موضوع بارہ نو آبادیاتی شہر
شہرکاری، منصوبہ بندی اور فن تعمیر

شکل1.12
فورٹ سینٹ جارج کا جنوب مشرقی نظارہ، مدارس، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ تیار کردہ تصویر۔ اورینٹل سینری 1798 میں شائع ڈینیل کے ذریعہ بنائے گئے ایک خاکہ پر مبنی تصویر مال لے جاتے ہوئے یوروپی جہازوں کے افق میں نقطے نظر آرہے ہیں۔ پیش منظر میں ملکی کشتیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
انیسویں صدی کے وسط تک یہ آبادیاں بڑے شہر بن گئے تھے، جہاں سے نئے حکمراں ملک کو کنٹرول کررہے تھے۔ معاشی سرگرمیوں کو منضبط کرنے اور نئے حکمرانوں کے اقتدار کا مظاہرہ کرنے کے لیے ادارے قائم کیے گئے۔ ہندوستانیوں نے ان شہروں میں سیاسی غلبہ کے نئے طریقوں کا تجربہ کیا مدراس، بمبئی اور کلکتہ کے خاکے (نقشے) ہندوستان کے پرانے شہروں سے کافی حد تک مختلف تھے۔ ان شہروں میں بنائی گئی عمارتوں پر اپنے نوآبادیاتی اصل کے نشانات بنے تھے۔ عمارتیں کیا ظاہر کرتی ہیں اور فن تعمیر کیا ذہن نشین کراسکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کے متعلق تاریخ کے طالب علم کو دریافت کی ضرورت ہے۔
یادرکھیے کہ فن تعمیر پتھر، اینٹ، لکڑی یا پلاسٹر میں ہمارے خیالات کو ایک مخصوص شکل دینے میں مددگار ہوتا ہے۔ سرکاری آفیسر کے بنگلے اور امیر تاجر کے عالی شان مکان سے لے کر مزدور کے حقیر جھونپڑے تک عمارتیں سماجی تعلقات اور شناخت کو مختلف طریقوں سے ظاہر کرتی ہیں۔
دیہی علاقوں کی طرف فرار (Escaping to the countryside)
1857 میں جب برطانوی فوجوں نے شہر پر قبضہ کرلیا تھا تو دہلی کے لوگ کیا سوچتے تھے اس کا تذکرہ مشہور شاعر مرزا غالب نے اس طرح کیا ہے:
دشمن کی سرزنش کرنے اور اسے ہانکنے سے قبل فاتحین (انگریزوں) نے سبھی سمتوں سے شہر کو تاخت وتاراج کردیا۔ جولوگ بھی سڑک پر پائے گئے انھیں کاٹ دیا گیا...دو سے تین دن تک کشمیری گیٹ سے چاندنی چوک تک شہر کی ہر ایک سڑک جنگ کا میدان تھی۔ تین دروازے اجمیری دروازہ ترکمان دروازہ اور دہلی دروازہ ابھی تک باغیوں کے قبضے میں تھے۔ اس کینہ پر ورغصہ اور کینہ توز نفرت کے ننگے ناچ سے لوگوں کے چہرے کا رنگ غائب ہوگیا۔ مردوں اور عورتوں کی ایک بڑی بھیڑ..... ان تین دروازوں سے بے تامل فرار ہوگئی۔ شہر کے باہر چھوٹے گاؤں اور درگاہوں میں پناہ حاصل کرنے لگی، وہ اپنی واپسی کے لیے ایسے ممکنہ مہربان وقت کے انتظار میں رہے جس میں وہ سانس لے سکیں۔
نوآبادیاتی عہد سے پہلے قصبات اور شہر (TOWNS AND CITIES IN PRE-COLONIAL TIMES)
1.1 قصبات کو ان کی شناخت کیسے دی گئی؟ (?What gave towns their character)

