موضوع تیرہ
مہاتما گاندھی اور قومی تحریک
سول نافرمانی اور اس سے آگے
قومیت پرستی کی تاریخ میں اکثر فرد واحد کو قوم کی تعمیر کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم گیری بالڈی کو اٹلی کی تعمیر کے ساتھ ، جارج واشنگٹن کو امریکہ کی جنگ آزادی کے ساتھ اور ہوچی من کو نوآبادیاتی حکومت سے ویتنام کو آزاد کرانے کی جدوجہد کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں، چنانچہ گاندھی جی کو ہندوستانی قوم کا 'بابا' (باپو) مانا گیا ہے۔
گاندھی جی جس حد تک جدو جہد آزادی میں حصہ لینے والے تمام لیڈروں میں سب سے زیادہ مؤثر اور قابلِ تعظیم ہیں اس طرح یہ امتیاز بے محل نہیں ہے۔ تاہم واشنگٹن یا ہوچی من کی طرح مہاتما گاندھی کا سیاسی سفر اسی سماج نے تشکیل دیا جس میں وہ رہتے تھے۔ فرد واحد کے بجائے عظیم لوگ نہ صرف تاریخ بناتے ہیں بلکہ خود بھی تاریخ کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔
اس باب میں 1915-1948 کے دوران ہندوستان میں گاندھی جی کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔ یہ باب ہندوستانی سماج کے مختلف طبقات کے ساتھ ان کے جوابی عمل اور عوامی جدو جہد(جو ان سے محرک تھی اور جس کی انھوں نے قیادت کی تھی) کی تحقیق کرتا ہے۔ یہ باب طلبہ کے سامنے مختلف قسم کے ماخذ جس کو مؤرخین ایک لیڈر کے سیاسی سفر اور سماجی تحریکوں (جس سے وہ وابستہ تھے)کی تعمیر نو کے لیے استعمال کرتے ہیں، پیش کرتا ہے۔
شکل 13.1
مارچ 1930 میں نمک کے لیے اسفر شروع کرنے سے پہلے سابرمتی ندی کے کنارے عوام گاندھی جی کی تقریر سنتے ہوئے
1. خود کو اعلان کرتا ایک لیڈر(A LEADER ANNOUNCES HIMSELF)
موہن داس کرم چند گاندھی دو دہائی تک دیارِ غیر میں رہنے کے بعد جنوری 1915 میں اپنے مادرِ وطن واپس ہوئے۔ ان سالوں کا زائد حصہ انھوں نے جنوبی افریقہ میں گزارا؛ جہاں وہ ایک وکیل کی حیثیت سے گئے تھے اور آگے چل کر وہ اس ریاست کی ہندوستانی جماعت کے لیڈر بن گئے۔ جیسا کہ مورخ چندرن دیونیسن نے تبصرہ کیا ہے کہ جنوبی افریقہ نے ہی گاندھی جی کو " مہاتما" بنایا۔ مہاتما گاندھی نے پہلی بار جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ کے طور پر معروف احتجاج "عدم تشدد" کی ممتاز تکنیک کو بتدریج آگے بڑھایا ۔ پہلی بار مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا اور اعلی ذات کے ہندوستانیوں کو نیچی ذات کے لوگوں اور عورتوں کے لیے ان کے امتیازی سلوک یعنی امتیاز پر مبنی سلوک کے لیے خبر دار کیا۔
1915 میں جب مہاتما گاندھی ہندوستان واپس آئے تواس وقت کا ہندوستان 1893 میں ان کی روانگی کے مقابلے میں خاصا مختلف تھا اگر چہ ابھی تک یہ انگریزوں کی نو آبادیات تھا مگرسیاسی شعور و ادراک کے معاملے میں کافی سرگرم تھا۔
زیادہ تر بڑے شہروں اور قصبوں میں انڈین نیشنل کانگریس کی شاخیں موجود تھیں۔ 1905-07 کی سودیسی تحریک کے ذریعہ اس نے بڑے پیمانے پر متوسط طبقے کے درمیان اپنی اپیل کو وسعت دی۔ اس تحریک نے اعلیٰ قسم کے لیڈروں کو تیار کیا ۔ ان میں مہاراشٹرا کے بال گنگا دھر تلک، بنگال کے بپن چندر پال اور پنجاب کے لالہ لاجپت رائے خاص تھے۔ یہ تینوں لال، بال ،پال کے نام سے معروف تھے۔ ان تینوں کی یہ قربت ان کی جدو جہد کے کل ہند کردار کی ترسیل تھی۔ چونکہ ان کے سکونت پذیر صوبے ایک دوسرے سے بہت فاصلے پر واقع تھے اس لیے ان لیڈروں نے جہاں نوآبادیاتی حکمرانی کی جنگجویانہ (تشددپسندانہ) مخالفت کی وکالت کی وہیں" اعتدال پسندوں " کا ایک گروہ تھا جو زیادہ مؤثر اور بتدریج کوشش کے طریقہ کار کو ترجیح دیتا تھا۔ ان اعتدال پسندوں میں گاندھی جی کے معتبر سیاسی صلاح کار گوپال کرشن گوکھلے کے ساتھ محمد علی جناح بھی تھے جو گاندھی جی کی طرح گجرات نژاد کے لندن میں ایک تربیت یافتہ وکیل تھے۔

شکل 13.2
مہاتما گاندھی جو ہانسبرگ جنوبی افریقہ میں ، فروری 1908
گوکھلے کے مشورے پر گاندھی ج نے ایک سال برطانوی ہندوستان کا دورہ کرنے میں گزارا تاکہ وہ یہاں کی زمین اور لوگوں کے بارے میں جان سکیں ۔ فروری 1916 میں بنارس ہندو یونیورسٹکی کی افتتاحی تقیرب میں عوام کے سامنے آئے ۔ اس موقع پر مدعو افراد میں شہزادے اور انسان دوست جنھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے قیام میں عطیات کا تعاون دیا تھا موجود تھے۔ اس تقیرب میں اپنی بیسنٹ جیسے کانگریس کے اہم لیڈران بھی موجود تھے۔ ان اعلیٰ مرتبہ لوگوں کے مقابلے میں گاندھی جی نسبتاً غیر معروف شخص تھے ۔ انھیں یہاں ہندوستان کے اندر ان کے مرتبہ کی وجہ سے نہیں بلکہ جنوبی افریقہ میں ان کے کام کی بنیاد پر مدعو کیا گیا تھا۔
جب گاندھی جی کی تقریر کرنے کی باری آئی تو انھوں نے غریب مزدور طبقے کی طرف دلچسپی کے فقدان کے لیے ہندوستانی ممتاز طبقہ کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ "سجے سنورے اشرافیہ طبقہ" کی موجودگی اور لاکھوں غریب ہندوستانیوں کی جو یہاں موجود نہیں ہیں کے درمیان فرق فکر مندی کا باعث ہے۔ انھوں نے مراعات یافتہ مدعو لوگوں سے کہا کہ ہندوستان کے لیے نجات اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ آپ خود کو ان زیورات و جواہرات سے آزاد نہ کر لیں اور ان کو ہندوستان میں اپنے ہم وطنوں کی فلاح کے لیے خیال کریں۔ وہ کہتے گئےکہ ہمارے لیے اپنی حکومت کے ذی شعور وجود کے تب تک کوئی معنی نہیں ہو سکتے جب تک ہم کسانوں سے ان کی محنت کے تقریباًپورے حاصل کا خود یا دیگر لوگوں کو لے لینے کی اجازت دیتے رہیں گے۔ ہماری نجات صرف کسانوں کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔ نہ تو وکیل نہ ہی ڈاکٹراور نہ ہی مالدار زمین دار اسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
شکل 13.3
گاندھی جی کراچی میں ، مارچ 1916
بنارس ہندو یونیورسیٹی کا افتتاح(قیام) ایک جشن کا موقع تھا کیوں کہ ہندوستانی دولت اور ہندوستانیوں کی پیش قدمی کے ذریعہ تقویت پذیر قوم پرست یونیورسٹی کا کا قیام ایک علامت تھا لیکن گاندھی جی نے خود کو مبارک باد دینے کی آواز (سر) بنائے لوگوں کو ان کسانوں اور مزدوروں کی یاد دہانی کرائیں جو ہندوستانی آبادی کی اکثر یت کو تشکیل دینے کے باوجود حاضرین میں سے نمائندگی نہ کر سکتے تھے۔
ایک سطح پر فروری 1916 میں گاندھی جی کی تقریرفقط حقیقت کا رسمی اظہار تھا۔ بالفاظ دیگر ہندوستانی قوم پرستی ایک ممتاز طبقہ کا مظہر تھی جو وکیلوں ، ڈاکٹروں اور زمین داروں کے ذہن کی اختراع تھا لیکن ایک دوسری سطح پر یہ عزم کا رسمی اظہار بھی تھا۔ گاندھی جی کایہ پہلا عوامی اعلان ہندوستان قوم پرستی کو سارے ہندوستانی عوام کی زیادہ مناسب طور سے نمائندگی تخلیق کرنے کی خواہش کا اظہار بھی تھا۔ اسی سال کے آخری مہینے میں گاندھی جی کو ضابطوں کو عملی شکل میں پیش کرنے کا موقع ملا ۔ دسمبر 1916میں لکھنؤ میں منعقدسالانہ کانگریس میں چمپارن بہار سے آنے والے ایک کسان نے انھیں نیل کے انگریز کاشت کاروںکے ذریعہ کسانوں کو ساتھ کیے جانے والے ظالمانہ برتاؤ کے متعلق بتایا۔
بحث کیجیے...
1915 سے قبل ہندوستان میں قومی تحریک کے متعلق مزید تحقیق کیجیے اور دیکھیے کہ کیا مہاتما گاندھی کا تبصرہ انصاف پر مبنی ہے۔
2. عدم تعاون کی تحریک کا فائدہ اور نقصان
(THE MAKING AND UNMAKING OF NON-COOPERATION )
1917 میں گاندھی جی کا زیادہ تر وقت چمپارن میں قبضہ املاک کی شرائط سے کسانوں کے تحفظ کے ساتھ اپنی پسند کی فصلوں کی کاشت کاری کی آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں گزرا۔ آئندہ سال 1918 میں گاندھی جی اپنی آبائی ریاست کجرات میں دو مہموں میں شریک رہے۔ پہلی انھوں نے احمد آباد میں مزدوروں کے ایک جھگڑے میں دخل اندازی کی اور کپڑے کی ملوں میں کام کرنے والے محنت
کشوں کے لیے بہتر کام کی حالت کا جائزہ لیا اس کے بعد انھوں نے کھیڈا میں کسانوں کی فصل خراب ہونے پر ریاست سے کسانوں کے ٹیکس کو معاف کرنے کی درخواست کی۔
چمپارن ، احمدآباد اور کھیڈا میں کی گئی پیش قدمیوں سے گاندھی جی ایک ایسے قوم پرست کی حیثیت سے ابھرے جن میں غریب لوگوں کے لیے گہری ہمدردی تھی۔ یہ تمام مقامی جدوجہد تھی جس کے بعد 1919 میں نو آبادیاتی حکمرانی نے گاندھی جی کے سامنےمیں ایک ایسا قضیہ ڈال دیا جس کے ذریعہ وہ اچھی خاصی تحریک تشکیل دے سکتے تھے۔ 1914-18 کی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے پریس پر احتساب (سنسر شپ) کا آغاز کر دیا اور بغیر کسی عدالتی کاروائی کے حراست میں رکھنے کی اجازت دے دی ۔ سرسڈنی رولٹ کی قیادت میں بنی کمیٹی کی سفارش پر ان اقدامات کو جاری رکھا گیا۔ اس کے جواب میں گاندھی جی نے رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کے لیے کہا۔ شمالی اور مغربی ہند کے قصبوں میں چاروں طرف " بند" کی آواز کے جواب میں دکانوں اور اسکولوں کے بند ہونے سے زندگی بند ہونے سے زندگی ٹھہر سی گئی۔ پنجاب میں خاص طور پر شدید احتجاج ہوئے جہاں کے بہت سے افراد نے انگریزوں کی طرف سے جنگ میں خدمات انجام دی تھیں اور اپنی خدمات کے عوض وہ انعام کی امید کر رہے تھے۔ اس کے بجائے انھیں رولٹ ایکٹ دیاگیا۔ گاندھی جی کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ پنجاب جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ اہم مقامی کانگریسیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ صوبہ کی حالت بتدریج کشیدہ ہوتی گئی اور اپریل 1919 میں امرتسر میں حالات ساز ہو گئے جب انگریز برگیڈیر نے ایک قوم پرست جلسے پر فوجیوں کو گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ جلیاں ولا باغ قتلِ عام کے نام سے معروف اس حادثہ میں چار سو سے بھی زیادہ افراد مارے گئے۔
یہ رولٹ ستیہ گرہ ہی تھا جس نے گاندھی جی کو حقیقت میں ایک قومی لیڈر بنایا۔ اس کامیابی سے حوصلہ پاکر گاندھی جی نے انگریز حکومت کے خلاف " عدم تعاون " کی مہم کے لیے ان سے مطالبہ کیا ۔ جو ہندوستانی نوآبادیت کو ختم کرنے کے خواہشمند تھے ان سے کہا گیا کہ وہ اسکولوں ، کالجوں اور عدالتوں میں نہ جائیں اور ٹیکس بھی ادا نہ کریں ۔ مختصراً انھوں نے سبھی سے انگریز حکومت کے ساتھ تمام طرح کی وابستگی سے رضا کارانہ طور پر دستبردار ہونے کے لیے عمل پیرا ہونے کے لیے کہا اور یہ بھی بات زور دے کر کہی کہ اگر عدم تعاون پر مؤثر ڈھنگ سے عمل داآمد ہوا تو ہندوستان اک سال کے اندر سوراج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اپنی جدوجہد کو مزید وسعت دیتے ہوئے انھوں نے خلافت تحریک کے ساتھ ہاتھ ملایا۔
حال ہی میں ترکی حکمراں کمال اتا ترک کے ذریعہ ختم کی گئی خلافت اتحاد اسلامی کا مظہر تھی جس کو یہ تحریک بحال کرانا چاہتی تھی۔
خلافت تحریک کیا تھی
(What was the Khilafat Movement ?)
