمیر کی ایک طویل تاریخ رہی ہے جو پلّووں ، چالوکیہ، ہوئے سالوں اور چولا شاہی خا ندانوں تک پیچھے جاتی ہے۔ عموماً حکمراں اپنے آپ کو خدا سے وابستہ کرنے کے وسیلے کے طور پر مندروں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اکثر دیوتا کا صریح یا مضمر شکل میں راجا کے ساتھ اتحاد ظاہر کیا جاتا تھا۔ مندر علمی مرکز کے طور پربھی کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حکمراں اور دیگر لوگ اکثر مندروں کی دیکھ بھال کے لیے زمینیں یا دیگر و سائل کا عطیہ دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے مندر ایک اہم مذہبی، سماجی ، ثقافتی اور معاشی مرکز کے طور پر ارتقا پذیر ہوئے ۔حکمرانوں کے نقطئہ نظر سے مندروں کی تعمیر ، مرمّت اور دیکھ بھال ،اپنا اقتدار، دولت اور پارسائی کے لیے حمایت اور قدر شناسی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ تھے۔
یہ ممکن ہے کہ وجے نگر کے مقام کا انتخاب کرنے کی تحریک وہاں موجود ویروپکش اور پمپا دیوی کے مندروں سے ملی ہو۔ حقیقتاً وجے نگر کے راجا ویرپکش دیوتا کی جانب سے حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ سبھی شاہی فرامین پر عموماً کنّڑ زبان میں ’’شری ویروپکش‘‘ لکھا ہوتا تھا ۔ حکمراں دیوتاؤں کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے ’’ ہندو سوراترانہ‘‘ خطاب کا استعمال بھی کرتے تھے۔ یہ عربی اصطلاح سلطان جس کے معنی راجا ہیں،کا سنسکرت متبادل تھا اور  اس کے معنی تھے’’ ہندوسلطان‘‘۔
حتی کہ وجے نگر کے حکمرانوں نے ابتدائی روایات کو اخذ کیا اور ان میں جدّت پیدا کی نیز ان کو فروغ دیا۔ اب شاہی شبیہ کی مورتیوںکی مندروں میں نمائش کی جانے لگی اور راجا کی مندروں کی زیارت کو ایک اہم ریاستی تقریب مانا جانے لگا۔ اس موقع پر سلطنت کے اہم اورخاص نایک بھی راجا کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔

21
شکل 7.20
ویروپکش مندر کی ایک فضائی تصویر

5.2   گوپورم اور منڈپ

مندر فنِّ تعمیر کی اصطلاح میں اس عہد تک معیّن نئی خصوصیات کی علامات سامنے آئیں ۔ ان میں بڑے پیمانے پر بنے ڈھانچے جو یقینا شاہی اقتدار کے نشان تھے، شامل ہیں۔ اس کی سب سے عمدہ مثال رائے گوپورم (شکل 7.7) یا شاہی داخلی دروازے ہیں جو اکثر مرکزی مقدس مقام پر بنی میناروں کو بونا کر دیتے ہیں اور طویل دوری سے ہی مندر کی موجود گی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ شاید راجاؤں کی طاقت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں۔ جو ان مینار نما داخلی دروازوں کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل ، تکنیک اور مہارت کی دسترس کے اہل تھے۔ دیگر نمایاں خصوصیات میں منڈپ یا شہ نشین اور لمبی ستونوں والی غلام گردش (برآمدوں ) جو عموماً مندر کمپلیکس کے اندر واقع مقدس مقام کے چاروں طرف بنے ہوئے تھے، شامل ہیں ۔ آئیے اب ہم دو مندروں کو اور زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں۔ ویروپکش مندر اور وٹھّل مندر۔
ویروپکش مندر دسویں صدی میں بنا تھا۔ وجے نگر سلطنت کے قیام کے ساتھ ہی اسے کہیں زیادہ وسیع کیا گیا ۔ خاص مندر کے سامنے ہال (ایوان) ، کرشن د یو رائے نے اپنی تخت نشینی کی نشانی کے طور پر بنوایا تھا۔ اس کو انتہائی نفیس منقش ستونوں سے سجایا گیا تھا ۔ مشرقی گوپورم کی تعمیر اسی کے نام منسوب کی جاتی ہے۔ ان اضافوں کے معنی تھے کہ مرکزی مقدّس مقام اس سے منسلک چھوٹے حصّوں پر قابض ہو سکے۔
 ندر بنے ایوانوں کااستعمال مختلف مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔ کچھ جگہیں ایسی تھیں جہاں دیوتاؤں کی مورتیاں، موسیقی ، رقص ، ڈرامہ وغیرہ کے خاص پروگراموں کو دیکھنے کے لیے رکھی گئی تھیں۔ دیگر ایوانوں کا استعمال دیوتاؤں کی شادیوں کے جشن منانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ دوسرے دیگر کا استعمال دیوی دیوتاؤں کے جھو‘لا جھولنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ ان جشنوں پر خاص مورتیاں جو چھوٹے مرکزی مقدس مقام میں رکھی ہوئی تھیں، ان سے ممتاز تھیں، جن کا استعمال ان موقعوں پر  کیا جاتا تھا۔


