Skip to content
Tareekh-e-HindMauzuat-III-001


موضوع بارہ                                                   نو آبادیاتی شہر

شہرکاری، منصوبہ بندی اور فن تعمیر

اس باب میں ہم نو آبادیاتی ہندوستان میں شہرکاری کے عمل پر بحث، نوآبادیاتی شہروں کی ممتاز خصوصیات کی چھان بین اور ان کے اندر سماجی تبدیلیوں کی روش کو دیکھیں گے۔ اسی ساتھ ہی مدراس (چنئی)، کلکتہ (کولکاتا) اور بمبئی (ممبئی) جیسے تین بڑے شہروں میں ترقی کے درجے کو نزدیک سے دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ 
یہ تینوں شہر بنیادی طور پر ماہی گیری اور کپڑا بنائی کے گاؤں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی معاشی سرگرمیوں کے سبب یہ اہم تجارتی مراکز بن گئے۔ کمپنی کے ایجنٹ (گماشے) 1639 میں مدارس اور 1690 میں کلکتہ میں آباد ہوگئے، بمبئی کو 1661 میں انگلینڈ کے بادشاہ نے کمپنی کو دے دیا تھا جس کو اس نے پرتگال کے بادشاہ سے اپنی بیوی کے جہیز کی صورت میں حاصل کیا تھا۔ کمپنی نے ان میں سے ہر ایک میں تجارتی اور انتظامی دفاتر قائم کیے۔ 
1

شکل1.12

فورٹ سینٹ جارج کا جنوب مشرقی نظارہ، مدارس، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ تیار کردہ تصویر۔ اورینٹل سینری 1798 میں شائع ڈینیل کے ذریعہ بنائے گئے ایک خاکہ پر مبنی تصویر مال لے جاتے ہوئے یوروپی جہازوں کے افق میں نقطے نظر آرہے ہیں۔ پیش منظر میں ملکی کشتیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ 

انیسویں صدی کے وسط تک یہ آبادیاں بڑے شہر بن گئے تھے، جہاں سے نئے حکمراں ملک کو کنٹرول کررہے تھے۔ معاشی سرگرمیوں کو منضبط کرنے اور نئے حکمرانوں کے اقتدار کا مظاہرہ کرنے کے لیے ادارے قائم کیے گئے۔ ہندوستانیوں نے ان شہروں میں سیاسی غلبہ کے نئے طریقوں کا تجربہ کیا مدراس، بمبئی اور کلکتہ کے خاکے (نقشے) ہندوستان کے پرانے شہروں سے کافی حد تک مختلف تھے۔ ان شہروں میں بنائی گئی عمارتوں پر اپنے نوآبادیاتی اصل کے نشانات بنے تھے۔ عمارتیں کیا ظاہر کرتی ہیں اور فن تعمیر کیا ذہن نشین کراسکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کے متعلق تاریخ کے طالب علم کو دریافت کی ضرورت ہے۔

یادرکھیے کہ فن تعمیر پتھر، اینٹ، لکڑی یا پلاسٹر میں ہمارے خیالات کو ایک مخصوص شکل دینے میں مددگار ہوتا ہے۔ سرکاری آفیسر کے بنگلے اور امیر تاجر کے عالی شان مکان سے لے کر مزدور کے حقیر جھونپڑے تک عمارتیں سماجی تعلقات اور شناخت کو مختلف طریقوں سے ظاہر کرتی ہیں۔ 

ماخذ1

دیہی علاقوں کی طرف فرار (Escaping to the countryside)

1857 میں جب برطانوی فوجوں نے شہر پر قبضہ کرلیا تھا تو دہلی کے لوگ کیا سوچتے تھے اس کا تذکرہ مشہور شاعر مرزا غالب نے اس طرح کیا ہے:

دشمن کی سرزنش کرنے اور اسے ہانکنے سے قبل فاتحین (انگریزوں) نے سبھی سمتوں سے شہر کو تاخت وتاراج کردیا۔ جولوگ بھی سڑک پر پائے گئے انھیں کاٹ دیا گیا...دو سے تین دن تک کشمیری گیٹ سے چاندنی چوک تک شہر کی ہر ایک سڑک جنگ کا میدان تھی۔ تین دروازے اجمیری دروازہ ترکمان دروازہ اور دہلی دروازہ ابھی تک باغیوں کے قبضے میں تھے۔ اس کینہ پر ورغصہ اور کینہ توز نفرت کے ننگے ناچ سے لوگوں کے چہرے کا رنگ غائب ہوگیا۔ مردوں اور عورتوں کی ایک بڑی بھیڑ..... ان تین دروازوں سے بے تامل فرار ہوگئی۔ شہر کے باہر چھوٹے گاؤں اور درگاہوں میں پناہ حاصل کرنے لگی، وہ اپنی واپسی کے لیے ایسے ممکنہ مہربان وقت کے انتظار میں رہے جس میں وہ سانس لے سکیں۔ 

نوآبادیاتی عہد سے پہلے قصبات اور شہر (TOWNS AND CITIES IN PRE-COLONIAL TIMES)

قبل اس کے کہ ہم نوآبادیاتی عہد میں شہروں کی نشوونما کی تحقیق کریں، برطانوی حکومت سے قبل کی صدیوں کے شہری مراکز پر نظر ڈالیں گے۔ 

1.1 قصبات کو ان کی شناخت کیسے دی گئی؟ (?What gave towns their character)

قصبوں کی تعریف اکثر شہری علاقوں کے مقابل کی جاتی ہے۔ یہ خاص قسم کی معاشی سرگرمیوں اور ثقافتوں کے نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ دیہی علاقوں میں لوگ کاشت کاری، جنگل میں غذا کو جمع کرنے یا مویشی پالن کے ذریعہ گزربسر کرتے تھے۔ اس کے برخلاف قصبات دست کاروں، تاجروں، انتظام کاروں اور حکمرانوں سے آباد تھے۔ قصبات کا دیہی آبادی پر تسلط ہوتا تھا اور وہ وزراعت سے حاصل زائد پیداوار اور ٹیکسوں پر پروان چڑھتے تھے۔ اکثر قصبات اور شہروں کی دیواروں کے ذریعہ قلعہ بندی کی جاتی تھی جو دیہی علاقوں سے ان کی علاحدگی کی علامت تھی۔
تاہم قصبوں اور دیہات کے درمیان علاحدگی سریع الحرکت تھی۔ کسان زیارت کے لیے طویل دوزی تک سفر قصبوں سے گذرتے ہوئے کرتے تھے۔ قحط کے زمانہ کے دوران وہ قصبات میں یکجا ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانوں اور اشیا کا قصبات سے گاؤں کی طرف الٹا بہاؤ بھی تھا۔ جب قصبات پر حملے ہوتے تو لوگ اکثر دیہی علاقوں میں پناہ حاصل کرتے تھے۔ تاجر اور پھیری والے قصبات سے اشیا لے جاکر گا ؤں میں فروخت کرتے تھے اور بازاروں کی توسیع اور صرف کے نئے نمونے پیدا ہوتے تھے۔ 
سولہویں اور سترہویں صدی کے دوران مغلوں کے ذریعہ تعمیر کردہ شہر اپنی آبادی کے اجتماع، اپنی عظیم الشان عمارتوں اور اپنے جاہ وجلال نیز اپنی خوشحالی کے لیے مشہور تھے۔ آگرہ، دہلی اور لاہور شاہی نظم ونسق اور کنٹرول کے اہم مراکز تھے۔ منصب دار اور جاگیر دار کی جنھیں سلطنت کے مختلف حصوں میں وسیع زمینی قطعات تفویض کیے گئے تھے عموما ان شہروں میں ذاتی مکانات تھے۔ اقتدار کے ان مراکز میں سطوت، امیر کے رتبہ کا مظہر تھی۔ 
یہاں بادشاہ اور امرا کی موجودگی کا مطلب وسیع طور پر خدمات فراہم کرنا تھا۔ دست کار امرا طبقہ کے کنبے کے لیے مخصوص دست کاری اشیا بناتے تھے۔ شہری باشندوں اور فوج کےلیے دیہی علاقوں سے اناج شہر کے بازاروں میں لایا جاتا تھا۔ ریاست کا خزانہ بھی شاہی دارالخلافہ میں واقع تھا لہٰذا قلمرو کی مال گزاری بھی پابندی کے ساتھ یہاں آتی رہتی تھی۔ بادشاہ ایک قلعہ بند محل میں رہتا تھا اور شہر ایک دیوار کے ذریعہ احاطہ بند ہوتا تھا جو مختلف دراوزوں کے ذریعہ داخلہ اور اخراج کے ساتھ منضبط کیا جاتا تھا۔ ان شہروں کے اندر باغات، مساجد، منادر، مقبرے، کالج، بازار اور کارواں سرائے ہوتی تھیں۔ شہر کے نقطہ ماسکہ کی واضح معین سمت محل اور جامع مسجد کی طرف ہوتی تھی۔ 
جنوبی ہند کے شہروں جیسے مدورائی اور کانچی پورم کا بنیادی مرکز مندر تھا۔ یہ شہر اہم تجارتی مراکز بھی تھے۔ مذہبی تہوار اکثر میلوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں واضح ہوتے تھے۔ عموما حکمراں مذہبی اداروں کا سب سے اعلیٰ عہدہ دار اور اصل سرپرست ہوتا تھا۔ سماج اور شہر میں دیگر گروہوں اور طبقوں کا مقام حکمراں کے ساتھ ان کے رشتے یا تعلق سے متعین ہوتا تھا۔ 
عہدوسطی کے شہروں میں حکمراں چیدہ طبقے کے ذریعہ تسلط والے سماجی نظام میں ہر فرد سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ اسے سماج میں اپنا مقام معلوم ہو۔ شمالی ہند میں اس نظام کو قائم رکھنے کا کام شاہی افسر کا تھا جسے کو توال کہا جاتا تھا۔ وہ بیرونی امور پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ امن عام بنائے رکھتا تھا۔ 
2

شکل 2.12

1857 میں شاہ جہاں آباد (دہلی) : 1857 کے بعد شہر کے چاروں طرف کی دیوار کو منہدم کردیا گیا۔ لال قلعہ دریا کی طرف بناہے۔ دائیں طرف فاصلے پر ابھری ہوئی سطح پر برطانوی بستیوں اور چھٹٹاؤن ی کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

دہلی کا کوتوال (The Kotwal of Delhi):

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے دادا گنگا دھر نہرو 1857 کی بغاوت سے پہلے دہلی کے کوتوال تھے؟ مزید تفصیل کے لیے جواہر لعل نہرو کی آپ بیتی (خودنوشت) پڑھیے۔

2.1 اٹھارہویں صدی میں ہونے والی تبدیلیاں

(Changes in the eighteenth century) 

اٹھارہویں صدی میں نمایاں تبدیلیاں ہوئیں۔ دوبارہ سیاسی وتجارتی صف بندی کے ساتھ پرانے شہر زوال پذیر ہوگئے اور نئے شہروں کی نشوونما ہونے لگی۔ مغل اقتدار کی بتدریج شکست وریخت کے سبب ان کے اقتدار کے ساتھ مربوط شہروں کی موت ہوگئی۔ مغل راجد ھانیوں دہلی اور آگرہ نے اپنا اقتدار گنوادیا۔ نئی علاقائی طاقتوں کی نشوونما علاقائی راجدھانیوں لکھنؤ، حیدرآباد، سری رنگا پٹنم، پونہ (موجودہ پونے)، ناگپور، بڑودہ (موجودہ ودوڈرا) اور تنجور (موجودہ تھنجاور) کی بڑھتی اہمیت سے ظاہر ہوئی۔ تاجر، منتظم، دست کار اور دیگر لوگ پرانے مغل مراکز سے ان نئی راجدھانیوں کی طرف کام اور سرپرستی کی تلاش میں ہجرت کرگئے۔ نئی ریاستوں کے درمیان مسلسل جنگوں کا مطلب تھا کہ کرائے کے سپاہیوں کو تیارروزگار ملیں۔ ممتاز  افراد اور شمالی ہندوستان میں مغل حکومت سے وابستہ افسران نے بھی اس موقع کا استعمال ’’قصبہ اور گنج‘‘ جیسی نئی شہری بستیاں وجود میں لانے کے لیے کیا تاہم سیاسی لامرکزیت کے اثرات غیر یکساں تھے۔ کئی مقامات پر معاشی سرگرمیوں کی تجدید ہوئی تو بعض دیگر مقامات پر جنگ، لوٹ مار اور سیاسی غیر یقینی معاشی زوال کا آغاز بنی۔

تجارتی نیٹ ورک میں تبدیلیاں شہری مراکز کی تاریخ میں منعکس ہوئیں۔ یوروپی تجارتی کمپنیوں نے ابتدائی مغل عہد میں مختلف مقامات پر، پرتگالیوں نے 1570 میں پنجی میں، 1605 میں ڈچوں نے سولی پٹنم میں، 1639 میں مدارس میں انگریزوں نے  اور فرانسیسیوں نے 1673 میں پانڈیچری میں اساس قائم کرلی تھی۔ تجارتی سرگرمیوں کی توسیع کے ساتھ ہی ان تجارتی مراکز کے اردگرد شہر نشوونما پانے لگے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر تک ایشیا میں زمین پر مبنی سلطنتوں کا قیام طاقتور سمندر پر مبنی یوروپی سلطنتوں نے لے لیا۔ بین الاقوامی تجارت، تجارتی نظریہ زر اور سرمایہ داری کی طاقتیں سماج کی ماہیئت کو معین کررہی تھیں۔ 