خلافت تحریک (1919-1920) محمد علی اور شوکت علی کی قیادت میں چلائی گئی ہندوستانی مسلمانوں کی ایک تحریک تھی جس کے مندرجہ ذیل مطالبے تھے۔ سابقہ عثمانی سلطنت کے مسلم مقامات مقدسہ پر ترکی سلطان یا خلیفہ کا کنٹرول بنا رہنا چاہیے۔ جزیرہ العرب (عربیہ، سیریا، عراق، فلسطین) مسلم خود مختاری کے تحت حسب سابق رہیں اور خلیفہ کے پاس حسب ضرورت علاقے چھوڑے جائیں تاکہ وہ مذہب اسلام کا دفاع کرنے کے قابل ہو۔ کانگریس نے اس تحریک کی حمایت کی اور مہاتما گاندھی نے اس کو عدم تعون تحریک کے ساتھ باہم جوڑ نے کی کوشش کی۔
2.1 ایک عوامی تحریک کی تیاری
(Knitting a popular movement)
گاندھی جی کو امید تھی کہ عدم تعاون تحریک کو خلافت تحریک کے ساتھ ملانے سے ہندوستان کی دو بڑی مذہبی قومیں ہندو اور مسلمان مل کر نوآبادیاتی حکومت کو ختم کر سکتے ہیں۔ ان تحریکوں نے یقیناً ایک عوامی کارروائی کے جذبہ کو بندھن سے آزاد کر دیا جو نوآبادیاتی ہندوستان میں قطعی طور پر انوکھی بات تھی۔
طلبہ نے حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکول اور کالجوں میں جانا موقوف کر دیا ۔ وکیلوں نے عدالت میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا ۔ بہت سے شہروں اور قصبوں میں مزدور طبقہ ہڑتال پر چلا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1921میں 396 ہڑتالیں ہوئی جن میں 6,00,000 مزدور شامل ہوئے تھے اور 70 لاکھ کام کے دنوں کا نقصان ہوا تھا۔ دیہی علاقوں میں بھی غیظ و غضب کے ساتھ بے اطمنانی موجود تھی۔ شمالی آندھر پردیش کے پہاڑی قبائل نے جنگل قوانین کی خلاف ورزی کی ۔ اودھ میں کسانوں نے محصول ادا نہیں کیے۔ کمایوں کے کسان نے نوآبادیاتی افسران کا سامان ڈھونے سے انکار کر دیا۔ یہ احتجاجی تحریکیں بسا اوقات مقامی قوم پرست قیادت کی سرتابی کرتے ہوئے عمل میں آئیں۔ کسانوں، مزدوروں اور دیگر نے اس کی اپنے طور پر ترجمانی کی اور نو آبادیاتی حکومت کے ساتھ عدم تعاون اور تحکمانہ ہدایت کی پیروی کے بجائے اپنے مفاد کے طریقوں پر عمل کیا۔

شکل 13.4
عدم تعاون تحریک جولائی 1922
غیر ملکی کپڑوں کو جمع کیا جا رہا ہے تاکہ ان کو آگ میں جلایا جا سکے۔
گاندھی جی کے امریکی سوانح نگارلوٹس فشر کے مطابق عدم تعاون ، ہندوستان اور گاندھی جی کی زندگی میں ایک عہد ساز نام بن گیا ۔ یہ امن کے نقطہ نظر سے منفی لیکن ذی اثر اعتبار سے مثبت تھا ۔ اس کے لیے انحراف، نفس کشی اور ضبط لازمی تھا۔ یہ اپنی حکومت کے لیے ایک تربیت تھی۔ 1857 کی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ عدم تعاون تحریک کے نتیجہ میں انگریزی حکومت کی بنیادیں متزلزل ہو گئیں۔ اسکے بعد فروری 1922 میں کسانوں کے ایک گروہ نے متحدہ صوبہ جات (موجودہ اترپردیش اور اترانچل )میں چوری چورا جیسے چھوٹے گائوں میں ایک پولس اٹیشن پر حملہ کرکے آگ لگا دی۔ بہت سے کانسٹیبل اس آتشزدگی میں ہلاک گا گئے ۔ تشدد کی اس کاروائی کی وجہ سے گاندھی جی کو فوراًیہ تحریک منسوخ کرنی پڑی ۔ انھوں زور دے کر کہا کہ" کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کو انسانوں کے ظالمانہ قتل کے لیےجو لاچار حالات میں پہنچے ہوئے ہوں اور تقیریبا خود بھیڑ کے رحم و کرم پر ہوں امکانی طور پر جائز نہیں کہا جا سکتا ۔
عدم تعاون تحریک کے دوران ہزاروں ہندوستانیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ خود گاندھی جی کو حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزام میں مارچ 1922 میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس عدالتی کارروائی کی صدارت کرنے والے جج جسٹس سی ۔ این بروم فیلڈ نے انھیں سزا سناتے ہوئے ایک غیر معمولی تقریر کی ۔ جج نے تبصرہ کیا کہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہوگا کہ میں نے اب تک جن کی تفتیش کی ہے یا تفتیش کروں گا ۔ آپ کسی بھی شخص سے مختلف زمرے کے ہیں۔ اس حقیقت کو انظر انداز کرنا نا ممکن ہوگا کہ آپ اپنے لاکھوں ہم وطنوں کی نظر میں ایک عظیم محبّ وطن اور لیڈر ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست میں جو لوگ آپ سے مختلف ہیں وہ بھی آپ کو اعلیٰ نصب العین یہاں تک کہ آپ کو پاک و مقدس زندگی والے فرد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چونکہ گاندھی جی نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی اس لیے عدالت کے لیے ان کو چھ سال کے لیے جیل کی سزا سنائی جانی ناگزیر تھی، لیکن جج بروم فیلڈ نے کہا" اگر ہندوستان میں واقع ہونے والے واقعات کے سبب حکومت کے لیے آپ کی سزا کے ان سالوں میں کمی کرنا اور رہا کرنا ناممکن ہوا تو اس بات سے مجھ سے زیادہ کوئی اور شخص خوش نہ ہوگا۔
2.2 عوام کے لیڈر(A people's leader)
1922 تک گاندھی جی نے ہندوستانی قوم پرستی کی کایا پلٹ کر دی تھی۔ اس لحاظ سے فروری 1916 میں بنارس ہندوس یونیورسٹی میں اپنی تقریر میں کیے گئے وعدہ کو پورا کیا۔ اب یہ تحریک دانشوروں اور پیشہ وروں کی تحریک نہیں تھی کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں کسانوں ، مزدوروں اور دست کاروں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے گاندھی جی کو نہایت تعظیم و تکریم کی نظر سے دیکھتے ہوئے انھیں اپنا" مہاتما" قرار دیا ۔ انھوں نے اس حقیقت کی قدر کی کہ وہ ان کی طرح ہی کپڑے پہنتے تھے، ان کی طرح رہتے تھے اور ان کی زبان بولتے تھے۔ دوسرے لیڈروں کی طرح وہ عام خلقت سے فاصلے پر کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ان سے ہمدردی رکھتے تھے حتیٰ کہ ان کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرتے تھے۔
یہ شناخت ان کے کپڑوں میں نمایاں طور پر منعکس ہوتی تھی۔ حالانکہ دیگر قوم پرست لیڈران رسمی طور پر مغربی طرز کے سوٹ یا ہندوستانی بند گلے کے کپڑے پہنتے تھے۔ گاندھی جی لوگوں کے درمیان ایک عام دھوتی میں جاتے تھے۔ اس دوران گاندھی جی ہر دن کا کچھ حصہ چرخہ چلا کر گزارتے تھے اور دیگر قوم پرستوں کو بھی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ۔ سوٹ کاتنے کے عمل نے گاندھی جی کو راویتی ذات پات کے نظام کے اندر رائج ذہنی محنت مشقت اور جسمانی محنت کی دیوار کو توڑنے کی اجازت دی۔
مؤرخ شاہد ہیں کہ پرکشش مطالعہ میں مقامی پریس میں پہنچائی گئی رپورٹوں اور افواہوں کے ذریعہ مشرقی اترپردیش کے کسانوں کے درمیان مہاتما گاندھی کی شبیہہ کو تلاش کیا گیا ہے۔ فروری 1921 میں اس علاقے کے سیاحت کے دوران ہر جگہ مجتمع نے عزت کے ساتھ ان کا استقبال کیا تھا۔
ماخذ 1
چرخہ
مہاتما گاندھی جدید عہد کے شدید نقاد تھے جس میں مشینوں نے انسانوں کو غلام بناکر محنت کو بے دخل کر دیا تھا۔ وہ چرخہ کو انسانی سماج کےایک ایسے مظہر کے طور پر دیکھتے تھے جس میں مشینوں اور ٹیکنالوجی کی ستائش نہیں کی جائے گی۔ مزید برآں چرخہ غریب لوگوں کو اضافی آمدنی فراہم کر سکتا تھا اور انھیں خود کفیل بنا سکتا تھا۔
میرا احتجاج مشینوں کے لیے خبط سے ہے۔ یہ خبط ان مشینوں کے لیے ہے جنھیں محنت بچانے والی مشین کہا جاتا ہے۔ لوگ اس وقت تک محنت بچاتے رہیں گےجب تک ہزاروں افراد بغیر کام کے اور بھوک سے مرنے کے لیے کھلی سڑک پر نہ پھینک دیے جائیں۔ میں بنی نوع انسانی کے کسی ایک حصہ کے لیے نہیں بلکہ سبھی کے لیے وقت اور محنت بچانا چاہتا ہوں میں دولت کی یکجا فراہمی ، کچھ ہی لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ سبھی کے ہاتھوں میں کرنا چاہتا ہوں۔
ینگ انڈیا ، 13 نومبر 1924
کھدر تمام مشینوں کو تباہ کرنا نہیں چاہتی بلکہ یہ اس کے استعمال کو منضبط کرتی ہے اور اس کی کمزور ترقی پر نظر رکھتی ہے۔ یہ مشینوں کا استعمال انتہائی غریب لوگوں کے لیے ان کی اپنی جھونپڑی میں کرتی ہے۔ پہیہ اپنے آپ میں ہی مشین کا ایک نفیس حصہ ہے۔
ینگ انڈیا 17 مارچ 1917
شکل 13.5
مہاتما گاندھی چرخہ کے ساتھ ہندوستانی قوم پرستی کی دائمی مثال گن گئے۔
1921میں جنوبی ہندوستان کے سفر کے دوران گاندھی جی نے اپنا سر منڈوادیا اور غربا کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے دھوتی زیب تن کر لی۔ ا ن کی یہ نئی صورت زہد اور ترک کا مظہر بھی بن گئی اور یہ خصوصیات ایسی تھیں جن کا گاندھی جی جدید دنیا کے صارفین کے حامی تمدن کی مخالفت کو لیے عزت دیتے تھے۔
گاندھی کی تقریر کے دوران کیسا ماحول ہوتا تھا، اس کے متعلق گورکھپور کے ایک ہندی اخبار نے یہ رپورٹ لکھی:
بھٹنی میں گاندھی جی نے مقامی لوگوں سے خطاب کیا اور اس کے بعد ٹرین گورکھپور کے لیے روانہ ہوئی۔ نون کھار، دیوریا، گوری بازار ، چوری چورا اور کوسمہی اسٹیشنوں پر 15,000 سے 20,000 سے کم لوگ نہیں تھے...مہاتماجی، کوسمہی کے منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھےاور اس حقیقت کے باوجود کہ یہ اسٹیشن جنگل کے وسط میں واقع تھا یہاں 10,000 سے کم لوگ نہ تھے کچھ لوگ ان کی محبت مغلوب روتے ہوئے دکھائی دیے۔ دیوریا پر لوگ گاندھی جی بھینٹ(عطیہ)دینا چاہتے تھے لیکن انھوں نے اسے ان سے گورکھپور میں دینے کے لیے کہا لیکن چوری چورا میں ایک مہذب مارواڑی انھیں کچھ پیش کرنے میں کامیا ب ہو گیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ رک نہیں پایا۔ ایک چادر پھیلا دی گئی جس پر روپیوں اور سکّوں کی بارش شروع ہو گئی۔ یہ ایک منظر تھا.... گورکھپور اسٹیشن کے باہر گاندھی جی ایک اونچی گاڑی پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں نے چند منٹوں کے لیے ان کا دیدار کر لیا۔
گاندھی جی جہاں کہیں گئے ان کی معجزاتی قوتوں کی افواہیں پھیل گئیں۔ بعض مقامات پر یہ کہا گیا کہ انھیں راجہ کےذریعہ کسانوں کی شکایت کی تلافی کے لیے بھیجا گیا ہے اور وہ تمام مقامی افسران کے فیصلے رد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ چند دیگر مقامات پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ گاندھی جی کی قوت و طاقت انگریز بادشاہ سے برتر ہے اور ان کے آنے کے ساتھ نو آبادیاتی حکمراں ضلع سے بھاگ جائیں گے۔ گاندھی جی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے خوفناک نتائج کی خبردیتی ہوئی کہانیاں بھی گشت میں تھیں۔ اس طرح کی افواہیں پھیلی تھیں کہ گاندھی جی کی تنقید کرنے والے لوگوں کے گھر پر اسرار طور پر ٹوٹ کر گر گئے یا ان کی فصلیں خراب ہو گئیں۔
گاندھی بابا گاندھی مہاراج یا صرف مہاتما جیسے مختلف ناموں سے معروف گاندھی جی ہندوستانی کسانوں کے لیے ایک نجات دہندہ کے طور پر سامنے آئے جو ان کو ٹیکس کی انتہا اور ظالم افسران سے آزاد کرانے والے نیز ان کی زندگی کا وقار اور شخصی آزادی بحال کرانے والے تھے۔ غریبوں اور کسانوں کے درمیان گاندھی جی کی اپیل کو ان کی درویشانہ طرزِ زندگی کے ذریعہ اور دھوتی نیز چرخہ جیسی علامات کی ذی فہم استعمال سے تقویت ملی۔ ذات کے اعتبار سے گاندھی ایک تاجر اور پیشے کے اعتبار سے وکیل تھےلیکن ان کے ساتھ طرزِ زندگی اور ہاتھوں سے کام کرنے کے تئیں ان کے پیار نے اس بات کی اجازت دی کہ وہ غریب مزدور طبقے کے ساتھ ہمدردی رکھیں اور بدلے میں وہ لوگ گاندھی جی سے ہمدردی رکھتے تھے۔ جہاں زیادہ تر سیاستداں ان سے کمتر سمجھ کر بات کرتے تھے وہیں گاندھی جی ان کو سمجھنے اور ان کی زندگی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے لے لیے سامنے آئے۔
بلاشبہ گاندھی جی کی عوام سے اپیل سچی تھی اور ہندوستانی سیاست کے تناظر میں کسی نظیر کے تاکیداً یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ قوم پرستی کی اساس کو وسیع کرنے میں ان کی کامیابی کا راز احتیاط لہٰذا تنظیم کی بنیاد پر تھا۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں کانگریس کی شاخیں قائم کی گئیں۔ شاہی ریاستوں (princely states)میں قوم پرستی کے عقائد کو فروغ دینے کی غرض سے " پرجامنڈل " کا ایک سلسلہ قائم کیا گیا۔ گاندھی جی نے قوم پرستی کے پیغام کی ترسیل حکمرانوں کی زبان انگریزی کی بجائے مادری زبان میں کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ کانگریس کے صوبائی کمیٹیاں برطانوی ہندوستان کی مصنوعی سرحدوں کے مقابلے لسانی علاقوں پر مبنی تھیں۔ نان مختلف طریقوں سے قوم پرستی ملک کے بعید ترین کناروں تک پہنچ گئی اور وہ مختلف سماجی گروہ بھی اس میں شامل ہو گئے جو ماضی میں اس سے دور تھے۔
ماخذ 2
معجزاتی اور ناقابلِ یقین(The miraculous and the unbelievable)
متحدہ صوبہ جات کے مقامی اخبارات نے اس زمانے میں پھیلی ہوئی بہت سی افواہوں کو درج کیا ۔ یہ افواہیں ایسی تھیں کہ جس کسی نے بھی مہاتما گاندھی کی قوت کار کو جانچنا چاہا اسے تعجب ہوا:
1۔ بستی کے ایک گاؤں کے سکندر ساہونے 15 فروری کو کہا کہ وہ مہاتما جی میں تب یقین کرےگا جب اس کے کارخانہ (جہاں گڑپیدا کیا جاتا تھا)گنے کے رس سے بھری کڑا ہی (ابلتی ہوئی) دو حصوں میں ٹوٹ جائے۔ فوراً ہی کڑاہی درمیان سے دو حصوں میں ٹوٹ گئی۔
