موضوع نو آبادیت اور دیہات
دس سرکاری دستاویزات کی تحقیق اور تفتیش

شکل 10.1
گاؤں سے منڈی کی طرف لے جائی جاتی کپاس
السٹرٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر، 20 اپریل 1861
راجہ(لغوی معنی بادشاہ) کی اصطلاح کا استعمال عموما طاقتور زمین داروں کے لیے کیا جاتا ہے۔

شکل 10.2
ڈائمنڈھار برروڈ، کلکتہ میں واقع بردوان کے راجہ کا محل
انیسویں صدی کے آخر تک بنگال کے بہت سے مالدار زمیں داروں نے اپنے لیے اس طرح کے کور نتھین ستونوں کے ذریعہ سہارا دیے گئے داخلی پیش دہلیز(برساتی) والے، جس میں بال روم، وسیع میدان ہوتے تھے، شہر ی محل بنوائے تھے۔
1۔ بنگال اور زمین دار
(BENGAL AND THE ZAMINDARS )
1.1 بردوان میں ایک نیلامی (An auction in Burdwan )
نیلامی میں خریدار کون لوگ تھے؟
1.2 ادانہ کی گئی مال گزاری کا مسئلہ
(The problem of unpaid revenue)

شکل 10.3
چارلس کارنولس(1738-1805) کی 1785 میں تھامس گینزبرگ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر۔
امریکہ کی جنگ ِ آزادی کے زمانے میں کارنوالس برطانوی فوج کا کامنڈر تھا اور 1793 میں جب بنگال میں استمراری بندوبست رائج کیا گیا اس واقت کارنوالس بنگال کا گورنر جنرل تھا۔
تاہم مسئلہ یہ شناخت کرنے کا تھا کہ وہ کون سے افراد ہیں جو زراعت میں اصلاح کرنے کے ساتھ ریاست کو طے شدہ مال گزاری ادا کرنے کی ٹھیکہ دے سکیں گے۔ کمپنی کے افسران کےدرمیان طویل مباحثے کے بعد بنگال کے راجاؤں اور تعلقہ داروں کے ساتھ استمراری بندوبست وجود میں آیا۔ ان کی بطور زمین دار درجہ بندی کردی گئی۔ ان کو ایک متعین مال گزاری مطالبہ دائمی طور پر ادا کرنا تھا۔ اس شرائط کے مطابق زمین دار گاؤں میں زمین مالک نہیں بلکہ وہ ریاست کی مال گزاری جمع کرنے والا تھا۔
زمین داروں کے تحت بہت سے گاؤں (کبھی کبھی 400 تک) ہوتے تھے۔ کمپنی کے تخمینے کے مطابق ایک زمین داری کے اند ر آنے والے مل کر ایک مال گزاری جائداد یعنی علاقہ تشکیل دیتے تھے۔ کمپنی پوری جائداد یا علاقے پر کل مطالبہ طے کرتی تھی جس کی مال گزاری ادا کرنے کا اقرار زمین دار کرتا تھا۔ زمین دار مختلف گاؤں سے کرایہ(مال گزاری) جمع کرتا تھا اور کمپنی کو مال گزاری ادا کرتا تھا نیز معین رقم کا فرق اپنے پاس بطور اپنی آمدنی رکھتا تھا۔ اس سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ کمپنی کو مستقل طور پر مال گزاری رقم ادا کرے گا اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگا تو اس کی جائداد نیلام کی جاسکتی ہے۔
تعلقہ دار کے لغوی معنی ہیں"ایسا شخص جس کے سات تعلق یا رشتہ قائم ہو۔ بعد ازاں یہ لفظ تعلق علاقائی اکائی کو مختص کرنے کے لیے مستعمل ہوا۔
رغبت اصطلاح کا استعمال برطانوی دستاویزات میں کسانوں (باب8) کے لیے استعمال کیا جا تا تھا بنگال میں رعیت ہمیشہ زمین کو راست طور پر کاشت نہیں کر تی تھی بلکہ ما تحت (شکمی رعیت) کو آگے بٹہ پر دیا کرتی تھی۔
1.3 زمین دار کیوں رقم ادا کرنے کی پابندی نہیں کرتے تھے۔
(Why zamindars defaulted on payments)
1.4 جوت داروں کا عروج (The rise of the jotedars)

شکل 10.4
بنگال کے گاؤں کا منظر، جارج ھنری کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1820
ہنری ہندوستان میں 23 سال (1802-25) تک قیام پذیر رہا۔ اس دوران اس نے عام آدمی کی روزمرہ کی زندگی اور زمینی مناظر کی تصویر کشی کی۔ نیچے کی تصویر میں دیہی بنگال کے ایک گھر کی تصویر بنائی گئی ہے۔ جوت دار اور مہاجن ایسے ہی گھروں میں رہتے تھے۔

