Skip to content
Tareekh-e-HindMauzuat-III-001


موضوع بغاوتیں اور راج

گیارہ 1857 کی بغاوت اور اس کی نمائندگی

10 مئی 1857 کو بعد دوپہر میرٹھ چھاونی کے سپاہیوں ن بغاوت کر دی۔ اس کی شروعات پیدل فوج کے ہندوستانی سپاہیوں نے کی تھی جو تیزی سے گھوڑ سوار فوج میں اور پھر شہر تک پھیل گئی۔ شہر کے عوام اور قرب و جوار کے گاؤں کے لوگ سپاہیوں کے ساتھ متحد ہو گئے۔ سپاہیوں نے اسلحہ خانہ( Bell fo Arms) پر قبضہ کر لیا جہاں ہتھیار اور گولہ بارود رکھے ہوئے تھے نیز سفید لوگوں (انگریزوں) پر حملہ کرنا شروع کر دیا، ان کے بنگلوں کو تاخت و تاراج کرنا اور دلانا شروع کر دیا۔ ریکارڈ آفس ، جیل ، کورٹ ، پوسٹ آفس، خزانہ وغیرہ جیسی سرکاری عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا اور لوٹ لیا گیا۔ دہلی کے لیے ٹیلی گراف لائن کاٹ دی گئی۔ اندھیرا ہوتے ہی سپاہیوں کا ایک جتھہ گوڑوں پر سوار ہو کر دہلی کی طرف چل پڑا۔ 

11 مئی کی صبح ہی سپاہی لال قلعہ کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا، ضعیف مغل بادشاہ بہادر شاہ (ظفرؔ) سحری ( سورج طلوع ہونے سے پہلے کا کھانا) کھا کر اور نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ انھوں نے دروازوں پر ہنگامہ اور شور و غل کی آوازیں سنی۔ سپاہی جو ان کے جھروکے کے نیچے اکٹھا ہو گئے تھے انھوں نے کہا  " ہم میرٹھ سے تمام انگریزوں کو ختم کر کے آئے ہیں، کیونکہ انھوں نے ہم سے گائے اور سور کی چربی چڑھے کارتوسوں کو دانتوں سے کاٹنے کے لیے کہا تھا۔ اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کا عقیدہ (مذہب ) خراب ہو جاتا"۔ سپاہیوں کا ایک دوسرا جتھہ بھی دہلی میں داخل ہو گیا اور شہر کے عام لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ بڑی تعداد میں اہل یوروپ مار دیے گئے۔ دہلی کے دولت مند لوگوں پر حملے ہوئے اور لوٹ مار ہوئی ۔ یہ واضح تھا کہ دہلی اب انگریزوں کے کنٹرول سے باہر ہو چکی تھی۔ گھاڑے پر سوار چند سپاہی شاہی دربار کے آداب تعمیل کیے بغیر قلعے میں داخل ہو گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بادشاہ ان کو دعا ئے برکت دے۔ سپاہیوں سے گھرے بہادر شاہ ظفر کے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ دیگر کوئی چارہ نہ تھا۔ اس طرح بغاوت نے ایک قسم کا قانونی جواز حاصل کر لیا تھا کیونکہ اس بغاوت کو اب مغل بادشاہ کے نام پر چلایا جا سکتا تھا۔

12 اور 13 مئی کو شمالی ہندوستان میں امن چین رہا۔ جوں ہی یہ خبر پھیلی کہ دہلی پر باغیوں کا قبضہ ہو گیا ہے اور بہادر شاہ نے بغاوت کو اپنی حمایت دے دی ہے ، گنگا وادی اور دہلی کے مغرب کی طرف بعض چھاونیوں میں یکے بعد دیگرے بغاوت شروع ہونے لگی۔
21

شکل 11.1 

بہادر شاہ ظفرؔ کی تصویر

اسلحہ خانہ(BELL OF ARMS) ایک ذخیرہ گھر ہوتا ہے جہاں ہتھیاروں کو رکھا جاتا ہے۔

1. بغاوت کا نمونہ( PATTERN OF THE REBELLION)

اگر بغاوتوں کی تاریخوں کو تاریخ وار ترتیب سے رکھا جائے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جوں جوں بغاوت کی خبر ایک سے دوسرے قصبے تک پہنچتی گئی ویسے ویسے سپاہی ہتھیار اٹھاتے گئے۔ ہر چھاؤنی میں معاملہ ایک جیسا ہی تھا۔

سپاہیوں نے اپنی کاروائی کا آغاز ایک خاص قسم کے اشارے (سگنل) سے کیا: بہت سے مقامات پر تو پ کا گالہ داغا گیا یا نقارہ بجایا گیا۔ انھوں نے سب سے پہلے اسلحہ خانہ پر قبضہ کیا اور خزانہ کو لوٹ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے جیل خانہ، ٹیلی گراف آفس ، ریکارڈ روم ، بنگلوں اور سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا ور تمام ریکارڈ جلا دیے۔ گورے لوگوں سے وابستہ ہر چیز اور ہر شخص ان کا نشانہ بنا۔ ہند و اور مسلمان دونو کو متحد کرنے اور بغاوت کو فروغ دینے نیز فرنگیوں کا استیصال کرنے کے لیے ہندی، اردو اور فارسی میں اعلانات و اشتہارات جاری کیے جانے لگے۔

جب بغاوت میں عام لوگ شامل ہونے لگے تو حملوں میں بھی وسعت آ گئی۔ برے شہروں جیسے لکھنؤ ، کان پور اور بریلی میں مہاجن اور متمول طبقہ بھی باغیوں کے غصہ کا نشانہ بننے لگے۔ کسان ان کا ظالم انگریزوں کے اتحادی کے طور پر دیکھتے تھے۔ بیشتر مقامات پر ان کے مکانات لوٹ لیے گئے اور تاخت و تاراج کر دیے گئے۔ شپاہیوں کی صفوں میں ہونے والی اس بغاوت نے جلد ہی ایک کھلی بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ اس موقع پر ہر قسم کے اقتدار اور نظام مراتب کی اعلانیہ نافرمانی ہوئی۔

فرنگی اصل میں فارسی زمان کی اصطلاح ہے جو ممکن ہے فرینک (جس سے فرانس کا نام پڑا ہے) سے اخذ کی گئی ہو۔ اکثر اردو اور ہندی میں غیر ملکی (مغربی) لوگوں کے لیے اس کا استعمال توہین آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔

22

شکل 11.2 

لکھنؤ میں عام لوگ سپاھیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں پر حملہ کرتے ہوئے۔

مئی اور جون کے اِن دنوں میں باغیوں کی کاروائیوں کا انگریزوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ انفرادی طور پر اہل یوروپ اپنی اور اہل خانہ کی زندگیوں کا بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ برطانوی حکومت کے بارے میں ایک برطانوی افسر نے لکھا تھا " تاش کے پتوں سے بنے مکان کی طرح ڈھیر ہو گئی تھی۔ 

ماخذ 1

غیر معمولی زمانے میں عام زندگی (ORDINARY LIFE IN EXTRAORDINARY TIMES)

بغاوت کے مہینوں کے دوران شہروں میں کیا ہوا؛ ہنگامے کے ان مہینوں میں لوگ کیسے زندگی جی رہے تھے؟ معمعلاتِ زندگی کس طرح متاثر ہوئے؟مختلف شہروں کی رپورٹیں روز مرہ کی سرگرمیوں کے ختم ہونے کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہیں؟ 14 جون 1857 کے " دہلی اردو اخبار "سے ان رپورٹوں کو پڑھیے:

یہ بات سبزیوں اور ساگ (پالک) کے معاملے میں بھی صادق آتی ہے۔ لوگ اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ کدّو اور بینگن تک بھی بازار میں نہیں پائے جاتے ۔ آلو اور اروی جب کبھی ملتی بھی ہیں تو باسی اور سڑی گلی قسم کی جیسے دور اندیش کنجڑوں(سبزی فروش) نے پہلے سے ذخیرہ کر رکھا تھا۔ شہر کے اند واقع باغیچوں سے بعض پیداوار شہر کے کچھ علاقوں تک پہنچ جاتی ہے لیکن غریب اور متوط طبقے کے افراد انھیں دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر لیتے ہیں۔(چونکہ یہ چنندہ افراد کے لیے ہی ہیں) 

....یہاں چند دیگر باتوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو لوگوں کے لیے کافی نقصان کا سبب بنی ہوئی ہیں وہ یہ کہ بھشتیوں(پانی بھرنے والے) نے پانی بھرنا بند کر دیا ۔ غریب شرفا خود اپنے کاندھوں پر گگرے میں پانی بھر کر لاتے تب کہیں جاکر صرف اہل خانہ کے ضروری کام جیسے کھانا بنانا وغیرہ ممکن ہو سکتے۔ حلال خور، حرام خور ہو گئےہیں۔ بہت سے محلوں میں لوگ کئی دنوں کے لیے کمانے کے اہل نہیں ہیں اور اگر یہ حالت مسلسل بنی رہی تو پھر صحت کی خرابی، موت اور بیماریاں کل کر شہر کی آب و ہوا خراب کردیں گی اور پورے شہر میں ایک وبا پھیل جائے گی یہاں تک کہ قرب و جوار کے علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ 


ان دونو رپورٹوں اور اس زمانے میں دہلی کے متعلق اس باب میں دیے گئے بیانات کو پڑھیے۔ یاد رکھیے کہ اخبارات کی خبریں اکثر اخباری نامہ نگاروں کے میلان خاطر کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس تناظر میں دہلی اردو اخبار ، لوگوں کے رچ عمل کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

1.2 خبر رسانی کے طریقہ کار (Lines of communication)

مختلف مقامات پر بغاوت کے نمونہ میں یکسانیت کے لیے وجہ جزوی طور پر اس کی منصوبہ بندی اور تال میل میں پوشیدہ تھی۔ یہ بالکل واضح ہے کہ مختلف چھاونیوں میں سپاہیوں کی صفوں کے درمیان رسانی کا سلسلہ موجود تھا۔ مئی کی ابتدا میں جب ساتویں اودھ اور ریگولرکیولری نے نئے کارتوسوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے 48 نیٹیو انفینٹری کو تحریر کیا"ہم نے اپنے عقیدے کے لیے یہ کام کیا تھا اور 48 نیٹیو انفینٹری کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں"۔ سپاہی یا ان کے سفیر ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہے تھے۔ چنانچہ لوگ بغاوت کے منصوبے بنا رہے تھے اور اس کے متعلق بات کر رہے تھے۔

ماخذ 2

سسٹن اور تحصیل دار(Sisten and the tahsildar)

بغاوت اور غدر برپا کرنے کے متعلق پیغامات کی اطلاع بہم رسانی کے تناظر میں سیتا پور میں تعینات ایک دیسی عیسائی پولس انسپکٹر سسٹن بتاتا ہے کہ وہ تسلیمات ادا کرنے سہارن پور مجسٹریٹ کے پاس گیا ہوا تھا۔ سسٹن ہندوستانی لباس پہنے ہوئے تھا اور آلتی پالتی مار کار بیٹھا تھا، اسی وقت بجنور سے ایک تحصیل دار کمرے میں داخل ہوا۔ اسے علم ہو کہ سسٹن اودھ سے آیا ہے۔ اس نے پوچھا  "اگر ہمیں اودھ میں کام کرنا پڑتا ہے تو جناب عالی کو بھی علم ہو جائے گا۔" تحصیل دار نے کہا  " اس پر بھروسہ رکھیے ، اس بار ہم کامیاب ہوں گے، معاملات کی رہنمائی قابل ہاتھوں میں ہے۔ "  بعد میں تحصیل دار کی شناخت بجنور کے باغیوں کے اہم ترین لیڈر کے طور پر ہوئی تھی۔


باغی اپنے منصوبوں کی اطلاعات کن طریقوں سے پہنچاتے تھے اور کس طرح تبادلہ خیال کرتے تھے ، اس کے متعلق اس بات چیت سے کیا خیال ظاہر ہوتا ہے؟ تحصیل دار نے سسٹن کو ایک احتمالی باغی کیوں سمجھا تھا؟

