Skip to content
Tareekh-e-Hindkemauzuat-II-004


آٹھواں موضوع

کاشت کار، زمیندار اور ریاست زرعی سماج اور مغلیہ حکومت

زرعی سماج اور مغلیہ حکومت
(تقریباً سولہویں ۔سترہویں صدی)

سولھویں اور سترہویں صدی کے دوران ہندوستان کے تقریباً 85 فی صد آبادی دیہات میں رہتی تھی۔ کاشت کار اور اراضی کے مالک اعلیٰ طبقہ دونوں ہی زرعی پیداوار میں مشغول تھے اور پیداوار کے ایک حصے پر دعویٰ کرتے تھے۔ اس نے ان کے درمیان باہمی تعاون، مقابلہ آرائی اور تنازع کے رشتوں کو پیداکیا۔ ان زرعی رشتوں کے مجموعے سے ہی دیہی سماج تعمیر ہوتا تھا۔

اس زمانے میں کئی باہری ایجنسیاں بھی دیہی دنیا میں داخل ہوئیں تھیں۔ اس میں سب سے زیادہ اہم مغل ریاست تھی جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ زرعی پیداوار سے اخذ کرتی تھی۔ ریاست کے گماشتے مال گذاری کی تشخیص کرنے والے ، محصول و صول کرنے والے ، محافظ دفتر (ریکارڈ رکھنے والے) ۔دیہی سماج پر کنٹرول رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ کھیتوں میں کاشت کاری ہو اور ریاست کو پیداوار سے اپنے حصے کے ٹیکس مستقل ملتیرہیں۔ چونکہ بہت سی فصلیں فروخت کرنے کے لئے اگائی جاتی تھیں۔ اس لئے تجارت ، پیداوار، بازار بھی گاؤں میں داخل ہوگئے اور اس سے کاشت کاری والے علاقے شہر سے مربوط ہوگئے۔

3
شکل 8.1
ایک دیہی منظر
سترہویں صدی کی مغل تصویر کا نمونہ

1۔ کاشت کار اور زرعی پیداوار

زرعی سماج کی بنیادی اکائی گاؤں تھا جس میں کاشت کار سکونت پذیر تھے جو سال بھر مختلف موسموں میں وہ تمام کام انجام دیتے تھے جس سے زرعی پیداوار ہوتی تھی۔ جیسے :زمین کی جُتائی، بیجوں کابونا اورفصل پکنے پر اس کی کٹائی۔ مزید وہ ان زراعت پر مبنی اشیاء کی پیداوار میں بھی اپنی محنت کا تعاون دیتے تھے جیسے: شکر (چینی) اور تیل۔لیکن کاشت کاری پیداوار ہی اکیلے ہندوستان کی خاصیت نہیں تھی۔ یہاں کئی قسم کے علاقے تھے۔ جیسے خشک یعنی سوکھی زمین کے خطے یا پہاڑی علاقے جواس طرح قابلِ کاشت نہیں تھے جیسے کہ زیادہ زرخیز زمین ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ سلطنت کا اچھا خاصّہ حصہ جنگل پر محیط تھا۔ جب ہم زرعی سماج پر بحث کرتے ہیں تو ہمارے لیے متنوّع جغرافیائی حالات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

1.1  مآخذ کی تلاش

دیہی سماج کی سرگرمیوں کے متعلق ہماری فہم ان لوگوں سے نہیں بنتی جو زمین پر کام کرتے تھے۔ جیسے: کاشت کار اپنے متعلق خود نہیں لکھا کرتے تھے۔سولہویں صدی اور ابتدائی سترہویں صدی کی زرعی تاریخ کے لئے ہمارے اہم ماخذ وہ روز نامچے و تاریخیں اور دستاویزات ہیں جو مغل دربار میں تحریر ہوئے تھے (باب 9بھی ملا حظہ کیجئے)۔
ایک سب سے زیادہ اہم تاریخ ’’ آئین اکبری‘‘ (مختصراً آئین، سیکشن 8بھی ملاحظہ کیجئے) ہے۔ جسے اکبرکے درباری مؤرخ ابوالفضل نے تحریر کیا تھا۔ کھیتوں پر یقینی طور سے کاشت کرنے، ریاست کی ایجنسیوں کے ذریعہ مالگذاری کو جمع کرنے کا مجاز کرنے کے لئے اور ریاست نیز دیہی بارسوخ اور مالدار لوگوں یعنی زمینداروں کے درمیان رشتوں کو اصول و ضوابط کے ساتھ چلانے کے لیے جو انتظامات ریاست نے کئے تھے۔ اس کا ذکر اس کتاب میں بڑی باریک بینی ومحتاط انداز میں کیا گیا ہے۔
آئین اکبری کا مرکزی مقصد اکبر کی سلطنت کی ایک ایسی تصویر پیش کرنا تھا جہاں مضبوط حکمراں طبقہ سماجی ہم آہنگی مہیا کراتا تھا۔ آئین اکبری کے مصنف کی نظر میں مغل ریاست کے خلاف کسی قسم کی بغاوت یا خود مختاری کے دعویٰ کا نا کام ہونا پہلے سے ہی مقدّر تھا۔ بالفاظ دیگر کسانوں کے متعلق ہم آئین اکبری سے جو کچھ اطلاعات پاتے ہیں وہ اوپر پیش کیے گئے آثار کی تصویر ہے۔
تاہم خوش قسمتی سے مغل راجدھانی سے دور علاقوں میں لکھے گئے مآخذ کے بیانات سے جو ظاہر ہوتا ہے، یعنی اطّلاعات پر مشتمل ہیں وہ آئین میں دیے گئے بیان میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان میں سترہویں اٹھارہویں صدی کے گجرات، مہاراشٹر اور راجستھان سے ملنے والی مالگذاری کے تفصیلی دستاویزات شامل ہیں۔ مزید براں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہت سارے دستاویزات ہیں (باب 10بھی ملاحظہ کیجئے) جو مشرقی ہندوستان میں دیہی تعلقات کے متعلق  مفید جانکاری مہیا کراتے ہیں۔یہ سبھی ماخذ کسان ،زمیندار اور ریاست  کے آپسی تنازع کی  درج مثالیں ہیں۔
اس عمل میں یہ ہمیں ایک بصیرت عطا کرتے ہیں کہ کسانوں کا ریاست کے تئیں کیا نظریہ تھا اور ریاست سے ان کو انصاف کی امیدیں کیا تھیں؟

1.2  کاشت کار اور ان کی زمینیں

مغل عہد کے ہند فارسی مآخذ میں کاشت کاروں کے لیے عام طور پر رعیّت (جمع رعایا) یا مزار عین کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ مزید برآں ہمارا سابقہ کسان یا اسامی اصطلاحات سے پڑتا ہے۔ سترہویں صدی کے ماخذ دوطرح کے کاشت کاروں ’’خودکاشت‘‘ اور ’’پاہی کاشت‘‘کا حوالہ دیتے ہیں۔ اول الذکر کاشت کار وہ تھے جو گاؤں میں رہتے تھے ۔جن میں ان کی زمینیں ہوتی تھیں۔ دوسری قسم ’’ پاہی کاشت‘‘ وہ کاشت کار تھے جو غیر مقیم تھے اور کسی دوسرے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن کہیں بھی ٹھیکے کی بنیاد پر زراعت کرتے تھے۔ لوگ ’’پاہی کاشت‘‘ یا تو اپنی مرضی سے کرتے تھے ۔مثلاً جب مالگذاری کی شرائط کسی دور گاؤں میں زیادہ موافق ہوں یا مجبوری میں بنتے تھے جیسے قحط کے بعد معاشی مصیبت و پریشانی سے مجبور ہوکر۔
شمالی ہندوستان کے اوسط درجے کے کسان کے پاس شاذو نادر ہی ایک جوڑ ی بیل اور دو ہل سے زیادہ کچھ ہوتا تھا۔ زیادہ تر کسانوں کے پاس اس سے بھی کم ہوتا تھا۔ گجرات میں جو کسان 6 ایکڑ کے قریب زمین کے مالک ہوتے تھے انھیں مالدار کسان سمجھاجاتا تھا۔ دوسری طرف بنگال میں ایک اوسط کسان کے پاس زمین کی آخری حد پانچ ایکڑ تھی۔ 10ایکڑ زمین کسان کو مالدار اسامی بنا دیتی تھی۔ زراعت انفرادی ملکیت کے اصول پر مبنی تھی۔کسانوں کی زمینیں اس طرح خرید و فروخت کی جا سکتی تھیں جیسے دوسری زمین مالکان کی ملکیت۔
انیسویں صدی کے دہلی ۔آگرہ کے علاقے کے کسانوں کی زمین (ملکیت) کا یہ بیان سترہویں صدی پر اتنا ہی لاگو ہوتا ہے:
کاشت کرنے والے کسان (اسامی) جو کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں، کھیت کی پہچان اور حد بندی کے لئے مٹّی، اینٹ اور کانٹوں کے باڑ نشان لگاتے ہیں تاکہ گاؤں میں ایسے ہزاروں کھیتوں کو آسانی سے شمار کیا جا سکے۔ 

ماخذ 1

کسانوں کی نقل مکانی

یہ ہندوستانی زرعی سماج کی ایک خصوصیت تھی جس نے مغل بادشاہ بابر کی تیز نگاہوں کو متوجہ کیا، جس کو اس نے اپنی خود نوشت’’ بابرنامہ‘‘ میں تحریر کیا: 
ہندوستان میں دیہات بلکہ شہر بہت جلد آباد ہوجاتے ہیں اور اجڑجاتے ہیں۔ برسوں سے آباد کسی بڑے شہر کے باشندے اگر بھاگنے پر آئیں تو ایک دن یا آدھے دن میں ایسے غائب ہوجاتے ہیں کہ نشان تک باقی نہیں رہتا۔ دوسری طرف اگر ان کی نگاہیں کسی مقام پر آباد ہونے کے لئے ٹھہر جائیں تو انھیں پانی کے ذرائع کھودنے کی ضرورت نہیں  ہوتی کیونکہ ان کی ساری فصلیں بارش کے پانی سے اگتی ہیں ۔ ہندوستان کی آبادی بے شمار ہے جیسے اس میں لوگوں کا جمِّ غفیر ہے۔ وہ ایک تالاب یا کنواں بنا لیتے ہیں۔ انھیں گھرتعمیر کرنے یا دیوار بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ خس گھاس افراط میں موجود ہے۔ ، لکڑی بے شمار ہے ۔ جھونپڑیاں بناتے ہیں اور فوراً ہی ایک گاؤں یا شہر آباد ہوجاتا ہے۔
خاص طور پر شمالی ہندوستان کے ان علاقوں کی زرعی زندگی کے ان پہلوؤں کا تذکرہ کیجئے جنہوںنے بابر کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔


1.3 آبپاشی اور تکنیک

زمین کی افراط ، مزدوروں کی دستیابی اور کسانوں کی حرکت پذیری ، تین ایسے عنصر تھے جن کی وجہ سے زراعت میں مسلسل توسیع ہوئی۔ چونکہ زراعت کا بنیادی مقصد لوگوں کا پیٹ بھرنا تھا۔ اس لئے بنیادی پیداوار جیسے چاول، گیہوں یا باجرہ زیادہ پیداکی جاتی تھیں جن علاقوں میں 40 انچ یا اس سے زیادہ سالانہ بارش ہوتی تھی۔ وہ عام طور پر چاول کی پیداوار کے علاقے تھے اور کم پیمانے پر بارش والے علاقوں میں گیہوں اور باجرے کی کاشت ہوتی تھی۔

مانسون ہندوستان کی زرعت کی ریڑھ کی ہڈّی تھا ، جیسا کہ آج بھی ہے۔ لیکن کچھ فصلیں ایسی بھی تھیں جن کے لیے مزید پانی کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے آبپاشی کا مصنوعی نظام اپنانا ہوتا تھا۔

آبپاشی کے منصوبوں کو ریاست کی حمایت بھی حاصل ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر شمالی ہندوستان میں ریاست نے کئی نہریں اور نالے کھدوائے ۔ کچھ پرانی نہروں جیسے شاہجہاں کے عہد میں پنجاب میں شاہ نہرہ کی مرمت کروائی گئی تھی۔

اگر چہ زراعت شدید محنت کا کام تھا۔ کسان کے لیے ایسی تکنیکوں کا استعمال کرتے تھے جو عموماً مویشی طاقت پر منحصر ہوتی تھیں۔ ایسی ایک مثال لکڑی کے ہل کی دی جاسکتی ہے جوہلکا تھا اور ایک لوہے کی نوک یا پھال لگاکر آسانی سے بنایا جاسکتا تھا تاہم یہ مٹی کی گہری ریگھاری نہیں بناتے تھے۔ جس کی وجہ سے شدید گرمی کے مہینوں میں بہترنمی باقی رہتی تھی۔ بیلوں کے جوڑ ے کے ذریعہ کھینچے جانے والے برموں کا استعمال بیج بونے کے لئے کیا جاتا تھا۔ لیکن بیجوں کو کھیتوں پر چھڑک کربونے کے طریقے کا رواج زیادہ تھا۔ کھدائی اور نرائی ساتھ ساتھ کی جاتی تھی اور لکڑی کے چھوٹے دستے لگی کم چوڑی کھرپی کااستعمال کیا جاتا تھا۔

