Skip to content
Tareekh-e-HindMauzuat-III-001



موضوع نو آبادیت اور دیہات

دس سرکاری دستاویزات کی تحقیق اور تفتیش

اس باب میں آپ دیکھیں گے کہ نوآبادیاتی حکومت کے معنی ان لوگوں کے لئے تھے جو دیہات میں رہتے تھے۔ اس باب میں آپ بنگال کے زمین داروں سے ملیں گے، راج محل کی پہاڑیوں کا سفر کریں گے جہاں پہاڑی اور سنتھال لوگ رہتے تھےاور پھر مغرب سے دکن کی طرف بڑھیں گے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے دیہات میں اپنی کمپنی کس طرح قائم کی، اپنی محصول پالیسیوں کو کس طرح نافذ کیا، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے لیے ان پالیسیوں کے معنی کیا تھے اور انہوں نے معمولات زندگی کو کیسے تبدیل کر دیا تھا۔

ریاست کے ذریعہ متعارف کیے گئے قوانین عوام کے لیے کیا نتائج رکھتے ہیں:
 یہ کچھ حد تک متعین کرتے ہیں کہ کون لوگ دولت مند بنتے ہیں اور کون لوگ غریب ہو جاتے ہیں، کون نئی زمین حاصل کرتا ہے اور کون اپنی زمین کھو بیٹھتا ہے جس پر وہ رہتا تھا ، جب کسانوں کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کہاں جاتے ہیں۔

 آپ دیکھیں گے کہ اگر چہ لوگ قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں تاہم یہ ایسے قوانین کی مزاحمت بھی کرتے ہیں جسے وہ نا انصافی پر محمول سمجھتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے لوگ یہ بھی واضح کر دیتے ہیں کہ قوانین کس طریقے پر نافذ کیے جانے چاہیے۔ اس سے ان کے نتائج میں ترمیم ہوتی ہے۔ 

اس کے ساتھ آپ ان ماخذوں کے متعلق بھی واقفیت حاصل کریں گے جو ہمیں ان تواریخ کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اور ان کی تعبیرو تشریح سے متعلق درپیش مشکلات سے بھی واقف ہو جائیں گے۔آپ محصول ریکارڈوں ، جائزوں (سروے)، وسائل، جائزہ کاروں اور سیاحوں کے ذریعہ دیے گئے بیانات اور تحقیقاتی کمیشنوں کے ذریعہ پیش کردہ رپورٹوں سے بھی واقفیت حاصل کریں گے۔ 
1

شکل 10.1  

گاؤں سے منڈی کی طرف  لے جائی جاتی کپاس 

السٹرٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر، 20 اپریل 1861

راجہ(لغوی معنی بادشاہ) کی اصطلاح کا استعمال عموما طاقتور زمین داروں کے لیے کیا جاتا ہے۔

2

شکل 10.2

ڈائمنڈھار برروڈ، کلکتہ میں واقع بردوان کے راجہ کا محل

انیسویں صدی کے آخر تک بنگال کے بہت سے مالدار زمیں داروں نے اپنے لیے اس طرح کے کور نتھین ستونوں کے ذریعہ سہارا دیے گئے داخلی پیش دہلیز(برساتی) والے، جس میں بال روم، وسیع میدان ہوتے تھے، شہر ی محل بنوائے تھے۔

1۔ بنگال اور زمین دار

(BENGAL AND THE ZAMINDARS )

 جیسا کہ ہم جانتے ہیں، نو آبادیاتی حکومت سب سے پہلے بنگال میں قائم ہوئی تھی۔ یہی وہ علاقہ تھا جہاں سب  سے پہلے دیہی سماج کو ازسر نو منظم کرنے اور زمین کے حقوق کے نئے نظام نیز نئے مال گزاری نظام کو قائم کرنے کی ابتدائی کوشش کی گئی۔ آیئے دیکھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے ابتدائی سالوں میں بنگال میں کیا ہوا۔

1.1 بردوان میں ایک نیلامی (An auction in Burdwan )

1797 میں بردوان (موجودہ بردھمان) میں ایک نیلامی کی گئی۔ یہ ایک بڑا عوامی واقعہ تھا۔ بردوان کے راجہ کے قبضہ اختیار کے متعدد بحال (جائیداد/املاک) فروخت کیے گئے۔ 1793 میں استمراری بندوبست عمل میں لایا گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مال گزاری کی ایک معین رقم طے کر دی جو ہر زمین دار کو ادا کرنی  تھی۔ جو ریاستیں اپنی معین رقم ادا نہیں کر پاتی تھیں ان سے مال گزاری وصول کرنے کے لیے املاک نیلام کر دی جاتی تھیں۔ بردوان کے راجہ پر بھی مال گزاری کی ایک بڑی رقم بقایا تھی۔
نیلامی کی بولی لگانے والے کو املاک فروخت کر دی گئیں۔ لیکن کلکٹر فوراً ہی اس کہانی میں ایک انوکھا پہلو تلاش کر لیا۔ اسے نظر آیا کہ ان میں سے زیادہ تر خریدار راجہ کے اپنے ہی نوکر یا ایجنٹ تھے اور انھوں نے راجہ کی طرف سے ہی زمینوں کو خریدا تھا۔نیلامی میں 95 فیصد سے زیادہ فروخت فرضی تھی۔ حالانکہ راجہ کی املاک عوامی طور پر فروخت کر دی تھیں لیکن ان کی زمینوں کا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں رہا۔
راجہ مال گزاری کی ادائیگی میں کیوں ناکام رہا؟
 نیلامی میں خریدار کون لوگ تھے؟ 
یہ کہانی اس زمانے میں مشرقی ہندوستان کے دیہی علاقوں کی کارگزاریوں کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہے؟

1.2 ادانہ کی گئی مال گزاری کا مسئلہ 

(The problem of unpaid revenue)

بردوان راج کی املاک ہی صرف ایسی املاک نہیں تھیں جو اٹھارھویں صدی کے آخری سالوں میں فروخت کی گئیں۔ استمراری بندوبست کے نفاذ کے بعد 75 فیصد سے بھی زیادہ زمینداریاں تبدیل کر دی گئیں۔برطانوی افسران یہ امید کرتے تھے کہ استمراری بندوبست کے متعارف کیے جانے کے بعد سے وہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے جو بنگال کی فتح کے بعد سے درپیش تھے۔ 1770 کی دہائی تک آتے آتے بنگال کی دیہی معیشت بحران کا شکار ہو چکی تھی، متواتر قحط پڑ رہے تھے اور زرعی پیداوار کم ہوتی جا رہی تھی۔ افسران سوچتے تھے کہ زراعت ، تجارت اور ریاست کے مال گزاری وسائل تبھی ارتقا پذیر کیے جا سکیں گے جب زراعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ ایسا اسی وقت ہو سکے گا جب ملکیت کے حقوق محفوظ کر دیے جائیں اور مال گزاری کی مانگ کی شرح مستقل خطوط پر متعین کر دی جائے۔ اگر ریاست کا مال گزاری مطالبہ مستقل بنیادوں پر متعین کر دیا جائے تو کمپنی مال گذاری کی مستقل آمدنی کی امید کر سکے گی اور مہم جوبھی  اپنی سرمایہ کاری سے ایک یقینی فائدہ کمانے کی امید کر سکیں گے کیونکہ ریاست اپنے دعوے میں اضافہ کر کے منافع کی رقم نہیں چھین سکے گی۔ اس عمل سے افسران کو امید تھی کہ چھوٹے کسانوں (yeomen) اور مال دار زمین مالکان کا ایک ایسا طبقہ ظہور میں آجائے گا جس کے پاس زراعت میں اسلاح کرنے کے لیے سرمایہ اور مہم (کارِعظیم) دونوں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت سے تربیت لے کر یہ طبقہ کمپنی کے تئیں وفادار رہے گا۔

3

شکل 10.3

چارلس کارنولس(1738-1805) کی 1785 میں تھامس گینزبرگ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر۔

امریکہ کی جنگ ِ آزادی کے زمانے میں کارنوالس برطانوی فوج کا کامنڈر تھا اور 1793 میں جب بنگال میں استمراری بندوبست رائج کیا گیا اس واقت کارنوالس بنگال کا گورنر جنرل تھا۔

تاہم مسئلہ یہ شناخت کرنے کا تھا کہ وہ کون سے افراد ہیں جو زراعت میں اصلاح کرنے کے ساتھ ریاست کو طے شدہ مال گزاری ادا کرنے کی ٹھیکہ دے سکیں گے۔ کمپنی کے افسران کےدرمیان طویل مباحثے کے بعد بنگال کے راجاؤں اور تعلقہ داروں کے ساتھ استمراری بندوبست وجود میں آیا۔ ان کی بطور زمین دار درجہ بندی کردی گئی۔ ان کو ایک متعین مال گزاری مطالبہ دائمی طور پر ادا کرنا تھا۔ اس شرائط کے مطابق زمین دار گاؤں میں زمین مالک نہیں بلکہ وہ ریاست کی مال گزاری جمع کرنے والا تھا۔

زمین داروں کے تحت بہت سے گاؤں (کبھی کبھی 400 تک) ہوتے تھے۔ کمپنی کے تخمینے کے مطابق ایک زمین داری کے اند ر آنے والے مل کر ایک مال گزاری جائداد یعنی علاقہ تشکیل دیتے تھے۔ کمپنی پوری جائداد یا علاقے  پر کل مطالبہ طے کرتی تھی جس کی مال گزاری ادا کرنے کا اقرار زمین دار کرتا تھا۔ زمین دار مختلف گاؤں سے کرایہ(مال گزاری) جمع کرتا تھا اور کمپنی کو مال گزاری ادا کرتا تھا نیز معین رقم کا فرق اپنے پاس بطور اپنی آمدنی رکھتا تھا۔ اس سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ کمپنی کو مستقل طور پر مال گزاری رقم ادا کرے گا اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگا تو اس کی جائداد نیلام کی جاسکتی ہے۔

تعلقہ دار کے لغوی معنی ہیں"ایسا شخص جس کے سات تعلق یا رشتہ قائم ہو۔ بعد ازاں یہ لفظ تعلق علاقائی اکائی کو مختص کرنے کے لیے مستعمل ہوا۔

رغبت اصطلاح کا استعمال برطانوی دستاویزات میں کسانوں (باب8) کے لیے استعمال کیا جا تا تھا بنگال میں رعیت ہمیشہ زمین کو راست طور پر کاشت نہیں کر تی تھی بلکہ ما تحت (شکمی رعیت) کو آگے بٹہ پر دیا کرتی تھی۔

1.3  زمین دار کیوں رقم ادا کرنے کی پابندی نہیں کرتے تھے۔


(Why zamindars defaulted on payments)

کمپنی کے افسران سوچتے تھےکہ مال گزاری کا مطالبہ متعین کئے جانے سے زمین داروں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوگا اور وہ اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے منافع پر یقین کے ساتھ اپنی جائدادوں میں اصلاح کرنے کے لیے عمل پیرا ہوں گے تاہم استمراری بندوبست کے بعد کی ابتدائی دہائیوں میں زمین دار مستقل طور پر مال گزاری مطالبہ ادا کرنے میں ناکام رہے۔ نتیجتاً بقایا جات کی رقم میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
اس ناکامی کے بہت سے اسباب تھے۔ 
اول: ابتدائی مطالبہ بہت زیادہ تھا۔ یہ اس وجہ سے محسوس کیا گیا کہ اگر مطالبہ کو آئندہ اوقات کے لیے متعین کیا جا رہا ہے تو قیمتوں میں اضافہ اور زراعت میں توسیع ہونے سے آمدنی برھنے پر کمپنی اس اضافہ میں اپنے حصے کا دعویٰ کبھی نہیں کر سکے گی۔ اس متوقع نقصان کو کم سے کم بنائے رکھنے کے لیے کمپنی نے مال گزاری مطالبہ کو اعلیٰ سطح پر بنائے رکھا اور دلیل یہ دی کہ بتدریج زراعتی پیداوار میں توسیع ہوگی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا، ویسے ویسے زمین داروں پر بوجھ کم ہوتا جائے گا۔
دوم: یہ اعلیٰ مطالبہ 1790 کی دہائی میں نافذ کیا گیا جس وقت زراعتی پیداوار کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی اور رعیت کے لیے زمین داروں کے بقایاجات کی ادائیگی کرنا مشکل تھا۔ اگر زمین دار محصول خود جمع نہیں کر سکتا تو وہ کیسے کمپنی کو رقم ادا کر سکتا تھا؟
 سوم: مال گزاری غیر متغیر تھی۔ فصل اچھی ہو یا خراب، مال گزاری وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنی ضروری تھی۔ حقیقتاً غروب آفتاب قانون کے مطابق اگر معین تاریخ کو سورج غروب ہونے تک رقم نہیں آتی تھی تو زمین داری کو نیلام کیا جا سکتا تھا۔ 
چہارم: استمراری بندوبست نے بنیادی طور پر زمین داروں کی طاقت کو رعیت سے محصول جمع کرنے اور اپنی زمین داری کا انتظام کرنے تک ہی محدود کر دیا تھا۔
کمپنی زمین داروں کو بحیثیت اہم تو تسلیم کرتی تھی لیکن وہ ان پر کنٹرول ، ان کے اقتدار و احتیار کو مطیع کرنا اور ان کی خود محتاری کو بھی محدود کرنا چاہتی تھی۔ زمین داروں کی فوجی نفری کو سبکدوش کر دیا گیا، سرحدی ٹیکس ختم کر دیا گیا اور ان کی کچہریوں (عدالتوں) کو کمپنی کے ذریعہ تقرر یافتہ کلکٹر کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ زمین داروں نے اپنی انصاف کرنے اور مقامی پولیس کا نظم کرنے کی طاقت بھی کھو دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ کلکٹریٹ اقتدار کے ایک متبادل کے طور پر اور بہت سے کام جو زمین دار کر سکتے تھے ان پر بندشیں عائد کر دی گئیں۔ ایک معاملے میں تو یہ ہوا کہ جب راجہ مال گزاری کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہا تو کمپنی کے ایک افسر کو تیزی سے اس واضح ہدایت کے ساتھ اس کی زمین داری میں بھیج دیا گیا کہ "ضلع کا جارج اپنے ہاتھ میں لے لو اور راجہ نیز اس کے افسران کو مکمل اثرورسوخ اور اختیارات کو ختم کرنے کے لیے انتہائی موثر ذرائع کا استعمال کرو۔"
محصول جمع کرنے کے وقت زمین دار کا ایک کارندہ (افسر) جس کو عام طور پر علمہ کہتے تھے، گاؤں میں آتا تھا، لیکن محصول کا جمع کرنا آسان کام نہ تھا۔ کبھی کبھی تو خراب فصل اورکم ترقیمتوں کے سبب رعیت کے لیے بقایاجات کی ادائیگی کرنا ایک مشکل امر ہو جاتا تھا اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ رعیت دانستہ طور پر رقم ادائیگی میں دیر کرتی تھی۔ مال دار رعیت اور گاؤں کے مکھیا- '"جوت دار" اور"مندڈل"- زمین دار" کو پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ چونکہ زمین دار آسانی سے ان پر طاقت کا استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ وہ قصورواروں یعنی بقایاداروں پر مقدمہ تو چلا سکتا تھا لیکن عدالتی عمل طویل ہوتا تھا۔ اکیلے برادران ضلع میں ہی 1798 میں محصول کے بقایاجات کی رقم کی ادائیگی کے 30,000 سے زائد مقدمات زیر غور تھے۔