بغاوتوں کا نمونہ اور شہادتوں کا سلسلہ جوڑنے سے خیال ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں کسی حد تک منصوبہ بندی اور تال میل موجود تھا، جس سے انتہائی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ منصوبے کس طرح بنائے گئے ہیں؟ منصوبہ ساز کون تھے؟ دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر اس طرح کے سوالات کے راست جوابات دینا مشکل امر ہے، لیکن ایک واقعہ اس بارے میں ایک سراغ دیتا ہے کہ بغاوتیں کس طرح منظّم ہوئی ہوں گی۔ بغاوت کے داران اودھ ملٹری پولس کے کیپٹن ہیئرسی کا تحفظ اس کے ہندوستانی ماتحتوں کے ذریعہ دیا گیا تھا۔ جہاں کیپٹن ہیئر سی تعینات تھا وہیں 41 ویں نیٹیوانفینٹری تعینات تھی۔ انفینٹری کا اصرار تھا چونکہ وہ اپنے تمام سفید افسروں کو ختم کر چکے ہیں اس لیے ملٹری پولس کو ہیئرسی کو بھی مارنا ہوگا اسے گرفتار کرکے 41 ویں نیٹیو انفینٹری کے سپرد کرنا ہوگا۔ ملٹری پولس نے دونوں طرح کے اصرار ماننے سے انکار کر دیا اور یہ طے کیا گیا کے معاملہ کا تصفیہ کرنے کے لیے ہر رجمنٹ کے دیسی افسروں کی ایک پنچایت بلائی جائے۔ بغاوت کے ابتدائی مورخین میں سے ایک چارلس بال لکھتا ہے کہ یہ پنچایت رات کو کان پور سپائی لائنس میں بلائی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ فیصلے اجتماعی طور پر لیے جا رہے تھے۔ اور اس امر واقعہ کا علم بھی ہوتا ہے کہ سپاہی ان لائنس میں رہتے ہوئے اور ایک مشتر کہ زندگی میں شریک کار تھے۔اور اس میں سے بیشتر ایک ہی ذات سے آئے تھے اس لیے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ یکجا ہوکر اپنی قسمت کے فیصلے لے رہے ہوں گے۔ یہ سپاہی اپنی بغاوت کے خالق خود ہی تھے۔ 

غدر/بغاوت(Mutiny) کے معنی مسلح افواج کے اندر قوانین اور ضوابط کی اجتماعی نافرمانی ہیں بغاوت (Revolt) کے معنی مستقل بنیاد پر قائم اقتدار و طاقت کے خلاف لوگوں کی بغاوت ہے۔ اصطلاح (Revolt)(بغاوت) اور (Rebellion) (بغاوت) کا استعمالہ ہم معنی کے طور پر بھی کر سکتے ہیں۔

1857 کی بغاوت کے تناظر میں اصطلاح بغاوت (Revolt) کا حوالہ ابتدائی طور پر غیر فوجی آبادی کی شورش و بغاوت (کسانوں ، زمین داروں ،راجاؤں، جوت داروں) کے لیے دیا جاتا ہے۔ اگر چہ بغاوت (Mutiny) سپاہیوں کی بغاوت تھی۔

1.3 قائد اور پیروکار (Leaders and followers)

انگریزوں سے لڑنے کے لیے قیادت اور تنظیم کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے کئی مرتبہ باغیوں نے ایسے لوگوں کی طرف رخ کیا  جو انگریزوں کی فتح سے قبل قائد رہ چکے تھے۔ میرٹھ کے سپاہیوں نے سب سے پہلے جو کام کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ وہ دہلی کی طرف دوڑے اور بوڑھے مغل بادشاہ سے بغاوت کی قیادت کرنے کی درخواست کی جس میں وقت بھی لگا۔ بہادر شاہ ظفر کا پہلا ردِ عمل خوف اور انکار تھا۔ یہ صرف اس وقت ہو پایا جب کچھ سپاہی لال قلعہ کے دربار کے اندر حسب معمول درباری آداب و رسوم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوگئے تھے، چونکہ بوڑھے بادشاہ نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ اس کے پاس انتخاب کم ہیں اس لیے وہ بغاوت کے برائے نام  لیڈر بننے کے لیے راضی ہو گئے۔
ہر جگہ  چھوٹے پیمانے پر اسی طرح کے مناظر سامنے آئے۔ کان پور میں سپاہیوں اور عوام نے پیشوا باجی راؤ دوم کے جانشین نانا صاحب کے سامنے یہ بات رکھی، ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بغاوت میں باغیوں کے لیڈر کے طور پر شامل ہوں۔ جھانسی میں عوام کے دباؤ سے مجبور ہو کر رانی کو خود کو بغاوت کا لیڈر ماننا پڑا ۔ اسی طرح کا معاملہ بہارمیں آرا کے مقامی زمین دار کنور سنگھ کے ساتھ تھا۔ اودھ میں جہاں مقبول عام نواب واجد علی شاہ کی بے دخلی اور ریاست کا الحاق لوگوں کے ذہنوں میں ابھی بازہ تھا لکھنؤ میں برطانوی حکومت کے زوال کے بعد نواب کے نوجوان بیٹےبرجیس قدر کے باغیوں کا لیڈر بننے پر عوام نے خوشیاں منائیں۔
ہر جگہ قائد دربار سے وابستہ افراد -- رانیاں ، راجا ، نوابین اور تعلقہ دار  اکثر بغاوت کا پیغام عام آدمی ، خواتین نیز مذہبی افراد کے ذریعہ جا رہا تھا۔ میرٹھ سے ایسی خبریں آ رہی تھیں کہ وہاں ہاتھی پر سوار ایک فقیر دیکھا گیا جس سے سپاہی لگاتار ملاقات کرنے جاتے تھے۔ اودھ کے الحاق کے بعد لکھنؤ میں بہت سے مذہبی قائد اور خود ساختہ پیغمبر برطانوی حکومت کو تباہ برباد کرنے کی تبلیغ کر رہے تھے۔
دیگر جگہوں پر مقامی قائد ابھرے جو کسانوں ، زمین داروں اور قبائلیوں کو سخت تاکید کر تے تھے۔ شاہ مل نے  اترپر دیش میں بڑوت پر گنہ کے گاؤں کے لوگوں کو منظّم کیا ۔ چھوٹا ناگ پور میں سنگھ بھوم کے قبائلی کاشت کار گو نو علاقے کو کول قبیلے کے باغیوں کا لیڈر بن گیا ۔
23

شکل 11.3

رانی لکھشمی بائی کی ایک مقبول عام شبیھہ

24

شکل 11.4

نانا صاحب

1857 کے آخر میںجب بغاوت فرو ہو گئی تو نانا صاحب بھاگ کر نیپال چلے گئے۔ جسے افسانوی انداز میں ان کی ہمت اور بہادری کا حصہ بتایا جاتا ہے۔

1857 کے دو باغی 

شاہ مل

شاہ مل اتر پردیش کے پرگنہ بڑوت کے ایک بڑے گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ان کا تعلق ایک جاٹ کسان خانوادے سے تھا جس کی پرابت داری چوراسی دیس (چوراسی گاؤں) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے کی زمین آب پاشی سے بھر پور اور زرخیز تھی۔ یہ زمین زرخیز اور سیاہ چکنی مٹی والی تھی۔ بہت سے گاؤں والے خوش حال تھے اور برطانوی زمین مال گزاری نظام کو ظالمانہ مانتے تھے کیونکہ لگان کا مطالبہ زیادہ اور اس کی وصولیابی بے لوچ یعنی سخت تھی۔ اس وجہ سے کسان اپنی زمین باہری لوگوں یعنی تاجروں اور مہاجنوں کے ہاتھوں میں دیتے جا رہے تھے جو اس علاقے میں آ رہے تھے۔

شاہ مل نے چوراسی دیس کے گاؤں کے مکھیا اور کسانوں کو جمع کرنا شروع کیا ، انھوں نے راتوں میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں سفر کیا اور لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے اصرار کیا۔ بہت سے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت، ظلم اور ناانصافی کی تمام علامات کے خلاف ایک عام بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔ کسان اپنے کھیت چھوڑ کر نکل پڑے اور مہاجنوں نیز تاجروں کے مکانات کو تاخت و تاراج کر دیا۔ بے دخل زمین مالکوں نے ان زمینوں پر قبضہ کر لیا جن کو وہ کھو چکے تھے۔ شاہ مل کے آدمیوں نے سرکاری عمارتوں پر حملہ کر دیا۔ ندی پر بنے پل کو تباہ کر دیا اور پختہ سڑکوں کو کھود دیا کیونکہ جزوی طور پر سرکاری افواج کو اپنے علاقے میں آنے سے روکنا تھا۔ وہ نیز پلوں اور سڑکوں کو کچھ حد تک برطانوی حکومت کے مظہر کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ انہوں نے دہلی میں بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو رسید بھیجی اور برطانوی ہیڈ کواٹر نیز میرٹھ کے درمیان تمام خبر رسانی کا سلسلہ روک دیا۔ مقامی طور پر راجہ تسلیم کیے جانے والے شاہ مل نے ایک انگریز افسر کے بنگلے پر قبضہ کر لیا اور اس کو " انصاف کے ایوان "میں تبدیل کر دیا جہاں وہ جھگڑوں کا تصفیہ اور فیصلے دینے لگے۔ انھوں نے جاسوسی کا ایک حیرت انگیز ینٹ ورک قائم کیا تھا۔ایک عرصے کے لیے اس علاقے کے لوگوں کو محسوس ہوا کہ " فرنگی راج " ختم ہو چکا اور ان کا اپنا " راج" آگیا۔

شاہ مل جولائی 1857 میں ایک جنگ میں مارے گئے۔

مولوی احمد اللہ شاہ

مولوی احمدللہ شاہ ان علماء میں سے ایک تھے جنھوں نے 1857 کی بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں تعلیم حاصل کی تھی اور چھوٹی عمر میں ایک خطیب و مبلغ بن گئے تھے۔ 1856 میں انگریزوں کے خلاف لوگوں سے جہاد اور بغاوت کا اصرار کرنے کے لیے انھیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں متحرک دیکھا گیا ۔ وہ پالکی میں بیٹھ کر ، آگے ڈھول بجانے والوں اور پیچھے اپنے متبعین کے ساتھ چلا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام طور پر وہ "ڈنکا شاہ" کے نام سے پکارے جانے لگے۔ برطانوی افسر ان  اس وجہ سے پریشان تھے کہ ہزاروں لوگ مولوی کے متبعین بننا شروع ہو گئے تھےاور بہت سے مسلمانوں نے انھیں الہامی پیغمبر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ 1856 میں جب وہ لکھنؤ پہونچے تو پولس نے انہیں شہر میں خطبہ دینے سے روک دیا ۔ بعد ازاں 1857 میں انھیں جیل میں بند کر دیا گیا۔ جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو 22ویں نیٹیو انفینٹری نے انھیں اپنا لیڈر منتخب کر لیا ۔ انھوں نے چنہٹ کی مشہور جنگ لڑی جس میں ہنری لارنس کی قیادت والی برطانوی فوجوں کو شکست ہوئی تھی۔ مولوی صاحب کو ان کی جرات اور طاقت کے لیےجانا جاتا تھا۔ فی الحقیقت بہت سے افراد مانتے تھے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں اور ان کے پاس جادوئی طاقت ہے نیز انگریز ان کو مار نہیں سکتے۔ یہ اس یقین کی وجہ سے تھا جو انھوں نے لوگون پر جزوی طور پر اپنی عظمت و اقتدار کی بنیاد پر قائم کر لیا تھا۔


1.4 افواہیں اور پیش گوئیاں (Rumours and prophecies)

افواہوں اور پیشن گوئیوں نے لوگوں میں عملی اقدام کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ میرٹھ سے جو سپاہی دہلی پہونچے تھے انہوں نے بہادر شاہ ظفر کو گائے اور سور کی کارتوسوں کے متعلق بتایا تھا کہ ان کارتوسوں کو منہ سے چھیلں گے تو ان کی ذات اور مذہب خراب ہو جائے گا۔ سپاہیوں کا یہ اشارہ این فیلڈ رائفل کے ان کارتوسوں کی طرف تھا جو حال ہی میں اج کو ملے تھے۔ انگریزوں نےسپاہیوں سے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ اس معاملے میں ایسا نہیں ہے لیکن گائے اور سور کی چربی چڑھے نئے کارتوسوں کے متعلق یہ افواہ شمالی ہندوستان کی چھاؤنیوں میں جنگل کی آگ کی طرح چاروں طرف پھیل گئی۔
اس افواہ کی اصل تلاش کی جا سکتی تھی۔ رائفل انسٹرکشن دپو کے کانڈنٹ کیپٹن رائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دم دم میں واقع اصلحہ خانہ میں کام کرنے والے ایک " نیچی ذات " کے خلاصی نے جنوری 1857 کے تیسرے ہفتے میں ایک برہمن سپاہی سے اس کے ہی لوٹے سے پانی پلانے کے لیے کہا۔ برہمن سپاہی نے یہ کہتے ہوئے پانی پلانے سے انکار کر دیا کہ  " نیچی ذات " کے چھونے سے لوٹا ناپاک ہو جائے گا۔ رپورت کے مطابق خلاصی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ جلدی ہی تمہاری ذات برباد ہونے والی ہے چونکہ تمہیں بہت جلد گائے اور سور کی چربی چڑھے کارتوسوں کو منہ سے چھیلنا ہوگا" ہم اس رپورٹ کی صداقت کے متعلق کچھ نہیں جانتےلیکن ایک دفعہ یہ افواہ پھیلنا شروع ہو گئی تو برطانوی افسران کی طرف سے تمام یقین دہانیوں کے باوجود اس کو پھیلنے سے نہیں روکا جا سکااور سپاہیوں ک درمیان اس کا خوف پھیل گیا۔
25