1.4 فصلوں کی افراط

موسم کی دواہم گردشوں کے دوران زراعت کا نظم کیا جاتا تھا۔ ایک خریف ( خزاں کے موسم میں) اور ربیع (بَہار کے موسم میں) ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر بہت زیادہ خشک اور بنجر علاقوں کو مستثنیٰ کردیں تو زیادہ تر علاقوں میں کم از کم سال میں دو فصلیں (دو فصلہ) پیدا کی جاتی تھیں۔ جن علاقوں میں بارش یا آبپاشی کے لئے پانی کی رسد مستقل تھی وہاں تو تین فصلیں اگا‎‎ئ جاتی تھیںمثال کے طور پر آئین ہمیں بتاتی ہے کہ دونوں موسم میں مغل صوبہ آگرہ میں 39 قسم کی فصلیں پیدا کی جاتی تھیں۔ صوبہ دہلی میں 43 قسم کی فصلیں پیدا ہوتی تھیں۔ اکیلے بنگال میں ہی چاول کی 50 قسمیں پیدا کی جاتی تھیں۔

تاہم روزمرّہ کی بنیادی کھیتی پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عہد وسطیٰ میں زراعت صرف بقائے زندگی کے لیے کی جاتی تھی۔ ہمارے ماخذوں میں اکثر جنس کامل (لغوی معنٰی’ مکمل فصل ‘) کی اصطلاح ملتی ہے۔ مغل ریاست ایسی فصلوں کی کاشت کرنے کے لیے کسانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی تا کہ ریاست کو زیادہ مالگذاری مل سکے ۔گھاس اور گنیّ جیسی فصلیں افضل ترین جنس کامل تھیں۔ وسطی ہندوستان اورد کن کے پٹھاری علاقوں میں پھیلے ہوئے زمین کے بڑے بڑے ٹکڑوں پر کپاس اگائی جاتی تھیں۔ حالانکہ بنگال اپنی چینی کے لیے مشہور تھا۔ کچھ مختلف قسم کے بیج (مثال کے طور پر سرسوں ) اور دالیں بھی نقدی فصلوں میں شامل کی جاتی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط کسانوں کی زمین پر کس طرح بقائے زندگی اور تجارت کے لیے کی جانے والی پیداوار ایک دوسرے سے قریبی طور پر باہم وابستہ تھی۔

سترہویں صدی کے دوران دنیا کے مختلف حصوں سے بہت سی نئی فصلیں برّصغیر ہند میں پہنچیں۔ مثال کے طور پر مکاّ ہندوستان میں افریقہ اور اسپین کے راستے متعارف ہوئی۔ سترہویں صدی تک یہ مغربی ہندوستان کی اہم فصلوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ۔ٹماٹر ، آلو، مرچ جیسی سبزیاں بھی نئی دنیا کے ذریعہ ہندوستان میں متعارف ہوئیں ۔ اسی طرح اننّاس اور پپیتا جیسے پھل بھی وہیں سے آئے تھے۔

درختوں اور کھیتوں کی آبپاشی

یہ بابر نامہ سے لیا گیا ایک اقتباس ہے جس میں آبپاشی کے ان آلات کا ذکر ہے جن کا مشاہدہ بادشاہ بابر نے شمالی ہندوستان میں کیا تھا:

ہندوستان کے اکثر قطعات آراضی میدانوں اور ہموار زمینوں میں واقع ہیں ۔ حالانکہ یہاں بہت سے شہر اور قابلِ زراعت زمینیں ہیں لیکن یہاں نہریں کہیں بھی جاری نہیں ہیں۔۔۔ اس لیے۔۔۔ کہ فصل کاشت کرنے کے لئے اور باغات کے لیے پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خریف کی فصل تو برسات سے ہی ہوجاتی ہے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ بارش نہ برسے تو بھی ربیع کی فصل ہوجاتی ہے۔ (تاہم ناپختہ درختوں کو رہٹ ڈول کے ذریعہ پانی پہنچایا جاتا ہے)۔

لاہور۔ ویپال پور ( دونوں ہی آج کے پاکستان میں) اور ایسے ہی دوسری جگہوں پر لوگ رہٹ سے آبپاشی کرتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ رسّی کے دو حلقے کنویں کی گہرائی کے برابر بناتے ہیں ۔ ان دونوں میں لکڑیوں کے ٹکڑے یوں باندھتے ہیں کہ لکڑی کا ایک سرا ایک حلقے کی رسی میں اور دوسرا  دوسرے حلقے کی رسی میں۔ ان لکڑیوں کے ٹکڑے میں لٹھیاں باندھتے ہیں۔ ان لکڑیوں اورلٹّھیوں سے بندھے حلقے کو چرخ پر ڈال دیتے ہیں جو کنویں کے منڈیر ہوتا ہے۔ اس چرخ کے سرے پر ایک چرخی دندانے دار ہوتی ہے اس  چرخی کے پاس اور ایک چرخی دندانے دار ہوتی ہے جس کے دندانے چرخی کے دندانوں سے ٹکڑاتے ہیں اور جس کا شہتیر سیدھا ہوتا ہے۔ اس میں بیل جوتتے ہیں۔ جب بیل اس چرخ کو پھراتا ہے تو اس کے دندانے اس چرخی کے دندانوں سے ٹکراکر اس کو چکّر دیتے ہیں۔ چرخی کے چکّر سے وہ حلقے والا چرخ گھومتا ہے۔ اس کے گھومنے سے حلقے کوگردش ہوتی ہے، حلقے کی گردش سے لٹھیاں اوپر نیچے آتی ہیں اور پانی گراتی ہیں۔ اس پانی کے لیے نالیاں بنا دیتے اور نالی سے جہاں چاہتے ہیں پانی لے جاتے ہیں۔ 

آگرہ ، چھندواڑاور اور بیانہ (موجودہ اترپردیش میں واقع) اور ایسے دیگر علاقوں میں بھی لوگ چرخ سے زراعت کی آبپاشی کرتے ہیں۔۔۔ کنوئیں کے منہ پر ایک کنارے کے پاس دوشاخہ لکڑی مضبوطی سے گاڑ دیتے ہیں۔ دونوں شاخوں کے درمیان چرخی پھنسا دیتے ہیں پھر ایک بڑی بالٹی میں رسی باندھ دیتے ہیں۔ جس کو اس چرخی پر ڈال دیتے ہیں۔ رسّی کے ایک سرے پر بڑا ڈول بندھا ہوتا ہے ۔ ایک شخص بیلوں کو  ہانکتا ہے اور دوسرا بالٹی سے پانی نکالتا ہے۔

آبپاشی کے جن آلات کا مشاہدہ بابر نے کیا تھا اس کا موازنہ وجے نگر (باب7) کے ضمن میں آبپاشی سے متعلق آپ نے جو پڑھا ہے، سے کیجئے ۔ آبپاشی کے ان دونوں نظاموں میں کس طرح کے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے کن نظاموں میں زرعی تکنیک میں اصطلاح کے لئے کسانوں کی شرکت کو یقینی کیا جاسکتا ہے؟


4
شکل 8.2

یہاں بیان کئے گئے فارسی رہٹ کی ازسرِ نوَ بنائی گئی تصویر۔


تمباکو کا پھیلاؤ

یہ پودا سب سے پہلے دکن پہنچا تھا ۔ سترہویں صدی کے ابتدائی برسوں میں یہ شمالی ہندوستان تک پھیل گیا۔ آئین میں شمالی ہندوستان کی فصلوں کی فہرست میں تمباکو کا ذکر نہیں ہے۔ 1604 میں اکبر اور اس کے امراء پہلی دفعہ تمباکو کے قریب آئے یعنی متعارف ہوئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تمباکو نوشی (حقّہ یا چلم میں) کی لت نے زور پکڑا تھا۔ جہانگیر اس لت کے پھیلنے سے کافی فکر مند تھا۔ لہذا اس نے اس پر پابندی لگا دی۔ لیکن یہ پابندی پوری طرح غیر مئوثر ثابت ہوئی۔ کیونکہ سترہویں صدی کے آخر تک تمباکو پورے ہندوستان میں استعمال ، کھیتی اور تجارت کی ایک اہم جنس بن گئی تھی۔

زرعتی خوشحالی اور آبادی میںاضافہ

 زرعی پیداوار کے تنوّع اور لچکیلے طریقوں کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ آبادی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ معاشی مئورخین کے تخمینے کے مطابق وقت وقت پر قحط اور وہاں سے پیدا ہونے والے انتشار کے باوجود1600سے1800 کے درمیان ہندوستان کی آبادی میں تقریباً پانچ کروڑ کااضافہ ہوا۔ 200برسوں میں یہ تقریباً 33فیصد کا اضافہ تھا۔

2 . دیہی برادری

اوپر مذکور بیان سے واضح ہے کہ زرعی پیداوار میں کسانوں کی زبردست شرکت داری اور پیش قدمی ہوتی تھی۔ مغل سماج کے زرعی تعلقات کی ساخت پر یہ کیسے اثر انداز ہوئے تھے؟ یہ معلوم 
کرنے کے لیے آئیے ہم سماج کے ان گروہوں پر جو زراعت کے پھیلاؤ میں شامل تھے نیزان کے رشتوں اور تنازعات پر نظر ڈالتے ہیں۔
 ہم دیکھ چکے ہیں کہ کاشت کار (کسان ) کی اپنی زمین پر انفرادی ملکیت ہوتی تھی۔ جہاں تک ان کے سماجی وجود کی بات ہے وہ کئی پہلوؤں کے ساتھ ایک مشترکہ دیہی برادری کے تین عناصر۔۔۔ کاشت کار، پنچایت اور گاؤں کا مکھیا (مقدم یا منڈل) تھے۔

گفتگو کیجیے  ...

ا س سیکشن میں مذکور کون سے زرعی معمولات اور تکنیک باب 2 میں مذکور سے مشابہ یا مختلف ہیں۔ ان کی شناخت کیجئے۔

2.1  ذات اور دیہی ماحول

ذات اور ذات کی بنیاد پر انصافی اور دیگر ذات کے امتیازات کے اعتبار سے،کاشت کار بے حد مختلف العناصر گروہوں میں تقسیم تھے۔ کھیتوں کی جتائی کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جوکم تر حقیرسمجھے جانے والے کاموں میں لگے تھے یا پھر زرعی مزدور (مأجور) تھے۔
باوجود یہ کہ قابلِ زراعت زمین کی افراط تھی پھر بھی کچھ ذاتوں کے لوگوں کو ذلیل سمجھے جانے والے کام ہی دیے جاتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ غریبی میں ڈھکیل دیے جاتے تھے۔
 حالانکہ مردم شماری تو اس زمانے میں نہیں ہوتی تھی ، لیکن مختصر سے اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ گاؤں کی آبادی کا ایک حصہ ایسے ہی گروہوں پر مشتمل تھا۔ ان کے پاس بہت کم وسائل تھے۔ان کی یہ حالت ذات پات کی درجہ بندی میں قید کی وجہ سے تھی۔ ویسی ہی حالت جیسے آج جدید ہندوستان میں دلتوں کی ہے ۔ اس طرح کے امتیازات دیگر برادریوں میں بھی سرایت کرنا شروع ہوگئے تھے۔مسلم برادری میں بھی ذلیل کاموں سے وابستہ ’’ حلال خور ‘‘ (خاک رو‘ب، مہتر) جیسے گروہ گاؤں کی حدود کے باہرہی رہ سکتے تھے۔ اسی طرح بہار میں’’ فلاّح زادہ‘‘ (لغوی معنی کشتی چلانے والے کا لڑکا) کا موازنہ غلاموں سے کیا جاسکتا تھا۔ 
سماج کے نچلے طبقوں میں ذات ، غربت اور سماجی حیثیت کے درمیان راست تعلق باہمی  تھا۔ ایسا باہمی تعلق متوسط سطح کے طبقوں کے درمیان نظر نہیں آتا تھا۔ سترہویں صدی میں مارواڑ میں لکھے گئے ایک رسالے میں راجپوتوں کا ذکربحیثیت کسان کیا گیا ہے۔ اس رسالے میں جاٹوں کو بھی یہی جگہ دی گئی ہے جو ذات پات کی درجہ بندی میں نچلی سطح پر پاتے ہیں۔ سترہویں صدی میں’’ گورو‘‘ (Gauravas)جو ورنداون (اترپردیش) کے قرب وجوار میں زمین کی جتائی کرتے تھے، نے بھی راجپوت حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ مویشی پالن اور باغبانی میں بڑھتے منافع کی وجہ سے اہیر، گوجر اور مالی جیسی ذاتیں سماجی درجہ بندی میں اوپر اٹھیں۔ مشرقی علاقوں میں درمیانی گلاّبان اور چرواہے جیسی ذاتیں جیسے سدگوپ اور کیورت بھی کسانوں کا درجہ حاصل کرنے لگے۔