1.4 جوت داروں کا عروج (The rise of the jotedars)

اگرچہ اٹھارھویں صدی کے آخر میں بہت سے زمین دار بحران کا سامنا کر رہے تھے تو دوسری طرف مال دار کسانوں کا ایک گروہ گاؤں میں اپنی حالت مستحکم کرتا جا رہا تھا۔ فرانسس باکانن کے شمالی بنگال کے دیناج پور ضلع کے جائزے میں ہمیں مالدار کسانوں کے اس طبقے کا ذکر ملتا ہے جو "جوت دار" کے نام سے معروف تھے۔ انیسویں صدی کی ابتدا تک جوت داروں نے زمین کے وسیع رقبے جو کئی ہزار ایکڑ پر محیط تھا،حاصل کر لیا تھا۔ مقامی تجارت اور مہاجنوں کے کاروبارپر بھی ان کا کنٹرول تھا، اس طرح یہ اس علاقے کے غریب کاشت کاروں پر بے انتہا طاقت کی مشق کرتے تھے۔ ان کی زمین کا کافی بڑا حصہ بٹائی داروں کے ذریعہ کاشت کیا جاتا تھا جو خود اپنے ہل لاتے تھے، کھیت میں محنت کرتے اور فصل کے بعد پیداوار کا نصف حصہ جوت داروں کو دے دیتے تھے۔
گاؤں کے اندر جوت داروں کی طاقت، زمین داروں کے مقابل زیادہ مؤثر ہوتی تھی۔ زمین داروں کے خلاف جو عموماً شہری علاقوں میں رہتے تھے، جوت دار گاؤں میں ہی رہتے تھے اور غریب گاؤں والوں کے کافی بڑے حصے پر راست طور پر اپنے کنٹرول کا استعمال کرتے تھے۔امین داروں کے ذریعہ جمع(مال گزاری) میں اضافہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وہ زبردست مزاحمت کرتے تھے، زمین داری افسران کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے روکتے تھے۔ رعیت کو خدمت کے لیے تیار کرتے تھے جو ان پر منحصر تھی اور زمین دار کو مال گزاری  کی ادائیگی میں دانستہ طور پر دیر کرا دیتے تھے۔ حقیقتاً جب مال گزاری  کی ادائیگی نہ ہونے پر زمین دار کی جائداد نیلام کی جاتی تو اکثر ان جوت داروں میں سے ہی کوئی اسےخرید لیتا تھا ۔
شمالی بنگال کے جوت دار سب سے زیادہ طاقتور تھے۔ اگر چہ مالدار کسان اور گاؤں کے مکھیا بھی بنگال کے دیگر حصوں کے دیہی علاقوں میں بارعب شخصیت بن کر ابھر رہے تھے۔ کچھ علاقوں میں ان کو "حوالدار"(Haoladar) کہا جاتا تھا اور کچھ علاقوں میں یہ "گانٹی دار"یا"منڈل" کے نام سے معروف تھے۔ ان کے عروج سے زمین داری اقتدار کا کمزور ہونا نا گزیر تھا۔
4

شکل 10.4

بنگال کے گاؤں کا منظر، جارج ھنری کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1820

ہنری ہندوستان میں 23 سال (1802-25) تک قیام پذیر رہا۔ اس دوران اس نے عام آدمی کی روزمرہ کی زندگی اور زمینی مناظر کی تصویر کشی کی۔ نیچے کی تصویر میں دیہی بنگال کے ایک گھر کی تصویر بنائی گئی ہے۔ جوت دار اور مہاجن ایسے ہی گھروں میں رہتے تھے۔


5

کمپنی
زمین دار (بہت سے گاؤں پر کنٹرول رکھتا تھا)
جوت دار (مال دار رعیت، تاجر اور مہاجن بھی)
رعیت
ماتحت رعیت
ماتحت رعیت


  • زمین دار ذمہ دار تھے۔
  • کمپنی کو مال گذاری ادا کرنے کے لیے 
  • گاؤں پر مالگذاری کا مطالبہ (جمع) کی حد بندی (تقسیم) کرنے کے لیے۔ 
  • گاؤں کی ہر ایک چھوٹی بڑی رعیت زمین دار کو محصول ادا کرتی تھی۔
  • جوت دار دیگر رعیتوں کو قرض دیتے اور اپنی پیداوار فروخت کرتے تھے
  • رعیت کچھ زمین کی کاشت کرتی تھی اور باقی زمین ماتحت رعیت (شکمی رعیت)کو محصول پر دیتی تھی۔ 
  • شکمی رعیت، رعیت کو محصول ادا کرتی تھی۔


شکل 10.5

دیہی بنگال میں طاقت و اقتدار 

متن کو شکل 10.5 کے ساتھ غور سے پڑھیے اور تیر کے مقامات کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل الفاظ کو مناست مقام پر رکھیے: محصول ، مال گزاری، سود ، قرض، پیداوار

1.5 زمین داروں کی مزاحمت(The zamindars resist)

تاہم دیہی علاقوں میں زمین داروں کا اقتدار ختم نہیں ہوا تھا۔ مال گزاری کا اعلیٰ مطالبہ اور اپنی جائیداد کی امکانی نیلامی کی مشکل سے نبردآزما ہونے کے لیے زمین داروں نے اس دباؤ سے ابھرنے کے راستے تلاش کر لیے تھے اور نئے تناظر میں نئی حکمت عملی تیار کرلی تھی۔
فرضی فروخت ایک ایسی ہی حکمت علمی تھی جس میں جوڑ توڑ کے بہت سے سلسلے شامل تھے۔ مثال کے طور پر بردوان کے راجہ نے پہلے تو اپنی زمین داری کا کچھ حصہ اپنی والدہ کو منتقل کر دیا کیونکہ کمپنی نے یہ فیصلہ لے رکھا تھا کہ خواتین کی جائداد کو نہیں چھینا جائے گا۔ پھر دوسرے قدم کے طور پر اس کے گماشتوں نے نیلامی کے عمل میں سازباز کی۔ کمپنی کے مال گزاری کے مطالبے کو دانستہ طور پر کر روک لیا گیا اور ادا نہ کیے گئے بقایاجات کی رقم میں اضافہ ہوتا گیا۔
 جب جائداد کا کچھ حصہ نیلام کیا گیا تو زمین دار کے آدمیوں نے ہی دیگرخریداروں کے مقابلے اونچی بولی لگا کر خرید لیا۔ بعد میں انہوں نے خرید کی رقم کو ادا کرنے سے انکار کر دیا لہٰذا اس جائداد کو پھر سے فروخت کرنا پڑا۔ ایک بار پھر زمین داروں کے گماشتوں نے ہی اسے خرید لیا اور ایک بار پھر خرید کی رقم ادا نہیں کی گئی لہٰذا ایک بار پھر جائیداد کو نیلام کرنا پڑا۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا رہا، آخر کار ریاست اور نیلامی کے وقت بولی لگانے والے تھک گئے۔ یوں اس جائیداد کو کم قیمت پر زمین دار کو ہی واپس فروخت کرنا پڑا۔ زمین دار کبھی بھی مال گزاری مطابلہ کو ادا نہیں کرتا تھا لہٰذا کمپنی شازو نادر ہی اپنی جمع بقایاجات کی رقم وصول کر پاتی تھی۔
اس طرح کے انصراف بڑے پیمانے پر واقع ہوئے تھے۔ 1793 سے 1801 کے درمیان ، بنگال کی دار بڑی زمین داریوں بشمول بردوان ، بہت سی بے نامی خریداریاں کی گئیں جن سے مجموعی طور پر 30 لاکھ روپئے حاصل ہوئے۔ نیلامیوں کی کل فروخت میں سے 15 فیصد معاملات مصنوعی تھے۔
زمین دار دیگر طریقوں سے بھی اپنی بے دخلی سے بچنے کے لیے فریب دیتے تھے۔ جب کوئی باہری شخص نیلامی کے ذریعہ کوئی جائیداد خرید لیتا تھا تب بھی ہر موقع پر اسے قبضہ نہیں ملتا تھا۔ ایسے موقعہ پر سابق زمین دارکے "لٹھیال"کارندے ان پر حملہ کر دیتے۔ حتیٰ کہ کچھی تو رعیت بھی باہری لوگوں کی مزاحمت کرتی تھی۔ یہ خود کو اپنے زمین دار (پرانے) سے وفاداری کے جذبے کے ساتھ بندا ہوا محسوس کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ وہی اقتدار کی علامت ہے اور وہ خود اس کی عوام ہیں۔ زمین داری کی فروخت سے ان کی شناخت اور غرور درہم برہم ہوتے تھے اس وجہ سے زمین دار اسانی سے بے دخل نہیں کیے جا سکتے تھے۔ 

ماخذ1

دیناج پور کے جوت دار(The jotedars of Dinajpur)

بکانن بیان کرتا ہے کہ شمالی بنگال کے دیناج پور ضلع کے جوت دار کس طرح زمین دار کے نظم و ضبط کی مزاحمت کرتے تھےاور اسکے اقتدار کی جڑیں کھودتے تھے:

زمین  مالکان اس طبقےکے افراد کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا ہونا نہایت ضروری تھا اس لیے کہ اس کے بغیر ضرورت مند کاشت کاروں کو قرض کی رقم کون دیتا......

جوت دار جو زمین کے بڑے حصے کو کاشت کرتے ہیں، بہت ضدی ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ زمین داروں کے ان پر کوئی قدرت و طاقت نہیں ہے وہ تو ان کو مال گزاری کی شکل کی میں کچھ  ہی روپئے دیتے ہیں اور ہر قسط میں کچھ نہ کچھ رقم بقایا رہ جاتی ہے۔ ان کے پاس پٹے کی حق دار سے زیادہ زمین ہے۔ زمین دار کے افسران اگر نہیں کچہری میں بلاتے ہیں اور انہیں ڈرنے دھمکانے کے لیے گھنٹے دو گھنٹے کچہری میں روک لیتے ہیں تو وہ فوراً ہی ان کی شکایت کرنے کے لیے فوج داری تھانہ(پولس اسٹیشن)یا منصف کی کچہری میں پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمین دار کے کارندوں نے ان کی بے عزتی کی ہے۔ اس طرح مال داری بقایاجات رقم کے بغیر تصفیہ معاملات مسلسل ہیں۔ یہ (جوت دار ) چھوٹی رعیت کو ان کا مال گزری ادانہ کرنے کے لیے اکساتے رہتے ہیں....

بیان کیجئے کہ جوت دار زمین داروں کے اقتدار کی کس طرح مزاحمت کرتے تھے۔

انیسویں صدی کے آغاز میں قیمتوں میں سرد بازاری کی حالت ختم ہوگئی چنانچہ جو زمین دار 1790 کی دہائی کی مشکلات میں اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہے انہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم کر لیا۔ مال گزاری کی ادائیگی کے ضوابط میں بھی کچھ لچیلا پن پیدا کیا گیا۔ نتیجتاً گاؤں پر زمین دار کا اقتدار اور مضبوط ہوتا گیا۔ 1930 کی دہائی کی عظیم سرد بازاری کے دوران یہ آخر کار درماندہ ہو گئے اور جوت داروں نے دیہات میں اپنی طاقت مستحکم کر لی۔
6

شکل 10.6

مہاراجہ مہتاب چند (1820-79)

جب استمراری بندوبست نافذ کیا گیا اس وقت تیج چند بردوان کا راجہ تھا۔ اس کے بعد مہتاب چند  کے تخت بردوان کی زمین داری کو کافی فروغ حاصل ہوا ۔ مہتاب چند نے سنتھال بغاوت اور 1857 کی بغاوت میں انگریزوں کی مدد کی۔

"بے نامی" کے لغوی معنی گمنام ہونا ہے۔ ہندی اور دیگر بہت سی ہندوستانی زبانوں میں اس اصطلاح کا استعمال ایسے انصرام کے لیے کیا جاتا ہے جو کسی فرضی یا نسبتاً غیر اہم افراد کے نام سے کیے جاتے ہیں حالانکہ ان  میں اصلی فائدہ پانے والے فرد کا نام نہیں دیا جاتا ۔


"لٹھیال" کے لغوی معنی ہیں وہ فرد جس کے پاس لاٹھی یا ڈنڈا ہو۔ یہ زمین داری کے طاقتور فرد کے طور پر کام کرتے تھے۔

1.6  پانچویں رپورٹ(The Fifth Report)