شکل 11.5 

ہنری ہارڈنگ کی فرانسس گرانٹ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر، 1849

گورنر جنرل کے طور پر ہارڈنگ نے جوج کے آلات کی جدید کا ری کی کوشش کی تھی۔ اس نے جن این فیلڈ رائفل کو فوج میں متعارف کرایا تھااس میں شروع میں چربی چڑھے کارتوسوں کا استعمال ہوتا تھاجس کے خلاف سپاہیوں نے بغاوت کی تھی۔

1857 تک یہ واحد افواہ نہیں تھی جو شمالی ہندوستان میں پھیلی تھی بلکہ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ برطانوی حکومت نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ذات اور مذہب کو تباہ کرنے کے لیے ایک بڑی سازش تیار کی ہے۔ افواہ کے مطابق اس مقصد کے لیےانگریزوں نے بازار میں فروخت ہونے والے آٹے میں گائے اور سور کی ہڈیوں کا سفوف ملا دیا ہے۔قصبوں اور چھاونیوں میں سپاہیوں اور عام لوگوں نے آٹے کو چھونے سے انکار کر دیا۔ یہاں ایک خوف اور بدگمانی تھی کہ انگریز ہندوستانیوں کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں، یہ دہشت تیزی سے پھیلی، برطانوی افسران نے ہندوستانیوں کا خوف کم کرنے کی کوشش کی جو لا حاصل رہی۔ ان خدشات نے لوگوں کو ہنگامی اقدام کے لیے اکسایا۔ عملی قدم کے لیےدعوت کے رد ِ عمل سے اس پیشین گوئی کے ذریعہ تقویت ملی کہ پلاسی 23 جون 1757کی جنگ کے سو سال پورے ہوتے ہی برطانوی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 
اس وقت صرف افواہیں ہی نہیں پھیل رہی تھیں بلکہ شمالی ہندکے مختلف حصوں میں ایسی رپورٹیں بھی آ رہی تھیں کہ گاؤں گاؤں چپاتیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ایک شخص رات میں آتا تھا اور گاؤں کے چوکیدار کو ایک چپاتی دیتا تھااور پانچ مزید چپاتیاں تیار کرکے اگلے گاؤں میں تقسیم کرنے کے لیے کہتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ چپاتیاں تقسیم کرنے کا مطلب اور مقصد نہ اس وقت واضح تھا اور نہ آج تک واضح ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ اسے آئندہ ہلچل کی علامت سمجھ رہے تھے۔

1.5 لوگ افواہوں پر کیوں یقین کر رہے تھے؟

(?Why did people believe in the rumours)

تاریخ میں ہم افواہوں اور پیشن گوئیوں کی طاقت کو نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ جانچ پڑتال کے ذریعہ معلوم نہ ہو جائے کہ آیا یہ حقیقت صحیح ہے یا نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو ان میں یقین کر رہے تھےان کی ذہنی کیفیت کے متعلق اس سے کیا ترجمانی ہوتی ہے- ان کے خلاف اور خدشات ، ان عقائد اور ایقان کے متعلق کیا ترجمانی ہوتی ہے، افواہیں تبھی پھیلتی ہیں جب لوگوں کے ذہنوں میں شدید خوف اور شک کی آواز گونج رہی ہو۔
1857 میں شروع ہونے والی افواہوں کوجب 1820 کی دہائی سے انگریزوں کے ذریعہ اختیار کی گئی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹک کی قیادت میں انگریز مغربی تعلیم ، مغربی تصورات اور مغربی اداروں کے ذریعہ ہندوستانی سماج کی " اصلاح" کرنے کے مقصد سے مختلف پالیسیاں اختیار کر رہے تھے۔ ہندوستان سماج کے بعض طبقوں کے تعاون سے انگریزی میڈیم یعنی ذریعہ تعلیم کے اسکول ، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی گئیں جن میں مغر بی سائنس اور حریت پسندانہ (Liberal) فنون پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزوں نے ستی کی رسم ختم کرنے (1829) اور ہندو بیوہ کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دینے کے قوانین بنائے تھے۔ 
بد انتظامی اور گود لینے والے بچے کو جانشین تسلیم کرنے سے انکار کرنا جیسے مختلف قسم کے بہانوں کے ذریعہ انگریزوں نے نہ صرف اودھ بلکہ بیشتر ریاستوں جیسے جھانسی اور ستارا کا الحاق کر لیا۔ جونہی ان علاقوں کا الحاق ہوتا انگریز وہاں اپنا نظم و نسق ، قوانین ، زمینی بندوبست اور مال گزاری اکٹھا کرنے کے طریقے رائج کر دیتے تھے۔ شمالی ہندوستان کے لوگوں پر ان سب کا مجموعی اثر گہرا تھا۔ 
لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ جن چیزوں کو عزیر اور پاک رکھتے ہیں-- راجہ ، بادشاہ اور سماجی مذہبی رسومات سے لے کر زمینی ملکیت کے نمونے اور مال گزاری تک--- ان سب کو ختم کیا جا رہا ہے اور وہ ایک نظام کے ذریعہ بدل رہی ہیں جو زیادہ لاشخصی ، بیگانہ اور ظالمانہ ہے۔ یہ احساس و شعور عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں کے ذریعہ مزید سخت ہو رہا تھا۔ ایسی غیر یقینی حالت میں افواہیں غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ پھیل رہی تھیں۔ 
1857 کی بغاوت کی بعض بنیادی تفصیلات کی چھان بین کرنے کے لیے اودھ پر غائرانہ نظر ڈالیں جو ان اہم مراکز میں سے ایک تھا جس سے 1857 کا واقعہ ظاہر ہوا تھا۔ 

بحث کیجیے...

اس حصہ کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے اور ان طریقوں پر توجہ دیجیے جن سے بغاوت کے دوران لیڈر ابھرےتھے اور ان اختلافات و یکسانیت کی وضاحت کیجیے جن پر آپ کی توجہ مبذول ہوئی ۔ کن ہی دو لیڈروں کے متعلق بحث کیجیے کہ عام لوگ ان کی طرف کس وجہ سے متوجہ ہوئے۔

2.   اودھ میں بغاوت (AWADH IN REVOLT )

2.1  " یہ شاہ دانہ ایک دن ہمارے منہ میں گرے گا"۔
(A cherry that will drop into our mouth one day)
1851 میں گورنر جنرل لارڈ دلہوزی نے اودھ کی ریاست کے ضمن میں ذکر کیا تھا کہ " یہ شاہ دانہ ایک دن ہمارے مین میں گرے گا" پانچ سال بعد 1856 میں ریاست کا رسمی طور پر برطانوی سلطنت میں الحاق کر لیا گیا۔ 

فتح مرحلوں میں واقع ہوئی۔ 1801 میں امدادی معاہدہ (Subsidairy Alliance) اودھ پر عائد کیا گیا۔ اس معاہدے کی شرائط کے ذریعہ نواب کو اپنی فوجی طاقت ختم کر دینا، ریاست کے اندر انگریز فوجی دستوں کو تعینات کرنے کی اجازت دینا اور دربار سے وابستہ برطاوی ریزیڈنٹ کے مشورے کے مطابق کام کرنا تھا۔ مسلح افواج سے محروم نواب اپنی ریاست میں قانونی نظم و نسق بنائے رکھنے کے لیے روز افزوں انگریزوں پر منحصر ہوتا گیا۔ وہ باغی سرداروں اور تعلقہ داروں پر اب کنٹرول کرنے کا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔

دریں اثنا انگریزوں کی اودھ کے علاقے پر قبضہ کرنے میں دلچسپی روز افزوں برھتی جا رہی تھی۔ انھیں محسوس ہوتا کہ وہ وہاں کی زمینیں نیل اور کپاس کی پیداوا کے لیے اچھی ہے۔ یہ علاقہ ایسی جگہ واقع تھا جہاں سے خارجی ہندوستان کے لیے بنیادی بازار کو ارتقا پذیر کیا جا سکتا تھا تاہم 1850 کی دہائی کی ابتدا تک ہندوستان کے تمام اہم علاقے: مراٹھا خطے ، دو آپ کا علاقہ، کرناٹک  پنجاب اور بنگال فتح کر لیے گئے تھے۔ تقریباً ایک صدی قبل بنگال کی فتح کے ساتھ شروع ہوا علاقائی الحاق کا عمل 1856 میں اودھ پر قبضے کے ساتھ مکمل ہونے کی امید تھی۔

ریزیڈنٹ ، گورنر جنرل کے ذریعہ مقرر کیا ہوا نمائندہ ہوتا تھا۔ وہ ایسی ریاست میں رہتا تھا جو راست طور پر برطانوی حکومت کے تحت نہیں آتی تھی۔

2.2  " جسم سےجان نکل چکی تھی "۔

(The life was gone out of the body)

لارڈ ڈلہوزی کے ذریعہ کیے گئے الحاق نے تمام علاقوں اور فرماں رواؤں میں بے اطمینانی پیدا کر دی تھی، لیکن اتنا غصہ کہیں اور نہ تھاجتنا شمالی ہند کے دل اودھ میں تھا۔یہاں نواب واجد علی شاہ کو ناقص انتظام حکومت کے عذر کے ساتھ گدی سے اتار دیا گیا اور کلکتہ جلا وطن کر دیا گیا۔ برطانوی حکومت نے یہ بھی غلط فرض کر لیا کہ نواب واجد علی شاہ ایک غیر مقبول حکمراں تھے ، اس کے برخلاف لوگ ان کو بہت پیار کرتے تھے۔ جب وہ اپنے محبوب وطن لکھنؤ کو چھوڑ کر جا رہے تھے تو بیشتر افراد گریہ و ماتم کے گیت گاتے ہوئے کان پور تک ان کے پیچھے گئے تھے۔ 

نواب کی جلاوطنی سے نقصان اور رنج و ملال کے اس منظر کو کئی معاصر مشاہدین نے قلم بند کیا ہے۔ ان میں سے ایک نے لکھا تھا " جسم سے جان نکل چکی تھی اور اس شہر کا جسم بے جان باقی رہ گیا تھا....وہاں کوئی سڑک یا بازار اور گھر ایسا نہ تھا جس سے جان عالم کی جدائی میں سوہان روح کے ساتھ بلند آواز میں رونے کی آواز نہ آ رہی ہو۔ " ایک لوک گیت میں ماتم کیا گیا کہ "انگریزو بہادر آئے اور کلک پر قبضہ کر لیا " (انگریز بہادر آئن، ملک لئے لَئے لِن ہو)

امدادی معاہدہ( Subsidiary Alliance)

امدادی معاہدہ لارڈ ویلزلی کے ذریعہ 1798 میں ایجاد کردہ ایک نظام تھا۔ ان تمام لوگوں کو جو یہ معاہدہ انگریزوں کے ساتھ کرتے تھے، چند شرائط  قبول کرنی پڑتی تھیں:

(a) انگریز اپنے اتحادی کی طاقت و قوت کی بیرونی و خارجی دھمکیوں سے حفاظت کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔

(b)اتحادی کی قلم رو میں ایک انگریز مسلح فوجی نفری تعینات ہوگی۔ 
(c) اس مسلح فوجی نفری کی نگہداشت کے لیے اتحادی کو وسائل مہیا کرانے ہوں گے۔
(d) اتحادی کسی دیگر حکمراں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا یا جنگ میں صرف انگریزوں کی اجازت کے ساتھ ہی مشغول ہو سکتا ہے۔

26

نقشہ 1

1857 میں انگریزوں کے کنٹرول میں ہندوستان کی قلم رو

یہ جذباتی تغیر عظیم فوری مادی نقصانات کے ذریعہ مزید سخت ہوا تھا۔ نواب کے ہٹائے جانے کے سبب دربار اور اس کا تمدن بھی ختم ہو گیا۔ اس طرح لوگوں کا ایک کامل سلسلہ۔۔۔موسیقار،رقاص ،شاعر،دست کار، باورچی، خادم، انتظامی اہلکار اور بہت سے لوگوں نے اپنا ذریعہ معاش کھو دیا۔