22
شکل 7.21

ویروپکش مندر کا نقشہ

زیادہ تر مقدس مقام چوکور ڈھانچہ ہیں ۔ دو اہم اور بڑے داخلی دروازوں کو کالے رنگ سے دکھایا گیا ہے۔ ہر ایک باریک نقطہ ایک ستون کی نمائندگی کرتا ہے۔ مربع یا مستطیل بناوٹ ڈھانچے کے اندرستونوں کی منظم لائنیں بڑے ایوانوں، منڈپوں (شہ نشینوں) اور غلام گردشوں (برآمدوں) کی حد بندی کرتی نظر آئیں گی۔
   اسکیل کا استعمال کرتے ہوئے نقشے میں گوپورم (داخلی دروازے) سے مرکزی مقدس مقام کا فاصلہ ناپیے۔ آپ کے خیال میں آبی ذخیرہ سے مقدس مقام تک جانے کے لیے سب سے آسان راستہ کون سا رہا ہوگا؟



24
شکل 7.22
ملکوتی شادیوں کا جشن منانے کے لیے استعمال ہونے والا کلیان منڈپ
25
شکل 7.23
بت تراشی کے ایک ستون کا خاکہ


ستون پر آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس کا تذکرہ کیجیے۔
26
شکل 7.24
وٹھّل مندر کا رتھ
    کیا آپ کو لگتا ہے کہ حقیقت میں اس طرح کے رتھ بنائے جاتے تھے؟
27
شکل 7.25
جنجی کا جھولتا منڈپ
28
شکل 7.26
مدورائی کے نایکوں کے ذریعہ بنوایا گیا ایک گوپورم
دوسرا مقدس مقام ، وٹھّل مندر بھی دلچسپ ہے ۔ یہاں کے صدر دیوتاوٹھّل تھے جو عام طور پر مہاراشٹرا میں پوجے جانے والے وشنو کا ایک روپ ہیں۔ اس دیوتا کی پوجا کو کرناٹک میں متعارف کرانا اس بات کا مظہر ہے کہ جس کے ذریعہ ایک شاہی ثقافت کو پیدا کرنے کے لیے وجے نگر کے حکمرانوں نے مختلف روایات کو اخذ کیا تھا۔ دیگر مندروں کی طرح اس مندر میں بھی کئی ایوان تھے اور رتھ کے مندر کے منصوبے کی طرح کا ایک انوکھا مندر بھی تھا۔
        مندر کمپلکس کی ایک خصوصیت رتھ گلیاں ہیں جو مندر کے گوپورم سے سیدھی لائن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان گلیوں کا فرش پتھرکی سلوں سے بنایا گیا ہے اور اس کے دونوں جانب ستونوں والے ایوان تھے جن میں تاجر اپنی دوکانیں قائم کیا کرتے تھے۔
        جس طرح نایکوں نے قلعہ بندی کی روایت کو تکمیل تک پہنچایا اور ساتھ ہی اسے جاری رکھا ، ٹھیک اسی طرح انھوں نے مندروں کی تعمیر کی روایات کے ساتھ بھی کیا ۔ حقیقتاً کچھ سب سے زیادہ قابلِ نظارہ گوپورموں کی تعمیر بھی مقامی نایکوں کے ذریعہ ہوئی تھی۔

گفتگو کیجیے ...

