موضوع بغاوتیں اور راج
گیارہ 1857 کی بغاوت اور اس کی نمائندگی

شکل 11.1
بہادر شاہ ظفرؔ کی تصویر
اسلحہ خانہ(BELL OF ARMS) ایک ذخیرہ گھر ہوتا ہے جہاں ہتھیاروں کو رکھا جاتا ہے۔
1. بغاوت کا نمونہ( PATTERN OF THE REBELLION)
فرنگی اصل میں فارسی زمان کی اصطلاح ہے جو ممکن ہے فرینک (جس سے فرانس کا نام پڑا ہے) سے اخذ کی گئی ہو۔ اکثر اردو اور ہندی میں غیر ملکی (مغربی) لوگوں کے لیے اس کا استعمال توہین آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔

شکل 11.2
لکھنؤ میں عام لوگ سپاھیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں پر حملہ کرتے ہوئے۔
ماخذ 1
غیر معمولی زمانے میں عام زندگی (ORDINARY LIFE IN EXTRAORDINARY TIMES)
بغاوت کے مہینوں کے دوران شہروں میں کیا ہوا؛ ہنگامے کے ان مہینوں میں لوگ کیسے زندگی جی رہے تھے؟ معمعلاتِ زندگی کس طرح متاثر ہوئے؟مختلف شہروں کی رپورٹیں روز مرہ کی سرگرمیوں کے ختم ہونے کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہیں؟ 14 جون 1857 کے " دہلی اردو اخبار "سے ان رپورٹوں کو پڑھیے:
یہ بات سبزیوں اور ساگ (پالک) کے معاملے میں بھی صادق آتی ہے۔ لوگ اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ کدّو اور بینگن تک بھی بازار میں نہیں پائے جاتے ۔ آلو اور اروی جب کبھی ملتی بھی ہیں تو باسی اور سڑی گلی قسم کی جیسے دور اندیش کنجڑوں(سبزی فروش) نے پہلے سے ذخیرہ کر رکھا تھا۔ شہر کے اند واقع باغیچوں سے بعض پیداوار شہر کے کچھ علاقوں تک پہنچ جاتی ہے لیکن غریب اور متوط طبقے کے افراد انھیں دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر لیتے ہیں۔(چونکہ یہ چنندہ افراد کے لیے ہی ہیں)
....یہاں چند دیگر باتوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو لوگوں کے لیے کافی نقصان کا سبب بنی ہوئی ہیں وہ یہ کہ بھشتیوں(پانی بھرنے والے) نے پانی بھرنا بند کر دیا ۔ غریب شرفا خود اپنے کاندھوں پر گگرے میں پانی بھر کر لاتے تب کہیں جاکر صرف اہل خانہ کے ضروری کام جیسے کھانا بنانا وغیرہ ممکن ہو سکتے۔ حلال خور، حرام خور ہو گئےہیں۔ بہت سے محلوں میں لوگ کئی دنوں کے لیے کمانے کے اہل نہیں ہیں اور اگر یہ حالت مسلسل بنی رہی تو پھر صحت کی خرابی، موت اور بیماریاں کل کر شہر کی آب و ہوا خراب کردیں گی اور پورے شہر میں ایک وبا پھیل جائے گی یہاں تک کہ قرب و جوار کے علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
ان دونو رپورٹوں اور اس زمانے میں دہلی کے متعلق اس باب میں دیے گئے بیانات کو پڑھیے۔ یاد رکھیے کہ اخبارات کی خبریں اکثر اخباری نامہ نگاروں کے میلان خاطر کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس تناظر میں دہلی اردو اخبار ، لوگوں کے رچ عمل کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
1.2 خبر رسانی کے طریقہ کار (Lines of communication)
ماخذ 2
سسٹن اور تحصیل دار(Sisten and the tahsildar)