نواب صاحب رخصت ہو چکے(The Nawab has left)

ایک دوسرے گیت میں حکمراں کی تباہ حالی پر آہ و بکا کی گئی ہے جسے اپنے مادرِ وطن کو چھوڑنا پڑا:

شرفا اور کسان سب مل کر رورہے تھے اور تمام عالم آنسو بہا رہا تھا اور ماتم کر رہا تھاآہ!جان عالم الوداع کہنے پر مجبور ہو گئے اور اپنے ملک سے پردیس چلے گئے۔

اس پورے حصے کو پڑھیے اور مباحثہ کیجیے کہ لوگو واجد علی شاہ کی روانگی سے رنجیدہ کیوں تھے۔ 

27

شکل 11.5

اودھ کا ایک زمین دار، 1880

2.3 فرنگی راج اور ایک دنیا کا خاتمہ (Friangi raj and the end of a world)

اودھ میں شکوہ شکایت کے ایک سلسلے نے شہزادوں ، تعلق داروں، کسانوں اور سپاہیوں کو آپس میں جوڑ دیا تھا۔ وہ " فرنگی راج" کے آنے کو مختلف معنوں میں اپنی دنیا کے خاتمے کی شکل میں دیکھنے لگے۔ وہ چیزیں ٹوٹ رہی تھیں جو ان کے لیے قیمتی تھیں جن کی وہ عزت کرتے تھے اور محبت رکھتے تھے۔ 1857 کی بغاوت میں تمام پیچیدہ جذبات اور امور ، روایات اور وفاداریاں خود سامنے آ رہی تھیں۔ دوسری جگہوں کے مقابلے اودھ میں یہ بغاوت غیر ملکی نظام کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت بن گئی۔
اودھ کے الحاق سے صرف نواب ہی نہیں بلکہ اس علاقے کے تعلقہ دار بھی بے دخل ہو گئے تھے۔ اودھ کے دیہی علاقوں میں تعلقہ داروں کی جاگیریں اور قلعے بکھرے پڑے تھے جو کئی نسلوں سے دیہی علاقوں میں زمین اور اقتدار پر کنٹرول رکھے ہوئے تھے۔ انگریزوں کے آنے سے قبل تعلقہ دار باضابطہ مسلح افواج رکھتے تھے، وہ قلعہ جات تعمیر کرتے اور جب تک کہ وہ نواب کی بالادستی کو قبول کرتے رہتے اور اپنے تعلقہ کی مال گزاری ادا کرتے رہتے تب تک خود مختاری کا لطف اٹھاتے رہتے۔ چند بڑے تعلقہ داروں کے پاس تو 12000 پیدل سپاہی ہوتے تھے۔ انگریز ان تعلقہ داروں کی طاقت کو برداشت کرنے کے خواہش مند نہ تھے۔ الحاق کے فاراً بعد تعلقہ داروں کی فوج کو غیر مسلح کر دیا گیا اور ان کے قلعہ جات تباہ کر دیے گئے۔
برطانوی زمین مال گزاری پالیسی نے تعلقہ داروں کی پوزیشن اور اقتدار کو مزید کھوکھلا کر دیا۔ الحاق کے بعد 1856 کے جامع بندوبست (summary settlement ) کے نام سے معروف پہلا برطانوی مال گزاری بندوبست اس بنیاد پر ان تعلقہ داروں پر نافذ کیا گیا جو زمین پر غیر مستقل حد بندی کے ساتھ زبردستی شریک کار تھے اور انھوں نے زمین پر طاقت اور فریب کے ساتھ قبضہ قائم کر لیا تھا جامع بندوبست کے تحت جہاں بھی ممکن تھا قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ تعلقہ داروں کو ہٹایا گیا۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی عہد سے قبل تعلقہ دار اودھ میں کل گاؤں کے 67 فیصد گاؤں پر قبضہ رکھتے تھے۔ جامع بندوبست کے نفاذ کے ذریعہ یہ تعداد کم ہو کر 38 فیصد رہ گئی ۔ جنوبی اودھ کے تعلقہ داروں پر سب سے سخت مار پڑی ، چند نے تو جن پر پہلے ان کا قبضہ تھا، آدھے سے زیادہ گاؤں کھو دیے تھے۔
برطانوی زمین مال گزاری افسران کو یقین تھا کہ وہ تعلقہ داروں کو ہٹا کر زمین کو اس کے حقیقی مالک کو بخش دینے کے اہل ہوں گے اور کسانوں کے استحصال میں کمی آئے گی۔ اس طرح ریاست کی مال گزاری وصولی میں اضافہ ہوا لیکن کسانوں سے مال گزاری مطالبہ کے بوجھ میں کمی نہیں آئی ۔ افسران کو جلد ہی پتہ چل گیا کہ اودھ کے وسیع علاقے کا تخمینہ حقیقتاً کافی بڑھا چڑھا کر کیا گیا تھا۔ بعض علاقوں میں مال گزاری مطالبوں میں 30سے 70 فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔ اس طرح نہ تو تعلقہ داروں کے اور نہ ہی کسانوں کے پاس اس الحاق پر خوش ہونے کے اسباب باقی رہے۔
تعلقہ داروں کی بے دخلی کا مطلب ایک پورے سماجی نظام کا ٹوٹ جانا تھا۔ وفاداری اور سرپرستی کے جن رشتوں سے کسان تعلقہ داروں سے بندھے تھے وہ درہم برہم ہو گیا۔ برطانوی عہد سے قبل تعلقہ دار ہی ظالم تھے لیکن بہت سے ان میں رحم دل سر پرست کی شبیہہ بھی  رکھتے تھے۔ وہ بقایا جات کی مختلف شکلوں میں کسانوں سے رقم تو وصول کر تے تھے لیکن اکثر وقت پڑنے پر کسانوں کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ اب انگریزوں کے تحت کسانوں سے لگان کا تخمینہ بڑھا چڑھا کر کرنے اور وصولیابی کے بے لچک طریقے راست طور پر ظاہر ہونے لگے تھے۔ اب اس بات کی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ مشکل حالات میں یا فصل خراب ہونے کی صورت میں ریاست کا مال گزاری مطالبہ کم ہو جائے گا یا وصولیابی ملتوی کر دی جائے گی یا یہ کہ کسانوں کو تیوہاروں کے موقع پر قرض اور مدد مل پائے گی جو کہ پہلے تعلقہ دار مہیا کر دیا کرتے تھے۔
ان جگہوں میں اودھ جہاں 1857 میں مزاحمت بہت ہی زیادہ اور دیر تک رہی، لڑائی تعلق داروں اور ان کے کسانوں کے ذریعہ چلائی جا رہی تھی ان میں بہت سارے تعلق دار اور اودھ کے نواب کے وفادار تھے اور وہ بیگم حضرت محل کے ساتھی لکھنؤ میں انگریزوں سے لڑے۔ کچھ ان کی ہار تک ان کے ساتھ رہے۔ 
کسانوں کی شکایتیں فوجی بیرکوں میں پہونچنے لگی تھیں کیونکہ سپاہیوں کی اکثریت اودھ کے گاؤں سے ہی بھرتی کی گئی تھی۔ کئی دہائیوں سے سپاہی کم تنخواہ وار چھٹی حاصل کرنے کے سلسلے میں پریشانی کی شکایت کر رہے تھے۔ 1850 کی دہائی آتے آتے ان کی بے اطمینانی کی دیگر وجوہات بھی پیدا ہو گئیں۔

ماخذ 4

تعلقہ دار کیا سوچتے تھے ( What taluqdars thought)

تعلقہ داروں کے روے کو رائے بریلی کے نزدیک واقع کلا کنکر کے راجہ ہنونت سنگھ نے بے حد عمدہ  ڈھنگ سے ظاہر کیا ۔ بغاوت کے دوران ہنونت سنگھ نے ایک افسر کو پناہ دی تھی اور محفوظ مقام تک پہنچایا تھا۔ افسر کو رخصت کرتے وقت ہنونت سنگھ نے اس سے کہا تھا:

صاحب آپ کے ملک کے لوگ اس ملک میں آئے اور ہمارے راجاؤں کو دھکیل دیا۔ آپ اپنے افسران کو بھیج کر ضلعوں میں جاگیروں کی حق ملکیت کا معائنہ کراتے ہیں۔ ایک ہی جھٹکے میں آپ نے مجھ سے میری زمین چھین لی جو میرے خاندان کی قدیم عہد سے تھی۔ میں نے اطاعت اختیار کر لی۔ اچانک آپکی بدقسمتی شروع ہو گئی۔ اس زمین کو لوگ آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، تب آپ میرے پاس آئے جس کو آپ نے محروم کر دیا تھا، میں نے آپ کو بچایا ، لیکن اب --- اب میں اپنے خادموں کو لیکر لکھنؤ جا رہا ہوں تاکہ آپ کو ملک سے باہر نکالنے کی کوشش کروں۔

یہ اقتباس تعلقہ داروں کے رویہ کے بارے میں آپ کو کیا بتاتا ہے؟ اس زمین کے لوگوں سے ہنونت سنگھ کا کیا مطلب تھا؟ ہنونت سنگھ نے لوگوں کے غصہ کی کیا وجہ بیان کی ؟

1857 کی بغاوت سے پہلے ہی سپاہیوں کے اپنے اعلیٰ سفید افسران کے ساتھ رشتے معنی خیز انداز میں تبدیل ہو چکے تھے۔ 1820 کی دہائی میں سفید افسران سپاہیوں کے ساتھ ایک خاص حد تک دوستانہ رشتے بناتے تھے، وہ ان کی موج مستیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے، ان کے ساتھ کشتی لڑتے، تلوار بازی کرتے اور شکار پر جاتے تھے۔ ان میں سے بہت سے انگریز روانی سے ہندوستانی بولتے اور ملک کے رسم و رواج اور تمدن سے خوب واقف تھے۔ یہ افسران سخت گیر اور پدرانہ شفقت دونوں رکھتے تھے۔
1840 کی دہائی میں یہ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ افسران کے اندر برتری کا ایک شعور پیدا ہوا اور سپاہیوں کو کم تر نسل کا مانتے ہوئے ان سے نازیبا سلوک کرنے لگے، ان کے احساسات پر تکبر سوار تھا۔ دشنام طرازی اور جسمانی تشدد عام بات ہو گئی
 چنانچہ سپاہیوں اور افسران کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔ اعتماد کی جگہ شک و شبہات نے لے لی۔ چکنائی چرھے کارتوسوں کا واقعہ اس کی نمایا مثال ہے۔ 
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ شمالی ہند کے دیہی علاقوں اور سپاہیوں کے درمیان ایک گہرا رابطہ موجود تھا ۔ بنگالی فوج کے سپاہیوں کی اکثر اودھ کے گاؤں اور مشرقی اتر پردیش سے بھرتی کی گئی تھی۔ ان میں بہت سے افراد برہمن یا " اعلیٰ ذات" سے تعلق رکھتے تھے۔ فی الحقیقت اودھ کو " بنگال فوج کی پرورش گاہ" کہا جاتا تھا۔ سپاہیوں کے خاندان اپنے ارد گرد جن تبدیلیوں کو دیکھ رہے تھے اور جو خطرے محسوس کر رہے تھے وہ جلد ہی سپاہی بیرکوں میں منتقل ہو گئے۔ اسی طرح نئے کارتوسوں کے متعلق سپاہیوں کا خوف ، تعطیلات کے متعلق ان کی شکایتیں اور سفید افسران کی طرف سے نسلی دشنام طرازی کی خبریں گاؤں میں بھی پہنچنے لگیں۔ سپاہیوں اور دیہی دنیا کے درمیان اس رابطے کے بغاوت کے طریق پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ جب سپاہی اپنے اعلیٰ افسران کی اعلانیہ نافرمانی کرتے تھے اور ہتھیار اٹھاتے تھے تو فوراً ہی گاؤں میں ان کے ہم پیشہ لوگ ان کے ساتھ جڑ جاتے تھے۔ ہر جگہ کسان ہجوم کی شکل میں شہروں میں پہونچ کر اور سپاہیوں نیز شہر کے عام لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر بغاوت کے مجموعی عمل میں شامل ہو رہے تھے۔
28

شکل 11.7

یوروپی طرز کی وردی پہنے بنگال کے سپاہی

بحث کیجیے...

معلوم کیجیے کہ کی آپ کی ریاست کے لوگوں نے 1857 کی بغاوت میں حصہ لیا تھا یا نہیں؟ اگر لیا تھا تو معلوم کیجیے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اگر نہیں تو اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کیجیے ۔

3.باغی کیا چاہتے تھے؟(WHAT THE REBELS WANTED?)