وجے نگر حکمرانوں نے مذہبی رسوماتی فن کی ابتدائی روایات کو کیسے اور کیوں اپنایا
 اور تصرّف میں لائے؟

6 .محلوں ، مندروں اور بازاروں کے خاکے

ہم نے وجے نگر کے ضمن میں اطلاعات کے ذخیرے۔ فوٹوگراف ، نقشے ، ڈھانچوں کی بلندی ڈرائنگ (Elevation) اور بت تراشی کا تجزیہ کیا ہے ۔ یہ سب کیسے منظر عام پر آیا؟ میکنزی کے ذریعہ کیے گئے ابتدائی جائزوں کے بعد سیّا حوں کے بیانات اور کتبات کو ایک مربوط شکل دی گئی۔ بیسویں صدی میں اس مقام کو آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اور کرناٹک ڈپارٹمنٹ آف آرکیا لوجی آف میوزیم کے ذریعہ محفوظ کیا گیا ۔ 1976میں ہمپی کو ایک قومی اہمیت کے مقام کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ۔ اس کے بعد 1980 کی دہائی کی ابتداء میں مختلف قسم کی دستاویزی تکنیکوں کے استعمال سے، وسیع اور عمیق سروے کے ذریعہ ، وجے نگر کے مادّ ی باقیات کی تفصیلی دستاویزی شہادتوں کی فراہمی کا ایک اہم منصوبہ شروع کیا گیا ۔ تقریباً 20 برسوں کے دوران پوری دنیا کے درجنوں دانشوروں نے ان اطلاعات کو مرتب کرنے اور محفوظ کرنے کا کام کیا۔
آیئے ہم اس غیر معمولی مشق کے ایک حصہ نقشہ سازی کو تفصیل سے دیکھیں۔ اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ پورے علاقے کو 25 مربع حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر ایک مربع کو حروف تہجی کے لحاظ سے ایک حرف نام دیا گیا۔ پھر ان چھوٹے مربعوں کو ذیلی تقسیم کرکے اور بھی چھوٹی مربع ترتیب میں رکھا گیا۔ لیکن یہ سب کافی نہ تھا۔ ان چھوٹے مربعوں کو مزید تقسیم کرکے ان کو چھوٹی اکائیوں میں بانٹا گیا۔
جیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں یہ مفصل جائزے بہت سخت محنت سے لیے گئے تھے اور ان سے ہزاروں ڈھانچوں کے باقیات ، چھوٹے مقدس مقامات اور مکانات سے لے کر بڑے مندروں تک کو پھر سے بازیافت کیا گیا ۔ اس کی وجہ سے سڑکوں، راستوں ، بازاروں وغیرہ کے نشانات ملے اور بعد میں ان سب کے مقامات کی پہچان ستونوں کی بنیاد اور پلیٹ فارموں کے ذریعہ کی گئی ۔ ایک زمانے میں جو بازار ترقی پذیر تھے ان کے بس یہی باقیات ہیں۔
29
شکل 7.27
مقام کا تفصیلی نقشہ (اوپر بائیں)

    حروف تہجّی کا کون سا حرف استعمال نہیں کیا گیاہے۔ نقشہ میں دیے گئے پیمانے کو استعمال کرتے ہوئے کسی ایک مربع کی لمبائی ناپیے۔


30
شکل 7.28
تصویر2.27 کا مربعN  (بائیں)