شکل 2.12
1857 میں شاہ جہاں آباد (دہلی) : 1857 کے بعد شہر کے چاروں طرف کی دیوار کو منہدم کردیا گیا۔ لال قلعہ دریا کی طرف بناہے۔ دائیں طرف فاصلے پر ابھری ہوئی سطح پر برطانوی بستیوں اور چھٹٹاؤن ی کو دیکھ سکتے ہیں۔
دہلی کا کوتوال (The Kotwal of Delhi):
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے دادا گنگا دھر نہرو 1857 کی بغاوت سے پہلے دہلی کے کوتوال تھے؟ مزید تفصیل کے لیے جواہر لعل نہرو کی آپ بیتی (خودنوشت) پڑھیے۔
2.1 اٹھارہویں صدی میں ہونے والی تبدیلیاں
(Changes in the eighteenth century)
اٹھارہویں صدی میں نمایاں تبدیلیاں ہوئیں۔ دوبارہ سیاسی وتجارتی صف بندی کے ساتھ پرانے شہر زوال پذیر ہوگئے اور نئے شہروں کی نشوونما ہونے لگی۔ مغل اقتدار کی بتدریج شکست وریخت کے سبب ان کے اقتدار کے ساتھ مربوط شہروں کی موت ہوگئی۔ مغل راجد ھانیوں دہلی اور آگرہ نے اپنا اقتدار گنوادیا۔ نئی علاقائی طاقتوں کی نشوونما علاقائی راجدھانیوں لکھنؤ، حیدرآباد، سری رنگا پٹنم، پونہ (موجودہ پونے)، ناگپور، بڑودہ (موجودہ ودوڈرا) اور تنجور (موجودہ تھنجاور) کی بڑھتی اہمیت سے ظاہر ہوئی۔ تاجر، منتظم، دست کار اور دیگر لوگ پرانے مغل مراکز سے ان نئی راجدھانیوں کی طرف کام اور سرپرستی کی تلاش میں ہجرت کرگئے۔ نئی ریاستوں کے درمیان مسلسل جنگوں کا مطلب تھا کہ کرائے کے سپاہیوں کو تیارروزگار ملیں۔ ممتاز افراد اور شمالی ہندوستان میں مغل حکومت سے وابستہ افسران نے بھی اس موقع کا استعمال ’’قصبہ اور گنج‘‘ جیسی نئی شہری بستیاں وجود میں لانے کے لیے کیا تاہم سیاسی لامرکزیت کے اثرات غیر یکساں تھے۔ کئی مقامات پر معاشی سرگرمیوں کی تجدید ہوئی تو بعض دیگر مقامات پر جنگ، لوٹ مار اور سیاسی غیر یقینی معاشی زوال کا آغاز بنی۔
تجارتی نیٹ ورک میں تبدیلیاں شہری مراکز کی تاریخ میں منعکس ہوئیں۔ یوروپی تجارتی کمپنیوں نے ابتدائی مغل عہد میں مختلف مقامات پر، پرتگالیوں نے 1570 میں پنجی میں، 1605 میں ڈچوں نے سولی پٹنم میں، 1639 میں مدارس میں انگریزوں نے اور فرانسیسیوں نے 1673 میں پانڈیچری میں اساس قائم کرلی تھی۔ تجارتی سرگرمیوں کی توسیع کے ساتھ ہی ان تجارتی مراکز کے اردگرد شہر نشوونما پانے لگے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر تک ایشیا میں زمین پر مبنی سلطنتوں کا قیام طاقتور سمندر پر مبنی یوروپی سلطنتوں نے لے لیا۔ بین الاقوامی تجارت، تجارتی نظریہ زر اور سرمایہ داری کی طاقتیں سماج کی ماہیئت کو معین کررہی تھیں۔
اٹھارہویں صدی کے وسط سے تبدیلی کا ایک نیادور شروع ہوا۔ تجارتی مراکز جیسے سورت، مسولی پٹنم اور ڈھاکہ جن کی نشوونما سترہویں صدی میں ہوئی تھی، جب زوال پذیر ہوئے تو تجارتی سرگرمیاں بھی دیگر پر منتقل ہوگئیں۔ 1757 میں پلاسی کی جنگ کے بعد جو نہی انگریزوں نے بتدریج سیاسی کنٹرول حاصل کیااور انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارت میں توسیع ہوئی ویسے ہی مدراس، کلکتہ اور بمبئی جیسے بندرگاہی شہر نئی معاشی راجدھانیوں کی شکل میں تیزی سے ظہور میں آئے۔ یہ نوآبادیاتی نظم ونسق اور سیاسی اقتدار کے مرکز بھی بن گئے۔ نئی تمارتیں اور ادارے ارتقاپذیر ہوئے اور شہری مقامات کو نئے انداز میں منظم کیا گیا۔ نئے پیشے ارتقاپذیر ہوئے اور لوگوں کے انبوہ ان نو آبادیاتی شہروں کی طرف آنے لگے۔ تقریبا 1800 تک یہ آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کے بڑے شہر تھے۔
قصبہ دیہی علاقے میں ایک چھوٹا شہر ہوتا ہے جو اکثر مقامی ممتاز افراد کا مرکز ہوتا ہے۔ گنج ایک چھوٹی مستقل بازار سے منسوب ہے۔ قصبہ اور گنج دونوں میں کپڑے، پھل، سبزیاں اور دودھ مصنوعات کا کاروبار ہوتا تھا۔ یہ ممتاز وامراخانداز اور فوج کو اشیا فراہم کراتے تھے۔