5
شکل 8.3
ابتدائی انیسویں صدی کی تصویر جس میں پنجاب کے ایک گاؤں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

بتائیے کہ تصویر میں خواتین اور مرد کیا کیا کام کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں؟ ساتھ ہی گاؤں کےفنِ تعمیر کوبھی بیان کیجیے۔

بدعنوان منڈل

منڈل اکثر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے تھے ۔ بنیادی طور پر ان پر یہ الزام تھا کہ وہ پٹواری کے ساتھ مل کر حساب کتاب میں چشم پوشی کرکے دھوکا دہی کرتے تھے اور یہ بھی کہوہ اپنی زمین کی مالگزاری کاتخمینہ کم کرکے چھوٹے کسانوں پر اس کا زائدبوجھ ڈال دیتے تھے

2.2  پنچایت اور مکھیا

گاؤں کی پنچایت بزرگوں کی ایک مجلس تھی۔ عموماً یہ گاؤں کے اہم افراد ہوا کرتے تھے جن کے پاس اپنی ملکیت کے موروثی حقوق ہوا کرتے تھے۔ پنچایت عام طور پر مختلف العناصر جماعت تھی۔ پنچایت ایک چندسری حکومت (مجلس) تھی جس میں گاؤں کی مختلف ذاتوں اور برادریوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ بعید ازقیاس ہے کہ گاؤں کے ذلیل اور زرعی مزدوروں کی اس میں نمائندگی ہوتی ہو۔ ان پنچایتوں کے فیصلے تمام ممبران کو ماننے ضروری تھے۔
پنچایت کا سربراہ ایک مکھیا جو مقدم یا منڈل کے نام سے معروف تھا، ہوتا تھا ۔کچھ مآخذسے ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ مکھیا کا انتخاب گاؤں کے بزرگوں کی عام اتفاق رائے سے ہوتا تھا۔ اس انتخاب کی منظوری زمیندار سے لینی ہوتی تھی۔مکھیا اپنے عہدے پر اس وقت تک برقرار رہتا تھا جب تک گاؤں کے بزرگوں کا اعتماد اس پر قائم تھا۔ اعتماد کھونے پر اسے برخاست کیا جا سکتا تھا۔ گاؤں کی آمدنی اور اخراجات کا حساب کتاب اپنی نگرانی میں مرتب کروانا مکھیا کا بنیادی کام تھا۔ اس کام میں پنچایت کا محاسب یا پٹواری اس کی مدد کرتا تھا۔ 
گاؤں کا مالی ذخیرہ لوگوں کے انفرادی چندے سے اخذ کیا جاتا تھا جو مشترکہ سرمائے میں جمع ہوتا جاتا تھا۔ اس مالی ذخیرے سے ان مال گذاری افسران کی خاطر تو اضع پر بھی خرچ کیا جاتا تھا جو وقتاً فوقتاً گاؤں کا دورہ کرتے تھے۔ اس مالی ذخیرے کا استعمال دیہی برادری کی فلاح کی سرگرمیوں مثلاً باڑھ جیسی قدرتی آفات سے نپٹنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اس مالی ذخیرے کا استعمال عام طور پر ایسے کاموں کے لیے بھی کیا جاتا تھا جس کے خرچ کو کسان بذات خود برداشت نہیں کر سکتا تھا جیسے باندھ کی تعمیر یا نہروں کی کھدائی۔
پنچایت کا ایک اہم کام یہ بھی تھا کہ گاؤں میں رہنے والی مختلف برادریوں کے لوگ اپنی اپنی ذات کی حدود میں رہیں۔مشرقی ہندوستان میں سبھی شادیاں منڈل کی موجودگی میں ہوتی تھیں با لفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’ بنیادی طور پر کسی بھی قسم کی ذات کی خلاف ورزی روکنے کے لیے‘‘ لوگوں کے کردار پر نظر رکھنے کی ذمہ داری گاؤں کے مکھیا کے فرائض میں سے ایک تھی۔
پنچایت کو جرمانے لگانے اور برادری سے باہر کرنے جیسی زیادہ سخت سزا دینے کا اختیار حاصل تھا۔ برادری سے باہر نکالنا ایک سخت قدم تھا جو زیادہ تر معاملوں میں ایک محدود وقت کے لئے ہوتا تھا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ایک مجرم شخص کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ گاؤں چھوڑدے۔ اس دوران وہ اپنی ذات سے باہر ہوجاتا تھا اور اپنے پیشے کے معمولات کو جاری رکھنے کا حق کھو دیتا تھا۔ اس طرح کے اقدام کا مقصد ذات پات کے معیارات کی خلاف ورزی کو روکنا تھا۔
مزید براں دیہی پنچایت کے علاوہ گاؤں میں ہر ذات کی اپنی ذاتی پنچایت ہوتی تھی۔ دیہی سماج میں یہ پنچایتیں کافی اثر رکھتی تھیں۔ راجستھان میں ذات پنچاتیں مختلف ذاتوں کے ممبران کے درمیان دیوانی کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتی تھیں۔ وہ زمین پر دعوے کے جھگڑوں میں ثالثی کرتی تھیں۔ یہ طے کرتی تھیں کہ شادیاں ایک خاص ذات کے گروپ کے معیارات کے مطابق ہورہی ہیں یا نہیں اور یہ بھی طے کرتی تھیں کہ گاؤں کی تقریبات ورسوم میں کس کو کس پر ترجیح دی جائے گی۔ اور اسی طرح کے دیگر معاملات ،مجرمانہ انصاف کے معاملات کو چھوڑکر زیادہ تر معالات میں ریاست پنچایت کے فیصلوں کا احترام کرتی تھی۔
مغربی ہندوستان خاص طور پر راجستھان اور مہاراشٹر کے آرکائیوز کی دستاویزات ایسی درخواستوں پر مشتمل ہیں جس میں پنچایت سے ’’ اعلیٰ‘‘ ذاتوں یا ریاست کے افسران کے خلاف جبری ٹیکس کی وصولیابی یا ’’ بیگار‘‘ نافذکرنے کی شکایتیں کی گئی ہیں۔ عام طور پر یہ درخواستیں دیہی سماج کے سب سے نچلے طبقے کے لوگوں کے ذریعہ دی جاتی تھیں۔ اکثر اجماعی طور پر بھی ایسی درخواستیں دی جاتی تھیں جن میں کسی ایک ذات یا برادری کے لوگ  اعلیٰ ذات کی طرف سے ان مطالبوں کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے تھے جن کو وہ اخلاقی طور پر خلاف ِقانون سمجھتے تھے۔ ان میں بہت زیادہ ٹیکس کا مطالبہ ، خاص طور پر خشک سالی کے زمانے میں یا قدرتی آفات کے زمانے میں جب کاشت کاروں کی بقائے زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا تھا، شامل تھیں۔ درخواست کنندگان کی نظروں میں زندہ رہنے کے لیے کم ازکم بنیادی وسائل کا قاعدہ و قانون طے شدہ رواج کے مطابق تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دیہی پنچایت ایک اپیل کورٹ کی طرح ہے جو یہ یقینی کریگی کے ریاست اپنی اخلاقی قانونی پابندی اداکرے گی اور انصاف کی ضمانت دے گی۔
’’نچلی ذات‘‘ کے کسانوں اور ریاست کے افسران یا مقامی زمیندار کے درمیان جھگڑوں میں پنچایت کے فیصلے الگ الگ معاملوں میں الگ الگ ہوسکتے تھے۔ زیاد ہ محصول کے مطالبوں کے معاملے میں پنچایت اکثر مشورہ دیتی تھی ۔ جن معاملات میں ازسر نو مصالحت ناکام ہوجاتی تھی وہاں کسان مزاحمت کے زیادہ سخت طریقے اختیار کرتے تھے۔ جیسے گاؤں کی سکونت ترک کر دینا۔غیرزراعتی زمین نسبتاً آسانی سے دستیاب تھی اور مزدور و سائل کولے کر مقابلہ آرائی تھی۔اس وجہ سے گاؤں چھوڑ کر بھاگ جانا  کاشت کاروں کے ہاتھوں میں ایک مؤثر ہتھیار تھا۔
6
شکل 8.4
ابتدائی انیسوی صدی کی تصویر جس میں گاؤں کے بزرگوں کی ملاقات محصول جمع کرنے والے افسران کے ساتھ دکھائی گئی ہے۔
مصوّر نے گاؤں کے بزرگوں اور محصول جمع کرنے والے افسران کے درمیان کیسے فرق کیا ہے؟

7
شکل  8.5
سترہویں صدی کی ایک تصویر جس میں کپڑا پیداوار کی تصویرکشی کی گئی۔
تصویر میں مصوّر کی گئی سرگرمیوں کو بیان کیجئے۔

2.3 دیہی دستکار

مختلف  تاجروں کے درمیان رشتوں کے مبادلے گاؤں کا ایک دیگر دلچسپ پہلو تھا۔ مراٹھی دستاویزات اور انگریزی حکمرانی کے ابتدائی برسوں میں کیے گئے گاوؤں کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ گاؤں میں دستکاروں کا مناسب تعداد میں وجود تھا۔ کبھی کبھی تو گاؤں میں کل گھروں کے 25 فی صد گھردستکاروں کے تھے۔
تاہم بعض اوقات تو دیہی سماج میں دستکاروں اور کسانوں کے درمیان امتیاز کرنا مشکل تھا کیونکہ کئی ایسی جماعتیں تھیں جو دونوں کے کام انجام دیتی تھیں۔ کاشت کار اور ان کے خاندان کے لوگ دستکاری پیداوار میں بھی شرکت کرتے تھے۔۔۔ جیسے رنگائی، کپڑوں کی چھپائی ، مٹّی کے برتنوں کا پکانا، کھیتی کے آلات کا بنانا اور مرمت کرنا وغیرہ ۔ زرعی کلینڈر کے اس دور میں جب ان کو نسبتاً فرصت ہوتی تھی جیسے کہ تخم ریزی اور نرائی کے درمیان یا نرائی اور کٹائی کے درمیان اس وقت یہ کاشتکار دستکاری پیداوار میں مشغول ہوسکتے تھے۔
گاؤں کے دستکار جیسے کمہار، لوہار، بڑھئی، نائی ۔ یہاں تک کے سنار اپنی مخصوص خدمات مہیا کراتے تھے جس کے عوض گاؤں والے انھیں مختلف ذریعوں سے معاوضہ دیتے تھے۔ فصل کے ایک حصے کی ادائیگی کے ذریعہ اس کو ادا کرنے کا عام طریقہ تھا یا پھر زمین کا ایک حصہ شاید قابل کاشت بیکار زمین ، جس کو غالباً پنچایت طے کرتی تھی ۔ مہاراشٹر میں ایسی زمین دستکاروں کی’’ میراث‘‘  یا  ’’وطن‘‘ بن گئی تھی جس پر ان کاموروثی حق واجارہ ہوتا تھا۔
اس نظام کا ایک اور تنوّع تھا۔ جہاں دستکار اور انفرادی کسان گھرانے باہمی گفت وشنید کے ذریعہ معاوضے کے ایک نظام ، زیادہ تر خدمات کے لیے جنس پر راضی ہوجاتے تھے ۔ مثال کے طور پر اٹھارہویں صدی کے دستایزات ہمیں بتاتے ہیں کہ بنگال میں زمیندار لوہا روں، بڑھئی یہاں تک کہ سناروں کو ان کے کام کے عوض ’’روزانہ کا بھتہّ اور کھانے کے لیے نقدی دیتے تھے‘‘۔اس نظام کو بعد میں’’ججمانی‘‘ نظام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاح سولہویں اور سترہویں صدی تک رائج نہیں تھی۔ اس طرح کی شہادت دلچسپ ہے کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاؤں کی چھوٹی سطح پرمستعمل مبادلہ نیٹ ورک کے طریقے کتنے پیچیدہ تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نقد ادائیگی کا رواج بالکل غیر معروف تھا۔