ہم جن تبدیلیوں پر بحث کر رہے ہیں ان میں سے بہت سی تبدیلیوں کا ایک مفصل رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے جو 1813 میں برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تھی۔ یہ اس سلسلے کی پانچویں رپورٹ تھی جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی انتظامیہ اور سرگرمیوں کے ضمن میں تیار کی گئی تھی۔ اکثر "پانچویں رپورٹ" کے نام سے معروف یہ رپورٹ 1002 صفحات پر مشتمل تھی جس کے 800 سے زائد صفحات ضمیمہ تھے جس میں زمین داروں اور رعیت کی عرضیاں، مختلف اضلاع کے کلکٹروں کی رپورٹیں ، مال گزاری اندراج پر مبنی اعدادوشمار کے جدول اور افسران کے ذریعہ بنگال اور مدراس (موجودہ تامل جاڈو)کی مال گزاری اور عدالتی انتظامیہ پر لکھے نوٹس(حاشیے) شامل تھے۔
کمپنی نے 1760 کی دہائی کے وسط میں جب سے بنگال میں حکومت قائم ہوئی تبھی سے انگلینڈ میں اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی تھی اور ان پر بحث و مباحثہ جاری تھا۔ انگلینڈ میں بہت سے ایسے گروہ بھی تھے جو ہندوستان اور چین کے ساتھ تجارت پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی اجارہ داری کی مخالفت کرتے تھے۔ یہ گروہ چاہتے تھے کہ اس شاہی چارٹر(فرمان)کو رد کر دیا جائے جس کے تحت کمپنی کو یہ اجارہ داری دی گئی ہے۔ ایسے نجی تاجروں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی جو ہندوستانی تجارت میں حصہ لینا چاہتے تھے اور برطانیہ کے صنعت کار وہاں کی صنعت کے لیے ہندوستان کے بازار پر قبضہ چاہتے تھے۔ بہت سے سیاسی گروہوں کی تو یہ دلیل تھی کہ بنگال کی فتح کا فائدہ صرف ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہی مل رہا ہےپورے برطانیہ کو نہیں۔ کمپنی کی بد حکمرانی اور بد انتظامی کے متعلق اطلاعات کے سبب برطانیہ میں گرما گرم بحث شروع ہوگئی اور کمپنی کے کارندوں کی بدعنوانی اور لالچ کے واقعات اخبارات میں نمایا طور پر شائع ہوئے۔ برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان میں کمپنی کی حکومت کو منضبط کرنے کے لیے اٹھارہوں صدی کے آخر میں متعدد ایکٹ (قانون) پاس کیے اور کمپنی کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہندوستان کے نظم و نسق کے ضمن میں باقاعدہ اپنی رپورٹ پیش کیا کرے کمپنی کے معاملات کی تفتیش کرنے کے لیے کمیٹیوں کا تقرر کیا گیا۔ پانچویں رپورٹ ایک ایسی ہی رپورٹ تھی جو "سلیکٹ کمیٹی" کے ذریعہ پیش کی گئی تھی۔ یہ رپورٹ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کی نوعیت پر برطانوی پارلیمنٹ میں شدید بحث و مباحثہ کی بنیاد بن گئی۔
7

شکل 10.7

انڈل راج محل

راج محل کے کھنڈرات ایک عہد کے خاتمہ کے بصری نشانات ہیں۔ اشرافیہ زمین دار طبقے کے زوال پذیر طرزِ زندگی پر بنی ستیہ جیت رے کی مشہور فلم "جلسا گھر" اسی انڈل راج محل میں عکس بند کی گئی تھی۔

اٹھارہویں صدی کے آخر میں بنگال کے دیہی علاقوں میں کیا ہوا، اس کے متعلق ہمارا تصور تقریباً ڈیڑھ صدی تک اس پانچویں رپورٹ کی بنیاد پر قائم رہا۔ پانچویں رپورٹ یں شامل ثبوت بیش قیمتی ہیں۔ لیکن ایسی سرکاری رپورٹوں کو بہت احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔ ہم کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ رپورٹ کس نے اور کیوں تحریر کی۔ حقیقتاً حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچویں رپورٹ میں پیش کیے گئے ثبوتوں اور دلائل کو بغیر کسی تنقید کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
محققین نے دیہی بنگال میں توآبادیاتی حکمرانی کے متعلق لکھنے کے لیے بنگال کے بہت سے زمین داروں کے آرکائیوز نیز اضلاع کی مقامی دستاویزات کی احتیاط کے ساتھ تحقیق کی ہے۔ یہ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ پانچویں رپورٹ لکھنے والے کمپنی کی بد انتظامی حکومت کی شدید تنقید کرنے پر آمادہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی پانچویں رپورٹ میں روایتی زمین داری اقتدار کی درماندگی کا تزکرہ مبالغہ آمیز ہے اور جس پیمانے پر زمین دار اپنی زمین سے بے دخل ہوتے جا رہے تھے، اس کے بارے میں زیادہ تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ، حتیٰ کہ جب زمین داریاں نیلام کی جاتی تھیں تب بھی زمین دار ہمیشہ بے دخل نہیں کیے جاتے تھے اور وہ انوکھی تدابیر استعمال کر کے اپنی زمین داریاں قائم رکھتے تھے۔

جس لہجے میں ثبوت ریکارڈ کیا گیا ہے اس سے رپورٹ میں بیان کردہ حقائق کے ضمن میں تحریر کرنے والے کے رویہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ اعدادو شمار کے ذریعہ رپورٹ میں کیا کہنے کی کوشش کی گئی ہے؟ آپ کے خیال میں کیا ان دو سالوں کے اعداد وشمار سے کسی بھی مسئلہ کے متعلق طویل مدتی عمومیت پیش کی جا سکتی ہے؟

بحث کیجیے

آپ نے زمین داروں کے ضمن میں بیان میں جو کچھ پڑھا اس کا موازنہ باب 8 کے بیان سے کیجیے

ماخذ 2

پانچویں رپورٹ سے اقتباس (From the Fifth Report)

زمین داروں کی حالت اور زمینوں کی نیلامی کے حوالے سے پانچویں رپورٹ میں بیان کیاگیا ہے:
مال گزاری وقت کے ساتھ جمع نہیں کی جاتی تھی اور کافی حد تک زمینوں کا رقبہ میعادی طور پر نیلامی میں فروخت کرنے کے لیے رکھا جاتا تھا۔ مقامی سال 1203 مطابق1796-97 میں فروخت کے لیے شامل مشتہر زمین کی متعین رقم جمع یا تخمینہ 28,70,061 سکہروپئے تھا اور زمین کے رقبہ کی خرید رقم 17,90,416 سکہروپئے اور 14,18,756 سکہروپئے کی رقم جمع تخمینہ کی شکل میں فروخت کی گئی۔ 1204 مطابق 1797-98 میں 26,66,191سکہروپئے کے لیےزمین مشتہر کی گئی 22,74,076 سکہ روپیےکی مقدار میں زمین فروخت کی گئی نیز خرید رقم 21,47,580 سکہ روپئے تھی۔ قصور واروں میں کچھ لوگ ملک کے پرانے خاندانوں میں سے تھے جیسے ناڈیا، راج شاہی، بشن پور(سبھی بنگال کے اضلاع) کے راجہ... اور دیگر سال بہ سال ان کی جائیدادوں (جاگیروں ) کے حصے ہو جانے سے ان کی حالت خراب ہو گئی، انہیں غریبی اور باربادی کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مثالوں میں تو عوامی تخمینے کی رقم کو بے تخفیف بنائے رکھنے کے لیے مال گزاری افسران کو بھی کافی مشکلات اٹھانی پڑیں۔

2. بیلچہ اور ہل (THE HOE AND THE PLOUGH)

آئیے اب ہم اپنی توجہ بنگال کی نم زمینوں سے ہٹا کر خشک خطّوں پر اور مقیم زراعت کے معمول سے ہٹا کر جھوم زراعت (پھیر بدل کر زراعت کرنا)پر مرکوز کریں۔ آپ یہاں ان تبدیلیوں کو دیکھیں گے جو زرعی معیشت کی سرحدوں کے باہر کی طرف توسیع ہونے سے آئیں جب راج محل کے پہاڑی علاقوں میں چراگاہیں اور جنگلات اس میں ضم ہو گئے۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ ان تبدیلیوں نے کس طرح اس علاقے کے اندر مختلف طرح کے تصادم پیدا کر دیے۔

2.1 راج محل کی پہاڑیوں میں ( In the Hills of Rajmahal )

ابتدائی انیسویں صدی میں بکانن نے راج محل کی پہاڑیوں کی سیاحت کی تھی۔ اس کے بیان کے مطابق یہ پہاڑیاں ناقابلِ عبور تھیں۔ یہ ایسا خطرناک علاقہ تھا جہاں بہت کم افراد سفر کرنے کی ہمت کرتے تھے۔ بکانن جہاں کہیں بھی گیا وہاں اس نے لوگوں کو دشمنی پر آمادہ پایا۔ وہ لوگ افسران کے تئیں خدشات کا شکار ہونے، ساتھ ساتھ ان سے بات کرنے کے خواہش مند نہ تھے۔ بہت سی مثالوں میں تو وہ اپنے گاؤں کو ویران کر کے فرار ہو گئے تھے۔ 
8

شکل 10.8

راج محل میں ایک پہاڑی گاؤں کا منظر ، ولیم ہوجز کے ذریعہ بنائی گئی تصویر، 1782

ولیم ہوجز ایک برطانوی فنکار تھا جو کیپٹن کک کے ساتھ اس کے بحرالکاہل کے دوسرے سمندری سفر (1772-75) پر گیا  اور وہاں سے پھر ہندوستان آیا۔ 1781 میں وہ بھاگل پور کے کلکٹر آگسٹس کلیولینڈ کا دوست بن گیا۔ کلیو لینڈ کے دعوت نامہ پر ہوجز 1782 میں اس کے ہمراہ جنگل محالوں کے دورہ پر گیا تھا اور وہاں اس نے کئی قلمی(aquatints) تصاویر بنائی تھیں۔ اس دور کے کئی برطانوی مصوروں کی طرح ہوجز نے بھی کئی دلکش مناظر کی دریافت کی تھی۔ اس دور کے دلکش مناظر کے متلاشی مصور رومانیت کے معیار سے تحریک یافتہ تھے۔ ان خیالات کی فوایات کے تحت فطرت کی ستائش اور اس کے تزک و احتشام اور طاقت کی مدح و توصیف کی جاتی تھی۔ رومانیت پسند محسوس کرتے تھے کہ فطرت کے ساتھ کلام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ فن کار فطرت کے ایک دلکش منظر کی نظم کے بطور نمائندگی کرے، جدید تہذیب سے نہ بگڑے ،نامعلوم برّی مناظر کو تلاش کرے، روشنی اور سائے کے پاکیزہ کھیل کی قدر کرے۔ فطرت کی ان ہی نامعلوم چیزوں کی تلاش میں ہو جو راج محل کی پہاڑیوں میں گیا۔ اسے مسطح برّی مناظر اکتا دینے والے لگے اس نے کھردرے، بے قاعدہ اور گونا گونی میں خوب صورتی تلاش کی۔ شورش پسند قبائلی لوگوں کی وجہ سے جن برّی مناظر کو نو آبادیاتی افسران خطرناک اور سرکش علاقے مانتے تھے وہی مناظر ہو جز کی تصاویر میں پر دیسی اور شعری منظر نظر آئے۔ 

اوپر کی تصویر کو دیکھیے اور ان طریقوں کی شناخت کیجیے جن کے ذریعہ دلکش مناظر کی روایات کی نمائندگی کی گئی ہے۔

قلم کاری (Aquatint) ایک ایسی تصویر ہے جو تانبے کی چادر پر تیزاب کے ساتھ کٹائی کر کے بنائی جاتی ہے اور پھر اس پر چھپائی ہوتی ہے۔

یہ پہاڑی نسل کے لوگ کون تھے؟ وہ بکانن کے دورے کے تئیں اتنے خدشہ کا شکار کیوں تھے؟ بنانن کا رسالہ ابتدائی انیسویں صدی میں ان لوگوں کی قابلِ رحم حالت کی جھلک ہمارے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اس نے ان مقامات کے تعلق سے ، جہاں جہاں وہ گیا ، لوگوں سے ملا اور ان کے معمولات کو دیکھا، بطور سرگذشت (ڈائری) تحریر کیا ۔ یہ رسالہ بہت سے سوالات ہمارے ذہن میں پیدا کرتا ہے لیکن یہ ہمیشہ جواب دینے میں مدد نہیں کرتا ۔ اس کی یہ ڈائری وقت کے ایک لمحہ کے بارے میں بتاتی ہے، لوگوں اور مقامات کی طویل تاریخ کے متعلق نہیں بتاتی۔ اس کے لیے مورخین کو دیگر دستاویزات کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔  

بکانن کون تھا؟

(Who was Buchanan?)

فرانسس بکانن ایک طبیب (ڈاکٹر ) تھا جو ہندوستان آیا اور بنگال میدیکل سروس میں (1794 سے 1815 تک) ملازمت کی ۔ کچھ سالوں کے لیے وہ ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ویلزلی کا سرجن رہا۔ کلکتہ (موجودہ کولکاتہ) کے قیام ے دوران اس نے ایک چڑیا گھر تشکیل دیا جو کلکتہ علی پور چڑیا گھر بن گیا۔ مختصر مدت کے لیے وہ بوٹانیکل گاردن کا انچارج بھی رہا۔ بنگال خکومت کی درخواست پر اس نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے کا تفصیلی سروے کیا۔ 1815 میں وہ بیمار پڑ گیا اور انگلینڈ واپس چلا گیا۔ اپنی والدہ کی موت کے بعد ان کی جائداد کا وارث بنا اور اس نے اپنی والدہ کے خاندان کا نام "ہملٹن" اختیار کر لیا اس لیے اکثر اس کو بکانن ہملٹن بھی کہا جاتا ہے۔

اگر ہم اٹھارھویں صدی کے آخرکی مال دزاری دستاویزات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان پہاڑی نسل کے لوگوں کو " پہاڑیا"  کیوں کہا جاتا تھا۔ یہ راج محل کی پہاڑیوں کے ارد گرد رہا کرتے تھے۔ یہ جنگلی پیداوار سے گذر بسر کرتے اور جھوم کھیتی کرتے تھے۔ وہ جنگل کے چھوٹے سے حصے میں جھاڑیوں کو کاٹ کر اور گھاس پھوس کو جلا کر زمین صاف کر لیتے تھے۔ ان قطعات زمین  پر جو راکھ کی پوٹاش سے زرخیز ہو جاتا تھا ، یہ پہاڑی لوگ مختلف قسم کی دالیں اور جوار باجرہ اپنے کھانے کے لیے اگاتے تھے۔ یہ اپنے بیلچہ سے زمین کو تھوڑا بہت کھرچ لیتے تھے اور کچھ سالوں تک اس صاف کی گئی زمین پر کھیتی کرتے اور پھر کچھ سالوں کے لیے خالی چھوڑ کر نئے علاقےمیں چلے جاتے تاکہ اس زمین میں پھر سے زرخیزی پیدا ہو سکے۔ 
یہ پہاڑی لوگ غذا کے لیے جنگلات سے مہوا کے پھول جمع کرتے تھے، فروخت کرنے کے لیے ریشم کے کوئے اور رال نیز کاتھ کوئلہ پیدا کرنے کے لیے لکڑی جمع کرتے تھے۔ چٹائی کی مانند درختوں کے نیچے جو چھوتے چھوٹے پودے اگ آتے تھے اور خالی زمین پر گھاس کے قطعات جو زمین کو ڈھانک لیتے تھے، وہ جانوروں کے لیے چراگاہ دستیاب کراتے تھے۔
پہاڑی لوگوں کی زندگی بحیثیت شکاری ، جھوم کھیتی کرنے والے کسان، غذا جمع کرنے والے، کاٹھ کوئلہ تیار کرنے والے نیز ریشم کے کیڑے پالنے والوں کی شکل میں جنگلات سے لازمی طور پر مربوط تھی۔ وہ املی کے درختوں کے جھنڈ کے اندر اپنی جھونپڑیوں میں رہتے تھے اور آم کے سائے میں آرام کرتے تھے۔ وہ پورے علاقے کو اپنی زمین تسلیم کرتے تھے جو ان کی شناخت کے ساتھ بقائے زندگی کی بنیاد بھی تھی۔ اور یہ لوگ باہر ی لوگوں کی دراندازی کی مزاحمت کرتے تھے۔ ان کے سردار اپنے گروہ کا اتحاد بنائے رکھتے تھے اور ان تنازعات کا تصفیہ کرتے اور دیگر قبائل نیز میدانی لوگوں کے ساتھ جنگ میں اپنے قبیلے کی  قیادت کرتے تھے۔
9