- زمین دار ذمہ دار تھے۔
- کمپنی کو مال گذاری ادا کرنے کے لیے
- گاؤں پر مالگذاری کا مطالبہ (جمع) کی حد بندی (تقسیم) کرنے کے لیے۔
- گاؤں کی ہر ایک چھوٹی بڑی رعیت زمین دار کو محصول ادا کرتی تھی۔
- جوت دار دیگر رعیتوں کو قرض دیتے اور اپنی پیداوار فروخت کرتے تھے
- رعیت کچھ زمین کی کاشت کرتی تھی اور باقی زمین ماتحت رعیت (شکمی رعیت)کو محصول پر دیتی تھی۔
- شکمی رعیت، رعیت کو محصول ادا کرتی تھی۔
شکل 10.5
دیہی بنگال میں طاقت و اقتدار
متن کو شکل 10.5 کے ساتھ غور سے پڑھیے اور تیر کے مقامات کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل الفاظ کو مناست مقام پر رکھیے: محصول ، مال گزاری، سود ، قرض، پیداوار
1.5 زمین داروں کی مزاحمت(The zamindars resist)
ماخذ1
دیناج پور کے جوت دار(The jotedars of Dinajpur)
بکانن بیان کرتا ہے کہ شمالی بنگال کے دیناج پور ضلع کے جوت دار کس طرح زمین دار کے نظم و ضبط کی مزاحمت کرتے تھےاور اسکے اقتدار کی جڑیں کھودتے تھے:
زمین مالکان اس طبقےکے افراد کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا ہونا نہایت ضروری تھا اس لیے کہ اس کے بغیر ضرورت مند کاشت کاروں کو قرض کی رقم کون دیتا......
جوت دار جو زمین کے بڑے حصے کو کاشت کرتے ہیں، بہت ضدی ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ زمین داروں کے ان پر کوئی قدرت و طاقت نہیں ہے وہ تو ان کو مال گزاری کی شکل کی میں کچھ ہی روپئے دیتے ہیں اور ہر قسط میں کچھ نہ کچھ رقم بقایا رہ جاتی ہے۔ ان کے پاس پٹے کی حق دار سے زیادہ زمین ہے۔ زمین دار کے افسران اگر نہیں کچہری میں بلاتے ہیں اور انہیں ڈرنے دھمکانے کے لیے گھنٹے دو گھنٹے کچہری میں روک لیتے ہیں تو وہ فوراً ہی ان کی شکایت کرنے کے لیے فوج داری تھانہ(پولس اسٹیشن)یا منصف کی کچہری میں پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمین دار کے کارندوں نے ان کی بے عزتی کی ہے۔ اس طرح مال داری بقایاجات رقم کے بغیر تصفیہ معاملات مسلسل ہیں۔ یہ (جوت دار ) چھوٹی رعیت کو ان کا مال گزری ادانہ کرنے کے لیے اکساتے رہتے ہیں....
بیان کیجئے کہ جوت دار زمین داروں کے اقتدار کی کس طرح مزاحمت کرتے تھے۔

شکل 10.6
مہاراجہ مہتاب چند (1820-79)
جب استمراری بندوبست نافذ کیا گیا اس وقت تیج چند بردوان کا راجہ تھا۔ اس کے بعد مہتاب چند کے تخت بردوان کی زمین داری کو کافی فروغ حاصل ہوا ۔ مہتاب چند نے سنتھال بغاوت اور 1857 کی بغاوت میں انگریزوں کی مدد کی۔
"بے نامی" کے لغوی معنی گمنام ہونا ہے۔ ہندی اور دیگر بہت سی ہندوستانی زبانوں میں اس اصطلاح کا استعمال ایسے انصرام کے لیے کیا جاتا ہے جو کسی فرضی یا نسبتاً غیر اہم افراد کے نام سے کیے جاتے ہیں حالانکہ ان میں اصلی فائدہ پانے والے فرد کا نام نہیں دیا جاتا ۔
"لٹھیال" کے لغوی معنی ہیں وہ فرد جس کے پاس لاٹھی یا ڈنڈا ہو۔ یہ زمین داری کے طاقتور فرد کے طور پر کام کرتے تھے۔
1.6 پانچویں رپورٹ(The Fifth Report)

شکل 10.7
انڈل راج محل
راج محل کے کھنڈرات ایک عہد کے خاتمہ کے بصری نشانات ہیں۔ اشرافیہ زمین دار طبقے کے زوال پذیر طرزِ زندگی پر بنی ستیہ جیت رے کی مشہور فلم "جلسا گھر" اسی انڈل راج محل میں عکس بند کی گئی تھی۔
جس لہجے میں ثبوت ریکارڈ کیا گیا ہے اس سے رپورٹ میں بیان کردہ حقائق کے ضمن میں تحریر کرنے والے کے رویہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ اعدادو شمار کے ذریعہ رپورٹ میں کیا کہنے کی کوشش کی گئی ہے؟ آپ کے خیال میں کیا ان دو سالوں کے اعداد وشمار سے کسی بھی مسئلہ کے متعلق طویل مدتی عمومیت پیش کی جا سکتی ہے؟
بحث کیجیے
ماخذ 2
پانچویں رپورٹ سے اقتباس (From the Fifth Report)
2. بیلچہ اور ہل (THE HOE AND THE PLOUGH)
2.1 راج محل کی پہاڑیوں میں ( In the Hills of Rajmahal )