اٹھارہویں صدی کے وسط سے تبدیلی کا ایک نیادور شروع ہوا۔ تجارتی مراکز جیسے سورت، مسولی پٹنم اور ڈھاکہ جن کی نشوونما سترہویں صدی میں ہوئی تھی، جب زوال پذیر ہوئے تو تجارتی سرگرمیاں بھی دیگر پر منتقل ہوگئیں۔ 1757 میں پلاسی کی جنگ کے بعد جو نہی انگریزوں نے بتدریج سیاسی کنٹرول حاصل کیااور انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارت میں توسیع ہوئی ویسے ہی مدراس، کلکتہ اور بمبئی جیسے بندرگاہی شہر نئی معاشی راجدھانیوں کی شکل میں تیزی سے ظہور میں آئے۔ یہ نوآبادیاتی نظم ونسق اور سیاسی اقتدار کے مرکز بھی بن گئے۔ نئی تمارتیں اور ادارے ارتقاپذیر ہوئے اور شہری مقامات کو نئے انداز میں منظم کیا گیا۔ نئے پیشے ارتقاپذیر ہوئے اور لوگوں کے انبوہ ان نو آبادیاتی شہروں کی طرف آنے لگے۔ تقریبا 1800 تک یہ آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کے بڑے شہر تھے۔  

قصبہ دیہی علاقے میں ایک چھوٹا شہر ہوتا ہے جو اکثر مقامی ممتاز افراد کا مرکز ہوتا ہے۔ گنج ایک چھوٹی مستقل بازار سے منسوب ہے۔ قصبہ اور گنج دونوں میں کپڑے، پھل، سبزیاں اور دودھ مصنوعات کا کاروبار ہوتا تھا۔ یہ ممتاز وامراخانداز اور فوج کو اشیا فراہم کراتے تھے۔ 

3

شکل 3.12

دریا کی طرف سے گواشہر کا ایک منظر، گربک 1812

شہروں کے نام (Names of cities)

مدراس، بمبئی اور کلکتہ کے نام ان گاؤں کے انگریزی بنائے گئے نام میں جہاں انگریزوں نے سب سے پہلے تجارتی چوکیاں قائم کی تھیں۔ اب انھیں چنئی، بمبئی اور کولکاتہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

بحث کیجیے...

آپ جس قصبہ، شہر یا گاؤں میں رہتے ہیں وہاں کی کون سی عمارت، ادارہ یا مقام اصل مرکزی نقطہ ہے؟ اس کی تاریخ کا پتہ لگائیے اور معلوم کیجیے کہ یہ کب تعمیر ہوا۔ اس کو کیوں تعمیر کیا گیا، یہ کون سے امور انجام دیتا تھا اور اور کیا اس کے امور میں کوئی تبدیلی آئی؟ 

2. نوآبادیاتی شہروں کے متعلق تحقیقاتی نتیجہ 

(FINDING OUT ABOUT COLONIAL CITIES)

1.2 نوآبادیاتی دستاویزات اور شہری تاریخ

(Colonial records and urban history)

نوآبادیاتی حکومت اعداد وشمار کے ماحصل پر مبنی تھی۔ انگریز اپنے تجارتی امور کو منضبط کرنے کے لیے اپنی تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلی دستاویزات رکھتے تھے۔ ارتقاپذیر شہروں میں زندگی کی روش پر نظر رکھنے کے لیے وہ باقاعدہ پابندی سے سروے کرتے، اعداد وشمار یکجا کرتے اور مختلف طرح کی سرکاری رپورٹیں شائع کرتے تھے۔
ابتدائی سالوں سے ہی نوآبادیاتی حکومت نقشہ تیار کرنے کے لیے پر جوش نظر آئی، وہ محسوس کرتی تھی کہ بری مناظر کو سمجھنے اور جغرافیائی حالت کو جاننے کےلیے اچھے نقشے بنانے ضروری تھے۔ اس سے علاقے پر اچھی طرح سے کنٹرول کرنے کی گنجائش ہوگی۔ جب شہر بڑھنا شروع ہوگئے تو نہ صرف یہ کہ ان کے ارتقا کا منصوبہ تیار کرنے کےلیے بلکہ تجارت کو ترقی دینے اور اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے بھی نقشے تیار کیے جانے لگے۔ شہروں کے نقشے پہاڑیوں، ندیوں اور سبزہ زاروں کے محل وقوع کے متعلق بھی اطلاعات دیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں حفاظتی مقاصد اور تعمیرات کی منصوبہ بندی کے لیے نہایت اہم تھیں۔ یہ گھاٹوں، ٹھوس پن (کثافت) مکانوں کی ماہیئت اور سڑکوں کا خاکہ دکھاتے تھے جس کا استعمال تجارتی امکانات کی گنجائش اور محصول بندی کی حکمت عملی کے لیے کیا جاتا تھا۔ 
انیسویں صدی کے آخر سے انگریزوں نے میونسپل ٹیکس کی سالانہ وصولیابی کے ذریعہ شہروں کا بندوبست کرنے کے لیے پیسہ جمع کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ ٹکرائو سے بچنے کےلیے انھوں نے ذمہ داریاں منتخب ہندوستانی نمائندوں کو سونپ دیں۔ کچھ حد تک عوامی نمائندگی کے ساتھ میونسپل کارپوریشن جیسے اداروں کا مطلب یہ تھا کہ پانی کی فراہمی، نالے نالیوں کا نظام، سڑکوں کی تعمیر اور عوامی صحت جیسی ضروری خدمات کا انتظام ہو۔ اس کی سرگرمیوں سے پوری طرح سے نئے ریکارڈوں کے مجموعے وجود میں آئے جن کو میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ روم میں سنبھال کررکھا جانے لگا۔
شہروں کی نشوونما پر نظر رکھنے کے لیے پابندی کے ساتھ لوگوں کو شمار کیا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے وسط تک مختلف علاقوں میں بہت سی مقامی مردم شماریاں کی جاچکی تھیں۔ 1872 میں کل ہندمردم شماری کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد 1881 سے دہ سالہ (ہر دس سال میں ہونے والی) مردم شماری ایک باقاعدہ خصوصیت بن گئی۔ ہندوستان میں شہرکاری کا مطالبہ کرنے کے لیے مردم شماری کے اعدادوشمار کا یہ مجموعہ ایک قیمتی ماخذ ہے۔
4

شکل 4.12

بمبئی کا ایک پرانا نقشہ دائرے میں نشان زد کیا گیا علاقہ ’’کیسل‘‘ جو علاقہ بندوبستی کا حصہ تھا۔ نقطوں والے علاقے سات جزیروں کو دکھا رہے ہیں جو سمندر پاٹ کر زمین تیار کرنے کے منصوبہ کے ذریعہ بتدریج متحد کردیے گئے تھے۔

ان رپورٹوں پر نظر ڈالنے پر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس تاریخی تبدیلی کوناپنے کے لیے ٹھوس اعدادوشمار موجود ہیں۔ بیماریوں اور اموات پر مبنی جدول کے نہ ختم ہونے والے صفحات یا ان کی عمر، جنس، ذات اور پیشے کے مطابق لوگوں کو شمار کرنے کے سبب اعداد وشمار کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہوتا ہے جس سے پختگی اور واقعیت کا فریب پیدا ہوتا ہے تاہم مورخین نے پایا کہ یہ اعدادوشمار گمراہ کرسکتے ہیں۔ ان کا استعمال کرنے سے قبل ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اعداد وشمار کس نے جمع کیے اور انھیں کیوں اور کیسے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ہمیں یہ جاننا بھی لازمی ہے کہ کس چیز کی پیمائش کی گئی اور کس کی نہیں کی گئی۔
مثال کے طور پر مردم شماری کا طریق عمل ایک ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعہ آبادی کے متعلق سماجی اعدادو شمار کو آسان اعدادوشمار میں تبدیل کردیا گیا، لیکن یہ ابہام کے ساتھ پیچیدہ عمل تھا۔ مردم شماری کے کمشنروں  نے آبادی کے مختلف طبقات کی درجہ بندی کرنے کے لیے الگ الگ زمرے مقرر کیے۔ یہ درجہ بندی اکثر بے قاعدہ ہوئی تھی اور لوگوں کے سریع الحرکت ہونے نیز ایک دوسرے کو پکڑنے میں ناکام تھی۔ ایک شخص جو دست کار اور تاجر دونوں ہو اس کی درجہ بندی کس طرح ہوگی؟ ایک شخص جو خود اپنی زمین پرکھیتی کرتا ہو اور پیداوار کو گاڑی پر لادکر شہر لے جاتا ہو اس کو کس طرح شمار کیا جائے گا؟ کیا وہ ایک کاشت کار ہے یا ایک تاجر۔ 
اکثر لوگ خود بھی مردم شماری افسران کو تعاون دینے سے انکار کردیتے تھے یا ٹالنے والے جوابات دیتے تھے۔ اگرچہ طویل عرصے تک لوگ مردم شماری کے عمل کو شک کی نظر سے دیکھتے رہے کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ نئے ٹیکسوں کو نافذ کرنے کے لیے یہ تفتیشی کا عمل انجام دیا جارہا ہے۔ اعلیٰ ذات کے افراد بھی اپنے گھرانے کی خواتین سے متعلق کسی بھی طرح کی معلومات دینے کے روادارنہ تھے۔ عورتوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ گھر کے اندر کی دنیا کا الگ حصہ ہیں اور عوامی نظروں کا یا تفتیش کا موضوع نہیں بن سکتیں تھیں۔
مردم شماری افسران نے یہ بھی دیکھا کہ لوگ ایسی شناختوں کا دعویٰ کرتے تھے جو اعلیٰ حیثیت سے وابستہ تھیں۔ مثال کے طور پر شہروں میں ایسے لوگ بھی تھے جو پھیری لگانے والے تھے اور عمومی اشیا فروخت کرنے کے لیے حرکت کرتے تھے اگرچہ دیگر موسموں میں وہ معمولی مزدوری کے ذریعہ اپنی زندگی گزارتے تھے۔ اکثر ایسے لوگ مردم شماری افسران (شمار کنندہ) کے سامنے خود کو ایک تاجر بتاتےتھے، مزدور نہیں، کیونکہ وہ تجارت کو ایک معزز سرگرمی سمجھتے تھے۔ 
اسی طرح موت اور بیماریوں کے متعلق اعدادوشمار جمع کرنا بھی مشکل تھا۔ مثلا تمام اموات کا اندراج نہیں کرایا جاتا تھا اور بیمار ہونے کی اطلاع بھی ہمیشہ نہیں لی جاتی تھی اور نہ ہی لائسنس یافتہ ڈاکٹر کے ذریعہ علاج کرایا جاتا تھا۔ ایسے ہی بیماری یا موت کے معاملوں کا بالکل صحیح حساب لگانا کیسے ممکن ہوسکتا تھا؟
چنانچہ مورخین کو مردم شماری جیسے ماخذوں کا استعمال بڑی احتیاط کے ساتھ کرنا پڑتا ہے، اپنے ذہن میں ممکنہ تعصبات کو رکھتے ہوئے دوبارہ حساب لگانا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہند سے کیابات نہیں بتا رہے ہیں۔ تاہم مردم شماری، سروے کے نقشے اور میونسپلٹی جیسے اداروں کے ریکارڈوں کی مدد سے نو آبادیاتی شہروں کا قبل نوآبادیاتی شہروں کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے مطالعہ کرنا ممکن ہے۔

نقشے کیا ظاہر کرتے ہیں اور کیا مخفی رکھتے ہیں؟(?Whtat maps reveal and conceal)

سروے کے طریقوں کا ارتقاصحیح سائنسی آلات اور برطانوی شاہی ضروریات تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ نقشے بڑی احتیاط کے ساتھ تیار کیے گئے ہیں۔ 1878 میں سروے آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ تیار کیے گئے نقشے ہمیں خاص اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان میں انگریز حکمرانوں کے تعصبات بھی منعکس ہوتے ہیں۔ شہر میں غریبوں کی بڑی بستیوں کو نقشے پر نشان زد نہیں کیا گیا کیونکہ حکمرانوں کو وہ غیر اہم نظر آتی تھیں۔ نتیجتاً یہ مان لیا گیا تھا کہ نقشے پر یہ خالی جگہ دیگر ترقیاتی اسکیموں کے لیے دستیاب ہے۔ جب ان اسکیموں پر عمل درآمد کیا گیا تو وہاں سے غربا کو بے دخل کردیا گیا۔

ہندوستان میں شہر کاری

1941-1891

سال کل آبادی میں شہری آبادی کا تناسب

1891 4.9

1901 0.10

1911 4.9

1921 2.10

1931 1.11

1941 8.12

شکل 5.12

بحث کیجیے...