2۔ اعظم گڑھ کے ایک کسان نے کہا کہ وہ گاندھی جی کی صداقت میں تب یقین کرے گا جب اس کے کھیت میں بوئے گئے گیہوں سے تلوں کی کونپلیں نکل آئیں ۔ اگلے دن اس کھیت کا سارا گیہوں تل بن گیا۔
بعض ایسی افواہیں تھیں کہ جس نے گاندھی جی کی مخالفت کی وہ ہمیشہ کسی نہ کسی قدرتی آفت کا شکار ہوا۔
1۔ گورکھپور شہر کے شریف آدمی نے چرخہ چلانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا تو اس کے گھر میں آگ لگ گئی۔
2۔ اپریل 1921 میں چند لوگ اتر پردیش کے ایک گاؤں میں جوا کھیل رہے تھے۔ کسی شخص نے انھیں جوا کھیلنے سے منع کیا ۔ اس گروپ میں سے ایک نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور گاندھی جی کو گالی دی۔ دوسرے دن اس کی بکری کو چار کتوں نے کاٹ لیا۔
3۔ گورکھپور کے ایک گاؤں کے کسانوں نے شراب پینا ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک شخص اپنے وعدے پر قائم نہیں رہ سکا۔ جوں ہی وہ شراب کی دکان پر جا نے کے لیے چلا ویسے ہی اس کے راستے میں اینٹ کے ٹکڑوں کی بارش شروع ہو گئی۔ جب اس نے گاندھی جی کا نام لینا شروع کیا یہ سلسلہ بند ہو گیا۔
شاہد امین کی کتاب " گاندھی ایز مہاتما" سب لیٹرن اسٹڈیز III آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی
آپ نے باب 11 میں افواہوں کے متعلق پڑھا اور دیکھا کہ افواہوں کی گردش کا عمل ایک عہد کے عقائد کے ڈھانچہ کے متعلق ہمیں کیا بتاتا ہے: یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ان لوگوں کی ذہنیت کے متعلق جو ان افواہوں میں یقین کرتے ہیںاور اس صورتِ حال کے بارے میںجو ان عقائد کو ممکن بتاتی ہے۔آپ کے خیال میں گاندھی جی کے متعلق ان افواہوں سے کیا ترجمانی ہوتی ہے؟
اب تک کانگریس کے مددگارچند خوشحال تاجر اور صنعت کار تھے۔ ہندوستانی مہم جو حضرات نے یہ جلد ہی تسلیم کر لیا کہ ان کے انگریز حریف جس خاص رعایت کے ذریعہ لطف اندوز ہو رہے ہیں وہ آزاد ہندوستان میں ان کے لیے ختم ہو جائیں گی۔ جی۔ڈی۔ برلا جیسے حضرات نے قومی تحریک کی کھل کر حمایت کی جبکہ دیگر نے حکمت کے طور پر ایسا کیا۔ اس طرح گاندھی جی کے مداح غریب کسان اور مالدار صنعت کار دونوں تھے۔ گو کہ کسانوں کا گاندھی جی کے اتباع کے اسباب صنعت کاروں کے اسباب سے کسی قدر مختلف اور شاید ان کے برعکس تھی تھے۔
حالانکہ مہاتما گاندھی کا کردار حیات آفریں تھا لیکن ہم " گاندھی وادی قوم پرستی" کا ارتقا کہہ سکتے ہیں وہ کافی حد تک ان کے پیروں کاروں پر منحصر ہوتی تھی۔ 1917 اور 1922 کے درمیان ہندوستاینوں کے انتہائی باصلاحیت افراد کے گروہ نے خود کو گاندھی جی سے وابستہ کر لیا اس میں مہاویوڈیسائی، ولبھ بھائی پٹیل، جے بی کرپلانی، سبھاش چندر بوس ، ابوالکلام آزاد ، جواہر لعل نہرو، سروجنی نائڈو، گووندولّبھ پنت اور سی راج گوپالا چاریہ شامل تھے۔ گاندھی جی کے یہ قریبی ممتاز رفیق کار علاقوں سے آئے تھےاور یہ مختلف مذہبی روایات کے حامل بھی تھے۔ انہوں نے بے شمار ہندوستانیوں کو کانگریس میں شامل ہونے اور اس کے لیے کام کرنے کے لیے جوش پیدا کیا ۔
فروری 1924 میں مہاتما گاندھی جیل سے رہا ہو گئے اور انھوں نے اپنی توجہ گھر میں بنے ہوئے کپڑے (کھادی)کو فروغ دینے اور چھوت چھات کو ختم کرنے کے قصد سے وقف کر دی۔ گاندھی جی جتنے بڑے سیاست داں تھے اتنے ہی بڑے سماجی مصلح بھی تھے۔ ان کا یقین تھا کہ آزادی کے قابل بننے کے لیے ہندوستانیوں کو بچپن کی شادی اور چھوت چھات جیسی سماجی برائیوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ ایک عقیدے کے حامل ہندوستانیوں کو دوسرے عقیدے کے لیے حقیقی برداشت و رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔ اس لیے انھوں نے ہندو مسلم ہم آہنگی پر زور دیا۔ اس عرصہ میں معاشی محاذ پر ہندوستانیوں کو خود کفیل بننا سیکھنا ہوگا۔ شاید اسی لیے انھوں نے غیر ملک سے درآمد کپڑے پہننے کے بجائے کھادی پہننے کی اہمیت پر زور دیا۔
بحث کیجیے...
عدم تعاون کیا تھا؟ ان طریقوں کے تنوع کے متعلق معلوم کیجیے جن میں محتلف سماجی گروہوں نے تحریک میں حصہ لیا تھا۔
3. نمک ستیہ گرہ: ایک کیس اسٹڈی (THE SALT SATYAGRAHA: A CASE STUDY)
عدم تعاون تحریک ختم ہونے کے کئی سالوں بعد تک مہاتما گاندھی نے خود کو سماجی اصلاح کے کاموں تک مرکوز رکھا۔ تاہم 1928میں انھوں نے دوبارہ سیاست میں داخل ہونے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ اس سال سبھی سفید ممبران (انگریز) سائمن کمیشن کے خلاف کل ہند مہم چلائی جا رہی تھی جو نوآبادیات کے حالات کی چھان بین کرنے کے لیے انگلینڈ سے بھیجے گئے تھے۔ گاندھی جی نےخود اس تحریک میں حصہ نہیں لیا پھر بھی انھوں نے اپنی دعائیں دی تھیں اور اسی سال باردولی میں ہونے والے کسان ستیہ گرہ کے ساتھ بھی انھوں نے ایسا ہی کیا تھا۔
1929 میں دسمبر کے آخر میں کانگریس نے اپنا سالانہ اجلاس لاہور شہر میں منعقد کیا ۔ یہ اجلاس دو باتوں کے لحاظ سے اہم تھا:جواہر لال نہرو کا بحیثیت کانگریس صدر انتخاب جو نوجوان نسل کو قیادت کی چھڑی حوالے کرنے کی علامت تھا اور مکمل آزادی حاصل کرنے کے عہد کا اعلان، اب سیاست کی رفتار ایک بار مزید تیز ہو گئی ۔ 26 جنوری 1930 کو مختلف مقامات پر قومی پرچم لہرانے کے ساتھ حب الوطنی کے نغمے گا کر اسے " یومِ آزادی" کے طور پر منایا گیا۔ گاندھی جی نے خود اختیار کے ساتھ ہدایات دے کر بتایا کہ اس دن کو کیسے منایا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اچھا ہوگا کہ اگر یہ (آزادی)اعلان سبھی گاؤں ، سبھی شہروں حتیٰ کہ...یہ اچھا ہوگا کہ اگر تمام مقامات پر یکساں وقت پر تمام جلسے منعقد ہوں۔
گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ نقارہ پینے کے ذریعہ روایتی طریقے سے جلسے کے وقت کی اطلاع دی جائے۔ قومی پر چم لہرانے کے ساتھ جشن آغاز ہوگا۔ دن کا بقیہ حصہ کسی قدر تعمیری کاموں خواہ یہ سورت کی کتائی ہو یا اچھوتوں کی خدمت یا ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کی تجدید حتیٰ کہ یہ سبھی کام ایک ساتھ انجام دیے جائیں جو ناممکن نہیں ہیں: اس میں حصہ لینے والے لوگ پر زور تائید کے ساتھ عہد لیں گے کہ " دیگر لوگوں کی طرح ہندوستانیوں کو بھی آزادی اور اپنی شدید محنت کے نتیجہ سے لطف اندوز ہونے کا ناقابل منتقلی حق ہے اور یہ کہ اگر کوئی بھی حکومت لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھتی ہے اور ان کو زبردستی مطیع رکھتی ہے تو لوگوں کے پاس اسے بدلنے اور ختم کرنا کا ایک مزید حق تھی ہے۔
3.1 ڈانڈی (Dandi)
اس " یوم آزادی" کو منائے جانے کو فوراً بعد ہی مہاتما گاندھی نے اعلان کیا کہ برطانوی ہندوستان بڑی حد تک نہایت ناپسندیدہ قوانین میں سے ایک جس نے نمک کی تیار ی اور فروخت پر ریاست کو اجارہ داری دے دی تھی، کوتوڑنے کے لیے ایک مارچ (احتجاجی جلوس) کی قیادت کریں گے۔ نمک کی اجارہ داری کے جس مسئلہ کا انتخاب کیا گیا وہ گاندھی جی کی تدابیر دانائی کی ایک اہم مثال تھی۔ ہر ایک ہندوستانی گھرانے کے لیے نمک کا استعمال لازمی تھا، تاہم لوگوں کو گھریلو استعمال کے لیے نمک بنانے سے بھی روکا گیا۔ ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اونچے داموں میں دکانوں سے نمک خریدیں۔ نمک پر ریاست کی اجارہ داری کافی غیر مقبول تھی۔ اس کو نشانہ بناتے ہوئے گاندھی جی انگریز حکومت کے خلاف وسیع بے اطمینانی کو منظّم کرنے کے لیے پر امید تھے۔
شکل 13.6
ڈانڈی مارچ (اجتماعی جلوس ) مارچ 1930
جہاں زیادہ تر ہندوستانیوں کو گاندھی جی کے چیلنج کی اہمیت سمجھ میں آ گئی وہیں بادی النظر میں انگریز راج کی سمجھ میں نہیں آیا ۔ حالانکہ گاندھی جی نے اپنے نمک مارچ کی پیشگی اطلاع وائسرائے لارڈ ارون کو دے دی تھی لیکن ارون ان کی اس کارروائی کی اہمیت کے مفہوم کو سمجھنے میں ناکام رہا۔ 12 مارچ 1930کو گاندھی جی نے سابرمتی میں واقع اپنے آشرم سے سمندر کی طرف چلنا شروع کیا ۔ تین ہفتے بعد وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ یہاں انھوں نے مٹھی بھر نمک بنا کر خودکو قانون کی نظر میں مجرم بنا دیا۔ اس عرصے میں ملک کے دیگر حصوں میں متوازی نمک مارچ منعقد کیے گئے۔
شکل13.7
6 اپریل 1930 کو ڈانڈی مارچ کے اختتام پر ستیہ گرہ کرنے والے ہی قدرتی نمک اٹھاتے ہوئے
ماخذ 3
نمک ستیہ گرہ کیوں؟(?Why the Salt Satyagraha)
نمک احتجاج کی علامت کیوں تھا ؟ اس کے تعلق مہاتما گاندھی کیا لکھتے ہیں:
روزانہ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مجموعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ستم ایجاد نمک ٹیکس کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ٹیکس ادا کیے بغیر نمک ، جو ٹیکس کبھی کبھی نمک کی اصل قیمت سے چودہ گنا زیادہ تک ہوتا ہے اس کے استعمال کو روکنے کے لیے حکومت اس نمک کو جس کو وہ منافع سے فروخت نہیں کر پائی ہے تباہ کر دیتی ہے۔ اس طرح یہ حکومت ملک کی انتہائی اہم ضرورت پر ٹیکس لگاتی ہے۔ یہ عوام کو اس کے تیار کرنے سے روکتی ہے اور قدرت کے ذریعہ بغیر کسی کوشش کے تیار کیے گئے نمک کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس ستم ایجاد غاصب پالیسی کو کسی پائیدار صفت کے لیے مخصوص نہیں کیا جا سکتا ہے مختلف ذرائع سے میں ہندوستان کے سبھی حصوں میں اس قومی ملکیت کی غارت گری کی کہانیاں سن رہا ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹنوں نمک کونکن کے ساحل پر تباہ کر دیا گیا۔ اس طرح کی کہانیاں ڈانڈی سے بھی آ رہی ہیں۔ جہاں کہیں بھی اس طرح کے علاقے کے قرب و جوار میں رہنے والے لوگوں کے ذریعہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے قدرتی نمک اٹھا لےجانے کا امکان ہے وہاں نمک افسران کے تقرر کا واحد مقصد نمک کو تباہ کرنے کو عمل میں لانا ہوتا ہے۔ اس طرح بیش قیمتی ملکیت کو قومی خرچ سے ہی تباہ کیا جاتا ہے اور لوگوں کے منہ سے نمک چھین لیا جاتا ہے۔
اس طرح نمک کی اجارہ داری ایک چوطرفہ طرز عمل ہے ۔ یہ لوگوں کو بیش قیمتی سہل دیہی صنعت سے محروم کرتا ہے۔ قدرت کے ذریعہ بہتات میں پیدا ملکیت کی خواہ مخواہ کی غارت گری کا عمل ہے ۔ نمک کی اس غارت گری کا بذات خود مطلب مزید قومی اخراجات ہے اور چوتھا اس بے وقوفی کا جزو لازم،بھوکے لوگوں سے 1,000 فیصد سے بھی زیادہ وصولیابی۔
عام لوگوں کی بے تعلقی کی وجہ سے ہی یہ ٹیکس برقرار رہا۔ عوام کافی حد تک خواب غفلت سے بیدار ہو چکے تھے، اس ٹیکس کو اب ختم کرنا ہوگا، کتنی جلدی یہ ختم ہوگا یہ لوگوں کی طاقت پر منحصر کرتا ہے۔
دی کلیکٹیڈ ورکس آف مہاتما گاندھی (سی ڈبلیو ایم جی )جلد 49
نو آبادیاتی حکومت کے ذریعہ کو کیوں تباہ کیا گیا، مہاتما گاندھی نمک ٹیکس کو دیگر ٹیکسوں کے مقابلے زیادہ ظالمانہ کیوں سمجھتے تھے؟
ماخذ 4
کل ہم نمک ٹیکس قانون توڑیں گے (Tomorrow we shall break the salt tax law)
15 اپریل 1930 کے دن مہاتما گاندھی نے ڈانڈی میں کہا تھا:
جب میں نے سابرمتی کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈانڈی کے سمندری ساحل کے چھوٹے سے گاؤں کے لیے چھوڑا تھا تو میرے ذہن میں یہ یقین نہیں تھا کہ ہم کو اس مقام تک پہونچنے دیا جائے گا۔ اس وقت جب میں سابرمتی میں تھاتب یہ افواہ تھی کہ مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوچا شاید حکومت میرے ساتھیوں کو ڈانڈی تک آنے دے گی لیکن مجھے یقینا ًنہیں آنے دے گی۔ اگر کوئی شخص میرے اوپر دانستہ ناقص عقیدہ کے الزام کااظہار کرتا ہے تو میں اس الزام سے انکا ر نہیں کرونگا۔ میرے یہا ں تک پہونچنے میں امن اور عدم تشدد کی طاقت کی معمولی تدبیر حق بجانب نہ ہوگی۔اس طاقت کو آفاقی طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ کاش حکومت ، اگر یہ چاہے تو وہ اس کام کی انجام دہی کے لیے خود کو مبارکباد دے سکتی ہے کیونکہ وہ ہم میں سے ہر ایک کو گرفتار کر سکتی تھی۔ جب حکومت یہ کہتی ہے کہ ان کے پاس امن کی اس فوج کو گرفتار کرنے کی ہمت نہیں تھی تو ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں۔ اس طرح کی فوج گرفتار کرنے میں حکومت شرم محسوس کرتی ہے۔ جو شخص کوئی ایسا کام کرنے میں شرمندگی محسوس کرتا ہے جس سے اس کا پڑوسی ناخوش ہو تو وہ شخص مہذب ہے۔ حکومت ہم لوگوں کو گرفتار نہ کرنے کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے۔ بالفرض اس نے یہ کام عالمی رائے کے خوف سے صرف بچنے کے لیے ہی کیا ہو۔
کل ہم نمک ٹیکس قانون توڑیں گے خواہ حکومت اس کو برداشت کرتی ہے یا نہیں۔ یہ سوال الگ ہے۔ ہو سکتا ہے حکومت یہ برداشت نہ کرے لیکن اس جماعت کے لیے جو صبر و استقلال اور ضبط و تحمل کا اس نے مظاہرہ کیا ہے وہ اس کے لیے مبارک باد کی مستحق ہے ...