شکل 10.8
راج محل میں ایک پہاڑی گاؤں کا منظر ، ولیم ہوجز کے ذریعہ بنائی گئی تصویر، 1782
اوپر کی تصویر کو دیکھیے اور ان طریقوں کی شناخت کیجیے جن کے ذریعہ دلکش مناظر کی روایات کی نمائندگی کی گئی ہے۔
قلم کاری (Aquatint) ایک ایسی تصویر ہے جو تانبے کی چادر پر تیزاب کے ساتھ کٹائی کر کے بنائی جاتی ہے اور پھر اس پر چھپائی ہوتی ہے۔
بکانن کون تھا؟
(Who was Buchanan?)
فرانسس بکانن ایک طبیب (ڈاکٹر ) تھا جو ہندوستان آیا اور بنگال میدیکل سروس میں (1794 سے 1815 تک) ملازمت کی ۔ کچھ سالوں کے لیے وہ ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ویلزلی کا سرجن رہا۔ کلکتہ (موجودہ کولکاتہ) کے قیام ے دوران اس نے ایک چڑیا گھر تشکیل دیا جو کلکتہ علی پور چڑیا گھر بن گیا۔ مختصر مدت کے لیے وہ بوٹانیکل گاردن کا انچارج بھی رہا۔ بنگال خکومت کی درخواست پر اس نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے کا تفصیلی سروے کیا۔ 1815 میں وہ بیمار پڑ گیا اور انگلینڈ واپس چلا گیا۔ اپنی والدہ کی موت کے بعد ان کی جائداد کا وارث بنا اور اس نے اپنی والدہ کے خاندان کا نام "ہملٹن" اختیار کر لیا اس لیے اکثر اس کو بکانن ہملٹن بھی کہا جاتا ہے۔

شکل 10.9
ولیم ھوجز کے ذریعہ بنایا گیا جنگلی علاقہ کا منظر۔
یہاں اپ جنگلات سے ڈھکی نچلی پہاڑیاں اور اوپر چٹانی سلسلے کو بھی دیکھ سکتے ہیں جو حقیقیت میں کہیں بھی 2,000 فٹ سے زیادہ اونچی نہیں ہیں۔ ہوجز درمیان میں کھڑی پہاڑیاں دکھا کر ان کے قابلِ حصول ہونے پر زور دینا چاہتا ہے۔
تصویر 10.8 اور 10.9 کو دیکھیے اور بتائیے کہ ان تصاویر میں قبائلی لوگ اور فطرت کے درمیان تعلقات کی نمائندگی کس طرح کی گئی ہے۔
2.2 سنتھال : پہلے رہنما آبادکار
(The Santhals: Pioneer settlers)

شکل م10.10
سنتھال علاقے میں ایک پہاڑی گاؤں۔
23 فروری 1856 میں السٹرٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر۔
1850 کی ابتدائی دہائی میں والٹر شیرول کے ذریعہ بنائی گئی راج محل کی نچلی پہاڑیوں میں واقع ایک گاؤں کی تصویر۔یہ گاؤں پرسکون، پر امن اور دلکش ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی باہر ی دنیا سے متاثر معلوم نہیں ہوتی۔
تصویر 10.12 کا اس سنتھال گاؤں کی تصویر کے ساتھ موازنہ کیجیے۔

شکل 10.11
سیدھو مانجھی، سنتھال بغاوت کا قائد

شکل 10.12
سنتھال برطانوی راج کے سباھیوں سے جنگ کرتے ہوئے۔ 23 فروری 1856 کے السڑ ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر۔
اس بغاوت نے سنتھالوں کے تئیں برطانوی تصور کو تبدیل کر دیا۔ جو گاؤں پہلے پر سکون اور پر امن نظر آ تے تھے(تصویر 10.10) اب تشدد اور خوں ریزی کے مقامات بن گئے۔
تصور کیجیے کہ آپ انگلینڈ میں السڑٹیڈ لندن نیوز کے قاری ہیں۔ تصویر 10.12،10.13 اور 10.14 میں دکھائے گئےمناظر کے تئیں آپ کیسے ردِ عمل ظاہر کریں گے؟ آپ کے ذہن میں یہ تصاویر سنتھالوں کی کیا شبیہ بناتی ہیں؟