بحیثیت فاتح انگریزوں نے اپنی تکالیف و مصائب ، اور اس کے ساتھ ہی اپنی جاں بازی کے واقعات قلم بند کیے انہوں نے باغیوں کو ایک احسان فراموشوں اور وحشیوں کا گروہ سمجھ کر خارج کر دیا ۔باغیوں کے استیصال کا مطلب یہ تھا کہ ان کی آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ چند باغیوں کو ہی ان واقعات کے متعلق اپنا بیان قلم بند کرانے کاموقع ملا تاہم باغیوں میں زیادہ تر سپاہی اور عام لوگ تھے جو خواندہ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے۔ اس طرح اپنے خیالات کا پروپیگنڈہ کرنے کے لیے اور لوگوں کو مائل کر کے بغاوت میں شامل ہونے کے لیے جاری کیے گئے بعض اعلانات اور اشتہارات کے علاوہ ہمارے پاس زیادہ مواد نہیں ہے جس کی روشنی میں باغیوں کے تناظر کو سمجھا جا سکے۔ چنانچہ 1857 میں کیا ہو رہا تھا اسے ازسرِ نو تحریر کرنے کی کوششوں میں ناگزیر طور پر انگریزوں کی لکھی تحریروں پر منحصر ہونا پڑتا ہے۔ اگر چہ یہ خدمات افسران کی ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں اور باغی کیا چاہتے تھے اس کے متعلق ہمیں بہت کم بتاتے ہیں۔

3.1  اتحاد کی مدبرانہ بصیرت (The vision of unity)

1857 میں باغیوں کے اعلان میں آبادی کے سبھی طبقوں سے بلا لحاظ ذات و مذہب بار بار اپیل کی جاتی تھی۔ بہت سے اعلان مسلم شہزادو کی طرف سے یا ان کے نام سے جاری کیے گیے تھے بلکہ یہاں تک کہ ان کے تخاطب میں ہندوؤں کے 
جذبات کا خیال رکھا گیا تھا۔ بغاوت کو ایک ایسی جنگ کے طور پر دیکھا گیا جس میں ہندوؤں اور مسلمانو ں کا نقصان یا نفع برابر تھا۔ اشتہارات میں برطانوی عہد سے قبل کے ماضی پر توجہ دینے اور مغل سلطنت کے تحت مختلف قوموں کو بقائے باہمی کے ساتھ رہنے کی مدح سرائی کی جاتی تھی۔ بہادر شاہ ظفر ؔ کے نام کے تحت جو اعلان جاری کیا گیا تھا اس میں حضرت محمد ـاور مہاویر دونوں کے معیار کے تحت لوگوں سے لڑائی میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شورش کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرق پیدا کرنے کی انگریزوں کی کوششوں کے باوجود شایدہی کوئی مذہبی فرق دکھائی دیا ہو۔ مغربی اتر پردیش میں بریلی میں انگریزوں نے 1857 میں ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کرنے کے لیے 50 ہزار روپیے خرچ کیے تھے۔ ان کی یہ کوشش ناکام رہی ۔ 

ماخذ 5

اعظم گڑھ اعلامیہ ، 25 اگست 1857

( The Azamgarh Proclamation, 25 August 1857)

باغی کیا چاہتے تھے۔ اس کے متعلق  ہماری معلومات کا یہ ایک اہم ماخذ ہے:

یہ سب جانتے ہیں کہ اس زمانے میں ہندوستان کے لوگوں ، ہندو اور مسلمان دونوں ، ملحدوبے دین اور دغاباز انگریزوں کی ظلم و تعدی اور جابرانہ حکومت کے تحت تباہ و برباد ہیں لہٰذا ملک کے سبھی مالدارو لوگوں خاص طور پر وہ لوگ جو کسی بھی مسلم شاہی خاندان سے رشتہ رکھتے ہیں اور جن لوگوں کو روحانی رہنما اور آقا سمجھا جاتا ہے ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی اور ملکیت کو عوام کی فلاح و بہہود کے لیے خطرے میں ڈال دیں...

اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے طویل عمر سے اپنے گھروں کو چھوڑ چکے اور ہندوستان سے انگریزوں کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی بہترین کوشش کرنےوالے بہت سے ہندو اور مسلمان سرداران بذات خود میرے سامنے پیش ہوئے اور ہندوستانی صلیبی جنگ (مذہبی جنگ) کے میدان میں حصہ لیا اور مجھے پوری امید ہے کہ جلد ہی مغرب سے بھی مدد ملے گی لہٰذا عام کی اطلاع کے لیے موجودہ اشتہار کئی حصوں پر مشتمل جاری کیا جا رہا ہے اور یہ سب کی نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ اس پر با احتیاط غور کریں اور اس پر پابند عمل ہو ۔ اس مشترکہ مقصد میں جو متفکرو مضطرب پارٹیا ں حصہ لینا چاہتی ہیں لیکن جن کے پاس خود کے لیے مہیا کرنے کے وسائل نہیں ہیں، ان کو میری طرف سے اپنا روزانہ کا معاش قبول کرنا ہوگااور یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندو اور مسلم دونوں کی پرانی کتابوں میں معجزاتی کام کرنے والوں کی تحریروں میں اور نجومیوں و پنڈتوں کی پیشن گوئیوں میں... سب حتمی طور پر متفق ہیں کہ ہندوستان میں یا کہیں بھی اب انگریزوں کے قدم زیادہ دن تک نہیں ٹک پائیں گے۔ لہٰذا یہ سب لوگوں کا فرض ہے کے وہ انگریزوں کی حکمرانی کے مسلسل بنے رہنے کی امید چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں اور مشترکہ اچھائی کو تقویت دینے میں اپنی انفرادی  محنت و کوشش سے بادشاہی حکومت کے پاس و لحاظ کے مستحق بنیں اور اس طرح سے اپنے جدا گانہ حاصل کریں ۔ وگرنہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے پھسل گیا تو اپنی بے عقلی پر پشیمان ہونا پڑے گا۔

شق I " زمین داروں کی بابت" ــــ یہ ظاہر ہے کہ زمین داری بندوبست طے کرنے میں انگریزی حکومت نے بے حساب " جمع" (مال گزاری مطالبہ) عائد کر دیا ہے اور بہت سے زمین داروں کو بے عزت اور بتاہ و برباد کر دیا ہے۔ لگان کے بقایا جات کی وصولی کے لیے ان کی جاگیریں عوامی طور پر نیلام کر دی گئی ہیں۔ انتہا تو یہ ہے کہ ایک رعیت یا خادمہ یا غلام کے ذریعہ کیے گئے قانونی مقدمے بھی با عزت زمین داروں کو عدالت میں طلب کیا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا ہے،قید میں ڈالا جا رہا ہے اور بے عزت کیا جا رہا ہے۔ زمین داروں کی بابت مقدمے بازی میں اسٹامپ کی بے انتہا قیمت اور دیوانی عدالت کے دیگر غیر ضروری اخراجات... ان سب کا تخمینہ فریق مقدمہ کو نا دارادا کرتا ہے۔ مزید بر آں زمین داروں کے خزانے سے اسکولوں ، اسپتالوں ، سڑکوں وغیرہ کے لیے چندہ کے نام پر ہر سال ٹیکس لیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے استحصال بالجبرکا بادشاہی حکومت میں کوئی وجود نیہں ہوگا، لیکن اس کے برخلاف شاہی حکومت میں " جمع"  کمتر رہے گی ۔ زمین داروں کا وقار اور عزت محفوظ ہوگی اور ہر زمین دار اپنی زمین داری میں خود مختارانہ حکومت کرے گا۔

شق II " تاجروں کی بابت" --- یہ بات صاف ہے کہ اس بے دین و ملحد اور دغاباز برطانوی حکومت نے تمام عمدہ اور قیمتی تجارتی اشیا جیسے  نیل، کپڑے اور دیگر جہازی مال یعنی جہاز پر بار کیے جانے والے مال کی تجارت پر اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ لوگوں کے لیے اب صرف ادنیٰ اشیا کی تجارت ہی چھوڑی ہے... مزید  بر آں ڈاک خرچ ، چنگی اور اسکول کے لیے چندہ وغیرہ کے نام رقم تاجروں کے منافع سے ٹیکس کی شکل میں لے لیتے ہیں۔ ان تمام رعایتوں کے باوجود مہمل لوگوں کی شکایت پر یا مقدمہ کی صورت میں تاجروں کو قانوناً ذمہ دار مانتے ہوئے گرفتار اور ذلیل کرتے ہیں۔ جب بادشاہی حکومت بنے گی تو مندرجہ بالا تمام دھوکے بازی کی مشق ترک کر دی جائے گی۔ خشکی اور پانی کے راستے ہونے والی چیز کی تجارت کسی استثنا کے بغیر ہندوستان کے دیسی تاجروں کے لیے کھول دی جائے گی...چنانچہ یہ ہر تاجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑائی میں حصہ لے اور بادشاہی حکومت کی اپنے آدمیوں اور اپنی دولت کے ساتھ مدد کرے...

شق III  " سرکاری ملازمین کی بابت " - اب یہ راز کی بات نہیں ہے کہ برطانوی سرکار کے تحت انتظامی اور فوجی خدمات میں ملازمت کرنے والے دیسی (ہندوستانی) لوگوں کی بہت کم عزت ہے ، ان کی تنخواہ کم ہے اور ان کے پاس اثر و رسوخ کے طریقے نہیں ہیں۔دونوں شعبوں میں بلند درجہ اور منافع کےسارے عہدے پوری طرح سے انگریزوںکا عطا کیے جاتے ہیں... لہٰذا انگریزوں کی خدمت کرنے والے تمام ہندوستانیوں کو اپنے مذہب اور مفاد کا احساس زندہ رکھنا لازم ہے اور انگریزوں کے تئیں اپنی وفاداری سے دست بردار ہو کر بادشاہی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے اور انھیں فی الحال 200اور 300 روپیے فی ماہ تنخواہ حاصل ہوگی اور مستقبل میں اعلیٰ عہدوں کے مستحق ہوں گے...

شق IV - " دست کاروں کی بابت" - یہ ظاہر ہے کہ یوروپی لوگوں کے ذریعہ ہندوستان میں برطانوی اشیا کے متعارف ہونے کے بعد بنکروں ، سوتی کپڑے بنانے والوں ، بڑھئی ، لوہاروں اور جاتا سازوں وغیرہ کو بے روزگار کر دیا گیا ہے ، ان کے پیشوں پر قبضہ جما لیا گیا ہے۔ چنانچہ ہر قسم کے دیسی دست کار بھکاری کی حالت میں پہنچ گئے ہیں، لیکن بادشاہی حکومت کے تحت دیسی دست کاروں کو بادشاہوں ، راجاؤں اور دولت مند لوگوں کی خدمت میں بلا شرکت غیرے روزگار دیا جائے گا اور اس سے بلا شبہ ان میں یقینی خوش حالی آئے گی، لہٰذا ان کا ریگروں کو انگریزوں کی خدمت سے دست بردار ہونا چاہیے........


شقV -" پنڈتوں، فقرا اور دیگر ذی علم افراد کی بابت" - پنڈت اور فقرا حسب ترتیب ہندو اور مسلمان مذاہب کے سر پرست ہیں اور یوروپین دونوں مذاہب کے دشمن ہیں۔ چونکہ فی الحال مذہب کے واسطے انگریزوں کے خلاف شدت سے جنگ جاری ہے لہٰذا پنڈتوں اور فقرا کا فرض ہے کہ خود کو میرے سامنے پیش کریں اور اس مقدس جنگ (جہاد) میں اپنی حصہ داری نبھائیں۔

اس اعلان میں برطانوی حکومت کے خلاف کون سے مسئلے اجاگر کیے گئے ہیں؟ ہر سماجی گروپ کے متعلق حصوں کو غور سے پڑھیے۔ اعلان کی زبان کی ضابطہ سازی پر دھیان دیجیے اور غور کیجیے کہ یہ اعلان کون سے مختلف النوع جذبات کو اپیل کر رہا ہے۔

ماخذ 

سپاہی کی سوچتے تھے ؟

(?What the sepoys thought)

یہ باغی سپاہیوں کی عرضی میں سے ایک عرضی ہے جو ضائع ہونے سے باقی رہ گئی:

ایک صدی قبل انگریز ہندوستان میں وارد ہوئےاور بتدریج اپنی ملازمت میں جوجی نفریاں قائم کر نے لگے اور ہر ریاست کے آقا بن گئے ۔ ہمارے اجداد نے ہمیشہ ان کی خدمت کی اور ہم بھی ان کی خدمت میں داخل ہو گئے...خدا کی مہر بانی سے اور ہماری مدد سے انگریزوں نے جس کو پسند کیا وہ مقام فتح کر لیا ۔ اس کے لیے ہم میں سے ہزاروں ہندوستانی جوانوں کو قربانی دینی پڑی ، لیکن ہم نے کبھی نہ کوئی معذرت کی یا بہانہ بنایا اور نہ ہی کبھی بغاوت کی ...