شماریاتی اعداد وشمار یا شہر کے نقشوں میں سے کسی ایک کا مطالعہ کیجیے اور پتہ لگائیے کہ اسے کون جمع کر رہا تھا اور یہ کیوں جمع کیے گئے۔ اس طرح کے مجموعے میں کسی طرح کے تعصبات کا امکان ہے؟ کس قسم کی معلومات اس میں خارج ہیں؟ معلوم کیجیے کہ یہ نقشے کیوں تیار کیے گئے اور کیااس میں شہر کے تمام حصوں کی مساوی طور پر تفصیل پیش کی گئی ہے؟ 

2.2 تبدیلی کے رجحانات (Trends of change)

مردم شماری کا احتیاط سے مطالعہ کرنے سے بعض مسحور کرنے والے رجحانات ظاہر ہوئے۔ 1800 کے بعد ہندوستان میں شہرکاری کی رفتار سست تھی۔ انیسویں صدی سے بیسویں صدی کی ابتدائی دودہائیوں تک ہندوستان کی کل آبادی میں شہری آبادی کا تناسب بہت ہی کم تھا اور یہ جامد رہاتصویر 5.12 سے واضح ہوجاتا ہے۔ 1900 اور 1940 کے 40 سالوں کے درمیان شہری آبادی کل آبادی کی 10 فی صد سے بڑھ کر تقریبا 13 فی صد ہوگئی۔ 
پائیداری کی اس تصویر کے تحت مختلف علاقوں میں شہری ارتقا کے نمونوں میں معنی خیز اختلافات موجود تھے۔ چھوٹے قصبوں کے پاس معاشی طور پر ترقی کرنے کا بہت کم موقع تھا۔ دوسری طرف کلکتہ، بمبئی اور مدراس نے تیزی سے ترقی کی اور جلد ہی وسیع شہر بن گئے۔ بالفاظ دیگر نئے تجارتی اور انتظامی مراکز کے طور پر ان تین شہروں کی نشوونما دوسرے موجود شہری مراکز کی تذلیل یعنی کمزور کرکے ہوئی تھی۔
نوآبادیاتی معیشت کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہندوستانی برآمد مصنوعات جیسے کپڑوں کے لیے جمع کردہ اشیا کے ڈپو کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ انگلینڈ میں صنعتی انقلاب کے بعد یہ رجحان مخالف ہوگیا تو یہ شہر برطانوی کارخانوں میں بنی مصنوعات کے داخلے کا مرکز بن گئے اور ہندوستان سے تیار مصنوعات کے بجائے خام مال کی برآمد ہونے لگی۔ اس معاشی سرگرمی کی نوعیت کی وجہ سے یہ نو آبادیاتی شہر ہندوستان کے روایتی قصبات اور شہروں کے مقابلے تیزی سے بدل گئے۔
1853 میں ریلوے کی شروعات کا مطلب ان قصبات کی قسمت میں تبدیلی آنا تھا۔ معاشی سرگرمی بتدریج روایتی قصبات سے منتقل ہونے لگی جو قدیم شاہراہوں اور دریائوں کے متوازی واقع تھے۔ ہر ریلوے اسٹیشن خام مال جمع کرنے کا ڈپو اور درآمدی اشیا کی تقسیم کا مرکز بن گیا۔ مثال کے طور پر گنگا کے کنارے واقع مرزاپوردکن سے کپاس اور سوتی اشیا کے جمع کرنے کا ایک خاص مرکز تھا جو بمبئی تک جانے والی ریلوے لائن بننے کے بعد زوال پذیر ہوگیا (دیکھیے باب 10، تصویر 18.10 اور 19.10)۔

 ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ ریلوے ورکشاپ اور ریلوے کالونیاں بھی قائم ہوئیں۔ 
5

شکل 6.12

فورٹ علاقے میں بوہرہ بازار بمبئی 1885 جوں جوں بمبئی ترقی کرتا گیا فورٹ علاقے میں بھی بھیڑ بڑھتی گئی۔ تاجر، دکاندار اور ملازمت پیشہ گروہ اس علاقے میں آنے لگے یہاں بہت سے بازار قائم ہوئے اور اونچی عمارتیں بننے لگیں۔ مجمع سے پریشان انگریزوں نے فورٹ کے شمالی حصے سے ہندوستانیوں کو دھکیلنے کی گئی دفعہ کوشش کی جہاں مقامی جماعتیں آباد تھیں۔ 

3. نئے شہر کیسے تھے؟

(?WHAT WERE THE NEW TOWNS LIKE)

1.3 بندرگاہیں، قلعے اور خدمات کے مراکز

(Ports, forts and centres for services)

اٹھارہویں صدی تک مدارس، کلکتہ اور بمبئی اہم بندرگاہیں بن گئے۔ یہاں کی بستیاں اشیا جمع کرنے کے سہل الحصول مراکز کے طور پر سامنے آئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فیکٹریاں (تجارتی وفاتر) یہیں پر تعمیر کیں اور یوروپی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ آرائی کی وجہ سے حفاظت کے مقصد سے ان بستیوں کی قلعہ بندی کی۔ مدراس میں فورٹ سینٹ جارج، کلکتہ میں فورٹ ولیم اور بمبئی میں فورٹ، برطانوی بستیوں کے طور پر نشان زد کیے گئے۔ یوروپی تاجروں کے ساتھ معاشی لین دین کرنے والے ہندوستان تاجر، دست کار اور دیگر مزدوران قلعوں کے باہر اپنی بستیوں میں رہتے تھے۔ اس طرح ابتدا سے ہی یوروپین اور ہندوستانیوں  کے لیے علاحدہ کوارٹر (مکان) بنائے گئے جن کو ہم عصر تحریروں میں ’’وائٹ ٹٹاؤن White Town‘‘ اور ’’بلیک ٹٹاؤن Black Town‘‘ کے نام سے معنون کیا گیا۔ انگریزوں کا سیاسی طاقت پر قبضہ کرنے کے بعد یہ نسلی امتیاز اور بھی تیز ہوگیا۔ 

6

شکل 7.12

کولکاتہ میں اولفورٹ گھاٹ، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1787

اولڈ فورٹ ساحل پر واقع تھا۔ کمپنی کامال یہاں حاصل کیا جاتا تھا۔ مقامی لوگ مسلسل اس گھاٹ کا استعمال غسل کے مقصد سے کرتے تھے۔

انیسویں صدی کے وسط میں ریولے کے وسیع ترہوتے نیٹ ورک نے ان شہروں کو ہندوستان کے دیگر خطوں کے ساتھ مربوط کردیا۔ اس کے نتیجے میں جہاں سے خام مل اور مزدور آتے تھے وہاں سے ایسے دیہی اور مضافاتی علاقے بھی ان بندرگاہی شہروں سے مربوط ہوگئے۔ چونکہ خام مال درآمد کے لیے ان شہروں میں آتا تھا اور یہاں ارزاں مزدور بکثرت دستیاب تھے اس لیے یہاں جدید فیکٹریاں قائم کرنا آسان تھا۔ 1850 کی دہائی کے بعد ہندوستانی تاجروں اور مہم حضرات نے بمبئی میں سوتی کپڑا مل کی قائم اور کلکتہ کے قرب وجوار کے علاقے میں یوروپی نجی ملکیت والی جوٹ مل بھی قائم کی گئی۔ یہ ہندوستان میں جدید صنعتی نشوونما کا آغاز تھا۔

تاہم کلکتہ، بمبئی اور مدراس انگلینڈ کی صنعتوں کے لیے خام مال کی سپلائی کرتے تھے۔ چونکہ یہ سرمایہ داری جیسی جدید معاشی قوتوں کی بدولت ظہور پذیر ہوچکے تھے لیکن ان کی معیشت بنیادی طور پر فیکٹری پیداوار پر منحصر نہ تھی۔ ان شہروں کے مزدور طبقہ کی آبادی کی اکثریت اس حلقہ سے وابستہ تھی جسے ماہرین معاشیات تیسرا شعبہ (Tertiary Sector) کے نام سے درجہ بند کرتے ہیں۔ یہاں پر صحیح معنی میں صرف دو صنعتی شہر: کان پور جوچمڑے، اونی اور سوتی کپڑوں کےلیے خاص تھا اور جمشید پور اسٹیل (اسپات) کے لیے خاص تھے۔ ہندوستان کبھی ایک جدید صنعتی ملک نہیں بن پایا کیونکہ امتیاز پر مبنی نوآبادیاتی پالیسیوں نے صنعتی ارتقا کی سطح کو محدود رکھا۔ کلکتہ، بمبئی اور مدراس کی نشوونما بڑے شہروں کی طرح تو ہوئی لیکن اس سے نوآبادیاتی ہندوستان کی کل معیشت میں کوئی ڈرامائی افزائش نہیں ہوئی۔

آیونک ( ionic) قدیم یونانی فن تعمیر کے تین نظم وتربیت (تنظیمی نظام) میں سے ایک نظم ہے جب کہ دیگر ڈورک (Doric) اور کورنتھین (Corinthian) ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت جوہر نظم کو ممیز کرتی تھی وہ ستونوں کے سرپرستون کا طرزتھی۔ ان شکلوں کو نشاۃ ثانیہ اور فن تعمیر کی جدید کلاسیکل شکلوں میں ازسرنو موافق کیا گیا۔

7

2.3ایک نیا شہری ماحول (A new urban milieu)

نوآبادیاتی شہر نئے حکمرانوں کے تاجرانہ تمدن کی ترجمانی کرتے تھے۔ سیاسی اقتدار اور سرپرستی، ہندوستانی حکمرانوں سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجروں کی طرف منتقل ہوگئی تھی۔ ترجمان، بچولیے، تاجر اور رسد رساں جیسے کام کرنے والے ہندوستانی بھی ان نئے شہروں میں اپنا اہم مقام رکھتے تھے۔ ندی یا سمندر کے کنارے معاشی سرگرمیوں نے گودیوں اور گھاٹوں کے ارتقا کو فروغ دیا۔ سمندر اور دریائوں کے کنارے گودام، تجارتی دفاتر، جہاز رانی صنعت کے لیے بیمہ ایجنسیاں، نقل وحمل کے ڈپواور بینکنگ ادارہ قائم ہونے لگے۔ مزید برآں کمپنی کے انتظامی صدرفاتر اندرون ملک بنائے گئے۔ کلکتہ میں واقع رائٹرس اسی طرح کا ایک دفتر تھی۔ قلعہ کے بیرونی اطراف میں یوروپی تاجروں اور ایجنٹوں نے یوروپی طرز کے محل نمامکان تعمیر کر لیے۔ بعض نے شہری مضافاتی علاقے میں پائیں باغ والے مکان (Garden houses) تعمیر کیے۔ حکمراں کے ممتاز طبقہ کے لیے نسلی تفریق پر مبنی کلب، ریس کورس، تھیٹر بھی تعمیر کیے گئے۔ 
8

شکل 8.12

دی اولڈ کورٹ ہاؤس اینڈرائٹرس بلڈنگ، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1786

دائیں جانب کورٹ ہائوس مع سقف راہ داری اور آیونک ستون جو 1792 میں منہدم ہوگیا۔ دوسری عمارت رائٹرس بلڈنگ ہے جہاں ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین (رائٹرس کے نام سے معروف) قیام کرتے تھے۔ بعد میں اسے گورنمنٹ آفس بنادیا گیا۔

9

شکل 9.12

چورنگی میں نئی عمارت، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی تصویر 1787

میدان کے مشرقی کنارے پر انگریزوں کے ذاتی مکان اٹھارہویں صدی کے آخر میں بننے لگے تھے۔ زیادہ تر مکان پلاڈین طرز کے تھے جن میں گرمیوں کی شدت سے بچنے کے لیے ستونوں واے برآمدے بنائے گئے تھے۔

مالدار ہندوستانی ایجنٹوں اور بچولیوں نے بازار کے قرب وجوار میں بلیک ٹٹاؤن میں روایتی کھلے صحن نما مکانات تعمیر کیے تھے۔ انھوں نے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے شہر میں زمین کے وسیع قطعات خرید لیے تھے۔ اپنے انگریز آقائوں کو متاثر کرنے کے لیے تیوہاروں کے زمانے میں فراخ دل پارٹیاں (دعوتیں) منعقد کرتے تھے۔ سماج میں اپنا رتبہ قائم کرنے کے لیے ان لوگوں نے مندربھی تعمیر کرائے تھے۔ غریب مزدور طبقے کے افراد اپنے یوروپی اور ہندوستانی آقائوں کے لیے خانساماں، پالکی اٹھانے والے، سائیس، چوکیدار، حمال اور تعمیراتی وگودی کے مزدور کی حیثیت سے مختلف قسم کی خدمات مہیا کراتے تھے۔ وہ شہر کے مختلف حصوں میں عارضی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ 
10

شکل10.12

ماربل پیلیس، کلکتہ

یہ نئے شہری ممتاز طبقہ سے وابستہ ایک ہندوستانی اہل خانہ کے ذریعہ بنوائی گئی۔ خوبصورت ترین عمارتوں میں سے ایک تھی۔

انیسویں صدی کے وسط میں نو آبادیاتی شہروں کی نوعیت میں مزید تبدیلی آئی۔ 1857 کی بغاوت کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کا رویہ بغاوت کے مسلسل خوف سے طے ہونے لگا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ شہروں کے بہتر انداز پر حفاظت کرنے کی ضرورت ہے اور سفید لوگوں کو ’’دیسی‘‘ باشندوں کے خطرے سے دو زیادہ محفوظ اور علاحدہ بستیوں میں رہنا چاہیے۔ پرانے قصبوں کے اطراف کی چراگاہی زمینوں اور کھیتوں کو صاف کردیا گیا اور نئے شہری علاقے ’’سول لائنس‘‘ کے نام سے قائم کیے گئے۔ سفید لوگوں (انگریزوں) نے سول لائنس میں رہنا شروع کردیا۔ وہ چھٹٹاؤن یوں کے علاقے جہاں ہندوستانی فوجی یوروپیوں کی کمان میں رہتے تھے، انھیں بھی بطور محفوظ بستیوں کی شکل میں ارتقا پذیر کیا گیا۔ یہ علاقے ہندوستانی شہروں سے الگ ہونے کے باوجود وابستہ تھے۔ کشادہ سڑکیں، وسیع باغات میں تعمیر بنگلے، فوجی بیرکیں، پریڈکا میدان اور چرچ کا مطلب یوروپین کےلیے ایک محفوظ جائے پناہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ ہندوستانی شہروں کی گھنی آبادی کے مقابلے ایک منظم شہری زندگی کا نمونہ بھی تھے۔ 
11