2.4  ایک ’’ چھوٹی جمہوریہ‘‘؟

دیہی برادری کی اہمیت کو ہم کیسے سمجھیں ؟ انیسوی صدی میں کچھ برطانوی افسران نے گاؤں کو ایک ’’ چھوٹی جمہوریہ‘‘ کی شکل میں دیکھا جو مجموعی سطح پر وسائل اور محنت کی حصہ داری  میںمساوات اور بھائی چارگی (شریک) کی بنیاد پر قائم تھا۔ تاہم یہ سماج معاشی مساوات کی علامت نہ تھا۔ یہاں املاک کی انفرادی ملکیت تھی اور ذات و جنس کی بنیاد پر گہرا امتیاز تھا۔ طاقت ور لوگوں کا گروپ گاؤں کے معاملات کو معیّن کرتا تھا۔کمزور فرقوں کا استحصال کرتا تھا اور انصاف کرنے کااختیار رکھتا تھا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گاؤں اور شہر وں کے درمیان تجارت کے ذریعہ ایک نقد کارابطہ پہلے سے ہی ارتقاء پذیر ہوچکا تھا۔ مغلوں کے مرکزی علاقوں میں بھی مالگذاری کاتخمینہ اور وصولی نقد میں کی جاتی تھی۔ جو دستکار برآمد مارکیٹ کے لئے پیداوار کرتے تھے (مثال کے طور پر جو لا ہے ) انھیں پیشگی یا مزدوری نقد میں ملتی تھی ۔ اسی طرح کپاس ، ریشم،  یا نیل جیسی تجارتی اشیاء پیدا کرنے والوں کی ادائیگی بھی نقدمیں ہوتی تھی۔

گاؤں میں نقدی

سترہویں صدی کے فرانسیسی سیاح جینبپٹسٹ ٹیورنیر نے یہ قابل ذکر پایا کہ ’’ ہندوستان میں بے شک وہ گاؤں بہت چھوٹا ہوگا اگر اس میں نقدی تبدیل کرنے والے نہ ہوں، جنہیں ’’حرّاف‘‘ کہا جاتا ہے ۔ وہ ایک بینکر کی طرح نقدی کی ترسیل کرتے ہیں جو اپنی مرضی سے پیسے کے مقابلے روپیکی قیمت کو بڑھا دیتے ہیں اور کوڑیوں کے مقابلے پیسے کی۔   
8
شکل 8.6
کام میں مشغول صّراف

9
شکل  8.7
سوت کایتی ایک عورت

گفتگو کیجیے...

اس سیکشن میں بیان کی گئی پنچاتیں آپ کے خیال میں کن معنی میں موجودہ دور کی گرام پنچاتیوں سے مساوی یا مختلف تھیں؟

.3  زرعی سماج میں خواتین

جیسا کہ آپ نے مختلف سماجوں میں مشاہدہ کیا ہوگا کہ اکثر پیداوار کے عمل میں مشغول مرد اور خواتین ایک یقینی تعین شدہ کردار ادا کرتے ہیں۔ جس تناظر میں ہم تحقیق کررہے ہیں وہاں مرد خواتین کندھے سے کندھا ملاکر کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ مرد کھیت جوتتے تھے اور ہل چلاتے تھے جبکہ خواتین تخم ریزی، نرائی ، کاہنا اور تیار فصل سے غلّے کو بھوسااڑا کر صاف کرتی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں کے ارتقاء اور کاشت کار کی انفرادی کھیتی کی توسیع کے ساتھ جو عہد وسطیٰ کے ہندوستان کی زراعت کی خاصیت تھی، پورے گھرانے کی محنت اور وسائل پیداوار کی بنیاد تھے۔ فطری طور پر جنس کی بنیاد پر گھر (عورتوں کے لیے) اور باہر دنیا (مردوں کے لیے) کے درمیان جبری علیحدگی کرنا ممکن نہ تھا۔ تاہم عورتوں کے حیاتیاتی امور سے متعلق تعصبات جاری رہے۔ مثال کے طور پر مغربی ہندوستان میں خواتین کو دوران ِحیض ہل یا کمہار کے چاک کو چھونے کی اجازت نہ تھی یا بنگال میں ان باغان (کنج) میں جہاں پان اگائے جاتے تھے، داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔
سوت کاتنے ، برتن بنانے کے لئے مٹی کو چھاننے اور گوندھنے اور کڑھائی جیسے دستکاری،ایسے   بہت سے پیداوار کے پہلو تھے جو خواتین کی محنت پر منحصر تھے۔مصنوعات جتنی تجارتی بنتی تھیں اس کی پیداوار کے لئے خواتین کی محنت کی مانگ اتنی ہی بڑھتی تھی۔حقیقتاً کسان اور دستکار خواتین نہ صرف کھیتوں میں کام کرتی تھیں بلکہ ، اگر ضروری ہوا تو، وہ آجر کے گھروں اور بازاروں میں بھی جاتی تھیں۔
خواتین کو زرعی سماج میں ایک اہم وسیلہ بھی سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ محنت کش سماج میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل تھیں۔ اس کے باوجود عام طور پر بیویوں (شادی شدہ عورتوں) کی کمی تھی۔ کیونکہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے ، بکثرت حاملہ ہونے اور بچے کی پیدائش کے وقت موت ہونے کی وجہ سے عورتوں میںشرح اموات زیادہ تھی۔ اس نے کسان اور دستکار برادریو ں میں سماجی رواجوںکو پیدا کیا جو اعلیٰ گروہوں میں رائج رواجوں سے مختلف تھے۔ بہت سی دیہی برادریوں میں شادی کے لیے دلہن کی قیمت ادا کرنے کی ضرورت ہوتی تھیں بہ نسبت جہیز کے جو دلہن کی فیملی دیتی تھی۔ طلاق شدہ اور بیوہ خواتین دونوں کی ہی دوسری شادی کو قانونی درجہ حاصل تھا۔
عورتوں کو بچے پیداکرنے کی طاقت کے بطور بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان پر قابو کھونے کا بڑا خوف بھی تھا۔ قائم شدہ سماجی معیارات کے مطابق گھرانے کا سربراہ یعنی مکھیا مرد ہوتا تھا۔ اس طرح خاندان کے مرد ممبران اور برادری کے ذریعہ عورتوں کو سخت نگرانی میں رکھا جاتا تھا۔ بے وفائی کے شک پر عورتوں کو سخت سزا وسرزنش کی جاسکتی تھی۔
راجستھان ، گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ مغربی ہندوستان سے ایسے دستاویزات ملے ہیں جن میں عورتوں نے تلافی اور انصاف حاصل کرنے کے لیے دیہی پنچایت کو درخواستیں بھیجیں تھیں۔ بیویاں اپنے شوہروں کی بے وفائی کے خلاف احتجاج کرتی تھیں یا گرہستی کے سربراہ کے ذریعہ بیوی اور بچوں کو نظر انداز کرنے کا الزم لگاتی تھیں۔ اگرچہ مرد کی بے وفائی پر ہمیشہ سزا نہیں ملتی تھیں۔ ریاست اور ’’ اعلیٰ ‘‘ ذات کے گروہ مداخلت کرکے یہ یقینی بناتے تھے کہ فیملی کے گذارے کا مناسب اہتمام ہوجائے۔ زیادہ تر معاملات میں جب عورتیں پنچایت کو درخواستیں دیا کرتی تھیں تو ان کے نام دستاویزسے نکال دیے جاتے تھے۔ درخواست کنندہ کا حوالہ گرہستی کے مرد کے سربراہ کی ماں ،بہن یا بیوی کے طور پر کیا جاتا تھا۔
مالکان اراضی طبقہ میں عورتوں کو ملکیت میں ترکہ پانے کا حق حاصل تھا ۔پنچایت کی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں خواتین بشمول بیوہ عورتیں ترکے میں پائی ملکیت کے فروخت کردہ کے بطور دیہی زمین کے بازار میں سرگرم حصہ لیتی تھیں۔ ہندو اور مسلمان عورتوں کو زمینداری ترکے میں ملتی تھی۔ جس کو فروخت کرنے یا گروی رکھنے کے لئے آزاد تھیں۔ اٹھارہویں صدی میں بنگال میں خواتین زمیندار معروف تھیں۔حقیقتاً اٹھارہوں صدی کی سب سے بڑی اور مشہور زمنیداروں میں ایک تھی۔ راج شاہی کی زمینداری جس کا نظم و نسق ایک عورت سنبھالتی تھی۔
10
شکل 8.8  الف
فتح پور سیکری کی تعمیر کا منظر خواتین پتھر توڑتی ہوئیں۔
11
شکل 8.8 (ب)
بوجھ ڈھوتی خواتین
قرب وجو ار کے دیہات سے آنے والی خواتین اکثر ایسے تعمیراتی مقامات پر کام کرتی تھیں۔

بحث کیجیے...

 کیا آپ کی ریاست میں زرعی زمین پر مردوں اور عورتوں کی دسترس میں کسی طرح کا کوئی فرق ہے؟

4۔  جنگلات اور قبائل

4.1  سکونت پذیر گاؤں سے دور

دیہی ہندوستانی سماج میں بہ نسبت مقیم زراعت کے بھی بہت کچھ تھا۔ شمالی اور مغربی ہندوستان کے شدید زراعت والے صوبہ جات کو چھوڑ کر زمین بہت وسیع گھنے جنگلات یا جھاڑیوں (خربندی) سے بھری پڑی تھی۔ ایسے علاقے پورے مشرقی ، وسطی، شمالی ہندوستان (بشمول ہندنیپال سرحد کی ترائی کے علاقے) جھارکھنڈ اور جزیرہ نما ہند کے مغربی گھاٹ تک اور دکن کے پٹھار تک موجود تھے۔ اگرچہ اس عہد میں کل ہند سطح پر جنگلات کے پھیلاو کا اوسط نکالنا تقریباًنامکن ہے۔ تاہم ہم عصر مآخذ کی بنیاد پر یہ قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اوسطاً 40 فی صد تھا۔
ہم عصر متوّن (کتابوں) میں جنگلات میں رہنے والوں کے لیے ’’ جنگلی‘‘ کی اصطلاح مستعمل تھی۔ تاہم جنگلی ہونے کا مطلب ’’تہذیب ‘‘ کی عدم موجودگی نہ تھا۔ جیسا کہ آج کل اس اصطلاح کا استعمال بظاہر اسی معنی میں کیا جاتا ہے، بلکہ یہ اصطلاح ان دنوں ان لوگوں کے لئے ذکر کی جاتی تھی جن کی گذر بسر جنگلات کی پیداوار،شکار اور نقل پذیر زراعت پر منحصر تھی۔ یہ سرگرمیاں وسیع طور پر مقرّرہ موسم میں ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر بھیلوں میں بہار جاموسم جنگلات کی پیداوار کو جمع کرنے کے لیے ، گرمی کا موسم مچھلی کے شکار کے لیے ، مانسون کے مہینے زراعت کے لیے ،خزاں اور سردی کا موسم شکار کے لیے محفو ظ تھے۔ یہ سلسلہ قیاسی تھا وار دائمی حرکت پذیری پر مبنی تھا جوان جنگلات میں رہنے والے قبائل کی ایک ممتاز خصوصیت تھی۔
ریاست کے لیے جنگلات ایک تخریبی مقام تھا یعنی مزاحمت کا روں کے لیے جائے پناہ (مأویٰ) تھا۔ ایک دفعہ پھر ہم بابر کی طرف مراجعت کرتے ہیں جو کہتا ہے کہ جنگلات عمدہ حفاظت مہیا کراتے تھے ’’جس کے پیچھے پر گنہ کے لو گ سخت باغی ہوجاتے تھے اور محصول ادا نہیں کرتے تھے‘‘۔
12
شکل8.9
نیل گائے کا شکار کرتے ہوئے شاہجہاں کی تصویر
(بادشاہ نامہ سے لی گئی تصویر)

اس میں آپ کیا دیکھتے ہیں، بیان کیجئے ۔ اس میں ایسا کون سا اشارتی عنصر ہے جو شکار اور مثالی انصاف کو مربوط کرتا ہے؟

.4.2  جنگلات میں یورش

جنگل میں باہری طاقتیں کئی طرح سے داخل  ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر ریاست کو فوج کے لئے ہاتھیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس لیے جنگلات کے باشندوں سے وصول کی جانے والی پیشکش میں اکثر ہاتھیوں کی رسد شامل ہوتی تھی۔ 
مغل سیاسی نظریہ میں ، غرباء و مالدار تمام رعایا کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا ریاست کے قومی تعلق کا ایک مظہر شکار تھا۔جیسا کہ درباری مورخ ہمیں بتاتے ہیں کہ مسلسل شکار کی مہموں کے لیے بادشاہ اپنی سلطنت کی وسیع عملداریوں کا سفر کیا کرتا تھا اور ذاتی طور پر ان علاقوں کے باشندوں کی شکایات سناکرتا تھا۔ درباری مصوّروں کی تصاویر میں شکار ایک بار بار مصور کیے جانے والا مضمون تھا۔ تصاویر میں مصوّر ایک چھوٹا سا دلچسپ منظر ایک آلے کے طور پر کہیں بھی بنا دیتے تھے۔ جو ہم آہنگی کے عہد کی علامت تھا۔