شکل 10.9

ولیم ھوجز کے ذریعہ بنایا گیا جنگلی علاقہ کا منظر۔

یہاں اپ جنگلات سے ڈھکی نچلی پہاڑیاں اور اوپر چٹانی سلسلے کو بھی دیکھ سکتے ہیں جو حقیقیت میں کہیں بھی 2,000 فٹ سے زیادہ اونچی نہیں ہیں۔ ہوجز درمیان میں کھڑی پہاڑیاں دکھا کر ان کے قابلِ حصول ہونے پر زور دینا چاہتا ہے۔

تصویر 10.8 اور 10.9 کو دیکھیے اور بتائیے کہ ان تصاویر میں قبائلی لوگ اور فطرت کے درمیان تعلقات کی نمائندگی کس طرح کی گئی ہے۔

ان پہاڑی باشندوں میں اپنی بنیاد کے ساتھ پہاڑی لوگ مستقل میدانی علاقوں پر یورش کرتے رہتے تھے جہاں سکونت پذیر کاشت کار رہتے تھے۔ یہ یورشیں ان کی بقائے زندگی کے لیے ضروری تھیں، خاص طور پر قحط سالی میں ، ساتھ ہی یہ یورشیں سکونت پذیر جماعتوں پر اپنی طاقت کے دعوے کا بھی اظہار تھا ۔ اور ایسی یورشیں باہری لوگوں کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات بنانے کے لیے گفت و شنید کا بھی ذریعہ تھیں۔ میدانی علاقے کے زمین دار اکثر ان پہاڑی سرداروں کو پابندی سے خراج ادا کر کے امن و امان خریدتے تھے۔ اس طرح تاجر بھی ان پہاڑی لوگوں کے  ذریعہ کنٹرول، پہاڑی راستوں (درّوں) کو استعمال کرنے کی اجازت انہیں کچھ رقم دے کر حاصل کرتے تھے۔ جب ایک دفعہ ان پہاڑی سرداروں کو ٹیکس مل جاتا تھا تو یہ تاجروں کی حفاظت کرتے تھے نیز یہ بھی یقین دہانی کراتے تھے کہ کوئی بھی ان تاجروں کے مال کو نہیں لوٹے گا۔ 
یہ گفت و شنید کا امن و امان معاہدہ کسی قدر آسانی سے ٹوٹ جانے والا تھا جو اٹھارھویں صدی کی آخری دہائی میں اس وقت ٹوٹ گیا جب مشرقی ہندوستان میں مقیم زراعت کی جارحانہ توسیع ہوئی۔ انگریزوں نے جنگلات کی صفائی کے کام کی حوصلہ افزائی کی ، زمین داروں اور جوت داروں نے غیر مزروعہ زمین کو چاول کے کھیتوں میں تبدیل کر دی۔ زمین مال گزاری کے وسائل کو بڑھانے کے لیے مقیم زراعت کی توسیع انگریزوں کے لیے ضروری تھی تاکہ بر آمد کے لیے فصلیں پیدا ہوں اور مقیم و منظّم سماج کی بنیادیں قائم کی جا سکیں۔ یہ (انگریز) جنگلات کو شوریدہ سری کے ساتھ وابستہ سمجھتے تھے اور جنگلی لوگوں کو غیر مہذب، سرکش اور وحشی خیال کرتے تھے جن پر خکومت کرنا مشکل  امر تھا۔ اس لیے انھوں نے محسوس کیا کہ جنگلات کا صفایا کیا جائے اور مقیم زراعت قائم کی جائے نیز جنگلی لوگوں کو مطیع اور مہذب بنایا جائے اور انہیں ترغیب دی جائے کہ وہ شکار کرنا چھوڑ دیں اور کھیتی کریں۔
جوں جوں مقیم زراعت میں توسیع ہوئی، جنگلات اور چراگاہوں کے تحت علاقہ محدود ہوتا گیا۔ اس وجہ سے پہاڑی لوگوں اور سکونت پذیر کاشت کاروں کے درمیان آویزش تیز ہوتی گئی۔ پہاڑی لوگوں نے باقاعدگی کے ساتھ پہلے سے زیادہ سکونت پذیر گاؤں پر یورشوں کی شروعات کر دی اور ان سے غذائی اجناس ، جانور چھین کر لے جانے لگے۔ نو آبادیاتی افسران نے بر انگیختہ ہو کر پہاڑی لوگوں کو کنٹرول کرنےاور مغلوب کرنے کی کوششیں کیں ، لیکن انہیں یہ ایک مشکل امر معلوم ہوا۔
1770 کی دہائی میں انگریزوں نے پہاڑی لوگوں کا شکار اور قتل کرنے کے لیے استحصال کی ایک ظالمانہ پالیسی اختیار کی۔ بالآخر 1780 کی دہائی میں بھاگل پور کے کلکٹر آگسٹس کلیو لینڈ نے امان قائم کرنے کی پالیسی تجویز کی جس کے مطابق پہاڑی سرداروں کو ایک سالانہ الائونس دیا جانا تھا اور اس کے عوض انہیں اپنے آدمیوں کے چال چلن کو یقینی بنانے کی زمہ داری لینی تھی۔ ان سے یہ بھی امید کی گئی تھی کہ وہ اپنی بستیوں میں نظم و ضبط بنائیں گے اور اپنے آدمیوں کو ڈسپلن میں رکھیں گے۔ بہت سے پہاڑی سرداروں نے الائونس لینے سے انکار کر دیا۔ جنھوں نے اسے قبول کیا ان میں سے اکثر اپنی قوم میں اپنا اقتدار کھو بیٹھے۔ نو آبادیاتی حکومت سے پیسہ لینے کے بعد سے انھیں ماتحت نوکر یا تنخواہ دار سردار تصور کیا جانے لگا۔
جب امن وامان کی مہم جاری بھی تب پہاڑی لوگ اپنے آپ کو دشمن فوجوں سے بے عزت ہونے سے بچنے کے لیے اور باہری لوگوں سے جنگ کرنے کے لیے، پہاڑوں کے اندرونی حصوں میں واپس ہو گئے لہٰذا جب بکانن نے 1810-11 کے سردی کے زمانے مین اس علاقے کی سیاحت کی تو یہ فطری تھا کہ یہ پہاڑی لوگ بکانن کو شک اور بے یقینی سے دیکھیں۔ امن و امان کی مہموں کے تجربات اور بے رحمانہ جبروتشدد کی یادداشتوں نے اس علاقے میں برطانوی دراندازی کے ان کے تصور کو ایک شکل دی تھی۔ ہر سفید آدمی انہیں طاقت کا ایک ایسا نمائندہ لگتا تھا جو جنگلات اور زمین پر ان کے کنٹرول کو ان سے چھین کر ان کے طرزِ حیات اور بقائے زندگی کے وسائل کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
حقیقتاّ اس زمانے میں خطرے کے نئے اشارے ملنے لگے تھے یعنی اس علاقے میں سنتھال جنگلات کو صاف کرتے ہوئے، عمارتی لکڑی کو کاٹتے ، زمین جوتتے اور چاول نیز کپاس اگاتے  ہوئے کثرت سے آرہے تھے۔ اس طرح سنتھال آبادکاروں نے نچلی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تو پہاڑی لوگوں کو راج محل کی پہاڑیوں میں اور اندر کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا۔ اگر پہاڑی لوگوں کی زندگی کی علامت بیلچہ تھی جس کا استعمال وہ جھوم زراعت میں کرتے تھے تو نوابادکاروں کو ہل کی طاقت کا نمائندہ مانا جاتا تھا۔ بیلچہ اور ہل کے درمیان یہ جنگ بہت طویل وقت تک چلی۔ 

2.2 سنتھال : پہلے رہنما آبادکار

(The Santhals: Pioneer settlers)

1810 کے آخر میں بکانن نے گنجوریا پہاڑ ( جو راج محل پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ تھا) کو پار کیا اور چٹانی علاقے سے گذرتے ہوئے ایک گاؤں میں پہنچ گیا۔ یہ ایک قدیم گاؤں تھا جس کے اطراف کی زمین زراعت کی توسیع کے لیے ابھی حال ہی میں صاف کی گئی تھی، یہاں کے برّی مناظر دیکھ کر بکانن کو یہ ثبوت ملا کہ  " انسانی محنت کا مناسب استعمال " کے ذریعہ اس علاقے کا تغیر کلی ہو گیا تھا۔ وہ لکھتا ہے:" گنجوریا میں ابھی کافی مقدار میں کاشت کاری کی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے کو کتنا شاندار بنایا جا سکتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس کی خوبصورتی اور خوش حالی دنیا کے کسی بھی علاقے کے برابر بنائی جا سکتی ہے۔ " یہاں کی زمین چٹانی ہے لیکن " غیر معمولی طور پر عمدہ "ہے اور بکانن نے اتنی عمدہ تمباکو اور سرسوں کہیں نہیں دیکھی بھی۔ معلوم کرنے پر اسے پتہ چلا کہ یہاں سنتھالوں نے کاشت کاری کی حدوں کی کافی  توسیع کر لی تھی۔ یہ لوگ (سنتھال) 1800 کے قریب اس علاقے میں آئے تھے۔ انھوں نے پہاڑی لوگوں کے بے دخل کر دیا جو ان نچلی ڈھلانوں پر رہتے تھے، جنگلات کو صاف کیا اور یہاں کی زمین پر آباد ہو گئے۔
سنتھال راج محل کی پہاڑیوں پر کیسے پہنچے؟ سنتھال 1780 کی دہائی کے آس پاس بنگال میں آنا شروع ہوئے۔ زمین دار زراعت کے لیے زمین تیار کرنے اور زراعت کی توسیع کرنےکے لیے انھیں اجرت پر رکھتے تھے اور برطانوی افسران انھیں جنگل محالوں میں آباد ہونے کی دعوت دیتے تھے۔ جب بھی انگریز پہاڑی افراد کو مغلوب کرنے اور مقیم کھیتی کرنے کے لیے انھیں تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو وہ سنتھالوں کی طرف متوجہ ہوتے۔ پہاڑی لوگوں نے جنگلات کو کاٹنے سے انکار کر دیا۔ ہل کو ہاتھ لگانے میں مزاحمت کی اور مسلسل سرکشی کرتے رہے۔ اس کے بر خلاف سنتھال مثالی آبادکار ظاہر ہوئے۔ انھوں نے اپنی پوری طاقت سے جنگلوں کو صاف کیا اور ہل چلایایعنی زراعت کی۔
سنتھال کو زمین دے کر راج محل کی پہاڑیوں کو دامن میں آباد ہونے کے لیے راغب کر لیا گیا۔ 1832 تک زمین کے ایک بڑے رقبے کی دامن کوہ کی شکل میں حد بندی کر دی گئی۔
10

شکل م10.10

سنتھال علاقے میں ایک پہاڑی گاؤں۔  

23 فروری 1856 میں السٹرٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر۔

1850 کی ابتدائی دہائی میں والٹر شیرول کے ذریعہ بنائی گئی راج محل کی نچلی پہاڑیوں میں واقع ایک گاؤں کی تصویر۔یہ گاؤں پرسکون، پر امن اور دلکش ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی باہر ی دنیا سے متاثر معلوم نہیں ہوتی۔