شکل 10.13
جلتے ہوئے سنتھال گاؤں 23 فروری 1856 کے السٹر ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر
بغاوت کچل دیے جانے کے بعد علاقے کی تلاشی لی گئی ۔ مشتبہ لوگوں کو پکڑا گیا اور گاؤں کو آگ لگا دی گئی۔ جلتے ہوئے گاؤں کی تصاویر انگلینڈ کی عوام کو دکھائی گئیں۔ ایک دفعہ پھر یہ مظاہرہ کرنے کے لیے برطانوی کتنے طاقتور ہیں اور ان میں بغاوت کو کچلنے اور نو آبادیاتی نظام کو نافذ کرنے کی صلاحیت ہے۔

شکل 10.14
سنتھال قیدیوں کو لے جاتے ہوئے۔ 1856 کے السٹر ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر
دھیان دیجیے کہ ایسی تصاویر کس طرح کے سیاسی پیغام کو ذہن نشین کراتی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ برطانوی افسران فاتحانہ انداز میں فخریہ انداز میں ہاتھی پر سوار ہیں۔ گھوڑے پر سوار ایک افسر حقہ پی رہا ہے۔ اس تصویر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ پریشانی کا وقت ختم ہو گیا اور بغاوت کچل دی گئی ہے۔ باغیوں کو زنجیروں میں باندھ کر کمپنی کے سپاہی انھیں حفاظت کے ساتھ گھیرے ہوئے جیل لے جا رہے ہیں۔
2.3 بکانن کی رواداد (The accounts of Buchanan )
ہم بکانن کی رواداد کی بنیاد پر یہاں خاکہ کھینچ رہے ہیں، لیکن اس کی رپورٹوں کو پڑھتے ہوئے ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک ملازم تھا۔ اس کے سفر صرف برّی مناظر اور نامعلوم کی دریافت کی خواہش سے ہی تحریک یافتہ نہیں تھے۔ وہ نقشہ نویسوں ، جائزہ کاروں، پالکی اٹھانے والوں، قلیوں وغیرہ لوگوں کی ایک بری فوج کے ہمراہ ہر جگہ کوچ کرتا تھا۔ اس کے سفر کا خرچ ایسٹ انڈیا کمپنی برداشت کرتی تھی کیونکہ اسے ان اطلاعات کی ضرورت تھی جن کو جمع کرنے کی امید بکانن سے تھی۔ کانن کو اس بارے میں خاص طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ اسے کیا دیکھنا ہے اور تحریر کرنا ہے۔ وہ جب بھی اپنے لوگوں کی جوج کے ہمراہ کسی گاؤں میں پہنچتا تو اس کو فوراً ہی سرکار کے ایک ایجنٹ کی شکل میں ہی دیکھا جاتا تھا۔
جوں ہی کمپنی نے اپنی طاقت مستحکم کی اور تجارت کی توسیع کی اس نے قدرتی وسائل کی طرف دیکھنا شروع کیا تاکہ ان پر کنٹرول کر کے ان کا استحصال کیا جا سکے ۔ ان نے برّی مناظر اور مال گزاری وسائل کا سروے کیا ، انکشاری مہمیں منظّم کیں اور اطلاعات جمع کرنے کے لیے ماہر ارضیات اور جغرافیہ داں نیز نباتات داں اور طبی ماہرین کو بھیجا ۔ بلا شبہ بکانن ایک غیر معمولی مشاہد تھا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا ، جو جہاں کہیں بھی گیا وہاں اس نے پتھروں اور چٹانوں نیز وہاں کی زمین کی مختلف سطحوں اور پرتوں کا بغور پر مشاہدہ کیا۔ اس نے تجارتی نقطئہ نظر سے قیمتی معدنیات اور پتھروں کو تلاش کیا۔ اس نے خام لوہا، ابرق، گرینائٹ اور سالٹ پیڑ کی تمام علامات کو ریکارڈ کیا ۔ اس نے نمک بنانے اور کانوں سے خام لوہا نکالنے کے مقامی معمولات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔
کسی برّی منظر کے متعلق لکھتے ہوئے بکانن صرف یہ نہیں بیان کرتا کہ اس نے کیا دیکھا اور برّی منظر کیسا لگتا تھا وہ یہ بھی لکھتا کہ اس میں تغیر لا کر اسے زیادہ پیداواری کیسے بنایا جا سکتا ہے، کس طرح کی فصلوں کی زراعت ہو سکتی ہے، کون سے درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور کون سے پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ہم کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی بصارت اور اس کی فوقیت مقامی باشندوں سے مختلف ہوتی تھی۔ کیا ضروری ہے، اس ضمن میں اس کا تخمینہ کمپنی کے تجارتی اغراض و مقاصد اور ترقی کے ضمن میں جدید مغربی تصور سے متعین ہوتا ہے۔ ناگزیر طور پر وہ جنگلاتی باشندوں کی طرزِ زندگی کا ناقد تھا اور یہ محسوس کرتا تھا کہ جنگلات کو زراعتی زمینوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔
ماخذ 3
سنتھالوں پر بکانن کا بیان ( Buchanan on the Santhals)
بکانن لکھتا ہے:
نئی زمینیں صاف کرنے میں بہت ہوشیار ہیں۔ لیکن حقیرانہ انداز میں رہتے ہیں۔ ان کی جھونپڑیوں میں کوئی باڑھ نہیں ہوتی ہے اور دیواریں چھوٹی چھوٹی سیدھی کھڑی کی گئی جھڑوں سے جو کافی نزدیک ہوتی ہیں، بنائی جاتی ہیں، جن پر اندر کی جانب پلاسٹر کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی اور بدسلیقہ ہوتی ہیں اور چھت سپاٹ ہوتی ہیں جس میں بہت کم محربی پن ہوتا ہے۔
ماخذ 4
کڈویا کے قریب کی چٹانیں (The rocks near Kaduya)
بکانن کا رساکہ مندرجہ ذیل جیسے مشاہدات سے بھرا ہوا ہے:
تقریباً ایک میل آگے چلنے کے بعد (میں)کسی سطح کی شہادت کے بغیر چٹانوں کے پہلو کے باہر نکلتے ہوئے کم اونچائی والے حصہ پر آ گیا ؛ یہ ایک چھوٹا دانے دار گرینائٹ ہے ساتھ ہی سرخ قلمی دھات (Feldspar) سنگ مروہ(Quaertz)اور سیاہ ابرق (Black Mica)...
یہاں سے آدھے میل کے فاصلے پر میں ایک دوسری چٹان پر آیا جو طبق در طبق نہیں تھی اور جو عمدہ دانے دار گرینائٹ ساتھ میں پیلی سی قلمی دھات ، سفید سنگِ مروہ اور سیاہ ابرق تھا۔
بحث کیجیے...........
بکانن کیا تذکرہ ارتقا کے متعلق اس کے خیالات کے بارے میں ہمیں کیا بتاتا ہے؟َاقتباس سے حوالہ دیتے ہوئے اپنے دلائل پیش کیجیے۔ اگر آپ ایک پہاڑی باشندے ہوئے تو ان خیالات کے متعلق کیا ردِعمل ہوتا؟
ماخذ 5
جنگلات کی صفائی اور مقیم زراعت کے متعلق
(On clearance and settled cultivation )
3۔ دیہات میں بغاوت(A REVOLT IN THE COUNTRYSIDE)
(بمبئی دکن)(THE BOMBAY DECCAN)
آپ پڑھ چکے ہیں کہ نو آبادیاتی بنگال کے کسانوں اور زمین داروں نیز راج محل کی پہاڑیوں کے پہاڑی اور سنتھالوں کی زندگی کس طرح تبدیل ہوئی۔ آئیے اب مغربی ہندوستان اور بعد کے عہد کی طرف رخ کرتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں کہ ممبئی دکن کے دیہی علاقوں میں کیا ہو رہا تھا۔
ایسی تبدیلیوں کی تحقیق کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہاں کے کسانوں کی بغاوت پر دھیان مرکوز کیا جائے۔ ایسے ماحولیاتی وقت میں باغی اپنا غصہ اور جوش جنون ظاہر کرتے ہیں۔ وہ جسے نا انصافی اور اپنی پریشانی کے اسباب سمجھتے ہیں اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم ان کی مزاحمت کو بطور تمہید سمجھنا چاہتے ہیں اور ان کے غصے کی تہوں کو ادھیڑنا ہے تو ہم کو ان کی زندگی اور تجربات کی جھلک دیکھنی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ ہم سے پوشیدہ رہے گی۔ بغوتیں دستاویزات بھی پیش کرتی ہیں جن کا مؤرخین معائنہ کر سکتے ہیں۔ باغیوں کی حرکات و سکنات سے ہوشیار ہو کر اور نظم و نسق کو دوبارہ قائم کرنے کی خواہش سے ریاست کے عہدے داران صرف باغیوں کو دبانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے اسباب کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ پالیسیوں کو تشکیل دیا جا سکے اور امن و امان قائم کیا جا سکے اس تلاش سے شہادتیں حاصل ہوتی ہیں جس کی مؤرخین تحقیق کر سکتے ہیں۔
انیسویں صدی کے دوران ہندوستان کے مختلف حصوں میں کسانوں نے مہاجنوں اور اناج کے تاجروں کے خلاف بگاوتیں کیں۔ اسی طرح کی ایک بغاوت 1875 میں دکن مین بھی واقع ہوئی۔
3.1 بہی کھاتوں کو جلا دینا (Account books are burnt)
یہ تحریک پونہ(موجودہ پونے) ضلع کے ایک بڑے گاؤں سوپا سے شروع ہوتی ہے۔ سوپا ایک بازار مراکز تھا جہاں بہت سے دکان دار اور مہاجن رہتے تھے۔ 12 مئی 1875 کو قرب و جوار کے دیہی علاقے کی رعیت (کسان) جمع ہو گئے اور دکان داروں پر ان کے بہی کھاتوں اور قرض معاہدوں کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے بہی کھاتوں کو جلایا ، اناج کی دکانوں کو لوٹ لیا اور ساہوکاروں کے گھروں کو بھی آگ لگا دی۔