بغاوت اور غدر برپا کرنے کے متعلق پیغامات کی اطلاع بہم رسانی کے تناظر میں سیتا پور میں تعینات ایک دیسی عیسائی پولس انسپکٹر سسٹن بتاتا ہے کہ وہ تسلیمات ادا کرنے سہارن پور مجسٹریٹ کے پاس گیا ہوا تھا۔ سسٹن ہندوستانی لباس پہنے ہوئے تھا اور آلتی پالتی مار کار بیٹھا تھا، اسی وقت بجنور سے ایک تحصیل دار کمرے میں داخل ہوا۔ اسے علم ہو کہ سسٹن اودھ سے آیا ہے۔ اس نے پوچھا "اگر ہمیں اودھ میں کام کرنا پڑتا ہے تو جناب عالی کو بھی علم ہو جائے گا۔" تحصیل دار نے کہا " اس پر بھروسہ رکھیے ، اس بار ہم کامیاب ہوں گے، معاملات کی رہنمائی قابل ہاتھوں میں ہے۔ " بعد میں تحصیل دار کی شناخت بجنور کے باغیوں کے اہم ترین لیڈر کے طور پر ہوئی تھی۔
باغی اپنے منصوبوں کی اطلاعات کن طریقوں سے پہنچاتے تھے اور کس طرح تبادلہ خیال کرتے تھے ، اس کے متعلق اس بات چیت سے کیا خیال ظاہر ہوتا ہے؟ تحصیل دار نے سسٹن کو ایک احتمالی باغی کیوں سمجھا تھا؟
بغاوتوں کا نمونہ اور شہادتوں کا سلسلہ جوڑنے سے خیال ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں کسی حد تک منصوبہ بندی اور تال میل موجود تھا، جس سے انتہائی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ منصوبے کس طرح بنائے گئے ہیں؟ منصوبہ ساز کون تھے؟ دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر اس طرح کے سوالات کے راست جوابات دینا مشکل امر ہے، لیکن ایک واقعہ اس بارے میں ایک سراغ دیتا ہے کہ بغاوتیں کس طرح منظّم ہوئی ہوں گی۔ بغاوت کے داران اودھ ملٹری پولس کے کیپٹن ہیئرسی کا تحفظ اس کے ہندوستانی ماتحتوں کے ذریعہ دیا گیا تھا۔ جہاں کیپٹن ہیئر سی تعینات تھا وہیں 41 ویں نیٹیوانفینٹری تعینات تھی۔ انفینٹری کا اصرار تھا چونکہ وہ اپنے تمام سفید افسروں کو ختم کر چکے ہیں اس لیے ملٹری پولس کو ہیئرسی کو بھی مارنا ہوگا اسے گرفتار کرکے 41 ویں نیٹیو انفینٹری کے سپرد کرنا ہوگا۔ ملٹری پولس نے دونوں طرح کے اصرار ماننے سے انکار کر دیا اور یہ طے کیا گیا کے معاملہ کا تصفیہ کرنے کے لیے ہر رجمنٹ کے دیسی افسروں کی ایک پنچایت بلائی جائے۔ بغاوت کے ابتدائی مورخین میں سے ایک چارلس بال لکھتا ہے کہ یہ پنچایت رات کو کان پور سپائی لائنس میں بلائی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ فیصلے اجتماعی طور پر لیے جا رہے تھے۔ اور اس امر واقعہ کا علم بھی ہوتا ہے کہ سپاہی ان لائنس میں رہتے ہوئے اور ایک مشتر کہ زندگی میں شریک کار تھے۔اور اس میں سے بیشتر ایک ہی ذات سے آئے تھے اس لیے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ یکجا ہوکر اپنی قسمت کے فیصلے لے رہے ہوں گے۔ یہ سپاہی اپنی بغاوت کے خالق خود ہی تھے۔
غدر/بغاوت(Mutiny) کے معنی مسلح افواج کے اندر قوانین اور ضوابط کی اجتماعی نافرمانی ہیں بغاوت (Revolt) کے معنی مستقل بنیاد پر قائم اقتدار و طاقت کے خلاف لوگوں کی بغاوت ہے۔ اصطلاح (Revolt)(بغاوت) اور (Rebellion) (بغاوت) کا استعمالہ ہم معنی کے طور پر بھی کر سکتے ہیں۔
1857 کی بغاوت کے تناظر میں اصطلاح بغاوت (Revolt) کا حوالہ ابتدائی طور پر غیر فوجی آبادی کی شورش و بغاوت (کسانوں ، زمین داروں ،راجاؤں، جوت داروں) کے لیے دیا جاتا ہے۔ اگر چہ بغاوت (Mutiny) سپاہیوں کی بغاوت تھی۔
1.3 قائد اور پیروکار (Leaders and followers)