تصویر 10.12 کا اس سنتھال گاؤں کی تصویر کے ساتھ موازنہ کیجیے۔

اسے سنتھالوں کی زمین کے طور پر اعلان کر دیا گیا۔ انھیں اس علاقے کے اندر ہی رہنا تھا ہل چلاکر زراعت کرنی تھی اور سکونت پذیر کسان بننا تھا۔ سنتھالوں کو عطیہ میں دی جانے والی زمین کے معاہدہ میں یہ شرط بھی کہ انھیں دی گئی زمین کے کم سے کم دسویں حصے کو صاف کر کے زراعت کرنی تھی۔ اس علاقے کا سروے کر کے یہاں کا نقشہ تیار کیا گیا، کھمبے لگا کر اس کو بارھ سے کھیر دیا گیا۔ اس کو میدانی علاقے کی سکونت پذیر دنیا اور پہاڑی لوگوں کی پہاڑیوں سے الگ کر دیا گیا۔دامن کوہ کی حد بندی کے بعد سنتھالوں کی بستیوں میں کافی تیزی کے ساتھ توسیع ہوئی ۔ اس علاقے میں سنتھالوں کے گاؤں کی تعداد جو 1838 میں 40 تھی 1851 تک بڑھ کر 1,437 تک پہنچ گئی۔ اس مدت میں سنتھالوں کی آبادی جو صرف 3,000 تھی بڑھ کر 82,000 سے بھی زیادہ ہو گئی۔ جوں جوں زراعت کی توسیع ہوتی گئی، کمپنی کی تجوریوں میں مال گزاری کی رقم میں اضافہ ہوتا گیا۔
سنتھالوں کی روایت اور انیسویں صدی کے گانے بڑی وضاحت کے ساتھ ایک لمبے سفر کی تاریخ بتاتے ہیں۔ یہ سنتھال کے ماضی کی مستقل نقل مکانی کی تمائندگی کرتے ہیں، بسنے کی جگہ انتھک تلاش کی۔ اور دامن کوہ تک ان کا سفر ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
جب سنتھال راج محل کی پہاڑیوں کے گھیرے پر آباد ہوئے تو پہاڑی لوگوں نے ان سے مزاحمت کی لیکن وہ ان پہاڑیوں میں اندر کی جانب ہٹنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ انھیں نچلی پہاڑیوں اور وادیوں میں نیچے  کی طرف حرکت کرنے کے علاوہ اندرونی خشک حصوں اور زیادہ بنجر نیز اوپری پہاڑیوں کے چٹانی  علاقوں تک محدود کر دیا گیا۔ اس سے ان کی زندگی پر طویل مدتی اثرات مرتب ہئے اور یہ مفلس ہوتے گئے۔ جھوم زراعت ، نئی نئی زمینوں کی طرف اقدام کرنے اور مٹی کی قدریتی زرخیزی کا استعمال کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے۔ جب زیادہ زرخیز زمینیں ان کی دسترس سے دور ہو گئیں، جو اب دامن کوہ کا حصہ بن چکی تھیں، تو پہاڑی لوگ اپنی کھیتی کے طریقے کو موثر طور پر زندہ نہیں رکھ سکے۔ جب اس علاقے کے جنگلات زراعت کے لیے صاف کر دیے گئے تب پہاڑی شکاریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بر خلاف سنتھال لوگوں نے اپنی پہلی والی حرکت پذیر زندگی کو چھوڑ دیا اور ایک جگہ مستقل آباد ہو گئے اور بازار کے لیے کئی قسم کی تجارتی فصلوں کی زراعت کرنے لگے اور تاجروں نیز مہاجنوں کے ساتھ معاملات کرنے لگے تھے۔
تاہم سنتھالوں نے بھی جلدی ہی یہ جان لیا کہ انھوں نے جس زمین پر کھیتی کرنی شروع کی ہے وہ ان کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ سنتھالوں نے جس زمین کا صاف کر کے کھیتی شروع کی اس پر حکومت بھاری ٹیکس لگا رہی تھی۔ مہاجن(دیکو) سود کی اعلیٰ شرح لگا رہے تھے اور جب قرض ادا نہ کیا جاتا تھا تو اس صورت میں زمین پر قبضہ کر رہے تھے نیز زمین دار دامین کوہ کے علاقے پرکنٹرول کرنے کا دعویٰ کرنے لگے۔
1850 کی دہائی تک سنتھال یہ محسوس کرنے لگے کہ اپنے لیے ایک مثالی دنیا تعمیر کرنے کے لیے جہاں ان کی اپنی حکومت ہوگی، زمین داروں ،مہاجنو اور نوآبادیاتی ریاست کے خلاف بغاوت کرنے کا واقت آگیا ہے یہ سنتھال بغاوت(1855-56) کے بعد سنتھال پر گنہ وجود میں آ گیا جس کے لیے 5500 مربع میل کا علاقہ بھاگل پور اور بیر بھوم ضلع سے لیا گیا۔نوآبادتی حکومت کو امید تھی کہ سنتھالوں کے لیے نیا پرگنہ وجود میں لانے اور اس میں چند خاص قوانین کا نفاذ کرنے سے سنتھال خوش ہو سکتے ہیں۔
11

شکل 10.11

سیدھو مانجھی، سنتھال بغاوت کا قائد

12

شکل 10.12 

سنتھال برطانوی راج کے سباھیوں سے جنگ کرتے ہوئے۔ 23 فروری 1856 کے السڑ ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر۔

اس بغاوت نے سنتھالوں کے تئیں برطانوی تصور کو تبدیل کر دیا۔ جو گاؤں پہلے پر سکون اور پر امن نظر آ تے تھے(تصویر 10.10) اب تشدد اور خوں ریزی کے مقامات بن گئے۔

تصور کیجیے کہ آپ انگلینڈ میں السڑٹیڈ لندن نیوز کے قاری ہیں۔ تصویر 10.12،10.13 اور 10.14 میں دکھائے گئےمناظر کے تئیں  آپ کیسے ردِ عمل ظاہر کریں گے؟ آپ کے ذہن میں یہ تصاویر سنتھالوں کی کیا شبیہ بناتی ہیں؟

13

شکل 10.13

جلتے ہوئے سنتھال گاؤں 23 فروری 1856 کے السٹر ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر 

بغاوت کچل دیے جانے کے بعد علاقے کی تلاشی لی گئی ۔ مشتبہ لوگوں کو پکڑا گیا اور گاؤں کو آگ لگا دی گئی۔ جلتے ہوئے گاؤں کی تصاویر انگلینڈ کی عوام کو دکھائی گئیں۔ ایک دفعہ پھر یہ مظاہرہ کرنے کے لیے برطانوی کتنے طاقتور ہیں اور ان میں بغاوت کو کچلنے اور نو آبادیاتی نظام کو نافذ کرنے کی صلاحیت ہے۔ 

14

شکل 10.14 

سنتھال قیدیوں کو لے جاتے ہوئے۔ 1856 کے السٹر ٹیڈ لندن نیوز میں شائع تصویر 

دھیان دیجیے کہ ایسی تصاویر کس طرح کے سیاسی پیغام کو ذہن نشین کراتی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ برطانوی افسران فاتحانہ انداز میں فخریہ انداز میں ہاتھی پر سوار ہیں۔ گھوڑے پر سوار ایک افسر حقہ پی رہا ہے۔ اس تصویر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ پریشانی کا وقت ختم ہو گیا اور بغاوت کچل دی گئی ہے۔ باغیوں کو زنجیروں میں باندھ کر کمپنی کے سپاہی انھیں حفاظت کے ساتھ گھیرے ہوئے جیل لے جا رہے ہیں۔ 

2.3 بکانن کی رواداد (The accounts of Buchanan )

ہم بکانن کی رواداد کی بنیاد پر یہاں خاکہ کھینچ رہے ہیں، لیکن اس کی رپورٹوں کو پڑھتے ہوئے ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک ملازم تھا۔ اس کے سفر صرف برّی مناظر اور نامعلوم کی دریافت کی خواہش سے ہی تحریک یافتہ نہیں تھے۔ وہ نقشہ نویسوں ، جائزہ کاروں، پالکی اٹھانے والوں، قلیوں وغیرہ لوگوں کی ایک بری فوج کے ہمراہ ہر جگہ کوچ کرتا تھا۔ اس کے سفر کا خرچ ایسٹ انڈیا کمپنی برداشت کرتی تھی کیونکہ اسے ان اطلاعات کی ضرورت تھی جن کو جمع کرنے کی امید بکانن سے تھی۔ کانن کو اس بارے میں خاص طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ اسے کیا دیکھنا ہے اور تحریر کرنا ہے۔ وہ جب بھی اپنے لوگوں کی جوج کے ہمراہ کسی گاؤں میں پہنچتا تو اس کو فوراً ہی سرکار کے ایک ایجنٹ کی شکل میں ہی دیکھا جاتا تھا۔ 

جوں ہی کمپنی نے اپنی طاقت مستحکم کی اور تجارت کی توسیع کی اس نے قدرتی وسائل کی طرف دیکھنا شروع کیا تاکہ ان پر کنٹرول کر کے ان کا استحصال کیا جا سکے ۔ ان نے برّی مناظر اور مال گزاری وسائل کا سروے کیا ، انکشاری مہمیں منظّم کیں اور اطلاعات جمع کرنے کے لیے ماہر ارضیات اور جغرافیہ داں نیز نباتات داں اور طبی ماہرین کو بھیجا ۔ بلا شبہ بکانن ایک غیر معمولی مشاہد تھا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا ، جو جہاں کہیں بھی گیا وہاں اس نے پتھروں اور چٹانوں نیز وہاں کی زمین کی مختلف سطحوں اور پرتوں کا بغور پر مشاہدہ کیا۔ اس نے تجارتی نقطئہ نظر سے قیمتی معدنیات اور پتھروں کو تلاش کیا۔ اس نے خام لوہا، ابرق، گرینائٹ اور سالٹ پیڑ کی تمام علامات کو ریکارڈ کیا ۔ اس نے نمک بنانے اور کانوں سے خام لوہا نکالنے کے مقامی معمولات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ 

کسی برّی منظر کے متعلق لکھتے ہوئے بکانن صرف یہ نہیں بیان کرتا کہ اس نے کیا دیکھا اور برّی منظر کیسا لگتا تھا وہ یہ بھی لکھتا کہ اس میں تغیر لا کر اسے زیادہ پیداواری کیسے بنایا جا سکتا ہے، کس طرح کی فصلوں کی زراعت ہو سکتی ہے، کون سے درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور کون سے پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ہم کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی بصارت اور اس کی فوقیت مقامی باشندوں سے مختلف ہوتی تھی۔ کیا ضروری ہے، اس ضمن میں اس کا تخمینہ کمپنی کے تجارتی اغراض و مقاصد اور ترقی کے ضمن میں جدید مغربی تصور سے متعین ہوتا ہے۔ ناگزیر طور پر وہ جنگلاتی باشندوں کی طرزِ زندگی کا ناقد تھا اور یہ محسوس کرتا تھا کہ جنگلات کو زراعتی زمینوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ 

ماخذ 3

سنتھالوں پر بکانن کا بیان ( Buchanan on the Santhals)

بکانن لکھتا ہے:

نئی زمینیں صاف کرنے میں بہت ہوشیار ہیں۔ لیکن حقیرانہ انداز میں رہتے ہیں۔ ان کی جھونپڑیوں میں کوئی باڑھ نہیں ہوتی ہے اور دیواریں چھوٹی چھوٹی سیدھی کھڑی کی گئی جھڑوں سے جو کافی نزدیک ہوتی ہیں، بنائی جاتی ہیں، جن پر اندر کی جانب پلاسٹر کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی اور بدسلیقہ ہوتی ہیں اور چھت سپاٹ ہوتی ہیں جس میں بہت کم محربی پن ہوتا ہے۔

ماخذ 4

کڈویا کے قریب کی چٹانیں (The rocks near Kaduya)

بکانن کا رساکہ مندرجہ ذیل جیسے مشاہدات سے بھرا ہوا ہے:

تقریباً ایک میل آگے چلنے کے بعد (میں)کسی سطح کی شہادت کے بغیر چٹانوں کے پہلو کے باہر نکلتے ہوئے کم اونچائی والے حصہ پر آ گیا ؛ یہ ایک چھوٹا دانے دار گرینائٹ ہے ساتھ ہی سرخ قلمی دھات (Feldspar) سنگ مروہ(Quaertz)اور سیاہ ابرق (Black Mica)...

یہاں سے آدھے میل کے فاصلے پر میں ایک دوسری چٹان پر آیا جو طبق در طبق نہیں تھی اور جو عمدہ دانے دار گرینائٹ ساتھ میں پیلی سی قلمی دھات ، سفید سنگِ مروہ اور سیاہ ابرق تھا۔

بحث کیجیے...........

بکانن کیا تذکرہ ارتقا کے متعلق اس کے خیالات کے بارے میں ہمیں کیا بتاتا ہے؟َاقتباس سے حوالہ دیتے ہوئے اپنے دلائل پیش کیجیے۔ اگر آپ ایک پہاڑی باشندے ہوئے تو ان خیالات کے متعلق کیا ردِعمل ہوتا؟

ماخذ 5

جنگلات کی صفائی اور مقیم زراعت کے متعلق 

(On clearance and settled cultivation )

راج محل کی نچلی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے بکانن نے لکھا :
اس علاقے کا منظر بہت ہی عمدہ ہے، یہاں کی زراعت خاص طور پر گردش کرتی ہوئی تنگ وادیوں میں چاروں طرف دھان کی زراعت ، بکھرے درختوں کے ساتھ صاف کی گئی زمین اور چٹانی پہاڑیاں بے عیب ہیں؛ اس کے باوجود اس علاقے میں کچھ ترقی کے ظہور اور وسیع پیمانے پر اصلاح شدہ زراعت کی، جس کے لیے یہ علاقہ انتہائی اثر پذیر ہے۔ لکڑی کی جگہ یہاں ٹسر Tassar (ریشم کا کیڑا) اور لاکھ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آسان اور پالاس کے باغات لگائے جا سکتے ہیں۔ باقی جنگل کو بھی صاف کر دینا چاہیے اور بڑے حصے پر زراعت کرنی چاہیے۔ اگر چہ اس مقصد کے لیے جو جگہ مناسب نہ ہو وہاں پنکھیا کھجور اور مہوا کے درخت اگائے جا سکتے ہیں۔

3۔ دیہات میں بغاوت(A REVOLT IN THE COUNTRYSIDE)

(بمبئی دکن)(THE BOMBAY DECCAN)

آپ پڑھ چکے ہیں کہ نو آبادیاتی بنگال کے کسانوں اور زمین داروں نیز راج محل کی پہاڑیوں کے پہاڑی اور سنتھالوں کی زندگی کس طرح تبدیل ہوئی۔ آئیے اب مغربی ہندوستان اور بعد کے عہد کی طرف رخ کرتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں کہ ممبئی دکن کے دیہی علاقوں میں کیا ہو رہا تھا۔

ایسی تبدیلیوں کی تحقیق کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہاں کے کسانوں کی بغاوت پر دھیان مرکوز کیا جائے۔ ایسے ماحولیاتی وقت میں باغی اپنا غصہ اور جوش جنون ظاہر کرتے ہیں۔ وہ جسے نا انصافی اور اپنی پریشانی کے اسباب سمجھتے ہیں اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم ان کی مزاحمت کو بطور تمہید سمجھنا چاہتے ہیں اور ان کے غصے کی تہوں کو ادھیڑنا ہے تو ہم کو ان کی زندگی اور تجربات کی جھلک دیکھنی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ ہم سے پوشیدہ رہے گی۔ بغوتیں دستاویزات بھی پیش کرتی ہیں جن کا مؤرخین معائنہ کر سکتے ہیں۔ باغیوں کی حرکات و سکنات سے ہوشیار ہو کر اور نظم و نسق کو دوبارہ قائم کرنے کی خواہش سے ریاست کے عہدے داران صرف باغیوں کو دبانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے اسباب کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ پالیسیوں کو تشکیل دیا جا سکے اور امن و امان قائم کیا جا سکے اس تلاش سے شہادتیں حاصل ہوتی ہیں جس کی مؤرخین تحقیق کر سکتے ہیں۔