پونہ سےیہ بغاوت احمد نگر تک پھیل گئی۔ پھیر آئندہ دو مہینوں میں یہ بغاوت مزید 6500 کلومیٹر کے رقبے میں بھیل گئی ۔30 سے بھی زیادہ گاؤں اس سے متاثر ہوئے۔ ہر جگہ بغاوت کا نمونہ ایک جیسا ہی تھا۔ ساہوکاروں پر حملہ کیا گیا، بہی کھاتوں کو جلایا گیا اور قرض معاہدوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ساہوکار گاؤں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اکثر واقعات میں وہ اپنی ملکیت اور مال و اسباب بھی پیچھے چھوڑ گئے۔
جب بغاوت پھیلی تو برطانوی افسران کی آنکھوں کے سامنے 1857 (دیکھیے با ب 11) کے مناظر آ گئے۔ باغی کسانوں کو اطاعت قبول کرنے اور خوفزدہ کرنے کے واسطے گاؤں میں پولس چوکیاں قائم کی گئیں ، جدل ہی فوجوں کو بلایا گایا: 95 افراد کو گرفتار کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو سزا دی گئی لیکن دیہی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے میں کئی مہینے لگ گئے۔
ماخذ6
اس دن سوپا میں(On that day in supa)
16 مئی 1875 کو پونہ کے ضلع مجسٹریٹ نے پولس کمشنر کو لکھا:
بروز سنیچر ، 15 مئی کے دن سوپا میں آنے کے بعد میں اس ہنگامے سے آگا ہ ہوا۔
ایک مہاجن کا گھر جلا دیا گیا، تقریباً ایک درجن مکانوں کو بزورِ طاقت توڑ دیا گیا اور پوری طرح مال و اسباب کوبرباد کر دیا گیا۔حساب کتاب کے کاغذات ، معاہدے ، اناج، دیہاتی کپڑے سڑکوں پر لاکر جلا دیے گئے جہاں راکھ کے ڈھیر اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
چیف کانسٹیبل نے 50 لوگوں کو گرفتار کیا۔ چوری کی دو ہزار کی ملکیت کی باز یافت کی گئی تخمیناً 25,000 روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ مہاجنوں کا نقصان کا دعویٰ ایک لاکھ سے زیادہ کا ہے۔
دکن رائٹس کمیشن
ساہوکار ایک ایسا شخص ہوتا تھا جو مہاجن اور تاجر دونوں کے کردار ایک ساتھ ادا کرتا تھا۔
ماخذ 7
ایک اخبار کی رپورٹ( A news paper report)
رعیت اور مہاجن کے عنوان سے مندرجہ ذیل رپورٹ نیٹیو اوپینین ( Native opinion )
6جون 1876 نامی اخبار میں شائع ہوئی اور بمبئی کے نیٹیو نیوز پیپر میں اس کا حوالہ دیا گیا:
یہ (رعیت) پہلے اپنے گاؤں کی سرحد پر یہ دیکھنے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں کہ اگر سرکاری افسران آ رہے ہیں تو ان کے آنے کی اطلاع مجرموں کو وقت پر ہی دے دیتے ہیں۔ پھر وہ ایک گروہ کی شکل میں جمع ہو کر اپنے قرض خواہ (ساہوکار) کے گھر جاتے ہیں اور ان سے ان کے اقرار نامے اور دیگر دستاویزات حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور انکار کرنے پر قرض خواہوں پر حملہ کرنے اور لوٹ مار کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔اگر ایسے کسی حادثے کے وقت کوئی سرکاری افسر ان کے گاؤں کی طرف آتا ہوا نظر آتا ہے تو جاسوس مجرموں کو اس کی اطلاع دے دیتے ہیں اور بعد میں یہ مجرمین وقت رہتے غائب ہو جاتے ہیں۔
ایک مصنف کے ذریعہ مستعمل الفاظ اور اصطلاحات اکثر ہمیں اس کے میلان خاطر کے متعلق بتاتے ہیں۔ ماخذ 7 کو غور سے پڑھیے اور ان اصطلاحات کی انتخاب کیجئے جو مصنف کے کسی میلان خاطر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بحث کیجیےکہ اس علاقے کی رعیت ایسی حالت کا تذکرہ کس انداز میں کرتی ہوگی۔
3.2 ایک نیا مال گزاری نظام ( A NEW REVENUE SYSTEM)
کرایہ دہندہ کی اصطلاح کا استعمال ایسے لوگوں کی تخصیص کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو اپنی ملکیت سے کرایہ آمدنی پر زندگی گزارتے ہیں۔
3.3 مال گزاری مطالبہ اور کسان کا قرض (REVENUE DEMAND AND PEASANT DEBT)