اگر مجھے گجرات مع باقی ملک کے سارے ممتاز لیڈروں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے تو کیا ہوگا، یہ تحریک اس یقین پر مبنی ہےکہ جب ایک ملک خواب غفلت سے بیدار ہو جاتا ہے اور آگے بڑھنے لگتا ہے تو اسے لیڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سی ڈبلیو ایم جی ، جلد 49
گاندھی جی نوآبادیاتی حکومت کو کس طرح دیکھتے تھے یہ تقریر اس کے متعلق کیا بتاتی ہے ؟
عدم تعاون تحریک جیسی سرکاری منظور شدہ قو م پرست مہم کے علاوہ بھی احتجاج کے لاتعداد دیگر دھارے تھے۔ ہندوستان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کے وسیع حصوں میں کسانوں نے سخت نا پسندیدہ نو آبادیاتی جنگل قوانین کو توڑا جس کے سبب وہ خود اور ان کے مویشی ان جنگلوں میں نہیں جا سکتے تھے جن میں وہ ایک زمانے میں آزادانہ گھومتے تھے۔ بعض قصبوں میں فیکٹری مزدور ہڑتال پر چلے گئے، اس دوران وکیلوں نے بھی برطانوی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور طلبہ نے حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں پڑھنے سے انکا ر کر دیا۔ 1920-22 کی طرح ہی اس بار بھی گاندھی جی نے ہندوستانیوں کے تمام طبقات کو نوآبادیاتی حکومت کے سبب پیدا ہونے والی اپنی بے اطمینانی ظاہر کرنے کے لیے کہا جس کے جواب میں حکمرانوں نے اختلاف کرنے والوں کو نظر بند کر دیا۔ نمک مارچ میں سرگرم تقریباً 60,000 ہندوستانیوں کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں بے شک گاندھی جی بذاتِ خود بھی شامل تھے۔
ساحل سمندر کی طرف گاندھی جی کے مارچ کی تکمیل کو ان کی سرگرمیو ں پر نظر رکھنے کے لیے متعین پولس افسران کے ذریعہ پیش کردہ خفیہ رپورٹوں سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ان رپورٹوں میں راستے میں واقع گاؤں میں گاندھی جی کے ذریعہ کی گئیں تقاریر کی نقل بھی ملتی ہے جن میں انھوں نے مقامی افسران سے درخواست کی تھی کہ وہ سرکاری ملازمت ترک کر کے جدوجہد آزادی میں شامل ہو جائیں۔ ایک واسنا نامی گاؤں میں گاندھی جی نے اعلیٰ ذات کے لوگوں سے کہا " اگر آپ سوراج کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو آپ کو اچھوتوں کی خدمت کرنی ہوگی فقط نمک ٹیکس یا دیگر ٹیکسوں کے منسوخ ہونے سے آپ کو سوراج حاصل نہیں ہوسکتا۔ سوراج کے لیے آپ کو ان غلطیوں کی اصلاح کرنی ہوگی جو آپ نے اچھوتوں کے ساتھ کی ہیں۔ سوراج کے لیے ہندوؤں مسلمانوں، پارسیوں اور سکھوں کو متحد ہونا ہوگا۔ یہ سوراج کی طرف جانے والی سیڑھیاں ہیں۔ " پولس کے جاسوسوں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ گاندھی جی کی میٹنگوں میں تمام گاؤں کے لوگ اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی بجا طور پر حاضر ہوتی ہیں۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ ہزاروں رضا کار قوم پرستی کے مقصد کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے سارکاری افسران تھے جنھوں نے نوآبادیاتی حکومت میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ حکومت کو لکھی گئی رپورٹ میں ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ نے تبصرہ کیا کہ محترم گاندھی پر سکون اور مطمئن دکھائی دیتے۔ وہ جوں جوں آگے بڑھ رہے ہیں مزید قوت پا رہے ہیں۔
نمک مارچ کی تکمیل کو دیگر ماخذوں سے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے جیسے امریکی اخبار " ٹائم" اس کی تحریریں گاندھی جی کی وضع قطع کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے ساتھ شروع ہوتی تھیں اور ان کے " کمزور قالب" اور " مکڑی جیسے صلب" کو حقیر گردانا گیا۔ چنانچہ اس مارچ کے متعلق اپنی پہلی رپورٹ میں ٹائم نے نمک مارچ کے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے پر شک و شبہ کا اظہار کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ پیدل چلنے کو دوسرے دن کے خاتمے پر گاندھی جی زمین پر گر گئے۔ میگزین کو یقین نہیں تھا کہ " لاغر و کمزور برگزیدہ" شخص جسمانی طور پر مزید آگے جانے کے قابل رہے گا۔ لیکن ایک ہفتے کے اند ر ہی اس کی فکر تبدیل ہو گئی۔ ٹائم نے لکھا کہ اس مارچ کو ملنے والی زبردست عوامی پیروی نے لوگوں کو جمع کر دیا جس سے انگریز حکمراں شدید مضطرب ہو گئے ہیں۔ اب وہ خود بھی گاندھی جی کو ایک برگزیدہ اور " مدبر ماہر سیاست" کے طور پر سلام کرنے لگے جو عیسائیوں کے خلاف عیسائی اقدامات کا ہی ہتھیار استعمال کر رہا تھا۔
شکل 13.8
جنوری 1931 میں مہاتما گاندھی کے جیل سے رہاہونے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے الہ آباد میں کانگریس لیڈروں کی نشست
اس تصویر میں آپ (دائیں سے بائیں) جواہر لعل نہرو، جمنا لال بجاج، سبھاش چندر بوش، گاندھی جی ، مہادیو ڈیسائی اور (سامنے کی طرف) سردار ولبھ بھائی پٹیل کو دیکھ سکتے ہیں۔
3.2 مکالمہ (Dialogues)
نمک مارچ کم از کم تین اسباب کی وجہ سے منفرد تھا۔
اول یہ وہ واقعہ تھا جس کی وجہ سے دنیا کی توجہ گاندھی جی کی طرف مبذول وئی یوروپی اور امریکی پریس کے ذریعہ اس مارچ کی بڑے پیمانے پر اشاعت کی گئی۔
دوم یہ پہلی قوم پرست سرگرمی تھی جس میں خواتین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا ۔ سرگرم اشتراکی کارکن کملا دیوی چٹوپادھیائےنے گاندھی جی کو قائل کیا وہ اپنے احتجاج کو صرف مردوں تک ہی محدود نہ رکھیں۔ کملا دیوی خود ان لاتعداد عورتوں میں سے ایک تھیں جنھوں نے نمک یا شراب قوانین کو توڑتے ہوئے گرفتاری دی تھی۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم سبب یہ تھا کہ نمک مارچ کی وجہ سے ہی انگریزوں کو اچھی طرح سمجھ میں آیا کہ ان کا راج ہمیشہ نہیں رہے گا اور ہندوستانیوں کو بھی اقتدار میں کچھ تفویض کرنا پڑے گا۔
ماخذ 5
جداگانہ انتخابی حلقوں کے تعلق سے مسائل ( The problem with separate electorates)
گول میز کانفرنس کے موقع پر مہاتما گاندھی نے دبے کچلے طبقات کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کے متعلق اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا تھا:
" اچھوتوں" کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کو یقینی بنائے جانے سے غلامی مستقل صورت اختیار کر لے گی...... کیا آپ چاہتے ہیں کہ " اچھوت" بنے رہیں؟ خوب جداگانہ انتخابی حلقوں سے بدنامی کا داغ مستقل طور پر بنا رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ " چھوت چھات" کو ختم کیا جائے اور جب آپ یہ کر لیں تو ایک گستاخ " اعلیٰ " طبقہ کے ذریعہ ایک " کمتر" طبقہ پر نافذ کیے گئے یہ مفسدانہ نشانات تباہ ہو جائیں گے جب آپ ایسا کریں گے تو پھر آپ کس کو جداگانہ انتخابی حلقہ دیں گے؟
اسی مقصد کے لیے برطانوی حکومت نے لندن میں ' گول میز کانفرنس منعقدکیا۔ نومبر 1930 میں پہلی میٹنگ ہندوستان میں سابق ممتاز سیاسی لیڈر کے بغیر میٹنگ منعقد ہوئی۔
کار گزاری کی یہ مشق بیکار ثابت ہوئی جنوری1931 میں گاندھی جیل سے رھا ہوئے اور اگلے مہینہ وائے سرائے کے ساتھ ان کی طویل میٹنگیں ہوئیں ان میٹنگوں کا انجام گاندھی ارون سمبھوتہ کی شکل میں سامنے آیا جس کی شرائط میں سول نا فرمانی تحریک واپس لینا تھا سارے قیدیوں کی رہائی اور ساحلی علاقوں میں نمک تیار کر نے کی اجازت دینا تھا انتہا پسند
(Radical) قوم پرستوں کے ذریعہ اس سمجھوتے پر تنقید کی گئی کیونکہ گاندھی جی وائسرائے سے ہندوستانیوں کے لیے سیاسی آزادی کا عہد لینےمیں ناکام رہے تھے انھیں ممکنہ مقصد کے حصول کے لیے فقط گفتگو کی یقین دہانی مل سکی تھی۔
دوسری گول میز کانفرنس 1931 کے آخری حصہ میں لندن میں منعقد ہوئی۔ یہاں گاندھی جی کانگریس کی نمائند گی کر رہے تھے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی پورے ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہے، جس کو تین پارٹیوں کی طرف سے چیلنج دیا گیا۔
اول مسلم لیگ کی طرف سے، جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسلم اقلیت کے مفادات کے لیے موقف اختیار کرتی ہے۔
دوم چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف سے جو دعویٰ کرتے تھے کہ کانگریس ان کی ریاستوں پر کوئی حق نہیں رکھتی۔
اور سوم غیر معمولی طور پر ذہین وکیل اور مفکر ۔ بی ۔ آر۔ امبیڈکر کی طرف سے جن کی دلیل تھی کہ گاندھی جی اور کانگریس نچلی ذاتوں کی حقیقتاً نمائندگی نہیں کرتے۔
لندن میں ہونے والی یہ کانفرنس بے نتیجہ ثابت ہوئی اس لیے گاندھی جی ہندوستان واپس آگئے اور سول نافرمانی پھر سے شروع کر دی۔ نئے وائسرائے لارڈ ولنگڈن ، ہندوستانی لیڈر (گاندھی جی) کے لیے انتہائی غیر ہمدرد تھا۔ اپنی بہن کو لکھے ایک ذاتی خط میں ولنگڈن نے لکھا تھا " یہ ایک خوبصورت دنیا ہے اگر چہ یہ گاندھی جی کے لیے نہیں ہے ... جیسے کہ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ اس کا ہر قدم دراصل خدا سے تحریک یافتہ ہے لیکن دراصل یہ ایک منصوبہ بند سیاسی چال ہوتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ امریکی پریس اسے کمال کا آدمی کہتی ہے ...لیکن حقیقت یہ کے کہ ہم نہایت غیر عملی ، متصوفانہ اور ضعیف الاعتقاد لوگوں کے درمیان رہ رہے ہیں جو گاندھی کو کسی حد تک ایک برگزیدہ شخص کے طور پر دیکھتے ہیں...