اس نقشہ کے لیے کون سا پیمانہ استعمال کیا گیا ہے؟

ماخذ 5

بازار

پیس بازار کا ایک خیرہ کن تذکر ہ پیش کرتا ہے:
’’آگے جانے پر ایک کشادہ اور خوبصورت گلی ملے گی...... اس گلی میں کئی تاجر رہتے ہیں ۔ آپ کویہاں سبھی قسم کے یا قوت، ہیرے اورزمرّد موتی، چھوٹے موتی، کپڑے اور زمین پر ملنے والی ہر چیز جسے آپ خریدنا چاہیں گے ملے گی۔ ہر شام آپ کو یہاں ایک میلہ ملے گا جہاں پر کئی عام قسم کے گھوڑے اور ٹٹو اور بہت سے چکوترے بھی ،لیموں ،سنترے ،انگور اور باغات میں پیدا ہونے والی ہرشے اورلکڑی ملتی ہے۔ اس گلی میں آپ کو ہر چیز مل سکتی ہے۔
عام طور پروہ شہر کاذکر ’’ دنیا کا بہترین دستیاب شہر ‘‘ کی شکل میں کرتا ہے جہاں بازار ’’چاول،گیہوں، اناج ، ہندوستانی مکاّ اور کچھ مقدار میں جو اور سیم کی پھلیاں ، مونگ، دالیں، کالا چنا جیسی غذائی اشیا سے بھرے رہتے تھے جو سبھی سستے داموں اور وافر مقدار میں دستیاب تھے‘‘۔ فرناؤنونیز کے مطابق ’’وجے نگر کے بازار وافر مقدار میں پھلوں ، انگوروں اور سنتروں ، لیموں، انار، کٹہل اور آموں سے بھرے رہتے تھے ۔ یہ سبھی بہت سستے تھے‘‘۔ بازاروں میں گوشت بھی وافر مقدار میں فروخت ہوتا تھا۔ فرناؤ نونیز بیا ن کرتا ہے۔’’ بکرے کا گوشت ، سو‘ر کا گوشت ، ہرن کا گوشت، تیتر، خرگوش ، کبوتر، بیٹر اور سبھی طرح کے پرندے، چڑ یاں ، چوہے اور بِلّیاں نیز چھپکلّیاں بسناگ (وجے نگر) کے بازاروں میں فروخت ہوتی تھیں‘‘۔

.7  جوابات کی تلاش میں سوالات

باقی بچی عمارتیں ہمیں ان طریقوں کے متعلق بتاتی ہیں جن سے مقامات کو منظم طور پراستعمال کیا گیا۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح کے سامان اور تکنیکیں ان کی تعمیر میں استعمال کی گئیں ۔ مثال کے طور پر ایک شہر کی قلعہ بندی کے مطالعہ سے اس کی مدافعت کی ضروری اشیا اور فوجی تیاری کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ دیگر مقامات کی عمارتوں سے اگر ہم ان عمارتوں کا موازنہ کریں تو یہ ہمیں ان کے خیالات و تصورات اور ثقافتی اثرات کے متعلق بھی بتاتے ہیں۔ وہ ان خیالات کو بھی ذہین نشین کراتے ہیں جو اس کے تعمیر کرنے والے اور سر پرست ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ یہ اکثر مظاہر کے ساتھ پھیلتے تھے جو ان کے ثقافتی تناظر کا نتیجہ ہو تے ہیں۔ ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں جب ہم دیگر ذرائع جیسے ادب، کتبات اور مقبول عام روایات سے ملی معلومات کو اکٹھا کریں۔
فنِّ تعمیر کی خصوصیات ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ عام مرد وخواتین اور بچے جو شہر اور اس کے مضافات میں رہنے والی بڑی اکثر یت پر مشتمل تھے ان دلنشین عمارتوں کے متعلق کیا سوچتے تھے۔ کیا ان کی شاہی مرکز اور مذہبی مرکز کے کسی بھی علاقے کے اندر پہنچ تھی؟ کیا وہ مورتی کے سامنے سے تیزی سے گذر جاتے تھے یا دیکھنے کے لیے رُکتے تھے، غور کرتے اور اس کے پیچیدہ مظہروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوں گے؟ وہ لوگ جنھوں نے ان عظیم الشان تعمیر اتی منصوبوں پر کام کیا تھا اپنی مہم جوئی کے ضمن میں کیا سوچتے تھے جس کے لیے انھوں نے اتنی جانفشانی کی تھی؟
اگرچہ ، مقام ، کیا تعمیر کرنا ہے، کون سا سامان استعمال کرنا ہے اور کس طرز پر عمل کرناہے، یہ اہم فیصلے بھی حکمراں لیتے تھے پراتنی بڑی مہم جوئی کے لیے ضروری تخصیصی علم کون رکھتا تھا؟ عمارتوں کے لیے نقشے کون بناتا تھا؟ راج مستری ، پتھر کاٹنے والے بت تراش جو حقیقی تعمیر اتی کام کرتے تھے، کہاں سے آتے تھے؟ کیا انھیں دورانِ جنگ پڑوسی علاقوں سے گرفتار کیا جاتا تھا؟ انھیں کس قسم کی مزدوری ملتی تھی؟ تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کون کرتا تھا؟ عمارت کے لیے سامان کیسے اور کہاں سے آتا تھا؟ یہ سوالات ہیں جن کے جواب ہم عمارتوں یاان کے باقیات کو محض دیکھنے سے نہیں دے سکتے۔ شاید دیگر مآخذ کے استعمال سے جاری مسلسل تحقیقات کچھ مزید سراغ مہیا کراسکیں۔