شکل 3.12
دریا کی طرف سے گواشہر کا ایک منظر، گربک 1812
شہروں کے نام (Names of cities)
مدراس، بمبئی اور کلکتہ کے نام ان گاؤں کے انگریزی بنائے گئے نام میں جہاں انگریزوں نے سب سے پہلے تجارتی چوکیاں قائم کی تھیں۔ اب انھیں چنئی، بمبئی اور کولکاتہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
بحث کیجیے...
آپ جس قصبہ، شہر یا گاؤں میں رہتے ہیں وہاں کی کون سی عمارت، ادارہ یا مقام اصل مرکزی نقطہ ہے؟ اس کی تاریخ کا پتہ لگائیے اور معلوم کیجیے کہ یہ کب تعمیر ہوا۔ اس کو کیوں تعمیر کیا گیا، یہ کون سے امور انجام دیتا تھا اور اور کیا اس کے امور میں کوئی تبدیلی آئی؟
2. نوآبادیاتی شہروں کے متعلق تحقیقاتی نتیجہ
(FINDING OUT ABOUT COLONIAL CITIES)
1.2 نوآبادیاتی دستاویزات اور شہری تاریخ
(Colonial records and urban history)

شکل 4.12
بمبئی کا ایک پرانا نقشہ دائرے میں نشان زد کیا گیا علاقہ ’’کیسل‘‘ جو علاقہ بندوبستی کا حصہ تھا۔ نقطوں والے علاقے سات جزیروں کو دکھا رہے ہیں جو سمندر پاٹ کر زمین تیار کرنے کے منصوبہ کے ذریعہ بتدریج متحد کردیے گئے تھے۔
نقشے کیا ظاہر کرتے ہیں اور کیا مخفی رکھتے ہیں؟(?Whtat maps reveal and conceal)
سروے کے طریقوں کا ارتقاصحیح سائنسی آلات اور برطانوی شاہی ضروریات تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ نقشے بڑی احتیاط کے ساتھ تیار کیے گئے ہیں۔ 1878 میں سروے آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ تیار کیے گئے نقشے ہمیں خاص اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان میں انگریز حکمرانوں کے تعصبات بھی منعکس ہوتے ہیں۔ شہر میں غریبوں کی بڑی بستیوں کو نقشے پر نشان زد نہیں کیا گیا کیونکہ حکمرانوں کو وہ غیر اہم نظر آتی تھیں۔ نتیجتاً یہ مان لیا گیا تھا کہ نقشے پر یہ خالی جگہ دیگر ترقیاتی اسکیموں کے لیے دستیاب ہے۔ جب ان اسکیموں پر عمل درآمد کیا گیا تو وہاں سے غربا کو بے دخل کردیا گیا۔
ہندوستان میں شہر کاری
1941-1891
سال کل آبادی میں شہری آبادی کا تناسب
1891 4.9
1901 0.10
1911 4.9
1921 2.10
1931 1.11
1941 8.12
شکل 5.12
بحث کیجیے...
شماریاتی اعداد وشمار یا شہر کے نقشوں میں سے کسی ایک کا مطالعہ کیجیے اور پتہ لگائیے کہ اسے کون جمع کر رہا تھا اور یہ کیوں جمع کیے گئے۔ اس طرح کے مجموعے میں کسی طرح کے تعصبات کا امکان ہے؟ کس قسم کی معلومات اس میں خارج ہیں؟ معلوم کیجیے کہ یہ نقشے کیوں تیار کیے گئے اور کیااس میں شہر کے تمام حصوں کی مساوی طور پر تفصیل پیش کی گئی ہے؟
2.2 تبدیلی کے رجحانات (Trends of change)