شکل 13.9
دوسری گول میز کانفرنس ، لندن، نومبر 1931
ہندوستانی لیڈمہاتما گاندھی نے " نچلی ذاتوں " کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کے مطالبے کی مخالفت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے سماج کی رائج الوقت روش میں ان کے انضمام کا عمل رک جائے گا اور ہندوؤں کی دیگر ذاتوں سے مستقل طور پر نسلی علاحدگی ہو جائے گی۔
ماخذ 6
جداگانہ انتخابی حلقوں کی بابت امیڈکر کے خیالات
(Ambedkar on separate electorates)
دبے کچلے طبقات کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کے لیے مطالبہ کرنے پر گاندھی جی کی مخالفت کے جواب میں امیڈ کر نے لکھا تھا:
یہاں ایک ایسا طبقہ ہے جو بے شک اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ بذات خود بقا کے لیے جدو جہد جاری رکھ سکے۔ جس مذہب سے یہ لوگ بندھے ہوئے ہیں وہ انھیں باعزت مقام مہیا کرانے کے بجائے ان پر کوڑھیوں کا ٹھپہ لگاتا ہے اور انھیں عمومی روابط کے لیے موزوں نہیں سمجھتا۔ معاشی طور پر یہ ایسا طبقہ ہے جو روزی روٹی کے لیے پوری طرح اعلیٰ ذات کے ہندوؤں پر انحصار کرتا ہے اور جس کے پاس اپنے ذریعہ معاش کے لیے کوئی آزاد راستہ کھلا ہوا نہیں ہے ہندوؤں کے سماجی تعصبات کی وجہ سے ان کےسارے راستے بند ہیں بلکہ ہمارے ہندو سماج نے واضح کوشش کے ذریعہ از اول تا آخر سارے ممکنہ دروازے بند کر دیے جس نے دبے کچلے طبقات کو زندگی کے پیمانے پر اوپر اٹھنے کے لیے کوئی موقع مہیا نہیں کرایا۔
ان حالات میں تمام منصف مزاج لوگ اس بات کو قبول کریں گے کہ ایسے اپاہج طبقے کے لیے منظّم استبداد کے خلاف زندگی کی جدو جہد میں کامیابی کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اسے سیاسی اقتدار میں کچھ حصہ ملے تاکہ یہ خود اپنا تحفظ کر سکیں...... یہ سب سے مقدم ضرورت ہے ........
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر " وہاٹ کانگریس اینڈ گاندھی ہیو ڈن ٹو دی ان پچیلس " رائنگز اینڈ اسپچیز جلد 9، صفحہ 312 سے ماخوذ
تاہم 1935 میں نئے گورمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں سے کسی حد تک نمائندگی پر مبنی حکومت کا وعدہ کیا گیا۔ دو سال بعد محدود حق رائے دہی کی بنیاد پر منعقد الیکشن میں کانگریس کو فتح حاصل ہوئی۔ اب 11 میں سے 8 صوبوں میں کانگریس کے " وزیر اعظم " اقتدار میں آئے جو برٹش گورنر کی نگرانی میں کام کرتے تھے۔
ستمبر 1939 میں کانگریس وزارت کے عہدے سنبھالنے کے دو سال بعد ، دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو دونوں ہی ہٹلر اور نازیوں کے زبردست ناقد تھے نتیجے میں انھوں نے وعدہ کیا کہ انگریز یہ وعدہ کریں کہ اگر ایک مرتبہ جنگ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی تو بدلے میں کانگریس انگریزوں کی جنگ کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گی۔ انگریز حکومت نے ان کی یہ پیش کش مسترد کر دی ۔ اس کے احتجاج میں کانگریس وزارت نے اکتوبر 1939 میں استعفیٰ دے دیا۔ 1940 اور 1941 کے دوران کانگریس نے انفرادی ستیہ گرہ کا ایک سلسلہ منظّم کیا تاکہ حکمرانوں پر اس بات کا دباؤ ڈالا جا ئے کہ وہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہندوستان کی آزادی کا وعدہ کریں۔
شکل 13.10
مہاتما گاندھی اور راجندر پرساد وائسرائے لارڈ لنتھ گو(Lidnlithgow) کے ساتھ میٹنگ کے لیے جاتے ہوئے 13 اکتوبر 1939
میٹنگ میں ، جنگ میں ہندوستان کی شمولیت کی نوعیت پر بحث ہوئی۔ جب وائسرائے کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوا تو کانگریس وزارت نے استعفیٰ دے دیا۔
شکل 13.11
مہاتما گاندھی ، اسٹیفورڈ کرپس کے ساتھ ، مارچ 1942
دریں اثنا مارچ 1940 میں مسلم لیگ نے " پاکستان " کے نام سے ایک علاحدہ ملک بنانے کے لیے خود کو پابند کرتے ہوئے ایک قراد داد پاس کی ۔ سیاسی منظر نامہ اب پیچیدہ ہو گیا تھا ۔ اب یہ جدوجہد ہندوستانی بنام انگریز نہیں رہ گئی تھی بلکہ کانگریس ، مسلم لیگ اور برطانوی حکومت کے درمیان تین طرفہ جدو جہد تھی۔ اس زمانے میں برطانیہ میں مخلوط پارٹی حکومت تھی، لیکن جس میں شامل لیبر پارٹی کے ممبران ہندوستانیوں کی خواہشات کے تئیں ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے، لیکن اس حکومت کے وزیر اعظم کنزرویٹیو پانٹی کے ونسٹن چرچل ایک کٹر سامراجی شخص تھے جن کا اس بات پر اصرار تھا کہ ان کا تقرر بادشاہ کے اعلیٰ وزیر کی حیثیت سے اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ برطانوی سلطنت کے خاتمہ کے لیے با اختیار ہیں۔ 1942 کو موسم بہار میں مہاتما گاندھی اور کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کے لیے راغب کرنے کی کوشش میں اپنے ایک وزیر سراسٹیفورڈ کرپس کو ہندوستان بھیجا۔ تاہم کانگریس نے اس بات پر اصرار کیا کہ اگر اتحادی طاقتوں سے ہندوستان کی حفاظت کے لیے برطانوی حکومت کانگریس کی مدد چاہتی تو وائسرائے کو سب سے پہلے اپنی مجلس عاملہ (Executive Council) میں کسی ایک ہندوستانی کا دفاع ممبر کی حیثیت سے تقرر کرنا ہوگا۔ اس مسئلہ پر گفتگو کا سلسلہ منقطع کیا گیا۔
بحث کیجیے..........
ماخذ 5 اور 6 لو پڑھیے ، دبے کچلے طبقات کے لیے جداگانہ انتخابی حلقوں کے مسئلے پر امبیڈکر اور گاندھی جی کے درمیان خیالی مکالمے کو لکھیے
4. ہندوستان چھوڑو (QUIT INDIA)
کرپس مشن کی جاکامی کے بعد گاندھی جی نے برطانوی حکومت کے خلاف پانی تیسری بڑی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ مہم" ہندوستان چھوڑو" تحریک تھی جس کو اگست 1942 میں شروع کیا گیا۔ اگر چہ گاندھی جی کو ایک بار پھر جیل میں بند کر دیا گیا لیکن نوجوان سرگرم کار کنان پورے ملک میں ہڑتالیں اور تخریب کاری کے کام تشکیل دیتے رہے۔ بالخصوص پرکاش نارائن جیسے کانگریس کے اشتراکی ممبران خفیہ مزاحمت میں سرگرم تھے۔ بہت سے اضلاع میں جیسے مغرب میں ستارا اور مشرق میں میدانی پور میں " آزاد" حکومتوں کا اعلان کر دیا ۔ انگریزوں نے اس تحریک کا سختی کے ساتھ جواب دیا، تاہم اس بغاوت کو دبانے میں ایک سال سے بھی زائد کا عرصہ لگا۔
" ہندوستان چھوڑو" واقعتاً ایک عوامی تحریک تھی جس میں لاکھوں کی تعداد میں عام ہندوستانی شامل ہوئے۔ خاص طور پر اس تحریک کو بڑی تعداد میں نوجوانوں نے تونائی مہیا کرائی جو اپنے کالجوں کو چھوڑ کر جیل گئے۔ تاہم اس دوران کانگریس کے لیڈران جیل میں بند تھے، مسلم لیگ میں جناح اور ان کے ساتھی صبرو تحمل کے ساتھ اپنا دائرہ وسیع کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ اس سالوں میں لیگ نے پنجاب اور سندھ میں اپنی پہچان بنانا شروع کی تھی جہاں ماضی میں اس کی برائے جام موجودگی پائی جاتی تھی۔
ستارا 1943(Satara)
انیسویں صدی کے آخر سے ایک غیر برہمی تحریک جو ذات پات کے نظام اور زمین داری نظام کے خلاف تھی مہاراشٹر میں ارتقا پذیر ہو چکی تھی۔ اس تحریک کے 1930 کی دہائی تک فوجی تحریک کے ساتھ رابطے قائم ہو چکے تھے۔
1943 میں مہاراشڑ کے ستارا ضلع میں کچھ جوان لیڈروں نے رضا کار دستے (سیبادل )اور دیہی اکائی (طوفان دل) کے ایک متوازی حکومت (پرتی سرکار) قائم کر لی تھی۔ انھوں نے عوامی عدالتوں کا نظم کیا اور منظّم تعمیری کام کیے۔ کنبی کسانوں کے غلبے اور دلتوں کی حمایت سے ستارا کی پرتی سرکار ، حکومت کے استیصال اور کانگریس کی ناپسندیدگی کے باوجود 1946 کے الیکشن تک منجملہ امور انجام دیتی رہی۔
شکل 13.12
ہندوستان چھوڑو تحریک کے دوران ممببئی میں خواتین کا ایک جلوس
جون 1944 میں جب جنگ عظیم خاتمہ کے قریب بھی، گاندھی جی کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اسی سال گاندھی جی نے کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لیے جنا ح کے ساتھ میٹنگوں کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ 1945 میں برطانیہ میں لیبر پارٹی اقتدار میں آئی جو ہندوستان کو آزادی دینے کے لیے خود کو پابند عہد سمجھتی تھی۔ اس عرصے میں ہندوستان میں وائسرائے لارڈ ویویل نے کانگریس اور مسلم لیگ کو باہم ساتھ لانے کے مقصد سے بات چیت کا ایک سلسلہ شروع کیا۔
1946 کے شروع میں صوبائی قانون ساز اداروں (اسمبلی) کے الیکشن ہوئے۔ جنرل زمرے میں کانگریس نے سب کا صفایا کر دیا لیکن خاص طور پر مسلمانو ں کے لیے محفوظ سیٹوں میں مسلم لیگ نے زبردست اکثریت سے جیت حاصل کی۔ سیاسی طور پر مخالف سمتوں میں بڑھنے کا میلان (عمل تقطیب)(Polarisation) مکمل ہو چکا تھا۔ 1946 کی گرمیوں میں ایک کابینی مشن برطانیہ سے ہندوستان بھیجا گیا جس نے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک وفاقی نظام (Federal System) پر راضی کرنے کی کوشش کی۔ اس نظام کے تحت ہندوستان کو باہم متحد رکھنے کے لیے ایک حد تک صوبوں کو خودمختاری دینے کی بات کی گئی تھی۔ مشن کی یہ کوشش ناکام رہی۔ سلسئہ جنبانی(بات چیت) منقطع ہو جانے کے بعد جناح نے پاکستان کے لیے لیگ مطالبہ کے اصرار کے لیے" یومِ راست کاروائی" (Direct Action Day) کا اعلان کیا ۔ اس کے لیے اگست 1946 کا دن مقرر کیا گیا، اسی دن کلکتہ میں خونی فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ تشدد دیہی بنگال بعد میں بہار تک پھر ملک کے ایک سے دوسرے سرے تک متحدہ صوبہ جات اور پنجاب تک پھیل گیا۔ بعض جگہوں پر مسلمان مصیبت کا شکار تھے تو دیگر جگہوں پر ہندو بھی اس کی زد میں آئے۔

شکل 13.13
مہاتما گاندھی کے ساتھ جواہر لعل نہرو(دائیں طرف) اور سردار ولبھ بھائی پٹیل (بائیں) تبادلئہ خیال کرتے ہوئے۔
کانگریس کے اندر نہرو اور پٹیل دو ممتاز سیاسی رجحانات اشتراکی اور قدامت پرستی کی نمائندگی کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی کو اکثر ان دونوں گروہوں کے درمیان ثالث بننا پڑتا تھا۔
فروری 1947 میں ویویل کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا ہندوستان کے وائسرائے کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ماؤنٹ بیٹن نے آخری دور کے مذاکرات کے لیے دعوت دی ، لیکن جب یہ غیر نتیجہ خیر ثابت ہوئی تو اس نے اعلان کیا کہ برطانوی ہندوستان آزاد کر دیا جائے گا لیکن اس کو تقسیم بھی کیا جائے گا۔ اقتدار کی رسمی منتقلی کے لیے 15 اگست کی تاریخ متعین کی گئی۔ جب وہ دن آیا تو ہندوستان کے مختلف حصوں میں جوش و ولولے کے ساتھ جشن منایا گیا۔ دہلی میں جب آئین ساز مجلس کے صدر نے موہن داس کرم چند گاندھی کو " بابائے قوم" کا خطاب دیتے ہوئے میٹنگ شروع کی تو بہت دیر تک تالیوں کے ذریعہ داد و ستائش ہوتی رہی۔ اسمبلی کے باہر مجمع "ہماتما گاندھی کی جے" کے نعرے لگا رہا تھا۔
5. آخری بہادرانہ دن
(THE LAST HEROIC DAYS)
15 اگست 1947 کے دن جب راجدھانی میں آزادی کی خوشی میں جشن منائے جا رہے تھے، گاندھی جی ہندوستان میں موجود تھے ۔ وہ کلکتہ میں تھے لیکن انھوں نے نہ تو کسی تقریب میں شرکت کی اور نہ ہی جھنڈا لہرایا۔ گاندھی جی اسی دن 24 گھنٹے کے روزہ پر تھے۔ انھوں نے جس آزادی کے لیے اتنی طویل جدو جہد کی تھی وہ ایک ناقابلِ قبول قیمت پر نہیں ملی تھی ملک تقسیم ہو گیا اور ہندو مسلمان ایک دوسرے کی گردن پر سوار تھے۔
گاندھی جی کے سوانح نگار ڈی ۔ جی ۔تیندولکر نے لکھا ہے کہ گاندھی جی " پریشانی اور زبوں حالی کے شکار لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے اسپتال اور مہاجرین کے کیمپوں کا چکر لگا رہے تھے۔ انھوں نے سکھوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ " وہ ماضی کو بھلا کر اور اپنی مصیبتوں پر توجہ دینے کی بجائے ایک دوسرے کی طرف بھائی چارے کا ہاتھ بڑھانے اور امن و سکون کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں...