’پرگنہ ‘‘ مغل صوبہ کی ایک ذیلی انتظامی تقسیم تھی۔

’’پیشکش ‘‘مغل ریاست کے ذریعہ لئے جانے والے خراج و نذرانے کی ایک شکل تھی۔ 


ماخذ 3

زرعی بستیوں کے لیے جنگلاتکی صفائی

 یہ اقتباس سولہویں صدی کے ایک بنگالی شاعر مکندرام چکرورتی کی نظم ’’چنڈی منگل‘‘ سے لیا گیا ہے۔ نظم کے ہیرو’’ کلا کیتو‘‘ نے جنگلات کی صفائی کرواکر ایک قلمر و قائم کی تھی۔
خبر سنتے ہیں بیرونی لوگ مختلف مقامات سے آئےپھر کلا کیتو نے خرید کراور ان میں تقسیم کردیا بھاری چاقوں ،کلہاڑیاں ، جنگلی تیشے اور برچھے (بلم)۔شمال سے داس (لوگ) آئےان میں سے سوپیش قدمی کرتے ہوئےوہ حیر ت زدہ ہوئے
 کلا کیتو کے معجزے پرجس نے ہر ایک کو سپاری تقسیم کیجنوب سے کاشتکار آئےان میں سے پانچ سو ایک منتظم کی قیادت میں آئے۔ مغرب سے آئے ظفرمیاںبائیس ہزار افراد کے ساتان کے ہاتھوں میں تھے سلیمان موتی اپنے پیراور پیغمبر کے ناموں کا ورد کرتےجنگل کو صاف کرنے کے بعدانھوں نے بازار قائم کیے۔ سیکڑوں اور سیکڑوں کی تعداد میں بیرونی لوگکھاگئے (جنگلوںکو) اور داخل ہوگئے جنگل میں کلہاڑی کی آواز سن کےچیتے ہراساں ہوئے اور دہاڑتے ہوئے بھاگ گئے۔

یہ متن جنگل کے اندر دراندازی کی کون سی شکلوں کو ظاہر کرتا ہے؟ اس پیغام کا موازنہ تصویر8.9میں مصوّر چھوٹی تصویر سے کیجئے۔ جنگل میں رہنے والے لوگوں کے تناظر میں کن لوگوں کی شناخت ’’بیرونی‘‘ لوگوں کے طور پر کی گئی ہے؟


ماخذ 4

پہاڑی قبائل اور میدنی لوگوں کے درمیان

 تجارت ، تقریباً 1595

اودھ صوبہ (موجود اترپردیش کاحصہ) کے میدانی علاقوں اور پہاڑی قبائل کے درمیان ہونے والے لین دین کے ضمن میں ابوالفضل یوں بیان کرتا ہے:
شمال کے پہاڑوں سے انسانوں، تنومند ٹٹّو اور بکری کی پیٹھ پر لادکر بڑی مقدار میں سونا ، تانبہ،سیسہ، مشک،جنگلی بیل (یاک) کی دم ، شہد، چوک (سنترے کے رس اور لیمو کے رس کو ایک ساتھ ابال کر بنایا جانے والا ایک ایسڈ)، انار کے دانے ، ادرک ، لمبی مرچ، مجیٹھ (ایک پودا جس سے لال رنگ بنایا جاتا ہے) کی جڑیں، سہاگہ ، جد (ہلدی سے مشابہ جڑ)، موم، اونی کپڑے ، لکڑی کے برتن و اشیاء،شاہین (شکرہ) ،سیاہ باز، مرلین (ایک قسم کا باز) اور دیگر اشیا لے جاتے ہیں۔ مبادلے میں وہ سفید و رنگین کپڑے ، کہربا ، نمک ، ہینگ، زیورات،شیشے اور مٹّی کے برتن واپس لے جاتے ہیں۔

اس عبارت میں نقل و حمل کے کون سے طریقے کا ذکر کیا گیا ہے؟ آپ کے خیال میں ان کا استعمال کیوں کیاجاتا تھا؟ میدانی علاقے سے جو اشیا پہاڑی علاقے میں لے جائی جاتی تھیں ان میں ایک اشیا کس کام کے لیے استعمال کی جاتی ہوگی؟ اس کی وضاحت کیجئے۔

تجارتی زراعت کی توسیع ایک اہم باہری عنصر تھا جو جنگل میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں سے متصادم ہوتا تھا۔ جنگلاتی پیداوار جیسے شہد ، شہد کے چھتّے کا موم اور لاکھ گوند کی بہت زیادہ مانگ تھی۔ سترہویں صدی میں لاکھ گوند جیسی اشیاء ہندوستان سے سمندر پار ہونے والی برآاتد کی ایک اہم شے بن گئی تھی۔ ہاتھی بھی پکڑے جاتے تھے اور فروخت ہوتے تھے۔تجارتی اشیاء کے مبادلے کے ذریعہ ۔ چیزکے بدلے چیز لین دین کا باعث تھی۔ کچھ قبیلے جیسے پنچاب میں لوہانی، ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی زمینی تجارت میں مشغول تھے۔ یہ پنچاب کے گاوؤں اور شہروں کے درمیان ہونے والی تجارت میں بھی شریک تھے۔
سماجی عناصر کی وجہ سے بھی جنگل کے باشندوں کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ دیہی برادری کے ’’ بڑے آدمیوں‘‘ کی طرح قبیلوں کے بھی اپنے سردار ہوتے تھے۔ بہت سے قبیلائی سردار زمیندار بن گئے تھے ۔ اس وجہ سے انھیں فوج تیار کرنے کی ضرورت ہوئی۔ انھوں نے اپنے خاندان (سلسلئہ نسب) کے گروہوں سے لوگوں کو بھر تی کیا یا پھر اپنے ہی براہ درانہ تعلقات کی بنیاد پر فوجی خدمات مہیا کرانے کی مانگ کی۔ سندھ علاقے میں قبائل کی فوج 6000 گھوڑسوار اور 7000 پیدل فوجیوں پر مشتمل تھی۔ آسام میں اہوم راجاؤں کے اپنے پایک تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی زمین کے بدلے میں فوجی خدمات ادا کرنے کے لیے پابندتھے۔ اہوم راجاؤں نے جنگلی ہاتھیوں کو پکڑنے کے لیے اپنی شاہی اجارہ واری کا اعلان کردیا تھا۔
اگرچہ قبیلائی نظام سے شاہی نظام کی طرف منتقلی کافی پہلے ہی شروع ہوچکی تھی ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ عمل سولہویں صدی میں پوری طرح ارتقاء پذیر ہوا تھا۔ شمال مشرق میں قبیلائی ریاستوں کے وجود کو آئین کے مشاہدات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جنگ ایک مشترکہ واقعہ تھا۔ مثال کے طور پر سولہویں اور سترہویں صدی میں کوچ راجاؤں نے اپنے بہت سے پڑوسی قبائل کے ساتھ طویل سلسلہ وار جنگیں لڑیں اور ان کو محکوم بنالیا تھا۔
فی الحقیقت یہ بھی خیال ہے کہ ظہور پذیر نئے آباد مقامات میں دیہی برادری نے جس طرح آہستہ آہستہ اسلام کو قبول کر اس میں صوفیاء (پیروں) نے اہم کردار ادا کیا تھا (باب 6)بھی ملا حظہ کیجیے۔

13

شکل  8.10

ایک کسان اور ایک شکاری ، ایک صوفی مغنی کو سنتے ہوئے۔


گفتگو کیجیے...

معلوم کیجئے کہ آپ کی ریاست میں کن علاقوں کو آج کل  جنگل کے علاقے کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے؟ کیا آج ان علاقوں میں زندگی بدل رہی ہے؟ کیا ان تبدیلیوں کے اسباب وہی ہیں یا ان سے مختلف ہیں؟


5۔ زمیندار

مغل ہندوستان میں زرعی تعلقات کی ہماری کہانی تب تک نا مکمل رہے گی جب تک ہم گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی ایک ایسی جماعت کا حوالہ نہ دیں جو زراعتی پیداوار کے عمل میں راست طور پر شرکت نہیں کرتے تھے۔ یہ زمیندر تھے جو اراضی کے مالک ہوتے تھے اور جنہیں دیہی سماج میں اعلیٰ حیثیت کے وصف کی وجہ سے کچھ مخصوص سماجی اور معاشی مراعات حاصل تھیں۔ زمینداروں کی بلندحیثیت کاایک سبب ذات شمار کیا جاتا تھا۔ دوسرا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ ریاست کے لیے کچھ مخصوص خدمات انجام دیا کرتے تھے۔
زمیندار وسیع مقدار میں ذاتی زمین رکھتے تھے جسے اصطلاحاً ’’ ملکیت‘‘ کہا جاتا تھا یعنی ’’جائیداد ‘‘۔ ملکیت والی زمین پر زمیندار کے ذاتی استعمال کے لئے زراعت ہوتی تھی جو اکثر اجرتی مزدور یا دست نگر و تابع مزدوروں کی مدد سے ہوتی تھی۔ زمیندار اپنی مرضی کے مطابق ان زمینوں کو فروخت کر سکتے تھے، اس کی وصیّت کرسکتے تھے یا گرِوی رکھ سکتے تھے۔
فی الحقیقت زمینداروں کو تقویت اس بات سے بھی حاصل ہوتی ہے کہ وہ ریاست کی طرف سے مال گذاری وصول کرسکتے تھے ۔ یہ ایک ایسی خدمت تھی جس کا مالی معاوضہ ملاکرتا تھا۔ فوجی وسائل پر کنٹرول ان کی طاقت کا ایک اور ماخذ تھا۔ زیادہ تر زمیندار وں کے پاس اپنے فوجی قلعے (قلعچے) تھے اور ساتھ ہی ساتھ مسلّح امدادی فوج جو گھوڑسوار ، توپ خانہ اور پیدل فوجیوں پر مشتمل تھی، رکھتے تھے۔
اسی طرح اگر ہم مغل گاؤں میں سماجی رشتوں کا تصوّر ایک اہرام کے بطور کریں توزمیندار اس کی باریک نوک کا حصہ واضح طور پر تشکیل کرتے تھے۔ ابوالفضل کا بیان اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ  ’’ اعلیٰ ذ ات‘‘ کے برہمن ۔راجپوت اتحاد نے دیہی سماج پر پہلے سے ہی ایک مضبوط کنٹرول قائم کر رکھا تھا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا کہ یہ نام نہاد درمیانی ذاتوں کی بھی خاص نمائندگی کا مظہر تھا اور ساتھ ہی ساتھ تعداد میں روادار مسلم زمینداری کا بھی مظہر تھا۔
ہمعصر دستاویزات ہمیں ایک تصوّر دیتے ہیں کہ جنگ میں فتح بھی شاید کچھ زمینداروںکی ابتداء کا منبع تھی۔ طاقتور فوجی سرداروں کے ذریعہ کمزور لوگوں کو بے دخل کرنا بھی اکثر زمینداری کی توسیع کا ایک طریقہ تھا۔ تاہم اس کا امکان کم ہے کہ ریاست کسی زمیندار کو اس طرح کے حملے کے مظاہرہ کی اجازت دیتی ہو۔ جب تک کہ ایک شاہی فرمان (سند) کے ذریعہ اس کی توثیق نہ ہوگئی ہو۔
زمینداری کو مستحکم کرنے کا عمل اس سے بھی زیادہ اہم تھا جومآخذ میں بھی دستاویزی شہادت فراہم کراتا ہے۔ اس میں کئی طریقے شامل تھے۔ جیسے حقوق کی منتقلی کے ذریعہ ، ریاست کے حکم کے ذریعہ اور خرید کر نئی زمینوں کو آباد کرانا۔ یہ وہ معمولات تھے جس کے ذریعہ شاید نسبتاً ’’ نچلی‘‘ ذاتوں سے وابستہ لوگوں کو بھی اجازت تھی کہ وہ زمیندار کے مرتبے میں داخل ہوجائیں۔ چونکہ اس عہد میںزمینداری کا فی تیز ی سے خریدی اور فروخت کی جاتی ہے۔
کئی اسباب کے مجموعے نے بھی خانوادہ قبیلے یا  سلسلہ نسب  پر مبنی زمینداری کو مستحکم کرنے کی اجازت دی ۔ مثال کے طور پر راجپوتوں اور جاٹوں نے ایسی حکمتِ عملی اپنا کر شمالی ہندوستان کی عملداریوں کی بڑی پٹّی پر اپنا کنٹرول مستحکم کیا تھا۔ اسی طرح وسطی اور جنوب مغربی بنگال کے علاقے میں کسان گلّہ بان (جیسے سدگوپ) لوگوں نے طاقتور زمینداریاں بنائیں۔
زمینداروں نے زرعی زمینوں کو آباد کرانے میں قیادت کی اور کاشتکاروں کو کھیتی کے وسائل مہیا کراکے بشمول رقم ادھار دے کر انہیں وہاں سکونت  اختیارکرنے میں بھی مدد کی۔ زمیندداروں کی خریدو فروخت نے گاؤں میں استعمال بصورت زرکے عمل کو تیز رفتاری دی۔ مزیدبراں  زمیندار اپنی ملکیت زمین کی پیداوار بھی فروخت کرتے تھے۔ ایسی شہادتیں موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمیندار اکثر بازار (ہاٹ) قائم کرتے تھے جہاں کسان بھی اپنی فصلوں کو فروخت کرنے آتے تھے۔
اگر چہ اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کیا جاسکتا کہ زمیندار ایک استحصال کرنے والا طبقہ تھا۔ ان دیہاتی لوگوں (کسانوں) کے ساتھ رشتے میں عمل و ردِّ عمل ، بدرانہ پن اور سر پرستی کے عناصر موجود تھے۔ دو پہلو اس نظر یہ کو تقویت دیتے ہیں ۔پہلا، بھکتی سنتوں نے جنہوں نے خطیبانہ انداز میں ذات پر منحصر اور ظلم و تعّدی کی دیگر شکلوں (باب 6بھی ملاحظہ کیجئے) کی مذمّت کی وہیں زمینداروں کو (یا دلچسپ بات ہے مہاجنوں کو) دیہاتی لوگوں کا استحصال کرنے والا یا ظلم و تعّدی کرنے والے کی شکل میں تصویر کشی نہیں کی۔ عام طور پر ریاست کے مال گذاری افسران ہی ان کے غیض و غضب کا نشانہ بنے۔ دوسرے سترہویں صدی میں شمالی ہندوستان میں بڑی تعداد میں زرعی بغاوتیں ہوئیں۔ ان میں ریاست کے خلاف زمینداروں کی جدّو جہد کو عموماً دیہاتی لوگوں (کسانوں)کی حمایت حاصل ہوئی۔