شکل 6.12
فورٹ علاقے میں بوہرہ بازار بمبئی 1885 جوں جوں بمبئی ترقی کرتا گیا فورٹ علاقے میں بھی بھیڑ بڑھتی گئی۔ تاجر، دکاندار اور ملازمت پیشہ گروہ اس علاقے میں آنے لگے یہاں بہت سے بازار قائم ہوئے اور اونچی عمارتیں بننے لگیں۔ مجمع سے پریشان انگریزوں نے فورٹ کے شمالی حصے سے ہندوستانیوں کو دھکیلنے کی گئی دفعہ کوشش کی جہاں مقامی جماعتیں آباد تھیں۔
3. نئے شہر کیسے تھے؟
(?WHAT WERE THE NEW TOWNS LIKE)
1.3 بندرگاہیں، قلعے اور خدمات کے مراکز
(Ports, forts and centres for services)

شکل 7.12
کولکاتہ میں اولفورٹ گھاٹ، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1787
اولڈ فورٹ ساحل پر واقع تھا۔ کمپنی کامال یہاں حاصل کیا جاتا تھا۔ مقامی لوگ مسلسل اس گھاٹ کا استعمال غسل کے مقصد سے کرتے تھے۔
آیونک ( ionic) قدیم یونانی فن تعمیر کے تین نظم وتربیت (تنظیمی نظام) میں سے ایک نظم ہے جب کہ دیگر ڈورک (Doric) اور کورنتھین (Corinthian) ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت جوہر نظم کو ممیز کرتی تھی وہ ستونوں کے سرپرستون کا طرزتھی۔ ان شکلوں کو نشاۃ ثانیہ اور فن تعمیر کی جدید کلاسیکل شکلوں میں ازسرنو موافق کیا گیا۔

2.3ایک نیا شہری ماحول (A new urban milieu)

شکل 8.12
دی اولڈ کورٹ ہاؤس اینڈرائٹرس بلڈنگ، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی گئی تصویر 1786
دائیں جانب کورٹ ہائوس مع سقف راہ داری اور آیونک ستون جو 1792 میں منہدم ہوگیا۔ دوسری عمارت رائٹرس بلڈنگ ہے جہاں ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین (رائٹرس کے نام سے معروف) قیام کرتے تھے۔ بعد میں اسے گورنمنٹ آفس بنادیا گیا۔

شکل 9.12
چورنگی میں نئی عمارت، تھامس اور ولیم ڈینیل کے ذریعہ بنائی تصویر 1787
میدان کے مشرقی کنارے پر انگریزوں کے ذاتی مکان اٹھارہویں صدی کے آخر میں بننے لگے تھے۔ زیادہ تر مکان پلاڈین طرز کے تھے جن میں گرمیوں کی شدت سے بچنے کے لیے ستونوں واے برآمدے بنائے گئے تھے۔

شکل10.12
ماربل پیلیس، کلکتہ
یہ نئے شہری ممتاز طبقہ سے وابستہ ایک ہندوستانی اہل خانہ کے ذریعہ بنوائی گئی۔ خوبصورت ترین عمارتوں میں سے ایک تھی۔