گاندھی جی اور نہرو کی پیش قدمی پر " اقلیتوں کے حقوق " پر ایک قرار داد پاس کی گئی ۔ کانگریس پارٹی نے " دو قومی نظریہ " کو کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ اپنی خواہش کے برخلاف جب تقسیم ملک کے لیے اسے اپنی منظوری دیتی پڑی تب بھی اسے یقین تھا کہ " ہندوستان کثیر مذاہب اور کثیر نسلوں کا ملک ہے اور اسے ایسا ہی بر قرار رہنا ہے " پاکستان میں حالات جو بھی رہے ، ہندوستان " ایک جمہوری سیکولر ریاست ہوگی جہاں سبھی شہریوں کو تمام حقوق حاصل ہونگے اور مذہب کا لحاظ کیے بغیر جس سے وہ تعلق رکھتا ہے ، ریاست کی طرف سے تحفظ کے لیے وہ برابر کا حقدار ہوگا۔ کانگریس نے امید جتائی اور اقلیتوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہندوستان میں ان کے شہری حقوق کے خلاف جارحیت سے اپنی بہترین استعداد کے ساتھ مسلسل تحفظ کرے گی۔ "

شکل 13.14
گاندھی جی ایک فساد زدہ گاؤں کی طرف جانے ہوئے، 1947
بہت سے دانشوروں نے آزادی کے بعد کے مہینوں کو گاندھی جی" نہایت عمدہ ساعت" لکھا ہے۔ بنگال میں امن قائم کرنے کے بعد گاندھی جی دہلی منتقل ہو گئے جہاں سے وہ پنجاب کے فساد زدہ اضلاع میں جانے کے خواہش مند تھے۔ حالانکہ راجددھانی میں ہی مہاجرین کے ذریعہ ان کے جلسے میں خلل اندازی ہونے لگی جو جلسوں میں ان کے قرآن کی آیات پڑھنے پر اعتراض کرتے یا زور سے نعرے لگاتے تھے اور پوچھتے تھے کہ وہ ان ہندوؤں اور سکھوں کی تکالیف و پریشانی کے متعلق کیوں نہیں بولتے جو ابھی تک پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ جی ۔ ڈی تیندولکر لکھتے ہیں کہ گاندھی جی پاکستان میں موجود اقلیتی طبقوں کی تکالیف کے تئیں مساوی طور پر فکر مند تھے۔ وہ ان کی اعانت و دستگیری کے لیے وہاں جانے کے لیے خواہش مند تھے، لیکن وہ کس منہ سے وہاں جا سکتے تھے جب کہ وہ دہلی میں ہی مسلمانوں کو تکلیف و پریشانی سے پوری طرح تلانی کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے تھے۔
20 جنوری 1948کے دن گاندھی جی پر ایک جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے بے خوف اپنا کام جاری رکھا۔ 26 جنوری کو انھوں نے اپنی پرارتھنا سبھا (مناجاتی جلسہ) میں اس بات کا ذکر کیا کہ گذشتہ سالوں میں کس طرح اس دن کو یومِ آزادی کے جشن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اب آزادی مل چکی ہے لیکن اس کے کچھ ابتدائی مہینے فریب نظر اور واہموں سے بھرے تھے۔ تاہم ان کا یقین تھا کہ " بدترین دور گزر چکا ہے " لہٰذا اب سب ہندوستانی " تمام طبقات اور مذاہب کی برابری " کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں گے۔ اقلیتی طبقے پر اکثریتی طبقے کا غلبہ اور برتری کبھی قائم نہیں ہوگی خواہ اقلیتی طبقہ تعداد اور اثر کے اعتبار سے کتنا ہی غیر اہم کیوں نہ ہو " خود انھوں نے اس بات کی امید بھی دلائی کہ " اگر چہ جغرافیائی اور سیاسی اعتبار سے ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے لیکن دل میں ہم سب دوست اور بھائی ہی رہیں گے، ایک دوسرے کی مدد اور تکریم و تعظیم کرتے رہیں گے اور خارجی دنیا کے لیے ایک ہی ہوں گے۔ "
شکل 13.15
گاندھی جی کی وفات ایک مروج تصویر
مروج عوامی شبیہوں میں گاندھی جی کو دیوتا قرار دے دیا گیا اور انھیں قومی تحریک میں ایک اتحاد پیدا کرنے والی قوت کے طور پر دکھایا جاتاتھا۔ یہاں آپ جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل کو دیکھ سکتے ہیں جو کانگریس کے اندر دریا کے دو کناروں کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ گاندھی جی کی چتا کے دونوں طرف گھڑے ہیں۔ تصویر کے وسط میں مہاتما گاندھی دونوں کو دعا(آشرواد) دے رہے ہیں۔
گاندھی جی نے آزادی اور متحدہ ہندوستان کے لیے زندگی بھر لڑائی لڑی ، مزید بر آں جب ملک تقسیم ہو گیا تب بھی ان کا اصرار تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے لیے عزت اور دوستی قائم رکھیں۔
دوسرے ہندوستانیوں کو ان کا حد سے زیادہ معاف کردینے والا انداز پسند نہ تھا۔ 30 جنوری کی شام کو ان کے روزانہ کے مناجاتی جلسہ میں ایک نوجوان نے گاندھی جی کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا۔ ان کے قاتل نے بعد ازاں خود سپردگی کر دی جو ناتھو رام گوڈسے نامی پونے کا ایک برہمن تھا۔ ناتھو رام گوڈسے ایک انتہاپسند ہندو اخبار کا ایڈیٹر تھا جو گاندھی جی کی " مسلمانوں کے تشفی کرنے والے " کے طور پر بالا علانیہ مذمت کرتا تھا۔
گاندھی جی کی موت غیر معمولی طور پر گہرے رنج و غم کے جذبات کے اظہار کی سبب بنی، ہندوستان میں سیاسی قوس و قزح کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جارج ویل اور البرٹ آئن اسٹائین جیسی بین الاقوانی شخصیات کی طرف سے بھی جذباتی و حساس رد عمل سامنے آیا۔ ایک زمانے میں گاندھی جی کی جسمانی ساخت اور ظاہراً غیر عقلیت پسند خیالات کا مذاق اڑانے والے " ٹائم " میگزین نے ان کی شہادت کا موازنہ ابراہم لنکن کی شہادت سے کیا جن کو ایک متعصب امریکی شہری نے قتل کر دیا تھا کیوں کہ ابراہم لنکن بلا لحاظ رنگ و نسل نوع انسانی کی مساوات میں یقین رکھتے تھے اور جس نے گاندھی جی کو قتل کیا تھا وہ ایک متعصب ہندو تھا۔ گاندھی جی کا یقین تھا کہ دوستی ممکن ہے اور مختلف مذاہب کے ہندوستان کے درمیان وہ واقعتاًاس کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ اس احترم میں " ٹائم " لکھتا ہے۔ " دنیا جانتی تھی کہ اس نے ان کی (گاندھی جی ) موت پر ویسی ہی چشم پوشی اختیار کی ہے جیسی لنکن کی موت پر کی تھی اور دنیا کے لیے یہ سمجھنا ایک معنی میں بہت گہرا اور بے حد آسان کام ہے ۔ "
6. گاندھی جی کی واقفیت ( KNOWING GANDHI)
ایسے کئی قسم کے ماخذات موجود ہیں جن کی روشنی میں ہم گاندھی جی کی سیاسی زندگی کے واقعات اور قومی تحریک کی تاریخ کی تعمیر نو کر سکتے ہیں۔
6.1 عوامی رائے اور ذاتی تحریریں
(Public voice and private scrips)
مہاتما گاندھی اور ان کے ہم عصروں بشمول رفیق کاروں اور مخالفوں دونوں کی تحریریں اور تقریریں ایک اہم ماخذ ہیں۔ ان میں ہمیں یہ امتیاز کرنا ضروری ہے کہ کون سی عوام کے لیے معنی خیز ہیں اور کون سی نہیں۔ مثال کے طور پر تقریریں ہمیں ایک فرد کی عوامی رائے سننے کی اجازت دیتی ہیں۔ جب کہ اس کے ذاتی خطوط ہمں ذاتی خیالات کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ خطوط میں ہم لکھنے والے افراد کا اپنا غصہ اور درد، ان کا اضطراب اور بے چینی ، ان کی امیدیں اور مایوسی بیان کرتے ہوئے ان معنی میں دیکھ سکتے ہیں جس معنی میں بذات خود عوامی بیانات میں ظاہر نہیں کر سکتے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ ذاتی و عوامی کا فرق اکثر ٹوٹ جاتا ہے۔ بہت سارے خطوط جو کسی فردِ واحد کو لکھے جاتے ہیں لیکن وہ عوام کے لیے بھی کسی حد تک بامعنی ہوتے ہیں۔ خطوط کی زبانی اکثر اس شعور سے تشکیل پاتی ہے کہ شاید انھیں ایک دن شائع کر دیا جائے۔ اس کے برعکس خط کے شائع ہونے کی امید اکثر لوگوں کو ذاتی خطوط میں بھی اپنی رائے کا اظہار آزادی سے کرنے میں مزاحم ہوتی ہے۔ مہاتما گاندھی اپنے رسالہ" ہریجن" میں باقاعدگی کے ساتھ ان خطوط کو شائع کرتے تھے جو دوسرے افراد ان کو لکھتے تھے۔ نہرو نے قومی تحریک کے دوران انھیں لکھے گئے خطوط کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا اور اسے " اے بنچ آف اولڈ لیٹرز " (پرانے خطوط کا مجموعہA Bunch of Letters )کے نام سے شائع کیا تھا۔
ماخذ 7
ایک واقعہ خطوط کے ذریعہ (One event through letters)
1920 کی دہائی میں جواہر لعل نہرو اشتراکیت (Socialism) سے متواتر متاثر ہو رہے تھے اور 1928 میں جب وہ یوروپ سے واپس آئے تب وہ سوویت یونین سے شدید متاثر تھے۔ جب انھوں نے اشتراکی لوگوں (جے پرکاش نارائن، نریندر دیو، این۔ جی۔ رنگا اور دیگر) کے ساتھ نزدیکی طور پر کام کرنا شروع کیا توکانگریس کے اندر اشتراکی اور قدامت پرستوں کے درمیان ایک درار پیدا ہو گئی۔ 1936 میں کانگریس کا صدر بننے کے بعد نہرو نے فاشزم (فسطائیت ) کے خلاف جذباتی بیان دیے اور مزدوروں و کسانوں کے مطالبات کی حمایت کی۔
نہرو کی اشتراکی خطابت سے فکر مند قدامت پرستوں نے راجندر پرساد اور سردار پٹیل کی قیادت میں کانگریس ورکنگ کمیٹی سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دی اور ممبئی میں کچھ اہم صنعت کاروں نے نہرو پر تنقید کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔ بعد میں پرساد اور نہرو دونوں نے مہاتما گاندھی کی طرف رخ کیا اور واردھامیں واقع ان کے آشرم میں ان سے ملاقات کی۔ جیسا کہ گاندھی جی اکثر کرتے تھے انھوں نے دونوں کے بیچ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے نہرو کی سیاسی انتہا پسندی اور پرساد نیز دیگر لوگوں کو نہرو کی قیادت کی اہمیت کو باور کرایا۔
اے بنچ آف اولڈ لیٹرز ، 1958 میں نہرو نے اس وقت کی تبادلئہ مراسلت کے بہت سے خطوط کی مکرر اشاعت کی۔ ان خطوط کے اقتباسات کو ذیل میں پڑھیے۔
اے بنچ آف اولڈ لیٹرز سے (From A Bunch of Old Letters)
عزیز من جواہر لعل جی، واردھا ، یکم جولائی 1936
کل آپ سے رخصت ہونے کے بعد ہم نے مہاتما گاندھی جی سے طویل گفتگو اور تفصیلی مشاورت کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے طرز عمل سے آپ نے شدید تکلیف محسوس کی ہے، خاص طور سے ہمارے خط کا لہجہ آپ کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنا ہے۔ ہمارا مقصد کبھی بھی آپ کو شرمندہ کرنا یا تکلیف پہنچانا نہیں تھا اور اگر آپ تجویز کر دیتے یا نشاندہی کر دیتے کہ اس بات سے آپ کو تکلیف پہنچی تو ہم بغیر کسی ہچکچاہت کے اپنے خط میں ترمیم یا اس میں تبدیلی کر لیتے لیکن ہم نے مکمل صورت حال کی نظر ثانی کرنے کے بعد یہ خط اور اپنے استعفیٰ کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہم کو محسوس ہوتا ہے کہ پریس میں شائع تمام گفتگو میں آپ کانگریس کے عمومی پروگرام کے متعلق اتنا زیادہ نہیں بول رہےہیں جتنا ایک ایسے موضوع پر جس کو کانگریس نے درست تسلیم نہیں کیا ہے اور ایسا کرتے ہوئے آپ کارنگریس ورکنگ کمیٹی میں ہمارے اقلیتی طبقے کے ساتھیوں کے ترجمان کی طرح زیادہ عمل کر رہے ہیں نہ کہ اکثریتی طبقے کے ترجمان کی حیثیت سے جس کا کانگریس صدر ہونے کے ناطے ہمیں آپ سے امید تھی۔
ہمارے خلاف یہاں مسلسل ایک مہم جاری ہے اور ہمارے ساتھ ایک ایسے شخص جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جس کا وقت گزر چکا ہو ، جو فرمودہ خیالات اور تصورات جس کی دورِ حاضر میں کوئی قدرو قیمت نہیں ہے، کی نمائندگی کرتا ہے، جو ملک کی ترقی کے عمل میں رخنہ اندازی کرتے ہیں اور اس کے مستحق ہیں کہ ان کو ان عہدوں سے نکال باہر کرنا چاہیے جن پر انھوں نے نا مناسب طور پر قبضہ کر رکھا ہے...ہم نے محسوس کیا ہے کہ دیگر لوگوں نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے اور کر رہے ہیں اور ہمیں آپ کی طرف سے وہ تحفظ نہیں مل پا رہا ہے جو بطور ایک ساتھی اور ہمارے صدر کی حیثیت سے آپ کی طرف سے ملنے کے ہم مستحق ہیں...