شکل 11.12

چت پور بازار، چارلس ڈی اولے کی تیارکردہ تصویر 

چت پور بازار کلکتہ میں بلیک ٹٹاؤن اور وائٹ ٹٹاؤن کی سرحد پر واقع تھا۔ یہاں مختلف طرح کے مکانات کو دیکھیے: ایک طرف دولت مند زمین داروں کی اینٹوں سے بنی عمارت ہے تو دوسری جانب پھوس سے بنی غربا کی جھونپڑیاں تصویر میں نظر آرہی ہیں۔ مندر کو انگریز بلیک پگوڈا (سیاہ مخروطی شکل) کہتے تھے جس کو یہاں رہنے والے گووندرام مترنامی ایک زمین دار نے تعمیر کروایا تھا یہاں تک کہ نسلی تفاخر کی زبان کے پیرایہ میں نام بھی اکثر سیاہی میں رنگے ہوتے تھے۔

انگریزوں کے لیے ’’بلیک‘‘ علاقے نہ صرف بدنظمی اور سیاسی انتشار کا مظہر لیے ہوئے تھے بلکہ غلاظت وبیماری کا بھی مظہر تھے۔ کافی عرصہ تک انگریزوں کی بنیادی دلچسپی ’’وائٹ‘‘ علاقوں میں صفائی اور حفظان صحت بنائے رکھنے میں تھی لیکن جب ہیضہ اور پلیگ جیسی وبائی بیماریاں پھیلیں اور ہزاروں لوگ مارے گئے تو نوآبادیاتی افسران کو محسوس ہوا کہ کچرے اور گندے پانی کی نکاسی نیز عوامی صحت کے تئیں سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کو خوف تھا کہ یہ بیماریاں بلیک ٹٹاؤن سے وہائٹ ٹٹاؤن میں بھی پھیل جائیں گی۔ 1860 کی دہائی سے صفائی ستھرائی سے متعلق سخت انتظامی اقدامات کا نفاذ کیا گیا اور ہندوستانی شہروں میں تعمیراتی سرگرمیوں کو منضبط کیا گیا۔ اسی زمانےمیں زمین دوزپائپ کے ذریعہ پانی کی سپلائی اور گندے پانی کی نکاسی نیز نالیوں کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس طرح ہندوستانی شہروں کو منضبط کرنے کے لیے صفائی ستھرائی چوکسی بھی ایک دوسرا طریقہ کار بن گیا۔ 

تصویر 8.12، 9.12 اور 11.12  کو دیکھیے۔ سڑکوں پر ہونے والی سرگرمیوں پردھیان دیجیے۔ یہ سرگرمیاں اٹھارہویں صدی کے آخر میں کلکتہ کی سڑکوں پر سماجی زندگی کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہیں؟ 

3.3 پہلے ہل اسٹیشن (The first hill stations)

چھٹاؤن یوں کی طرح ہل اسٹیشن (پہاڑ پر سرکاری پڑاؤ) بھی نوآبادیاتی شہری ارتقا کی ایک اہم خصوصیت تھی۔ ہل اسٹیشنوں کی بنیاد ڈالنا اور ترتیب بنیادی طور پر برطانوی افواج کی ضروریات سے وابستہ تھی۔ سملہ (موجودہ شملہ) کی بنیاد گورکھاجنگ (16-1815) کے دوران پڑی۔ 1818 کی اینگلومراٹھا جنگ، انگریزوں کی مٹاؤن ٹ آبو میں دلچسپی کا سبب بنی اور دارجلنگ سکم کے حکمرانوں سے 1835 میں زبردستی چھین لیا گیا۔ ہل اسٹیشن فوجیوں کے ٹھہرنے، سرحدوں کی نگرانی اور دشمن حکمرانوں کے خلاف کار روائیوں کے خلاف جنگی حکمت عملی کے مقامات بن گئے۔
ہندوستانی پہاڑوں کی معتدل اور ٹھنڈی آب وہوا کو نفع بخش طور پر دیکھا جاتا تھا، خاص طور پر جب سے انگریزوں نے گرم موسم کو وبائی امراض کے ساتھ جوڑا تھا۔ انھیں ہیضہ اور ملیریا کا ازحد خوف تھا اور وہ فوجیوں کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ فوج کی غالب موجودگی کے سبب یہ اسٹیشن پہاڑوں میں چھٹٹاؤن ی کی ایک نئی قسم بن گئے۔ ان ہل اسٹیشنوں کو سینی ٹوریم (اقامتی دارالشفا) کی شکل میں بھی ارتقا پذیر کیا گیا یعنی وہ مقامات جہاں فوجیوں کو آرام کرنے اور بیماریوں سے صحت یاب ہونے کے لیے بھیجا جاسکتا تھا۔ 
چونکہ ہل اسٹیشنوں کی آب وہوا یوروپ کی ٹھنڈی آب ہوا سے تقریبا ملتی جلتی تھی اس لیے یہ نئے حکمرانوں کے لیے پرکشش منزل بن گئے۔ گرمیوں کے مہینوں میں ہل اسٹیشنوں کی طرف نقل مکانی وائسرائے کا معمول بن گیا۔ 1864 میں وائسرائے جان لارنس نے سرکاری طورپر اپنی کونسل شملہ میں منتقل کرلی، اس طرح گرمی کے موسم میں راجدھانیوں کی منتقلی کے معمولی پر مہرلگ گئی۔ شملہ ہندوستانی فوج کے کمانڈران چیف (سالاراعظم) کی سرکاری رہائش بھی بن گیا۔ 
12

شکل 12.12

ابتدائی بیسویں صدی کے شملہ میں ایک مثالی نوآبادیاتی مکان

غالبا یہ سرجان مارشل کی رہائش گاہ تھی۔

ہل اسٹیشنوں میں برطانوی اور دوسرے یوروپین گھر کی یاد دلانے والی بستیاں دوبارہ بنانا چاہتے تھے۔ عمارتیں دانستہ طور پر یوروپی طرز کی تعمیر کی گئیں۔ ذاتی مکانوں کے بعد ایک دوسرے سے الگ نمونے کے ولا (دیہی قیام گاہ) اور کاٹیج (چھوٹے مکان) باغات کے درمیان بنائے گئے۔ انگریزی چرچ اور تعلیمی ادارے انگریز تصورات کی نمائندگی کرتے تھے حتی کہ خوش باشی کی سرگرمیاں بھی انگریز ثقافتی روایات سے تشکیل یافتہ تھیں۔ چنانچہ سماجی دعوتیں، چائے پارٹیاں، پکنک، تفریحی تقریب یامیلے، گھوڑدوڑ (ریس) اور تھیٹر دیکھنے جانا جیسے معمول ہل اسٹیشنوں میں نوآبادیاتی افسران کے درمیان مشترک بن گئے۔ ریلوے کی شروعات ہونے سے ہل اسٹیشن بشمول ہندوستانیوں کے بہت سے لوگوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہوگئے۔ اعلیٰ اور متوسط درجہ کے ہندوستانی جیسے مہاراجہ، وکلا اور تجار وغیرہ ان اسٹیشنوں کی طرف کھنچے چلے آنے لگے کیونکہ وہ یہاں آنے کے متحمل تھے اور حکمراں انگریز ممتاز طبقے سے نزدیکی قربت کے متمنی تھے۔
ہل اسٹیشن نوآبادیاتی معیشت کے لیے بہت اہم تھے۔ قرب وجوار کے علاقوں میں چائے اور کافی کی پودکاری کرنے سے میدانی علاقوں سے بڑی تعداد میں مہاجر مزدور آنا شروع ہوگئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہل اسٹیشن زیادہ عرصہ تک ہندوستان میں یوروپی لوگوں کے لیے استثنائی طور پر نسلی محصورہ (بستی) باقی نہیں رہ گئے تھے۔ 
13

شکل 14.12

کلکتہ میں سڑک پر چلتی ہوئی ٹرام

4.3 نئے شہروں میں سماجی زندگی

(Social life in the new cities)

ہندستانی آبادی کے لیے نئے شہر حیرت انگریز مقامات تھے جہاں زندگی تیز دوڑتی نظر آتی تھی۔ یہاں خوشحالی اور غربت کے درمیان ڈرامائی فرق تھا۔
گھوڑا گاڑی جیسی نقل وحمل کی نئی سہولیات اور بعد میں ٹرام نیز بسوں کا مطلب یہ تھا کہ لوگ شہری مرکز سے دور جاکر بھی رہ سکتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کام کرنے اور رہائش کی جگہ دونوں بتدریج الگ ہوتی گئی۔ گھر سے دفتر یا فیکٹری تک کا سفر کرنا پوری طرح ایک نئے قسم کا تجربہ تھا۔ پرانے شہروں سے باہم مربوط اور مانوسیت کا شعور بھی باقی نہیں رہا۔ 
مثال کے طور پر عوامی پارک ، تھیڑ اور بیسویں صدی میں سینما ہال جیسے عوامی مقامات کی تعمیر نے تفریح اور سماجی تفاعل کی حددرجہ دلچسپی کی حامل نئی شکلیں مہیا کرائیں تھیں۔ شہروں کے اندر نئے سماجی گروہ کی تشکیل ہوئی اور لوگوں کی پرانی شناخت کی اہمیت نہ رہی۔ تمام طبقات کے افراد بڑے شہروں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ کلرک، استاد، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر اور محاسب کی مانگ میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ’’متوسط‘‘ طبقہ میں بھی ترقی ہوئی۔ اسکول، کالج اور لائبریری جیسے نئے تعلیمی ادارے تک ان کی رسائی تھی۔ تعلیم یافتہ افراد ہونے کے ناطے سماج اور حکومت کے متعلق وہ اپنی آرا اخبارات، رسائل اور عوامی جلسوں میں پیش کرسکتے تھے۔ اس طرح بحث ومباحثہ اور بات چیت کا ایک نیا عوامی حلقہ ظہور میں آیا۔ 
سماجی رسم ورواج، قاعدے وقانون اور معمولات پر سوالات اٹھنے لگے۔ یہ سماجی تبدیلیاں آسانی کے ساتھ واقع نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر شہروں میں خواتین کے لیے نئے مواقع مہیا تھے جب کہ متوسط طبقے کی خواتین رسائل، خودنوشت سوانح عمریوں اور کتابوں کے ذریعہ خود کو متعارف کرانے کی جستجو کر رہی تھیں۔ روایتی سرقبیلی طرز عمل کر تبدیل کرنے کی ان کوششوں سے بہت سے افراد ناراض تھے۔ قدامت پرست افراد خوفزدہ تھے کہ عورتوں کی تعلیم دنیا کو تہہ وبالا کرکے رکھ دے گی اور پورے سماجی نظم کی بنیاد خطرے میں پڑجائے گی حتی کہ وہ مصلح جو عورتوں کی تعلیم کے حمایتی تھے وہ بھی عورتوں کو بنیادی طور پر ماں، بیوی کی شکل میں دیکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ گھر کی چہاردیواری کے اندر ہی رہیں۔ وقت گزرنے کےساتھ عوامی مقامات پر عورتیں زیادہ دکھائی دینے لگیں۔ وہ شہر کے نئے پیشوں میں جیسے گھریلو ملازمہ اور فیکٹری مزدور، معلمہ، تھیٹر اور فلم کی ادا کارائوں کی شکل میں داخل ہونے لگیں۔ طویل عرصہ تک خواتین جو گھروں سے باہر نکل کر عوامی حلقوں میں جارہی تھیں سماجی تنقید کا ہدف بنی رہیں۔ شہروں کے اندر غریب مزدور یا کاری گرطبقہ ایک دیگر نیا طبقہ تھا۔ روزگار کی امید میں دیہی علاقوں سے مفلس ونادارلوگ ابنوہ کی شکل میں شہروں کی طرف آرہے تھے۔ کچھ لوگ شہروں کو روزگار کے مواقع کے مقامات کی شکل میں دیکھتے تھے۔ دیگر کچھ لوگ ایک مختلف طرز زندگی کی جاذبیت سے راغب ہورہے تھے کچھ لوگ چیزوں کو دیکھنے کی خواہش میں جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھیں تھیں کھنچ رہے تھے۔ شہروں میں معاش کی قیمت کو انتہائی حد تک کم کرنے کی غرض سے زیادہ تر مرد مہاجرین اپنی فیملیوں کو اپنے آبائی گاؤں میں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ شہر میں زندگی ایک جدوجہد تھی نوکری غیر یقینی تھی، کھانا مہنگا تھا اور قیام کرنے کی جگہ کا خرچ برداشت کرنا مشکل امر تھا۔ تاہم غربا اکثر اوقات اپنا ایک زندہ شہری تمدن وجود میں لے آئے تھے۔ وہ مذہبی تہواروں، تماشہ (لوک تھیٹر) اور سوانگ (طنزیہ) میں پر جوش حصہ لیتے تھے جن میں اکثر ان کے ہندوستانی اور یوروپی آقاؤں کے باطل دعویٰ کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔

امارکتھا (میری کہانی) (Amar Katha (My Story))

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں بنودیتی داسی (1941-1863)بنگالی تھیٹر میں پیش رو شخصیت تھیں اور ڈرامہ نویس وہدایت کا رگریش چندر گھوش (1912-1844) کے ساتھ کام کیا۔ کلکتہ میں اسٹاتھیٹر (1883)کو قائم کرنے میں ان کا اہم رول تھا جو آگے چل کر ڈرامہ وفلم سازی کے لیے ایک مشہور مرکز بن گیا۔ 1910 اور 1913 کے درمیان ’’امارکتھا‘‘ (میری کہانی) کے عنوان سے انھوں نے قسط وار اپنی سوانح عمری تحریر کی۔ انھوں نے سماج میں عورتوں کے مسائل پر مبنی تمثیلی کردار ادا کیے۔ ایک ادا کارہ، ادارہ کی معمار اور مصنفہ جسے مختلف دائروں میں کام کرنے کے سبب ہوئے ایک ماہر پیشہ ور تھیں لیکن اس زمانے کے سرقبیلی سماج نے عوامی حلقوں میں ان کی مثبت موجودگی کی مذمت کی۔ 

14

شکل 15.12

انیسویں صدی کے آخر کی کالی گھاٹ پینٹنگ

خواتین طاقت کےمتعلق مردوں کی تشویش کا اظہار اکثر ایک جادو گر عورت کی تصویر کے ذریعہ کیا جاتا تھا جو اس کو بھیڑ بنادیتی تھی۔ جوں جوں عورتیں تعلیم یافتہ ہونا شروع ہوئیں وہ اپنے گھروں کی گوشہ گیری سے باہر نکلنے لگیں اس طرح مقبول عام تصاویر میں عورتوں کی ایسی تصاویر کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔

بحث کیجیے...