شکل 11.12
چت پور بازار، چارلس ڈی اولے کی تیارکردہ تصویر
چت پور بازار کلکتہ میں بلیک ٹٹاؤن اور وائٹ ٹٹاؤن کی سرحد پر واقع تھا۔ یہاں مختلف طرح کے مکانات کو دیکھیے: ایک طرف دولت مند زمین داروں کی اینٹوں سے بنی عمارت ہے تو دوسری جانب پھوس سے بنی غربا کی جھونپڑیاں تصویر میں نظر آرہی ہیں۔ مندر کو انگریز بلیک پگوڈا (سیاہ مخروطی شکل) کہتے تھے جس کو یہاں رہنے والے گووندرام مترنامی ایک زمین دار نے تعمیر کروایا تھا یہاں تک کہ نسلی تفاخر کی زبان کے پیرایہ میں نام بھی اکثر سیاہی میں رنگے ہوتے تھے۔
تصویر 8.12، 9.12 اور 11.12 کو دیکھیے۔ سڑکوں پر ہونے والی سرگرمیوں پردھیان دیجیے۔ یہ سرگرمیاں اٹھارہویں صدی کے آخر میں کلکتہ کی سڑکوں پر سماجی زندگی کے متعلق ہمیں کیا بتاتی ہیں؟
3.3 پہلے ہل اسٹیشن (The first hill stations)

شکل 12.12
ابتدائی بیسویں صدی کے شملہ میں ایک مثالی نوآبادیاتی مکان
غالبا یہ سرجان مارشل کی رہائش گاہ تھی۔

شکل 14.12
کلکتہ میں سڑک پر چلتی ہوئی ٹرام
4.3 نئے شہروں میں سماجی زندگی
(Social life in the new cities)
امارکتھا (میری کہانی) (Amar Katha (My Story))
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں بنودیتی داسی (1941-1863)بنگالی تھیٹر میں پیش رو شخصیت تھیں اور ڈرامہ نویس وہدایت کا رگریش چندر گھوش (1912-1844) کے ساتھ کام کیا۔ کلکتہ میں اسٹاتھیٹر (1883)کو قائم کرنے میں ان کا اہم رول تھا جو آگے چل کر ڈرامہ وفلم سازی کے لیے ایک مشہور مرکز بن گیا۔ 1910 اور 1913 کے درمیان ’’امارکتھا‘‘ (میری کہانی) کے عنوان سے انھوں نے قسط وار اپنی سوانح عمری تحریر کی۔ انھوں نے سماج میں عورتوں کے مسائل پر مبنی تمثیلی کردار ادا کیے۔ ایک ادا کارہ، ادارہ کی معمار اور مصنفہ جسے مختلف دائروں میں کام کرنے کے سبب ہوئے ایک ماہر پیشہ ور تھیں لیکن اس زمانے کے سرقبیلی سماج نے عوامی حلقوں میں ان کی مثبت موجودگی کی مذمت کی۔

شکل 15.12
انیسویں صدی کے آخر کی کالی گھاٹ پینٹنگ
خواتین طاقت کےمتعلق مردوں کی تشویش کا اظہار اکثر ایک جادو گر عورت کی تصویر کے ذریعہ کیا جاتا تھا جو اس کو بھیڑ بنادیتی تھی۔ جوں جوں عورتیں تعلیم یافتہ ہونا شروع ہوئیں وہ اپنے گھروں کی گوشہ گیری سے باہر نکلنے لگیں اس طرح مقبول عام تصاویر میں عورتوں کی ایسی تصاویر کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
بحث کیجیے...
آپ کی رہائش گاہ سے سب سے قریب ریلوے اسٹیشن کون سا ہے؟ معلوم کیجیے کہ وہ کب تعمیر کیا گیا اور کیا اسے اشیا کی مال برداری یا لوگوں کی آمد ورفت کےلیے تعمیر کیا گیا تھا۔ بزرگ لوگوں سے معلوم کیجیے کہ وہ اس اسٹیشن کے متعلق کیا جانتے ہیں۔ کیا آپ اکثر اسٹیشن پر جاتے ہیں؟ کیسے اور کیوں ؟
غریب مہاجرین کی نظر میں (Through the eyes of poor migrants)
یہ عوامی نغمہ (سوانگ) ابتدائی بیسویں صدی میں جیلاپاڑہ (مچھواروں کے کوارٹر) کے باشندوں کے درمیان کافی مقبول تھا:
دل میں ایک بھٹٹاؤن ا سے کلکتہ میں آیا دل میں ایک امنگ لیے میں کلکتہ آیا
کیسن کیسن مجاہم ہیا دیکھن پایا کیسی کیسی دلفریب چیزیں یہاں دیکھنے کو ملیں
اری سماج، برہما سماج، گرجا، مہجد آریہ سماج، برہموں سماج، چرچ اور مسجد
ایک لوٹا میں ملتا دودھ، پانی، سب چیز ایک ہی برتن میں سب کچھ مل سکتا ہے جیسے دودھ، پانی اور چیزیں
چھوٹا بڑا آدمی سب، باہر کرکے دات ہر چھوٹے اور بڑے اپنے اپنے دانت دکھاتے ہیں
چھاپڑمارکے بولتا ہے، انگریجی میں بات اور فراٹے دارانگریزی بولتے ہیں
4.نسلی علاحدگی کا عمل، شہری منصوبہ بندی اور فن تعمیر
(SEGREGATION, TOWN PLANNING AND ARCHITECTURE)
مدراس، کلکتہ اور بمبئی (MADRAS, CALCUTTA AND BOMBAY)
1.4 مدراس میں آباد کاری اور نسلی علاحدگی کا عمل
(Settlement and segregation in Madras)