آپک کا مخلص
راجندر پرساد
میرے پیارے باپو الہ آباد ، 5 جولائی 1936
میں کل رات یہاں پہنچا، جب سے میں نے واردھا چھوڑا ہے جسمانی کمزوری اور ذہنی طور پر پریشانی محسوس کر رہا ہوں...یوروپ سے میری واپسی کے بعد سے میں نے پایا کہ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگوں کے بعد بری طرح تھک جاتا ہوں؛ وہ مجھ پر کمزوری کے اثرات مرتب کرتی ہیں اور سال بہ سال ہر نئے تجربے کے بعد تقریباًمیں خود کو مزید بوڑھا محسوس کر رہا ہوں۔۔۔
معاملات کو ہموار کرنے میں اور بحران سے بچانے کے لیے تعاون دینے میں آپ نے جو زحمت اٹھائی ہے ، اس کے لیے میں آپ کا مشکور ہوں۔مجھے بھیجا گیا راجندر بابو کا خط(دوسرا خط) میں نے دوبارہ پڑھا۔ اس میں انھوں نے مجھے ایک دہشت انگیز اور تعزیری کارروائی کرنے والا شخص تصور کیا ہے...
تاہم حقائق کتنی ہی نرمی و گداز ی سے بیان کیے جائیں، ان کے معنی یہ ہیں کہ میں ایک ناقابلِ برداشت زحمت بن چکا ہوں اور جو بھی خوبیاں رکھتا ہوں تھوڑی بہت قابلیت ، طاقت ، سنجیدگی، کسی حد تک ایسی شخصیت جو مبہم کشش رکھتی ہے ان کے لیے خطرناک بن چکی ہیں کیونکہ وہ (میں)ایک غلط رتھ (اشتراکیت) کے لیے کمر بستہ ہیں۔ ان سب کا نتیجہ عیاں ہے ۔
میں نے اپنے موجودہ خیالات و تصورات کے متعلق اپنی کتاب میں اور بعد میں بھی بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ میرے متعلق رائے قائم کرنے کے لیے یہاں مواد کی کمی نہیں ہے۔ میرے وہ نظریات عارض نہیں ہیں۔ وہ میرا حصہ ہیں اور اگر چہ میں انھیں بدل سکتا ہوں یا مستقبل میں وہ بدل سکتے ہیں، جب تک کہ میں انھیں سنبھالے ہوئے ہوں ان کا اظہار ضرور کروں گا کیونکہ میں ایک وسیع اتحاد کے لیے اسے بڑی اہمیت دیتا ہوں، اس لیے میں نے ممکنہ طریقے سے معتدل انداز میں ان کا اظہار کیا ہے اور معین نتیجے کے بجائے غور و خوض کے لیے بطور دعوت نامہ زیادہ پیش کیا ہے۔
مجھے اس طریقے میں اور کانگریس جو کچھ کر رہی تھی، اس کے درمیان کئی ٹکراؤ نظر نہیں آتا۔ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے میں محسوس کرتا ہوں کہ میرا طریقہ ہمارے لیے ایک واضح و معین اثاثہ ہے کیونکہ اس سے عوام میں جوش و ولولہ پیدا ہوتا ہے، لیکن میرے وہ طریقے ، جو معتدل اور مبہم تھے،میرے ساتھی خطرناک اور نقصان سمجھتے ہیں۔ مجھ سے یہاں تک کہا گیا کہ ہندوستان میں غریبی اور بیروزگاری پر ہمیشہ اصرار کرنا کوتاہ اندیشی تھی، یا بہر میں صورت میں اس معاملے میں غلط تو تھا ہی...
آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ کسی قسم کا بیان جاری کرنا چاہتے ہیں، میں اس بیان کا خیر مقدم کروں گا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہر نظر یہ ملک کے سامنے پیش کرنا چھاہیے۔
محبت کے ساتھ آپ کا
جواہر لعل
عزیز من جواہر لعل جی سیگاؤں ، 15 جولائی 1936
تمہارا خط رقت انگیز ہے، تم اپنے آپ کو سب سے زیادہ زخمی محسوس کرتے ہو،حقیقت یہ ہے کہ تمہارے ساتھیوں کے پاس تمہاری جیسی ہمت اور بے باکی کا فقدان ہے ۔ نتیجہ تباہ کن رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ التجا کی ہے کہ وہ تم سے آزادی اور بے خوفی کے ساتھ بات کریں لیکن ان کے پاس ہمت کی کمی ہے اس لیے وہ جب بھی کبھی بولتے ہیں بدسلیقگی کے ساتھ بولتے ہیں اور تم آزردہ محسوس کرتے ہو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں ، وہ تمہیں اس لیے ہراساں کر رہے ہیں کیونکہ تمہاری حساسیت اور بے صبری سے وہ واقف ہیں۔ وہ تمہاری تنقید و ملامت تحکم آمیز انداز سے تلملا جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر تمہارے اندر جو خط سے مبرا اور بر تر علم انہیں نظر آتا ہے اسے تمہارا بے جا دعویٰ تصور کرتے ہیں۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ بمشکل کوئی خوش اخلاقی کا سلوک کیا ہےاور کبھی بھی اشتراکیوں کے تمسخر اور حتی کہ بد تعمیری سے ان کا دفاع نہیں کیا ہے۔
میں اس پورے معاملے کو ایک حسرت ناک مضحکہ خیز واردات کی طرح دیکھتا ہوں تاہم میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس پورے معاملے کو ہلکے انداز میں دیکھو۔
میں نے ہی تمہارا نام اس کانٹوں بھرے تاج (کانگریس کی صدارت) کے لیے تجویز کیا تھا، اگر چہ سر زخمی ہو جا ئے اسے پیتے رہنا۔ کمیٹی کی میٹنگوں میں اپنی حس مزاح دوبارہ شروع کرو۔ وہ تمہارا اکثر معمول کا کردار ہے۔ نڈھال شخص کی طرح نہیں ، تنگ مزاج آدمی معمولی سے موقع پر پھٹ پڑنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
میں چاہتا ہو ں کہ تم مجھے تار کے ذریعہ بتاؤ کہ میرا خط پڑھنے کے بعد تمہیں ویسی ہی خوشی محسوس ہوئی جیسے لاہور میں نئے سال کے دن تم نے محسوس کی تھی جب مجھے اطلاع ملی تھی کہ تم ترنگے کے چاروں جانب ناچے تھے۔
تم اپنے گلے کو ایک (آرام)موقع ضرور دو۔
میری طرف سے پیار
باپو
(a)وقت کے ساتھ ساتھ کانگریس کے نصب العین کس طرح ارتقا پذیر ہو رہا تھا اس کے متعلق ہمیں یہ خطوط کیا بتاتے ہیں؟
(b)مہاتما گاندھی کا قومی تحریک کے اندر کردار کے متعلق ان خطوط سے کیا آشکار ا ہوتا ہے؟
(c)اس طرح کے خطوط ہمیں کارنگریس کی اندرونی کارکردگی اور قومی تحریک کی طوعیت کے متعلق کوئی خاص بصیرت عطا کرتے ہیں۔

6.2 تصویری قالب (Framing a Picture)
خود نوشت سوانح عمریاں ہمیں ماضی کی ایک ہی طرح کی روداد سناتی ہیں جو انسانی تفصیلات کے لحاظ سے کافی مالا مال تھا، لیکن یہاں ہمیں ایک بار پھر خود نوشت سوانح عمریوں کے پڑھنے اور ان کی تعبیر کے طریقے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محتاط رہنا ہوگا۔ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سابقہ حالات سے متعلق روداد اکثر یادداشت کی بنیاد پر لکھی جاتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ مصنف کیا یادیں تازہ کر رہا ہے۔ اسے کیا اہم نظر آیا یا وہ کیا بیان کرنے پر قادر تھا یا ایک شخص اپنی زندگی دوسروں کی نظروں میں لانے کا کس طرح خواہش مند تھا۔ ایک خود نوشت سوانح عمری لکھنا اپنی زندگی کو تصویری قالب میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس لیے ان روادادوں کو پڑھتے ہوئے ہمیں وہ دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو مصنف ہمیں بتانا نہیں چاہتا ۔ ہمیں اس خاموشی کے اسباب کو سمجھنے کی ضرورت ہے یعنی وہ سب دیدہ و دانستہ یا غیر دانستہ فراموش کردہ کام۔
6.3 پولس کی نظر سے (Through police eyes)
دیگر انتہائی اہم ماخذ حکومت کے دستاویزات ہیں، نو آبادیاتی حکمراں ایسے دستاویزات کو تسمہ سے باندھ کر رکھتے تھے جن کو وہ حکومت کے لیے مخدوش سمجھتے تھے۔ اس زمانے میں پولس والوں اور دیگر افسران کے ذریعہ لکھے گئے خطوط اور رپورٹیں صیغۂ راز ہوتی تھیں، لیکن اب یہ دستاویزات آرکائیوز میں قابل دسترس ہیں۔
آئیے ہم ایک ایسے ہی ماخذ پر نظر ڈالیں:
ابتدائی بیسویں صدی سے شعبۂ وزارت داخلہ کے ذریعہ تیار کردہ پندرہ روزہ رپورٹیں مقامی علاقوں سے پولس کے ذریعہ فراہم کردہ اطلاعات پر مبنی ہیں۔اکثر یہ رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ اعلیٰ افسران کیا دیکھنا چاہتے تھےیا کیا یقین کرنے کے خواہش مند تھے۔
شکل 13.16
سول نافرمانی تحریک کے دوران ممبئی میں کانگریس کے رضا کاروں کے ساتھ پولس کا تصادم۔
کیا آپ اس تصویر اور پولس کی تیار کردہ رپورٹوں میں دی گئی اطلاعات کے درمیان باہم تضاد دیکھ سکتے ہیں؟
سرکشی اور بغاوت کے امکانات کا مشاہدہ کرتے ہوئے حالانکہ وہ خود کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ یہ خوف بلا جواز تھے۔ اگر آپ نمک ستیہ گرہ (مارچ) کے زمانے کی پندرہ روزہ رپورٹوں کو ملاحظہ کریں تو آپ مشاہدہ کریں گے کہ شعبۂ وزارتِ داخلہ یہ قبول کرنے کے لیے رضامند نہ تھا کہ مہاتما گاندھی کی کاروائیوں کے تئیں عوام کی طرف سے کوئی پر جوش رد ِعمل ابھر رہا تھا۔ ان رپورٹوں میں نمک مارچ کو ایک ڈرامہ ، ایک مضحکہ خیز قدم برطانوی حکومت کے خلاف ان لوگوں کی لام بندی کے لیے قانون شکن کوشش جو لوگ واقعتاً برطانوی حکومت کے خلاف، آواز اٹھانے کے لیے رضا مند تھے اور جو اپنے روزانہ کے لائحہ عمل کے ساتھ مصروف کار ، برطانوی راج کے تحت خوش تھے۔
شعبۂ وزارتِ داخلہ کی پندرہ روزہ رپورٹیں (بصیغۂ راز)
(Fortnightly Reports of the Home Department (Confidential))
مارچ 1930 کا پہلا عشرہ
یہاں گجرات میں سیاسی ارتقائی عمل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس سے صوبہ کی سیاسی صورتِ حال پر کس حد تک اور کس رخ پر اثر پڑے گا، اس وقت اس کا اندازہ کرنا مشکل امر ہے۔ فی الحال کسان ربیع کی فصل کی کٹائی میں مشغول ہیں۔ طلبہ اپنے آنے والے امتحانات کی تیاری میں منہمک ہیں۔
مرکزی صوبہ جات اور برار
ولبھ بھائی پٹیل کی گرفتاری ، کانگریس حلقوں کے علاوہ معولی ہیجان کا سبب بنی لیکن ناگپور کا کانگریس کمیٹی کے ذریعہ گاندھی کو ان کا مارچ شروع کرنے پر مبارکباد دینے کے لیے میٹنگ میں 3,000 سے بھی زیادہ افراد کا مجمع موجود تھا۔
بنگال
گاندھی جی کی سول نافرمانی مہم کا آغاز گزشتہ عشرہ کا غیر معمولی واقعہ تھا۔ جے ۔ ایم ۔ سین گپتا اور بنگال صوبائی کانگریس کمیٹی نے ایک کل بنگال سول نافرمانی کونسل تشکیل دی ہے۔ لیکن ان کی تشکیل کے علاوہ بنگال میں سول نافرمانی کے معاملے میں کوئی سرگرم قدم ابھی تک نہیں اٹھایا گیا ہے۔
اضلاع کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ جو میٹنگیں منعقد کی گئیں ان میں لوگوں میں معمولی جوش یا دلچسپی دکھائی نہیں دی اور عام لوگوں پر کوئی گہرا نقش نہیں چھوڑا تاہم یہ امر قابلِ غور ہے کہ ان میٹنگوں میں حاضر ہونے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بہار اور اڑیسہ
کانگریس کی سرگرمی سے متعلق رپورٹ کرنے کے لیے یہاں برائے نام مواد ہے۔ یہاں چوکیداری ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے کے سلسلے میں ایک مہم خاصی زیرِ بحث ہے۔ لیکن ابھی تک اس تجربہ کے لیے کوئی علاقہ منتخب نہیں کیا گیا ہے۔ گاندھی جی کی گرفتاری کے تعلق سے بے تحاشا قیاس آرائیاں وہ رہی ہیں، لیکن یہ زیادہ ممکن نظر آتا ہے کہ پیشین گوئیوں کے سچ ثابت نہ ہونے کے سبب سارے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔
مدراس
گاندھی جی کی سول نافرمانی مہم شروع ہونے سے سارے دیگر مسئلے پوری طرح ماند پر گئے ہیں۔ اس ضمن میں عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ مارچ ڈرامائی ہے اور ان کا یہ پروگرام ناقابلِ عمل ہے لیکن عموماً ہندو عوام بذات خود انھیں مقدس و محترم خیال کرتے ہیں، اس لیے گرفتاری کے امکان جس کے بارے میں وہ قصداً پر جوش نظر آتے ہیں اور اس کے سیاسی حالات پر اثرات ، کافی بدگمانی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
12 مارچ ، سول نافرمانی مہم کے افتتاح کے دن کے طور پر منایا گیا۔ ممبئی میں صبح کے وقت جشن کی شکل میں قومی پرچم کو سلامی دی گئی۔
بمبئی
کیسری پریس کو جارحانہ زبان استعمال کرنے میں ملوث پایا گیا ہے۔ معمول کے مطابق اس کا رویہ متلون مزاجی کا ہے۔ لکھتا ہے " اگر حکومت ستیہ گرہ کی طاقت آزمانا چاہتی ہے تو عمل اور بے عملی اس کے لیے ضرر کا سبب بنے گی۔ اگر سرکار گاندھی جی کو گرفتار کرتی ہے تو اسے ملک کی بے اطمینانی سے زیر بار ہونا پڑے گا، اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو سول نافرمانی کی تحریک وسیع ہوتی جائے گی۔ تاہم، ہم کہتے ہیں کہ اگر حکومت جناب گاندھی کو سزا دیتی ہے توپھر بھی یہ ایک بڑی فتح ہوگی۔ دوسری طرف اعتدال پسند اخبار " وودھ ورت" نے تحریک کے بے اثر ہونے کی نشاندہی کی ہے اور اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ یہ تحریک اپنے پیشِ نظر مقصد کو حاصل نہیں کر سکتی تاہم ان سے حکومت کو یاد ہانی کرائی کہ استیصال اس کے مقصد کو ناکام کر دے گا۔
مارچ 1930 کا دوسرا عشرہ
بنگال
سب کی دلچسپی گاندھی کے سمندر تک مارچ اور سول نافرمانی مہم کے لیے انتظامات کے اطراف مرکو ز ہے۔ انتہا پسند اخبارات ان کی کارروائیوں اور تقاریر کے متعلق تفصیل سے لکھ رہے ہیں اور پورے بنگال میں منعقد ہونے والی منٹنگوں اور ان میں پیش ہو رہی قرار دادوں کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی نمائش کر رہے ہیں۔ گاندھی کے ذریعہ سول جافرمانی کی شکل میں طرفداری کے لیے معمولی جوش ہے...