آپ کی رہائش گاہ سے سب سے قریب ریلوے اسٹیشن کون سا ہے؟ معلوم کیجیے کہ وہ کب تعمیر کیا گیا اور کیا اسے اشیا کی مال برداری یا لوگوں کی آمد ورفت کےلیے تعمیر کیا گیا تھا۔ بزرگ لوگوں سے معلوم کیجیے کہ وہ اس اسٹیشن کے متعلق کیا جانتے ہیں۔ کیا آپ اکثر اسٹیشن پر جاتے ہیں؟ کیسے اور کیوں ؟ 

غریب مہاجرین کی نظر میں (Through the eyes of poor migrants)

یہ عوامی نغمہ (سوانگ) ابتدائی بیسویں صدی میں جیلاپاڑہ (مچھواروں کے کوارٹر) کے باشندوں کے درمیان کافی مقبول تھا:

دل میں ایک بھٹٹاؤن ا سے کلکتہ میں آیا دل میں ایک امنگ لیے میں کلکتہ آیا

کیسن کیسن مجاہم ہیا دیکھن پایا کیسی کیسی دلفریب چیزیں یہاں دیکھنے کو ملیں

اری سماج، برہما سماج، گرجا، مہجد آریہ سماج، برہموں سماج، چرچ اور مسجد 

ایک لوٹا میں ملتا دودھ، پانی، سب چیز ایک ہی برتن میں سب کچھ مل سکتا ہے جیسے دودھ، پانی اور چیزیں

چھوٹا بڑا آدمی سب، باہر کرکے دات ہر چھوٹے اور بڑے اپنے اپنے دانت دکھاتے ہیں 

چھاپڑمارکے بولتا ہے، انگریجی میں بات اور فراٹے دارانگریزی بولتے ہیں

4.نسلی علاحدگی کا عمل، شہری منصوبہ بندی اور فن تعمیر

(SEGREGATION, TOWN PLANNING AND ARCHITECTURE)

مدراس، کلکتہ اور بمبئی (MADRAS, CALCUTTA AND BOMBAY)

مدراس، کلکتہ اور بمبئی نوآبادیاتی ہندوستان کے بڑے شہروں میں بتدریج ارتقا پذیر ہوگئے۔ ان شہروں کی کچھ ممتاز خصوصیات کا تجزیہ ہم سابقہ حصوں میں کر چکے ہیں یہاں اب ہم شہر کی خصوصیت پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ 

1.4 مدراس میں آباد کاری اور نسلی علاحدگی کا عمل

(Settlement and segregation in Madras)

کمپنی نے اپنی تجارتی سرگرمیاں سب سے پہلے مغربی ساحل پر سورت کی عرصہ سے قائم شدہ بندرگاہ پر ترتیب دیں۔ اس کے بعد کپڑوں کی تلاش میں انگریز سودا گر مشرقی ساحل تک آنے لگے۔ 1639 میں انھوں نے مدراس پٹم میں ایک تجارتی چوکی تشکیل دی۔ اس بستی کو مقامی طور پر چینا پٹنم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ کمپنی نے یہاں آبادکاری کا حق مقامی تیلگوز زمین داروں، کالا ہستی کے نائکوں سے خرید لیا جو اس علاقے میں تجارتی سرگرمی کی حمایت کے بے حد مشتاق تھے۔ فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ رقابت (63-1746) کے سبب انگریزوں کو مدراس کی قلعہ بندی کرنی پڑی اور اپنے نمائندوں کو سیاسی اور انتظامی امور کے اختیارات سونپ دیے۔ 1761 میں فرانسیسیوں کی شکست کے ساتھ مدراس زیادہ محفوظ ہوگیا اور ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر نموپذیر ہونا شروع ہوا۔ یہاں انگریزوں کی فوقیت اور ہندوستانی تاجروں کی ماتحت حیثیت زیادہ واضح دکھائی دیتی تھی۔ 
فورٹ سینٹ جارج وہائٹ ٹٹاؤن کا مرکز بن گیا جہاں زیادہ تر یوروپی لوگ رہتے تھے۔ دیواروں اور فصیلی برجوں نے اسے نمایاں گھیرا بندی بنادیا تھا۔ قلعے کے اندر رہنے کی اجازت رنگ اور مذہب سے طے ہوتی تھی۔ کمپنی اپنے ملازمین کو کسی ہندوستانی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ انگریزوں کے علاوہ ڈچوں اور پرتگالیوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت تھی کیونکہ یہ یوروپی اور عیسائی تھے۔ انتظامی اور عدلیہ نظام بھی سفید آبادی کی طرفداری کرتا تھا۔ کم تعداد میں ہونے کے باوجود یوروپی حکمراں تھے اور مدراس کا ارتقا شہر میں سفید اقلیت کی آسانی اور ضروریات کو سامنے رکھ کر کیا گیا۔ 
بلیک ٹٹاؤن قلعے کے بیرونی اطراف ترقی پذیر ہوا۔ اس کو سیدھی قطاروں میں تعمیر کیا گیا جو نوآبادیاتی شہروں کی خصوصیت تھی۔ تاہم 1700 کی دہائی کے وسط میں اسے مسمار کردیا گیا۔ کیونکہ قلعہ کے اطراف کے علاقے کو صاف کرکے محفوظ حلقہ بنایا گیا تھا۔ ایک نئے بلیک ٹٹاؤن کوشمال میں آگے کی طرف ارتقا پذیر کیا گیا۔ یہاں بنکروں، دست کاروں، بچولیوں اور ترجمانوں کے مکان تھے جو کمپنی کی تجارت میں نہایت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ 
15

شکل 16.12

مدراس کا نقشہ

سینٹ جارج فورٹ کے اطراف میں وہائٹ ٹاؤن بائیں جانب اور دائیں جانب پرانا بلیک ٹاؤن ۔ فورٹ سینٹ جارج دائرہ میں نشان زد ہے۔ توجہ دیجیے کہ بلیک ٹاؤن کس طرح تعمیر کیا گیا۔

16

شکل 17.12

بلیک ٹٹاؤن کا ایک حصہ مدراس، تھامس اور ولیم ڈینیل کی بنائی ہوئی تصویر ڈینیل کی ڈرائنگ پر مبنی اورینٹل میں شائع تصویر 1798

اس تصویر میں آپ جو کھلی جگہ دیکھ رہے ہیں وہ پرانے بلیک ٹٹاؤن کو مسمار کرکے تیار کی گئی تھی۔ بنیادی طور پر اسے گولہ باری کے مقصد سے صاف کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کھلے میدان کی ہرے علاقے (میدان)کے طور پر دیکھ بھال کی گئی۔ خط افق پر نئے بلیک ٹٹاؤن کا ایک حصہ بھی دیکھاجاسکتا ہے جو قلعے سے دور وجود میں آیا تھا۔ 

اپنے مندراور بازار کے اردگرد تعمیر رہائشی مکان کے ساتھ نیا بلیک ٹاؤن روایتی ہندوستانی شہروں کے مشابہ تھا۔ بستی کے درمیان ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی آڑی ترچھی تنگ گلیاں تھیں۔ یہاں واضح قابل شناخت ذات کے لوگوں کے محلے تھے۔ 
بنکروں کے علاقے کا مطلب چنٹادری پیٹ تھا۔ واشرمین پیٹ رنگ سازوں اور کپڑے سفید کرنے والوں (دھوبی) کی کالونی تھی۔ رویا پورم عیسائی ملاحوں کی بستی تھی جو کمپنی کے لیے کام کرتے تھے۔
 
عمدہ مواقع پیدا کرکے اور مختلف جماعتوں کے لیے جگہ مہیا کراکے اطراف کے بہت سارے گاؤں کو ملا کر مدراس کو بنایا گیا۔ بہت سے معاشی امور کی انجام دہی کرنے والی مختلف جماعتیں آئیں اور مدراس میں آباد ہوگئیں۔ دوبھاشی ایسے ہندوستانی تھے جو دو زبانیں بول سکتے تھے یعنی مقامی زبان اور انگریزی۔ وہ ایجنٹ اور سودا گر کی شکل میں کام کرتے تھے اور ہندوستانی سماج نیز انگریزوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے تھے۔ وہ دولت حاصل کرنے کے لیے حکومت میں اپنی مراعات یافتہ پوزیشن استعمال کرتے تھے۔ بلیک ٹاؤن میں فلاحی کاموں اور مندروں کی سرپرستی کرنے سے سماج میں ان کی طاقتور پوزیشن قائم ہوگئی تھی۔ 

ابتدا میں کمپنی میں ملازمت پانے والے ویلاروں نے اجارہ داری قائم کرلی۔ یہ ایک مقامی ذات تھی جس نے برطانوی حکمرانوں کے ذریعہ مہیا کیے گئے نئے مواقع کا فائدہ اٹھایا۔ انیسویں صدی میں انگریزی تعلیم کی وسعت کے ساتھ برہمنوں نے انتظامیہ میں مساوی پوزیشن پانے کے لیے مقابلہ آرائی شروع کردی۔ ایک طاقتور تجارتی گروہ تیلگو کو ماٹیوں کا تھا جو شہر میں اناج کی تجارت پر کنٹرول رکھتا تھا۔ اٹھارہویں صدی سے گجراتی مہاجن (بینکر) بھی یہاں موجود تھے جبکہ پیریار اور وینیار غریب مزدور طبقے کی تشکیل کرتے تھے۔ ارکاٹ کے نواب کے قریب واقع ٹرپلی کین (Triplicance) میں آباد ہوگئے جو ایک بڑی مسلم بستی کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سے پہلے مائلاپور اور ٹریلی کین ہندومذہبی مرکزتھے جو برہمنوں کے کیتھڈرل کے ساتھ رومن کیتھولک طبقے کا مرکز تھا۔ یہ تمام بستیاں مدراس شہر کا حصہ بن گئیں۔ اس طرح بہت سے گاؤں کو ملالینے کے بعد مدراس ایک وسیع گراں اور کم گھنی آبادی والا شہر بن گیا جس پر یوروپی سیاحوں کی توجہ بھی مرکوز ہوئی اور سرکاری افسران نے بھی اس پررائے زنی کی۔ 

پیٹ ایک تامل لفظ ہے جس کے معنی بستی کے ہیں جب کہ پورم لفظ گاؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

17

شکل 18.12

بونامالی روڈ پر ہناہو ایک گارڈن ہائوس 

ماخذ 3

ایک دیہی شہر؟ (A rural city?)

1908 

کے اپیریل گزیٹیر سے مدراس کے ضمن میں یہ اقتباس پڑھیے:

بہتر یوروپین مکان کمپاؤنڈ کے وسط میں تعمیر کیے جاتے تھے جو تقریبا پارکوں جیسا وقار حاصل کر لیتے اور ان کے درمیان لگ بھگ دیہی فیشن کی طرح دھان کے کھیت آتے جاتے رہتے۔ حتی کہ بلیک ٹاؤن اور ٹرپلی کین جیسی زیادہ گھنی فعال آبادی والے علاقے میں بھی ایسا اژدحام کم پایا جاتا تھا جیسا کہ بہت سے دیگر شہروں میں پایا جاتا ہے.........