کرشن دیورائے

کچھ حل طلب تناظر کو دہرانے کے لیے تمل ناڈو سے چد مبرم کے مندر گوپورم میں رکھی کرشن دیورائے کی اس مورتی کو دیکھیے۔ یقینا حکمراں اپنے آپ کو اسی انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ 
پیس راجا کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کرتا ہے:
     راجا درمیانہ قد گورا رنگ اور اچھا جسم، قدرے موٹا بہ نسبت پتلے کے ہے۔ اور راجا کے چہرے پر چیچک کے نشان ہیں۔
31
شکل 7.31



32
شکل 7.32 
’’رانی کا غسل خانہ‘‘ نام سے معروف ڈھانچے کا ایک حصہ


ٹائم لائن 1
اہم سیاسی سر گرمیاں
تقریباً 1200سے 1300عیسوی دہلی سلطنت کا قیام  ;(1206?)
تقریباً 1300سے1400عیسوی
وجے نگر سلطنت کا قیام  ;(1336)
بہمنی سلطنت کا قیام  ;(1347)
جون پور، کشمیر اور مدورائی سلطنتوں کا قیام
تقریباً 1400سے1500عیسوی
اڑیسہ کی گجپتی ریاست کا قیام  (1435)؛
گجرات اور مالوہ کی سلطنتوں کا قیام؛
احمدنگر، بیجا پور اور برار کی سلطنتوں کا ظہور  (1490)
تقریباً 1500سے1600عیسوی
پرتگالیوں کی گواپر فتح  (1510)؛
بہمنی سلطنت کا زوال،
گولکنڈہ کی سلطنت کا ظہور  (1518)؛
بابر کے ذریعہ مغل حکومت کا قیام  (1526)
نوٹ : سوالیہ نشان غیر یقینی تاریخ کو ظاہر کرتا ہے۔ 

ٹائم لائن2
وجے نگر: دریا فت اور تحفظ کے نشان امتیاز
1800
کولن میکنزی کی وجے نگر کی سیاحت
1856
الیکزینڈر گرین لانے ہمپی کے آثارِ قدیمہ کے پہلے تفصیلی فوٹو گراف لیے۔

1876
جے ۔ایف۔فلیٹ نے آثاری مقام کے مندروں کی دیواروں کے کتبات کی
دستاویزی شہادتوں کو جمع کرنے کا کام شروع کیا۔
1902 جون مارشل کی قیادت میں نگہداشت کے کام کا آغاز ہوا۔
1986
یونیسکو (UNESCO) کے ذریعہ ہمپی کو عالمی وراثتی مقام تسلیم کیا گیا۔

33
شکل 33۔7

150-100 لفظوں میں جواب دیجیے۔

1 -  پچھلی دو صدیوں کے دوران ہمپی کے کھنڈرات کے مطالعہ کے لیے کون کون سے طریقے استعمال کیے گئے ہیں؟ آپ کے خیال میں یہ طریقے ویروپکش مندر  کے پروہتوں کے ذریعہ فراہم کی گئی معلومات کی کس طرح ستائش کرتے ہیں؟
2-  وجے نگر کی پانی کی ضرورت کو کس طرح پورا کیا جاتا تھا؟
3-  آپ کے خیال میں شہر کے قلعہ بند علاقے میں زراعتی زمین کو گھیرنے کے کون کون سے فائدے اورنقصانات تھے؟
4-  آپ کے خیال میں ’’ مہانومی دبہّ ‘‘ سے وابستہ مذہبی رسومات کی کیا اہمیت تھی؟
5 -  تصویر 7.33 ویروپکش مندر کے ایک دیگر ستون کا خاکہ ہے ۔ کیا آپ اس میں کوئی گل کاری کی خصوصیت یا خیال دیکھ سکتے ہیں؟ کن جانوروں کو دکھایا گیا ہے؟ آپ کے خیال میں ان کو دکھانے کی وجہ کیا ہوگی؟ دکھائی گئی انسانی تصاویر کا تذکرہ کیجیے۔