شکل 10.15
کپاس کی گرم بازاری
اس گراف کی لائن کپاس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ اور کمی کو ظاہر کر رہی ہے۔
3.4 کپاس میں پھر گرم بازاری آئی( THEN CAME THE COTTON BOOM)

شکل 10.16
کپاس کی نقل و حمل کے لیے گاڑیاں ایک برگد کے نیچے کھڑی ہوئی ہیں۔
السٹریٹڈلندن نیوز، 13 دسمبر 1862
شکل 10.17کے تین پینل ہیں، کپاس کی نقل و حمل کے محتلف طریقے دکھائے گئے ہیں۔ تصویر میں کپاس کے وزن سے گرتے بیلوں ، سڑک پر پڑے گول مول بٹے اور کشتی پر لدی گانٹھوں کے ڈھیر پر دھیان دیجیے ، فنکار ان تصاویر کے ذریعہ کیا سمجھانا چاہتا ہے؟

شکل 10.17
ریلوے کے دور سے قبل کپاس کی نقل و حمل ، السٹریٹڈ لندن نیوز، 20 اپریل 1861

شکل 10.18
کشتیوں کا ایک بیڑا مرزاپور سے گنگا کے راستے کپاس کی گانٹھیں لے جاتے ہوئے۔
السٹریٹڈ لندن نیوز ، 13 دسمبر 1862۔
ریلوے کا دور شروع ہونے سے قبل مرزاپور کا قصبہ دکن سے آنے والی کپاس کا ذخیرہ مرکز تھا۔