رپورٹ میں لکھے ہوئے بیانات سے اکثر رپورٹ لکھنے والے کے نئے خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بیان میں کس قسم کے شہری علاقے پر 

رپورٹر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور کسی قسم کے علاقے پر تحقیر کا اظہار کرتا ہے؟ کیا آپ ان خیالات سے اتفاق کرتے ہیں؟

جوں جوں انگریزوں نے اپنی طاقت مستحکم کی یوروپین باشندے قلعے سے باہر نکلنے لگے۔ باغیچہ مکان (گارڈن ہاؤس) سب سے پہلے ماؤنٹ روڈ اور یوامالی روڈ دو اہم سڑکوں پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک بننا شروع ہوگئے، یہ قلعے سے چھاؤنی تک جانے والی سڑک تھی۔ دولت مند ہندوستانی بھی انگریزوں کی طرح رہنے لگے جس کے نتیجے میں مدراس کے مرکز کے اطراف میں واقع گاؤں کی جگہ بہت سے نئے شہری مضافاتی علاقے پیدا ہوگئے۔ یہ اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ دولت مند لوگ نقل وحمل کا خرچ برداشت کرسکتے تھے۔ غریب لوگ اپنے کام کرنے کی جگہ کے نزدیک گاؤں میں آباد ہوگئے۔ مدراس کی بتدریج شہرکاری کا مطلب یہ تھا کہ ان گاؤں کے درمیان والا علاقہ شہر کے اندر آگیا تھا جس کے نتیجے میں مدراس ایک نیم دیہی شہر نظر آنے لگا۔ 

2.4 کلکتہ کی شہری منصوبہ بندی (Town planning in Calcutta)

جدید شہری منصوبہ بندی کی شروعات نوآبادیاتی شہروں میں ہوئی۔ یہ ضرورت مکمل شہری علاقے کا خاکہ تیار کرنے اور شہری زمین کے استعمال کے مقررہ ضابطہ کے لیے تھی۔ منصوبہ بندی عموما اس بات سے محرک ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ شہر کیسا نظر آئے گا، اس کو کس طرح ارتقا پذیر کیا جائے اورکن طریقوں سے علاقوں کو منظم اور ترتیب دیا جائے۔ شہری زندگی اور وہاں کے علاقوں پر ریاست کی طاقت کو مان کر مشق کی جاتی تھی، اس سے ارتقا کے نظریہ کی ترجمانی ہوتی تھی۔
انگریزوں نے بنگال میں اپنی حکمرانی کے ابتدائی سالوں سے ہی شہری منصوبہ بندی کا کام خود اپنے ہاتھوں میں کیوں لیا اس کے بہت سے اسباب تھے۔ ایک فوری وجہ حفاظت تھی۔ 1756 میں بنگال کے نواب سراج الدولہ نے کلکتہ پر حملہ کیا اور چھوٹے قلعہ جس کو انگریز تاجروں نے گودام کے لیے تعمیر کیا تھا، تباہ کردیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز تاجر مسلسل نواب کی خود مختاری پر سوال اٹھارہے تھے۔وہ سرحدی ٹیکس ادا کرنے میں تذبذب کا شکار تھے اسی لیے نواب کی شرائط پر تعمیل کرنے سے انکار کردیا کیوں کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرنے کی امید رکھتے تھے۔ جبکہ سراج الدولہ اپنی مختار کاری کو منوانا چاہتا تھا۔
بعد ازاں 1757 میں پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کی شکست کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک نیا قلعہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جس پر آسانی سے حملہ نہ کیا جاسکے۔ کلکتہ کی نشوونما تین گاؤں جنھیں ستانتی، کولکاتا اور گووند پور کہا جاتا تھا، کو ملا کر ہوئی۔ کمپنی نے جنوب بعید میں واقع گاؤں گوندپور کی جگہ کو صاف کرنے کے لیے یہاں کے تاجروں اور بنکروں کو اس جگہ کو چھوڑ دینے کے لیے کہا۔نئے قلعہ ولیم کے اطراف ایک بڑی کشادہ جگہ خالی چھوڑ دی گئی جو مقامی طور پر میدان یا ’’گریرمٹھ‘‘ کے نام سے معروف تھی یہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اگر دشمن فوج قلعہ کی طرف آگے بڑھے تو اس کے خلاف گولہ باری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ ایک دفعہ جب انگریزوں کو کلکتہ میں اپنی مستقل موجودگی کے متعلق پختہ یقین ہوگیا تو وہ قلعہ کے باہر نکلنے لگے اور میدان کے بیرونی حاشیہ کے ساتھ ساتھ رہائشی عمارت بنانی شروع کردیں۔ اس طرح کلکتہ میں انگریزوں کی بستیاں بتدریج ایک واضح شکل اختیار کرنے لگیں۔ قلعہ کے اردگرد کی وسیع کشادہ جگہ (جو ابھی تک موجود ہے) ایک امتیازی جگہ بن گئی۔ منصوبہ بندی کے حوالے سے کلکتہ میں یہ پہلا اہم شہر تھا۔
کلکتہ میں شہری منصوبہ بندی کی تاریخ بلاشبہ فورٹ ولیم کی عمارت اور میدان کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ 1798 میں لارڈ ویلزلی گورنر جنرل بنا۔ اس نے کلکتہ میں اپنے لیے ایک بڑا محل ’’گورنمنٹ ہاؤس‘‘ تعمیر کیا۔ یہ عمارت انگریزوں کے اقتدار کی متوقع ترسیل تھی۔ وہ ہندوستانی آبادی والے شہر کے حصے کے اژدحام، معمول سے زیادہ ہریالی، گندے تالابوں، بدبو اور گندے پانی کی نکاسی کی خستہ حالت کے متعلق پر تشویش تھا۔ ان حالات سے انگریز فکر مند تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایک وقت میں مرطوب نشیبی علاقوں والی زمین اور ٹھہرے پانی کے تالابوں نے نکلنے والی زہریلی گیس بہت سی بیماریوں کا سبب ہوتی ہے۔ منطقہ حارہ کے موسمی حالات کو خود غیر صحت مند اور ناتواں کرنے والے حالات کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ شہر میں کھلی جگہیں پیدا کرکے شہر کے ماحول کو صحت مند بنانا ہی واحد راستہ تھا۔ 1803 میں شہری منصوبہ بندی کی ضرورت کے لیے لارڈویلزلی نے ایک انتظامی حکم جاری کیا اور اس مقصد کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کیں۔ بہت سے بازاروں، گھاٹوں، قبرستانوں اور دباغ خانوں کو صاف کیا گیا یا ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد سے ’’عوامی صحت ‘‘ کا تصور ایک ایسا خیال بن گیا جس کا شہر کی صفائی اور شہری منصوبہ بندی میں اعلان کیا گیا۔ 

گولہ باری کی جگہ یا راستہ (The line of fire)

یہ دلچسپ ہے کہ کلکتہ کے لیے جو نمونہ تیار کیا گیا وہ دیگربہت سے شہروں میں بھی دوہرایا گیا۔ 1857 کی بغاوت کے دوران بہت سے شہر باغیوں کی محفوظ جائے پناہ بن گئے۔ ان کی فتح کے بعد انگریز ان مقامات کو خود اپنے لیے محفوظ بنانے لگے۔ مثال کے طور پر دہلی میں انھوں نے لال قلعہ پر قبضہ کیا اور یہاں ایک فوج تعینات کردی۔ پھر انھوں نے قلعے کے نزدیک بنی ہوئی عمارات کو منہدم کردیا اور ہندوستانی محلوں اور قلعے کے درمیان ایک وسیع وعریض خالی جگہ بنائی۔ اس کے لیے دلیل وہی دی گئی جو سو سال قبل کلکتہ میں دی گئی تھی۔ پیش بندی کے مدنظر اگر شہر کے لوگ پھر سے ایک مرتبہ فرنگی راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو ان پر راست گولہ باری کے لیے مناسب کشادہ جگہ ہونا ضروری تھی۔ 

18

شکل 19.12

گورنمنٹ ہائوس، کلکتہ چارلس ڈی اوئلی کی بنائی تصویر 1848

گورنر جنرل کی رہائش گاہ، گورنمنٹ ہائوس، جس کو ویلزلی نے برطانوی راج کی جاہ جلال کی علامت کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔ 

20

شکل 20.12

کولکاتہ میں چت پور روڈ کی طرف جاتے ہوئے ایک بازار

شہروں کی مقامی جماعتوں کے لیے بازار تجارتی اور سماجی مبادلے کی جگہ تھی۔ یوروپ کے لوگ بازار کو دیکھ کر مسحور ہوتے تھے لیکن اس کو اژدحام سے پر اور گندی جگہ کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ 

ماخذ 4

’’ہر قسم کی زحمت وتکلیف کے لیے مقررہ ضابطے‘‘

(''For the regulation of nuisances of every description'')

انیسویں صدی کی ابتدا تک انگریز یہ محسوس کرنے لگے کہ سماجی زندگی کے سبھی پہلوئوں کو منضبط کرنے کے لیے مستقل اور عوامی قانون تشکیل دینا ضروری ہیں حتی کہ نجی عمارات اور عوامی سڑکوں کی تعمیر بھی واضح معیاری قوانین کے مطابق ہونا ضروری تھی۔ ویلزلی نے اپنے کلکتہ منٹ 1803(Culcatta Munute) میں لکھا تھا: 

یہ سرکار کا بنیادی فرض ہے کہ وہ سڑکیں، گلیاں، نالیاں اور پانی کے نظم میں اصلاح کے لیے ایک جامع نظام بنا کر اور مکانات کی تعمیر وتقسیم اور عوامی عمارات کے لیے مستقل قانون وضابطے متعین کرکے اور ہر قسم کی زحمت وتکلیف کے لیے مقررہ ضابطے بنا کر وہ اس بڑے شہر کے باشندوں کے لیے صحت، تحفظ اور سہولت مہیا کرائے۔ 

ویلزلی کے جانے کے بعد شہری منصوبہ بندی کا کام حکومت کی مدد سے لاٹری کمیٹی (1817) کے ذریعہ جاری رہا۔ لاٹری کمیٹی کا نام اس لیے پڑا کیونکہ شہر کی اصلاح کے لیے رقم عوام میں لاٹری بیچ کر فراہم کرنا عوامی ذہن (فلاحی) کے شہریوں کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا نہ کہ صرف حکومت کی۔ لاٹری کمیٹی نے شہر کا ایک نیا نقشہ بنوایا جس سے کلکتہ کی ایک جامع تصویر سامنے آسکے۔ کمیٹی کی اہم سرگرمیوں میں سے ایک شہر کے ہندوستانی آبادی والے حصوں میں سڑکوں کی تعمیر تھی اور ندی کنارے سے ’’غیر قانونی قبضے‘‘ صاف کرنا تھا۔ کلکتہ کے ہندوستانی آبادی والے علاقوں کو صاف کرنے کی مہم میں کمیٹی نے بہت سی جھونپڑیوں کو ہٹا دیا اور غریب مزدور طبقے کو وہاں سے بے دخل کردیا اور انھیں کلکتہ کے قرب وجوار کے علاقے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ 
آئندہ کچھ دہائیوں میں وبائی امراض کے خطرہ سے شہری منصوبہ بندی کو مزید قوت ملی۔ 1817 میں ہیضہ پھیلنا شروع ہوا اور 1896 میں پلیگ پھیل گیا۔ تاہم میڈیکل سائنس کے ذریعہ بھی ان بیماریوں کی وجہ ثابت نہیں ہوسکی۔ حکومت نے اس وقت کے مقبول نظریہ بودوبوش کے حالات اور بیماری کے پھیلنے کے درمیان ایک راست تعلق ہوتا ہے، کی بنیاد پر عمل جاری رکھا۔ اس طرح کے خیالات کو دواریکا ناتھ ٹیگور اور رستم جی کو واس جی جیسے ذی قدر لوگوں کی حمایت ملی جو محسوس کرتے تھے کہ کلکتہ کو مزید صحت مند بنانا ضروری ہے، گھنی آبادی والے علاقوں کو گندے علاقوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا کیونکہ وہ ہوا کی گردش میں راست طور پر سورج کی روشنی میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے۔ اس وجہ سے مزدور طبقے کی جھونپڑیوں یا ’’بستیوں‘‘ کو انہدام کا ہدف بنایا گیا۔ شہر کے غریب لوگوں یعنی مزدوروں، پھیری والے، دست کاروں، جمالوں اور بے روزگاروں کو ایک بار پھر طاقت کے ذریعہ کے دور کے حصوں میں دھکیل دیا گیا۔ بار بار آگ لگنے کے سبب عمارتی تعمیر کے سخت ضابطے بنے، مثال کے طور پر 1836 میں پھوس کے جھونپڑی بنانے پر پابندی لگادی گئی اور اینٹ کی بنی ہوئی چھت کو واجب التعمیل قرار دیا گیا۔ 
انیسویں صدی کے آخر تک شہر میں سرکاری دخل اندازی مزید سخت ہوگئی۔ وہ دن جاچکے تھے جب شہری منصوبہ بندی کو حکومت اور باشندوں کے ذریعہ مشترکہ کام کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس کے بجائے حکومت نے بشمول مالی وسائل شہری منصوبہ بندی کی تمام پیش قدمی کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس عمدہ موقع کا استعمال زیادہ جھونپڑیوں کو صاف کرنے کے لیے کیا گیا اور دوسرے علاقوں کی قیمت پر شہر کے انگریز آبادی والے حصوں کو ترقی دی گئی۔ ’’صحت مند‘‘ اور ’’غیر صحت مند‘‘ کی نئی تقسیم کے ذریعہ ’’وہائٹ ٹاؤن ‘‘ اور ’’بلیک ٹاؤن ‘‘ والے نسلی امتیاز پر وجود پذیر تقسیم کو مزید تقویت ملی۔ میونسپلٹی میں موجود ہندوستانی نمائندوں نے شہر کے یوروپین آبادی والے حصوں کی ترقی کے تئیں انگریزوں کے جانب دارانہ تعصب کے خلاف احتجاج کیا۔ ان سرکاری پالیسیوں کے خلاف عوام کے احتجاج نے ہندوستانیوں کے اندر نو آبادیاتی مخالف جذبات اور قوم پرستی کو تقویت دی۔
اپنی ترقی پذیر سلطنت کے ساتھ انگریز کلکتہ، بمبئی اور مدراس جیسے شہروں کو مرعوب کن شاہی راجدھانیوں میں تبدیل کرنے کے میلان کو ترقی دینے لگے۔ اس صورت حال سے شہروں کے جاہ وجلال اور شاہی اقتدار کے اختیار کی ترجمانی ہوتی تھی۔ شہری منصوبہ بندی میں ہر اس چیز کی نمائندگی کی گئی جن کے لیے انگریز دعویٰ کرتے تھے:
عقلی نظم وترتیب، نہایت محتاط بجا آوری اور مغربی جمالیاتی نصب العین۔ شہروں کا صاف ستھرا اور منظم ومنصوبہ بند اور خوب صورت ہونا ضروری تھا۔