شکل 16.12
مدراس کا نقشہ
سینٹ جارج فورٹ کے اطراف میں وہائٹ ٹاؤن بائیں جانب اور دائیں جانب پرانا بلیک ٹاؤن ۔ فورٹ سینٹ جارج دائرہ میں نشان زد ہے۔ توجہ دیجیے کہ بلیک ٹاؤن کس طرح تعمیر کیا گیا۔

شکل 17.12
بلیک ٹٹاؤن کا ایک حصہ مدراس، تھامس اور ولیم ڈینیل کی بنائی ہوئی تصویر ڈینیل کی ڈرائنگ پر مبنی اورینٹل میں شائع تصویر 1798
اس تصویر میں آپ جو کھلی جگہ دیکھ رہے ہیں وہ پرانے بلیک ٹٹاؤن کو مسمار کرکے تیار کی گئی تھی۔ بنیادی طور پر اسے گولہ باری کے مقصد سے صاف کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کھلے میدان کی ہرے علاقے (میدان)کے طور پر دیکھ بھال کی گئی۔ خط افق پر نئے بلیک ٹٹاؤن کا ایک حصہ بھی دیکھاجاسکتا ہے جو قلعے سے دور وجود میں آیا تھا۔
ابتدا میں کمپنی میں ملازمت پانے والے ویلاروں نے اجارہ داری قائم کرلی۔ یہ ایک مقامی ذات تھی جس نے برطانوی حکمرانوں کے ذریعہ مہیا کیے گئے نئے مواقع کا فائدہ اٹھایا۔ انیسویں صدی میں انگریزی تعلیم کی وسعت کے ساتھ برہمنوں نے انتظامیہ میں مساوی پوزیشن پانے کے لیے مقابلہ آرائی شروع کردی۔ ایک طاقتور تجارتی گروہ تیلگو کو ماٹیوں کا تھا جو شہر میں اناج کی تجارت پر کنٹرول رکھتا تھا۔ اٹھارہویں صدی سے گجراتی مہاجن (بینکر) بھی یہاں موجود تھے جبکہ پیریار اور وینیار غریب مزدور طبقے کی تشکیل کرتے تھے۔ ارکاٹ کے نواب کے قریب واقع ٹرپلی کین (Triplicance) میں آباد ہوگئے جو ایک بڑی مسلم بستی کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سے پہلے مائلاپور اور ٹریلی کین ہندومذہبی مرکزتھے جو برہمنوں کے کیتھڈرل کے ساتھ رومن کیتھولک طبقے کا مرکز تھا۔ یہ تمام بستیاں مدراس شہر کا حصہ بن گئیں۔ اس طرح بہت سے گاؤں کو ملالینے کے بعد مدراس ایک وسیع گراں اور کم گھنی آبادی والا شہر بن گیا جس پر یوروپی سیاحوں کی توجہ بھی مرکوز ہوئی اور سرکاری افسران نے بھی اس پررائے زنی کی۔
پیٹ ایک تامل لفظ ہے جس کے معنی بستی کے ہیں جب کہ پورم لفظ گاؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شکل 18.12