انیسویں صدی کے دوران ہندوستان کے مختلف حصوں میں کسانوں نے مہاجنوں اور اناج کے تاجروں کے خلاف بگاوتیں کیں۔ اسی طرح کی ایک بغاوت 1875 میں دکن مین بھی واقع ہوئی۔ 

3.1 بہی کھاتوں کو جلا دینا (Account books are burnt)

یہ تحریک پونہ(موجودہ پونے) ضلع کے ایک بڑے گاؤں سوپا سے شروع ہوتی ہے۔ سوپا ایک بازار مراکز تھا جہاں بہت سے دکان دار اور مہاجن رہتے تھے۔ 12 مئی 1875 کو قرب و جوار کے دیہی علاقے کی رعیت (کسان) جمع ہو گئے اور دکان داروں پر ان کے بہی کھاتوں اور قرض معاہدوں کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے بہی کھاتوں کو جلایا ، اناج کی دکانوں کو لوٹ لیا اور ساہوکاروں کے گھروں کو بھی آگ لگا دی۔

پونہ سےیہ بغاوت احمد نگر تک پھیل گئی۔ پھیر آئندہ دو مہینوں میں یہ بغاوت مزید 6500 کلومیٹر کے رقبے میں بھیل گئی ۔30 سے بھی زیادہ گاؤں اس سے متاثر ہوئے۔ ہر جگہ بغاوت کا نمونہ ایک جیسا ہی تھا۔ ساہوکاروں پر حملہ کیا گیا، بہی کھاتوں کو جلایا گیا اور قرض معاہدوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ساہوکار گاؤں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اکثر واقعات میں وہ اپنی ملکیت اور مال و اسباب بھی پیچھے چھوڑ گئے۔

جب بغاوت پھیلی تو برطانوی افسران کی آنکھوں کے سامنے 1857 (دیکھیے با ب 11) کے مناظر آ گئے۔ باغی کسانوں کو اطاعت قبول کرنے اور خوفزدہ کرنے کے واسطے گاؤں میں پولس چوکیاں قائم کی گئیں ، جدل ہی فوجوں کو بلایا گایا: 95 افراد کو گرفتار کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو سزا دی گئی لیکن دیہی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے میں کئی مہینے لگ گئے۔

ماخذ6

اس دن سوپا میں(On that day in supa)

16 مئی 1875 کو پونہ کے ضلع مجسٹریٹ نے پولس کمشنر کو لکھا:

بروز سنیچر ، 15 مئی کے دن سوپا میں آنے کے بعد میں اس ہنگامے سے آگا ہ ہوا۔ 

ایک مہاجن کا گھر جلا دیا گیا، تقریباً ایک درجن مکانوں کو بزورِ طاقت توڑ دیا گیا اور پوری طرح مال و اسباب کوبرباد کر دیا گیا۔حساب کتاب کے کاغذات ، معاہدے ، اناج، دیہاتی کپڑے سڑکوں پر لاکر جلا دیے گئے جہاں راکھ کے ڈھیر اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

چیف کانسٹیبل نے 50 لوگوں کو گرفتار کیا۔ چوری کی دو ہزار کی ملکیت کی باز یافت کی گئی تخمیناً 25,000 روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ مہاجنوں کا نقصان کا دعویٰ ایک لاکھ سے زیادہ کا ہے۔ 

دکن رائٹس کمیشن

ساہوکار ایک ایسا شخص ہوتا تھا جو مہاجن اور تاجر دونوں کے کردار ایک ساتھ ادا کرتا تھا۔

ماخذ 7

ایک اخبار کی رپورٹ( A news paper report)

رعیت اور مہاجن  کے عنوان سے مندرجہ ذیل رپورٹ  نیٹیو  اوپینین ( Native opinion ) 

 6جون 1876 نامی اخبار میں شائع ہوئی اور بمبئی کے نیٹیو نیوز پیپر میں اس کا حوالہ دیا گیا:

 یہ (رعیت) پہلے اپنے گاؤں کی سرحد پر یہ دیکھنے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں کہ اگر سرکاری افسران آ رہے ہیں تو ان کے آنے کی اطلاع مجرموں کو وقت پر ہی دے دیتے ہیں۔ پھر وہ ایک گروہ کی شکل میں جمع ہو کر اپنے قرض خواہ (ساہوکار) کے گھر جاتے ہیں اور ان سے ان کے اقرار نامے اور دیگر دستاویزات حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور انکار کرنے پر قرض خواہوں پر حملہ کرنے اور لوٹ مار کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔اگر ایسے کسی حادثے کے وقت کوئی سرکاری افسر ان کے گاؤں کی طرف آتا ہوا نظر آتا ہے تو جاسوس مجرموں کو اس کی اطلاع دے دیتے ہیں اور بعد میں یہ مجرمین وقت رہتے غائب ہو جاتے ہیں۔

ایک مصنف کے ذریعہ مستعمل الفاظ اور اصطلاحات اکثر ہمیں اس کے میلان خاطر کے متعلق بتاتے ہیں۔ ماخذ 7 کو غور سے پڑھیے اور ان اصطلاحات کی انتخاب کیجئے جو مصنف کے کسی میلان خاطر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بحث کیجیےکہ اس علاقے کی رعیت ایسی حالت کا تذکرہ کس انداز میں کرتی ہوگی۔ 

اقرار نامے اور دستاویزات کیوں جلائے جاتے تھے؟ یہ بغاوتیں کیوں ہوئیں؟ یہ ہمیں دکن کے دیہات کے متعلق اور نو آبادیاتی حکومت کے تحت زرعی تبدیلیوں کے متعلق کیا بتاتے ہیں ۔ آئیے انیسویں صدی کے دوران ہوئی تبدیلیوں کی طویل تاریخ پر نظر ڈالیں۔

3.2 ایک  نیا مال گزاری نظام ( A NEW REVENUE SYSTEM)

جوں جوں برطانوی حکومت بنگال سے ہندوستان کے دیگر علاقوں تک وسیع ہوتی گئی ، ایک نیا نظام مال گزاری نافذ کر دیا گیا۔ استمراری بندوبست کو بنگال کے باہر کسی علاقے میں شاذ و نادر ہی وسعت دی گئی تھی۔ 
ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ 1810 کے بعد زرعی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے تیار فصل کی قیمت قدر بھی بڑھی اور بنگال کے زمین داروں کی آمدنی بھی زیادہ ہوئی۔چونکہ مال گزاری مطالبہ استمراری بندوبست کے تحت طے کیا گیا تھا، اس لیے نو آبادیاتی حکومت شدید خواہش کے سبب نو آبادیاتی حکومت کو اپنے لگان کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے طریقوں پر غور وفکر کرنا پڑا۔ اس لیے انیسویں صدی میں الحاق شدہ صوبوں میں عارضی مال گزاری بندو بست کیے گئے۔ 
اس کے علاوہ دیگر اسباب بھی تھے۔ جب افسران پالیسیاں تجویز کرتے ہیں تو ان کی سوچ ان معاشی نظریات سے شدت سے بنتی ہے جن سے پہلے وہ خوب واقف ہوتے ہیں۔ 1820 کی دہائی تک نگلینڈ کے ڈیوڈ ریکارڈ و  ایک ماہر معاشیات کے طور پر مشہور تھے۔ تو 
ابادیاتی افسران نے اپنے کالج کے دنوں میں ریکارڈو کے خیالات و نظریات کو پڑھا تھا۔ جب مہاراشٹر میں برطانوی افسران نے 1820 کی دہائی میں ابتدائی بندوبست کی شرائط تشکیل کرنے کے متعلق کام شروع کیا تو ان خیالات و نظریات میں سے کچھ پر عمل آوری کرنے لگے تھے۔

کرایہ دہندہ کی اصطلاح کا استعمال ایسے لوگوں کی تخصیص کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو اپنی ملکیت سے کرایہ آمدنی پر زندگی گزارتے ہیں۔

ریکارڈو کے خیالات کے مطابق زمین مالکان کو اس وقت رواج پذیر  " اوسط لگان" کا ہی صرف دعویٰ کرنا چاہیے ۔ جب زمین سے " اوسط لگان"  سے زیادہ  پیدا ہونے لگے تو زمین مالکان کو زائد مقدار میں آمدنی ہوگی جس پر ریاست کو ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹیکس نہیں لگایا گیا تو کاشت کار کرایہ دہندگان میں بدل جائیں گے اور ان کی زائد مقدار آمدنی کا زمین کی اصلاح میں ازروئے پیدائش سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔ ہندوستان میں بہت سے برطانوی افسران نے سونچا کہ بنگال کی تاریخ ریکارڈو کے نظریہ کی تصدیق کر دی ہے۔ وہاں کے زمین دار کرایہ دہندگان کے طہور پر تبدیل ہوتےنظر آئے کیونکہ انھوں نے اپنی زمینیں پٹے پر دے دیں اور کرائے کی آمدنی پر گزر بسر کرنے لگے۔ یہ ضروری تھا کہ برطانوی افسر ان بھی یہ محسوس کرنے لگیں کہ ایک مختلف نظام اپنایا جائے۔
جو مال گزاری نظام بمبئی دکن میں رئج کیا گیا وہ  " رعیت واری بندو بست" کے نام سے معروف ہے۔ بنگال میں نافذ نظام کے خلاف مال گزاری راست طور پر " رعیت"کے ساتھ طے کی جاتی تھی۔ مختلف طرح کی زمینوں سے ہونے والی اوسط آمدنی کا تخمینہ کر لیا جاتا تھا، رعیت کی مال گزاری ادا کرنے کی استعداد کی تخمینہ کر لیا جاتا تھا اور ریاست کے حصے کی شکل میں اس کی ایک مقدار طے کر دی جاتی تھی۔ ہر تیسویں سال میں زمینوں اک از سر نو سروے کیا جاتا تھا اور لگان کی شرح بڑھادی جاتی تھی۔ تاہم لگان کی مطالبہ زیادہ عرصہ تک مستقل نہیں تھا۔ 

3.3  مال گزاری مطالبہ اور کسان کا قرض (REVENUE DEMAND AND PEASANT DEBT)

ممبئی دکن میں پہلا مال گزاری بندوبست 1820 کی دہائی میں کیا گیا ۔ مال گزاری کا مطالبہ اتنا زیادہ تھا کہ بہت سے مقامات پر کسان اپنے گاؤں کو چھوڑ کر نئے علاقوں میں ہجرت کر گئے۔ ان علاقوں میں زمین گھٹیا قسم کی تھی اور بارش بھی غیر مستقل تھی، خاص طور پر مسئلہ شدیدتھا۔ جب بارش نہیں ہوتی تو فصل کم مقدار میں ہوتی تھی لہٰذا کسان کے لیے لگان ادا کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ تاہم لاگان جمع کرنے والے نگراں کلکٹراپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے اور اپنے اعلیٰ افسران کو خوش کرنے کے لیے کوشش کرتے تھے۔ اس لیے وہ انتہائی سخت گیری کے ساتھ رقم وصول کرنے کی جدوجہد کرتے تھے ۔ جب کوئی شخص لگان ادا کرنے میں ناکام رہتا تو اس کی فصلیں ضبط کر لی جاتی تھیں اور پورے گاؤں پر جرمانہ نافذ کردیا جاتا تھا۔
1830 کی دہائی تک مسئلہ مزید سخت ہو گیا ۔ 1832 کے بعد زرعی پیداوار کی قمیتوں میں تیزی سے گراوٹ آئی اور ڈیڑھ دہائی تک اس حالت میں کوئی بہتری نہیں ہوئی جس کا مطلب کسانوں کی آمدنی میں مزید گراوٹ تھا، اس زمانے میں 1832-34  کے سالوں میں دیہی علاقے قحط میں برباد ہو گئے۔ دکن کے ایک تہائی جانوور ہلاک ہو گئے اور نصف انسانی آبادی بھی فوت ہو گئی ۔ جو بچ گئے ان کے پاس بھی اس بحران سے نکلنے کے لیے زرعی ذخیرہ نہ تھا۔ لگان ادانہ کیا گیا تو بقایا میں اضافہ ہو تا گیا۔
ایسے میں کاشت کار کیسے زندہ رہے؟ انھوں نے لگان کیسے ادا کیا، اپنے ہل بیل کیسے خریدے یا بچوں کی شادیاں کیسے کیں؟
انھیں نا گزیر طور پر قرض لینا پڑا۔ مہاجنوں سے قرض لے کر ہی شاذونادر لگان ادا کیا جا سکتا تھا لیکن رعیت نے اگر ایک دفعہ قرض لے لیا تو اس کے لیے اسے واپس کرنا کافی مشکل تھا۔ قرض بڑھتا گیا اور قرض کی رقم غیر ادا شدہ بنی رہی تو کسانوں کا انحصار مہاجنوں پر بڑھ گیا۔حتیٰ کہ روز مرہ کی ضرورتوں کی اشیا خریدنے اور اپنے پیداواری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انھیں مزید اب قرض لینے کی ضرورت پڑ گئی۔ 1840 کی دہائی تک افسران کو بھی ہر جگہ کسانوں کے قرض کے بوجھ کی خطرناک سطح کے شواہد ملنے لگے۔
1840 کی دہائی کے وسط تک معاشی بحالی کی علامات نظر آنے لگیں۔ بیشتر برطانوی افسران نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ 1820 کی دہائی میں کیے گئے بندوبست بے رحمانہ تھے۔ مطالبہ کیا گیا کہ لگان بہت زیادہ تھا، نظام سخت گیر تھا اور کسانوں کی معیشت گرنے کے قریب تھی۔ اس لیے کھیتی کی توسیع کرنے کے لیے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر لگان مطالبہ کو معتدل کیا گیا ۔ 1845 کے بعد زرعی قیمتوں کی بحالی مستحکم ہوئی ۔ کاشت کار اب اپنے زرعی رقبے میں توسیع کرنے لگے اور نئے علاقوں میں حکرت پذیر ہونے لگے تھے نیز چراگاہی زمینوں کو کاشت شدہ کھیتوں میں تبدیل کرنے لگے۔ لیکن کسانوں کو اپنی کاشت کاری میں توسیع کرنے کے لیے زیادہ ہلوں اور مویشیوں کی اور زمین و بیج کی خریدنے کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ ان سب کاموں کے لیے ایک بار پھیر نہیں مہاجنوں سے قرض لینے کے لیے جانا پڑا۔
16

شکل 10.15

کپاس کی گرم بازاری

اس گراف کی لائن کپاس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ اور کمی کو ظاہر کر رہی ہے۔

3.4 کپاس میں پھر گرم بازاری آئی( THEN CAME THE COTTON BOOM)