ویلزلی نے حکومت کے فرائض کی کس طرح توضیح کی ہے؟ اس حصہ کو پڑھیے اور بحث کیجیے کہ اگر ان خیالات کو نافذ کیا جاتا تو ان سے شہر میں آباد ہندوستانیوں پر کیا اثر پڑتا۔

بستی (بنگالی اور ہندی میں) کے حقیقی معنی محلہ یا چھوٹی آبادی تھا تاہم انگریزوں نے اس لفظ کا مفہوم محدود کردیا اور اس کے معنی غریبوں کی وقتی یا عارضی جھونپڑیوں کے لیے مراد لیے جانے لگے۔ انیسویں صدی کے آخر میں انگریزوں کے دستاویزات میں ’’بستی‘‘ گندی پسماندہ بستی بن گیا۔ 

21

شکل 21.12

جے اے ایچ شالچ کے ذریعہ بنائے گئے منصوبہ سے 1825 لاٹری کمیٹی اصلاحات کے بعد کلکتہ میں یوروپین ٹاؤن کا ایک حصہ 

آپ کمپٹٹاؤن ڈ (احاطہ) کے ساتھ یوروپی مکانات کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

22

شکل 22.12

کلکتہ میں ایک بستی

3۔4 بمبئی میں فن تعمیر (Architecture in Bombay)

اگر اس شاہی بصیرت کو حقیقت آفریں بنانے کا ایک طریقہ شہری منصوبہ بندی کے ذریعہ تھا تو دوسرا طریقہ شہروں میں تزئین کاری کے ساتھ شاندار عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے تھا۔ شہروں میں بشمول قلعے، سرکاری آفس، تعلیمی ادارے، مذہبی عمارتیں، یادگاری مینار،تجارتی ڈپو حتی کہ گودی اور پل جیسی عمارتیں بھی ہوسکتی تھیں۔ گوکہ بنیادی طور پر یہ عمارتیں دفاع، نظم ونسق اور تجارت جیسے امور کی ضروریات کو انجام دیتی تھیں۔ یہ شاذونادر ہی سادہ عمارتیں ہوتی تھیں۔ اکثر ان عمارتوں کا مطلب شاہی اقتدار، قوم پرستی اور مذہبی وقار جیسے تصورات کی نمائندگی تھا۔ آئیے دیکھیں کہ بمبئی کے معاملے میں اس تصویرکو کس طرح نمونہ بنا کر دکھایا گیا ہے۔ 
بمبئی ابتدائی طور پر سات جزیروں پر مشتمل تھا۔ جوں جوں آبادی بڑھی زیادہ جگہ پیدا کرنے کے لیے جزیروں کو آپس میں جوڑ دیا گیا اور یہ بتدریج ایک بڑے شہر میں مل گئے۔ بمبئی نوآبادیاتی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی تھا۔ مغربی ساحل پر اولین بندرگاہ ہونے کے سبب یہ بین الاقوامی تجارت کا مرکز تھا۔ انیسویں صدی کے آخر تک ہندوستان کی نصف درآمد بر آمد بمبئی کے ذریعہ ہوتی تھی۔ اس تجارت کی سب اہم شے افیم تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی چین کو برآمد کرتی تھی۔ ہندوستانی تاجر اور ثالثی اس کو سپلائی کرتے تھے اور اس کی تجارت میں حصہ لیتے تھے اور انھوں نے بمبئی کی معیشت کو مالوا، راجستھان اور سندھ سے مربوط کرنے میں مدد کی تھی جہاں افیم پیدا ہوتی تھی۔ کمپنی کے ساتھ یہ اشتراک منافع بخش تھا اور یہ ہندوستانی سرمایہ دار طبقہ کی نشوونما کا سبب بنا۔ بمبئی کے سرمایہ دار، پارسی، مارواڑی، کونکنی مسلم، گجراتی، بنیا، بوہرہ، یہودی اور آرمنیائی جیسے متنوع جماعتوں سے آگے آئے۔ 
جیسا کہ آپ نے (باب 10) پڑھا جب 1861 میں امریکی خانہ جنگی شروع ہوئی تو جنوبی امریکہ سے آنے والی کپاس بین الاقوامی مارکیٹ میں آنا بند ہوگئی۔ یہ ہندوستانی کپاس کے مطالبہ میں ابال کا سبب بنا جو بنیادی طور پر دکن کے علاقے میں پیدا کی جاتی تھی۔ ایک بار پھر ہندوستانی تاجروں اور ثالثوں کے لیے زبردست منافع کمانے کا ایک موقع ملا۔ 1869میں سوئزنہر کو کھول دیا گیا اور اس سے عالمی معیشت کے ساتھ بمبئی کے رابطے مزید مضبوط ہوئے۔ بمبئی کی حکومت اور ہندوستانی تاجروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بمبئی کو Urbs Prima in Indis (لاطینی محاورہ) جس کے معنی ہندوستان کا سب سے اہم شہر قرار دیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک بمبئی میں ہندوستانی تاجر کا ٹن مل (سوتی کپڑے کی مل) جیسی نئی مہم جوئی میں اپنی دولت کی سرمایہ کاری کررہے تھے۔ اور ساتھ ہی شہر میں عمارتی سرگرمیوں کی بھی سرپرستی کر رہے تھے۔ 
جوں ہی بمبئی کی معیشت نے ترقی کی، انیسویں صدی کے وسط سے ریلوے اور جہاز رانی کی توسیع اور انتظامی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ اس وقت بہت سے نئی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ یہ عمارتیں  حکمرانوں کے اعتماد ویقین اور ثقافت کی ترجمانی کرتی تھیں جس کا طرز تعمیر عموما یوروپی طرز کا تھا۔ اس یوروپی طرز کی درآمدگی میں شاہی بصارت کی ترجمانی کئی طریقوں سے ہوتی تھی۔ اولا ایک بیگانہ ملک میں معروف زمینی منظر تخلیق کرنے اور اسی طرح نوآبادیات میں گھر جیسا محسوس کرنے کی انگریزوں کی خواہش کا اظہار ہوتا تھا۔ دوم انگریزوں کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ یوروپی طرز ان کی فوقیت، اقتدار اور مختارکاری کی عمدہ علامت ہوگی۔ سوم، وہ سوچتے تھے کہ یوروپی طرز کی عمارتوں سے نوآبادیاتی آقائوں اور ان کی ہندوستانی رعیت کے بیچ فرق اور فاصلہ واضح نظر آئے۔ 
ابتدائی مرحلے میں یہ عمارتیں روایتی ہندوستانی عمارتوں کے ساتھ عجیب نظر آتی تھیں۔ بتدریج ہندوستانی بھی یوروپی طرز تعمیر کے عادی ہوگئے اور اپنے لیے بھی ایسی عمارتیں بنانے لگے۔ انگریزوں نے بھی اپنی ضروریات کے موافق کچھ ہندوستانی طرزوں کو اپنا لیا۔ اس کی ایک مثال بنگلے ہیں جو بمبئی اور پورے ملک میں سرکاری افسران کے ذریعہ مستعمل تھے۔ انگریزی نام Bunglow بنگلہ سے مشتق ہے یعنی ایک روایتی بنگالی پھوس کی جھونپڑی۔ نوآبادیاتی بنگلہ ایک وسیع زمین پر بنا ہوتا تھا جو تخلیہ (Privacy) کو یقینی بناتا تھا اور اطراف کی ہندوستانی دنیا سے ایک فاصلے کو نشان زد کرتا تھا۔ روایتی ڈھلواں چھت اور چاروں طرف تعمیر برآمدہ (veranda) گرمی کے مہینوں میں بنگلے کو سرد رکھتا تھا۔ اس کے احاطے میں کسی بڑے آدمی کے گھریلو نوکروں کے لیے علاحدہ کوارٹر ہوتے تھے۔ سول لائنز میں تعمیر اس طرح کے بنگلے بلاشرکت غیرے نسلی تعصب کا محصورہ بن گئے جن میں حکمراں جماعتیں ہندوستانی لوگوں کے ساتھ روزانہ کے تعلقات کے بغیر خود کفیل زندگی جی سکتے تھے۔
عوامی عمارتوں میں تین کشادہ تعمیراتی طرز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ان میں سے دو طرز انگلینڈ میں رائج وضع سے راست طور پر درآمد کیے گئے۔ پہلی طرز کو جدید کلاسیکل (Neo-Classical) کہاجاتا تھا۔ اقلیدس (Geometrical) ساخت پر مبنی تعمیر کے ساتھ سامنے کی طرف اونچے ستونوں کی تعمیر اس کی خصوصیت تھی۔ بنیادی طور پر یہ طرز قدیم روم کی نمائندہ عمارتوں سے اخذ کی گئی تھی اور بعد میں یوروپی نشاۃ ثانیہ کے دوران اس کو نئے سرے سے مطابق پیدا کرکے مقبول بنایا گیا۔ ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے لیے اسے خاص طور پر مناسب سمجھا جاتا تھا۔ انگریزوں کا تصور تھا کہ جس طرز سے شاہی روم کا جاہ وجلال ظاہر ہوتا ہے اس کو شاہی ہندوستان کے وقار کا اظہار بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اس فن تعمیر کا مخرج بحیرۂ روم ہونے کے سبب اس کو منطقہ حارہ کے موسم کے موزوں بھی سمجھا جاتا تھا۔ بمبئی کاٹاؤن ہال (تصویر 24.12) 1833 میں اسی طرز پر تعمیر ہوا تھا۔ 1860 کی دہائی میں کپاس میں آئی تیزی کے زمانے میں تعمیر تجارتی عمارتوں کا دیگر گروپ ایلفنٹسن سرکل تھا بعد میں اس کا ہارنیمان سرکل (Horniman Circle) نام ایک انگریز ایڈیٹر جو ہندوستانی قوم پرستوں کی جرات مندانہ حمایت کرتے تھے کے نام پر پڑا۔ یہ عمارت اٹلی کے عمارتی نمونے سے تحریک یافتہ تھی۔ زمینی سطح پر مسقف راہ داریاں (coverd arcades) کا اختراعی استعمال دکانداروں اور پیدل چلنے والوں کو بمبئی کی جھلستی دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
23

شکل 23.12

بمبئی میں بنا ہوا ایک بنگلہ انیسویں صدی

24

شکل 24.12

بمبئی کا ٹاؤن ہال جس میں اب ایشیایک سوسائٹی آف بامے کا دفتر ہے۔

ڈہلواں چھتوں (Pitched roof) کو بیان کرنے کے لیے آرکیٹک (ماہر فن تعمیرات) (Pitched roof)سلامی دارچھت اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ ابتدائی بیسویں صدی سے بنگلوں میں سلامی دارچھتوں یعنی ڈہلواں چھتوں کا رواج کم ہوگو کہ عام منصوبہ بندی ویسی ہی رہی۔

ایک دیگر طرز جس کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا نیو گوتھک (Neo-Gothic) تھی۔ اونچی ڈھلواں چھتیں۔ نوک دار محرابیں اور جزویات کے ساتھ سجاوٹ اس طرز کی خصوصیت تھی۔ گوتھک طرز کی جڑیں خاص طور پر چرچ عمارتوں سے وابستہ تھیں جو عہد وسطیٰ کے دوران شمالی یوروپ میں تعمیر کیے گئے تھے۔ انگلینڈ میں نیوگوتھک طرز کی تجدید انیسویں صدی کے وسط میں ہوئی۔ یہ وہی وقت تھا جب حکومت بمبئی میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کررہی تھی اور اس کے لیے بمبئی میں اسی طرز کو نئے طور پر استعمال کیا گیا۔ سیکریٹریٹ، بمبئی یونیورسٹی اور ہائی کورٹ جیسی مرعوب کن عمارتوں کا گروپ سمندر کے کنارے اسی طرز میں تعمیر کیا گیا۔ 
25

شکل 25.12

ایلفنٹسن سرکل

گریکورومن فن تعمیر سے اخذ شدہ ستونوں اور محرابوں پر دھیان دیجیے۔

ان میں سے کچھ عمارتوں کے لیے ہندوستانیوں نے رقم دی۔ یونیورسٹی ہال سرکوواس جی جہاں گیرریڈی منی کے ذریعہ عطیہ دی گئی رقم سے تعمیر ہوا جو ایک دولت مند پارسی تاجر تھے۔ اسی طرح یونیورسٹی لائبریری کا گھنٹہ گھر پریم چندرائے چند بینکر (مہاجن) کے ذریعہ دی گئی رقم سے تعمیر ہوا اور اس کا نام ان کے والد کے نام پر راجا بائی ٹاوررکھا گیا۔ ہندوستانی تاجر نیوگوتھک طرز اپنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے چونکہ ان کا ماننا تھا کہ انگریزوں کے ذریعہ لائے گئے بہت سے تصورات کی طرح عمارتی طرز بھی ترقی پسند تھا اور اس کے ذریعہ بمبئی کو ایک جدید شہر بنانے میں مدد ملے گی۔ 
26

شکل 26.12

ایچ سینٹ کلیئرولکس کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا بامے سیکریٹریٹ دی بلڈر