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون (تقریباً )

(250 سے 300 الفاظ پر مشتمل ) لکھیے۔

6-  ’’ شاہی مرکز ‘‘اصطلاح شہر کے جس حصے کے لیے استعمال کی گئی ہے کیا یہ اس حصے کا صحیح تذکرہ ہے؟ بحث کیجیے۔
7-  ’’کمل محل ‘‘اور’’ ہاتھیوں کے اصطبل ‘‘جیسی عمارتوں کا فنِّ تعمیر ہمیں ان کے بنانے والے حکمرانوں کے متعلق کیا بتاتا ہے؟
8-  فنِّ تعمیر کی کون سی روایات نے وجے نگر کے ماہرمعماروں (آرکیٹیکٹ ) کو متاثر کیاانھوں نے ان روایات کو کس طرح منتقل کیا؟
9-   اس باب میں وجے نگر کے عام لوگوں کی زندگیوں کے مذکورہ مختلف بیانات میں سےکیاآپ کسی طرح کا انتخاب کر سکتے ہیں؟

نقشے کا کام

10 -  دنیا کے نقشے پر تقریباً اً اٹلی ، پرتگال، ایران اور روس کی نشاندہی کیجیے اور ان راستوں کو تلاش کیجیے جن کا ذکر صفحہ 176 پر سیّا حوں نے وجے نگرپہنچنے کے لیے کیا ہے۔

پروجیکٹ (کوئی ایک)

11- برّ صغیر ہندوستان کے کسی ایک ایسے اہم اوربڑے شہر کا پتا لگائیے جو تقریباً چودھویں اورپندرھویں صدی میں آبادتھا۔ شہر کی فنِّ تعمیر کی خصوصیات بیان کیجیے ۔کیا ایسی خصوصیات بھی ہیںجو ان کے سیاسی مرکزرہنے کی طرف اشارہ کرتی ہوں؟ کیا یہاں ایسی عمارتیں ہیں جو مذہبی رسوم کے لحاظ سے اہم ہیں؟ کیا یہاں تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے کوئی علاقہ ہے؟ ایسی کون سی خصوصیات ہیں جو شہری خاکے کو قُرب و جو ار کے علاقوں سے اسے ممتاز کرتی ہیں؟
12 -  اپنے آس پاس کی کسی مذہبی عمارت کا دورہ کیجیے۔خاکوں کے ذریعہ اس کی چھت،ستونوں اور محرابوں کو اگر ہو ں تو غلام گردشوں (برآمدوں)،رہ گذاروں (Passages)، ایوانوں ، داخلی دروازوں ، پانی کی فراہمی وغیرہ کا تذکرہ کیجیے۔ ان سب کا موازنہ ویر وپکش مندر کی خصوصیات سے کیجیے۔ بیان کیجیے کہ عمارت کا ہر حصہ کس مقصد کے لیے استعمال میں لایا گیا ہے۔ اس کی تاریخ سے متعلق تحقیق کیجیے۔

 مزید معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:

وسندھرا فلیوزاٹ،2006  (طبع ثانی)
Vijaya  Nagara

نیشنل بک ٹرسٹ، نئی دہلی

جارج مائیکل،1955
Architecture & Art of Southern India
 
کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج 

کے۔اے۔نیل کنٹھ شاستری،  1955
A History of South India
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی

برٹن اسٹین،  1989
Vijay a Nagara (The NewCambridge History of India)

فائونڈیشن بکس ، نئی دہلی

مزید معلومات کے لیے اِس ویب سائٹ پر

 رابطہ کرسکتے ہیں:
http://www.museum.upenn.edu/ new/research/Exp_Rese_Disc/ Asia/vrp/html/vijay_ /Hist.shtml