ایک متوازی فوج

آئین کے مطابق مغل ہندوستان میں  زمینداروں کی مشترکہ فوجی طاقت 384,558 گھوڑسوار فوج 4277,057 پیدل فوج۔1863 ہاتھی،4260 توپیں اور 4500 کشتیوں پر مشتمل تھی۔

گفتگو کیجیے ...

آزادی کے بعد ہندوستان میں زمینداری نظام ختم کر دیا تھا۔ اس سیکشن کو پڑھنے کے بعد ان اسباب کی شاخت کیجئے جن کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا۔

6.  زمین کی مالگذاری کا نظام

مغلیہ سلطنت کی معیشت کا دارو مدار زمین سے ملنے والی مال گذاری پر تھا۔ اس وجہ سے یہ ناگزیر تھا کہ زرعی پیداوار پر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے اور لمبائی و چوڑائی میں تیزی سے پھیلتی سلطنت کے علاقوں میں مال گذاری کو متعیّن کرنے اور وصول کرنے کے لیے ریاست ایک انتظامی آلات کو وجود میں لانا اہم تھا۔ دیوان کا دفتر جو سلطنت کے مالیاتی نظام کی نگرانی کے لیے ذمّہ دار تھا ان آلات میںشامل تھا۔ اس طرح محصول افسران اور حساب کتاب رکھنے والے افسران زرعی دنیا میں داخل ہوئے اور زرعی تعلقات کو ایک شکل دینے میں ایک فیصلہ کن ایجنٹ بنے۔
لوگوں پر محصول کا بوجھ متعین کرنے سے پہلے مغل سلطنت نے زرعی زمینوں کے پھیلاؤ کے متعلق مخصوص معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ یہ زمینیں کیا پیدا کرتی ہیں۔ زمین کی مال گذاری کے انتظامات کے دومرحلے تھے۔ پہلا تشخیص اور دوسرا حقیقی وصول ’’ جمع‘‘ تشخیص شدہ رقم تھی اور ’’ حاصل ‘‘ اس کے مقابلے وصول شدہ رقم تھی۔ عامل گذار یا مال گذاری جمع کرنے والے کی ذمّہ داریوں کی فہرست میں اکبر نے  فرمان جاری کیا  کہ اگرچہ اسے سعی کرنی چاہیے کہ کاشت کار نقد میں ادائیگی کریں وہیں جنس میں ادائیگی کا متبادل بھی کھلا رکھنا چاہیے۔ اگرچہ مال گذاری متعیّن کرتے وقت ریاست اپنے مطالبے زیادہ سے زیادہ رکھنے کی کوشش کرتی تھی، تاہم کبھی کبھی مقامی حالات ان دعوؤں کی حقیقی عمل آوری کے مقصد  پرپانی پھیر دیتے تھے۔
ہر صوبے میں کاشت کی گئی اور قابلِ کاشت دونوں طرح کی زمینوں کی پیمائش ہوتی تھی۔ اکبر کی حکومت کے زمانے میں اس طرح کی زمینوں کے میزان کو آئین میں مرتب کیا گیا ہے۔ زمین کی پیمائش کی اس طرح کی کوششیں بعد کے بادشاہوں کے تحت بھی جاری رہیں۔ مثال کے طور پر 1665 میں اورنگ زیب نے اپنے مال گذاری افسران کو واضح ہدایت دیں کہ وہ ہر گاؤں میں کاشت کاروں کی تعداد کے سالانہ ریکارڈ تیار کریں (ماخذ 7)۔اس کے باوجود تمام علاقوں کی پیمائش کامیابی کے ساتھ نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ برّصغیر کے بڑے علاقے جنگلات سے گھرے ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کی پیمائش ہونا باقی تھی۔

ماخذ 5

اکبر کے عہد میں زمین کی درجہ بندی

آئین اکبری سے لیے گئے مندرجہ ذیل اقتباس میں زمین کی درجہ بندی کے میعار کی فہرست دی گئی ہے:
 بادشاہ اکبر نے اپنی عمیق ذکاوت سے زمینوں کی درجہ بندی کی اور ہر قسم کی زمین کے لئے مختلف محصول متعین کردیئے۔’ پولاج‘ وہ زمین ہے جس میں یکے بعد دیگر ے ہر ایک فصل کی سالانہ زراعت ہوتی ہے اور جس کو کبھی خالی نہیں چھوڑا جاتا۔ ‘پروتی‘ وہ زمین ہے جس پر کچھ وقت کے لئے زراعت کرنا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی زرخیزی دوبارہ حاصل کرسکے ۔ ’چچّر‘وہ زمین ہے جس کو تین یا چار سال تک خالی چھوڑ دیا جاتا ہے۔’بنجر‘ اُس زمین کوکہتے ہیں جس پر پانچ یا اس سے زیادہ سال کاشت نہ کی گئی ہو۔ پہلی دو قسم کی زمینوں کے تین درجہ ہیں۔ عمدہ ، اوسط اور ناقص ۔ وہ ہرقسم کی پیداوار کو آپس میں جمع کر دیتے ہیں اور اس کا تیسرا حصہ اوسط کی نمائندگی کرتا ہے۔جس کا ایک تہائی حصہ شاہی محصول و مطالبہ کے بطور وصول کیا جاتا ہے۔

امین ایک افسر تھا جو شاہی صوبہ جات میں شاہی ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے ذمّہ دار تھا۔

اپنی عملداریوں میں زمین کی درجہ بندی کرتے وقت مغل ریاست نے کن اصولوں پر عمل کیا؟ مالگذاری کی تشخیص کس طرح کی جاتی تھی؟

14
نقشہ 1

مغل سلطنت کی توسیع

زمین کی مالگذاری کی وصول پر آپ کے خیال میں سلطنت کی توسیع کا کیا اثر پڑا ہوگا؟

منصب داری نظام

مغل انتظامیہ کی نظام کی چوٹی پر ایک فوجی ضابطہ پرست (نوکر شاہی نظام منصبداری تھا جو ریاست کے شہری اور فوجی معاملات دیکھنے کے لئے ذمّہ دار تھا۔ کچھ منصبداروں کو نقدی میں ادائیگی کی جاتی تھی جبکہ ان میں سے اکثر یت کو سلطنت کے مختلف حصوں میں جاگیر کے محصول کے ذریعہ ادائیگی کی جاتی تھی۔ ان کا میعادی طور پر متبادل ہوتا تھا۔ باب 9 کو بھی ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ 7

جمع

1665 میں اورنگ زیب کے ذریعہ ایک محصول افسر کو دیے گئے حکم کا اقتباس:
  پر گنے کے امینوں کو ہدایت دیں کہ وہ ہر ایک گاؤں پر ایک کسان (اسامی وار) کی زراعت کے حالات (موجودات) کو دریافت کریں اور باریکی سے جانچ کرنے کے بعد حکومت کے مالی مفادات (کفایت) اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو دھیان میں رکھتے ہوئے ’’ جمع‘‘ کی تشخیص کریں۔
آپ کے خیال میں بادشاہ نے تفصیلی جائزے پر کیوں زور دیا ہے؟

ماخذ 6

نقد یا جنس؟

زمین کی مال گذاری کی وصولی پر آئین کا بیان درج ذیل ہے:
عامل گذار صرف نقد میں لینے کا معمول نہ بنائیں بلکہ جنس میں بھی لیں۔ یہ طریقہ مختلف طریقوں سے مئوثر ہوسکتا ہے ۔ پہلا’’ کنکوت‘‘: ہندی زبان میں’’ کن‘‘ اناج کے معنی رکھتا ہے اور ’’کوت‘‘ تخمینہ........ اگر کوئی شبہ ابھرتا ہے تو فصل کو کاٹنا ہوگا اور تین حصّوں ۔عمدہ ، اوسط، اورناقص تشخیص کرنا ہوگی ۔ اس طرح تردد ختم ہوجائے گا۔ اکثر اندازے کی گئی زمین کی تشخیص کلّی طور پر صحیح معاوضہ دیتی ہے ۔ دوسرے’’ بٹاٹی‘‘: جسے’’ بھاولی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ میں فصل کو کاٹ کر اور انبار لگا کرنیز فریقین کی موجودگی میں مشاہدے کے مطابق تقسیم کرلیتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بہت سے عقلمند مشاہدین درکار ہوتے ہیں۔ ورنہ خراب ذہین اور مکاّر، فریب دہی دیتے ہیں۔ تیسرے ’’ کھیت بٹائی‘‘: اناج کاٹنے کے بعد وہ اس کا انبار لگادیتے ہیں اور پھر اسے خود میں تقسیم کرلیتے ہیں اور ہر ایک فریق اپنا حصہ گھر لے جاتا ہے۔ اس کو منافع میں بدل دیتا ہے۔
مال گذاری کی تشخیص اور وصولی کے ہر ایک نظام میں کاشت کاروں پر کس قسم کا تفاوت ہوتا ہوگا؟



15
16
شکل  8.11
اکبر کے ذریعہ جاری کیے گئے  چاندی کے
روپیہ کے دونوں رخ

گفتگو کیجیے... 

کیا آپ مغلوں کی زمین کے مالگذاری نظام کو ایک لچکدار نظام کے بطور تسلیم کریں گے؟

7.  چاندی کا بہاو 

مغل سلطنت ایشیا کی ان بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو سولہویں اور سترہویں صدی میں اقتدار اور وسائل کومستحکم کرلینے میں کامیاب رہے۔ یہ سلطنتیں ، منگ (جین)،صفوی (ایران) اور عثمانی (ترکی) تھیں۔ ان سلطنتوں کے سیاسی استحکام نے چین سے لے کر بحرروم تک زمینی تجارت کا ایک متحرک نیٹ ورک بنانے میں مدد کی ۔ انکشافی بحری سفروں اور نئی دنیا کے راستے کھلنے کے نتیجے میں ایشیا کی (خاص طور پر ہندوستان کی) یوروپ کے ساتھ تجارت میں زبردست توسیع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان کی سمندر پار تجارت میں بڑا جغرافیائی تنوع پیدا ہوا ساتھ ہی ساتھ اس تجارت میں اشیا کی ترکتب میں توسیع ہوئی۔ بڑھتی تجارت کے ساتھ ہندوستان بہم پہنچانے (برآمد) والی اشیا کی ادائیگی کرنے کے لیے ایشیا میں بڑی مقدار میں چاندی آئی اور اس چاندی کا ایک بڑا حصہ ہندوستان کی طرف کھنچا چلا آیا ۔ یہ ہندوستان کے لیے  بہتر  تھا ۔یہاں چاندی کے قدرتی وسائل نہیں تھے۔ اس کے نتیجے میں سولہویں اور اٹھارہویں صدیوں کے دوران ہندوستان میں دھاتی کرنسی خاص طور پر چاندی کے ’’ روپیہ‘‘ کی فراہمی میں قابل ذکر استحکام بنا رہا۔ اس نے معیشت میں نقدی کے چلن اور سکوّں کی ڈھلائی میں بے نظیر آسانی پیدا کی۔ ساتھ ہی ساتھ مغل ریاست کو نقدی میں محصول و مال گذاری اکٹھا کرنے کے قابل ِبنایا۔
اٹلی کے ایک سیّاح جیووانی کا ویری کی شہادت جو تقریباً 1690 میں ہندوستان سے ہوکر گیا تھا ،ایک تحریری تصویر کشی مہّیاکراتا ہے کہ کس طرح چاندی تمام دنیا کا سفر کرکے ہندوستان پہنچتی تھی۔ وہ ہم کو سترہویں صدی میں نقدی کی غیر معمولی مقدار اور اشیا کے لین دین کا ایک مشاہدہ کراتا ہے۔
17
18
شکل 8.12
اورنگ زیب کے ذریعہ جاری چاندی کے روپیہ کی تصویر
19
شکل 8.13
یوروپی بازاروں کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے بر صغیر میں کپڑا پیداوار کی ایک مثال


گفتگو کیجیے...