20 نومبر 1857 سے لی گئی قلمی تصویر

تاہم نیوگوتھک طرز کی سب سے قابل دید مثال وکٹوریہ ٹرمینس ہے جو گریٹ انڈین پینن سولر ریلوے کمپنی کا اسٹیشن اور صدر دفتر ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں نے شہروں میں ریلوے اسٹیشنوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں کافی سرمایہ کاری کی تھی کیونکہ وہ ایک کل ہند ریلوے نیٹ ورک کی کامیابی کے ساتھ تعمیر پر فخر کرتے تھے۔ ایک گروپ کی طرح سینٹرل بمبئی کے آسمانی پس منظر میں ان عمارتوں کا غلبہ تھا اور یکساں نیوگوتھک طرز شہر کو ایک ممتاز انفرادیت عطا کرتا تھا۔
27

شکل 27.12

وکٹوریہ ٹرمینس ریلوے اسٹیشن ایف ڈبلیو اسٹیون کے ذریعہ ڈیزائن کردہ

 بیسویں صدی کی شروعات میں ایک نیا مخلوط الاصل فن تعمیر ارتقا پذیر ہوا جو ہندوستانی اور یوروپی طرز کے عناصر کو ملانے سے بناتھا۔ اس کو انڈوسارا سینک (Indo-Saracenic) کہا گیا۔ لفظ ’’انڈو‘‘ ہندو کے لیے علامتی تھا اور ’’سارا سین‘‘ کی اصطلاح یوروپی لوگ مسلمانوں کی عرفیت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ہندوستان میں عہدوسطیٰ کی عمارتیں اپنے گنبدوں، چھتریوں، جالیوں، محرابوں وغیرہ کے ساتھ اس طرز کے لیے محرک بنیں۔ عوامی فن تعمیر یوروپی اور ہندوستانی طرز کے انضمام کے ذریعہ انگریز یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ ہندوستان کے جائز حکمراں ہیں۔ 
28

شکل 28.12

مدراس لاکورٹس

جب بمبئی گوتھک طرز کی تجدید کاری کا بنیادی مرکز بنا ہوا تھا تب مدراس میں انڈوسارسینک طرز فروغ پارہاتھا۔ لاکورٹس کی عمارت کا ڈیزائن ایک بار پھر گوتھک طرز کے ساتھ پٹھان عناصر کا اتحاد تھا۔ 

اس طرز کی سب سے مشہور مثال گیٹ وے آف انڈیا ہے جو 1911 میں بادشاہ جارج پنجم اوررانی میری کے استقبال کے لیے روایتی گجراتی طرز میں تعمیر کیا گیا تھا۔ صنعت کار جمشیدجی ٹاٹا نے تاج محل ہوٹل اسی طرز میں تعمیر کروایا۔ مزید برآں یہ عمارت ہندوستانی مہم جوئی کی علامت تھی اور یہ عمارت انگریزوں کے ذریعہ پرورش یافتہ مختص نسلی تعصب پر مبنی کلبوں اور ہوٹلوں کے لیے ایک چیلنج بھی بن گئی۔ 
ممبئی کے زیادہ تر ’’ہندوستانی‘‘ علاقوں میں عمارتی تعمیر اور سجاوٹ میں روایتی طرز کا غلبہ تھا۔ شہر میں جگہ کی کمیابی اور بھیڑ ایک یگانہ قسم کی عمارتوں کی تعمیر کا سبب بنی جس کو ’’چال‘‘ (Chawl) کہاگیا۔ یہ کئی منزلہ عمارتیں ایک کمرے والے مکان، درمیان میں کھلے صحن کے چاروں طرف طویل کھلی راہ داری کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں۔ اس طرح کی عمارتوں میں بہت سارے خاندان رہتے تھے۔ مشترکہ جگہ میں شراکت داری ان میں محلہ کی شناخت اور اتحاد یکجہتی کی نشوونما میں معاون ثابت ہوئی۔ 
29

شکل 29.12

میونسپل کارپوریشن بلڈنگ بمبئی1888 میں ایف، ڈبلیو، اسٹیون کے ذریعہ ڈیزائن کردہ گوتھک اور مشرقی ڈیزائن کے امتزاج کا مشاہدہ کیجیے۔ 

5. عمارتیں اور طرز تعمیر ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ 
(WHAT BUILDINGS AND ARCHIECTURAL STYLES TELL US?)
فن تعمیر اس زمانے میں رائج جمالیاتی تصورات اور ان کے اندر تنوع کی ترجمانی کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا عمارتیں ان کے تعمیر کرنے والے کسی بصارت کا بھی اظہار کرتی ہیں۔ حکمراں عمارتوں کے ذریعہ اپنی طاقت واقتدار کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک خاص عہد کے فن تعمیر کودیکھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت طاقت واقتدار کو کس طرح خیال کیا جاتا تھا اور عمارتیں نیزان سے منسوب اینٹوں اور پتھروں، ستونوں اور محرابوں، آسمان چھوتے گنبدوں یا محرابی چھتوں کے ذریعہ کس طرح اس کا اظہار کیا گیا۔ 
30

شکل 30.12

بمبئی کی ایک چال

فن تعمیر سے صرف رائج طریقہ کار کی ہی ترجمانی نہیں ہوتی بلکہ وہ طریقہ کار کو قالب عطا کرتی ہیں، طرز کو مقبول بناتی ہیں اور ثقافت کا خاکہ بھی متعین کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ بہت سے ہندوستانیوں نے فن تعمیر کی بابت یوروپی طرز کو جدیدیت اور تہذیب کی علامت مانتے ہوئے اس طرز کو اپنانا شروع کردیا لیکن تمام ہندوستانی اس طرح نہیں سوچتے تھے، بہت سے ہندوستانیوں نے یوروپی تصورات کو خارج کردیا اور دیسی طرز کو قائم رکھنے کی کوشش کی، دیگر لوگوں نے مغرب سے درآمد یقینی عناصر کو قبول کرلیا جس کو وہ جدید کے طور پر دیکھتے تھے اور ان کو مقامی روایات سے اخذ شدہ عناصر کے ساتھ باہم ملادیا تھا۔ انیسویں صدی کے آخر سے ہم دیکھتے ہیں کہ جو طریقہ کار نوآبادیاتی تصورات سے مختلف تھے ان کے علاقائی اور قومی طریقہ کار کے مطابق توضیح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح ثقافتی آویزش کے وسیع طریق عمل کے ذریعہ طرزبدلتی اور ارتقاپذیر ہوتی گئی۔ تاہم فن تعمیر کو دیکھتے ہوئے تنوع کی شکلوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں جن میں شاہی اور قومی نیز قومی اور علاقائی ؍ مقامی کے درمیان ثقافتی آویزش اور سیاسی ٹکرائو ظاہر ہوکر اپنا کردار کررہے تھے۔ 

بحث کیجیے.......

ایک تاریخی عمارت کا انتخاب کیجیے جو آپ کو پسند ہو۔ اس کے فن تعمیر کی خصوصیات کی فہرست بنائیے اور اس کے طرز تعمیر کے متعلق دریافت کیجیے اور اس کے لیے وہ خاص طرزکیوں مستعارلی معلوم کیجیے۔ 

ٹائم لائن

1700-1500:ہندوستان میں یوروپی تجارتی کمپنیاں اپنی بنیادیں قائم کرنے لگیں: 1510 میں پرتگالیوں نے پنجی میں 1605 میں ڈچوں نے مسولی پٹنم میں، انگریزوں نے 1639 میں مدراس میں، 1661 میں بمبئی میں اور 1690 میں کلکتہ میں، 1673 میں فرانسیسیوں نے پانڈیچری میں

1757: پلاسی کی جنگ انگریزوں کی فیصلہ کن فتح : انگریز بنگال کے حکمراں بن گئے

1773: ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعہ کلکتہ میں سپریم کورٹ کا قیام 

1803: کلکتہ شہر کی اصلاح پر لارڈویلزلی کے تحریر کردہ انتظامی حکم (Minute)

1818: دکن پر انگریزوں کا قبضہ: بمبئی کا اس نئے صوبہ کی راجدھانی بننا

1853: بمبئی سے تھانے تک ریلوے کا آغاز

1857: بمبئی میں پہلی سوت کا تنے (spinning)اور کپڑا بننے (weaving) کی مل کا قیام

1857: بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں یونیورسٹیوں کا قیام

1870: میونسپلٹی میں انتخاب شدہ نمائندوں کی شروعات

1881: مدراس بندرگاہ (Harbour) کی تکمیل

1896: بمبئی کے واٹسنز ہوٹل میں پہلی فلم کی نمائش

1896: بڑے شہروں میں پلیگ پھیلنے کی شروعات

1911: کلکتہ سے راجدھانی کا دہلی منتقل ہونا 

100 سے 150 لفظوں میں جواب دیجیے۔

1۔ نوآبادیاتی تناظر میں شہرکاری کے نمونوں کی ازسر نوتعمیر میں مردم شماری کے اعدادوشمار کس حد تک فائدہ مند ہیں؟
2۔ ’’وہائٹ‘‘ اور ’’بلیک‘‘ ٹاؤن اصطلاحات کی کیا اہمیت تھی؟
3۔ ذی قدر ہندوستانی تاجروں نے خود کو نوآبادیاتی شہروں میں کس طرح قائم کیا؟
4۔ مدافعت اور صحت کے تعلق سے کلکتہ کو کس طرح کی شکل دی گئی؟ تجزیہ کیجیے۔
5۔ وہ مختلف نوآبادیاتی فن تعمیر کے طرز کیا ہیں جن کو بمبئی شہر میں دیکھ سکتے ہیں؟

مندرجہ ذیل پر ایک مختصر مضمون (250 سے 300الفاظ پر مشتمل) لکھیے۔

6۔ اٹھارہویں صدی کے دوران شہری مراکز کی تغیر کلی کس طرح ہوئی؟ 
7۔ عوامی مقامات کی نئی اقسام کون سی تھیں جو نوآبادیاتی شہروں میں ظہور پذیر ہوئیں؟ وہ کون سے امور انجام دیتے تھے؟
8۔ انیسویں صدی میں شہری منصوبہ بندی کو متاثر کرنے والے اندیشے کون سے تھے؟
9۔ نئے شہروں میں سماجی رشتوں کی کس حد تک تغیر کلی ہوئی؟ 

نقشہ کا کام

10۔ ہندوستان کے نقشے پر اہم ندیوں اور پہاڑی سلسلوں کے محل وقوع کونشان زد کیجیے۔ بشمول بمبئی، کلکتہ اور مدراس، اس باب میں مذکور 10 شہروں کو نشان زد کیجیے اور ان میں سے کسی دوشہروں (ایک نوآبادیاتی اور ایک قبل نوآبادیاتی شہر) کے متعلق مختصر نوٹ تیار کیجیے کہ انیسویں صدی میں ان کی اہمیت کیوں تبدیل ہوگئی۔ 

پروجیکٹ (کوئی ایک) 

11 ۔ آپ نے بڑے نوآبادیاتی شہروں کے متعلق پڑھاہے۔ کسی ایک چھوٹے شہر کا انتخاب کیجیے جو طویل  تاریخ رکھتا ہے۔ یہ ایک مندر شہر، بازار شہر، انتظامی مرکز، ایک زیادتی مرکز یا ان کا ایک آمیزہ ہوسکتا ہے۔ دریافت کیجیے کہ یہ شہر کس طرح قائم ہوا، کب یہ ترقی پذیر ہوا اور جدید عہد کے دوران اس کی تاریخ کس طرح تبدیل ہوئی۔ 
12۔ اپنے شہر یا گاؤں میں پانچ قسم کی عمارتوں کا انتخاب کیجیے۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق دریافت کیجیے کہ یہ کب تعمیر ہوئیں، کس طرح ان کو منصوبہ بند کیا گیا، ان کی تعمیر کے لیے وسائل کس طرح حاصل کیے گئے اور ان کی تعمیر میں کتنا عرصہ لگا۔ عمارتوں کی تعمیری خصوصیات کیا بیان کرتی ہیں؟

مزید معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:

سبیا ساچی بھٹا چاریہ 1990

آدہو نک بھارت کا آرتھک اتیہاس 

راج کمل پرکاشن، دہلی

نارماایون سن 1989

دی انڈین میٹروپولیس : اے ویو ٹوورڈدی ویسٹ

آکسفورڈ یونیورسٹی، پریس، دہلی

نارائنی گپتا 1981

دہلی بیٹوین ٹوامپائرز 1931-1803

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی

گیون ہیم بلی اور برٹن اسٹین

ٹاؤن س اینڈ سٹیز، پتن رائے چودھری اور عرفان حبیب کی مرتب کردہ۔ دی کیمبرج اکنامک ہسٹری آف انڈیا جلد اول، 1984 اورینٹل لاگ مین اور کیمبرج یونیورسٹی پریس، دہلی

اینتھونی کنگ، 1976

کولونیل اربن ڈیولپمنٹ: کلچر، سوشل پاوراینڈ انوائرمنٹ 

رولیٹج اینڈ کیگن پول، لندن

تھامس آرمیٹ کاف 1989

این امپریل ویژن: انڈیان آرکیٹیکچر اینڈ بریٹیز راج 

فیبر اینڈ فیبر، لندن

لیوس ممفورڈ، 1961

دی سٹی ان ہسٹری: اٹز اور یجینز، اٹز ٹرانسفارمیشن اینڈ اٹزپروس پیکٹس

سیکراینڈ وار برگ، لندن