لیکن 1857 میں انگریزوں نے یہ حکم کیا کہ نئے کارتوس اور بندوقیں جو انگلینڈ سے یہاں پہنچتی تھیں ہمیں دی جائیں گی۔ان میں سے پہلی چیز یعنی کار توسوں میں گائے اور گائے اور سور کی چربی ملی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ گیہوں کے آٹے میں ہڈیوں کا پاؤڈر ملا کر کھلایا جا رہا تھا حتی کہ یہ اشیا ہر ایک پیدل جوج ، گھڑ سوار اور توپ خانہ رجمنٹ میں تقسیم کر دی گئیں...

انہوں نے یہ کارتوس تھرڈلائٹ کیویلری کے سواروں (گھڑسوار فوجی ) کو دیے اور انھیں ان کارتوسوں کو دانت سے کاٹنے کا حکم دیا ۔ فوجیوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ کبھی بھی ان کو دانتوں سے نہیں کاٹیں گے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا مذہب اور عقیدہ تباہ ہو جائے گا...اس پر انگریز افسروں نے ریجمینٹوں کے جوانوں کی پریڈ کرا دی ۔ 1400 انگریز فوجی اور یوروپین کی دیگر بٹالین کے فوجی اور گولا انداز گھڑ سواروں نے ان کوگھیر لیا ۔ ہر پیدل کے سامنے چھ توپیں رکھ دی گئیں ۔ یہ توپیں چھرّوں سے بھری ہوئی تھیں اور 84 نئے فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کو لوہے کی بیڑیوں میں ڈال کر جیل میں ڈال دیا گیا...چھاؤنی کے سواروں کو اس وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا تاکہ ہم خائف ہو کر نئے کارتوسوں کو دانتوں سے کاٹنے لگیں۔ اس واسطے ہم اور ہمارے ملک کے لوگ ایک ساتھ متحد ہو کر اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے انگریزوں سے جنگ کریں۔ ہمیں دو سال تک جنگ جاری رکھنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ مذہب اور عقیدے کے سوال پر جو راجہ اور سردار ہمارے ساتھ تھے وہ ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں اور تمام قسم کی تکالیف برداشت کی ہیں۔ ہم دو سال تک اس لیے لڑے تھے تاکہ ہمارا عقیدہ اور مذہب پراگندہ نہ ہو۔ اگر ایک ہندو یا مسلمان کا مذہب ضائع ہو گیا تو دنیا میں کیا باقی رہے گا؟

اس عرضی میں جو اسباب فوجی بغاوت کے لیے بیان کیے گئے ہیں ان کا موازنہ تعلقہ دار (ماخذ 3) کے ذریعہ بیان کیے گئے اسباب کے ساتھ کیجیے۔

3.2 ظلم وتعدی کی علامات کے خلاف 

(Against the symbols of oppression )

ان اعلانات میں برطانوی حکومت ( یا جسے باغی " فرنگی راج" کہتے تھے) سے وابستہ ہر چیز کو پوری طرح مسترد کر دیا۔ انگریزوں کے ذریعہ کیے گئے ریاستوں کے الحاق کے لیے اور معاہدوں کو توڑنے کے لیے باغیوں نے انگریزوں کی ملامت کی ۔ باغی لیڈروں کا کہنا تھا کہ انگریزوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
لوگوں کو اس بات پر غصہ تھا کہ کس طرح زمین مال گزاری تصفیوں نے چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کے زمین مالکان کو بے دخل کر دیا تھا اور غیر ملکی کاروبار نے دست کاروں اور بنکروں کو تباہی و بربادی کے غار میں دھکیل دیا تھا۔ برطانوی حکومت کے ہر پہلو پر حملہ کیا جاتا تھا۔ فرنگیوں پر طرزِ زندگی کو تباہ کرنے کا الزام لگایا جاتا تھاجس سے وہ مانوس تھے اور جسے عزیز رکھتے تھے۔ باغی اپنی اس دنیا کی بحالی چاہتے تھے۔
یہ اعلانات ہندوؤں اور مسلمانوں کی ذات اور مذہب کو تباہ و برباد کرنے اور انھیں عیسائی بنانے کے عام خوف کو ظاہر کرتے تھے۔ یہ خوف اس زمانے میں گشت کرنے والی بہت سی افواہوں میں یقین کا نتیجہ تھا۔ لوگوں سے اصرار تھا کہ وہ مجتمع ہو جائیں اور اپنی طرزِ زندگی ، مذہب ، عزت اور شناخت کو بچانے کے لیے لڑیں۔ یہ جنگ " وسیع عوامی بھلائی" کی لڑائی تھی۔ 
بہت سے مقامات پر انگریزو ں کے خلاف بغاوت ان تمام لوگوں پر حملے کی وسیع صورت اختیار کر لیتی تھی جو انگریزوں کے اتحادی یا مقامی طور پر ظالم کی شکل میں دیکھے جاتے تھے، اکثر باغی شہر کے چند طبقے کو قصداً ذلیل کرنے کا موقع حاصل کر لیتے تھے۔ گاؤں میں انہوں نے مہاجنوں کے بہی کھاتوں کو جلایا اور ان کے گھروں کو تاخت و تاراج کر دیا ۔ یہ کوشش اس بات کی مظہر تھی کہ باغی روایتی نظام مراتب کو ختم کر دینا چاہتے تھے، باغی تمام ظالموں کے خلاف تھے۔ یہ کوشش ایک متبادل تصویر کی جھلک پیش کرتی ہے شاید اس میں ایک سے زیادہ مساوات میں یقین رکھنے والے سماج کی تصویر نظر آتی ہے۔ اس طرح کی تصویر اعلانات میں واضح طور پر دکھائی نہیں دیتی جن میں" فرنگی راج" کے خلاف تمام سماج گروہوں کو متحد کرنا مطلوب تھا۔ 

3.3 متبادل سیاسی اقتدار کی تلاش 

(The search for alternative power )

ایک دفعہ برطانوی حکومت گر گئی تو باغیوں نے دہلی ، لکھنؤ اور کان پور جیسے مقامات پر ایک طرح کے اقتدار کے ڈھانچے اور رنظم و نشق کو قائم کرنے کی کوشش کی۔ بے شک یہ نظم و نسق ناپائیدار تھا لیکن یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ باغی قیادت اٹھارھویں صدی کی انگریزوں سے قبل کی دنیا بحال کرنا چاہتی تھی اس لئے لیڈران نے ماضی کے درباری تمدن کی طرف رخ کیا ۔ مختلف عہدوں پر تقرریاں کی گئیں ۔ زمین مال گزاری کی وصولیابی اور فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے انتظامات کیے گئے۔ لوٹ ماراور غارت گری روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی انگریزوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے منصوبے بھی تیار کیے گئے۔ فوج میں کمان کی زنجیر یا سلسلہ قائم کیا گیا۔ ان تمام کوششوں میں باغی اٹھارہویں صدی کی مغل دنیا کی طرف پیچھے جا رہے تھے جو ایک ایسی دنیا تھی جو تمام چیزوں کا مظہر بن گئی تھی جس کو وہ کھو چکے تھے۔ 
باغیوں کے ذریعہ قائم انتظامی ڈھانچوں کا بنیادی مقصد جنگ کی ضروریات کو پورا کرنا تھا تاہم زیادہ تر معاملات میں یہ ڈھانچے انگریزوں کے کشت و خون کی کاروائی میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے، لیکن اودھ میں جہاں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کافی طویل ہو گئی وہاں لکھنؤ کو دربار میں جوابی حملے کے منصوبے بنائے جا رہے تھے اور 1857 کے آخری مہینوں اور 1858 کے ابتدائی حصے میں افسر شاہی نظام (درجہ بندی پر مبنی) قائم کیا گیا تھا۔ 

بحث کیجیے ...

آپ کے خیال میں،باغیوں کے نقطئہ نظر کو از سرِ نو تعمیر کرنے میں مؤرخین کو کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

4. انسداد (REPRESSION)

1857 سے متعلق ہمارے پاس جتنی بھی رودادیں ہیں ان تمام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انگریزوں کے لیے بغاوت کو دبانا آسان ثابت نہیں ہوا۔
شمالی ہند کو از سرِ نو تسخیر کرنے کے لیے فوجی دستوں کو روانہ کرنے سے قبل انگریزوں نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے فوجیوں کی مد د کے واسطےقوانین کا مضبوط سلسلہ منظور کیا۔ مئی اور جون 1857 میں منظور کیے گئے متعدد ضابطہ قوانین (Acts) کے ذریعہ نہ صرف پورے شمالی ہند  میں مارشل لا لگا دیا گیا بلکہ فوجی افسران اور یہاں تک کہ عام انگریزوں کو بھی ان ہندوستانی فوجوں کو جن پر بغاوت کرنے کا شبہہ تھا سزا دینے کا اختیا ر دے دیا۔ بالفاظ دیگر قانون اور مقدمے کا عمل موقوف کر دیا گیا اور یہ سعی کی گئی تھی کہ بغاوت کی صرف ایک ہی سزا ہو سکتی تھی- موت۔
ان نئے مخصوص قوانین اور برطانیہ سے منگائی گئی امدادی فوج سے لیس انگریزوں نے بغاوت کو کچلنے کا کام شروع کر دیا۔ باغیوں کی طرح وہ بھی دہلی کی علامتی اہمیت کو تسلیم کرتے تھےلہٰذا انگریزوں نے دو طرفہ حملہ کیا  دہلی کو فتح کرنے کے لیے ایک فوج نے کلکتہ سے تو دوسری نے پنجاب کی طرف سے شمالی ہندوستان کی طرف کوچ کیا جو بڑے پیمانے پر پر امن تھا۔ انگریزوں کی دہلی کو از سرِ نو فتح کرنے کی جو 1857 کی ابتدا میں سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں، آخر کار ستمبر کے اواخر میں شہر پر قبضہ کی جا سکا۔ دونوں طرف سے زبردست جنگ اور نقصان ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ واقعتاً پورے شمالی ہند سے باغی دارلخلافہ کی حفاظت کرنے کے لیے دہلی میں آگئے تھے۔

ماخذ 7

باغی ہل دیہات 

(Villagers as rebels)

اودھ کے دیہی علاقے سے ایک افسر نے لکھا تھا:

اودھ کے لوگ شمالی ہند سے خبر رسانی کے رابطوں کو دبانے کے لیے بتدریج شدیددباؤ بنا رہے ہیں...اودھ کے لوگ دیہاتی ہیں...ان گاؤں کے لوگوں کو یوروپین نزدیک سے چھو بھی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس کے سامنے ایک دم بکھر جاتے ہیں اور پھر مجتمع ہو جاتے ہیں۔ انتظامی عہدے داران نے ان گاؤن والوں کے متعلق اطلاع دی ہے کہ ان کی تعداد مع بندوقوں کے بہت زیادہ ہے۔

اس بیان کے مطابق گاؤں والوں کے خلاف کاروائی کرنے میں انگریزوں کو کن مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔

29

نقشہ 2

نقشے میں بغاوت کے اہم مراکز دکھائے گئے ہیں اور باغیوں کے خلاف انگریزوں کے حملےکے راستوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

گنگا کے میدان میں بھی انگریزوں کی از سرِ نو فتح کا سلسلہ مدّھم رہا۔ فوجوں کو ایک گاؤں کے بعد دوسرے گاؤں کا فتح کرنا تھا ۔ دیہات اور اس کے اطراف کے لوگ پوری طرح دشمن تھے۔ جوں ہی انھوں نے اپنی بغاوت مخالف کاروائی شروع کی انگریزوں کو اندازہ ہو گیا کہ ان کا واسطہ صرف فوجی بغاوت سے ہی نہیں ہے بلکہ اس شورش سے ہے جس کو زبردست عوامی حمایت حاصل ہے ۔ مثال کے طور پر اودھ میں فارسیتھ(forsyth) نامی انگریز افسر کا اندازہ تھا کہ تین چوتھائی بالغ مرد آباد ی بغاوت میں شامل تھی۔ یہ علاقہ طویل لڑائی کے بعد 1858 میں انگریزوں کے کنٹرول میں آیا۔
انگریزوں نے بہت بڑے پیمانے پر فوجی طاقت کا استعمال کیا تھا۔ لیکن صرف یہ ہی ایک آلہ نہیں تھا جس کا انھوں نے استعمال کیا ہو۔ موجودہ اترپردیش کے بڑے حصے میں زمین مالکان اور کسانوں نے مل کر انگریزوں سے متحدہ مزاحمت کی انگریزوں نے اس اتحاد کو توڑنے کی کوشش میں بڑے زمین مالکان سے وعدہ کیا کہ ان کی جاگیریں واپس کر دی جائیں گی۔ باغی زمین مالکان کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا اور وفادار زمین مالکان کو انعامات دیے گئے۔ بہت سے زمین مالکان انگریزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے یا وہ بھاگ کر نیپال چلے گئے جہاں وہ بیماری یا فاقہ زدگی سے مر گئے۔
30