بونامالی روڈ پر ہناہو ایک گارڈن ہائوس
ماخذ 3
ایک دیہی شہر؟ (A rural city?)
1908
کے اپیریل گزیٹیر سے مدراس کے ضمن میں یہ اقتباس پڑھیے:
بہتر یوروپین مکان کمپاؤنڈ کے وسط میں تعمیر کیے جاتے تھے جو تقریبا پارکوں جیسا وقار حاصل کر لیتے اور ان کے درمیان لگ بھگ دیہی فیشن کی طرح دھان کے کھیت آتے جاتے رہتے۔ حتی کہ بلیک ٹاؤن اور ٹرپلی کین جیسی زیادہ گھنی فعال آبادی والے علاقے میں بھی ایسا اژدحام کم پایا جاتا تھا جیسا کہ بہت سے دیگر شہروں میں پایا جاتا ہے.........
رپورٹ میں لکھے ہوئے بیانات سے اکثر رپورٹ لکھنے والے کے نئے خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بیان میں کس قسم کے شہری علاقے پر
رپورٹر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور کسی قسم کے علاقے پر تحقیر کا اظہار کرتا ہے؟ کیا آپ ان خیالات سے اتفاق کرتے ہیں؟
2.4 کلکتہ کی شہری منصوبہ بندی (Town planning in Calcutta)
گولہ باری کی جگہ یا راستہ (The line of fire)
یہ دلچسپ ہے کہ کلکتہ کے لیے جو نمونہ تیار کیا گیا وہ دیگربہت سے شہروں میں بھی دوہرایا گیا۔ 1857 کی بغاوت کے دوران بہت سے شہر باغیوں کی محفوظ جائے پناہ بن گئے۔ ان کی فتح کے بعد انگریز ان مقامات کو خود اپنے لیے محفوظ بنانے لگے۔ مثال کے طور پر دہلی میں انھوں نے لال قلعہ پر قبضہ کیا اور یہاں ایک فوج تعینات کردی۔ پھر انھوں نے قلعے کے نزدیک بنی ہوئی عمارات کو منہدم کردیا اور ہندوستانی محلوں اور قلعے کے درمیان ایک وسیع وعریض خالی جگہ بنائی۔ اس کے لیے دلیل وہی دی گئی جو سو سال قبل کلکتہ میں دی گئی تھی۔ پیش بندی کے مدنظر اگر شہر کے لوگ پھر سے ایک مرتبہ فرنگی راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو ان پر راست گولہ باری کے لیے مناسب کشادہ جگہ ہونا ضروری تھی۔

شکل 19.12
گورنمنٹ ہائوس، کلکتہ چارلس ڈی اوئلی کی بنائی تصویر 1848
گورنر جنرل کی رہائش گاہ، گورنمنٹ ہائوس، جس کو ویلزلی نے برطانوی راج کی جاہ جلال کی علامت کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔

شکل 20.12
کولکاتہ میں چت پور روڈ کی طرف جاتے ہوئے ایک بازار
شہروں کی مقامی جماعتوں کے لیے بازار تجارتی اور سماجی مبادلے کی جگہ تھی۔ یوروپ کے لوگ بازار کو دیکھ کر مسحور ہوتے تھے لیکن اس کو اژدحام سے پر اور گندی جگہ کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔
ماخذ 4
’’ہر قسم کی زحمت وتکلیف کے لیے مقررہ ضابطے‘‘
(''For the regulation of nuisances of every description'')
انیسویں صدی کی ابتدا تک انگریز یہ محسوس کرنے لگے کہ سماجی زندگی کے سبھی پہلوئوں کو منضبط کرنے کے لیے مستقل اور عوامی قانون تشکیل دینا ضروری ہیں حتی کہ نجی عمارات اور عوامی سڑکوں کی تعمیر بھی واضح معیاری قوانین کے مطابق ہونا ضروری تھی۔ ویلزلی نے اپنے کلکتہ منٹ 1803(Culcatta Munute) میں لکھا تھا:
یہ سرکار کا بنیادی فرض ہے کہ وہ سڑکیں، گلیاں، نالیاں اور پانی کے نظم میں اصلاح کے لیے ایک جامع نظام بنا کر اور مکانات کی تعمیر وتقسیم اور عوامی عمارات کے لیے مستقل قانون وضابطے متعین کرکے اور ہر قسم کی زحمت وتکلیف کے لیے مقررہ ضابطے بنا کر وہ اس بڑے شہر کے باشندوں کے لیے صحت، تحفظ اور سہولت مہیا کرائے۔
ویلزلی نے حکومت کے فرائض کی کس طرح توضیح کی ہے؟ اس حصہ کو پڑھیے اور بحث کیجیے کہ اگر ان خیالات کو نافذ کیا جاتا تو ان سے شہر میں آباد ہندوستانیوں پر کیا اثر پڑتا۔
بستی (بنگالی اور ہندی میں) کے حقیقی معنی محلہ یا چھوٹی آبادی تھا تاہم انگریزوں نے اس لفظ کا مفہوم محدود کردیا اور اس کے معنی غریبوں کی وقتی یا عارضی جھونپڑیوں کے لیے مراد لیے جانے لگے۔ انیسویں صدی کے آخر میں انگریزوں کے دستاویزات میں ’’بستی‘‘ گندی پسماندہ بستی بن گیا۔

شکل 21.12
جے اے ایچ شالچ کے ذریعہ بنائے گئے منصوبہ سے 1825 لاٹری کمیٹی اصلاحات کے بعد کلکتہ میں یوروپین ٹاؤن کا ایک حصہ
آپ کمپٹٹاؤن ڈ (احاطہ) کے ساتھ یوروپی مکانات کو دیکھ سکتے ہیں۔

شکل 22.12
کلکتہ میں ایک بستی
3۔4 بمبئی میں فن تعمیر (Architecture in Bombay)

شکل 23.12
بمبئی میں بنا ہوا ایک بنگلہ انیسویں صدی

شکل 24.12
بمبئی کا ٹاؤن ہال جس میں اب ایشیایک سوسائٹی آف بامے کا دفتر ہے۔
ڈہلواں چھتوں (Pitched roof) کو بیان کرنے کے لیے آرکیٹک (ماہر فن تعمیرات) (Pitched roof)سلامی دارچھت اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ ابتدائی بیسویں صدی سے بنگلوں میں سلامی دارچھتوں یعنی ڈہلواں چھتوں کا رواج کم ہوگو کہ عام منصوبہ بندی ویسی ہی رہی۔

شکل 25.12
ایلفنٹسن سرکل
گریکورومن فن تعمیر سے اخذ شدہ ستونوں اور محرابوں پر دھیان دیجیے۔

شکل 26.12
ایچ سینٹ کلیئرولکس کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا بامے سیکریٹریٹ دی بلڈر
20 نومبر 1857 سے لی گئی قلمی تصویر

شکل 27.12
وکٹوریہ ٹرمینس ریلوے اسٹیشن ایف ڈبلیو اسٹیون کے ذریعہ ڈیزائن کردہ

شکل 28.12
مدراس لاکورٹس
جب بمبئی گوتھک طرز کی تجدید کاری کا بنیادی مرکز بنا ہوا تھا تب مدراس میں انڈوسارسینک طرز فروغ پارہاتھا۔ لاکورٹس کی عمارت کا ڈیزائن ایک بار پھر گوتھک طرز کے ساتھ پٹھان عناصر کا اتحاد تھا۔

شکل 29.12
میونسپل کارپوریشن بلڈنگ بمبئی1888 میں ایف، ڈبلیو، اسٹیون کے ذریعہ ڈیزائن کردہ گوتھک اور مشرقی ڈیزائن کے امتزاج کا مشاہدہ کیجیے۔

شکل 30.12
بمبئی کی ایک چال