عام طور پر لوگ اس بات کو دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں کہ گاندھی کے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے اور امکان یہی ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی کار روائی کی گئی تو بنگال میں آتش گیر مادہ میں چنگاڑی بھڑک اٹھے گی لیکن کسی طرح کی شدید آتشزدگی کی توقعات نظر نہیں آتیں۔
مرکزی صوبہ جات اور برار
ناگپور میں 12 مارچ کو گاندھی کے مارچ کے آغاز کے موقع پر ان میٹنگو ں میں کافی لوگ حاضر ہوئے اور زیادہ تر اسکول ویران نظر آئے
شراب کی دکانوں کا بائیکاٹ اور جنگلی قوانین کی خلاف ورزی حملے کا سب سے زیادہ امکانی راستہ نظر آتا ہے۔
پنجاب
یہ محسوس کرنا بعید از امکان نہیں ہے کہ جہلم ضلع میں نمک کا قانون توڑنے کی منظّم کوششیں کی جائیں گی۔ ملتان میں پانی ٹیکس کی عدم ادائیگی کے سلسلے میں جو شورش ہے ، اس کی تجدید کی جائےگی اور غالباً گوجرانوالہ میں قومی پرچم کے تعلق سے کچھ تحریک شروع ہو سکتی ہے۔
متحدہ صوبہ جات
گذشتہ عشرہ کے دوران ان سیاسی سرگرمی میں بلاشبہ شدت آئی کانگریس پارٹی محسوس کرتی ہے کہ عوام کی دلچسپی بنائے رکھنے کے لیے اسے کچھ قابلِ دید کام کرنے چاہئیں۔ گاندھی کے احکامات و صول ہونے پر رضا کاروں کی بھرتی، گاؤں میں پروپیگنڈہ اور نمک قانون توڑنے کی تیاری جیسی سرگرمیوں کی خبریں بہت سے اضلاع سے آرہی ہیں۔
اپریل 1930 کا پہلا عشرہ
متحدہ صوبہ جات
اس عشرہ کے دوران واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھے۔ سیاسی میٹنگوں ،جلسوں اور رضا کاروں کی بھرتی کے علاوہ ، آگرہ، کانپور، بنارس، الہ آباد، لکھنؤ ، میرٹھ، رائے بریلی، فرخ آباد، اٹاوہ، بلیا اور مین پوری میں نمک قانون کی کھے عام خلاف ورزی کی گئی۔
14 اپریل کی صبح جب پنڈت جواہر لعل نہرو، مرکزی صوبہ جات میں یوتھ لیگ کی ایک میٹنگ میں شرکت کرنے جا رہے تھے تب ان کو چیوکی ریلوے اسٹیشن پر گرفتار کر لیا گیا۔ ان کو اس موقع پر سیدھے نینی سینٹرل جیل لے جایا گیا جہاں ان پر مقدمہ چلا اور 6 مہینے کی معمولی قید کی سزا سنائی گئی۔
بہار اور اڑیسہ
بعض مقامات پر غیر قانونی طریقے سے نمک بنانے کی کوشش کی گئی لیکن چھوٹے پیمانے پر قابلِ دید کوششیں ہو رہی ہیں۔
مرکز صوبہ جات
جبل پور میں سیٹھ گووندداس نے کیمیائی نمک بنانے کی کوششیں کی، جس کی لاگت صاف (عام) نمک کی بازاری قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے
مدراس
جب پولس نے سمندر کے پانی کو ابال کر بنائے گئے نمک کو ضبط کرنے کی کوششیں کی تو وشاکھاپٹنم میں پولس کو معقل مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن دوسری جگہوں پر غیر قانونی نمک کو ضبط کرنے پر مزاحمت نیم دلی کے ساتھ کی گئی۔
بنگال
مفصل علاقوں میں غیر قانونی نمک بنانے کی کوششیں کی گئیں 24 پرگنہ اور میدنا پور اضلاع ان کارروائیوں کے اہم علاقے رہے۔
حقیقتاً بہت تھوٹی مقدار میں نمک بنایا گیا اور اس میں بھی زیادہ تر ضبط کر لیا گیا اور جن برتنوں میںنمک بنایا گیا تھا ان کو مسمار کر دیا گیا۔
پندرہ روزہ رپورٹوں کو غور سے پڑھیے۔ یاد رکھیے کہ یہ اقتباسات نو آبادیاتی شعبۂ وزارتِ داخلہ کی بصیغۂ راز رپورٹوں سے لیے گئے ہیں۔ ان رپورٹوں میں مختلف مقامات سے پولس کے ذریعہ خبر کردہ اطلاعات کو ہمیشہ درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
(1) آپ کے خیال میں یہ رپورٹیں کیا کہتی ہیں۔ اس سے ماخذوں کی نوعیت کس حد تک متاثر ہوتی ہے؟مذکور بالا متون سے عبارت کے حوالے کے ساتھ اپنے دلائل کو مثالوں کے ساتھ مختصراًلکھیے۔
(2) آپ کیوں سونچتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کی گرفتاری کے امکان کے متعلق لوگ کیا سونچتے تھے جس کے ضمن میں شعبۂ وزارت داخلہ مستقل اطلاعات دے رہا تھا؟5 اپریل 1930 کو ڈانڈی میں اپنی گرفتاری کے سوال کے بارے میں گاندھی جی نے تقریر میں کیا کہا تھا، اس کو دوبارہ پڑھیے۔
(3)آپ کے خیال میں مہاتما گاندھی کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
(4) آپ کے خیال میں شعبۂ وزارت داخلہ مستقل یہ کیوں کہتا رہا کہ ڈانڈی مارچ کے تئیں لوگوں کا کوئی جوابی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
6.4 اخبارات سے (From newspapers)
انگریزی اور مختلف ہندوستانی زبانوں میں شائع ہونے والے ہم عصر اخبارات بھی ایک نہایت اہم ماخذ ہیں جو مہاتما گاندھی کی حرکات کا سراغ لگاتے اور ان کی سرگرمیوں کی خبریں شائع کرتے تھے یہ اخبارات اس بات کی بھی نمائندگی کرتےہیں کہ عام ہندوستانی ان کے متعلق کیا سوچتے تھے اور تاہم اخبارات کے بیانات کو غیر متعصبانہ طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ یہ اخبارات ایسے افراد کے ذریعہ شائع ہو رہے تھے جو اپنی سیاسی آراء اور دنیاوی نظریات رکھتے تھے۔ ان خیالات سے یہ متعین ہوتا تھا کہ کیا شائع کیا جائے اور واقعات کی خبر کس طرح دی جائے۔ اس یے لندن کے اخبار میں شائع بیانات ہندوستانی قوم پرست اخبار میں شائع خبر سے مختلف ہی ہوں گے۔
شکل 13.17
اس طرح کی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی جی کے تئیں لوگوں کی فکر تھی اور مقبولِ عام تصاویر میں اس کی کس طرح ترجمانی کرتے تھے۔
قوم پرستی کے درخت کے اندر مہاتما گاندھی مرکزی شبیہہ کے طور پر نظر آرہے ہیں جن کے چاروں طرف دیگر لیڈران اور دانا لوگوں کی چھوٹی چھوٹی تصاویر ہیں۔
ہمیں ان رپورٹوں کے دیکھنے کی ضرورت تو ہے لیکن اس کی ترجمانی کرتے وقت ہمیں کافی محتاط ہونا ہوگا۔ ان میں شائع ہر بیان کو ، سیاسی میدان کیا واقع ہوا تھا اس کی نمائندگی کے طور پر لفظ بہ لفظ قبول کیا جا سکتا ۔اکثر ان میں ایسے افسران کے خوف اور بے چینیاں منعکس ہوتی ہیں جو تحریک کو کنٹرول کرنے میں نا اہل تھے اور اس تحریک کے پھیلنے کے متعلق مضطرب تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ مہاتما گاندھی کو گرفتار کارنا چاہیے یا نہیں یا گرفتار کرنے کے کیا معنی ہونگے ۔ نوآبادیاتی حکومت عوام اور اس کی سرگرمیوں پر جتنی زیادہ نظر رکھتی تھی اپنی حکومت کی اساس کے متعلق اس کی فکرمندی اور بڑھ جاتی تھی۔
ٹائم لائن
1915 گاندھی جی کی جنوبی افریقہ سے واپسی
1917 چمپارن تحریک
1918 کھیڑا (گجرات) میں کسانوں کی تحریکیں، اور احمد آباد میں کامگاروں کی تحریک
1919 رولٹ ستیہ گرہ (مارچ -اپریل )
1919 جلیانوالہ باغ قتلِ عام (اپریل)
1921 عدم تعاون تحریک اور خلافت تحریک
1928 باردولی میں کسان تحریک
1929 کانگریس کے لوہور اجلاس (دسمبر) میں پورن سوراج (مکمل سوراج)کے ہدف کی قرار داد کو قبول کرنا
1930 سول نافرمانی تحریک کی شروعات : ڈانڈی مارچ (مارچ -اپریل)
1931 گاندھی ارون سمجھوتہ (مارچ):دوسری گول میز کانفرنس (دسمبر)
1931 گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں کسی قدرنمائندہ حکومت کی تشکیل کا وعدہ
1939 کانگریس وزارت کا استعفیٰ
1942 ہندوستان چھوڑو تحریک کا آغاز (اگست)
1946 گاندھی جی کا فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے نوا کھالی اور دیگر فساد زدہ علاقوں کا دورہ
100 سے 150 لفظوں میں جواب دیجیے
1۔ گاندھی جی نے عام لوگوں کے ساتھ خود کو مماثل قرار دینے کی کوشش کس طرح کی؟
2۔ کسان گاندھی جی کو کس طرح دیکھتے تھے؟
3۔ نمک قانون جدو جہد آزادی کا ایک اہم مسئلہ کیوں بن گیا؟
4۔ قومی تحریک کا مطالعہ کے لیے اخبارات ایک اہم ماخذ کیوں ہیں؟
5۔ چرخہ کو قوم پرستی کی علامت کے طور پر کیوں منتخب کیا گیا؟
مندرجہ ذیل پر ایک مختصرمضمون (250 سے 300 الفاظ پر مشتمل)لکھیے
6۔ عدم تعاون(تحریک) احتجاج کی ایک شکل کس طرح تھا؟
7۔ گول میز کانفرنس کی بات چیت بے نتیجہ کیوں ثابت ہوئی؟
8۔ گاندھی جی نے قومی تحریک کی نوعیت کو کس طرح بدل دیا ؟ یہ ماخذ سرکاری ماخذات سے کس طرھ مختلف ہوتے ہیں؟
نقشہ کا کام
9۔ ڈانڈی مارچ کے راستہ کو تلاش کیجیے۔ گجرات کے نقشے پر اس مارچ کے راستے کو بنائیے یہاں واقع بڑے قصبات اور گائوں کو نشان زد کیجیے۔
پروجیکٹ (کوئی ایک)
10۔ قوم پرست لیڈروں میں سے کسی بھی دو کی خود نوشت سوانح عمریوں کو پڑھیے۔ اور دیکھیے کہ ان میں مصنفین نے اپنی زندگی اور عہد کو کن مختلف طریقوں سے پیش کیا ہے اور قومی تحریک کی ترجمانی کی ہے۔ دیکھیے کس طرح ان کے خیالات مختلف ہیں۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر ایک بیان قلمبند کیجیے۔
12۔ قومی تحریک کے دوران واقع کسی واقعہ کا انتخاب کیجیے ۔ اس کے ضمن میں اس زمانے کے لیڈران کے خطوط اور تقاریر کو حاصل کیجیے اور پڑھیے۔ ان میں سے کچھ اب شائع ہو چکی ہیں۔ جس جگہ آپ رہتے ہیں وہ اس علاقہ کا مقامی لیڈر بھی ہو سکتا ہے۔ کوشش کیجیے اور دیکھیے کہ کس طرح مقامی لیڈر اعلیٰ سطح پر قومی قیادت کی سرگرمیوں کو دیکھتے تھے۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر تحریک کے متعلق لکھیے۔
مزید معلوما ت کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیجیے:
شیکھر بندھوپادھیائے۔ 2004، فرام پلاسی ٹو پارٹیشن: اے ہسٹری آف ماڈرن انڈیا،
اورینٹ لونگ مین، نئی دہلی
سروپلی گوپال، 1975
جواہر لعل نہرو:اے بائیو گرافی-جلد اول 1889-1947 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی
ڈیوڈ ہارڈی مان، 2003
گاندھی ان ہز ٹائم اینڈ اورس ، پرمانینٹ بلیک ، نئی دہلی
گیانیندر پانڈے، 1978
دی اسکینڈنیسی آف دی کانگریس ان اتر پردیش، 1934-42 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، دہلی
سمت سرکار، 1983
ماڈرن انڈیا 1885-1947 میک ملن ، نئی دہلی
آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر رابطہ قائم کر سکتے ہیں:
http:/wwww.gandhiseve.org/cwmgcwmg.html
(کلیکٹیڈ ورکس آف مہاتما گاندھی کے لیے)