شکل 11.8

دہلی کی پہاڑیوں پر واقع ایک جامع مسجد ، فیلس بی ریتوکے ذریعہ لیا گیا فوٹوگراف 1857-58

1857 کے بعد برطانوی فوٹوگرافر نے غارت گری اور مسماری کی لاتعداد تصاویر کھینچی تھیں۔

31

شکل 11.9

فیلس بی ریتو کے ذریعہ لیا گیا فوٹو گراف 1858

یہاں ہمیں ایک زمانے میں نواب واجد علی شاہ کے ذریعہ تعمیر کیے گئے عشرت باغ کے مسمار کھنڈرات میں چار یک و تنہا انسانی شبیہہ نظر آ رہی ہیں۔

1857 میں اس مقام کے قابض 2000 سے زیادہ باغی سپاہیوں کو کیمپ بیل کی قیادت میں برطانوی فوجوں نے مار ڈالا ۔ زمین پربکھرے پڑے انسانی پنجر بغاوت کے بے نتیجہ ہونے کی سرد وارننگ دے رہے ہیں۔

5. بغاوت کی تصاویر

(IMAGES OF THE REVOLT)

ہم اس بغاوت کے بارے میں باغیوں کی سرگرمیوں سے متعلق اور اس کے انسداد کے اقدامات کے متعلق جن پر بحث کر رہے ہیں کیسے جان سکتے ہیں؟
باغیوں کے نقطہ نظرکے تعلق سے ہمارے پاس بہت کم دستاویزات ہیں البتہ باغیوں کے چند اعلانات اور اشتہارات ہیں اور اس کے ساتھ ہی باغی لیڈران کے چند خطوط موجود ہیں، لیکن اب تک مورخین انگریزوں کے ذریعہ لکھی گئی روداد کی روشنی میں باغیوں کی کاروائیوں پر بنیادی طور پر مسلسل بحث کرتے آرہے ہیں۔ 
بے شک سرکاری دستاویزات کثرت سے موجود ہیں جیسے نو آبادیاتی انتظام کاروں اور فوجی افراد نے اپنے خطوط ، ڈائریوں ، خودنوشت سوانح عمریوں اور سرکاری تاریخوں میں اپنے بیانات چھوڑے ہیں۔ غیر رسمی خطوط، رقعات (نوٹس) ، حالت کی تشخیص او ر پیش کی گئی رپورٹوں کے ذریعہ سرکاری میلان خاطر اور انگریزوں کے بدلتے رویے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے ریکارڈوں کو " فوجی بغاوت کے ریکارڈ " پر مبنی کئی جلدوں میں یکجا کیا جا چکا ہے۔ یہ دستاویزات ہمیں افسران کے خوف و اضطراب نیز باغیوں کے تئیں ان کے تصور کے متعلق بتانی ہیں۔ برطانوی اخبارات اور رسائل میں بغاوت کی جو کہانیاں شائع ہوئی ہیں ان فوجی باغیوں کے تشدد کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں یہ کہانیاں عوام کے جذبات کو برانگیختہ کرتی تھیں نیز انتقام اور جوابی کاروائی کے لیے اکساتی تھیں۔ 
انگریزوزں اور ہندوستانیوں کے ذریعہ تیار کردہ پینٹنگ، پنسل سے بنی ڈرائنگ، تیزابی نقش نگاری، پوسٹر ، کارٹون اور بازار پرنٹس وغیرہ اس فوجی بغاوت کے اہم ریکارڈ ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ پر غور کریں اور دیکھیں کہ وہ ہمیں کیا بتاتی ہیں۔ 

5.1 نجات دہندوں کی ستائش (Celebratiing the saviours)

برطانوی تصاویر شبیہوں کا ایک تنوع پیش کرتی ہیں جس کا مقصد مختلف طرح کے جذبات اور رد عمل کر برانگیختہ کرنا تھا۔ اس میں سے بعض میں انگریزوں کو بچانے اور باغیوں کو کچلنے والی انگریز ہیروکی یادیں تازہ کی گئی ہیں۔ 1859 میں تھامس جونس بار کر کے ذریعہ بنائی گئی پینٹنگ ، " ریلیف آف لکھنؤ" (لکھنؤ کی امداد) ، اس قسم کی ایک مثال ہے ۔ جب باغی فوجوں نے لکھنؤ کا محاصرہ کر لیا تھا تو لکھنؤ کے کمشنر ہنری لارنس نے عیسائی آبادی کو مجتمع کیا اور انتہائی قلعہ بند ریزیڈنسی میں پناہ لی تھی ۔ لارنس مارا گیا لیکن کرنل انگلس کی کمان ک تحت ریزیڈنسی محفوظ رہی۔ 25 ستمبر کو جیمس اوٹرام اور ہنری ہیولوک وہاں پہنچے، انھوں نے باغی فوجوں کا قلع قمع کر دیا اور برطانوی محافظ فوج کو کمک پہنچائی۔ 20 دن کولن کیمپ بیل جو ہندوستان میں برطانوی افواج کا نیا کامڈر مقرر کیا گیا تھا ، اپنی افواج کے ساتھ یہاں پہنچا اور برطانوی محافظ افواج کو محاصرہ سے آزاد کرایا۔ برطانوی بیانات میں لکھنؤ کا محاصرہ بقائے زندگی، بہادرانہ مزاحمت اور برطانوی حکومت کی قطعی فتح مندی کی کہانی بن گیا۔
32

شکل 11.10

تھومس جونس بارکر کے ذریعہ بنائی گئی "ریلیف آف لکھنؤ" نامی تصویر ، 1859

بارکر کی پینٹنگ کیمپ بیل کے داخلہ کے لمحات کے جشن کو دکھاتی ہے۔ کینوس کے وسط میں برطانوی ہیرو کیمپ بیل ، اوٹرام اور ہیولاک کی شبیہیں ہیں، ان ک ارد گرد کھڑے لوگوں کے ہاتھوں کے اشارے کو دیکھنے پرتماشائی کی نگاہ تصویر کے مرکز کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ یہ ہیرو میدان میں کھڑے ہیں جہاں کافی اجالا ہے، آگے کی طرف پرچھائیں ہے اور پس منظر میں تباہ شدہ ریزیڈنسی دکھائی دیتی ہے۔ تصویر کے اگلے حصے میں پڑے مردہ زخمی لوگ، محاصرے کے دوران کی مصیبت کا ثبوط ہیں جبکہ میدان کے وسط میں گھوڑوں کی فتح یاب شبیہیں اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ برطانوی اقتدار اور کنٹرول دوبارہ قائم ہو چکا ہے۔ اس نوعیت کی تصاویر سے انگریز عوام میں تسکین آمیزی پیدا ہوتی تھی نیز ان میں یہ شعور پیدا ہوتا تھا کہ پریشانی کا وقت قصہ پارینہ بن چکا ہے اور بغاوت ختم ہو چکی نیز انگریز فاتح بن چکے ہیں۔ 

5.2    انگریز خواتین اور برطانیہ کا وقار

(English women and the honour of Britain)

اخباروں کی رپورٹیں عوام کے تخیل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ واقعات کے تئیں لوگوں کے جذبات اور رویے کو ایک شکل دیتے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی کہانیوں سے مشتعل ہو کر بطورِ خاص برطانیہ میں انتقام لینے کے لیے عوامی مطالبہ ہونے لگا۔ انگریز حکومت سے معصوم خواتین کے وقارکی حفاظت اور بے یارومدد گار بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ صدمے اور مصیبت کی ان کی بصری نمائندگی کے ذریعہ آرٹسٹوں نے ان جذبات کا ظاہر کیا مزید برآں ایک شکل بھی دی۔ 
فوجی بغاوت کے دو سال بعد جوزف نوئل پیٹون نے " ان میموریم " (یادیں) نامی تصویر (تصویر 11.11) بنائی جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ انگریز عورتیں اور بچے گھبرائے ہوئے ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں، بے یارو مددگار اور معصوم، بظاہر ناگزیر حالت میں، بے عزتی ، تشدداور موت کا انتظا ر کرتے ہوئے۔ "ان میموریم" میں خون آلود تشدد نظر نہیں آتا، اس کی طرف یہ تصویر صرف خیال دلاتی ہے، یہ تماش بین کے تخیل کو جوش میں لاتی ہے اور جنون کو اکسانے کے درپے نظر آتی ہے۔ یہ باغیوں کی نمائندگی ایک متشدد اور وحشی کے طور پر کرتی ہے اگر چہ وہ تصویر میں نظر نہیں آتے۔ پس منظر میں برطانوی مدد گار فوج کو محافظ کے بطور آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 
33

شکل 11.11

جوزف نوئل پیٹون کے ذریعہ 1859 میں بنائی گئی تصویر  " ان میموریم"

34

شکل 11.12

کانپور میں مس وہیلر سپاہیوں سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے۔ 

دیگر خاکوں اور تصاویر کے مجموعے میں ہم کو عورتیں مختلف انداز میں نظر آتی ہیں۔ وہ بہادرانہ انداز میں باغیوں کے حملے سے خود کو بچاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ تصویر11.12کے مرکز میں مس وہیلر ثابت قدمی کے ساتھ کھڑی ہیں اور اپنی عزت کی حفاظت کے لیے اکیلے ہی باغیوں پر جان لیوا حملہ کر رہی ہیں۔ اس طرح کی نمائندگی کرنے والی تمام تصاویر کی طرح یہاں بھی باغیوں کو جن اور بھوتوں کی طرح دکھایا گیا ہے۔ یہاں چار ہٹے کٹے آدمیوں کے ہاتھوں میں تلوار اور بندوق لیے ایک عورت پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہاں اپنی عزت اور زندگی کی بقا کے لیے ایک عورت کی جدوجہد کے ذریعہ فی الحقیقت ایک گہری مذہبی تعبیر کی نمائندگی کی گئی ہے۔ یہ عیسائیت کے وقار کی بقا کی جنگ ہے، تصویر میں فرش پر پڑی ہوئی کتاب بائبل ہے۔ 
35

شکل 11.13

جسٹس، پنچ، 12 ستمبر 1857 تصویر کے نیچے پیندہ پر یہ پڑھا جا سکتا ہے " کان پور میں ہونے والے وحشت ناک قتل عام کی خبر نے پورے انگلینڈ میں بدلہ لینے کے لیے سرکش خواہش اور آتشی غصہ کا طوفان پیدا کر دیا ہے۔"

5.3    انتقام اور بدلہ (Vengeance and retribution )

جوں جوں برطانیہ میں غصہ اور صدمے کی لہریں پھیلیں ویسے ہی بدلہ لینے کے لیے مطالبہ بلند ہوتا گیا۔ بغاوت کے متعلق بصری تصاویر اور خبروں نے ایک ایسا ما حول پیدا کر دیا جس میں انسداد اور انتقام دونوں کو واجب کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ یہ ایسا تھا گویا انصاف کے مطالبہ کے لیے برطانوی وقار اور اقتدار کو ملنے والے چیلنج کو بے رحمی سے کچلنا ضروری ہو ۔ بغاوت سے خوفزدہ انگریزو ں کو محسوس ہوا کہ انھیں اپنی ناقابلِ تسخیر شبیہہ کرنا چاہیے ۔ ایسی ہی ایک شبیہہ (تصویر11.13) میں ہمیں ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں ڈھال لیے انصاف کی ایک مثالی تصویر نظر آتی ہے۔ اس کا اندازہ حملہ آورانہ، ااس کے چہرے سےغصہ اور بدلے کے لیے خواہش ظاہر ہوتی ہے۔ وہ سپاہیوں کو اپنے پیروں سے روند رہی ہے جب کہ ہندوستانی اور بچوں کی بھیڑ خوف سے جھکی جا رہی ہے۔ 
36

شکل 11.14

تصویر کے نیچے پیندہ پر یہ پڑھا جا سکتا ہے " بنگال ٹائگر سے برطانوی شیر کا انتقام " پنچ 1857 تصویر سے کیا خیال سامنے آتا ہے؟

شیر اور چیتے کی تصویر کے ذریعہ کیا ظاہر کیا گیا ہے ؟ عورت اور بچے کی تصویر کیا بیان کرتی ہے؟