1860 کی دہائی سے قبل برطانیہ میں درآمد کی جانے والی خام کپاس کا تین چوتھائی حصہ امریکہ سے آتا تھا۔ برطانوی سوتی کپڑے کے صنعت کار طویل عرصے سے امریکی کپاس سپلائی پراپنے انحصار کی وجہ سے پریشان تھے۔ اگر یہ ذریعہ بند ہو گیا تو کیا ہوگا؟ اس سوال سے پریشان ہو کر مشتاقانہ انداز میں کپاس کی سپلائی کے لیے متبادل ذریعہ تلاش کر رہے تھے۔ 
1857 میں برطانیہ میں کاٹن سپلائی ایسوسی ایشن قائم کی گئی اور 1859 میں منچسٹر کاٹن کمپنی تشکیل دی گئی جس کا مقصد دنیا کے ہر حصے میں کپاس کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو ان کی نشو ونما کے لیے موزوں ہو۔ انھوں نے ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پردیکھا جو امریکہ سے کپاس کی سپلائی بند ہو جانے کی صورت میں لنکا شائر کو کپاس کی فراہمی کر سکتا تھا۔ کپاس کی کاشت کے لیے ہندوستان میں موافق زمین اور آب و ہوا کے ساتھ سستی مزدوری بھی تھی۔
15

شکل 10.16

کپاس کی نقل و حمل کے لیے گاڑیاں ایک برگد کے نیچے کھڑی ہوئی ہیں۔

السٹریٹڈلندن نیوز، 13 دسمبر 1862

1861 میں جب امریکی خانہ جنگی چھڑ گئی تو برطانیہ میں پورے کپاس حلقوں میں خوف کی لہر پھیل گئی ۔ امریکہ سے درآمد خام کپاس کی سپلائی میں گراوٹ آئی۔ یہ حسب معمول مقدار کی تین فیصد سے کم تھی۔ 1861 میں جہاں بیس لاکھ گانٹھیں (ہر گانٹھ 400 رلس کی) آئی تھیں وہیں 1862 میں صرف 35 ہزار گانٹھیں درآمد ہوئیں۔ مضطربانہ انداز میں ہندوستان اور دیگر ملکوں کو یہ پیغامات بھیجے گئے کہ برطانیہ کو کپاس کی درآمد میں اضافہ کریں۔ بمبئی میں کپاس کے تاجروں نے اس کی سپلائی کا تخمینہ کرنے اور زراعت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کپاس پیدا کرنے والے ضلعوں کا دورہ کیا۔ کپاس کی قیمتیں بلند ہوئیں۔( تصویر 10.15دیکھیے) 

ویسے ہی بمبئی میں کپاس برآمد کرنے والے تاجروں نے برطانیہ کے مطالبہ کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے زیادہ سے زیادہ کپاس خریدنے کو یقینی بنایا۔ اس لیے انھوں نے شہری ساہوکاروں کو پیشگی رقم دی جو ان دیہی مہاجنوں کو دیں تاکہ وہ خطیر رقم ادھار دیں، جنھوں نے پیداوار کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ جب گرم بازاری آتی ہے تو قرض آسانی سے زیادہ تعداد میں لیا دیا جاتا ہے، کیوں کہ جو قرض دیتے ہیں وہ اپنی رقم کی وصولیابی کے بارے میں بے فکری محسوس کرتے ہیں۔

شکل 10.17کے تین پینل ہیں، کپاس کی نقل و حمل کے محتلف طریقے دکھائے گئے ہیں۔ تصویر میں کپاس کے وزن سے گرتے بیلوں ، سڑک پر پڑے گول مول بٹے اور کشتی پر لدی گانٹھوں کے ڈھیر پر دھیان دیجیے ، فنکار ان تصاویر کے ذریعہ کیا سمجھانا چاہتا ہے؟

17

شکل 10.17

ریلوے کے دور سے قبل کپاس کی نقل و حمل ، السٹریٹڈ لندن نیوز، 20 اپریل 1861

امریکی خانہ جنگی کے دوران جب امریکہ سے کپاس کی سپلائی بند ہو گئی تب برطانیہ پر امید ہو گیا کہ ہندوستان برطانوی صنعتوں کے لیے کپاس کی تمام ضرورتوں کے لحاظ سے سپلائی کردے گا، اس لیے سپلائی کا تخمینہ کیا جانے لگا، کپاس کی خوبی کی جانچ کی جانے لگی اور پیداوار کی خریدو فروخت کرنے کے طریقوں کا مطالعہ ہونے لگا۔ السڑ ٹیڈ لندن نیوز کے صفحات میں ان کی یہ دل چسپی منعکس ہوتی ہے۔
18

شکل 10.18

کشتیوں کا ایک بیڑا مرزاپور سے گنگا کے راستے کپاس کی گانٹھیں لے جاتے ہوئے۔

السٹریٹڈ لندن نیوز ، 13 دسمبر 1862۔

ریلوے کا دور شروع ہونے سے قبل مرزاپور کا قصبہ دکن سے آنے والی کپاس کا ذخیرہ مرکز تھا۔

اس ارتقا کا دکن کے دیہی علاقوں پر گہرا ثر پڑا۔ دکن کے گاؤں کی رعیت نے اچانک دیکھا کہ ان کی رسائی بظاہر غیر محدود قرض تک ہو گئی ہے۔ انھیں کپاس اگائے جانے والی فی ایکڑ زمین کے لیے سوروپئے کی رقم پیشگی دی جانے لگی۔ ساہوکار بھی سویع طور پر طویل مدتی شرائط کے قرض دینے کے لیے رضا مند تھے۔

جب امریکی بحران جاری تھا تو اس زمانے میں بمبئی دکن میں کپاس کی پیدوار وسیع ہو گئی تھی۔ 1860 اور 1864 کے درمیان کپاس پیداوار کا رقبہ دوگنا ہو گیا۔ 1862 تک 90 فیصد سے زائد کپاس برطانیہ میں ہندوستان سے آتی تھی۔
گرم بازاری کے یہ سال بھی تمام کپاس تاجروں میں خوشحالی کا باعث نہیں بنے۔ کچھ مال دار کسانوں کو فائدہ ہوا، لیکن کپاس کے کاروبار کی وسعت کا مطلب یہ ہوا کہ اکثریت قرض کے بوجھ سے دب گئی۔
19

شکل 10.19

 گریٹ انڈین پین سولا ریلوے کے ٹرمنس پر  کپاس کی گانٹھیں لندن کے لیے جہاز پر چڑھانے کے لیے پڑی ہیں۔ السٹریٹڈ لندن نیوز، 23 اگست 1862۔ 
ایک دفعہ ریلوے شروع ہو گئی تو کپاس کی سپلائی صرف بیل گاڑیوں اور کشتیوں پر ہی موقوف نہیں رہی بلکہ ریلوے سے بھی ہونے لگی۔ ندیوں سے آمدورفت وقت کے ساتھ کم ہو گئی لیکن نقل و حمل کے پرانے طریقے پوری طرح بر طرف نہیں ہوئے۔ تصویر کے پیش منظر میں دائیں طرف لدکی ہوئی بیل گاڑی ریلوے اسٹیشن سے بندرگاہ تک کپاس کی گانٹھیں لے جانے کے انتظار میں کھڑی ہے۔

3.5 قرض کے منبع کا خشک ہو جانا( Credit dries up )

جس طرح کپاس میں گرم بازاری تھی ، ہندوستان کے کپاس کے تاجر امریکہ کو مستقل طور پر بر طرف کر کے خام کپاس کے عالمی بازار پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ 1861 میں  ـبامبے گزٹ کے مدیر نے سوال کیا غلام ریاستوں 
(ریاست ہائے متحدہ امریکہ ) کو ہٹا کر ہندوستان کو لنکا شائر کا سامان بہم پہنچانے والا بننے سے کون روک سکتا ہے؟ 1865 تک یہ خواب بھی بند ہو گئے۔ جب امریکہ میں خانہ جنگی ختم ہو گئی تو کپاس کی پیدوار کو پھر سے رواج دیا گیا اور ہندوستانی کپاس کی برطانیہ میں درآمد باقاعدہ طور پر زوال پذیر ہو گئی۔ 
مہاراشٹرا میں برآمد تاجر اور ساہوکار اب وسیع پیمانے پر طویل مدتی قرض دینے کے لیے زیادہ پر جوش نہ تھے۔ وہ یہ دیکھ سکتے تھے کہ ہندوستانی کپاس کے لیے مطالبہ زوال پذیر ہے اور کپاس کی قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے اس لیے انھوں نے اپنے دائرہ عمل بند کرنے ، کسانوں کو پیشگی رقم محدود کرنے اور بقایا قرض کی ادائیگی کے مطالبہ کا فیصلہ کیا۔
اگر چہ قرض کا منقطع خشک ہو گیا تھا لیکن مال گزاری کے مطالبہ میں اضافہ کر دیا گیا ۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ پہلا مال گزاری بندوبست 1820 اور 1830 کی دہائی میں کیا گیا ۔ اب دوسرا بندوبست کرنے کا وقت تھا اور اس نئے بندوبست میں مطالبہ کو ڈرامائی طور پر 50 سے 100 تک بڑھا دیا گیا ۔ رعیت ایسے وقت پر جب قیمتیں گر رہی تھیں اور کپاس کے کھیت غائب ہو رہے تھے بڑھتی ہوئی مقدار میں مطابلہ کی ادائیگی کیسے کر سکتی تھی تاہم انھیں ایک بار پھر مہاجنوں کی طرف رخ کرنا پڑا لیکن انھوں نے اب قرض دینے سے انکار کر دیا۔ انھیں رعیت کی قرض ادائیگی کی صلاحیت پر اب زیادہ یقین نہیں رہا تھا۔ 

رعیت کی ایک عرضداشت

(A ryot petitions)

یہ ایک عرصداشت کی مثال ہے جو کر جات تعلقہ کے میراج گاؤں کی ایک رعیت کی طرف سے کلکٹر احمد نگر، دکن رائٹس کمیشن کو دی گئی تھی:

ساہوکار کافی عرصے سے ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ چونکہ ہم اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے سے زیادہ نہیں کما پاتے ، ہم حقیقت میں ان سے پیسے ، کپڑے اور اناج کے لیے بھیک مانگنے پر کجبور ہیں جو ہم ان سے سخت مشکل سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے  لیے ہمیں ان کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدہ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ضروری کپرے اور اناج بھی ہمیں نقد شرح پر نہیں بیچتے ۔ ہم سے جو قیمتیں طلب کی جاتی ہیں وہ نقد رقم ادائیگی کرنے والے گاہکوں کے مقابلے عام طور پر پچیس یا پچاس فیصد زائد ہوتی ہیں...ہمارے کھیتوں کی پیداوار بھی ساہوکار لے جاتے ہیں جس کو اٹھاتے وقت وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ اس کی قیمت ہمارے کھاتے میں کر دی جائے گی۔ وہ جب ہماری پیداوار لے جاتے ہیں تو ہمیں اس کی رسید دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔

3.6 ناانصافی کا تجربہ (The experience of injustice )

مہاجنوں کے ذریعہ قرض دینے سے انکار کرنے پر رعیت غضبناک ہوگی۔ اس کا سبب صرف یہ نہ تھا کہ وہ قرض میں ڈوبے جا رہے ہیں یا اپنی بقائے زندگی کے لیے مہاجنوں پرپوری طرح سے منحصر ہو گئے ہیں بلکہ ان کی اس حالت پر مہاجن پوری طرح بے حس ہو گئے ہیں۔ مہاجن حضرات بھی دیہات کے رواجی معیارات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ 

وضاحت کیجیے کہ رعیت اپنی عرجدشت میں کیا شکایت کر رہی ہے۔ مہاجنوں کے ذریعہ کسان سے لی گئی فصل اس کے کھاتے میں کیوں نہیں رقم کی جاتی تھی؟ کسانوں کو کسی قسم کی کوئی رسید کیوں نہیں دی جاتی تھی؟ اگر اپ مہاجن ہوتے تو ان معمولات کے لیے کیا وجایات پیش کرتے؟

سود پر قرض دینے کا کاروبار یقینی طور پر نو آبادیاتی حکومت سے قبل ہی کافی پھیل چکا تھا اور مہاجن اکثر طاقتور افراد ہوتے تھے۔ مختلف نوعکے رواجی معیار مہاجن اور رعیت کے درمیان رشتوں کو ضبط میں لاتے تھے۔ ایک عام معیار یہ تھا کہ سود کے دام بنیادی سرمایہ سے زیادہ نہیں لیے جا سکتے۔ اس کا مطلب مہاجن کے ذریعہ جبراً وصولیابی کو محدود کرنا اور یہ واضح کرنا تھا کہ " معقول سود" میں کیا شمار کیا جاسکتا تھا۔ نو آبادیاتی حکومت کے تحت ییہ معیار ختم ہو گئے ۔ دکن رائٹس کمیشن کے ذریعہ تحقیق کیے گئے بہت سے معاملوں میں سے ایک میں مہاجن نے 100روپئے قرض پر 2,000روپئے سے بھی زیادہ سود کی شرح لگارکھی بھی۔ یکے بعد دیگر کے عرضداشت میں رعیت نے اس طرح کی جبراً وصولیابی اور رواج کی خلاف ورزی کے متعلق ناانصافی کی شکایت کی تھی۔

کرایہ کی دستاویز (کرایہ نامہ) (Deeds of hire)

جب کسان پر قرض کا بوجھ زیادہ بڑھ گیا تو وہ مہاجن کو قرض کی ادائیگی کرنے سے معذور ہو گیا۔ اس کے پاس مہاجن کے پاس اپنی تمام ملکیت --زمین ، بیل گاڑیاں اور مویشی دینے کے علاوہ کوئی متبادل نہ تھا لیکن مویشی کے بغیر وہ زراعت جاری کیسے رکھ سکتا تھا۔ اس لیے اس نے زمین اور مویشی کرائے پر لے لیے ، اب اسے ان مویشیوں کے لیے جو بنیادی طور پر اس کے ہی مال و اسباب تھے ، رقم ادا کرنا پڑتی تھی۔ اسے ایک کرایہ ناکہ لکھنا پڑتا تھا جس میں واضح طور پر تحیری ہوتا تھا کہ یہ مویشی اور بیل گاڑیاں اس کی ملکیت نہیں ہیں۔ تصادم کی صورت میں یہ دستاویز عدالت کے ذریعہ نافز کرائی جا سکتی تھی۔ 