شکل 11.3
رانی لکھشمی بائی کی ایک مقبول عام شبیھہ

شکل 11.4
نانا صاحب
1857 کے آخر میںجب بغاوت فرو ہو گئی تو نانا صاحب بھاگ کر نیپال چلے گئے۔ جسے افسانوی انداز میں ان کی ہمت اور بہادری کا حصہ بتایا جاتا ہے۔
1857 کے دو باغی
شاہ مل
شاہ مل اتر پردیش کے پرگنہ بڑوت کے ایک بڑے گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ان کا تعلق ایک جاٹ کسان خانوادے سے تھا جس کی پرابت داری چوراسی دیس (چوراسی گاؤں) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے کی زمین آب پاشی سے بھر پور اور زرخیز تھی۔ یہ زمین زرخیز اور سیاہ چکنی مٹی والی تھی۔ بہت سے گاؤں والے خوش حال تھے اور برطانوی زمین مال گزاری نظام کو ظالمانہ مانتے تھے کیونکہ لگان کا مطالبہ زیادہ اور اس کی وصولیابی بے لوچ یعنی سخت تھی۔ اس وجہ سے کسان اپنی زمین باہری لوگوں یعنی تاجروں اور مہاجنوں کے ہاتھوں میں دیتے جا رہے تھے جو اس علاقے میں آ رہے تھے۔
شاہ مل نے چوراسی دیس کے گاؤں کے مکھیا اور کسانوں کو جمع کرنا شروع کیا ، انھوں نے راتوں میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں سفر کیا اور لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے اصرار کیا۔ بہت سے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت، ظلم اور ناانصافی کی تمام علامات کے خلاف ایک عام بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔ کسان اپنے کھیت چھوڑ کر نکل پڑے اور مہاجنوں نیز تاجروں کے مکانات کو تاخت و تاراج کر دیا۔ بے دخل زمین مالکوں نے ان زمینوں پر قبضہ کر لیا جن کو وہ کھو چکے تھے۔ شاہ مل کے آدمیوں نے سرکاری عمارتوں پر حملہ کر دیا۔ ندی پر بنے پل کو تباہ کر دیا اور پختہ سڑکوں کو کھود دیا کیونکہ جزوی طور پر سرکاری افواج کو اپنے علاقے میں آنے سے روکنا تھا۔ وہ نیز پلوں اور سڑکوں کو کچھ حد تک برطانوی حکومت کے مظہر کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ انہوں نے دہلی میں بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو رسید بھیجی اور برطانوی ہیڈ کواٹر نیز میرٹھ کے درمیان تمام خبر رسانی کا سلسلہ روک دیا۔ مقامی طور پر راجہ تسلیم کیے جانے والے شاہ مل نے ایک انگریز افسر کے بنگلے پر قبضہ کر لیا اور اس کو " انصاف کے ایوان "میں تبدیل کر دیا جہاں وہ جھگڑوں کا تصفیہ اور فیصلے دینے لگے۔ انھوں نے جاسوسی کا ایک حیرت انگیز ینٹ ورک قائم کیا تھا۔ایک عرصے کے لیے اس علاقے کے لوگوں کو محسوس ہوا کہ " فرنگی راج " ختم ہو چکا اور ان کا اپنا " راج" آگیا۔
شاہ مل جولائی 1857 میں ایک جنگ میں مارے گئے۔
مولوی احمد اللہ شاہ
مولوی احمدللہ شاہ ان علماء میں سے ایک تھے جنھوں نے 1857 کی بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں تعلیم حاصل کی تھی اور چھوٹی عمر میں ایک خطیب و مبلغ بن گئے تھے۔ 1856 میں انگریزوں کے خلاف لوگوں سے جہاد اور بغاوت کا اصرار کرنے کے لیے انھیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں متحرک دیکھا گیا ۔ وہ پالکی میں بیٹھ کر ، آگے ڈھول بجانے والوں اور پیچھے اپنے متبعین کے ساتھ چلا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام طور پر وہ "ڈنکا شاہ" کے نام سے پکارے جانے لگے۔ برطانوی افسر ان اس وجہ سے پریشان تھے کہ ہزاروں لوگ مولوی کے متبعین بننا شروع ہو گئے تھےاور بہت سے مسلمانوں نے انھیں الہامی پیغمبر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ 1856 میں جب وہ لکھنؤ پہونچے تو پولس نے انہیں شہر میں خطبہ دینے سے روک دیا ۔ بعد ازاں 1857 میں انھیں جیل میں بند کر دیا گیا۔ جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو 22ویں نیٹیو انفینٹری نے انھیں اپنا لیڈر منتخب کر لیا ۔ انھوں نے چنہٹ کی مشہور جنگ لڑی جس میں ہنری لارنس کی قیادت والی برطانوی فوجوں کو شکست ہوئی تھی۔ مولوی صاحب کو ان کی جرات اور طاقت کے لیےجانا جاتا تھا۔ فی الحقیقت بہت سے افراد مانتے تھے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں اور ان کے پاس جادوئی طاقت ہے نیز انگریز ان کو مار نہیں سکتے۔ یہ اس یقین کی وجہ سے تھا جو انھوں نے لوگون پر جزوی طور پر اپنی عظمت و اقتدار کی بنیاد پر قائم کر لیا تھا۔
1.4 افواہیں اور پیش گوئیاں (Rumours and prophecies)