5.4   دہشت کا مظاہرہ (The performance of terror)

انتقام اور بدلے کا اصرار اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ باغیوں کو کتنے ظالمانہ طریقے سے پھانسیاں دی گئیں۔ انھیں توپوں سے اڑا دیا گیا یا پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا ہے۔ ان کی پھانسی کی سزاؤں کی تصاویر وسیع پیمانے پر مقبول عام رسائل میں شائع کی گئیں۔ 
37

شکل 11.15

" پشاور میں فوجی باغیوں کی ہلاکت ، توپ اڑاتے ہوئے۔ " السٹریٹڈ لندن نیوز ، 3  اکتوبر 1857
گردن ماری کے اس منظر میں ڈرامے کا اسٹیج دکھائی دیتا ہے جہاں ڈرامہ انجام دیا گیا۔ ظالمانہ اقتدار کا ایک ڈرامائی منظر ، پورے منظر میں باوردی گھوڑسوار فوجی اور سپاہی غالب ہیں۔ انھیں اپنے ساتھ سپاہیوں کی گردن ماری دیکھنی ہے اور بغاوت کے آزردہ نتائج کا تجربہ کرنا ہے۔ برطانوی پریس میں لاتعداد دیگر تصاویر اور کارٹون بھی تھے جو ظالمانہ انسداد اور پر تشدد انتقامی کاروائی کی تصدیق کرتے ہیں۔
38

شکل 11.16

پشاور میں باغی سپاہیوں کی ہلاکت،  السٹریٹڈ لندن نیوز ، 3  اکتوبر 1857
ہلاکت کے اس منظر میں 12 باغی ایک قطار میں لٹکے ہوئے ہیں اور چاروں جانت توپیں تعینات ہیں۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ معمول کی سزا نہیں ہے، یہ دہشت کا مظاہرہ ہے۔ اس کے ذریعہ لوگوں کے اندر خوف پیدا کرنا ہے کہ سزا کسی احاطہ بند جگہ پر احتیاط سے نہیں دی جا سکتی تھی اس کو ڈرامائی انداز میں کھلی جگہ پر پیش کرنا ضروری تھا۔

5.5   رحم کے لیے وقت نہیں

( No time for clemency)

جب انتقام کے لیے شورو غوغا ہو رہا تھا اس وقت اعتدال پسندی کے لیے لوگ مضحکہ خیز بن کر رہ جاتے تھے۔ جب گورنر جنرل کننگ نے اعلان کیا کہ نرمی اور رحم دلی کے مظاہرے سے سپاہیوںکی وفاداری دوبارہ جیتنے میں مدد ملے گھی۔ اس بات کے لیے برطانوی پریس میں اس کا مذاق اڑایا گیا۔ 
ایک طنز و مزاح کے برطانوی رسالے پنچ(Punch) کے صفحات میں شائع ایک کارٹون میں کننگ کو ایک لچکدار (نیک) باپ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کا محافظ ہاتھ ایک سپاہی کے سر پر ہے جو ابھی تک ایک  ہاتھ میں بے نیام تلوار اور دوسرے ہاتھ میں خنجر لیے ہوئے ہے۔ دونوں سے خون ٹپک رہا ہے (تصویر11.17)۔ یہ ایسے تصورات تھے جو اس وقت کی متعدد تصاویر میں بار بار آتے ہیں۔
39

شکل 11.17

" کننگ کی نرم دلی " ، پنچ ، 24 اکتوبر 1857
کارٹون کے نیچے پیندہ میں آپ پڑھ سکتے ہیں " گورنر جنرل :خوب ، پھر اسے غلیظ بندوقوں سے نہیں اڑائیں گے لیکن وہ ایک اچھا کم سن سپاہی بننے کا یقینی وعدہ کرے۔ "

5.6   قوم پرست خیالی تصویر(Nationalist imageries)

بیسویں صدی میں قومی تحریک نے 1857 کے واقعات سے تحریک اخذ کی ۔ قومی تصورات کی ایک پوری دنیا بغاوت کے ارد گرد بن دی گئی۔ اس کو پہلی جنگِ آزادی کے طور پر جشن منایا گیا۔ جس میں ہندوستان کے ہر طبقے کو لوگوں نے مل کر سامراجی حکومت کے خلاف لڑائی لڑی۔
تاریخی تحریروں کی طرح ہی آرٹ اور ادب نے بھی 1857 کی یادکو زندہ رکھنے میں مدد کی۔ بغاوت کی لیڈران کو ہستیوں کی شکل میں پیش کیا جاتا تھا جو ملک کو میدان جنگ کی طرف لے جا رہے تھے۔ لوگوں کو ظالمانہ سامراجی حکومت کے خلاف راست باز بر ہمی کو بیدار کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ ایک ہاتھ میں تلوار لیے اور دوسرے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام پکڑے اپنے مادرِ وطن کی آزا دی کے لیے لڑائی لڑنے والی رانی کی بہادری کے متعلق اوالعزمانہ نظمیں لکھی گئیں۔ جھانسی کی رانی کو ایک ایسی طاقتور مردانہ شخصیت کے طور پر جو دشمنوں کا تعاقب کرتے ہوئے، برطانوی فوجیوں کو قتل کرنے ہوئے اور مردانہ وار آخری دم تک لڑتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں بچے سبھدار کماری چوہان کا مصرعہ " خوب لڑی مردانی وہ تو جھانسی والی رانی تھی" ۔ پڑھتے ہوئے بڑے ہو رہے تھے۔ مقبول عام تصویروں میں رانی لکھشمی بائی کی عموماً جنگی لباس (زرہ پوش)، ہاتھ میں تلوار لیے، گھوڑے پر سوار تصویر کشی کی جاتی ہے- یہ نا انصافی اور غیر ملکی حکومت کے خلاف مزاحمت کے مصمم ارادہ کی علامت ہے۔ 
40

شکل 11.18

فلموں اور پوسڑوں نے رانی لکشمی بائی کی ایک طاقت و مردانہ سورما کی شنیہہ بنانے میں مد د کی

ان تصاوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بنانے والے جو مصور تھے وہ ان واقعات کو کیا سمجھتے تھے؟ وہ کیا محسوس کرتے تھے اور ان کے مد نظر کیا ذہن نشین کرا نا تھا ۔ تصاویر اور کارٹون کے ذریعہ ہم عوام کے متعلق خیال کر سکتے ہیں جو ان تصاویر کو دیکھتے تھے اور تعریف و تنقید کرتے تھے اور ان کی نقول کو خرید کر اور از سرِ نو تیار کروا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔

یہ تصاویر جس دور میں تیار کی گئیں۔ اس وقت کے جذبات و احساسات کی ہی ترجمانی نہیں کر رہی تھیں بلکہ انہوں نے جذباتی معیار کو بھی ایک شکل دی۔ برطانیہ میں شائع تصاویر کے ذریعہ بہم رسا عوام باغیوں کے انسداد کی انتہائی ظالمانہ سزا کی مانگ کر رہی تھی۔ دوسری طرف بغاوت کو قوم پرست خیالی تصورات قوم پرست تخیل کی نئی شکل دینے میں مدد کر رہے تھے۔ 

بحث کیجیے ......

اس سیکشن میں دی گئیں تصاویر کے ہر جز کی جانچ کیجیے اور بحث کیجیے کہ فنکار کے تناظر کی شناخت کرنے میں آپ کس طرح کی اجازت دیتے ہیں۔

ٹائم لائن

1801 اودھ میں ویلز لی کے ذریعہ امدادی معاہدہ متعارف ہوا

1856 نواب واجد علی شاہ کو معزول کیا گیا؛اودھ کا الحاق

1856-57 انگریزوں کے ذریعہ اودھ میں جامع مال گزاری بندوبست کا آغاز

1857

10 مئی میرٹھ میں فوجی بغاوت کا آغاز

11-12مئی دہلی شہر کی محافظ فوج کی بغاوت : بہادر شاہ ظفرؔ کا برائے نام قیادت قبول کرنا

20-27 مئی علی گڑھ ، اٹاوہ،مین پوری، ایٹہ میں سپاہیوں کی بغاوت 

30 مئی لکھنؤ میں شورش 

مئی -جون فوجی بغاوت کا عوام کی عام بغاوت میں تبدیل ہونا

30 جون چنہاٹ کی جنگ میں انگریزوں کی شکست

25 ستمبر ہیولاک اور اولٹرام کی قیادت میں برطانوی افواج کا لکھنؤ ریزیڈنسی میں داخلہ

جولائی جنگ مین شاہ مل کی موت

1858

جون جنگ میں رانی جھانسی کی موت

100 سے 150 لفظوں میں جواب دیجیے۔

بہت سے مقامت پر باغی سپاہیوں نے پرانے حکمرانوں سے بغاوت کی قیادت مہیا کرانے کے لیے کیوں اصرار کیا ؟
ان شواہد کے بارے میں بحث کیجیے جو باغیوں کی طرف سے منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بحث کیجیے کہ کس حد تک مذہبی عقائد نے 1857کے واقعات کو ایک شکل دی تھی؟
باغیوں کے درمیان اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی گئیں؟
انگریزوں نے بغاوت و سرکشی کو کچلنے کے لیے کیا اقدام کیے؟
41

شکل 11.19

باغیوںکے چہرے

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون (تقریباً 250سے 300 پر مشتمل )لکھیے:

خاص طور پر اودھ میں بغاوت دور دور تک کیوں پھیلی تھی؟ کسان ، تعلقہ دار اور زمین دار بغاوت میں شامل ہونے کے لیے کیوں آمادہ تھے؟
باغی کیا چاہتے تھے؟ مختلف سماجی گروہوں کی بصارت میں کس حد تک فرق تھا؟
1857 کے متعلق بصری نمائندگی (تصویریں) ہمیں کیا بتاتی ہیں؟ مورخین ان تصاویر کا تجزیہ کس طرح کرتے ہیں؟
اس باب میں پیش گوئی سے بھی دو ماخذ ، ایک تصویر اور ایک اصل کتابی متن کی جانچ کیجیے اور بحث کیجیے کہ یہ باتح اور مفتوح کے نقطہ نظر کی کس طرح ترجمانی کرتے ہیں؟

نقشہ کا کام 

10۔ ہندوستان کے نقشے پر کلکتہ (کولکاتہ) بمبئی(ممبئی)اور مدراس(چنئی)کو نشان زد کیجیے جو 1857 میں برطانوی اقتدار کے تین اہم مرکز گھے۔ نقشہ نمبر 1 اور 2 کی طرف رجوع کیجیے اور ان علاقوں کو نشان زد کیجیے جہاں بغاوت سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر تھی۔ یہ علاقے نوآبادیاتی شہروں سے کتنے قریب اور کتنے دور تھے؟

پروجیکٹ (کوئی ایک)

11۔ 1857 کی بغاوت کے لیڈروں میں سے کسی ایک کی سوانح عمری پڑھیے۔ سوانح نگار کے ذریعہ استعمال کیے گئے ماخذ کا جائزہ لیجیے ۔ کیا ان میں سرکاری رپورٹوں ، اخباری بیانات ، علاقائی زبان کی کہانیوں ، بصری مواد کا کسی اور چیز کو شامل کیا گیا ہے۔ کیا سبھی ماخذ ایک جیسی بات کہتے ہیں یا ان میں اختلافات پائے جاتے ہیں؟ اپنے نتیجہ تحقیات پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔
12۔ 1857 پر بنی کوئی ایک فلم دیکھیے اور بغاوت کو پیش کرنے کے طریقے کے متعلق لکھیے۔ اس میں انگریزوں ، باغیوں اور ان لوگوں کو جا انگریزوں کے وفادار بنے رہے کی کس طرح تصویر کشی کی گئی ہے ۔ یہ فلم کسانوں ، شہری باشندوں ، قبائلیوں ، زمین داروں اور تعلقہ داروں کے متعلق کیا کہتی ہے؟ فلم کس قسم کے ردِ عمل کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:

گوتم بدھا، 1987،فور ری بیل آب ایٹین ففتی سیون، سب آلٹرن سٹڈیز IV آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، دہلی

رودرانگشو مکھرجی، 1984 اودھ ان ریوولٹ 1857-58آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، دہلی
تاپتی رائے، 2006 راج آف دی رانی، پینگو ئن ، نئی دہلی
 ایرک اسٹوکس، 1980 پیزینٹس اینڈ دی راج ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، دہلی

آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر رابطہ قائم کر سکتے ہیں:

http://books.google.com
(انگریزوں کے ذریعہ تیار 1857 کی روداد کے لیے)
www.copsey-family.org/allenc/lakhsmibai/links.html
(رانی لکشمی بائی کے خطوط کے لیے)