معلوم کیجئے کہ موجود ہ دور میں آپ کی ریاست میں زرعی پیداوار پر کسی طرح کے ٹیکس لگائے جاتے ہیں یا نہیں؟ آج کے دور کی ریاستی سرکاروں کے ذریعہ اپنائی گئی پالیسی اور مغل مالیاتی پالیسی کی مماثلت اور فرق کی وضاحت کیجئے۔

ماخذ 8

ہندوستان میں چاند ی کس طرح آئی؟

جیووانی کا ریری (برنئیر کے تذکرے کی بنیاد پر) کے ایک اقتباس سے دولت کی بڑی مقدار کا ادراک ہوتا ہے جو مغل سلطنت کے اندر اس راستے سے حاصل ہو رہی تھی:
اس (مغل) سلطنت کی دولت کا وہ قارئین تھوڑا سا تصوّر کر سکتے ہیں ۔ وہ اس کا مشاہدہ کریں کہ پوری دنیا میں گردش کرنے والا سارا سونا چاندی آخر کار یہاں مرتکز ہوجاتا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ اس کا بڑا حصہ امریکہ سے آتا ہے اور یوروپ کی کئی ریاستوں سے گذرتے ہوئے، تھوڑا حصہ کئی قسم کی اشیا کے لیے ترکی میں جاتا ہے اور تھوڑا سا حصہ ریشم کے لیے سمرانہ کے راستے فارس (ایران) پہنچتا ہے۔ اب ترکی کے لوگ قہوہ سے باز رہنے کے قابل نہیں ہیں جو کہ مان (عمان ) اور عرب سے آتی ہے۔۔۔ نہ ہی فارس ، عرب اور ترکی کے لوگ ہندوستان کی اشیا کے بغیر رہ سکتے ہیں ۔ نقدی کی بڑی مقدار بحراحمر پر بے بل منڈل کے قریب واقع موکا (موچا) بھیجتے ہیں اور خلیج فارس کے کنارے واقع بصرہ بھیجتے ہیں۔۔۔۔ بعد میں جس کو جہاز پر لاد کر ہندوستان (ہندوستان) بھیج دیتے ہیں۔ ہندوستانی جہازوں کے علاوہ ڈچ، انگریز اور پرتگالی جہاز ہر سال ہندوستان کی اشیا  پیگو، تاناسیری (میانمارکے حصے)، سیام (تھائی لینڈ)، سیلون (سری لنکا)۔۔۔۔ مالدیپ کے جزائر، موزمبیق اور دیگر مقامات پر لے جاتے ہیں۔ ضروری طور پر بہت سارا سونا اور چاندی ان ممالک سے وہاں پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ جو ڈچ لوگ جاپان کی کانوں سے حاصل کرتے ہیں۔ جلدی یا دیر سے ہندوستان چلاجاتا ہے۔ یہاں سے یوروپ کو جانے والی اشیا چاہے وہ فرانس ،انگلینڈ یا پرتگال جانے والی ہوں، ساری نقد خریدی جاتی ہیں جو (نقد)  ہندوستان جاتا ہے‘‘۔

8.  ابوالفضل علامی کی آئین اکبری

’’آئین اکبری‘‘ درجہ بندی کے ایک بڑے تاریخی اور انتظامی منصوبے کی معراج تھی جس کی   ذمّہ داری ابولفضل نے بادشاہ اکبر کے حکم سے اٹھائی تھی۔ اس کو بادشاہ اکبر کے جلوس حکومت کے بیالیسویں سال، 1598میں پانچ بار نظر ثانی کرکے مکمل کیا تھا ۔ آئین اکبر کے حکم سے تاریخ لکھنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھی۔ یہ تاریخ’’ اکبر نامہ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ جو تین جلدوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی دو جلدیں تاریخی واقعات کا بیان مہیا کراتی ہیں۔ ان حصوں پر ہم باب 9 میں نظر ڈالیں گے۔ تیسری جلد آئین اکبر ی کو شاہی ضوابط کے خلاصے اور سلطنت کے گزیٹر (فرہنگ) کے طور پر مرتب کیا گیا تھا۔
آئین ، دربار کی تنظیم ،انتظام حکومت اور فوج، محصولات کے ذرائع اور اکبرکی سلطنت کے صوبہ جات کا جغرافیائی خاکہ اور خواندگی ، عوام کی ثقافتی اور مذہبی روایات کا تفصیلی تذکرہ بیان کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اکبر کی حکومت کے مختلف شعبۂ جات کا بیان اور سلطنت کے مختلف صوبہ جات کی مکمل کیفیت بیان کرتی ہے نیز ہمیں ان صوبہ جات کی پیچیدہ مقداری اطلاعات دیتی ہے۔ 
ان اطّلاعات کو جمع کرکے نظم و ترتیب کے ساتھ مرتّب کرنا ایک اہم شاہی مشق تھی۔  اس نے بادشاہ کو اس کی سلطنت کی تمام وسیع عملداریوں میں مختلف اور متنوّع رسم و رواج اور معمولات کی جانکاری دی ۔ چنانچہ آئین ہمارے لئے اکبر کے عہد کی مغل سلطنت کے متعلق اطّلاعات کی ایک کان (معدن) ہے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ علاقوں کے متعلق آئین کا نظریہ مرکز کا نظریہ ہے یا یوں کہا جائے کہ چوٹی سے دکھائی سماج کی تصویر ہے۔
آئین پانچ فصلوں (دفتروں) کا مرکب ہے جس کی پہلی تین فصل انتظام ِحکومت کا تذکرہ کرتی ہیں ۔’’ منزل آبادی ‘‘ نامی پہلی فصل شاہی گھرانے اور اس کی خبر گیری سے متعلق ہے۔’’ سپاہ آبادی ‘‘ کے نام سے معنون دوسری فصل فوجی اور شہری انتظام اور خدمتگاروں کے ادارہ کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب شاہی افسران (منصب دار) ، علما و فضلا شاعروں اور مصوّروں کے مختصر سوانحی خاکوں اور اعلانات پر مشتمل ہے۔
تیسری فصل ’’ ملک آبادی‘‘ وہ فصل ہے اجس میں سلطنت کے مالیاتی پہلو کے ساتھ بحث کی گئی ہے اور مال گذاری کی شرحوں پر تفصیلی مقداری اطّلاعات مہیّاکرانے کے بعد ’’ بارہ صوبوں کا بیان ‘‘ درج کیا گیا ہے۔ اس فصل میں اعداد وشمار کی اطّلاعات تفصیل سے درج ہیں جس میں تمام صوبوں اور ان کے انتظامی و مالیاتی شعبوں (سرکار، پرگنہاور محال) کی جغرافیائی ، نقشہ سازی اور معاشی یک رخی خاکہ شامل ہے۔ ساتھ ہی کل پیمائش شدہ علاقہ اور تشخیص شدہ مال گذاری (جمع) بھی دی گئی ہے۔
صوبہ سطح کی تفصیل دینے کے بعد آئین صوبہ سے نیچے ’’ سرکار‘‘ شعبہ سے متعلق تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ اطّلاعات جدول کی شکل میں دی گئی ہیں۔ ہرجدول میں آٹھ خانے ہیں جو مندرجہ ذیل اطّلاعات فراہم کراتے ہیں: (1) پرگند؍محال (2) قلعہ(3) اراضی اور زمین پیمودہ (پیمائش کیے گئے علاقے) (4) نقدی، محصولات کی تشخیص نقد میں (5) سیورغال آمداد کے بطور دیے گئے مال گذاری عطیات (6) زمیندار، خانہ (7) اورخانہ (8) زمینداروں کی ذات-ان کی فوج بشمول ان کے گھوڑ سوار۔پیدل فوجی (پیادہ) اور ہاتھیوں (فیل(کی تفصیل پرمشتمل ہے۔ ’’ ملک آبادی ‘‘ شمالی ہندوستان کے زرعی سماج کی تفصیلی ، دلکش اور پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ چوتھی اور پانچویں فصل (دفتر) ہندوستان کی عوام کی مذہبی، علمی اور ثقافتی روایات سے بحث کرتی ہے اور ساتھ ہی اکبر کے ’’ مبارک اقوال‘‘ کے مجموعہ پر مشتمل ہے۔
20
شکل 8.14
ابوالفضل اپنے سرپرست (اکبر) کو مکمل ’’ اکبرنامہ‘‘
کا مخطوطہ پیش کر رہا ہے۔

ماخد 9

قسمت کے گلاب کے باغیچہ سینچناو

اس اقتباس میں ابوالفضل واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس نے کیسے اور کن لوگوں سے اطّلاعات جمع کی ہیں:
....... ابوالفضل ولد مبارک کو....... یہ انتہائی حکم دیا گیا۔’’ رفیع الشان واقعات اور ہمارے مقبوضات ومطیع کرنے والی فتوحات کا تذکرہ خلوص کے قلم کے ساتھ تحریر کیا جائے....... بے شک میں نے کافی محنت اور تحقیق کرکے بادشاہ سلامت کے افعال کے دستاویزات اور اقوال جمع کئے ۔ طویل وقت تک میں نے ریاست کے زمین دار اور عالی خاندان کے بزرگوں سے استفسار کیا۔ میں نے زیرک و ہوشیار ، سچ بولنے والے بزرگوں اور فعّال ذہن والے ،صحیح اعمال والے نوجوان دونوں کی باتوں کی اور ان کے بیانات کو تحریری طور پر موضوع بنایا ۔ صوبوں کو شاہی حکم جاری کیا گیا تھا کہ پرانے ملازمین کو جو بھی پچھلی باتیں یاد ہوں، ماضی کے واقعات یقین کے ساتھ یا تائیدی شک کے ساتھ ، وہ اپنے اشارات اور یادداشتیں تحریر کریں اور انھیں دربار کو روانہ کریں۔ (پھر) اس مقدس دیوان خانہ شاہی سے دوسرا فرمان  جاری ہوا ، یعنی ۔ جوبھی مواد جمع کیا جائے گا......... اسے شاہی موجود گی میں پڑھ کر سنایا جائے گا اور اس کے بعد جو کچھ بھی تحریر ہونا ہوگا اسے اس عظیم الشان کتاب میں بطور تکملہ واضافہ شامل کیا جائے گا۔ ایسی تفصیلات جو تفتیش کی باریکیوں کی وجہ سے اورمعاملات کی باریکیوں کی وجہ سے (جو) انجام تک نہیں لائی جاسکیں انھیں میں اپنے اطمینان کے بعد اس میں شامل کرونگا۔
ملکوتی ضابطے کی ترجمانی کرنے والے اس شاہی حکم کی داد رسی واعانت کی وجہ سے اپنے دل کے مخفی اضطراب سے راحت کے بعدمیں نے خاما آ و ناتمام مسوّدہ تیار کرنے کے لیے تحریر میں منحصر کرنا شروع کیا جو آرائش ترتیب اور اسلوب بیان سے خالی تھا۔ جب الہی سن کے انیسویں سال شاہ سلامت کی روشن خیال دانش مند کے ذریعہ ایک دستاویزات کا آفس قائم کیا گیا تھا، میں نے واقعات کی تاریخ و سرگذشت کو حاصل کرنے کی شروعات کی۔ میں نے بہت سے واقعات کے بیانات کو مجتمع کیا۔ حد سے زیادہ تکلیف اٹھاکر زیادہ تر فرامین کی اصل یا نقل حاصل کی جو تخت نشینی سے لے کر آج تک صوبوںکوجاری کیے گئے تھے........کافی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے ان میں سے بہت سی رودادوں (رپورٹوں) کو بھی شامل کیا جو سلطنت کے معاملات اور غیر ممالک کے واقعات کے متعلق تھیں جن کو وزرا اور اعلیٰ افسران نے پیش کیا تھا اور تفتیش و تحقیقات کے آلات کے ذریعہ میری محنت کش محبت آمیز روح آسودہ ہوگئی ۔ میں نے مستعدی سے کوشش کرتے ہوئے زیرک و دانشمند اور باخبر افراد کے خام اشارات اور یادداشتیں جمع کیں۔ ان وسائل کے ذریعہ میں نے قسمت کے گلاب کے باغ (اکبر نامہ) کوتر کرنے اور سینچنے کے لیے حوض تعمیر کیا۔