شکل 11.5
ہنری ہارڈنگ کی فرانسس گرانٹ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر، 1849
گورنر جنرل کے طور پر ہارڈنگ نے جوج کے آلات کی جدید کا ری کی کوشش کی تھی۔ اس نے جن این فیلڈ رائفل کو فوج میں متعارف کرایا تھااس میں شروع میں چربی چڑھے کارتوسوں کا استعمال ہوتا تھاجس کے خلاف سپاہیوں نے بغاوت کی تھی۔
1.5 لوگ افواہوں پر کیوں یقین کر رہے تھے؟
(?Why did people believe in the rumours)
بحث کیجیے...
اس حصہ کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے اور ان طریقوں پر توجہ دیجیے جن سے بغاوت کے دوران لیڈر ابھرےتھے اور ان اختلافات و یکسانیت کی وضاحت کیجیے جن پر آپ کی توجہ مبذول ہوئی ۔ کن ہی دو لیڈروں کے متعلق بحث کیجیے کہ عام لوگ ان کی طرف کس وجہ سے متوجہ ہوئے۔
2. اودھ میں بغاوت (AWADH IN REVOLT )
ریزیڈنٹ ، گورنر جنرل کے ذریعہ مقرر کیا ہوا نمائندہ ہوتا تھا۔ وہ ایسی ریاست میں رہتا تھا جو راست طور پر برطانوی حکومت کے تحت نہیں آتی تھی۔
2.2 " جسم سےجان نکل چکی تھی "۔
(The life was gone out of the body)
امدادی معاہدہ( Subsidiary Alliance)
(a) انگریز اپنے اتحادی کی طاقت و قوت کی بیرونی و خارجی دھمکیوں سے حفاظت کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔

نقشہ 1
1857 میں انگریزوں کے کنٹرول میں ہندوستان کی قلم رو
نواب صاحب رخصت ہو چکے(The Nawab has left)
ایک دوسرے گیت میں حکمراں کی تباہ حالی پر آہ و بکا کی گئی ہے جسے اپنے مادرِ وطن کو چھوڑنا پڑا:
شرفا اور کسان سب مل کر رورہے تھے اور تمام عالم آنسو بہا رہا تھا اور ماتم کر رہا تھاآہ!جان عالم الوداع کہنے پر مجبور ہو گئے اور اپنے ملک سے پردیس چلے گئے۔
اس پورے حصے کو پڑھیے اور مباحثہ کیجیے کہ لوگو واجد علی شاہ کی روانگی سے رنجیدہ کیوں تھے۔

شکل 11.5
اودھ کا ایک زمین دار، 1880
2.3 فرنگی راج اور ایک دنیا کا خاتمہ (Friangi raj and the end of a world)
ماخذ 4
تعلقہ دار کیا سوچتے تھے ( What taluqdars thought)
تعلقہ داروں کے روے کو رائے بریلی کے نزدیک واقع کلا کنکر کے راجہ ہنونت سنگھ نے بے حد عمدہ ڈھنگ سے ظاہر کیا ۔ بغاوت کے دوران ہنونت سنگھ نے ایک افسر کو پناہ دی تھی اور محفوظ مقام تک پہنچایا تھا۔ افسر کو رخصت کرتے وقت ہنونت سنگھ نے اس سے کہا تھا:
صاحب آپ کے ملک کے لوگ اس ملک میں آئے اور ہمارے راجاؤں کو دھکیل دیا۔ آپ اپنے افسران کو بھیج کر ضلعوں میں جاگیروں کی حق ملکیت کا معائنہ کراتے ہیں۔ ایک ہی جھٹکے میں آپ نے مجھ سے میری زمین چھین لی جو میرے خاندان کی قدیم عہد سے تھی۔ میں نے اطاعت اختیار کر لی۔ اچانک آپکی بدقسمتی شروع ہو گئی۔ اس زمین کو لوگ آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، تب آپ میرے پاس آئے جس کو آپ نے محروم کر دیا تھا، میں نے آپ کو بچایا ، لیکن اب --- اب میں اپنے خادموں کو لیکر لکھنؤ جا رہا ہوں تاکہ آپ کو ملک سے باہر نکالنے کی کوشش کروں۔
یہ اقتباس تعلقہ داروں کے رویہ کے بارے میں آپ کو کیا بتاتا ہے؟ اس زمین کے لوگوں سے ہنونت سنگھ کا کیا مطلب تھا؟ ہنونت سنگھ نے لوگوں کے غصہ کی کیا وجہ بیان کی ؟