ذیل میں ایک دستاویز کا متن دکن فساد کمیشن کے ریکارڈ سے پیش کیا جا رہا ہے جس پر رنومبر 1873 میں ایک کسان نے دستخط کیے تھے:

میں نے اپ کو واجب الادا قرض کے کھاتے میں اپنی باربرداری کی لوہے کی دھروں والی دو گاریاں ، ان کے سازوسامانن اور چار بیلوں کے ساتھ فروخت کی ہیں...میں نے اس دستاویز کے تحت ان ہی دوگاریوں اور چار بیلوں کو آپ سے کرایہ پر لیا ہے۔ میں ہر ماہآپ کو دارروپئے فی ماہ کے حساب سے ان کا کرایہ دوںگا اور آپ سے اپ کی دستی تحریر شدہ رسید حاصل کروں گا۔ رسید کی عدم موجودگی میں یہ بحث نہیں کروں گا کہ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔

ان سبھی وعدوں (پابندیوں) کی فہرست تیار کیجیے جو کسان اس دستاویز میں دے رہا ہے۔ اس طرح کی کرایہ دستاویز کسان اور مہاجن کے درمیان رشتوں کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہے؟ اس سے کسان اور بیلوں (جو سابقہ دنوں میں خود اس کے تھے) کے درمیان رشتوں میں کیا تبدیلی آئے گی؟

رعیت مہاجنوں کو پیچ دار اور مکار و رفریبی کے طور پر دیکھنے لگے۔ وہ مہاجنوں کو قانون کو توڑنے اور کھاتوں میں جعل سازی کی شکایت کرتے تھے۔ 1859 میں انگریزوں نے ایک خد بندی قانون (Limitaiton Law)پاس کیا جس میں کہا گیا کہ مہاجن اور ریعت کے درمیان دستخط شدہ معاہدہ صرف تین سالوں کے لیے ہی جائز ہوگا۔ اس قانون کا مقصد طویل عرصے تک سود کو جمع ہونے سے روکنا تھا تاہم مہاجنوں نے اس قانون کو اپنی طرف کر لیا اور رعیت کو مجبور کیا کہ وہ ہر  تیسرے سال ایک معاہدہ پر دستخط کریں۔ جب ایک نئے معاہدہ پر دستخط ہو جاتے تو ادانہ کی گئی بقایا رقم یعنی اسل قرض اور اس پر بننے والا سود بنیادی رقم کی شکل میں درج ہوتا اور اس پر نئے سود کی شرح سے حساب لگایا جاتا۔ دکن رائٹس کمیشن کو وصول شدہ دستاویزوں میں رعیت نے یہ بیان کیا کہ یہ طریق عمل کیسے کام کر رہا تھا(دیکھیے ماخذ 10) اور کس طرح مہاجن رعیت کو جعلسازی (کم واپس کی گئی رقم)کے لیے مختلف قسم کے دیگر ذرائع استعمال کر رہے تھے۔ جب قرض  کی دوبارہ ادائیگی ہوتی تو وہ رسید دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ معاہدوں میں فرضی اعداد و شمار داخل کردیتے، کسانوں سے کم داموں میں فصل کر لیتے اور آخر کار کسانوں کی ملکیت پر قبضہ کر لیتے تھے۔ 
دستاویزات اور معاہدے نئے استحصالی نظام کے مظہر کے طور پر سامنے آئے۔ ماضی میں اس طرح کے دستاویزات کم ہوا کرتے تھے۔ تاہم انگریز غیر رسمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر جیسا کہ ماضی میں عام تھا، ایسے لین دین کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے خیال میں لین دین کی شرائط اقرار ناموں، معاہدوں اور دستاویزوں میں صریح طور پر اور غیر مشروط اندوز میں مقرر ہونے چاہئیں ۔ جب تک کوئی دستاویز یا اقرارنامہ قانونی طور پر قابل نفاذ نہیں ہوگا تب تک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی زندگی کی بدبختی و پریشانی معاہدوں اور دستایزوں کے نئے نظام کے ساتھ آئی۔ وہ دستاویزوں پر دستخط کرتے اور انگوٹھے کا نشان لگاتے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ حقیقتاً کس پر دستخط کر رہے ہیں۔ انھیں ان شرائط کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا جو مہاجن ان معاہدوں میں داخل کر دیتے تھے۔ وہ تحریر شدہ الفاظ سے ڈرتے تھے لیکن ان کے پاس کوئی دوسری صورت بھی نہ تھی کیو نکہ انھیں بقائے زندگی کے لیے قرض کی ضرورت تھی اور مہاجن قانونی معاہدوں کے بغیر قرض دینے کے لیے راضی نہ تھے۔ 

ماخذ 10

قرض میں اضافہ کیسے ہوا؟(HOW DEBTS MOUNTED)

دکن رائٹس کمیشن کو پیش ایک عرضداشت میں ایک رعیت کی وضاحت درج ہے کہ قرضوں کا نظام کس طرح کام کرتا تھا:

ایک ساہوکار اپنے قرض دار کو ایک معاہسے کے تحت 100روپئے کی رقم 2-3 آنہ فیصد کی ماہانہ شرح پر قرض دیتا ہے ۔ قرض لینے والا اس رقم کو معاہدہ پاس ہونے کی تاریخ سے آٹھ دن کے اندر ادائیگی پر راضی ہو جاتا ہے۔ رقم کی واپسی ادائیگی کے طے شدہ وقت کے تین سال بعد ساہوکار اپنے قرضدار سے بنیادی رقم اور سود ملا کر ایک اور معاہدہ اسی شرح سود سے کرتا ہے اور اسے قرض بے باق کرنے کے لیے 125 دن کی مہلت دیتا ہے۔ تین سال اور 15 دن گزر جانے ے بعد قرض دار کے ذریعہ ایک تیسرا معاہدہ پاس کیا جاتا ہے ...( یہ عمل بار بار دوہرایا جاتا ہے).... 12 سال کے اختتام پر ... ایک ہزارروپئے کی رقم پر کل میزان 2028روپئے 10 آنہ اور تین پیسے ہو جاتا ہے۔ 

سود کی شرح کا حساب لگائیے جو رعیت ان سالوں میں ادا کر رہی تھی۔ 

4۔ دکن رائٹس کمیشن (THE DECCAN RIOTS COMMISSION )

جب دکن میں بغاوت پھیل گئی تو بمبئی کی گورنمنٹ بنیادی طور پر اسے سنجیدگی سے لینے کو رضا مندنہ تھی، لیکن ہندوستان کی حکومت نے جو 857 کی یادوں سے پریشان تھی بمبئی کی حکومت پر دباؤڈالا کہ وہ فسادات کے اسباب کی تحقیق کرنے کے لیے ایک جانچ کمیشن قائم کرے۔ کمیشن نے ایک رپورٹ تیا ر کی جو برطاروی پارلیمنٹ میں 1878 میںپیش کی گئی۔
یہ رپورٹ جسے دکنی فساد رپورٹ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، مؤرخین کو فساد کا مطالعہ کرنے کے لیے مختلف ماخذ فراہم کرتی ہے۔ کمیشن نے ان اضلاع میں جانچ کرائی جہاں فسادات پھیلے ہوئے تھے۔ رعیت، ساہوکاروں اور چشم دید گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ مختلف علاقوں میں کال گزاری کی شرح قمیت اور شرح سود کے اعداد و شمار جمع کیے اور ضلع مجسٹریٹوں کے زریعہ بھیجی گئی رپورٹوں کا موازنہ کیا ۔ 

اس طرح کے ماخذوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ یاد  رکھنا ہوگا کہ وہ سرکاری ماخز ہیں اور واقعات کی ترجمانی کے متعلق سرکاری تشویش کو منعکس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دکن رائٹس کمیشن سے خاص طور پر یہ رائے ظاہر کرنے کے لیے کہا گیا کہ سرکاری مال گزاری کے مطالبہ کی سطح بغاوت کا سبب تھی۔ تمام شہادتیں پیش کرنے کے بعد کمیشن نے یہ رپورٹ دی کہ سرکاری مطالبہ کسانوں کے غصہ کا سبب نہیں تھا۔ یہ مہاجن ہی تھے جو ناراضگی کا سبب بنے تھے۔ یہ دلیل تو آبادیاتی ریکارڈوں میں اکثر ملتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی سرکار یہ ماننے کو قطعی تیار نہ تھی کہ عوامی بے اطمینانی سرکاری کا روائی کا سبب تھی۔

سرکاری رپورٹیں تاریخ کو از سر نو تحریر کرنے میں قیمتی ماخذ ہوتی ہیں۔ لیکن انھیں ہمیشہ احتیاط سے پڑھنا چاہیے اور اخبارات، گیر سرکاری رودادوں ، قانونی دستاویزات اور ممکنہ زبانی ماخذوں کی منتخب شہادت و ثبوت کے ساتھ ملا کر پڑھنا (ان کی سچائی کی جانچ کرنا) چاہیے

بحث کیجیے۔۔۔۔۔

آج کل آپ جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں پر لی جانے والی شرح سود کی جانچ پڑتال کیجیے اور معلوم کیجیے کہ شرح سود گزشتہ 50 سالوں میں تبدیل ہوئی یا نہیں۔ مختلف گروپوں ے افراد کے ذریعہ ادا کی گئی شرح سود میں کیا کوئی اختلاف ہے؟ ان  اختلافات کے کیا اسباب ہیں؟

ٹائم لائن

1765 انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال کی دیوانی حاصل کی 

1773 ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرگرمیوں کو منضبط کرنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ ے ذریعہ ریگولیٹنگ ایکٹ پاس کیا گیا

1793 بنگال میں استمراری بندوبست کا نفاذ

1800 سنتھال راج محل کی پہاڑیوں کی طرف آنے لگے اور یہاں آباد ہونے لگے۔

1818 بمبئی میں پہلے مال گزاری بندوبست کا آغاز

1820 زرعی قیمتوں میں کمی کی شروعات

1840-50 بمبئی دکن میں زرعی توسیع کا سست عمل

1855-56 سنتھال بغاوت

1861 کپاس میں گرم بازاری کی شروعات

1875 دکن کے گاؤ میں رعیت کی بغاوت

20

شکل 10.20

ایک دیہی منظر ولیم پر نسیپ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر ، 1820

100 سے 150 لفظوں میں جواب دیجیے 

1۔ دیہی بنگال کے بہت سے علاقوں میں جوت دار  ایک طاقتور شخصیت کیوں تھے؟
2۔زمین دار افراد اپنی زمین داریوں میں کس طرح کنٹرول بنائے رکھتے تھے؟
3۔ پہاڑی لوگوں نے باہری لوگوں کے آنے پر کس طرح کا ردِعمل ظاہر کیا؟
4۔ سنتھا ل نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کیوں کی ؟
5۔ دکن کی رعیت کے مہاجنوں کے خلاف غصہ کی وجوہات کیا ہیں۔

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون (تقریباً 250 سے 300 الفاظ پر مشتمل ) لکھیے:


6۔ استمراری بندوبست کے بعد بہت سی زمین ساریاں کیوں نیلام کر دی گئیں ؟
7۔ کن معنوں میں پہاڑی لوگوں کاذریعہ معاش سنتھالوں سے مختلف تھا؟
8۔ مریکی خانہ جنگی نے کس طرح ہندوستان میں رعیت کی زندگی کو متاثر کیا؟
9۔ کسانوں کی تاریخ لکھنے کے تعلق سے سرکاری ماخذ کے استعمال میں کیا شکایات آتی ہیں؟

نقشہ کا کام

10۔ بر صغیر کے نقشے کے خاکے پر اس باب میں مذکورہ علاقوں کی نشاندہی کیجئے اور پتہ لگائیے کہ کیا ایسے بھی دیگر علاقے تھے جہاں استمراری بندوبست اور رعیت داری نظام رائج تھا۔ ایسے علاقے کو بھی نقشوں پر دکھائیے۔ 

پروجیکٹ (کوئی ایک)

11۔ فرانسس بکانن نے مشرقی ہندوستان کے بہت سے اضلاع کے متعلق رپورٹیں شائع کی تھیں۔ ان میں سے کوئی رپورٹ پڑھیے اور اس باب میں زیرِ بحث موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دیہی سماج کے متعلق دستیاب اطلاعات کو جمع کیجیے۔ ایسے متون کا ستعمال مؤرخین کس طرح کر سکتے ہیں ان طریقوں پر روشنی ڈالیے۔ 
12۔ آپ جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں کی دیہی کمیونٹی کے اندر موجود بزرگوں سے بات کیجیے اور ان کھیتوں پر جائیے جن کو وہ جوتتے ہیں۔ معلوم کیجیے کہ وہ کیا پیدا کرتے ہیں ۔ وہ اپنی معاش کس طرح کماتے ہیں، ان کے والدین کیا کرتے ہیں، ان کی اولاد اب کیا کرتی ہیں اور گزشتہ 75 سالوں میں ان کی زندگی میں کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اپنی تحقیقات کی بنیاد پر ایک رپورٹ لکھیے۔ 

مزید معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:


سکاتابوس 1986 اگریرین بنگال ، کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج
فرانس بکانن، 1930، جنرل آف دی فرانس بکانن کیپٹ ڈیورنگ دی سروے آف دی ڈسٹرکٹ آف بھاگل پورسپرٹنڈنٹ، گورنمنٹ پرنٹنگ ، بہار اور اڑیسہ ، پٹنہ
 رام چندر گوہا، 1989 دی ان کوئٹ وڈس: ایکولوجیکل چینج اینڈ پیزنٹ ریسسٹنز دی ہمالیاز، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
سمیت گوہا 1985 دی اگریرین اکنامی آف دی بومبے دکن 1818-1941 ،  آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
دویندر کمار، 1968 ویسٹرن انڈیا ان دی نائنٹینتھ سنچری: اے اسٹڈی ان دی سوشل ھسٹری آف مہاراشٹرا، رولیٹج اینڈ کیگان پال ، لندن
رتنا لیکھا رائے، 1979 چینج ان بنگال اگریرین سووائیٹی ، اپروکس 1760-1850 منوہر ، نئی دہلی
کمار سریش سنگھ، 1966، ڈسٹ-اسٹروم اینڈ دی ھینگنگ مسٹ: اےاسٹڈی آف ہرسا منڈا اینڈ ھزمومنٹ ان چھوٹا ناگپور، (1874-1901) فرماکے ۔ ایل۔ مکھوبادہیائے، کولکاتہ