ان سبھی ماخذوں کی فہرست تیار کیجئے جن کا استعمال ابوالفضل نے اپنی کتاب تیار (تحریر) کرنے کے لیے کیا تھا۔ زرعی تعلقات کو سمجھنے کے لیے ان میں سے کون سے ماخذ سب سے زیادہ فائدہ مند ہونگے؟ ابولفضل کی کتاب آپ کے خیال میں کس حد تک اکبر کے ساتھ اس کے رشتوں سے متاثر ہوئی ہوگی


آئین کا ترجمہ

آئین اکبری کو دی گئی اہمیت کی وجہ سے بہت سے دانشوروں کے استعمال کے لئے اس کا ترجمہ کیا گیا۔ ہنری بلاک مین نے اس کو مرتب کیا اور ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال ، کلکتہ (موجودہ کولکاتا) نے اپنی ببلو  تھیکا انڈیکا سیریز میں اس کو شائع کیا۔ اس کتاب کا تین جلدوں میں انگریزی میں ترجمہ بھی کیا گیا ۔ پہلی جلد کا میعاری ترجمہ ہنری بلاک مین (کلکتہ 1873) نے کیا تھا۔ دیگر دو جلدوں کا ترجمہ ایچ۔ ایس۔ جیرٹ (کلکتہ1891اور 1894) نے کیا تھا۔

اگرچہ اکبر بادشاہ کی طرف سے اپنی سلطنت میں فرمانروائی کرنے میں آسانی بہم پہنچانے کے لیے آئین اکبری کو سرکاری طور پرمفصّل اطّلاعات اندراج کرنے کے لیے کفیل کیا گیا تھا۔ یہ کتاب سرکاری دستاویزات کو محض نقل کرنے سے کہیں زیادہ تھی۔ مصنف کے ذریعہ اس کے مسوّدہ کی پانچ مرتبہ تصحیح کی گئی جس سے ایسا لگتا ہے کہ (واقعات کے) مستند ہونے کی تحقیق میں ابوالفضل نے انتہائی درجہ احتیاط سے کام لیا تھا۔ مثال کے طور پر زبانی روایت کو ’’ امرواقعہ‘‘ کے بطور تاریخ میں شامل کرنے سے قبل ، دیگر ثبوتوں سے اس کی تصدیق کی گئی تھی۔ مقداری ابواب میں تمام اعداد و شمار کو الفاظ میں بھی نقل کیا گیا تا کہ بعد کے نسخوں میں نقل کرنے سے متعلق کم سے کم اغلاط ہوں۔
جن مؤرخین نے ہوشمندی کے ساتھ آئین کا مطالعہ کیا ہے وہ اس بات کی نشاند ہی کرتے ہیں کہ یہ پوری طرح مسائل سے مبرّا نہیں ہے ۔ کل جمع کرنے میں کئی اعدادی اغلاط پائی گئی ہیں۔ یا تو یہ کاتب کی چھوٹی موٹی غلطیاں ہیں یا پھر ابوالفضل کے معاونین کی نقل کرنے کی غلطیاں ہیں ۔ عام طور پر یہ غلطیاں معمولی ہیں اور مجموعی سطح پر کتابوں کے اعداد و شمار کی صداقت کو کم نہیں کرتی ہیں۔
آئین کی ایک دیگر حد یہ ہے کہ اس کے مقداری اعداد و شمار کی نوعیت کسی قدر خمیدہ ہے۔ تمام صوبوں سے اعداد و شمار یکساں انداز میں جمع کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر –اگر چہ کئی صوبوں کے لیے ، زمینداروں کی ذات کی ترتیب سے متعلق مفصّل اطّلاعات مرتب کی گئیں وہیں بنگال اور اڑیسہ کے لیے ایسی اطّلاعات دستیاب نہیں ہیں ۔ مزیدبراں اگرچہ صوبوں سے لیے گئے اس کے مالیاتی اعداد و شمار افراط میں قابل ذکر ہیں وہیں انہی علاقوں سے قیمتوں اور اجرت جیسے اتنے ہی اہم میعارات اتنے اچھے انداز میں درج نہیں کیے گئے ہیں۔ قیمتوں اور اجرتوں کی جو تفصیلی فہرست آئین میں دی گئی ہے وہ بنیادی طور پر سلطنت کی راجدھانی آگرہ اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں سے مہیّاکرائی گئی ہے۔ تاہم ملک کے باقی حصوں کے لئے ان کی مناسبت محدود ہے۔

 ان حدود ات کے باوجود آئین اپنے عہد کی ایک غیر معمولی دستاویز ہے۔ مغل ریاست کی تنظیم اور ساخت کو مسحور کرنے والے سرسری جلوے پیش کرکے اور اس کی پیداوار و عوام کے متعلق مقداری اطّلاعات دے کر، ابوالفضل عہد وسطی کے مؤرخین کی روایت سے بہت آگے نکل گیا۔ یہ ایک بڑی کا میابی تھی کیونکہ ابوالفضل سے قبل کے مؤ رخین نے زیادہ تر قابل ذکر سیاسی واقعات ، جنگیں، فتوحات ، سیاسی سازشیں اور سلسلہ سلاطین کی ہل چل و اضطراب کے متعلق ہی لکھا تھا ۔ ملک ، اس کے لوگ اور اس کی پیداوار کے متعلق اطّلاعات صرف ضمناً دی گئی ہیں اور گویا کہ لازمی طور پر تزئین کاری کے لیے سیاسی یورشوں کی حکایتیں تھیں۔ 

       ہندوستان کی عوام اور مغل سلطنت کے متعلق اطّلاعات درج کرکے آئین نے گویا پوری طرح گذشتہ روایت سے انحراف کیا ۔ اس طرح سترھویںصدی کے موڑ پر ہندوستان کے مطالعہ کے لیے ایک ساختی نشان بن گئی۔ جہاں تک زرعی تعلقات کے مطالعہ کی بات ہے، آئین کے مقداری شواہد کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن لوگوں ، ان کے پیشوں اور کاروبار اور شاہی اداروں پر اور سلطنت کے امرا کے ضمن میں جواطّلاعات اس میں شامل ہیں وہ مؤرخین کو اس زمانے کے ہندوستان کے سماجی تانے بانے کی تعمیرِ نوَ کا مجاز بناتی ہے۔


ٹائم لائن
مغل سلطنت کی تاریخ کے دور آفریں واقعات
1526 پانی پت کے میدان میں دہلی کے سلطان ابراہیم لودی کوشکست دے کر بابر پہلا مغل بادشاہ بنا۔
1530-40 ہمایوں کے اقتدار کا پہلامرحلہ
1540-55 شیر شاہ نے ہمایوں کو شکست دی،۔ ہمایوں کا جلا وطن کی حیثیت سے صفوی دربار میں جانا
1555-56 ہمایوں کا کھوئی ہوئی سلطنت کو دبارہ حاصل کرنا۔
1556-1605 اکبر کا دور حکمرانی
1605-27 جہانگیر کا دور حکومت
1627-58 شاہجہاں کا دور فرمانروائی
1658-1707 اورنگ زیب کا دور حکومت
1739 نادرشاہ کا ہندوستان پرحملہ اور دہلی کو تخت و تاراج کرنا
1761 احمدشاہ ابدالی نے پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹّوں کو شکست دی
 1765
بنگال کے دیوانی کے حقوق ایسٹ انڈیا کمپنی کو منتقل کیے گئے
 1857
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفردوم کو انگریزوں کے ذریعہ تخت سے اتارنا اور جلاِوطن شکرکے 
رنگون(موجودہ ینگون، میانمار) بھیجنا۔

جوابات 100سے  150الفاظ میں تحریر کیجئے۔

1-  ازسرنو زرعی تاریخ تحریر کرنے کے لئے آئین کو ایک ماخذ کی حیثیت سے استعمال کرنے میں کون سی مشکلات ہیں؟ مئورخین ان حالات سے کیسے پیش آتے ہیں؟
2- سولہویں سترہویں صدی میں زرعی پیداورا کو کس حد تک معقول بقائے زندگی کی زراعت کا نام دے سکتے ہیں؟اسباب بیان کیجئے۔
3-  زرعی پیداوار میں خواتین کے کردار کا تذکرہ کیجئے۔
4-  زیر غور عہد میںنقدی کے انصرام (لین دین) کی اہمیت پر بحث مثالوں کے ساتھ کیجئے۔
5-  ان ثبوتوں کی جانچ کیجئے جو یہ تجویز کرتے ہیں کہ مغل مالیاتی نظام کے لئے زمین کی مال گزاری اہم تھی۔

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون

(تقریباً 250 سے 300 الفاظ پر مشتمل ) لکھیئے۔
6 آپ کے خیال میں زرعی سماج میں سماجی اور معاشی تعلقات کو متاثر کرنے میں ذات کس حد تک ایک عنصر تھا۔
7   سولہویں اور سترہویں صدی میں جنگل کے باشندوں کی زندگی کس طرح بدل گئی تھی؟
8 مغل ہندوستان میں زمینداروں کے کردار کی جانچ کیجئے۔
9    کس طرح سے پنچاتیں اور گاؤں کے مکھیا دیہی سماج کو منضبط کرتے تھے؟بحث کیجئے 

21
شکل 8.15   سترہویں صدی کی اس تصویر میں سناروں کو مصو ّر کیا گیا ہے۔

نقشے کا کام 

10۔ دنیا کے نقشے میں ان علاقوں کی نشاندہی کیجیے جو مغلیہ سلطنت کے ساتھ معاشی رابطے میں تھے اور ترسیل کے ممکنہ راستوں کا سراغ لگائیے۔

پروجیکٹ (کوئی ایک)

11۔ پڑوس کے ایک گاؤں کا دورہ کیجیے اور معلوم کیجیے کہ یہاں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ کون سی فصلیں اگائی جاتی ہیں؟ کون سے جانور پالے جاتے ہیں؟ یہاں کون سی دست کار جماعتیں رہتی ہیں؟ خواتین کی اپنی زمین ہےیا نہیں؟اور مقامی پنچایت کس طرح کام کرتی ہے؟سولھویں اور سترھویں صدی کے متعلق آپ نے جو پڑھا ہے اس سے ان اطلاعات کا موازنہ کرتے ہوئے یکسانیت اور اختلاف کو تحریر کیجیے۔تبدیلیاں اور تسلسل جو آپ نے معلوم کی ہیں،دونوں کی وضاحت کیجیے۔
12۔   ’آئین‘ کا ایک چھوٹا سا حصہ کیجیے(10 سے 12 صفحات،جو آگے بتائی گئی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں)۔ اسے غور سے پڑھیے اور ایک رپورٹ تیار کیجیے کہ اس کا استعمال ایک مؤرخ کس طرح کرتا ہے؟

22
شکل 16۔8  مٹھائ فروخت کرتی ہوئ عورت کی تصویر

 مزید معلومات ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے۔

سمیت گوہا، 1999
Environment and Ethnicity in India
کیمبرج یونیورسٹی پریس ، کیمبرج

عرفان جیب،1999
 1707-The Agrarian System of Mughal India 1556

آکسفرڈ یونیورسٹی پریس ۔ نئی دہلی (طبع ثانی)
ڈبلیو۔ ایچ۔ مورلینڈ،1983(طبعثانی)
 An Economic India :India at the Death of Akbar 
اورینٹل لانگ مین، نئی دہلی

پتن رائے چودھری اور عرفان جیب (مرتبہ)2004
The Cambridge Economic History of India  جلداول 
اورینٹ لانگ مین ۔ نئی دہلی

ڈیٹ مار راتھر منڈ،1993
An Economic History of India - from Pre-colonial Times ro 1991
رولٹ لیج،  لندن

سنجے سبرا منیم(مرتبہ)،1994
Money and the Market in India 
1100-1700
آکسفرڈ یونیورسٹی پریس ۔ نئی دہلی۔

مزید معلومات کے لئے آپ مندرجہ ذیل 
ویب سائٹ پر رابطہ کرسکتے ہیں:
http://persian.packhum. org
Persianindex. jsP? serv=
pt&file= 00702053&ct=0