شکل 11.7
یوروپی طرز کی وردی پہنے بنگال کے سپاہی
بحث کیجیے...
معلوم کیجیے کہ کی آپ کی ریاست کے لوگوں نے 1857 کی بغاوت میں حصہ لیا تھا یا نہیں؟ اگر لیا تھا تو معلوم کیجیے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اگر نہیں تو اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کیجیے ۔
3.باغی کیا چاہتے تھے؟(WHAT THE REBELS WANTED?)
3.1 اتحاد کی مدبرانہ بصیرت (The vision of unity)
ماخذ 5
اعظم گڑھ اعلامیہ ، 25 اگست 1857
( The Azamgarh Proclamation, 25 August 1857)
باغی کیا چاہتے تھے۔ اس کے متعلق ہماری معلومات کا یہ ایک اہم ماخذ ہے:
یہ سب جانتے ہیں کہ اس زمانے میں ہندوستان کے لوگوں ، ہندو اور مسلمان دونوں ، ملحدوبے دین اور دغاباز انگریزوں کی ظلم و تعدی اور جابرانہ حکومت کے تحت تباہ و برباد ہیں لہٰذا ملک کے سبھی مالدارو لوگوں خاص طور پر وہ لوگ جو کسی بھی مسلم شاہی خاندان سے رشتہ رکھتے ہیں اور جن لوگوں کو روحانی رہنما اور آقا سمجھا جاتا ہے ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی اور ملکیت کو عوام کی فلاح و بہہود کے لیے خطرے میں ڈال دیں...
اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے طویل عمر سے اپنے گھروں کو چھوڑ چکے اور ہندوستان سے انگریزوں کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی بہترین کوشش کرنےوالے بہت سے ہندو اور مسلمان سرداران بذات خود میرے سامنے پیش ہوئے اور ہندوستانی صلیبی جنگ (مذہبی جنگ) کے میدان میں حصہ لیا اور مجھے پوری امید ہے کہ جلد ہی مغرب سے بھی مدد ملے گی لہٰذا عام کی اطلاع کے لیے موجودہ اشتہار کئی حصوں پر مشتمل جاری کیا جا رہا ہے اور یہ سب کی نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ اس پر با احتیاط غور کریں اور اس پر پابند عمل ہو ۔ اس مشترکہ مقصد میں جو متفکرو مضطرب پارٹیا ں حصہ لینا چاہتی ہیں لیکن جن کے پاس خود کے لیے مہیا کرنے کے وسائل نہیں ہیں، ان کو میری طرف سے اپنا روزانہ کا معاش قبول کرنا ہوگااور یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندو اور مسلم دونوں کی پرانی کتابوں میں معجزاتی کام کرنے والوں کی تحریروں میں اور نجومیوں و پنڈتوں کی پیشن گوئیوں میں... سب حتمی طور پر متفق ہیں کہ ہندوستان میں یا کہیں بھی اب انگریزوں کے قدم زیادہ دن تک نہیں ٹک پائیں گے۔ لہٰذا یہ سب لوگوں کا فرض ہے کے وہ انگریزوں کی حکمرانی کے مسلسل بنے رہنے کی امید چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں اور مشترکہ اچھائی کو تقویت دینے میں اپنی انفرادی محنت و کوشش سے بادشاہی حکومت کے پاس و لحاظ کے مستحق بنیں اور اس طرح سے اپنے جدا گانہ حاصل کریں ۔ وگرنہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے پھسل گیا تو اپنی بے عقلی پر پشیمان ہونا پڑے گا۔
شق I " زمین داروں کی بابت" ــــ یہ ظاہر ہے کہ زمین داری بندوبست طے کرنے میں انگریزی حکومت نے بے حساب " جمع" (مال گزاری مطالبہ) عائد کر دیا ہے اور بہت سے زمین داروں کو بے عزت اور بتاہ و برباد کر دیا ہے۔ لگان کے بقایا جات کی وصولی کے لیے ان کی جاگیریں عوامی طور پر نیلام کر دی گئی ہیں۔ انتہا تو یہ ہے کہ ایک رعیت یا خادمہ یا غلام کے ذریعہ کیے گئے قانونی مقدمے بھی با عزت زمین داروں کو عدالت میں طلب کیا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا ہے،قید میں ڈالا جا رہا ہے اور بے عزت کیا جا رہا ہے۔ زمین داروں کی بابت مقدمے بازی میں اسٹامپ کی بے انتہا قیمت اور دیوانی عدالت کے دیگر غیر ضروری اخراجات... ان سب کا تخمینہ فریق مقدمہ کو نا دارادا کرتا ہے۔ مزید بر آں زمین داروں کے خزانے سے اسکولوں ، اسپتالوں ، سڑکوں وغیرہ کے لیے چندہ کے نام پر ہر سال ٹیکس لیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے استحصال بالجبرکا بادشاہی حکومت میں کوئی وجود نیہں ہوگا، لیکن اس کے برخلاف شاہی حکومت میں " جمع" کمتر رہے گی ۔ زمین داروں کا وقار اور عزت محفوظ ہوگی اور ہر زمین دار اپنی زمین داری میں خود مختارانہ حکومت کرے گا۔