شکل 10.19
3.5 قرض کے منبع کا خشک ہو جانا( Credit dries up )
رعیت کی ایک عرضداشت
(A ryot petitions)
یہ ایک عرصداشت کی مثال ہے جو کر جات تعلقہ کے میراج گاؤں کی ایک رعیت کی طرف سے کلکٹر احمد نگر، دکن رائٹس کمیشن کو دی گئی تھی:
ساہوکار کافی عرصے سے ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ چونکہ ہم اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے سے زیادہ نہیں کما پاتے ، ہم حقیقت میں ان سے پیسے ، کپڑے اور اناج کے لیے بھیک مانگنے پر کجبور ہیں جو ہم ان سے سخت مشکل سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ان کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدہ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ضروری کپرے اور اناج بھی ہمیں نقد شرح پر نہیں بیچتے ۔ ہم سے جو قیمتیں طلب کی جاتی ہیں وہ نقد رقم ادائیگی کرنے والے گاہکوں کے مقابلے عام طور پر پچیس یا پچاس فیصد زائد ہوتی ہیں...ہمارے کھیتوں کی پیداوار بھی ساہوکار لے جاتے ہیں جس کو اٹھاتے وقت وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ اس کی قیمت ہمارے کھاتے میں کر دی جائے گی۔ وہ جب ہماری پیداوار لے جاتے ہیں تو ہمیں اس کی رسید دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔
3.6 ناانصافی کا تجربہ (The experience of injustice )
وضاحت کیجیے کہ رعیت اپنی عرجدشت میں کیا شکایت کر رہی ہے۔ مہاجنوں کے ذریعہ کسان سے لی گئی فصل اس کے کھاتے میں کیوں نہیں رقم کی جاتی تھی؟ کسانوں کو کسی قسم کی کوئی رسید کیوں نہیں دی جاتی تھی؟ اگر اپ مہاجن ہوتے تو ان معمولات کے لیے کیا وجایات پیش کرتے؟
کرایہ کی دستاویز (کرایہ نامہ) (Deeds of hire)
جب کسان پر قرض کا بوجھ زیادہ بڑھ گیا تو وہ مہاجن کو قرض کی ادائیگی کرنے سے معذور ہو گیا۔ اس کے پاس مہاجن کے پاس اپنی تمام ملکیت --زمین ، بیل گاڑیاں اور مویشی دینے کے علاوہ کوئی متبادل نہ تھا لیکن مویشی کے بغیر وہ زراعت جاری کیسے رکھ سکتا تھا۔ اس لیے اس نے زمین اور مویشی کرائے پر لے لیے ، اب اسے ان مویشیوں کے لیے جو بنیادی طور پر اس کے ہی مال و اسباب تھے ، رقم ادا کرنا پڑتی تھی۔ اسے ایک کرایہ ناکہ لکھنا پڑتا تھا جس میں واضح طور پر تحیری ہوتا تھا کہ یہ مویشی اور بیل گاڑیاں اس کی ملکیت نہیں ہیں۔ تصادم کی صورت میں یہ دستاویز عدالت کے ذریعہ نافز کرائی جا سکتی تھی۔
ذیل میں ایک دستاویز کا متن دکن فساد کمیشن کے ریکارڈ سے پیش کیا جا رہا ہے جس پر رنومبر 1873 میں ایک کسان نے دستخط کیے تھے:
میں نے اپ کو واجب الادا قرض کے کھاتے میں اپنی باربرداری کی لوہے کی دھروں والی دو گاریاں ، ان کے سازوسامانن اور چار بیلوں کے ساتھ فروخت کی ہیں...میں نے اس دستاویز کے تحت ان ہی دوگاریوں اور چار بیلوں کو آپ سے کرایہ پر لیا ہے۔ میں ہر ماہآپ کو دارروپئے فی ماہ کے حساب سے ان کا کرایہ دوںگا اور آپ سے اپ کی دستی تحریر شدہ رسید حاصل کروں گا۔ رسید کی عدم موجودگی میں یہ بحث نہیں کروں گا کہ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔
ان سبھی وعدوں (پابندیوں) کی فہرست تیار کیجیے جو کسان اس دستاویز میں دے رہا ہے۔ اس طرح کی کرایہ دستاویز کسان اور مہاجن کے درمیان رشتوں کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہے؟ اس سے کسان اور بیلوں (جو سابقہ دنوں میں خود اس کے تھے) کے درمیان رشتوں میں کیا تبدیلی آئے گی؟
ماخذ 10
قرض میں اضافہ کیسے ہوا؟(HOW DEBTS MOUNTED)
دکن رائٹس کمیشن کو پیش ایک عرضداشت میں ایک رعیت کی وضاحت درج ہے کہ قرضوں کا نظام کس طرح کام کرتا تھا:
ایک ساہوکار اپنے قرض دار کو ایک معاہسے کے تحت 100روپئے کی رقم 2-3 آنہ فیصد کی ماہانہ شرح پر قرض دیتا ہے ۔ قرض لینے والا اس رقم کو معاہدہ پاس ہونے کی تاریخ سے آٹھ دن کے اندر ادائیگی پر راضی ہو جاتا ہے۔ رقم کی واپسی ادائیگی کے طے شدہ وقت کے تین سال بعد ساہوکار اپنے قرضدار سے بنیادی رقم اور سود ملا کر ایک اور معاہدہ اسی شرح سود سے کرتا ہے اور اسے قرض بے باق کرنے کے لیے 125 دن کی مہلت دیتا ہے۔ تین سال اور 15 دن گزر جانے ے بعد قرض دار کے ذریعہ ایک تیسرا معاہدہ پاس کیا جاتا ہے ...( یہ عمل بار بار دوہرایا جاتا ہے).... 12 سال کے اختتام پر ... ایک ہزارروپئے کی رقم پر کل میزان 2028روپئے 10 آنہ اور تین پیسے ہو جاتا ہے۔
سود کی شرح کا حساب لگائیے جو رعیت ان سالوں میں ادا کر رہی تھی۔
4۔ دکن رائٹس کمیشن (THE DECCAN RIOTS COMMISSION )
اس طرح کے ماخذوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ وہ سرکاری ماخز ہیں اور واقعات کی ترجمانی کے متعلق سرکاری تشویش کو منعکس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دکن رائٹس کمیشن سے خاص طور پر یہ رائے ظاہر کرنے کے لیے کہا گیا کہ سرکاری مال گزاری کے مطالبہ کی سطح بغاوت کا سبب تھی۔ تمام شہادتیں پیش کرنے کے بعد کمیشن نے یہ رپورٹ دی کہ سرکاری مطالبہ کسانوں کے غصہ کا سبب نہیں تھا۔ یہ مہاجن ہی تھے جو ناراضگی کا سبب بنے تھے۔ یہ دلیل تو آبادیاتی ریکارڈوں میں اکثر ملتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی سرکار یہ ماننے کو قطعی تیار نہ تھی کہ عوامی بے اطمینانی سرکاری کا روائی کا سبب تھی۔
سرکاری رپورٹیں تاریخ کو از سر نو تحریر کرنے میں قیمتی ماخذ ہوتی ہیں۔ لیکن انھیں ہمیشہ احتیاط سے پڑھنا چاہیے اور اخبارات، گیر سرکاری رودادوں ، قانونی دستاویزات اور ممکنہ زبانی ماخذوں کی منتخب شہادت و ثبوت کے ساتھ ملا کر پڑھنا (ان کی سچائی کی جانچ کرنا) چاہیے
بحث کیجیے۔۔۔۔۔
ٹائم لائن
1765 انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال کی دیوانی حاصل کی
1773 ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرگرمیوں کو منضبط کرنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ ے ذریعہ ریگولیٹنگ ایکٹ پاس کیا گیا
1793 بنگال میں استمراری بندوبست کا نفاذ
1800 سنتھال راج محل کی پہاڑیوں کی طرف آنے لگے اور یہاں آباد ہونے لگے۔
1818 بمبئی میں پہلے مال گزاری بندوبست کا آغاز
1820 زرعی قیمتوں میں کمی کی شروعات
1840-50 بمبئی دکن میں زرعی توسیع کا سست عمل
1855-56 سنتھال بغاوت
1861 کپاس میں گرم بازاری کی شروعات
1875 دکن کے گاؤ میں رعیت کی بغاوت