شق II " تاجروں کی بابت" --- یہ بات صاف ہے کہ اس بے دین و ملحد اور دغاباز برطانوی حکومت نے تمام عمدہ اور قیمتی تجارتی اشیا جیسے نیل، کپڑے اور دیگر جہازی مال یعنی جہاز پر بار کیے جانے والے مال کی تجارت پر اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ لوگوں کے لیے اب صرف ادنیٰ اشیا کی تجارت ہی چھوڑی ہے... مزید بر آں ڈاک خرچ ، چنگی اور اسکول کے لیے چندہ وغیرہ کے نام رقم تاجروں کے منافع سے ٹیکس کی شکل میں لے لیتے ہیں۔ ان تمام رعایتوں کے باوجود مہمل لوگوں کی شکایت پر یا مقدمہ کی صورت میں تاجروں کو قانوناً ذمہ دار مانتے ہوئے گرفتار اور ذلیل کرتے ہیں۔ جب بادشاہی حکومت بنے گی تو مندرجہ بالا تمام دھوکے بازی کی مشق ترک کر دی جائے گی۔ خشکی اور پانی کے راستے ہونے والی چیز کی تجارت کسی استثنا کے بغیر ہندوستان کے دیسی تاجروں کے لیے کھول دی جائے گی...چنانچہ یہ ہر تاجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑائی میں حصہ لے اور بادشاہی حکومت کی اپنے آدمیوں اور اپنی دولت کے ساتھ مدد کرے...
شق III " سرکاری ملازمین کی بابت " - اب یہ راز کی بات نہیں ہے کہ برطانوی سرکار کے تحت انتظامی اور فوجی خدمات میں ملازمت کرنے والے دیسی (ہندوستانی) لوگوں کی بہت کم عزت ہے ، ان کی تنخواہ کم ہے اور ان کے پاس اثر و رسوخ کے طریقے نہیں ہیں۔دونوں شعبوں میں بلند درجہ اور منافع کےسارے عہدے پوری طرح سے انگریزوںکا عطا کیے جاتے ہیں... لہٰذا انگریزوں کی خدمت کرنے والے تمام ہندوستانیوں کو اپنے مذہب اور مفاد کا احساس زندہ رکھنا لازم ہے اور انگریزوں کے تئیں اپنی وفاداری سے دست بردار ہو کر بادشاہی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے اور انھیں فی الحال 200اور 300 روپیے فی ماہ تنخواہ حاصل ہوگی اور مستقبل میں اعلیٰ عہدوں کے مستحق ہوں گے...
شق IV - " دست کاروں کی بابت" - یہ ظاہر ہے کہ یوروپی لوگوں کے ذریعہ ہندوستان میں برطانوی اشیا کے متعارف ہونے کے بعد بنکروں ، سوتی کپڑے بنانے والوں ، بڑھئی ، لوہاروں اور جاتا سازوں وغیرہ کو بے روزگار کر دیا گیا ہے ، ان کے پیشوں پر قبضہ جما لیا گیا ہے۔ چنانچہ ہر قسم کے دیسی دست کار بھکاری کی حالت میں پہنچ گئے ہیں، لیکن بادشاہی حکومت کے تحت دیسی دست کاروں کو بادشاہوں ، راجاؤں اور دولت مند لوگوں کی خدمت میں بلا شرکت غیرے روزگار دیا جائے گا اور اس سے بلا شبہ ان میں یقینی خوش حالی آئے گی، لہٰذا ان کا ریگروں کو انگریزوں کی خدمت سے دست بردار ہونا چاہیے........
شقV -" پنڈتوں، فقرا اور دیگر ذی علم افراد کی بابت" - پنڈت اور فقرا حسب ترتیب ہندو اور مسلمان مذاہب کے سر پرست ہیں اور یوروپین دونوں مذاہب کے دشمن ہیں۔ چونکہ فی الحال مذہب کے واسطے انگریزوں کے خلاف شدت سے جنگ جاری ہے لہٰذا پنڈتوں اور فقرا کا فرض ہے کہ خود کو میرے سامنے پیش کریں اور اس مقدس جنگ (جہاد) میں اپنی حصہ داری نبھائیں۔
ماخذ
سپاہی کی سوچتے تھے ؟
(?What the sepoys thought)
یہ باغی سپاہیوں کی عرضی میں سے ایک عرضی ہے جو ضائع ہونے سے باقی رہ گئی:
ایک صدی قبل انگریز ہندوستان میں وارد ہوئےاور بتدریج اپنی ملازمت میں جوجی نفریاں قائم کر نے لگے اور ہر ریاست کے آقا بن گئے ۔ ہمارے اجداد نے ہمیشہ ان کی خدمت کی اور ہم بھی ان کی خدمت میں داخل ہو گئے...خدا کی مہر بانی سے اور ہماری مدد سے انگریزوں نے جس کو پسند کیا وہ مقام فتح کر لیا ۔ اس کے لیے ہم میں سے ہزاروں ہندوستانی جوانوں کو قربانی دینی پڑی ، لیکن ہم نے کبھی نہ کوئی معذرت کی یا بہانہ بنایا اور نہ ہی کبھی بغاوت کی ...
لیکن 1857 میں انگریزوں نے یہ حکم کیا کہ نئے کارتوس اور بندوقیں جو انگلینڈ سے یہاں پہنچتی تھیں ہمیں دی جائیں گی۔ان میں سے پہلی چیز یعنی کار توسوں میں گائے اور گائے اور سور کی چربی ملی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ گیہوں کے آٹے میں ہڈیوں کا پاؤڈر ملا کر کھلایا جا رہا تھا حتی کہ یہ اشیا ہر ایک پیدل جوج ، گھڑ سوار اور توپ خانہ رجمنٹ میں تقسیم کر دی گئیں...
انہوں نے یہ کارتوس تھرڈلائٹ کیویلری کے سواروں (گھڑسوار فوجی ) کو دیے اور انھیں ان کارتوسوں کو دانت سے کاٹنے کا حکم دیا ۔ فوجیوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ کبھی بھی ان کو دانتوں سے نہیں کاٹیں گے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا مذہب اور عقیدہ تباہ ہو جائے گا...اس پر انگریز افسروں نے ریجمینٹوں کے جوانوں کی پریڈ کرا دی ۔ 1400 انگریز فوجی اور یوروپین کی دیگر بٹالین کے فوجی اور گولا انداز گھڑ سواروں نے ان کوگھیر لیا ۔ ہر پیدل کے سامنے چھ توپیں رکھ دی گئیں ۔ یہ توپیں چھرّوں سے بھری ہوئی تھیں اور 84 نئے فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کو لوہے کی بیڑیوں میں ڈال کر جیل میں ڈال دیا گیا...چھاؤنی کے سواروں کو اس وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا تاکہ ہم خائف ہو کر نئے کارتوسوں کو دانتوں سے کاٹنے لگیں۔ اس واسطے ہم اور ہمارے ملک کے لوگ ایک ساتھ متحد ہو کر اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے انگریزوں سے جنگ کریں۔ ہمیں دو سال تک جنگ جاری رکھنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ مذہب اور عقیدے کے سوال پر جو راجہ اور سردار ہمارے ساتھ تھے وہ ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں اور تمام قسم کی تکالیف برداشت کی ہیں۔ ہم دو سال تک اس لیے لڑے تھے تاکہ ہمارا عقیدہ اور مذہب پراگندہ نہ ہو۔ اگر ایک ہندو یا مسلمان کا مذہب ضائع ہو گیا تو دنیا میں کیا باقی رہے گا؟
اس عرضی میں جو اسباب فوجی بغاوت کے لیے بیان کیے گئے ہیں ان کا موازنہ تعلقہ دار (ماخذ 3) کے ذریعہ بیان کیے گئے اسباب کے ساتھ کیجیے۔
3.2 ظلم وتعدی کی علامات کے خلاف
(Against the symbols of oppression )
3.3 متبادل سیاسی اقتدار کی تلاش
(The search for alternative power )
بحث کیجیے ...
آپ کے خیال میں،باغیوں کے نقطئہ نظر کو از سرِ نو تعمیر کرنے میں مؤرخین کو کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
4. انسداد (REPRESSION)
ماخذ 7
باغی ہل دیہات
(Villagers as rebels)
اودھ کے دیہی علاقے سے ایک افسر نے لکھا تھا:
اودھ کے لوگ شمالی ہند سے خبر رسانی کے رابطوں کو دبانے کے لیے بتدریج شدیددباؤ بنا رہے ہیں...اودھ کے لوگ دیہاتی ہیں...ان گاؤں کے لوگوں کو یوروپین نزدیک سے چھو بھی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس کے سامنے ایک دم بکھر جاتے ہیں اور پھر مجتمع ہو جاتے ہیں۔ انتظامی عہدے داران نے ان گاؤن والوں کے متعلق اطلاع دی ہے کہ ان کی تعداد مع بندوقوں کے بہت زیادہ ہے۔
اس بیان کے مطابق گاؤں والوں کے خلاف کاروائی کرنے میں انگریزوں کو کن مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔

نقشہ 2
نقشے میں بغاوت کے اہم مراکز دکھائے گئے ہیں اور باغیوں کے خلاف انگریزوں کے حملےکے راستوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

شکل 11.8
دہلی کی پہاڑیوں پر واقع ایک جامع مسجد ، فیلس بی ریتوکے ذریعہ لیا گیا فوٹوگراف 1857-58
1857 کے بعد برطانوی فوٹوگرافر نے غارت گری اور مسماری کی لاتعداد تصاویر کھینچی تھیں۔

شکل 11.9
فیلس بی ریتو کے ذریعہ لیا گیا فوٹو گراف 1858
یہاں ہمیں ایک زمانے میں نواب واجد علی شاہ کے ذریعہ تعمیر کیے گئے عشرت باغ کے مسمار کھنڈرات میں چار یک و تنہا انسانی شبیہہ نظر آ رہی ہیں۔
1857 میں اس مقام کے قابض 2000 سے زیادہ باغی سپاہیوں کو کیمپ بیل کی قیادت میں برطانوی فوجوں نے مار ڈالا ۔ زمین پربکھرے پڑے انسانی پنجر بغاوت کے بے نتیجہ ہونے کی سرد وارننگ دے رہے ہیں۔
5. بغاوت کی تصاویر
(IMAGES OF THE REVOLT)
5.1 نجات دہندوں کی ستائش (Celebratiing the saviours)

شکل 11.10
تھومس جونس بارکر کے ذریعہ بنائی گئی "ریلیف آف لکھنؤ" نامی تصویر ، 1859
5.2 انگریز خواتین اور برطانیہ کا وقار
(English women and the honour of Britain)

شکل 11.11
جوزف نوئل پیٹون کے ذریعہ 1859 میں بنائی گئی تصویر " ان میموریم"

شکل 11.12
کانپور میں مس وہیلر سپاہیوں سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے۔

شکل 11.13
جسٹس، پنچ، 12 ستمبر 1857 تصویر کے نیچے پیندہ پر یہ پڑھا جا سکتا ہے " کان پور میں ہونے والے وحشت ناک قتل عام کی خبر نے پورے انگلینڈ میں بدلہ لینے کے لیے سرکش خواہش اور آتشی غصہ کا طوفان پیدا کر دیا ہے۔"
5.3 انتقام اور بدلہ (Vengeance and retribution )

شکل 11.14
تصویر کے نیچے پیندہ پر یہ پڑھا جا سکتا ہے " بنگال ٹائگر سے برطانوی شیر کا انتقام " پنچ 1857 تصویر سے کیا خیال سامنے آتا ہے؟
شیر اور چیتے کی تصویر کے ذریعہ کیا ظاہر کیا گیا ہے ؟ عورت اور بچے کی تصویر کیا بیان کرتی ہے؟
5.4 دہشت کا مظاہرہ (The performance of terror)

شکل 11.15

شکل 11.16
5.5 رحم کے لیے وقت نہیں
( No time for clemency)

شکل 11.17
5.6 قوم پرست خیالی تصویر(Nationalist imageries)

شکل 11.18
ان تصاوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بنانے والے جو مصور تھے وہ ان واقعات کو کیا سمجھتے تھے؟ وہ کیا محسوس کرتے تھے اور ان کے مد نظر کیا ذہن نشین کرا نا تھا ۔ تصاویر اور کارٹون کے ذریعہ ہم عوام کے متعلق خیال کر سکتے ہیں جو ان تصاویر کو دیکھتے تھے اور تعریف و تنقید کرتے تھے اور ان کی نقول کو خرید کر اور از سرِ نو تیار کروا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔
یہ تصاویر جس دور میں تیار کی گئیں۔ اس وقت کے جذبات و احساسات کی ہی ترجمانی نہیں کر رہی تھیں بلکہ انہوں نے جذباتی معیار کو بھی ایک شکل دی۔ برطانیہ میں شائع تصاویر کے ذریعہ بہم رسا عوام باغیوں کے انسداد کی انتہائی ظالمانہ سزا کی مانگ کر رہی تھی۔ دوسری طرف بغاوت کو قوم پرست خیالی تصورات قوم پرست تخیل کی نئی شکل دینے میں مدد کر رہے تھے۔
بحث کیجیے ......
ٹائم لائن
1801 اودھ میں ویلز لی کے ذریعہ امدادی معاہدہ متعارف ہوا
1856 نواب واجد علی شاہ کو معزول کیا گیا؛اودھ کا الحاق
1856-57 انگریزوں کے ذریعہ اودھ میں جامع مال گزاری بندوبست کا آغاز
1857
10 مئی میرٹھ میں فوجی بغاوت کا آغاز
11-12مئی دہلی شہر کی محافظ فوج کی بغاوت : بہادر شاہ ظفرؔ کا برائے نام قیادت قبول کرنا
20-27 مئی علی گڑھ ، اٹاوہ،مین پوری، ایٹہ میں سپاہیوں کی بغاوت
30 مئی لکھنؤ میں شورش
مئی -جون فوجی بغاوت کا عوام کی عام بغاوت میں تبدیل ہونا
30 جون چنہاٹ کی جنگ میں انگریزوں کی شکست
25 ستمبر ہیولاک اور اولٹرام کی قیادت میں برطانوی افواج کا لکھنؤ ریزیڈنسی میں داخلہ
جولائی جنگ مین شاہ مل کی موت
1858
جون جنگ میں رانی جھانسی کی موت
100 سے 150 لفظوں میں جواب دیجیے۔

شکل 11.19